ہے تشنئہ تکمیل مدینے کی تمنا ۔ اختر الحامدی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

شاعر: اختر الحامدی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

ہے تشنئہ تکمیل مدینے کی تمنا

اے موت ابھی اور ہے جینے کی تمنا


بس اکِ تمنا ہے قرینے کی تمنا

وہ صرف تمنا ہے مدینے کی تمنا


اللہ غنی رفعتِ ایوانِ محمد

ہے عرشِ الہیٰ کو بھی زینے کی تمنا


دو بوند ملے ساغر ماَزاع سے ساقی

بس اور نہیں کچھ مجھے پینے کی تمنا


قسمت سے ملا آمنہ کا لعل درخشاں

تھی مہرِ رسالت کو نگینے کی تمنا


دیکھا کہ ہیں سرکار عرب ساقی کوثر

رِندوں کو ہوئی اور بھی پینے کی تمنا


صد پارہ ہوں یوں دامنِ دل ہجرِ نبی میں

ہو بخیہ گرِ وصل کو سینے کی تمنا


ہے تشنہ وہن آج لبِ چشمہ رحمت

لائی ہے کہاں کھینچ کے پینے کی تمنا


ہم خوب سمجھتے ہیں تمنا تری اختر

مر کر تجھے طیبہ میں ہے جینے کی تمنا