طلوع ِ فجر ۔ ریاض حسین چودھری

"نعت کائنات" سے
This is the latest revision of this page; it has no approved revision.
نظرثانی بتاریخ 11:47, 23 اکتوبر 2019 از 72.255.7.133 (تبادلۂ خیال) (نیا صفحہ: ’’طلوعِ فجر‘‘ 12؍ ربیع الاوّل 1435ھ بمطابق جنوری 2014ء: ’’حاجی محمد رفیق الرفاعی کے نام، جن کی انگلی...)

(فرق) ←پرانی تدوین | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

’’طلوعِ فجر‘‘ 12؍ ربیع الاوّل 1435ھ بمطابق جنوری 2014ء: ’’حاجی محمد رفیق الرفاعی کے نام، جن کی انگلی تھام کر میں نے طوافِ کعبہ مکمل کیا۔‘‘ ریاض حسین چودھری نے آقائے محتشم و مکرم کے یومِ ولادت کے حوالے سے 500 بنود پر مشتمل یہ طویل نعتیہ نظم کہی ہے۔ ہر بند چھ چھ اشعار کا خلاصہ، ماحصل اور تتمّہ منظوم کیا ہے۔ریاض نے اس طویل نعتیہ نظم میں بھی اپنی فکر کی جولانی اور اپنی دیرینہ ہنرمندی کے جوہر منظوم کیے ہیں۔عربی ادب کے بالغ نظر ادیب و نقاد اور ’’برصغیر پاک و ہند میں عربی نعتیہ شاعری‘‘کے موضوع پر مقالہ لکھنے والے محقق پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی طلوعِ فجر کے ’’پیش لفظ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ریاضؔ حسین چودھری ایک کہنہ مشق شاعر ہیں، متعدد مجموعے اُن کی نعت شناسی کا ثبوت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاض حسین چودھری کے شب و روز کا جائزہ ان کی یک رنگی کی شہادت ہے۔ یہ طویل نظم جو نعتیہ ادب میں ممتاز مقام لے گی، شاعرِ حق نما کے فطری میلان کا نتیجہ ہے۔‘‘ زاہد بخاری نے اپنے فلیپ میں ریاضؔ حسین چودھری کی دیگر خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار بھی کیا ہے۔ ’’طلوعِ فجر عشق سرکار کی ایک لازوال شعری دستاویز ہے جس کا ایک ایک مصرع محبت رسول کی خوشبوئوں سے مہک رہا ہے۔ شاعر نے کہیں بھی ابلاغ کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔‘‘