فیاض عادل فاروقی

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


فیاض عادل فاروقی ، لندن ، برطانیہ

حمدیہ و نعتیہ شاعری[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

<nowiki>

جو اَشک محمدا کی محبت کی عطا ہے مت روکنا بہنے سے کہ وہ آبِ شفا ہے جو جسم محمدا کی اطاعت میں فدا ہے اُس جسم پہ کب آگ جہنم کی روا ہے جو جان محمدا کی عقیدت میں فنا ہے ہے جان اُسی جاں میں، اُسی جاں کو بقا ہے مومن کو جہاں بھر سے ہیں محبوب یہی تین اصحابِ محمدا ہیں، محمدا ہیں، خدا ہے بے مثل پیمبرؐ سے کرے جو بھی محبت اس کے لئے محشر میں بھی بے مثل صلہ ہے دنیا میں بھی کیفیّتِ فردوس ہے اُس آن جس آن کہ دل حُبِّ محمدا سے بھرا ہے مولا ہمیں اک بار دکھا پھر سے مدینہ سَو بار بھی مانگیں تو یہی ایک دعا ہے اُس مُرسَلِؐ اعظم کی ثنا ہم سے ہو کیسے؟ جس رحمتِؐ عالَم کا ثنا خوان خدا ہے ہر ایک کے بس میں نہیں توصیفِ پیمبرؐ اللہ کی ہے دین، اُسی کی یہ عطا ہے اِس جذب میں اِس کیف میں کہتا ہوں مَیں نعتیں گویا کہ مِرے گرد مدینے کی فضا ہے جو شخص کرے اسوۂ احمدا کی اِطاعت

کچھ حزن نہ کچھ خوف اسے روزِ جزا ہے

عادلؔ یہ زمانے کو پتہ ہے بھی کہ وہ خود عالَم میں محمدا کا پتہ ڈھونڈ رہا ہے


محبوبؐ کی یادوں سے معمور جو سینہ ہے اُس سینے میں جو دل ہے وہ دل بھی مدینہ ہے ہو ذکر ولادت کا، بعثت کا کہ سیرت کا توصیفِ محمدا کا ہر ایک مہینہ ہے طیبہ کی ہواؤں سے دل شاد ہُوا جب سے کم لگتا نگاہوں میں عالم کا خزینہ ہے وہ حُبِّ محمدا سے محروم نہ ہو کیونکر اصحابِ محمدا سے رکھتا جو بھی کینہ ہے رب خالقِ عالم ہے، یہؐ رحمتِ عالم ہیں مولا کی عطاؤں کا یہؐ ذات دفینہ ہے رحمتؐ یہ جہاں بھر کی جس قوم کو ہے حاصل عالَم کی انگوٹھی میں وہ مثلِ نگینہ ہے بیڑے کو لگائے گا اُس پار خدا عادل ملّاح محمدا ہیں، محفوظ سفینہ ہے .............

ایک خواہش تھی جو اَب ادھوری نہیں میرے گھر سے مدینے کی دُوری نہیں دونوں بے مثل ہیں، وہ خدا، یہ نبیؐ جس کی جتنی ہو تعریف پوری نہیں لب پہ ذکر خدا، دل میں یادِ نبیؐ بڑھ کے کام اِس سے کوئی ضروری نہیں پہلے صلِّ علیٰ، بعد صلِّ علیٰ یوں دعا میری کوئی ادھوری نہیں کیا ہے اس کی نماز و درُود و دعا جس کو حاصل ہی دل کی حضوری نہیں اُسوَۂِ مصطفیٰؐ، منشأے کِبرِیا ہرگز اِن دونوں میں کوئی دوری نہیں الفتِ مصطفےؐ، مرضیٔ کبریا ہوں نہ باہم تو منزل بھی پوری نہیں سدرۃُ المُنتہیٰ مُنتہائے مَلک اس سے آگے تب و تابِ نوری نہیں جو ملی اُنؐ کو ’اَدنیٰ‘ سے ’اَوحیٰ‘ تلک ایسی عادلؔ بھی تھی شانِ طوری نہیں ..................


مکہ بھی منوّر ہے، طَیبہ بھی مُعطّر ہے اک حسن کا منظر ہے، اک عشقِ سراسر ہے یثرب کے شبستاں پر قربان اجالے ہیں جو کیف وہاں پر ہے وہ کیف کہاں پر ہے؟ طَیبہ کے فقیروں میں، تُو مجھ کو بھی لکھ یا رب یہ فقر کی دولت ہی سب مال ہے، سب زر ہے کہتے رہیں مجھ کو سب دیوانہ و مستانہ یہ شوق کی مستی ہی ہر ہوش سے بڑھ کر ہے دنیا میں کہیں ڈھونڈیں، قیمت ہی نہیں اِس کی یہ عشق کا گوہر وہ انمول سا گوہر ہے عادلؔ تری رحمت کی امید پہ ہے نازاں مالک! تری رحمت کا کوئی بھی نہ ہمسر ہے ....................

نازِشِ عالمِ کن فکاں آ گیا فخرِ کونین و سعدِ زماں آ گیا رشکِ مَہر و مہ و کہکشاں آ گیا وجہِ تخلیقِ کون و مکاں آ گیا نازِ حور و ملک انس و جاں آ گیا زینتِ عرشیاں فرشیاں آ گیا مہ جبیں، نازنیں، جانِ جاں آ گیا بہترین و حسینِ جہاں آ گیا دلنشیں، دلبرِ دلبراں آ گیا سید و سرورِ عاشقاں آ گیا کرنے رخصت چمن سے خزاں، آ گیا ساتھ لے کے بہارِ جِناں آ گیا سِرِّ توحید کا نکتہ داں آ گیا فاش کرنے یہ سِرِّ نہاں آ گیا بن کے رحمت کی روحِ رواں آ گیا ابرِ رحمت برائے جہاں آ گیا امن و انصاف کا پشتیباں آ گیا الفت و رحم کا نغمہ خواں آ گیا فرش پر زیبِ کرُّوبیاں آ گیا یا زمیں پر کہوں آسماں آ گیا مستی و بے خودی میں زمیں آ گئی وجد میں، کیف میں آسماں آ گیا عالمِ خلد سے عادلِـؔ بے قرار دیکھنے کو مدینہ یہاں آ گیا .....................

گھر میرا ہے لندن میں، رہتا ہوں مدینے میں رکھتا ہوں سدا الفت آقاؐ کی مَیں سینے میں یوں دُور مدینے سے جینا بھی ہے کیا جینا اب جی ہی نہیں لگتا یوں دور سے جینے میں ہاں دُور تو ہوں لیکن، دل دُور نہیں انؐ سے نگری ہے محمدا کی، دل میرا یہ سینے میں اس ایک حقیقت کے دو رُخ بھی حقیقت ہیں دل میں بھی مدینہ ہے، دل بھی ہے مدینے میں اس عشق کی دنیا کے اوقات نرالے ہیں یا دِن کٹے ہفتے میں، یا سال مہینے میں محبوبؐ کی یادیں ہیں، یادوں سے بھرا دل ہے کیا مسکنِ الفت ہے، یہ دل جو ہے سینے میں جس شان سے آپؐ آئے وہ شان ابھی تک ہے وہ شان مدینے کی اب تک ہے مدینے میں ہے عطر کوئی ایسا، نہ ہی مشک، نہ عنبر ہے جنت کی ہی خوشبو ہے آقاؐ کے پسینے میں ثانی ہی نہ تھا جس کا، ہو گا، نہ کہیں پر ہے آپؐ ایسا نگینہ ہیں مولا کے خزینے میں اب پیرویِٔ سنت ہی نوح ؑ کی کشتی ہے طوفاں میں گھرے لوگو! آ جاؤ سفینے میں اصحابِؓ پیمبرؐ سب ساتھی ہیں ہمیشہ کے صدیقؓ، عُمَر،ؓ عثماںؓ ہیں ساتھ مدینے میں آلام میں صابر ہے، انعام پہ شاکر ہے عُشّاق کا دل عادلؔ رہتا ہے قرینے میں ...............................


نہ زباں پہ مجھ کو عبور ہے نہ ہی علم و فن کا وفور ہے نہ ہی شاعری کا شعور ہے نہ ہی عاشقی پہ غُرور ہے مِرے شعر میں جو سرور ہے و ہ نبیؐ کی نعت کا نور ہے یہ ہے اَوج میرے کلام کا کہ خِراجِ مدحِ حضورؐ ہے ہو جو لاشریک کا تذکرہ تو نبیؐ کا ذکر ضرور ہے ہے خدا کو غَیرتِ شِرک اگر تو نبی ؐ بھی اِس میں غیور ہے نہ ہے کوئی مثلِ خدا کہیں نہ ہی کوئی مثلِ حضورؐ ہے ہے بشیرؐ و داعی، نذیر یہؐ وہ عزیز و عدل و غفور ہے ہے سماء و ارض پہ رحم یہؐ وہ سماء و ارض کا نور ہے نہ خدا سا کوئی ہوا کہیں نہ کوئی مثیلِ حضورؐ ہے یہ مجالِ نعتِ نبیؐ مِری تو عطائے رَبِّ غفور ہے یہ کرم ہے رَبِّ کریم کا کہ شعورِ وزن و بحور ہے مجھے ناز ہے مَیں نبیؐ کا ہوں مِرے پاس دینِ حضورؐ ہے جو بہا ہے یادِ نبیؐ میں اشک وہی عادلؔ آبِ طہور ہے .......................

نظروں میں بسے ہیں در و دیوارِ مدینہ سینے میں سجے ہیں گل و گلزارِ مدینہ یاد آئیں سبھی کوچہ و بازارِ مدینہ بھولیں نہ کبھی گنبد و مینارِ مدینہ ہونٹوں سے ہٹے کیسے یہ گفتارِ مدینہ ہر بات میں آ جائے ہے تکرارِ مدینہ کس درجہ کشش رکھتی ہے سرکارِ مدینہ ہے سارا جہاں طالبِ دیدارِ مدینہ جس در کی غلامی کو شہنشاہ بھی ترسیں ہر قصر سے عالی ہے وہ دربارِ مدینہ ہر اک کو مدینے میں ہے مرنے کی تمنا مَیں ہی تو نہیں ایک طلب گارِ مدینہ عادلؔ مَیں محمدا کی شفاعت کا ہوں طالب خوابوں میں بھی کہہ اٹھتا ہوں اشعارِ مدینہ

................


مدینے کی مہکی فضا دیکھتا ہوں معطَّر معطَّر ہوا دیکھتا ہوں مَیں گل دیکھتا ہوں، صبا دیکھتا ہوں سماں اک محبت بھرا دیکھتا ہوں مدینہ ہے فردوس روئے زمیں پر مَیں جنت کی آب و ہوا دیکھتا ہوں پیمبرؐ کا منبر ہے بر حوضِ کوثر مَیں کوثر سے روضہ مِلا دیکھتا ہوں مدینے کا ہر پل نئے سے نیا ہے خدایا یہ مَیں کیا سے کیا دیکھتا ہوں مری کیا ہے وَقعت، خدا کا کرم ہے جو مَیں مرقدِ مصطفیٰؐ دیکھتا ہوں محمدا کا روضہ ہے جنت کا ٹکڑا مَیں جنت میں خود کو کھڑا دیکھتا ہوں ہَیں صدیقؓ و فاروقؓ بھی اِس چمن میں مَیں دونوں کو جنت میں جا دیکھتا ہوں نگاہوں کے لبریز پیمانے دیکھوں جسے دیکھوں اشکوں بھرا دیکھتا ہوں عجب ہے محمدا کی الفت کا جادو اثر جس کا مَیں جا بجا دیکھتا ہوں ............

صفائے قلب ہو چشمِ پُر آب سے پہلے خدا کا ذکر ہو ذکرِ جنابؐ سے پہلے نبیؐ کے صدق پہ مبنی ہے صدقِ قرآنی ہے اعتماد نبیؐ پر کتاب سے پہلے خدا کے بندے بنے تھے غلام بندوں کے زمیں پہ مصطفویؐ انقلاب سے پہلے جہاں میں جہل تھا، اِدبار تھا، اندھیرا تھا جہاں میں کیا تھا رسالت مآبؐ سے پہلے؟ سب آئے باقی نبیؑ پہلے، آپؐ آخر میں کہ بیشک آتا ہے بچپن، شباب سے پہلے سبؑ آئے ختمِ رُسُلؐ ہی کے خیر مقدم کو کہ پھوٹتی ہے شفق آفتاب سے پہلے تھا ذکر آپؐ کا، آمد سے پہلے ہی اُن میں کتب جو اُتریں اِمامُ الکتاب سے پہلے ہوا نہ ختم کبھی سلسلہ نبوت کا نبیؐ پہ ختمِ رسالت کے باب سے پہلے ہو پاک شِرک سے ہر عاشقِ نبیؐ عادل نماز ہوتی نہیں لَمسِ آب سے پہلے ..................

بیاں ہو سکے کیسے شانِ محمدا بیانِ خدا ہے بیانِ محمدا خدا کا یہ فرمان، قرآن کیا ہے؟ کتابِ خدا بر زبانِ محمدا ہوئی پوری تورات کی پیش گوئی ’کلامِ خدا در دہانِ‘ محمدا خدا ہی بڑا ہے تو پھر کون ہو گا؟ خدا سے بڑا قدردانِ محمدا یہ بے مثل شہکار تخلیق کر کے خدا خود ہوا مدح خوانِ محمدا ہر اک دوست دشمن پہ سایہ فگن تھی وہ رحمت کی چھایا، وہ جانِ محمدا ہیں بوبکرؓ و فاروقؓ و عثمانؓ و حیدرؓ گل و لالۂ گُلسِتانِ محمدا ہماری تمھاری ہو کیا خوش نصیبی اگر سب بنیں نعت خوانِ محمدا ستاروں سے بڑھ کر ہے قسمت میں عادلؔ غبارِ رہِ کاروانِ محمدا

........................... ذکر جب ہونے لگا حسن کی رعنائی کا خاتمِ بزم تھا نغمہ تریؐ یکتائی کا تیریؐ آواز سے اونچی نہ ہو کوئی آواز کوئی دعویٰ نہ کرے جگ کی مسیحائی کا نوریوں کے بھی جہاں جلتے ہوں پر ایسی جگہ کس کو اندازہ ہے انسان کی اونچائی کا؟ سرحدِ کون پہ اک عبد ہے اک رب تنہا کس نے دیکھا ہے یہ عالم کبھی تنہائی کا علم کا شہر مدینے میں جو آباد ہوا عالمِ دیدنی ہے جہل کی پسپائی کا تیرے دشمن بھی ترے فضل کے منکِر نہ ہوئے تیرا عالم میں وہ عالم ہے پذیرائی کا دیکھ کر جنگیں تری ظلم و جہالت کے خلاف درس عادلؔ کو ملا معرکہ آرائی کا


..............................


تِراؐ علم فوقِ مشاہدہ تِراؐ رہنما ہے فقط خدا تُوؐ خبر نظر کا امام ہے ہے عمل کی ناؤ کا ناخدا تُوؐ بشیر ہے تُوؐ نذیر ہے ہے نبوتوں کا تُو مُنتہیٰ تِراؐ فخر فقر، تُوؐ ہے غنی تُوؐ ہے ذہن و فکر اجالتا تُوؐ ہی حکمتوں کی کلید ہے تُوؐ ہے حلم و عجز کی انتہا نہ ہی دعویٰ فوقِ بشر کا ہے نہ فرشتہ ہونے کا اِدّعا وہ نہیں ہے نعتِ نبی کوئی جو بنا دے عبد کو بھی خدا یہ خُلُق، فروتنی، سادگی بنی عادلؔ اسوۂ مصطفیٰؐ

...............


خدا ہی خود ہے جب داور نبیؐ کا خدا نے کر دیا کوثر نبیؐ کا جو سچا تھا پکار اٹھا جو دیکھا ہے سچا چہرۂ انور نبیؐ کا دلائل، موعظت، کامل جماعت یہی تھا ہر جگہ لشکر نبیؐ کا نبوت انؐ کی رائج ہے جہاں بھی ہے وہ سب باختر، خاور نبیؐ کا خدا کی ہے سفارت انؐ کو حاصل خدا کا حکم ہے محضر نبیؐ کا ہمیشہ کا ہے گھر جنت کا روضہ ہے گھر شیخینؓ کا بھی گھر نبیؐ کا ہیں اہلِ بیتؓ ازواجِ محمدا کہ اُن کا بیت ہی تھا گھر نبیؐ کا وہاں رہتی تھیں ازواجِ نبیؐ ہی جہاں رہتا تھا وہ پیکر نبیؐ کا خدا کے در کے نیچے در یہ عادلؔ ہر اک در سے ہے اونچا در نبیؐ کا

....................


کمالِ خُلق شخصیّت تِریؐ ہے خدا سے کم ہے تُوؐ، بس یہ کمی ہے خدا کہنا کسی کو، جز خدا کے ستائش ہی نہیں، بے حرمتی ہے بڑی سب سے ہے تیریؐ ہر بڑائی بڑی سب سے بڑائی بندگی ہے ہے دنیا کو تِریؐ پھر سے ضرورت یہ دنیا کن مصائب میں گھِری ہے تُوؐ عدل و علم و دانش کا ہے قائد جہالت پاؤں سے تیرے مٹی ہے تِرے قدموں سے ٹوٹے بت ستم کے تِرے پَیروں تلے ہی قیصری ہے تُوؐ وہ خُلق و عمل کا ہے مجاہد شکستہ خُسروی، اسکندری ہے صنم زارِ جہاں میں اے صنم کُش توہم کی پریشاں مورتی ہے کہیں تجھ سا ہوا ہے کوئی رہبر؟ ہر اک گردن تِرے آگے جھکی ہے تِراؐ اُسوہ ہی ہے درکار سب کو تِرےؐ جادہ پہ ہی منزل کھڑی ہے اطاعت تیریؐ ہے جنت کی ضامن کہ جنت پاؤں میں تیرےؐ پڑی ہے جہاں روضہ، وہیں ہے حوضِ کوثر مِری جنت مدینے کی گلی ہے محمدا کا وہی سچا ہے عاشق رہِ سنت پہ جس کی زندگی ہے کئی رہبر کئی آئے محافظ مگر انسانیت لٹتی رہی ہے نبوت سے کبھی توڑا جو رشتہ ہوئی انسان کی حالت بری ہے کچھ انساں جامۂ عادل میں آئے رہی انصاف کی پھر بھی کمی ہے