تھک ہار کے بولے یہ حریفانِ مدینہ - صبیح رضا

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search

شاعر : صبیح رضا

مطبوعہ : 2017 - بہترین نعت کی تلاش

کیٹگری: 3

کلام نمبر : 34

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

تھک ہار کے بولے یہ حریفانِ مدینہ

گھٹتی ہے گھٹانےسےکہیں شانِ مدینہ


مدت سے ہے خواہش دلِ بسمل کی خدایا

بن جاؤں کبھی میں بھی تو مہمانِ مدینہ


ہے عشقِ شہنشاہِ امم کایہ تقاضا

ہوجائیے سوجان سےقربانِ مدینہ


اِتراتاہےفردوسِ بریں جسکی چمک پر

اللہ رے ! وہ خارِ بیابانِ مدینہ


کہتے ہیں بصد رشک یہ غلمانِ جناں بھی

سردارِ زمانہ ، ہیں گدایانِ مدینہ


سن کر لب ولہجہ میرے سرکار کا ساحر

انگشت بہ دنداں تھے فصیحانِ مدینہ

نئے صفحات

2017 کی بہترین نعت کی تلاش[ماخذ میں ترمیم کریں]

تعارف
کیٹگری 1
کیٹگری 2
کیٹگری 3

کیٹگری 3 کی نعتیں[ماخذ میں ترمیم کریں]

01 02 03 04 05 06 07 08 09 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام