غیر منقوط نعتیہ شاعری

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

غیرمنقوط شاعری کی روایت

انشاء اللہ خان انشا [1756-1817] ایک غیر معمولی اور ممتاز شاعر تھے ۔ انہوں نے بے نقط مثنوی اور دیوان لکھا ۔ عین ممکن ہے کہ اس صنعت کے بانی بھی وہی ہوں [حوالہ درکار ] ۔ انشا کے کچھ اشعار یہ ہیں

ہو عطر سہاگ لگا کر مسرور

آرام محل رکھ اسم دل کا او حور

وہ طور دکھا ہم کو کہ کل ہو معلوم

موسیٰ کا عالم اور وہ لمحہ طور

مرزا دبیر

مرزا دبیر کے کچھ غیر منقوط اشعار

اول سرور دل کو ہو ، اس دم وہ کام کر

ہر اہل دل ہو محو ، وہ مدح امام کر

حاصل صلہ کلام کا دارالسلام کر

کر اس محل کو طور وہ اس دم کلام کر


مرزا دبیر کا ایک مکمل غیر منقوط سلام : مسطور اگر کمال ہو سروِ امام کا

میر انیس

میر انیس کے ایک مرثیے میں ایک غیر منقوط بند

اس طرح کا والا ہمم ، اس طرح کا سردار

اس طرح کا عالم کا ممد اور مددگار

وہ مصور الہام احد ، محرم اسرار

وہ اصل اصول کرم داور دوار

حاصل ، اگر اِک مردہ دل آگاہ کو مارا

مارا اگر اس کو اسد اللہ کو مارا

غیر منقوط شاعری کے نمونے

یہاں دو دو اشعار اور مکمل کلام کا ربط دیا جا رہا ہے ۔

ادیب رائے پوری

وہ محکوموں کا حامی اور مدد گار

وہ محکوموں کا ہمدم اور روادار

وہ اُمّی اور وہ امّ الکلامی

کرے اللہ سے وہ ہمکلامی

مکمل کلام: وہ محکوموں کا حامی اور مدد گار

محمد ولی رازی

محمد ولی رازی نے سیرت النبی پر ایک غیر منقوط کتاب ہادی عالم لکھی اور اس کتاب کو صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ [[ محمد ولی رازی نے اس میں ایک غیر منقوط نعت مبارکہ بھی کہی ۔


ہر دم درود سرورؐ عالم کہا کروں

ہر لمحہ محو روئے مکرم ؐرہا کروں​

اسم رسولؐ ہوگا ، مداوائے درد دل​

صل علیٰؐ سے دل کے دکھوں کی دوا کروں​


مکمل کلام : ہر دم درود سرورؐ عالم کہا کروں


حسین الشیخ یوسف کھمباتی

سركارِ دو سَرا ہے محمد مرا رسول

عالَم كا مُدعا ہے محمد مرا رسول

سارى مراد ہے ملى ہم كو درود سے

دکھ درد كى دوا ہے محمد مرا رسول


مکمل کلام : سركارِ دو سَرا ہے محمد مرا رسول