نعت اور اردو کی شعری تہذیب، مبین مرزا

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

مبین مرزا

نعت اور اُردو کی شعری تہذیب[ترمیم]

انسانی اظہار و ابلاغ کی تاریخ کا مطالعہ دل چسپ بھی ہے اور دل کشا بھی۔ اس باب پر اک نگاہ کی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ محض مادی ضرورتوں کے بیان سے لے کر احساس کی عمیق اور خیال کی ارفع کیفیتوں تک انسان کی خواہشِ اظہار نے خود کو کس کس طرح پیش کیا ہےیہی نہیں، ساتھ ہی یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اظہار کی صلاحیت اور تخیل کی طاقت عطا کرنے والے نے انسانی اظہار کو جلال و جمال، حزن و انبساط اور فکر و احساس کے کیسے کیسے رنگوں سے مالا مال کیا ہے۔ اہلِ کلام ہوں کہ اہلِ فکر یا اہلِ دانش و بصیرت، اس بات پر کسی نہ کسی انداز سے کم و بیش سبھی اتفاقِ رائے رکھتے ہیں کہ اظہار کی بلیغ تر اور مؤثر ترین صورتوں میں ایک شعر ہے۔ اسی لیے کہنے والوں نے اسے جزویست از پیغمبری اور نغمۂ سروش اور شاعر کو لسان الغیب اور تلمیذ الرحمن کہا ہے۔

کئی ہزار سال کی معلومہ تہذیبی تاریخ کو زمانوں اور خطوں سے قطعِ نظر کرتے ہوئے دیکھا جائے تو شعری اظہار میں ایک عنصر بہت نمایاں نظر آتا ہے، یہ ہے مذہبی عنصر۔ فرد کے ذاتی احساس سے لے کر اُس کے اجتماعی یا تہذیبی رویے کے بیانیہ تک، جن صورتوں اور جیسے اسالیب میں مذہبی فکر اور مذہبی جذبے کا اظہار ہمیں شعر و سخن کی جن نو بہ نو صورتوں اور معانی کے جن درجوں میں جلوہ گر ملتا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ بات ان معاشروں اور افراد کی بابت بھی بڑی حد تک درست ہے جن کی عمومی ذہنی شناخت غیر مذہبی یا سیکولر رُجحان کے تحت ہوتی ہے۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر اگر یہ کہا جائے کہ شعر و سخن میں مذہبی رُجحان کا جس طور سے اظہار ہوتا ہے، فنونِ لطیفہ یا ادب کے کسی دوسرے شعبے میں ایسی کوئی اور مثال باید و شاید تو یہ کوئی دعویٰ نہیں، امرِ واقعہ کا اعتراف ہوگا۔ اس حقیقت کی توثیق کے لیے دُنیا کے قدیم ادبی ماخذات سے لے کر آج کے سائنسی دور کی ترقی یافتہ تہذیبوں کے شعر و سخن تک محض چند ایک مقامات پر سرسری نگاہ ڈالنا ہی کافی ہوگا۔

برصغیر پاک و ہند کی ادبی تاریخ خصوصاً اردو کے سرمایۂ سخن پر اک نظر کی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس باب میں ابتدا ہی سے ایک نمایاں رُجحان مذہبی افکار اور روحانی احساسات کا رہا ہے۔ اس ضمن میں شعرا نے حمد، نعت، منقبت، سلام، نوحہ اور مرثیہ جیسی اصناف میں تو اظہار کیا ہی ہے، لیکن اس کے علاوہ غزل، نظم اور گیت تک میں بھی ہمیں مذہبی رُجحان کا اظہار فکر و فن کی اعلیٰ ترین سطحوں پر اس انداز سے ملتا ہے کہ معنویت کے ابلاغ اور اظہار کے قرینے، ہر دو اعتبار سے مثال کے درجے میں رکھا جائے۔ سوچنا اور دیکھنا چاہیے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا اس لیے کہ اردو زبان و ادب پر اسلامی تہذیب و فکر کے اثرات شروع ہی سے غالب رہے ہیں؟ کیا اس کا سبب یہ ہے کہ خود تہذیبِ ہند اپنے قدیم دور سے نمایاں طور پر ایک مذہبی تہذیب رہی ہے، لہٰذا اس خطے میں تشکیل و نمو کے عمل سے گزرنے والی نئی زبان (اردو اور اس کے ادب) نے اس اثر کو قبول کیا؟ کیا اس کا سبب یہ تو نہیں کہ ہندوستان میں اردو کی ترویج میں جن مقتدر حلقوں یا اشرافیہ کے طبقوں نے نمایاں کردار ادا کیا، ان میں اکثریت مسلمان تھی، اس لیے اردو زبان پر یہ اثرات ہوئے؟ اردو کے فروغ میں مسلمان علما اور صوفیہ کا بھی بے حد مؤثر کردار رہا ہے تو کیا یہ اثرات ان کی وجہ سے تو نہیں ہوئے؟ اس حوالے سے جب بھی غور کیا جائے تو یہ اور ایسے ہی کچھ اور سوالات توجہ طلب ہوتے ہیں۔ اردو زبان و ادب کی تاریخ کے مطالعاتی دورے میں ایسے سوالوں کی اہمیت کا انحصار کئی ایک پہلوؤں پر ہے جو سیاسی، سماجی، اخلاقی، تہذیبی اور جغرافیائی عوامل سے تعلق رکھتے ہیں۔

سطورِ بالا میں جو سوالات اُٹھائے گئے، ممکن ہے کہ ان سب کا جواب اثبات میں ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس امر کا قیاس کہ ان میں سے کسی عنصر نے اُردو زبان و ادب کے مزاج کی اس تشکیل میں کس تناسب سے اثرات مرتب کیے، یہ تہذیب اور زبان کے محققین کی کارگزاری پر منحصر ہے، اور یہ ایک الگ نوعیت کا دقّت طلب کام ہے۔ تاہم اتنی بات تو ادب کا مجھ جیسا ادنیٰ طالبِ علم بھی قدرے ذمہ داری سے کہہ سکتا ہے کہ چاہے ان عناصر کا جو بھی اثر اردو کے مزاج پر رہا ہو، مگر یہ طے ہے کہ ان کے علاوہ بھی کوئی فیکٹر ہے جو اردو زبان کے اس مزاج کا موجب بنا ہے۔ اس لیے کہ زبانوں، تہذیبوں اور قوموں کے مزاج کی تشکیل کا عمل اتنا سادہ نہیں ہوتا کہ اس کو صرف خارجی عناصر کے ذریعے اس طرح دو جمع دو مساوی چار کے سادہ سے حسابی کلیّے سے سمجھ لیا جائے۔ اس کے برعکس ایسی تمام تشکیلات کے عمل کا سروکار بہ یک وقت کئی ایک عوامل سے ہوتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ ان عوامل کے باہمی تفاعل کا تناسب بھی قدرے پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس کام میں کچھ داخلی عوامل بھی لازمی اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور بالعموم یہ داخلی عوامل زیادہ گہرے، دیرپا اور ماہیت ساز اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ ان عوامل میں بالعموم کوئی ایک اساسی نوعیت کا ہوتا ہے اور وہ زبان اور تہذیب کے اظہاری سانچوں اور فکر و خیال کی ساختوں پر کچھ ویسا ہی اثر رکھتا ہے جیسا کسی عملِ کیمیا میں Catalyst کا ہوتا ہے۔

سطورِ گزشتہ میں جس نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا، وہ زبان و تہذیب کے سلسلے میں ایک عمومی سطح پر ضابطے کا درجہ رکھتا ہے۔ تاہم اب اگر خصوصیت کے ساتھ دیکھا جائے تو اردو زبان کا معاملہ ذرا مختلف یا منفرد نظر آتا ہے۔ اسے صرف ایک زبان سمجھنا کافی نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر اس کا مطالعہ صرف ایک زبان کی حیثیت سے کیا جائے تو اس کے جملہ اوصاف اور خصائص کو اُن کی وسعت اور گہرائی میں مکمل طور سے سمجھا نہیں جا سکتا۔ اس لیے کہ ہندوستان کے جغرافیائی تناظر میں اردو کی تشکیل اور نمو کا سارا عمل زبان کے ساتھ ساتھ دراصل ایک تہذیب کے ظہور اور اُس کی تعمیر کا درجہ رکھتا ہے۔ اس لیے اس زبان کے مزاج اور اسلوب کو سمجھنے کے لیے لابدی ہے کہ اُس تہذیب کے قوام کو دیکھا اور پرکھا جائے جو اس زبان کے ساتھ نمو پاتے ہوئے ثقافتی مظاہر کے مختلف اوضاع میں اپنے نقوش مرتب کر رہی تھی۔ یہ ہند اسلامی تہذیب ہے۔ اردو زبان اور ہند اسلامی تہذیب کو جامعیت کے ساتھ سمجھنے کے لیے ایک لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ دونوں کو بہ یک وقت پیشِ نظر رکھا جائے اور اُس اصولِ حیات کو فوکس کیا جائے جو زبان اور تہذیب دونوں کے لیے یکساں نمو پذیری کا باعث تھا۔ اس لیے کہ اس اصولِ حیات نے ایک طرف زبان کو وسعت بخشی تو دوسری طرف تہذیب کو صلابت عطا کی۔ خاطر نشان رہے کہ یہاں تہذیبی صلابت سے مراد سیاسی مقتدرہ کا استحکام نہیں ہے، بلکہ وہ قوتِ اظہار ہے جو عامتہ الناس کی زندگی اور ثقافتی مظاہر میں روحِ عصر کی صورت جلوہ نما رہی ہے اور جس کے ذریعے ہم برصغیر میں ایک نیا ادبی ڈسکورس قائم ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہی ڈسکورس اپنی سطح پر برصغیر کی تہذیبی زندگی کا ابلاغ کرتا ہے۔ ہندوستان کے جغرافیائی نقشے میں اردو زبان کا فروغ اور ہند اسلامی تہذیب کے نقوش کی جلوہ گری دونوں باہمی طور سے ایک عجب انداز کا توازن اور ہم آہنگی رکھتے ہوئے جو نظر آتے ہیں اُس کا بنیادی سبب یہی ہے۔

چناں چہ یہ جو اردو زبان میں ہم آغاز ہی سے دلوں تک پہنچنے کی تاثیر پاتے ہیں اور مذہب و ملت کے ضابطے سے بالاتر ہو کر اہلیانِ ہند کو اس کی طرف کھنچتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس اثر آفرینی کا منبع کہیں اور ہے۔ اردو شعر و سخن کے سانچے اور ادبی قرینے اسی منبع سے منسلک ہونے کے باعث مستنیر نظر آتے ہیں۔ رنگ و روشنی کے اس ماخذ پر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اثرات کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ عام آدمی کے احساس سے لے کر اہلِ فکر تک اور زندگی کے روزمرہ عناصر سے لے کر اعلیٰ ترین تہذیبی مظاہر تک اور سماجی آئین اور امورِ سلطنت سے لے کر ادب و ثقافت کے لطیف پیرایوں تک ہر ایک سطح پر یہ منبع اپنی روشنی پہنچاتا اور ہر درجے میں اپنا نقش قائم کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ نقش ایسا گہرا اور اتنا پائیدار ہے کہ زمانے کے تغیرات اس کو متأثر کرتے ہیں اور نہ ہی سیاسی حالات کی تبدیلی اور اقتدار کے عروج و زوال کا نقشہ اس کے لیے کوئی معنی رکھتا ہے۔ دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تہذیبی ابتلا اور سماجی ادبار کے زمانے میں افراد ہی نہیں، پورے معاشرے کے لیے یہ منبع عافیت اور تحفظ دینے والے اسمِ اعظم کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح یہ منبع افراد اور سماج کی بقا اور شناخت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس حوالے سے گفتگو ہم ذرا آگے چل کر کریں گے جو دلیل اور مثال کا محل ہوگا۔ برصغیر کی گزشتہ تین سو سال سے زائد عرصے کو محیط تہذیبی تاریخ کا مطالعہ اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس زمانے میں ہمیں اس خطے میں جو بڑے بڑے تہذیبی مظاہر نظر آتے ہیں اُن کے پس منظر میں فکر و احساس کا وہی محرک کار فرما ملتا ہے جسے ہم اردو کے لسانی اور ادبی اوضاع کی تشکیل و تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ محرک ہے اسلامی فکر کا زائیدہ طرزِ احساس اور اس طرزِ احساس کا مبدا ہے عشقِ رسول۔ممکن ہے یہ خیال اور اس کے تحت اُٹھائے جانے والے سوالات اور اُبھرنے والے مباحث ایسے ہوں کہ جنھیں سیکولر ذہن رکھنے والے دوستوں کے لیے سمجھنا اور تسلیم کرنا ذرا دشوار ہو، لیکن یہ بات تمام تر ذمہ داری اور ہند اسلامی تہذیب کے جملہ ثقافتی و ادبی مظاہر کے فکری اثرات ہی نہیں، بلکہ امکانات تک کو پیشِ نظر رکھ کر کہی گئی ہے کہ اردو شعریات اور اس کی جمالیات کے پس منظر میں سیرتِ مطہرہ کی تفہیم اور عشقِ رسول کا جذبہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یوں تو یہ بات قدرے وسیع تناظر میں پوری اردو تہذیب کے ضمن میں اصول کا درجہ رکھتی ہے اور اس کا اطلاق اردو زبان و ادب ہی پر نہیں، بلکہ اس تہذیب کے زیرِ اثر فروغ پانے والے دوسرے فنون مثلاً مصوری، خطاطی اور فنِ تعمیر وغیرہم پر بھی من حیث الجموع ہوگا۔ تاہم اس وقت چوں کہ ہم بالخصوص بات کر رہے ہیں اپنی شعری روایت کی، لہٰذا حوالوں اور مثالوں کے لیے ہماری توجہ اظہار کے اسی دائرے (یعنی شعری روایت) پر مرکوز رہے گی۔

توجہ اس طرف مرتکز رکھنے کا ایک سبب اور بھی ہے۔ یہ بات اس سے قبل بھی اشارتاً ہمارے اہلِ نقد کی طرف سے کہی گئی ہے کہ ہمارے ادب پر مذہبی جذبہ بہرحال اثر انداز ہوا ہے۔ اس ضمن میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف برصغیر کی تہذیب و معاشرت میں صوفیہ کے افکار، طرزِ محبت اور اسلوبِ حیات، رنگِ کلام اور وسیع المشربی کا حوالہ دیا جاتا ہے تو دوسری طرف مذہبی مدارس نے اس کام میں جو حصہ لیا ہے اور اردو زبان و ادب اور ان کے اسالیبِ اظہار کی وسعت اور اثر پذیری میں جو کردار ادا کیا ہے، اس کی طرف بھی واضح انداز سے اشارے ملتے ہیں۔ بالخصوص جن لوگوں نے تفسیرِ قرآن کے حوالے سے کام کیا ہے، اُن کے ہاں زبان نے کن امکانات کا اظہار کیا اور ابلاغ کی کن سطحوں تک رسائی پائی اور اظہار کے اس باب میں جو اسالیب وضع کیے گئے، وہ ہمارے ادب کے لیے کیا معنی رکھتے تھے، ان سب پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں مولانا شبلی نعمانی، مولانا سیّد سلیمان ندوی، مولوی عبدالحق، مولانا تاجور نجیب آبادی، مولانا ایوب قادری اور مولانا عبدالحق قدوسی نے اپنی تحریروں اور کتابوں میں شرح و بسط کے ساتھ اظہارِ خیال کیا ہے۔ اِدھر محمد حسن عسکری نے تو صاف صاف لکھا ہے کہ ہمارے عہد میں اردو ادب اور اُس کی نثر نے جو اسالیب اختیار کیے ہیں، ان پر مولانا اشرف علی تھانوی کا نمایاں اثر ہے۔ اس ضمن میں ہمیں مزید حوالہ جات کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ یہ بحث ہماری گفتگو کے دائرے سے باہر ہے۔ بہرحال درجِ بالا حوالوں کی بنیاد پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے اہلِ علم و فکر نے اپنی زبان اور ادب پر مذہبی طرزِ احساس کے اثر کو نہ صرف محسوس کیا ہے، بلکہ علمی، تنقیدی اور تجزیاتی انداز سے اس کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔

اگرچہ اپنی شعری روایت کی بابت ایسے محاکمے اور جائزے اس صراحت اور قطعیت کے ساتھ صاف انداز سے ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتے، مگر اس ضمن میں بھی کسی نہ کسی سطح پر اس نوع کا ایک احساس بہرحال پایا جاتا ہے کہ مذہبی طرزِ احساس کے فروغ اور اثر پذیری کے عمل میں ہمارے شعرا نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اپنی شاعری کے حوالے سے ایسے محاکمے اور جائزے مرتب نہ ہونے کی ممکن ہے، وجہ یہ رہی ہو کہ ہمارے یہاں شعری جمالیات اور اسلوبیات کے مطالعے کا رُجحان بالعموم تنقید کے انھی اصولوں اور قواعد کی رُو سے کیا گیا ہے، جو مغرب سے درآمد ہوئے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہماری جدید شاعری پر مغرب کے اسالیب کا جو اثر ہے، وہ تو اپنی جگہ، لیکن اس شاعری کے تنقیدی مطالعات کے بیشتر ضوابط بھی ہم نے ابتداً مغرب ہی سے لیے ہیں۔ تاہم اب اس ایک صدی سے زائد دورانیے کے سفر میں ہم نے شعریات اور تنقیدات دونوں ہی کے لیے اپنے فکر و نظر کا سرمایہ بہرحال اتنا بہم پہنچا لیا ہے کہ اپنے شعری اثاثے کو ہم اپنے انداز سے دیکھ کر اپنے تہذیبی تناظر میں پرکھ سکتے ہیں۔ چناں چہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس معاملے کو حتمی طور پر سمجھ لیا جائے اور اس کا اظہار فیصلہ کن سطح پر کر دیا جائے کہ اردو کی شعری روایت کے بنیادی تصورات اور اسالیبِ بیاں پر مذہبی طرزِ احساس اور بالخصوص عشقِ رسول aکا عمیق اور بسیط اثر رہا ہے۔

اردو زبان و ادب کی ترویج، اس کی اثر آفرینی اور تہذیبی اظہارات کے اعلیٰ ترین درجوں میں اپنا نقش قائم کرنے والی عشقِ رسولaکی یہ روایت اس لحاظ سے بھی بے حد دل چسپ، معنی خیز اور فکر انگیز ہے کہ اس باب میں ہمیں جن شعرا کے نام ملتے ہیں وہ سب کے سب مسلمان نہیں ہیں، بلکہ اُن میں ہندو اور سکھ شعرا بھی نظر آتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ ایک طرف ہند اسلامی تہذیب کی اعلیٰ انسانی اقدار کی قوت کا اظہار ہے کہ جن کے اثر و نفوذ کا دائرہ اُن کی انسانی اپیل پر بنتا اور وسعت پاتا ہے۔ دوسری طرف یہ نکتہ اس تہذیب کے فروغ اور اصولِ نمو کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے کہ اس زبان اور اس کے ادب نے تعصبات سے بالاتر ہو کر کس طرح انسانی دلوں تک رسائی حاصل کی۔ برصغیر کا سماجی منظر نامہ ماضیِ قدیم سے کثیر القومی اور کثیر المذہبی رہا ہے۔ ایسی صورت میں کسی ایک زبان اور کسی ایک تہذیب کے فروغ کی یہ صورت کہ اس میں مختلف قوموں اور جدا مذہبی شناخت رکھنے والے تخلیق کار یکساں ذوق اور جذبے کے ساتھ مصروفِ کار نظر آئیں، صرف اُسی وقت ممکن ہے جب اُس کے مرکز میں وہ جوہر کار فرما ہو، جو تمام عصبیتوں سے بالاتر ہو کر انسانی اقدار پر اصرار کرتا ہو اور انسانی کردار کی تشکیل کے لیے ایسا عملی نمونہ پیش کرتا ہو جس کی اپیل پوری قوت کے ساتھ جذب و انجذاب کے دوسرے تمام ضابطوں پر حاوی ہو کر دلوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ عشقِ رسول کا یہ عنصر اردو زبان اور اس کی تہذیب کے فروغ میں غیر مسلم شعرا کے یہاں کس انداز سے اظہار پاتا ہے، اس کی ایک جھلک دیکھتے ہوئے ہم اپنی گفتگو کے اسی نکتے کو آگے بڑھائیں گے:


حمید و احمد و محمود تم ہو یا رسول اﷲ

سعید و اسعد و مسعود تم ہو یا رسول اﷲ

(راجا مکھن لال مکھنؔ )

عاشقِ زارِ محمد میں ہوا پیری میں

ہستیِ خضر سے کیا کم مری ہستی ہوگی

کچھ غرض جنت و دوزخ سے نہیں ہے ساقیؔ

اُن کے مستوں کے لیے اور ہی بستی ہوگی

(منشی شنکر لال ساقیؔ )

محمد ایک فرقے کے نہیں ہیں

محمد سب کے ہیں اور بالیقیں ہیں

ادبؔ لائے نہ کیوں ایمان ان پر

محمد رحمت اللعالمیں ہیں

(ادبؔ سیتاپوری)

حقیقت کی خبر دینے بشیر آیا، نذیر آیا

شہنشاہی نے جس کے پاؤں چومے وہ فقیر آیا

بھٹکتی خلق کو رستہ دکھانے رہنما آیا

سفینے کو تباہی سے بچانے ناخدا آیا

مبارک ہو زمانے کو ختم المرسلیں آیا

سحابِ رحم بن کر رحمت اللعالمیں آیا

(جگن ناتھ آزادؔ )

بہارِ ریاضِ ثنائے نبی نے

دہن کو مرے گل فشانی میں رکھا

(دلو رام کوثری)

کانِ عرب سے لعل نکل کر تاج بنا سرداروں کا

نام محمد اپنا رکھا ، سلطان بنا سرکاروں کا

باندھ کے سر پر سبز عمامہ کاندھے پہ رکھ کر کالی کملی

ساری خدائی اپنی کر لی ، مختار بنا مختاروں کا

(مہاراجا کشن پرشاد شادؔ )

کچھ کہے روس مگر میں تو یہی سمجھا ہوں

اے محمد ترے قدموں کے نشاں چاند میں ہیں

(کالکا پرشاد)

کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا دُرِ یتیم

اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کر دیا

(ہری چند اختر)

تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا

میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا

(پنڈت نور بہار لکھنوی)

ہر تار میں پوشیدہ ہیں اسرارِ دو عالم

اﷲ رے یہ وسعتِ دامانِ محمد

(سادھو رام آرزو سہارنپوری)

یہ مثالیں مشتے نمونہ از خروارے کہیے جو یہاں صرف اس غرض سے پیش کی گئی ہیں کہ قارئین کو اُس مقدمے کے دلائل فراہم ہو جائیں جو ہند اسلامی تہذیب اور اُس کے فروغ کی بابت اس مضمون کے آغاز میں قائم کیا گیا ہے۔ ان مثالوں کے لیے شعرا اور اشعار دونوں کے اخذ و انتخاب میں کسی گہری کدو کاوش کو دخل نہیں۔ اس لیے کہ منشا ان کے اندازِ نظر، اسلوبِ سخن یا مضامین پر بحث کا نہیں ہے، بلکہ صرف اس احساس کی ترجمانی مقصود ہے کہ عشقِ رسول کا معاملہ اس تہذیب کے فروغ میں کچھ ایسا ہی ہے جیسا کہ انسان کے باطن کو نغمۂ سرمدی سے ہم آہنگ کرنے والے جذب و کیف کا ہوتا ہے۔ اس کی عقلی توجیحات ممکن نہیں ہوتیں۔ اس لیے کہ خارجی عوامل اور عقلی دلائل کی دوڑ جہاں پہنچ کر ختم ہوتی ہے، وہاں سے جذب کی اس کیفیت کا سفر آغاز ہوتا ہے۔ عشق اس کیفیت کا اعلیٰ درجہ ہےاور عشقِ رسول اعلیٰ ترین درجہ۔ اس راہ کے مسافر کی منزلیں قابلِ رشک بھی ہوتی ہیں اور احساس کی سطح پر قابلِ فہم بھی، مگر کسی مساوات یا کلیّے کے ذریعے اُن کے لیے کوئی عقلی جواز فراہم کیا جا سکتا ہے اور نہ تحلیل و تجزیہ ہی اس معاملے میں ایسا کچھ مفیدِ مطلب ہوتا ہے۔

برصغیر کے جغرافیائی تناظر میں ہند اسلامی تہذیب کی نمو اور فروغ کا یہ عمل جس طرح سماجی، سیاسی اور مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر سامنے آتا ہے، وہ بجائے خود ایک جہانِ فکر و تدبر کی مثال ہے اور اس تہذیب میں عشقِ رسول کا تو معاملہ ہی الگ ہےایک ایسا منفرد، دل کشا اور بصیرت افروز معاملہ کہ جس کی دوسری کوئی مثال تو رہی ایک طرف، محض ایسا کوئی کنایہ بھی تاریخ و تہذیبِ عالم کے باب میں ہمیں کہیں اور دکھائی تک نہیں دیتا۔ اس لیے کہ عشقِ رسول کا معاملہ بادی النظر میں اپنی ایک مذہبی اساس رکھتا ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر کے سماج میں صرف مسلمان شعرا نہیں، بلکہ اُن کے ساتھ ہندو اور سکھ شعرا بھی اپنی طرز کے والہانہ پن کے ساتھ فکری اور تخلیقی سطح پر عشقِ رسول کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اُن کے ہاں عشقِ رسول کے inspiratiion کی بنیادیں کہاں اور کیسے قائم ہوئی تھیں؟ اس جذب و کیف کو ان کے یہاں اظہار کی سطح تک لانے میں کون سے نمایاں خارجی محرکات اس تہذیب کے سماجی دائرے میں کارفرما تھے؟ غیر مسلم شعرا کے اس رویّے نے اس عہد کی مخلوط معاشرت کو کیا پیغام دیا اور اس دور کے تہذیبی رو*ّیوں کی صورت گری میں کیا کردار ادا کیا؟ یہ غور طلب سوالات ہیں اور ان کے جوابات سیاسی اور مذہبی تناظرات کو پیشِ نظر رکھے بغیر گہری معنویت کے حامل نہیں ہو سکتے۔ تاہم یہ بحث چوں کہ ہمارے موضوع سے کوئی خاص علاقہ نہیں رکھتی، لہٰذا ہم اس کی تفصیلات سے احتراز کرتے ہوئے اس مسئلے کو شاعر کے احساس کی سطح پر دیکھتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ یہاں جن ہندو اور سکھ شعرا کے اشعار نقل کیے گئے ہیں، اُن کو پڑھتے ہوئے یہ سمجھنے میں تأمل نہیں ہوتا کہ جس شاعر نے بھی نبیِ کریم سے وابستگی کا اظہار کیا ہے، اُس نے حقیقتِ محمدیہ کے ایک رُخ کو لازمی طور سے سامنے رکھا ہے اور وہ ہے آپ کی محبوبیت کا رُخ۔ آپ کی ذاتِ گرامی کو باری تعالیٰ نے جب رحمت اللعالمین بنایا تو لازمی طور سے آپ کو جاذبیت کے اس جوہر سے نوازا کہ جس نے آپ کو تطہیرِ قلب کے ساتھ ایک بار دیکھ لیا یا سوچ لیا تو وہ کشش کے اس دائرے میں آئے بغیر نہ رہ سکا جو اُس کی روح کو متغیر کر دےاور جو ایک بار اس کشش کے مرکز سے جُڑ گیا پھر اُس کے لیے ذہنی، سماجی اور ادبی کسی بھی سطح پر جذب و انجذاب کی اس کیفیت کے اظہار میں کوئی امر مانع نہیں رہا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا سبھی اشعار میں اسی کیفیت کا اظہار ہوا ہے۔

آئیے، اب ہم ایک بار پھر اپنی گفتگو کے اُس مرکزی نکتے کی طرف لوٹتے ہیں۔ عرض کیا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اپنے ادب و فکر کے تناظر میں اس معاملے کو حتمی طور پر سمجھ لیا جائے اور اس کا اظہار فیصلہ کن سطح پر کیا جائے کہ ہماری ادبی روایت اور خصوصاً شعری تہذیب کے بنیادی تصورات اور اسالیبِ بیاں پر عشقِ رسولaکا عمیق و بسیط اثر رہا ہے۔

ایک لمحے کے لیے اگر اس خیال کو دعویٰ باور کیا جائے تو دلیل کی فراہمی کا سوال ہوگا۔ اس لیے کہ دلیل کے بغیر دعویٰ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس سے بھلا کیوں کر انکار ممکن ہے۔ سو آئیے آگے چلنے سے پہلے ذرا ایک نظر دلیل کے باب پر ڈالتے ہیں۔ اس دعوے کو مستحکم کرنے کے لیے آسانی تو یہ ہے کہ حمد، نعت اور مرثیہ ایسی اصناف کو سامنے رکھا جائے اور اُن کے اوّلین نقوش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا جائے کہ فلاں زمانے سے اردو میں ان اصناف کی موجودگی سے ہمارے دعوے کو دلیل فراہم ہوتی ہے اور اس کا اثباب ہوتا ہے۔ تاہم ان اصناف کی طرف ہم کوئی اشارہ نہیں کریں گے، اس لیے کہ یہ تو ہیں ہی مذہبی جذبے کے اظہار سے مخصوص اصناف، یعنی عیاں راچہ بیاں والا معاملہ ہے۔ سو ہم ان کے بجائے اُن اصناف کو دیکھتے ہیں جن کے بارے میں مذہبی احساس کا کوئی تأثر نہیں پایا جاتا، مثال کے طور پر مثنوی، قصیدہ، غزل اور نظم۔

مثنوی اور قصیدہ اپنے رومانی قصے اور شخصی اوصاف کے بیانیے سے موسوم ہیں، یعنی دونوں کا تعلق انسان کے اُن جذبات سے ہے جن پر مذہب کے اثرات بادی النظر میں نہیں ہوتے یا اگر ہوتے بھی ہیں تو اس درجہ کم کہ ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ یوں یہ اصناف غیر مذہبی ہو جاتی ہیں۔ اب آپ مثنوی اور قصیدے دونوں کی روایت اور ان کے رنگِ سخن کا مطالعہ تاریخ کے تسلسل میں کیجیے تو یہ محسوس کرنے میں کچھ ایسا وقت صرف نہیں ہوگا کہ دونوں ہی اصناف میں کسی نہ کسی زیریں سطح پر ایک مذہبی طرزِ احساس بہرحال کار فرما ہے، جو شاعر کے یہاں کبھی آغازِ کلام میں اور کبھی اپنے کرداروں کی شخصیت سازی میں اور کبھی اُن کے ماجرے یا احوال کے بیان میں اس لحن کو پانے اور اختیار کرنے کی طرف مائل ہونے کا ثبوت دیتا ہے جو مذہبی احساس سے مخصوص ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جس کے بغیر اس لحن کی خواہش اور طرزِ فکر کا یہ انداز کسی بھی تخلیق کار کے یہاں ممکن ہی نہیں۔ اس بات کو پایۂ ثبوت کو پہنچانے کے لیے اگر صرف یہ دیکھ لیا جائے کہ ہندوستان کے شعرا کے یہاں مثنویوں اور قصائد میں کیا ایساکوئی نکتۂ فکر اُن کے فن میں کسی سطح پر مل سکتا ہے جو شاعر کے عقائد کی جانب اشارہ کرتا ہو تو دراصل وہ یہی نکتہ ہوگا۔

یوں اس بات سے انکار نہیں کہ اصلاً اپنی غایت میں ادب رنگ و نسل اور فکر و عقیدہ کی سرحدوں سے بھی اسی طرح بالا تر ہوتا ہے، جس طرح جغرافیائی سرحدوں سے، لیکن اس حقیقت کی شہادتوں سے بھی تاریخِ ادبیاتِ عالم بھری پڑی ہے کہ ادیب و شاعر کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی انداز سے اپنے عقائد سے وابستگی کا اظہار بہرطور کرتا ہے۔ تاہم اس نکتے پر بحث کی یہاں ضرورت نہیں، سو ہم اس اشارے پر اکتفا کرتے ہیں کہ اس کے لیے یونان، روم، مصر اور شمالی امریکا کے باشندوں کی قدیم شاعری سے لے کر گوئٹے، ملٹن، شیکسپیئر، ورجل، ایلیٹ اور رابرٹ فراسٹ تک کے شعری شاہکاروں پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر اس بیان کی تصدیق کے لیے بہت آسانی سے دلائل اور ثبوت حاصل کیے سکتے ہیں۔ ہم اس گفتگو کو طوالت سے حتی الوسع بچانے کے لیے ضمنی مثالوں سے اجتناب کر رہے ہیں۔ یوں بھی زیرِ بحث نکتے کے حوالے سے اس وقت مقصود صرف اس امر کی نشان دہی ہے کہ کسی ادیب و شاعر کا مذہب خواہ کچھ بھی ہو اور وہ اُس کی طرف کتنا ہی سرسری اور غیر عملی رویہ کیوں نہ رکھتا ہو، لیکن تخلیقی سطح پر وہ اُس کے طرزِ احساس پر اثر انداز ضرور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ثبوت ہمیں برصغیر کے ان اردو شاعروں کے یہاں جنھوں نے مثنوی اور قصائد لکھے، کئی ایک سطحوں پر باآسانی اور نمایاں طور سے فراہم ہو جاتا ہے۔

اب رہی بات برصغیر کے اردو ادبی منظرنامے میں غزل اور نظم کی تو ان کے سلسلے میں بھی ایسی مثالیں اخذ کرنے میں چنداں دشواری پیش نہیں آتی جن کے پس منظر میں سخن کا قرینہ اور ابلاغ کی سطح متعین کرنے میں صاف صاف کردار عشقِ رسول کا نظر آتا ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ شاعر کی غزل کا مصرع یا اُس کی نظم کی لائن، کوئی ٹکڑا، کوئی ترکیب، کوئی علامت، کوئی تلمیح یا کوئی استعارہ بہ سہولت و صراحت اُس ماخذ کی جانب اشارہ کرتا ہوا ملتا ہے، جہاں سے اُس کے اسلوب کی تہ داری اور معنی کی تابندگی مشتق ہے۔ ایسا صرف اُسی وقت ممکن ہے کہ جب شاعر نے کسی فکر یا عقیدے کو اپنے طرزِ احساس میں اس طرح ڈھال لیا ہو کہ وہ اس کے تحت الشعور میں سرایت کر جائے اور اُس کے رنگِ سخن میں معنویت کی ہر سطح اور اظہار کے ہر دائرے میں کسی اہتمام کے بغیر نظری انداز سے، لیکن سراسر جذبے کی سطح پر بے ساختہ اپنا اثبات کرنے لگے۔ اظہار کی یہ سطح کسی فلسفے، نظریے یا عقیدے کے براہِ راست بیان سے متعلق نہیں ہوتی، بلکہ معنی کی اُس تہہ کے ساتھ ہوتی ہے جو احساس کے درجے میں ابلاغ کی راہ اختیار کرتی ہے۔ کسی تخلیق کار کے یہاں فکر و عقیدہ کے بیان کا یہ مرحلہ اُس وقت آتا ہے، جب وہ اُس کے ذہن اور اس کی نظر سے آگے بڑھ کر اُس کے خون کے ذرّات میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ شے ہے جسے ہم نے مذہبی طرزِ احساس کہا ہے۔ ہند اسلامی تہذیب میں یہ مذہبی طرزِ احساس بد یہی طور پر عشقِ رسول کی صورت میں شعر و سخن کا حصہ بنی ہے اور اسی لیے اس نے غیر مسلم شعرا کے یہاں بھی اظہار کی راہ پائی ہے۔

اس مقام پر ایک لمحے کے لیے رُک کر ہمیں ایک اور نکتے پر غور کرنا ہے۔ دُنیا کی تمام وہ تہذیبیں جنھوں نے اپنے منفرد نقوش اور اسالیبِ اظہار کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی، جب ادب کے میدان میں ان کی کارگزاری کا جائزہ لیا جاتا ہے تو اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ ان کے تاریخی سفر میں ادب کی چاہے جتنی بھی اصناف کو اظہارِ ہنر اور تخلیقی وفور کے لیے بروئے کار لایا گیا ہو، لیکن ہر بڑی تہذیب کا مزاج، اُس کی فکر کے جملہ اساسی نکات اور اُس کے اظہار کا تمام تر جذبہ بنیادی طور سے ادب کی کسی ایک صنف سے موسوم رہا ہے۔ چناں چہ وہ صنف اُس سماج کی تہذیبی و ثقافتی اقدار سے لے کر مابعد الطبیعیاتی نظامِ فکر تک تمام اوصاف کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ اُس تہذیب کے مادی اور ارضی مظاہر سے لے کر اُس کے روحانی اور جمالیاتی امکانات تک کا دائرہ اسی صنف میں ظہور کرتا ہے اور اپنے انفرادی احساس کی تفہیم اور اجتماعی خوابوں کی تعبیر پاتا ہے۔ اس طرح افرادِ معاشرہ کے خوابوں سے لے کر اجتماعی آدرشوں اور تہذیبی امنگوں تک ایک طرف اُس صنف کے ابلاغ کی مختلف سطحیں قائم ہوتی ہیں تو دوسری طرف اُس کی فکری جہات اور ثقافتی اقدار کی معنویت کے مختلف دائرے بھی وضع ہوتے ہیں۔ یہی دائرے دراصل اس تہذیب کی دبازت، قوتِ نمو اور اس کی اجتماعی تخلیقی سکت کا نقشہ ترتیب دیتے ہیں۔ اور پھر یہی یہ نقشہ آگے چل کر تاریخ کے زندہ حوالوں کی صورت میں جریدۂ عالم پر اُس تہذیب کے نقش کو قائم اور تابندہ رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو برصغیر کی تہذیب (بالخصوص جسے ہم ہند اسلامی تہذیب کا نام دیتے ہیں) کا اظہار ہمارے ادب کی جس صنف میں بہ تمام و کمال ہوا ہے، وہ ہے غزل۔

اس مرحلے پر یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ہندی سماج غزل کے پہنچنے سے پہلے اپنا ادبی اظہار بڑے امکانات کے ساتھ گیت اور رزمیہ کے اسالیب میں کر چکا تھا تو پھر غزل کو اس مقام پر کیوں کر فائز کیا جا سکتا ہے؟ یہ عامتہ الناس کی ذہنی سطح کا ایک اہم سوال ہے۔ اس لیے اس سے اغماز نہیں برتنا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ غزل کو اس مقام پر نہ صرف فائز کیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ کام لازمی طور سے کرنا ہوگا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے سے ہی ہمیں اصل میں برصغیر کی تاریخی، سیاسی اور فکری قلبِ ماہیت کو سمجھنے کا سب سے اہم زاویہ فراہم ہوتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اس خطۂ ارض کی تاریخ و تہذیب کی drastic transformation کا اعلامیہ ہے تو اس فکری اور قدری تبدیلی کو ہم ادب کی سطح پر تاریخ کے اس دورانیے میں غزل کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ اور اس کی طرف مائل ہوتے ہوئے روز افزوں عوامی مزاج کے تناسب کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں۔ عوامی ذوق کی تشکیل اور تبدیلی کا عمل سیاسی تغیرات کی تباہ کن رفتار کے زیرِ اثر آہستہ رو چاہے اس قدر نہ رہا ہو، لیکن پھر بھی اس کی بنیادیں کسی تہذیب کے اعماق میں ہمیشہ بہت گہری ہوتی ہیں۔ ذوق کی تشکیل یا تبدل کا یہ عمل جب ایک بار واقع ہو جاتا ہے تو پھر اس تہذیب کی روحانی اور جمالیاتی قدروں کے جملہ امکانات ایک فطری اور ناگزیر ضابطے کے تحت از خود اُس صنف سے وابستہ ہو جاتے ہیں جو انھیں بروئے کار لانے کی سکت رکھتی ہے۔ برصغیر کے جغرافیائی نقشے کی حدوں میں غزل کے تہذیبی صنف بننے کا عمل دراصل خود ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اس واقعے کی ماہیت پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے پس منظر میں اصولِ نمو اور قوتِ اظہار کا وہی رنگ اور وہی جذبہ برسرِکار ہے جسے اپنے شہرۂ آفاق مقدمے میں ابنِ خلدون نے تہذیب کا اصولِ نمو قرار دیا ہے۔ ابنِ خلدون نے یہ بحث کسی تہذیب کے اثبات و استحکام کے ذیل میں عصبیت کے عنوان سے کی ہے اور تاریخ کے حوالے سے اس لفظ کے معنی بدل کر رکھ دیے ہیں۔

اردو کی ادبی اصناف میں غزل چونکہ تہذیبی صنف کا درجہ رکھتی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی ہیئت، اس کا ڈھانچا، اس کے لوازم اور اس کے عناصر سب کے سب اپنی اپنی سطح پر اور اپنے اپنے انداز سے اس کی حیثیت کا جواز قائم کرنے میں اپنا ایک کردار کرتے ہیں۔ حیثیت کے یہ سارے جواز اُن milky tracks کی طرح ہیں جو نظامِ شمسی کے ہر سیّارے کے لیے اپنے مقام پر ہوتے ہوئے اُس کی گردش کو قائم رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور اس پورے نظام کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ غزل کی مابعد الطبیعیات کو بیان کرنے کا محل نہیں، محض یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اس صنفِ اظہار نے اپنی ساخت اور ہیئت سے لے کر معنویت کی متنوع سطحوں تک اپنی تہذیبی حیثیت پر اصرار ہی نہیں کیا، بلکہ اس کا اثبات بھی پوری جواز جوئی کے ساتھ کیا ہے۔ اس کی بلاغت اور معنویت کا اعلیٰ ترین اظہار اُن اشعار میں ہوتا ہے جو عامتہ الناس سے لے کر اہلِ دانش و فن اور اہلِ فکر و بصیرت تک الگ الگ درجوں میں اثر آفرینی کا نقش قائم کرتے ہیں۔ یوں غزل کا ایک شعر عوامی سطح پر حیاتِ انسانی کی مادی جہت اور تجربے کی عمومیت سے اپنے معنی بیان کرتا ہے تو دوسری طرف یہی شعر اہلِ نظر کے لیے حقیقتِ اولیٰ کے کسی رُخ کو واضح کرتا ہے یا اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے معنی کی گہری تہ کو آشکار کرتا ہے۔ یہ الگ الگ سطحوں کی تفہیم سماج کے مختلف طبقاتِ خیال کو بہ یک وقت غزل کے اشعار سے حظ اُٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ علاوہ ازیں غزل کی برصغیر میں وسیع دائرے کی حامل اثر آفرینی کا ایک بہت بڑا ثبوت ہمیں عوام و خواص کے حافظے میں محفوظ ہو جانے اور موقع بہ موقع استعمال ہونے والے غزل کے اشعار سے بھی ملتا ہے۔

سطورِ گزشتہ میں اس مضمون کی تمہید یا مقدمہ قائم کرتے ہوئے عرض کیا گیا تھا کہ ہمارے شعری اُفق پر جذبہ و فکر کی جو کہکشاں ضو فشاں دکھائی دیتی ہے، اُس میں سب سے نمایاں رنگ مذہبی طرزِ احساس کا زائیدہ ہےاور ہمارے مذہبی طرزِ احساس کی تشکیل میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے عشقِ رسول نے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو کیا ہماری غزل کی روایت اپنے عمومی اظہارات میں، یعنی مذہبی طرزِ احساس کے بغیر بھی عشقِ رسول کی جہت کو اُجاگر کرتی ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کرتی ہے تو اس اظہار اور بیان کی سطح کیا بنتی ہے؟ کیا ایسا کوئی شعر جس میں یہ احساس اور یہ جذبہ نمایاں ہوتا ہے، بعد ازاں مذہبی شعر بن جاتا ہے یا پھر یہ اظہار اس شعر میں اضافی قدر کی حیثیت رکھتا ہے؟ اس ضمن میں تیسرا سوال بھی اہم اور بہت غور طلب ہے اور وہ یہ کہ شعر میں اس جذبے کا اظہار کیا شاعر باضابطہ فکر کے ساتھ اور دانستہ یعنی شعوری سطح پر کرتا ہے یا تہذیبی لاشعور اس فکر کو اُس کے فن میں راہ دیتا ہے؟

ان سوالات پر گفتگو کرنے سے پہلے اس امر کا اظہار ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سیّدمحمدابوالخیر کشفی نے اپنے ایک مضمون ’’غزل میں نعت کی جلوہ گری‘‘ میں بعض نکات پر اچھی گفتگو کی ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے اپنے کچھ ذاتی یا شخصی تاثرات کو پورے تنقیدی شعور کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے فیض صاحب کا جو واقعہ بیان کیا ہے، وہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ شاعر (فیض) کے انفرادی احساس کے ساتھ ساتھ اس پر اجتماعی تہذیبی رویے کے اثرات کے پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

اب آئیے مذکورہ بالا سوالوں کی جانب۔ پہلا سوال کہ غزل کی روایت اپنے عمومی اظہارات میں بھی عشقِ رسول کو اُجاگر کرتی ہے، کا جواب یہ ہے کہ لازمی طور سے کرتی ہے، اور اسی اظہار سے تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ عشقِ رسولa ہمارے تہذیبی و ثقافتی اوصناع کے لیے قوتِ نمو کا درجہ رکھتا ہے اور ہمارے اجتماعی طرزِ احساس کی تشکیل میں ایک مؤثر قوت کے طور پر شامل ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہماری شعری روایت میں اُسے اظہارات کی یہ نوعیت اور کیفیت حاصل ہی نہیں ہو سکتی تھی۔

دوسرا سوال کہ اگر غزل عمومی اظہارات میں عشقِ رسول کو بیان کرتی ہے تو اس کی سطح کیا بنتی ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ایسے تہذیبی احساسات اصولی طور سے یا تو فکر و فن کی اعلیٰ تر سطح پر معرضِ اظہار میں آتے ہیں یا پھر بالکل ہی بیان نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ انھیں اظہار کا عمل ّ میسر ہی اُس وقت آتا ہے جب وہ مجاز سے حقیقت تک کے تمام درجات میں ابلاغ کے حامل ہوتے ہیں اور قاری کی ذہنی سطح اور ذوق کے مطابق اُس پر اپنے معنی کی جہت کو عیاں کرتے ہیں۔ ان میں فکر و احساس خفتہ حالت میں تو نہیں ہوتے، لیکن ان کی نمود قاری کے لیے بہرحال مکاشفے کی صورت رکھتی ہے، یعنی وہ اُن کو پانے یا ان تک پہنچنے کا اہل ہے تو وہ معنی اس پر کھلیں گے ورنہ نہیں۔

تیسرا سوال یہ کہ آیا شاعر اس جذبے کا اظہار فکر کی صورت اور شعور کے ساتھ کرتا ہے یا تہذیبی لاشعور اسے اظہار کی راہ دکھاتا ہے؟ اس سلسلے میں اقوامِ عالم کے ادبِ عالیہ سے ہمیں ایک اصول فراہم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس نوع کا عمیق جذبہ اجتماعی تہذیبی آدرش کی حیثیت رکھتا ہےاور وہ کسی تہذیب کے اُن بڑے شاعروں کے یہاں بھی راہ پاتا ہے جو فکری و نظری اعتبار سے شخصی حیثیت میں اُس کے حامل نہیں ہوتے یا اس کی سہار نہیں رکھتے۔ چناں چہ کہا جا سکتا ہے کہ شاعر کا ذہنی رویہ اور شخصی شعور بھی بے شک اہم ہوتا ہے، لیکن عشقِ رسول کو بیان کرتے ہوئے وہ اپنی انفرادی فیکلٹی سے زیادہ اپنے تہذیبی لاشعور اور ثقافتی وجدان کے زیرِ اثر ہوتا ہے۔ چناں چہ ہم اس جذبے کو اُن شاعروں کے یہاں بھی راہ پاتے ہوئے دیکھتے ہیں جو مذہبی جھکاؤ نہیں رکھتے، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں ایک تعداد ایسے شاعروں کی ہوتی ہے جو دراصل اپنی تخلیقی شناخت میں مذہبی حوالے سے بالالتزام گریزاں ہوتے ہیں۔ بنابریں اس بات کو ہمیں اصول کے طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ اردو غزل نے عشقِ رسول کا جب جب اور جس جس قرینے سے اظہار کیا ہے، اس میں شاعر کے شخصی رُجحان سے کہیں زیادہ ہمارے تہذیبی رُجحان نے اس کی کفالت کی ہے، لہٰذا یہ دراصل ہمارے اجتماعی لاشعور اور تہذیبی داعیے کا ظہور و اثبات ہے۔ اس لیے یہ عین ممکن ہے کہ غزل کا ایسا شعر کہتے ہوئے شاعر کو معلوم تک نہ ہو کہ وہ نعت کی سرحد میں داخل ہو رہا ہے، اور بعد وہ خود یا اُس کا کوئی قاری اس حقیقت کو شعور کی حدِ ادراک پر دریافت کرے۔ بہت زیادہ مثالوں کی تو گنجائش نہیں، لیکن چند ایک مثالیں اس حوالے سے بہرحال پیش کی جاتی ہیں، تاکہ اس نکتے کی وضاحت اور اس مؤقف کو مستحکم کیا جاسکے۔

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

(میر)

میر کے یہاں انسانی عظمت کا یہ اظہار بار بار ملتا ہے۔ غور کیا جائے تو اس تفاخر کے احساس کے پس منظر میں نسبت کا اعزاز کار فرما نظر آتا ہے۔ میر کی شاعری میں بیان کی قدرت و لطافت کو ملحوظ رکھا جائے تو ایسے اشعار میں نسبت کے تفاخر کو سمجھنا دشوار نہیں۔ عام طور سے توجہ دینے والوں نے میر کے یہاں خودسری اور تنک مزاجی پر تو نگاہ کی ہے، لیکن اس کی انسانی قدر کے اصرار کے اس زاویے پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ اب میر کے ان دو اشعار میں دیکھیے کہ محبوبیت کے بیان میں نعت کا قرینہ کس طرح اُبھرتا ہے:

آنکھ اُس سے نہیں اُٹھنے کی صاحب نظروں کی

جس خاک پہ ہوگا اثر اس کی کفِ پا کا

(میر)

نقشِ قدم سے اُس کے ، گلشن کی طرح ڈالی

گردِ رہ اُس کی لے کر سروِ رواں بنایا

(میر)

اب غالب کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے

سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے

زباں پہ بارِ خدا یہ کس کا نام آیا

کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے

ان اشعار میں بھی جس مدحت و محبت کا اظہار ہوا ہے، وہ کسی تاخیر کے بغیر اور بے ساختہ طور سے ذہن کو آپ کی طرف لے جاتی ہے۔ غزل کے ان اشعار کو غالب نے تجمل حسین خاں سے منسوب کیا ہے، لیکن لطفِ سخن اور جذب و شوق کا عنصر انھیں کسی اور بڑی بارگاہ سے منسوب کرتا ہے۔ ابوالخیر کشفی نے بالکل ٹھیک کہا ہے ان شعروں کی بابت کہ بے چارے تجمل حسین خاں ان کا مصداق کب ہو سکتے تھے، اسی لیے ہمارا اجتماعی ذوقِ شعری ان کو حضور علیہ السلام کی خدمت میں لے آیا۔ حضور اکرم سے محبت کے ساتھ ساتھ اس عمل میں ہماری ادبی تہذیب کے لیے سماجی دائرے میں پائی جانے والی سطحِ ادراک کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

مصحفی کا یہ شعر دیکھیے:

خوب رُو دیکھے ہزاروں گرچہ اپنی عمر میں

آج تک ہم نے ولے تجھ سا نہ دیکھا آدمی

یہ شعر محبوبِ مجازی سے لے کر سرکارِ دو عالم کے درجۂ اولیٰ تک معنی کی مختلف سطحیں رکھتا ہے۔ تاہم یہ صرف شاعر کے اندازِ بیاں کی داد نہیں ہے، بلکہ اس عمل میں قاری کے تربیت یافتہ ذوق اور اس کی بالیدہ تہذیبی نظر کی شرکت سے ہی یہ شعر اپنی معنویت کے اعلیٰ درجے پر پہنچ کر الگ انداز سے کھلتا ہے۔ مصحفی کا ایک اور شعر دیکھیے:

لوح و قلم و کرسی و عرش اور یہ افلاک

اونچے ہیں ، پہ ہیں قوتِ ادراک کے نیچے

یہاں قوتِ ادراک کے بیان میں انسان کو ودیعت کی گئی اسی اہلیت اور استعداد کی طرف اشارہ ہے، جس کی بنا پر اسے اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے۔ یہ شعر کی عام فہم سطح کے معنی ہیں، لیکن اگر اس نکتے کو معراج سے جوڑ کر دیکھا جائے تو بات اور انداز سے سمجھ آتی ہے۔ معراج کی معنویت کے فہم کا ایک رُخ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ انسانی قوتِ ادراک کے لیے تحریک کا سامان رکھتا ہے۔ اس زاویے کو پیشِ نظر رکھا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ واقعہ انسانی قوتِ ادراک کے لیے غور و فکر اور ایمان و یقین کے کیسے در وا کر رہا ہے۔ یہ تو ہوئی ایک عام مسلمان کے لیے ذہنی سطح پر اس واقعے کی معنویت۔ اب اس پہلو سے سوچا جائے کہ خود نبیِ کریم کے لیے اس وجودی تجربے کی نوعیت کیا رہی ہوگی اور آپ کی نسبت سے پوری اُمت کے لیے شرف کا یہ کیسا مقام ہے؟ اس نسبت کو دیکھیے اقبال نے کس طرح دیکھا اور سمجھا ہے:

سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی سے مجھے

کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردُوں

دراصل یہی وہ معنویتِ معراج ہے جس کی طرف سطورِ بالا میں اشارہ کیا گیا تھا۔ اقبال کے یہاں تو غزل کے رواں دواں پیرایے اور ایسے صاف لب و لہجے میں نعت کے شعر آتے ہیں کہ شاعری سعادت کے اعلیٰ ترین درجے پر نظر آتی ہے:

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کُل جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر

وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یٰسیں ، وہی طہٰ

اقبال کے یہ اشعار ’’بالِ جبریل‘‘ کے حصہ دوم کی تیسری غزل میں ملتے ہیں۔ غزل اپنے رنگ اور مزاج کے مطابق چلتے چلتے اچانک اس کیفیت اور جذبے کے بیان پر آجاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال کی شاعری میں عشقِ رسول a ایک سیلِ رواں کی صورت رکھتا ہے اور وہ نعت کے جذب و کیف کو اپنے عمومی شعری اسلوب سے الگ کرکے نہیں دیکھتے۔ اس موقع پر اگر یہ کہا جائے کہ نعتیہ جذب و کیف نے ایک طرف حالی کی اصلاحی اور مقصدی شاعری کا لہجہ اور اس کی راہ متعین کی ہے تو دوسری طرف اقبال کے فکر و نظر کی بالیدگی اور رنگِ سخن کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار دراصل اسی عشقِ رسولa کا ہے، تو یہ اعترافِ امر اردو شاعری کے دو جداگانہ نوعیت کے دھاروں کو ایک مشترک فکری بنیاد فراہم کرکے اُن کے باہمی ربط اور اس کے تحت ہونے والی معنوی توسیع کو سمجھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہاں یہ پہلو بھی غور طلب اور فکر افروز ہے کہ حالی نے ہماری شعری روایت میں ایک بنائے تازہ رکھی ہے اور اقبال نے اس تہذیب کے پورے نظامِ فکر کو حسی پیکروں کی صورت قابلِ فہم بنا دیا ہے اور اظہار کا وہ قرینہ عطا کیا ہے کہ جو اپنی مثال آپ ہے اور فکر و خیال کی یہ ساری دولتِ بے بہا ان دونوں شاعروں کو عشقِ رسول سے بہم پہنچی۔

مضمون کی ضخامت کو جس قدر ممکن ہو، کم رکھنے کے لیے ہم چند ایک اساتذہ کی مثالوں کے بعد براہِ راست اپنے معاصر شعری منظرنامے یعنی بیس ویں صدی کے شعری سرمایے سے رجوع کرتے ہیں اور خالص غزل کی روایت میں نعت رُجحان کی ایک جھلک دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں:

سیہ کار تھے با صفا ہوگئے ہم

ترے عشق میں کیا سے کیا ہوگئے ہم

(حسرت)

سیکھی یہیں مرے دلِ کافر نے بندگی

ربِ کریم ہے تو تری رہ گزر میں ہے

(فیض)

دلوں کو مرکزِ اسرار کر گئی جو نگہ

اُسی نگہ کی گدائی کا وقت ہے کہ نہیں

(عزیزحامدمدنی)

فروغِ اسمِ محمد ہو بستیوں میں منیرؔ

قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو

(منیرنیازی)

یہ کون سوچ پہن کر گیا ہے سوئے فلک

کہ جس کا چاند پہ نقشِ قدم سا لگتا ہے

(شیرافضل جعفری)

بہار ہو کہ خزاں کار گاہِ ہستی میں

انھیں کسی سے غرض کیا جو تیرے ہو جائیں

(صہبااختر)

مسافرانِ جنوں گرد ہوگئے لیکن

کھلا نہیں کہ تری رہ گزر کہاں تک ہے

(سلیم کوثر)

اضطرابِ خاکِ امجد میں کہیں رہتا ہے وہ

کائناتِ روحِ احمد میں کہیں رہتا ہے وہ

(اجمل نیازی)

اب تک کی گفتگو کو دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ نہ صرف اس مبحث کے سیاق و سباق فراہم کر لیے گئے ہیں، بلکہ صغریٰ و کبریٰ بھی طے ہو گئے۔ چناں چہ اب وہ مرحلہ آگیا ہے کہ نعت اور اردو کی شعری تہذیب (بحوالۂ خصوصی غزل) کے باہمی رشتے، اس کی نوعیت اور اثرات کے جائزے کے لیے ہمیں ایک الگ تناظر فراہم ہوگیا ہے۔ یہ تناظر اردو زبان، شاعری اور اُس کی تہذیبی اقدار اور اظہار کے سانچوں کو نئے رُخ سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہاں ہماری شاعری ہمارے تہذیبی وجود کا مکاشفہ بن جاتی ہے ایک ایسا مکاشفہ جو افراد سے لے کر تہذیب تک ہر درجۂ احساس کو بے سمتی اور لایعنیت سے پاک کردیتا ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا کہ جس تک ہمیں پہنچنا تھا، لہٰذا اب اس بحث کو سمیٹنے کا مرحلہ آگیا ہے۔ چناں چہ گفتگو کے اس مقام پر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہماری شعری روایت نے براہِ راست نعت میں جذبہ و فکر کے جن رنگوں کو سمیٹا ہے، وہ معاصر اسلوب میں کس طرح ظہور کرتے ہیں۔

عشقِ رسول ایک مسلمان کی زندگی کا سراسر نجی مگر بے حد اہم معاملہ ہے۔ اس معاملے کی اہمیت کا انحصار اس امر پر نہیں کہ وہ مسلمان اپنے عقائد کے عملی رویوں پر کس حد تک کار بند ہے، بلکہ ایمان و یقین کے اس نکتے پر ہے کہ حُبِ رسول کے بغیر اُس کے عقائد اس درجہ ناقص ہیں کہ باقی اعمال کی توفیق اور بجاآوری کے باوجود وہ کامل ایمان والا مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سراسر نجی معاملہ ہونے کے باوجود عشقِ رسول کا اثبات و اظہار فرد کی ذاتی زندگی سے لے کر اُس کے سماجی اور تہذیبی وجود تک شعور کی ہر ممکنہ سطح پر ہوتا ہے۔ اسلام کی چودہ سو سال سے زائد عرصے کو محیط تاریخ پر ایک اجمالی نگاہ ڈال کر بھی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مذہب، تہذیب، سیاست، قومیت اور دینی ّ حمیت کے جس میدان نے بھی اہلِ اسلام سے جب جب عشقِ رسولa کی گواہی طلب کی تو ادنیٰ سے ادنیٰ سطح پر سماجی اور اعمال کے معاملے میں برائے نام مذہبی زندگی گزارنے والے مسلمان نے بھی دامے درمے قدمے سخنے جی جان سے اس شہادت کو اپنے لیے اعزاز جانا۔ شاتمینِ رسول کی ذلت کا باب ماضی کے اوراق سے عصرِ حاضر کے تناظر تک جو نقشہ پیش کرتا ہے، اس کی کوئی دوسری مثال ادب، تہذیب اور مذہب تینوں حوالوں سے تاریخِ عالم کے کسی باب میں اس طرح نہیں ملتی۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ آخر ایسا کیا معاملہ ہے جو اس رویے اور جذبے کے اظہار کی بنیاد بنتا ہے؟ ہم اسے رسول اﷲa کے لیے مسلمانوں کا جذبۂ محبت بھی کہہ سکتے ہیں۔ تاہم یہ جواب ناکافی ہوگا۔ اس لیے کہ حبِ رسول کا اظہار تاریخِ اسلام نے محض عام آدمی کے یہاں ریکارڈ نہیں کیا، بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اذہان اور معاشرے کے اہم سنجیدہ شعبوں سے وابستہ افراد کے یہاں بھی اس کا وفور اسی سطح پر دیکھا گیا ہے۔ باور کیا جانا چاہیے کہ یہ جذبہ تو ہے ہی، لیکن اس کے سوا بھی کچھ ہے جو معاشرے کے مختلف طبقات میں یکساں کیفیت کے ساتھ اس ضمن میں جاذبیت اور وارفتگی کی بنیاد بنتا ہےاور وہ ہے سیرتِ مطہرہ کی صورت اُبھرنے والا انسانی کردار۔ نبیِ کریم نے فرمایا:

انا بشر مثلکم

(میں تمھاری ہی طرح کا انسان ہوں۔)

یہ بیان فکر انگیز ہے۔ قرآنِ کریم میں ہبوطِ آدم کا واقعہ، فرشتوں کا آدم کو سجدہ، آدم کی فضیلت اور انسانیت کے فوز و فلاح کے لیے انبیائے کرام علیہم اجمعین کی ضرورت سے لے کر خاتم النبیین کی منزلت تک کے حقائق پر غور کیا جائے تو اس بیان کی معنویت کا انکشاف ہوتا ہے۔ نبوت کے باب کی تکمیل کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ باری تعالیٰ نے نبوت کا باب بند کر دیا اور اب رہتی دُنیا تک کوئی نبی نہیں آئے گا، یہ بات تو اپنی جگہ حقیقت ہے ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ خاتم النبیین کا مفہوم یہ بھی ہے کہ اس صورت میں نبوت کو مثال کے اس درجے تک لایا گیا ہے کہ اس کے بعد کسی دوسرے نبی کی گنجائش یا ضرورت ہی نہیں رہے گی، یعنی نبوت کی تکمیل سے مراد نبوت کے کردار کا بلند ترین اظہار ہے، یعنی اس کردار کی معراج۔ چناں چہ ختمِ نبوت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ انسانی فوز و فلاح کے کام کو وہ حتمی صورت دے دی گئی اور اُس نکتۂ کمال تک پہنچا دیا گیا کہ اس منصبِ جلیلہ کی تکمیل ہوگئی۔ نبوت کا کردار اپنی اعلیٰ ترین صورت میں منصہ شہود پر آگیا ہے، لہٰذا اس کے بعد کسی اور اظہار کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ یہاں فطری طور پر انسانی ذہن سوچتا ہے کہ پھر تو اس کردار کی بہت نزاکتیں ہوں گی اور اس کے راستے کو ایک عام آدمی کے لیے اختیار کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوگا۔ نہیں، ایسا نہیں ہے، بلکہ اسی خیال کو رد کرنے کے لیے باری تعالیٰ نے نبیِ کریم کی زبانِ مبارکہ سے یہ بات کہلوائی کہ میں تم ہی جیسا ہوں، یعنی تم میرا راستہ آسانی سے اختیار کر سکتے ہو۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مسلمان کی زندگی میں کردار کا سب سے بڑا آئیڈیل، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صورت میں ہوتا ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت اپنی جگہ بڑی چیز ہے اور اس کے ساتھ ایک اور بڑی چیز اس آئیڈیل کے اتباع کی شدید آرزو ہے۔ یوں ایک عام مسلمان کا رسول اﷲ سے رشتہ دراصل انسانی رشتے کی معراج بن جاتا ہے۔ چناں چہ اس ضمن میں وہ عام آدمی بھی فعال کردار اور حساس رویے کے ساتھ سامنے آتا ہے، جس کے روز مرہ معمولات میں عملی مذہبی زندگی کا رُجحان کم کم دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں عام آدمی سے لے کر اہلِ نظر اور اہلِ فلسفہ ہی نہیں بلکہ قلندروں اور خاص طور پر ملامتی فرقے اور ترک کی منزل کے صوفیہ تک کے یہاں ذاتِ الٰہیہ کے سلسلے میں تو بے احتیاطی یا بے نیازی دیکھی گئی ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دیکھی جاسکتی ہے، لیکن کیا مجال جو آپ کو محض نام کا ایک مسلمان بھی حرمتِ رسول کے معاملے میں غافل یا بے لحاظ مل جائے۔ اصل میں:

باخدا دیوانہ باش و بامحمد ہوشیار

کے طرزِ احساس کا یہ معاملہ عجیب و غریب ہے۔ اور اس کی بنیاد وہی ہے، جس کی طرف سطورِ گزشتہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ چناں چہ اس کی توجیہات کا قصہ بھی عجب اور قدرے طولانی ہے۔ اس طوالت میں ایک طرف عقائد اور شریعت کے تقاضوں کا بیان ہے تو دوسری طرف اہلِ دانش کی نکتہ رس شرح اور اس کے ساتھ ساتھ شیوۂ وابستگی کی وہ تفہیم بھی جو ایک عام آدمی اپنے احساس کی سطح پر کرتا ہے۔ بالاختصار بس یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہر مسلمان کا دل اُس گھر کے مانند ہے جس میں عشقِ رسول کی روشنی کا سارا اہتمام قادرِ مطلق نے خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہےاور اس طور سے رکھا ہے کہ ابدالآباد تک کے لیے دلوں کو اس اُجالے سے آباد کیا ہے۔ یہ اسی بیان کی تصدیق ہے جو ہمیں قرآن میں ملتا ہے جب خالق اپنے محبوب سے کہتا ہے:

ورفعنا لک ذکرک

(اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کیا۔)

اس نکتے پر گھڑی بھر رُک کر غور کیا جائے تو گواہی کا یہ معاملہ بھی واضح ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تفہیم کا یہ زاویہ بھی عقلِ انسانی کو میسر آتا ہے کہ باری تعالیٰ نے رسولِ کریم کے ذکر کو بلند کرنے کا جو ارشاد فرمایا تو ہم دیکھتے ہیں کہ بلندی کی اس صورت میں عملاً وقت کی عمودی اور اُفقی دونوں جہتوں کو سمیٹ کر رکھ دیا۔ عمودی جہت سے دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ذکر کو اس طرح پھیلایا کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ جس کو ہم اس درجہ مذکور پاتے ہوں۔ اُدھر دوسری طرف یعنی اُفقی جہت سے دیکھیے کہ رسول اﷲ کا ذکر صدیوں سے اس طرح ہو رہا ہے کہ جیسے قرونِ اولیٰ میں ہوا ہوگا۔ گویا ذکر کی اس بلندی کو سمجھنے کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمودی جہت زمینوں کا اور افقی جہت زمانوں کا احاطہ کرتی ہے۔ چناں چہ ذکر کی بلندی کے معانی کی نمود قدرتِ الٰہیہ کا تو بے شک اظہار ہے ہی، لیکن ذرا غور کیجیے کہ اس کے ذریعے ذہنِ انسانی کو ختمِ نبوت کا فہم اور اور مقامِ ختم النبیین کی بصیرت کس درجۂ اطلاق میں ودیعت کی جا رہی ہے۔ اﷲ اکبر۔ کوئی ٹھکانا ہے محبوب کی منزلت کے اظہار اور پذیرائی کے اسرار کا۔ ذرا دیکھیے صبیح رحمانی کی نعت کا یہ سادہ سا مصرع یہاں عشقِ رسول کو کن معنوں بیان کر رہا ہے:

کوئی مثل مصطفی کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

یہاں ’مثل‘ کے معنی فی الاصل نبیِ کریم کے ذکر کی بلندی کے ہیں، یعنی ایسی بلندی کے جس سے نبوت کی یگانگت کا درجہ متعین ہوا۔

اب یہیں قرآنِ کریم کے اس بیان پر بھی ذرا توجہ دیجیے۔ باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وما ارسلنک الا رحمتہ اﷲ العالمین

(اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔)

اﷲ غنی! یہ خالقِ ارض و سما کی رحمتِ فراواں کا اظہار ہے کہ جس زمانے اور جس جہان میں محبوب کو مبعوث فرمایا، بعثت کی رحمت و برکت کو اس تک محدود و مرتکز نہیں کیا، بلکہ علیٰ حالہٖ اس نعمت کی تعمیم کر دی۔ یوں انسانیت کو دائمی طور سے شرف کے گھر سے منسوب کر دیا۔ انسان کے اس دُنیا میں اشرف المخلوقات ہونے کا جواز واضح ہوا اور اُس کے خلیفۃ اﷲ فی الارض ہونے کا مفہوم سمجھ میں آیا۔ معلوم ہوا کہ اس کارخانۂ رنگ و بو اور نگار خانۂ فکر و عمل میں انسان ہونے سے مراد کیا ہے اور انسانیت کی قدر و منزلت کیا ہے۔ یوں انسانی زندگی میں خیر کی نعمت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مستقل کر دیا گیا۔ اُس کے حال کو مستقبل کی تہ در تہ وسعتوں تک پھیلا دیاگیا:

آپ اُن کے لیے بھی رحمت ہیں

جو زمانے ابھی نہیں آئے

(حنیف اسعدی)

رحمت کی اس نوید سے حیاتِ انسانی کو وہ مفہوم میسر آتا ہے جو اُس کے خلیفہ فی الارض ہونے کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ جود و سخا اور عطا و کرم کا یہ معاملہ اہلِ دانش نے اپنے انداز سے سمجھا ہے اور اہلِ فکر و بصیرت نے اپنے طریقے سے۔ اسے اپنی سطحِ ادراک سے علما نے بھی سمجھا اور بیان کیا ہے اور اہلِ فقہ و شریعت نے بھی۔ حال و قال والے صوفیہ نے بھی اس کا فہم اپنے کشف و عرفان سے پایا۔ تاہم ہماری شعری تہذیب کی روایت بتاتی ہے کہ ہمارے شعرا نے اس کا ادراک جس سطح اور جس انداز سے کیا، وہ کچھ انھی کا حصہ ہے۔ انھی کا حصہ اس لیے ہے کہ اُن کے ادراک و اظہار میں فکر کے ساتھ جس طرح جذبے کی سطح قائم ہوتی ہے، وہ جاذبیت کا اپنا ایک الگ پہلو رکھتی ہے اور اس کی اثر آفرینی کا دائرہ بھی الگ ہوتا ہے۔ عشقِ رسول میں وارفتگی کے رنگ اردو نعت نے کس طرح پیش کیے ہیں، اس کی وضاحت کے لیے ایک مضمون تو کیا ایک ضخیم کتاب بھی ناکافی ہے۔ اس لیے کہ یہاں ایک گل کے مضمون کو سو رنگ سے باندھنے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ نگارِ ہزار شیوہ کو بہ درجۂ شوق اور بہ رنگِ کمال معرضِ بیاں تک لانے کی آرزو نعت کے شاعر کی زندگی کا مقصد اور اُس کے فن کی معراج ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں سیرت و کردار کا بیان نعت بن گیا ہے تو کہیں آپ کی تعلیمات کے بیان نے نعت کا پیرایہ اختیار کرلیا ہے اور کہیں کسی آیتِ قرآنی اور حدیث کے ٹکڑے سے نعت کا مضمون وضع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخی حقائق اور اجتماعی تہذیبی احساس کے رنگوں سے بھی نعت کا بیانیہ آراستہ کیا گیا ہے۔ اس سے نعت کی معنوی وسعت کا ہی اندازہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ اس باب میں جذبۂ اظہار کی فراوانی کا بھی پتا چلتا ہے۔ چند مثالیں:

اُس کا پیامِ انس و مواخات ، روحِ دیں

اس کا نظامِ عدل و مساوات ، جانِ خیر

(حفیظ تائب)

اُسی کا عکس ہیں سارے جہاں کی تہذیبیں

کہاں نہیں ہے ضیائے محمدِ عربی

(صبااکبرآبادی)

جاں تری سربسر جمال ، دیں ترا آئنہ مثال

تجھ کو ترے عدو نے بھی دیکھا تو ہوگیا ترا

(احمدندیم قاسمی)

شبِ زندگی کو سحر کرنے والے

ہر اک دور کی روشنی نام تیرا

عدالت ، امانت ، دیانت میں یکتا

حیات ، آشتی ، راستی نام تیرا

(ضمیرجعفری)

شوکتِ شاہانِ عالم اُس فقیری پر نثار

جس فقیری کو نبی کا آستاں بخشا گیا

(اقبال عظیم)

انسانیت کو اوجِ شرف ہے تمھاری راہ

رحمت تمھارا ذکر ، عبادت تمھارا نام

(سجادباقررضوی)

لمحے لمحے کی مٹھی میں جگنو ترے

ہر زمانے کی مشعل زمانہ ترا

(مظفروارثی)

بس ایک آپ کا دربار ہے پناہِ جہاں

بس ایک آپ کا دربار خاص و عام کا ہے

(حافظ لدھیانوی)

ُ تو سطوتِ شاہاں کے لیے تیغِ مکافات

ُ تو مونس و ہم درد ہر اک جانِ حزیں کا

(ظہیرکاشمیری)

سب جہانوں میں اُسی نام کا جلتا ہے چراغ

سب جہانوں کا انھیں ہادی و رہبر لکھوں

(کلیم عثمانی)

میں جتنا بھی لکھتا ہوں شانِ نبی میں

یہ محسوس ہوتا ہے کم لکھ رہا ہوں

(اعجازرحمانی)

سمولے خود میں گر اُس ُ خلقِ کامل کے اُجالوں کو

تو دامانِ تمدّن دامنِ زرتار ہوجائے

(اسلم انصاری)

وہ دشمنوں کو بھی اپنے نوازتے ہیں مگر

عدوِ حق کے لیے خنجر و سناں بھی وہی

(پیرزادہ قاسم)

اُسی سے اخذ کرو دشمنوں سے حسنِ سلوک

سزا کی بات نہیں ، درگزر کی بات کرو

(پروین جاوید)

آپ کی ذاتِ گرامی ایک مسلمان کے لیے ہر عمل اور ہر نکتۂ فکر کا بنیادی حوالہ اور معنویت کا وہ سرچشمہ ہے کہ نکتہ رسی کے سارے سوتے یہیں سے نکلتے ہیں یا پھر یہیں آکے ملتے ہیں۔ چنانچہ نعت کے مضامین میں زماں کا حوالہ ہو یا مکاں کا، حرکت و تغیر کا نکتہ ہو یا سکون و ثبات کا یا پھر وصل و فصل کا سوال ہر مضمون کی گہرائی اور ہر خیال کی وسعت دراصل آپ سے شاعر کے جذبۂ دل کی وابستگی کا پہلو لیے ہوئے ہے۔ مطالعاتِ نعت میں یہ نکتہ کھلتا ہے کہ یہاں فلسفے میں دھڑکن سما جاتی ہے اور دل کی دھڑکن میں دقیق فلسفہ گونج اٹھتا ہے۔ اس لیے کہ یہ محل ہی وہ ہے کہ جہاں دل و نظر ہی کی نہیں علم و فلسفہ کی بھی کایا پلٹ جاتی ہے۔ یہاں سکوت کلام سے بڑھ جاتا ہے اور اذن مل جائے تو کلام معجزہ ہوجاتا ہے:

پڑھو درود تو ہوتا ہے یہ خیال کہ اب

حجابِ فاصلۂ وقت اٹھنے والا ہے

(امیدفاضلی)

اصل سے وصل کا احساس ہوا ہے کیا کیا

غیر کوئی نہیں ، ہر شخص یہاں اپنا ہے

(شبنم رومانی)

ہر ایک سمت سے آتی ہے تیری ہی خوش بو

ہر اک زمانہ ، زمانہ ترے جمال کا ہے

(شہزاداحمد)

دربار و محافل کو بھی ہو تجھ پہ سدا رشک

اے غارِ حرا کیا تجھے تنہائی ملی ہے

(سحر انصاری)

جنت ہے اُن کے قرب میں انجمؔ کہ آدمی

ہے جتنا اُن سے دُور ہے اتنا عذاب میں

(انجم رومانی)

رحمتِ ربِ دوعالم بھی ترا ّ سرِ وجود

تُو جدھر جائے اُدھر ابر کا سایہ دیکھوں

(امین راحت چغتائی)

ادا ہوا ہے نہ ہوگا حضور قرضِ ثنا

تمام عمر چکاتی رہے اُدھار حیات

(سجادسخن)

جو اہلِ فلسفہ کی عقل کی سرحد سے باہر تھا

عرب کے ایک اُمی نے عیاں وہ راز فرمایا

(خالدبزمی)

سفر میں وقت کی رفتار رہ گئی پیچھے

ورائے عقل و گماں ہیں مسافتیں تیری

(انورجمال)

عزمِ سفر جو طیبہ کا ہو ، نکلیں وقت سے ہم آگے

دل آنکھوں سے آگے ، آنکھیں دل سے ایک قدم آگے

(حسن اکبرکمال)

اس میں کلام نہیں کہ عالمی ادب نے مذہبی فکر کے جو نقش ابھارے ہیں ان میں مذہبی تعلیمات سے اور اُن تعلیمات کے حامل پیغام بروں سے عقیدت کے جذبات کا اظہار بھی نمایاں طور سے ہوا ہے، خاص طور سے اطراف کی تہذیبوں اور زمانوں میں یہودیت، عیسائیت، ہندومت اور سکھ مذہب کے ماننے والوں کے یہاں اس احساس کو صاف طور سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہر مذہبی فکر کے تخلیق کاروں نے یہ کام اپنی استعداد اور جذبے کی فراوانی کے مطابق کیا ہے، لیکن تمام تر معروضیت کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو اس حقیقت کی نوعیت اور کیفیت ہی مختلف نظر آتی ہے، جسے ہم اردو شعر و سخن میں عشقِ رسول کے سلسلے میں ابھرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ اُسی صداقت کا ثبوت ہے جس کی بابت ہم اس سے قبل ورفعنا لک ذکرک کے ذیل میں گفتگو کر آئے ہیں۔ اس ضمن میں یہ قابلِ لحاظ بات اپنی جگہ کہ جس کثرت سے ہماری شاعری نے آپ کا ذکر کیا ہے، دُنیا کی کسی دوسری زبان کی شاعری میں ایسا اور اتنا ذکر کسی دوسری شخصیت کا کہیں نہیں ہوا۔ بایں ہمہ اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ ذکر جس والہانہ پن، وارفتگی اور وفورِ شوق کے ساتھ ہوا ہے، اُس کی کوئی مثال دُنیا کے شعر و سخن میں ہمیں نہیں ملتی۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ اس وارفتگی اور وفور میں وابستگی کے قرینے اور معنی آفرینی کے پہلو تخلیق کار کی نظر سے ہرگز اوجھل نہیں ہوتے۔ ذرا یہ اشعار دیکھیے:

کوئی بھی جستجو ہو کوئی لگن

ذوقِ منزل وہیں سے ملتا ہے

(محشر بدایونی)

یہ اور راستے ہیں حدی خواں سنبھل کے چل

طیبہ کا ذرّہ ذرّہ مجھے دل دکھائی دے

(اداجعفری)

کہاں ہو گر نہ ہو اس جا ہجومِ آرزو منداں

ہے اُس کا آستانہ قبلہ سارے آستانوں کا

(عبدالعزیزخالد)

نگاہ دیکھ کہ ہے رُو بہ رُو دیارِ جمال

ہے ذرّہ ذرّہ یہاں آفتاب ، کیا دیکھوں

(عاصی کرنالی)

کاش یہ میری جبیں اور نقشِ پائے مصطفی

صرف روزِ حشر تک ہوجائیں ساکن ساتھ ساتھ

(ماجدخلیل)

تو سائبان کی صورت محیط عالم پر

کرن کرن کی ترے سامنے طناب کھلے

(محسن احسان)

یہ کس کی سمت پے بہ پے رواں دواں ہیں ساعتیں

یہ کس کے پائے بوس کا ہے اشتیاق دیکھنا

(جعفربلوچ)

نظر میں رکھتا ہوں یوں بھی تری مثالوں کو

ترا ہی عکس سمجھتا ہوں میں اجالوں کو

(عزیزاحسن)

ذکرِ نبی سے چشم ہی روشن نہیں فقط

دل کا یہ آئنہ بھی کدورت سے دُور ہے

(شوکت عابد)

آپ کی رہ کے ذرّے ہیں شمس و قمر

گردشِ روز و شب نامہ بر آپ کی

(محسن نقوی)

خاکِ صحرا بنی کہکشاں آپ سے

یہ زمیں ہوگئی آسماں آپ سے

(عنبریں حسیب عنبر)

عشقِ رسول کے اظہار میں والہانہ پن، وارفتگی، دل بستگی، وابستگی اور وفور کے ساتھ ایک قرینہ اس دولتِ بیدار پر ناز آفرینی کا بھی ہے۔ نسبت کا اعزاز اہلِ دل اور اہلِ صفا کے لیے کیسی نازپرور شے رہی ہے، اس کا اندازہ صحیح معنوں میں اُسی وقت ہوسکتا ہے، جب اس اظہار کے مختلف شیڈز نظر میں ہوں۔ اس لیے کہ یہ معاملہ، کیا تجھ کو خبر کون کہاں جھوم رہا ہے، والا ہے۔ اس بزمِ فخر و انبساط میں ہر ناز پرور کی اپنی ایک کیفیت ہے اور اس کے بیان کا اپنا ہی ایک قرینہ بھی۔ دیکھا جائے تو کہیں یہ ادب و محبت کی معراج ہے تو کہیں حرفِ طمانیت و تشکر کے اظہار کا ذریعہ، کہیں سرشاری ہے تو کہیں شوق کی وسعت و بیداری کا احساس، اس میں کہیں جذبے کی فراوانی کلام پر مائل ہے تو کہیں پر ّ حدِ ادب کا لحاظ خاموشی پر مصر، کہیں یہ نسبت انوکھا خواب ہے اور کہیں اس سے عقدۂ دل کھلتا ہے۔

اس کیفیتِ دیدہ و دل کے کچھ رنگوں کی جھلمل ملاحظہ کیجیے:

ترے ہی فیض سے ممتاز تھے جہاں بھر میں

جنوں شعار ترے صاحبِ خرد تیرے

(عارف عبدالمتین)

گماں تھے ایسے کہ آثار تک یقیں کے نہ تھے

حضور آپ نہ ہوتے تو ہم کہیں کے نہ تھے

(حنیف اسعدی)

تری عقدہ کشائی سے کھلے عقدے سبھی دل کے

ہوئیں سب مشکلیں آساں تری مشکل کشائی سے

(جمال پانی پتی)

جسے چاہا در پہ بلا لیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

(منوّربدایونی)

طلوعِ اسمِ محمد فقط نظارہ نہیں

ہماری صبحِ شرف کا کوئی کنارہ نہیں

(مشکورحسین یاد)

درود اُن پہ پڑھا اور سعادتیں پائیں

ہٹا گیا مرے سینے سے سب غبار درود

(خاطرغزنوی)

شان اُن کی سوچیے اور سوچ میں کھو جائیے

نعت کا دل میں خیال آئے تو چپ ہوجائیے

(خورشیدرضوی)

اُویسی نسبتیں دُوری میں بھی سرشار رکھتی ہیں

کہیں پر بھی رہیں سرکار کی خدمت میں رہتے ہیں

(ریاض مجید)

کتنی صبحیں ظہور کرتا ہے

جاگنا رات بھر مدینے میں

(عطاءالحق قاسمی)

ہم بھی آپ کی امت ہیں ، ہم بھی آپ سے بیعت ہیں

اس خوش اقبالی پر اتنا کم ہے جتنا ناز کریں

(تحسین فراقی)

نعتِ محبوبِ خدا لب پہ مرے آئی ہے

میں نے لکھی نہیں سرکار نے لکھوائی ہے

(انورکیف)

آنکھوں میں اُتر آئے کوئی خواب کا منظر

اور خواب بھی ایسا کہ نہ دیکھا نہ سنا ہو

(عباس رضوی)

مجھے اذن دے یہ عقیدتیں میں جبینِ دہر پہ لکھ سکوں

تری روشنی میں سفر کریں سبھی قافلے مہ و سال کے

(محمدفیروزشاہ)

حضوری کی تمنّا، حاضری کی خواہش، اپنے فردِ حیات پر ندامت کا احساس، خود احتسابی کا رویّہ، دُنیا میں دست گیری اور آخرت میں شفاعت کی آرزو کے مضامین نعت کی روایت میں آغاز ہی سے ملتے ہیں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اہلِ نظر نے احساس کے ان رنگوں کو اردو سے قبل عربی اور فارسی شاعری کی نعتیہ روایت میں بھی دیکھا ہے۔ اردو نعت میں کیفیتِ دل کے یہ پہلو دورِ اوّل سے چلے آتے ہیں اور اب تک کسی نہ کسی صورت مضامینِ نعت میں اظہار کی راہ پاتے رہتے ہیں لیکن توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ عشقِ رسول میں دھڑکتے دلوں کا یہ آہنگ اب بھی جب کسی گہرے باطنی تجربے کی صورت میں ابھرتا ہے تو ایک الگ طرح کی اُمنگ اور ایک انوکھی ترنگ کو جگاتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ قاری محسوس کرتا ہے کہ بات سامنے کی ہے اور سنی ہوئی بھی ہے، لیکن ہر نئے اظہار میں شاعر کی وارفتگی نے اسے پہلے انفرادی کیفیت کے طور پر نکھارا اور پھر تہذیب کے اجتماعی مافی الضمیر کے اعلامیے میں منقلب کرکے پیش کردیا۔ نعت کا یہ قرینہ اپنی ہی ایک دل کشی اور اپنا ہی ایک اثر رکھتا ہے۔ ذرا دیکھیے:

نخلِ صحرا کی طرح خشک ہوں ، وہ ابرِ کرم

مجھ پہ برسے تو مجھے برگ و ثمر مل جائے

(سلیم احمد)

ایک ہی اشکِ ندامت ہے بہت

بس اسی زادِ سفر سے چلیے

(تابش دہلوی)

نئے لہجے میں بہ صد عجز و ندامت لکھوں

صرف اشکوں کی زباں میں تری مدحت لکھوں

(سرشارصدیقی)

کام بھی کوئی اُس طرح کا ظفرؔ

نام تو لے لیا محمد کا

(ظفراقبال)

نکل رہی ہے پھر اک بار حاضری کی سبیل

سو کچھ دنوں سے دل اپنی ہوا میں رہتا ہے

(افتخارعارف)

اے سیّدِ سادات عنایت کی نظر ہو

یہ عہدِ ہوس ڈوب چلا ظلمتِ شرمیں

در پیش ہے بے سمت مسافت کی اذیّت

اس دور کا انسان ہے دانش کے بھنور میں

(انورمسعود)

اسی دہلیز پہ بیٹھا رہے میرا بڑھاپا

انھیں کوچوں میں گزرے میرے بچوں کی جوانی

(محمداظہارالحق)

جو مدینے کے سفر میں کھو گیا

اس مسافر کا پتا ہی اور ہے

(شاہدہ حسن)

حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے

حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہوجائے

(صبیح رحمانی)

اوراقِ گزشتہ میں ایک مقام پر عرض کیا تھا کہ نعت کا مطالعہ کسی بھی موضوع کو پیشِ نظر رکھ کر یا کسی بھی عنوان کے تحت کیا جائے، اسے جامعیت کے ساتھ ایک مضمون میں تو کیا، پوری کتاب کی ضخامت میں بھی سمیٹ لینا آسان نہیں۔ کم سے کم راقم الحروف تو تجربے کی صداقتوں کے ساتھ اسی احساس سے دوچار ہے۔ خیر، سچ پوچھیے تو یہ وہم اس مضمون کے آغاز میں بھی دل کو نہیں تھا کہ مدحتِ رسول کے کسی نکتے کو اس تحریر میں بہ تمام و کمال پیش کردیا جائے گا۔ محض ایک بات ذہن میں تھی کہ ہماری ادبی و شعری تہذیب نے عشقِ رسول کے مبدا سے جو فیض پایا اور جو اثر قبول کیا ہے، اسے سادہ لفظوں میں جس طور ممکن ہو بیان کیا جائےحقیقت یہ ہے کہ اس مرحلے پر آکر بیان کرنے کی بات بھی سراسر دعویٰ معلوم ہورہی ہے۔ اس لیے کہ یہ کام اپنے برتے پر بھلا کیوں کر ہوسکتا ہے۔ یہ تو اصل میں توفیقِ ایزدی کا معاملہ ہے کہ ایک خیال، ایک بات دل میں آگئی اور پھر اپنے تئیں اُس کو سمجھنے اور قابلِ فہم بنانے کی کوشش نے اس مضمون کی صورت اختیار کرلی۔ یہ بابِ کرم ہے سو اس کی جانب نگاہ کا اٹھ جانا ہی فیض یابی کا آغاز ثابت ہوتا ہے۔ یہ مضمون اسی حقیقت کا ثبوت ہے۔

آخر میں بس یہ عرض کرنا ہے کہ اردو زبان و ادب کی تہذیب کا سب سے بلیغ، مؤثر اور ارفع سطح پر اظہار غزل کے اسلوب میں ہوا ہے۔ عشق، وابستگی، جذب و شوق، سرشاری، مہجوری، نسبت، افتخار، انبساط، ذوقِ بیاں، عرضِ حال غزل کے جتنے قرینے ہیں، انھیں مجاز کی سطح سے اٹھا کر حقیقت کے درجے میں دیکھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ غزل اور نعت میں عجب امتزاج اور ارتباط پایا جاتا ہے۔ عشقِ رسول کی ہماری تہذیب کے اس کنایے (غزل) پر ایسی چُھوٹ پڑتی ہے کہ احساس کے منطقے اور اظہار کے خطّے دور تک مہکتے اور جگمگاتے محسوس ہوتے ہیں۔ غزل نے مجاز (کے باب میں جذباتی کیفیات) کا اور نعت نے حقیقت (کے باب میں روحانی احساسات) کا جس طرح احاطہ کیا ہے، وہ دونوں کی اپنی اپنی کامیابی کا ثبوت تو ہے ہی، لیکن ساتھ ہی اس تہذیب کا اختصاص بھی ہے کہ جو اپنے افراد کی زندگی میں فکر و احساس کے دونوں رُخ منور رکھتی ہے۔ غزل نے ہمارے دل کی دھڑکنوں کو گنا ہے تو نعت نے ہماری روح کے وجد آفریں نغمے سے انھیں ہم آہنگ کیا ہے۔ اس لیے کہ عشقِ رسول ہمارے دل کی آواز اور ہماری روح کی پکار ہے۔ اسی صدا کا اُجالا ہماری تہذیب، زبان، ادب، سماج، فکر اور دل کے سارے گوشوں کو منور رکھتا ہے۔

اب چند باتیں ’’نعت رنگ‘‘ کی بابت۔

’’نعت رنگ‘‘ کا یہ پچیس واں شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ محض مقداری زاویے سے دیکھا جائے تو کسی ادبی و فکری سلسلے کے لیے اشاعت کے پچّیس سنگ ہائے میل گزار آنا بجائے خود ایک سفر طے کرکے اعتبار کی منزل میں داخل ہونے کے مترادف ہوتا ہے۔ اعتبار کی یہ منزل اُنھی رہ نوردانِ شوق کو نصیب ہوتی ہے، جن کا جذبہ قائم اور لگن برقرار رہتی ہے۔ اس لحاظ سے ’’نعت رنگ‘‘ کا یہ سفر اُس کی کامیابی اور سرخ رُوئی پر دلالت کرتا ہے اور اس کتابی سلسلے کے مرتب صبیح رحمانی اور اُن کے ساتھ ایسے سب لوگوں کے لیے جو نعت اور اس کے مطالعات کو اپنی حیاتِ ذہنی و روحانی کا لازمی تقاضا جانتے ہیں، طمانیتِ قلب کا بجا طور پر باعث ہے۔

تاہم ’’نعت رنگ‘‘ کا معاملہ محض اس کی مقداری صورتِ حال کا عکاس نہیں ہے، بلکہ اس کے سفر پر اگر محض طائرانہ نگاہ بھی ڈالی جائے تو اس حقیقت کے اعتراف میں کوئی شے تأمل کا موجب نہیں ہوتی کہ اس کتابی سلسلے نے ہماری علمی و ادبی دنیا میں اپنی نوعیت کا ایک مختلف کردار ادا کیا ہے۔ یہ کردار نعت کو اُس کی علمی، فکری، ادبی اور تنقیدی بنیادوں پر مستحکم کرنے سے عبارت ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے یہاں نعت کو ایک صنفِ ادب کی حیثیت سے دیکھنے اور پڑھنے کا رُجحان اس جریدے کے آغاز سے پہلے، بلکہ کئی عشرے پہلے سے پایا جاتا ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جانا چاہیے کہ محض رُبع صدی پہلے تک یہ رُجحان نہایت محدود تھا۔ نعت کہنا یا لکھنا ہی نہیں، بلکہ اُس کو سننا یا پڑھنا بھی عمومی طور سے اس کی ادبی اور جمالیاتی قدر سے قطعِ نظر کرتے ہوئے بس ایک مذہبی معاملہ سمجھا جاتا تھا، جس کا مقصد صرف اور صرف حصولِ ثواب تھا۔ معدودے چند ہی لوگ پہلے ایسے گزرے ہیں جنھیں نعت کو ایک ادبی جمالیات کی حامل صنف کے طور پر دیکھنے کی ضرورت یا خواہش میسر آئی۔ یہی وجہ ہے کہ دو تین دہائی پہلے تک کی تنقید میں ہمیں نعت کے مطالعات آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ملتےاور جو ملتے ہیں اُن میں خال خال ہی ایسے ہوں گے جنھیں ادب و نقد کے سنجیدہ معیارات سے واقعی کوئی سنجیدہ سروکار رہا ہو۔ جب کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ نعت کی ادبی حیثیت نہ صرف مسلمہ ہے، بلکہ اس باب میں اتنا سرمایۂ فکر و نظر بھی بہم پہنچ چکا کہ اب نفی تو دُور کی بات اس سے اغماز تک برتنا ممکن نہیں۔

نعت کو ایک رسمی عقیدت کے طاق سے اُتار کر اس کے حقیقی احترام کے ساتھ ادب و فن کی کسوٹی تک پہنچانے میں دوسرے افراد، رسائل یا اداروں کا بھی دخل ہوگا، لیکن اس سچائی کو کشادہ قلبی اور خندہ پیشانی کے ساتھ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ اس معاملے میں ’’نعت رنگ‘‘ اور اس کے مرتب صبیح رحمانی کا نمایاں اور قابلِ ستائش حصّہ رہا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ نعت کو آج ہم ادب کے اساسی معیارات کے ساتھ اور تہذیبی قدر کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں تو اس میں ’’نعت رنگ‘‘ نے بڑھ چڑھ کر اور مؤثر کردار ادا کیا ہے تو اعترافِ امر ہوگا۔ بحمداللہ ’’نعت رنگ‘‘ کی کارگزاری کو دیکھنے کا موقع مجھے اس کے بالکل ابتدائی شماروں سے ملا ہے، اس لیے یہ بات ذمے داری اور سچائی سے کہی جاسکتی ہے کہ نعت کے مطالعے کو ایک ادبی اور تنقیدی ڈسکورس کی سطح تک لانے میں ’’نعت رنگ‘‘ سب سے نمایاں رہا ہے۔ اس کا سبب بلاشبہ اس کے مرتب کی والہانہ جستجو اور اس کے ساتھ ادب کے مرکزی دھارے کے معتبر قلم کاروں کا پُرخلوص تعاون ہے۔ تاہم اس موقعے پر یہ حقیقت بھی ملحوظِ نظر رہنی چاہیے کہ آج ہم جہاں نعت اور تنقیدِ نعت کو دیکھ رہے ہیں، یہ اس کی آخری منزل بہرحال نہیں ہے۔ اس شعبے میں اب بھی کام کی اور خصوصاً بڑے کام کی بہت گنجائش ہے۔ خدائے بزرگ و برتر سے دُعا ہے کہ ’’نعت رنگ‘‘ کا یہ سفر جاری و ساری رہے اور اسے علم و ادب کی دُنیا میں اخلاصِ دل کے ساتھ کام کرنے والے بڑے ادیبوں، شاعروں، نقادوں اور عشقِ رسول کی نعمت سے سرفراز لوگوں کی معاونت اسی طرح نصیب رہے اور نعت کا یہ قافلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

نعت رنگ | کاروان ِ نعت | فروغ نعت