آنکھوں نے شہرِ نور کے منظر لیے سمیٹ - عدنان حسن زار

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


شاعر : عدنان حسن زار

مطبوعہ : 2017 - بہترین نعت کی تلاش

کیٹگری: 3

کلام نمبر :41

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

آنکھوں نے شہر نور کے منظر لیے سمیٹ

جا کر مدینے پاک میں گوہر لیے سمیٹ


دربار مصطفی کی ہے ہر چیز بےمثال

پلکوں نے شہرِ یار کے کنکر لیے سمیٹ


قطرہ ملا جو ساقئِ کوثر کے جام کا

سب مے کشوں نے اپنے ہی ساغر لیے سمیٹ


آئے گا پھر بلاوہ مجھے طیبہ سے ضرور

اس آس پر امید نے بستر لیے سمیٹ


اس در کو چھوڑ کر بھلا جاؤں میں اب کہاں۔؟؟؟

دن زندگی کے تھے جو: وہ اکثر لیے سمیٹ


ہم تو کھڑے ہیں روضہ اطہر کے سامنے

کشتی کے ناخدا نے تو لنگر لیے سمیٹ


اے زارؔ لکھ چمکتی سی اک اور نعتِ شاہ

شاعر نے شاعری کے تو دفتر لیے سمیٹ

نئے صفحات

2017 کی بہترین نعت کی تلاش

تعارف
کیٹگری 1
کیٹگری 2
کیٹگری 3

کیٹگری 3 کی نعتیں

01 02 03 04 05 06 07 08 09 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42

مزید دیکھیے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام