اعظم چشتی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Frame Master azam (2).png

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

محمد اعظم چشتی 15 مارچ 1921 کو پیدا ہوئے اور 31 جولائی 1993 کو وصال پایا ۔ قائد اعظم سے لیکر ضیا الحق تک کے ایوان صدارت و وزارت کے پسندیدہ نعت خواں رہے ۔

محمد اعظم چشتی ایک صوفی ، بزرگ درویش عالم دین مولوی محمد دین چشتی کے گھر پیدا ہوئے ۔ جو عربی اور فارسی کے ماہر تھے اور گھر میں عربی اور فارسی ایسے سمجھی جاتی تھی جیسے مادری زبان ہو ۔ والدہ بھی عالمہ فاضلہ قاریہ اور حافظہ تھیں ۔ یہی فیضان تھا جس نے اعظم چشتی کو 13 سال کی عمر میں "گلستان" "بوستان" [1] کا حافظ بنا دیا ۔ اعظم چشتی کو حسان [2] نعت کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سر و فکر دونوں سے ودیعت کیے گئے ۔ نعت خوانی کی تو صفِ اول کے نعت خواں ٹھہرے اور نعت گوئی کی تو بہت سے شعرا نے ان پر رشک کیا ۔ شاعری میں صوفی غلام مصطفیِ تبسم کی صحبت اور تربیت حاصل رہی ۔ احمد ندیم قاسمی سے بھی قرب رہا۔ اور احمد ندیم قاسمی ہی کو پاکستان کا سب سے بڑا نعت گو شاعر مانتے تھے ۔

نئے صفحات
نعت کائنات پر نئی شخصیات

سلسلہ طریقت[ترمیم]

سلسلہ چشتیہ نظامی چکوڑی شریف ضلع گجرات حضرت پیر سید غلام سرور شاہ چکوڑوی جو پیر مہر علی شاہ صاحب کے خلیفہ تھے ۔ اعظم چشتی صاحب کو خلافت عطا ہوئی لیکن انہوں نے کسی کو مرید نہہں کیا ۔

نعت خوانی[ترمیم]

اعظم چشتی رواتی اور کلاسیکل رنگ کے بے مثال نعت خواں تھے ۔ ان کی خوانی کو سحر آج تک نہیں ٹوٹا ۔ پاکستان کے اولین نعت خوانوں میں سے ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ہر خطے کے عاشقان ِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آواز سے شناسا ہیں ۔ اعظم چشتی جیسا سر اور لے کو سمجھنے والے نعت خوانوں میں سے تھے ۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان کی تربیت ہی سر اور لے میں ہوئی ۔ استاد بڑے غلام علی خاں اور استاد برکت علی خان سے بہت گہرے مراسم تھے اور نہیں سے کسب ِ فیض حاصل کیا ۔

جب اعظم چشی گلشن نعت میں نمودار ہوئے تو یہ سرفراز پاپا ، جان محمد امرتسری ، اور بابا محمد علی جیسے بزرگ نعتوں کا آخری دور تھا ۔ اور پھر پاکستان میں نعت خوانی کے منظر نامے پر اعظم چشتی ایک لمبے عرصے کے لیے جلوہ افروز رہے ۔ اور پاکستان کا گوشہ گوشہ ان کی نعت خوانی سے مستفید ہوا۔


مزید دیکھیے : نعت ویو ۔ اعظم چشتی کی مشہور نعتیں

نعت خوانی پر آراء[ترمیم]

خورشید احمد[ترمیم]

خورشید احمد فرمایا کرتے تھے کہ مجھے کوئی نہیں جانتا تھا میں جو کچھ بھِی ہوں حضرت کی دعا ہے ۔ میں بچپن میں اعظم صاحب کو سنا کرتا تحا اور ان سے بہت متاثر تھا ۔ ملنے کی بہت حسرت تھی ۔ وہ موقع اس طرح ہوا کہ حیدر آباد میں ایک زمیندار کے گھر ایک سالانہ محفل ہوا کرتی تھی ۔ اور وہ تین لوگوں کو بلایا کرتے تھے ۔ مہدی حسن ، فریدہ خانم اور اعظم چشتی ۔ آغاز اعظم چشی کیا کرتے تھے اور پھر محفل موسیقی شروع ہو جاتی تھی ۔ کسی نہ کسی طرح مجھے اعظم چشتی کے سامنے دو اشعار پڑھنے کا موقع مل گیا ۔ بہت کم عمر اور کم ہنر تھا ۔ میں نے کیا سنایا ہوگا؟ جب محفل کا اختتام ہوا تو میں اعظم چشتی کی دست بوسی کے لیے انہیں ڈھونڈتا ہوا ان کے قریب پہنچ گیا ۔ تو انہوں نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ بیٹا نعت خوانی میں جیسی عزت اللہ نے مجھے دی ہے ۔ ویسی ہی عزت تمہیں بھی دے گا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا

"نعت کائنات : اس طرح کے بے شمار اہم صفحات کا زخیرہ ہے ۔ اگر آپ حمد و نعت کے حوالے سے کوئی سرگرمی کر رہے ہیں تو ہمیں ضرور مطلع کریں ۔ مزید اہم صفحات دیکھیے

مجمویہ ہائے کلام[ترمیم]

  • غذائے روح (1944ء)نعتیں
  • نیر اعظم (1970ء)نعتیں
  • رنگ و بو (1953ء)نعتیں
  • ا نیندرے پنجابی نعتیں
  • معراج پنجابی نعتیں

نعت گوئی پر معاصرین کی آراِء[ترمیم]

حفیظ تائب فرماتے ہیں کہ اعظم چشتی کا سب بڑا استاد ان کا اپنی طبع ہے ۔


نمونہ ِ کلام[ترمیم]

اعزازات[ترمیم]

"نعت کائنات"پر غیر مسلم شعراء کی شاعری کے لیے بھی صفحات تشکیل دیے گئے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں : غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی
  • اعظم چشتی کو جناح کیپ قائد اعظم نے دی تھی اس سے پہلے آپ ترکی ٹوپی پہنتے تھے ۔ آپ نے تحریک پاکستان اور قائد اعظم کے حوالے سے بھی کلام لکھے اور تحریک پاکستان کے جلسوں میں یہ کلام پڑھتے ۔
  • ریڈیو پر پہلی نعت
  • ٹیلیویژن کی پہلی نعت
  • پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ

سال بہ سال[ترمیم]

1974 میں پہلا حج کیا ۔ کل دو حج اور بے شمار عمروں کی سعادت حاصل ہوئی ۔ مولانا کوثر نیازی اس وقت وزیر اطلاعات تھے ۔

1960 کی دہائی میں "اعظم نعت اکیڈمی " قائم ہوئی ۔ پہلے باقاعدہ کام ہوتا رہا اور پھر مصروفیت کی وجہ سے غیر رسمی استادی شاگردی کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔

1979: 14 اگست کو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ ملا

1987 جامعہ حسان کی بنیاد رکھی ۔ شیخوپورہ روڈ، زاہد ٹاون پر رفاہ عامہ کے لئے بابا نوری بوری کے قریب 11 کنال جگہ خریدی اور وہاں مدفون ہونے کی وصیت کی ۔


کبھی کوئی اعزازی عہدہ قبول نہیں کیا ۔

مشہور شاگرد[ترمیم]

نعت خوانی[ترمیم]

منظور الکونین | خورشید احمد | سعید ہاشمی |

نعت گوئی[ترمیم]

اشرف چشتی | بدر الدین بدر | سردار احمد سردار | اصغر علی اصغر

اعظم چشتی فاونڈیشن[ترمیم]

2012 اعظم چشتی فاونڈیشن کی بنیاد رکھی گئی ۔ جس میں جامعہ حسان ، اعظم چشتی ہسپتال، اعظم نعت اکیڈمی و لائبریری اور ایک مدرسے پر کام ہو رہا ہے ۔ جامعہ حسان تقریبا تعمیر ہو چکی ہے ۔اس میں قریبا 150 بچے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔

اولاد[ترمیم]

اولادیں[ترمیم]

بشرِی اعظم | عطیہ اعظم | وجاہت حسین چشتی | ارشاد اعظم چشتی | یاسمین اعظم | جمشید اعظم چشتی | اسرار حسین چشتی


بیرونی روابط[ترمیم]

نعت ویو پر اعظم چشتی کی نعت خوانی

مزید دیکھیے[ترمیم]

گذشتہ ماہ زیادہ پڑھے جانے والے موضوعات

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. شیخ سعدی کی کتاب
  2. حسان بن ثابت ۔ رسول کریم ﷺ کے صحابی اور اولین نعت خواں
  3. ڈاکڑ شہزاد احمد، ایک سو ایک پاکستانی نعت گو شعرا، رنگ ادب پبلی کیشنز، کراچی ۔ 2017
  4. ڈاکڑ شہزاد احمد، ایک سو ایک پاکستانی نعت گو شعرا، رنگ ادب پبلی کیشنز، کراچی ۔ 2017