کرامت علی شہیدی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

کرامت علی شہیدی انیسویں صدی کے اہم شاعر تھے لیکن کلام کی عدم دستیابی کے وجہ سے وقت کی گرد میں گم ہوگئے ۔ کرامت علی شہیدی اپنے نعتیہ کلام کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر لطیف حسین کے مطابق کرامت علی شہیدی موضع ہڑیا پور ضلع اناو میں پیدا ہوئے آخری وقت بریلی میں گذارہ [1]۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ آپ بریلی کے رہنے والے تھے تو نشو ونما لکھنو میں پائی [2] تاہم ڈاکٹر لطیف حسین کی رائے زیادہ معتبر ہے

تحصیل علم[ترمیم]

کرامت علی شہیدی کے والد "عبدالرسول " وہ ایک شیریں کلم شاعر اور علم عروض کے ماہر تھے ۔ پیشہ درس و تدریس تھا ۔ راجہ ٹکیٹ رائے کے فارسی کلام پر اصلاح دیتے تھے [3]۔ شہیدی کی ابتدائی تعلہم کے بارے کچھ خاص معلومات حاصل نہیں ڈاکٹر سید عام سہیل قیاس کرتے ہیں کہ رسمی تعلیم کے ساتھ والدِ محترم کی تربیت نے شعر گوءی کو جلا بخشی ہوگی ۔

نعت گوئی[ترمیم]

ڈاکٹر سید عامر سہیل کے مضمون سے اقتباس


کرامت علی خان شہیدی کے حالات زندگی، اُن کے دیوان کی مختلف اشاعتوں کے ذکر اور اُن کلام کی فہرست مرتب کرنے کے بعد شہیدی کی شاعری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے یہ بات نمایاں طور پر نظر آئے گی کہ اگرچہ شہیدی نے ہر مقبول صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے خصوصاً غزلیات کا نہایت معقول سرمایہ انہوں نے چھوڑا ہے مگر اُن کی اصل وجہ شہرت اُن کا نعتیہ کلام ہے۔ شہیدی کے کلام میں ایک قصیدہ نما نعت، دو دو نعتیہ غزلیات، ایک نعتیہ رباعی اور مولوی جامی کی غزل پر ایک نعتیہ مخمس شامل ہے۔ اِس قلیل نعتیہ سرمایہ کے باوجود نعت گوئی میں اُن کی شہرت بقائے دوام کا درجہ رکھتی ہے۔ ڈاکٹر لطیف حسین صاحب ادیب کے بقول:

"شہیدی نے نعتیہ قصیدے، نعتیہ غزلیں اور نعتیہ خمسے لکھے۔ اِن نعتوں میں قصیدے کی شان، غزل کی آمد و آورد اور خمسے کی بر جستگی ہے۔ اُن کی نعتیہ غزلوں میں جذبات نگاری بھی ہے اور عارض و گیسو کی توصیف بھی ہے [4]

شہیدی کا شمار اوّلین نعت گو شعرا میں ہوتا ہے۔ اگرچہ شہیدی سے بہت پہلے نعتیہ شاعری کے ابتدائی نمونے دکن میں نظر آتے ہیں۔ اِس کے بعد شمالی ہند میں بھی نعت اور منقبت کو فروغ حاصل ہوا بلکہ اِن علاقوں میں زیادہ رجحان منقبت کا رہا جبکہ نعتیہ کلام کی حیثیت محض عقیدت اور ثواب سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اِس کے علاوہ لکھنو کے ماحول کے زیر اثر منقبت لکھنے والے شعرا ہی زیادہ رہے۔ اِس عہد کے اہم لکھنے والوں میں نظیر اکبر آبادی، شہیدی، لطف علی خان لطف اور غلام امام شہید نے نعت کی طرف خاطر خواہ توجہ دی [5] مگر جو بے ساختگی اور والہانہ پن شہیدی کے حصہ میں آیا وہ کسی اور کو نصیب نہ ہوسکا اور یہی نہیں بلکہ جب کھبی اُردو کی نعتیہ شاعری کا ذکر آتا ہے تو شہیدی کا نام عزت سے لیا جاتا ہے۔[6]

شہیدی کی نعتیہ غزلوں اور رباعی میں بھی عقیدت کا گہرا رنگ نظر آئے گا۔ شہیدی کا فکری رویہ اور مزاج چونکہ لکھنو تھا، اِس لئے اِن کے یہاں لکھنو کی زبان کا خاص لسانی و تہذیبی شعور دکھائی دے گا۔ ڈاکٹرریاض مجید نے اِس خیال کا اظہار کہ اُن کے یہاں موضوع و اظہار کے انتخاب اور پیش کش میں لکھنوی شاعری کے اثرات ملتے ہیں، نکتہ آفرینی اور صنعت گری کے نمونے کم و بیش سبھی شعروں میں ملتے ہیں جن کے سبب خارجیت نمایاں ہے اور واقعی احساسات اور واردات کا فقدان ہے۔ [7] جہاں تک خارجیت کا تعلق ہے تو یہ ہر لکھنوی شاعرکا بنیادی حوالہ بنتی ہے کیونکہ اِس کے پس منظر میں ایک مکمل سیاسی، سماجی اور تہذیبی عمل کار فرما تھا۔ مگر شہیدی نے اُس خارجیت کے باوجود نعت گوئی کو باقاعدہ ایک شعری اظہار کا وسیلہ بنایا ہے اور اِسے محض عقیدت و ثواب سے نکال کر فن کی بنلدی تک پہنچایا ہے۔ چند اشعار دیکھیں۔

ہے سورۃ واشّمس اگر روئے محمد

واللیل کی تفسیر ہوئی موئے محمد

کس وضع اٹھائے ہوئے ہیں بارِ دو عالم

ظاہر میں تو نازک سے ہیں بازوئے محمد

کعبہ کی طرف منہ ہوئے نمازوں میں ہمارا

کعبہ کا شب و روش ہے منہ سوئے محمد

رضواں کے لئے لے چلوں سوغات شہدی

گر ہاتھ لگے خارو خس کوئے محمد


مشہور کلام[ترمیم]

وفات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

قطب الدین بخت | معین الدین چشتی | جلال الدین رومی | شیخ سعدی شیرازی | امیر خسرو دہلوی | مولانا عبدالرحمن جامی | جان قدسی | میر تقی میر | نیاز احمد چشتی | کرامت علی شہیدی | محمد ابراہیم دہلوی | کفایت علی مراد آبادی | اسد اللہ خاں دہلوی | نواب مصطفی دہلوی | خلیل الدین پیلی بھیتی | غلام امام امیٹھوی | لظف علی بریلوی | امداد اللہ مہاجر مکی | ویزدانی میرٹھی | امیر مینائی | داغ دہلوی | محسن کاکوروی | حسن رضا خان | الطاف حسین حالی | عزیز اللہ | سید عبدالغنی شاہ | احمد رضا خاں | محمد علی جوہر | عزیز لکھنوی | اصغر حسین گونڈوی | ڈاکٹر محمد اقبال | محمد عالمگیر خاں | اکبر حسین | بیدم شاہ وارثی | سراج الدین احمد | اقبال احمد خان | جلیل حسن | حامد رضا خان | نعیم الدین قادری | اختر شیرانی | حسرت موہانی | عاشق حسین صدیقی | محمد اکبر خاں | مولانا ظفر علی خان | غلام محمد ترنم | جگر مراد آبادی | عبدالسمیع رامپوری | سراج احمد میرٹھی | اعظم علی شائق | خلیل الرحمن بانسوی | حشمت علی بریلوی | محمد شریف ٹونکی | عاصی رامپوری | احمد حسین حیدر آبادی | سید محمد ہادی | اصطفا خاں لکھنوی | حمید صدیقی لکھنوی | شکیل بدایونی | محمد یعقوب حسین | حسین خاں گوہر | جمیل الرحمن رضوی | عبدالعلیم صدیقی میرٹھی | احمد یار خان | مجدد بن آدم سنائی | حسن غزنوی | خاقانی شروانی | نظامی گنجوی | مصطفی رضا خان | یوسف علی خاں | رعنا اکبر آبادی | شورش کاشمیری | ساجد اسعدی | غلام رسول قادری | جام نوائی بدایونی | سید محمد مرغوب | عبدالرشید یزدانی | منور بدایونی | عبدالعزیز حاصل پوری | مظہر الدین مظہر | اعظم چشتی | محمد ریاض الحسن | عبدالرشید اجمیری | ستار وارثی | محمد افضل فقیر | کوثر نیازی | طفیل ہوشیار پوری | رفیع احمد | شمس نظامی | راسخ عرفانی | ارمان اکبر آبادی | عبدالسلام باندوی | جوش ملیح آبادی | احسان الحق | حفیظ جالندھری | منظور حسین | رئیس امروہوی | غلام مصطفی | طاسین فاروقی | شاعر لکھنوی | محشر بدایونی | شمس بریلوی | محمود حسن رضوی | وقار صدیقی | خورشید حسن | رحمان کیانی | ریحان رضا بریلوی | حاصل مراد آبادی | فدا دہام پوری | الیاس ندنی | نثار احمد | عارف اکبر آبادی | اختر انصاری | سالک عزیزی | راز کاشمیری | منظور احمد صدیقی | سرور اکبر آبادی | محمد علی ظہوری | خلش مظفر | اصغر حسین خاں | آفتاب احمد نقوی | سکندر لکھنوی | عنبر علی شاہ واثی | اقبال صفی پوری | قمر انجم | نظیر شاہجہاں پوری | نشتر اکبر آبادی | اختر لکھنوی | طفیل دارا | صائم چشتی | حافظ لدھیانوی | برگ یوسفی | وحید پیامی | درد اسعدی | شیوا بریلوی | تہور علی زیدی | خالد بزمی | شفیق الدین شارق | بسمل آغائی | ادب سیمابی | جمیل نظر | فیاض احمد وارثی | آباد پیلی | صہبا اختر | لطیف اثر | محمد شفیع اوکاڑوی |


شراکتیں[ترمیم]

صارف:تیمورصدیقی

حوالہ جات و حواشی[ترمیم]

  1. (مضمون) مشمولہ "معارف اعظم گڑھ (نمبر۱، جلد ۹۳ء جنوری ۱۹۶۴ء) ص ۴۳
  2. مولانا سید عبدالحی، "گلِ رعنا" (لاہور، عشرت پبلشنگ پاوس، ۱۹۶۴ء) ص ۲۷۴
  3. (مضمون) مشمولہ "معارف اعظم گڑھ (نمبر۱، جلد ۹۳ء جنوری ۱۹۶۴ء) ص ۴۳
  4. ایضا
  5. ڈاکٹر فرمان فتح پوری "اُردو کی نعتیہ شاعری" (لاہور، آئینہ، ۱۹۷۴ء) ص ۵۰
  6. ڈاکٹر رفیع الدین اشفاق "اُردو میں نعتیہ شاعری' (کراچی، اُردو اکیڈمی سندھ، ۱۹۷۵ء) ص ۲۲۶
  7. ڈاکٹر ریاض مجید، "اُردو میں نعت گوئی"، ص ۳۰۷
  8. ڈاکڑ شہزاد احمد، انوار عقیدت، انٹرنینشل حمد و نعت فاونڈیشن کراچی ۔ جون 2000