محمد علی ظہوری

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Muhammad Ali Zahoori.jpg

مرکزی صفحہ
اردو نعتیں
پنجابی نعتیں
مجلسِ حسان، پاکستان


محمد علی ظہوری 12 اگست 1932ئ کو موضع آرائیاں علاقہ نواب صاحب لاہور میں پیدا ہوئے۔

ظہورؔی صاحب سترہ برس کی عمر میں میاں ظہور الدین نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ انھوں نے اپنے مرشد کریم کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا اور محمد علی سے محمد علی ظہوری ہوگئے۔ ظہوری صاحب ایک عام اسکول ٹیچر تھے۔ انھوں نے نعت خوانوں کی تربیت کے لیے مجلس حسان کے نام سے ایک ادارہ 1966ء میں قائم کیا تھا۔ نعت گوئی اور نعت خوانی کی پاکیزہ روایت کو ایک مستند حیثیت سے فروغ دینے میں مجلس حسان کی شبانہ روز کوششوں کا ثمر بھی شامل ہے۔محمد علی ظہوری کی نعت اور نعت خوانی کے اثرات پورے ملک پر چھائے رہے۔ نصف صدی تک نعت خوانی کی خدمات انجام دیں۔

اعزازت[ترمیم]

محمد علی ظہوری صاحب کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ انہیں انتقال سے تئیس دن قبل روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اندر درود و سلام پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ [1]

شاگرد[ترمیم]

قاری زبید رسول | عبدالستار نیازی | اختر حسین قریشی | سلیم صابری | منیر ہاشمی | قاری افضال انجم، مختار صدیقی | سرور حسین نقشبندی

نعت نگاری[ترمیم]

انہوں نے نعت نگاری کے لیے انتہائی سادہ زبان استعمال کی ہے اور مشکل ترین ردیف و قوافی سے گریز کیا ہے۔ ان کی کہی گئی نعتوں کا بنیادی وصف سادگی ہے۔ ڈاکٹر شہزاد احمد، اپنی کتاب "ایک سو ایک پاکستانی نعت گو شعرا میں محمد علی ظہوری کے بارے یوں رقمطراز ہیں ۔

"محمد علی ظہوری کی نعتوں میں سیرتِ مصطفی، جمال مصطفی اور محبت مصطفی کی چاشنی موجود ہے۔ ظہوری صاحب کی نعتیہ شاعری میں انتہائی سادگی اور سلاست پائی جاتی ہے۔ ان کی نعتوں میں حضور اکرم کی نسبت کے حوالوں کا تذکرہ اور نبی کریم کا جمالیاتی پہلو حد درجہ نمایاں ہے۔"

ان کچھ مشہور ِ زمانہ کلام یہ ہیں

نعت خوانی[ترمیم]

محمد علی ظہوری قصوری آداب نعت سے لیکر آواز کی باریکی جیسے ہر فن سے آشنا نعت خواں تھے ۔ اس پر ان کے دل میں موجزن عشق رسول ِ کریم ۔ احمد ندیم قاسمی فرماتے ہیں

"جب وہ نعت پڑتے تو ان سارا وجود نعت خوانی میں ڈھل جاتا ۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا کوئی اور نعت خواں نہیں دیکھا "

یہی وجہ ہے کہ ان کی پڑھی ہوئی بہت سی نعتیں آج بھی بہت محبت سے سنی جاتی ہیں ۔

وفات[ترمیم]

محمد علی ظہوری 11 اگست 1999ئ بروز بدھ صبح 10 بجے شریف میڈیکل سٹی ہاسٹل رائے ونڈ میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انہیں ان کے آبائی گاوں "رائیاں میں دفن کیا گیا ۔ خوبی قسمت کا یہ عالم ہے کہ ان کو لحد میں اتارتے وقت ان کے ہونہار شاگر سرور حسین نقشبندی موقع محل کی مناسبت سے ان کی نعت مبارکہ یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو ۔ پڑھ کی نبی کی نعت لحد میں اتار دو پڑھ رہے تھے ۔ یہ نعت مبارکہ ان کے آخری مجموعہ کلام توصیف کی آخری نعت ہے ۔

دیگر معلومات[ترمیم]

ظہوری صاحب نے چار مرتبہ حج اور گیارہ مرتبہ عمرے کی سعادت حاصل کی


مزید دیکھیے[ترمیم]

اقبال عظیم | بیدم شاہ وارثی | حفیظ جالندھری | خالد محمود خالد | ریاض الدین سہروردی | عبدالستار نیازی | کوثر بریلوی | نصیر الدین نصیر | منور بدایونی | مصطفیٰ رضا نوری | محمد علی ظہوری | محمد بخش مسلم | محمد الیاس قادری | صبیح رحمانی | قاسم جہانگیری | یوسف قدیری | قمر انجم | سید ناصر چشتی | صائم چشتی | وقار احمد صدیقی | شکیل بدایونی | ساغر صدیقی | حامد لکھنوی | حبیب پینٹر


اس ماہ کی اہم شخصیات

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر شہزاد احمد، ایک سو ایک نعت گو شعراء، رنگ ادب پبلیکیشنز، کراچی ، 2017