نعت رنگ ۔ شمارہ نمبر 26 ۔ نعت نامے

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Naat Kainaat Naat Rang.jpg

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

نعت نامے[ترمیم]

پروفیسر سحر انصاری۔کراچی[ترمیم]

۲۳/اکتوبر۲۰۱۵

’’نعت رنگ‘‘ کا سلور جوبلی نمبر اس وقت میرے ہاتھوں میں ہے۔ سب سے پہلے تو اس قدر ضخیم اور منفرد شمارہ ترتیب دینے پر دلی مبارک باد قبول کیجیے۔ ’’نعت رنگ‘‘ کا کوئی تازہ شمارہ جب بھی نظر نواز ہوتا ہے تو مجھے بھائی حنیف اسعدی مرحوم کی قیام گاہ پر ہونے والی وہ ابتدائی صحبتیں یاد آجاتی ہیں جن میں اس مجلے یا کتابی سلسلے کی اشاعت کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کیا جاتا تھا۔ میں آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ چند نکات پیش کرنا چاہوں گا: ۱۔موجودہ زمانے میں عام موضوعات کا جریدہ یا کتابی سلسلہ شائع کرنا، جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ چہ جائے کہ خاص موضوعاتی رسالہ اور وہ بھی نعت کے موضوع پر اس اہتمام اور پابندی سے شائع کیا جائے۔

۲۔آپ نے اردو کی نئی بستیوں میں جو ٹوکیو سے لاس اینجلس تک پھیلی ہوئی ہیں، اپنے ہم نوا پیدا کرلیے ہیں۔ یعنی معتبر لکھنے والوں کا ایک نیا حلقہ ’’نعت رنگ‘‘ سے وابستہ ہوگیا ہے۔ یہ کارنامہ اس سے قبل اپنے اپنے زمانے میں سرسیّد احمد خاں (تہذیب الاخلاق)، نیاز فتح پوری (نگار)، شاہد احمد دہلوی (ساقی)، صلاح الدین احمد (ادبی دنیا)، صہبا لکھنوی (افکار)، ڈاکٹر جمیل جالبی (نیا دور)، احمد ندیم قاسمی (فنون) اور ڈاکٹر وزیر آغا (اوراق) وغیرہ سرانجام دے چکے ہیں۔ اس صف میں شمولیت کوئی کم اہم پیش رفت نہیں ہے۔ مقامِ مسرت ہے کہ آپ ان بزرگوں کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔

۳۔نعت گوئی کے معیار اور اس سے متعلق تحقیق و تنقید کا ایک باب آپ نے ’’نعت رنگ‘‘ کے ذریعے وا کردیا ہے۔ اس سے قبل کسی رسالے میں اس معیار اور تازہ تر عنوانات کے حامل مضامین کم ہی دیکھنے کو ملتے تھے۔

۴۔آپ نے نعت گوئی کے آداب، شائستگی، حفظِ مراتب اور روایات کی صداقت اور لفظیات کے ضمن میں جن مباحث کو ’’نعت رنگ‘‘ میں جگہ دی ہے، ان سے مبتدی اور منتہی دونوں روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔

۵۔آپ ’’نعت رنگ‘‘ میں روایتی انداز کی نعتوں اور روایتی معلومات کے سرسری مضامین کی اشاعت سے گریز کرتے ہیں، اس طرح نعت رنگ کی ادبی، علمی اور تحقیقی اہمیت میں روز افزوں اضافہ ہوا ہے۔

۶۔دورِ حاضر کے معروف ادیبوں اور نقادوں میں پروفیسر فتح محمد ملک، ڈاکٹر ریاض مجید، ڈاکٹر معین الدین عقیل، امین راحت چغتائی، ڈاکٹر یحییٰ نشیط، ڈاکٹر تقی عابدی، ڈاکٹر زاہد منیر عامر، ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی، پروفیسر انوار احمد زئی کے نام بہ طور امثالِ امر پیش کررہا ہوں کہ یہ تو عرصہ دراز سے لکھ رہے ہیں اور دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ ’’نعت رنگ‘‘ کے لیے خصوصی مقالے بھی تحریر فرماتے ہیں۔

۷۔میں اب بہ طورِ خاص مبین مرزا، ڈاکٹر عزیز احسن، ڈاکٹر محمد سہیل شفیق، ڈاکٹر شہزاد احمد، ڈاکٹر داؤد عثمانی کے نام پیش کرتا ہوں جنھوں نے نعت گوئی کے ضمن میں تازہ نگاری کا ثبوت دیا ہے اور انھیں میں ’’نعت رنگ‘‘ کے خصوصی مقالہ نگاروں میں شامل کرتا ہوں۔

’’نعت رنگ‘‘ کے ۲۵ ویں شمارے کو ایک ادبی دستاویز کہنا چاہیے۔ اس کے مضامینِ نثر و نظم میں وہ ادبی، تحقیقی اور علمی معیار نظر آتا ہے جو موجودہ ادبی کساد بازاری کے دور میں ایک کرشمے سے کم نہیں۔

مجھے ہمارے اور آپ کے عزیز دوست مبین مرزا کا ابتدائیہ خصوصیت کے ساتھ بہت اہم محسوس ہوا۔ مبین مرزا ہمہ صفت موصوف ہیں، شاعر، افسانہ نگار، نقاد، مبصر اور مدیر اور شاید:

بسیار شیوہ ہائے بتاں را کہ نام نیست

والا معاملہ بھی ہے۔ میں نے مختلف ادبی موضوعات پر ان کی تحریریں پڑھی اور پسند کی ہیں لیکن یہ خصوصی مقالہ جسے آپ نے اداریے کے طور پر شائع کیا ہے نعت شناسی کے ضمن میں اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ مبین مرزا نے غیر روایتی انداز میں اردو کی شعری تہذیب کا سیر حاصل جائزہ لیا ہے اور پھر نعت گوئی کے مختلف ادوار سے مسلم اور غیر مسلم نعت گویوں کی عمدہ مثالیں پیش کی ہیں۔ اندازِ تحریر شگفتہ اور مدلل ہے جو عموماً ایسے موضوعات میں کم کم ہی نظر آتا ہے۔ اگر مبین مرزا مزید مثالیں اور ادوار کو شامل کرسکیں تو یہ مقالہ بجائے خود ایک کتاب بن سکتا ہے جسے اپنے موضوع اور اسلوب کی بنا پر یقینا مزید قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

مبین مرزا کے اس مقالے کی متعدد خوبیوں کے علاوہ بنیادی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے ابتدا سے آخر تک وہ ممکنہ سوالات خود قائم کیے ہیں جو ہند اسلامی تہذیب اور اردو کی شعری تہذیب کے سلسلے میں مبتدی و منتہی کے ذہن میں پیدا ہوسکتے ہیں اور پھر مثالوں اور دلیلوں کے ساتھ ان سب کا جواب دیتے ہوئے اپنے بنیادی مقدمے (Basic Thesis) کو ثابت کرتے چلے گئے ہیں۔ اس طرح ان کا یہ مقالہ صرف اسلامی عقائد کے حامل افراد کے لیے نہیں، بلکہ اُن کے لیے بھی چشم کشا ہوگا جو سیکولر انداز میں شعر و ادب کا مطالعہ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ریاض مجید کو نعت شناسی اور نعت گوئی سے گہرا شغف ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اصنافِ سخن میں اُن کی زودگوئی کی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان کے علاوہ جب ہم لوگ چین کے ادبی دورے پر گئے تھے تو ڈاکٹر ریاض مجید کے شخصی اور تخلیقی اوصاف کا زیادہ قریب سے اندازہ ہوا۔ انھوں نے ’’نعت رنگ‘‘ کے لیے جو قصیدہ دعائیہ لکھا ہے وہ ان کے خلوص اور قادر الکلامی پر دال ہے۔ قاآنی کے مشہور قصیدے ’’بہار ہا بہار ہا‘‘ کا ترنم اور بحر کی موسیقیت اس قصیدے کو پڑھ کر ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے۔ آپ کے لیے ان کا یہ منظوم قول حقیقت پر مبنی ہے:

جہان بھر سے نعت و نقدِ نعت کی فراہمی

جو کام ہم نہ مل کے کرسکے اُس ایک نے کیے

اس میں انھوں نے ہم سب کے خیالات و جذبات کی ترجمانی کردی ہے۔ ڈاکٹر ریاض مجید کا یہ دعائیہ قصیدہ ایک تنقیدی، تخلیقی اور ادبی منظوم مقالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قصیدے کے قافیے بجائے خود قابلِ داد ہیں۔ اِس میں ’’نعت رنگ‘‘ کے معیارات کے ساتھ ساتھ آپ کی مساعیِ جمیلہ و منفردہ کو بجا طور پر سراہا گیا ہے۔

ڈاکٹر معین الدین عقیل دیگر موضوعات کے علاوہ تحقیق کے مزاج و منہاج کے بارے میں تسلسل کے ساتھ لکھتے رہے ہیں۔ ’’تحقیقِ نعت‘‘ کے ضمن میں ان کے خیالات سے یقینا استفادہ کرنا چاہیے۔ ان کا یہ کہنا ہر طرح مناسب ہے کہ ایک تو نعت گوئی پر تحقیق و مطالعہ کو شخصیات پر منحصر و مخصوص نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرے مطالعہ افادی مقصد سے ہونا چاہیے کہ یہ محض حصولِ سند یا مقام و منصب یا شہرت کی خاطر نہ ہو۔

انور شعور، جلیل عالی، اور سیّد ضیاء الدین نعیم کے خصوصی گوشوں سے ان کا اندازِ نعت گوئی اُجاگر ہوجاتا ہے۔ فتح محمد ملک کا مقالہ ’’اقبال حضورِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں‘‘ خاصے کی چیز ہے۔ محسن کاکوروی کے لامیہ قصیدے پر تمام اہم آرا کی روشنی میں جائزہ تحریر کیا گیا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ محسن کا یہ قصیدہ جامعات کے نصابِ اردو میں شامل ہے اور دورِ حاضر کے ناقدین کی رائے بھی طلبہ تک پہنچنی چاہیے۔

مرزا دبیر اور انشاء اللہ خاں انشا کی نعتیہ شاعری پر شفقت رضوی اور ڈاکٹر تقی عابدی کے مضامین تحقیقی رُخ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر اشفاق انجم کا مقالہ ’’نعت میں منفی عناصر‘‘ پسند آیا۔ ایسے مقالات کی یقینا بہت ضرورت ہے تاکہ افراط و تفریط کی فضا کو ختم کیا جاسکے۔ ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی نے ’’المدیح النبوی‘‘ کا تفصیلی تعارف عربی اشعار کے ترجموں کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ اس کا مطالعہ یقینا اردو کے نعت گو شعرا کے لیے مفید ہوگا۔ کتابوں پر تبصرے اور مختلف شعرا کی نعتوں کے انتخاب میں ’’نعت رنگ‘‘ کی روایت کو قائم رکھا گیا ہے۔ سرائیکی شعر و ادب پر عموماً ہمارے یہاں کم توجہ دی جاتی ہے۔ پھر نعت گوئی تو خود ایک خصوصی حصہ ہے جس سے عام قارئین واقف ہی نہیں ہوتے۔ خورشید ربّانی نے بہت محنت اور توجہ سے سرائیکی شاعروں میں نعت گوئی کا جائزہ تحریر کیا ہے۔ پاکستان کی دیگر زبانوں کے محققین کو بھی اس قسم کے موضوعات کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

بہ ہر حال، عزیزِ من! یہ تأثرات تھے جو قلم بند کردیے۔ احساس پھر بھی یہی ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ سلامت رہیے، شاد و آباد رہیے۔

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمیں باد

ریاض حسین چودھری۔سیالکوٹ ۔ ۳ دسمبر ۲۰۱۵[ترمیم]

نعت رنگ۲۵ موصول ہو۔بے ساختہ سینے سے لگالیا،کتابِ جاں کے اوراقِ منتظر پر چاندنی پھیل گئی تخلیق،تحقیق اورتنقید کاایک دلآویز مرقع،ایک تاریخی دستاویز جواپنی مثال آپ ہے خدائے مصطفیٰ آپ اور آپ کے رفقائے کار کومزید توفیقات عطافرمائے۔ڈاکٹر ریاض مجید نے قصیدہ دعائیہ لکھ کر ہم سب کی ترجمانی کی ہے اورخوب کی ہے۔


ابتدائیہ ایک فکر انگیز فن پارہ ہے ۔اردو کی شعری تہذیب میں عشق رسول کے موتیوں کی تلاش اوراس ضمن میں غزل کابھرپور حوالہ بذات خود ایک تخلیقی عمل ہے۔جستجو اورتجسس کے نئے دروازوں پردستک دینا بھی محقق کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے۔مبین مرزا مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے فکرونظر کی پگڈنڈیوں پرآئنے بکھیر کرثقافت کے ان گنت رنگوں کوایک تہذیبی اکائی میں جمع کرنے کافریضہ سرانجام دیاہے اردو زبان کا خمیر بھی خاک ِمدینہ ونجف سے اٹھایا گیاہے۔اس کا پیش منظر ہی نہیں پس منظر بھی نوراسلام سے جگمگا رہا ہے۔کیا یہ ایک تاریخی حقیقت نہیں ہے کہ حصول پاکستان کی جنگ اسی اردوزبان میں لڑی گئی تھی۔اردوزبان قصرِاخوت کابنیادی پتھرہے۔تراجم قرآن، تفاسیر سیرت النبی کی کتب،میلاد نامے تمام تر اسلامی ادب حتیٰ کہ ممتازعلما ومشائخ کی تقاریر اردوزبان کاگرانقدر سرمایہ ہیں۔


معیار اور مقدار کے حوالے سے بھی حمدونعت کے لیے اردزبان ہی کو اظہار کا وسیلہ بنایاگیاہے۔اردوزبان وادب سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ امرباعثِصد افتخار ہے کہ آج بھی زیادہ ترنعت غزل کی ہیت میں کہی جارہی ہے۔ہزاروں سال گزر جانے کے بعد بھی نعت کائنات میں غزل کی ہیت بھی مقبول ترین ہیت ہوگی۔(اگرچہ نئی نئی اضافِ سخن میں بھی مدحت نگاری کاعملِ دلپذیر جاری رہے گا)


قصیدے سے غزل تک گنبد خضرا کی ہریالی


ایک کائناتی سچائی اعتبار واعتماد کی آخری سرحد بھی عبور کرجائے گی۔کشورِ دیدہ ودل میں چراغ جلانے کاعمل بھی پوری آب وتاب سے جاری وساری رہے گا۔غزل اپنے بختِ ہمایوں پرجتنا بھی ناز کرے کم ہے۔غزل درِحضور پرکاسہ بکف خیرات کی طلب گار ہے اوررہے گی۔مبین مرزا کے جمالیاتی شعور کی تحسین ضروری ہے فرماتے ہیں:


’’غزل نے ہمارے دل کی دھڑکنوں کوگناہے تونعت نے روح کے وجد آفریں نغمے سے انہیں ہم آہنگ کیاہے اس لیے کہ عشق رسول ہمارے دل کی آواز اورہماری اوج کی پکار ہے اس صدا کااجالا ہماری تہذیب،زبان ، ادب، سماج،فکر اور دل کے سارے گوشوں کومنوّر کرتاہے۔‘‘


زبانیں کبھی بھی جمودکاشکار نہیں ہوتیں۔شعوری اورلاشعوری دونوں سطحوں پر ارتقا کاعمل جاری رہتاہے۔زبان وادب میں تغیر وتبدل کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ہرزمانے کے ا پنے تقاضے ہوتے ہیں اپنا ایک مزاج ہوتاہے ،اپنے مسائل ہوتے ہیں،ادب میں نئے نئے اسلوب وجود میں آتے ہیں،نئی نئی اصنافِ سخن اورنئے نئے پیرایہ اظہار متعارف ہوتے ہیں،نقطہ ونظر کے معیارات بھی نئے موسموں کی خشک ہواؤں میں سانس لینے لگتے ہیں۔اس پس منظر میں ڈاکٹر ریاض مجید نے لفظیاتِ نعت کے حوالے سے جو فکرانگیز باتیں کی ہیں۔وہ خوشگوار حیرت کاباعث بنی ہیں ارباب ِعلم و دانش کوکھلی دعوتِ فکر ہے لکیر پیٹنے کی فرسودہ رسم کواپنے ہی ملبے تلے دفن ہوجانا چاہیے،اجتہادی بصیرت یقینا روشنیاں بکھیرے گی۔


ڈاکٹر اشفاق انجم نے اپنے احتجاجی مضمون’’نعت میں منفی عناصر‘‘میں جواعتراضات اٹھائے ہیں اگرانہیں سوفی صد درست بھی تسلیم کرلیاجائے تواس سے یہ کہاں لازم آتاہے کہ آج کی نعت کے بہت بڑے ذخیرے کواورشعرا کی ایک بڑی تعداد کودریا برد کردیاجائے ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون جو اشعار درج کئے ہیں ان میں سے اکثر قابلِ مذمت ہیں نہیں قابلِ گرفت بھی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سرے سے نعت کے اشعار ہی نہیں۔انہیں ضرور دریابردکیجئے کوئی صاحبِ ایمان آپ کی مخالفت نہیں کرے گی خداخالق ہے اورحضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کی مخلوق،افضل ترین مخلوق،بے مثل بشر:


بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر


نعت کے عظیم الشان سرمائے کونظرانداز کردینا کہاں کی دانشمندی ہے۔شانِمحشر اورمرتبہ شفاعت کوواوین میں لکھ کر تضحیک کانشانہ بنایاجارہاہے؟مدینہ منورہ کے ذکرِجمیل کونعت سے خارج کرنے کی منصوبہ بندی کیارنگ لائے گی؟کل گنبدِ خضرا،موجب اقدس،روضہ رسول،درحبیب، وادیٰ بطحا،اورخلدِطیبہ کی معطر گلیوں کے ذکر کوبھی شجرِممنوعہ قرار دیاجائے گا۔تمام علامتوں،استعاروں اور تلمیحات پربھی پابندی کامطالبہ کیاجائے گا۔معجزات کے ذکر کوبھی نعت کے دائرے سے خارج کرنے پراصرار کیاجائے گا ڈاکٹر اشفاق انجم صاحب!حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دکھی امت پہلے ہی ان گنت خانوں میں تقسیم ہوکراپنی اجتماعی قوت سے محروم ہوچکی ہے۔اسے ایک پلیٹ فارم پرلانے کی سعی کیجئے۔بکھری ہوئی ملتِ اسلامیہ کواتحاد کادرس دیجئے۔

امت مسلمہ کی نئی نسل کوغبارِ مغرب کے اندھیروں میں کھوجانے سے روکئے۔عظمتِرفتہ کی بازیابی کے سفر پرنکلنے کویقینی بنائیے۔اسلامیانِ عالم کے اتحاد کاخواب حضور کی ذاتِ اقدس کومرکز ومحور بنائے بغیر شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔نعت تاجدار کائنات سے غلامی کے رشتے کومضبوط بناتی ہے۔نعت درود وسلام کے پیکرِشعری کانام ہے۔نعت کے وسیع ہوتے ہوئے منظر نامے کی رعنائیوں کے لیے دیدہ ودل فرشِ راہ کیجئے۔نعت حضور کی سیرتِ مقدسہ سے اکتسابِ شعور کرتی ہے نعت کی تجلیات میں گم ہوجانے کااعزاز حاصل کیجئے۔


کی محمد سے وفا تونے ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیالوح قلم تیرے ہیں


التماس ہے کہ نعت رنگ کے اس شمارے میں ڈاکٹر عزیزاحسن کامقالہ’’نعتیہ ادب کی تخلیق،تنقید اورتحقیق کے لوازمات‘‘کامطالعہ فرمایاجائے شاید یہ نعت کے بارے میں خودساختہ غلط فہمیوں کاازالہ ہوسکے۔محترم احمد صغیر صدیقی نے ڈاکٹر شعیب نگرامی کے مقالے پر میرے ردِعمل کا بُرا بنایاہے اور غصے کے عالم میں میرے اس شعر کوہدف تنقید بنایاہے۔


بعد مرنے کے چلے جائیں گے سب سے چھپ کر

ایک گھر ہم نے مدینے میں بنا رکھا ہے


فرماتے ہیں:


’’اس شعر سے تویوں لگتاہے کہ جیسے مدینے میںجوگھر بنایاگیاہے وہ کوئی چرچ ہے اس میں شاعر چھپ کر جانے کی بات کررہاہے عجیب ساشعر ہے ایسے شعر بظاہر اچھے لگتے ہیں لیکن جب ان میں اتراجاتاہے توپتہ چلتاہے کہ شعرکیساہے اوریہ کام ہماشما کانہیں۔‘‘


بات صرف اتنی ہے کہ شاعر نے تصور میں شہرحضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں جوگھر بنا رکھا ہے،مرنے کے بعد وہ اس گھر منتقل ہونے کاآرزو مندہے۔تنقید ضرورکیجئے لیکن یہ بتادیجئے کہ بات شہرِحضور کی ہورہی ہے یہ چرچ کہاں سے آگیا۔


خرد کانام جنوں رکھ دیا یاجنوں کاخرد

جوچاہے آپ کاحسن کرشمہ ساز کرے


سعید بدر نے اپنے تفصیلی مکتوب میں ڈاکٹر ریاض مجید کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے میرے دو اشعار ان سے منسوب کردیئے ہیں۔


بوقت حاضری سرکارِ دوعالم کی چوکھٹ پر

بہت اچھا مجھے لگتاہے حرف التجا بننا

جلے خیموں کے اندر سسکیوں کوچنناپڑتاہے

ریاض اتنابھی کب آساں ہے دشتِ کربلا بننا


نام کی مطابقت سے ایسے کرشمے سرزد ہوتے رہتے ہیں بہرحال اشعار کے انتخاب اور پسندیدگی کاشکریہ۔جدید اردونعت کی نئی جہتوں کی دریافت،نئے نئے حوالوں سے نعت کا مطالعہ، سماجی،تہذیبی اورثقافتی حوالوں سے نعتیہ ادب کاابلاغ،نعت نگاری کے ساتھ ساتھ نعت نگاروں کے آثار واحوال نئے رؤیوں کی اثرآفرینی اورانفرادی اوراجتماعی سطح پر نعت نگاروں کاپیش منظر اورپس منظر کے حیطۂ ادراک میںلانے اورسوچ کے نئے آفاق کی تسخیر کے لیے ریاض مجید کی گرانقدر تجاویز پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔اگر تمام تجاویز پرمن وعن عمل کرنا ممکن نہ ہوتو بعض تجاویز کو جزوی طورپر قبول کیاجاسکتاہے ۔ارباب فکر ونظر کو نئے موسموں کی تازہ آب وہوا میں سانس لینے کے ا ن گنت مواقع میسر آئیں گے۔


حریم عقیدت کے عنوان کے تحت’’گوشۂ انورشعور‘‘،’’گوشۂ سید ضیاالدین نعیم‘‘میں جدید اردونعت کی مختلف جہتوں کے مطالعہ کی سعی کی گئی ہے۔اظہاروابلاغ کے نئے نئے گوشے سامنے آئے ہیں۔ ڈاکٹر عزیز احسن نے انورشعور کی تخلیقی دانش کے تناظر میں موضوعاتی شعری کاوشوں کااحوال بڑے دلکش انداز میں قلمبند کیاہے اورانورشعور کی شعری جمالیات کاسراغ لگایا ہے۔انورشعور نے جس طرح ہمارے ظاہری،باطنی،تضادات کو سامنے لاکرہمیں آئینہ دکھایاہے۔وہ انہی کاحصّہ ہے خود احتسابی کاعمل نعت کے شاعر کے لیے اوربھی ضروری ہوجاتاہے۔


کب مانتے ہیں کوئی ہدایت حضور کی

پھر بھی ہمارا خواب شفاعت حضور کی


بارگاہ خداوندی میں نعت طلبی واقعی ایک سرگوشی ہے جس پر نطق،بیان کی ساری رعنائیوں قربان کی جاسکتی ہیں’’جگمگ نورنہایا رستہ‘‘کے بارے میں امین راحت چغتائی بجاطورپر فرماتے ہیں:


’’یہ بڑی دلآویز نعت ہے جومناجات کے پردے میں کہی گئی ہے‘‘حمد میں نعت کے اشعار اورنعت میں حمدیہ اشعار جدید اردو نعت کوامتیاز شان عطاکرتے ہیں،’’حمدونعت‘‘کے عنوان سے خوبصورت فن پارے تخلیق ہورہے ہیں۔’’جگمگ نورنہایارستہ‘‘جلیل عالی کاہی نہیں اس پورے عہد کا قابل فخر کارنامہ ہے۔پرویز ساحر نے اس حمدیہ ،نعتیہ نظم کے باطن میں اترنے کی سعی کی ہے ا نہوں نے جلیل عالی کی لفظیات اورآسان پیرایۂ اظہار کے حوالے سے اس شاندار نظم کی خوبصورتیوں کا اجاگر کیا ہے انہوں نے سچ لکھا ہے کہ:


’’توفیقی لمحات میں تخلیق ہونے والی یہ نعت مسلسل اردو نعت کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اورکامیاب تجربہ ہے۔یقینا جلیل عالی کی یہ کاوش ادبِ عالیہ میں شمار ہوگی۔‘‘


اس خوبصورت تخلیق کوجتنی بار بھی پڑھاجائے معانی کی ایک نئی کہکشاں فکرونظرکے آسمانوں پرجلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔ربِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے کاسۂ فن میں ایسی مزید نعتیں عطاکرے اورتمام راستے روشنیوں کی رم جھم میں بھیگ بھیگ جائیں۔ڈاکٹر عزیز احسن نے سید ضیاالدین نعیم کی نعتیہ شاعری کاجائزہ لے کرتعارفی کلمات تحریر کئے ہیں اوران کے لہجے کی سادگی اورشعر کی مقصدیت کی طرف اشارے کئے ہیں۔بساطِ ادب پرنئے شگفتہ پھولوں کی چادر بچھانے والوں کوخوش آمدید کہنا ضروری ہے۔چراغ سے چراغ جلتے ہیں اورخوب سے خوب ترکی تلاش کاسفرکبھی ختم نہیں ہوگا۔


آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ نے نعت رنگ کے پلیٹ فارم پرممتازاہلِ قلم کوجمع کرلیا ہے جوہرشعبہ زندگی کی نمائندگی کرتے ہوئے نعت رنگ کے قیمتی صفحات کومزید ثروت مند بنا رہے ہیں۔ڈاکٹر محمد اسحق قریشی،ڈاکٹر فتح ملک،ڈاکٹر ریاض مجید،ڈاکٹر عزیز احسن،ڈاکٹر افضال احمد انور،پروفیسر محمداقبال جاوید،امین راحت چغتائی،ڈاکٹر شہزاد احمد،ڈاکٹر اشفاق احمد انجم،ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی،پروفیسر انوار احمدزئی،ڈاکٹرداؤدعثمانی،پروفیسر شفقت رضوی،گوہرملسیانی، منظر عارفی،سعید بدر،تنویر پھول،مبین مرزا، کس کس نام لوں فکرونظر کی ایک کہکشاں جومحبتِ رسول کے ان گنت درجوں پرمشتمل ہے دور دور پھیلی ہوئی ہے۔اللہ کرے انفرادی اوراجتماعی شعور کی یہ دلآویز یاں تاابد سلامت رہیں۔

آپ کے اداریہ پڑھ کر کہ منہاج القرآن یونیورسٹی لاہور میں نعت چئیر قائم کی جارہی ہے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہر القادری نے بجافرمایا ہے کہ منہاج القرآن یونیورسٹی میں اگر نعت چئیر قائم نہ ہوسکی تواس ادارے کے وجود کاجواز نہ رہے گاتحریک منہاج القرآن فروغ اسم محمد کی تحریک ہے۔ منیرنیازی کاایک خوبصورت شعر:

فروغِ اسمِ محمد ہو بستیوں میں منیرؔ

قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ؟


مغرب کے فکری مغالطوںاوراپنوں کی بے حسی کے باوجود قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیداہورہی ہے ہرہرافق پرنعت مصطفیٰ کے چراغ جل رہے ہیں میرے شہر کے مردقلندر نے کہا تھا:


قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے

ہوائیں دروازوں پردستک دے رہی ہیں ہم گہری نیند کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

ریاض حسین چودھری۔سیالکوٹ ۔ ۳ جون ۲۰۱۶[ترمیم]

آپ کو یہ جان کرخوشی ہوگی کہ میرابارھواں نعتیہ مجموعہ’’تحدیثِ نعمت‘‘شائع ہوگیاہے۔آپ اوراحباب کے لیے کتاب کے دس نسخے آپ کی خدمت میں بھجوارہاہوں متعلقہ احباب تک پہنچانے کی زحمت گوارا فرمالیجئے۔چنداضافی نسخے بھی ہیں۔آپ کی صوابدید پر۔۔۔۔۔۔دبستان ِنو،لامحدود اورشام ِدرود کی کتابت مکمل ہوچکی ہے۔


میراموبائیل مسلسل بسترعلالت پرہے۔کیاحسن اتفاق ہے بلکہ میں تو اسے آپ کی کرامات میں شمار کرتاہوں کہ کوئی نمبر بھی ڈائل کرکے آن کابٹن دباتاہوں تو اسکرین پرآپ کااسم گرامی ابھر آتا ہے اورساتھ ہی ٹیپ کی آواز فضائیں بسیطہ میں بکھر جاتی ہے آپ کے مطلوبہ نمبر سے فی الحال رابطہ ممکن نہیں۔کچھ دیر بعد کوشش کیجئے گا۔


خضرحیات صاحب اوردیگراحباب کی طرف سے سلام قبول فرمائیے گا۔

ریاض حسین چودھری۔سیالکوٹ ۔۲۱ اگست۲۰۱۶ء[ترمیم]

آپ کا ای۔میل موصول ہوا۔بستر علالت پرہوں۔شوگر کی وجہ سے پاؤں زخموں کے پیرہن میں ہے دواؤں کے ساتھ دعائوں کوبھی اشدضرورت ہے۔کراچی کے احباب کی دعاؤں کی التماس ہے۔تحدیث نعمت کے دس نسخے آپ اورآپ کے احباب کے لیے بذریعہ TCSبھجوائے تھے یقینا مل گئے ہوں گے اورمتعلقہ احباب میں تقسیم بھی ہوچکے ہوں گے۔

’’اسباب‘‘امجد اسلام امجد کے حمدونعت کامجموعہ ہے اس پراپنے تاثرات قلمبند کیے ہے یوں آپ کے حکم کی تعمیل بھی ہوگئی ہے۔جواب کا منتظررہوں گا۔


ڈاکٹر اشفاق انجم۔بھارت[ترمیم]

۲/اکتوبر۲۰۱۶


سید صاحب! اس مرتبہ کمپوزنگ کی بے شمار خامیاں در آئی ہیں جو سلور جبلی نمبر کو داغ دار کر رہی ہیں، خود میرے مضمون میں (جو میں نے DTP شدہ ارسال کیا تھا) Re-setting کے وقت آپ کے کمپوزر نے جانے کیا کیا کہ اشعار کی شکلیں ہی بدل گئی ہیں، مجھے یقین ہے اب تک قارئین نعت رنگ کے کئی خطوط اس تعلق سے موصول ہو چکے ہوں گے۔ اب اس کی تصحیح کس طرح ہو یہ آپ جانیں!!


ابتدائیہ ہمیشہ کی طرح بے حد جاندار ہے۔ محترم مبین مرزا صاحب نے بڑی جگر کاوی سے کام لیا ہے مقالہ نہایت فکر انگیز ہے۔ ان کی تمام باتوں سے متفق ہوں سوائے غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی کے! یہ بھی سچ ہے کہ ان میں سے بعض نے بڑی عمدہ شاعری کی ہے لیکن نبی کریمصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عقیدت و محبت اپنی جگہ اور آپ کی رسالت پر ایمان لانا اپنی جگہ!! جب تک رسالت پر ا یمان نہ لایا جائے گا یہ صرف ’’شاعری‘‘ ہی کہلائے گی۔ (علامہ اقبال کی نظمیں رام، کرشن، نانک بھی اسی ذیل میں آتی ہیں۔) غیر مسلم خصوصاً ہنود ’’کلکی اوتار‘‘ کے آج بھی منتظر ہیں جس کا ذکر ان کی مقدس کتابوں میں موجود ہے، ان میں سے بیشتر تو اس پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ ’’کلکی اوتار‘‘ کوئی اور نہیں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمہی ہیں۔ اس لئے ہنود کی اکثریت آپ کو ’’آخری رسول‘‘ نہیں ’’آخری اوتار‘‘ کی حیثیت سے جانتی اور عقیدت و محبت رکھتی ہے۔ فاروق ارگلی صاحب کا مضمون ’’اردو کے سکھ نعت گو شعراء‘‘ بھی اسی قبیل سے ہے۔ سکھوں کے یہاں وحدانیت تو ہے لیکن ’’اقرارِرسالت‘‘ نہیں ہے اس لئے ان کی نعت گوئی ہنود سے بہتر ’’تقدیسی شاعری‘‘ کے زمرے میں آتی ہے۔


محترم مبین مرزا صاحب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ’’تیری معراج‘‘ والا شعر پنڈت نوربہار لکھنوی کا نہیں ’’کرشن بہاری نورؔ لکھنوی‘‘ کا ہے اور نورؔ صاحب ایسے طبقے سے تعلق رکھتے تھے جن میں آج تک کوئی پنڈت نہیں ہوا اور نہ آگے اس کا کوئی امکان ہی ہے۔


مرزاؔ صاحب نے غالبؔ کے دو اشعار ’’ورق تمام ہوا۔۔۔ بو سے مری زباں کیلئے‘‘ کو نعتیہ اشعار کے طور پر درج کیا ہے جب کہ یہ نواب تجمل حسین خاں کی شان میں لکھے گئے قصیدے کے اشعار ہیں۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:


’’ابوالخیر کشفی نے بالکل ٹھیک کہا ہے ان شعروں کی بابت کہ بے چارے تجمل حسین خاں ان کا مصداق کب ہو سکتے تھے۔ اسی لئے ہمارا اجتماعی ذوقِ شعری ان کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔‘‘( ص۲۴)


یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ غالبؔ اور دیگر عربی، فارسی اور اردو کے قصیدہ گویوں نے اپنے اپنے ممدوحین (بادشاہ و امراء) کے تعلق سے جو کچھ کہا ہے کیا وہ واقعی ان کے مصداق ہیں؟ دور کہاں جائیے غالبؔ اور ذوقؔ نے ’’بہادر شاہ ظفر‘‘ کی شان میں جو کچھ کہا ہے کیا ظفرؔ اس کے مصداق تھے؟ غالبـؔ نے جتنے بھی قصیدے لکھے (سوائے حضرت علیؓ کے) تمام کا مقصد صرف حصولِ زر تھا اور کچھ بھی نہیں۔ غالبؔ کی نظر میں اپنی مطلب برآری کے سوا کسی چیز کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ا نھوں نے گدھے کو گھوڑا کہنے میں بھی عار محسوس نہیں کیا ملکہ وکٹوریہ کی شان میں لکھے گئے قصیدے پر جب انھیں کوئی ’’دکشنا‘‘ نہیں ملی تو وہی قصیدہ معمولی ردّ و بدل سے نواب واجد علی کے نام منسوب کر کے لکھنؤ بھیج دیا اور مبلغ دو سو روپئے پائے!!


اس لئے ناچیز ’’زباں پہ بارِ خدایا‘‘ والے شعر کو نعت کا شعر تسلیم نہیں کرتا، قارئین سے بھی التماس ہے کہ شاعر اپنے شعر کو جس عنوان سے پیش کرتا ہے اسے اسی کے تحت دیکھنا چاہئے۔ ساحرؔ لدھیانوی کا مشہور نغمہ ہے ’’لاگا چنری میں داگ چھپائوں کیسے‘‘ کو سن کر اگر کوئی ساحرؔ کو صوفی جان کر حضرت امیرؔ خسروؔؒ کی صف میں لا بٹھائے تو اسے کیا کہیں گے!؟


اس جگہ راقم الحروف نعت رنگ کے مقالہ نگاروں سے خاص طور پر درخواست کرتا ہے کہ:


’’آپ اپنے مقالات و مضامین میں جو اشعار (کسی بھی حیثیت سے) پیش کرتے ہیں تو اس کے حسن و قبح پر بھی نظر ڈال لیا کریں تو بہتر ہوگا کیوں کہ مقالات میں عیب دار اشعار بڑے کریہہ المنظر نظر آتے ہیں۔‘‘


مرزاؔ صاحب کے پیش کردہ چند اشعار ملاحظہ ہوں:


یہ کون سوچ پہن کر گیا ہے سوئے فلک

کہ جس کا چاند پہ نقش قدم سا لگتا ہے


(ص ۲۴)


یہ ’’سوچ‘‘ کیسا اور کس قسم کا لباس ہے میرے تو پلّے نہیں پڑا؟ نیز سوچ پہن کر جانے سے ’’چاند پر نقش قدم سا لگنے‘‘ میں کیا علاقہ ہے؟


کاش یہ میری جبیں اور نقش پائے مصطفیٰ

صرف روزِ حشر تک ہو جائیں ساکن ساتھ ساتھ


(ص ۲۷)


مطلب نقش پائے مصطفیٰ پر سجدہ!! وہ بھی صرف روزِ حشر تک، اس کے بعد؟ ’’صرف‘‘ حشو بھی ہے۔


ہم بھی آپ کی امت ہیں، ہم بھی آپ سے بیعت ہیں

اس خوش اقبالی پر اتنا کم ہے جتنا ناز کریں

(ص ۳۸)


اُمت ہیں؟ یا اُمت میں ہیں یا اُمتی ہیں؟ پاکستان میں تو تصوف کی روایت بڑی مضبوط ہے۔ شاعر کو کسی سالک یا پیر طریقت سے معلوم کر لینا چاہئے تھا کہ ’’بیعت‘‘ کس سے اور کس طرح کی جاتی ہے! میرے علم کے مطابق بیعت صرف باحیات مرشدین سے ہی کی جا سکتی ہے۔


نعت محبوبِ خدا لب پہ مرے آئی ہے

میں نے لکھی نہیں سرکار نے لکھوائی ہے

(ص ۳۹)


کیا یہ واقعہ ہے؟ اول تو لب پہ آنے کو لکھنا نہیں کہتے، دویم کیا سرکارصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بہ نفس نفیس تشریف لاکر شاعر صاحب سے نعت لکھنے کی درخواست کی تھی؟


نخل صحراکی طرح خشک ہوں، وہ ابر کرم

مجھ پہ برسے تو مجھے برگ و ثمر جائے

(ص ۳۹)


کیا صحرا میں ’’نخل خشک‘‘ اگتے ہیں؟ شعر میں ’’صحراکی طرح‘‘ حشو ہے اس کے بغیر بھی معنی مکمل ہیں۔ ’’نخل خشک ہوں وہ ابرکرم‘‘ نیز اس میں واحد جمع کا نقص بھی ہے ’’برگ و ثمر مل جائیں‘‘ کہیں گے۔


سید صاحب! ’’اپنی بات‘‘ کے عنوان سے آپ نے بڑی عمدہ باتیں کہی ہیں لیکن آپ نے بھی چند شعر ایسے پیش کئے ہیں جن میں کوئی نہ کوئی نقص موجود ہے مثلاً ذوقؔ کا یہ مصرع،


’’یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے‘‘


اس میں شکست ناروا کا ایسا عیب موجود ہے جس سے ذم کا پہلو نکلتا ہے ’’لوٹنے‘‘ کی تقطیع کی جائے تو ’’ٹ‘‘ متحرک (مفتوح) ہو جاتا ہے۔

جلوۂ روئے محمد کا ہے واصف طارقؔ

اس کی تربت میں اُجالے ہی اُجالے ہوں گے

(ص ۶۰)


اس سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ ’’جلوۂ روئے محمد‘‘ کے وصف سے قبر میں اُجالا ہوگا یا نہیں! شعر میں ’’اُجالے ہی اُجالے ہوں گے‘‘ غیر فصیح ہے۔ فصحائے زبان نے ہمیشہ ایسے مواقع پر ’’اُجالا ہی اُجالا ہوگا‘‘ استعمال کیا ہے۔


جو تجلی منور مرے دل میں تھی

وہ پس مرگ شمع لحد ہو گئی

(ص۶۲)


غزل میں تو قبر اور مرنے کے بعد حشر کے حالات کا بیان کسی طرح قابل اعتراض نہیں ہے لیکن نعت میں مرنے کے بعد قبر کے حالات اور حشر میں شفاعت و کامیابی جیسی باتیں قطعی نامناسب ہیں۔ شاعر کے دل میں کون سی یا کیسی تجلی تھی جو پس مرگ شمع لحد ہو گئی؟ ’’شمع لحد یا چراغ مزار‘‘ تو تعویذ قبر کے ساتھ بنے ہوئے طاقچے میں روشن کرتے ہیں جس کی روشنی قبر میں جانا تو ممکن نہیں ہے!! شعر سے یہ بھی نہیں کھلتا کہ ’’شمع لحد‘‘ اوپر روشن ہوئی ہے یا قبر کے اندر!؟صفحہ ۷۸ پر صرف ایک شعر درج ہے:


جادۂ حق نہ ملے ، اس کے وسیلے کے بغیر

جو ملاتی ہے احد سے، ہے وہ سرحد، احمد


معاف کیجئے گا، ’’سرحد‘‘ ملاتی نہیں ’’جدا‘‘ کرتی ہے۔ دو ملکوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے والی درمیانی لکیر (علامت) یا حد یا حد فاصل، کو سرحد کہتے ہیں۔ ڈاکٹر معین الدین صاحب کا مقالہ ان کے سابقہ مقالات کی طرح نہایت عمدہ اور فکر انگیز ہے۔ پی ایچ ڈی کے لئے تحریر کئے گئے مقالات کے تعلق سے ڈاکٹر صاحب نے جس تشویش کا اظہار کیا ہے ناچیز بھی ان کی تائید کرتا ہے۔ کالجوں میں (ہمارے یہاں) پرنسپل شپ کے لئے Ph.D. اور لکچرر شپ کے لئے NET (نیشنل ایلی جبلیٹی ٹیسٹ) لازمی ہونے اور تنخواہ کے اسکیل میں زبردست اضافے کے سبب کالج اساتذہ کسی نہ کسی صورت ڈگری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو بعض اہل قلم ایسے بھی ہیں جو بیگاری پر یہ کام کرتے ہیں یعنی Ph.D. کے مقالات لکھ کر روزی کما رہے ہیں، بعض گائیڈ ایسے ہیں جن کے پاس تیار مقالات موجود ہیں بس اسکالر اپنا رجسٹریشن ان کے انڈر کروا لے اورمعاوضے کی رقم پیشگی ادا کر دے بقیہ کام وہ خود سنبھال لیں گے یہاں تک کہ Viva بھی فکس ہو جاتا ہے۔


شخصی مقالات میں بڑی سہولت ہوتی ہے۔خاص طور پر اس وقت جب کہ وہ حیات ہوں تو صاحب موضوع خود شاندار مقالہ تحریر فرما کر اسکالر کی مشکل آسان کر دیتا ہے۔


(راقم جب پونہ یونیورسٹی، اب ساوتری بائی پھلے پونے یونیورسٹی میں اردو، فارسی اور عربی بورڈ آف اسٹڈیز کا چیئرمن تھا تب یہ تجویز پاس کی تھی کہ ’’زندہ شخصیات‘‘ پر Ph.D. کا رجسٹریشن نہیں کیا جائے گا اور اب تک یہ قانون جاری ہے۔)


ڈاکٹر ریاض مجید صاحب کا مقالہ ’’برسبیل نعت۔ الفاظ و تراکیب‘‘ نعت گویوں کے لئے دعوتِ عمل تو ہے لیکن جب شاعر الفاظ و تراکیب کو اشعار میں ’’فٹ‘‘ کرنے لگتا ہے تو جذیہ و تاثیر کہیں گم سے ہو جاتے ہیں اور شعر الفاظ و تراکیب کا گورکھ دھندہ بن کر رہ جاتے ہیں ’’آمد‘‘ کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے اور آوردہی آورد رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے نظریئے کی تائید میں جتنے بھی اشعار پیش کئے ہیں سب کے سب بے کیف ہیں۔


ڈاکٹر عزیز احسن کا مقالہ ’’نعتیہ ادب کی تخلیق، تنقید اور تحقیق کے تلازمات‘‘ بہت ہی عمدہ ہے۔ انھوں نے جس طرح تلفظ، معنی، عروض اور اسلوب پر شعراء کی گرفت کی ہے اسی طرح نعت رنگ میں اشاعت کے لئے موصول ہونے والی شعری تخلیقات پر بھی نگاہ ڈالتے رہیں تو بہت سارے خاروخس پہلے ہی صاف ہو جایا کریں۔ مجھے ان کے ان جملوں سے بڑا مزہ آیا:

(i) یہ عیب اصوات کے ادغام کی وجہ سے بہت سنگین ہو گیا ہے۔


(ii) صل علیٰ محمد کہنے سے بات بنتی ہے لیکن بعض شعراء یہ جانے بغیر ایک مجہول فقرہ صل علیٰ ہی لکھتے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ بعض شعراء اسی مجہول فقرے کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اسم گرامی سمجھتے ہیں۔ (iii) شعر انتہائی رکیک اور متبذل ہے۔

(iv) قمر جلالوی کے شعر پر ہلالؔ جعفری نے جو تین مصرعے لگائے ہیں وہ معراجیہ ادب میں انتہائی رکیک شعر ہے۔ حیرت ہے کہ تضمین نگار نے اس مبتذل شعر کی تضمین کر دی۔

غلط اشعار خصوصاً نعتیہ اشعار پر اسی طرح سختی سے گرفت کرنی چاہئے، تاکہ شعراء غزل کی طرح نعت میں بے راہ روی کا شکار نہ ہوں۔ اور انھیں یہ خوف رہے کہ کچھ لوگ آج بھی قلم کو نشتر کی طرح استعمال کرنا جانتے ہیں۔

کاشف عرفان صاحب کے مقالے ’’اردو نعت نگاری پر مابعد جدیدیت کے اثرات‘‘ میں اپنا ایک شعر دیکھ کر ایک خوشگوار جھٹکا سا لگا کیوں کہ میں آج بھی ’’مابعد جدیدیت کا فلسفہ‘‘ سمجھنے سے قاصر ہوں، بہرحال کاشف صاحب کا شکریہ کہ انھوں نے میرے یہاں بھی مابعد جدیدیت کی نشاندہی فرمائی۔ کاشف صاحب نے بھی اپنے مقالے میں کئی عیب دار اشعار نقل کئے ہیں۔


اورنگِ سلیماں کیلئے رشک کا باعث

اے سید کونین ترے در کی چٹائی

(ص ۱۰۴)


’’اورنگ سلیماں‘‘ کوئی جاندار شئے نہیں ہے کہ اس میں رشک و حسد کا جذبہ کارفرما ہو!! دیگر ’’چٹائی‘‘ گھر کے اندر بچھائی جاتی ہے، در پر پا تختہ (پائدان) بچھاتے ہیں۔


ملی ہے اس لئے خلعت کہ میں نے زیر عبا

چلا تھا گھر سے تو شمشیر بھی پہن لی تھی

(ص ۱۵۶)


شمشیر اگر کسی قسم کا لباس ہے تو ٹھیک ہے ورنہ یہ تو کمر سے باندھی جاتی ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ شاعر نے شمشیر ’’زیر عبا پہن لی تھی! شاید زیر جامے کی طرح!! ایک بات اور کیا صرف شمشیرپہن لینے سے خلعت مل جاتی ہے؟درج ذیل اشعار کی واقعیت، حقیقت اور تعلّی پر کیا کہا جا سکتا ہے:


لیل و نہار آپ کے در کے طواف میں

لوح و قلم ہے آپ کی مدحت کا آئینہ

(ص ۱۵۶)


’’ہے‘‘ اگر کتابت کی خامی نہیں ہے تو اسے ’’ہیں‘‘ ہونا چاہئے۔


میں اسی روز سے منسوب تری ذات سے ہوں

جب کہ جبریل امیں بھی ترا دربان نہ تھا

(ص ۱۵۶)


اس شعر پر میں اتنا کہوں گا کہ کاشفؔ صاحب ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کا مضمون ’’نعتیہ ادب کی تخلیق، تنقید اور تحقیق کے تلازمے‘‘ (نعت رنگ ۲۵) کا بغور مطالعہ فرمالیں تو ایسے اشعار نقل کرنے سے بچ جائیں گے۔ کاشفؔ صاحب نے غالبؔ کے اس شعر:


سائے کی طرح ساتھ پھریں سر و صنوبر

تو اس قد دلکش سے جو بازار میں آوے


سے متعلق اپنے استاد محترم ڈاکٹر عبدالعزیز ساحرؔ صاحب کی گفتگو کا درج ذیل اقتباس درج کیا ہے:


’’انھوں نے (ساحرؔ صاحب نے) فرمایا کہ غزل کے اس شعر میں دنیاوی محبوب کا ذکر نہیں کیابلکہ یہ محبوب، محبوبِ خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ انھوںنے مزید فرمایا کہ حضرت عمر فاروقؓ کی طویل قامتی کے باعث سرو کی علامت ان سے منسوب ہے جب کہ صنوبر مناسب قامت کے باعث حضرت علیؓ کی شخصیت کی علامت ہے اور شعر کی تشریح ایک منظر پر مبنی ہے جب نبی اکرم اپنے ظاہری جمال کے ساتھ بازارِ مدینہ میں تشریف لاتے تو حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ ان کے ساتھ چلا کرتے تھے۔‘‘ (ص۱۵۰)


محترم ڈاکٹر عبدالعزیز ساحرؔ (ہیڈ آف اردو ڈپارٹمنٹ AIOU) سے ایسی غلطی کی امید کم ہی ہے ممکن ہے کہ کاشفؔ صاحب ہی کچھ بھول رہے ہوں، ان کے بیان کردہ اقتباس کی نہ کوئی سند ہے اور نہ کہیں ایسی کوئی روایت ہی ملتی ہے اور سب سے اہم بات تو یہ کہ غالبؔ نے اپنے شعر میں ’’بازار‘‘ نہیں ’’گل زار‘‘ استعمال کیا ہے۔ اس صورت میں سارا اقتباس ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔


ڈاکٹر شبیر احمد قادری اور ڈاکٹر اصغر علی بلوچ نے بہترین مقالہ تحریر فرمایا ہے۔ اسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے بیک وقت پچاسوں کتابیں پڑھ لی ہیں۔ بہت بہت مبارکباد!


گوہرؔ ملسیانی صاحب نے اپنے مضمون ’’نعت اور رسول اکرمصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تقاضے‘‘ میں جہاں اور اشعار درج کئے ہیں وہیں یہ شعر بھی ہے۔


پیشانی ہے جزوِ مصحف رُو

دس پارے کے دو رکوع ابرو

(ص ۲۹۴)


ایک عرصے سے میرے دل و دماغ میں ایک بات شدت سے کھٹک رہی تھی کہ’’قرآن کو سیپارہ کیوں کہتے ہیں؟ سی پارہ یعنی تیس ٹکڑے! اور اسی مناسبت سے ’’جزدان‘‘ بھی وجود میں آیا یعنی ’’جزو‘‘ رکھنے کی تھیلی!! اسے ’’کتاب دان یا قرآن دان‘‘ کیوں نہیں کہتے!؟


کھٹکنے والی بات یہ ہے کہ جب قرآن کریم ’’مکمل کتاب‘‘ ہے تو اسے سی پارہ (تیس ٹکڑے یا جزو) کیوں کہتے ہیں؟ اس سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ قرآنِ حکیم تیس پاروں پر مشتمل ہے، مکمل کتاب نہیں!! ’’جزدان‘‘ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ا س تعلق سے میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ:


(i)قرآن حکیم کی سورتوں کی ترتیب توفیقی یعنی منجانب اللہ ہے۔

(ii)پاروں کی تقسیم غیر توفیقی یعنی اجتہادی ہے جو بعد کے ادوار میں علماء نے کی۔ (کن علماء نے کی اس کی وضاحت نہیں ملتی))۱۲

iiiھ میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے زید بن ثابتؓ کو اس کام پر مامور کیا کہ مختلف لوگوں کے پاس قرآن کی لکھی ہوئی تمام سورتوں کو جمع کریں، انھوں نے ایسا ہی کیا، ہر آیت کی تصدیق و تصحیح دو حفاظ کے ذریعے کی اور تمام سورتوں کو ایک مخصوص سائز کے چمڑے کے اوراق پر لکھا پھر ایک ہی جلد میں ایک ڈوری سے اس کی شیرازہ بندی کر دی گئی۔


عہد عثمانیؓ میں اس قرآنی نسخے کی سات نقلیں حضرت زید بن ثابتؓ ہی کی نگرانی میں تیار کرائی گئیں اور مملکت اسلامیہ کے سات مراکزمیں بھیج دی گئیں۔ اس مصحف عثمانی کے دو نسخے آج بھی ترکی اور تاشقند کے میوزیم میں موجود ہیں۔


چونکہ شیعہ حضرات کے نزدیک موجودہ قرآن مکمل نہیں ہے اس کے دس پارے امام غائب سامرہ کے غار میں لے کر چلے گئے ہیں اور جب وہ مہدیٰ معہود کے روپ میں ظاہر ہوں گے تو وہ دس پارے بھی لے کر آئیں گے اس وقت قرآن مکمل ہوگا۔ اسی لئے موجودہ قرآن کو ’’پاروں‘‘ میں تقسیم کیا گیا ہے اور لفظ ’’پارہ‘‘ فارسی ہے۔ اسی عقیدے کو ظاہر کرنے کے لئے ’’جزدان‘‘ کی اختراع ہوئی اور غیر شعوری طور پر یہ اصطلاح اہل سنت میں بھی جاری ہو گئی۔


علمائے اہل سنت اور مفتیانِ کرام سے میری درخواست ہے کہ اس تعلق سے ایک مجلس کا قیام عمل میں لائیں اور ایک اجتماعی و اجتہادی فیصلہ فرمائیں کہ:


’’قرآن کریم کو تیس پاروں میں تقسیم نہ کرتے ہوئے اسے ’’تیس ابواب‘‘ میں تقسیم کیا جائے۔ اس صورت میں ’’تیس ابواب‘‘ کے ساتھ قرآن کریم ’’مکمل کتاب‘‘ کی شکل میں ہمارے سامنے ہوگا۔‘‘


فاروق ارگلی (انڈیا) کا مضمون ’’اردو کے سکھ نعت گو شعراء‘‘ بہت خوب ہے۔ انھوں نے واقعی بڑی محنت سے مضمون لکھا ہے۔ا س میں شک نہیں کہ سکھوں کی نعت شعری، فنی اور جذباتی لحاظ سے نہایت قابل قدر ہے لیکن ہے تو شاعری ہی کیوں کہ جب تک ’’اقرارِ رسالت‘‘ نہ ہو ان میں وہ خوبیاں اور تاثیر پیدا نہیں ہو سکتی جو اہل ایمان کے کلام کا حصہ ہے اور جہاں تک کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ کے اس شعر کا تعلق ہے۔


عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں

صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں


اس شعر کو فاروق صاحب نے اپنے مقالے کا سرنامہ بنایا ہے۔ علماء اور عام مسلمانوں اور ناقدین نعت تک اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ’’رحمت اللعالمین‘‘ کہا ہے یعنی سارے عالم اور ساری مخلوقات کے لئے رحمت!! نیز مسلمانوں کے کسی بھی طبقے نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اپنی ’’اجارہ داری‘‘ کا دعویٰ نہیں کیا ہے تو اس صورت میں اس شعر کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ ڈاکٹر شہزاد احمد کا مضمون ’’نعتیہ کلیات کی روایت، ایک مطالعاتی جائزہ‘‘ معلومات افزاء مضمون ہے لیکن ان کے انتخاب کردہ اشعار میں سے بعض میں فنی نقائص موجود ہیں۔ ملاحظہ ہو:


اٹھا کے آنکھ کو میں نے جہاں جدھر دیکھا

تو جلوہ تیرا ہی رب العلا ادھر دیکھا

(ص ۳۴۵)


’’کو‘‘ حشو ہے۔ آنکھ کو اٹھا کر دیکھنا غیر فصیح ہے۔ جدھر، اُدھر غلط قوافی ہیںاور اگر کچھ رعایت کی جائے تو ’’ایطاء‘‘ ہے۔


کفش بردارِ نبی میں ہوں اے شائق مشہور

رتبہ شاہوں سے بھی ہے افضل و برتر اپنا

(ص ۳۴۵)


کیا شاعر کے پاس کفش نبی ہے؟ اس کے علاوہ ’’میں‘‘ اور ’’اپنا‘‘ میں شترگربہ ہے۔


ثنا خواں سب زمانہ ہے ثنا خوانِ محمد کا

بشر تو کیا خدا خواہاں ہے خواہانِ محمد کا

(ص ۳۴۹)


اب تک تو شعراء ’’خدا‘‘ کو حضور کے دیدار کا خواہاں و آرزو مند بتاتے تھے، یہاں شاعر دو قدم آگے بڑھ گیا ہے یعنی اب خدا ’’خواہانِ محمد‘‘ کا بھی خواہاں و طلب گار ہو گیا ہے!!


مختارِ دو عالم کے ہو تم ظلِ الٰہ

پس خوبیاں ہم سے ہوں بھلا کیا محسوب

(ص ۳۵۳)


’’مختارِ دو عالم‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے تم ظلِ الٰہ ہو کیا مطلب؟ کیا مختارِ دو عالم اور الٰہ دو الگ الگ وجود ہیں؟


جو دنیا میں ترا کھاکر ترے شکوے کریں یارب

تعجب ہے کہ ان پر بھی رہے لطف و کرم تیرا

(ص ۳۵۵)


’’ترے شکوے‘‘ یہاں غیر فصیح ہے ایسے مواقع پر فصحا ’’ترا شکوہ‘‘ کہتے ہیں۔ لفظ ’’تعجب‘‘ نے شاعرکو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کسی فعل پر تعجب کا اظہار کرنا اس کی قدرت کاملہ پر شک کرنے کے مترادف ہے۔ شعر میں اللہ کی شانِ ربوبیت پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ اس کا کھاکر بھی اس کا شکوہ کرنے والوں پر لطف و کرم فرماتا ہے۔ شاعر نے یہ نہیں سوچا کہ وہ کفار و مشرکین تک کو رزق دیتا ہے!!


دو جہاں میں ہے رواں سکہ رسول اللہ کا

دونوں عالم پڑھتے ہیں کلمہ رسول اللہ کا

(ص ۳۵۸)


اصل لفظ ’’کَلِمَہْ‘‘ ہے، ’’کلمہ پڑھتے تھے ہم چھائوں میں تلواروں کی‘‘


ہے مثال ایسی کوئی وقت کے دامن میں تو لائو

ایک انگلی سے کہیں چاند بھی شق ہوتا ہے


(ص ۳۶۳)


’’ایک انگلی سے‘‘ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے حضورنے چھری کی طرح انگلی چاند پر پھیری اور وہ سالگرہ کے کیک کی طرح شق ہو گیا!! ایک انگلی کی بجائے ’’اِک اشارے‘‘ کا محل ہے نیز ’’بھی‘‘ حشو ہے۔


نعت محبوب داور سند ہو گئی

فرد عصیاں مری مسترد ہو گئی

(ص ۳۶۷)


آج کل شعراء میں یہ عجیب سی غلط فہمی بلکہ کج فہمی پرورش پا رہی ہے کہ ’’نعت‘‘ ہی بخشش کا ذریعہ ہے بقیہ تمام عبادات بے معنی ہیں یہاں تک کہ شاعر اپنے انجام کا خود فیصلہ کرنے لگا ہے، اپنی فرد عصیاں کو خود ہی مسترد کررہا ہے جب کہ نص صریح ہے کہ انبیاء کے سوا ہر شخص کا حساب کتاب لازماً ہوگا کسی کو اس سے مفر نہیں۔ ’’بخشش‘‘ کے اس ’’معیار‘‘ پر قدغن لگنی ضروری ہے۔


مجھ سا عاصی بھی آغوشِ رحمت میں ہے

یہ بھی بندہ نوازی کی حد ہو گئی

(ص۳۶۷)


’’بھی‘‘ کی بجائے ’’تو‘‘ چاہئے۔ اس کے علاوہ شاعر کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کی قدرت و رحمت کی کوئی حد ہی نہیں ہے آپ نے ’’حد ہو گئی‘‘ کہہ کر اس کی رحمت و بندہ نوازی کو محدود کر دیا ہے۔


حمد تیری ہے یہاں اور شکریہ تیرا ادا

ہے تو ہی معبود برحق جان تجھ پر ہے فدا

(ص ۳۶۸)


اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے شکریہ نہیں! شکر کے معنی ہیں سپاس، تعریف!! شکریہ انسانوں کا ادا کیا جاتا ہے۔ ’’زبان‘‘ سے تو یہ کسی مبتدی کا شعر معلوم ہوتا ہے۔


آئو اللہ کے دل دار کی کچھ بات کریں

ہاں اسی حسنِ طرح دار کی کچھ بات کریں

(ص ۳۶۸)


حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ کا دلدار کہنا قطعی نامناسب ہے اور آپ کے حسن کو ’’حسنِ طرحدار‘‘ بھی نہیں کہنا چاہئے کہ یہ غزل یا پھر عورتوں کے حسن کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ آپ کے حبیب ہیں دلدار نہیں!!


ظہور کرتی ہے جس دم سحر مدینے میں

اذانیں دیتے ہیں دیوار و دَر مدینے میں

(ص ۳۷۳)


خلافِ واقعہ شعر ہے ’’اذانیں‘‘ دینے کی بجائے ’’چمک سے اٹھتے‘‘ جیسا کوئی ٹکڑا چاہئے تھا۔ ویسے بھی یہ نعت کا شعر نہیں ہے۔


ہوا کے جھونکوں میں خوشبو بسی ہوئی ہے وہاں

درود پڑھتا ہے اک اک شجر مدینے میں


شجر، حجر، طیور و وحوش کے تسبیح و تہلیل سے متعلق روایتیں موجود ہیں لیکن ان کے درود پڑھنے کی روایت کہیں نظر نہیں آئی!! مدینے کے شجر ہیں تو درود پڑھیں گے اور مکہ شریف کے شجر ذکر کریں گے!؟


روحِ کونین کا ترجماں چاہئے

مدح احمد کو وہ زباں چاہئے

(ص ۳۶۸)


اگر کمپوزنگ کی خامی نہیں ہے تو ثانی مصرع بحر سے خارج ہے۔ ’’وہ‘‘ کی بجائے ’’ایسی‘‘ چاہئے۔ نیز زبان کی مناسبت سے ’’کا ترجماں‘‘ کی بجائے ’’کی ترجماں‘‘ چاہئے۔


یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو

پڑھ کے نبی کی نعت لحد میں اُتار دو

(ص ۳۹۰)


ایسے وقت دعا کی آرزو نہ کرنا بدنصیبی کی بات ہے۔ لحد میں اتارنے کی دعا سنّت ہے ا س کے بجائے نعت پڑھنا خلافِ سنّت عمل ہے۔


مرتبہ سارے مراتب سے ہے اونچا تیرا

کون لکھ سکتا ہے قرآں سا قصیدہ تیرا

(ص ۳۹۴)


قصیدہ نظم کی وہ قسم ہے جس میں کسی کی تعریف یا ہجو ہو، اس کے علاوہ قصیدے کا خاص عنصر غلو اور مبالغہ ہوتا ہے اس لئے میری دانست میں قرآن کو حضور کا قصیدہ کہنامناسب نہیں ہے جب کہ قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے شریعت ہے۔


منظرؔ عارفی کا مضمون ’’اردو کے نعتیہ اشعار میں چٹائی، غار حرا جو کے تذکار‘‘ بہت عمدہ مضمون ہے۔ اس سے کم از کم ان شعراء کی اصلاح ضرور ہو گی جو حضور کو نعوذ باللہ ’’ایک انتہائی نادار شخصیت‘‘ کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔


’’نعت نامے اور نقد نعت‘‘ ڈاکٹر دائود عثمانی کے عمیق مطالعے کا گواہ ہے۔ ان کی یہ کاوش بتاتی ہے کہ وہ ہر تحریر اور خصوصیت سے ’’نعت رنگ‘‘ کے ایک ایک لفظ کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ ان کے معنی و مفاہیم کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ ان نعت ناموں سے نعت رنگ کے مزاج کی شناخت بھی آسان ہو گئی ہے۔ سرائیکی شاعری اور زبان سے متعلق سرسری کہیں پڑھا تھا لیکن کچھ پلے نہیں پڑا۔ خورشید ربّانی صاحب کا شکریہ کہ انھوں نے نہ صرف سرائیکی بلکہ سرائیکی شاعری میں نعت سے متعارف کروایا۔ اللہ نے ہر زبان میں وہ خوبی رکھی ہے کہ اس کے حبیب کی مدح سرائی میں معذور نہیں ہے۔


ہم احتیاط سے رکھتے ہیں اس زمیں پہ قدم

زمین نعت ہماری کلام ان کا ہے

(ص ۵۴۳)

سید صاحب! ’’زمین نعت پہ میں تو کبھی نہ پائوں رکھوں!!‘‘


انور شعورؔ کی نعتیں’’میرے مولا بلا لو مدینے مجھے‘‘ یہ مصرع واوین میں ہونا چاہئے کیوں کہ یہ شعورؔ صاحب کا نہیں ہے۔( ص۵۴۸)


شاہِ عرب کے پیٹ پہ پتھر بندھے ہوئے

دیکھے تو کوئی طرزِ معیشت حضور کی

(ص ۵۴۹)


پیٹ پر پتھر بندھے ہونے سے کون سا طرزِ معیشت ظاہر ہوتا ہے؟ اور کیا حضور ہمیشہ پیٹ پر پتھر باندھے رہا کرتے تھے!! یہ تو صرف ایک بار ’’خندق‘‘ کے موقع پر ہوا تھا اور بس!! طرز مونث نہیں ’’مذکر‘‘ لفظ ہے۔


ہوں گے ضرور حاضر دربار ہم شعورؔ

ہر امتی کا حق ہے زیارت حضور کی

ہر امتی کا ’’حق‘‘ نہیں ’’خواہش، آرزو، تمنّا‘‘ ہے اور اگر حق ہے تو بے چارے جو بغیر زیارت دنیا سے رخصت ہو گئے وہ اپنی اس محرومی کا کس پر دعویٰ کریں گے؟


رکھتا ہے شوقِ شربت دیدار آپ کا

یہ رند آپ کا ، یہ گنہگار آپ کا

(ص ۵۵۰)


شعر میں ’’رند‘‘ حشو قبیح ہے۔ رند، شراب کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ’’شربت‘‘ کے ساتھ نہیں۔ یہاں رند کی بجائے ’’تشنہ‘‘ کر دیں تو یہ نقص دور ہو جاتا ہے۔


رہتا ہے انتظار میں مشغول رات دن

بے روزگار آپ کا بیکار آپ کا


یہ تو خلافِ واقعہ، غلو یا کذب بیانی ہے شاعر کے لیے رات دن کی ایسی مشغولی تو ممکن ہی نہیں ہے۔ ’’بیکار آپ کا‘‘ میں تعقید معنوی بھی ہے بلکہ اس میں ایک طرح ذم کا پہلو بھی نکلتا ہے۔


نہ کوئی آپ سے ذی مرتبت زمانے میں

نہ کوئی آپ سے ذی جاہ یا رسول اللہ


دونوں مصرعوں میں ’’سے‘‘ کی بجائے ’’سا‘‘ چاہئے۔ شاید کمپوزنگ۔۔۔۔؟ اگر نہیں تو ’’آپ سے زیادہ/ بڑھ کر‘‘ کہنا چاہئے تھا۔


ہمارے قلب میں فاران سے ہوئی روشن

کلیم لائے تھے جو آگ طور سے اپنے


کیا شاعر فاران پر موجود تھا؟؟ یا پھر اب بھی فاران پر وہ آگ موجود ہے؟؟ حضور نے ’’دلوں کو نور‘‘ عطا کیا تھا یا آگ!؟ ردیف ’’اپنے‘‘ بھی ضائع ہو گئی یعنی اس کے بغیر بھی شعر مکمل ہے۔


شبِ سیاہ میں جب کچھ نظر نہیں آتا

وہ کوئی راہ دکھاتے ہیں نور سے اپنے


اگر نعت کے عنوان سے یہ شعر درج نہ ہوتا تو کسی صورت اسے نعت کا شعر نہیں کہا جا سکتا۔ ’’کوئی‘‘ حشو ہے یہاں ’’وہ کوئی‘‘ کی بجائے ’’حضور‘‘ کر دیں تو؟شعورؔ صاحب کی نظم کا شعر ہے


رواں تو وقت کی نہر فرات رہتی ہے

سحر ہو شام ہو دن ہو کہ رات رہتی ہے


’’فرات‘‘ حشو ہے۔ وقت کی نہر رواں رہتی ہے کافی تھا۔ وقت کے ساتھ فرات، راوی، گنگا، جمنا کہنا غیر ضروری ہے۔


کہاں شعورؔ سا کج مج بیاں و ہیچ مداں

کہاں حبیب خدا کی فضیلتوں کا بیاں

ہوئے ہیں نعت میں اعجاز شعری و ادبی۔۔۔۔ محمد عربی

محمد عربی اے محمد عربی


جب تخاطب محمد عربی سے ہے تو پھر یہاں ’’حبیب خدا‘‘ کہنا درست نہیں ہے کیوں کہ اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حبیب خدا اور محمد عربی دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ شاعر کے ’’دعویٔ اعجازِ شعری و ادبی‘‘ پر کیا کہا جائے؟


ہو کر بتوں سے خالی وہ بن گئے مثالی

ممنون ہیں نہایت بت خانے، مصطفیٰ کے


منادر ’’بتوں‘‘ سے خالی ہو گئے تو پھر وہ بت خانے کہاں رہ گئے؟ اور اگر بت خانے ہیں تو ان میں بت بھی لازماً ہوں گے!! اور اگر قاری روانی میں بت خانے اور مصطفیٰ میں وقفہ نہ دے سکا تو کیا مطلب ہوگا؟


امید و بیم میں رکھتا ہے شوقِ دید ہمیں

کبھی قرار کبھی اضطراب آتا ہے


’’بیم‘‘ (خوف) کا استعمال بے محل ہے۔ اضطراب ’’آتا‘‘ نہیں، ہوتا ہے۔


محو طواف کون و مکاں آپ کے لئے

پیدا کیا گیا ہے جہاں آپ کے لئے


اولیٰ مصرع میں ’’لئے‘‘ حشو قبیح ہے۔ ’’محو طواف کون و مکاں آپ کے‘‘ پر بات مکمل ہو جاتی ہے اور اگر ’’لئے‘‘ کو شامل کریں تو سوال اٹھتا ہے کہ: ’’کون و مکاں آپ کے لئے کس کے طواف میں محو ہیں؟‘‘


ثانی مصرعے میں ’’جہاں‘‘ بھی حشو قبیح ہے کیوں کہ ’’کون و مکاں‘‘ میں یہ بھی شامل ہے۔


اس امر پر کہ سب سے عظیم آدمی ہے کون

ہے اتفاقِ دیدہ و راں آپ کے لئے


شعر کی ردیف ضائع ہو گئی۔ اتفاق کے ساتھ ’’کیلئے‘‘ نہیں ’’پر‘‘ کی ضرورت ہے۔ یعنی ’’دیدہ وروںکا آپ پر اتفاق ہے۔‘‘


ہے زیارت کدۂ روضۂ محبوبِ خدا

طیبہ اچھا نہ لگے باغِ جناں سے کیسے


شعر میں زبردست تعقید لفظی و معنوی ہے یعنی شاعر کہنا چاہتا ہے کہ ’’روضہ زیارت کدہ ہے‘‘ لیکن شعر کی بندش سے ظاہر ہوتا ہے کہ، ’’طیبہ محبوب خدا کا زیارت کدہ ہے! یعنی حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود اپنے روضے کی زیارت فرما رہے ہیں۔‘‘

’’جگمگ نور نہایا رستہ‘‘ (امین راحت چغتائی۔ پرویز ساحرؔ)

جلیل عالیؔ کی نظم کا راحت اور پرویز صاحبان نے نہایت عمدہ جائزہ پیش کیا ہے۔ صرف ایک چیز مجھے کھٹک رہی ہے جس کے لیے میں ماہر فن عروض سے رجوع ہونا چاہتا ہوں کہ نظم کے یہ دو اشعار ملاحظہ ہوں:


اللہ! اللہ! آقا! آقا!!

کیسی منزل کیسا رستہ

قدم قدم قرباں دل اس پر

جس کے وسیلے پایا رستہ

(ص ۵۶۹)


پہلے شعر کی تقطیع رکن ’’فعلن‘‘ مثمن سالم پر یوگی جب کہ دوسرے شعر کا پہلا مصرعہ اس وزن پر نہیں ہے تو کیا ماہرین عروض نے اسے جائز قرار دیا ہے؟

’’سید ضیاء الدین نعیم‘‘

تہجد میں کھڑے ہوتے تھے جب رب کی عبادت کو

تو اک سیل رواں اشکوں کا آنکھوں سے برستا تھا

(ص ۵۷۷)


’’سیل رواں‘‘ کا مطلب ہے ’’بہتا ہوا سیلاب‘‘ اور سیل برستا نہیں، بادل برستا ہے!!


ساری بد زیبیاں ماحول کی زیبا کر دیں

حسن نیت نے پیمبر کے سجائے شب و روز


اگر کوئی شئے ’’زیبا‘‘ ہے تو وہ ’’بد‘‘ کیسے ہو گی؟ یہاں ’’بد رنگیاں‘‘ بھی آ سکتا تھا۔ ثانی مصرعے کے ٹکڑے ’’پیمبر کے‘‘ میں تقصید ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ’’حسن نیت نے پیمبر کے شب و روز سجائے!‘‘ ’’کے‘‘ کی بجائے ’’کی‘‘ چاہئے تھا۔


خیر اندیش آپ اپنے دشمنوں کے بھی رہے

بغض رکھا ہی نہیں دل میں کسی کے واسطے

رحمۃ اللعالمین کا امتی ہے تو نعیمؔ

دلمیں ہرگز بغض مت رکھنا کسی کے واسطے


دونوں شعروں میں ردیف ’’کے واسطے‘‘ ضائع ہو گئی، اس کی بجائے صرف ’’سے‘‘ چاہئے۔


بھولا ہوا تھا اپنی حقیقت کو آدمی

آئینہ آدمی کو دکھایا حضور نے


’’آئینہ دکھانا‘‘ محاورہ ہے جس کا مطلب ہے ’’کسی کو اس کی اصلیت، اوقات یا عیب دکھانا!‘‘ اس صورت میں میرے خیال میں یہاں آئینہ دکھانا کا استعمال صحیح نہیں ہوا ہے۔


چلنا خدا کے حکم پہ انساں کے بس میں ہے

اپنے عمل عمل سے جتایا حضور نے

یہاں پہلے ’’عمل‘‘ کو ’’ہر اِک‘‘ کر دیں تو!!

وہ عفو ان کا وہ ان کی شفقت وہ فتح کے دن بھی یہ عنایت

کہ جائے ہر شخص امان پائے صلوٰۃ ان پر سلام ان پر


یہاں ’’کہ جائے ہر شخص امان پائے‘‘ محل نظر ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ’’جائو ہر شخص کو امان دی گئی‘‘ اس معنی کے مطابق یہ بیان غیر فصیح ہے اور اگر یہ مطلب ہے کہ ’’جائے امان پائے‘‘ تو جائے اور امان کے بیچ ’’ہر شخص‘‘ کی موجودگی غلط ہے جب کہ ’’جائے، ہر شخص کو امان دی گئی‘‘ یا ’’ہر شخص کو امان دی گئی!!‘‘


نعیمؔ ان کی محبت تھی رب سے بے پایاں

رضا پہ رکھتے تھے اس کی نظر خدا کے رسول


مصرعۂ اولیٰ میں ’’کی‘‘ کی بجائے ’’کو‘‘ چاہئے اور جملے کی ترکیب یوں درست ہوگی ’’اس کی رضا پہ نظر رکھتے تھے خدا کے رسول‘‘


انھوں نے تزکیہ فرمایا اہل ایماں کا

نکال لے گئے ظلمت سے روشنی کی طرف


عجیب سا شعر ہے ’’انھوں نے اہل ایماں کا تزکیہ فرمایا اور انھیں ظلمت سے روشنی کی طرف نکال لے گئے!‘‘ کیا اہل ایمان ظلمت میں تھے؟ یہان ’’اہل ایماں‘‘ کی بجائے ’’اہل عصیاں‘‘ ہونا چاہئے!!


پروفیسر فتح محمد ملک کا مضمون ’’اقبال، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں‘‘ عمدہ کاوش ہے۔ڈاکٹر حبیب الرحمن رحیمی نے اپنے مضمون، محسنؔ کاکوروی کے قصیدۂ لامیہ پر ایک نظر میں‘‘ جو اتفاق و اختلاف کی بحث چھیڑی ہے وہ برسوں پہلے سرد ہو چکی ہے اب اس کے احیاء کا کوئی موقع ہے نہ مطلب!! ان کا یہ کہنا:


’’جہاں تک اس کی تشبیب میں ہندوانہ ماحول و فضا یا ہندو صنمیات کی تلمیحات کے استعمال کی بات ہے تو ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ قصیدہ اس وقت کہا گیا ہے جب برصغیر متحد تھا، اس کی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ ظاہر ہے اس وقت اس متحد ملک میں ہندو اور مسلمان سب ایک ساتھ رہتے تھے اور اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں مذاہب ایک دوسرے پر اثر انداز ہوئے ہیں اس وجہ سے مسلمان ہندوئوں کی مذہبی شخصیات اور مقامات سے بخوبی واقف تھے اور ہندو بھی مسلم معاشرے میں گھل مل گئے تھے یہی وجہ ہے کہ متعدد غیر مسلم شعراء نے بھی نعت گوئی کا شرف حاصل کیا، اس ماحول و معاشرے میں محسنؔ نے یہ قصیدہ کہا۔‘‘ (ص۴۶۵)


نہایت بھونڈا جواز اور نہایت بودی دلیل ہے۔ ماحول و معاشرے کے اثرات اپنی جگہ مسلّم لیکن مذاہب کا ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا قطعی ناقابل قبول ہے۔ محسنؔ نے کبھی مندر میں ماتھا ٹیکا اور نہ کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ اور کرشن بہاری نورؔ نے مسجد میں نماز پڑھی!! اب محسنؔ کے اس قصیدے پر بحث لاحاصل ہے۔


پروفیسر محمد اقبال جاوید کا مضمون ’’ڈاکٹر محمود غازی‘‘ بہت خوب ہے، مضمون میں یہ دو شعر ہیروں کی طرح جگمگا رہے ہیں:


لہو جلا کے کیا لفظ کا دیا روشن

زمیں اٹھائی، اسے آسماں کیا ہم نے

کسی کے روبرو بیٹھا رہا میں بے زباں ہوکر

مری آنکھوں سے حسرت پھوٹ نکلی داستاں ہوکر


سرشارؔ صدیقی کے درج ذیل اشعار نے ذہن کے دریچے کھول دیئے


مدینے والے کو سب کچھ بتا دیا میں نے

بہت سکوں ہے گناہوں کے اعتراف کے بعد


اس میں اگرچہ ’’مدینے والے‘‘ حس سمع و بصر پر گراں گزرتا ہے اس کی بجائے ’’مدینے جا کے سبھی کچھ بتا دیا میں نے‘‘ جیسا مصرع ہوتا تو لطف اور بھی دوبالا ہو جاتا۔

درِ کعبہ ہو کبھی ہو مرے سرکار کا دَر

کاش یوں دربدری میرا مقدر ہو جائے


محترم پروفیسر انوار احمد زئی کا مضمون ’’پاکستان میں اردو نعت کا ادبی سفر۔ ایک مطالعہ‘‘ ڈاکٹر عزیز احسنؔ صاحب کے تحقیقی مقالے پر مبنی ہے جو ہم جیسوں کے جذبۂ شوق کو مہمیز کرتا ہے کہ اس سے سیراب ہوا جائے! کیا یہ ممکن نہیں کہ کتاب کی ایک جلد ہمیں بھی مہیا کی جائے!


حاصل مطالعہ


اس عنوان کے تحت ڈاکٹر عزیز احسنؔ صاحب نے بڑے نپے تلے انداز میں تبصرے کئے ہیں۔ شعراء کے عمدہ اشعار بھی منتخب کئے ہیں لیکن ایک جگہ چوک گئے ہیں:


کبھی غلاموں کو دے رہے ہیں وہ باغِ جنت کی راہ داری

کبھی فقیروں کو دستِ رحمت سے جامِ کوثر پلا رہے ہیں


شعر میں دو نقائص ہیں: (۱)راہ داری دینا غلط ہے ’’پروانۂ راہ داری‘‘ دیا جاتا ہے۔


(۲) ’’جامِ کوثر‘‘ پلا رہے ہیں؟ یہ تو روزِ محشر کا معاملہ ہے!! خود ڈاکٹر عزیز احسن لکھتے ہیں:


’’حشر و نشر کے تخیلاتی بیان کو واقعاتی سطح پر بیان کرنے سے گریز لازم ہے۔ ورنہ شاعر خواہ مخواہ دروغ گو قرار پائے گا۔‘‘( نعت رنگ نمبر ۲۵، ص۱۲۲)


ایوانِ مدحت


حنیف اسعدی مرحوم کی نعت کی ردیف ’’نہیں ان کے بعد کوئی نہیں‘‘ سے تعقید پیدا ہو رہی ہے، تین شعر ملاحظ ہوں:


کوئی ایسی ذات ہمہ صفت، کوئی ایسا نور ہمہ جہت

کوئی مصطفیٰ، کوئی مجتبیٰ، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

یہ سوال تھا کوئی اور بھی ہے گناہگاروں کا آسرا

تو رواں رواں یہ پکار اُٹھا نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

وہ قدم اٹھے تو بیک قدم ہمہ کائنات تھی زیر پا

یہ بلندیاں کوئی چھو سکا، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

(ص۸۱۳)


ردیف ’’نہیں ان کے بعد کوئی نہیں‘‘ سے تعقید یہ پیدا ہو رہی ہے کہ،


’’ان سے پہلے یہ سب تھا!! بعد میں کوئی نہیں ہوا؟‘‘


اورنگ نبوت پہ وہی صدر نشیں ہیں

جولمحے سر عرش گزارے ہیں ہزاروں

(ص ۸۱۴)


’’اورنگ‘‘ کے معنی ہیں ’’تخت شاہی‘‘ جس پر سوائے بادشاہ کے کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا اس لئے اورنگ نبوت پر صدر نشیں، کہنا غلط ہے کیوں کہ اس صورت میں کچھ اور لوگوں کو بھی اورنگ پر بٹھانا ہوگا تب ’’صدر نشینی‘‘ کی نوبت آئے گی!! ثانی مصرع بھی تعقید کا شکار ہو گیا ہے یعنی شعر سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ:


’’جو ہزاروں لمحے سر عرش گزارے ہیں، وہی لمحے صدر نشیں ہیں!‘‘


کیا میسرہے، میسر جس کو یہ جگنو نہیں

نعت کیا لکھے گا جس کی آنکھ میں آنسو نہیں

(ص ۸۲۱)


کیا جس کی آنکھ میں آنسو نہیں وہ نعت نہیں لکھ سکتا؟ نعت لکھنے کے لئے تو ’’حب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم‘‘ کی ضرورت ہے آنسو کی نہیں!!


خواب میں کاش کبھی ایسی بھی ساعت پائوں

آپ کو نعت سنانے کی سعادت پائوں

(ص ۸۲۲)


’’خواب میں‘‘ حشو ہے اس کے بغیر بھی مصرع مکمل معنی دیتا ہے۔ یہ مصرع یوں بھی ہو سکتا تھا:


خواب ہی میں سہی ایسی کبھی ساعت پائوں

مدینے کے جزیرے پر مری کشتی ہے آ پہنچی

خزانہ سامنے ہو تو بھلا نقشہ میں کیا مانگوں

(ص ۸۲۳)


مدینہ، ’’جزیرہ‘‘ تو نہیں ہے!!


ریاضؔ خوشنوا کو بھی رعایا میں رکھیں شامل

محمد کی غلامی کی خدا سے انتہا مانگوں


پہلا مسئلہ تو ’’غلامی کی انتہا‘‘ہے، یہ کیسی ہوتی ہے؟ دوسرے ردیف ’’مانگوں‘‘ غلط ہے یعنی ریاضؔ اور مانگنے والا یہاں دو الگ الگ شخصیتیں ہو جاتی ہیں مطلب مانگنے والا ’’ریاضؔ خوشنوا‘‘ کیلئے مانگ رہا ہے جب کہ ریاضؔ خود اپنے لئے مانگ رہا ہے۔ اس صورت میں ردیف ’’مانگے‘‘ ہونی چاہئے۔ نیز ’’جب خدا سے مانگا جا رہا ہے تو ’’رکھیں‘‘ صیغۂ جمع قطعی غلط ہے اسے ’’رکھے‘‘ ہونا چاہئے تھا۔‘‘


ستیہ پال آنند کی نظم ’’استغاثہ‘‘ بہترین نظم ہے اور میرے مسلک کی تائید کرتی ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ’’تو، تیرا‘‘ سے خطاب کرنا بے ادبی ہے۔ (اس تعلق سے میرا مضمون ’’اردو نعت میں ضمائر کا استعمال‘‘ ملاحظہ ہو۔ نعت رنگ نمبر ۲۲)


اُجالا آپ ہی کی ذات سے ہوا ورنہ

شعاعِ نور نہ تھی روشنی کے دامن میں

( ص ۸۲۶)


عجیب سا شعر ہے، اجالا اللہ کی قدرت سے ہوا یا آپ کی ذاتِ اقدس سے؟ نیز کیا حضور سے پہلے روشنی کے مظاہر چاند، سورج، ستارے نہیں تھے!؟ پھر ’’شعاعِ نور‘‘ اور ’’روشنی‘‘ میں کیا فرق ہے؟


جز ایک اشکِ ندامت، جز ایک حرفِ دعا

نہیں ہے کچھ مری تر دامنی کے دامن میں


’’تر دامنی کے دامن میں‘‘ سمجھ میں نہیں آیا!! ’’کچھ‘‘ کے بعد ’’بھی‘‘ کی ضرورت ہے۔


جہانِ کن سے ادھر کیا تھا کون جانتا ہے

مگر وہ نور کہ جس سے یہ زندگی ہوئی ہے

(ص ۸۲۸)


’’جہانِ کن‘‘ یہ کون سا جہان ہے؟ ’’یہ‘‘ حشو ہے۔ تقابل ردیفین کا نقص بھی ہے۔


ہزار شکر غلامانِ شاہ بطحا میں

شروع دن سے مری حاضری لگی ہوئی ہے


’’غلامانِ شبہ بطحا میں حاضری‘‘ یہ کون حضرات ہیں کہ جن کے یہاں حاضری پر شاعر ہزار شکر ادا کر رہا ہے؟ ’’شروع دن‘‘ سے کیا مراد ہے؟ روزِ ازل یا شاعر کی ولادت!؟ اولیٰ مصرع یوں بھی ہو سکتا تھا:


’’ہزار شکر کہ دربارِ شاہ بطحا میں‘‘

بہم تھے دامن رحمت سے جب تو چین سے تھے

جدا ہوئے ہیں تو اب جان پر بنی ہوئی ہے


’’دامن سے بہم ہونا‘‘ یہ تو زبان نہیں ہے۔ بہم ہونا کا مطلب ’’ساتھ، باہم، یکجا‘‘ کے ہیں۔ ایسے مواقع پر ’’دامن سے جڑنا، وابستہ ہونا‘‘ کہا جاتا ہے۔


چاہئے خیر کے ایوان کی تعمیر اگر

کام اس کام میں دیتا ہے سراپا تیرا

(ص ۸۳۴)


’’سراپا‘‘ ایوانِ خیر کی تعمیر میں کس طرح کام آئے گا؟ یہاں ’’اسوہ‘‘ کی ضرورت تھی۔


’’کام اس کام میں آتاہے بس اسوہ تیرا‘‘

شب دنیا میں ضیا تیری ہے اے ماہ عرب

فرش سے عرش تلک طاری ہے ہالہ تیرا


’’شب دنیا‘‘ سے ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں صرف رات ہی رات ہے اسے ’’ظلمت دہر‘‘ ہونا چاہئے تھا۔ حضور کیلئے ’’اے‘‘ کا اس طرح استعمال میرے نزدیک نامناسب ہے کیوں کہ یہ ہماری غیر منقسم ہندوستانی تہذیب کی نشانی ہے جو ’’اپنوں سے چھوٹے یا کمتر شخص‘‘ کیلئے مستعمل ہے۔ نیز ’’ہالہ‘‘ طاری نہیں ہوتا ’’گھیرتا‘‘ ہے۔


اس میں شامل ہے رضا و کرم عزو جل

ہر عبادت سے درود آپ کا اعلیٰ افضل

(ص ۸۳۵)


نعوذ باللہ! ’’نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ‘‘ سب بیکار!! صرف درود پڑھو اور سیدھے جنت میں چلے جائو!!


سامنے ہیں سرورِ کون و مکاں آہستہ بول

اے لبِ لرزاں! دلِ گریہ کناں آہستہ بول

(ص۸۳۷)


’’لب لرزاں! دلِ گریہ کناں‘‘ دو چیزیں ہیں اس لئے ردیف ’’بول‘‘ کی بجائے ’’بولو‘‘ ہونی چاہئے۔ یہی حال اس مصرعے کا ہے


اے وفورِ شوق! اے جذبِ رواں آہستہ بول

’’جذبِ رواں‘‘ کا مطلب بھی میری سمجھ میں نہیں آیا؟

بولنا واجب نہیں سرکار کے دربار میں

آپ سن لیتے ہیں اشکوں کی زباں آہستہ بول


جب ’’بولنا واجب نہیں‘‘ کہدیا تو پھر ردیف ’’آہستہ بول‘‘ بے معنی ہو گئی نیز اشکوں کی زباں سننا بھی محل نظر ہے، ’’بات اور بیان‘‘ سنا جاتا ہے، ’’زبان‘‘ نہیں!!


وہی ہے عشق نبی میں کامل ہے، وہی ہے حب نبی کا وارث

رہ محبت میں چلتے چلتے، فنا جو انسان ہو گیا ہے

 (ص ۸۳۸)


کیا ’’حب نبی‘‘ وراثت میں ملتی ہے؟ ’’چلتے چلتے‘‘ حشو ہے اس کے بغیر بھی معنی مکمل ہیں۔ ’’چلتے چلتے، ہنستے ہنستے، آتے جاتے‘‘ جیسا کوئی بھی ٹکڑا رکھیں یہ صرف بحر پوری کرنے کے لئے ہوگا۔


ملیں قبائیں مجھے ہنر کی، وقارِ صوت و صدا بھی نکھرا

رسولِ اکرم کا ذکر انور، اسی کی پہچان ہو گیا ہے

’’وقار‘‘ نکھرتا نہیں ’’گھٹتا، بڑھتا‘‘ ہے۔

دن میں کتنی بار ادب سے ان کا انجمؔ

جی بھر کر میں نام نہ لوں تو رو پڑتا ہوں

(ص ۸۴۰)


’’کتنی‘‘ غلط زبان ہے، ’’کئی کئی‘‘ کا محل ہے، ویسے کیا انجمؔ صاحب واقعی اس طرح روتے ہیں یا پھر یہ نری شاعری ہی ہے!؟


میرے محبوب! کہا رب نے یہ معراج کی رات

آ مرے پاس تجھے زینہ بہ زینہ دیکھوں

(ص ۸۴۲)


کیا خالدؔ صاحب نے رب کو ایسا کہتے ہوئے خود سنا ہے؟ نبی کریم ’’زینے چڑھ‘‘ کر آسمان پر تشریف لے گئے تھے یا براق پر سوار ہوکر؟


اے شافع امم ہے تمنائے عاصیاں

نوبت کبھی نہ آئے سوال و جواب کی

(ص ۸۴۳)


قبر اور عرصۂ محشر کے سوال و جواب تو لازمی و ناگزیر ہیں ان سے کسی حال مفر نہیں پھر ’’عاصیوں کی تمنا‘‘ کی اوقات ہی کیا ہے! عباد و زہاد تک اس مرحلے کو یاد کر کے لرز اٹھتے ہیں حضرت عثمان غنیؓ کے تعلق سے مشہور ہے کہ جب آپ کسی قبر سے گزرتے تو زار و قطار گریہ کرتے تھے۔ دریافت کرنے پر بتایا کہ:


’’موت کے بعد پہلی کٹھن منزل قبر ہے، یہاں سے بچ نکلے تو آگے خیر ہی خیر ہے ورنہ۔۔۔۔!!‘‘


’’شافع امم‘‘ پر بحث کی گنجائش ہے۔ کچھ حضرات اسے ’’رحمۃ اللعالمین‘‘ کی طرح درست مانتے ہیں لیکن میری نگاہ میں ’’شافع امم‘‘ درست نہیں ہے کیوں کہ امم، امت کی جمع ہے اس میں یہودی، نصرانی، سکھ، ہنود سبھی شامل ہو جائیں گے۔ ان کی شفاعت کے لئے سرکار کس طرح اور کیوں سفارش فرمائیں گے؟ شفاعت کی اولین شرط تو اقرار ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ہے جو امت مسلمہ کے سوا کسی کی زبان پر نہیں ہے۔ پھر۔۔۔۔!؟


کھلا یہ منزل ہستی کا مجھ پہ رازِ نہاں

نجات کا کوئی رستہ نہیں سوائے درود

(ص ۸۴۵)


سلیم کوثر جیسا شاعر بھی اگر درود کو عبادات پر ترجیح دے تو جائے ماتم ہے۔


حضور میں بھی تو سوکھے شجر کی صورت ہوں

مجھے بھی خوف ہے لوگوں سے پائمالی کا

(ص ۸۴۶)


’’شجر کاٹا جاتا ہے‘‘ پائمال نہیں کیا جاتا، گھاس پھوس پودے وغیرہ پائمال کئے جاتے ہیں۔


توڑ کر جس نے دوبارہ مہ کامل باندھا

میں نے اس ہاتھ سے یہ ٹوٹا ہوا دل باندھا

(ص ۸۴۸)


شعر میں زبردست تعقید ہے، ’’جس ہاتھ سے میں نے مہ کامل توڑ کر دوبارہ باندھا اسی ہاتھ سے یہ ٹوٹا ہوا دل باندھا!!؟‘‘


اور اگر معجزۂ شق القمر کا ذکر ہے تو حضور نے مہ کامل کو توڑا نہیں تھا اور نہ ہی باندھا تھا!! ٹوٹنے اور شق ہونے کے عمل سے شاید عاصم صاحب آگاہ نہیں ہیں اور ٹوٹی ہوئی چیز جوڑی جاتی ہے، باندھی نہیں جاتی۔


سایۂ سرکار پر دنیا کا ہر سایہ نثار

قامت اطہر پہ ہر سر و سمن صدقے کروں


بے شمار روایتیں ہیں کہ ’’سرکارِ دو عالم‘‘ کا سایہ نہیں تھا پھر عاصمؔ صاحب کس سائے پر دنیا کا ہر سایہ نثار کر رہے ہیں؟ اس کے علاوہ ’’سرو سمن‘‘ سمجھ میں نہیں آیا کہیں یہ کمپوزنگ کی نذر نہ ہو گیا ہو یعنی ’’سروِ چمن!‘‘


خواہش دید نبی کس کو نہیں ہے لیکن

ربِ اکبر سا طلب گار کوئی اور نہیں

(ص ۸۵۸)


’’دید‘‘ کے معنی ہیں ’’نگاہ، نظر، دیکھا ہوا‘‘ اور یہ مرکبات میں استعمال ہوتا ہے جیسے ’’چشم دید‘‘! یہاں ’’خواہش دیدار‘‘ کہنا چاہئے تھا۔ ’’ربِ اکبر سا طلب گار‘‘ کے لئے قمر وارثی صاحب عزیز احسنؔ صاحب کا مضمون ’’نعتیہ ادب کی تحقیق۔۔۔ ص۱۰۳- ۱۴۸ نعت رنگ نمبر ۲۵ پڑھ لیں تو ان کے لئے بڑا نافع ہوگا۔


آپ احمد بھی محمد بھی ہیں محمود بھی ہیں

ان چراغوں سے ضیا بار کوئی اور نہیں

’’سے‘‘ کی بجائے ’’سے زیادہ‘‘ یا پھر ’’سا‘‘ کہنا تھا۔


دل کو دنیا کے جھمیلوں میں الجھنے نہ دیا

اس کو بس جستجوئے باغ ارم میں رکھا

(ص ۸۵۹)


محترمہ نورین صاحبہ سے التماس ہے کہ ’’ارم‘‘ کا استعمال نہ کیا کریں کہ یہ ’’شداد‘‘ کی جنت تھی۔


نعت لکھنے کو جو کاغذ پہ لکھا بسم اللہ

آئی جبریل کی فوراً ہی صدا بسم اللہ

(ص۸۶۰)


اگر واقعی جبریل علیہ السلام نے بسم اللہ کہا تو مبارک ہو ۔۔۔! ورنہ یہ دروغ گوئی ہے، یہی حال اس شعر کا بھی ہے:


میں نے اک نعت سنانے کی اجازت چاہی

اور نکیرین نے خوش ہو کے کہا بسم اللہ


دلچسپ شعر ہے، شاعر نے قبر میں مشاعرہ برپا کر دیا اور نکیرین سوال و جواب بھول کر داد سخن دینے لگے!!


خدا کی بزمِ جہاں پر ہے یہ عنایت خاص

کہ دے کے آپ کو بھیجا گیا ہدایت خاص

(ص ۸۶۲)


’’ہدایت‘‘ کی مناسبت سے ’’بھیجی گئی‘‘ کا محل ہے۔


ہم اُمتی ہیں رعایت یہ خاص ہے ہم سے

خوشا کہ حشر کے دن بھی ہے یہ رعایت خاص


’’کون سی رعایتِ خاص؟‘‘ اس کی کچھ تو وضاحت ہونی تھی۔ ’’حشر کے دن بھی ’’ہے‘‘ نہیں ’’ہوگی!!‘‘


قلم نے حرفِ ثنا جیسے ہی شروع کیا

فلک نے وجد میں قرطاس پہ رکوع کیا

(ص ۸۶۶)


قرطاس پر قلم کا سجدہ تو ہو سکتا ہے لیکن رکوعِ فلک کس طرح ہوگا؟


ہوئی جو فکر لکھوں نعت شان کے شایاں

حسین شعر نے مطلع معاً طلوع کیا

’’حسین شعر‘‘ یہ کون صاحب ہیں جنھوں نے مطلع طلوع کیا!

اسی کو شان بڑھانی تھی آسمانوں پر

تو اس نے آمد سرکار سے رجوع کیا

آفتاب صاحب کو لاکھوں بار استغفار کرنا چاہئے، شعر کا مطلب تو یہ نکلتا ہے،

’’اللہ کو آسمانوں پر خود اپنی شان بڑھانی تھی، اس لئے اس نے آمد سرکار سے رجوع کیا!‘‘


یعنی اللہ تعالیٰ اپنی شان بڑھانے کے لئے سرکار کا محتاج ہے! نعوذ باللہ!!


اک مٹھی ستو ہوں، روٹی خشک ادھوری ہو

مولا! مجھ سے آپ کی سنّت کیسے پوری ہو

(ص ۸۶۷)


روٹی، تازہ، خشک، کچی، جلی، آدھی، پائو تو ہوتی ہے لیکن ’’ادھوری روٹی‘‘ تو آج تک نہ دیکھی نہ سنی!! اور پھر ستّو اور خشک روٹی کھانا ہی حضور کی سنّت ہے؟ ارے بھائی اس تعلق سے فکرمند نہ ہوں اگر یہ سنّت ادا نہ ہو سکی تو کوئی قابل گرفت بات نہیں ہے بس نماز، روزہ، تلاوت اور اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے رہئے انشاء اللہ بیڑہ پار ہو جائے گا۔


سمیعہ نازؔ صاحبہ کے درج ذیل اشعار میں تقابل ردیفین کا نقص موجود ہے:


عطا حسن ارادت ہو، بصیرت بھی ملے مجھ کو

سبق سیرت کا جو ازبر کرائے ایسی مدحت ہو

وہ مدحت ہو کہ جس میں حرمت سرور مجسم ہو

جو میری فکر کو اعلیٰ بنائے ایسی مدحت ہو

ثنائے شاہ طیبہ کا قرینہ بھی میسر ہو

گہر افکار کے ہر سو لٹائے ایسی مدحت ہو


(ص ۸۶۹)


تینوں اولیٰ مصرعے اس طرح تبدیل کرنے سے یہ نقص دور ہو جائے گا(۱)عطا حسن ارادت ہو،ملے مجھ کو بصیرت بھی،(۲) وہ مدحت ہو کہ جس میں ہو مجسم حرمت سرور، (۳) ثنائے شاہِ طیبہ کا میسر ہو قرینہ بھی۔


نعت نامے


’’نعت رنگ‘‘ کے نعت نامے اپنی ایک الگ ہی اہمیت رکھتے ہیں ان میں رسالے کی مشمولات پر جو علمی و ادبی، تحقیقی و تنقیدی مذاکرے و بحثیں ہوتی ہیں وہ نہ صرف قارئین بلکہ شعراء و ادباء کے لئے بھی نہایت مفید ہوتی ہیں۔


ڈاکٹر عبدالکریم صاحب نے نعیم بازیدپوری کے مضمون ’’شاتم رسولصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی درخواست بریّت‘‘ پر بہت اچھا لکھا ہے، اس مقام پر ایک نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ’’شاتم رسولصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم‘‘لکھنے پر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کا گمان ’’شاتم‘‘ سے ہوتا ہے اس لئے میرے خیال میں ’’شاتم ‘‘ کے ساتھ صرف ’’رسول‘‘ لکھا جائے یعنی ’’شاتم رسول‘‘ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہیں۔


ریاض حسین چودھری صاحب کا خط پڑھ کر دل سے دعا نکلی کہ اللہ انھیں صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، آمین! اعزازات کی دستیابی پر انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ساتھ ہی آپ کے ایک شعر پر کچھ کہنا بھی چاہوں گا۔


چراغِ نعت جلتے ہیں مرے چھوٹے سے کمرے میں

مرے آنگن کی چڑیاں بھی درودِ پاک پڑھتی ہیں


چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک ہی چراغ کافی ہے، ’’جلتے‘‘ کی بجائے ’’جلتا‘‘ بہتر ہوتا اس کے علاوہ شجر و حجر، طیور و وحوش کے تعلق سے تو روایاتِ صحیحہ موجود ہیں کہ یہ سب تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ہیں لیکن یہ روایت کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ چڑیاں درود شریف پڑھتی ہیں!! اور اگر ’’چڑیاں‘‘ سے مراد ’’گھر کی بچیاں‘‘ ہیں تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ گھر کی بجائے آنگن میں کیوں پڑھتی ہیں؟نیز چراغ نعت صرف آپ کے کمرے میں جلتا ہے؟


تنویر پھول صاحب نے میری حمد (نعت رنگ نمبر ۲۴، ص۳۷) کے چھٹے شعر کے تعلق سے لکھا ہے:


’’چھٹے شعر کا دوسرا مصرع ’’وہی کہ اخلاص و نشرح والا وہی کہ رعد و دخان والا‘‘ شاعر کی نظرثانی کا طلب گار ہے۔ ’’نشرح‘‘ کی جگہ ’’فتح‘‘ (سورۃ فتح) یا ’’ناس‘‘ (سورۃ ناس) یا اسی کا ہم وزن کوئی لفظ استعمال ہو سکتا ہے۔‘‘


تنویر صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ ’’اخلاص و نشرح اور رعد و دخان‘‘ میں کیا خرابی ہے اور ’’فتح و ناس‘‘ کیوں استعمال کرنا چاہئے تھا!۱ تنویر پھول صاحب سے میری مودبانہ درخواست ہے کہ نقد و اغراض کریں تو اس کی توجیہات و جواز بھی پیش کریں ورنہ یہ صرف اعتراض برائے اعتراض کہلائے گا۔ میں نے اپنے مضمون میں ’’ارم‘‘ کے استعمال پر اعتراض کیا تھا (غالباً) اسی کے جواب میں تنویر صاحب رقمطراز ہیں:


’’غالبؔ جیسا بڑا شاعر بھی لفظ ’’ارم‘‘ کو اسی مفہوم (جنت) میں استعمال کرتا ہے۔‘‘


تنویر صاحب! غالب نے جو کچھ کہا تو کیا وہ سند اور حرفِ آخر ہوگیا؟ کیا غالبؔ کے کہنے پر شداد کی ارم کو جنت میں شامل کر لیا جائے؟ اور جو غالبؔ کہتا ہے:


’’دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو‘‘

تو کیا آپ ’’بہشت کو دوزخ میں ڈال دیں گے!؟‘‘


محمد ثاقب رضا قادری صاحب کا خط پسند آیا کہ انھوں نے اپنی فروگذاشت (وہ بھی عدم معلومات کی بنا پر) کا اقرار کر لیا کہ ’’فقیر نے رسائل حسن کے مقدمے میں درج ذیل تحریر لکھ دی:


’’مولانا غلام احمد اخگرؔ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ نے ہندوستان کی تاریخ کا سب سے پہلا نعتیہ رسالہ بنام ’’گلستانِ رحمت‘‘ جاری کیا جس کا پہلا پرچہ رمضان المبارک ۱۳۲۵ھ (۴ نومبر ۱۹۰۷ء) کو نکلا۔‘‘


جناب امداد صابری صاحب کی کتاب ’’تاریخ صحافت اردو‘‘کی ورق گردانی کرتے ہوئے فقیر کی نظر ایک رسالہ پر ٹھہر گئی جو کہ نعتیہ ادب کے فروغ ۱۸۹۰ء میں جاری ہوا تھا چوں کہ اس دریافت سے فقیر کی گذشتہ تحریر یعنی ’’گلستانِ رحمت‘‘ کو پہلا نعتیہ رسالہ قرار دینے کی تردید ہوتی ہے۔امداد صابری لکھتے ہیں: ’’مداح النبی‘‘ یہ نعتیہ کلام کا ماہنامہ گلدستہ جھجر ضلع رہتک سے ۱۸۹۰ء کو شائع ہوا۔‘‘


محمد ثاقب رضا قادری صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ:


’’مداح النبی‘‘ سے قبل بھی ایک نعتیہ گلدستہ ’’منشور شفاعت‘‘ بمبئی سے فقیر محمد فدا چشتی کی ادارت میں ۱۸۸۹ء مطابق ۱۳۰۹ھ میں جاری ہوا تھا اس کے علاوہ ایک اور نعتیہ گلدستہ بمبئی ہی سے بلقیس جہاں بیگم (مالک) اور فاطمہ بیگم کی ادارت میں ’’چراغِ کعبہ‘‘ کے نام سے ۱۸۸۵ء مطابق ۱۳۰۳ھ میں جاری ہوا تھا۔‘‘(تفصیلات کے لئے دیکھئے، ’’بمبئی میں اردو‘‘ میمونہ دلوی، ستمبر ۱۹۷۷ء، ص۳۲۵-۳۲۷)


نعت رنگ سلور جبلی نمبر میں کئی عمدہ نعتیں اور بہت سارے عمدہ اشعار بھی موجود ہیں جن کا ذکر نہ کرنا ادبی خیانت کے مترادف ہوگا۔


آپ ان کے لئے بھی رحمت ہیں

جو زمانے ابھی نہیں آئے

(حنیف اسعدی)


پڑھوں درودو تو ہوتا ہے یہ خیال کہ اب

حجابِ فاصلۂ وقت اٹھنے والا ہے

(امید فاضلی)


خاکِ صحرا بنی کہکشاں آپ سے

یہ زمیں ہوگئی آسماں آپ سے

(عنبریں حسیب عنبر)


کتنی صبحیں ظہور کرتا ہے

جاگنا رات بھر مدینے میں

(عطاء الحق قاسمی)


کام تو کوئی اس طرح کا

ظفر نام تو لے لیا محمد کا

(ظفرؔ اقبال)


حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے

حضور آپ جو کہدیں تو کام ہو جائے

(صبیح رحمانی)


شکر صد شکر کہ موت آئی درِ آقا پر

اب مدینے سے کہیں جانے کا امکان گیا

(شفیق احمد فاروقی)


اپنے ہر جرم پہ احساس ہوا

آپ نے دیکھ لیا ہو جیسے

(حنیف اسعدی)


مدینے والے کو سب کچھ بتا دیا میں نے

بہت سکوں ہے گناہوں کے اعتراف کے بعد

(سرشار صدیقی)


درِ کعبہ ہو، کبھی ہو مرے سرکار کا دَر

کاش یوں دربدری میرا مقدر ہو جائے

(سرشار صدیقی)


نہ دل پہ بوجھ رہے گا نہ امتحان میں جان

درود پڑھتے رہو جب تلک ہے جان میں جان

(منیر سیفی)


نکل آئیں گے حل سب مسئلوں کے چند لمحوں میں

حیاتِ مصطفیٰ کو سوچنا اول سے آخر تک

(صبیح رحمانی)

ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی۔بھارت[ترمیم]

۲۵/ستمبر۲۰۱۶


خدا کرے آپ سب ہرطرح بخیر وعافیت ہوں۔آپ کی ارسال کردہ دونوں کتابیں میرے وطن عزیز گیا کے پتے پرموصول ہوئی تھیں۔جب عیدالضحیٰ کے موقع پر میراگیا جانا ہواتوضخیم مجموعۂ مضامین’’ اردو نعت کی شعری روایت‘‘ اوررسالہ’’نعت رنگ‘‘کی سلور جوبلی کے موقع پر شائع ہونے والاکتابچہ دونوں دیکھنے کوملے۔ان قیمتی تحائف کے لیے بے حد شکرگزار ہوں۔


واقعہ یہ ہے کہ مجلہ’’نعت رنگ‘‘کے ذریعہ خاص طورسے اردو نعت کی تحقیق وتنقید کے باب میں آپ نے معرکہ آرا خدمات انجام دی ہیں جو ناقابل فراموش ہیں اورجس پربجاطورسے آپ کوایک نہیں دو ،دو صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیاہے۔دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارک باد قبول فرمائیے۔سچ تویہ ہے کہ آج نعت رنگ محض ایک مجلہ نہیں بلکہ فروغ نعت،ترقی نعت اوراستحکام نعت کی ایک عالمگیر ادبی تحریک ہے اورمجھے فخر ہے کہ کسی نہ کسی حیثیت سے اس عظیم ادبی تحریک کا میں بھی ایک ادنیٰ رکن ہوں۔


آپ کی مرتبہ کتاب ’’اردو نعت کی شعری روایت‘‘میں مبسوط ومعتبر اوربصیرت افروز مضامین شامل ہیں۔جنہیں بڑے سلیقے اورہنرمندی سے آپ کے ترتیب دیاہے۔آئندہ اردو نعت کی تعریف،تاریخ اورعصری تقاضوں پرکوئی گفتگو اس کتاب کے حوالہ کے بغیر مکمل نہ ہوسکے گی۔یقینا یہ اپنے موضوع پرایک دستاویز ہے۔


میں شکر گزار ہوں کہ اس کتاب میں آپ نے میرابھی اردونعت کے ارتقاء پرایک مضمون شامل کیاہے۔ادھر نعت پرمیرے چند مضامین ادبی رسائل میںشائع ہوئے ہیں جن کی نقل منسلک ہے۔کارلائقہ سے یاد فرماتے رہیں پرسان حال کو سلام کہہ دیں۔ادارہ نعت رنگ کے اراکین ڈاکٹر شہزاد احمد اورڈاکٹر عزیز احسن صاحبان کی خدمت میں مودٔبانہ سلام عرض ہے۔

ڈاکٹر صابرسنبھلی ۔بھارت ۔۱۴/اکتوبر۲۰۱۵ء[ترمیم]

امید ہے مع اہل وعیال بخیروعافیت ہوں گے۔آج سے ٹھیک ایک سال پہلے آپ کے مجلے’’نعت رنگ‘‘کے لیے آپ کی فرمائش پر تین مضمون برائے اشاعت ارسال کیے تھے۔اُس دن۱۴/اکتوبر ۲۰۱۴ء تھی۔مضامین کی رسید ایس۔ایم۔ایس سے مل گئی تھی۔اشاعت کی اطلاع ابھی تک نہیں ملی ہے۔مضامین بھیجنے کی برسی پرآپ سے تحریری طور پرمخاطب ہوں۔


تاریخ اورمہینہ تویادنہیںسردیوں میں میرے پڑوس Voda Fone کاٹاور خراب ہوگیا۔ایک ماہ سے زیادہ پریشان رہا۔اُس وقت کمپنی بدلنے کاخیال تھا۔سم میں اچھی خاصی رقم تھی۔کمپنی بدلنے پروہ ضائع ہوجاتی اس لیے بے وجہ اوربے سبب بھی دوردور فون کیے۔ٹاور کے زیرسایہ کھڑے ہوکر کچھ بات چیت ہوجاتی تھی آپ سے بھی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی مگررابطہ قائم نہیں ہوا۔معلوم ہواکہ اُس وقت آپ یورپ کے کسی ملک میں تھے۔واضح ہوکہ بھارت میں قاعدہ یہ ہے کہ کمپنی بدلنے پر نمبر پہلا ہی رہتاہے گویا میرانمبراب بھی9719268584ہی ہے لیکن یہ سم اب ووڈافون کانہیں ہے بلکہ ائرٹیل کاہے۔ ہاں توعرض کرنے مقصد یہ ہے کہ ایک سال کی مدت کم نہیں ہوتی جب اس مدت میں کسی طرح کی کوئی اطلاع نہیں ملی توسوچتاہوں کہ تینوں مضامین بھارت میں بھی اشاعت کے لیے بھیج دوںدونوں ملکوں کے قارئین الگ الگ ہیں محنت ضائع نہ ہوتواچھا ہی ہے ایک نعت بھی بھیج رہاہوں اگر پسند آئے تو کسی اشاعت میں شامل کرلیجیے گا۔


ایروگرام کوموڑ کرلکھ رہاتھا۔جب پشت کے صفحے پرپانچ سطریں آگئیں تواحساس ہوااوران کو قلم زد کرکے اسی مضمون کودوبارہ لکھا ہے۔ہائی اسکول کے سر ٹیفکیٹ میں میری تاریخ ولادت ۱۵/جولائی ۱۹۴۱ء درج ہے۔یادداشت کی حالت ٹھیک نہیں۔پوتوں کے نام بھی بھول جاتا ہوں۔ بیٹھنے میں بھی پریشانی ہونے لگی ہے اتنی خراب حالت اس لیے کہ عمر بھر بلڈ پریشر Lowرہا۔

احباب ومتعلقین کوسلام ودعائیں۔دعا کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر محمد افتخار شفیع۔ساہیوال[ترمیم]

۲۳/ اگست۲۰۱۶


آپ کی فرستادہ کتابیں نظرنوازہوئیں۔یقین کیجئے یوں محسوس ہواجیسے جناب سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ کواس سعادت کے لیے چن لیاہے۔کتابوں کوچوما اورسرپررکھا اصل کام تویہ ہے جوآپ لوگ کررہے ہیں۔ایک ایک سطر نورونکہت اورصدق رس جذبوں میں رچی ہوئی ہے۔آپ اور آپ کاصنفِ نعت کے حوالے سے ہونے والا کام پہلے بھی میرے لیے تعارف کا محتاج نہ تھا اب دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ سعادت روزِبازو کی محتاج نہیں بلکہ اس میں رضائے الٰہی کاحصول اولیت رکھتاہے۔ان کتب ورسائل کے مندرجات کوابھی ایک نظردیکھا ہے آپ نے بہت سے نئے موضوعات پرکام کروایا ہے۔یہ اس بابرکت صنف کے نئے امکانات کی طرف اشارہ کررہاہے۔اس کا مستقبل اوربھی روشن ہے کیونکہ یہ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘کی عملی تعبیر کی کوشش میں اپنا حصّہ ڈالنے کی ادنیٰ سے کوشش ہے۔اس طرح نعت کے نئے خدوخال واضح ہوتے دکھائی دے رہے ہیں امید ہے کہ آنے والے دور میں اردونعت اسی کو بنیاد بنائے گی۔میں بہت جلد آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا میری مثال بھی سوت کی اٹی والی بڑھیا کی ہے جوعشاق میں نام درج کروانا چاہتی تھی ورنہ تومجھے اپنے اعمال کے سبب آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حجاب آتاہے۔میرے لیے دعا کیجئے گا۔

احمد جاوید۔بھارت[ترمیم]

۲۷/ دسمبر۲۰۱۲

ویسے تو آپ ان ہی دنوں سے ہماری ادبی مجلسوں کا حصہ ہیں جب ’نعت رنگ‘ کا پہلا شمارہ آیا تھااور اپنے معیار و مشمولات کے لیے مخصوص علمی و ادبی حلقوں میں موضوع گفتگوبن گیا تھا۔ پھر ٹی وی پر آپ کے پروگراموں اور خود آپ کے نغمات سرمدی نے آپ کو گھر اور خاندان کا حصہ بھی بنا دیا۔


رہی سہی دوری بھی عزیزگرامی قدر مولانا خوشتر نورانی اور صاحبزادہ علامہ اسیدالحق عاصم قادری عثمانی بدایونی( زاداللہ عمرہما و اقبالہما) کے دم قدم نے دور کردی لیکن یہ میری کوتاہ دستی ہے کہ آپ تقاضے کے باوجود کبھی ’نعت رنگ‘ کی محفل میں باریاب نہ ہوسکا۔ادھر چند ماہ سے لکھنؤ میں مقیم ہوں اور میں چاہوں گا کہ اب آپ جب بھی دہلی اور اجمیر معلی آئیں، اپنے سفر میں لکھنؤ کوبھی ضرور شامل کریں۔ کاش! مستقبل قریب میں ملاقات کی کوئی سبیل نکل سکتی۔


پیش خدمت مضمون( وسیم ؔ بریلوی: نئی نعت کا پیشرو شاعر) میرے کرم فرما شاعرو ادیب قمرؔ گونڈوی صاحب کے تقاضوں کا نتیجہ ہے جن کی کتاب’ وسیم بریلوی شخص و شاعر ‘ زیر طبع ہے۔ موصوف بڑے جواں حوصلہ بزرگ ہیں ورنہ ستر اسی سال کی عمر میں ایک ایسے شخص کا اس شاعر کی شخصیت اور شاعری پرقلم اٹھانا جو ان کو چچا کہہ کر مخاطب کرتا ہے، چہ معنی دارد؟قمر ؔ صاحب اگلے وقتوں کی نشانی ہیں۔ حضرت جگرؔ مراد آبادی کے خادم خاص رہے ہیں۔جگر ؔ، حیرتؔ اور مجروحؔ کی یادوں کو سینے سے لگائے پھرتے ہیں۔ مجروحؔ سلطانپوری پر ان کی کتاب یوپی اردو اکادمی کے مالی تعاون سے شائع ہوئی تھی اور اس حوالہ سے کہ مجروح ؔ غزل کے بڑے شاعر ہیں یا فیض،ؔ بہت دنوں تک بحث میں رہی تھی۔ وسیمؔ جن کو اردو کے عام نقاد مشاعرے کا شاعر باورکرکے زحمت توجہ نہیں اٹھاتے،ان کے تعلق سے موصوف کی رائے ہے کہ وہ کسی ادبی آستانہ کے دریوزہ گر یا کسی گروہ کا حصہ ہوتے تو یہ بے اعتنائی ہرگز روانہ رکھی جاتی۔ضروری نہیں ہے کہ ہم ان سے صد فیصد متفق ہوں لیکن اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے۔


جہاں تک میری معروضات کا تعلق ہے، میں اس لیے بھی آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کررہاہوں کہ آپ اس عہد کے سب سے کامیاب اور منفرد شاعر بھی ہیں اور نعتیہ شاعری کے اسکالر بھی۔ قابل اشاعت ہوتو شامل کرلیں ورنہ خیال نہ فرمالیں، مجھے صرف آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔میری آراء کسی محقق یا نقاد کی نہیں، شعرو ادب کے ایک عام قاری و سامع کی ہیں۔مضمون کے اس حصہ میں جہاں اردوکی نعتیہ شاعری کا پس منظر و پیش منظرآیا ہے ضروری سمجھیں تو ان شعراء کا نام جوڑ دیں جن کا نام رہ گیا ہو۔خاص طور پر پاکستانی شعراء کا۔کیونکہ ہمارے درمیان سرحدوں کے آر پارکی دوری اوراطلاعاتی فاصلہ بھی حایل ہے اور میری یاد داشت کا قصوربھی ان کے چھوٹ جانے کے لیے ذمہ دار ہوسکتا ہے۔اسی طرح’ نعت رنگ ‘کے حوالے سے جہاںپر نعتیہ ادب کے محققین و نقاد کا نام آیا ہے ، آپ اس پر ضرور نظر ثانی فرمالیں تاکہ کوئی اہم نام چھوٹ نہ جائے ۔


گفتگو طویل ہوگئی ، بار خاطر نہ ہوتو روحی جاویدبھی سلام عرض کر رہی ہیں اور طارق، خالد، راشد،صادق، صبا اور ندابھی آپ کو سلام لکھوا رہے ہیں ، آپ ان کے محبوب شاعر و ثنا خوان رسول جو ٹھہرے۔اب دہلی آئیں تو آپ انہیں شرف ملاقات ضرور بخشیں۔

احسان اکبر۔اسلام آباد[ترمیم]

یکم/ مئی۲۰۱۶


بہت عرصے سے مجھے خط لکھنا نصیب نہیں ہوا۔کوئی چیز بھی چھپنے کونہ بھیجی ساراعرصہ آپ کی طرف سے بھی کوئی سلسلہ جنبانی نہ ہوئی۔خداکرے سب خیرہو حضرت مولانا جامیؒ کی مشہور ومعروف نعت’’وصل اللہ علیٰ نورکزوشد نورھا پیدا‘‘کااردومیں منظوم ترجمہ کیا تھا۔آپ کوبھجوانے میں تامل کیاکہ بعض مسائل ان کی یادگار نعت کے ترجمے میں بڑی بڑی رکاوٹوں کی شکل بن گئے تھے مثلاً پہلے ہی شعر(مطلع)کے دوسرے مصرعے میں جب وہ زمیں کوساکن کہتے ہیں تواکیسویں صدی میں بیٹھا ہوا آدمی کیسے ترجمہ میں زمیں کوساکن باندھ دے پھر ایسانہ کرے تونہ ترجمہ ہوانہ ترجمانی۔


یونہی چوتھے شعر کے دوسرے مصرعہ میں مولانا نے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خال کوخال ہندی سے تشبہیہ دیتے ہیں تومیں ہندی خال کومشبہ بہٖ کادرجہ دیتے ہوئے لرز گیا اسی طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زلف مبارک کامشبہ بہٖ(یا مسقاررمنہ)شب تاریک کونہیں بناسکا ۔ تیسراالجھن کامقام یہ بناکہ آنحضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کالقب مُزّمّل قرآن پاک میں بیان ہوا مگر وزن کی ضرورت کے تحت حضرت مولانا نے اسے مُزمّل ہی باندھ دیاتھا میں نے اسے بھی قرآنی تشدید مکرر کے ساتھ باندھا۔


اس ترجمے نے میرابہت وقت لیا بارگاہ رسالت میں اگرقبول ومنظور ہوجائے توسمجھوں گا کہ حق ترجمہ اداکرنے میں غفلت نہیںہوئی اس عریضہ کوبھی نعت کے متن اورترجمہ کے ہمراہ طبع کردیاجائے تومحبان رسول کیاجانب کچھ دعائیں مل جائیں گی۔

ڈاکٹر مجید اللہ قادری۔کراچی[ترمیم]

۲۵/ اپریل۲۰۱۶


کچھ نعت کے طبقے کاعالم ہی نرالا ہے

سکتہ میں پڑی ہے عقل چکر میں گماں آیا

(حسان الہند امام احمد رضا)


اللہ عزوجل نے اپنی آخری کتاب میں اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدح سرائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:ورفعنا لک ذکرک’’اورہم نے تمہارے لیے تمہاراذکر بلند کردیاہے۔‘‘اورنام چونکہ محمد رسو ل اللہ رکھا جس کی تعریف مکمل ہی نہیںہوسکتی اس لیے ہرزمانے میں اہل محبت میں اہل محبت آپ کی نعت کہہ کراپنے رنگ کاحصّہ آپ کے حضور پیش کرکے اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ:

اے رضاؔ خودصاحب قرآں ہے مداح حضور

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی

(حسان الہند امام احمد رضا)


دورحاضر میں پچھلے ۲۵سالوں سے مسلسل نعت کی رنگت بکھیرنے والے اسی صاحب نعت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور کاحصّہ پانے والے!واجب التعظیم محترم سید صبیح الدین رحمانی اپنے آقاومولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمپرہزاروں اہل محبت کی طرف سے پیش کئے گئے رنگوں کوجمع کررہے ہیں اورچند ماہ قبل ہی اس فقیر کو’’نعت رنگ کا۲۵واں گلدستہ پیش کیا اورحکم دیا کہ اس گلدستے کی جو خوشبو آپ کو محسوس ہو اس کابھی اظہار بھی فرمائیے۔ راقم نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کی تعمیل کرتے ہوئے نہ صرف اس گلدستے کی مہک کوسونگھا بلکہ راقم کے پاس کئی پچھلے گلدستے تھے ان کوبھی سامنے رکھا اور ان کی خوشبوؤں سے اپنی روح کومعطر کرتارہا اور پھر آہستہ آہستہ ان خوشبوؤں کی لہروں کوالفاظوں کی صورت میں منتقل کرناشروع کیا اور اب پیش خدمت ہے رنگ مجید۔

راقم اردو ادب سے بالکل کوراہے اورساری زندگی کی علم تجربات پڑھانے میں گزار دی البتہ اس علم حجریات کے ذریعہ نعت ضرور سمجھ میں آئی۔


اے مدعیو!خاک کوتم خاک نہ سمجھے

اس خاک میں مدفون شہہ بطحا ہے ہمارا


اسی شہہ بطحا سے محبت اورعقیدت کرنے والے سینکڑوں نہیں بلکہ عشاق رسول کے منظور ومنشور کلام کو حضرت سید صبیح الدین رحمانی اپنے سالانہ نعت رنگ کے گلدستے میں سجاتے ہیں آپ یہ کام تسلسل کے ساتھ پچھلے ۲۵سالوں سے انجام دئے رہے ہیں اس استقامت پرلاکھوں سلام کہ اس دور نفسہ نفسی میں بھی نورمجسم حضرت محمد مصطفی کے چشم وچراغ اس سلسلے کوجاری رکھے ہوئے ہیں۔اللہ پاک ان کواوران کے ادارۂ نعت ریسرچ سینٹر کے تمام ہی احباب کو نظر بد سے بچائے اور تادم حیات اس کام کویعنی اس گلدستہ کوہرسال اسی طرح سجانے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین۔


حضرت صبیح الدین دورحاضر میں اس کام کوجس طرح آگے بڑھایاہے قابل تحسین ہے۔ برصغیر میں درجنوں ادارۂ اردو ادب کے حوالے سے کام کررہے ہیں مگراردو ادب کے اس شعبۂ ’’نعت‘‘میں حضرت والا نے۲۵سال میں اتنا تحقیقی وعلمی کام جمع کرلیا ہے کہ اگر ادارے کے افراد ’’اردو نعت انسائیکلو پیڈیا‘‘تیار کرنا چاہیں تابآسانی یہ کام چند ضخیم جلدوں میںمکمل کرسکتے ہیں ساتھ ہی ساتھ برصغیر کی ان تمام جامعات میںجہاں شعبہ اردو قائم ہے وہاں گوشہ نعت قائم کر کے M.A کی سطح پراردوادب میں نعت گوئی پرSpecializationبھی کراسکتے ہیں۔


اس’’گوشۂ نعت‘‘کے لیے ادارہ نعت ریسرچ سینٹر کے۲۵گلدستے اوراس سے متعلق متعدد کتب Specializationکے Course Contentکی ٹیکسٹ بکس کے طورپر استعمال کی جاسکتی ہیں اس سلسلے میں ڈاکٹر سہیل شفیق جو جامعہ کراچی میں شعبۂ اسلامی تاریخ کے ایک سینئر استاد ہیں اور نعت رنگ کے ابتدائی۲۰گلدستوں کے اشاریہ کے مرتب نگار ہیںکارہانمایاں انجام دے سکتے ہیں۔ ادارے کے ایک ایک فرد جن میں ڈاکٹر عزیزاحسن،ڈاکٹر شہزاد احمد،ڈاکٹر محمدطاہرقریشی اورڈاکٹر داؤد عثمانی شامل ہیں اس نعت رنگ کے گلدستے کامہکتا پھول ہیں نعت کےSpecializationکا Syllabus باسآنی تیارکرسکتے ہیں۔آخر میں اس گلدستہ نعت رنگ کے روح رواں کوہدیہ تبریک پیش کرتاہوں جو نہ صرف اپنے گلدستے کوہری بھری ڈالیوں اورتازہ مہکتے پھولوں سے سجا رہے ہیں بلکہ اس میں جگہ جگہ وہ خشک شاخیں بھی پرورہے ہیں جوآہستہ آہستہ ہری بھری ہوتی جارہیں ہیں:


گبند خضرا کے فیض عام سے

ہرجگہ جلوہ نما ہے نعت رنگ

اور بھی ارضِ وطن میں ہیں ولے

سب شماروں سے جداہے نعت رنگ

تنویرپھول۔امریکہ[ترمیم]

۱۵/ اکتوبر۲۰۱۶


’’نعت رنگ‘‘ کا شمارہ نمبر ۲۵(سلور جوبلی نمبر) برادرم شبیراحمد انصاری صاحب اور برادرم امتیاز الملک آسی سلطانی صاحب کی وساطت سے موصول ہُوا جسے دیکھ کر مسرت ہوئی ۔ مضامین نثر و نظم کاانتخاب خوب ہے جس کے لئے آپ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ کمپوزر صاحب کی توجہ کے لئے عرض ہے کہ صفحہ نمبر ۳۱ پر دوسری سطر میں سورۃ الانبیاء کی آیت درست تحریر نہیں کی گئی ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سے آپ کی ملاقات اور اُن کی طرف سے منہاج یونیورسٹی میں نعت چیئر قائم کرنے کا ارادہ نہایت خوش آئند ہے ۔ اس شمارے میں ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کا پُر مغز مقالہ پسند آیا ، اس مقالے میں بھی کمپوزنگ کی غلطی ہے ، صفحہ نمبر ۱۰۸ پر ’’ الفقر فخری‘‘ والی روایت تحریر کرتے ہوئے دونوں الفاظ کے درمیان حرف’’ وائو‘‘ لگانا درست نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ فقر کا لفظ محتاجی کے علاوہ درویشی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے (بحوالہ فیروزاللغات) ۔ عام طور پر ’’فقیر‘‘ کا لفظ ’’غنی‘‘ کے مقابلے میں آتا ہے ، علامہ اقبال نے کہا  :


تو غنی از ہر دوعالم ، من فقیر


مولانا ماہرالقادری کے سلام کے یہ اشعار اسی حوالے سے ہیں :


سلام اُس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی

سلام اُس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

سلام اُس پر کہ تھا ’’الفقر فخری‘‘ جس کا سرمایہ

سلام اُس پر کہ جس کے جسم اطہر کا نہ تھا سایہ

سلام اُس پر جو امت کے لئے راتوںکوروتاتھا

سلام اُس پر جو فرشِ خاک پر جاڑوںمیںسوتاتھا


صفحہ نمبر ۱۱۷ پر استاد قمر جلالوی کے جس شعر کا حوالہ ہے اُس میں چُپ بیٹھنے اور اپنے گھر میں شرمانے کا ذکر نعتیہ ہرگز نہیں بلکہ غزلیہ ہے ۔ اسی طرح کا ایک شعر اعجاز رحمانی کے مجموعہ ٔ نعت ’’آسمان رحمت‘‘ کے صفحہ نمبر ۷۴ پر بھی ہے :


ہر اِک موسم ہے اُن کے گیسو و رخسار کا موسم

نہ کوئی شب ہماری ہے ، نہ کوئی دن ہمارا ہے


یہ حقیقت ہے کہ غلطیاں سبھی سے ہوتی ہیں کیونکہ سب انسان ہیں ۔ استاد قمر جلالوی کی غزل کا یہ مشہور مصرعہ بھی معیاری نہیں لگتا : غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں اس مصرعے میں ’’آوازوں میں‘‘ کا استعمال کھٹکتا ہے ، اس کی جگہ شاید یہ مناسب ہوتا : خاموش زباں سے غنچے بھی بجلی کو پکارا کرتے ہیں۔


صفحہ نمبر ۱۳۲ پر تحریر ہے ’’ کبریا کا لفظ ہمارے ہاں بڑے بڑوں نے اللہ کے صفاتی نام کے طور پر استعمال کیا ہیــ‘‘ ۔ یہ حقیقت ہے کہ اُردو میں ایسا ہی ہے ، اسی سے لفظ ’’کبریائی‘‘ بھی بنا ہے جس طرح رحمن سے رحمانی اور رحیم و کریم سے رحیمی و کریمی ۔ علامہ اقبال کے اس شعر میں بھی یہی صورت ہے :


اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں

تو اقبالؔ اُس کو بتلاتا ، مقامِ کبریا کیا ہے


بات دراصل یہ ہے کہ ہر زبان کا الگ الگ انداز ہے ۔ایک زبان کا لفظ جب دوسری زبان میں آجائے تو ضروری نہیں کہ معانی و اعراب و قواعد ہوبہو ایک ہی ہوں ، مثال کے طور پر عربی میں ’’رقیب‘‘ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے لیکن فارسی اور اُردو میں یہ لفظ جن معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسے سب ہی جانتے ہیں۔عربی لفظ ’’ صَدَقہ‘‘ اُردو میں حرف دال کے سکون کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ، ’’کلمہ‘‘ عربی میں مونث ہے جبکہ اُردو میں مذکر ، علیٰ ہذا القیاس لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس میں کھلی چھوٹ ہو ۔ صفحہ نمبر ۲۶۶ پر عزیز لدھیانوی کے اس شعر میں لفظ ’’عرب‘‘ کے درمیانی حرف کو مفتوح کی جگہ ساکن باندھنا غلط ہے :


حق کی مدد سے بالیقیں

حامی شہِ عرب و عجم


’’حامی شہ ارض و سما ‘‘ والا مصرعہ درست ہے لیکن مذکورہ بالامصرعہ درست نہیں ۔ صفحہ نمبر ۲۸۸ پر ڈاکٹر اشفاق انجم برافروختہ نظر آئے ۔ ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میری تحریر ان کے مضمون کاردّ عمل نہیں ہے بلکہ یہ تبصرہ ’’جہانِ نعت‘‘ کرناٹک کے شمارہ ۶ مطبوعہ ۲۰۱۲ ء میں شائع شدہ حلیم حاذق کے مضمون کے جواب میں تھا جس میں موصوف نے حمد و نعت میں لفظ ’’عشق‘‘ لانے والوں کو بھی’’جاہل شعراء‘‘ کے نام سے یاد کیا تھا ۔ مزید یہ کہ میرے اس تبصرے میں جو لہجہ اختیار کیا گیا ہے وہ جارحانہ نہیں بلکہ نہایت نرم ہے جسے پڑھنے والے محسوس کر سکتے ہیں ۔ ۲۰۱۲ ء میں ہی میرے تبصرے کا یہ حصہ اُردو نیٹ جاپان اور اُردو بندھن جدہ میں شائع ہوچکا ہے ۔ انھوں نے آخر میں جو استفسار فرمایا ہے اس کے جواب میں عرض ہے کہ جنت کی زبان عربی ہوگی وہاں ’’تو‘‘ اور ’’آپ‘‘ دونوں کے لئے ایک ہی ضمیر (واحد حاضر) استعمال ہوگی اور یہاں بھی نماز میں ’’السلام علیک ایحاالنبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!‘‘ ہی کہتے ہیں ۔ مزید یہ کہ اگر خطاب بزبانِ شعر ہوگا تو ’’آپ‘‘ کہنا بہر صورت لازمی نہیں ، یہ صرف نثر میں ضروری ہے۔علامہ اقبال کے اس شعر کے متعلق موصوف کا کیا خیال ہے ؟ :


جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں

طرابلس کے شہیدوںکا ہے لہو اس میں


اور حضرت شمس تبریزی کی نعت کا یہ شعر بھی موصوف کے نزدیک قابلِ اعتراض ہوگا :


شمس تبریزی چہ داند نعت تو پیغمبرا !

مصطفی و مجتبیٰ و سیدِ اعلیٰ توئی


صفحہ نمبر ۳۰۰ اور صفحہ نمبر ۳۰۱ پر سورۃ الفتح اور سورہ ء توبہ کی آیات میں پھر کمپوزنگ کی بے احتیاطی ہے ، موخرالذکر میں ـ’’مُشرکون‘‘ کی جگہ ’’مشرقین‘‘ کمپوز ہُوا ہے جو افسوس ناک ہے ۔ براہ کرم کمپوزر اور پروف ریڈر صاحبان اس طرف خصوصی توجہ دیں ۔


صفحہ نمبر ۳۹۸ پر ’’چٹائی ، غار حرا ، جو کے تذکار‘‘ کے بارے میں جو مضمون ہے اسے پڑھ کر احساس ہُوا کہ اس میں تنقید برائے تنقیص کی گئی ہے ۔ نعت گو شعراء نے بوریا اور چٹائی کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ سلطان مدینہ ، سرور دوعالم اور بادشاہ عرب و عجم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سادگی اور قناعت پسندی کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے ورنہ کرسی ، مسند ، چادر ، بستر وغیرہ تو دنیوی بادشاہوں نے بھی استعمال کیا ہے۔


یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ آپ نے صرف چٹائی کو ہی پسند فرمایا اور باقی چیزوں سے بیزاری کا اظہار فرمایا ۔ یہ مقالہ نگار کے اپنے ذہن کی اختراع ہے ورنہ شعرائے نعت نے آپ کی سادگی کو ہی بیان کیا ہے۔


سلام اُس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی ، نہ سونا تھا

سلام اُس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا

سلام اُس پر جو امت کے لئے راتوںکو روتا تھا

سلام اُس پر جو فرش خاک پر جاڑوںمیں سوتا تھا


(ماہرالقادری)


بوریا ، ٹوٹی چٹائی ، زیر پا عرشِ علیٰ

عیش کوشو ! بادشاہِ دو سرا ، سرکار ہیں

(تنویرپھولؔ)


کیا فاضل مقالہ نگار کی نظر سے وہ روایت نہیں گزری کہ حضرت عمر فاروق ؓ جسم اطہر پر چٹائی یا بوریا کے نشانات دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے تھے اور جب اُنھوں نے قیصر و کسریٰ کے عیش و آرام کا ذکر کیا تو آپ نے جواب میں کیا ارشاد فرمایا؟ یاد رہے کہ آپ کی یہ سادگی اختیاری تھی ورنہ اگر آپ چاہتے تو پورا کوہِ اُحد سونے کا بنا دیا جاتا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ۔


صفحہ نمبر ۴۰۲ پر مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ ’’عموماََ‘‘ لوگ ’’حفصہ ؓ‘‘ کو ’’حصفہ‘‘ پڑھتے ہیں ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ، جہلاء کی بات اور ہے ۔


مقالہ نگار نے غار حرا کی اہمیت کو بھی کم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ غار حرا اور اس کے بعد غار ثور دونوں کو جو مقام حاصل ہے وہ دنیا کے کسی اور غار کو نہیں(یادرہے کہ اصحاب کہف کے غار میں کسی نبی ؑ نے قیام نہیں کیا) ۔ غار حرا میں پہلی وحی ( جو سورۃ العلق کی ابتدائی ۵آیات پر مشتمل ہے) سے نزول قرآن کا آغاز ایک تابناک حقیقت ہے جس کا انکار کوئی کور چشم ہی کرسکتا ہے اور یہ حق ہے کہ ’’ ممتاز حرا ہے آج تلک اس دنیا کے سب غاروں میں ‘‘ ۔ علامہ اقبال غار حرا میں آپ کے ذکرالٰہی ،مراقبے اور نزول وحی کے حوالے سے فرماتے ہیں:


در شبستان ِحرا خلوت گزید

قوم و آئین و حکومت آفرید


صبیح رحمانی نے اپنے خوب صورت اشعار میں اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے :


معمور ہیں حضور کے قدموں کی آہٹیں

کیسا نصیب آج بھی غارِ حرا کا ہے !

حرا کے سوچتے لمحوں کو زندہ ساعتیں لکھ کر

صفا کی گفتگو کو آبشارِ آگہی لکھوں


لوگ عام طور پر آپ کو ’’ مدینے والے آقا ‘‘ کہتے ہیں لیکن ایک مصرعہ ایسا بھی ہے جو خواب میں عطا کیا گیا :


’’ اے غارِ حرا والے آقا  ! ہم پر ہو کرم کی ایک نظر ‘‘


اس مقالے میں بھائی شبیر احمد انصاری صاحب کی مرتب کردہ کتاب ’’ شبستانِ حرا‘‘ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ حُسن اتفاق سے یہ کتاب یہاں میرے پاس موجود ہے اور صفحہ نمبر ۱۲ پر مولف نے کتاب کی تدوین و تکمیل میں مکمل رہنمائی اور خصوصی معاونت کے سلسلے میں جن اصحاب کا شکریہ ادا کیا ہے اُن میں فاضل مقالہ نگار کا نام بھی شامل ہے یعنی اس ’’کارِ لاحاصل‘‘ میں وہ بھی شریک ہیں اور اس طرح وہ خود اپنی تنقید کا ہدف بن رہے ہیں !


مزید لطف کی بات یہ ہے کہ ’’حرا‘‘ ہی کے موضوع پر صفحہ نمبر ۱۴۳ پر موصوف کے متفرق اشعار ، صفحہ نمبر ۱۹۸ پر ’’حرا کی روشنی‘‘ کی ردیف میں ان کی نظم ، صفحہ نمبر ۱۹۹ تا صفحہ نمبر۲۰۲ حرا کے بارے میں ان کی معرّا نظمیں اور صفحہ نمبر ۲۲۹ پر ثلاثی ’’شبستان ِ حرا‘‘ میں شامل ہیں یعنی ’’حرا‘‘ کو ایک سے زیادہ بار اپنی شاعری کا موضوع بنانے کا ’’جرم‘‘ انھوں نے خود بھی کیا ہے !!


اسی طرح جو یعنی شعیر کے ذکر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی کھانے میں آپ کی سادگی کا ذکر ہے اور مکرر عرض ہے کہ یہ سادگی اختیاری تھی ۔ مقالہ نگار صفحہ نمبر ۴۱۸ پر خود تحریر فرماتے ہیں کہ ’’حضور کا فقر و فاقہ اختیاری تھا اور قیامت تک کے ناداروں ، مسکینوں اور فاقہ مستوں کے لئے تسلی اور دلاسے کا سبب تھا ورنہ حدیث شریف سے ہی ثابت ہے کہ اگر حضور پسند فرماتے تو آپ کے لئے پہاڑ سونے کے ہوجاتے۔‘‘


آپ سرکارِ دوعالم ، ہے غذا نانِ شعیر

بے کس و نادار کے حاجت روا سرکار ہیں


علامہ اقبال آپ اور آپ کے اصحاب ؓ کی اسی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :


تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیالِ فقر و غنا نہ کر

کہ جہاں میں نانِ شعیرپر ہے مدارِ قوتِ حیدری ؓ


صفحہ نمبر ۴۲۳ پر حضرت عبداللہ بن علی ؓ کی جو روایت مقالہ نگار نے پیش کی ہے اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جُو کی روٹی بڑے شوق سے تناول فرماتے تھے۔ اسی طرح اور بھی روایات انھوں نے درج کی ہیں جن میں جُو اور غارِحرا میں خصوصی عبادت بشمول رمضان میں پورے مہینے کی عبادت کا ذکر ہے ۔ اس طرح ان کا یہ مقالہ تنقید برائے تنقیص اور تضادات کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے۔


صفحہ نمبر ۷۹۳ پر ’’حاصل مطالعہ‘‘ کے زیر عنوان ڈاکٹر عزیزاحسن صاحب کی یہ وقیع تحریرقابل غور ہے:


’’بعض ادبی حلقوں میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کے لئے ’’ تو ، تیرا،تم،تمھارا‘‘ کے ضمائر استعمال کرنا سوئِ ادب ہے ، لیکن وہ لوگ شعر کی نزاکتوں اور لفظ کی حرمتوں سے یا تو واقف نہیں ہیں ا شعر گوئی کے لئے بھی اپنا کوئی نصاب مقررکرناچاہتے ہیں۔ اس ضمن میں میری رائے اس ادبی حلقے کے ساتھ ہے جو شاعری کے تقاضوں اورلفظوں کے برتنے کے سلیقوں کا ادراک رکھتے ہوئے ان ضمائر کے استعمال کو معیوب نہیں جانتا۔‘‘

’’ایوان مدحت‘‘ میں ’’اوّل سے آخر تک‘‘ کی منفرد ردیف میںجناب صبیح رحمانی کی نعت بہت دل نشیں ہے ۔ شاعر کے لئے داد اور دلی مبارک باد ۔

’’نعت نامے‘‘ میں احمد صغیر صدیقی صاحب کا مکتوب زیر نظر آیا۔ افسوس ہے کہ ان کو راقم الحروف کی حمد کا یہ سادہ مقطع پسند نہیں آیا :


پامال ہے یہ گلشن ہستی میں ہو رہا

فریاد لایا پھولؔ ہے تیری جناب میں


وہ لکھتے ہیں :


’’ یہ شعر کوئی بہت کمزور اور اناڑی شاعر لکھتا تو اس سے صرف نظر کیا جاسکتا تھا۔‘‘


اس محبت اور عزت افزائی پر ان کا ممنون ہوں ۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شاعر کے تمام اشعار ایک ہی معیار کے نہیں ہوسکتے۔ صغیر بھائی کو حمد و نعت میں الفاظ کے مناسب استعمال پر لکھا ہوا میرا مقالہ نہایت دلچسپ اور فکرانگیزلگا جس پر اُن کا شکریہ۔ ــ’’خیرالامم ‘‘کے استعمال کے بارے میں شاید میں اپنی بات پوری طرح سمجھا نہیں سکا ۔ ’’خیرالامم‘‘ کا مطلب ہے ’’اُمتوں میں خیر‘‘ اور یہ اعزاز حضورکی امت کو دیا گیا ہے(بحوالہ قرآن : سورہ آل عمران ،آیت نمبر ۱۱۰) ۔ علامہ اقبال نے بھی اپنی نظم ’’بلاد ِ اسلامیہ ‘‘ میں اسے ان ہی معنوںمیںاستعمال کیا ہے :


سوتے ہیں اس خاک میں خیرالامم کے تاجدار

نظمِ عالم کا رہا جن کی حکومت پر مدار


’’ اُمم‘‘ جمع ہے ’’اُمت‘‘ کی اس لئے اُس میں خیر کوئی امت ہی ہوسکتی ہے، فرد نہیں۔ حضور کو ’’خیر البشر‘‘ کہنا درست ہے لیکن آپ کو ــ’’خیرالامم‘‘ کہناایسا ہی ہے جیسے’’شہروں میں اہم‘‘ کی جگہ یہ کہا جائے کہ ’’ ٹوکیو ملکوں میں اہم ہے۔ ‘‘ امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوگئی ہوگی۔


صغیر صاحب لکھتے ہیں کہ:


’’ڈاکٹر عزیز احسن نے اپنے مقالے میں ایک حدیث نوٹ کی ہے۔ ’’اے اللہ!روح القدس کے ساتھ حسانؓ کی مددفرما۔‘‘ مجھے سمجھانے کے لئے بتائیں یہ ’’روح القدس کے ساتھ ‘‘ کا اضافہ کیوں کیا گیا ہے؟‘‘

عرض ہے کہ اس حدیث کے الفاظ کو سورۃ البقرہ ، آیت نمبر ۸۷ کی روشنی میں دیکھئے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ’’ ہم نے عیسیٰ ؑ ابن مریم کو روح القدس کے ساتھ مدد دی‘‘ : وَ اَیّد نٰہُ بِرُوح ِالقُدُس :( واضح ہو کہ ’’روح القدس‘‘ حضرت جبریل علیہ السلام کو کہتے ہیں)۔ صفحہ نمبر ۸۹۶ کی سطر نمبر ۱۳ میں غالباََ کمپوزر صاحب نے ’’واضح‘‘ کو ’’واضع‘‘ کر دیا ہے ۔


صفحہ نمبر ۹۱۲ پر سعیدبدر صاحب نے ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطااست‘‘ کاحوالہ دیا ہے مگر یہ قول ’’نعت رنگ‘‘ کے مزاج کے خلاف ہے ۔ یہ بات یاد رہے کہ صحت مند تنقید فن پر کی جاتی ہے ، ذاتیات پر نہیں اس لئے اسے ذات سے الگ کر کے دیکھنا چاہئے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا مشہور قول ہے کہ یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے؟یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے؟عصر حاضر کے ایک دانشور پروفیسر ڈاکٹر خورشید خاور امروہوی کا کہنا ہے کہ لوگ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است کا مفہوم غلط سمجھتے ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ بزرگوں کی خطا کو پکڑے رہنا یعنی اس پر کاربند رہنا خطا ہے ۔ قرآن پاک بھی باپ دادا کی اندھی تقلید سے منع کرتا ہے ( سورۃ البقرہ، آیت نمبر ۱۷۰) ۔ صفحہ نمبر ۹۱۴ پر انھوں نے راقم الحروف کے مقالے کو قابل قدرقرار دیا ہے جس کا شکریہ ۔ ــچالیس برس تک غاروں میں اجالا کرنے والی بات پر تنقید سعید صاحب کوناگوار گزری اور انھوں نے اسے ’’شعری ضرورت‘‘ کہا مگر ایسی جگہ’’ضرورتِ شعری‘‘ کا حوالہ ہونا چاہئے اور اگر بہتر صورت ہو تو اسے ہی اختیار کرنا چاہئے جیسے ’’غاروں میں‘‘ بطور قافیہ و ردیف استعمال کرنے کے لئے یہ کہا جاسکتا تھا:


’’ ممتاز حرا ہے آج تلک اس دنیا کے سب غاروں میں‘‘ ،’’ارم‘‘ ، ’’عشق‘‘ اور ’’خدا‘‘ جیسے الفاظ کے استعمال کے بارے میں اُن کی رائے سے راقم الحروف کو اتفاق ہے۔صفحہ نمبر ۹۳۴ پر سمیعہ نازصاحبہ نے راقم الحروف کے مقالے ’’حمد ونعت میں الفاظ کا مناسب استعمال‘‘ کو پسند کرنے کی اطلاع دی جس پر اُن کا ممنون ہوں۔ سب کو سلام کہئے۔


اور دعائوں میں یاد رکھئے ۔ ای ، میل سے رابطہ رکھئے گا ۔

سعدیہ سیٹھی۔برطانیہ[ترمیم]

۱۸/اکتوبر۲۰۱۶


میں پہلی بار نعت رنگ کی محفل میں شامل ہو رہی ہے۔میں بھی نعت رنگ جیسے خوبصورت جریدے کی قاری ہوں۔ آج اگر قلم اُٹھا یا ہے تو میں بہت خوش ہوں کہ مجھے بھی سعادت ملی ۔نعت رنگ کے پچیس شمارے مکمل ہونے پر یہاں برطانیہ میں نعت ریسرچ سینٹر کی وائس چیئر پرسن سمیعہ نازؔ نے ایک خوبصورت تقریب لیڈز میں منعقد کی جس میں مجھے بطور خاص بلایا گیااور مجھے بیحد اچھا لگا۔


۱۹ مارچ ۲۰۱۶ کو ہونے والی تقریب پذیرائی ایک خوبصورت اور کامیاب ترین تقریب قرار پائی ہے۔اس تقریب کی کمپیرنگ سمیعہ ناز نے کی۔اور آغاز میںہی سمیعہ ناز نے اپنی تحریر کردہ نظم بعنوان نعت رنگ سب کو سنائی ۔جسے سن کرسب کو بہت اچھا لگا۔


اس کے بعد سمیعہ ناز نے تقریب پذیرائی کے شرکاء کو نعت رنگ پر اظہار خیال کرنے کی دعوت دی ۔جن میں تسنیم حسن، طلعت سلیم ،ڈاکٹر عزیز احسن،ڈاکٹر مقصود الٰہی شیخ اور مجھے بھی اظہار خیال کے لیے سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔’’ میں خود کو اس قابل تو نہیں سمجھتی کہ میں نعت رنگ کے حوالے سے کچھ کہہ سکوں لیکن مجھے بہت اچھا لگا کہ سمیعہ ناز نے بڑی فراخدلی سے مجھے اظہار خیال کے لیے بلایا اور موقع فراہم کیا کہ میںاپنی بات کہہ پائوں۔میں نے سب سے پہلے اپنی دوست سمیعہ ناز کا شکریہ ادا کیا اور سب کو مبارکباد پیش کی۔


مجھے آج بھی یاد ہے۲۰۰۸ ء میں جب پہلی بار آپ یوکے آئے توآپ نے مجھے نعت رنگ کے بارے میں بتایا تھا۔اور آپ نعت ریسرچ سینٹر کا قیام بھی چاہتے تھے۔اور اس پر مزید کام بھی کرنا چاہتے تھے۔لیکن میں خود کو اس ذمہ داری کا اہل نہ سمجھ پائی۔مجھے پتہ تھا میری طبیعت میں کچھ لاپرواہی سی ہے اور یہ بہت ذمہ دارانہ کام تھا جس کو کرنا میرے بس میں نہ تھا۔اور اس وقت مجھے اپنی پیاری سی دوست سمیعہ جی یاد آئیںجو بخوبی یہ ذمہ داری نبھاسکتیں تھیں ۔سمیعہ ناز اُس وقت میرے ساتھ نور ٹی وی پر بطور مہمان نعت خوان،اور نعت گو شاعرہ کی حثییت سے شریک ہوا کرتی تھیں۔ایک نعتیہ مجموعہ کلام کی خالق بھی ہیں۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے سمیعہ جی کی نعتیہ کتاب ’’خزینہ ء نور ‘‘ کی رسم اجراء آپ ہی کے نیک ہاتھوں سے سر انجام پائی تھی۔اور اس تقریب میں میری بھی شرکت تھی ۔


یوں برطانیہ میں نعت ریسرچ سینٹر کی ایک شاخ کھولنے کا ذمہ سمیعہ جی کے سپرد کیا گیا جسے انہوں نے خوب نبھایااور جنوری ۲۰۰۹ء میںسمیعہ جی نے نعت رنگ اور نعت ریسرچ سینٹر یوکے کو پہلی باربرطانیہ کے شہر لیڈز میں متعارف کروایا۔اور مجھے بطور خاص اس تقریب میں مہمان خصوصی کے اعزاز سے نوازا گیا ۔مجھے یہ باتیں سب کے ساتھ کرتے ہوئے بہت خوشی ہے کہ گذرتے رواں سالوں نے بتا دیا کہ سمیعہ ناز کو جو ذمہ سونپا گیا اسکو بہت اچھی طرح سے انہوں نے سر انجام دیا ۔ برطانیہ میںوہ نعت ریسرچ سینٹر یوکے کی روح رواں ہیں اور فروغ نعت کے کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔اور یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔نیکی کے کاموں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔مجھے اب افسوس ہوتا ہے کہ میں نے کیوںنہیں سمیعہ جی کے شانہ بہ شانہ کام کیا ۔ لیکن میں خوش ہوں کہ جو کام بھی سمیعہ جی کر رہی ہیں ۔نعت رنگ کے حوالے سے نعت ریسرچ سینٹر یوکے کے حوالے سے وہ بہت احسن ہے اور پاکستان میں آپ اور ڈاکٹر عزیز احسن صاحب اور دیگر جو احباب آپ کا ساتھ دے رہے ہیں نعت رنگ کے کاموں میں اللہ تعالی سب کو اجر عظیم سے نوازے اور مزید کامیابیاں نصیب ہوں۔ آمین


اس تقریب کے آخر میں ڈاکٹر عزیز احسن صاحب نے نعت رنگ اور نعت ریسرچ سینٹر کے حوالے سے بہت ساری باتیں سب شرکائے محفل کے گوش گذار کیں۔اور نعت رنگ کے ان پچیس شماروں میں بیس سالوں کی طویل محنت پر بھی روشنی ڈالی کہ کس طرح سے آپ نے اپنی لگن اور محنت سے نعت رنگ کا کام سر انجام دیا۔


اس تقریب کے ختم ہوتے ہی سمیعہ ناز نے ’’نعت ریسرچ سینٹر یوکے ‘‘ کی جانب سے دو ایوارڈ خصوصاََ دینے کا اعلان کیا ۔ جس پر سب کو بہت مسرت ہوئی۔ایک ایوارڈ ’’بہترین نعتیہ تنقید نگار‘‘ جو ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کو ملا ۔اور دوسرا ایوارڈ ’’بہترین نعت ایڈیٹر‘‘کا جو آپ( سیّد صبیح رحمانی )کو آپ کی بہترین کارکردگی پر دیا گیا آپ کی غیر موجودگی کی بنا پر اس ایوارڈ کو ڈاکٹر عزیز احسن صاحب نے لیا۔آپ کو اور ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کو بہت مبارک ہو ۔ یہ شام میری یادگار شاموں میں سے ایک ہے اس ایک شام میں میں نے کتنے ہی حسین پل ایک ساتھ کتنے ہی دمکتے لوگوں کے ساتھ جی لیے۔ نعت رنگ ۲۵ کی سلور جوبلی کی خوشی میں سمیعہ جی نے خاصا اہتمام کیا ہوا تھا کہ دل خوش ہوگیا۔ ایک بہت بڑے کیک پر نعت رنگ ۲۵ کے سر ورق کی خوبصورت تصویر چھپوائی گئی تھی جو نہایت دیدہ زیب لگ رہی تھی۔کیک کو مہمان خصوصی ڈاکٹر عزیز احسن اور دیگر لوگوں نے مل کر کاٹا اور خو شی منائی۔آخر میں ایک خوبصورت نعتیہ مشاعرہ ہوا جس میں تمام شعراء نے اپنا اپنا نعتیہ کلام سنا کر بہت داد پائی ۔


طلعت سلیم ۔برطانیہ[ترمیم]

۱۸/اکتوبر۲۰۱۶ء


مقامِ مسرت ہے کہ نعت رنگ (کتابی سلسلہ) ۱۹۹۵ء میں قافلۂ نعت نگاراں آپ (صبیح رحمانی) کے ہاتھوںچمنستان علم و ادب میں نیک تمنائوں ،خوبصورت خوابوں اور روشن امیدوں کے ساتھ لگایا ہوا پودا ماشاء اللہ ۲۵ برسوں کی سردی گرمی سہتا آج ایک حسین و جمیل سر سبز و شاداب پیڑ کی صورت ہمارے سامنے قلب و تظر کی شادابی و شادمانی کا ساماں لیے شان سے ایستادہ ہے ۔


روح پرور نعتوں کے خو ش رنگ پھولوں، بلند پایہ مضامین، تحقیقی مقالوں، بحثوں،تبصروں اور تذکروں کی دنیا پہلو میں لیے ایک ٹھنڈی پھوار کی صورت دل و جاں کو ٹھنڈک بخش رہا ہے۔تاجدار انبیاء آقائے نامدار حضرت محمدمصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں رنگا رنگ نعتوں کے گلدستے پیش کر کے قارئین کے مشام جاں کو مہکاتے اور دین و دنیا کو سنوارنے میں اپنی توانائیاں صرف کر کے ہر کتابی شمارے میں کیا کیا کچھ آپ پیش کر تے چلے آرہے ہیں ۔ آپ کے مبارک ہاتھوں سے نعت رنگ(کتابی سلسلہ) کا لگایا ہوا اور خونِ جگر سے سینچا ہوا پودااب ماشاء اللہ عمر کے بیس برس پورے کر کے بلند قامت پیڑ کا روپ دھارے شان سے کھڑا ہے۔نعت ریسرچ سینٹر سے شائع ہونے والی دلآویز کتابیں اپنی جگہ دامن ِ دل کو کھینچتی ہیں ۔ صنفِ نعت کو متبرک صنف سمجھتے ہوئے اس پر تنقید نہ کرنے کے اندازِ فکر کو نعت رنگ نے تبدیل کرکے بہت بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔


نعت کا ناقدانہ جائزہ لے کر محترم ادبا، شعراء وقیع مضامین لکھ کر اسکی نوک پلک سنوارتے اور اس کا ظاہری و باطنی اور فنی حسن نکھارتے ہیں۔ نعت رنگ کے نگراں اور اپنی ذات میں ایک ادارے کی حثییت رکھنے والے ہمارے محترم ڈاکٹر عزیز احسن صاحب یہی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ ماشاء اللہ ! اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ سمیعہ نازؔ صاحبہ نے نعت رنگ (کتابی سلسلہ) کی سلور جوبلی کی خوبصورت تقریب محترم ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کے ساتھ لیڈز میں منعقد کی جس میں ہم سب کی بھرپور شرکت رہی ۔نعت رنگ کے کتابی سلسلے کی سلور جوبلی پر سب کی خدمت میں مبارکبادپیش کرتی ہوں اور ایک شعرجو محترم ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کی نذر کیا تھا دورانِ تقریب جب وہ ہم سب کے درمیان تشریف فرما تھے۔


دل مسرت کی فراوانی سے دیوانہ ہے آج

دیکھئیے یہ کون آخر زیب ِ کاشانہ ہے آج


یہاں برطانیہ کے شہر لیڈز میں محترمہ سمیعہ ناز صاحبہ بڑی دلجمعی شوق و محبت سے بطورِ معاون چیئر پرسن قابلِ قدر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ مجھے نعت رنگ سے انہوں نے متعارف کروایا اور بہت سارے لوگوں کو کئی سالوںسے کرواتی چلی آرہی ہیں۔


کتابی صورت میں سینکڑوں صفحات پر مشتمل نہایت اعلیٰ نعتوں اور مضامین سے مزیّن تحفہ پیش کرنا آپ اور آپ کے تمام رفقائے کار کا بیش قیمت کارنامہ ہے جس کے لیے ہم نہایت شوق سے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے منتظر بیٹھے ہوتے ہیں کہ سمندر پار سے کب یہ گراں بہا تحفہ یہاں پہنچ کر دل و جاں کی شادمانی کا ساماں مہیّا کرتا ہے ۔ نعت رنگ کے اس خوبصورت کارواں کے لیے ڈھیروں مبارکباد اور دعائیں۔


ترا آفتابِ قسمت رہے تا ابد فروزاں

تری صبح روزِ کامل کبھی شام تک نہ پہنچے

سمیعہ نازؔ اقبال ۔برطانیہ[ترمیم]

۲۰/اکتوبر۲۰۱۶ء


جب بھی قلم اٹھاتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ میں ایک کم فہم اور کم علم کیا لکھوں گی اور کہاں تک لکھ پائوں گی۔ جس جریدے میں اعلیٰ فکر و نظر کے لوگ لکھتے ہوں۔اللہ کریم کا بے پایاں کرم ہے کہ ’’نعت رنگ ‘‘ بتدریج درخشاں زینے طے کرتے ہوئے اپنے جلو میں نقدو نعت کے دفینوں کو لیے رواں دواں ہے اور اللہ تعالیٰ یوں ہی مزید برکتوں اور رحمتوں سے مالا مال رکھے۔ آمین


محترم ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کی برطانیہ آمد سے تمام نعت سے محبت کرنے والوں کو از حد خوشی ہوئی اور وہ اپنے ساتھ نعت رنگ شمارہ نمبر ۲۵ سلور جوبلی نمبر لے کر آئے۔ماشاء اللہ دیدہ زیب سر ورق خوبصورت آیہ نورکے ساتھ نہایت عمدہ کاوش ہے اور بیس برس کی محنتوں کا ثمر!

’’نعت رنگ ‘‘ ایک سنگ میل کی حثییت رکھتا ہے میں اپنی جانب سے اور نعت ریسرچ سینٹر یوکے کے تمام بورڈ ممبران کی جانب سے آپ اورتمام ارباب نقد و نظر جنہوں نے دامے، درمے، قدمے، سخنے جیسے بھی جتنا بھی کسی نے حصہ ڈالا ان سب کو اور ’’نعت رنگ ‘‘ کے تمام قارئین کو بہت مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ اللہ کریم ’’نعت رنگ ‘‘ جیسے وقیع اور خوبصورت جریدے کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور مزید توفیقات عطا ہوں ۔آمین ثم آمین

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی خوبصورت دھنک بکھری ہے ’’نعت رنگ ‘‘ کے ابتدائیہ سے لے کر آخر تک۔دلی مسرت ہوئی کہ آپ نے اس خوبصورت شمارے سلور جوبلی نمبر ’’نعت رنگ ‘‘ ۲۵ کو محترم جناب ’’پروفیسر انوار احمد زئی ‘‘صاحب کے نام کیا۔پروفیسرڈاکٹر ریاض مجید صاحب نے بہت محبت اور وارفتگی سے ’’نعت رنگ‘‘کے لیے جو قصیدہء دعائیہ قلمبند کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔بہت مبارکباد پیش کرتی ہوں پروفیسرڈاکٹر ریاض مجید صاحب کو جنہوں نے اس قدر خوبصورت اور تحسین آمیز قصیدہ پیش کیا ہے۔ماشاء اللہ!

تمام مقالات بہت جامع اور پر اثر ہیں اور بہت پسند آئے لیکن ہر ایک پر بات کرنا محال ہے۔ان میں چند ایک پر ضرور بات کرنا چاہتی ہوں۔پروفیسرڈاکٹر ریاض مجید صاحب نے’’ برسبیلِ نعت ۔۔الفاظ و تراکیب‘‘ پر ایک عمدہ تحریر پیش کی ہے۔ایسے مضامین کی اشد ضرورت ہے جن سے نوآموز شعرا کو بہتر سے بہترین لکھنے کی ترغیب و تحریک ملے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر عزیز احسن صاحب نے’’نعتیہ ادب کی تخلیق، تنقید اور تحقیق کے تلازمے‘‘ ہمیشہ کی طرح ایک جامع اور اصلاحی تحریر پیش کی ہے ۔ ماشاء اللہ! محترم ڈاکٹر شبیر احمد قادری اور محترم ڈاکٹر اصغر علی بلوچ کا تحریر کردہ مقالہ بعنوانِ ’’مذاہب عالم کا فلسفہء اخلاق اور اردو نعت نگار‘‘ ایک نہایت تحقیقی،معلوماتی اور عمدہ کاوش ہے۔جسے پڑھ کر بہت اچھا لگااور جس میں دیگر مذاہب کے بارے میں آگاہی دی گئی ہے۔

کاشف عرفان نے ’’اردو نعت نگاری پر ما بعد جدیدیت کے اثرات‘‘ کے عنوان سے ایک لاجواب کاوش’’ نعت رنگ ‘‘کے تمام قارئین کی نذر کی ہے۔ان کی تحریر بہت شستہ اور اجلی ہے۔نعت رسول کے لیے فکر کو جو بلندی اور رسائی عطا ہونی چاہیے وہ بہت کم دیکھنے میں آتی ہے جس کے عوامل بے شمار ہوسکتے ہیں لیکن مجھے کاشف عرفان کی یہ بات بہت واضح محسوس ہوئی۔ وہ اس ضمن میں یوں لکھتے ہیںکہ:

’’ نعتیہ میدان میں مابعد جدیدیت کے حوالے سے اقبال کی شاعری اس آفاقی سطح کو چھوتی نظر آتی ہے جس کی جانب مابعد جدیدیت کا نظریہ اشارہ کرتا ہے ۔ اردو میں نعتیہ تنقید کو سب سے بڑا مسئلہ یہی درپیش رہا کہ اس نے اقبال کو معیار اورمرکز مان کر بات کو آگے بڑھانے کے بجائے ایسے کلام پر گفتگو کی جو خود اس درجے کو نہیں چھوتا جہاں شعر آفاقیت حاصل کر لیتا ہے ما بعد جدیدیت کا ایک اہم نکتہ کائنات کی حدود میں پھیلائو اور کائنات کی لامحدودیت کو سمجھنے کے عمل سے متعلق ہے۔‘‘

کاشف عرفان کی اس خوبصورت تحریر کو پڑھ کر ازحد خوشی ہوئی ۔انہوں نے بہت جامع اور واضع دلیلوں کے ساتھ ایک وسیع موضوع کو بیان کیا ہے ۔اس پر سیر حاصل بات کی جا سکتی ہے ، لیکن میں اسی پر اکتفا کروں گی کیونکہ خط بہت طویل ہو چکا ہے ۔

ایک مقالہ جو ڈاکٹر شہزاد احمد نے ’’نعتیہ کلیات کی روایت (ایک مطالعاتی جائزہ )پیش کیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک بہت ہی معلوماتی اور مطالعاتی جائزہ ہے۔ اور جس کی افادیت مسلم ہے،جیسا کہ اس کے آغاز میں ہی نعت کی صدی کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔آپ اور ڈاکٹر شہزاد احمدبہت مبارکباد کے مستحق ہیںاتنی عمدہ کاوش پر۔اس جائزے کو پڑھ کر اچھا تو لگا لیکن اختصار کی وجہ سے بڑے سے بڑے شعرائے کرام کی نعتوں کے ایک یادو عدد اشعار پیش کیے گئے ان کے تعارف کے ساتھ جبکہ قارئین کی تشنگی کو بڑھا دیا گیا۔

محترم منظر عارفی صاحب نے ’’اُردو کے نعتیہ اشعار میں’ چٹائی ، غارِ حرا، جو، ‘ کے تذکار اور سیرت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حقائق‘‘ پر جو عمدہ کاوش کی ہے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔میری ادنیٰ سی عرض ہے کہ ایسے مزید مقالے منظر ِ عام پر آئیں تاکہ ہمارے جیسے نوآموز شعرا کے لیے مزید آگاہی اور سیکھنے کا سبب ہوں۔اور اصل حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے قدرے بہتر سے بہترین سیکھنے کی سعی کی جا سکے۔ ڈاکٹر دائود عثمانی صاحب نے ’’نعت نامے‘‘ اور نقدِ نعت کے حوالے سے ایک خوبصورت اور عمدہ مقالہ پیش کیا ہے۔جہاں انہوں نے خوب سے خوب تر نعت ناموں کا حوالہ شامل کیا وہاں پر مجھے اپنا نام دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔جزاک اللہ خیرا!

’’نعت رنگ‘‘ کی ایک خصوصیت ہے کہ اس میںنعت کے بہت اُجلے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس بار بھی’’ سرائیکی شاعری میں نعت‘‘ کے عنوان سے خوبصورت تحقیقی مقالہ محترم خورشید ربانی نے پیش کیا ہے۔جہاںبہت سے نام اور کلام پڑھ کر دل خوش ہوا وہاں سلطان باہو ؒ اور خواجہ فریدؒ کے کلام دیکھ کر خود کو لکھنے سے روک نہ پائی۔

ب بسم اللہ دا ایہہ گہنا وی بھارا ہو

نال شفاعت سرور عالم چھٹسی سارا ہو
جدوں ودھ درود نبی تے جئیں دا ایڈا پسارا ہو

میں قربان انہاں توں باہو جنہاں ملیا نبی دلارا ہو


’’بسم اللہ خداوند تعالیٰ کا نام ہے اور یہ گہنا انمول ہے، سرکارِ دوعالم کی شفاعت سے ساری دنیا نجات حاصل کرئے گی، ایسے با کمال نبی پر بے شمار درود و سلام ،باہو! میں ان لوگوں پر قربان جائوں جنہیں ایسا دلارا نبی ملا ہے۔‘‘


سرائیکی شاعری کے اولین دور سے متعلق پروفیسر عامر فہیم رقم طراز ہیں:


’’ سرائیکی شاعری کا ارتقا تو ہوتا ہی حمدِ باری تعالیٰ اور نعت ِ رسولِ کریم سے ہے ، جتنی پرانی کہانیاں ہیں، مثنویاں ہیں،لوک قصے ہیں، سب کے آغاز میں دعا ہے کہ بارگاہِ رسالت میں اسے قبولیت کا درجہ ملے۔‘‘


خورشید صاحب خواجہ فریدؒ کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں، کہ خواجہ فرید ؒ  ۱۹ویں صدی کے وہ واحد اہم ترین شاعر ہیں جنہیں عالمی شہرت نصیب ہوئی۔ ان کے کلام کا سوز و گداز ، مٹھاس اور نغمگی اپنی مثال آپ ہے۔جیسا کہ ڈاکٹر طاہر تونسوی لکھتے ہیں:


’’خواجہ فریدؒ نے لحنِ دائودی میں سچے حسن اور سچے عشق کی تلاش کا جو نغمہ تخلیق کیا اور عقیدت و محبتِ رسول کا جو مست کر دینے والا سُر چھیڑا ہے اس کے باعث وہ سب کے دل کی دھڑکن بن گئے۔ علامتوں اور اسرار کے حوالے سے انہوںنے تصوف کے جو مسائل بیان کئے اور جس طرح علاقہ کی علامت کو اظہار کا ذریعہ بنایا اس میں ان کا ثانی کوئی نہیں۔‘‘


خورشید صاحب مزید لکھتے ہیں کہ ،خواجہ فریدؒ ایک صوفی شاعر تھے۔ اس لیے ان کی شاعری میں وحدت الوجود کے نظریے کے اثرات بھی نظر آتے ہیں اور ایک عاشقِ کامل کی صدائے درد مند بھی سنائی دیتی ہے۔صوفیانہ شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے کلام میں حمد اور نعت کے مضامین بھی اپنے منفرد انداز میں موجود ہیں۔


حریم عقیدت میں ،گوشہء انور شعور پڑھ کر بہت اچھا لگا اور ساتھ میںڈاکٹر عزیز احسن صاحب کی خوبصورت تحریر ’’انور شعور کا شعر عقیدت‘‘ ایک جامع تحریر ہے۔ اس کے علاوہ گوشہء جمیل عالی نہایت عمدہ کاوش ہے ۔خصوصاََ جگمگ نور نہایا رستہ ، امین راحت چغتائی نے جو مطالعہ پیش کیا ہے۔گوشہء سید ضیا الدین نعیم دیکھ اور پڑھ کر بہت لطف آیا ۔ان کی نعتیں سوشل میڈیا پہ جب بھی دیکھیں پڑھ کر ہمیشہ اک روشنی کا احساس ملا ۔ان کی نعت میں سادگی سے کہے گئے اشعار میں ہمیشہ ایک خوبصورت پیغام جو آقا کی عظمت کو اجاگر کرتا ہوا قلب و روح میں اترتا ہوا محسوس ہوا۔


یہ خدا کا حکم ہے ، ہر آدمی کے واسطے

ان کی جانب دیکھنا ہے پیروی کے واسطے

ان کی آمد سے مٹا رنگ و نسب کا امتیاز

صرف تقویٰ، شرط ٹھہرا ، برتری کے واسطے


رواں سال میں میرے پاس نعت ریسرچ سینٹر کی بہت ساری نادر اور اہم کتب پہنچی ہیں جس کے لیے میں خصوصی طور پر ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کی بہت مشکور ہوں جنہوں نے اپنی تمام کتابوں کے نایاب نسخے مجھ ناچیز کو دیے اور’’ نعت نامے‘‘ جیسی کتاب بھی موصول ہوئی۔جو ایک مکمل دستاویز بن چکی ہے ۔اور اس ضمن میں محترم اقبال جاوید صاحب اپنے خط میں کیا خوب فرماتے ہیں کہ:


’’خط شخصیت کا عکس ہوتا ہے۔اور شخصیت مسرت کے قہقہوں، غم کے آنسوئوں ،بے نیازی کی داستانوں اور نیاز مندی کی تمنائوں سے عبارت ہے۔‘‘


اور جو ایسے کئی خوبصورت خطوط سے بھری پڑی ہے۔آپ کی ممنون ہوں کہ آپ نے’’ نعت نامے‘‘ جیسی تاریخی شاہکار کتاب ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کے توسط سے ارسال کی ۔ڈاکٹر سہیل شفیق صاحب کو بہت مبارکباد پیش کرتی ہوں جنہوں نے یہ تحسین آمیز کام سر انجام دیا اور مشکور ہوں کہ میرے تین خط اس تاریخی دستاویز میں شامل کیے ۔دعا ہے اللہ کریم آپ تمام احباب کی توفیقات ہیں مزید برکتیں عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!


آ پ کی ممنون ہوں کہ میرے بصد اصرار پر اپنی مرتب شدہ کتب بھی ارسال کیںجن میں ’’اردو نعت میں تجلیات سیرت، ڈاکٹر عزیز احسن اور مطالعات ِ حمد و نعت ، اردو نعت کی شعری روایت‘‘۔ان کے ساتھ ساتھ کاشف عرفان کی خوبصورت کتاب’’ نعت اوجدید ر تنقیدی رحجانات‘‘ بھی بھیجی ۔


اس کے علاوہ ’’نعت ریسرچ سینٹریوکے‘‘ کو فروغِ نعت اکیڈمی کی جانب سے ’’فروغِ نعت‘‘ کے تمام شمارے موصول ہوئے جس کے لیے ہم سب ’’فروغِ نعت اکیڈمی‘‘ کے چیئر مین محترم سید شاکر القادری صاحب اور جملہ اراکین کے بے حد مشکور ہیںجنہوں نے فروغ نعت کے مجلّے ارسال کیے۔


ڈاکٹرعزیز احسن صاحب کی برطانیہ آمد سے ہم سب نے خوب استفادہ کیا۔ نعت ریسرچ سینٹر یوکے کے زیر اہتمام ایک تقریب تو منعقد کی لیکن یوکے کے ایک مقامی چینل نور ٹی وی جس پر میں اپنے پروگراموں کی کمپیئرنگ کرتی رہتی ہوں۔ایک براہ راست نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کیا جس کے مہمانِ خصوصی محترم ڈاکٹر عزیز احسن صاحب تھے اور جس میں یوکے کے تمام مقامی شہروں سے شعرائے کرام نے شرکت کی۔اور جس کی صدارت محترم جناب قبلہ پیرمحمد علائوالدین صدیقی صاحب (چیئرمین آف نور ٹی وی )نے فرمائی ۔


سب سے اہم بات یہ بتانی مقصود ہے کہ نعتیہ مشاعرہ تو روایتی انداز سے کیا گیا۔جس میں تمام شعرائے کرام نے اپنے اپنے نعتیہ کلام تمام سامعین و ناظرین کی سماعتوں کی نذر کیے ۔آخر میں مہمانِ خصوصی جناب ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کو( راقمہ)نے نعت اور تنقید نعت پر گفتگو کی دعوت دی تاکہ تمام عالم اسلام میں جہاں جہاں نور ٹی وی دیکھا جارہا ہو یہ بات بھی سب تک پہنچ جائے۔کہ صحیح معنوں میں نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح سے کرنی چاہیے اور اس کے کیا تقاضے ہیں۔


اور آخر میں جناب قبلہ پیرمحمد علائوالدین صدیقی صاحب (چیئرمین آف نور ٹی وی ) نے صدارتی فرائض انجام دیتے ہوئے اس نعتیہ مشاعرے کو اور خصوصاََ ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کی نعت اور تنقید نعت پر گفتگو کو بہت پسند فرمایا اور اس بات کی تائید و تاکید بھی فرمائی کہ ہمیں نعتِ رسولِ کریم   کس طرح سے کرنی چاہیے اور بحثییت نعت گو ،نعت خوان اور نقاد کے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم نبی کریم کی شان اور ان کے ادب کے تقاضوں کو مدنظر  رکھتے ہوئے اس کام کو احسن طریقے سے لے کر چلیں۔الحمدللہ! اس پروگرام کو بہت پذیرائی ملی بہت سراہا گیا اور نور ٹی وی پر اس کو باردگر دکھایابھی گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


انٹرنیشنل نعت ریسرچ سینٹر ، یوکے،کی تقریبِ پذیرائی۔۔۔۔اور نعتیہ مشاعرہ:


لیڈز میں’’انٹرنیشنل نعت ریسرچ سینٹر ، یوکے‘‘ کی وائس چئیر پرسن سمیعہ نازؔ (راقمہ )نے خصوصی طور پر نعتیہ ادب کے مقبول ترین کتابی سلسلے، نعت رنگ کے پچیس شمارے مکمل ہونے پر سلور جوبلی کی تقریب پذیرائی منعقد کی ۔یہ تقریب، بروز ہفتہ ، ۱۹ ؍مارچ ۲۰۱۶ء کو لیڈز میں منعقد ہوئی۔ جس میں انٹرنیشنل نعت ریسرچ سینٹر ، کراچی ، پاکستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عزیز احسن کی برطانیہ آمد پر ان کے اعزاز میں ایک نعتیہ مشاعرے کا اہتمام بھی کیاگیا۔


تقریبِ پذیرائی کی نظامت کے تمام فرائض (راقمہ ) نے سر انجام دیے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز اشتیاق میر صاحب کی تلاوت قرآنِ حکیم سے ہوا۔ اس کے بعد ثوبیہ ملک کی خوبصورت آواز میں سمیعہ نازؔ (راقمہ) کا لکھا ہوا نعتیہ کلام سب کی سماعتوں تک پہنچا۔جس کو سن کرسب بہت لطف اندوز ہوئے۔


جھوم کر آئی صبا تیری ثنا سے پہلے
خوب برسی بھی گھٹا تیری ثنا سے پہلے


(راقمہ ) نے نعت رنگ کے پچیس شمارے مکمل ہونے پر سلور جوبلی کی تقریب کے لیے ایک بہت بڑا خوبصورت کیک نعت رنگ کے پچیسویں شمارے کے سر ورق کی مکمل تصویر کے ساتھ تیار کروارکھا تھا۔(راقمہ ) نے ،مہمان خصوصی محترم ڈاکٹر عزیز احسن صاحب ، ڈاکٹر مختار الدین صاحب ، ڈاکٹر مقصود الٰہی شیخ صاحب ، محترمہ طلعت سلیم صاحبہ اور فراز یونس صاحب کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔اوریوںکیک کو مہمانِ خصوصی نے دیگر مہمانوں کی شمولیت کے ساتھ کاٹا۔اس کے بعد نعتیہ ادب کے بہترین نقاد کا ایوارڈ، طلعت سلیم صاحبہ کے ہاتھوں سے ،ڈاکٹر عزیز احسن کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ نعتیہ ادب کے بہترین مدیرکا ایوارڈ صبیح رحمانی کو دیا گیاجو صبیح رحمانی کی غیر موجودگی میں، سمیعہ ناز (راقمہ )ؔ کے شوہر پرویز اقبال کے ہاتھوں سے ،ڈاکٹر عزیز احسن نے وصول کیا۔ (راقمہ )نے تقریب پذیرائی کے لیے مہمانانِ اعزاز ڈاکٹر مقصود الہٰی شیخ ، طلعت سلیم صاحبہ اور مہمانِ خصوصی محترم ڈاکٹر عزیزاحسن صاحب کو سٹیج پر متمکن ہونے کی دعوت دی۔سب سے پہلے (راقمہ ) نے ’’نعت رنگ‘‘ کے پچیس شمارے مکمل ہونے پر شکریے کے طور پر ’’نعت رنگ‘‘ کے عنوان سے اپنی ایک نظم سب شرکائے محفل کی نذر کی ۔


مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عزیز احسن نے نعت رنگ کے اجراء کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اپریل ۱۹۹۵ء میں نعت رنگ،کتابی سلسلے کا پہلاشمارہ تنقیدنمبر کی صورت میں منظرِ عام پر آیا تھا۔ اب تک نعت رنگ کے پچیس شمارے شائع ہوچکے ہیںجن کی پذیرائی کا دائرہ بین الاقوامی سطح تک پھیل چکا ہے۔انہوں نے صبیح رحمانی کی مدیرانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور نعتیہ ادب سے ان کی دلچسپی کے باعث نعت ریسرچ سینٹر کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی کتب کا تذکرہ کیا۔ نعتیہ ادب میں تنقیدی سرگرمیوں کے آغاز کا سہرہ نعت رنگ کے سر ہے۔ نعتیہ ادب میں تنقیدی عمل کے بہت تاخیر سے شروع ہونے کے اسباب پر بھی ڈاکٹر صاحب نے روشنی ڈالی۔ وقت کی قلت کے باعث ڈاکٹر مقصود الہٰی شیخ صاحب ، محترمہ طلعتؔ سلیم ، تسنیمؔ حسن اور سمیعہ نازؔ (راقمہ ) نے بھی نعت رنگ کی ادبی انفرادیت کے حوالے سے بات کی۔ سب مقررین نے صبیح رحمانی کی مدیرانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور مہمانِ خصوصی کی ناقدانہ کاوشوں کو سراہا۔ تقریب پذیرائی کے بعد نعتیہ مشاعرہ ہوا جس کی نظامت کے فرائض اشتیاق میر صاحب نے انجام دیے اور اس کی صدارت معروف شاعرڈاکٹر مختار الدین احمدنے کی۔ ڈاکٹر عزیز احسن مہمانِ خصوصی کی حثییت سے شریک ہوئے۔ اس مشاعرے میں بر طانیہ کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے شعراء نے اپنا نعتیہ کلام سنایا۔جس میں سر فہرست ڈاکٹر مختار الدین احمد، اشتیاق میر، سمیعہ ناز (راقمہ )ؔ،تسنیم حسن،طلعت سلیم،سعدیہ سیٹھی،جاوید اقبال ستار،ڈاکٹر قیصر زیدی، خواجہ محمد عارف، مختار آذر کربلائی تھے ۔