کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے ۔ مظفر وارثی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

شاعر[ترمیم]

مظفر وارثی

حمدِ باری تعالٰی[ترمیم]

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے

دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے


تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں

جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے


وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب ، سفر کریں سب اُسی کی جانب

ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے ، وہی خدا ہے


کسی کو سوچوں نے کب سراہا ، وہی ہوا جو خدا نے چاہا

جو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے ، وہی خدا ہے


نظر بھی رکھے ،سماعتیں بھی ، وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی

جو خانہء لاشعور میں جگمگا رہا ہے ، وہی خدا ہے


کسی کو تاجِ وقار بخشے ، کسی کو ذلت کے غار بخشے

جو سب کے ماتھے پہ مہرِ قدرت لگا رہا ہے ، وہی خدا ہے


سفید اُس کا سیاہ اُس کا ، نفس نفس ہے گواہ اُس کا

جو شعلہء جاں جلا رہا ہے ، بُجھا رہا ہے ، وہی خدا ہے


شراکتیں[ترمیم]

صارف:ابو المیزاب اویس

آڈیو ایند وڈیوز[ترمیم]

مزید دیکھیں[ترمیم]

اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات