"ثنائے خواجہ میں اے ذہن! کوئی مضموں سوچ۔ عاصی کرنالی" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
(مزید دیکھیں)
(نیا صفحہ: شاعر: عاصی کرنالی === نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم === ثنائے خواجہ میں اے ذہن! کوئی مض...)
(9 intermediate revisions by 2 users not shown)
لکیر 1: لکیر 1:
{{#seo:
 
|title=ثنائے خواجہ میں اے ذہن! کوئی مضموں سوچ۔ عاصی کرنالی
 
|keywords=ثنائے خواجہ میں اے ذہن! کوئی مضموں سوچ۔ عاصی کرنالی ۔ عاصی کرنالی, عاصی کرنالی، نعت گو شاعر عاصی کرنالی، شاعر عاصی کرنالی ، Aasi karnali, poet Aasi karnali
 
|description= ثنائے خواجہ میں اے ذہن! کوئی مضموں سوچ ۔  ڈاکٹر عاصی کرنالی کی ایک خوبصورت نعت ۔ ڈاکٹر عاصیؔ کرنالی ایک قادرالکلام اور زودگو شاعر تھے۔ ابتدا میں آپ کا شمار غزل گو شعرا میں ہوتا تھا بعدازاں پھر لالہ زارِ نعت میں بھی آپ کی نعتوں کی گونج سنائی دینے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی نعتوں کے مجموعوں کی تعداد زیادہ ہے۔
 
}}
 
[[ملف:Aasi Karnali.jpg| 300px|link=عاصی کرنالی]]
 
  
شاعر : [[عاصی کرنالی ]]
+
شاعر: [[عاصی کرنالی]]
__NOTOC__
+
 
 
=== نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ===
 
=== نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ===
  
لکیر 60: لکیر 54:
 
تہی ہے دامنِ فن، آستاں پہ کیا لاؤں؟
 
تہی ہے دامنِ فن، آستاں پہ کیا لاؤں؟
  
 +
 +
=== مزید دیکھیں ===
 +
 +
[[مفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی ۔ مظفر وارثی]]
  
 
=== پیشکش ===
 
=== پیشکش ===
لکیر 65: لکیر 63:
 
[[صارف: ابو المیزاب اویس | ابو المیزاب اویس]]
 
[[صارف: ابو المیزاب اویس | ابو المیزاب اویس]]
  
=== مزید دیکھیے ===
+
=== تازہ انتخاب ===
 +
{{منتخب شاعری }}
  
{{ٹکر 1}}
+
[[زمرہ: ستمبر 2017 ]]
{{تازہ شاعری }}
+
{{ٹکر 2 }}
+
{{باکس 1}}
+

تـجدید بـمطابق 11:27, 14 اکتوبر 2017

شاعر: عاصی کرنالی

نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ثنائے خواجہ میں اے ذہن! کوئی مضموں سوچ

جناب! وادیِ حیرت میں گم ہوں، کیا سوچوں؟


زبان! مرحلہِ مدح پیش ہے، کچھ بول

مجالِ حرف زدن ہی نہیں ہے کیا بولوں؟


قلم! بیاضِ عقیدت میں کوئی مصرع لکھ

بجا کہا، سرِ تسلیمِ خم ہے کیا لکھوں؟


شعور! اُن کے مقامِ پیمبری کو سمجھ

میں قیدِ حد میں ہوں، وہ بیکراں ہیں کیا سمجھوں؟


خرد! بقدرِ رسائی تُو اُن کے علم کو جان

میں نارسائی کا نقطہ ہوں اُن کو کیا جانوں؟


خیال! گنبدِ خضرٰی کی سمت اُڑ، پر کھول

یہ میں ہوں اور یہ مرے بال وپر ہیں کیا کھولوں؟


طلب! مدینے چلیں نیکیوں کے دفتر باندھ

یہاں یہ رختِ سفر ہی نہیں ہے کیا باندھوں؟


نگاہ! دیکھ کہ ہے رُوبرو دیارِ جمال

ہے ذرہ ذرہ اں آفتاب کیا دیکھوں؟


دل! اُن سے حرفِ دعا، شیوہِ تمنا مانگ

بلا سوال وہ دامن بھریں تو کیا مانگوں؟


حضور! عجزِ بیاں کو بیاں سمجھ لیجے

تہی ہے دامنِ فن، آستاں پہ کیا لاؤں؟


مزید دیکھیں

مفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی ۔ مظفر وارثی

پیشکش

ابو المیزاب اویس

تازہ انتخاب

زیادہ پڑھے جانے والے کلام