صہبا اختر

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Sehba Akhtar.jpg

صہبا اختر [ اصل نام : اختر علی رحمت ] 30 ستمبر، 1931ء کو جموں ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔لیکن کشمیری نہیں تھے بلکہ نسلا پنجابی تھے ۔ ان کے والد منشی رحمت علی کا تعلق امرتسر سے تھا،وہ آغا حشر کاشمیری کے ہم عصر ڈرامہ نویس ، شاعر اور ہدایت کار تھے ۔ صہبا اختر نے بریلی سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر اسی دوران پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور انہیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آنا پڑا۔ پاکستان آنے کے بعد صہبا اختر نے بہت نامساعد حالات میں زندگی بسر کی۔ پھر انہوں نے محکمہ خوراک میں بطور انسپکٹر ملازمت اختیار کی اور ترقی کرکے راشننگ کنٹرولر کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔


مزید تعارف[ترمیم]

ازدواجی زندگی: شادی اگست 1953 بیگم سعیدہ اختر

اولاد: تین بیٹیاں :ڈاکٹر شہلا، ڈاکٹر ثمینہ، روبینہ بینکر

تین بیٹے: انجینئر عظیم اختر، انجینئر اعظم اختر، ڈاکٹر ندیم اختر

صحافت: روزنامہ حریت۔ روزنامہ مشرق

ریڈیو :طویل غنائیے، غزلیں ، گیت، حمد اور نعتیں بہ حیثیت سٹاف آرٹسٹ پڑھیں ، قومی و ملی و جنگی نغمے نشر ہوئے۔

ٹی وی :ٹی وی کے لیے قومی نغمہ اور رزمیہ ترانے لکھے۔ سانحہ1971ء کی رات ٹی وی سے نظم ’’سنومیری ماؤ سنو میری بہنو‘‘ نشر کی گئی۔

نعت گوئی[ترمیم]

نمونہء کلام[ترمیم]

یتیمی جس نے پائی، اس بلند اقبال کو دیکھو

نعت کی بزمِ ادب میں آج صہبا میں بھی ہوں


نعتیہ مجموعے[ترمیم]

1981ء اقراء -نعتوں کا مجموعہ


معاصرین کی آرا[ترمیم]

ڈاکٹر ابو الخیر کشفی[ترمیم]

’ مجھے اپنی زندگی میں صہبا اختر کے سوا کوئی اور آدمی ایسا نہیں ملا، جس سے کبھی کسی کی غیبت نہیں سنی۔ اب تو فضا میں اتنی کشیدگی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے مذاق بھی نہیں کرتے۔ آج سے بیس سال پہلے فضا مختلف تھی مگر اکثر صہبا کی موجودگی میں اور کبھی کبھی اس کی غیر موجودگی میں لوگوں سے کہتا کہ صہبا اگرچہ مسلمان ہے اور پھر شیعہ ہے۔ کڑوا کریلا اور نیم چڑھا۔ مگر آج تک اس سے کس کی غیبت نہ سنی اور صہبا مسکرا کر رہ جاتا اور دوست میری تائید کرتے۔ آج تو پیار کی ان باتوں میں لوگ تعصب تلاش کر لیں ، ہمارا عہد وہ تھا کہ ایک دوسرے کو چھیڑتے، لیکن اس وسعتِ قلب کا یہ عالم تھا کہ دوسرے کے مسلک کے احترام میں بڑے بڑوں کو ٹوک دیتے۔ کسی کی اچھائیوں کو دہراتے۔ لوگوں کی غیبت میں ان کی عزت کی حفاظت کرتے۔ اگر کسی کی برائی ہو رہی ہوتی تو صہبا خاموش رہتے لیکن اگر یہ سمجھتے کہ اس شخص کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، وہ جھوٹ اور غلط ہے تو صہبا اپنی رائے کا ضرور اظہار کرتے۔ [1]

احمد ندیم قاسمی[ترمیم]

" صہبا اختر کے ہاں جذبے اور احساس کے علاوہ ملکی اور ملی موضوعات کا جو حیرت انگیز تنوع ہے وہ انھیں اپنے معاصرین میں بہرحال ممیز کرتا ہے۔ نظم ہو یا غزل مثنوی ہو یا قطعہ وہ اپنے موضوع میں ڈوب کر اس کے آفاق پر چھا کر شعر کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں قاری یا سامع کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لینے کی جو توانائی ہے، وہ اس دور میں بے مثال کہی جا سکتی ہے بظاہر وہ بلند آہنگ شاعری کرتے ہیں لیکن اس طرح کا خیال عموماً ان لوگوں کا ہوتا ہے جنھوں نے صہبا اختر کو مشاعروں میں پڑھتے سنا مگر ان کے کلام کے مطالعے سے محروم ہیں یہی احباب صہبا اختر کے کلام کو یکجا دیکھیں گے تو انھیں معلوم ہو گا کہ یہ شاعر جو مشاعروں میں گرجتا اور گونجتا ہے اپنے کلام کی گہرائیوں میں کتنا اداس اور تنہا ہے۔ ‘‘ [2]

اعجاز بزمی[ترمیم]

اعجاز بزمی نے ’’صنعتِ توشیع‘ میں صہبا اختر سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ان کا جانا اردو شاعری کے لیے ایک بڑے سانحے سے کم نہیں۔

ص ۔ صہبائے شاعری کا سخن در نہیں رہا

ہ ۔ ہے یاد جس کی باقی وہ اختر نہیں رہا

ب ۔ بے کیف محفلیں ہیں وہ شاعر خموش ہے

ا ۔ اردو زبان کے نغموں کا ماہر خموش ہے

ا ۔ الفاظ کے خزینہ کا مالک چلا گیا

خ ۔ خود داریء خیال کا مالک چلا گیا

ت ۔ تھی جس کی ذات عین محبت کہاں ہے وہ

ر ۔ روح ِادب نہ پائے گی اس کو جہاں ہے وہ‘‘


دلاور فگار[ترمیم]

” مجھے خوشی ہے کہ میرے دوست صہبا اختر صاحب غزلوں اور نظموں کے کئی مجموعے، سرکشیدہ، وغیرہ تخلیق کرنے کے بعد اب نعت پاک کا مجموعہ اقراء لا رہے ہیں۔ ان کی یہ تخلیق اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شخص جو فراعینِ جہاں کے سامنے سرکشیدہ تھا۔ دربار رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حاضر ہوتا ہے تو سرخمیدہ ہے اور اس کا دل عشقِ رسول سے سرشار ہے۔ خدا کرے کہ اقراء کو دُنیا میں شرف قبولیت حاصل ہو اور عقبیٰ میں یہ صہبا صاحب کی نجات کا ضامن ہو۔ [3]

اعزازات[ترمیم]

1974ء ستارۂ ادب۔ جشنِ کورنگی، کراچی

1995ء شاعرِ پاکستان۔ پیٹریاٹ پاکستانیز دبئی

1996 ء صدارتی اعزاز برائے، حسنِ کارکردگی (بعدازوفات)


وفات[ترمیم]

صہبا اختر 19 فروری، 1996ء کو کراچی، پاکستان میں حرکت قلب بند ہونے سبب انتقال کرگئے اور گلشن اقبال کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔ [4] ۔ ان کی وفات پر جمیل جالبی نے فرمایا

’’ میں صہبا اختر کو کم و بیش چالیس پینتالیس سال سے جانتا تھا، ان کی شادی میں بھی شریک ہوا تھا اور آج ان کی وفات کی خبر سنی، جو یقیناََ بہت تکلیف دہ ہے۔ میں نے اس تمام عرصے میں صہبا اختر کو بہت وضع دار او رکھ رکھاؤ کا انسان پایا۔ وہ شعر و ادب کے لیے پیدا ہوئے تھے اور ساری عمر شعر و ادب میں ہی لگے رہے … ان کی آواز میں توانائی اور روانی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے، خاص طور پر ان میں طویل نظمیں لکھنے کی بڑی صلاحیت تھی۔ ‘‘ [5]

بیرونی روابط[ترمیم]

اے آر وائی ڈیجیٹل نے صہبا اختر پر ایک پرگرام پیش کیا تھا جس کےروا بط درج ذیل ہیں

حصہ اول : https://www.youtube.com/watch?v=ftvmoAqDCIo

حصہ دوم: https://www.youtube.com/watch?v=ANI7uNFwpOs

حصہ سوم: https://www.youtube.com/watch?v=PhNXwtvmqMY

شراکتیں[ترمیم]

صارف: ارم نقوی نے شروع کیا

قرت العین طاہرہ کے مقالے صہبا اختر: شخصیت اور فن سے مدد لی گئی

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. صہبا اختر: شخصیت اور فن . ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ
  2. احمدندیم قاسمی ، مجلہ خزینہ
  3. مجلہ اقراء
  4. اردو ویکیپیڈیا
  5. جمیل جالبی ، ۲۰ فروری۱۹۹۴ء کراچی روزنامہ جنگ