This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
افسوس یہ ہے کہ اس زمانے میں بہت سے لوگوں نے نعت کو فیشن کے طور پر یا رواج عام کی پابندی کی مجبوری کی بنا پر اختیار کرلیا ہے۔ دوسری مشکل یہ کہ اکثر شعرائے کرام کو زبان پر پوری طرح قدرت نہیں، لہٰذا ان سے عجب عجب طرح کی بے تمیزیاں اور بھونڈے پن سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ ایک عام طریقہ یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ یا پیغمبرِ اسلام سے یوں مخاطب ہوتے ہیں گویا نعوذ باللہ ان کو کچھ دے رہے ہوں، یعنی اظہارِ محبت اس طرح ہوتا ہے کہ اپنی محبت کا ذکر زیادہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ (ص)کو گویا اپنی ثنا اور توصیف کا مستفید قرار دیے جانے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ آپ کی زیرِنظر کتاب میں کچھ مختصر تحریریں ایسی ہیں جن میں نعت گوئی کے آداب سے بحث کی گئی ہے، لیکن تشنگی محسوس ہوتی ہے کیوںکہ بنیادی باتیں پوری طرح زیرِبحث نہیں آئیں۔ دیگر مضامین میں جناب حسن محمود جعفری کا مضمون بہت خوب ہے لیکن مغربی حوالوں کی کثرت کے باوجود کوئی بنیادی نتیجہ پوری طرح واضح ہوکر نہیں ملا۔
[1]
مزید دیکھیے
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
|