شائق دہلوی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

میر سیّد علی شائق دہلوی انقلاب 1857ء سے قبل 1840ء دہلی (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ 19 نومبر 1920ء کو نصیرآباد ضلع اجمیر شریف (بعمر 80 سال) میں وفات پائی۔ وہیں اہل سنت و جماعت کی عیدگاہ سے ملحقہ قبرستان میں اپنے بڑے بھائی میر محمد نقی مرحوم کے برابر مدفون ہیں۔

شاعری و نعت گوئی[ترمیم]

شائقؔ دہلوی ایک قادرالکلام، پختہ کہنے والے ممتاز زودگو شاعر تھے۔ زبان و بیان پر بھرپور قدرت رکھتے تھے، روانی و سلاست اُن کے کلام کا خاصہ تھی۔ یہی خصوصیات انھیں اپنے معاصر شعرا سے ممتاز رکھتی ہیں۔


شائق دہلوی صاحب ِ کتاب نعت گو شاعر ہیں [1]

مجموعہ نعت[ترمیم]

گلگشت ِ بہشت

نمونہ کلام[ترمیم]

حمد[ترمیم]

اُٹھا کے آنکھ کو میں نے جہاں جدھر دیکھا

تو جلوہ تیرا ہی رب العُلا اُدھر دیکھا

گدا کو شاہ کرے شاہ کو گدا شائق ؔ

یہ اُس کے قبضۂ قدرت میں سربسر دیکھا

نعت[ترمیم]

جلوہ دکھلایئے اے شافع محشر اپنا

حال فرقت میں ہوا جاتا ہے ابتر اپنا

کفش بردارِ نبی میں ہوں اے شائق مشہور

رُتبہ شاہوں سے بھی ہے افضل و برتر اپنا

مزید دیکھیے[ترمیم]

گلگشت ِ بہشت | کلیات شائق

صاحب کلیات نعت گو شعراء[ترمیم]

شائق دہلوی | راقب قصوری | محسن کاکوروی | ادیب رائے پوری | ظہور الحق ظہور | غلام رسول قادری | عنبر شاہ وارثی | راسخ عرفانی | وحید الحسن ہاشمی | رووف امروہوی | منور بدایونی | اظہر علی خان | عبدالستار نیازی | اعجاز رحمانی | اقبال عظیم | عابد سعید عابد | شاعر علی شاعر | صائم چشتی | بیدم وارثی | مظہر الدین مظہر | ریاض سہروردی | انصار الہ آبادی | نذر محمد راہی | محمد علی ظہوری

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. راجا رشید محمود، ماہنامہ ’نعت‘ لاہور، شمارہ 9،ستمبر 1989ء