جدھر بھی دیکھیے خیرالوریٰ کا چرچا ہے

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

شاعر: مشاہد رضوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جدھر بھی دیکھیے خیرالوریٰ کا چرچا ہے

زمیں سے تا بہ فلک مصطفیٰ کا چرچا ہے

انھیں کے نور کی رخشندگی ہے عالم میں

ہر اک طرف مرے نورِ خدا کا چرچا ہے

سخاوتوں کی حسیں کائنات میں ہردم

تمام خلق کے حاجت روا کا چرچا ہے

یتیموں بے کسوں بیواؤں کی زبانوں پر

کرم شعار کرم آشنا کا چرچا ہے

براے بخشش و غفراں لبوں پہ عاصی کے

شفیعِ روزِ جزا حق نما کا چرچا ہے

سبھی رسل نے کہا اذھبوا الیٰ غیری

زبانِ فیض پہ اِنّی لھا کا چرچا ہے

کرے گا دور مری قبر کی جو تاریکی

خیال و فکر پہ اس نقشِ پا کا چرچا ہے

ورق ورق سے عیاں ہے تجلیِ سیرت

کلامِ رب میں شہِ انبیا کا چرچا ہے

ہے نورِ نعت سے روشن دلِ مشاہدؔ بھی

جہانِ فکر میں ان کی ثنا کا چرچا ہے

۲۳؍ رمضان المبارک 1443ھ /25 ؍اپریل 2022ء بروز پیر

٭٭٭


پچھلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

موسمِ گل ہو کوہِ صحرا ہو


اگلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

سارے عالم پر رواں ہے شاہِ کوثر کا جمال