آپ «شکیل بدایونی» میں ترمیم کر رہے ہیں

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

انتباہ: آپ ویکیپیڈیا میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔ لہذا اگر آپ اس صفحہ میں کوئی ترمیم کرتے ہیں تو آپکا آئی پی ایڈریس (IP) اس صفحہ کے تاریخچہ ترمیم میں محفوظ ہوجائے گا۔ اگر آپ لاگ ان ہوتے ہیں یا کھاتہ نہ ہونے کی صورت میں کھاتہ بنا لیتے ہیں تو تو آپ کی ترامیم آپ کے صارف نام سے محفوظ ہوگی، جنھیں آپ کسی بھی وقت ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

اس ترمیم کو واپس پھیرا جا سکتا ہے۔ براہ کرم ذیل میں موجود موازنہ ملاحظہ فرمائیں اور یقین کر لیں کہ اس موازنے میں موجود فرق ہی آپ کا مقصود ہے۔ اس کے بعد تبدیلیوں کو شائع کر دیں، ترمیم واپس پھیر دی جائے گی۔

تازہ ترین نسخہ آپ کی تحریر
سطر 5: سطر 5:
[[زمرہ: شعراء]]
[[زمرہ: شعراء]]
[[زمرہ: نعت گو شعراء]]
[[زمرہ: نعت گو شعراء]]
[[زمرہ: فلم انڈسٹری اور نعت ]]




سطر 17: سطر 16:
شکیل بدایونی کا انتخاب کلام
شکیل بدایونی کا انتخاب کلام
( رحمان حفیظ)
( رحمان حفیظ)
  شکیل بدایونی بچپن سے موزوں طبع تھے، [[جگر مراد آبادی]] کے توسط سے 1944 میں مو سیقار نوشاد کی فلم " درد" کے گیت لکھے اور پھر زندگی اسی کام میں گزار دی۔ساتھ ساتھ غزل اور دیگر اصناف سخن میں طبع آزمائی جاری رکھی تاہم ترقی پسند تحریک کے اثرات کےباعث ادبی دنیا میں انہیں کوئی خاص مقام نہیں مل پایا لیکن آج بھی وہ اپنی نسل کے مقبول ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔" جب پیار کیا تو ڈرنا کیا" اور " چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو" جیسے نغمات انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ہندوستانی حکومت نے انہیں گیت کارِ اعظم کے خطاب سے بھی نوازا۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی 1969 میں لکھی جو 2014 میں شائع ہوئی ۔۔  
  شکیل بدایونی بچپن سے موزوں طبع تھے، [[جگر مرادآبادی]] کے توسط سے 1944 میں مو سیقار نوشاد کی فلم " درد" کے گیت لکھے اور پھر زندگی اسی کام میں گزار دی۔ساتھ ساتھ غزل اور دیگر اصناف سخن میں طبع آزمائی جاری رکھی تاہم ترقی پسند تحریک کے اثرات کےباعث ادبی دنیا میں انہیں کوئی خاص مقام نہیں مل پایا لیکن آج بھی وہ اپنی نسل کے مقبول ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔" جب پیار کیا تو ڈرنا کیا" اور " چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو" جیسے نغمات انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ہندوستانی حکومت نے انہیں گیت کارِ اعظم کے خطاب سے بھی نوازا۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی 1969 میں لکھی جو 2014 میں شائع ہوئی ۔۔  


ان کے 5 شعری مجموعے نغمہ فردوس ، صنم و حرم ، رعنائیاں ، رنگینیاں ، شبستاں شائع ہوئے اور کلیات شکیل کی اشاعت بھی ان کی زندگی میں ہو گئی تھی ۔ <ref> [https://www.facebook.com/groups/inhiraaf/permalink/2221068944586796/ انحراف ادبی فورم ] </ref>
ان کے 5 شعری مجموعے نغمہ فردوس ، صنم و حرم ، رعنائیاں ، رنگینیاں ، شبستاں شائع ہوئے اور کلیات شکیل کی اشاعت بھی ان کی زندگی میں ہو گئی تھی ۔ بد قسمتی سے اب ان کی قبرکا کوئی نشان باقی نہیں ہے ۔ <ref> [https://www.facebook.com/groups/inhiraaf/permalink/2221068944586796/ انحراف ادبی فورم ] </ref>
</blockquote>
</blockquote>


سطر 29: سطر 28:
ان کی سب مشہور نعت "[[نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا ۔ شکیل بدایونی | نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا ]] ہے ۔ ادبی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والا شاید کوئی ایسا شخص ہو گا جو اس نعت مبارکہ سے واقف نہ ہو۔ یہی حال اس کی دھن بنانے والے موسیقارکا ہے۔نوشاد جو موسیقار اعظم کہلاتے ہیں، کی شہرت بھی اس قدر ہے کہ ان کے بارے میں کچھ لکھنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ رہی گانے والی ہستی جس کو لوگ [[لتا منگیشکر | لت ]]ا کے نام سے جانتے ہیں۔ تو اس نے بھی اس نعت کو گا کر حق گائیکی ادا کر دیا اور شاید اسی نعت کا صدقہ ہے کہ شکیل اور نوشاد کے علاوہ لتا ءکو بھی جو ہندو مذہب کی پیروکارہے، قدرت نے دنیاوی نعمتوں سے نوازا۔  
ان کی سب مشہور نعت "[[نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا ۔ شکیل بدایونی | نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا ]] ہے ۔ ادبی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والا شاید کوئی ایسا شخص ہو گا جو اس نعت مبارکہ سے واقف نہ ہو۔ یہی حال اس کی دھن بنانے والے موسیقارکا ہے۔نوشاد جو موسیقار اعظم کہلاتے ہیں، کی شہرت بھی اس قدر ہے کہ ان کے بارے میں کچھ لکھنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ رہی گانے والی ہستی جس کو لوگ [[لتا منگیشکر | لت ]]ا کے نام سے جانتے ہیں۔ تو اس نے بھی اس نعت کو گا کر حق گائیکی ادا کر دیا اور شاید اسی نعت کا صدقہ ہے کہ شکیل اور نوشاد کے علاوہ لتا ءکو بھی جو ہندو مذہب کی پیروکارہے، قدرت نے دنیاوی نعمتوں سے نوازا۔  


فلموں میں نعتوں کا استعمال سب سے پہلے شکیل بدیوانی ہی نے کیا تھا۔ انہوں نے اپنی سب سے پہلی فلم ”درد“ میں بھی بڑی خوبصورت نعت تھی۔جس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔اس کے بول تھے ” بیچ بھنورمیں آج پھنسا ہے دل کا سفینہ شاہ مدینہ“ یہ نعت ثریا نے نوشاد کی موسیقی میں گائی تھی۔ <ref> [ http://dailykhabrain.com.pk/2017/04/19/41222/ روزنامہ خبریں ] </ref>
فلموں میں نعتوں کا استعمال سب سے پہلے شکیل بدیوانی ہی نے کیا تھا۔ انہوں نے اپنی فلم سب سے پہلی فلم ”درد“ میں بھی بڑی خوبصورت نعت تھی۔جس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔اس کے بول تھے ” بیچ بھنورمیں آج پھنسا ہے دل کا سفینہ شاہ مدینہ“ یہ نعت ثریا نے نوشاد کی موسیقی میں گائی تھی۔ <ref> [ http://dailykhabrain.com.pk/2017/04/19/41222/ روزنامہ خبریں ] </ref>
 
اور پھر لتا منگیشکر کی گائی ہوئی وہ لازوال نعت جو اس نے ہدایت کار کے آصف کی فلم مغلِ اعظم کے لیے گائی تھی جسے شاعر شکیل بدایونی نے لکھا اور جس کی سحر انگیز دھن موسیقار نوشاد نے بنائی تھی۔ جس کے بول تھے: <ref> [https://www.express.pk/story/834472/ روزنامہ ایکسپریس ] </ref>
 
اے میرے مشکل کشا فریاد ہے فریاد ہے
 
آپ کے ہوتے ہوئے دنیا مری برباد ہے
 
بے کس پہ کرم کیجیے سرکارِ مدینہ
 
گردش میں ہے تقدیر بھنور میں ہے سفینہ
 
یہ نعمت فلم میں مدھوبالا پر فلمائی گئی تھی۔




سطر 47: سطر 34:


* [[نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا ۔ شکیل بدایونی | نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا ]]
* [[نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا ۔ شکیل بدایونی | نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا ]]
* [[ہے دل میں جلوہ تابان مصطفی ۔ شکیل بدایونی | ہے دل میں جلوہ ءِ تابان مصطفی ]]
* [[ہے دل میں جلوہ تابان مصطفی ۔ شکیل بدایونی | ہے دل میں جلوہ ءِ تابان مصطفی ۔ شکیل بدایونی


=== وفات ===
=== وفات ===
براہ کرم اس بات کا خیال رکھیں کہ نعت کائنات میں آپ کی جانب سے کی جانے والی تمام ترمیموں میں دیگر صارفین بھی حذف و اضافہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی تحریر کے ساتھ اس قسم کے سلوک کے روادار نہیں تو براہ کرم اسے یہاں شائع نہ کریں۔
نیز اس تحریر کو شائع کرتے وقت آپ ہم سے یہ وعدہ بھی کر رہے ہیں کہ اسے آپ نے خود لکھا ہے یا اسے دائرہ عام یا کسی آزاد ماخذ سے یہاں نقل کر رہے ہیں (تفصیلات کے لیے نعت کائنات:حقوق تصانیف ملاحظہ فرمائیں)۔ براہ کرم اجازت کے بغیر کسی کاپی رائٹ شدہ مواد کو یہاں شائع نہ کریں۔
منسوخ معاونت برائے ترمیم (نئی ونڈو میں کھولیں)

اِس صفحہ پر مستعمل سانچہ حسب ذیل ہے:

اس صفحہ میں 1 پوشیدہ زمرے شامل ہیں: