آپ «نعت کا ایک باکمال شاعر--سید وحید القادری عارف ۔ عزیزؔ بلگامی» میں ترمیم کر رہے ہیں

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

انتباہ: آپ ویکیپیڈیا میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔ لہذا اگر آپ اس صفحہ میں کوئی ترمیم کرتے ہیں تو آپکا آئی پی ایڈریس (IP) اس صفحہ کے تاریخچہ ترمیم میں محفوظ ہوجائے گا۔ اگر آپ لاگ ان ہوتے ہیں یا کھاتہ نہ ہونے کی صورت میں کھاتہ بنا لیتے ہیں تو تو آپ کی ترامیم آپ کے صارف نام سے محفوظ ہوگی، جنھیں آپ کسی بھی وقت ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

اس ترمیم کو واپس پھیرا جا سکتا ہے۔ براہ کرم ذیل میں موجود موازنہ ملاحظہ فرمائیں اور یقین کر لیں کہ اس موازنے میں موجود فرق ہی آپ کا مقصود ہے۔ اس کے بعد تبدیلیوں کو شائع کر دیں، ترمیم واپس پھیر دی جائے گی۔

تازہ ترین نسخہ آپ کی تحریر
سطر 10: سطر 10:
شاعروں کی فن کارانہ زندگی میں جس طرح نعت گوئی ایک کٹھن مرحلہ ہے،کہ ذرا سی غفلت شاعر کی اُخروی زندگی کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے، ٹھیک اُسی طرح، ایک تبصرہ نگار کے لیے بھی کسی نعت گو شاعر کی نعت گوئی پر اِظہار خیال بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا، کہ شاعرِنعت کے انتخاب، اُس کی ہمت افزائی یا تنقیداور اُس کی توصیف یا سرزنش وغیرہ جیسے اُمور میں کسی قسم کا سہو، ناانصافی یا کوتاہی خود تبصرہ نگار کو خطا کاری، ایمان کے زیاں اوراُس کی عقبیٰ کی رُوسیاہی کی سرحد تک اُسے لے جا سکتی ہے۔اِس لیے جب بھی ہمارے کندھوں پرکسی شاعرِ نعت پر کچھ کہنے کی ذمہ داری آن پڑتی ہے توہم کچھ زیادہ ہی چوکنّا ہو جاتے ہیں۔ یا تو ایسی کسی ذمہ داری سے ہم دامن کش ہو جاتے ہیں یامستحق شاعرکے حق میں خصوصی دعاﺅں کے ساتھ ضروری ہمّت جُٹاکر قلم تھام لیتے ہیں۔اِس وقت ہم عزم و ہمت کے اِسی مرحلہء شوق سے گزر رہے ہیں اور دکن کے ایک عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، شاعرِ نعت محترم سید وحید القادری عارف صاحب کی نعت گوئی پر اِظہارِ خیال کی ہمّت جٹانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ نہایت احتیاط اور گہرے احساس ذمہ داری کے ساتھ کچھ باتیں عرض کرکے خود بھی فارغ ہوجانا چاہتے ہیں اور اپنے قاری کو بھی فراغت بخش دینا چاہتے ہیں، تاکہ فرض کی ادائیگی کے ساتھ، تبصرہ نگاری کے تکلفّات و تصنع سے جلد از جلد ہم سب کو خلاصی مل سکے اور نوکِ قلم کی کسی ممکنہ خطا سے دامن کو بچایا جاسکے۔
شاعروں کی فن کارانہ زندگی میں جس طرح نعت گوئی ایک کٹھن مرحلہ ہے،کہ ذرا سی غفلت شاعر کی اُخروی زندگی کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے، ٹھیک اُسی طرح، ایک تبصرہ نگار کے لیے بھی کسی نعت گو شاعر کی نعت گوئی پر اِظہار خیال بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا، کہ شاعرِنعت کے انتخاب، اُس کی ہمت افزائی یا تنقیداور اُس کی توصیف یا سرزنش وغیرہ جیسے اُمور میں کسی قسم کا سہو، ناانصافی یا کوتاہی خود تبصرہ نگار کو خطا کاری، ایمان کے زیاں اوراُس کی عقبیٰ کی رُوسیاہی کی سرحد تک اُسے لے جا سکتی ہے۔اِس لیے جب بھی ہمارے کندھوں پرکسی شاعرِ نعت پر کچھ کہنے کی ذمہ داری آن پڑتی ہے توہم کچھ زیادہ ہی چوکنّا ہو جاتے ہیں۔ یا تو ایسی کسی ذمہ داری سے ہم دامن کش ہو جاتے ہیں یامستحق شاعرکے حق میں خصوصی دعاﺅں کے ساتھ ضروری ہمّت جُٹاکر قلم تھام لیتے ہیں۔اِس وقت ہم عزم و ہمت کے اِسی مرحلہء شوق سے گزر رہے ہیں اور دکن کے ایک عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، شاعرِ نعت محترم سید وحید القادری عارف صاحب کی نعت گوئی پر اِظہارِ خیال کی ہمّت جٹانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ نہایت احتیاط اور گہرے احساس ذمہ داری کے ساتھ کچھ باتیں عرض کرکے خود بھی فارغ ہوجانا چاہتے ہیں اور اپنے قاری کو بھی فراغت بخش دینا چاہتے ہیں، تاکہ فرض کی ادائیگی کے ساتھ، تبصرہ نگاری کے تکلفّات و تصنع سے جلد از جلد ہم سب کو خلاصی مل سکے اور نوکِ قلم کی کسی ممکنہ خطا سے دامن کو بچایا جاسکے۔


فیس بک کے بازار میں....جہاں فکر و نظر کی دکان کھولنے کے لیے کسی لائسنس کی ضرورت نہیں پڑتی، آج کل.... ناقص و عمدہ....مناسب و غیرمناسب.... خام و پختہ مال دھڑلے سے بک رہا ہے۔بعض مستثنیات کے ساتھ یہاں حسن بک رہا ہے،حسین بک رہے ہیں، فحاشی کا بازار گرم ہے،کھوٹے سکے خوب چلائے جارہے ہیں.... دور دورتک اُمید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی کہ کہیں پر رُکیں اور کسی پر نظر ٹک جائے۔اہلِ بازار انگشت بدنداں ہیں،خریدارمحوِ حیرت ہیں کہ کہاں سے خالص مال دستیاب ہو سکے گا، ہو گا بھی کہ نہیں۔ہر طرف فیض یابی کے سوتے خشک نظر آتے ہیں۔لیکن، تاریکی کے اِس ماحول میں ایسابھی نہیں کہیں کوئی اُجالا موجود ہی نہیں....ہاں، بے شک موجود ہے۔ فکر و نظر کے اِس گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی کچھ چراغ ضرور ٹمٹماتے نظر آتے ہیں ، جن کی لو بظاہرمدھم ہے لیکن ہماری نظر میں یہ کسی سورج سے کم نہیں۔اِن چراغوں میں محترم سید وحید القادری عارف صاحب کی نعت گوئی کا چراغ ابھی جل رہا ہے اور جس شان سے عقیدت کے گہروہ مسلسل لُٹا رہے ہیں،اس سے تو یہی اُمید بندھتی ہے کہ یہ چراغ نہ صرف فروزاں رہے گا بلکہ اپنے ماحول کو پر نور بنانے تک دم نہیں لے گا۔
فیس بک کے بازار میں....جہاں فکر و نظر کی دکان کھولنے کے لیے کسی لائسنس کی ضرورت نہیں پڑتی، آج کل.... ناقص و عمدہ....مناسب و غیر مناسب.... خام و پختہ مال دھڑلے سے بک رہا ہے۔بعض مستثنیات کے ساتھ یہاں حسن بک رہا ہے،حسین بک رہے ہیں، فحاشی کا بازار گرم ہے،کھوٹے سکے خوب چلائے جارہے ہیں.... دور دورتک اُمید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی کہ کہیں پر رُکیں اور کسی پر نظر ٹک جائے۔اہلِ بازار انگشت بدنداں ہیں،خریدارمحوِ حیرت ہیں کہ کہاں سے خالص مال دستیاب ہو سکے گا، ہو گا بھی کہ نہیں۔ہر طرف فیض یابی کے سوتے خشک نظر آتے ہیں۔لیکن، تاریکی کے اِس ماحول میں ایسابھی نہیں کہیں کوئی اُجالا موجود ہی نہیں....ہاں، بے شک موجود ہے۔ فکر و نظر کے اِس گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی کچھ چراغ ضرور ٹمٹماتے نظر آتے ہیں ، جن کی لو بظاہرمدھم ہے لیکن ہماری نظر میں یہ کسی سورج سے کم نہیں۔اِن چراغوں میں محترم سید وحید القادری عارف صاحب کی نعت گوئی کا چراغ ابھی جل رہا ہے اور جس شان سے عقیدت کے گہروہ مسلسل لُٹا رہے ہیں،اس سے تو یہی اُمید بندھتی ہے کہ یہ چراغ نہ صرف فروزاں رہے گا بلکہ اپنے ماحول کو پر نور بنانے تک دم نہیں لے گا۔


میرے اِن احساسات کو جن شعروں نے مہمیزعطا کی ہے وہ اُن کے درجِ ذیل شعر ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مدحتِ رسول کے میدا ن کا یہ شہسوار کس طرح کشاکش ِ حیات کی جنگاہ میں اپنی فن کارانہ جوانمردی کے جوہر دکھاتا ہے، مگرجو بالآخر عقیدت کے پھول ہی ثابت ہوتے ہیں۔نعت نبی کے حوالے سے اپنے قاری کو عقیدت کے دائرے سے نکال کر اطاعت کے دائرے میں لانے کے لیے عارف بھائی نے شعوری اور دانستہ کوششیں کی ہیں۔ گالیوں اور دشنام طرازی کے جواب میں اپنے دشمن کو دعاﺅ ں سے نوازنا حضور پر نور کے اُسوے کا حصہ ہے جسے ہم سب بھلا بیٹھے ہیں:
میرے اِن احساسات کو جن شعروں نے مہمیزعطا کی ہے وہ اُن کے درجِ ذیل شعر ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مدحتِ رسول کے میدا ن کا یہ شہسوار کس طرح کشاکش ِ حیات کی جنگاہ میں اپنی فن کارانہ جوانمردی کے جوہر دکھاتا ہے، مگرجو بالآخر عقیدت کے پھول ہی ثابت ہوتے ہیں۔نعت نبی کے حوالے سے اپنے قاری کو عقیدت کے دائرے سے نکال کر اطاعت کے دائرے میں لانے کے لیے عارف بھائی نے شعوری اور دانستہ کوششیں کی ہیں۔ گالیوں اور دشنام طرازی کے جواب میں اپنے دشمن کو دعاﺅ ں سے نوازنا حضور پر نور کے اُسوے کا حصہ ہے جسے ہم سب بھلا بیٹھے ہیں:
سطر 35: سطر 35:


سب جھوم اُٹھیں ایسی اک نعت سنا دینا
سب جھوم اُٹھیں ایسی اک نعت سنا دینا


یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ جس کتاب نے آدمی کو جینا سکھایا ، نعت کہنے والے اُسی”الکتاب“ کو بھلا بیٹھے ہیں اور اپنی دانست میں سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے نعت کا حق ادا کر دیا۔ لیکن عارف صاحب اپنے نعتیہ شعروں میں کتابِ ہدایت سے استفادے کاقرینہ بھی لے آتے ہیں:
یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ جس کتاب نے آدمی کو جینا سکھایا ، نعت کہنے والے اُسی”الکتاب“ کو بھلا بیٹھے ہیں اور اپنی دانست میں سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے نعت کا حق ادا کر دیا۔ لیکن عارف صاحب اپنے نعتیہ شعروں میں کتابِ ہدایت سے استفادے کاقرینہ بھی لے آتے ہیں:
براہ کرم اس بات کا خیال رکھیں کہ نعت کائنات میں آپ کی جانب سے کی جانے والی تمام ترمیموں میں دیگر صارفین بھی حذف و اضافہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی تحریر کے ساتھ اس قسم کے سلوک کے روادار نہیں تو براہ کرم اسے یہاں شائع نہ کریں۔
نیز اس تحریر کو شائع کرتے وقت آپ ہم سے یہ وعدہ بھی کر رہے ہیں کہ اسے آپ نے خود لکھا ہے یا اسے دائرہ عام یا کسی آزاد ماخذ سے یہاں نقل کر رہے ہیں (تفصیلات کے لیے نعت کائنات:حقوق تصانیف ملاحظہ فرمائیں)۔ براہ کرم اجازت کے بغیر کسی کاپی رائٹ شدہ مواد کو یہاں شائع نہ کریں۔
منسوخ معاونت برائے ترمیم (نئی ونڈو میں کھولیں)

اِس صفحہ پر مستعمل سانچہ حسب ذیل ہے: