آنکھیں سجود میں ہیں تو دِل کا قیام ہے ۔ اختر شمار

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Akhtar Shumar.jpg

شاعر : اختر شمار

نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

آنکھیں سجود میں ہیں تو دِل کا قیام ہے

حیران ہیں کہاں پہ یہ اپنا قیام ہے


اشکوں کے ساتھ ساتھ ہے تاروں کا قافلہ

اور نعت کے سفر میں مدینہ قیام ہے


دِل سے نکال جتنے بھی وہم و گمان ہیں

اِس راہ میں یقین ہی پہلا قیام ہے


اب اپنی زِندگی ہے مسلسل سفر کا نام

منزل قیام ہے نہ یہ رستہ قیام ہے


مَیں سوچتا ہُوں غارِحرا میں گزار لُوں

دِل کے سفر میں ایک مہینا قیام ہے


سجدہ ضرور آئے گا اگلے پڑاو میں

فی الحال تو یہ سارا زمانہ قیام ہے


مزید دیکھیے[ترمیم]

نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ اوکاڑا کے معروف شاعر ادیب محقق اور نعت گوقمر حجازی انتقال فرما گئے ہیں۔ اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

نئے اضافہ شدہ کلام
29 جنوری کو نعت کی کلاسیکل روایت کے اہم نعت خواں جناب ارشاد چشتی ہم سے رخصت ہوگئے ۔
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات