میں رہ کی خاک بنکر انکے قدموں میں پڑی ہوتی ۔ فوزیہ شیخ

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search


شاعرہ : فوزیہ شیخ

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

میں رہ کی خاک بن کران کی گلیوں میں پڑی ہوتی

یا سنگ ِ آستاں بن کر ترے در پر جڑی ہوتی


شہ ِ لولاک جس جنگل میں ریوڑ لے کے جاتے تھے

خدایا ! کاش اس جنگل میں میری جھونپڑی ہوتی


ادھر سے قافلہ ان کا گزرتا ، پھول چنتی میں

کہیں پلکوں کے بل سرکار کی رہ میں کھڑی ہوتی


گزرتے آپ گلیوں سے میں گلیاں چومتی پھرتی

زیارت ہو تو جاتی ، گو گھڑی یا دو گھڑی ہوتی


نکلتا چاند حجرے سے تو ،سورج کو گہن لگتا

کملی کالی کاندھے پہ تو ہاتھوں میں چھڑی ہوتی


وہ دست رحمت عالم مرے اشکوں تلک آتا

میں ان کی جالیوں کے سامنےروتی کھڑی ہوتی


نظر جو مجھ پہ پڑ جاتی مقدر ہی سنور جاتے

مری ہستی کے صحرا میں بھی رحمت کی جھڑی ہوتی


ہوا کے ساتھ شاخیں جھومتیں صل علیٰ پڑھتیں

کھجوروں کی قطاروں میں کہیں میں بھی کھڑی ہوتی


میں سر قدموں پہ رکھ کر درد سارے ان سے کہہ دیتی

مسرت سے مری آنکھوں میں اشکوں کی لڑی ہوتی


میں اس مٹی میں ہوتی دفن فوزی ، خوش نصیبی سے

مدینے میں جنم لیتی ، مدینے میں بڑی ہوتی


مقابلہ نعت میں پوزیشن

نعت ورثہ ۔ تنقیدی نشست 2016 میں اس نعت مبارکہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی

زیادہ پڑھے جانے والے کلام