فخر اس پر کیوں نہ کل تاریخِ انسانی کرے ۔ پرویز اشرفی

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

PARWAIZ ASHRAF.jpg

شاعر : پرویز اشرفی

مطبوعہ : 2017 - بہترین نعت کی تلاش

کیٹگری: 2

کلام نمبر : 32

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

فخر اس پر کیوں نہ کل تاریخِ انسانی کرے

جس کے در کا فقر بھی خیرات سلطانی کرے


چشم و مژگانِ رخِ انور کی ہر جنبش ہے وہ

منکشف جو معنیِ آیاتِ قرآنی کرے


اپنا کمخوابِ بصیرت فرشِ راہ ان کے لیے

چاند سورج کہکشاں نجمِ درخشانی کرے


جسم کو تہذیب کے ڈھانپے ردائے شرم سے

اور حیا سے چاک وہ دامانِ عریانی کرے


آرزو جن کے غلاموں کے غلاموں کی سدا

حور و غلماں، خلد و کوثر باغِ رضوانی کرے


پیاس بخشی تھی خدا نے وہ لبِ شبیر کو

آرزو جس پیاس کی خود آبِ حیوانی کرے


پاپ کے پربت کو پگھلا کر پیمبر کا پسر

پل میں پیدا پیاس کی پرچھائیں سے پانی کرے


اس قدر تھا معتبر بے داغ کردارِ رسول

بے جھجک تائید جس کی دشمنِ جانی کرے


غرنوی پھر کیوں نہ ٹھہرے اس کی چوکھٹ کے ایاز

نام لیوا جس کا سلطانوں پہ سلطانی کرے

نئے صفحات

2017 کی بہترین نعت کی تلاش[ماخذ میں ترمیم کریں]

تعارف
کیٹگری 1
کیٹگری 2
کیٹگری 3

سانچہ میں تکرار پایا گیا: سانچہ:نعت ورثہ ۔ 2017 کی بہترین نعت کی تلاش ۔ کیٹگری 2

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

Youtube channel click.png
نئے اضافہ شدہ کلام