خورشید احمد

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Khursheed Ahmad.jpg

صبیح رحمانی آپ کے جذب و مستی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ

"مجھے مدینہ طیبہ میں قیام کے دوران ایک دن معروف نعت خواں خورشید احمد نے سر راہ آلیا اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ مجھ سے کہنے لگے کہ ہزاروں نعتیں یاد ہیں مگر یہاں حاضری کے موقع پر میری زبان سے ایک گانا ہی جاری ہوتا ہے

"تم جگ جگ جیو مہاراج ھم تیری نگریا میں آے "

میں نے ان سے کہا یہ آپ کا ذوقی معاملہ ھے آپ کی روحانی سرشاری ان کلمات سے مزید تقویت پاتی ہے آپ یہی گنگنایا کریں [1]


حالات زندگی

الحاج خورشید احمد یکم جنوری1956ء کو رحیم یار خان کی بستی نور وال میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم عباسی پرائیویٹ سکول سے اور میٹرک کی تعلیم کالونی ہائی سکول سے حاصل کی اس کے بعد انھوں نے گورنمنٹ کامرس انسیٹیوٹ سے ڈپلومہ حاصل کیا ۔1973ء میں وہ کراچی شفٹ ہو گۓ اور کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اور وہاں ریڈیو پاکستان میں بطور ٹائپسٹ ملازمت کی اسی سال انھوں نے " ڈو میڈیکل کالج " میں نعت خوانی کے مقابلے میں حصہ لیا اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔


سر اور لے سے رشتہ

یونس ہمدم ، اپنے ایک کالم نعت خواں بھی سریلے ہوتے ہیں میں خورشید احمد کے بارے لکھتے ہیں

نعت خواں خورشید احمد سے جب بھی ریڈیو پر ملاقات ہوتی تھی، میں اپنے پروگرام اور خورشید احمد اپنی ریکارڈنگ کے بعد فارغ ہو کر اسٹوڈیو کے کسی خالی کمرے میں بیٹھ جایا کرتے تھے ایک دو دوست اور بھی آ جاتے تھے اور پھر موسیقی کی محفل جم جاتی تھی۔ خورشید احمد اپنی سریلی آواز میں ہمیں اپنی اور ہماری پسند کے فلمی گیت سنایا کرتا تھا، ایک دن خورشید احمد بڑے موڈ میں تھا اس نے برملا کہا تھا ہمدم بھائی! اگر میں نعت خواں نہ ہوتا تو ایک اچھا گلوکار ہوتا پھر اس نے اپنی پسند کے چند گیت سنائے جن کا تعلق فلم میلہ، بابل اور دیدار سے تھا اس نے جو گیت محمد رفیع نے گائے تھے بالکل محمد رفیع ہی کے انداز میں گائے وہ گیت آج بھی میرے دل پر نقش ہیں۔

٭میری کہانی بھولنے والے تیرا جہاں آباد رہے

٭محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیار کیا جانے

٭یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے، افسوس ہم نہ ہوں گے

خورشید احمد آنکھیں بند کیے گا رہا تھا اور اپنی انگلیوں سے میز پر ہلکا ہلکا طبلہ بھی بجا رہا تھا۔ فلم میلہ کا گیت اس نے اتنے پرسوز انداز اور آواز میں گایا کہ ہمیں محمد رفیع کی یاد دلادی، آنکھیں بند کر کے وہ گیت سنتے ہوئے یوں لگ رہا تھا جیسے ہم محمد رفیعکا ریکارڈ سن رہے ہیں۔ وہ لمحے وہ ملاقاتیں آج بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔

نعت خوانی

ستر کی دہائی میں ان کی نعت خوانی کی شہرت ہوئی جس کے باعث انہیں ریڈیو پاکستان کے معروف پروڈیوسر مہدی ظہیر نے نعت خوانی کے لئے مدعو کیا۔ 1973ء سے 1977ء تک انہوں نے محفل نعت میں کراچی کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا تاہم ان کی شہرت کا آغاز خالد محمود نقشبندی کی مشہور نعت ’’ " یہ سب تمہارا کرم ہے آقا " سے ہوا۔ 1983ء میں انہیں بہترین نعت خواں کا پی ٹی وی ایوارڈ عطا کیا گیا۔انہیں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا اورامریکا میں نیوجرسی کے میئر نے بھی انہیں ایک خصوصی ایوارڈ عطا کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے بھی انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

وہ نہ صرف اردو میں نعتیں پڑھتے تھے بلکہ ساتھ ساتھ دیگر زبانوں میں بھی بشمول بنگالی زبان کے بھی نعت خوانی کرتے تھے۔ لاس اینجلس میں انھیں امام بیت المقدس سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور انھوں نے ان کی نعت سنی۔ اور انھیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ باکسر محمد علی کلے کو ان کی نعتیں بہت پسند تھیں اور وہ ان کی نعتیں سنتے تھے۔

نعت گوئی سے دلچسپی

انھوں نے اپنی زندگی میں ہزاروں نعتیں پڑھی تھیں ، وہ شاعر تو نہیں تھے مگر انھوں نے دو کلام ایک مدینہ شریف میں اور ایک پاکستان میں لکھے تھے وہ انھوں نے چند شاعروں کو دکھاۓ تھے جنھوں نے ان کی اس کاوش کو سراہا تھا۔ انھوں نے حضرت رضا خان بریلوی، شیخ سعدی، احمد ندیم قاسمی، خالد محمود نقشبندی، وقار اجمیری، منور بدایونی اور عبدالستار نیازی وغیرہ کی لکھی ہوئیں نعتیں پڑھیں۔

اعزازات

وفات

30 اگست 2007ء بروز جمعرات کو پاکستان کے نامور نعت خواں الحاج خورشید احمد وفات پاگئے۔ انتقال سے قبل انھیں برین ہیمبرج ہوا تھا ان کے دو آپریشن ہوۓ تھے اور وہ کومے میں چلے گۓ تھے ایک ہفتےوہاں رہے اور جانبر نہ ہو سکے ۔

الحاج خورشید احمد کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں ۔ ایک نعت دوست محمد شہباز اشرف سعیدی فرماتے ہیں ۔

مجھے یاد ہے کہ انکا جنازہ رحمانیہ مسجد طارق روڈ میں ہوا تھا کثیر تعداد میں عاشقان رسول اور نعت خوان حضرات نے شرکت کی نمازہ جنازہ کے بعد انکے میت جلوس کی صورت میں مزار عبداللہ شاہ غازی لے جائی گئی وہاں بھی عوام کا بہت رش تھا. تسلیم صابری اور ڈاکٹر عامر لیاقت کو میں نے اپنی آنکھوں سے پسینے میں شرابور اور صبیح رحمانی کو قبر تیار کرتے دیکھا

مزید دیکھیے

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نعت کائنات پر نئی شخصیات
نئے صفحات
اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png


حواشی و حوالہ جات

  1. صبیح رحمانی ، نعت ورثہ لٹریری ڈسکشنز میں ایک گفتگو