"سر تا بقدم ہے تن سلطان ِ زمن پھول" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(نیا صفحہ: شاعر: امام احمد رضا خان بریلوی کتاب : حدائق ِ بخش === نعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ===...)
 
 
(ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 8: سطر 8:
سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول


لب پھول، دہن، پھول، ذقن پھول، بدن پھول
لب پھول، دہن پھول، ذقن پھول، بدن پھول




صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول
صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول


اس غنچہ ءِ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بن پھول
اس غنچۂ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بن پھول




سطر 38: سطر 38:
دندان و لب و زلف و رُخِ شہ کے فدائی
دندان و لب و زلف و رُخِ شہ کے فدائی


ہیں دُرِّ عدن لعل یمن مشک ختن پھول
ہیں دُرِّ عدن، لعلِ یمن، مشکِ خُتن پھول




سطر 53: سطر 53:
دل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخنِ پا کا
دل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخنِ پا کا


اتنا بھی مہِ نو پہ نہ اے طرخِ کہن پھول
اتنا بھی مہِ نو پہ نہ اے چرخِ کہن پھول




دل کھول کے خون رو لے غمِ عارضِ شہ میں
دل کھول کے خون رو لے غمِ عارضِ شہ میں


نکلے تو کہیں حسرتِ خوں نا بہ شدن ھپول
نکلے تو کہیں حسرتِ خوں نا بہ شدن پھول




سطر 83: سطر 83:
کیا بات رضا اس چمنستانِ کرم کی
کیا بات رضا اس چمنستانِ کرم کی


[[زہرا ]]ہے کلی جس میں [[حسین]] اور [[حسن]] پھول
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول

حالیہ نسخہ بمطابق 14:03، 22 ستمبر 2022ء

شاعر: امام احمد رضا خان بریلوی

کتاب : حدائق ِ بخش

نعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول

لب پھول، دہن پھول، ذقن پھول، بدن پھول


صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول

اس غنچۂ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بن پھول


تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا

تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ محن پھول


واللہ جو مل جاے مرے گل کا پسینہ

مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول


دل بستہ و خوں گشتہ نہ خوشبو نہ لطافت

کیوں غنچہ کہوں ہے مرے آقا کا دہن پھول


شب یاد تھی کن دانتوں کی شبنم کہ دمِ صبح

شوخانِ بہاری کے جڑاﺅ ہیں کرن پھول


دندان و لب و زلف و رُخِ شہ کے فدائی

ہیں دُرِّ عدن، لعلِ یمن، مشکِ خُتن پھول


بو ہو کہ نہاں ہو گئے تابِ رُخِ شہ میں

لو بن گئے ہیں اب تو حسینوں کا دہن پھول


ہوں بارِ گنہ سے نہ خجل دوشِ عزیزاں

للہ مری نعش کر اے جان چمن پھول


دل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخنِ پا کا

اتنا بھی مہِ نو پہ نہ اے چرخِ کہن پھول


دل کھول کے خون رو لے غمِ عارضِ شہ میں

نکلے تو کہیں حسرتِ خوں نا بہ شدن پھول


کیا غازہ مَلا گردِ مدینہ کا جو ہے آج

نکھرے ہوئے جوبن میں قیامت کی پھبن پھول


گرمی یہ قیامت ہے کہ کانٹے ہیں زباں پر

بلبل کو بھی اے ساقی صہبا و لبن پھول


ہے کون کہ گریہ کرے یا فاتحہ کو آئے

بیکس کے اٹھائے ترے رحمت کے بھرن پھول


دل غم تجھے گھیرے ہیں خدا تجھ کو وہ چمکائے

سورج ترے خرمن کو بنے تیری کرن پھول


کیا بات رضا اس چمنستانِ کرم کی

زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول