مطاف حرف پڑھیے

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

مطاف حرف.jpg

مقصود علی شاہ
مطاف حرف
مطاف حرف پڑھیے
اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png


فہرست

مطاف حرف

جملہ حقوق

جملہ حقوق بیٹی لاج شاہ اور بیٹے سید طلحہ کے نام محفوظ ہیں

نام کتاب : مطافِ حرف

شاعر : مقصود علی شاہ

سرورق : حمدان خالد

سالِ اشاعت: جولائی 2019

کمپوزنگ : زرناب کمپوزنگ سنٹر، لاہور

مطبع : حاجی منیر اینڈ سنز پریس، لاہور

قیمت : 550/-روپے

بیرونِ ملک: 10 پائونڈ/ 15 ڈالر

دھنک مطبوعات

0300-8873052

Shams.ua786@gmail.com

سرنامۂ حیات

الصلوٰۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ

سرنامۂ حیات ہے کندہ جبین پر

وہ اسمِ پاک جس سے ہے منسوب میری نعت

یعنی مطافِ حرفِ تمنا وہی تو ہے

جو انتسابِ شوق ہے مقصودِ کائنات

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

انتساب

ممتاز دانشور، شاعر، پروردہء حضور ضیاء الامت

"' محمد رضا الدین صدیقی"'

کے نام

وہ پہلی آواز جس نے 1982میں چودہ سال کے ایک بچے سے کہا تھا:

" تمھاری جبین میں ایک صاحبِ اسلوب نعت نگار کے آثار دیکھ رہا ہوں- الحمدللہ " میں آج کم و بیش چار دہائی بعد سامنے آنے والی اپنی پہلی نعتیہ کاوش " مطافِ حرف" کو محمد رضا الدین صدیقی کی اسی آواز کی بازگشت سمجھتا ہوں-

انتساب ثانی

شریکِ نعت، شریکِ حیات

منزہ یاسمین

کے نام

تشکرات

میرے محسن و مربی

حضرت پیر صاحبزادہ سلطان نیاز الحسن سروری قادری

حضرت پیر صاحبزادہ سلطان فیاض الحسن سروری قادری

زیبِ سجادہ آستانۂ عالیہ حضرت سخی سلطان باہوؒ

محبتوں کو نمو دینے والے

ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نوری صاحب


نعت کو حیات بنا دینے والے

اشفاق احمد غوری صاحب

(قومی سیرت ایوارڈ یافتہ)


علم اور اظہار کے سنگم


ڈاکٹر پروفیسر صاحبزادہ احمد ندیم صاحب

مخلص فی اللہ

خواجہ محمد صفدر امین صاحب

میرے نعتیہ سفر میں ان شخصیات کی شمولیت ُحسنِ اتفاق سے بڑھ کر ُحسنِ انتظام ہے جسے فطرت ترتیب دے رہی تھی اور مختلف مواقع پر مجھے الگ الگ ان کے حوالے کر دیا۔ میرے لیے یہ شخصیات اتنی بڑی ہیں کہ میں ان کے شکریہ کے لیے بھی اپنی جبین اپنے خالق و مالک کے حضور جھکا دیتا ہوں جس نے مجھے ان سے نسبتِ تعلق دی۔

مطاف حرف، با کمال تازہ کاری از ڈاکٹر ریاض مجید

اردو نعت کے معاصر منظر نامے میں معیار اور مقدار دونوں حوالوں سے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ نہ صرف برصغیر پاک و ہند میں جہاں اردو کا چلن عام ہے نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں نادرہ کاری کے نمونے سامنے آ رہے ہیں بلکہ اُردو کے مراکز سے دُور اُردو سے محبت کرنے والوں نے جو بستیاں آباد کی ہیں اُن میں بھی نعت کی صنف مقبول ہو رہی ہے۔ بقول میرزا عبدالقادر بیدل


بہ ہر نظارۂ حسنش شوخیٔ رنگِ دگرِ دارد

تصوّر چوں تواں کردن جمالِ بے مثالی را


نعت اور صاحبِ نعت کے کردارو سیرت کے جمال کی ُگونا ُگوں پرتیں نعت نگاروں کے محسوسات و مشاہدات کا حصہ بن رہی ہیں جیسے جیسے شاعر ’جمالِ بے مثالی‘ کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں لب و لہجہ کی بوقلمونی اور زبان و بیان کے نئے نئے قرینوں کی تلاش اس سیّد الاصنافِ سخن جسے نعت کہتے ہیں کی نیرنگیوں سے شاعر کو متعارف کراتی ہے آپ اس صنف کے موضوعات و مضامین پر جتنا غور کرتے ہیں آپ اُس صنف کی بیکرانی سے زیادہ آشنا ہوتے جاتے ہیں۔

نعت کا موجودہ بیانیہ قریب قریب سارے کا سارا بغیر کسی خارجی تحریک کے چونکہ غزل کی صنف سے وابستہ ہو رہا ہے (بلکہ ہو چکا ہے) لہٰذا غزل کے علائم و رموز، اس کے معنوی میلانات اور طرز ہائے ادا غیر محسوس طور پر آج کی نعت میں پوری تابانی کے ساتھ جھلک رہے ہیں۔ اردو شاعری میں غزل کی صنف اور ہیئت جن تخلیقی محرکات اور فنّی سہولیات و روایات کے باعث آج کی سب سے زیادہ مستعمل ،پسندیدہ اور مقبول عام صنف قرار پائی ہے اس کا سراغ ایک طویل تحقیقی و تجرباتی مطالعے کا متقاضی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کے تخلیقی منظر نامے میں سب سے زیادہ اظہار اسی ہیئت اور صنف میں ہو رہا ہے آج حمد، منقبت، سلام اور نعت کے جذبات و خیالات کا اظہار نظم، رباعی، مثنوی اور دوسری کلاسیکی اصنافِ سخن کے مقابلے میں اگر کسی صنف میں نمایاں ہُوا ہے تو وہ صنف غزل کی ہے۔

مقصود علی شاہ کی نعت پر اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے یہ تمہید از خود اس لئے زبان پر آ گئی کہ مقصود شاہ نے بھی آج کے دوسرے شاعروں کی طرح اپنے نعتیہ خیالات و جذبات کا اظہار غزل ہی کی صنف میں کیا ہے غزل کی ہیئت تخلیق کار سے جو مسلسل توجہ مانگتی ہے اس کا تعلق ردیف و قافیہ اور آہنگ و اوزان کے شمول سے برتی جانے والی شعری زمینوں سے ہے یہ زمینیں جتنی نادر الوقوع ، ندرت خیز اور جدّت آمیز ہوں گی ان میں اظہار کے تنوع کے اتنے ہی امکانات زیادہ ہوں گے مقصود شاہ کے درج ذیل مطلعے دیکھئے:


لفظ، خاموش ہے اور دیدۂ حیرت ُچپ ہے

مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت ُچپ ہے


اُبھر رہی ہے پسِ حرف روشنی کی نوید


کہ تیری نعت ہے سرکار زندگی کی نوید

………


حبس کے شہر میں اِک تازہ ہَوا کا جھونکا

بخدا نعت ہے بس اُن کی عطا کا جھونکا

………


چوم آئی ہے ثنا جھوم کے بابِ توفیق

کس سے ممکن ہے کرے کوئی حسابِ توفیق

………


گرفتِ حیرت و بہجت میں ہے وصال گھڑی

کہ میری زیست نے دیکھی ہے اِک کمال گھڑی

………


شبِ دیجور کو دے خوابِ کرم کا جلوہ

آنکھ کے طاق میں رکھ نقشِ قدم کا جلوہ

………

آپ کی رحمتِ بے پایاں کے اظہار کے رنگ

رنگ تو جیسے ہوئے گردِ رہِ یار کے رنگ

………

آپ کی آمدِ رحمت کے سبب ہیں قائم

حضرتِ آدم و حوّا کے نسب ہیں قائم

مقصود علی شاہ کی نعت نگاری کا نمایاں پہلو اُن کی ایسی ہی نعتیہ زمینیں ہیں انہوں نے اپنے نعتیہ مضامین کے اظہار کے لئے نئی زمینیں تخلیق کی ہیں اہلِ نظر اس راز سے بخوبی واقف ہیں کہ اظہار میں خوبی اور ندرت کا سارا سحر ان زمینوں ہی کی عطا ہوتا ہے آپ کسی ایسے انداز، طرز، سانچے یا زمین میں کوئی نئی بات کر ہی نہیں سکتے جو سالہا سال سے استعمال ہو رہی ہو اور جسے اب تک سینکڑوں شاعروں نے برتا ہو جدّت و ندرت کی تلاش میں جب ہم مقصود علی شاہ کے نعتیہ کلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ان کے اس تخلیقی وصف کا احساس ہوتا ہے نعتیہ کلام میں ندرت کا بڑا انحصار جس وصف اور اسلوب پر ہے مقصود علی شاہ اس سے بخوبی واقف ہیں ان کی انفرادیت کی تشکیل میں ان دوسرے عوامل کے ساتھ جن کا تعلق ان کی افتادِ طبع، طرزِ فکر و احساس اور مشاہدہ و مطالعہ سے ہے بڑا سبب ان کی جدّت کوشی ہے۔کچھ اور مثالیں دیکھئے:


شافعِ روزِ جزا، والیٔ جنت ُتو ہے

معدنِ ُجود و عطا، قاسمِ نعمت ُتو ہے

………

اِذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوں

نعت کے نور کو تنویر سے پہلے لکھ لوں

………

وہ میری نعت میں ہے، میری کائنات میں ہے

حیات محوِ سفر اُس کے التفات میں ہے

………

ہاتھ میں تھامے ہوئے اُن کی عطا کا دامن

رشکِ ایجاب ہُوا حرفِ دُعا کا دامن


مقصود علی شاہ کی نعتیہ شاعری میں تراکیب کا استعمال بھی جدّت لئے ہوئے ہے انہوں نے اپنے نعتیہ خیالات کی ترجمانی میں کئی نئی تراکیب بھی وضع کی ہیں چند مثالیں دیکھئے: صیغۂ مدحت،خامۂ عجز،حیطۂ فہم، رنگینیٔ ترحیب، صوتِ خیر،چراغِ مدحت، عکسِ مضافاتِ حرم، رفعتِ میم، ظلِ انصاف، ثروتِ شوق، نثار شان و شرف، گمانِ تمثل، بحرِ بے اطراف، حیطۂ فکر، کاسۂ تعلق،خیراتِ ثنا، قاسمِ حرف، قاسمِ اِذن، سپردِ حرف،ربیعِ نور، ساعتِ نور، جادۂ بے سمت، چہرۂ کارگہِ حسن،صورتِ حیرتِ پیہم، حاصلِ صیغۂ ُکن، غریبِ حرف، نسبتِ خیرالوریٰ، کمالاتِ حمیدہ ، شانۂ ُنور، گرفتِ شوقِ سفر، مآلِ عرصۂ ہجراں، جوارِ گنبدِ خضریٰ، رشکِ ایجاب،سوادِ عرصۂ وحشت، درِ ایجاب و کرم، بابِ توفیق، غارِ ادراک، دعائے شکستہ حرف، رائق و نازک، شہودِ خالقِ مطلق، وجودِ خلقِ دو عالم___بعض جگہ انہوں نے اضافت کے بغیر الفاظ کے زوج بنائے ہیںانہوں نے اپنی خوبصورت ترکیب سازی سے بڑے خوبصورت شعر تخلیق کئے ہیں درج ذیل مثالیں دیکھئے:

خامۂ عجز سے ہوتی نہیں مدحت تیری

شوق بیتاب ہے ، جبریل کا پَر چاہتا ہے

………

حیطۂ فہم سے آگے کا سفر ہے معراج

اور معراج سے آگے کی حقیقت چُپ ہے


کاسۂ ُنطق میں خیراتِ ثنا مِل جائے

قاسمِ حرف مجھے حرفِ عطا مِل جائے


………

نکہت و رنگ کو ہے نسبتِ ُگل کی حاجت

یعنی معراج تھی حیرت، پسِ حیرت ُتو ہے


ترے اوصاف و کمالاتِ حمیدہ، واللہ

حمد کے رنگ میں لکھی گئی مدحت ُتو ہے


انہوں نے اپنی نعتوں میں بعض نسبتاً کم مستعمل الفاظ کو بھی قرینے سے برتا ہے ان کا یہ مصرع دیکھئے : کیا تری زلف کو تفجیر سے پہلے لکھ لوں اس میں تفجیر کا لفظ کتنی خوبصورتی سے استعمال ہُوا ہے اسی طرح اُن کے بعض شعروں میں تلازموں نے معنی آفرینی اور مفہوم کی گہرائی میں اضافہ کیا ہے مثلاً اُن کے یہ شعر دیکھئے:


جو اِذن یاب ہوئے ہیں انہیں مبارک ہو

ہم ایسے خواب گروں کے سلام حاضر ہیں

………

کاش رہ جاؤں مدینے کا مقامی ہو کر

کاش تقدیر میں ایسی کوئی ہجرت آئے

………

ایک ہی لَے میں ہیں سب لالہ و گُل مدح سرا

نعت تو جیسے ہوئی پورے چمن کی خواہش

………

حدیثِ قولی ہو، فعلی ہو یا کہ تقریری

زمانہ ان سے ہی لیتا ہے آگہی کی نوید


نثار شان و شرف پر ترے کہ جن کے سبب

غلام جسم نے پائی تھی خواجگی کی نوید


اِک دُعائے شکستہ حرف کو بھی

اُس کی بخشش نے محتشم رکھا


خود خطاؤں نے آنکھ جھپکا دی

اُس نے پیہم مگر کرم رکھا


یہ الگ بات کہ حیرت کرے، حسرت نہ کرے

دیدۂ شوق کہاں جائے جو مدحت نہ کرے

………


اُن کی مدحت نے دیا مجھ کو اجالا ایسا

بس مقدر سے عطا ہوتا ہے رستہ ایسا

………


دل کی حالت تو ہے ایسے کہ بتائے نہ بنے

سامنے آنکھوں کے ہے کعبے کا کعبہ ایسا

………


لب کا پیرایہ تو بے حد ہے ثقیل و جامد


مَیں ترا اسم کہیں بوسے کے اندر باندھوں

………


ترے جمال کے پہرے میں کائناتِ خیال


مَیں نعت کہنا تو چاہوں، کہوں تو کیسے کہوں

………


تمہارا اسم ہے آقا یا کوئی اسمِ طلسم

لبوں سے چوم نہ پاؤں، قلم سے لکھ نہ سکوں

………

آپ کا ذکر ہو اور صبح کی کرنیں جاگیں

آپ کی نعت ہو اور شام کا منظر مہکے

………

سیّدہ آپ کی تطہیر کی رحمت کے سبب

میری بیٹی کو ملے شرم و حیا کا دامن


مقصودعلی شاہ کی نعت نگاری کی بنیاد جس جذبہ اور اپج پر ہے وہ تازگی سے عبارت ہے یہ تازگی اس کے محسوسات و خیالات سے لے کر اس کے لب ولہجہ اور اسلوب و اظہار تک پھیلی ہوئی ہے جیسا کہ پہلے نشاندہی کی گئی ہے انہوں نے نعتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کئی تازہ زمینیں برتی ہیں غزل کی صنف اپنے برتنے والے سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ردیف و قافیہ کے سلسلے میں محتاط اور متوجہ رہیں غزل کی طرح نعت میں بھی قافیہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور مضامین و موضوعات اور مشاہدات و جذبات کی تمام پرتوں اور سطحوں کا انعکاس اسی کے ذریعے ہوتا ہے مختلف سمتوں سے آئے ہوئے مفاہیم ، افکار اور ان کے تلازمے قافیے کے عدسے ہی سے مرتکز ہو کر نہ صرف اپنی تکمیل کرتے ہیں بلکہ شعر کے پورے معنوی منظر نامہ کو منضبط اور مربوط(Sizable) کرتے ہیں لہٰذا فکری سلسلے کو قافیہ تک بخیر و خوبی پہنچانا شاعر کی ذمہ داری ہے بخیر و خوبی سے میری مراد ہے کہ اس بیانیے میں قافیہ رکاوٹ کی بجائے مہمیز ثابت ہو اس کا استعمال برمحل، صحیح اور Introjective ہو یعنی خیالات کو مجتمع کرنے کا سبب ہو نہ کہ ان کو منتشر کرنے کا، یہی وجہ ہے کہ ایک ماہر اور با کمال شاعر قافیہ کے استعمال میں صرف تشویق نہیں تشویش اور فکر مندی میں مبتلا رہتا ہے وہ قافیے تک خیال کو اس نزاکت اور مہارت کے ساتھ لاتا ہے کہ قافیہ اس کے معنوی سلسلے پر توثیقی مہر کاسا کام کرتا ہے۔

ردیف کی اہمیت نعت میں قافیے کی طرح بلکہ بعض شکلوں میں اس سے بھی اہم ہے ردیف جتنی بڑی ہو گی تین لفظی، چار لفظی، یا پانچ لفظی___وہ نعت کی کیفیت اور مضمون میں اتنی زیادہ کیفیت آفرینی کا سبب ہوگی بعض شاعروں کے ہاں ردیف ہر شعر میں نعت کی معنوی فضا سے ہم آہنگ نہیں ہوتی آج کل میڈیا پر دیکھی یا سنی جانے والی کئی معروف نعتوں میں یہ بے توجہی کھٹکتی ہے جو خیال کی تفہیم اور تاثیرمیں حارج ہوتی ہے ردیف مطلع اور دو تین شعروں تک تو نعت کی فضا سے ہم آہنگ ہوتی ہے پھر کئی شعروں میں وہ غیر متعلقہ حصۂ شعر لگتی ہے اور ’بروزن بیت‘ ہر شعر میں ساتھ ساتھ چلتی ضرور ہے مگر اس کے خیال میں اضافہ نہیں کرتی۔

مقصود علی شاہ کی خوبصورت ردیفوں اور قافیوں سے اظہار پذیر ہونے والے چند خوبصورت اور مؤثر شعر دیکھئے:

خامہ و نطق پہ ہے کیسی عنایت تیری

مجھ سے بے ساختہ ہو جاتی ہے مدحت تیری

………

رفعتِ میم سے اِک دال کی رعنائی تک

چار حرفوں کی ہے مقصود سخن کی خواہش

………

رُخ کو رکھا بہ روئے کعبہ، مگر

دل کو سُوئے مدینہ خَم رکھا

………

جو اِذن ہو تو حضوری کے شہر جا پہنچے

مَیں آنکھ میں لئے پھِرتا ہوں ایک خواب، حضور

………


شعر ہوتا تو کسی روپ میں ڈھل ہی جاتا

نعت تو نعت ہے رہتی ہے خیالوں سے پرے

………


روشنی ساتھ لئے جاتا ہوں سُوئے محشر

ساتھ رکھتا ہوں مَیں نعتوں کا حوالہ ایسا

………


زندگی قریۂ بے نام میں کھو ہی جاتی

آپ نے نام دیا، آپ نے تھاما آقا

………


شایانِ شان کچھ نہیں نعتوں کے درمیاں

اِک بے بسی سی ہے مرے حرفوں کے درمیاں


مقصود علی شاہ کی نعتوں کی مجموعی فضا ردائف وقوافی کے استعمال کی عمدہ مثالیں پیش کرتی ہے مگر کہیں کہیں انہیں اس بارے میں زیادہ محتاط بلکہ احوط ہونے کی ضرورت ہے مجھے امید ہے ان کا دوسرا مجموعہ ان کی نعت گوئی کے رجحان ساز منظر نامے کی صورت میں سامنے آئے گا۔

بقول شاعر: نقاش نقشِ ثانی، بہتر کشد زا،دل

مجھے یقین ہے کہ آئندہ وہ اپنی تنہائیوں کا زیادہ حصہ نعت کو دیں گے، توقع ہے کہ ان کے ماہرانہ اسلوب اور تخلیقی وابستگی سے اردو نعت کو ایک با کمال شاعر نصیب ہو گا میں اُن کے لئے دعا گو ہوں اور اپنے تاثرات اس رباعی پر ختم کرتا ہوں۔


صد شکر ثنائوں میں ہوئے ہیں صرف اب

الفاظ ہوئے سبھی کُشادہ ظرف اب


احباب کی انجمن میں لے کر آئے

مقصود علی شاہ مطافِ حرف اب


ان کے نعتیہ مجموعہ ’مطافِ حرف‘ کی اشاعت پر قطعہ تاریخ پیش ہے۔


پیشِ خدمتِ شاہِ طیبہ تحفۂ مقصود

ہے مطافِ حرف اس کو مصحفِ ولا کہیے


موردِ عنایات ایک ُخلدِ نعت لکھیے یا

آپ اس صحیفے کو گوہرِ ثنا کہیے


۱۴۴۰ھ

مطاف حرف، احساس کی منڈیر پر سخن گوئی از راجا رشید محمود

راجا رشید محمود [[(مدیر ماہنامہ ’’نعت‘‘/ چیئرمین ’’سید ہجویر نعت کونسل‘‘)]]

محترم مقصود علی شاہ صاحب کا دل موم کی طرح نرم نکلا، آنکھیں آبِ عقیدت سے وضویاب ہوئیں اور ان کے احساس کی منڈیر پر سخن گوئی نے گلاب کھلانے چاہے تو ان کا ہاتھ پرِ جبریل پر لپکا اور مجموعۂ نعت ظہور پذیر ہوا۔

مطافِ حرف میں فن کی فصل سحابِ اخلاص سے سیراب ہوئی تو شاعر کا نورِ ایمان منزل کی خبر دیتا نظر آیا۔

مقصود علی شاہ کے کلام کا لفظ لفظ بولتا اور مصرع مصرع روشنیاں بکھیرتا ہے اور ان کی عربی، فارسی اور اردو پر کمانڈ مفاہیم و مطالب کی گہرائی و گیرائی کو بیان کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے۔

زیرِنظر مجموعۂ نعت کی شاعری اوقیاسِ قلب کے عمق سے جنم لیتی، جذباتِ عقیدت کی لہروں پر اُچھلتی اور لبِ اخلاص کے ساحل پر موتی انڈیلتی دکھائی دیتی ہے۔ لگتا ہے کہ شاعر کا قلم نعت سرائی میں یوں سربہ خم ہے کہ سر اُٹھانے کو معصیت شعاری پر محمول کرتا ہے۔

یہاں شاعر کا وجدانی احساس قرآن و احادیث سے استنباط اور فنی مہارت کے جلو میں سلیقے اور رکھ رکھائو کے ساتھ جڑا دکھائی دیتا ہے.

مطافِ حرف میں شاعر اپنی دست بستگی اور سرخمیدگی کے ذریعے مقامِ آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) کی نشان دہی کرتا محسوس ہوتا ہے۔

راجا رشید محمود


مطافِ حرف مقصود علی شاہ کی نعتیہ عقیدت کا شہکار از خورشید بیگ میلسوی

خورشید بیگ میلسوی

(قومی سیرت ایوارڈ یافتہ)


قافلۂ ارادت و عقیدت کے راہیوں کے لیے وارفتگیٔ عشق اور شیفتگیٔ خلوص کے سفر میں ستارۂ سحری کا تابدار ہونا وہ مقصودِ اوّل و آخر ہے جب ان کی دنیائے دل نئی مسرتوں اور نئی اُمنگوں کے چراغ جلاتی ہے۔ ایک عاشقِ صادق کے لیے آخرِ شب میں بھیگتی فضا اور مدھر خنک ہوا کا پلکوں پہ تھپکیاں دیتے ہوئے نیند کی آغوش میں لے جانے والا ہی لمحۂ امتحان ہوتا ہے۔ اس امتحان میں وہی کامیاب و کامران ٹھہرتے ہیں جن کی ریاضت اور سجدہ گزاری کی کیفیات میں خشوع و خضوع اور دلوں میں حبِّ ربّ العالمین و عقیدتِ رحمت اللعالمین کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہو۔ حال و مقام اور خشوع و تحیر کی منازل ایک جست میں طے کرنے والا ان کا عشق مراقبۂ ذات سے دیارِ عقیدت و مودت میں صدق و صفا کی کڑی شرط کے ساتھ قرطاس پر چمکتا دمکتا ہے تو احساس کے نہاں خانوں کے طاقچوں میں سلگتی ارادت کی اگربتیاں ماحول کے تقدس کو وجد آفریں بنا دیتی ہیں۔ درِ محبوبؐ پر سجدہ گزاری و سپاس نگاری سے اپنے دلِ مضطرب کو قلبِ کیف آشا بنانے کا متمنی مطافِ حرف کی منزل سے ہمکنار ہوتا ہے تو کائناتِ ارض و سماوات کے نورِ اوّلین کی معجز نمائی اور حسرتِ دیدار کی بے ساختگی یوں گویا ہوتی ہے:


حروفِ عجز میں لپٹے ہوئے سلام میں آ

اے میری خواہشِ باطن مرے کلام میں آ


میں کعبہ دیکھنے لگتا ہوں تیری دید کے ساتھ

مدینے والے ُتو پھر مسجدِ حرام میں آ


مطافِ حرف کے شاعر مقصود علی شاہ صاحب کا یہ نعتیہ اکتسابِ ہنر ربِّ رحمان و رحیم کے آفاقی پیغام کی آیاتِ بینات سے مستنیر ہے۔ مطافِ حرف کی آیۂ رفعت التماسِ فکری کے لئے ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ جیسے عظیم جادۂ حرف و معانی کے سامنے کاسۂ فکر دراز کرتے ہوئے اپنے خواب دریچوں میں ادبی، فکری اور فنی نقوش کی جلوہ آرائی کے لئے فکر و نظر پر لفظ و معنی کی کہکشاں اُترنے کی آرزومند ہے۔ ادبی وقار، شاعرانہ کشف و کمالِ عقیدت کے اس سفر میں قرینہ و سلیقہ کی تازگی، اسلوبِ نگارش میں مضمون آفرینی کی بہاروں میں علمی و فکری ہم آہنگی ثابت کرتی ہے کہ مطافِ حرف تفہیمِ نعت کی نئی جہت کا نادر نمونہ ہے۔ جناب مقصود علی شاہ کے نعتیہ اشعار بلاغتِ ادا کی رفعت، شوکتِ الفاظ کی مرصع کاری، تراکیب کے نئے پن اور تشبیہات کی خوبی و لطافت کا حسین مرقع ہیں۔


رات کے ساتھ ہی جل اُٹھتے ہیں طلعت کے چراغ

حرف بنتے ہی چلے جاتے ہیں مدحت کے چراغ


دیکھ کر کوئے مدینہ کے سہانے منظر

میری آنکھوں میں ہیں مقصودؔ محبت کے چراغ


مدحتِ خیرالانامؐ جہانِ لفظ و معنی میں محض شاعرانہ توصیف کا نام نہیں بلکہ آسمانِ نبوتؐ کے حقیقی کمالات کی ایسی دلکش و حسین مصوری کا نام ہے جس کے متنوع رنگوں سے پھوٹنے والی روشنی ایمان میں تازگی اور روح میں بالیدگی پیدا کرتی ہے۔ صاحبِ مطافِ حرف مقصود علی شاہ نے اپنی ذہانت و ذکاوت، علمی قابلیت اور قوتِ حافظہ کی تمام استعدادِ کار کوبدرجہ کمال و مہارت استعمال میں لاتے ہوئے حقِ مدحت سرائی ادا کیا ہے۔ ان کا نعتیہ کلام صحیح معنوں میں عظمتِ خیر البشر کا نقیب ہے۔ اس کلام میں آپ کی عظمت و رفعت، خصائص و کمالات، دورِ نبویؐ کے حالات و واقعات کا بیانیہ انداز روحِ اسلامی سے اس طور معمور ہے کہ وارفتگی و شیفتگی کی روشن کرنیں قاری کو اپنے قلب و نظر میں اُترتی محسوس ہوتی ہیں۔ شاعر کا فکری تخیل اور شہپرِ خیال جدت و ندرت کے حسن و نفاست، مرصع کاری، لفظی در و بست کی خوش نمائی اور زبان و بیان کی رعنائی کے اعتبار سے وفورِ نعت کا دلکش نگار خانہ نظر آتا ہے۔


خیال و فکر میں حرفِ نمود تیرا وجود

جہانِ فہم و فراست کا ضابطہ تو ہے


دراز شب میں نویدِ سحر تری مدحت

خزاں رتوں میں گلابوں کا تذکرہ تو ہے

………


یہ میمِ نور سے دالِ کمال باندھنا ہے

جہانِ شعر میں کیا بے مثال باندھنا ہے


چلا ہوں پیرِ کرم شہ کے آستانے پر

حجابِ قال سے اب کشفِ حال باندھنا ہے


یوں مطافِ حرف کے شاعر اپنی استعدادِ فن، اسلوب کے نادرانہ نقوش اور علمی وسعت کے اعتبار سے تخلیقی شاعری کا ایک اہم اور معتبر نام بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کا قلم قرطاسِ محبت و عقیدت پر دیارِ دل میں مچلتی آرزوئوں کی نمو اور نمود کو بارور دیکھنے کا متمنی ہو کر عملی طور پر مطافِ حرف میں چلہ کش ہے۔ جہاں تقدیسِ نعت کی قندیلیں اپنی گہرائی و گیرائی کے دامن کو وسیع کرتے ہوئے ہمارے شاعر کے لیے علم افروز اور خرد افزا ساعتوں کا اہتمام و انفراد کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اظہار و ابلاغ کے کینوس پر بکھرے یہ نعت پارے بزمِ شہود میں جمالِ سرمدی کے ساتھ جلوہ آرا نظر آتے ہیں۔ مقصود علی شاہ کے افکار و نظریات اور اسالیبِ بیان کے متنوع ذائقوں کا لطف دیتے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:


شبِ دیجور کو دے خوابِ کرم کا جلوہ

آنکھ کے طاق میں رکھ نقشِ قدم کا جلوہ

………


حیطۂ فکر کے محدود حوالوں سے پرے

مدحتِ شاہِؐ مدینہ ہے مثالوں سے پرے

………


شہودِ خالقِ مطلق کا سب سے تاباں نشاں

وجودِ خلقِ دو عالم کی آب، تاب حضوؐر


آخر میں مطافِ حرف اور اس کے شاعر جناب مقصود علی شاہ کے لئے تہنیتی قطعہ رقم کرتے ہوئے آپ سے اجازت کا خواستگار ہوں۔


روش روش پہ فروزاں ہیں مدحتوں کے چراغ

ہیں آفتاب سے بڑھ کر عقیدتوں کے چراغ


خیال و فکر کی خورشیدؔ تازہ کاری سے

مطافِ حرف میں روشن ہیں ندرتوں کے چراغ


مطاف ِ حرف الفاظ کی قوسِ قزح از ڈاکٹر شہزاد احمد

ڈاکٹر شہزاد احمد

ایم اے، پی ایچ ڈی (مدیر ’’حمد و نعت‘‘ کراچی)


ترے اوصاف و کمالاتِ حمیدہ، واللہ

حمد کے رنگ میں لکھی گئی مدحت ُتو ہے


عزیز محترم مقصود علی شاہ صاحب کی شخصیت قابل احترام ہے۔ خوش نصیبی ان کے دل پر دستکِ نعت دیتی رہتی ہے۔ خوش فکر، خوش نظر ہیں اور خوش ذوقی سے نعتیہ شاعری کرتے ہیں لیکن میرے نزدیک ان سب سے بالا تر ان کی یہ خوبی ہے کہ بادۂ حبِّ نبی اور ثناخوانِ ختم المرسلینﷺ ہیں، اور یہ بڑی سعادت ہے جو ان کے حصے میں آئی ہے۔

اس سے ان کے باطن کی پاکیزگی، فکر کی جلا اور سرورِ کائناتﷺ کی ذاتِ اقدس سے ان کی قلبی وابستگی کا اظہار ہوتا ہے کہ جو ایمان اور دولتِ ایمان پر تشکر کے مقتضیات میں سے ہے۔

بارگاہِ رسالتﷺ میں مقصود علی شاہ مطافِ حرف لے کر وادیٔ نعت میں حاضر ہیں۔

مقصود علی شاہ کا مقصودِ سخن اور کشکولِ فکر و فن مطافِ حرف سے مزین ہے۔ ان کے حرفِ مطاف، پسندیدہ، مقبول، منظورِ نظر، دل پسند اور خیال و معنی سے لب ریز ہیں۔

شاعرِ موصوف نے روایت کی پاسداری نبھانے کے علاوہ فی زمانہ جدت کے رنگ بھی سمیٹے ہیں۔ جدت کے نام پر غیرمانوس، بوجھل اور بے کیف الفاظ سے دور ہیں۔ رواں اور مترنم بحریں شاعر کی خوش نظری و خوش کلامی کی شاہد ہیں۔ سلاست اور سادگی اپنے جوبن پر ہے۔ اشعار تازہ روایت کے مظہر ہیں۔ تازگی کا ُحسن نعت کے بنیادی کیف کو نمایاں کر رہا ہے۔

سادہ انداز میں پُر اثر، پُرکیف، پُرسوز، پُرلطف الفاظ کی قوسِ قزح روحِ نعت کا حُسن دوبالا کر رہی ہے۔ یہ صرف لفظوں کی نشست و برخاست نہیں، قلبی کیفیات کے نقشِ تازہ ہیں جو قلب کو شاد، روح کو آباد اور فکر و نظر کو بامراد کرتے ہیں۔

شاعرِ موصوف کی عقیدت اور عقیدہ نعتوں سے عیاں ہے۔ رنگِ تغزّل بھی انہی حشرسامانیوں کے ساتھ دلوں کے تار کو چھیڑ دیتا ہے۔


شامِ احساس کو چھو جائے تری یاد کا لمس

صبحِ توفیق کو ملتا رہے دیدار تمام


احساس کی شام اور ان کی یادوں کا حسین لمس اپنی جگہ ہے۔ مگر صبحِ توفیق کی دیدنی کا تو جواب نہیں ہے۔ مقصود علی شاہ نہایت والہانہ انداز سے نعتیں کہتے ہیں کہ ان کی نعتوں میں آج کا سکون اور کل کی بشارت بھی ہے۔

سیرت ایوارڈ یافتہ اشفاق احمد غوری (ملتان) راہِ صراط اور قافلۂ نعت کے راہی اور میرے کرم فرما ہیں۔ ان کی تحریک کے سبب یہ چند سطور قلم زد ہو سکی ہیں۔ ان کے مداحوں میں نہ سہی ان کے مداحوں کے مداحوں میں بھی نام آ جائے تو بات بن جائے گی۔

ڈاکٹر شہزاد احمد


مطاف ِ حرف اچانک پھوٹ بہنے والا چشمہ از صبیح رحمانی

صبیح رحمانی

(ستارۂ امتیاز)


مطافِ حرف مقصود علی شاہ کا اولین مجموعۂ ارادت و محبت ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ابتدائی کاوشوں میں جذبے کا وفور تو بہت ہوتا ہے، لیکن فکر کی گہرائی اور فنی پختگی ذرا کم محسوس ہوتی ہے۔ تاہم مطافِ حرف کے مطالعے نے میرے لیے بالخصوص خوشی کا سامان اس لیے کیا کہ یہاں مجھے جذبے کے گداز کے ساتھ ساتھ فکر کے رنگ بھی اُبھرتے ہوئے نظر آئے۔ طمانیت کا سوا احساس یہ دیکھ کر ہوا کہ مقصود علی شاہ کے ہاں لفظوں کے برتائو اور معنوی ہنرمندی کا سلیقہ بھی پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں حرف کی تاثیر اور معنٰی کا رچائو دونوں توجہ طلب ہیں اور پڑھنے والے کے لیے سرشاری اور اشک باری کی صورتیں پیدا کرتے ہیں۔


نعت گو کی فنی ہنرمندی کا ایک مظہر یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے قاری یا سامع کے اندر اس فضا میں موجودگی کا احساس پیدا کر دے جس کی پاکیزگی اور رفعت سے وابستگی کا تصور تخلیقِ نعت کا باعث بنتا ہے۔ اچھا نعت گو اسی وابستگی سے سرشار اور منصب و مرتبۂ رسالت کی عظمتوں کا وہبی شعور بھی رکھتا ہے۔ مقصود علی شاہ کے کلام میں وابستگی کی اسی سچائی نے ایک اچانک پھوٹ بہنے والے چشمے کی طرح ظہور کیا ہے جو تیزی سے اپنے بہائو اور پھیلائو کو نمایاں کر رہا ہے۔ اس کی موجوں کے بہائو میں ان کے جوہرِ ایمان اور تخلیقی وجدان کے تال میل سے جو نعت سامنے آ رہی ہے وہ ایک دل گداز ابلاغ کے طلسماتی عمل سے گزر کر خوب صورت لفظی پیکر تراشتی محسوس ہوتی ہے۔


حروفِ عجز میں لپٹے ہوئے سلام میں آ

اے میری خواہشِ باطن مرے کلام میں آ


تو میرے قریۂ جاں میں اُتار صبحِ نوید

تو میرے عجز گھروندے کی ڈھلتی شام میں آ


مقصود علی شاہ کی نعت عقیدت و محبت کے ساتھ ان کے علم و فضل اور وسعتِ مطالعہ کی مظہر ہے۔ اُن کی نعت اسلوب کی تازگی، فکر و خیال کی وسعت اور ندرت و لطافت کا مرقع ہے۔ اسی لیے وہ معاصر نعت کے شعری منظر نامے میں انفرادی شناخت کے خدوخال کے ساتھ نمایاں ہو رہی ہے۔ نعتیہ ادب میں بلاشبہ عشقِ رسول کی فراوانی اور گرمی سب سے پہلے اپنی جانب متوجہ کرتی ہے، لیکن بیان کا قرینہ اور احساس کی فکری جہت اس کلام کی معنویت ہی میں اضافہ نہیں کرتی، بلکہ اس کی اثر آفرینی کو بھی نمایاں طور سے بڑھا دیتی ہے۔ مقصود علی شاہ کا یہ اہتمام لائقِ داد ہے اور آئندہ کے امکانات کا مظہر بھی۔ میں اس خوش خیال اور خوش بیاں شاعر کو ایوانِ نعت میں خوش آمدیدکہتا ہوں اور اس کی توفیقات میں اضافے کے لیے دل سے دعا گو ہوں۔

صبیح رحمانی

مطاف ِ حرف ٹھنڈی ہوا کا اشارہ از ڈاکٹر اجمل نیازی

اجمل نیازی، لاہور

جب کوئی سچا عاشقِ رسول نعت لکھتا ہے یا نعت پڑھتا ہے تو اُسے حضورِ کریم صل اللہ علیہ وسلم کی موجودگی، ایک عجیب ان دیکھی آسودگی کی طرح، اپنے آس پاس محسوس ہوتی ہے، وہ زندگی کے سارے رنگوں کی محبتوں میں بھیگ بھیگ جاتا ہے، نعت اور غزل کی دو تخلیقی وارداتوں سے برصغیر کو ایک ایسا اعزاز حاصل ہے جسے رستے کی دھول اور منزلوں کے سارے کناروں پر کھلے ہُوئے پھول میں فرق مٹ جاتا ہے، نعت اور غزل دونوں اصناف میں بات محبوب کے گرد گھومتی رہتی ہے اور ہمارے لئے سب سے بڑے محبوب، محبوبِ رب العالمین صل اللہ علیہ وسلم ہیں، غزل بھی نعت کا ایک روپ ہے، بس یہ کہ محبت کی پاکیزگی اور دیوانگی کا خیال رکھ لیا جائے، نعت ہر زبان کا اعزاز ہے مگر پاکستان میں لکھی گئی نعت ایک ایسا راز ہے جس کا سارا کشف مقصود علی شاہ کی کتاب “ مطافِ حرف “ میں گم ہو گیا ہے، ہم اس کتاب کو صرف پڑھتے نہیں ہیں اسے تلاش بھی کرتے ہیں جو کچھ پڑھنے والوں کو ملتا ہے وہ سارے کا سارا پہلے ہی مقصود علی شاہ کے پاس ہے۔۔۔۔ مقصود علی شاہ کی نعت پڑھتے ہوئے صرف ایک بات یاد آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلُم نے اس خطے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مجھے اس طرف سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے۔۔۔ میں نے یہ ٹھنڈی ہَوا “ مطافِ حرف “ کی نعتیں پڑھتے ہُوئے اپنے وجود میں وجد کرتی محسوس کی ہے۔۔۔۔ مقصود علی شاہ کی نعتیں وہی ڈھنڈے جھونکے ہیں جن کی طرف سرکار کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تھا۔۔۔۔۔ میانوالی سے مقصود علی شاہ کا تعلق مدینے سے کیسے جُڑا مجھے معلوم نہیں مگر اتنا معلوم ہے کہ میانوالی اور مدینے کے لفظ میں میم مشترک ہے اور مقصود علی شاہ اور ان کی نعتیہ کتاب “ مطافِ حرف “ میں بھی میم مشترک ہے ۔۔۔ میم کے حرف میں کئی راز چھپے ہوئے ہیں جو “ مطافِ حرف “ میں آشکار ہوتے ہیں، حروف کی دُنیا میں میم کی جو اہمیت ہے وہی نعتیہ شاعری میں “ مطافِ حرف “ کی بھی ہے، یہ کتاب پڑھتے ہوئے میں نے جذبوں کو طواف کرتے بھی دیکھا۔۔۔۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں حرفوں کا طواف ہی نعت ہے جس نےاس کیفیت میں اپنے دل کی ساری ناآسودگیوں اور بے قراریوں کو شامل کر لیا وہ کامیاب ہو گیا اور بارگاہِ رسول میں کامیابی کے معانی کچھ اور ہیں۔۔۔۔۔ مَیں جُدائیوں اوربے تابیوں سے بھرے ہُوے اپنے دل کی ساری طاقتوں کی گواہی میں کہہ رہا ہوں کہ مقصود شاہ کامیاب ہے، یہ وہ کامیابی ہے کہ آدمی اپنی ساری ناکامیوں کو بھول جاتاہے۔۔۔۔۔ مقصود علی شاہ ایک بڑا نعت گو ہے کہ وہ ایک مختلف، منفرد اور ممتاز شاعر ہے۔۔۔ نعت وہاں کہی گئی جہاں وہ رہتا ہے، میرا خیال ہے جس شہر میں سچی نعت لکھنے والا ایک بھی شاعر موجود ہے وہ رسول اللہ کا شہر ہے اور میں اس شہر کے خوش قسمت شاعر کو سلام کرتا ہوں۔۔۔۔ شاعر تو اپنے شعری مجموعوں میں صرف ایک حمد اور نعت لکھتے ہیں۔۔۔۔ شاہ صاحب نے پوری کتاب لکھ دی جس کا حرف حرف، لفظ لفظ، مصرع مصرع اور شعر شعر محبتِ رسول کے والہانہ جذبوں سے جگمگا رہا ہے۔۔۔۔ “ مطافِ حرف “ کے شاعر کا اسلوب جُداگانہ اور محبوب اسلوب ہے میں نے کسی نعت گو کے ہاں ایسی وابستگی اور وارفتگی نہیں دیکھی جو مقصود شاہ کے ہاں پائی جاتی ہے۔۔۔۔۔ نعتیہ ادب کی کہکشاں کے سب سے نمایاں ستارے کا نام حفیظ تائب ہے جن کا نام میرے دل، دماغ اور روح میں چمکتا اور دمکتا ہے، پھر مقصود علی شاہ کے عشقِ رسول سے معطر اور منور دل کی روشنی مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے لگتا ہے کہ اس محبت کی روشنی میں قلم ڈبو کر شاہ جی نے نعت لکھی ہے، شاعر تو ایک نعت میں وہ جذبہ پیدا نہیں کر سکتے جو مقصود شاہ نے نعتوں کی پوری کتاب میں لفظ در لفظ پرو دیا ہے، میرے لئے یہ اعزاز بھی ایک مرتبے کی بات ہے کہ برادرم نواز کھرل کے مطابق مقصود علی شاہ کا تعلق میرے شہر میانوالی سے ہے۔ اب وہ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مقیم ہے وہاں بھی اسے شاہِ خوباں کی محبت لازوال رکھتی ہے جس کا کمال ساری دُنیا میں موجود ہے ، برطانیہ میں رہنے والے اس عاشقِ رسول کے لئے میرے دل میں جذبات کا ایک ڈھیر ہے جس پر مجھے کھڑا کر دیا گیا ہے جہاں سے گرنے سے بچنے کے واسطے مقصود علی شاہ کی نعتیہ کتاب “ مطافِ حرف “ بہت بڑی نعمت ہے ۔۔۔۔۔ جوں جوں کوئی یہ کتاب پڑھے گا وہ بلند ہوتا جائے گا بلکہ سربلند ہوتا جائے گا


مجھ کو مقصود مقدر مرا سرشار کرے

وہ جو محبوبِ خُدا ہے، وہ مِرا ہے آقا


اور مقصود علی شاہ کا یہ شعر تو میرے جذبات کی عکاسی ہے، جب بھی اذان ہوتی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پُکارا جاتا ہے تو میں سرشار ہو جاتا ہوں

ایک امرت سا اُتر آیا ہے جسم و جاں میں

جب موذن نے ترا نام لیا ہے آقا


مطاف حرف، نئی جہتوں کا شاعر ڈاکٹر ابو الحسن محمد شاہ الازہری

ڈاکٹر ابو الحسن محمد شاہ الازہری

(وائس پرنسپل دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف)


بارگاہِ رسالت میں ہدیۂ نعت پیش کرنا جہاں بڑی سعادت اور اعزاز کی بات ہے وہاں حد درجہ احتیاط کا متقاضی بھی ہے۔ یہ دربارِ رسالت میں لب کشائی کرنے کے مترادف ہے جس کے لیے اس درگاہ کے آداب بجا لانا ضروری ہیں۔

نعت گوئی یقینا تمام اصنافِ سخن میں مشکل ترین کام ہے۔ یہ نہ تو محض فنِ شاعری سے ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی فقط عقیدت و محبت سے وجود پاتی ہے۔ یہاں فرضی خیالات کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی خلافِ حقیقت کچھ کہنے کی اجازت۔ میرے نزدیک نعت گوئی کی یہی توجیہ ہے کہ جب اللہ کا کرم اور محبوبِ خدا ﷺ کی نظر کرم ہوتی ہے تو نعت وجود میں آتی ہے۔

سیّد مقصود علی شاہ صاحب کا نعتیہ کلام پڑھ کر یہ احساس یقین کی صورت اختیار کر لیتا ہے کہ نعت گوئی کے باب میں آپ پر اللہ کا کرم اور سرکارِ دو عالمﷺ کی خاص نظرِ کرم ہے۔

آپ کا نعتیہ کلام پڑھ کر روح جھوم اُٹھتی ہے اور دل مسرور ہو جاتا ہے اور ایک ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس عطا و نوازش کے متعلق آپ ہی کا ایک شعر پیش کرتا ہوں:


کمالِ حرف و معانی سے تو نہیں ممکن

کہ نعت کہنا تو قسمت ہے یارسول اللہ


سیّد مقصود علی شاہ صاحب کے ہاں نعت کے نئے مضامین ملتے ہیں۔ یہ شعر ملاحظہ ہو:


خطائیں لایا ہوں نعتوں کی طشت میں رکھ کر

یہ ایک پردہ سا میری خطا پہ رہنے دے


بارگاہِ رسالت میں آنسوئوں کا نذرانہ پیش کرنے کا ذکر تو عموماً مل جاتا ہے لیکن خطائیں نعت کے طشت میں لانا جدتِ تخیل پر دلالت بھی کرتا ہے۔ اسی طرح آپ کی شاعری میں اظہارِ خیال کے لیے تشبیہ و استعارہ کی کئی مثالیں موجود ہیں:


ادھیڑ ڈالے گا مجھ کو یہ ہجر کا خدشہ

گلابِ وصل کو شاخِ لقا پہ رہنے دے

………


مزاجِ صبح ترے اسمِ نور کا اظہار

سرشتِ شب تری مدحت ہے یارسول اللہ


آپ کی نعتیہ شاعری میں مدحت، اظہارِ عجز، شہرِ نبی سے محبت، وصال کی طلب، ہجر کی کسک اور استغاثہ جیسے سبھی مضامینِ نعت ملتے ہیں اور اظہارِ بیان کے لیے تشبیہ و استعارات اور نئی نئی تراکیب کا استعمال نظر آتا ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ ہوں:


بابِ کرم کے سامنے اظہار دم بخود

پورا وجودِ نطق ہے سرکار دم بخود


اک رتجگے کی صورتِ مبہم ہے روبرو

خواہش بہ دیدِ دیدۂ بیدار دم بخود


توبہ نصیب لوگوں کا ہے تجھ سے واسطہ

تیری رضا طلب ہیں گنہ گار دم بخود


مقصودؔ ان کی یاد کے بادل برس پڑے

تھے دشتِ دل کے سارے ہی اشجار دم بخود


سیّد مقصود علی شاہ صاحب کا نعتیہ کلام جہاں بارگاہِ رسالت میں ارمغانِ محبت ہے وہیں شعر و سخن کی دنیا میں ایک نمایاں اور حسین اضافہ ہے جس میں نادر تخیلات، خوبصورت تشبیہات اور نئی ترکیبات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی نعت گوئی کو شرفِ قبولیت اور قبولِ عام عطا فرمائے۔

ڈاکٹر ابو الحسن محمد شاہ الازہری


مطاف حرف، ندرتوں کا نقیب ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نوری

ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نوری

نعت


خالقِ ُحسن و ُخوبی کے

حسنِ تخلیق کے مظہرِ اتم شہ کارِ جمیل

سرورِ حسیناں، شاہِ خوباں صلی اللہ علیہ وسلم کے

عرفانِ جمال اور اعترافِ کمال کے ساتھ


ان کی بارگاہ میں محبت، عقیدت اور عجز و انکسار سے تعریف و توصیف اور مدح و ثنا کا منظوم خراجِ نیاز پیش کرنے کا نام ہے۔ ممدوحِ خالق کے عرفانِ جہاں کی گہرائی اور ان کی محبت میں سچائی کی مناسبت سے نعت کے لفظوں کو حسن، جاذبیت اور تاثیر کی دولت عطا ہوتی ہے۔ یہاں علم و ہنر سے زیادہ منعم حقیقی کی عطا کام آتی ہے۔ مدحت گرانِ شاہِ خوباںﷺ کی فہرست شمار سے باہر ہے۔ مگر اہلِ تحقیق کے نزدیک باقاعدہ منظوم مدحِ نبی کی اوّلیت کا اعزاز آپ کے عم کریم حضرت ابوطالب کے مشہور قصیدہ لامیہ کے حصے میں آتا ہے جس کا ایک شعر محبّانِ رسولﷺ میں ہمیشہ معروف رہا ہے۔


وَاَبْیضُ یَسْتسْقی الْغَمامُ بِوَجْہِہٖ

ثِمَالُ الْیتامٰی ، عِصْمَۃً لِلْاَرَامِلٖ


’’وہ گوری رنگت والا جس کے چہرۂ (پاک) کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے وہ یتیموں کا آسرا اور حاجت مندوں کی پناہ ہے۔‘‘


آسمانِ نعت پر نئے سے نئے ستارے طلوع ہو کر ایک عالم کو منور کر رہے ہیں۔ اس وقت جو مجموعہ نعت مطافِ حرف آپ پڑھنے جا رہے ہیں اس کے تخلیق کار بھی ایک ایسے ہی منفرد صاحبِ اسلوب مدحت گر ہیں جو اُفقِ نعت پر صبحِ نو کی طرح طلوع ہوئے ہیں اور میرا یقین ہے کہ وہ بہت جلد آفتابِ جہاں تاب بن کر نصف النہار پہ چمکنے والے ہیں۔

صاحبِ مطافِ حرف جناب سیّد مقصود علی شاہ منفرد و لطیف لہجے اور متاثرکن اسلوب کے حامل ثنا گو ہیں۔ قدرت نے انہیں شخصی خوبیوں اور فنی کمالات سے بڑی فیاضی سے نوازا ہے۔

سیّد مقصود علی شاہ صاحب کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اپنے فن کو ہمیشہ ممدوح ربِّ کائناتﷺ کی ثناگری کے لیے وقف رکھا ہے وہ بجا طور پر شاعرِ نعت کہلانے کے مستحق ہیں۔ مطافِ حرف کے مطالعے سے ہر قاری یقینا اس نتیجے پر پہنچے گا کہ جناب مقصود کی نعت نگاری جذب و وجدان، فکر و عرفان، جمالِ سخن، کمالِ فن، سادگی و برجستگی، نادرہ کاری، رعنائی ٔ خیال، ُحسنِ تغزّل، شکوۂ الفاظ، ندرتِ تراکیب اور بے ساختہ پیرایۂ اظہار کا کمال شاہکار ہے۔ آقائے کریم قاسمِ نِعَمﷺ کے کرم سے لطافتِ احساس اور جذب و خیال، الفاظ و تراکیب میں ڈھلنے کے لیے ہمہ دم ان کی نوکِ قلم پر نثار ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ آپ کی مدحت نگاری دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے دکانِ عطار آپ کے تصرف میں ہے اور آپ نوع بہ نوع خوشبوئیں مسلسل ماحول میں اجراء فرماتے جا رہے ہیں۔ یا مانی و بہزاد کو شرمانے والا برش آپ کے دستِ مہارت میں ہے اور آپ بے مثل رنگوں سے ہر آن نئے رنگ میں نکھرتے اُبھرتے سنورتے حسین مناظر انپے قاری کی بصارت و بصیرت کے کینوس پر اُتارتے جا رہے ہیں یا پھر یاقوت و مرجان اور لعلِ یمن کی کان مالک الملک نے آپ کو ودیعت کر دی ہے اور آپ بہ سہولت و سخاوت جگمگ جگمگ کرتے موتیوں کو لڑیوں میں پروتے جا رہے ہیں۔


دستِ قدرت نے کمالات کے در کھول دیے

قاسمِ حرف نے جب نعت کے در کھول دیے

آپ کی نعتیہ شاعری کی چیدہ چیدہ خصوصیات:

لفظ گری اور ترکیب سازی:

جناب مقصود علی شاہ کی فکر کو قدرت نے ایسا ملکہ عطا کیا ہے کہ لفظ گری اور ترکیب سازی کے زر و جواہر سے زبانِ اردو کے دامن کو مالا مال کر رہے ہیں اور کمال یہ ہے کہ یہاں آورد نہیں آمد ہی رو بہ عمل ہے اور ترکیب سازی کی صنعت، نعت کے جذب و شوق اور حُسنِ تغزل کو ماند نہیں کرتی ہے بلکہ اس کی جاذبیت اور کشش اور نکھرتی ہے۔ چند ایک مثالیں ملاحظہ فرمائیں:


شہرِ خیال و فکر میں تابانیوں کی بھیڑ

پورا وجودِ ُنطق ہے مدحت سرائے نور


………


کوچۂ خوشبو میں ہوں اور قریۂ نکہت میں ہوں

موسمِ گل لکھ رہا ہوں شاہ کی مدحت میں ہوں

شمائلِ محبوب کا منفرد پیرایۂ اظہار :

صاحبِ مطافِ حرف نے اپنے محبوب و ممدوحﷺ کے روئے تاباں کا دیوانہ وار طواف بھی کیا ہے اور اس کا جابجا اظہار بھی کیا ہے۔ شمائلِ محبوب کے تذکرہ میں بھی ان کا انداز منفرد ہے۔ روئے تاباں کی مدح میں ان کا پیرایۂ اظہار دیکھئے:


چمنِ فکر میں مہکا ُگلِ خنداں چہرہ

راحتِ قلبِ تپاں شوقِ نگاراں چہرہ


سارے قرآن کی ہر سورہ میں ہر آیت میں

ایک اک حرف سے ہوتا ہے نمایاں چہرہ


یاد رکھتا ہوں صحابہ کی وہ سچی باتیں

پڑھتا رہتا ہوں میں مقصود وہ قرآں چہرہ


میں یہ تو نہیں کہتا کہ تغزّل کا جمال اور محبت و عقیدت کی شیرینیاں لیے جہانِ نعت میں کوئی اور احمد ندیم قاسمی یا حفیظ تائب جلوہ گر ہو رہے ہیں لیکن یہ ضرور کہوں گا عہدِ موجود اور آنے والا دورِ نعت اب صاحبِ مطافِ حرف سیّد مقصود علی شاہ سے منسوب ہونے جا رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اب ہم نعت کے عہدِ مقصود میں نعت لکھ اور پڑھ رہے ہوں گے۔

ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نوری

مطاف حرف، قصرِ مدحت کا نقّاش نور محمد جرال

نور محمد جرال


(واشنگٹن ڈی سی، امریکہ)


مطافِ حرف منفرد لب و لہجے کے باکمال نعت نگار سیّد مقصود علی شاہ کا مجموعہ نعت ہے۔ شاہ جی کا کمالِ سخن یہ ہے کہ ان کے لکھے ہوئے الفاظ سماعتوں سے ہوتے ہوئے دل میں اُترنے کے ساتھ ساتھ بصارتوں میں بھی عقیدت، محبت، مودّت اور عجز و نیاز کے ایسے چراغ روشن کرتے ہیں جن کی ضیاپاشیاں قاری کو چشمِ تصور میں مقصودِ کائناتﷺ کی بارگاہِ ناز میں لے جاتی ہیں۔ شعر و سخن میں لفظوں کی معماری صدیوں سے استادانِ فن کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن مقصود شاہ جی کا کمال یہ ہے کہ وہ جب حرفوں کو لفظوں میں اور لفظوں کو تراکیب اور مشاہدات میں ڈھالتے ہیں تو حرف حرف کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ثنا طراز نظر آتا ہے۔ آپ ان کی شاعری کا تجزیہ کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی مشّاق مصوّر دلفریب رنگوں سے لفظوں کی تشکیل میں محو ہے۔ ان کی نعتوں کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کے احساس میں ایک ایسے نقّاش کی شبیہ اُبھرتی ہے جو اپنی عمر بھر کی فنی ریاضتوں سے قصرِ مدحت کی دیواروں پہ لفظوں کی نقّاشی کے جوہر دکھا رہا ہے نئی اور منفرد تراکیب اور حسنِ خیال کی جو قوسِ ُقزح شاہ صاحب کے کلام میں ملتی ہے اس کی نظیر ان کے معاصر نعت نگاروں کے ہاں کم دکھائی دیتی ہے۔ تازہ کاری کے ساتھ ساتھ فکری گرفت کو مضبوط رکھنا بہت مشکل کام ہے لیکن مقصود شاہ جی کے ہاں جوش اور ہوش کا تناسب اتنا مضبوط اور مربوط ہے کہ بال بھر بھی جھکائو کسی طرف نظر نہیں آتا۔ ان کا جمالیاتی ذوق ہر ایک مصرعے سے جھلکتا ہے اور شعر خود بتاتا ہے کہ اسے کسی عاشقِ رسولﷺ نے بھیگی پلکوں سے قرطاسِ دل پر اُتارا ہے۔


نور محمد جرال


مطاف حرف، ادب کا ایک استدلالی حوالہ ، میرزا امجد رازی

میرزا امجد رازی

سابق ریسرچ آفیسر محی الدین اسلامی یونیورسٹی، آزاد کشمیر


جس طرح کسی چیز کے مکمل ہونے کے لیے اس کے تمام اجزاۓ ترکیبی کا موجود ہونا ضروری ہے اسی طرح شاعری کے مکمل ہونے کے لیے اس کے اجزاۓ ترکیبی کا ہونا ضروری ہے۔ جس میں عروض ، تخیّل ، الفاظ کا چناؤ ، مضمون کی بندش ، موضوع کی جزئیات کا احاطہ اور ان کے نظامِ ربط میں مجازی و حقیقی تعلق ، تراکیب کی جدّت ، جذبات کی شدّت ، تشبیہ و کنایہ اور تمثیل و استعارہ کی ندرت ، محاکات کا ترکیبی نظام ، علمیت سے جڑا ہوا معقولی و منقولی طرزِ اظہار ، ابہام میں افہام اور افہام میں معنوی کثرت ، کلامی و بلاغی تلازمات ، حسنِ تغزل ، لحاظِ مراتب ، قبولِ ذوق لب و لہجہ ، اور فکری اعتدال وغیرہ الغرض بے شمار ایسی جہتیں ہیں کہ ایک اچھے شاعر کو بیک وقت ان سب کا پاس رکھنا امرِ ضروری ہوتا ہے۔۔


اور جب بات ہو مدحِ وجہِ کائنات و فخرِ موجودات علیہ السلام کی تو ایک طرف جہاں مذکورہ اجزاۓ ترکیبی اچھی شاعری کے وجودی سانچے کے لیے ضروری ہوتے ہیں وہاں ذاتِ و صفاتِ مصطفوی علیہ السلام کا حسنِ مراتب اس وجودی سانچے کی روحِ مصفّا قرار پاتا ہے


اگر اس حسنِ مراتب کا لحاظ نہ کیا جاۓ تو عند الشرع ایسی شاعری نعت کہلانے کے استحقاق سے محروم ہو جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ نعت کہنے کے لیے فکری تحرّک کے ساتھ تعبیرات و تفسیراتِ آیات اور تشریحات و توضیحاتِ احادیث کا ادراک وجوب و التزام کی شرط عائد کرتا ہے ۔

کیونکہ ان کے بغیر قدیم و حادث میں امتیازِ صحیح حاصل نہیں ہوتا۔عبد و معبود میں تفہیمِ شراکت کے ابواب پوری طرح وا نہیں ہوتے۔

ذاتِ رسالت مآب علیہ السلام کی حیثیت و عدمِ مماثلت کا فلسفہ سمجھ نہیں آتا۔۔۔

بہت سے شعراء ان امور سے عدمِ معرفت کے سبب نعت کے تقدس کو برقرار نہیں رکھ سکے ۔


زمانۂ گذشتہ و حال میں بے شمار شعراء ایسے بھی ہیں جن کی نعتیہ شاعری میں مذکورہ تمام اجزاۓ ترکیبی ، اور ذات و صفاتِ مصطفوی علیہ السلام کے حسنِ مراتب کا لحاظ پورے اعتدال و توازن کے ساتھ کلاسیکی روایت اور جدّت کے امتزاجی خمیر کے ساتھ گندھا ہوا ملتا ہے۔

انہی پاسبانِ حرمتِ الفاظ و معانی میں ایک نام سیّد مقصود شاہ کا بھی ہے۔۔۔

احساس کو دل کے کس دروازے پر کس طرح دستک دینی ہے اور کب دینی ہے ، لفظ کو معنی کے ساتھ کیسے معاملہ طے کرنا ہے اور کیسا کرنا ہے ، اس طلسماتی اظہاریے کا تفصیلی بیانیہ ان کی شاعری کے مصرع مصرع سے مترشح ہے، بھرتی اور عجلت کے نقائص کسی جگہ بھی قاری کے ذوق کو گدلا نہیں کرتے ، صاف اور شستہ لب و لہجہ پڑھنے والے کو اُس آئینۂ احساس کے سامنے لاکھڑا کرتا ہے جس میں اسے اپنے ان تصوراتِ نظری کی بدیہی اشکالِ تنوّع پذیر دکھائی دیتی ہیں جن تک اس کی قوّتِ خیال رسائی نہیں پاسکتی۔

یہ بات اہلِ فن سے پوشیدہ نہیں کہ مضمون تو ہر کوئی ادا کر سکتا ہے ،اصل بات تو یہ دیکھنا ہے کہ مضمون کن الفاظ میں ادا کیا گیا ہے!

مضمون اعلیٰ ہو مگر الفاظ پست یا متروک ہوں یا رؤوسِ مجازات دستارِ لطائفِ معنوی سے محروم رہیں تو عروسِ قبولیت ذوقِ سلیم کی دہلیز پر پاۓ وجد و انبساط رکھنے سے انکار کر دیتی ہے ۔ سیّد مقصود شاہ نے اپنے سخن نامے میں لفظ و مضمون کے انتخاب میں بڑی ابتہاج خیز طرزِ ادا اپنائی ہے ۔

صدیوں سے دشت و صحراۓ سخن میں پھرنے والے آبلہ پا قوافی جب مقصود علی شاہ کی جمالِ تازہ سے نکھری ہوئی ردیفوں کے آئینۂ رخسار کو دیکھتے ہیں تو نِت نئے معانی و مفاہیم کا ایک جہان ملاحظہ کرتے ہیں۔۔۔۔وہ حضود علیہ السلام سے اظہارِ محبّت اور بیانِ عظمت کو جس لطیف پیرایہ میں اداۓ سخن کی نیرنگیوں میں عیشِ جلوہ کا سامان مہیا کرتے ہیں وہ عالمِ جذب و وارفتگی سے مربوط ہے۔۔۔سیّد مقصود شاہ جہاں بے مثال ادبی ذوق کی حامل شخصیت ہیں وہیں ایک عالِم انسان بھی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ علم اور ادب کے دو دریا ان کی نوکِ قلم سے بیک وقت بہتے ہیں ادب پر علم اور علم پر ادب کی رنگینیاں انہیں ابتدائی معاصر شعراء سے الگ کرکے جیّد اور ممتاز اساتذہ کی صفِّ اوّل میں جگہ دیتی ہیں ۔بلاشبہ سید مقصود اپنے لب و لہجہ اور جہت خیز اندازِ سخن کی وجہ سے ادب کا ایک استدلالی حوالہ ہیں اور ان کے اشعار بطورِ استشہاد پیش ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔۔۔

میں ان کے آمدہ نعتیہ مجموعہ کا تہِ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ ذوق و جذبہ بارگاہِ رسالت مآب میں شرفِ قبولیت سے ہمکنار ہو اور یہ کارِ مدحت ذریعۂ نجات ہو ۔۔۔۔آمین

از : میرزا امجد رازی

سابق ریسرچ آفیسر محی الدین اسلامی یونیورسٹی ،آزاد کشمیر

مطاف حرف، کیفیات کا سیلِ رواں از محمد رضا الدین صدیقی

محمد رضا الدین صدیقی

لاہور

سیّد مقصود علی شاہ صاحب سے میرا تعلق بہت دیرینہ ہے۔ خوش نصیبی نے ہمیں حضرت ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری کے سایۂ عاطفت میں یکجا کر دیا۔

سیّد مقصود علی شاہ کا شمار انتہائی ذہین، طباع اور ہونہار طلبہ میں ہوتا تھا۔ وہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف میں نصاب کے اعتبار سے مجھ سے جونیئر تھے لیکن اپنی قابلیت اور صلاحیت میں بہت آگے تھے۔ شعر و ادب سے کچھ دلچسپی مجھے بھی ان کے حلقۂ احباب میں لے آئی۔


ادب سے ان کی مناسبت طبعی ہے۔ اپنی مصروفیات کی بنا پر وہ اس جانب کم کم متوجہ ہوتے لیکن جب بھی موقع ملتا نظم اور نثر دونوں میں ان کی بھرپور استعداد اور انفرادیت کا اظہار ضرور ہوتا۔ ان دنوں اچانک ان کی تخلیق کے سارے سوتے ایک بھرپور انگڑائی لے کر بیدار ہو گئے ہیں اور گویا کہ کیفیات کا ایک سیلِ رواں جاری ہو گیا ہے۔ بہت مختصر عرصہ میں انہوں نے اہلِ نظر اور سخن شناس حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے اور وہ بجا طور پر بہت ہی کھلے دل کے ساتھ ان کی ستائش کر رہے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کا یہ اچانک ظہور اور اس طرح ہمہ ِگیر پذیرائی دونوں ہی حیران کن ہیں۔


شاہ صاحب کے اسلوبِ سخن سے اُس وقت بھی مرعوب ہوا کرتا تھا اور آج بھی ہوں۔ بلکہ اب تو اس مرعوبیت کے ساتھ ساتھ ان سے تعلق کا تفاخر بھی شامل ہو گیا ہے۔


ان کے چند اشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں اور میرے ساتھ اس تاثر میں شامل ہو جائیں۔


وہ ایک رشکِ بہاراں تھا ُگنبدِ خضریٰ

میں ایک برگِ بریدہ سی ڈال سامنے تھا


………


نطق نے اسمِ محمدﷺ کے کیے خوب طواف

جس نے ترقیمِ مقالات کے در کھول دیے


………


آبگینہ ہے یہاں دھڑکن پہ بھی پہرے بٹھا

یہ مدینہ ہے یہاں سانسوں کو بھی زنجیر کر


………


نظر نظر میں رہا ہے نظر نظر سے فزوں

وہ تیرا روئے منوّر علاجِ کربِ دروں


………


انہی سے ملتی ہے ہر اک دوائے دردِ نہاں

بہ سوئے شاہ نظر کن و غم مکن مرے دل


محمد رضا الدین صدیقی

مطاف حرف، حیرت انگیز سخن از سرور حسین نقشبندی

سرور حسین نقشبندی

(مدینہ منورہ)


اچھا شعر لطافتِ فکر، نزاکتِ خیال اور عصری شعور سے ترتیب پاتا ہے۔ فکرِ لطیف داخلی کیفیات کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔ نزاکتِ خیال خارجی آمد و رفت کو سہل و موافق بناتی ہے اور ادراکِ زمانہ اسے تازگی اور رعنائی سے معمور کرتا ہے۔ روایت کے ساتھ مضبوطی سے رشتہ استوار کیے بغیر تازہ امکانات کی نمود ممکن نہیں ہو سکتی لیکن یہاں بھی روایت کا گہرا اثر بعض اوقات شعر کے ابلاغ اور صوتی فضا کو بوجھل کر دیتا ہے۔ محترم مقصود علی شاہ صاحب کو اللہ نے حیرت انگیز صلاحیتِ سخن سے نوازا ہے۔ ان کے ہاں نہ تو اظہار کا عامیانہ پن جھلکتا ہے اور نہ ہی روایت کا تصنع اور بناوٹ دکھائی دیتی ہے۔ ان کا لہجہ ادب آمیز، فکری بلندی قابلِ رشک اور طرزِ اظہار جدت طرازی کا آئینہ دار ہے۔ مصرعوں کو ترتیب دیتے ہوئے تشبیہات و استعارات، تراکیب و تلمیحات اور رمز و کنایہ کو بڑی سہولت اور کامیابی سے استعمال کرتے چلے جاتے ہیں۔ عموماً شاعری میں اچھا، مربوط اور منظم مصرع تلاش کرنا پڑتا ہے لیکن ان کے ہاں کمزور اور نظر ثانی کے متقاضی مصرعے بھی تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ ان کے ہاں شعری لوازمات اپنے پورے کمال کے ساتھ لو دے رہے ہیں۔ میں یہ بات اپنے شعری مطالعے کی روشنی میں پورے اعتماد سے کہہ رہا ہوں کہ سیّد مقصود علی شاہ صاحب کی نعتیہ شاعری کو کسی بھی دوسری شعری صنف کی ہونے والی تخلیقات کے ساتھ بڑے فخر سے رکھا جا سکتا ہے۔ شعر پڑھیے اور سر دھنیے:


شامِ احساس کو چھو جائے تری یاد کا لمس

صبحِ توفیق کو ملتا رہے دیدار تمام


سرور حسین نقشبندی

مطافِ حرف اور اسلوب کی طرفگی از سیّد محمد نور الحسن نور نوابی عزیزی ( انڈیا )

سیّد محمد نور الحسن نور نوابی عزیزی

(بانی و صدر دبستان نوابیہ عزیزیہ قاضی پور شریف، فتح پور ،انڈیا)


بلاشبہ شاعری اظہارِ جذبات کا نام ہے۔ یہی جذبات جب نعت کے پیرہنِ نور میں ملفوف ہو کر اُفقِ سخن پر طلوع ہوتے ہیں تو بساطِ عشق و وفا کا گوشہ گوشہ مستنیر و تابناک ہو جاتا ہے یعنی شاعری جب عشقِ رسول کا سرنامہ بن کر نعت میں ڈھلتی ہے تو حروف میں نت نئے معانی کا اظہار ہوتا ہے اور معانی میں صداقت افزا اثر جاگنے لگتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ نعت جبینِ ُکن پہ لکھا ہوا حرفِ منور ہے۔ نعت طائرِ شوق کی بلند پروازی کا استعارہ ہے۔ نعت آہوئے دل کی جولان گاہ ہے۔ نعت کربِ دوراں کا مداوا بھی ہے اور زخمِ گزراں کا مسیحا بھی۔ یہ وہ موجۂ بہار ہے جس سے باغِ انفس و آفاق لالہ زار ہے۔ یہ وہ مطافِ شوق ہے جس کا طواف کر کے حرف و لفظ مزکٰی و مصفا ہو جاتے ہیں۔ یہ اس ذاتِ والا صفات کی مدحت ہے جس کا اسمِ گرامی خود نعت ہے اور جس کا سب سے پہلا ناعت و حماد خود ربِ کائنات ہے۔


اگرچہ ہر نعت نگار پرچمِ عشقِ رسولﷺ اُٹھائے کوچۂ ثنائے مصطفی میں وارد ہوتا ہے لیکن نام اور کلام انہی کا زندہ و پائندہ رہتا ہے جن کی شاعری خلوص کے ساتھ ساتھ ندرت و جدت کی غماز بھی ہو، جو نعتِ رسول میں ایسے نئے تجربات کرنے کے مشتاق ہوں جو اوروں کے ہاں نہ ملیں یا کم کم ملیں۔ عصرِ حاضر کی انہیں توانا و تازہ آوازوں میں سے ایک ملک پاکستان کے ندرت شعار اور جدت پسند شاعرِ نعت جناب سیّد مقصود علی شاہ ہیں جنہوں نے روایت سے ذرا ہٹ کر بزمِ مدحِ نبی سجائی ہے اس لیے ان کی شاعری اہلِ شوق کی توجہ کا مرکز و محور ہے۔ ان کا ہر شعرِ نعت بلاغت کا آئینہ دار، اعلیٰ افکار کا بحرِ بے کنار اور تازہ کاری کا شہکار ہے۔ ان کے لہجے کی حلاوت، زبان و بیان کی صفائی اور اندازِ اظہار کی خوبی ان کے کلام کو دیگر شعرا سے ممتاز کرنے کو کافی ہے۔ یعنی ان کے ہاں مضامین کا تنوع بھی ہے اسلوب کی طرفگی بھی ہے، جذبے کی آراستگی بھی ہے اور محبت کی بے ساختگی بھی ہے۔


مقصود شاہ کی نعتیہ شاعری کی امتیازی خصوصیت سلاست کے ساتھ ساتھ وہ کشش ہے جو قاری کو اپنے حصار میں لیے رہتی ہے۔ ان کا ہر شعر اور شعر کا ہر مصرع ذوقِ سماعت کو ہوا دیتا ہے۔ اس پر لہجے کی انفرادیت ایک خاص تاثر قائم کرتی ہے۔

ردیف و قافیہ کی ندرت اور سلاستِ بیاں کی ترجمان ایک نعت ملاحظہ کیجیے:


ردائے شوق میں مدحت کے تار بُن، مرے دل

گدائے شہرِ سخن ہوں، مری بھی سُن، مرے دل


حروفِ عجز کو کیفِ کرم کے جام پلا

رہے سوار ہمیشہ ثنا کی دُھن، مرے دل


یہ شوق ہیں انہیں ان کی گلی کا موسم دے

یہ شعر ہیں انہیں پلکوں سے جا کے ُچن، مرے دل


تو ایک عضوِ معطل ہے اور وہ مختار

سو نعت ہوتی ہے کہتے ہیں جب وہ ُکن، مرے دل


عطا ہوا ہے مجھے مدحِ مصطفی کا ہنر

نہیں ہے اس کے سوا کوئی مجھ میں ُگن مرے دل


بہت ضروری ہے پھر سے ہو نعت کی تدبیر

شعور کو کہیں لگ ہی نہ جائے گھن، مرے دل


انہیں سے ملتی ہے ہر اک دوائے دردِ نہاں

بہ سوئے شاہ نظر کن و غم ُمکن، مرے دل


انہی کا رہتا ہوں جن سے ہے زیست کی تعبیر

انہی کا کھاتا ہوں، گاتا ہوں جن کے ُگن، مرے دل


مدینہ منزلِ مقصودِ شوق ہے واللہ

سو اپنے دیپ جلا، اپنے خواب ُبن، مرے دل


ندرتِ خیال اور جدت طرازی کا اظہار بصورت اشعارِ نعت ملاحظہ کیجیے:

تو اِذن دے تو بارگۂ نعت تک چلیں

جوڑے ہوئے ہیں ہاتھ بلاغت کے سلسلے


شعورِ ذات کی پھر سے کوئی سحر ُپھوٹے

ہے رتجگوں کے تصرّف میں پھر حرائے شوق ………

تو اپنی دید کی صبحِ کرم بنا اس کو

کھڑا ہوں اپنی ہتھیلی پہ ایک شام لیے


………


ترے ہی اسم کی رہتی ہے قوسِ لب پہ نمود

نگارِ عصر کی تسبیحِ ماہ و سال ہے تو

………


خواب کی تعبیر کے مابعد بھی اک خواب ہے

سبز گنبد سامنے ہے اور میں ہجرت میں ہوں

………


تن کے اُفق پہ ان کی کرم بار طلعتیں

من کے نگار خانے کے اندر حضور ہیں

شاعرِ ممدوح ایک حقیقی تخلیق کار ہیں۔ آپ کا ہر نعتیہ فن پارہ آپ کی خلاقانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ اپنے ہم سخنوں کے سکے اُچھالنے کی بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والے شعرا کی جماعت میں شامل ہیں اور ایسے شعرا ہی درحقیقت اپنی ہنروری سے ادب کا دامن بھرتے رہتے ہیں۔ آپ کی تراکیب منفرد اور بیشتر آپ کی اپنی وضع کردہ ہیں۔ چند ملاحظہ ہوں:

کیفِ کرم، علاجِ کربِ دروں، کرم بار طلعتیں، نکہت نواز، حجرۂ رحمت،گدائے حرف، صبحِ تازگی، مطافِ حرف، قبلۂ مقال، حرائے خواب وغیرہ وغیرہ۔ دُعا ہے کہ اللہ رب العزت شاعرِ ممدوح کے رزقِ سخن میں مزید برکات نازل فرمائے اور ان کی نعتیں مقبولِ بارگاہ ہوں۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الکریمﷺ

سیّد محمد نور الحسن نور نوابی عزیزی

(بانی و صدر دبستان نوابیہ عزیزیہ قاضی پور شریف، فتح پور ،انڈیا)

اندازِ بیاں اور از سید فاضل میاں میسوری ( انڈیا )

سید فاضل میاں اشرفی ، میسور، بھارت

نعت گوئی توفیقِ الہیٰ اور اذنِ مصطفیٰ کے امتزاج کا حسین نقش ہے. جو اپنے دامن میں حسنِ فطرت کے تمام رنگوں کو سمیٹے ہوئے ہے. تخلیقِ کائنات سے گلدۂ مدحِ رسول میں عجب رنگ و خوشبو کے شگوفے کھلتے رہے ہیں اور قیامِ محشر تک اس میں بہارِ نو کا سلسلہ رہے گا. خلاقِ کائنات اس گلدے کے پھول اپنے چنیدہ بندوں کے دامن میں ڈالتا ہے ۔ انہیں فیروز بختوں میں محترم المقام سید مقصود علی شاہ صاحب ہیں. جن کا دامنِ سخن رنگ برنگے گلہائے مدحت سے بھرا ہوا ہے. خدائے کریم نے اپنے محبوب نبی کی مدحت کے لیے جو الہام کے باب موصوف پر وا کیے ہیں اس پر یقیناً رشک کیا جانا چاہیے. کیوں نہ ہو کہ یہ توفیق ان کے یہاں سیادت سے ہوکے آئی ہے جس میں یکتائی اور انفرادیت کا ہونا ایک امرِ حقیقی ہے. شاہ صاحب کا لہجہ اتنا موثر و شاذ ہے کہ پڑھنے والا قاری ان کے حصارِ عقیدت سے باہر نکل نہیں پاتا. کونسا رنگِ سخن ہے جو ان کی نعت گوئی میں نہیں. روایتی مضامین کو بھی اس ندرت و جدت سے باندھا ہے کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے. ردیف و قوافی کا استعمال ہو یا بحر کی روانی ہو یا اسلوبِ بیاں ہو یا لفظیاتی جمال ہو یا کیفِ حضوری ہو یا طرزِ استغاثہ ہو ہر جہت سے آپ کا سخنِ دلنواز ایک شہپارہ معلوم ہوتا ہے.

ویسے تو شاہ صاحب کا ہر شعر ہی جمالِ سخن کا آئینہ ہے. لیکن طوالتِ مضمون کے خوف سے بس کچھ شعر درج کر رہا ہوں جن میں موصوف کی خوش اسلوبی، جدتِ نوائی , تنوعِ مضمون, حسنِ نگارش, شعری ساخت اور دیگر محاسن کی بھر پور ترجمانی ہوسکتی ہے.

کمالِ عجز سے ہے عجزِ باکمال سے ہے

یہ نعت ہے یہ عقیدت کے خدوخال سے ہے


بتا مدینے گیا تھا تو کھو گیا تھا کہاں

سوال میرا بجا طور پر سوال سے ہے

ہر شاعر نعت حضور کی بارگاہ میں اپنے کلماتِ فن پیش کرنے کے بعد عجزِ بیاں کی منزل پہ آجاتا ہے. کہیں غالب کہہ اٹھتا ہے کہ [[غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم]], کہیں حسان الہند امام احمد رضا بریلوی کہتے ہیں "حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے". شاہ صاحب کا امتیازِ فن یہ ہے کہ ان کے یہاں عجز ,نعت کا ایک جزوِ لاینفک ہے جسے آپ اول تا آخر محسوس کرسکتے ہیں.

یہ بات عقائد کے باب سے ہے کہ وجودِ مصطفےٰ علیہ السلام ہی سے وجودِ کائنات ہے. وجودِ آنحضور کے بغیر کسی ایک شئے کا بھی وجود ناممکنات سے ہے. یہ ممکنات کی ساری رعنائیاں اسی وجود کی مرہونِ منت ہیں. مندرجہ ذیل شعروں میں اک غلامِ صادق کا اپنے آقا کے جود و کرم پر منحصر ہونے کا مکمل اظہار ملاحظہ کیجے.

تو سراپا خیر ہے اور رحمت و رافت تمام

میں سراپا معصیت ہوں اور تری قدرت میں ہوں


جیسے میں اک ذرہ ہوں اور چاندنی کے شہر میں

جیسے میں اک بوند ہوں اور بحر کی وسعت میں ہوں


بے نمود و نام سا اک جسم تھا جب اسم تھا

اب میں تیرا نعت گو ہوں اور بڑی شہرت میں ہوں

شاہ صاحب کے فن پر یہ کچھ کلمات لکھتے ہوئے مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہونے لگا ہے کہ ان کو جو حسنِ فن بارگاہِ رسالت سے تفویض ہوا ہے وہ کم از کم مجھ جیسے بے مایہ بندے کے بیان کا محتاج نہیں. میرے لیے یہ بات باعثِ مسرت و شادمانی ہے کہ آپ کی نعوت کا اولین مجموعہ منظرِ عام پر آرہا ہے. میں سمجھتا ہوں یہ ادب پارہ صحت مند ادبی ذوق رکھنے والے قارئین کی تشنگی کے لیے جرعۂ تسکین سے کم نہیں ہے. میں بصمیمِ قلب موصوف کو اس مجموعۂ نعت کی اشاعت پر ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ مولیٰ کریم اس مجموعے کو غیر معمولی پذیرائی اور شرفِ قبولیت بخشے.

نجات مدحِ پیمبر کی آبرو سے ہو

نمازِ صبحِ قیامت اسی وضو سے ہو

(محسن کاکوری)


سید فاضل اشرفی میسوری ، بھارت

حسن کے سارے تناظر ہیں اسی منظر کے از ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم

ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم


مقصود علی شاہ کا پہلا نعتیہ مجموعہ ’’مطافِ حرف‘‘ اس وقت پیشِ نظر ہے۔ یہ ایک منفرد ارمغانِ عقیدت و محبت ہے جس میں افکار و خیالات تصورات و معتقدات، محسوسات و کیفیات اور لطیف احساسات کا جہانِ صفت رنگ آباد دکھائی دیتا ہے۔ سیّد کائنات کی نعت لکھنا آپﷺ کے خصائص و کمالات، اسوۂ جمال و کمال اور جود و نوال کو حیطۂ سخن میں لانا ایک ایسا کٹھن کام ہے جس کو انجام دیتے ہوئے جنید و بایزید نفس گم کردہ نظر آتے ہیں۔ حضرت عمران (ابو طالب)، حضرت حسان بن ثابت اور حضرت کعب بن زہیر سے آغاز پانے والی روایتِ نعت، جامی و سعدی اور بوصیری سے ہوتی ہوئی حسان الہند حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی اور حضرت مولانا حسن رضا خاں تک ایک ایسا چندانِ سخن بن جاتی ہے جس میں خیال آفرینی اور جدت طرازی خونِ جگر کا تقاضا کرتی ہے۔ عہدِ رواں میں مقصود علی شاہ نے اس روایت میں جو تازہ کاری اور ندرت آفرینی کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

مقصود علی شاہ کی نعت حقیقتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا جمالیاتی بیان ہے۔ حقیقتِ محمدیہ کے تناظر میں یہ ساری کائنات اپنی تمام تر خوبصورتیوں اور رعنائیوں کے ساتھ تنویرِ جمالِ مصطفائی ہے۔ مصنف عبدالرزاق میں روایت کردہ حدیث نور کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کائناتِ ارض و سما اور آب و گل میں جو کچھ بھی ہے وہ حقیقت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی نمود ہے اور بقول اقبال:

یا نور مصطفی اورا بہاست یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفی است

مقصود علی شاہ نے اس فکری اور اعتقادی تناظر کو ایک جمالیاتی طرزِ احساس میں ڈھال کر نعت گوئی کی ہے۔ یہ ایک منفرد لہجہ اور اچھوتا طرزِ احساس ہے۔ حقیقت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام جسے صوفیاء تعین اول کہتے ہیں۔ اس فکری و علمی بیان میں جس قدر پیچیدگی اور گہرائی ہے اس کے پیش نظر اس تناظر میں نعت کہنا ایک انتہائی علمی و فکری سرگرمی نظر آنا چاہیے لیکن مقصود علی شاہ نے اس فکری و اعتقادی تناظر کو ایسا رچائو، سلاست اور جمالیاتی اسلوب و اظہار دیا ہے جو عطائے محض کا نتیجہ نظر آتا ہے۔

مقصود علی شاہ کے نعتیہ کلام میں تکلف نام کو بھی نہیں ہے۔ ایک ایسی سلاست، روانی اور رچائو ہے کہ اس کے بیان کے لیے الفاظ کم پڑتے محسوس ہوتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مقصود علی شاہ جس چیز پر نظر ڈالتے ہیں اسے نعت میں ڈھال دیتے ہیں۔

اس جہانِ رنگ و بو کی ہر چیز، ہر منظر، آسمان پر چمکتے دمکتے ستارے، شمس و قمر، اُڑتے بادل، چلتی ہوئیں، کھلتے شگوفے، چٹکتی کلیاں، رنگ اور روشنی سب نعتیہ استعارے بن جاتے ہیں۔


گل و گلاب عنادل کی نغمگی تجھ سے

بہارِ تازہ کے پہلو میں زندگی تجھ سے


جہانِ ُحسن کو ملتی ہے تیرے اسم سے خیر

وجودِ عشق نے پائی ہے تازگی تجھ سے


عروسِ شب کے سرہانے ترے کرم کا غلاف

نگارِ صبح کے دامن میں روشنی تجھ سے


……… آپ کے ُنور سے منجملہ یہ تخلیق ہوئے

آپ کے اِسم سے قائم ہیں یہ کونین ابھی


……… خامۂ ُنور سے خیالِ ُنور

نعت گویا ہے اک کمالِ ُنور


سو مقصود علی شاہ نعت کہتے نہیں بلکہ اس کائناتِ آب و گل کو جب دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں تو ہر شے میں انہیں نعت جھانکتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ احساس ان میں ایک گو نہ بے خودی اور سرمستی پیدا کر دیتا ہے۔ وہ بے اختیار کہہ اُٹھتے ہیں۔


کچھ ایسے ہی مری ہستی میں نعت ہے جیسے

چٹک اُٹھے کوئی ُغنچہ شکستہ ڈال کے ساتھ


اردو نعت میں مقصود علی شاہ کی آواز بالکل منفرد اور جداگانہ ہے۔ افکار و خیالات، احساسات اور کیفیات کو ایک جمالیاتی پیرایۂ اظہار میں بدلنا ان کا ایسا کارنامہ جس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ یہ گمان ہی نہیں ہوتا کہ وہ نعت کہتے ہیں۔ نعت ان پر واردات بن کر اُترتی ہے اور ان کے پورے شعور کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ وہ نعت کہتے نہیں بلکہ نعت جیتے ہیں۔ مجموعہ آپ کے ہاتھوں میں ہے پڑھئے اور ایک جہان رنگ و نور میں کھو جائیے۔

ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم


وہبی نعت گو از عباس عدیم قریشی

عباس عدیم قریشی


(خانیوال)

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیّد المرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد

قادرِ مطلق اپنے کچھ خاص بندوں میں کچھ خاص صلاحیتوں کے جوہر رکھ کر اپنی صفتِ خاص ’’وہاب‘‘ کی خاص تجلیات سے ان کی آبیاری فرماتا ہے اور کسی خاص اور معین وقت (جس کی مصلحت اور مشیت سے یقینا وہ خود ہی واقف ہے) پر ان صلاحیتوں کو اظہارو نمود کا اذن عطا فرماتا ہے اور عالم کسب کو ورطۂ حیرت و استعجاب میں ڈال دیتا ہے۔ سو اس تناظر میں آپ تصور فرمائیے کہ وہ قادر و وہاب رب العالمین جل مجدہ اپنے کسی بندے میں قوتِ ناطقہ کے خاص جواہر میں سے حمد و نعت گوئی کے خاص اوصاف رکھ کر اپنے خاص اسم ’’وہاب‘‘ کی تجلیات کے فیضان سے نوازے اور بعد ازاں ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کی عملی اور حرکی تفسیر کا حصہ بنا دے تو اس کی خوش بختی کا کیا اندازہ کیا جا سکتا ہے؟

قارئین کرام! سیّد مقصود علی شاہ صاحب ایسے ہی چنیدہ خوش بختوں میں سے ہیں جنہیں قدرت نے رسالت مآبﷺ کی مدح کے لیے خاص کیا اور انہیں حمد و نعت گوئی کی یہ صلاحیت کسبی نہیں بلکہ وہبی طور پر نہایت فراخ دلی کے ساتھ عطا فرمائی ہے۔ وہ اپنے قلب و روح، فکر و نظر اور قلم و قرطاس کے ساتھ ہمہ وقت مطافِ عشق رسولﷺ میں اس طور محو طواف ہیں کہ ان کا ہر طواف نعت افزا ہے۔

آخر میں دعا گو ہوں کہ ’’مطافِ حرف‘‘ بارگاہ رسالت پناہﷺ میں مزید شرف یابیوں اور سعادتوں کے حصول کا باعث ہو۔ اللہ جل مجدہ الکریم صلاحیتوں میں عمر اور علم کے ساتھ مزید برکات عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامینﷺ

عباس عدیم قریشی

(خانیوال)

مبہوت کر دینے والی شاعری از اشفاق احمد غوری

اشفاق احمد غوری

(قومی سیرت ایوارڈ یافتہ)

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیّد المرسلین

مقصود علی شاہ صاحب سے میری پہلی ملاقات برقی ذریعۂ ارتباط سے اس وقت ہوئی جب وہ مدینہ منورہ میں گنبدِ خضریٰ کے حسین منظر سے قلب و نظر کو حیات آفرین ٹھنڈک پہنچا رہے تھے۔

اگرچہمقصود علی شاہ سے تعلق کی عمر محض اڑھائی ماہ ہے لیکن در حقیقت ہم نے اس مختصر عرصہ میں صدیوں کا سفر طے کیا ہے یعنی یہ اڑھائی ماہ کا تعلق کئی طویل مدتی تعلقات پر بھاری ہے۔


اس تعلق کی بنیادی وجہ یقینی طور پر نعت تو ہے ہی لیکن شاہ صاحب کی سیادت، محبت، مروّت، مودّت اور نفاست کی کثرت بھی پسِ پردہ کار فرما ہے۔


سوچتا ہوں میں مدینے کا سفر کیسے کروں

دل دھڑکتا ہے مگر جانے کی ّہمت ُچپ ہے


یہ شعر شاہ صاحب کا مکمل تعارف بن کر جلوہ گر ہوا۔ اس شعر میں ُمبہوت کر دینے کی طاقت موجود تھی۔ اسی نعت کا مطلع دیکھیں:


لفظ خاموش ہے اور دیدۂ حیرت ُچپ ہے

مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت ُچپ ہے


اس نعت کا اگلا شعر جس نے ُمبہوت کر دینے والی محویت کو مرعوبیت میں بدل دیا۔


حیطۂ فہم سے آگے کا سفر ہے معراج

اور معراج سے آگے کی حقیقت ُچپ ہے


اختر سدیدی مرحوم کہا کرتے تھے کہ جب میں کوئی ناقص شعر سنتا ہوں تو مر جاتا ہوں اور اچھا شعر سن کر جی اُٹھتا ہوں۔ سدیدی صاحب کے اس مبنی برحقیقت جملے کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں حساس قارئین کو اس یقین کے ساتھ دعوتِ تلاوتِ مطافِ حرف دیتا ہوں کہ آپ جی اُٹھیں گے۔


نظر نظر میں رہا ہے نظر نظر سے فزوں

وہ تیرا روئے منور علاجِ کربِ درود

………


حروفِ عجز برائے سلام، حاضر ہیں

مرے کریم یہ تیرے غلام، حاضر ہیں

………


بدستِ شاہ دیے جائیں گے غلاموں کو

رفیع مرتبے، اعلیٰ مقام حاضر ہیں

دعا ہے کہ اللہ رب العزت مقصود علی شاہ کی اوّلین کاوش ’’مطافِ حرف‘‘ کو کلامِ سعدی و جامی جیسی شہرت اور کلامِ بوصیری جیسی قبولیت عطا فرمائے۔

آمین

اشفاق احمد غوری

(قومی سیرت ایوارڈ یافتہ)

مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت ُچپ ہے از مقصود علی شاہ

maqsoodshah105@gmail.com

Whatsapp: 00447506748986


کریم ابنِ کریمﷺ کی عطائوں سے تو بعید ہرگز نہ تھا مگر… نعت تھی اور اپنی بے بضاعتی کا پورا پورا احساس… گمان بھی نہ تھا کہ حرفوں کے جڑتے جڑتے شعر ہو جائے گا اور شعر در شعر نعت بن جائے گی۔ نعت جو قرآن کی صورت میں خالقِ حرف و معانی کی صفتِ لافانی ہے۔ جو انسانِ اوّل کے اپنے رب سے تعلقِ خاص کا حوالہ ہے۔ نعت جو آمدِ خیر و نور کی بشارتوںکی صورت میں انبیائے ماقبل کا ایک فریضۂ نبوت بھی ہے ، جو مہتابِ نبوت کے جلو میں جلوہ گر راہِ ہدایت کے نجوم کی جانِ ایمان بھی ہے اور نعت جو حضرتِ حسان و بوصیری و سعدی و جامی و رضا کے ذوق و شوقِ حرف و نطق کا اظہار بھی ہے… مگر میرے قارئین! یہ ایسا ہو گیا… وہ حرف جو شعر بنے اور نعت ہوئے ان کا پھر اوّلیں و آخریں منصب یہی تھا اور رہے گا کہ اظہارِ شوق و عجز میں، تشکر و امتنان کا وجد کرتے ہوئے، یہ اُسی مطاف میں رہیں جہاں کے قبلۂ دل و جاں کے لئے ان بے نمود حرفوں کو نعت ہونے کا عنوان ملا۔

مطافِ حرف آپ کے پاس ہے۔ نہیں بلکہ میرے مکرم بھائی، اُستاد اور محسن ممتاز نعت گو اشفاق احمد غوری صاحب کہا کرتے ہیں ’’ہم نعت کے سامنے پیش و حاضر ہوتے ہیں۔ نعت لکھنا یا پڑھنا تو تنِ احساس میں روح کے موجود ہونے کا استعارہ ہے۔‘‘

قارئینِ محترم! یہ چند نعتیں محض اور محض ربِ کریم کا ایک بندۂ عاجز پر، بغیر کسی استحقاق کے احسان ہے، یہ محض اور محض کریم آقاﷺ کی ایک درماندہ و بے مایہ اُمتی پر، بغیر کسی استحقاق کے، عطا ہے۔ رب و محبوبِ رب… کریم ہیں۔ کرم ان کو زیبا ہے… سو کرم ہو گیا… الحمدللہ والصلواۃ والسلام علیٰ رسول اللہ۔

اظہارِ تشکر کے لئے اپنی تنگ دامانی کا احساس ہے… ’’مطافِ حرف‘‘ کو بطورِ کلام، اپنے حرفوں کے ذریعے اعتبار عطا کرنے والے… جناب ڈاکٹر ریاض مجید، جناب صبیح رحمانی، جناب محمد اجمل نیازی، جناب راجہ رشید محمود، جناب خورشید بیگ میلسوی، جناب ڈاکٹر ظفراقبال نوری، پیر ڈاکٹر ابوالحسن محمد شاہ الازہری، جناب سیّد نور الحسن نور (انڈیا)، جناب اشفاق احمد غوری، جناب علامہ ڈاکٹر شہزاد مجددی، جناب ڈاکٹر پروفیسر احمد ندیم، جناب سرور حسین نقشبندی، جناب رضا الدین صدیقی، جناب سید فاضل میسوری (انڈیا)، جناب عباس عدیم قریشی، جناب میرزا امجد رازی اور جناب نور محمد جرال سمیت سوشل میڈیا کے وہ تمام خواتین و حضرات جو کم و بیش ایک سال سے ہر روز میری ایک نعت شریف پر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ میرے شکریے کے اوّلیں مستحق ہیں۔

میری مادرِ علمی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ (بھیرہ شریف) کے جملہ اساتذۂ گرامی اور طلبہ ساتھی بالخصوص میرے بھائی احمد نواز حجازی (خوشاب)، میرے بے حد عزیز دوست ثنااللہ خان (پشاور)، جہانداد منظر القادری (کراچی)، عصمت حنیف اعوان، ظہیر باقر بلوچ، میرے بھائی میاں امیر اکبر شاہ میانہ، میاں عرفان علی شاہ میانہ اور میاں اظہر قیوم شاہ میانہ کے لئے میرے جذباتِ اظہار و محبت اور سب کے لئے سلامتی کی دُعائیں۔

کتاب کی طباعت کے حوالے سے میرے دوست زاہد محمود زاہد، حمدان خالد اور التمش مبین کی خدمات کو خراجِ تحسین۔

میرا یہ اولیں مجموعہ نعت ’’مطافِ حرف‘‘میرے مرحوم بھائی میاں مظہر قیوم شاہ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لئے ہے۔ اللہ پاک انہیں کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے۔ آمین

مورخہ 20 جون 2019ء

حمد باری تعالی

لفظ میں تاب نہیں، حرف میں ہمت نہیں ہے

لائقِ حمد، مجھے حمد کی طاقت نہیں ہے


ایک آغاز ہے تو، جس کا نہیں ہے آغاز

اک نہایت ہے مگر جس کی نہایت نہیں ہے


وحشتِ قریۂ دل میں ترے ہونے کا یقیں

ایسی جلوت ہے کہ مابعد بھی خلوت نہیں ہے


ترا بندہ ہوں، ترے بندے کا مداح بھی ہوں

اس سے آگے تو مری کوئی حقیقت نہیں ہے


ایک تبریک کی تحریص میں لایا ہوں کتاب

خوب معلوم ہے شایانِ رسالتؐ نہیں ہے


چند سطروں میں لپیٹے ہوئے حاضر ہے نیاز

ایک بھی حرف بغیر اذن و اجازت نہیں ہے


تو جو چاہے تو سخن میرا معطر کر دے

حرف رنگوں میں ڈھلیں اس میں بھی حیرت نہیں ہے

بابِ کرم کے سامنے اِظہار دم بخُود

بابِ کرم کے سامنے اِظہار دم بخُود

پُورا وجودِ نُطق ہے سرکار دم بخُود


عجزِ تمام سے نہیں ممکن ثنا تری

پھر کیوں نہ ہُوں مَیں صورتِ دیوار دم بخُود


اِک رتجگے کی صورتِ مُبہَم ہے رُو برُو

خواہش بہ دید دیدۂ بیدار دم بخُود


اے حاصلِ طلب ترے آنے کی دیر ہے

دل کی ہے کب سے حسرتِ دیدار دم بخُود


تُو اذن دے تو تشنہ لبی خیر پا سکے

کاسہ بہ کف ہیں سارے طلبگار دم بخُود


توبہ نصیب لوگوں کا ہے تجھ سے واسطہ

تیری رضا طلب ہیں گنہ گار دم بخُود


مقصود اُن کی یاد کے بادل برس پڑے

تھے دشتِ دل کے سارے ہی اشجار دم بخُود

خیالِ خام لئے، حرفِ نا تمام لئے

خیالِ خام لئے، حرفِ نا تمام لئے

گدائے شوق ہے حاضر فقط سلام لئے


ہوائے تیز سے تھرّا رہے تھے خواب شجر

کہ دستِ ساعتِ تسکیں نے بڑھ کے تھام لئے


خدا کا شُکر کہ وردِ زباں رہے ترے نام

سوال جیسے بھی تھے ہم نے تیرے نام لئے


کرم ہُوا کہ خطاؤں کو تیری رہ سوجھی

کہاں کہاں لئے پھرتا انہیں غُلام لئے


ابھی سے شہرِ عطا نے دریچے کھول دیے

ابھی تھے حرف نے مشکل سے چار گام لئے


تُو اپنی دید کی صبحِ کرم بنا اس کو

کھڑا ہوں اپنی ہتھیلی پہ ایک شام لئے


وجود ، شوق کے منظر میں ڈھل گیا مقصود

ابھی تھے خواب نے دستِ عطا سے جام لئے

انداز لگ رہے ہیں مرے خوش خرام کے

انداز لگ رہے ہیں مرے خوش خرام کے

جاگیں گے آج رات مقدر خیام کے


لائی ہے اور ہی کوئی بادِ صبا نوید

ہیں رنگ دیدنی در و دیوار و بام کے


کس کے کرم کی دھوم ہے، کس کی عطا کے رنگ

خیر الانام کے سبھی، خیر الا نام کے


تیری عطائے ناز سے پا کر سخن کی بھیک

جوبن پہ ہیں کلام ترے اس غلام کے


دھوون ہے پائے ناز و کرم کا جمالِ کُل

یہ مہر و ماہ و نجم تو روشن ہیں نام کے


اُن کا گدائے راہ ہُوں، اُن کا قصیدہ گو

کتنے وقیع ذوق ہیں مجھ ایسے عام کے


قُرآن کے جمال و کمالِ حروف میں

تذکارِ نُور ہیں مرے ماہِ تمام کے


وقفِ ثنائے خواجہ ہے ہر لمحۂ حیات

مربوط سلسلے ہیں مرے صبح و شام کے


وردِ زبانِ شوق رہیں عمر بھر تمام

مقصود جتنے حرف ہیں اُس پاک نام کے

حُسنِ بے مثل کا اِک نقشِ اُتم ہیں، واللہ

حُسنِ بے مثل کا اِک نقشِ اُتم ہیں، واللہ

آپ کے نقشِ قدم، رشکِ اِرَم ہیں، واللہ


آپ کی وُسعتِ خیرات کی تعبیر محال

آپ تو شانِ عطا، جانِ کرم ہیں، واللہ


آپ ہی قاسمِ نعمت ہیں باذنِ معطی

آپ ہی صاحبِ توفیق و نِعَم ہیں، واللہ


آپ کی مدح کے امکان ہیں خالق کے سپرد

خَلق کے حیطۂ اظہار تو کم ہیں، واللہ


آپ کے ذکر سے کھِل اُٹھتا ہے صحرائے وجود

آپ کے ہوتے ہوئے کون سے غم ہیں، واللہ


شوقِ نظّارۂ محبوب بیاں ہو کیسے

دل بھی تعجیل میں ہیں، آنکھیں بھی نم ہیں، واللہ


وُسعتِ رحمتِ کُل کے یہ مناظر سارے

آپ کی رحمتِ بے پایاں کے یَم ہیں، واللہ


جا بجا کھِلتے ہوئے شوخ گُلابوں کے ہجوم

آپ کی زُلفِ طرحدار کے خَم ہیں، واللہ


شوکت و جبر کے معمار، ترے باجگزار

سَر کشیدہ بھی ترے آگے تو خَم ہیں، واللہ


طوقِ رسوائیِ جاں زیبِ گُلو ہے مقصود

جن کو غفران کا مژدہ ہے وہ ہم ہیں، واللہ

قبائے عجز میں سہمے ہوئے سوال کے ساتھ

قبائے عجز میں سہمے ہوئے سوال کے ساتھ

حضور نعت ہُوں لایا نئے خیال کے ساتھ


کُچھ ایسے ہی مری ہستی میں نعت ہے، جیسے

چٹک اُٹھے کوئی غُنچہ شکستہ ڈال کے ساتھ


متاعِ حرف و سخن میں کہاں وہ آب وہ تاب

جو اذن ہو تو لکھوں نعت اب دھمال کے ساتھ


اسی لئے تو ہیں فطرت کے سب حوالے حُسن

کہ ربط رکھتے ہیں تجھ سے وہ خوش خصال کے ساتھ


حروفِ شوق تو عاجز ہیں اور قاصِر ہیں

سو اُس کی نعت ہو اُس کے ہی خدّ و خال کے ساتھ


نہیں زمانے، مَیں تیرا نہیں ذرا مقروض

مَیں جی رہا ہُوں سخی کے ہی اُس نوال کے ساتھ


اُسی کے اذن پہ موقوف ہے سخن مقصود

یہ کام قال سے ممکن ہے اور نہ حال کے ساتھ

شافعِ روزِ جزا،والئ جنت تُو ہے

شافعِ روزِ جزا، والئ جنت تُو ہے

معدنِ جود و عطا ، قاسمِ نعمت تُو ہے


مانتا ہوں کہ ہے عصیاں کا تسلسل قائم

مطمئن ہوں کہ سدا مائلِ رحمت تُو ہے


نَکہت و رنگ کو ہے نسبتِ گُل کی حاجت

یعنی معراج تھی حیرت، پسِ حیرت تُو ہے


ترے اوصاف و کمالاتِ حمیدہ، واللہ

حمد کے رنگ میں لکھی گئی مدحت تُو ہے


نُور کے سارے مناظر ہیں ترا عکسِ جمیل

رنگ کے سارے حوالوں کی علامت تُو ہے


ابتدا خَلقِ دو عالَم کی ہُوئی تیرے سبب

شوکتِ وحی و نبوت کی نہایت تُو ہے


وہ جو تحذیر میں در آتی تھی تبشیر کی بات

وہ جو تھی آتی چلی آئی بشارت، تُو ہے


جیسے ہے مولا علی کے لئے تُو جانِ صلاة

ویسے صدیق کی نظروں کی تلاوت تُو ہے


آسماں رشک سے تکتا ہے ترا شہرِ کرم

کہ زمیں زاد مقدر کی جو قسمت تُو ہے


معنئ وحئ “ رَفَعنَالَکَ ذِکرَک “ واضح

اَوجِ بے حد پہ لکھی آیۂ رفعت تُو ہے


جادۂ حرف و معانی پہ ترے پاؤں کی دھُول

حرف میں رنگ ترے، معنیٰ میں نُدرت تُو ہے


آپ کے نور کا اظہار ہے “ کُلُّ شئی ” سے

سب ترا عکسِ حقیقت ہے، حقیقت تُو ہے


کاسۂ فکر میں رہتی ہے ترے اِسم کی بھیک

مرے اشعار کی اُونچی قد و قامت تُو ہے


پھر سے مقصود کو ہو اذنِ سفر کا مژدہ

حاصلِ حرفِ دُعا، قاسمِ بہجت تُو ہے

کیسے لکھ پائیں تری مدحتِ نعلین ابھی

کیسے لکھ پائیں تری مدحتِ نعلین ابھی

دیدۂ حیرت و حسرت کے ہیں مابین ابھی


آپ کے پائے مبارک کے یہ نوری جوڑے

جیسے جُڑ جائیں گے شرقین سے غربین ابھی


کِس کو معلوم تری شوکتِ معراج کی رمز

خَلق تو سمجھی نہیں معنئ قوسین ابھی


قریۂ جاں میں اچانک تری خوشبو مہکی

شاید آئے ہیں کہیں سے ترے حسنین ابھی


آپ کے نور سے منجملہ یہ تخلیق ہوئے

آپ کے اسم سے قائم ہیں یہ کونین ابھی


لمحۂ دید کا حاصل ہیں زمانے سارے

ایک منظر پہ رُکی ہیں مری عینین ابھی


پورے احساس میں مقصود یہ رنگوں کی پھوار

چمنِ دل میں یہ کھِلتے ہوئے شفتین ابھی

بارگۂ جمال میں خواب و خیال منفعل

بارگۂ جمال میں خواب و خیال منفعل

تابِ سُخن ہے سر بہ خم، شوقِ وصال منفعل


پہلے تو خوب زور تھا عرضِ نیازِ دید کا

تیرےحضور آ کے ہے صورتِ حال منفعل


کاسۂ حرفِ عجز میں تاب و تبِ سُخن کہاں

دستِ عطا کے سامنے جود و نوال منفعل



ہالۂ رنگ و نور میں گنبدِ سبز کی نمود

لالہ و گُل کے ساتھ ساتھ سبزہ و ڈال منفعل



کوچۂ شہرِ ناز میں رنگوں کی دلکشی تمام

جذبِ بیانِ حُسن کے سارے کمال منفعل



مدحِ جمالِ یار میں پورا وجود دم بخود

صوتِ جواب مضمحل، تابِ سوال منفعل



خامۂ شوق و عجز کو اذنِ خیال تک نہیں

اُن کے حضور میں تو ہے نفسِ مثال منفعل



کنگرۂ قصرِ نعت پر مقصود اُس کی تابشیں

اوجِ نمودِ ناز پر طرزِ مقال منفعل

شکستہ دل کو یہ کتنا بڑا دلاسہ ہے

شکستہ دل کو یہ کتنا بڑا دلاسہ ہے

حضور آپ کی مدحت ہی استغاثہ ہے


خبر ہے قاتلِ جاں کو، حریفِ حُرمت کو

ہمارا مُرشِد و ہادی ترا نواسہ ہے


مَیں اوڑھ لیتا ہوں پورے بدن کوخیرکے ساتھ

کہ تیرا نام تمازت میں اک ردا سا ہے


یہ کشتِ جاں تری رحمت شعار دید طلب

یہ دشتِ دل ترے ابرِ کرم کا پیاسا ہے


تہی بہ حرف ہوں پھربھی ہوں تیرا مدح سرا

خطا سرشت ہوں لیکن تمھاری آسا ہے


نواز دیتے ہیں مجھ سے بھی بے نوا کو وہ

مرے کریم کی بخشش کا یہ ہی خاصہ ہے


بس ایک حرف جو اُس کےکرم کےشایاں ہو

کتابِ زیست کا اتنا سا ہی خُلاصہ ہے


گُلوئے عجز میں نعتوں کا طوق ہے مقصود

سو مطمئن ہوں کہ بھاری مرا اثاثہ ہے

بجا کہ حرفِ شکستہ ہے یہ دعا میری

بجا کہ حرفِ شکستہ ہے یہ دُعا میری

ترے کرم سے تو باہَر نہیں خطا میری


سجا کے لب پہ درود و سلام کے نغمے

رواں دواں ہے مدینے کو التجا میری


مَیں عہدِ رفتہ میں کھوئے ہوئے یہ سوچتا ہوں

یہیں کہیں پہ مدینہ میں ہو گی جا میری


خیالِ نعت کی چادر تنی رہے اس پر

بھٹک نہ جائے کہیں فکرِ بے ردا میری


درود پڑھ کے اُسے روشنی میں ڈھال لیا

دُعا، اگرچہ تھی بے رنگ و بے ضیا میری


حضور آپ کے آنے کی دیر ہے ، ورنہ

سرہانے آ کے کھڑی ہے مرے، قضا میری


سجا کے رکھا ہے ماتھے پہ نقشِ پائے حضور

وگرنہ کون تھا صورت جو دیکھتا میری


مرے گماں میں یقیں بھی مرا رہا شامل

سنے گا بہرِ محمدﷺ ، مرا خُدا ، میری


ہَوا کے ہاتھ سے بھیجا ہے گو سلام، مگر

یہاں سے بھی یوں ہی سنتے ہیں مصطفی، میری


مرے کریم کی بندہ نوازیاں مقصودؔ

رکھی ہے قدموں میں اب نعتِ نارسا میری

مری طلب تو مری فکرِ نارسا تک ہے

مری طلب تو مری فکرِ نارسا تک ہے

یہ حرف و معنیٔ مدحت تری عطا تک ہے


جہاں بھی ہوں تری رحمت کے دائرے میں ہوں

مری خطا بھی تو آخر مری خطا تک ہے


اُتر رہے ہیں یہ رنگوں کے قافلے پیہم

تو اذن دے، انہیں جانا تری ثنا تک ہے


خجل ضرور ہوں، نامطمئن نہیں ہوں مَیں

کہ سلسلہ تری بخشش کا انتہا تک ہے


نئے معانی میں ڈھلنے تھے حرفِ فتح و شکست

حسینؑ ایسے نہیں آیا کربلا تک ہے


ورائے پردۂ نورِ نہاں، کسے معلوم

خرد تو محوِ سفر پہلے نقشِ پا تک ہے


مدینے جانے کا مخصوص اذن تھا مقصودؔ

کرم ہوا ہے کہ یہ سلسلہ گدا تک ہے

زمینِ حسن پہ مینارہء جمال ہے تو

زمینِ ُحسن پہ مینارۂ جمال ہے ُتو

مثال کیسے ہو تیری کہ بے مثال ہے ُتو


سخن کے دائرے محدود ہیں بہ حدِ طلب

ورائے فہم ہے ُتو اور پسِ خیال ہے ُتو


رہے گا تیرے ہی نقشِ قدم سے آئندہ

جہانِ ماضی ہے ُتو اور جہانِ حال ہے ُتو


کتابِ زندہ ہے تیری حیاتِ نور کی نعت

مطافِ حرف ہے ُتو، قبلۂ مقال ہے ُتو


ترے ہی اِسم کی رہتی ہے قوسِ لب پہ نمود

نگارِ عصر کی تسبیحِ ماہ و سال ہے ُتو


وجودِ عجز میں تارِ نفَس ہے ذِکر ترا

مری طلب، مرا کاسہ، مرا سوال ہے ُتو


مَیں خود تو صیغۂ متروک ہُوں مرے آقا

یہ حرف و صوت، یہ اسلوب، یہ خیال ہے ُتو


زوالِ ذات میں بِکھرا ہُوا ہے ُتو مقصودؔ

کرم ہے شہ کا تہہِ دستِ با کمال ہے ُتو

حروفِ عجز میں لپٹے ہوئے سلام میں آ

حروفِ عجز میں لپٹے ہوئے سلام میں آ

اے میری خواہشِ باطن مرے کلام میں آ


اُداسی دل کے دریچوں سے جھانکتی ہے تجھے

بس ایک لمحے کو تو حیطۂ خرام میں آ


تو میرے قریۂ جاں میں اُتار صبحِ نوید

تو میرے عجز گھروندے کی ڈھلتی شام میں آ


ہزار عرض و جتن کی ہے ایک ہی تدبیر

تو آ، زمانوں کے والی، مرے خیام میں آ


نہیں مجال، پہ حالت بہت ہے آزردہ

اے ُحسنِ تام، مرے شوقِ نا تمام میں آ


مَیں کعبہ دیکھنے لگتا ہوں تیری دید کے ساتھ

مدینے والے ُتو پھِر مسجدِ حرام میں آ


ترے حضور یہ عرضی گزار ہے مقصودؔ

وہ تیرا خاص نہیں ہے، ُتو اپنے عام میں آ

رات کے ساتھ ہی جل اٹھتے ہیں طلعت کے چراغ

رات کے ساتھ ہی جَل اُٹھتے ہیں طلعت کے چراغ

حرف بنتے ہی چلے جاتے ہیں مدحت کے چراغ


نعت کا باب کھلا قلب و نظر پر ایسے

جیسے ادراک میں رکھ دے کوئی حیرت کے چراغ


یا نبی سر بہ گریباں ہے تری ’’خیرِ اُمَم‘‘

یا نبی بھیج کوئی پھر سے خلافت کے چراغ


روشنی ُبجھنے کہاں دے گا عقیدت کا سفر

قبر میں ساتھ لیے جاتا ہوں مدحت کے چراغ


اِک نئے عہد کی تابندہ خبر دیتے ہیں

ثور کی کوکھ میں رکھے ہوئے ہجرت کے چراغ


اُس کے آنگن میں اُترتی نہیں تیرہ راتیں

جس کی دہلیز پہ روشن ہیں عقیدت کے چراغ


دیکھ کر کوئے مدینہ کے سہانے منظر

میری آنکھوں میں ہیں مقصودؔ محبت کے چراغ

یہ میم نور سے دالِ کمال باندھنا ہے

یہ میمِ نور سے دالِ کمال باندھنا ہے

جہانِ شعر میں کیا بے مثال باندھنا ہے


خدا سے مانگی ہیں قوسِ قزح کی سب سطریں

کہ مَیں نے نعتِ نبی کا خیال باندھنا ہے


جواب آپ نے دستِ گدا پہ رکھ چھوڑے

مَیں سوچتا رہا کیسا سوال باندھنا ہے


حروف، نعت کے منظر میں کیسے ڈھل پائیں

حروف نے تو ابھی عرضِ حال باندھنا ہے


مَیں ریزہ ریزہ بکھرتا رہا مدینہ طلب

کرم ہوا کہ سفر اب کے سال باندھنا ہے


چلا ہوں پیرِ کرم شہؒ کے آستانے پر

حجابِ قال سے اب کشفِ حال باندھنا ہے


کہو فرشتوں سے مقصودؔ اب اُتر آئیں

کہ مَیں نے نور سے نعتوں کا جال باندھنا ہے

کوئی بھی حرف سپردِ قلم نہیں کیا ہے

کوئی بھی حرف سپردِ قلم نہیں کیا ہے

کہ تیرے نام کو جب تک رقم نہیں کیا ہے


ہمیں بھی حکم تھا لغزش کے بعد توبہ کا

کریم نے بھی سپردِ ستم نہیں کیا ہے


خرد کو خواہشِ تابِ نظر رہی، لیکن

جنوں نے دید کے منظر کو خم نہیں کیا ہے


کِواڑ اُس نے بھی سارے عطا کے وا رکھے

سوال ہم نے بھی کچھ بیش و کم نہیں کیا ہے


بس ایک ساعتِ دیدِ کرم رہی قائم

پسِ حجاب بھی آنکھوں کو نم نہیں کیا ہے


بس ایک طیبہ کی دُھن میں ہے ُگم یہ عمرِ رواں

خیال و خواب کو وقفِ ارم نہیں کیا ہے


مَیں تیرے شہر میں پہنچا ہوں اور سوچتا ہوں

مرے کریم نے کیا کیا کرم نہیں کیا ہے


زمانہ گرچہ ہے بے طرح سے عدو، لیکن

تمھارے ہوتے ہوئے کوئی غم نہیں کیا ہے


عطا و اذن سے نعتِ نبی لکھی مقصودؔ

تکلفاً کوئی مصرع بہم نہیں کیا ہے

بس ایک حاصلِ خواب و خیال سامنے تھا

بس ایک حاصلِ خواب و خیال، سامنے تھا

مدینہ، شہرِ جمال و کمال، سامنے تھا


کوئی بھی لفظ سپردِ سخن نہ ہو پایا

وجود پورا مجسم سوال سامنے تھا


نگاہِ شوق ہی تابِ نظر کی جویا رہی

وہ ُحسنِ تام بہ حد کمال سامنے تھا


نظر پڑی جو کھجوروں کی اوٹ کے مابعد

تو شہرِ جود و عطا و نوال سامنے تھا


وہ ایک رشکِ بہاراں تھا ُگنبدِ خضریٰ

مَیں ایک برگ بُریدہ سی ڈال سامنے تھا


طلب کا سارا ہی منظر بکھر گیا یکسر

کریم سامنے تھا، خستہ حال سامنے تھا


عجیب ساعتِ اذنِ سخن رہی مقصودؔ

کہ بحرِ نعت کے تشنہ مقال سامنے تھا

لب بستہ قضا آئی تھی دم بستہ کھڑی ہے

لب بستہ قضا آئی تھی، دَم بستہ کھڑی ہے

کونین کے والی ترے آنے کی گھڑی ہے


اک ُطرفہ نظارہ ہے ترے شہر میں آقا

بخشش ہے کہ چپ چاپ ترے در پہ پڑی ہے


ہاتھوں میں لئے پھرتا ہوں لغزش کی لکیریں

تقدیر مگر تیری شفاعت سے ُجڑی ہے


چہرہ ہے کہ ہے نور کے پردوں میں نہاں نور

زُلفیں ہیں کہ رنگوں کی ضیا بار جھڑی ہے


لا ریب سبھی ہادی و ُمرسَل ہیں چنیدہ

واللہ تری آن بڑی، شان بڑی ہے


مقصودؔ تصور میں مدینے کے رہا کر

کٹ جائے گی یہ ہجر کی شب، گرچہ کڑی ہے

نور کے حرف چنوں رنگ کا پیکر باندھوں

نور کے حرف ُچنوں، رنگ کا پیکر باندھوں

نعت لکھنی ہو تو مہر و مہ و اختر باندھوں


شاید اِس طرح کوئی نغمۂ دلکش اُبھرے

آنکھ کے موتی کو جبریل کے پَر، پر باندھوں


ایک منظر سے تو بنتا نہیں اُس کا منظر

نور کے سارے حوالوں کو مکرّر باندھوں


لب کا پیرایہ تو بے حد ہے ثقیل و جامد

مَیں ترا اسم کہیں بوسے کے اندر باندھوں


ویسے تو حجرۂ رحمت ہے تمثل سے وریٰ

بہرِ تفہیم اسے عرش کے اوپر باندھوں


نسبت و نام تو پہلے سے ہے حاصل مقصودؔ

تاجِ نعلین جو مِل جائے تو سَر پر باندھوں

چمنِ فکر میں مہکا گلِ خنداں چہرہ

چمنِ فکر میں مہکا ُگلِ خنداں چہرہ

راحتِ قلبِ تپاں ، شوقِ نگاراں چہرہ


مہ و پروین کی تعبیر یہ نقشِ پا ہیں

نور کے سارے حوالوں سے ہے تاباں چہرہ


یاد کا کرب تو رگ رگ میں اُتر آیا ہے

اور اس دردِ مسلسل کا ہے درماں ، چہرہ


سامنے آنکھوں کے ٹھہرے تو کوئی بات بنے

مر ہی جاؤں جو رہے مجھ سے ُگریزاں چہرہ


سارے ُقرآن کی ہر سورہ میں ہر آیت میں

ایک اک حرف سے ہوتا ہے نمایاں چہرہ


اقصیٰ سے قبلہ کی تحویل کا نوری منظر

نور کی ساری کہانی کا ہے عنواں چہرہ


سدرہ تک ساتھ تھے جبریل ، مگر بعد ازاں

نور کے پردوں سے آگے تھا فروزاں چہرہ


سوچتا ہوں کہ وہ مازاغ کی آنکھوں والا

اُمّتی تیرے لئے کیوں ہے پریشاں چہرہ


یاد رکھتا ہوں صحابہ کی وہ سچی باتیں

پڑھتا رہتا ہوں مَیں مقصودؔ وہ قرآں چہرہ

اذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوں

اذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوں

نعت کے نور کو تنویر سے پہلے لکھ لوں


کیا خبر بعد ازاں آنکھ ُکھلے یا نہ ُکھلے

مَیں ترے خواب کو تعبیر سے پہلے لکھ لوں


حرف بنتے ہوئے کچھ دیر لگے گی شاید

مَیں ترے نام کو تحریر سے پہلے لکھ لوں


شانۂ نور پہ رہتا ہے ستاروں کا ہجوم

کیا تری زلف کو تفجیر سے پہلے لکھ لوں


اِس قدر آپ کی رحمت پہ یقیں ہے میرا

کہ معافی کو مَیں تقصیر سے پہلے لکھ لوں


اُن کی مرضی میں ہے مقصودؔ ُخدا کی مرضی

حرفِ تبشیر کو تنذیر سے پہلے لکھ لوں

لفظ خاموش ہے اور دیدہء حیرت چپ ہے

لفظ، خاموش ہے اور دیدۂ حیرت ُچپ ہے

مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت ُچپ ہے


سوچتا ہوں مَیں مدینے کا سفر کیسے کروں

دل دھڑکتا ہے مگر جانے کی ہمت ُچپ ہے


ایک تبریک کی صورت میں کہی، جب بھی کہی

ورنہ یہ نعت ہے اور ساری بلاغت ُچپ ہے


روبرو آپ کے پھر کون رکھے حرفِ نیاز

جذب و اظہار تو دیوار کی صورت ُچپ ہے


نطق ویسے تو محبت کی ہے تطبیق، مگر

چہرۂ مصحفِ زندہ کی تلاوت، ُچپ ہے


حیطۂ فہم سے آگے کا سفر ہے معراج

اور معراج سے آگے کی حقیقت ُچپ ہے


ایک پتھرائی ہوئی آنکھ ہو جیسے خاموش

مرے احساس کی مقصودؔ عقیدت ُچپ ہے

نور کے اوٹ کے مابعد زیارت ہو جائے

نور کی اوٹ کے مابعد زیارت ہو جائے

یا نبی خواب دریچے پہ عنایت ہو جائے


پورے الفاظ سے بنتی نہیں تصویرِ جمال

اذن ہو جائے تو لکنت مری مدحت ہو جائے


کاسۂ فہم میں رکھ دے کوئی ادراک کی بھیک

چاہتا ہوں کسی صورت تری صورت ہو جائے


قریۂ جاں میں ترے ُقرب کے موسم مہکیں

دید کے رنگ کھِلیں، یاد کی نکہت ہو جائے


ایک ہی لمحے پہ رُک جائے زمانوں کا سفر

ساعتِ دید ہی بس دیدۂ حیرت ہو جائے


پھر مدینے کے تصور نے کیا ہے بے خود

عرض ہے اے مرے محبوب، اجازت ہو جائے


دید کے خواب گھروندوں میں ہیں ُجگنو چمکے

وہ اگر چاہیں تو مقصودؔ حقیقت ہو جائے

حروفِ عجز برائے سلام حاضر ہیں

حروفِ عجز برائے سلام حاضر ہیں

مرے کریم یہ تیرے غلام حاضر ہیں


جو اذن یاب ہوئے ہیں اُنہیں مبارک ہو

ہم ایسے خواب گروں کے سلام حاضر ہیں


ترے حضور میں پیہم ہے ُقدسیوں کا نزول

جو صبح اذن نہ پائے وہ شام حاضر ہیں


یہ شہرِ پاک مدینہ ہے کوئی ُخلد نہیں

ترے حضور میں سب خاص و عام حاضر ہیں


عجیب پھیلی ہے اقصیٰ کے صحن میں خوشبو

تری جناب میں سارے امام حاضر ہیں


بدستِ شاہ دئیے جائیں گے غلاموں کو

رفیع مرتبے، اعلیٰ مقام حاضر ہیں


حضور آپ ہی رب کے حضور پیش کریں

مِرے قعود و سجود و قیام حاضر ہیں


قیامِ ناز کرم سے ذرا بعید نہیں

دل و نگہ کے یہ خستہ خیام حاضر ہیں


کرم کا طرفہ نظارہ ہے تیری چوکھٹ پر

غلام، جن میں ہے مقصودِؔ خام حاضر ہیں

کبھی سناؤنگا آقا کو اپنا بردہء دل

کبھی سُناؤں گا آقا کو اپنا بُردۂ دل

سجا کے رکھتا ہوں شب بھر مَیں اپنا غُرفۂ دل


ہوائے تند مرے پاس سے ُگزر جا ُتو

کسی کے دستِ اماں میں ہے میرا غنچۂ دل


مَیں جوڑ لوں ذرا اشکوں سے تیری نعت کے حرف

مَیں تھام لوں ذرا ہاتھوں میں اپنا خامۂ دل


مرے ُخدا مجھے لکھنی ہے تیرے نور کی نعت

مرے ُخدا کوئی مجھ پر اُتار صیغۂ دل


تری طلب میں ہی ڈھلتی ہے شام، ہوتی ہے صبح

شمار کرتا ہُوں مَیں بھی ہر ایک لمحۂ دل


اِسے مدینے کی آب و ہَوا میں رہنا ہے

یہ جانتا ہُوں مَیں پہلے سے اپنا قصۂ دل


حضور ُکچھ بھی مناسب نہیں لگا، تو مَیں

حضور، قدموں میں آیا ہوں لے کے ہدیۂ دل


تمھارے اسم کے مرہم سے جوڑ لیتا ہُوں

کہیں سے ُٹوٹنے لگتا ہے جب بھی شیشۂ دل


گدائے کوچۂ حیرت کو حرفِ مدح کی بھیک

جھکا ہوا ہے ترے در پہ میرا کاسۂ دل


بلاوا آنے میں تھوڑی سی دیر ہے مقصودؔ

بسا لوں پہلو میں چھوٹا سا اِک مدینۂ دل

دعا کے حرف میں بحرِ عطا میں رہتی ہے

دُعا کے حرف میں، بحرِ عطا میں رہتی ہے

کہ نعت زیست ہے دستِ ُخدا میں رہتی ہے


خْدا کرے مری لوحِ جبین میں چمکے

وہ زندگی جو ترے نقشِ پا میں رہتی ہے


لبوں کے کاسۂ عجز و نیاز میں رکھ دے

عطائے خاص جو حرفِ ثنا میں رہتی ہے


ہر ایک صبح ترے تذکرے سے روشن ہے

ہر ایک شب ترے خوابِ لقا میں رہتی ہے


عجیب ہے ترے شوقِ وصال کی نکہت

بکھر کے اور زیادہ فضا میں رہتی ہے


کوئی طلب نہیں رکھنی تری طلب کے سوا

یہ خوئے شوق ترے ہر گدا میں رہتی ہے


ترے خیال کے پہلو میں وہ علیؑ کی نماز

قضا کے بعد بھی وقتِ ادا میں رہتی ہے


گماں کے ہاتھ پہ رکھے ہوئے ہیں نعلِ پا

یہ روشنی ہے، کفِ نا رسا میں رہتی ہے


سفر کا مقصد و مقصودؔ بس مدینہ ہے

اسی سفر کی لگن ہر ادا میں رہتی ہے

حضور توبہ طلب ہوں سخن ہے لرزیدہ

حضور توبہ طلب ہوں، ُسخن ہے لرزیدہ

خطا سرشت کا پورا بدن ہے لرزیدہ


تمھارے آنے کی ساعت ہے بالیقیں آقا

سو قبر جھوم رہی ہے، کفن ہے لرزیدہ


یہ نعت عام سی صنفِ ُسخن نہیں، واللہ

قلم بہ دست مرا سارا فن ہے لرزیدہ


مَیں پہلی بار مدینے گیا تو ایسے لگا

کہ جیسے مِہر کی ہر اک کرن ہے لرزیدہ


حضور بارِ دگر اذنِ باریابی ہو

حضور عرض کناں ہوں جتن ہے لرزیدہ


عجیب محفلِ مدحت جمی ہے ُگلشن میں

سخن سرا ہیں عنادل، چمن ہے لرزیدہ


نواحِ طیبہ میں حالت عجیب ہے مقصودؔ

وجود سر بہ گریباں ہے، مَن ہے لرزیدہ

عیسوی سال کو جب پانچ سو ستر اترا

عیسوی سال کا جب پانچ سو ستّر اُترا

رات کے پچھلے پہر نور کا پیکر اُترا


میں اُسے ڈھونڈ رہا تھا کسی جانب، لیکن

وہ مری روح میں ڈھل کر مرے اندر اُترا


وہ عجب نام ہے جب بھی اسے جپنا چاہا

وہ محمدﷺ ہے مرے لب پہ مکرّر اُترا


کاسۂ دل میں تری یاد کی شبنم مہکی

اُفقِ دید پہ حیرت زدہ منظر اُترا


وہ مرا دستِ طلب تھا کہ جو تھک ہار گیا

یہ ترا دست عطا ہے کہ برابر اُترا


مَیں اُسے حیطۂ ادراک میں لاؤں کیسے

وہ ابھی زہن میں آیا تھا کہ دل پر اُترا


مَیں نے مقصودؔ تراشا تو تھا اک نعت محل

وہ مگر قریۂ احساس سے اوپر اُترا

نظر نظر میں رہا ہے نظر نظر سے فزوں

نظر نظر میں رہا ہے، نظر نظر سے فزوں

وہ تیرا روئے منور، علاجِ کربِ دروں


ترے جمال کے پہرے میں کائناتِ خیال

مَیں نعت کہنا تو چاہوں، کہوں تو کیسے کہوں


مَیں اضطرابِ مسلسل میں ہُوں مرے آقا

اُتار لمحۂ تسکیں بہ رنگِ حرفِ سکوں


جہانِ حرف و معانی کی سلطنت تیری

خیال و فکر کی دُنیائیں تیرے آگے نگوں


گرفتِ شوقِ سفر میں ہوں مَیں ُخدا کی قسم

تو حکم دے تو میں ٹھہروں، اشارہ دے تو چلوں


تمھارا اسم ہے آقا یا کوئی اسمِ طلسم

لبوں سے چوم نہ پاؤں، قلم سے لکھ نہ سکوں


عجیب صورتِ مبہم ہے عقل و دل کے بیچ

مدینہ سامنے آئے تو مَیں رہوں، نہ رہوں


مآلِ عرصۂ ہجراں غضب کا ہے مقصودؔ

جو لمحہ لمحہ جیوں مَیں تو سانس سانس مروں

کمالِ عجز سے ہے عجزِ باکمال سے ہے

کمالِ عجز سے ہے، عجزِ باکمال سے ہے

یہ نعت ہے، یہ عقیدت کے خدو خال سے ہے


مجھے بھی ناجی سفینہ میں رکھ مرے مولا

مری بھی نسبتِ نوکر انہی کی آل سے ہے


سخی پہ ہے وہ جسے، جیسے، جب، عطا کر دے

عطا کا واسطہ عرضی سے ہے نہ حال سے ہے


بہار کو ترے کوچے سے ہے وہی نسبت

جو رنگ و نکہتِ ُگل کو وجودِ ڈال سے ہے


عجیب طرح کی سرشاریوں میں ہوں آقا

گزارا جب سے ترے ریزۂ نوال سے ہے


مجھ ایسے فرد سے ممکن کہاں ثنا تیری

بس ایک عرض ہے جو صیغۂ نڈھال سے ہے


بتا مدینے گیا تھا تو کھو گیا تھا کہاں

سوال میرا بجا طور پر سوال سے ہے


ہے ان کی مدح خود ان کی عطا سے ہی ممکن

یہ جذبِ حال سے ممکن نہ حرفِ قال سے ہے


کرم کے بعد بھی قائم رہی نویدِ کرم

معاملہ مرا تجھ جیسے لاج پال سے ہے


ہوائیں لائی ہیں مقصودؔ ُمشکِ کوئے اِرَم

بلاوا آیا مجھے قریۂ جمال سے ہے

آنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کر

آنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کر

اے دلِ مضطر مدینے کا سفر تدبیر کر


نعت رنگوں کی خبر ہے اور خوشبو کا سفر

اِذن ہو جائے تو پھر ہر حرف کو تنویر کر


صبحِ نو خود پھوٹ آئے گی سخن کی اوٹ سے

شعر کے شب زاد میں مدحت کی اک تفجیر کر


آبگینہ ہے یہاں دھڑکن پہ بھی پہرے بٹھا

یہ مدینہ ہے یہاں سانسوں کو بھی زنجیر کر


ایک ہی ترتیب ہے یہ آنکھ کی بہتی لکیر

ایک ہی تصویر ہے اس دل کو دیکھیں چیر کر


آ کبھی خوابِ تسلی میرے دل پر ہاتھ رکھ

آ کبھی حسنِ مکمل مجھ کو بھی نخچیر کر


میرے بس میں تو نہیں ہے تجھ کو حرفوں کا خراج

میں تصور باندھتا ہوں تو اسے تصویر کر


کیا خبر مقصودؔ کب آ جائے وہ ناقہ سوار

دل کے یثرب میں مدینہ سا نگر تعمیر کر

وحشتِ قریہء دل میں کوئی طلعت ہو جائے

وحشتِ قریۂ دل میں کوئی طلعت ہو جائے

یا نبی خواب دریچے پہ عنایت ہو جائے


یہ کرم تھا کہ مدینے مری قسمت پہنچی

اب یہ حیرت ہو مدینہ مری قسمت ہو جائے


آج پھر مصحفِ مدحت سے نیا نور ملے

آج پھر چہرۂ قرآں کی تلاوت ہو جائے


ایک تدبیرِ مسلسل ہے مدینے کا سفر

اذن مل جائے تو تدبیر کو حیرت ہو جائے


اس کے ما بعد کوئی حرفِ عقیدت باندھوں

مطلعِ نعت اگر آیۂ رفعت ہو جائے


پورے احساس میں کھل اُٹھیں نئے خواب گلاب

موسمِ دل کو تری خاک سے نسبت ہو جائے


جادۂ شوق پہ رکھے ہوئے دل، سوچتا ہوں

ان کے نعلین کی موہوم زیارت ہو جائے


ساعتِ خواب کو رہتا ہے عجب شوقِ نیاز

خامہ و نطق سے پہلے تری مدحت ہو جائے


جیسے مقصودؔ سحر ہوتی ہے ہر شام کے بعد

کیا خبر خواب سفر پھر سے حقیقت ہو جائے

ہوگئے نطق کے پیرایہء اظہار تمام

ہو گئے ُنطق کے پیرایۂ اِظہار تمام

حد سے باہَر ہی رہے آپ کے انوار تمام


ساعتِ رؤیتِ اوّل ہی تھی ایمان نواز

خود ہی اقرار میں ڈھل جاتے تھے انکار تمام


آپ کی نعت ہے تدبیرِ شفائے ُکلی

آپ کے ذِکر سے کھِل اُٹھتے ہیں بیمار تمام


روشنی، رنگ، یہ نعتیں ، یہ درود اور سلام

آپ کے آنے کے ہوتے ہیں یہ آثار تمام


کِس قدر انظف و اطہر ہیں ترے اہلِ بیت

کِس قدر صادق و صابر ہیں ترے یار تمام


آپ کے اِذن پہ موقوف ہے طیبہ کا سفر

در ہی بن جائے گی تقدیر کی دیوار تمام


آمدِ سیّدِ کونین کا اعلان ہے ’’ ُکن‘‘

بہرِ ترحیب ہیں یہ ثابت و سیّار تمام


نور بر دوش ہے یہ سارا نظامِ فلکی

رنگ بردار ہیں یہ آپ سے ُگلزار تمام


سُن کے ُغفران کا مژدہ سَر دربارِ کرم

آ کے بیٹھے ہیں ترے در پہ گنہگار تمام


آپ کا درد ہی چھایا رہا تا حدِّ طلب

آنے کو آتے رہے ناصح و غمخوار تمام


جاں دمیدہ ہیں ترے نامِ کرم کے وارث

سر خمیدہ ہیں ترے سامنے سردار تمام


شامِ احساس کو چھو جائے تری یاد کا لمس

صبحِ توفیق کو ملتا رہے دیدار تمام


مزرعِ دل پہ ہے مقصودؔ بہاروں کا نزول

پھول بن بن کے کھِلے جاتے ہیں اشعار تمام

خامہء نور سے خیالِ نور

خامۂ نور سے خیالِ نور

نعت گویا ہے اِک کمالِ نور


پورا قرآن ہی تری سیرت

آیتیں ہیں تری خصالِ نور


مَیں اندھیروں سے دور ہوں ، واللہ

ساتھ رہتا ہے وہ مآلِ نور


روشنی کے سبھی حوالے ُحسن

تیری زُلفوں کی کب مثالِ نور


پھر تو ایسے نہیں ہوا ، جیسے

زُلف و رُخ میں تھا اتصالِ نور


بوسۂ نور سے لبوں کا ملاپ

میم سے متَّصِل وہ دالِ نور


حُسن آسا وہ پیکرِ نوری

نور پرور وہ خدّ و خالِ نور


ایک امید کا سحابِ کرم

تیرے شانوں پہ رکھی شالِ نور


مجلسِ نور میں تری گفتار

جھَڑ رہے تھے عجب مقالِ نور


پا رہے ہیں تمھارے در کی خیر

مِل رہا ہے ہمیں نوالِ نور


حسن و خوبی کا استعارہ ہے

تیرا شیریں ُگلو بلالِ نور


شبِ میلاد تھی شبِ زینت

سارا منظر ہوا نہالِ نور


شبِ معراج تھی شبِ حیرت

نور کا نور سے وصالِ نور


مَیں ہوں مقصودؔ روشنی کا نقیب

دل میں رکھتا ہوں حُبِّ آلِ نور

زیست کا لمحہء پر کیف ہے کعبے کا طواف

زیست کا لمحۂ ُپر کیف ہے کعبے کا طواف

حاصلِ عمرِ رواں ہے ترے کو چے کا طواف


جسم کو تھام کے لے آیا ہُوں واپس، لیکن

دل کو کرنا تھا ابھی تیرے مدینے کا طواف


سب زمانوں کی بہاروں پہ ہے واجب واللہ

دشتِ طیبہ کے مہکتے ہوئے کانٹے کا طواف


رات تو بِیت گئی دید کے انعام کے ساتھ

صبح پھر کرتی رہی ایک ہی لمحے کا طواف


یہ تری نعت کا فیضانِ عطا ہے واللہ

شعر خود کرتے ہیں ہر صیغہ و لہجے کا طواف


پڑھتا رہتا ہوں دُعاؤں میں درود اور سلام

لب پہ رہتا ہے اِسی ایک وظیفے کا طواف


جان و دل، ہوش و خرد سب تھے برابر رقصاں

کیا عجب کیف میں مقصودؔ تھا جذبے کا طواف

میں کم طلب ہوں پہ شانِ عطا تو کم نہیں ہے

مَیں کم طلب ہوں پہ شانِ عطا تو کم نہیں ہے

حضور آپ کے ہوتے ذرا بھی غم نہیں ہے


وہ جاں نہیں جِسے حاصل نہیں خرام ترا

وہ دِل نہیں جو تری بارگہ میں خَم نہیں ہے


جو تیری مدح نہ کرتی ہو وہ زباں کیسی

جو تیری نعت نہ لکھتا ہو وہ قلم نہیں ہے


بقیع و روضہ پہ موقوف کیوں کہ شہرِ نبی

تمام رشکِ اِرَم ہے فقط اِرَم نہیں ہے


جوارِ گنبدِ خضریٰ کبوتروں کا ہجوم

کچھ اِس طرح کا تو منظر کہیں بہم نہیں ہے


ہے کون ایسا کہ محتاج جو نہیں تیرا

ہے کون ایسا کہ جس پر ترا کرم نہیں ہے


اُس ایک اِسم کی تسبیحِ دم بدم ہے حیات

اُس ایک اِسم کے مابعد کچھ رقم نہیں ہے


اُس ایک در کا بنائے رکھا مجھے مقصودؔ

غلام زادے کی نسبت میں کوئی خَم نہیں ہے

امکان جس قدر میرے صبح و مسا میں ہے

امکان جس قدر مرے صبح و مسا میں ہیں

شکرِ خدا کہ سارے حریمِ ثنا میں ہیں


خود رفتگی کی صورتِ حیرت ہے چار سُو

منظر نظر نواز ترے نقشِ پا میں ہیں


شاید کہ تھام لائی ہے خاکِ کرم کا لمس

احساس ہُوبہُو وہی بادِ صبا میں ہیں


اِک رتجگے کے روگ میں ڈھلتی رہی حیات

تسکیں کے سلسلے ترے خوابِ لقا میں ہیں


حرفِ نیاز و عجز پہ ُکچھ ناز ہے مجھے

اِذنِ کرم میں ہیں، ترے دستِ عطا میں ہیں


حسنِ کرشمہ ساز کے اظہار دم بہ دم

صحنِ بقا میں ہیں، کبھی دشتِ فنا میں ہیں


مقصودؔ آؤ اُس درِ رحمت پہ جا رہیں

سب چشمہ ہائے خیر ہی جس کی رضا میں ہیں

ہم سزاوار ایسے کب ہوئے ہیں

ہم سزاوار ایسے کب ہوئے ہیں

تیرے الطاف بے سبب ہوئے ہیں


ورنہ ہوتے کہاں گناہ معاف

اُن کی مرضی ہوئی ہے تب ہوئے ہیں


اُن کی بخشش رہی مدام بہ فیض

ہم سوالی ہی کم طلب ہوئے ہیں


رفتگاں، بے نشاں حقیقت تھے

ترے ہونے سے جیسے سب ہوئے ہیں


اِک ہوائے غضب میں اُڑ جاتے

بچ رہے ہم کہ با ادب ہوئے ہیں


بے بسی تیری مدح کیا کہتی

تذکرے یوں تو روز و شب ہُوئے ہیں


پھر سے اِک مژدۂ سفر آقا

حوصلے پھر سے جاں بہ لب ہوئے ہیں


اُن کی گلیوں میں گھومنے کی طلب

ہم بھی مقصودؔ کچھ عجب ہوئے ہیں

حصارِ خیر میں رکھی رہیں صدائیں سب

حصارِ خیر میں رکھی رہیں صدائیں سب

عطائیں ساتھ اُڑا لے گئیں دُعائیں سب


بس ایک حرفِ شفاعت کی دیر تھی واللہ

یہیں دھرے کی دھری رہ گئیں خطائیں سب


مَیں چوم لیتا ہوں ُمشکل ُکشا کا اِسمِ علی

وہ ٹال دیتے ہیں جتنی بھی ہوں بلائیں سب


وفورِ شوق میں رقصاں ہے تیرے اِسم کا نور

وجودِ ُحسن میں تاباں تری ادائیں سب


ورائے ُنور رواں تھا وہ پیکرِ خاکی

سو رہگذار میں بکھری تھیں کہکشائیں سب


وہ تیرا نکتۂ آغازِ دید تھا کہ جہاں

وِداع کے پاؤں سے لپٹی تھیں انتہائیں سب


حضوؐر آپ کا در ہے تو کیوں نہ پائیں خیر

حضوؐر آپ کا گھر ہے تو کیوں نہ کھائیں سب


بس ایک لمحے کو سُورج نے آنکھ جھپکی تھی

کہ زُلفِ نور سے وارد ہوئیں ضیائیں سب


بلاوا آنے کا پھر سے ہے عندیہ مقصودؔ

کہ آ رہی ہیں مدینے سے ہی ہوائیں سب

ردائے شوق میں مدحت کے تار بن مرے دل

ردائے شوق میں مدحت کے تار ُبن، مرے دل

گدائے شہرِ سخن ہوں، مری بھی سُن، مرے دل


حروفِ عجز کو کیفِ کرم کے جام پلا

رہے سوار ہمیشہ ثنا کی دُھن، مرے دل


یہ شوق ہیں انہیں ان کی گلی کا موسم دے

یہ شعر ہیں انہیں پلکوں سے جا کے ُچن، مرے دل


تو ایک عضوِ معطل ہے اور وہ مختار

سو نعت ہوتی ہے کہتے ہیں جب وہ ُکن، مرے دل


عطا ہوا ہے مجھے مدحِ مصطفی کا ہنر

نہیں ہے اس کے سوا کوئی مجھ میں ُگن مرے دل


بہت ضروری ہے پھر سے ہو نعت کی تدبیر

شعور کو کہیں لگ ہی نہ جائے ُگھن، مرے دل


ترا نصیب درخشاں ہے دونوں عالم میں

ملا ہے عشقِ رسالت کا تجھ کو ہُن مرے دل


انہیں سے ملتی ہے ہر اک دوائے دردِ نہاں

بہ سوئے شاہ نظر کن و غم ُمکن، مرے دل


وہی مقام ہے تیرا بدن کے قریہ میں

ہے ’’اُن سے عشق‘‘ میں جیسا مقامِ اُن، مرے دل


انہی کا رہتا ہوں جن سے ہے زیست کی تعبیر

انہی کا کھاتا ہوں گاتا ہوں جن کے ُگن مرے دل


مدینہ منزلِ مقصودِؔ شوق ہے واللہ

سو اپنے دیپ جلا، اپنے خواب ُبن، مرے دل

زیست گھبرائی ہے شرمائی ہے لہرائی ہے

زیست گھبرائی ہے، شرمائی ہے، لہرائی ہے

کوئی پیغام مدینے سے صبا لائی ہے


دل کی حالت ہے کہ اب ضبط میں رہنے سے رہا

روح بھی جسم کے آنگن میں نکل آئی ہے


روشنی حدِ نظر پھیل گئی ہے دِل میں

حیطۂ شوق میں وہ زُلف جو لہرائی ہے


ایک پیرائے میں بیتی ہے مری عمر تمام

دل فقط مدحِ محمدﷺ کا تمنائی ہے


عشق کے دل میں ترے اسم کی پیہم تاثیر

حسن کی آنکھ کا معبد تری زیبائی ہے


خَلق کی نعت تو بس حیلہ ہے، اک چاہت ہے

تیرے شایاں تو فقط حق نے ہی فرمائی ہے


ایک ہی اپنا وظیفہ ہے درود اور سلام

ایک ہی رمز ہے مرشِد نے جو بتلائی ہے


عقل محدود ہے اور عشق کی حد ہے واللہ

بخدا دونوں سے آگے تری پہنائی ہے


تو ہے اور سانسوں سے مربوط ہے مدحت تیری

یہ ہی شنوائی ہے، گویائی ہے، بینائی ہے


زندگی ویسے تو ہے عجزِ مکمل مقصودؔ

ہو کے طیبہ سے جو آئی ہے تو اِترائی ہے

حسرتِ دیدہء نم قلبِ تپاں سے آگے

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے

مدحتِ سیدِ عالَم ہے ُگماں سے آگے


وقت کے تیز بدلتے ہُوئے منظَر بے ُخود

آپ ہی قبلِ عیاں، آپ نہاں سے آگے


خامہ و نطق سے ممکن نہیں مدحت تیری

ہو عطا نعت کوئی حرف و بیاں سے آگے


گرچہ ماں باپ سے، بچوں سے محبت ہے مجھے

بخدا آپ مگر سارے جہاں سے آگے


وہ ترا ’’قرنی‘‘ لقب عصرِ ہمایوں آقا

تری نسبت سے ہُوا عہد و زماں سے آگے


ویسے تو جتنے ہیں منظر، ہیں اُنہیں کے منظر

شبِ معراج تھے وہ حدِ نشاں سے آگے


وہ کہ مقصودِؔ دو عالَم ہیں بِلا شک و شبہ

اُن کی تطبیق عبث، کس سے، کہاں سے آگے

زمیں کا گوشہء حیرت ہے یارسول اللہ

زمیں کا گوشۂ حیرت ہے، یارسول اللہ

مدینہ سارا ہی جنت ہے، یا رسول اللہ


مزاجِ صبح، ترے اسمِ نور کا مظہر

سرشتِ شب تری مدحت ہے، یارسول اللہ


کمالِ حرف و معانی سے تو نہیں ممکن

کہ نعت کہنا تو قسمت ہے، یارسول اللہ


مجھے بھی مانگتے رہنے کی آرزو ہے بہت

تجھے بھی دینے کی قدرت ہے، یارسول اللہ


تمھاری زلف کی تعبیرِ حرف کیسے ہو

یہ رنگ ہے، کبھی نکہت ہے، یارسول اللہ


جہاں پہ میں نے گناہوں کی پوٹلی رکھ دی

وہیں پہ تیری شفاعت ہے، یا رسول اللہ


عطا عطا کہ شکستہ دلی نے گھیر لیا

کرم کرم کہ خجالت ہے، یارسول اللہ


زمانے بھر میں زمانے کے سارے پالن ہار

کوئی نہیں، تری عترت ہے، یارسول اللہ


جہانِ علم و ہنر میں مجھ ایسا مدح سرا

ترے کرم کی بدولت ہے، یارسول اللہ


وگرنہ جذبوں کی مشقِ سخن ہے سب مقصودؔ

قبول کر لیں تو مدحت ہے، یارسول اللہ

چشمہء جودوسخاوت ہیں ترے گیسوۓ نور

چشمۂ جود و سخاوت ہیں ترے گیسوئے نور

قاسمِ نکہت و رنگت ہیں ترے گیسوئے نور


شانۂ نور پہ وہ چہرۂ انور کے قریں

خَم بہ خَم گوشۂ حیرت ہیں ترے گیسوئے نور


رنگ میں جیسے کوئی رنگوں کا بازار ُکھلے

حسن میں حدِّ نہایت ہیں ترے گیسوئے نور


تہہ بہ تہہ، معنیٰ بہ معنیٰ ہے کرشمہ سازی

مصدرِ عِلمِ بلاغت ہیں ترے گیسوئے نور


عکس پرور ہیں خد و خالِ کرم سے پیہم

رشکِ صد رنگِ صباحت ہیں ترے گیسوئے نور


حیطۂ فکر پہ ہے نور کے دھاروں کا نزول

نعت کا مصرعۂ طلعت ہیں ترے گیسوئے نور


پیکرِ ُحسن تو ہے ُنور اُجالوں کا امیں

اوجِ رنگت میں ملاحت ہیں ترے گیسوئے نور


اُن کو لکھے بھی تو مقصودؔ کہاں تک لکھے

مظہرِ نزہت و نْدرت ہیں ترے گیسوئے نور

تمازتوں میں کرم کی ٹھنڈی پھوار بطحا

تمازتوں میں کرم کی ٹھنڈی پھوار بطحا

اُجاڑ بنجر زمیں پہ فصلِ بہار بطحا


ہر ایک منظر ہی اُس کے منظرکا عکسِ تاباں

ہر ایک منظر کو دے رہا ہے نکھار بطحا


بہت ہی دلکش، نجوم جیسے ہیں سنگ تیرے

بہت ہی نازک مزاج ہیں تیرے خار بطحا


عجب نہیں ہے کہ تیری جانب کھچے چلے ہیں

کہ بے قراروں کی ُتو ہے جائے قرار بطحا


ستم رسیدہ زمیں کی چھاتی کا تنہا وارث

فریب خوردہ جہاں کا ہے اعتبار بطحا


جدھر کو دیکھیں اُدھر کو ہی بھیڑ سی لگی ہے

کہ تیرے مہماں ہیں بے عدد بے شمار بطحا


وہ جِس نے یثرب تجھے مدینہ بنا دیا ہے

وہ یاد ہے نا عظیم ناقہ سوار بطحا


مجھے بھی مقصودؔ اک بلاوا عطا ہوا ہے

یقیں تھا میری ُسنے گا آخر پکار بطحا

دعاؤں اور عطاؤں میں رابطہ تو ہے

دعاؤں اور عطاؤں میں رابطہ ُتو ہے

خدا و بندے کے مابین واسطہ ُتو ہے


خیال و فکر میں حرفِ نمود تیرا وجود

جہانِ فہم و فراست کا ضابطہ ُتو ہے


دراز شب میں نویدِ سحر تری مِدحت

خزاں رُتوں میں گلابوں کا تذکرہ ُتو ہے


عرُوسِ عصر کے چہرے پہ تیرے اسم کا نور

نگارِ وقت کی زُلفوں کا سلسلہ ُتو ہے


بِکھر ُچکے تھے سبھی دشتِ دہر میں نغمے

جو تھا، جو ہے، جو رہے گا وہ زمزمہ ُتو ہے


خیالِ رفتہ کی صورت تھی یہ حیات و ممات

کِتابِ زیست کا تابندہ واقعہ ُتو ہے


جہانِ فکر میں مقصودؔ کے نہ تھا ُکچھ بھی

اُتر چلا ہے جو نعتوں کا قافلہ ُتو ہے

خیمہء دل میں کھلے قریہء جاں میں چمکے

خیمۂ دل میں کھِلے، قریۂ جاں میں چمکے

آپ کا نام نہاں اور عیاں میں چمکے


مَیں اُسے اپنے ہی اک خواب گھروندے میں رکھوں

یہ الگ بات کہ وہ پورے جہاں میں چمکے


سب اُسی نور سے لیتے ہیں کرن کی خیرات

وہ بشر زاد تو ہر نور نشاں میں چمکے


پورے احساس میں جَل اُٹھیں عقیدت کے چراغ

کاش وہ میرے کسی شعر و بیاں میں چمکے


دل دریچے سے اُسے جھانکنے لگ جائے یقیں

وہ ذرا سا بھی اگر صحنِ گماں میں چمکے


اُس کی مرضی پہ ہے موقوف جہانِ طلعت

اُس کی مرضی ہے وہ جس دور، زماں میں چمکے


بوئے نایاب مری زیست میں ُگھل مِل جائے

وہ ُگلابوں کا امیں میری خزاں میں چمکے


کیا عجب نام ہے مقصودؔ وہ نامِ احمدﷺ

دل میں وہ رنگ بھرے اور زباں میں چمکے

چشمِ الطاف و عنایاتِ مکرر میں ہے

چشمِ الطاف و عنایاتِ مکرر میں ہے

مجھ سا بے مایہ بھی اُس شہرِ تونگر میں ہے


ایک تسکین سی رہتی ہے پسِ حرفِ طلب

اُس سے مانگا ہے تو اب اپنے مقدر میں ہے


عشق کا سارا وظیفہ ہے تری دید کا شوق

حسن کا سارا کرشمہ ترے پیکر میں ہے


نطق کے طاق میں رکھا ہے ترا اسم چراغ

اور کرنوں کا تواتر ہے کہ منظر میں ہے


فردِ عصیاں ہے، مدینہ ہے اور اک توبہ نصیب

شکر ہے فیصلہ خود دستِ پیمبر میں ہے


خواب کے ُٹوٹتے لمحے کی قسم ہے مقصودؔ

خواب کا منظرِ دلکش دلِ مُضطَر میں ہے

نعتِ تام کا فرمانِ مکمل واللہ

نعمتِ تام کا فرمانِ مکمل، واللہ

آپ کا آنا ہے احسانِ مکمل، واللہ


صورتِ زیبا ہے آیات کا ُحسنِ تلمیح

سیرتِ ُنور ہے ُقرآنِ مکمل، واللہ


آپ کے دامنِ رحمت سے ہے وابستگی فوز

ورنہ تو زیست ہے ُخسرانِ مکمل، واللہ


اس لئے خمسہ میں شامل نہیں رکھا اس کو

حُبِّ سرکار ہے ایمانِ مکمل، واللہ


انبیاء عشق و محبت کا صحیفہ لیکن

آپ ہیں اس کا بھی عنوانِ مکمل، واللہ


جادۂ عمر پہ مرقوم ہے حرفِ مدحت

بس یہی ہے مرا سامانِ مکمل، واللہ


تجھ سے ماقبل کی ما بعد کی ساری خلقت

پا رہی ہے ترا فیضانِ مکمل، واللہ


آپ ہیں رُتبۂ محمود پہ فائز آقا

آپ کو زیبا ہے ُغفرانِ مکمل، واللہ


آپ ہیں ، ساتھ ہیں زہراؓ و علیؓ و حسنینؓ

آپ کا گھر ہے ُگلستانِ مکمل، واللہ


دشتِ بطحا میں ہے مقصوؔد گلوں سے نسبت

خارِ بطحا بھی مری جانِ مکمل واللہ

سہم جاتا ہے تصور سے مگر چاہتا ہے

سہم جاتا ہے تصور سے، مگر چاہتا ہے

دل ترے شہرِ مدینہ کا سفر چاہتا ہے


ایک موہوم سی خواہش پہ ہے موقوف، مگر

ایک زائر تری دہلیز پہ سَر چاہتا ہے


ساعتِ دید سے مربوط ہیں سانسیں آقا

لمحۂ عمرِ رواں پھر سے نظر چاہتا ہے


خامۂ عجز سے ہوتی نہیں مدحت تیری

شوق بیتاب ہے، جبریل کا پَر چاہتا ہے


اُسی صحرائے مدینہ سے ہے نسلوں کا نصیب

طائرِ جاں اُسی ماحول میں گھر چاہتا ہے


وجہِ تسکین تو ثابت ہے، مگر جاتے ہوئے

جانے والا ترے آنے کی خبر چاہتا ہے


درِ ُبوصیری و حسّان پہ دستک مقصودؔ

اُس کی مدحت کا تو ہر حرف ُگہر چاہتا ہے

روح بیتاب ہے اور دل ہے شکستہ آقا

روح بیتاب ہے اور دل ہے شکستہ آقا

اذن مِل جائے تو جا دیکھوں مدینہ آقا


زندگی قریۂ بے نام میں کھو ہی جاتی

آپ نے نام دیا، آپ نے تھاما آقا


ضبط کرنے کو تو کچھ دیر یہ سنبھلا تھا، مگر

اِذن ملتے ہی یہ دل خوب ہے دھڑکا آقا


سب زمانوں سے ترا نور زمانہ اولیٰ

سارے رستوں سے درخشاں ترا رستا آقا


حیطۂ ُحسن میں ہیں باقی وظیفے خاموش

دل پکارے ہی چلا جاتا ہے آقا آقا


چہرۂ کارگۂ ُحسن کی تابش واللہ

آپ کے ُحسنِ مکمل کا ہے صدقہ آقا


صورتِ حیرتِ پیہم پہ ہے موقوف جہاں

حاصلِ صیغۂ ُکن ہے ترا آنا آقا


شعر کے مصرعۂ ثانی پہ ہُوئی نعت تمام

اِذن ہوتا تو مَیں کچھ اور بھی لکھتا آقا

دھوپ بڑھتی ہے تو بڑھ آتا ہے رحمت کا شجر

دُھوپ بڑھتی ہے تو بڑھ آتا ہے رحمت کا شجر

سائے میں رکھتا ہے مجھ کو تری نسبت کا شجر


روز اک تازہ حلاوت کا مزہ دیتا ہے

دل کے آنگن میں ثمر بار ہے مدحت کا شجر


باقی سب غنچہ و ُگل شوخ و طرب ہیں، لیکن

گلشنِ حرف کی زینت ہے محبت کا شجر


اُن کی زلفوں کا ثنا گر ہوں تو یہ مان بھی ہے

حشر میں سایہ فگن ہوگا شفاعت کا شجر


لوحِ دل پر میں تجھے نظم کروں کس ڈھب سے

لوحِ ادراک پہ مرقوم ہے حیرت کا شجر


خَلق کو آج بھی رکھتا ہے اماں میں اپنی

سبز و شاداب و تناور تری عترت کا شجر


نسل در نسل غلامی کا شرف ہے حاصل

میری نسبت میں ہے مقصودؔ عقیدت کا شجر

وقت تھا اپنے ماہ و سال میں گم

وقت تھا اپنے ماہ و سال میں ُگم

دل مگر تھا ترے خیال میں ُگم


مجھ پہ پیہم عنایتیں کر دیں

اور مَیں تھا ابھی سوال میں ُگم


رنگ، خوشبو، دھنک، صبا، جگنو

سب کے سب ہیں ترے جمال میں ُگم


جو ترے نام کے ثنا گر ہیں

وہ نہیں ہیں کسی ملال میں ُگم


کیا کمالِ سخن کروں ترے نام

وہ تو خود ہے ترے کمال میں ُگم


لب رہے میم سے سدا مربوط

دل رہا حرفِ نور دال میں ُگم


تو یتیموں کا پالنے والا

سارے بے کس ترے نوال میں ُگم


تیری اولاد کربلا میں تھی

سارا منظر تھا تیری آل میں ُگم


عشق، دریوزہ گر ترے در کا

حسن بھی تیرے خَدّ و خال میں ُگم


کیسے تمثیل لاؤں مَیں مقصودؔ

سب مثالیں ہیں بے مثال میں ُگم

یہ جو شانوں پہ دھری زلفِ دوتا ہے آقا

یہ جو شانوں پہ دھری زلفِ دو تا ہے آقا

یہ بھی اک سلسلۂ جود و عطا ہے آقا


آپ کے گنبدِ خضریٰ کے جلو میں پیہم

یہ جو اک نور کا ہالہ ہے، یہ کیا ہے آقا


آپ آ جائیں تو اس دل کو قرار آ جائے

ورنہ یہ دل تو بکھر جانے لگا ہے آقا


سوچتا ہوں وہ شب و روز بھی کیسے ہوں گے

جن کو ہونے کا ترے لمس ملا ہے آقا


ایک امرت سا اتر آیا ہے جسم و جاں میں

جب مؤذن نے ترا نام لیا ہے آقا


اب اجازت ہو تو یہ جسم بھی تدبیر کرے

دل تو پہلے ہی مدینے کو گیا ہے آقا


مجھ کو محسوس ہوا ہے کہ مری سن لی گئی

میں نے جب ہولے سے اک بار کہا ہے ،آقا


مجھ کو مقصودؔ مقدر مرا سرشار کرے

وہ جو محبوبِ خدا ہے وہ مرا ہے آقا

اک شہرِ دلنواز و دلآرا مدینہ پاک

اک شہرِ دلنواز و دلآرا مدینہ پاک

ہم بے کسوں کا پاک سہارا مدینہ پاک


آنکھیں تو جیسے گنبدِ خضریٰ پہ رُک گئیں

دل میں ہے جا گزیں مرے، سارا مدینہ پاک


دنیا ہے دشت اور مدینہ شجر شجر

دنیا ہے بحر اور کنارا مدینہ پاک


اے جانے والے سیدِ عالم کے شہر میں

لیتے چلو مجھے بھی خدارا مدینہ پاک


عصرِ شبِ سیاہ میں کرنوں کا پاسباں

ظلمت کدے میں ُنور کا دھارا مدینہ پاک


مجھ ایسے بے اماں کی ہے جائے اماں وہی

مجھ ایسے بے نوا کا ہے چارا مدینہ پاک


مقصودؔ حرف و صوت سے تعبیرِ جاں محال

اور مجھ کو میری جاں سے ہے پیارا مدینہ پاک

بخت لگتا ہے کہ یاور ابھی ہونے لگا ہے

بخت لگتا ہے کہ یاور ابھی ہونے لگا ہے

روبرو نور کا پیکر ابھی ہونے لگا ہے


میں بھی تو شہرِ کرم بار کے رستے میں ہوں

سنگریزہ تھا تو گوہر ابھی ہونے لگا ہے


وہ جو اک تاج سرِ عجز ہے نعلینِ کرم

دیکھنا نازشِ اختر ابھی ہونے لگا ہے


میرے بیٹے کو بھی اب نعت کی تلقین کریں

وہ مرے قد کے برابر ابھی ہونے لگا ہے


اُن کی زلفوں میں چمکتا ہوا نوری قطرہ

شیشۂ دل پہ سمندر ابھی ہونے لگا ہے


میرے گھر آنے لگے ہیں یہ پیامی جھونکے

میرا گھر بار معطر ابھی ہونے لگا ہے


دل کہ بیمار تھا، پژمردہ تھا ، افسردہ تھا

آپ کی یاد سے بہتر ابھی ہونے لگا ہے


ذرا سوچاہی تھا مقصودؔ کہ اک نعت لکھوں

خامۂ شوق منور ابھی ہونے لگا ہے

گل و گلاب عنادل کی نغمگی تجھ سے

گل و ُگلاب، عنادل کی نغمگی تجھ سے

بہارِ تازہ کے پہلو میں زندگی تجھ سے


جہانِ ُحسن کو ملتی ہے تیرے اسم سے خیر

وجودِ عشق نے پائی ہے تازگی تجھ سے


عروسِ شب کے سرہانے ترے کرم کا غلاف

نگارِ صبح کے دامن میں روشنی تجھ سے


مجال شاہوں کی، اُس سے کریں شہی کی بات

ترے فقیر کو حاصل ہے خواجگی تجھ سے


حوالے تیرے ہوں تجھ سے رکھوں گا ربطِ نیاز

مَیں بندہ تیرا ہوں سیکھوں گا بندگی تجھ سے


نئے زمانوں کو چاہت ہے اور حاجت ہے

مرے کریم کہ سیکھیں وہ سادگی تجھ سے


غلام زادہ ہوں، زیبِ ُگلو رہے مقصودؔ

وہ طوق، جس کو ملی شانِ سروری تجھ سے

کریم اپنی ہی خاکِ عطا پہ رہنے دے

(مدینہ طیبہ سے)

کریم اپنی ہی خاکِ عطا پہ رہنے دے

زمیں سے آیا ہوا ہوں سما پہ رہنے دے


بکھر نہ جاؤں کہیں برگِ بے شجر کی طرح

کریم، شاخِ کرم کی وفا پہ رہنے دے


بہت ہی تیز ہواؤں نے گھیر رکھا ہے

کریم ، ہاتھ مرے دل دِیا پہ رہنے دے


خطائیں لایا ہوں نعتوں کی طشت میں رکھ کر

یہ ایک پردہ مری ہر خطا پہ رہنے دے


عجیب طرح کی سرشاریوں میں ہوں آقا

جبینِ شوق ذرا نقشِ پا پہ رہنے دے


کریم بھی ہے وہ قہّار بھی ہے اور جبّار

سلامِ خیر کا سایہ دُعا پہ رہنے دے


اُدھیڑ ڈالے گا مجھ کو یہ ہجر کا خدشہ

گلابِ وصل کو شاخِ لقا پہ رہنے دے


اُسی کے دامنِ رحمت کو تھام لے مقصودؔ

خدا کی مرضی حبیبِ ُخدا پہ رہنے دے

میں مدینے میں ہوں اور میرا گماں مجھ میں ہے

(مدینہ شریف میں لکھی گئی ایک نعت)


مَیں مدینے میں ہُوں اور میرا گماں مجھ میں ہے

ایک لمحے کو لگا سارا جہاں مجھ میں ہے


پورا منظر ہے کسی اور تناظر میں رواں

وہ جو تھا پہلے نہاں اب وہ عیاں مجھ میں ہے


سامنے ُگنبدِ خضریٰ کے کھڑے سوچتا ہُوں

آسماں زاد کوئی خواب رواں مجھ میں ہے


حرف کے چہرۂ ادراک پہ آنکھیں بن کر

کوئی آواز پسِ صوتِ نہاں مجھ میں ہے


وقت کی موج میں صدیوں سے ہیں نبضیں ساکت

مَیں نہیں ہوں پہ کوئی رفتہ زماں مجھ میں ہے


جیسے اِک نور نے رکھا ہے مجھے غور طلب

جیسے خوشبو میں بسا شوخ سماں مجھ میں ہے


مجھ کو قدمین میں مقصودِؔ جہاں رکھ لیجے

حوصلہ لوٹ کے جانے کا کہاں مجھ میں ہے

یہ تیری نعت کا منظر کہاں کہاں چمکا

یہ تیری نعت کا منظر کہاں کہاں چمکا

ترا کرم، مرے حرفوں کے درمیاں چمکا


یہ تیرا حرفِ ترنم کہ رتجگے مہکے

یہ تیرا اذنِ تکلّم کہ بے زباں چمکا


سنبھال رکھا تھا دل کو بہ طرزِ طوقِ جتن

اشارہ ملتے ہی یہ تو کشاں کشاں چمکا


وہ آفتابِ نبوت، وہ وجۂ کون و مکاں

حرا کی کوکھ سے اُبھرا تو ُکل جہاں چمکا


لبوں نے بوسے کے منظر میں پھرسنبھال لیا

وہ اسمِ پاک جو لفظوں کے درمیاں چمکا


عجیب لمحۂ معراج تھا ، ورائے گماں

عجیب شب تھی کہ سورج پسِ نہاں چمکا


تمھاری خَلق تھی آغازِ خلقِ نور و وجود

تمھارے نور کے مابعد خاکداں چمکا


وہ میرے حرفوں میں آنے سے بیشتر مقصودؔ

یقیں کے نور میں مہکا، پسِ گماں چمکا

التزامِ کیف خوش کن، اہتمامِ رنگ و نور

التزامِ کیفِ خوش کن، اہتمامِ رنگ و نور

ماہِ میلاد النبی ہے صبح و شامِ رنگ و نور


نور کی آمد کے ہیں تذکار بحرِ نور میں

شعر و مصرع، حرف و لہجہ سب کلامِ رنگ و نور


آسماں سے چل پڑے ہیں نوریوں کے قافلے

قدسیوں کے لب پہ جاری ہے سلامِ رنگ و نور


اِس زمیں پر اور ہی رنگینیٔ ترحیب ہے

نکہتوں نے گاڑ رکھے ہیں خیامِ رنگ و نور


چادرِ تنویر میں لپٹی ہوئی ہیں ساعتیں

وقت بھی خوش ہو رہا ہے پی کے جامِ رنگ و نور


نور بھی تو رنگ ہے اور رنگ بھی گویا ہے نور

آج تو کچھ اور ہی ہے یہ خرامِ رنگ و نور


آمنہؓ کے پاک گھر میں چاند سورج کا ورود

کیا عجب ہونے لگا ہے انتظامِ رنگ و نور


جشن کے جھنڈے گڑے ہیں کعبہ و فاران پر

پھینک رکھے ہیں فضاؤں نے بھی دامِ رنگ و نور


منہ چھپاتی پھر رہی ہیں جوفِ شر میں ظلمتیں

نور اپنے ساتھ لایا ہے پیامِ رنگ و نور


طلعتوں میں ڈھلنے والا ہے نظامِ شور و شَر

ظلمتوں کی تاک میں ہیں اب سہامِ رنگ و نور


گونج ہے مقصودؔ چاروں سمت صوتِ خیر کی

ہر طرف ہونے لگا ہے التزامِ رنگ و نور

وہ میری نعت میں ہے میری کائنات میں ہے

وہ میری نعت میں ہے، میری کائنات میں ہے

حیات محوِ سفر اُس کے التفات میں ہے


بس ایک لمحے کو سوچا تھا اُس کا اسمِ کریم

وہ روشنی ہے کہ تا حدِ ممکنات میں ہے


اِسے مدینے کی آب و ہَوا میں لوٹا دے

سخی یہ طائرِ جاں سخت مشکلات میں ہے


جو تیری مدح کی دہلیز جا کے ُچھو آئے

کمال ایسا کہاں میری لفظیات میں ہے


پھر اِس کے بعد کسی اور سمت دیکھا نہیں

نگہ تو دید کی حیرت گۂ ثبات میں ہے


دُعا کے لفظ بناتا ہوں، ُبھول جاتا ہُوں

قسم خدا کی دُعا بھی تو تیری نعت میں ہے


ہے کس قدر ترے شہرِ عطا سے نسبتِ شوق

حیات خود ہی وہاں خواہشِ ممات میں ہے


اُنہیں کی مدحتِ رحمت کا فیض ہے مقصودؔ

یہ تازگی جو تری حرف حرف بات میں ہے

محورِ دوسرا پہ قائم ہے

محورِ دو سرا پہ قائم ہے

زیست ان کی رضا پہ قائم ہے


نظمِ ُنطق و نظامِ حرف و ہنر

تیری مدح و ثنا پہ قائم ہے


نیلگوں آسمان کی رفعت

آپ کے نقشِ پا پہ قائم ہے


موجۂ خندۂ گلِ خوش رنگ

تیرے لطف و عطا پہ قائم ہے


یہ نظامِ جہانِ عفو و کرم

آپ ہی کی رضا پہ قائم ہے


سب کو دیتا ہے وہ طفیلِ نبی

یہ عقیدہ ُخدا پہ قائم ہے


کارگاۂ حیات میں مقصودؔ

سارا منظر عطا پہ قائم ہے

شایانِ شان کچھ نہیں نعتوں کے درمیاں

شایانِ شان کچھ نہیں نعتوں کے درمیاں

اِک بے بسی سی ہے مرے حرفوں کے درمیاں


لکھنے لگا ہُوں بوند سمندر کے سامنے

سہما ہُوا ہے شعر بھی بحروں کے درمیاں


جلوہ فگن حضور، صحابہ کے بیچ میں

ہے ماہتاب جیسے ستاروں کے درمیاں


خالص معاملہ یہ حبیب و محب کا ہے

غلطاں ہے سوچ کیوں بھلا ہندسوں کے درمیاں


ساری متاعِ شعر و سخن اس لئے تو ہے

اِک حرفِ نعت اذن ہو حرفوں کے درمیاں


کس کس طرح سے تیرے کرم کو لکھے قلم

اک منفعل وجود ہے لہروں کے درمیاں


یہ زیست اور کچھ بھی نہیں، بابِ شوق میں

اِک لمحۂ فراق ہے خوابوں کے درمیاں


ان کی عطا و جود پہ سو جان سے فدا

میرا شمار ان کے گداؤں کے درمیاں


صدیوں کے ناز، نسبتِ خیرالوریٰ کے ساتھ

مقصودؔ، جی رہا ہوں میں لمحوں کے درمیاں

وفورِ شوق میں ہے کیفِ مشکبار میں ہے

وفورِ شوق میں ہے، کیفِ مشکبار میں ہے

حیاتِ نعت مری عرصۂ بہار میں ہے


یہ جاں، یہ شوق بہ لب، تیری رہگذارِ ناز

یہ دل، یہ دید طلب، تیرے انتظار میں ہے


تری عطا ترے الطافِ بے بہا مجھ پر

مری طلب ترے اکرام کے حصار میں ہے


ترے کرم، تری بخشش کا کب، کہاں ہے شمار

مری خطا ہے جو حد میں ہے اور شمار میں ہے


گلِ ُگلاب کو حاصل نہ مہر و مہ سے نمود

وہ دلبری جو تری خاکِ ریگزار میں ہے


مسافتوں میں بھی رکھتی ہے ُقربتوں کا کرم

حسین ربط تری خاکِ رہگُزار میں ہے


سرہانے شوق کے رکھتا ہُوں تیری دید کے خواب

پہ یہ کرم تو فقط تیرے اختیار میں ہے


اداس رُت میں بھی رہتا ہے اک یقیں پیہم

مرا نصیب ترے قریۂ بہار میں ہے


بس ایک لمحے کو مہکی تھی اُن کی دید ُگلاب

یہ زیست اب بھی اُسی ساعتِ قرار میں ہے


جوارِ گنبدِ خضریٰ ہے روشنی کا ہجوم

فلک ستاروں کو تھامے ہوئے قطار میں ہے


یہ نعت ہے تو ہے تسکینِ جان و دل مقصودؔ

نہیں تو زیست کا ہر لمحہ اضطرار میں ہے

بات بن جاتی ہے اپنی بھی تری بات کے ساتھ

بات بن جاتی ہے اپنی بھی تری بات کے ساتھ

دائرے ذات کے ُبنتا ہوں تری نعت کے ساتھ


اذن کے سارے دریچوں سے ہَوا آتی ہے

خامۂ شوق بھی جھوم اُٹھتا ہے نغمات کے ساتھ


ایک امکان بھی رہتا ہے پسِ حرفِ نیاز

آپ آ جائیں کسی رات کے لمحات کے ساتھ


سلسلے حرف کے ُجڑتے ہیں بکھر جاتے ہیں

اک تری نعت ہو ُقرآن کی آیات کے ساتھ


ہر زماں روشن و تاباں ہے ُحسینی منظر

فتح تعبیر نہ ہو پائی کبھی مات کے ساتھ


وہ مرا پِیر، مری زیست کا عنوان بھی ہے

جی رہا ہوں مَیں کرم شاہ کے حسنات کے ساتھ


سانس بھی ساتھ ہی چلتی ہے تو چلتا ہے نظام

دھڑکنیں مدح سرا ہیں مری ساعات کے ساتھ


درِ ایجاب و عنایت ہے ُکشادہ مقصودؔ

نعت مَیں بھیجتا رہتا ہوں مناجات کے ساتھ

وہ مری فکر سے ادراک سے برتر مہکے

وہ مری فکر سے ادراک سے برتر مہکے

اس کی مدحت کا ہر اِک حرف برابر مہکے


حسن کے سارے تناظر ہیں اُسی کے منظر

وہ مری آنکھ میں چمکے، مرے لب پَر مہکے


وہ زمیں زاد زمانوں کا شگفتہ پیکر

اس کی خوشبو کا سفر عرش کے اُوپر مہکے


ان کے آنے کی خبر خواب کے پردوں سے پرے

ان کے ہونے کا گماں بارِ مکرر مہکے


دل کو تدبیر کی حاجت نہیں درپیش، مگر

ایک امکان کا منظر ہے کہ شب بھر مہکے


ایک ہی لمحہ تھا وہ، اُن کے گمانوں والا

ایک ہی لمحہ ہے وہ جیسے کہ اکثر مہکے


پورے وجدان میں نکہت کے قصیدے ُگونجیں

دشتِ امکان میں مدحت کا ُگلِ تر مہکے


ویسے تو خواہشِ دل سوچ کے شَل ہو جائے

آپ کی مرضی پہ ہے، آئیں، مرا گھر مہکے


روشنی بھی ہے خجل دیکھ کے جلوے تیرے

نور کی بھیک سے مہر و مہ و اختر مہکے


آپ کا ذکر ہو اور صبح کی کرنیں جاگیں

آپ کی نعت ہو اور شام کا منظر مہکے


کتنے مغموم گمانوں کی ہے چاہت مقصودؔ

وحشتِ قریۂ دل میں مرا دلبَر مہکے

شہرِ امکان میں وہ ساعتِ حیرت آئے

شہرِ امکان میں وہ ساعتِ حیرت آئے

لفظ سوچوں تو لبوں پر تری مدحت آئے


پورے احساس میں کھِل اُٹھیں بہاریں جیسے

دل دریچے سے تری یاد کی نکہت آئے


ساتھ رکھتا ہوں ترے خواب میں آنے کا یقیں

قریۂ جان میں تنہائی سے وحشت آئے


جادۂ شوق پہ رنگوں کی دھنک آرائی

بہرِ ترحیب سلامی لئے طلعت آئے


سارے امکان کریں چاکری تیرے در کی

دل کی دُنیا میں اگر تیری حکومت آئے


تیرے آثار کو تکنے مری خواہش دوڑے

تیری دہلیز کو ُچھونے مری چاہت آئے


کاش رہ جاؤں مدینے کا مقامی ہو کر

کاش تقدیر میں ایسی کوئی ہجرت آئے


ان کی مقصودؔ ہے محشر میں زیارت مجھ کو

چشمِ بیتاب کی منت ہے قیامت آئے

ہاتھ میں تھامے ہوئے ان کی عطا کا دامن

ہاتھ میں تھامے ہوئے اُن کی عطا کا دامن

رشکِ ایجاب ہوا حرفِ دُعا کا دامن


ان کے تذکار سے مانوس ہے دل کی دھڑکن

اور دھڑکن سے ہے مربوط وفا کا دامن


جب بھی سوچوں سے اُلجھتا ہے ہوس کا سورج

سایہ کرتا ہے مرے سر پہ ثنا کا دامن


کیا خبر کون سی ساعت میں بُلاوا مہکے

عرضیاں تھام کے بیٹھا ہے ہَوا کا دامن


ان کی نعلین کو ُچھو آئے سخن کی رفعت

اے خدا شعر کو دے حرفِ رسا کا دامن


سیدہؑ آپ کی تطہیر کی رحمت کے سبب

میری بیٹی کو ملے شرم و حیا کا دامن


میرے ہاتھوں میں ہے مقصودِؔ جہاں کی دولت

میرے ہاتھوں میں ہے محبوبِ ُخدا کا دامن

جائے تسکین ہے اور شہرِ کرم ہے پھر بھی

جائے تسکین ہے اور شہرِ کرم ہے، پھر بھی

خلد، صحرائے مدینہ سے تو کم ہے، پھر بھی


گو گرفتارِ معاصی ہے سرشتِ نادم

ظلِ الطاف تو ہر وقت بہم ہے ، پھر بھی


عشق پڑھ پڑھ کے ترے چہرۂ دلکش کا نصاب

حسن بڑھ بڑھ کے تری زلف کا َخم ہے، پھر بھی


خود بخود شعر میں ڈھل سکتی ہیں سطریں، لیکن

نعت کا حرف تو اِک اِذنِ کرم ہے، پھر بھی


طائرِ سدرہ کے پَر جلتے ہیں جِس سے آگے

اس سے آگے ہی ترا نقشِ قدم ہے، پھر بھی


خاورِ دل میں تو پھیلے ہیں تری یاد کے رنگ

ا فقِ دید پہ اِک خواب رقم ہے، پھر بھی


ساعتِ وصلِ مسلسل میں ہوں مقصودؔ، مگر

ثروتِ شوق کو کیوں ہجر کا غم ہے، پھر بھی

ابھر رہی ہے پسِ حرف روشنی کی نوید

ابھر رہی ہے پسِ حرف روشنی کی نوید

کہ تیری نعت ہے سرکار زندگی کی نوید


اداس لمحوں میں رہتی ہے ساتھ ساتھ مرے

ہے بے کلی میں تری یاد اِک خوشی کی نوید


حدیثِ قولی ہو، فعلی ہو یا کہ تقریری

زمانہ ان سے ہی لیتا ہے آگہی کی نوید


نثار شان و شرف پر ترے کہ جن کے سبب

غلام جسم نے پائی تھی خواجگی کی نوید


حضور آپ نے بانٹے ہیں عزتوں کے چراغ

حضور آپ نے بخشی ہے خود گری کی نوید


ابھی ابھی کوئی جھونکا ہَوا کا آیا تھا

ابھی ابھی کوئی آئی ہے اُس گلی کی نوید


سوادِ عرصۂ وحشت میں ُہوں، مگر مقصودؔ

ہر ایک لمحۂ مدحت ہے دل لگی کی نوید

رحمت کے موسموں کے پیمبر حضور ہیں

رحمت کے موسموں کے پیمبر حضور ہیں

بخشش، کرم، عطا کے سمندر حضور ہیں


دنیائے ہست و ُبود تھی امکانِ ہست و ُبود

ایقاں نواز ُنور کے پیکر حضور ہیں


جذبوں نے حرفِ شوق کے سارے سخن لکھے

لیکن فصیلِ نعت سے اوپر حضور ہیں


آتے رہے چراغ بہ کف منزل آشنا

سب رہبروں کے آخری رہبر حضور ہیں


جاں کو تپش تو ہے پہ نہیں دل کو بے کلی

دل کو خبر ہے شافعِ محشر حضور ہیں


چلتے تھے ساتھ ساتھ تمنا کے قافلے

نکہت نواز جسمِ معنبر حضور ہیں


تن کے اُفق پہ ان کی کرم بار طلعتیں

من کے نگار خانے کے اندر حضور ہیں


قطرہ ہوں میں پہ بحر سے ہے میرا واسطہ

بردہ ہوں میں پہ سیّد و سرور حضور ہیں


سُن مہرِ حشر گیسوئے اطہر ہیں سائباں

سن تشنگی کہ ساقیٔ کوثر حضور ہیں


جیسے وجود و جسم میں ہیں افضل البشر

ویسے ہی خلقِ ُنور میں انور حضور ہیں


آنکھوں کو خوابِ غیر کی حاجت نہیں رہی

منظر حضور ہیں، پسِ منظر حضور ہیں


قلبِ تپاں میں ان کے ہیں تذکار بار بار

لوحِ زباں پہ مدحِ مکرّر حضور ہیں


جذبِ دروں کی دُھن پہ رواں ہوں میں سوئے خلد

حامی حضور ہیں، مرے یاور حضور ہیں


شکرِ خدا کہ ُنطق کا مہبط ہے ان کا اسم

حمدِ خدا کہ حرف کے محور حضور ہیں


ماں باپ اور بچوں سے آگے وہ ذاتِ پاک

مقصودؔ مجھ کو جان سے بڑھ کر حضور ہیں

حبس کے شہر میں اک تازہ ہوا کا جھونکا

حبس کے شہر میں اِک تازہ ہَوا کا جھونکا

بخدا نعت ہے بس اُن کی عطا کا جھونکا


صحنِ احساس میں کھِل اُٹھتے ہیں رنگین ُگلاب

دل دریچے سے جو آتا ہے ثنا کا جھونکا


درِ ایجاب و کرم کھول گیا ہے یکسر

مغفرت تھامے ہوئے اُن کی رضا کا جھونکا


تیرگی قریۂ احساس میں در آئی ہے

اے خدا بھیج مدینے کی ضیا کا جھونکا


ایک منظر سے ہیں پیوست درود اور سلام

باندھ لوں گا اِسی منظر میں دُعا کا جھونکا


تشنگی ضبط کے بندھن سے اُلجھ بیٹھی ہے

کاش احساس کو چھو جائے لقا کا جھونکا


ان کے دربار سے باہر تو نہیں ُہوں مقصودؔ

میرے حصے میں بھی آئے گا عطا کا جھونکا

چوم آئی ہے ثناء جھوم کے بابِ توفیق

چوم آئی ہے ثنا ُجھوم کے بابِ توفیق

کس سے ممکن ہے کرے کوئی حسابِ توفیق


اذن رہتا ہے تری نعت کا ہر سانس کے ساتھ

پڑھتا رہتا ہوں مَیں دن رات نصابِ توفیق


پیش منظر میں ہے خوشبوئے مجسم پیہم

کھِل اُٹھا ہے مرے آنگن میں ُگلابِ توفیق


اِک تری نعت تری شان کے لائق آقا

غارِ ادراک پہ نازل ہو کتابِ توفیق


ایک ہی کیفِ مسلسل میں رہے عمرِ رواں

اے خدا آنکھ میں رکھ دے کوئی خوابِ توفیق


مہبطِ نعت میں رہتا ہُوں، پہ ترساں لرزاں

کہ بہت رائق و نازک ہے حبابِ توفیق


دشتِ طیبہ میں ہیں مقصودؔ سخن کے چشمے

جن سے حاصل ہے مرے شعر کو آبِ توفیق

دل کی دہلیز پہ قدم رکھا

دل کی دہلیز پر قدم رکھا

اس نے کتنا مِرا بھرم رکھا


اِک دُعائے شکستہ حرف کو بھی

اس کی بخشش نے ُمحتشم رکھا


پاسِ آدابِ دید تھا واللہ

آنکھ پتھر تھی، دل کو نم رکھا


خود خطاؤں نے آنکھ جھپکا دی

اس نے پیہم مگر کرم رکھا


سوچتا ہوں مدینہ بستی میں

رب نے کیا کیا نہیں بہم رکھا


رخ کو رکھا بہ روئے کعبہ، مگر

دل کو سُوئے مدینہ خَم رکھا


ماسوا کچھ نہ تھا سخن مقصودؔ

نعت تھی، نعت کو رقم رکھا

حاضری بارِ دگر ہو جائے گی

حاضری بارِ دگر ہو جائے گی

دیکھنا اُن کی نظر ہو جائے گی


وصل کی اجلی سحر ہونے کو ہے

ہجر کی شب مختصر ہو جائے گی


حالِ دل کہنے سے، یکسر بیشتر

میرے آقا کو خبر ہو جائے گی


زندگی وہ زندگی ہو گی، کہ بس

کوئے جاناں میں بسر ہو جائے گی


آپ کا رخ حشر میں ہوگا جدھر

رب کی رحمت بھی اُدھر ہو جائے گی


آپ کے نعلین کی طلعت ملے

یہ جبیں رشکِ قمر ہو جائے گی


پڑ رہو مقصودؔ اُن کے شہر میں

زیست ورنہ در بدر ہو جائے گی

خدائے کل کی محبت کا انتخاب حضور

خدائے ُکل کی محبت کا انتخاب حضور

نصابِ عشق کی کامل تریں کتاب حضور


ستارے تھے جو خبر دے رہے تھے طلعت کی

ہیں ُکہنہ چرخِ نبوت کے آفتاب حضور


حضوؐر آپ کے آنے سے معتبر ٹھہری

وگرنہ زیست تو جیسے تھی اِک سراب، حضور


شہودِ خالقِ مطلق کا سب سے تاباں نشاں

وجودِ خلقِ دو عالَم کی آب، تاب حضور


الگ یہ بات کہ آتے ہی دُھل گئے سارے

گناہ ساتھ تو لایا تھا بے حساب، حضور


ترے کرم کے مقابل کہاں یہ حرفِ نیاز

کہ نعت محض ہے جذبوں کا انتساب، حضور


تو اذن دے تو حضوری کے شہر جا پہنچے

جو آنکھ میں لئے پھِرتا ہُوں ایک خواب، حضور


حذر گمانِ تمثل سے، بار بار حذر

کہاں مثال ہے تیری، کہاں جواب، حضور


عطائے خاص کہ بخشی ہے ُتو نے حرف کی بھیک

کھلا رہے تری توفیق کا یہ باب حضور


تو ایک رحمت و بخشش کا بحرِ بے اطراف

مَیں ایک قطرۂ بے مایہ اور حباب، حضور


خطا سرشت ہُوں لیکن ہوں مطمئن مقصود ؔ

کہ عیب ہونے نہیں دیں گے بے نقاب حضور

اے شاہِ امم سیدِ ابرار یا نبی

اے شاہِ امم، سیّدِ ابرار یا نبی

بن جائے کوئی صورتِ دیدار یا نبی


اِک لفظِ ناتمام ہے اور وہ بھی زیرِ لب

جذبِ دروں کو مہلتِ اظہار یا نبی


کیسے مَیں جوڑوں خوابِ شکستہ سے کوئی خواب

کیسے رہے وہ کیفِ کرم بار، یا نبی


چھایا رہے یہ ابرِ عطا دشتِ شوق پر

ٹھہری رہے یہ زُلفِ طرح دار یا نبی


در وا ہو مجھ پہ وصل کی پہلی بہار کا

ڈھے جائے اب تو ہجر کی دیوار، یا نبی


عرضِ نیاز، جذبِ دروں، حرفِ شوق و عجز

لایا ہے ساتھ اپنے طلبگار، یا نبی


مدحت میں تیری وقف رہیں تو بھلے نصیب

ورنہ یہ ُنطق و خامہ ہیں بیکار، یا نبی


آئے تو تھے یہ در پہ معافی طلب حضور

جانے کے اب کہاں ہیں گنہگار، یا نبی


مقصودؔ کے بھی کاسۂ فکر و نظر کی بھیک

اِک نعت ہو، جو حاصلِ گفتار، یا نبی

جہان بھر میں نمایاں ہے اک نظارہء خیر

جہان بھر میں نمایاں ہے اِک نظارۂ خیر

وہ عالمین کی رحمت کا استعارۂ خیر


بکھر ہی جانا تھا وحشت کے شر سمندر میں

نظر میں رہتا ہے میرے مگر کنارۂ خیر


مثالِ گنبدِ خضریٰ نہیں بجز اِس کے

زمینِ ُنور پہ رکھا ہے شاہ پارۂ خیر


قصورِ قیصر و کسریٰ دہل گئے جس سے

عرب کی وادی میں ُگونجا وہ ایک نعرۂ خیر


نئے معانی میں ڈھلتے گئے وہ عِلم و قلَم

حرا سے لے کے وہ آیا عجیب پارۂ خیر


زمیں پہ آیا تو جیسے ہوئی سحر بیدار

فلک پہ صدیوں سے روشن تھا اِک ستارۂ خیر


تمھاری نعت کے مابعد کچھ نہیں سوجھا

کچھ ایسے کھینچا ہے جذبوں نے گوشوارۂ خیر


بہ فیضِ نعتِ نبی سرخرو ہوں مَیں مقصودؔ

مِلا ہوا ہے ازل سے مجھے اشارۂ خیر

خامہ و نطق پہ ہے کیسی عنایت تیری

خامہ و ُنطق پہ ہے کیسی عنایت تیری

مجھ سے بے ساختہ، ہو جاتی ہے مدحت تیری


پورے احساس کی کھیتی میں وہ کھِلتا ہوا رنگ

جیسے تمثیل نے باندھی ہو عقیدت تیری


قریۂ جان ہوا مشک و عبیر و عنبر

شاید امکان میں در آئی ہے نکہت تیری


جسم تو جیسے کہ ہے عکسِ مضافاتِ حرم

دل کی دُنیا سے بھی اُونچی ہے حکومت تیری


جس حقیقت پہ ہے ادراک کی سرحد مبہوت

اس حقیقت سے بھی آگے ہے حقیقت تیری


باقی ارکان ہیں، مندوب ہیں، مطلوب ہیں سب

جانِ ایمان ہے، بس ایک محبت تیری


عمر بھر جلتا رہا ہے یہ چراغِ مدحت

قبر میں ساتھ لئے جاؤں گا طلعت تیری


سوچ رکھا ہے نکیرین کی خدمت میں جواب

چار سطروں کی سنا ڈالوں گا مدحت تیری


شورشِ حشر میں مفقود ہُوا تھا مقصودؔ

ڈھونڈنے نکلی ہے خود اُس کو شفاعت تیری

حیطہء فکر کے محدود حوالوں سے پرے

حیطۂ فکر کے محدود حوالوں سے پرے

مدحتِ شاہِ مدینہ ہے مثالوں سے پرے


اِس قدر بندہ نوازی کا ہے اظہار وہاں

ان کا رکھتا ہے کرم مجھ کو سوالوں سے پرے


چہرہ، تنویر کی تصویر کا حتمی منظر

زلف، تحریر کی تاثیر مقالوں سے پرے


شعر ہوتا تو کسی روپ میں ڈھل ہی جاتا

نعت تو نعت ہے رہتی ہے خیالوں سے پرے


چارہ گر تیری عنایت ہے، کرم ہے تیرا

دِل کی حالت ہے مگر تیرے حوالوں سے پرے


شبِ معراج کی تصویر کی تدبیر محال

نور کو نور کا دیدار اُجالوں سے پرے


مجھ کو مقصودؔ بڑا ناز ہے اُن کا ہو کر

ان کے ٹکڑوں نے رکھا غیر نوالوں سے پرے

کمتر تھا جذب و شوق کرم بیشتر رہا

کمتر تھا جذب و شوق، کرم بیشتر رہا

مجھ سا غریبِ حرف ترا مدح گر رہا


گرچہ دُعائے عجز میں اِک بے دلی سی تھی

پڑھتا رہا درود تو بے حد اثر رہا


رحمت نے اُن کی تھام لیا عرضِ حال کو

دل محوِ حرفِ شوق تھا سو بے خبر رہا


تابِ نظر ذرا بھی نہ تھی فرطِ نور سے

پیشِ نظر وہ چہرۂ انور مگر رہا


کہنے کو لَوٹ آئے تھے یہ جسم و جاں، مگر

دِل گردِ رہگذر تھا سرِ رہگذر رہا


اُن کی ثنا نے لاج رکھی حرف و صوت کی

مجھ ایسا بے ہنر بھی بہت مُعتبر رہا


مقصودؔ اُن کے اِسمِ گرامی کی طلعتیں

اِک ُنور تھا کہ چاروں طرف سر بسَر رہا

یہ الگ بات کہ حیرت کرے حسرت نہ کرے

یہ الگ بات کہ حیرت کرے، حسرت نہ کرے

دیدۂ شوق کہاں جائے جو مدحت نہ کرے


ان کی زلفوں نے برس جانا ہے بادل بن کر

مہرِ محشر سے کہو اتنی تمازت نہ کرے


آنکھ اِک دید پہ ٹھہری ہے تو ٹھہری ہی رہے

دل کا کیا کام اگر ان سے محبت نہ کرے


دل دھڑکتا ہے، سسکتا ہے، تڑپتا ہے بہت

پاسِ آداب، مگر کوئی شکایت نہ کرے


ایک اندیشے کے ہمراہ چلا ہُوں طیبہ

آنکھ پتھرائی رہے اور زیارت نہ کرے


مجھ کو معلوم ہے تا حدِ نظر ہے لغزش

ان کی رحمت یہ نہیں ہے کہ شفاعت نہ کرے


اس درِ خیر کی مقصودؔ گدائی ہے مجھے

جو بصد بار نوازے پہ نہایت نہ کرے

ان کی مدحت نے دیا مجھ کو اجالا ایسا

ان کی مدحت نے دیا مجھ کو اُجالا ایسا

بس مقدر سے عطا ہوتا ہے رستہ ایسا


مَن کے احساس میں روشن ہے مدینہ ہر سُو

تن کی تقدیر میں لکھ دے مرے مولا ایسا


آپ کے آنے کی خوشبو کا پیامی بن جائے

دستِ بو صیری سے مانگوں مَیں قصیدہ ایسا


دل کی حالت تو ہے ایسے کہ بتائے نہ بنے

سامنے آنکھوں کے ہے کعبے کا کعبہ ایسا


زیست کچھ اور نکھر آئی ہے طیبہ جا کر

کام آیا ہے تری خاک کا غازہ ایسا


روشنی ساتھ لئے جاتا ہوں سُوئے محشر

ساتھ رکھتا ہوں مَیں نعتوں کا حوالہ ایسا


اب کسی قسم کی حاجت نہیں باقی دل میں

قاسمِ رزق نے بخشا ہے نوالہ ایسا


بس یہی نعت ہے مقصودؔ کمائی میری

اور تو کچھ بھی نہیں اپنا اثاثہ ایسا

گرفتِ حیرت و بہجت میں ہے وصال گھڑی

گرفتِ حیرت و بہجت میں ہے وصال گھڑی

کہ میری زیست نے دیکھی ہے اِک کمال گھڑی


عطا نے ایسے دریچے سخن کے کھول دئیے

سراپا ساکت و صامت ہے اب سوال گھڑی


بس ایک لمحے کو پھیلی تھی دید کی خوشبو

تمام عمر ُمقدر رہی نہال گھڑی


تھا سر بسر ہی اندھیرے میں یاس یاس وجود

سحر بہ کف ہوئی ظاہر وہ خد و خال گھڑی


کہ اُن کی نعت کے لمحے ہیں سانس کی تطبیق

سپردِ حرف ہی رہتے ہیں ماہ، سال، گھڑی


ربیعِ نور میں چمکی تھی ایک ساعتِ نور

وہ بے مثال سے موسم کی بے مثال گھڑی


مَیں اُن کی نعت کے منظر میں جب تھا خود رفتہ

عجیب نور کے ہالہ میں تھی خیال گھڑی


تمام رستے میں طاری تھی عرضِ شوق کی دُھن

مدینے پہنچا تو چپ ہی رہی مقال گھڑی


کمالِ جذب تھا گنبد کے سامنے مقصودؔ

کہ جیسے عمرِ رواں ہو یہ خوش خصال گھڑی

تن کے احساس پہ حاوی رہی من کی خواہش

تن کے احساس پہ حاوی رہی من کی خواہش

عمر بھر ساتھ رہی تیرے وطن کی خواہش


آپ کے کو چے میں آئے ہوئے یہ خانہ بدوش

کیسے کر پائیں کسی باغِ عدن کی خواہش


ایک ہی َلے میں ہیں سب لالہ و ُگل مدح سرا

نعت تو جیسے ہوئی پورے چمن کی خواہش


آپ کے مشک پسینے کی عطائیں مہکیں

جب صحابہ کو ہوئی مشکِ ختَن کی خواہش


اک تری دید کی خواہش تھی پسِ حرفِ طلب

زیست لے آئی ہے سرکار کفن کی خواہش


خارِ بطحا کی لطافت ہے مرے پیشِ نظر

اب ذرا سی بھی نہیں سر و سمن کی خواہش


شہرِ احساس میں اب پھیلی ہوئی ہے ہر سو

مہرِ پُر ُنور تری ایک کرن کی خواہش


رفعتِ میم سے اِک دال کی رعنائی تک

چار حرفوں کی ہے مقصودؔ سخن کی خواہش

شبِ دیجور کو دے خوابِ کرم کا جلوہ

شبِ دیجور کو دے خوابِ کرم کا جلوہ

آنکھ کے طاق میں رکھ نقشِ قدم کا جلوہ


زیست کے جادۂ بے سمت کی راہیں ُکھل جائیں

مجھ کو مِل جائے جو اُس زلف کے خم کا جلوہ


مَیں بھی ہوں تیرے گداؤں کے گداؤں کا گدا

میرے کشکول کو دے اپنی نِعَم کا جلوہ


ان کی مرضی پہ ہے موقوف جہانِ رحمت

جس پہ چاہیں وہ کریں جاہ و حشم کا جلوہ


مجھ کو اک حرف عطا ہو تری مدحت کے لیے

میرے اِک حرف میں رکھ دیدۂ نم کا جلوہ


بس یہی عرض ہے مقصودؔ کی اے قاسمِ ُکل

نعت ہو لب پہ تری آخری دَم کا جلوہ

جی جائے گا یہ آپ کا بیمار کسی طور

جی جائے گا یہ آپ کا بیمار کسی طَور

ہو پائے اگر آپ کا دیدار کسی طَور


رکھ دینا مرے زیرِ کفن اے مرے لوگو

مِل جائے اگر خاکِ رہِ یار کسی طَور


کیا خوب نظارہ ہو ترے شہرِ کرم کا

جا پہنچے اگر مجھ سا بھی نادار کسی طَور


ہونٹوں سے کبھی چوموں، کبھی سر پہ سجاؤں

ہو سامنے وہ نعلِ کرم بار کسی طَور


چپ چاپ ہوں بیٹھا مَیں پسِ حرف و معانی

بن پڑتی نہیں صورتِ اظہار کسی طَور


جا پہنچوں ترے گنبدِ خضریٰ کے جلو میں

ہٹ جائے اگر خواب کی دیوار کسی طَور


مَیں ُگھومتا رہتا ہوں مضافاتِ کرم میں

دیکھوں مَیں ترے ہونے کے آثار کسی طَور


ترتیبِ سفر ہے نہ کوئی رختِ سفر ہے

مقصودؔ بلائیں مجھے سرکار کسی طَور

آپ کی رحمتِ بے پایاں کے اظہار کے رنگ

آپ کی رحمتِ بے پایاں کے اظہار کے رنگ

رنگ تو جیسے ہوئے گردِ رہِ یار کے رنگ


نقشِ نعلینِ کرم بار پہ تاروں کا نزول

جیسے خود رنگ چلے باندھنے سنگھار کے رنگ


نازِ صد رنگ ترے گنبدِ خضریٰ کا جلو

رشکِ صد ُطور ترے کوچہ و بازار کے رنگ


نخوتِ شاہی کو ٹھوکر پہ رکھے بندہ ترا

سطوتِ وقت پہ حاوی ترے نادار کے رنگ


آپ آ جائیں تو ُکچھ صورتِ امکان بڑھے

ورنہ نازک ہیں بہت آپ کے بیمار کے رنگ


آپ کے لطف و عنایات کی تحدید محال

ساعتِ دید کو مِل جاتے ہیں تکرار کے رنگ


جیسے احساس کے آنگن میں چمن جاگ اُٹھیں

جیسے ادراک میں چمکیں ترے ُگفتار کے رنگ


کس کو یہ تابِ سخن ہے کہ تری نعت کہے

کون لکھ پائے ترے گیسوئے خمدار کے رنگ


ایسے آثار ہیں مقصودؔ کہ میرے گھر میں

رات کے پچھلے پہر چمکیں گے دیدار کے رنگ

آپ کی آمدِ رحمت کے سبب ہیں قائم

آپ کی آمدِ رحمت کے سبب ہیں قائم

حضرتِ آدم و حوا کے نسب ہیں قائم


آپ نے بخشے ہیں اظہار کو امکان کے رنگ

آپ کے فیض سے ہی علم و ادب ہیں قائم


آپ کی یاد کی تاثیر سے آنکھیں روشن

آپ کی نعت کی توفیق سے لب ہیں قائم


تیرگی بیت چکی ہے پسِ اظہار کہیں

اب تو میلاد کی محفل پہ یہ سب ہیں قائم


آپ کی بارگۂ ناز میں سر تابی موت

جو سرِ مو بھی اُٹھے وہ بھلا کب ہیں قائم


شکر ہے ارض پہ اُترا ہے مدینہ مقصود

جس کے فیضان سے اس ارض کے ڈھب ہیں قائم

سارے سخن نواز کمالات جوڑ لوں

سارے ُسخن نواز کمالات جوڑ لوں

ممکن نہیں کہ پھر بھی تری نعت جوڑ لوں


تو تو عنایتوں کی سحر ہے، عطا کی شام

میں کیسے عرض باندھوں، سوالات جوڑ لوں


لمحوں کے اِتصال سے ہوتی نہیں ہے نعت

کچھ ایسا اِلتفات کہ دن رات جوڑ لوں


اے کاش پھر سے کوئی نویدِ کرم ملے

اے کاش پھر سے خوابِ ملاقات جوڑ لوں


خوشبو ہے کیسے دستِ طلب میں سمٹ سکے

سیلِ رواں کے آگے کہاں ہات جوڑ لوں


شاید طلوع ہونے کو ہے ساعتِ نوید

میں ریزہ ریزہ صورتِ ساعات جوڑ لوں


چمکی ہے شہرِ خواب میں میلاد کی گھڑی

تارِ نفس سے جذبوں کی بارات جوڑ لوں


اک حرفِ نعتِ ُنور کی تابش کے روبرو

قرطاسِ دل پہ عجز کے رُشحات جوڑ لوں


جذبوں کی َصوت َصوت سے مدحِ نبی لکھوں

حرفوں کی َجوت َجوت سے سوغات جوڑ لوں


کھلتے ہی آنکھ تابِ نظر ُٹوٹ جائے گی

اے خوابِ دید آ کہ کرشمات جوڑ لوں


تو ُنطق دے تو شوق کو تدبیرِ ُحسن ہو

تو حرف دے تو اِذن سے جذبات جوڑ لوں


مقصودِؔ کائنات ہے وہ اسمِ لازوال

اس جانِ کائنات سے ہر بات جوڑ لوں

مزید دیکھیے

اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

تازہ مطبوعات

اس سیکشن میں اپنے کتابیں متعارف کروانے کے لیے "نعت کائنات" کو دو کاپیاں بھیجیں

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات