خورشید احمد

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Khursheed Ahmad.jpg

صبیح رحمانی آپ کے جذب و مستی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ

"مجھے مدینہ طیبہ میں قیام کے دوران ایک دن معروف نعت خواں خورشید احمد نے سر راہ آلیا اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ مجھ سے کہنے لگے کہ ہزاروں نعتیں یاد ہیں مگر یہاں حاضری کے موقع پر میری زبان سے ایک گانا ہی جاری ہوتا ہے

"تم جگ جگ جیو مہاراج ھم تیری نگریا میں آے "

میں نے ان سے کہا یہ آپ کا ذوقی معاملہ ھے آپ کی روحانی سرشاری ان کلمات سے مزید تقویت پاتی ہے آپ یہی گنگنایا کریں [1]


حالات زندگی[ترمیم]

الحاج خورشید احمد رحیم یار خان کی بستی نور وال میں پیدا ہوئے تھے۔ 1973ء میں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔


سر اور لے سے رشتہ[ترمیم]

یونس ہمدم ، اپنے ایک کالم نعت خواں بھی سریلے ہوتے ہیں میں خورشید احمد کے بارے لکھتے ہیں

نعت خواں خورشید احمد سے جب بھی ریڈیو پر ملاقات ہوتی تھی، میں اپنے پروگرام اور خورشید احمد اپنی ریکارڈنگ کے بعد فارغ ہو کر اسٹوڈیو کے کسی خالی کمرے میں بیٹھ جایا کرتے تھے ایک دو دوست اور بھی آ جاتے تھے اور پھر موسیقی کی محفل جم جاتی تھی۔ خورشید احمد اپنی سریلی آواز میں ہمیں اپنی اور ہماری پسند کے فلمی گیت سنایا کرتا تھا، ایک دن خورشید احمد بڑے موڈ میں تھا اس نے برملا کہا تھا ہمدم بھائی! اگر میں نعت خواں نہ ہوتا تو ایک اچھا گلوکار ہوتا پھر اس نے اپنی پسند کے چند گیت سنائے جن کا تعلق فلم میلہ، بابل اور دیدار سے تھا اس نے جو گیت محمد رفیع نے گائے تھے بالکل محمد رفیع ہی کے انداز میں گائے وہ گیت آج بھی میرے دل پر نقش ہیں۔

٭میری کہانی بھولنے والے تیرا جہاں آباد رہے

٭محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیار کیا جانے

٭یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے، افسوس ہم نہ ہوں گے

خورشید احمد آنکھیں بند کیے گا رہا تھا اور اپنی انگلیوں سے میز پر ہلکا ہلکا طبلہ بھی بجا رہا تھا۔ فلم میلہ کا گیت اس نے اتنے پرسوز انداز اور آواز میں گایا کہ ہمیں محمد رفیع کی یاد دلادی، آنکھیں بند کر کے وہ گیت سنتے ہوئے یوں لگ رہا تھا جیسے ہم محمد رفیعکا ریکارڈ سن رہے ہیں۔ وہ لمحے وہ ملاقاتیں آج بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔

نعت خوانی[ترمیم]

ستر کی دہائی میں ان کی نعت خوانی کی شہرت ہوئی جس کے باعث انہیں ریڈیو پاکستان کے معروف پروڈیوسر مہدی ظہیر نے نعت خوانی کے لئے مدعو کیا۔ 1973ء سے 1977ء تک انہوں نے محفل نعت میں کراچی کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا تاہم ان کی شہرت کا آغاز خالد محمود نقشبندی کی مشہور نعت ’’ " یہ سب تمہارا کرم ہے آقا " سے ہوا۔ 1983ء میں انہیں بہترین نعت خواں کا پی ٹی وی ایوارڈ عطا کیا گیا۔انہیں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا اورامریکا میں نیوجرسی کے میئر نے بھی انہیں ایک خصوصی ایوارڈ عطا کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے بھی انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

وفات[ترمیم]

30 اگست 2007ء کو پاکستان کے نامور نعت خواں الحاج خورشید احمد وفات پاگئے۔ الحاج خورشید احمد کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں ۔ ایک نعت دوست محمد شہباز اشرف سعیدی فرماتے ہیں ۔

مجھے یاد ہے کہ انکا جنازہ رحمانیہ مسجد طارق روڈ میں ہوا تھا کثیر تعداد میں عاشقان رسول اور نعت خوان حضرات نے شرکت کی نمازہ جنازہ کے بعد انکے میت جلوس کی صورت میں مزار عبداللہ شاہ غازی لے جائی گئی وہاں بھی عوام کا بہت رش تھا. تسلیم صابری اور ڈاکٹر عامر لیاقت کو میں نے اپنی آنکھوں سے پسینے میں شرابور اور صبیح رحمانی کو قبر تیار کرتے دیکھا

مزید دیکھیے[ترمیم]

"نعت کائنات : اس طرح کے بے شمار اہم صفحات کا زخیرہ ہے ۔ اگر آپ حمد و نعت کے حوالے سے کوئی سرگرمی کر رہے ہیں تو ہمیں ضرور مطلع کریں ۔ مزید اہم صفحات دیکھیے
اس ماہ کی اہم شخصیات
نئے صفحات
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
۔اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف khawar@sonotech.com.pk پر بھیجیں۔


حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. صبیح رحمانی ، نعت ورثہ لٹریری ڈسکشنز میں ایک گفتگو