قاری اکرام قادری بریلی شریف
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
قبر کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں تب کہیں جاکر ذرا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماب
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے
یہ تو ان بچوں سے پوچھو جن کی مر جاتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیئے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور تڑپ جاتی ہے ماں
دودھ کی صورت میں خون دل پلاکر میری ماں
کتنی ہی راتوں کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں
گھر سے جب پردیس کو جانے لگے نور نظر
تو ہاتھ میں قرآن لیکر در پہ آجاتی ہے ماں
گر مصیبت آپڑے پردیس میں ہم پر اگر
تو آنسوؤں کو پوچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں
ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں
کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں
دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں
شکریہ ہوہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں