جب مجھے نعت کا اِک شعر عطا ہوتا ہے ۔ آصف جبار

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search

LINK

شاعر : آصف جبار

مطبوعہ : 2017 - بہترین نعت کی تلاش

کیٹگری: 1

کلام نمبر : 45

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جب مجھے نعت کا اِک شعر عطا ہوتا ہے

میرے احساس کا عالم ہی جدا ہوتا ہے


اُنؐ کے دربار سے ہو اِذن تو ہر حرفِ جہاں

ہاتھ باندھے سرِ قرطاس کھڑا ہوتا ہے


گیان کی آنکھ سے جب گنبدِ خضرا دیکھوں

دھیان کا زرد شجر پل میں ہرا ہوتا ہے


طائرِ فکر اُڑے جانبِ طیبہ جب بھی

غم کے زندان سے وجدان رِہا ہوتا ہے


اُن کے نعلین کو جب دستِ تخیُّل چُھو لے

مشک و عنبر سے مرا سینہ بھرا ہوتا ہے


نعت لکھتے ہوئے جب اشک رواں ہو جائیں

اِک خطا کار کا وہ وقتِ دُعا ہوتا ہے


شہرِ سرکارؐ میں قامت کو جُھکاؤ صاحِب!

اِس طرح جھکنے سے قد اور بڑا ہوتا ہے


یاد آ جاتی ہے مکڑی کی فضیلت مجھ کو

جب مرے گھر میں کہیں جالا تنا ہوتا ہے


چڑھ کے نیزے پہ وہ کرتا ہے تلاوت واصفؔ

جو مرے شاہؐ کے شانوں پہ چڑھا ہوتا ہے

نئے صفحات

2017 کی بہترین نعت کی تلاش[ماخذ میں ترمیم کریں]

تعارف
کیٹگری 1
کیٹگری 2
کیٹگری 3

کیٹگری 2 کی نعتیں[ماخذ میں ترمیم کریں]

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 |44 45 46 47 48
49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام