میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

شاعر : غافر شہزاد

حمدِ باری تعالی جل جلالہ[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا

مجھے نا معتبر ، میرا خدا ہونے نہیں دیتا


مری فردِ عمل دھو کر مِری اشکِ ندامت سے

میری لغزش کو وہ میری خطا ہونے نہیں دیتا


عتاب اس کا میرے کردار پر نازل نہیں ہوتا

کہ وہ توّاب ہے محشر بپا ہونے نہیں دیتا


عطا کچھ اس طرح کرتا ہے وہ افکار کی دولت

میرے ذوقِ ہنر کو نارسا ہونے نہیں دیتا


عطا کرتا ہے نعتیں‌ مجھ کو لمحاتِ تہجد میں

کرم کرتا ہے مجھ کو بے نوا ہونے نہیں دیتا


میری ہر احتیاج اسکے کرم کے دائرے میں ہے

مجھے محتاجِ دستِ ماسوا ہونے نہیں دیتا


میں سر سے پاؤں تک اس کی عطا کے سائباں میں ہوں

وہ غافر مجھ پر فتنوں کو بپا ہونے نہیں‌ دیتا

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات