"تبادلۂ خیال:ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے" کے نسخوں کے درمیان فرق
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
|||
| سطر 2,051: | سطر 2,051: | ||
مجھ سا بشر جو صاحبِ دیوانِ نعت ہے | مجھ سا بشر جو صاحبِ دیوانِ نعت ہے | ||
اللہ | اللہ کا کرم ہے، یہ فیضانِ نعت ہے | ||
تفہیمِ نعت ہے جسےعرفانِ نعت ہے | |||
حسانِ نعت ہے وہی سلمانِ نعت ہے | حسانِ نعت ہے وہی سلمانِ نعت ہے | ||
| سطر 2,066: | سطر 2,066: | ||
جاری رہے گا تا بہ ابد نعت کا سفر | جاری رہے گا تا بہ ابد نعت کا سفر | ||
روشن ازل سے | روشن ازل سے دیدہءِ امکانِ نعت ہے | ||
معلوم اب ہوئی ہے مجھے دل کی کیفیت | |||
کعبہ نہیں ہے دل میرا جز دانِ نعت ہے | |||
| سطر 2,074: | سطر 2,079: | ||
احرامِ عشق باندھ کے نکلا ہے ہر خیال | |||
فکر و نظر کےسامنے میدانِ نعت ہے | |||
ملتان کا سکونتی ہوں، خوش نصیب ہوں | |||
یہ سر زمین شعر نگارانِ نعت ہے | |||
تحسین ہے | تحسین ہے فقیر، فقیرانِ نعت کا | ||
یعنی کہ اک غلامِ غلامانِ نعت ہے | یعنی کہ اک غلامِ غلامانِ نعت ہے | ||
نسخہ بمطابق 05:59، 18 جون 2019ء
ایونٹ کی نعتیں
اگر کوئی نام نیلے رنگ میں ہےتو اس کا مطلب یہ ان شاعر کا تعارف "نعت کائنات" پر موجود ہے ۔ اور اس نیلے نام پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر نام سرخ رنگ میں ہے تو اس پر کلک کرکے شاعر اپنا تعارفی صفحہ شروع کر سکتا ہے ۔
آصف قادری ، واہ کینٹ ، پاکستان
اللہ کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر لفظ نعت کے لیے سرخم کئے ہوئے
گویا کہ حرف حرف کو ارمانِ نعت ہے
دل میں نبی کی یاد زباں پر درودِ پاک
صد شکر پاس کچھ مرے سامانِ نعت ہے
گریہ کناں حنانہ ہے ہجرِ حبیبِ میں
سوکھے ہوئے تنے کو بھی پہچانِ نعت ہے
میری زبان گنگ ہے لرزاں قلم ہے اور
لاچار فکر، سامنے میدانِ نعت ہے
وہ شخص بخشا جائے گا محشر میں بالیقیں
جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
آصف ثنا کے باب میں خاموش ہی رہو
کب ہے بشر کی فکر جو شایان ِ شان ہے
آفاق رضا مشاہدی، باگ بھیرہ، انڈیا
اِتنا وسیع حلقہءِ میدانِ نعت ہے
ہر شعبہءِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے
میدانِ حشر میں ،مری بخشش کیواسطے
جو کچھ ہے میرے پاس وہ سامانِ نعت ہے
شہرِ نبی کے کُتّے بھی پہچاننے لگے
جِس دِن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
مدحِ نبی کا حق ادا کوئ نہ کر سکا
ہاں اِک قرآن ہے کہ وہ سُلطانِ نعت ہے
پہچان اُسکی حشر میں ہوگی الگ تھلگ
حاصل جِسے بھی دَہر میں عِرفانِِ نعت ہے
پڑھ کر لگا حدائقِ بخشش کا حرف حرف
احمد رضا ہی ہِند کا حسّانِ نعت ہے
آفاق وہ بھی جائے گا خُلدِ بریں کی اور
رکھتا جو اپنے قلب میں اَرمانِ نعت ہے
ابرار نیر، اٹک، پاکستان
اک بار پھر فقیر پہ احسانِ نعت ہے
پھر بے ہنر کے ہاتھ قلمدان ِ نعت ہے
حاصل جو شرف بوسہِ دامان ِ نعت ہے
میرا کہاں کمال ، یہ فیضان ِ نعت ہے
فن کا کمال ہے نہ تخیل پہ منحصر
ہو جاۓ جو عطا وہی سامان ِ نعت ہے
دوڑا یہاں نہ عقل کے گھوڑے سخنورا
دے فکر کو لگام کہ میدان ِ نعت ہے
آقا کے حکم پر جو پڑھا ان کے سامنے
حسان کا کلام وہ سلطان ِ نعت ہے
بازار گھر دکان ہو دفتر کہ مدرسہ
ہر شعبہِ حیات میں امکان ِ نعت ہے
گلہائے رنگا رنگ معطر ہیں چارسو
ہر ایک بزمِ نعت ، گلستان ِ نعت ہے
رمضان کے مہینے میں نعتوں کی برکتیں
یوں لگ رہا ہے جیسے یہ رمضان ِ نعت ہے
بوندیں کرم کی ڈال دے نیر فقیر پر
یہ کم سخن بھی طالبِ باران ِ نعت ہے
ابو الحسن خاور ، لاہور ، پاکستان
کیا صرف شعر گوئی ہی شایان ِ نعت ہے
اس سے کہیں وسیع یہ میدان ِ نعت ہے
خاور نظر اٹھا بڑا ساما ن نعت ہے
ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے
لو لوئے ِ نعت ہے کہیں مرجان ِ نعت ہے
یہ کائنات سورہ ءِ رحمان ِ نعت ہے
پھیلی ہوئی ہیں طہ و یسیں کی نکہتیں
قرآن اس کنایے میں گل دان ِ نعت ہے
ہر نخل میں ہے گنبد ِ خضری کی سبزگی
جس سمت دیکھتا ہوں گلستان ِ نعت ہے
کیا آسماں پہ مدح سرائی نہیں ہوئی ؟
کیا کوئی حد ِ وسعت ِ دامان ِ نعت ہے؟
بے نور و خشک زار ہے جو چاند کی زمیں
اک نعت خوان پہنچے تو فاران ِ نعت ہے
جتنا ہے جس کا علم وہ اتنا خموش ہے
وہ نعت کیا لکھے جسے عرفان ِ نعت ہے
آنکھوں میں نم ہے دل کو مصلے کی آرزو
یعنی کہ دل میں اوج پہ ارمان ِ نعت ہے
صحرائے زیست میں ہیں گناہوں کی آندھیاں
ہے آسرا کوئی تو خیابان نعت ہے
یہ جو مرے گھرانے میں عشق رسول ہے
خاور یہ اور کچھ نہیں فیضان ِ نعت ہے
ابو المیزاب اویس، کراچی، پاکستان
بشکریہ : غلام فرید واصل
قرآن اصل قاسمِ عرفانِ نعت ہے
ہر آیہِ کریمہ گلستانِ نعت ہے
گلہائے حمد اِس کے وسیلے سے کِھل گئے
دل کے افق پہ ابرِ بہارانِ نعت ہے
نطق و بیاں کا اس کو بنا بیٹھے قبلہ ھم
حکمِ وَسَلِّمُو میں جو فرمانِ نعت ہے
میلادِ مصطفٰے کی سجائیں گے محفلیں
فَلیَفرَحُوْا میں مؤمنو اعلانِ نعت ہے
کہتے ہیں جس کو اہلِ نظر قصرِ لامکاں
ایوانِ حمد ہے کہ دبستانِ نعت ہے؟
کچھ غم نہیں ہے گرمیِ بازارِ فکر کا
فرقِ سخن پہ سایہِ دامانِ نعت ہے
ہر آن اُن کی یاد ہے محور خیال کا
"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
خوفِ خدا و عشقِ نبی میں بسا ہے دل
یعنی کہ شوقِ حمد ہے، ارمانِ نعت ہے
پھیکا ہی رہتا نظم و غزل کا یہ سلسلہ
لذت رساۓ فکر نمکدانِ نعت ہے
ہے دھوم جس کے نغموں کی سارے جہان میں
میرا رضا وہ بلبلِ بستانِ نعت ہے
ہم بندگانِ عشق کا ہے آبؔ فیصلہ
شاعر وہی ہے دل سے جو قربانِ نعت ہے
ابوبکر تبسم، پاکستان
مکمل نام : حافظ ابوبکر تبسم
مجھ نعت کے گدا پہ یہ احسانِ نعت ہے
ہاتھوں میں روزِ حشر بھی دیوانِ نعت ہے
منزل ہے میری قربِ شہنشاہِ کائنات
زادِ سفر کے طور پہ سامانِ نعت ہے
سانسوں کو دے کے درسِ سکوت و ادب بہت
پھر لکھنے بیٹھتا ہوں، کہ میدانِ نعت ہے
نعت اور نعت خواں کا بھٹکنا محال ہے
موصوفِ نعت خود ہی نگہبانِ نعت ہے
اب غم بھی مجھ کو غم نہیں لگتا نجانے کیوں
کیا میرے گرد حلقہِ یارانِ نعت ہے؟
ہوں گے بڑے بڑوں کے بڑے مان حشر میں
میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے مانِ نعت ہے
نعتِ حضور لکھی تو یہ راز کھل گیا
عزت کا ہر مقام قدردانِ نعت ہے
بس انتہائے فکرِ تبسم یہی تو ہے
نعتِ قراں ہی اصل میں قرآنِ نعت ہے
ابو بکر نادر، چنیوٹ، پاکستان
جس جس کو جو ملا ہے یہ احسانِ نعت ہے
ہر اہلِ فن پہ سایہِ سلطانِ ﷺنعت ہے
سرکار ﷺ! چند لفظ عطا ہوں ہے التجا
دل کے قلم کو دیر سے ارمانِ نعت ہے
ہر سانس دے رہی ہے گواہی قدم قدم
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
ارض و سما کی حد کو بھی ہے پار کر گیا
کتنا وسیع حلقہِ دامانِ نعت ہے
ویسے تو کچھ نہیں ہے مرے پاس ہاں مگر
اک روشنی قلم میں جو فیضانِ نعت ہے
گہرائیوں سے دل کیں وہ واقف ہیں خوب تر
دل سے جو لفظ نکلے وہ شایانِ نعت ہے
نادرؔ بنا دیا ہے مجھ ایسے حقیر کو
کچھ بھی نہیں ہے یہ فقط عرفانِ نعت ہے
ابو لویزا علی ، کراچی ، پاکستان
قالو بلی سے آج تک اعلان نعت ہے
امکان کی یہ بزم تو ایوان نعت ہے
یٰسین نعت سورہ ِرحمان نعت ہے
الحمد نعت سورہِ عمران نعت ہے
عرفان نعت حق کی عطا پر ہے منحصر
آنکھیں ملیں تو پورا ہی قرآن نعت ہے
طب ہو ،معاشرت ہو یا میدان کار زار
"ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے"
مصرع کی شان دیکھیے اشعار دیکھیۓ
کتنی طویل دیکھیے دیوان نعت ہے
ہم سے گنہہ گار بھی لکھنے لگیں اگر
فیضان نعت ہے یہ بھی فیضان نعت ہے
احسان علی حیدر، لاہور، پاکستان
دشت_سخن کو تحفہ_ باران _نعت ہے
فکر_بشر کی لوح پہ امکان_نعت ہے
ہم نے تو آج نعت کی عظمت پہ بات کی
پروردگار پہلا ثنا خوان _نعت ہے
تنزیل کب رکی ہے خدا کے کلام کی
جاری ہے جس کا فیض وہ قرآن_نعت ہے
شبیر پڑھنے آئے ہیں رن میں نماز_حمد
اکبر کی یہ ازاں نہیں اعلان_نعت ہے
حسن و حسین نعت کی تصویر_اصل ہیں
صحن_ابوتراب ہی جزدان_نعت ہے
شان _حضور عیب_تناہی سے دور ہے
عجز_بیان وصف_سخندان_نعت ہے
دو ہی تو آسرے ہیں بشر کے زمین پر
اک کربلا ہے دوسرا دالان_نعت ہے
احمد جہانگیر، کراچی، پاکستان
حمدِ الہ کی گونج ہے، اعلانِ نعت ہے
دنیا، خدا کے فضل سے ایوانِ نعت ہے
مولا، عجم کے گُنگ بیاباں میں جا بہ جا
مدحت کے اِصفہان ہیں، ملتانِ نعت ہے
روشن ہے بابِ شہرِ تمدّن پہ اب چراغ
حدِّ ادب کہ گوشہِ بُستانِ نعت ہے
زنجیر پڑھ رہی ہے، قصیدے کے بیت و بند
بیمار، نینوا میں نگہ بانِ نعت ہے
رسوائی کا سبب ہے مگر آپؐ کا غلام
اقبال کے دیار میں امکانِ نعت ہے
مردود ہو جنابؐ کی رحمت سے چشمِ بد
تعریف خواں غلامِ غلامانِ نعت ہے
دنیا کی واہ واہ سے، بزمِ سخن سے دور
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
آئے ہر اک گروہ و جماعت کا با شعور
حلقہ تمام حلقہِ مستانِ نعت ہے
احمد رضا، لاہور، پاکستان
قرآن اصل میں تو دبستان نعت ہے
سیکھے یہاں سے جو وہی سلطان نعت ہے
ساقی ! کمال یہ ترے جام کا نہیں
طاری ہوا جو مجھ پہ ، یہ وجدان نعت ہے
ناں لفظ و معنی کی بھی کوئی قید اب رہی
خوشا ! زہے نصیب یہ عرفان نعت ہے
ہو باوضو تو پہلے، قدم بعد میں پڑے
باہوش رہ کے چلنا یہ میدان نعت ہے
آلام کا نہیں ہے مجھے خطرہ کوئی بھی
محوِ سفر جہاں ہوں بیابان نعت ہے
ہر لحظہ رہتے ہیں مرے سرکار دل میں ، سو
”ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے“
بھینی سی چھا چکی ہے جہاں میں جو خوشبو
بٹتا ہوا یہ صدقہ ء بستان نعت ہے
افلاک پر رضا کا ہے دستِ سخن کہ آج
اہلِ ولا میں بیٹھا بفیضان نعت ہے
احمد رضا سعدی,نندور بار,بھارت
پیش کش: غلام جیلانی سحر
پروردگار ! سینے میں ارمانِ نعت ہے
میری متاعِ زیست ہی عنوانِ نعت ہے
کر وقف ان کی ذات پہ ہر لمحہِ حیات
ناکام ہے حیات جو ویرانِ نعت ہے
تاریک قبر ہو یا ہو میدان حشر کا
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
کیسا کرم ہے دیکھیے ان کا غلام پر
نغمہ درودِ پاک کا دورانِ نعت ہے
الفاظ ختم ہوگئے شانِ رسول میں
کچھ اس قدر وسیع یہ دامانِ نعت ہے
احمد رضا کے نام کا چرچا ہے چار سو
دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ فیضانِ نعت ہے
سعدی کو کیا غرض ہے جہاں کے متاع کی
سرمایہِ حیات جب ایمانِ نعت ہے
احمد زاہد، فیصل آباد، پاکستان
مکمل نام : محمد احمد زاہد
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
مجھ پر کرم ہے جو بھی وہ احسانِ نعت ہے
جب سے نگاہ یارِ خدا کی ادھر پڑی
بگڑی یہ میری بن گٸی احسانِ نعت ہے
سب لوگ مجھ کو کہتے ہیں جو ان کا نعت گو
اس کو بھی میں کہوں گا کہ فیضانِ نعت ہے
کچھ بھی زباں کہے نہ تری مدح کے سوا
ہر پل ہر اک گھڑی مجھے ارمانِ نعت ہے
توصیف جتنی بھی کروں اور جتنی بھی سُنوں
مدحت کا ہر لفظ لگے شایانِ نعت ہے
احمد عقیل، اٹک، پاکستان
بیٹھا ہوں با ادب کہ اب امکانِ نعت ہے
آنسو نہیں عقیل! یہ بارانِ نعت ہے
اول سے لے کے ناس تلک سوچتا ہوں میں
قرآن سامنے ہے یا دیوانِ نعت ہے
قلب و نظر کی پاکی ضروری ہے نعت میں
ورنہ تُو کس طرح کا سخن دانِ نعت ہے
ان کے بغیر عالمِ اسباب تھا عبث
اِس دہر کا وجود بھی عنوانِ نعت ہے
جب "راعِنا" پکارنا جائز نہیں ہے پھر
ہر لفظ دیکھ بھال، یہ میدانِ نعت ہے
پھیلی ہوئی چہار سو خوشبو ہے نعت کی
خوش بخت ہوں کہ مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے
جب جب پڑھوں درود، نئے شعر ہوں عطا
صَلُّوا عَلَی الرسول " بھی اعلانِ نعت ہے
احمد محمود الزمان، اسلام آباد
اللہ کا کرم میرا سامانِ نعت ہے
محبوبِ حق کی یاد سے میلانِ نعت ہے
ذکرِ حضور سے ہوا عنبر فشاں قلم
قرطاس خوشبو گل و ریحانِ نعت ہے
کرتی ہے ورد صلِ علٰی کا میری زبان
حاصل میرے شعور کو عرفانِ نعت ہے
رحمت خدا کی میری محافظ اک ایک پل
کس درجہ میرے حال پہ احسانِ نعت ہے
ہوگا نہ ختم تزکرہِ شانِ مصطفٰی
اتنی ذیادہ وسعتِ دامانِ نعت ہے
قراں کرے حضور کے اوصاف کو عیاں
محدود آدمی کا تو وجدانِ نعت ہے
بخشے گا اس کے فیض سے مجھ کو مِرا خدا
پختہ کچھ اس قدر میرا ایمانِ نعت ہے
جچتے نہیں ہیں اس کی نگاہوں میں سیم و زر
جو کوئی اس جہان میں قربانِ نعت ہے
خوشنودیِ خدا کا وسیلہ بنے یہی
میرے دل و نظر کو یہ فرمانِ نعت ہے
ان کے حضور پیش کروں ارمغانِ نعت
پنہاں جو میرے قلب میں ارمان۔ نعت ہے
احمد ہے عمر خضر بھی کم نعت کے لیے
دنیا میں کب کہیں کوئی پایانِ نعت ہے
احمد مسعود قریشی، ملتان، پاکستان
شعروں کا میرے دوستو عنوان نعت ہے
مشکل بڑا اگرچہ یہ میدان نعت ہے
مدحت نبی کی کرتا ہوں صورت میں شعر کی
دنیا میں ان سے پیار ہی سامان نعت ہے
رحمت وہ بن کے آئے ہیں سارے جہان میں
لکھتا ہوں لفظ جو بھی وہ فیضان نعت ہے
کرتے رہو بیان محمد کی شان کو
ملتا سکون -دل ہے یہ ایقان نعت ہے
بڑھتی ہے آرزو یہ کہ جائیں انھی کے در
ہوتا ہے پیدا دل میں جو عرفان نعت ہے
دیکھا جو کائنات کو محسوس یہ ہوا
ہر شعبہ ء حیات میں امکان ِ نعت ہے
دنیا میں خوش نصیب ہے جس کو ملا ہنر
کہتا ہے دل سے نعت جو سلطان نعت ہے
احمد ندیم، سرگودھا، پاکستان
بشکریہ : حافظ محبوب احمد
قوسین کا مقام بھی میدانِ نعت ہے
کتنا وسیع گوشہء دامانِ نعت ہے
جس پر کھلا ہے عقدہ ء تخلیق کائنات
حاصل اسے ہی اصل میں عرفانِ نعت ہے
یہ ہست و بود اصل میں ہے ان کا فیض نور
سو جملہ کائنات میں میلانِ نعت ہے
امکان اور وجوب میں برزخ ہے ان کی ذات
یہ حسن کائنات بھی سیلانِ نعت ہے
وہ رحمت تمام ہیں، وہ اصل جود ہیں
امکان کے وجود میں دورانِ نعت ہے
حرف و بیاں شعور و تخیل قیاس و وہم
ادراک اور شعور بھی سامانِ نعت ہے
جس پر کھلے ہیں فہم و فراست کے جتنے در
ہے بھیک اس جناب کی، فیضانِ نعت ہے
وحئ خدا ہی ان کی ثنائے کمال ہے
قرآن کا بیان ہی میزانِ نعت ہے
ہے غار میں تلاوتِ آیاتِ حسنِ یار
عارض کریم ذات کا قرآنِ نعت ہے
ان کے لئے ہی خلق ہوئی ساری کائنات
یوں ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
لفظوں کے تار و پود سے بنتی نہیں ہے یہ
عشق رسول پاک ہی فرقانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات کا مصدر ہے ان کا نور
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ان کے نثار جان ملاحت ہے ان کا حسن
توصیف حسن گویا نمک دانِ نعت ہے
یہ جتنی کاوشیں ہیں سبھی ناتمام ہیں
خالق کے پاس اصل قلم دانِ نعت ہے
طرفہ ہیں فکر و فہم کے سب سلسلے یہاں
آباد کس قدر یہ خیابانِ نعت ہے
مدحت کے آسمان پر بکھرے مہ و نجوم
پرکیف کس قدر یہ شبستانِ نعت ہے
میں بھی کسی قطار میں ہوتا ہوں اب شمار
یہ فضل کردگار ہے احسانِ نعت ہے
دل کی زمین سبز ہے مہکی ہوئی ہے جان
آنکھوں میں سیل اشک ہے بارانِ نعت ہے
ان کے جمال پاک کی کچھ جھلکیاں ندیم
یہ کائنات چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے
احمد وصال، پشاور، پاکستان
جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
طَیبہ ہو چَشم و قَلب میں، لب پہ درود ہو
ہر لفظ با وضو ہو یہی شانِ نعت ہے
قرآں کا لفظ لفظ ہے توصیفِ مُصطفیٰ
کتنا فَراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے
رب نے پڑھی، فرشتے بھی پڑھتے ہیں دم بہ دم
صلّ علیٰ کا ورد بھی فرمانِ نعت ہے
نصرت ہو زہد و تقویٰ سے، حُبِّ نبی سے رب
مُجھ ناتواں کے سامنے میدانِ نعت ہے
آو سب اپنی آنکھوں میں ڈالیں ہم اِس کی گرد
حسّان اس کا میر یہ کاروانِ نعت ہے
الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں جو روبرو
میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے
دولت نہ جاہِ دنیا نہ شہرت کی ہے طلب
مجھ کو مدینہ شہر میں ارمانِ نعت ہے
رمضاں، عبادتیں ہیں ، محافل ہیں ذکر کی
صلّ عَلا لبوں پہ ہے ، بارانِ نعت ہے
احمد وصال پر بھی ہو نظرِ کرم حضور
اک ناشناسِ نعت ہے ، دربانِ نعت ہے
ارتضی حیدر، سرگودھا، پاکستان
مکمل نام : محمّد ارتضی حیدر
مصرع اگر مرا کوئی شایانِ نعت ہے
یہ اصل میں حقیر پہ فیضانِ نعت ہے
قرآں کی آیتوں کے معانی پہ غور کر
تو بھی کہے گا یہ تو ثناء خوانِ نعت ہے
محشر کی بھیڑ بھاڑ سے کیونکر ڈروں گا میں
سر پر مرے جو سایہِ دامانِ نعت ہے
محمود ہے خدا تو ہیں احمد مرے نبی
عنوانِ حمد اصل میں عنوانِ نعت ہے
الفت نبی و آل کی دل میں بسی ہوئی
یعنی کہ پورا سارا ہی سامانِ نعت ہے
ہر شعر پر رسولؐ کے گھر سے دعا ملی
دیکھو تو مجھ پہ کیسا یہ احسانِ نعت ہے
گر اسوہِ رسولؐ کی ہو پیروی تو پھر
- ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
کچھ بھی کہا ہو اس نے سخنور نہ بن سکا
وہ جس کی شاعری میں بھی فقدانِ نعت ہے
حیدرؔ کی کیا مجال کہ دعویٰ ہو نعت کا
سلمان ہیں کہیں کہیں عمرانِ نعت ہے
ارسلان احمد ارسل، لاہور، پاکستان
لو دیکھو کیسا مطلعء دربانِ نعت ہے
فضلِ خدا سے شانِ دبستانِ نعت ہے
کیف و سُرور بھی ہے یہاں واہ واہ بھی
یہ چشتیوں کی بزمِ شبِستانِ نعت ہے
جزبہ سے بچہ کہتا ہے تو اس کو کہنے دو
یہ آنے والے دور میں مرجانِ نعت ہے
خاور کی رائے ٹھیک ہے میری نگاہ میں
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
مشکل زمین میں جو نکالے غضب کے شعر
تو جان لو کہ یہ کوئی مردانِ نعت ہے
سر کو جھکا کے اک نیا مضمون باندھ لوں
دل میں مرے سجا ہُوا جُزدانِ نعت ہے
جیسا نصیب ہو گیا اُن کے بلال کو
اب اِس سے بڑھ کے کیا کوئی عِرفانِ نعت ہے ؟
ارسل کو جذب و کیف کے عالم میں دیکھ کر
مجذوب بھی کہیں کہ یہ مستانِ نعت ہے
ارسلان ارشد، لاہور، پاکستان
شاعر نہیں ہُوں نہ میرا دیوانِ نعت ہے
دل میں نبی کا عشق ہے ارمانِ نعت ہے
آنکھوں میں اشک قلب میں الفت حضور کی
بس مختصر سا یہ میرا سامانِ نعت ہے
خوشبو سے مہکنے لگے دیوار و در میرے
کس درجہ مشکبیں یہ گلستانِ نعت ہے
اللہ کی سنت کو پورا کر رہے ہیں ہم
ہم پر ہزار شکر یہ احسانِ نعت ہے
مدحت کریں جو شاہِ عوالم کی ہر گھڑی
اُن پر سدا ہی سایہء دامانِ نعت ہے
میزانِ سخن پر نہ فقط پرکھیئے اِسے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
ان کا خیال آیا تو سوچیں نکھر گئیں
اے ارسلان کیسا یہ فیضانِ نعت ہے
ارشد منیر، لندن، برطانیہ
مکمل نام : محمد ارشد منیر نقشبندی
بخشش کی اک سبیل یہ سامان نعت ہے
اور کاسہء امید میں دیوان نعت ہے
الفت مرے حضور کی تسکین قلب و جاں
اُسوہ مرے حضور کا عنوانِ نعت ہے
لطفِ نبیؐ ہے اور ہے توفیق کردگار
عشقِ نبی میں ہر کوئی حسانؓ نعت ہے
" اُنظُرنا " پہ نگاہ ہے " لا ترفَعُوا " پہ دل
ملحوظ اُن کا مرتبہ دوران نعت ہے
ہر شعبہء حیات ہے ان کی نگاہ میں
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
واشمس، والضحٰی، نجم ، یسین، والقمر
اُم الکِتاب گویا کہ برہان نعت ہے
دربارِ مصطفےٰؐ کی حضوری اسے نصیب
جس کے شعور کو ملا عِرفان نعت ہے
خوانِ کرم کی بھیک کا مُنہ بولتا ثبوت
بہتا جو دل سے چشمہء فیضانِ نعت ہے
کیجئے ضرور کیجئے کثرت درود کی
دل میں اگر جناب کے ارمان نعت ہے
فیضانِ آل مصطفٰے ہے شکر کردگار
صحرائے دل پہ ہر گھڑی باران نعت ہے
سب پر رسول پاک کی نظر کرم ہے خاص
ہر اک کا ہی قصیدہ تو نعمان نعت ہے
ممکن کہاں منیر ہے مدحت حضؐور کی
بخشا ہوا حضؐور کا سامانِ نعت ہے
ارشاد نیازی ، چونڈہ ، سیالکوٹ، پاکستان
بشکریہ : غلام جیلانی خان
سرکار جب عطا کیا عرفانِ نعت ہے
آساں ہوا کٹھن مجھے میدانِ نعت ہے
روضے کی جالیوں سے ملے گا اسے قرار
مدت سے میرے دل میں جو ارمانِ نعت ہے
حمد و ثنا کے بعد کیا ذکرِ اہلِ بیت
دراصل ذکرِ آل ہی اعلانِ نعت ہے
آساں کرے گا دیکھنا برزخ کی منزلیں
رختِ سفر میں رکھا جو سامانِ نعت ہے
پڑھتے ہیں جو نماز میں اس آل پر درود
میرے خیال میں تو یہ ایوانِ نعت ہے
صلو علیہ آلہِ وردِ زباں کے بعد
کامل یقین رکھتا ہوں امکانِ نعت ہے
کہتا رہوں گا واعظا میں یاعلی مدد
مابعد یانبی یہی ایمانِ نعت ہے
کہتے ہیں لوگ مجھکو غلامِ رسولِ پاک
کتنا بڑا فقیر پہ احسانِ نعت ہے
زہرا بتول اور حسن حیدر و حسین
حکمِ رسول مان گلستانِ نعت ہے
کرب و بلا کہانی سمجھنے سے پیش تر
ناداں سمجھتا کیوں نہیں کفرانِ نعت ہے
دیکھے سنہری جالیاں اذنِ حضور سے
ارشاد بھی جو شاعرِ دیوانِ نعت ہے
ارشد جمال، اعظم گڑھ، انڈیا
یوں دوجہان محوِ خیابانِ نعت ہے
جاناں ہے جو خدا کا وہ جانانِ نعت ہے
ہو حرف حرف کیوں نہ بھلا اس کی قرآتیں
ہر صفحہ جس کی ذات کا قرآنِ نعت ہے
اس پر سخن کے سات سمندر نثار ہیں
روشن جو ایک اشک بہ مژگانِ نعت ہے
چن لیجئے کہیں سے بھی مدحت کے رزق کو
یہ کائنات جیسے کوئی خوانِ نعت ہے
سمجھوں گا عمر بھر کی ریاضت کا پھل اسے
اک لفظ بھی اگر مرا شایانِ نعت ہے
لولو عقیدتوں کے ہیں جھلمل بہ چشمِ دہر
جگمگ کہیں بہ لب کوئی مرجانِ نعت ہے
لفظوں میں روشنی کے خزانے انڈیل دے
وہ جادوئی چراغ قلمدانِ نعت ہے
صارم اسے نصیب ہیں آسانیاں تمام
پیہم جو ایک شخص پریشانِ نعت ہے
ارم بسرا، لاہور، پاکستان
لوح و قلم کی شرح قلمدانِ نعت ہے
أرض و سماوا صفحہ دیوانِ نعت ہے
مسلم ہوں میرے گھر میں حیا کے اصول ہیں
پردے میں رہتے ہیں سبھی احسانِ نعت ہے
بچے جوان بوڑھے سبھی نعت خوان ہیں
کنبے پہ میرے بارش بارانِ نعت ہے
والشمس والقمر ہو کہ والیل والضحی
اللہ کی طرف سے یہ سامانِ نعت ہے
صلو و سلمو پہ عمل کیجیے جناب
اس حکم کا اداریہ عرفانِ نعت ہے
اسحاق اکبری، اودیپور، راجستھان، انڈیا
مکمل نام : محمّد اسحاق اکبری نقشبندی
انسان کیسے لکھے جو شایانِ نعت ہے
نازل کیا خدا نے وہ قرآن نعت ہے
اس زندگی میں کیا میں پڑھوں گا لحد میں بھی
""ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے""
دنیا کی زندگی ہو کہ عقبیٰ کی زندگی
دونوں جہاں میں اپنی تو پہچان نعت ہے
میں کیا ہوں کیا نہیں ہوں یہ ہرگز نہ پوچھیۓ
جیسا بھی ہوں جو بھی ہوں یہ فیضان نعت ہے
حاجت ہی کیا دوا کی میں بیمار عشق ہوں
میرے لئے تو درد کا درمان نعت ہے
ہم کو کسی بھی تیرگی کا خوف کیوں ہو جب
عشق حضور شمع شبستان نعت ہے
کچھ ایسی نعت سرور دیں میں ہے چاشنی
صد بار گنگنا کے بھی ارمان نعت ہے
اسحاق اس سرور کو کیسے کروں بیاں
حاصل جو میرے قلب کو دوران نعت ہے
اسد علی اسد، اسلام آباد، پاکستان
احمد ؑ میں یہ جو حمد ہے جزدانِ نعت ہے
مدحت نبی ؑ کی اصل میں قرآنِ نعت ہے
عشقِ نبی ؑ میں دل تو سُلیمانِ نعت ہے
لیکن میرا دماغ بھی سَلمانِ نعت ہے
جو احترامِ حضرتِ عمرانِ ؑ نعت ہے
مجھ کلمہ گو کے واسطے ایمانِ نعت ہے
محشر کی دھوپ اُن کو جلائے گی کیا بھلا
جن عاشقوں پہ سایہ ءِ دامانِ نعت ہے
ممکن ہے راز ہو یہ الف لام میم کا
ہر ایک حرف حاملِ دیوانِ نعت ہے
کر کے عمل رسول ؑ کی سیرت پہ دیکھ لیں
ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے
گھر سے چلوں مدینے کو پڑھتے ہوئے درود
کافی مجھے سفر میں یہ سامانِ نعت ہے
عشقِ نبی ؑ میں وہ بھی بلالِ نبی ؑ ہوا
جس شخص کی زبان کو عرفانِ نعت ہے
کرنا یقیں رسول ؑ کی ہر ایک بات پر
دیں کی نظر سے دیکھیں تو عنوانِ نعت ہے
رگ رگ میں جو اسدؔ ہے رواں عشقِ مصطفیٰ ؑ
میرا لہو نہیں ہے یہ دورانِ نعت ہے
اسلم رضا خواجہ، لاہور، پاکستان
رب نے کشاد کر دیا دامان نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
ہم ایسے لوگ لائے ہیں ایمان غیب پر
یعنی ہمارے واسطے ایمان نعت ہے
تیرہ شبی میں نور کا مینار انکا نام
مردہ دلوں کے درد کا درمان نعت ہے
نخل وحجر جھکے ہوئے رطب اللسان ہیں
انکے ہر اک غلام کی پہچان نعت ہے
نوع بشر کے واسطے دستور آخری
پڑھ لو خدا کا سارا ہی قرآن نعت ہے
ان کے خدا کے وعدہ لاریب کی قسم
ہر سمت کائینات میں اعلان نعت ہے
اشرف نقوی ، شیخوپورہ ، پاکستان
مجھ پر مرے حضور کا احسانِ نعت ہے
میرے لیے کھلا ہوا میدانِ نعت ہے
اُن کا کرم جو ہو تو ہر اِک لفظ محترم
گر چاہیں وہ، غزل میں بھی اِمکانِ نعت ہے
گھر میں جو میرے رحمت و برکت ہے ہر گھڑی
قرآن کا وسیلہ ہے، فیضانِ نعت ہے
شانِ رسولِ پاک میں نازل کیا گیا
یعنی قرآنِ پاک ہی قرآنِ نعت ہے
آقا! مجھے بھی شہرِ مدینہ بلایئے
مجھ کو بھی در پہ پڑھنے کا ارمانِ نعت ہے
گر میرے ٹوٹے پھوٹے یہ الفاظ ہوں قبول
بخشش کو میری کافی یہ دیوانِ نعت ہے
رب سے اگر ہے پیار، اطاعت نبی کی کر
سب مومنوں سے رب کا یہ فرمانِ نعت ہے
ماں باپ میرے اور میں خود آپ پر فدا
بس اِک یہی عقیدہ ہی ایمانِ نعت ہے
سیرت پہ اُن کی چلنا ہو جب مقصدِ حیات
"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
اشرف میں ہر گھڑی تھا گماں میں گھرا ہوا
گر پُر یقیں ہوں آج تو ایقانِ نعت ہے
اشرف یوسفی، فیصل آباد، پاکستان
لطف و سرور و کیف جو دورانِ نعت ہے
نخل ِ دل و نظر پہ یہ بارانِ نعت ہے
ہر اک ظہور پر تو ِاعیانِ نعت ہے
ہر گوشہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے
اس عالم ِخراب میں صحرائے خواب میں
صد شکرہم پہ سایہ ء مژگانِ نعت ہے
گلہائے رنگا رنگ ہیں اسمائے شاہ ِدیں
دامان نو بہار یہ دامانِ نعت ہے
میثاقِ مصطفےٰ تھا جو یوم ِالست تھا
قالو بلا تو اصل میں پیمانِ نعت ہے
ان کی قبولیت سے سخن کو ہے استجاب
اک لفظ بھی کہاں مرا شایانِ نعت ہے
روشن دل و دماغ ہیں حب ِرسول سے
طیبہ کی خاک سرمہ ء چشمانِ نعت ہے
اشرف در ِحضور تلک لے کے جائے گا
اس دستِ نارسا میں جو دامانِ نعت ہے
اشفاق احمد غوری، ملتان، پاکستان
رفعت خیال و فکر کی عرفانِ نعت ہے
معراج میرے حرف کی دامانِ نعت ہے
ہم تو فقط رعایا ہیں ملکِ نعوت کی
واللہ رب کی ذات ہی سلطانِ نعت ہے
حرفِ نیاز ،اشکِ رواں، عشقِ محترم
فہم و شعور میں یہی سامانِ نعت ہے
فکر و خیال مائلِ نعتِ نبی ہوں گر
"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"
مٹنے لگی ہے حرف و معانی کی تشنگی
لفظوں کے ریگ زار پہ بارانِ نعت ہے
سجدے میں ہے برائے تشکر مرا قلم
میرے قلم کی نوک پہ احسانِ نعت ہے
کہتے ہیں میرے جاننے والے یقین سے
اشفاق صدقِ قلب سے قربانِ نعت ہے
اصغر شمیم، کولکتہ، انڈیا
قرآن نعت ہے مرا ایمانِ نعت ہے
"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"
جو بھی ہوں میں تو ان کے وسیلے سے آج ہوں
میرے لئے تو ان کا یہ فیضانِ نعت ہے
اب تو رہوں میں ان کے ہی ہمراہ ہر گھڑی
سرکار دو جہاں کا وہ احسانِ نعت ہے
لکھتا رہوں میں آپ کے بارے میں رات دن
میری بھی زندگی کا یہ ارمانِ نعت ہے
کتنا سکون ملتا ہے لکھتا ہوں جب شمیم
میرے لئے تو میرا یہ دیوانِ نعت ہے
اعجاز حسین عاجز ، گوجرانوالہ ، پاکستان
ہم ہیں، قلم دوات ہے، میدانِ نعت ہے
کیونکہ ہمیں ازل سے ہی فرمانِ نعت ہے
عالم فدائے وسعتِ دامانِ نعت ہے
جس جس کو دیکھیے وہی قربانِ نعت ہے
نعتیں ہیں اس میں جیسے ہوں قرآں کی آیتیں
سینے میں دل نہیں مرے، جزدانِ نعت ہے
ہر دور کے شعور کی تشکیل کے لیے
درکار ہر زمانے کو فیضانِ نعت ہے
نورِ تجلیاتِ رسالت کے فیض سے
’’ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘
کلیاں چٹک چٹک کے یہی کہہ رہی تھیں سب
ہم کو بھی شوق دید ہے، ارمانِ نعت ہے
حسان ایک فرد نہیں ایک سوچ ہے
مدحت سرا ہے جو بھی وہ حسانِ نعت ہے
توصیف مصطفےٰ کی ہے توصیفِ کردگار
بین السطورِ حمد بھی عنوانِ نعت ہے
اس پر فدا، ہے جس کو ودیعت شعورِ نعت
اس پر نثار جو بھی سخندانِ نعت ہے
تلقین خود حضور نے سعدی کو جو کیا
وہ مصرعِ درود ہی سلطانِ نعت ہے
اے وجہ کُن فکاں! شہِ ما کان ما یکون
بس تیری ذات کے لیے امکانِ نعت ہے
لا یمکن الثنا کما کان حقہ
ذکر علو و مرتبت و شانِ نعت ہے
سیاح لامکاں تری اک سیر کے طفیل
اب لامکاں بھی شاملِ امکانِ نعت ہے
عاجز وفور شوق میں حد ادب رہے
لا ترفعوا کہ آیت دربان نعت ہے
سید اعجاز حسین عاجز، گوجرانوالہ، پاکستان
افتخار حسین کریمی، واہ کینٹ، پاکستان
لُطفِ دوام مُجھ پہ بفیضانِ نعت ہے
اُن کے کرم سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے
مجھ سا حقیر مدحتِ سرکار کیا کہے
جاری اُنہی کے فیض سے فیضانِ نعت ہے
سرکار کا ادب رہے ملحوظ ہر گھڑی
ناداں! دھیان کر کہ یہ میدانِ نعت ہے
پڑھتا ہوں عترتِ شہِ کونین پر درود
ہر ہر نَفَس فداٸی و قُربانِ نعت ہے
پہلے الف سے آخری پارے کی سین تک
قُرآنِ پاک دیکھ لو قُرآنِ نعت ہے
گر ہو نظر میں رحمتِ عالم کی ذاتِ پاک
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
سرکار! مجھ کو اذنِ ِثناء بخش دیجیے
سرکار! میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے
بچپن سے لوریوں میں سُنی نعت آپ کی
یوں ہی نہیں مزاج میں میلانِ نعت ہے
اِس کے سبب ہی حشر میں ہو گی مِری نجات
کافی ہے میرے پاس جو سامانِ نعت ہے
لکھے بشر تو کیسے لکھے مدح آپ کی
وہ لفظ ہی نہیں کہ جو شایانِ نعت ہے
اظفر کو کاش حشر میں سرکار یوں کہیں
کتنا حسیں تُو لایا یہ دیوانِ نعت ہے
اقبال خان، باغ، کشمیر، پاکستان
مکمل نام : محمد اقبال خان
آقا کی بارگاہ میں اعلانِ نعت ہے
قرآں جو کہہ رہا ہے وہی شانِ نعت ہے
انگلی کا پور پور ثناء خوان ہے مرا
یوں نعت لکهتے رہنا بهی عرفانِ نعت ہے
ہر حرف بولتا ہے محبت نبی سے یے
ایسا لطیف میرا یہ دیوانِ نعت ہے
دو چار شعر میرے اگر ہوں قبول بس
رب کے حضور اتنا سا پیمانِ نعت ہے
بطحا کو جانے والی ہواؤں سے کہہ دیا
میری عقیدتوں کا یہ سامانِ نعت ہے
الیاس بابر اعوان، راولپنڈی، پاکستان
اس بحرِ بے کنار میں ایقانِ نعت ہے
یہ اشک ہی نہیں میاں، سامانِ نعت ہے
جو کچھ بھی ہے خیالِ صد افکار کا محیط
ہستی کے تار و پود کا دیوانِ نعت ہے
کیا پوچھتے ہو مجھ سے مقامِ غنا کا راز
ایمان کی کہوں مرا ایمانِ نعت ہے
جز رب کے کون مدح کا حق کرسکا ادا
قرآن عین آپ کے شایانِ نعت ہے
اے کاش مجھ پہ آپ کا انعام ایسے ہو
دیکھیں مجھیں تو بولیں کہ حسنِ نعت ہے
ہر لحظہ انہماک ہے آقا کی ذات پر
ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے
میں نعت لکھ رہا ہوں کہ باغِ ارم میں ہوں
ہر حرف جیسے سنبل و ریحانِ نعت ہے
امجد ربانی مصباحی، آستانۂ ربانیہ، شرف آباد، جبل پور شریف، بھارت
بشکریہ : غلام فرید واصل
- دل اشتیاق مند گلستانِ نعت ہے*
- سنتے ہیں نرم خوٗ بڑا، رضوانِ نعت ہے*
- حسنِ نبی کی تابِ حکایت کہاں سے لاے*
- کیا سرخروے فکر پشیمانِ نعت ہے*
- کیسی کشش ہے، ذکرِ رسالت مآب کی*
- جو تاجدارِ فکر ہے، دربانِ نعت ہے*
- ہر سانس عطرِ ذکرِ نبی میں بسائیے*
- ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*
- زخم جگر میں عشقِ نبی کی ہیں لذتیں*
- صد شکر پاس نشترِ ذیشانِ نعت ہے*
- پھر آج ہیں حکایتیں، حسنِ حضور کی*
- پھر آج گرم محفلِ یارانِ نعت ہے*
- ہوکر نثار گیسو و رخ پر حضور کے*
- میری عروس فکر، غزل خوان نعت،ہے*
- ہر آن یاد شاہ میں اشکوں کی ہے لڑی*
- شامِ فراق، دعوتِ مژگانِ نعت ہے*
- "امجد" کی نعت گوئی بھی فیضاں ہے نعت کا*
- کب اِس کی دسترس سرِ عرفانِ نعت ہے*
امجد نذیر ، میلسی
یاسین نعت، سورہ ءِ رحمان نعت ہے
نعتوں میں سب سے اعلی یہ قرآن نعت ہے
کاغذ قلم دوات مہکتے ہیں رات کو
مہکیں نہ کس طرح یہ قلمدانِ نعت ہے
ہر چیز کائنات کی ان کےلیے بنی
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
پڑھ کر درود گھر سے روانہ ہوا ہوں میں
اب کوئی ڈر نہیں ،کہ نگہبان نعت ہے
امجدؔ نجات کےلیے کافی ہے حشر میں
گر میرا ایک شعر بھی شایانِ نعت ہے
انعام الحق معصوم، ملتان، پاکستان
مکمل نام : انعام الحق معصوم صابری
دن رات نعت ہے مرا ایمان نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
تم کھول دیکھ لو اسے معلوم تم کو ہو
قرآن نعت ہے تو یہ ایقان نعت ہے
میری نجات ان کی شفاعت سے بالیقیں
زاد سفر مرا تو یہ سامان نعت ہے
میلاد محفلیں ہیں سجی گھر میں عاشقو
خوشبو مہک رہی ہے گلستان نعت ہے
صد شکر رب کا میرے خیالات پاک ہیں
کہ عشق میں حضور کے دیوان نعت ہے
معصوم خوش نصیب رقم نعت ہم نے کی
پائی ہے راہ جس سے وہ حسان نعت ہے
اویس ازہر مدنی، فیصل آباد، پاکستان
مکمل نام : محمّد اویس ازہر مدنی
کہئے کسے کسے کہ وہ حسانِ نعت ہے
پہچاں ہے جس کی نعت وہ سلطانِ نعت ہے
کھلتے ہیں یاں گُلابِ ثنائے محمدی
لپٹا طہارتوں میں یوں بُستانِ نعت ہے
احکام اس میں اور بھی موجود ہیں مگر
قرآنِ پاک اصل میں دیوانِ نعت ہے
سرکار! بے ہنر پہ بھی اک چشمِ التفات
سرکار! میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے
قائم سخن وری میں ہے یوں انفرادیت
صد شکر اپنے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات ہے سیرت سے فیضیاب
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہم سے تونگروں کو ہو کس چیز کی کمی
جب توشۂ حیات میں سامانِ نعت ہے
حد سے وفورِ شوق میں بڑھنے سے احتیاط
چلئے سنبھل سنبھل کے کہ میدانِ نعت ہے
شہرت وقار عزت و تکریم آبرو
ازہر کرم یہ ہم پہ بفیضانِ نعت ہے
ایم رضوان عدم، راولپنڈی، پاکستان
یہ ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
کیا اوج پر حضور کا فیضانِ نعت ہے
"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
کتنا یقین دل کو بہ فیضانِ نعت ہے
مجھ ایسے بے ہنر کو بھی ارمانِ نعت ہے
فیضانِ نعت ہے کہ یہ وجدانِ نعت ہے
ہر ایک سانس اب میری عنوانِ نعت ہے
عرفانِ مصطفیٰ ہی، ہے عرفانِ ایزدی
توحید کا بیان بھی اعلانِ نعت ہے
بے شک نزولِ وحی مکمل ہوا مگر
جاری ہماری روح پر احسانِ نعت ہے
ممکن نہیں ثنا ئے محمد (ﷺ) بجز کرم
فیضانِ نعت اصل میں سامانِ نعت ہے
باغِ بہشت کو بھی میسر یہ بُو کہاں
جو نکہت و مہک بہ گلستانِ نعت ہے
سجدے میں محوِ شکر چلا جا رہا ہے آج
حاصل مرے قلم کو بھی وجدانِ نعت ہے
آتا ہے چاند بھی اسی جلوے کی چاہ میں
رونق فزا جو نورِ شبستان_ نعت ہے۔
عاجز، گناہگار، سیہ كار ہوں مگر
آقا کا مجھ حقیر پہ احسانِ نعت ہے
یہ بھی مقام آتا ہے اظہارِ نعت میں
عرفانِ عجز ہی جہاں عرفانِ نعت ہے
اشکوں سے قلب و روح مطھر ہوئے"عدم"
کتنا کرم نواز یہ بارانِ نعت ہے
بابر علی اسد ، فیصل آباد ، پاکستان
صحرا نصیب لوگ ہیں, بارانِ نعت ہے
ہم سوکھتے نہیں ہیں تو, احسانِ نعت ہے
پھیلی ہوئ ہے رحمت ِ عالم ,کچھ اسطرح!
سینہ بہ سینہ سایہِ شاخانِ نعت ہے
یہ سبز دل , اداس لہن , اشک چشم لوگ
یہ درد خوۓ ِءحلقہ ِ یارانِ نعت ہے
ہر زاویہ کے مطمع ِء معیار , آپ ہیں
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
وہ قلب ِ کائنات پہ احسان ِ زندگی!
جاں بھی وہی ہے, اور وہی جانانِ نعت ہے
ہم نے خدا کو پایا تو, پایا ترے طفیل
سو حمد ہے, تو حمد بھی دورانِ نعت ہے
تھامے ہوۓ ہیں,اور یہ ڈر بھی تو ہے اسد
ہم خاک زاد لوگ ہیں دامانِ نعت ہے
بسمل شہزاد، فیصل آباد، پاکستان
دل کے صدف میں قطرہء نیسانِ نعت ہے
آسودہ حالِ شہر ہوں ، احسانِ نعت ہے
اقلیمِ ہفت میری قلمرو شمار کر
وہ یوں کہ میرے ہاتھ ، قلمدانِ نعت ہے
یہ بھید مجھ پہ کلمہء لَولَاک سے کُھلا
”ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے“
رنج و الم کی نذر ہوۓ جا رہے ہیں لوگ
مُنعَم ہے وہ جو سربگریبانِ نعت ہے
اے تختِ مصر ! یوسفِ دیگر تلاش کر
میری تڑپ تو جادہء کنعانِ نعت ہے
پی پی کے زندگی کی طرف لوٹتے چلو
اے مُردگاں! یہ چشمہء حیوانِ نعت ہے
کاغذ، قلم، دوات، شکستہ سا اک چراغ
زادِ سفر مرا ، یہی سامانِ نعت ہے
کچھ اور جذب و فکر کی لَو کو اُبھار دے
بسملؔ ابھی تُو دُودِ چراغانِ نعت ہے
بشرٰی فرخ، پشاور، پاکستان
کیا وسعتِ خیال بہ دامانِ نعت ہے
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
کھلتے ہیں روز ہی تو نئی مدحتوں کے گُل
مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے
دل اور زبان مدح سرائی میں ہیں مگن
سر چشمہِ حیات یی میلانِ نعت ہے
اعزاز مل رہا ہے ثنائے رسولؐ کا
یہ مجھ گنہگار پہ احسانِ نعت ہے
تکتا ہے صرف سوز و گدازِ جنونِ عشق
معیار میں جدا ہے جو میزانِ نعت ہے
ہر لفظ با ادب رہے ہر حرف باوضو
یہ عام سی زمیں نہیں میدانِ نعت ہے
ملحوظ ہر خیال میں تقدیس و احترام
ہر سوچ با وقار ہویہ شانِ نعت ہے
گر ہو قبولیت کا شرف بھی عطا اسے
ہدیہ بنامِ سید سلطانِ نعت ہے
بشری سفر ہے طیبہ کا اور زاد ِ راہ صرف
گنجینہِ درود ہے سامانِ نعت ہے
بلال حیدر گیلانی ، مظفرآباد، کشمیر، پاکستان
ٹوٹا جمودِ خامہ یہ فیضانِ نعت ہے
مدحِ نبی عطا ہوئی، احسانِ نعت ہے
خاطر میں سنتِ نبوی ہو اگر، تو پھر
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
مدحت سرا ہے عرش پہ خود ذاتِ لم یزل
گویا درود، اصل میں یزدانِ نعت ہے
سجتی ہے روز بزم درود و سلام کی
گھر میرا، گھر نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے
دنیا کی رونقوں سے اسے کیا غرض بھلا
حیدرؔ کہ سب کہیں جسے مستانِ نعت ہے
پرویز ساحر، ایبٹ آباد، پاکستان
یُـوں ہی تو میرا دِل نہیـں قُربانِ نعت ہے
حـاصِـل مجھے سکُــون بَہ فیضـان ِ نعت ہے
جب پیش ہو گا نامہ ِ اَعمـــــــال حَشــــر میں
کہہ دُوں گا میرے پاس یہ دیـــوان ِ نعت ہے
حســان ہوں ' وہ کعب ہوں ' اِبن ِ زُہَیـر ہوں
ہر ایکــــــــ اپنی ذات میں سُلطــان ِ نعت ہے
بار ِ الٰہ نے کِیــــــــــــا ذکــــــــــــر ِ نبی بَلند
وا اِس لئـے دریـــــــچــــہ ِ اِمـکان ِ نعت ہے
قُـــرآن اور حدیث میں مذکُــــور جــــو نہیں
ایســــی غُــلُوئیت کہــاں شـــایــان ِ نعت ہے
کچھ کم نہیں ہے یہ بھی کسی پُل صراط سے
یــہ جــو ہمــارے ســـامنے میـــدان ِ نعت ہے
یوں ہی برہنہ پا نہیـں چــــــلتا مَیـں رَیگ پر
گُل زار سے بھی بڑھ کے بِیابان ِ نعت ہے
رکھتا ہُوں پُھونکـــ پُھونکـــ کے مَیں اپنا ہر قدم
مجھ دست رَس میں جب سے قلم دان ِ نعت ہے
ہم سیرت ِ نبی کو جو لائیں بہ روئے کار
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "
سـاحِـرؔ ! مَیں اپنی ذات کا پھر ذِکر کیوں کرُوں
جب اُن کی ذات ِ پاکـــ ہی خـود جــان ِ نعت ہے
ثروت رضوی، کیلی فورنیا، امریکہ
بشکریہ : سمعیہ ناز
یارب یہ میرا دل ہے کہ دیوانِ نعت ہے
تطہیر ہوگئی ہے یہ فیضانِ نعت ہے
پہنچوں سرِ مدینۂ عشاق ِ آرزو
پکڑا ہوا جو خیر سے دامانِ نعت ہے
دھڑکن میں گونج صلِ علیٰ کی بصد خلوص
میری ہر ایک سانس میں امکان نعت ہے
دل میں رواں رکھے ہے روانی درود کی
دل کے بہت قریب جو شریانِ نعت ہے
خود کو حرم میں دیکھ رہی ہوں بچشمِ تر
یہ معجزہ ہے یا مرا وجدانِ نعت ہے
لگتا ہے جیسے رات بسر کی مدینے میں
یہ خواب تو نہیں مرا عرفان نعت ہے
جاروب کش ہے بس اسی دہلیز کا فقط
میرے قلم کا بخت کہ سلمان نعت ہے
گریہ فراق عشق و جنوں ہجر اور خلش
کچھ بھی نہیں یہی میرا سامانِ نعت ہے
تقلید کررہی ہوں کہ تمثیل کے لیے
فرزوق بھی سامنے حسانِ نعت ہے
کیا نام ہے یہ نامِ محمد ص خدا قسم
یہ نام ہی تو شمع شبستانِ نعت ہے
آقا قبول کیجئے ثروت کا یہ کلام
گر میرا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے
تحسین یزدانی، ملتان، پاکستان
مجھ سا بشر جو صاحبِ دیوانِ نعت ہے
اللہ کا کرم ہے، یہ فیضانِ نعت ہے
تفہیمِ نعت ہے جسےعرفانِ نعت ہے
حسانِ نعت ہے وہی سلمانِ نعت ہے
ممنونِ نعت ہیں میری سوچیں،مرے خیال
نطق و زبان و حرف پہ احسانِ نعت ہے
جاری رہے گا تا بہ ابد نعت کا سفر
روشن ازل سے دیدہءِ امکانِ نعت ہے
معلوم اب ہوئی ہے مجھے دل کی کیفیت
کعبہ نہیں ہے دل میرا جز دانِ نعت ہے
دائم یہاں پہ رہتا ہے موسم بہار کا
یہ گلستانِ حمد و خیابانِ نعت ہے
احرامِ عشق باندھ کے نکلا ہے ہر خیال
فکر و نظر کےسامنے میدانِ نعت ہے
ملتان کا سکونتی ہوں، خوش نصیب ہوں
یہ سر زمین شعر نگارانِ نعت ہے
تحسین ہے فقیر، فقیرانِ نعت کا
یعنی کہ اک غلامِ غلامانِ نعت ہے
تسنیم عباس قریشی، سرگودھا، پاکستان
معراجِ مصطفٰی ص مرا عنوانِ نعت ہے
اور قابَ ءِ قوسین ہی شایانِ نعت ہے
خوش آمدید کہتے ہیں ہر موڑ پر نبی
منجانبِ خدا ہوا سامانِ نعت ہے
سدرہ پہ رک گئے ہیں قدم جبرائیل کے
پاپوشِ مصطفٰی ص ہمہ شاہانِ نعت ہے
ہٹتے گئے حجاب سبھی آپ کے لیے
ہر چیز کائنات کی قربانِ نعت ہے
کامل ترین اسوہ ہے خیر الانام ص کا
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت یے
تسنیم خوش نصیب ہے دونوں جہان میں
سلطانِ نعت سے ملا عرفانِ نعت ہے
تنظیم الفردوس، کراچی، پاکستان
مکمل نام : ڈاکٹر تنظیم الفردوس
مدوجذر حیات کا سامانِ نعت ہے
یہ ساری کائنات ہی امکانِ نعت ہے
قرآن ہے گواہ بلندی کے ذکر میں
کیا اس سے بھی زیادہ کوئی شانِ نعت ہے
سیرت رسولِ پاک کی پیشِ نظر رہے
یہ جانِ نعت ہے یہی ایمانِ نعت ہے
بس اک نگاہِ شوق ہے اور میری چشمِ نم
میرے لیے تو ہاں یہی سامانِ نعت ہے
میں اور لب کشا کروں ایوانِ نعت میں
حسّان شاہزداۂ ایوانِ نعت ہے
محسن، امیر اور رضا عندلیب ہیں
یہ ہند کی زمین بھی بستانِ نعت ہے
تکمیلِ دیں کا حکم ہے اس امر کی دلیل
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
تنویر پھول، کراچی، پاکستان
حق کی عطا سے بارش فیضان نعت ہے
فکر و شعور و قلب میں ارمان نعت ہے
وہ جان کائنات ہیں , وہ شان کائنات
' ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے '
لازم ہے نعت کہنے میں حساں کی پیروی
حسان باغبان گلستان نعت ہے
قرآں کی روشنی میں کہو نعت شاہ دیں
رب کی نگہ میں بس یہی فرقان نعت ہے
ذیشان ان کی مدح سے ہر صنف شاعری
کاشانہ ء سخن میں دبستان نعت ہے
احمد بھی ان کا اسم ہے , اک نام ہے یتیم
یعنی 'الف' سے 'ی' سبھی دیوان نعت ہے
بعد از خدا بزرگ ہیں وہ , اس میں شک نہیں
حمد خدا کے بعد قلم دان نعت ہے
ممدوح وہ خدا کے ہیں, کج مج زبان ہم
لائیں کہاں سے لفظ جو شایان نعت ہے
رطب اللساں ہیں بلبلیں گلزار نعت میں
صدہا برس سے مہکا یہ بستان نعت ہے
سرور کی شاں میں اس نے 'رفعنا' ہے کہہ دیا
خود رب کائنات نگہبان نعت ہے
اس کے کرم سے پھول کھلیں نعت کے سدا
تنویر پھول ! خوب یہ گلدان نعت ہے
تنویر جمال عثمانی، مراد آباد، انڈیا
میری نظر میں صرف یہی جانِ نعت ھے
سرکار ﷺ عشق آپ کا' ایمانِ نعت ھے
نفرت' حسد' نفاق نے پائ نہیں جگہ
فکر و نظر پہ میرے یہ احسانِ نعت ھے
سچ بولنے کا وصف عطا ہو گیا جسے
اس کو ہی بس جہان میں عرفانِ نعت ھے
نسلیں مہک رہی ہیں مرے گھر کی دوستو
حاصل جو تین پشتوں سے لوبانِ نعت ھے
حسّان کعب جامی رضا سعدی اور ھم
پرنور سب کے عشق سے ایوانِ نعت ھے
ادراکِ عظمتِ شہِ لولاکﷺ ہو تو آ
سبکے لئے کہاں بھلا میدانِ نعت ھے
سیرت کا آئنہ ہو اگر سامنے تو پھر
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ھے "
حسنِ عمل بھی رکھ دے عقیدت کے ساتھ ساتھ
اے رہ روانِ نعت یہ میزانِ نعت ھے
آئے جو حرف نامِ نبیﷺ پر تو دیجے سر
یہ انکے اہلِ بیعت کا عنوانِ نعت ھے
تنویر میں بھی ہو گیا دنیا میں با وقار
فیضانِ نعت ھے یہی فیضانِ نعت ھے
جاوید صدیقی، لکھنوو، انڈیا
نسبت مرے حضور کی سامان نعت ہے
ان کا حسیں خیال ہی عنوان نعت ہے
مجھسے گناہگار کو بخشش کی دی نوید
مجھسے گناہگار پہ احسان نعت ہے
آتا ہے قبل نعت جس اک ذات کا خیال
اللّه کا حبیب ہے وہ ، جان نعت ہے
روز ازل رکھی گئی بنیاد نعت کی
کتنا بلند سوچئے ایوان نعت ہے
آیات ِ بینات بتاتی ہے یہ ہمیں
اللّه کا کلام دبستان نعت ہے
کیا لطف ہو فرشتے بھی میزان پر کہیں
تیرا نجات نامہ یہ ، دیوان نعت ہے
ہے شاعران نعت پہ انعام کبریاء
" ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے "
یاد شہ انام کی خوشبو میں ہے بسا
" جاوید" تیرا دل ہے کہ بستان نعت ہے
جاوید عادل سوہاوی، جرمنی
حسن وجمال آپﷺ کا قرآن۔ نعت ہے
قرآں الف سے سین تلک شان۔ نعت ہے
ہر عالم۔ نمو میں ہے خوشبو حضور کی
"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔ نعت ہے"
سب عاشقان۔ صورت ۔ محمود کے لئے
سیرت شہ۔ عرب کی دبستان نعت ہے
گلہائے باغ۔ مدح و ثنا ہوں جو رو برو
اَمثال۔ عندلیب سخن دان۔ نعت ہے
طیبہ سے لامکان تلک جو ہے فاصلہ
ہر گام مصطفےٰ کا گلستان۔ نعت ہے
سر پر ہے لخت۔ ابر۔عنایات۔ وحدہ
اپنےمزاج۔ دل کو جو میلان۔ نعت ہے
سجدہ وہ کربلا کا قصیدے کا ہے جگر
اقصیٰ میں جو نماز ہے وہ جان۔ نعت ہے
باغ۔ ۔ شب۔ فلک ہے ضیا بار اس لئے
تاروں کا ہر ہجوم خیابان ۔ نعت ہے
والشمس کا ہو نور کہ واللیل کی ادا
غمزہ ہر ایک وصف کا وجدان۔۔ نعت ہے
ہر سورت ایک پھول ہے ہراک حدیث شاخ
یہ کنز۔ رنگ وبو ہے جو عرفان۔ نعت ہے
آواز۔کن فکاں ہے خصائص کا زمزمہ
گویا ظہور۔ہست بھی اعلان۔ نعت ہے
وہ سلسبیل و کوثر و تسنیم۔ خلد سب
مل جائیں تو سمجھنا کہ احسان۔ نعت ہے
جمیل حیدر عقیل، نیویارک، امریکا
بشکریہ : عباس عدیم قریشی
موسم ہے دل کا جاں فزا امکان نعت ہے
میری سخنوری پہ بھی فیضان نعت ہے
لفظوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہی
ان کی ولائے پاک ہی سامان نعت ہے
ایسے ہی تو کھلی نہیں رہ پلِ صراط کی
ہاتھوں میں اس فقیر کے دامان نعت ہے
کیسے نہ نعت پاک ہو دل سے مرے کشید
رگ رگ میں جب رچا بسا ایمان نعت ہے
قندیل جب سے ہو گئی روشن درود کی
سب حسرتیں ہی مٹ گئیں، ارمان نعت ہے
ایسا چلا ہے دور درود و سلام کا
ہونٹوں پہ قدسیوں کے بھی گردان نعت ہے
اے دل اسی میں ڈوبنا تم احترام سے
جس ساگرِ خلوص میں ہیجان نعت ہے
جنید نسیم، راولپنڈی، پاکستان
مکمل نام : جنید نسیم سیٹھی
جب سے خیال و فکر کو میلانِ نعت ہے
ہر سانس ایک شعر بہ عنوانِ نعت ہے
مولود ہو بیانِ سراپا ہو، خُلق ہو
قائم انھی سے رونقِ بُستانِ نعت ہے
ہر رُخ حیاتِ پاک کا پیشِ نظر رہے
سیرت میں گام گام پہ سامانِ نعت ہے
نے قدرتِ کلام نہ فہمِ سخن وری
سلطانِ انبیا کا ادب ، جانِ نعت ہے
صحنِ بیان و ذکر سے باہر تو دیکھیے
"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر سمت کھلتے رہتے ہیں گُل ھائے رنگ رنگ
میرا وطن بھی گویا گُلستانِ نعت ہے
معبود! مجھکو نعت کا عرفان کر عطا
وہ لفظ ہو عطا کہ جو شایانِ نعت ہے
مجھ ایسا بے ہُنر بھی ہوا معتبر جنید
میرا کمال کیا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے
جہانداد منظر القادری، کراچی، پاکستان
دعویٰ ذرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے
حاضر جہاں پہ ہوں مَیں وہ ایوانِ نعت ہے
ممدوحِ ذات حق کی ہے مدحت کا مرحلہ
بے قیل و قال محض یہ احسانِ نعت ہے
رب کا کلامِ نُور ہے تعبیرِ حُسنِ کُل
نعتوں کی سلطنت کا وہ سُلطانِ نعت ہے
عشقِ نبی میں ڈوب کے دیکھو تو تب لگے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
لے کر چلا ہُوں نعت کی فردِ عمل کو ساتھ
میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے
آقا کے نقشِ نعلِ عطا زیبِ حرف ہیں
منظَر بھی آج صاحبِ دیوانِ نعت ہے
جوہر قدوسی، کشمیر، بھارت
بشکریہ : غلام فرید واصل
ارض وسماء میں ہر طرف فیضانِ نعت ہے
فرقان لا یزال ہی شایانِ نعت ہے
مدح و ثنائے خواجہ ہو دوران نیم شب
اشک سحر گہی سے ہی عرفان نعت ہے
شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
عشق نبی فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں
یہ میرا جذب و کیف بھی احسان نعت ہے
میں بے ہنر ہوں تاب سخن کی طلب مجھے
ارمان کوئی ہے تو بس ارمان نعت ہے
حسان المصطفٰی ، سیالکوٹ، پاکستان
یونہی نہیں یہ رفعتِ عنوانِ نعت ہے
سب حمد جس کی ہے وہی نگرانِ نعت ہے
سب امتیں پڑھیں گی وہاں نعتِ مصطفیٰ
میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے
کچھ اشکِ بے مراد ہیں آنکھوں میں موجزن
میں ہوں، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے
سائے میں جس کے میرے سبھی عیب چھپ گئے
خوش بخت ہوں، ملا مجھے دامانِ نعت ہے
اُسکی ثنا ہی اول و آخر ہے دوستو
اِسکے سوا ہے جو بھی، وہ دورانِ نعت ہے
غزلوں میں جو بھی آیا گماں میں وہ کہہ چُکا
ہٗشیار باش! رُو بقلمدانِ نعت ہے
ہر شعر پُل صراط ہے، محتاط ہو کے چل
ہر نعت خود کہےتٗجھے عرفانِ نعت ہے
ہر دور کی رگوں میں رواں اُنکا ذکر ہے
گویا زماں زماں نہیں، دیوانِ نعت ہے
اُمیدِ وصل، اشک، غمِ ہجر، اور اشک
یہ زادِ راہِ عشق ہے، سامانِ نعت ہے
یہ نام تھا، دعا تھی کہ والد کا خواب تھا
جِسکے سبب ہی آج یہ حسانِؔ نعت ہے
حسن رضا حسانی ، اسلام آباد، پاکستان
حبِّ رسول سے سجا دامانِ نعت ہے
توصیفِ مصطفیٰ ہی فقط شانِ نعت ہے
لفظوں کے موتی اور نکھرتے ہیں نعت سے
جو کچھ ہے عشق میں لکھا وہ جانِ نعت ہے
اب ذہن کا جہان معطر ہوا مرا
وہ اس لیے کہ دوستو فیضانِ نعت ہے
مجھ کو سلیقہ آ گیا مدحت سرائی کا
اچھا سخن طراز ہوں احسانِ نعت ہے
یوم ِ حساب سے بھلا گھبرائے کیوں حسن
دیکھو تو اس کے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
محمد حسن رضا حسانی، اسلام آباد، پاکستان
حسن علی خاتم، لاہور، پاکستان
کچھ پاسِ آرزو ہے، نہ عرفانِ نعت ہے
اک شوق ہے سو وہ بھی نہ شایانِ نعت ہے
اتنا سا دل ہے اور سرِ میدانِ نعت ہے
حاشا یہ حوصلہ نہیں، فیضانِ نعت ہے
کیا کیا نہ زیرِ سایہِ دامانِ نعت ہے؟
ہر شے پہ کائنات میں احسانِ نعت ہے
جب لفظِ کن ہی مطلعِ دیوانِ نعت ہے
پھر کیا ہے جو نہ داخلِ دامانِ نعت ہے؟
مخصوص شاعری سے نہیں نعت کا عمل
سنت کو جو بھی تھام لے، حسانِ نعت ہے
جو اشک ان کی یاد میں نکلے، سو شعر ہے
جس دل میں بھی وہ ہیں، سو دبستانِ نعت ہے
شعر و سخن میں اس کو مقید نہ جانیے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
تعریف ہے خدا کی، نبی کی ہی کیوں نہ ہو
یہ حمد ہے اگرچہ بہ عنوانِ نعت ہے
محشر کے واسطے یہ حوالہ بہت ہے دوست
خاتم فقیرِ راہِ فقیرانِ نعت ہے
حسنین الثقلین، مدینہ منورہ، سعودی عرب
مکمل نام : سید محمّد حسنین الثقلین
پَل پَل جو پَل رہا ہے، وہ ارمانِ نعت ہے
دل میں جو جاوداں ہے، وہ فیضانِ نعت ہے
کہتے ہوۓ غزل بھی، مجھے دھیانِ نعت ہے
سچ پوچھیے تو یہ مِرا پیمانِ نعت ہے
وَالَّیل، وَالضُّحی، کہیں وَالفَجر کا بیاں
کیسا حسیں سجا ہُوا قرآنِ نعت ہے
سمجھا ہے کون رُتبۂ مرسل بجز خُدا
حاصل کسے بھلا ہُوا عرفانِ نعت ہے
لازم ہے ہم نماز میں اُن پر پڑھیں درود
ثابت ہوا نماز بھی سامانِ نعت ہے
میرے خمیر میں ہے وِلاۓ نبی گُندھی
اِس واسطے سرشت میں میلانِ نعت ہے
ہوش و خرد کو دل کے مَیں رکھتا ہوں آس پاس
اِس واسطے کہ سامنے ایوانِ نعت ہے
"صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے"
”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“
حسنی کو مرحبا کہا رضوانِ خُلد نے
دیکھا کہ ہاتھ میں مِرے دیوانِ نعت ہے
حسنین اکبر، دوبئی
اُمی لـقب سے عَلَّمَ بُرہانِ نعت ہے
اقرأ باســم ربـك اعلانِ نعت ہے
وہ پہلا نعت گو وہی سلطانِ نعت ہے
ہر نعت گو رعیّتِ عمرانِ ع نعت ہے
بنیادِ مدحِ سید الابرار ص ہے درود
فرمانِ کردگار میں فرمانِ نعت ہے
شق القمر دو باٹ کی صورت بٹے ہوئے
دستِ الہُٰ العدل میں میزانِ نعت ہے
پیغمبرِ ص حیات ہیں سرکارِ ص دوجہاں
"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
جس نعت میں علی ع و محمد ص کی بات ہو
وہ کائناتِ نعت میں سلمانِ ع نعت ہے
اظہارِ کُل صفاتِ الہٰی انہی ص سے ہے
اب اس کے بعد جو بھی ہے میدانِ نعت ہے
حرفِ دعا ہے آیہءِخیرالجزا کے بعد
مجھ کو جزا کی مد میں بھی ارمانِ نعت ہے
دنیا ادب سے لیتی ہے جو نعت گو کا نام
کوئی ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے
پہلی اذانِ اسمِ محمد ص تھی عرش پر
دراصل کعبہ دوسرا ایوانِ نعت ہے
قرآں کہو صحیفہ کہو کوئی نام دو
دیوانا جانتا ہے یہ دیوانِ نعت ہے
دل سے دعائیں دیجیے مدحِ رسول ص پر
خاموشی اس مقام پہ کفرانِ نعت ہے
یہ داستان عشق ہے کارِ جہاں نہ جان
لکھنے سے پہلے یہ بتا،ایمانِ نعت ہے؟
طیبہ سے ہوکے جاتے ہیں ہم سوئے کربلا
ہر شاہراہِ عشق خیابانِ نعت ہے
اکبر میں اسـکے ہاتھ پہ بیعت ابھی کروں
جس کو بھی اس زمانے میں عرفانِ نعت ہے
حسنین شہزاد، کوٹ عبد الحکیم ، پاکستان
سُلگا ہؤا خیال میں لوبانِ نعت ہے
خوش ہیں قلم دوات کہ امکانِ نعت ہے
باب السّلام ، بابِ امان و سکون ہے
بابِ بقیع ، باب ِ خیابانِ نعت ہے
عُشّاق جانتے ہیں مقام ِ مواجہہ
عُشّاق یعنی وہ جنہیں عرفانِ نعت ہے
چشمِ خیال ، بَن کے دِوانی کبوتری
محوِ طواف ِ روضہ ءِ سلطانِ نعت ہے
تعلیم ہو، سفر ہو، تجارت ہو ، عدل ہو
" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
حسنین عاقب، مہاراشٹر ، بھارت
سیرت نبی کی، ذکرِ نبی جانِ نعت ہے
میں نعت گو ہوں، مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
آدابِ نعت گوئی قلم کو سکھائیے
اور یہ خیال رکھیے، یہ میدانِ نعت ہے
اذہان جن کے مہکے عقیدت کے نور سے
حاصل انہی کو ہوسکا وجدانِ نعت ہے
اصنافِ شعر جتنی ہیں، اپنی جگہ مگر
ہر ایک صنفِ شعر تو قربانِ نعت ہے
لفظوں کے جوڑ توڑ سے نسبت نہیں اسے
عشقِ رسول ہی سے تو پہچانِ نعت ہے
اے کاش! میری نعت سے خوش ہوکے ایک دن
کہہ دیں یہ خود نبی کہ تو خاقانِ نعت ہے
عاقب نے جس کا نام رکھا خامہ سجدہ ریز
باعث نجات کا مرا دیوانِ نعت ہے
حسیب آرزو، بکسر،بھارت
یہ دہر کیا ہے“ واللہ گلستان نعت ہے
ہر شے پہ کاٸنات کی، فیضان نعت ہے
تابع خدا کی حمد کے، ہر اعضا ہیں مرے
واللہ میری روح اسیران نعت ہے
ظلم و ستم کی دھوپ بگاڑے گی کچھ نہیں
جب تک ہمارے سر پہ خیابان نعت ہے
محفوظ تو خزاٶں سے ہر وقت ہے وہی
سایہ فگن یہ جس پہ بھی باران نعت ہے
کیسے مٹے گا تذکرہ خیرالانام کا
پروردگار جب کہ نگہبان نعت ہے
حج کی سعادتیں ہوں یا صوم و صلوة ہوں
“ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے“
شاعر کا ہونا عشق میں کچھ شرط تو نہیں
یہ عاشقِ رسول بھی مردان نعت ہے
جاکر پڑھوں میں شہر مدینہ میں با ادب
اک،،آرزو کے دل میں بھی ارمان نعت ہے
حسین امجد، اٹک، پاکستان
کب میر ے پاس آپ کے شایانِ نعت ہے
میر ے حضور دل میں یہ ارمانِ نعت ہے
قرآں بیاں کرتا ہے ، توصیف آپ کی
یعنی قرآن ِ پاک ہی شایانِ نعت ہے
میر ے حضور آپ کا مدحت نگار ہوں
میر ے حضور مجھ پہ یہ ' احسان ِنعت ہے
میں تٙو حضور سایہء رحمت میں آگیا
صد شکر میر ے پاس بھی دیوان ِنعت ہے
میر ے حضور ایسا کوئی شعر ہو عطا
محفل میِں ، میٙں پڑھوں تو کہیں جانِ نعت ہے
ایسی فضا حضور مری مستقل رہے
جیسی مر ے جضور یہ دورانِ نعت ہے
میر ے حضور حشر میں رسوا نہیں ہوا
میر ے حضور محض یہ فیضانِِ نعت ہے
امجد عروجِ نعت سے قائم ہے کائنات
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
حسین شاہ زاد، دوبئی
چھائی ہوئی کچھ ایسے بہارانِ نعت ہے
لب پر درود دل میں گلستانِ نعت ہے
قرآن جس کی شان میں دیوانِ نعت ہے
اس دلربا کی دُھن مرا سامانِ نعت ہے
ساون کچھ ایسے حُسن سے آیا ہے اب کی بار
اشکوں کے جلترنگ میں بارانِ نعت ہے
فصلِ ربیع واہ تری دل ربائیاں
گھر گھر میں ذکرِ الفتِ جانانِ نعت ہے
کون و مکان ان کی تمنّا میں ہیں مگن
اور ان کے دھیان میں، جو ثنا خوانِ نعت ہے
اعزاز میں جو ان کے سجی ہے یہ کائنات
پیرایۂِ لطیف میں اعلانِ نعت ہے
صد مرحبا جو اشک بہے ان کے عشق میں
گریہ اس عقل پر جو گریزانِ نعت ہے
فیضِ نگاہِ شوق سے منطق پکار اٹھی
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
وجدان و قول و فعل پہ ہی منطبق نہیں
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ذوقِ سخن عطائے خداوند ہے مگر
کیا بات اس عطا کی جو وجدانِ نعت ہے
ہو آیا دل مدینہ سے جب رہ گئے قدم
کیا کم یہ کم نصیبوں پہ احسانِ نعت ہے؟
آفاق دیکھ، نفس کو دیکھ، ارتقاء کو دیکھ
ہر متنِ کائنات پہ عنوانِ نعت ہے
دنیا کے بادشاہوں کا ہو کیوں نیاز مند
شہ زادٓ خاکِ پائے ثنا خوانِ نعت ہے
پروانہ وار جلنے کو آیا ہے شاہ زادٓ
وہ بو الحسن کی شمعِ شبستانِ نعت ہے
حنیف نازش، گوجرانوالہ، پاکستان
سر پر ہمارے سایہ ٕ ذی شانِ نعت ہے
حاصل خُدا کے فضل سے ایقانِ نعت ہے
رکھتی ہے مُجھ کو نعت رہِ مُستقیم پر
مُجھ پر، مِری حیات پر احسانِ نعت ہے
جب لب سے اُن کا نام لیا، نعت ہو گٸی
نادان ہے وہ شخص جو انجانِ نعت ہے
صَلُّوا وَسَلِمُوا کی حلاوت کو پا کے دیکھ
غافل! درودِ مُصطفوی جانِ نعت ہے
بتلا رہی ہے آیتِ میثاق صاف صاف
مہکا ہُوا ازل سے گُلستانِ نعت ہے
ہر داٸرے کا مرکزی نُکتہ نبی کی ذات
”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“
نازش لواۓ حمد ہو، محمود کا مقام
میدانِ حشر گویا کہ میدانِ نعت ہے
خالد رومی، راولپنڈی، پاکستان
ھر ایک شعر آیت قرآن نعت ھے
جو حصر سے ورا ھے, وہ احسان نعت ھے
انسان خوش نصیب بفیضان نعت ھے
کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوان نعت ھے
مخصوص شاعروں سے, کہاں خوان نعت ھے
سارے جہاں پہ سایہء دامان نعت ھے
کوئی نبی نہ سرور جیش رسل ہوا
ہاں ! مصطفی' کی ذات, جو شایان نعت ھے
نکتہ کھلا یہ آیہء صلوا علیہ سے
یعنی اس امر میں چھپا فرمان نعت ھے
کس کا گزر ھے ناحیہء حق میں اسطرح
شایاں مرے حضور کو عنوان نعت ھے
شاہ جہاں, امام صور, خواجہء ازل
ختم رسل ہی زینت ایوان نعت ھے
کیسی غرض مطاعم فردوس آز سے
درویش کو عزیز نمکدان نعت ھے
تیرہ بساط زیست تھی, پر نور ہو گئی
عشق رسول شمع شبستان نعت ھے
یہ تذکرہ نہیں ہے زلیخاۓ مصر کا
ھشیار ! کوۓ یوسف کنعان نعت ھے !!
داراۓ شعر بھی ہو یہاں یہاں ہوش باختہ
اللہ رے کیا ہی شوکت ایوان نعت ھے
ھم کشتگان چشم ولا کو خوشا نصیب
اسباب حمد ہیں, کہیں سامان نعت ھے
توفیق دے خدا تو ملے گنج آگہی
عالم سے بڑھ کے دولت عرفان نعت ھے
اس دور افتراق و تعصب گزیدہ میں
درکار ھر بشر کو ہی درمان نعت ھے
اخلاص جاں, نہ فہم و تدبر, نہ سوز دل
لائق رفو کے چاک گریبان نعت ھے
خیرات فکر و فہم اسے بخشئیے حضور !
رومی عجم میں آپ کا حسان نعت ھے
خالد عبداللہ اشرفی، مہاراشٹرا، بھارت
پیشکش : غلام ربانی فارح مظفرپوری
یہ زندگانی اصل میں عنوان نعت ہے
ہرلمحہ اس کا صفحۂ دیوان نعت ہے
دامن میں اپنے صدقۂ حسان نعت ہے
عزت سے جی رہے ہیں یہ احسان نعت ہے
جوبن ہے چھایا چارسو محفل پہ نعت کی
مستی میں مست ایک اک مستان نعت ہے
لب وقف ہیں درود پیمبر کے واسطے
صدشکر رب کہ دل ہوا قربانِ نعت ہے
ہراک زبان ولہجہ میں موجود صنف نعت
کتنا وسیع دوستو دامانِ نعت ہے
گل ، گُلسِتاں چَرِند وپَرِند، انس و جن ،ملک
جسکو بھی دیکھیے ، لیے ارمان نعت ہے
تحت الثریٰ ہو سدرہ ہو عرش علیٰ جناں
ہر. شعبئہ حیات میں امکان نعت ہے
خون جگر سیاہی ، دل مضطرب ورق
لکھنے کے واسطے یہی سامان نعت ہے
حاضر. جو قلب رہتا ہے ان کے حضورمیں
سب یہ کرم ہے فیض ہے وجدان نعت ہے
یہ جو لحد میں پھیلا اجالا ہے دوستو
فضل خدا ۓ پاک ہے ، برھان نعت ہے
جی بھر کے باغ خلد میں خالد پڑھیں گے نعت
کہتے ہیں خلد جس کو وہ ایوانِ نعت ہے
سید خالد عبداللہ اشرفی اورنگ آبادی، بھارت
خالد عرفان، نیو یارک، امریکہ
مت بے وضو اٹھا نا ، قلم دانِ نعت ہے
دیوانو ! ہوشیار ! یہ دیوانِ نعت ہے
میں فرض پڑھ کے لکھتا ہوں اپنے نبی کی نعت
جائے نماز ہی ، مرا جزدان ِ نعت ہے
خوں کا بہاؤ، دل کی دھڑک ، آنکھ کی جھپک
میرا توانگ انگ ثناخوانِ نعت ہے
مدحت کے پھول پھیلے ہوئے ہیں زمین پر
اب آسماں بھی دیدہ ء حیرانِ نعت ہے
کاغذ ، قلم ، دوات ہیں میرے شریک عشق
دنیا سمجھ رہی ہے یہ سامان ِ نعت ہے
ممکن ہے نعت گو کو ملے نعت کا صلہ
میدانِ حشر اصل میں میدان نعت ہے
دو چار لفظ لکھ کے ثنائے رسول میں
ہم نے سمجھ لیا ہمیں عرفان ِ نعت ہے
اکثر یہ سوچتا ہوں گناہوں کے بعد میں
کیا میرا عشق لائق ِ شایان ِ نعت ہے ؟
اس راہ میں کروڑ پتی بن گئے ہیں لوگ
ہر نعت خواں پہ رحمت ِ باران ِ نعت ہے
خادم رسول عینی، اڈیسہ، انڈیا
مکمل نام : سید خادم رسول عینی
لیل و نہار پر مرے احسان نعت ہے
میری حیات نور پہ جزدان نعت ہے
بچے ہوں یا ضعیف سبھی نعت پڑھتے ہیں
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
اک کنکری نے کلمہ پڑھا اور یہ کہا
ہر شئ کے دل میں دیکھئے ارمان نعت ہے
توریت میں زبور میں بھی ان کی ہے ثنا
قرآں مگر سدا کے لیے جان نعت ہے
وہ نظم ہو غزل ہو کہ دوہا کہ ہائیکو
بس ان کا ذکر ہو یہی پہچان نعت ہے
سیرت نبی کی لکھ تو سراپا بھی ان کا لکھ
ان دونوں کو ملا دے یہ ریان نعت ہے
سرکار کے وسیلے سے مقبول ہوگئ
آدم کی" عینی" توبہ بھی برہان نعت ہے
خاور اسد، رحیم یار خان، پاکستان
نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے
یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے
وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے
میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے
جز مدحِ شاہ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے
خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے
اس کے ہر ایک لفظ پہ افسوس کیجئے
جس کی بیاض بے سرو سامانِ نعت ہے
تشنہ لبی کو بوسہِ نعلین چاہئے
دل کی تپش کا توڑ یہ بارانِ نعت ہے
احساں ہے عالمین پہ میلادِ مصطفی
یہ کائنات اصل میں ایوانِ نعت ہے
رحمت ہیں وہ تمام جہانوں کے واسطے
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
مجھ ایسے بے ہنر کو پنہ مل گئی اسد
کتنی کشادگی سرِ دامانِ نعت ہے
خرم جمیل، میلسی
ہر اشک میری آنکھ کا سامان ِ نعت یے
یہ حال میرا دیکھیئے دورانِ نعت ہے
پڑھتے. رہو درود یہی راستہ تو یے
ذکر ِ رسول پاک ہی امکانِ نعت یے
کرتے ہو ہر نماز میں تعریف مصطفیٰ
تم خوش نصیب ہو تمھیں عرفانِ نعت ہے
ہر لفظ میرے سامنے رکھا ہوا تو ہے
بس آیہِ قرآن ہی. شایانِ نعت ہے
تعریف ہر غلام کرے اس غلام کی
عشقِ بلال اصل میں میزان نعت ہے
اس کا یقین رشک کے قابل ہے اے جمیل
جو کہہ رہا ہے شعر کو دیوان نعت ہے
ہم میلسی کے لوگ عقیدت مزاج ہیں
خرم ! یہ شہر شہرِ غلامانِ نعت ہے
خلیل الرحمان، اسلام آباد، پاکستان
مکمل نام : محمّد خلیل الرحمان
کس کا کلام ہو سکا شایان ِ نعت ہے
قرآن کا نزول ہی سامان ِ نعت ہے
تخلیق ِ کائنات کا سرکارؐ ہیں سبب
“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”
ذکر ِ نبیؐ کے واسطے رزق ِ سُخن کھُلا
ہر دل بنا جبھی تو قلمدان ِ نعت ہے
صلّ ِ عَلٰی کے ورد سے دل کو ملے قرار
شاید اسی لیے ہی یہ سُلطان ِ نعت ہے
کرتا ہے روز و شب وُہی توصیف ِ مُصطفٰےؐ
جس شخص کو عطا ہوا عِرفان ِ نعت ہے
ملتے ہیں لوگ پیار سے مُجھ سے غریب کو
عزت کا آسرا مِرا فیضان ِ نعت ہے
تُو روضۂ ِ رسولؐ کے قابل نہ تھا خلیلؔ
تُجھ پر ہُوا ضرور وُہ احسان ِ نعت ہے
خورشید رضوی ، لاہور، پاکستان
یہ گلستانِ نغمہِ سرایانِ نعت ہے
سرگرم ہر روش پہ دبستانِ نعت ہے
ہے طبع سب کی ایک ہی آہنگ میں رواں
یکساں تمام بزم میں فیضانِ نعت ہے
غںچے چٹک رہے ہیں نکاتِ سخن کے آج
سمجھے گا کچھ وہی جسے عرفانِ نعت ہے
مضموں نکالنا ہیں ستاروں کو جوڑ کر
پھیلا ہوا فلک پہ یہ سامانِ نعت ہے
جو رنگ سوچئے سو ہے اس نقش سے فرو
جو حرف دیکھیےسو پشیمانِ نعت ہے
وہ فکر لائیے کہ ہو ہم دوشِ بامِ عرش
وہ لفظ ڈھونڈیے کہ جو شایانِ نعت ہے
ہر بات میں ہے اُسوہِء کامل نبیؐ کی ذات
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر موجہِء ہوا میں ہے خوشبو درود کی
ہر ذرّہ رُو بہ راہِ درخشانِ نعت ہے
ہے ہر شجر اُٹھائے ہوئے مدح کا عٙلٙم
ہر برگ پہ لکھا ہوا عُنوانِ نعت ہے
ہے یاد آسماں کو وہ شقُ القمر کی رات
باندھے ہوئے حضورؐ سے پیمانِ نعت ہے
خورشید ! آفتابِ قیامت کے رُو برو
کافی مجھے یہ سایہِ دامانِ نعت ہے۔
دانش حسین دانش، کولکتہ، انڈیا
شہرِ تخیلات میں عرفانِ نعت ہے
دل میں مرے مکین جو سلطانِؐ نعت ہے
قرآں کی آیتوں سے کھلا ہم پہ یہ رموز
خود خالقِ رسولؐ ثناء خوانِ نعت ہے
خیراتِ فکر اس سے ہی لیتا ہوں بار بار
عمرانؑ کا جو گھر مرے دیوانِ نعت ہے
ہر رجس سے ہو پاک ہر اک لفظ میں ہو عشق
اجزائے نعت ہے یہی ارکانِ نعت ہے
چکھ رکھا ہے لعابِ محمدؐ اسی لئے
مولا علیؑ بتائیں گے کیا شانِ نعت ہے
نوکِ سناں پہ ہوں کہ ہوں شبیرؑ زیرِ تیغ
حمدِ خدا کہیں کہیں عنوانِ نعت ہے
ذکرِ رسولِؐ پاک ہے سانسوں سے متصل
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
تو بابِ شہرِ علمؑ سے دانشؔ ہے منسلک
جب تک کہ تیرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
دلاور علی آزر، کراچی، پاکستان
پھیلا ہوا بہت سر و سامانِ نعت ہے
وسعت پزیر عالمِ امکانِ نعت ہے
مجھ میں بسی ہوئی ہے مہک مدحِ شاہ کی
مجھ میں کِھلا ہوا گُلِ ریحانِ نعت ہے
اِس لوح پر حضور کی مدحت لکھوں گا میں
یہ میرا دل نہیں ہے یہ جزدانِ نعت ہے
باندھا گیا ہے عشق کی ڈوری سے لفظ کو
مشکل ہے توڑنا اِسے پیمانِ نعت ہے
ہر کارِ خیر اُن سے عبارت ہے دہر میں
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
پہچانتے ہیں مجھ کو جو دنیا میں چند لوگ
یہ اور کچھ نہیں ہے یہ فیضانِ نعت ہے
ورنہ کہاں یہ ہیچ ہنر اور کہاں یہ ظرف
میں نعت لکھ رہا ہوں تو احسانِ نعت ہے
لفظوں سے نورِ عشق جھلکتا ہے سر بہ سر
میری غزل کے رنگ میں اعلانِ نعت ہے
اُس کو بیان شعر میں کیسے کرے کوئی
وہ کیفیت جو لفظ کی دورانِ نعت ہے
حکمت کی سب حدیں ہیں اِسی آئنے میں ضم
رحمت سمیٹتا ہوا دامانِ نعت ہے
آزر میں پوچھتا ہوں سبھی ناعتین سے
میرا لکھا ہوا بھی کیا شایانِ نعت ہے
ذوالفقار علی دانش ، حسن ابدال، پاکستان
آثار ہیں کہ آمدِ بارانِ نعت ہے
دامن پسارییے شبِ فیضانِ نعت ہے
جس کو شعورِ خواہش و ارمانِ نعت ہے
وہ جان لے کہ اُس پہ یہ احسانِ نعت ہے
ہر سمت آج کل یہ جو رجحانِ نعت ہے
سرکار کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے
جس شہر میں بھی نعتِ محمد کہی گئی
وہ شہر از قبیلِ خیابانِ نعت ہے
حسۤان کے قدوم کی جو خاک بھی نہیں
کیسے یہ مان لیں کہ وہ حسّانِ نعت ہے ؟
انسان ہوں ، مَلَک ہوں ، کہ کنکر ، شجر ، حجر
دیکھو جسے ، شریکِ دبستانِ نعت ہے
مدحت میں صرف میرا قلم ہی نہیں رواں
میرا رُواں رُواں بھی گُل افشانِ نعت ہے
زیبا ہے بس یہ حضرتِ حسّان کے لیے
ہر گز نہ کہیے کوئی بھی سلطانِ نعت ہے
گر نعت کہنے کا ہے ارادہ تو جانیے
" ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
جو سیکھنا ہو سیکھیے قرآں سے طرزِ نعت
ہر لفظ اس صحیفے کا شایانِ نعت ہے
صد فخر ہوں میں ناعتِ سرکارِ نامدار
صد شکر میری طبع میں میلانِ نعت ہے
قربانِ مدحِ سرورِ عالم ہے جاں مری
سب کچھ مرا فدائے فدایانِ نعت ہے
رکھ پھونک پھونک کر رہِ مدحت میں ہر قدم
حدِّ ادب رہے کہ یہ میزانِ نعت ہے
اے ساکنانِ کُوچہِ امکان دیکھنا
اِمشب بھی کیا کہیں کوئی امکانِ نعت ہے ؟؟؟
شانِ رسول فہمِ بشر سے ہے ماورا
مت سوچیے کہ آپ کو عرفانِ نعت ہے
پہلی صدی ہو یا کہ ہو وہ آخری صدی
حسّان ہی امیرِ جوانانِ نعت ہے
حمدِ خدا کے دائرے کی حد سے اِس طرف
جتنا بھی جس قدر بھی ہے ، میدانِ نعت ہے
کتنا کرم کیا ہے رسالت مآب نے
دانش بھی ریزہ چینِ گدایانِ نعت ہے
دانش ! رموزِ شاعری ہیں قلب و جسم و روح
آقائے دو جہاں کا ادب جانِ نعت ہے
اُڑتا پھرے ہے باغ میں آئی ہے بُوئے نعت
دانش کہ بلبلِ چَمَنِستانِ نعت ہے
راحل بخاری، لکی مروت، پاکستان
سرمایۂ حیات اک ارمانِ نعت ہے
وہ کیا کرے جو بے سر و سامانِ نعت ہے
یارا نہیں کہ نعت کہیں ہم سے بے زباں
لہجہ تو بس قرآن کا شایانِ نعت ہے
دروازۂ بتول ع پہ آیات روشنی
دروازۂ بتول ع ہی ایوانِ نعت ہے
مسجد، کجھور، راستہ، دیوار، در، دیا
اک شہر حسن زار میں سامانِ نعت ہے
اک نون عین تے کا ہے صدقہ بیانِ عصر
ایما و رمز و چاشنی فیضانِ نعت ہے
خوشبو کے پیش و پس کا علاقہ ہے نور کا
روشن سماعتوں پہ ہی بارانِ نعت ہے
رائے توکل اللہ
عرفان حمد صدقہء وجدان _نعت ہے
افکارمنتشر پہ یوں احسان _نعت ہے
بدلے میں حب کے , لفظوں کے در بے بہا ملیں
سودا یہ کتنا ارزاں بہ دکان_نعت ہے
سیم و زر_جہان کی ہرگز نہیں طلب
جب جمع پونجی گوہرمرجان _ نعت ہے
قلبسیاہجن و بشر کی منزگی
من جملہ ! دو جہان میں جبران_ نعت ہے
معجب ہے جس پہ طائرفکرسخن وری
صد آفرین و مرحبا ! طیران_نعت ہے
ہر دم خیال میں ادب_مصطفی (ص) رہے
آوازخامہ میں یہی اذعان نعت ہے
راقم کو اپنے نار سے کروانا رستگار
لحظہ بہ لحظہ وعدہ و پیمان_نعت ہے
ام الکتب بھی جس پہ کرے رشک بار ہا
عشاق کا لکھا ہوا دیوان_ نعت ہے
کب صنفنعت اہلادب ہی کا خاصہ ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکان_نعت ہے"
کیا خوش نصیب ہے جو غزل گوئی کی جگہ
جدت پسند دور میں عمران_نعت ہے
ملک_عدم روانگی کو دل ہے مطمئن
ہمراہ حشر کے لیے سامان_نعت ہے
کیوں کر نہ میرا علمی تبحر ہو در فشاں
بخشا مجھے رسول (ص) نے امعان_نعت ہے
حسن_خیال بخشے ہے ہر زید بکرکو
نشوونما گمان کی ایقان_نعت ہے
ڈنکا جو بج رہا ہے توکل کا چار دانگ
فیض محمدی (ص) ہے , یہ فیضان نعت ہے
رئیس جامی، اٹک، پاکستان
میں بے ہنر ہوں کب مجھے عرفانِ نعت ہے
مولا! مگـر کـرم ہو کہ ارمـانِ نعت ہے
ان کا کرم کہ کاوشیں کرتے ہیں وہ قبول
ورنہ کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے
میرے تخیـلات پہ چھائی ہے روشنی
کہتا ہوں میں یقیں سے یہ فیضانِ نعت ہے
مطلع ہوا تو آنکھ سے آنسو نکل گئے
قسمت کہاں مری کہاں جانانِ نعت ہے
دنیا مجھے حقیر نہ جانے میں ہوں غنی
دیکھو یہ میـرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
میرے خیـال میں اسے پتھر ہی جانیے
وہ دل کہاں جو بے سـر و سامانِ نعت ہے
اس نے رخِ حبیب کو تک کر کہی تھی نعت
حسان اس لئے ہی تو سلطانِ نعت ہے
میرے تمام عیب چھپائے گا روز ِ حشر
اتنـا طــویل وسعتِ دامــانِ نعـت ہے
بیٹھے بٹھائے ہوگئی اس در پہ حاضری
کیسا رئیس دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے
رحمان حفیظ ، اسلام آباد، پاکستان
عشقِ رسول ہو تو یہ میدان ِ نعت ہے
ہر فن میں ، ہرہنر میں ہی امکان ِ نعت ہے
مدح و ثنا کا سلسلہ افلاک سے چلا
صلو علیہ خاصۂ خاصانِ نعت ہے
اِس میں تو خود خُدا نے کی تحسین آپ کی
قران شاعری نہ سہی، جانِ نعت ہے
الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں قطار میں
جس سے بھی پوچھ لیجئے، قربانِ نعت ہے
پہنچے گا اُس تلک بھی شفاعت کا سلسلہ
خوش بخت ہے وہ جس میں بھی میلانِ نعت ہے
ان کو لُٹے پٹے تو زیادہ عزیز ہیں
اسبا ب کا نہ ہونا بھی سامانِ نعت ہے
حدِّ ادب سے ہو گئی عنقا صریرِ کلک
گویا مِرے قلم کو بھی عرفانِ نعت ہے
اے کوچہء سخن کے پریشان ! اتنا جان
تسکین دل جو ہے تو بفیضانِ نعت ہے
طیبہ سے ہو کے جائے گا باغِ بہشت تک
دشتِ ہنر میں یہ جو خیابانِ نعت ہے
واللہ ! صرف زائرِ طیبہ کا ہو تو ہو
احساس جو مجھے ابھی دورانِ نعت ہے
رُک سا گیا تھا چشمہء تخلیق لیکن آج
بنجر دل و دماغ میں بارانِ نعت ہے
توفیق مانگتے ہیں سب اہلِ ہنر کہ جب
یہ ہو تو لفظ لفظ ہی شایانِ نعت ہے
اعجاز دیکھ رحمتُ لِّلعالمین کا !
مجھ بے ہنر کا ہاتھ بھی مہمانِ نعت ہے
مملو ئے ادّعا ،نہ تعلّی سے بہرہ ور
رحمان شاعری میں یہی شانِ نعت ہے
رحمان شاہ ، مانسہرہ، پاکستان
ہر موڑ پر یہ پانیوں کا چشمئہ خنک
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
چھو لوں میں رفعتوں کو مری شان بھی بڑھے
آقا کی داد جو ہو یہ ارمانِ نعت ہے
سنت کو ماننے میں جہانوں کی ہے فلاح
سنت کا ہو بیان تو پہچانِ نعت ہے
آقا کی جو نگاہ یہ رحمانِ اب پڑی
میرا نہیں کمال میاں شانِ نعت ہے
رحمان فارس، لاہور، پاکستان
وہ جانتا ھے جس کو بھی عرفانِ نعت ھے
عشقِ مُحمَّدِ عَرَبی جانِ نعت ھے
بے شک ھے حجرِ اسود اِسی بات کا ثبوت
بے جان پتھّروں میں بھی امکانِ نعت ھے
اُس کی ھر ایک سانس ھے نعتِ نبی کا شعر
جو عاشقِ رسُول ھے دیوانِ نعت ھے
ھم بندگانِ خاک بھلا کیا کہیں گے نعت
نُطقِ خُدائے پاک ھی شایانِ نعت ھے
کرتے ھیں یہ تو آخری ھچکی میں بھی ثنا
عُشّاق کو تو موت بھی سامانِ نعت ھے
دُنیاوی نعمتیں بھی مُجھے دِین سے ملِیں
میری غزل میں کیف بَفیضانِ نعت ھے
ذکرِ نبی کو کتنی بلندی پہ لے گیا
قُرآن اپنی رُوح میں قُرآنِ نعت ھے
لاھور سے عجب ھیں مدینے کی نسبتیں
فارس ! یہ شہر شہرِ غُلامانِ نعت ھے
رِضا شیرازی، اسلام آباد، پاکستان
چھلکا جو دل کے جام سے میزانِ نعت ہے
پیدا ہوا جہان میں سامانِ نعت ہے
اٹھتی ہوئی غدیر کے منبر پہ منقبت
آزانِ حمد ہے, یہی پالانِ نعت ہے
سیرت, طریق, زلف, تکلم, سفر, مزاج
آوازِ کبریا میں یہ قرآنِ نعت ہے
گھر میں, سفر میں, جنگ میں, غربت میں, امن میں
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
قائم ہوئی جہاں میں سبھی عاشقوں کی صف
ہونے لگی درون میں آزانِ نعت ہے
یوں متصل ہے آل ع سے احمد ص کا تذکرہ
کفرانِ منقبت میں ہی کفرانِ نعت ہے
مانگی ہے نعت حضرتِ عمران ع سے, سنو!
ہاتھوں میں جن کے اب بھی قلمدانِ نعت ہے
رضا عباس رضا ، لاہور
بشکریہ : صادق جمیل، لاہور
یہ کائنات نکتہِ ایوان ِ نعت ہے
قرآن پاک اصل میں اعلانِ نعت ہے
اب ذہن اپنا رنگ بدل، دل ذرا سنبھل
یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے
محشر میں سر اُٹھا کے چلوں گا کہ میرے پاس
سرمایہ منقبت کا ہے سامانِ نعت ہے
میراثِ مصطفٰیؐ کا نہ دعویٰ کرے کوئی
جو وارثِ نبیؐ ہے نگہبانِ نعت ہے
ہر شئے خدا کے ذکر میں مصروف ہے تو مان
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہے خاکسار عرش نشینوں کا ہم خیال
یہ فضل ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے
مت روکنا فرشتوں ذرا غور تو کرو
خاکِ شفا ہے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
میں کیا تھا مجھ کو جانتا کوئی نہ تھا رضا
عزت مجھے ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے
رفیع الدین راز، امریکہ
بشکریہ : اویس راجا
جن و بشر کو کیا پتا ، کیا شانِ نعت ہے
اللہ کے سوا کسے عرفانِ نعت ہے
آدابِ نعت گوئی کا پیہم رہے خیال
شوکت میں حمد ہی کی طرح شانِ نعت ہے
نغمہ سرا ہے خون کی ہر بوند میں حیات
دل پر عجیب طور سے فیضانِ نعت ہے
کیفیتِ دیارِ دل و جاں نہ پوچھئے
ہر خطۂ وجود دبستانِ نعت ہے
نوکِ قلم کو اور کیا اعزاز چاہئیے
آقا کا ذکرِ خیر ہے ، رجحانِ نعت ہے
بھیجا درود اس نے نبی پر تو یہ کھلا
وہ بھی اسیرِ حلقۂ جزدانِ نعت ہے
لب پر درود ، دھیان میں ہے ذاتِ مصطفٰے
زادِ سفر میں بس یہی سامانِ نعت ہے
خوشبو ہے، روشنی ہے، یا پھر پرتوِ خدا
کوئی تو ہے جو اس گھڑی مہمانِ نعت ہے
ہر موڑ ہر قدم پہ نوازا گیا ہوں میں
دن رات میری ذات پہ احسانِ نعت ہے
نعتِ نبی کے فیض سے میری نگاہ میں
اس وقت دل کا آئینہ ایوانِ نعت ہے
کھلتے رہیں گے نوکِ قلم پر ثنا کے پھول
جب تک نبی سے عشق ہے امکانِ نعت ہے
قلب و نظر پہ کیوں نہ ہو برسات نُور کی
دستِ خیال میں ابھی دامانِ نعت ہے
یوں ہی نہیں ہے دل کی زمیں عطر بیز آج
جزدانِ قلبِ راز میں دیوانِ نعت ہے
رفیق راز، سری نگر، کشمیر، انڈیا
ام الکتاب دیکھ یہی کان نعت ہے
آیت ہے کویی در کویی مرجان نعت ہے
ہے داغ سجدہ صرف یہ ماتھا لیے ہوئے
بآقی تمام جسم ہی. جزدان نعت ہے
آنسو ہے روشنایی مژہ ہے مرا قلم
طاری بدن پہ کپکپی دوران نعت ہے
اعمال نامہ میں مرے کچھ بھی نہیں مگر
میں مطمئن ہوں ساتھ یہ سامان نعت ہے
آب و ہواے اسم محمد ہے دایمی
پت جھڑ میں بھی بہار پہ بستان نعت ہے
دل پر لبوں پہ صل علیٰ ثبت ہے مرے
اللہ کا کرم ہے یہ فیضان نعت ہے
رکھ تو قدم اے اسپ قلم پھونک پھونک کر
دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے
باکار ہاتھ ہیں ترے با یار دل کو رکھ
ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
پروانوں سے تو روشنی ہوتی نہیں کوئی
روشن اسی چراغ سے ایوان نعت ہے
ریاض احمد قادری، فیصل آباد، پاکستان
تھاماجومیں نے ہاتھ میں دامان نعت ہے
بخشش کو میری کافی یہ سامان نعت ہے
خالق نے خود رقم کی ثناءے حضور ہے
قرآن پاک سارا ہی دیوان نعت ہے
خلق عظیم اسوہ حسنہ حضور کا
سیر ت رسول پاک کی عنوان نعت ہے
یہ صنف نعت وقف ثناءے حضور ہے
ذات رسول پاک ہی شایان نعت ہے
ان کی ثنا میں لاکھوں ہی دیواں رقم ہوءے
تازہ جہاں میں آج بھی امکان نعت ہے
حسان کو جو رتبہ ملا بے مثال ہے
حضرت حسان بے شبہ سلطان نعت ہے
رنگ رضا میں لکھو ثناءیں حضور کی
احمد رضا تو آپ دبستان نعت ہے
گھر گھر میں سج رہی ہیں ثناءوں کی محفلیں
ہر ایک گھر بنا ہوا بستان نعت ہے
ارض و سما و ظاہروباطن میں ہر طرف
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
طیبہ،ریاض،بطحا حدیقےہیں خلد کے
ہر جا نظر میں اپنی گلستان نعت ہے
جن و بشر فرشتوں کو حکم درود ہے
انسان کے لئے یہی فرمان نعت ہے
ان پر درود ہوگیا شامل نماز میں
صل علی درود ہی اعلان نعت ہے
عشق رسول روح ثنائے حضور ہے
عشق رسول کون و مکاں جان نعت ہے
تلوارکی بھی دھار سے ہے تیز اس کی دھار
نازک بہت آداب میں میزان نعت ہے
عزت بنی ہوئی ہے زمانے میں جو ریاض
میرے لئے یہ سارا ہی فیضان نعت ہے
ریاض مجید، فیصل آباد، پاکستان
جس سے درود رُو مرا وجدانِ نعت ہے
لفظِ مدینہ ایسا گلستانِ نعت ہے
تکتے ہیں ہم کو حیرت و حسرت سے کس طرح
برگ و شجر کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے
ہیں سلسلے زبان و بیاں کے جہاں جہاں
پھیلا ہُوا وہاں وہاں امکانِ نعت ہے
قراں ہر امتی سے ہے پیہم درود خواہ
اک طرح سے یہ دعوت و اعلان نعت ہے
قراں کی آیتوں میں ہے شان اُن کی عطربیز
بین السطّور دیکھ یہ بستانِ نعت ہے
اہلِ ولا و اہل صفا کی نگاہ میں
’احزاب‘ استعارہ پیمانِ نعت ہے
صلّوا علیہ کی اسے توسیع جانئیے
حُبّ کا تلازمہ جو بعنوانِ نعت ہے
قران کا خلاصہ اگر اک ورق میں ہو
تو زیب اُس نوشتے کو عنوانِ نعت ہے
سعی ہنر قبول ہو‘ جو ہو خلوص سے
ہر نعت گو کو اتنا تو عرفانِ نعت ہے
اس عہدِ نعت پہ کرم خاص آپ کا
گھر گھر کھلا ہُوا جو دبستانِ نعت ہے
کیا کیا ثنا سرشت ہیں مائل بہ نعت آج
فی الواقعی یہ عہدِ درخشانِ نعت ہے
مصرعے اتر رہے ہیں ستاروں کی شکل میں
کاغذ سے روح تک میں چراغانِ نعت ہے
فردائے نعت کی ہے ہر اک سمت سے نوید
ہر دل میں جو نمایاں یہ رجحانِ نعت ہے
جنت میں ہو گا نعت کا دورانِ جاوداں
اب تک ہوئی جو مشق وہ اک انِ نعت ہے
باعث ظہور ہست کا ہے ذات آپؐ کی
دھڑکن دلِ وجود کی گردانِ نعت ہے
مصروفیت ملی ہے بہشت آفریں ہمیں
ہم اہلِ حُب یہ کیسا یہ احسان نعت ہے
بخشش کی التجا کے سوا کچھ نہیں ریاض
فردِ عمل میں جو سروسامانِ نعت ہے
ہے محوِ فکر رفعت و شانِ رسول میں
چپ ہے ریاض جس کو بھی عرفانِ نعت ہے
زید معاویہ، گوجرانوالہ
جملہ ہو غرق عشق تو شایان نعت ہے
اظہار لفظ شوق ہی عنوان نعت ہے
دل میں اگر اطاعت سنت کا شوق ہو
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
حکم ِ خدا ہے مدحت ِ سرکار ِ دو جہاں
"صلو علیہ_" اصل میں فرمان نعت ے
غمگیں سخنوروں کے دماغوں میں یہ بٹھا
انجام تشنگی کے لیۓ خوان نعت ہے
اخلاق مصطفی پہ یہ بولی تھیں عائشہ
قرآن پڑھ ذرا کہ جو دیوان نعت ہے
قرآن کی مہک کے دلائل سبھی بجا
خوش بو ہے اس لیۓ بھی کہ گلدان نعت ہے
زین زیدی، اسلام آباد، پاکستان
پھر سے دلِ فقیر کو ارمانِ نعت ہے
امداد وہ کرے گا جو سلطانِ نعت ہے
دھڑکن نہیں چٹکتی ہیں کلیاں درود کی
دل دل نہیں رہا ہے گلستانِ نعت ہے
حیدر کی زندگی نے بتایا جہان کو
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
جب تک کسی کو منصب عصمت نہیں ملے
وہ لفظ کون لکھے جو شایانِ نعت ہے
خامے کو سلسبیل سے دھولیں توپھرلکھیں
وہ اسمِ چارہ ساز جو عنوانِ نعت ہے
جس نے بچا رکھا ہے خجالت کی دھوپ سے
زینِ رضا وہ سایہءِ دامانِ نعت ہے
ساجد حیات، راولپنڈی، پاکستان
وابستگی رسول سے دیوانِ نعت ہے
مضمونِ عشق باعثِ عنوانِ نعت ہے
میں خاک اوڑھ لوں گا فقط اس یقیں کے ساتھ
بخشش کو میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے
احساس کے یہ اشک جو گرتے ہیں روح پر
دُھلتے ہیں پھر گناہ یہ فیضانِ نعت ہے
میرے نبیؐ کی شان ہے اور شان دیکھیئے
ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے
بنجر زمینِ فکر کو سر سبز کر کے دیکھ
سیرت مرے رسول کی فیضانِ نعت ہے
میں لفظ لفظ ٹانک رہا ہوں جو نعت میں
تو حرف حرف لُو لُو و مرجانِ نعت ہے
ساجد ندیم ، سیالکوٹ ، پاکستان
جب مطمعِ نظر ترے دامانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
کر دے جو بے نیاز ہر اک احتیاج سے
کل کائنات اپنی یہ ایقانِ نعت ہے
دونوں جہاں کی اس میں میسر ہیں رفعتیں
کتنی بڑی عطا ہے جو عرفانِ نعت ہے
دل مطمعن ابھی سے ہے کوثر پہ جام کا
مجھ رو سیاہ پہ دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے
شان و مقام و ادب و موءدت سے آگہی
میراثِ کل ندیم یہ سامانِ نعت ہے
سائرہ خان سائرہ، لاہور، پاکستان
لاریب فضل رب ہی ، یہ فیضانِ نعت ہے
بالواسطہ ہے حمد ہی جو جانِ نعت ہے
ہرلمحئہ حیات میں رہبر ہے انکی ذات
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
مسحور ہیں فضائیں تو دل بھی ہیں مشکبار
ہر سو کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے
ہو میرے حرف حرف کو پاکیزگی عطا
سوچیں بھی ہوں لطیف یہ ایوانِ نعت ہے
اے خلقِ اولیں ، تری مدحت پہ میں نثار
ہر لمحہ تیرا ذکر اے سلطانِ نعت ہے
بزم فروغ نعت سے دولت ملی مجھے
الحمد فکرِ نعت ہے، احسانِ نعت ہے
جاں سے مجھے عزیز وراثت ہے نعت کی
میرا تو سب گھرانہ ہی قربان ِ نعت ہے
سجاد بخاری، مکہ مکرمہ سعودی عرب
آیات کیا ہیں اصل میں سامانِ نعت ہے
اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
لَا تَجْهَرُوا کا ضابطہ برہانِ نعت ہے
اور سلمو کے حکم میں اعلانِ نعت ہے
عرفانِ حمد ہے جسے عرفانِ نعت ہے
دیوانہء سجود ہے مستانِ نعت ہے
تحریر ہو رہی ہے ازل سے کتابِ نعت
دنیا تو ایک صفحہ ء دیوانِ نعت ہے
باغِ بہشت پرتوِ حسنِ رسول ہے
گلزارِ ہست و بود میں ریحانِ نعت ہے
لوح و قلم نے کاڑھا ہے توصیف کا لباس
یہ کائنات وسعتِ دامانِ نعت ہے
آپ اسوہء رسول سے جڑ کر تو دیکھیے
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
میلاد کی گھڑی ہے غلاموں کی عید ہے
یعنی کہ ہر سو موسمِ بارانِ نعت ہے
اُن پر اور اُن کی آل پہ پڑھتے رہو درود
ایماں سے کہہ رہا ہوں یہی جانِ نعت ہے
ہریالیاں ہیں گنبدِ خضرا سے چار سو
یہ رونقیں یہ تازگی فیضانِ نعت ہے
اللہ بھیجتا ہے حضور آپ پر درود
کیا مرتبہ ہے آپ کا کیا شانِ نعت ہے
چنتی ہیں شہرِ طیبہ سے منسوب بلبلیں
أرض و سما پہ پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے
سانسوں میں نغمگی ہے نگاہوں میں تازگی
گویا دلوں میں بارشِ بارانِ نعت ہے
نام و نسب کا زعم نہ مشقِ سجود ہے
امیدیء نجات میں احسانِ نعت ہے
جھکنا نہیں پڑا مجھے رب کے سوا کہیں
سجاد اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
سرور حسین نقشبندی، لاہور، پاکستان
کیا کیا گدائے نعت پہ احسان نعت ہے
اک ایک سانس حجرہء ایوان نعت ہے
کیسی ہری بھری ہے تخیل کی سرزمیں
صد شکر کشت فکر پر باران نعت ہے
اصناف شعر ساری اسی کی ہیں خوشہ چیں
جو بھی سخن کی صنف ہے دربان نعت ہے
تفہیم اس کو اسوہء کامل کی جانئے
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
خوشبو بنائے کیوں نہ مرے گرد دائرہ
موج صباء کی ہمدمی دوران نعت ہے
اس کو ملے گا اجر بھلے شعر ہوں نہ ہوں
وہ خوش نصیب ہے جسے ارمان نعت ہے
قرآن سے حدیث سے تم کو ہے مس اگر
کافی برائے نعت یہ سامان نعت ہے
یاں پر اک ایک لفظ رکھو ناپ تول کر
اے شوق! احتیاط یہ میزان نعت ہے
سرور یقیں نہ کیسے ہو اپنی نجات کا
فرد عمل میں جب مرے دیوان نعت ہے
سلمان رسول، لاہور، پاکستان
ہاتھوں میں جس کسی کے قلمدان نعت ہے
عالم اسی کے واسطے میدان نعت ہے
محدود اس کو شعروسخن تک نہ کیجیے
ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
جو شخص آشنائے تقاضائے عشق ہو
اس کا فقط وجود ہی برھان نعت ہے
ان کے لیے بنائی گئی ہے یہ کائنات
سمجھو تو گام گام پہ سامان نعت ہے
سیرت سے کیوں حضور کی ہم ہو رہے ہیں دور
جبکہ بہت عروج پہ رجحان نعت ہے
سلمان گیلانی، لاہور، پاکستان
مکمل نام : سید سلمان گیلانی
حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے
میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے
مدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے
فیضانِ نعت حلقہءِ یارانِ نعت ہے
دُوراَز قیاس وُسعتِ مَیدانِ نعت ہے
یہ مُلکِ نعت, مُلک سلیمانِ نعت ہے
حَسّان ہے صحابئ سُلطان بَحر و بَر
ہر نعت اُس کی اِس لیئے سلطانِ نعت ہے
عشق رسول دل میں ہے آنکھوں میں اشک غم
کافی مِرے لیئے یہی سامانِ نعت ہے
ہر شعبہِ حیات پہ میں نے کِیا ہے غَور
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
بس میں نہیں کسی کے اسے کر سکے عبور
اتنا وسیع دوستو میدانِ نعت ہے
مائل بہ نعت رہتی ہے طبعِ رواں مری
ہر فرد میرے گھر کا حُدی خوانِ نعت ہے
ہر نعت گو ہے طائر سدرہ کا ہم سفر
ہر نعت خوان بلبل بستانِ نعت ہے
روزِاَلست باندھا تھاجو اپنے رب سےعہد
اُس عہد سے بندھا مِرا پیمانِ نعت ہے
اللہ کرے کہ طاری رہے یونہی عمر بھر
یہ وَجد و کَیف مُجھ پہ جو دَورانِ نعت ہے
سلمان, شعر نعت کے, ہیں مِثلِ گُل تمام
دِیوانِ نعت اصل میں گُلدانِ نعت ہے
سعید زبیر، ڈیرہ غازی خان، پاکستان
پیشِ نظر حقیر کے عنوانِ نعت ہے
تھرا رہے ہیں لفظ کہ میدانِ نعت ہے
دل ہو وفورِ عشقِ شہِ دین سے غنی
پھر کہئے نعتِ پاک جو ارمانِ نعت ہے
دیکھو جہان والو میں کس درجہ ہوں غنی
میرے لبوں پہ نغمۂ سلطانِ نعت ہے
پہنچیں گے قبر میں انہی جذبات سے کہ ہاں
پیشِ نکیر ہم کو تو ایقانِ نعت ہے
سالم ہے جسدِ خاک تو ہے کفن عطر بیز
سمجھا ہوں میں کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
آتی ہے چار دانگ یہی بانگِ لم یزل
ہر سُو جہانِ دہر میں اعلانِ نعت ہے
گر ہو عبور سیرتِ سرکار پر سعید
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
سعود عثمانی، لاہور، پاکستان
گر ایک شعر بھی مرا شایانِ نعت ہے
پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے
سچ یہ ہےساری زیست ہی دیوان نعت ہے
ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے
تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے
جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے
رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر
ثابت تو کر کہ ہاں مجھے عرفانِ نعت ہے
قصے کہانیوں کو کہیں دور جا کے پھینک
سیرت کو نظم کر کہ یہی جانِ نعت ہے
آداب ہیں سکوت کے بھی' گفتگو کے بھی
دونوں طرح بتا کہ سخن دان نعت ہے
گنتی کے چند لوگ ہیں' گنتی کے خوش نصیب
حاصل جنہیں طلائی قلم دانِ نعت ہے
مدح نبی تو خود بھی بڑا فخر ہے مگر
مصرعہ قبول ہو تو یہ احسانِ نعت ہے
سب جانثاروں مدح گزاروں کے درمیاں
جگمگ ہے ایک شخص جو حسّانِ نعت ہے
جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود
اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے
توفیق نعت دی ہے جو تو نے سعود کو
یارب وہ اجر بھی کہ جو شایان ِ نعت ہے
جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود
اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے
سمعیہ ناز، لیڈز، برطانیہ
مخصوص یہ عنایت و احسانِ نعت ہے
حاصل ہوا جو قلب کو وجدانِ نعت ہے
عشقِ نبی کے نور سے روشن ہے جس کا دل
پھر اس پہ صبح و شام ہی فیضانِ نعت ہے
رنج و الم قریب بھی آتے نہیں مرے
صد شکر جب سے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
سیرت سے آپ کی ہو درخشاں حیات گر
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
چنتی رہی میں گل تری مدحت کے باغ سے
خوشبو سے بھر گیا مرا دیوانِ نعت ہے
وردِ زباں درود ہو آنکھیں ہوں نم تری
پھر ہو رقم قلم سے جو شایانِ نعت ہے
جب سے جمالِ گنبدِ خضریٰ ہے سامنے
ہر لمحہ میرے قلب پہ باران نعت ہے
مدحت کا اذن یوں ہی سمیعہ نہیں ملا
عشقِ رسول ہے تو یہ عرفانِ نعت ہے
سید حسن، ملتان، پاکستان
کب یہ کہا زباں مری شایانِ نعت ہے
مجھ پرکرم ہے آپ کا احسانِ نعت ہے
دادا کے بعد حضرتِ عمران ہیں وجہ
باقی ابھی تلک جو دبستانِ نعت ہے
جو دعوتِ اوّل میں تھا عمران نے کیا
سوچو ذرا تو غور سے اعلانِ نعت ہے
دعوتِ ذوالعشیرہ کو پڑھ کر پتہ چلا
مجلس ہوئی یہ ایک با عنوانِ نعت ہے
بنتِ اسد کی زندگی دیکھو کبھی ذرا
کس درجہ کا جناب کو عرفانِ نعت ہے
روشن فلک پہ چاند ستارے نہیں کوئی
دراصل پھیلا یہ تو چراغانِ نعت ہے
دامن میں میرے کچھ نہیں بخشش کے واسطے
اک ہے دُرودِ پاک یا فیضانِ نعت ہے
ظاہر ہے یہ قرآن کے ہر ایک حرف سے
ہر ایک حرف اِسکا گُلستانِ نعت ہے
الحمد سے والناس تک ہر سورہ و آیت
اللہُ کی سمت سے ہوئی بارانِ نعت ہے
حیدر سرِ کوفہ سرِ کربل علی اکبر
دیتے ہیں جو واللہ یہی آذانِ نعت ہے
جی کر دکھایا آلِ محمد نے با خُدا
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
بُوذر اویس قرنی و سلمانِ فارسی
ہر ایک اپنے آپ میں دیوانِ نعت ہے
ساری خطائیں چھوڑ محبت ہے تولتا
کچھ ایسا میرے شاہ کا میزانِ نعت ہے
جنت سے بھی پرے کوئی جنت ہے، ہوں وہاں
محسوس مجھکو ہوتا یوں دورانِ نعت ہے
اشکوں سے حسن جب کریں الفاظ سب وضو
پھر بن سکیں وہ نعت یہی شانِ نعت ہے
سیف اللہ خالد، ملتان، پاکستان
قلب و دماغ پر مری بارانِ نعت ہے
صد شکر آج مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے
یہ میری بے بساطی کہ اب تک نہ لکھ سکا
دل میں تو مدتوں سے یہ ارمانِ نعت ہے
قول و عمل میں جس کے ہوسنت کی پیروی
وہ شخص ہی حقیقی سخندانِ نعت ہے
پڑھ لے درود خامہ کو چھونے سے پیشتر
طاری اگر جمود ہے بحرانِ نعت ہے
سچا ہے تیرے دل میں اگر عشقِ مصطفیٰ
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
دل ذکر سے اجال تو اشکوں سے کر وضو
لکھنی ہے نعت گر تو یہ شایانِ نعت ہے
خالد زبان وقف ہے توصیف کیلئے
میرا یہ فن یہ شاعری قربانِ نعت ہے
شاد مردانوی، کراچی، پاکستان
تخلیقِ آب و خاک ہی اعلانِ نعت ہے
” ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے “
اشکوں سے پہلے کیجیے تطہیرِ نطق و حرف
آدابِ نعت ہیں یہی عرفانِ نعت ہے
پھر سے ہمیں زیارتِ طیبہ ہوئی نصیب
ہم پر عطا ہے نعت کی ، فیضانِ نعت ہے
پروانہء بہشت کا مجھ سے نہ کر سوال
رضوان ! میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
یادِ مدینہ ،اشک، شفاعت کی آرزو
ہم بے کسوں کا بس یہی سامانِ نعت ہے
لگتا ہے سب گناہ مرے دھلنے والے ہیں
شعر و سخن پہ حاوی جو رجحانِ نعت ہے
یاسین و طاہا کی ہمیں لولاک کی قسم
عالم کا ذرہ ذرہ ہی حیرانِ نعت ہے
قدموں میں شہ کے بیٹھ کے جنت دکھائی دے
آ پاس آکے بیٹھ ، خیابانِ نعت ہے
شاد اس ورق کو چومیے ، دل سے لگائیے
جو جلوہ گاہِ مطلعِ جانانِ نعت ہے
شاہد اشرف، فیصل آباد، پاکستان
رونق لگی ہوئی ہے ، یہ احسانِ نعت ہے
ہر شخص اِس نشست میں مہمانِ نعت ہے
لکھتے ہوئے سکون کی حالت نہ پوچھیے
اِک خاص کیفیت مری دورانِ نعت ہے
کہیے ہر ایک صنفِ سخن دھیان یہ رہے
روزِ جزا نجات کو دیوان نعت ہے ؟
اک خاص ضابطے کا تقاضا ہے دوستو!
ہر درجہ احتیاط یہ میدانِ نعت ہے
دنیا مجھے نہ مانگ میں تیرا نہیں رہا
اب مقصدِ حیات ، مری جانِ نعت ہے
اُن کی عطا سے کھلتے ہیں شاہد ثنا کے پھول
ہر روز رو بہ حُسن گلستانِ نعت ہے
شاہین فصیح ربانی، دینا، گجرات، پاکستان
بزمِ تصورات ہے، وجدانِ نعت ہے
رقص تجلیات ز فیضانِ نعت ہے
فکر و خیال عشق ہی شایانِ نعت ہے
الفاظ میں، حروف میں امکانِ نعت ہے
کیا گرمیء حیات ہے کیا سختیء ممات
حاصل ہمیں جہان میں بردانِ نعت ہے
ماہ و نجوم رشک سے تکتے ہیں اس طرف
روشن کچھ ایسے شمعِ شبستانِ نعت ہے
کوئی غزل، قصیدہ، رباعی کہ ماہیا
جو میری شاعری ہے وہ قربانِ نعت ہے
شاعر نہیں غلام رسول کریم ہوں
یہ شاعری نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے
کیا ہو فصیح دعویء مدحت سرائی جب
محبوبِ رب جو ذات ہے، عنوانِ نعت ہے
شکیل کالا باغوی، کالا باغ، پاکستان
یہ ابتدائے سانس ہی پیمانِ نعت ہے
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ذکرِ نبیۖ ہے قبر کی تنہائی کا رفیق
خاکی تری نجات ہی وجدانِ نعت ہے
اوجِ فلک پہ میرا ستارہ رواں دواں
جادو گری نہیں ہے یہ میلانِ نعت ہے
حیراں ہیں مشک و عنبر و عود و گلِ بہار
کس شان سے مہکتا گلستانِ نعت ہے
کامل دل ونگاہ کی تطہیر شرط ہے
حدِ ادب کا پاس قلمدانِ نعت ہے
نامِ عمر، صدیق، علی، عثمان ہیں رقم
یہ قصہءِ محبتِ یارانِ نعت ہے
مصارع شکیل کیوں تیرے عطر بِیز ہیں
بادِ صبا پکارے یہ فیضانِ نعت ہے
شوزیب کاشر، راولہ کوٹ، کشمیر، پاکستان
وسعت پذیر حلقۂ دامانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر شاخ رونقِ چمنستانِ نعت ہے
دو جگ میں خوشبوئے گلِ ریحانِ نعت ہے
قرآن سے کشید مضامین نعت کے
روحِ ثنا یہی ہے یہی جانِ نعت ہے
سیرت سے مشکبار ہو سنت سے مستنیر
یعنی ہو مستند یہی شایانِ نعت ہے
اللہ کی یہ پیاری ، فرشتوں کی لاڈلی
سبحانهٗ تعالی عجب شانِ نعت ہے
والشمس ہے کہیں ، کہیں واللیل سے خطاب
یہ لؤلؤِ صلوۃ ، وہ مرجانِ نعت ہے
مازاغ کا سلام ہے قوسین کا درود
معراج ان کی شان میں اعلانِ نعت ہے
مُدَّثِّرُ و مُبَشِّرُ و مُزَّمِّلُٗ ہیں آپ
ہر نامِ نامی آپ کا ، عنوانِ نعت ہے
ہر عہد کو محیط وہی عہد خوشگوار
خیرُ القرون نیرِ تابانِ نعت ہے
حکمِ تُعَزِّرُوہٗ ادب گاہ مصطفی
لاتَرْفَعُوا عقیدہ و ایمانِ نعت ہے
لولاک کیا ہے مدحتِ سرور کے باب میں؟
اللہ کی محبت و برہانِ نعت ہے
عقدہ کشا ہے آیتِ صَلُّوا وَسَلِّمُوا
بے شک درودِ پاک بھی فرمانِ نعت ہے
یُعْطِیْکَ رَبّّکَ سے تونگر بشر بشر
الفقر فَخْرِی رزقِ گدایانِ نعت ہے
پیماں شبِ الست کا لا شک ذالک
قربان جائیے کہ وہ پیمانِ نعت ہے
تحتِ سری سے عرش بریں تک کے سلسلے
جس سے مہک رہے ہیں وہ لوبانِ نعت ہے
اے شہسوارِ دشتِ غزل ہوش میں تو ہے؟
نادان! احتیاط یہ میدانِ نعت ہے
حقِ ثنا ہو کس سے ادا اور کس طرح
سب خاک اس سفر میں وہ کیوانِ نعت ہے
مجھ سا حقیر آپ کو نذرانہ دے تو کیا
کر لیجیے قبول یہ دیوانِ نعت ہے
یہ شہرت و مقام یہ سطوت یہ ننگ و نام
میری بساط کیا ہے یہ فیضانِ نعت ہے
محشر میں اطمنان سے ہوں گے ہم امتی
حاصل ہمیں شفاعتِ جانانِ نعت ہے
جذب و شعور و فکر و فن و خامہ و ہنر
کاشر ہر ایک شے مری قربانِ نعت ہے
شہر یار خرم ، اٹک
کیسے کسی کو دل میں بسائیں گے ہم بھلا
سینے میں دل جہاں وہیں کاشانِ نعت ہے
جاہ و جلال و عزت و رتبہ ملا مجھے
یہ مجھ گناہگار پہ فیضانِ نعت ہے
تم کو پناہ دے گا زمانے کے رنج سے
آجاؤ عاشقو کہ یہ دامانِ نعت ہے
تدریس و تربیت ہو یا انصاف و عدل ہو
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
سالک نے ڈرتے ڈرتے جسارت تو کی مگر
اک شعر پر محیط یہ دیوانِ نعت ہے
شاعر: شہر یار خرم بٹ ، اٹک
شہریار زیدی، لاہور
مجھ بے ہنر پہ یہ بھی تو احسانِ نعت ہے
ہر شعر میرا شمع شبستانِ نعت ہے
تجھ کو درِ حبیبؐ تلک لے کے جاونگی
مداح مصطفٰیؐ سے یہ پیمانِ نعت ہے
اہلِ زمین نے بھیجا ہے پھر ہدیہِ درود
یہ مصطفٰیؐ کی بزم میں اعلانِ نعت ہے
کیا خوف رہزنوں کا انھیں راہِ شوق میں
محفوظ جن کے سینوں میں سامانِ نعت ہے
وہ سوزِ دل ہو یا ہوں تفکر کی وسعتیں
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اللہ اور ملائکہ سب پڑھتے ہیں درود
یہ عرش ہے یا گوشہِ ایوانِ نعت ہے
ٹھکراتا ہے وہ دونوں جہاں کی مسرتیں
خوش بخت کتنا صاحبِ عرفانِ نعت ہے
ہر فرد شہریار نبیؐ کے گھرانے کا
لاریب! رشک لُو لُو و مرجانِ نعت ہے
شہزاد بیگ، فیصل آباد، پاکستان
جیسے جہان سارا یہ ایوان ۔ نعت ہے
ہاتھوں میں اس طرح مرے دیوان۔نعت ہے
لکھ لکھ کے کررہا ہوں روانہ جو رات دن
یہ جذبہ ہے مرا کہ قربان۔نعت ہے
صل علی کا ذکر ہے دنیا میں ہر جگہ
تسلیم۔دوجہان بھی ایقان ۔ نعت ہے
خوشبو دیار۔دل میں جو پھیلی ہے چارسو
خوشبو نہیں ہے یہ مرا ایمان ۔ نعت ہے
دیوار ۔ خستگی میں بنا ہے نیا جو در
"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔نعت ہے"
رمضان میں لکھی ہے عقیدت میں ڈوب کر
یہ زیست بھی تو صورت ۔ عنوان۔نعت ہے
ہم لازمی منائیں گے میلاد۔ مصطفی
یہ رونق ۔ جہاں بھی فیضان ۔ نعت ہے
جاری ہے ایک عرصہ سے جو شہر۔نعت میں
یہ شاعری نہیں ہے یہ فیضان۔نعت ہے
جو دل میں بس گئی ہے عقیدت حضور کی
ہر شخص اپنی ذات میں سلطان ۔ نعت ہے
کرتا ہوں جان و دل سے میں تحریر نعت جو
وجہ ۔ تجلیات ہے ایمان ۔ نعت ہے
سیرت کے واقعات کے قربان جاوں میں
جو مصطفے کی شان کے شایان ۔ نعت ہے
بڑھیا سے لے کے حضرت حساں کی نعت تک
ہر ایک ایک واقعہ امکان ۔ نعت ہے
صل علی کا ورد زباں پر ہے صبح و شام
شہزاد بیگ آپ کا دربان ۔ نعت ہے
شیر محمد، جھارکھنڈ، بھارت
بشکریہ : نواز اعظمی
روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے
توصیف شاہ دہر کی عنوانِ نعت ہے
تعمیر ذات میں بڑا احسان نعت ہے
مجموعۂ کلام بھی دیوان نعت ہے
ہر شعبۂ حیات کے سرکار رہنما
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
- لا یمکن الثناءُ کما کان حقہ*
یہ عجز و اعترافِ ادیبان نعت ہے
تعریف واہ واہ نہ تحسین و آفریں
چشمِ کرم، دوائے مریضانِ نعت ہے
پروانۂ نجات بھی ہوگا بروز حشر
مجھ پر خطا کے ہاتھ میں دامان نعت ہے
باشندہ جو بھی عالمِ شعر و ادب کا ہے
کاسہ بدست بر درِ ایوان نعت ہے
الفاظ لاؤں کوثر و تسنیم سے دھلے
ذوق سخن وری مرا مہمان نعت ہے
پاکیزگئ حرف کو حاصل اسی سے بھیک
صوت و صدا کا حسن بھی فیضانِ نعت ہے
آداب و احترام ثنا اس سے سیکھیے
قرآنِ رب ذریعۂ عرفان نعت ہے
سیراب ہو رہا ہوں میں ذکر رسول سے
کشتِ سخن پہ چشمۂ باران نعت ہے
حورو ملک کہ جن وبشر آنکھوں میں رکھیں
ہر دلعزیز بلبل بستانِ نعت ہے
شعری وجود و چشم ہے محفوظ ضعف سے
اشہر کے بخت میں نمک و نانِ نعت ہے
شیر محمداشہر شمسی منانی، جھارکھنڈ (ہندوستان)
صادق جمیل، لاہور، پاکستان
اللہ کیا ہے خالق ِ سامان ِ نعت ہے
لوح و قلم ہی اصل میں شایان ِ نعت ہے
شامل یہ نشریات میں اعلان ِ نعت ہے
صادق جمیل ملحق دامان ِ نعت ہے
اس سے سوا بھی کیا کوئی احسان ِ نعت ہے
مجھ کو خدا نے بخشا قلم دان ِ نعت ہے
حد ِ نظر سے آگے بھی ایوان ِ نعت ہے
جبریل جانیے کہ نگہبان ِ نعت ہے
سیرت اگر ہے آپ کی پیش نظر مدام
"ہر شعبہ ءِ حیات میں میں امکان ِ نعت ہے "
صحرا صفت وجود بھی شاداب ہوگیا
برسا کچھ اس طریق سے باران ِ نعت ہے
حمد ِ خدا سے نعت ِ رسالت مآب تک
حسن ِ سخن کی جان بھِی فیضان ِ نعت ہے
اسری کی رات دیکھی کسی اور نے نہیں
جبریل کو ہی اصل میں عرفان ِ نعت ہے
سینے میں اور کوئی بھی خواہش نہیں جمیل
ارمان ہے تو ایک ہی ارمانِ نعت ہے
صائمہ اسحاق، کراچی، پاکستان
ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے
صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے
پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے
جب خود درودِپاک ہی دربانِ نعت ہے
ہرسانس مستفیض ہے ان کے وجود سے
'؛ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے؛
اے کاش کم سخن کو بھی آئے ثنا گری
قرطاس کو قلم کو بھی ارمانِ نعت ہے
جیسے ہر ایک شے میں ہے عشقِ محمدی
ویسے ہر ایک شے میں ہی میلانِ نعت ہے
کوثر سے جام اس کو عطا ہو مرے حضور
شامل قطار میں جو ثنا خوانِ نعت ہے
کیا کیاسخن طرازہیں اس کارزار میں
ناچیز کو سہاریے میدانِ نعت ہے
قوسین ہے خدا سے محبت کا سلسلہ
معراج کا سفر بھی تو اعلان ِ نعت ہے
کچھ اور تو نہیں مرے توشے میں صائمہ
حبِ رسول ِ پاک ہی سامانِ نعت ہے
صفیہ ناز، لاہور، پاکستان
چشم کرم حضور کی فیضان نعت ہے
رزق_سخن ملا جو یہ احسان _ نعت ہے
لکھی ثنا تو ہو گئے الفاظ نوُر نوُر
اور جگمگا اُٹھا میرا دیوان_ نعت ہے
مدحت کے پھول بے بہا دامن میں آ گئے
کتنا وسیع نبی کا گلستان_ نعت ہے
کچھ سسکیاں ہیں اشک ہیں کچھ درد اور دروُد
اتنا سا پاس میرے بھی سامان_ نعت ہے
عشق_ نبی میں ڈوب کر جو بھی کرے ثنا
وہ ہی عظیم ہے وہی سلطان_ نعت ہے
غار_حرا کا نوُر اُترے جو روم روم تک
پھر خامہ بھی لکھے گا جو شایان_ نعت ہے
دل میں سجی ہو یاد جب آقا کریم کی
ہر شعبہ ء حیات میں امکان_ نعت ہے
آئی بہار نعتوں کی کلیاں چٹک گئیں
اے ناز تیرے قلب پہ باران_نعت ہے
صغیر انور وٹو ، اسلام آباد
کس کو، شعور_وسعت_ دامان _نعت ہے
وہ خوش نصیب ہے، جسے عرفان_ نعت ہے
در کھل گیا ہے خیر کا، رحمت کا، نور کا
لے آئے ،جس کے پاس ،جو، سامان_ نعت ہے
لکھی نہیں ہے، مجھ کو عطا کی گئی ہے نعت
آنکھوں میں نم نہیں ہے یہ باران_ نعت ہے
اس ذات کو ہی زیبا ہے مدحت حضور کی
اس کا کہا ہی اصل میں شایان_ نعت ہے
مجھ بے ہنر پہ ان کا کرم ہو گیا تو پھر
میں بھی کہوں گا یہ مرا دیوان_ نعت ہے
قرآں بتا رہا ہے سراپا حضور کا
کس درجہ واشگاف یہ اعلان نعت ہے
روشن ہے کائنات اسی ایک نور سے
انور، وہ آپ شمع ٕ شبستانٕ نعت ہے
ضمیر درویش، مراد آباد، انڈیا
ہر چند بے نوا ہوں پہ عرفانِ نعت ہے
فیضانِ نعت ہے ارے فیضانِ نعت ہے
قرآں میں رب بھی کرتا ہے توصیفِ مصطفٰی
سلطانِ ہست و بود بھی سلطانِ نعت ہے
دراصل ہو رہا ہے یہ دل پر نزولِ نعت
عالم عجیب دل کا جو دورانِ نعت ہے
کس منھ سے کہتے ہو مجھے کم مایہ وغریب
مَیں وہ ہوں جس کے ہاتھوں میں دیوانِ نعت ہے
کیجے جونظم سیرتِ اقدس بھی نعت میں
'ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
'درویش' حرف حرف سے آئیں گی خوشبوئیں
عشقِ حبیبِ پاک اگر جانِ نعت ہے
طارق شہزاد، جدہ ، سعودی عرب
گلزار۔حسن_ فکر پہ احسان_ نعت ہے
سب تتلیوں کے ہاتھ میں گلدان_نعت ہے
جو کنز _ کن ہے سارا ہی سامان_نعت ہے
ہر شعبہء حیات میں امکان_ نعت ہے
درباں کو کاش داور _ محشر یہ حکم دیں
روکیں نہ اس کو صاحب_ دیوان_ نعت ہے
فصلیں خیال_سبز کی اگتی ہیں جا بجا
کشت_ سخن بھی تحفہء دہقان_ نعت ہے
اک دن چھپے گا میرا بھی دیوان ! دیکھنا
حاصل مجھے بھی صحبت_ یاران_ نعت ہے
پھوٹے ہیں پور پور سے چشمے درود کے
ٹھہرا سراے روح میں مہمان_ نعت ہے
کچھ اہتمام_ روز_ جزا کیجیے میاں
سودا خرید لیجیے دکان _ نعت ہے
پت جھڑ کی کیا مجال کہ چھینے طراوتیں
ان پتیوں پہ رنگ_ بہاران_ نعت ہے
مشک_ درود_ پاک سے مس کر لباس_ زیست
کھولی کسی نے کاکل_ دیوان _ نعت ہے
طاہر جان، گوجرہ
پیہم قلم رواں ہے بفیضان نعت ہے
ہر لفظ کیمیا ہے بعنوان نعت ہے
لفظوں کے ساتھ چاہیئے معانی کی احتیاط
لغزش کی جاء نہیں کہ یہ عنوان نعت ہے
اشکوں سے آنکھ ہی نہیں دل بھی ہوں دھو رہا
پاکی نگاہ و فکر کی جزدان نعت ہے
اس کی بہارِ تام خزاں سے ہے نا شناس
ہر دور میں فروزاں گلستان نعت ہے
ہر ذکر سے بلند کیا مصطفی کا ذکر
رب جہان آپ قدر دان نعت ہے
گرچہ ہے جاؔں بھی خوگرِمدحِ رسولِ پاک
حق ہے کہ صرف حق ہی کو عرفان نعت ہے
عارف امام، امریکہ
عالم تمام حلقۂ دورانِ نعت ہے
اعلانِ کُن کے “ن” میں اعلانِ نعت ہے
ملتی ہے عاجزی سے یہاں شعر کو اُٹھان
گردن جُھکا کے چل کہ یہ میدانِ نعت ہے
پُر پیچ تو نہیں ہے مگر سہل بھی نہیں
اے راہ رو سنبھل! یہ خیابانِ نعت ہے
سرنامۂ کلام ہیں اوصافِ مصطفیٰ ص
گویا کتابِ حق ہی دبستانِ نعت ہے
مدحِ نبی ص ہے نغمۂ تارِ نفس مدام
میں سانس لے رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے
سایہ ہے اِس سخن کا مِرے سر پہ تو مجھے
میدانِ حشر وادئ فارانِ نعت ہے
اس دائرے سے دور نکل اے خیالِ دہر
حّدِ ادب! یہ بزمِ سخن دانِ نعت ہے
خطبے میں جس نے دفترِ الحمد وا کِیا
تاریخ نے کہا وہ حدی خوانِ نعت ہے
کوثر سے منسلک ہے یہاں کی ہر اک رَوِش
یہ باغِ منقبت یہ گلستانِ نعت ہے
عارف قادری، اسلام آباد، پاکستان
پھیلا ہُوا جہان میں فیضانِ نعت ہے
جو جو کرم ہے جس پہ، وہ احسانِ نعت ہے
جاں ہے فداۓ مدحِ پیمبر، زہے نصیب
خُوش بخت ہوں، کہ دِل مِرا قُربانِ نعت ہے
یُوں ہی نہیں ہے وقت کی گردش تھمی ہُوٸی
جاری مِری زبان پہ گَردانِ نعت ہے
مانا اَدَب میں صِنفِ غزل بھی ہے صِنفِ خاص
دیکھیں دِلِ سخن میں، تو ارمانِ نعت ہے
آنا ذرا سنبھل کے مِرے شاعرِ عزیز
حسّاس ہے بہت، کہ یہ میدانِ نعت ہے
دِل کا گُداز، اشکِ تپیدہ، جگر کا سوز
بہرِ قبول بس یہی سامانِ نعت ہے
سب داٸرے مُحیطِ عطاۓ حضور ہیں
”ہر گوشہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“
خُلدِ بریں کی مُجھ پہ حقیقت بھی کُھل گٸی
پُر کیف و پُر بہار گُلستانِ نعت ہے
مِلتی نہیں ہر ایک کو عارف یہ روشنی
قسمت کا ہے دھنی جسے عرفانِ نعت ہے
عاصم زیدی، کراچی، پاکستان
ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے
لیکن زہے نصیب کو عرفانِ نعت ہے
"کُن" کی صدا کا اُٹھنا تو عنوانِ نعت تھا
ظاہر ہوا جو "کُن" سے وہ دیوانِ نعت ہے
قرآن پڑھ رہا ہے قصیدے رسول ؐ کے
یعنی کہ "بے نیاز" کو ارمانِ نعت ہے
شاعر تو کر رہا ہے اٙدا سُنّتِ خدا
ورنہ "احد" کی ذات ہی شایانِ نعت ہے
شانوں پہ کاتبین نے آرام کرلیا
بس لکھ دیا کہ یہ ابھی دورانِ نعت ہے
منکر نکیر اُس سے ملیں گے بصد ادب
تقدیر میں عطا جسے فیضانِ نعت ہے
کیونکر بھٹک سکے گا رٙہِ مستقیم سے
عاصم ترے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
عاکف غنی، پیرس
وردِ درود لب پہ ہے ،وجدانِ نعت ہے
عشقِ نبی ہے دل میں تو امکانِ نعت ہے
لاؤں اثر کہاں سے میں اپنے کلام میں
اسلوبِ فن کہاں مرا شایانِ نعت ہے
اس کے قلم سے نعت کی پھوٹے گی روشنی
جس کے دل و نگاہ میں عرفانِ نعت ہے
مدحت کروڑ ہا ہیں جو کرتے ہیں آپ کی
ان میں سے میں بھی ہوں جسے ارمانِ نعت ہے
لفظوں کا انتخاب کریں دیکھ بھال کر
محتاط اہلِ فن کہ یہ میدانِ نعت ہے
حسنِ سلوک آپ کا ہر اک سے ایک سا
ہر قول و فعل آپ کا عنوانِ نعت ہے
کہنے لگا جو نعت میں آتا گیا نکھار
لفظوں پہ میرے دیکھیے بارانِ نعت ہے
عائشہ ناز، کراچی، پاکستان
موضوعِ گفتگو مرا اب شانِ نعت ہے
کتنا مرے سخن پہ یہ احسانِ نعت ہے
سب کے نصیب میں کہاں عرفانِ نعت ہے
صد شکر دل محبِّ محبانِ نعت ہے
بتلا رہا ہے اسم ِمحمّد ﷺ کہ حشر تک
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
ان کی صفات کیسے بیاں کر سکے کوئی
کہہ کر بھی نعت قلب کو ارمانِ نعت ہے
رکھی ہوئی ہیں اس میں ادب سے سنبھال کر
دل جس کو آپ سمجھے وہ جزدانِ نعت ہے
اس کی گلی گلی میں ہے مہکار نعت کی
یہ ارضِ پاک میری گلستانِ نعت ہے
عباس عدیم قریشی، خانیوال، پاکستان
انکی عطا ہے اور مرا دامانِ نعت ہے
یعنی زمینِ خشک پہ بارانِ نعت ہے
فکرِ سخن ، رضا کے تکلّم کی بھیک بس
طرزِ سخن فقیر کا فیضانِ نعت ہے
ملحوظ حدّ ِ شرع و سیرت رکھی فقط
دعویٰ نہیں ہے حاشا ، کہ عرفانِ نعت ہے
مجھ پر جو حرف و معنی کے دفتر ہوئے ہیں وا
یہ اہلیت نہیں مری ، احسانِ نعت ہے
کچھ ان بہے سے اشک ہیں ، کچھ بےصدا سے لفظ
کاسے میں مجھ گدا کے یہ سامانِ نعت ہے
تغسیلِ نور کر کے اترتے ہیں یاں خیال
یہ مہبطِ جمال ہے ، میدانِ نعت ہے
یاں قدرتِ سخن نہیں ، توفیقِ نعت مانگ
غالب ہیں ہاتھ باندھے ، یہ ایوانِ نعت ہے
ہر لمحہ ہوں درود سپاس انکی چاہ میں
ہر لمحہ ان کے لطف سے قربانِ نعت ہے
کہنے کی بات ہے نہ بتانے کا حوصلہ
جتنا کرم فقیر پہ دورانِ نعت ہے
ماخوذ ہو حیات جو سیرت سے شاہ کی
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
حسّان و رومی ، جامی کا صدقہ ہے یہ عدیم
توفیقِ نعت جس کو ہے حسّانِ نعت ہے
عبد الباسط، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکستان
یہ کائنات سر بسر سامانِ نعت ہے
وہ خوش نصیب ہےجسے عرفانِ نعت ہے
اللہ کا ہے فرمان کانَ خلقہ القرآن
یعنی قرآنِ پاک بھی اعلانِ نعت ہے
میرے لبوں پہ رہتا ہے ذکرِ حضورِ پاک
مجھ پر یہ احسان بہ فیضانِ نعت ہے
آقا ہیں میرے باعثِ تخلیقِ کائنات
یہ کائنات سمجھیے دیوانِ نعت ہے
ہراک نفس پہ قرض ہے مدح حضور کی
ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے
عبد الحلیم، گونڈہ، بھارت
فکر و نظر شعور میں فیضانِ نعت ہے
جو کچھ ہے میرے پاس وہ احسانِ نعت ہے
اللٰہ کے رسول کا احسان دیکھئے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
تسکین قلب کے لئے نعت رسول بس
میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے
ابر کرم حضور کا برسا ہے ہر جگہ
اس واسطے جہاں یہ گلستانِ نعت ہے
آنکھوں میں اشک دل میں وِلا لب پہ ان کا نام
ہمراہ میرے بس یہی سامانِ نعت ہے
جنبش قلم کو خوب ادب سے دیا کرو
لازم ہے احتیاط یہ میدانِ نعت ہے
عبدالحلیم جیسے بھی لکھتے ہیں ان کی نعت
کتنا وسیع دیکھئے دامانِ نعت ہے
عبدالرحیم ارحم، حیدر آباد، سندھ، پاکستان
ظاہر کلام رب سے جو فرمانِ نعت ہے
تاحشروا یونہی در امکانِ نعت ہے
شان رسول پاکﷺ میں قرآں کاحرف حرف
لولوٸے نعت ہے کوٸی مر جانِ نعت ہے
ہرآن ہو جوپیش نظراسوہٕ رسول
ہرشعبہٕ حیات میں امکانِ نعت ہے
مرقد میں میرے آکے فرشتے خموش تھے
دیکھا جو میے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
عشق نبیﷺ ہی پیش خدا سرخ رو کرے
عشق نبی ﷺ ہی تاررگ جان نعت ہے
دل میں مرے جو روشنی یاد نبیﷺ کی ہے
اللہ کا کرم ہے یہ احسان نعت ہے
عزم سفر ہے جانب طیبہ مرا ، کہ واں
وجود گام گام پہ سامان نعت ہے
عبد الغنی تائب، حافظ آباد، پاکستان
علم و ادب میں منفرد یہ شان نعت ہے
مدح و ثنائے مصطفی' ایوان نعت ہے
پھیلی ہوئی ہے چار سو خوشبوئے جاں فزا
ارض ہنر پہ کھل پڑا بستان نعت ہے
وارفتگیء شوق ہے ، بیدار بخت ہے
یہ جان لو کہ صدقہ و فیضان نعت ہے
ہے میرے پاس جو زر عشق رسول پاک
اک فیض بار قطرہء باران نعت ہے
تسکین قلب و جان ہے یاد شہ رسل
ذکر حبیب آن سخن، جان نعت ہے
تائید جبرائیل بھی مل جائے گی اسے
کب سے دیار قلب میں ارمان نعت ہے
مقصود ہے جو چار سو ہو امن و آشتی
" ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
فتح و ظفر کا رستہ ، ہے امید کی کرن
بخشش کا آسرا یہی سامان نعت ہے
اخلاص کی مہک ہو ، موءدت کی چاندنی
لائو وہ حرف و صوت جو شایان نعت ہے
رزق سخن ہے نکہت طیبہ سے مشکبو
توفیق شعر گوئی بھی احسان نعت ہے
تائب یہ فخر اوج سعادت سے کم نہیں
دست سخن شناس میں دامان نعت ہے
عبدالقادر ہمدم قادری، گونڈہ، بھارت
مکمل نام : انصاری عبدالقادر ہمدم قادری
رحمت ہے اُس پہ جو بھی قلمدانِ نعت ہے
صد شُکر ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے
سرکار ﷺ کا کرم ہے فقط اور کچھ نہیں
قلب و جگر میں آج جو میلانِ نعت ہے
سرکار ! یہ یقین ہے صدقے میں آپ کے
محفوظ میرے قلب میں ارمانِ نعت ہے
دل میں بسی ہے الفتِ سرکارِ ہر جہاں
قلب و جگر پہ دیکھئے بارانِ نعت ہے
مجھ کو شعور کب ہے کہ نعتِ نبی لکھوں
شکرِ خدا کہ آج یہ وجدانِ نعت ہے
جرم و خطا کا بوجھ مرے سر پہ ہے مگر
راہِ نجات کے لئے سامانِ نعت ہے
اعلیٰ ہے کتنی دیکھئے شانِ رسولِ پاک
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
ہمدمؔ درودِ پاک پڑھو جھوم جھوم کر
شایانِ نعت ہے یہی شایانِ نعت ہے
عبد اللہ خان آبرو علیمی، بلرام پور، بھارت
پیش کش: غلام جیلانی سحر
شکرِ خدا کہ روح پریشانِ نعت ہے
سرکار ! لطفِ خاص کہ عنوانِ نعت ہے
سرکار ! مجھ گنوار کی لاج آپ کے سپرد
کچھ زادِ آخرت ہے نہ سامانِ نعت ہے
سرکار ! آپ ہی کی عطا نعت اگائے گی
کشتِ سخن میں آپ سے امکانِ نعت ہے
سرکار ! لطف آپ کا شامل رہے تو پھر
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
ہر ایک پھول رنگت و نکہت کا شاہ کار
قرآن کا, جو ایک گلستانِ نعت ہے
امداد ان کی شانِ کریمی کی واہ واہ
لب ہائے خوش نصیب پہ گردانِ نعت ہے
ہمراہ ان کا عشق اگر ہے تو ٹھیک ہے
خطرے ہیں بے شمار,کہ میدانِ نعت ہے !!
مجھ میں کوئی کمال نہیں ہے اے آبروؔ!
اک بے ہنر پہ بارشِ فیضانِ نعت ہے
عبید بخاری، لودھراں، پاکستان
خوش قسمتی سے مل گیا وجدانِ نعت ہے
اب میں ہوں اور سَیرِ خیابانِ نعت ہے
دل میں وفورِ عشقِ رسولِ کریم ہو
دشتِ سخن میں بس یہی سامانِ نعت ہے
اسمِ گرامی آپ کا مشتق ہےحمد سے
یعنی کہ نامِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے
ہےنعت اپنی ذات میں یہ مصرعِ کمال
”ہرشعبہ۶حیات میں امکانِ نعت ہے“
خوش دست وخوش قلم ہےوہ خوش فکروخوش کلام
جوبھی جہاں پہ صاحبِ دیوانِ نعت ہے
ہو جاؤں وقفِ مدح تشکّر میں اے عبید
قدرت نے مجھ کو بخشا قلم دانِ نعت ہے
عتیق الرحمان صفی، گجرات، پاکستان
ہر فکر ہر خیال میں امکانِ نعت ہے
مدحِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے
مجھ کو سخن عطا ہوا ہے برکتوں کے ساتھ
یعنی کرم ہے رب کا جو فیضانِ نعت ہے
میں نعت اُن کے عشق میں لکھتا ہوں اور بس
دعویٰ مرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے
مجھ ایسے کم سخن کو بھی عزت ملی ہے جو
رب کی عطا کے بعد یہ احسانِ نعت ہے
اک ایک حرف چومئے لکھنے سے پیشتر
صد احترام کیجیے میدانِ نعت ہے
سیرت کے پھول نعت میں چن چن کے ڈالیے
کتنا حسین دیکھئے سامانِ نعت ہے
تعریف رب خود آپ کی کرتا ہے اس لیے
ہستی مرے حضور کی شایانِ نعت ہے
انسان و جن، ملائکہ مدحت سرا ہیں سب
اس کائناتِ نعت میں بارانِ نعت ہے
اردو کے بھاگ جاگ گئے آپ کے طفیل
ہر لفظ خوش ہے یوں کہ وہ مہمانِ نعت ہے
جب تک ہے سانس آپ کی کرتا رہوں گا مدح
میرا یہ اپنے آپ سے پیمانِ نعت ہے
اشعار اُن کی شان میں کہتے ہوئے صفیؔ
لب پر درودِ پاک ہی دورانِ نعت ہے
عدنان محسن، لاہور، پاکستان
آنکھوں میں اشک، سینے میں ارمانِ نعت ہے
مجھ بے نوا کے پاس یہ سامانِ نعت ہے
ہر راہ ہے مدینے کی جانب رواں دواں
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
عمران نے لکھی تھی جو خیرالوریٰ کی نعت
وہ مرتبے میں سورۂ رحمٰنِ نعت ہے
نوحہ ہو مرثیہ ہو مناقب ہوں یا سلام
حمدِ خدا کا فیض ہے،فیضانِ نعت ہے
اس دل پہ جاری رہتا ہے الہام کا ورود
یہ عام دل نہیں کہ یہ جز دانِ نعت ہے
اعمال کی ترازو ہے لوگوں کے واسطے
اور شاعروں کے باب میں میزانِ نعت ہے
اس وقت ہے جدا مری سانسوں کا مرتبہ
تسبیح یہ وجود کی دورانِ نعت ہے
بادل برس رہے ہیں محمد کے شہر پر
بارش نہیں جناب یہ بارانِ نعت ہے
عاصی ہوں نعت گوئی کا یارا نہیں مجھے
میرا سخن تمام ثنا خوانِ نعت ہے
یثرب میں نینوا کا مسافر ہے خیمہ زن
اک شعر جو سلام کا مہمانِ نعت ہے
اس وقت میری صدق بیانی پہ شک نہ کر
اس وقت میرے ہاتھ میں قرآنِ نعت ہے
عرفان نعمانی، راجھستان، انڈیا
اے دل تجھے نصیب جو باران نعت ہے
مخصوص تجھ پہ یہ بھی تو فیضان نعت ہے
رضواں کرے طواف ملک جس کی آرزو
صد رشک خلد تو وہ بیابان نعت ہے
تجھ کو خدا رکھے ہمیں رکھے ترا اسیر
ہم رندوں کی دعا یہ خمستان نعت ہے
گلہائے وصف شہ سے مزین ہے میرا دل
میں سوچتا ہوں دل ہے کہ گلدان نعت ہے
صبر و قرار پنہاں ہے وصفِ حضور میں
تسکینِ روح و دل تہہ دامانِ نعت ہے
لفظوں کی کائنات ہے تنگ جس کے سامنے
وہ نعت کی زمیں ہے وہ میدان نعت ہے
مدح نبی کے فیض سے صد شکر دل مرا
فارس ہے روم شام ہے ایران نعت ہے
دل جس پہ وحی نعت اترتی ہے اس کے تو
ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے
ہر لمحہ یہ خیال رہے تجھ کو اے قلم
عشق و ادب خلوص وفا جان نعت ہے
حسنین فاطمہ علی عثماں عمر عتیق
ہر ایک شاخ نخل گلستان نعت ہے
اشعار نعت ہوتے ہیں افطار و سحری میں
ہم روزہ داروں کے لئے رمضان نعت ہے
مولیٰ شعور نعت دے کہ میں بھی کہہ سکوں
عرفان کو بھی حاصلِ عرفان نعت ہے
عرفی ہاشمی، آسٹریلیا
مکمل نام : سید عرفی ہاشمی
بتلاؤں تجھ کو کیا حد عرفان نعت ہے
میرا خدا بھی قارئ قرآن نعت ہے
دین سخن میں ایک ہی مسلک رہا مرا
جو شعر بھی کہا ہے مسلمان نعت ہے
عشق نبی سے لکھی گئیں ہیں نبوتیں
پیغمبری دراصل قلمدان نعت ہے
موزوں وہ کررہے ہیں مرا مصرعہ نجات
اب تو مرا نصیب بھی دیوان نعت ہے
سین بلال اس لئے افضل ہے شین سے
لکنت زبان عشق کی جزدان نعت ہے
موقوف جسم و جاں ہے کہاں مدح مصطفے
نیزے پہ جو بلند ہے قرآن نعت ہے
کچھ اسلیے بھی تجھ سے تعلق نہیں رہا
اے جہل نفس جاں مجھے عرفان نعت ہے
میرے گنہ اِدھر،اُدھر اللہ کا کرم
اور درمیاں میں عرصہء امکان نعت ہے
آوارگی نہیں یہاں ہجرت کا ظرف لا
دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے
کاغذ پہ جو لکھا ہے اسے نعت مت سمجھ
پلکوں پہ جو نمی ہے وہی جان نعت ہے
جسمیں خدا نے رکھے ہیں خود آیتوں کے پھول
ایسا بھی ایک دہر میں گلدان نعت ہے
عروس فاروقی، گجرات، پاکستان
مکمل نام : ابو الکمال عروس فاروقی
عشقِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے
ایمان ہے یہی، یہی وجدانِ نعت ہے
آقا! مجھے بھی حرفِ عقیدت عطا کریں
آقا! مجھے بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے
’’لایمکن الثناء کما کان حقہ‘‘
کہہ سکتا ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے
محبوبِ کائنات کی نعتوں کی گونج ہے
میدانِ حشر ہے کہ یہ ایوانِ نعت ہے
لے آئے تم ورق بھی، قلم بھی، دوات بھی
لیکن بتاؤ کیا یہی سامانِ نعت ہے
اپنا ہر اک مہینہ ہے اُن کی ثنا کے نام
شعبانِ نعت ہے کوئی رمضانِ نعت ہے
محدود کیجیے نہ زبان و بیان تک
’’ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘
نور و سرور پھوٹتا ہے لفظ لفظ سے
مصرع ہے یا قطارِ چراغانِ نعت ہے
تھا آشنائے طرزِ تکلُّم عروسؔ کب
حاصل ہے جو کمال بفیضانِ نعت ہے
عظیم راہی، کراچی، پاکستان
جب مقصدِ حیات ہی پیمانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
جاری ازل سے چشمۂ فیضانِ نعت ہے
فردوس ایک کنجِ گلستانِ نعت ہے
وہ گام زن رہے گا رہِ مستقیم پر
ہاتھوں میں جس کے گوشۂ دامانِ نعت ہے
صورت ہے ان کی آئنۂ حسنِ کردگار
اور سیرتِ مطہرہ قرآنِ نعت ہے
ذکرِ حبیب ذکرِ محب سے الگ نہیں
اللہ کی طرف سے ہی فرمانِ نعت ہے
جو شان بھی میں لکھّوں وہ اس بے مثال کے
شایانِ شاں نہیں ہے،یہی شانِ نعت ہے
گھبراتے کیوں ہو؟ دیکھو تو میزان کی طرف
راہی تمہارے پلڑے میں دیوانِ نعت ہے
علی احمد نظامی,سدھارتھ نگر,بھارت
پیش کش: غلام جیلانی سحر
صدقہ نبی کا مل گیا,فیضانِ نعت ہے
مشکل تو ہے بہت مگر ارمانِ نعت ہے
فضلِ خدائے پاک سے یہ دیکھ لیجیے
میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے
میری کہاں مجال کہ نعتِ نبی لکھوں
یہ صدقہِ رسول ہے احسانِ نعت ہے
ہوں حضرتِ بلال یا سلمان فارسی
سب کی زباں پہ نغمہِ ذیشانِ نعت ہے
اہلِ غزل سے کہہ دو کہ خاموش ہی رہیں
سب سے بلند شانِ غلامان نعت ہے
کیا لطف ہو کہیں جو نکیرین قبر میں
تیرا نجات نامہ یہ دیوان نعت ہے
شامل نظامی نصرتِ سرکار ہو اگر
,,ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
علی ایاز، کبیر والہ، پاکستان
مکمل نام : محمّد علی ایاز
مجھ پر ایاز اس طرح احسانِ نعت ہے
میری تو ساری زندگی عنوانِ نعت ہے
ہر سمت سے ہے آ رہی خوشبو کمال کی
میرا خیال ہے کہ اب امکانِ نعت ہے
عشقِ رسول کے سوا ممکن نہیں کبھی
آنا سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے
اللہ کا کرم ہے, نگاہِ کرم میں ہوں
ترتیب دے رہا جو میں دیوانِ نعت ہے
الفاظ ہیں اتر رہے تسنیم سے دھلے
آمد کا سلسلہ تو یہ شایانِ نعت ہے
جب آپ کائنات کے رحمت نبی ہیں, سو
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
نورو تجلیات کی بارش سی ہو رہی
مجھ پر کرم خدا کا یہ دورانِ نعت ہے
کہہ دیجیے حضور کہ تجھ کو امان ہے
سمجھوں گا میں ایاز یہ فیضانِ نعت ہے
عقیل عباس جعفری ، کراچی، پاکستان
روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
میری رگوں میں بھی ابوطالب کا ہے لہو
میری ہر ایک سانس پہ فیضانِ نعت ہے
جبریل ہوں کہ ہم سے فقیرانِ بے نوا
سایہ فگن ہر ایک پہ دامانِ نعت ہے
اے کاش اس فقیر کو بھی ہو کبھی عطا
اک حرف جس کو سب کہیں "شایانِ نعت ہے"
جو کربلا میں خون سے لکھا حسین نے
ہر دل میں جاگزیں وہی دیوانِ نعت ہے
منکر نکیر لوٹ گئے، کتبہ دیکھ کر
لکھا تھا " یہ گدائے خیابانِ نعت ہے"
عرفانِ نعت جس کو بھی حاصل ہوا عقیل
عمرانِ نعت ہے وہی حسانِ نعت ہے
علی شاہد ، کبیر والا، پاکستان
میرا نہ کوٸی لفظ بھی شایان نعت ہے
قرآن جس کی شان میں دیوان نعت ہے
مل کر درود بھیجو محمد ﷺ کی شان پر
ربِ کریم کا بڑا احسان نعت ہے
صبحِ طلوع نے مجھے آکر یہی کہا
ہر شعبہ ٕ حیات میں امکان نعت ہے
اب ڈر نہیں ہے کوٸی بھی محشر کےروز کا
محشر کو بھی شفاعتِ سامان نعت ہے
کر دو منادی میرے محمدﷺ کے نام کی
بخشش کا ہے وسیلہ یہ اعلان نعت ہے
ہر لفظ کی زباں پہ ہے سرکار التجا
ہر لفظ کو فقط یہی ارمان نعت ہے
پڑھتا ہوں ہر گھڑی میں درود و سلام ہی
شاہد اب اثاثے میں مجھے دان نعت ہے
علی شیدا، کشمیر، انڈیا
قُرآن پڑھ کے دیکھ ' دبستانِ نعت ہے
خوشبوئے حرف و لفظ میں اعلانِ نعت ہے
مضمونِ ہست و بود ہے کُن کی گرفت میں
مضمونِ کُن فکان ' وہ عنوانِ نعت ہے
دھڑکن' نفس' نگاہ ' سماعت کہ صوتیات
"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"
تمہیدِ حرف و لوح و قلم صنفِ لامکان
تجسیمِ کائنات بھی جزدانِ نعت ہے
امید ' روزِ حشر ہو بخشش کی اور کیا
زنبیل خاکسار میں سامانِ نعت ہے
ادراک میں سمائے کہاں حسنِ لا مثال
حیرت جو منکشف ہے یہ وجدانِ نعت ہے
شیدا جو مدح خوانِ محمد لقب ملا
انعامِ لا یزال ہے ' احسانِ نعت ہے
علیم اطہر، لاہور، پاکستان
مجھ پہ کرم ہوا ھے تو فیضانِ نعت ھے
میرے جنون کو بھی تو عرفانِ نعت ھے
الفاظ باوضو ہیں، تخیّل مدینے میں
میرے قلم کی نوک میں وجدانِ نعت ھے
ہونٹوں پہ وردِ صلّی علٰی، دل سکون میں
اور چشمِ تر میں تیرتا سامانِ نعت ھے
کافر جو نعت کہتا ھے اس کو مرا سلام
دراصل دل بھی اس کا مسلمانِ نعت ھے
رک جائے ساری گردِشِ دوراں سنے وہ نعت
وہ لمحہ جاوداں ھے جو دورانِ نعت ھے
ہر کہکشاں میں نورِ رسولِ خدا ﷺ ملا
"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ھے"
تخلیقِ کائنات بوجہِ رسولِ پاک ﷺ
اور حُکمِ کُن فکاں ہی تو اعلانِ نعت ھے
صلّو علی الحبیب ﷺ فرشتوں کی لوریاں
سدرة کی انتہاء پہ بھی وجدانِ نعت ھے
عمیر لبریز، فیصل آباد
بشکریہ : ریاض قادری، فیصل آباد
ہر وقت پلتا قلب میں ارمانِ نعت ہے
صد شکر مجھ پہ یہ بڑا احسانِ نعت ہے
پنج تن کا ذکر نعت کو دلکش بناتا ہے
یہ اصل شانِ نعت ہے اور جانِ نعت ہے
پڑھتا درود ان پہ فرشتوں سمیت رب
سارے جہان میں وہی سلطانِ نعت ہے
پرکھے ہیں میں نے زندگی کے پہلو سارے ہی
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر روز ایک رنگ نیانعت کا بنے
ملتا مدینے سے مجھے سامانِ نعت ہے
میرے لبوں سے نکلی جو بھی نعت آپ کی
ہر ایک کو میں سمجھا یہ حسانِ نعت ہے
لبریز شہر ِ نعت کا میں ایک باسی ہوں
یاں اک سے بڑھ کے ایک ثنا خوانِ نعت ہے
محمد عمیر لبریز ؔ فیصل آباد
عمیر نجمی ، رحیم یار خان، لاہور
بیٹھا، کہا حضور(ص) سے: "ارمانِ نعت ہے"
پھر جو کہا ہے، دیکھ لیں، شایانِ نعت ہے
نعمت بھی کیا ہے "نعت" میں ضم ہو گئی ہے "میم"
شکران نعمت اصل میں شکرانِ نعت ہے
لفظوں کے لعل حرفوں کے ہیرے لگیں گے ہاتھ
جو کچھ ملے اٹھائیے، یہ کانِ نعت ہے
ایسی کوئی زبان نہیں جو کرے بیان
حالت جو میرے قلب کی دورانِ نعت ہے
اُن سے حیات، اُن سے ہر اک شعبہِ حیات
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
حجرے کی چھت پہ اتنے کبوتر یونہی نہیں
اس میں مکیں گروہِ محبانِ نعت ہے
غضنفر علی، کراچی، پاکستان
ہر شعبۂ حیات میں اعلان نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
صحن نبی میں حرف قطاروں میں لگ گے
دالان مصطفیٰ ہی تو دالان نعت ہے
وللیل و والضحیٰ پہ ہی موقوف تو نہیں
مصحف خدا کا سارا ہی دیوان نعت ہے
آنسو ہیں سسکیاں ہیں ندامت ہے عشق ہے
یہ ہی صریر خامہ ہےسامان نعت ہے
حالی نہیں ہوں حافظ و سعدی نہیں ہوں میں
پھر بھی میں لکھ ریا ہوں یہ احسان نعت ہے
اک حرف لکھ کے پہروں یہ ہی سوچتا رہا
کیا حرف جو لکھا ہے وہ شایان نعت ہے
ہر حرف کو برتنے لگا احترام سے
ہر حرف پر گماں ہے کہ مہمان نعت ہے
رطب اللساں ہے آج غضنفر حضور کا
احسان نعت ہے یہ ہی احسان نعت ہے
غلام جیلانی سحر، بلرام پور، انڈیا
محفوظ حرف حرف جو قرآنِ نعت ہے
خود ربِّ کائنات نگہبانِ نعت ہے
حاصل اگر اجازتِ سلطانِ نعت ہے
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
سرکار ! لطفِ خاص کا امید وار ہوں
بے چین روح کو فقط ارمانِ نعت ہے
کچھ تو شعورِ مدح عطا ہو گنوار کو
اہلِ زباں کو دعویِ عرفانِ نعت ہے
سرکار ! کچھ حروف سلامی کو پیش ہیں
مقبول ہو وہ حرف جو شایانِ نعت ہے
پروردگار ! ڈال دے سینے میں بے حساب
عشقِ رسولِ پاک, جو ایمانِ نعت ہے
کھلتے ہیں رنگ رنگ کے گل ہائے عشقِ شاہ
سینہ ہے میرا یا کوئی گل دانِ نعت ہے
گل ہائے رنگا رنگ کھلے ہیں چہار سمت
کتنا ہرا بھرا یہ گلستانِ نعت ہے
نظم و غزل کے مارے ہوئے لوگ دنگ ہیں
اس درجہ اونچی شانِ غلامانِ نعت ہے
مدح و ثنا حضور کی یوں ہی نہیں ہوئی
موجود سر پہ سایہِ دامانِ نعت ہے
پیہم نوازشاتِ رسولِ کریم واہ
محسوس ہو رہا ہے کہ بارانِ نعت ہے
اس خاص کیفیت کا بیاں کس طرح کروں
طاری جو میری روح پہ دورانِ نعت ہے
مستی میں بھی نہ ہاتھ سے چھوٹے ادب کی ڈور
مد ہوشی میں بھی ہوش اے مستانے ! نعت ہے
حد درجہ احترام و لحاظ و ادب سحر!
ہلکی سی چوک موت ہے دیوانے ! نعت ہے
غلام ربانی فارح، اعظم گڑھ ، مظفر پور، انڈیا
محبوب رب جو مرکزِ فیضان نعت ہے
ایمان کی بھی جان وہی جانِ نعت ہے
اللہ کا کرم ہے یہ فیض رسول ہے
بخشش کو میرے پاس بھی سامان نعت ہے
سینے میں دفن میرے خزانہ ہے عشق کا
الفت نبی کی بالیقیں جزدان نعت ہے
نعت رسول پاؤ گے قرآں میں ہر جگہ
سچ ہے کلام پاک میں عرفان نعت ہے
تھوڑی توجہ کی تو معمہ یہ حل ہوا
- ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*
مقبول بس وہ فکر ہے اس بارگاہ میں
ہے جو سخن کی شان وہ شایان نعت ہے
بیشک ادب سے چومیں گے اس کو ملائکہ
قرطاس دل کہ جس کو بہم خوانِ نعت ہے
فارح ادب سے کہہ اسے سرمایۂ حیات
عزت سے جی رہا ہے یہ فیضان نعت ہے
غلام رسول احمد ضیا ، سیتا مڑھی، بھارت
کہتا ہے وہ یہی جسے پہچانِ نعت ہے
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
منکر نکیر دیکھ کے مجھ کو کہیں گے یہ
اس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
عزّت سے کھا رہا ہوں نوالہ جو صبح و شام
سچ کہہ رہا ہوں ہم پہ یہ احسانِ نعت ہے
میرا یقین کہتا ہے ہر آن ہر گھڑی
سرمایۂ نجات یہ گلدانِ نعت ہے
وہ جس کے دم قدم سے ہے قائم یہ کائنات
سرکار کا کرم ہے وہ فیضانِ نعت ہے
عشقِ رسول پاک کی لذت جو دے گیا
احمد ضیا! وہ ہند کا حسّانِ نعت ہے
غلام فرید واصل، شیخوپورہ، پاکستان
کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
دل میں مرے بھی یا نبی ارمانِ نعت ہے
رحمت کی بوندیاں ہیں، یہ دورانِ نعت ہے
کتنا حسین دیکھیے بارانِ نعت ہے
خالق نے بھر دیا میرے سینے کو نعت سے
موتی نکل رہے ہیں، دہن کانِ نعت ہے
سارے فصیح رکھتے ہیں اس بات پر یقین
نطق و سخن کا سِلسلہ قُربانِ نعت ہے
زہرا،حَسَن،حُسین بھی اس میں سمائے ہیں
کتنا ہرا، بھرا یہ گلستان نعت ہے
آہ و فغاں کا ساتھ رہے تحریر سے جُڑا
عرفانِ نعت ہے، یہی سامانِ نعت ہے
رکھ سوچ کر قدم تُو یہ رستہ ہے پُر خطر
غافل نہ کھیل جان یہ میدانِ نعت ہے
رَگ رَگ میں عشقِ شاہ مدینہ بسے اگر
"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
محشر کی دھوپ میں بھی مجھے سائباں ملا
شکرِ خدا کہ مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
تعریف مصطفیٰ کی کرو رات سن سبھی
راہِ نجات ہے، یہی تو جانِ نعت ہے
واصلٓ نہیں خبر کہ وزارت مِلے کسے
جُز جُز ہی آیتوں کا تَو سلطانِ نعت ہے
غلام مصطفی دائم اعوان، اسلام آباد، پاکستان
طاری عروسِ قلب پہ وجدانِ نعت ہے
خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے
لفظوں کی عکس بندیاں ملحوظ ہوں، مگر
لازم پسِ خیال بھی عرفانِ نعت ہے
نقش جمالِ شوخیءِ آیات کیا کہوں
ہر نوکِ حرف لشکرِ مژگانِ نعت ہے
تکوینِ کائنات کا ہر لحظۂ وجود
عنبر سرشت لؤلؤِ بارانِ نعت ہے
اقلیمِ نُہ سپہر کے آشفتہ خاطرو
فرحت نواز غنچۂ بستانِ نعت ہے
نکہت فشانیءِ گلِ رَیحان و نسترن
سب خوشہ چِینِ عطرِ گلستانِ نعت ہے
مخدومِ طائرانِ اولی الاَجنحہ، حضور
عرشِ فراخ صفحۂ دیوانِ نعت ہے
دائم فروغِ نعت کی نیرنگیاں نہ پوچھ
”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“
فاضل میاں، میسور، کرناٹکا، انڈیا
مکمل نام : سید فاضل میاں
یہ اعترافِ حسنِ قلمدانِ نعت ہے
فنِ تمام حاضرِ ایوانِ نعت ہے
مت زعم کر کہ تو کوئی حسانِ نعت ہے
چل احتیاط سے کہ یہ میدانِ نعت ہے
تیرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے
حاصل اگر ذرا سا بھی وجدانِ نعت ہے
عمرِ تمام نذر ہے اس کی تلاش میں
وہ حرفِ معتبر کہ جو شایانِ نعت ہے
صد شکر میرے بحرِ تخیل میں جابجا
لولوئے نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے
کس جا نہیں ہیں لعل و گہر مدحِ شاہ کے
یہ ساری کائنات ہی اک کانِ نعت ہے
کشتِ سخن پہ فصلِ عقیدت کی ہے نمود
کیونکر نہ ہو تسلسلِ بارانِ نعت ہے
قرآں بہ نطق سوز بہ دل عجز بر جبیں
ہر اک نشانِ باج گزارانِ نعت ہے
یارب ہر ایک حمد کی مالک ہے تیری ذات
تیرا حبیب سید و سلطانِ نعت ہے
ہر رنگ ہر مہک کی ہیں کلیاں کھلی ہوئیں
روح و نظر نواز گلستانِ نعت ہے
بے روح پیکرِ سخن و حرف ہے تو کیا
تیرا خیال اے شہِ دیں جانِ نعت ہے
امشب وفورِ گریہ و زاری ہے مہرباں
آثار کہہ رہے ہیں کہ امکانِ نعت ہے
مضموں میں احتیاط خط و حرف میں ادب
لہجہ بتا رہا ہے کہ عرفانِ نعت ہے
یہ منصبِ شہیر یہ مسند کمال کی
مجھ کو اگر ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے
کیا جانے اختتام ہو کس کیفیت کے ساتھ
انوار کا نزول ہے دورانِ نعت ہے
باہر نکل حروف و معانی کی قید سے
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
درپیش اک طویل سفر ہے حیات کو
رختِ سفر میں جو ہے وہ سامانِ نعت ہے
ہوں جبرئیل پشت پہ تائید کے لیے
اک شاعرِ غریب کو ارمانِ نعت ہے
اس کی کشش الگ ہے جمال اس کا ہے جدا
کتنا بہار زا رخِ تابانِ نعت ہے
جنت کی نعمتوں کا مزہ لے رہا ہوں میں
پیشِ نگاہ جب سے مرے خوانِ نعت ہے
اس میں بیانِ حلّت و حرمت نہیں فقط
قرآن ایک جہت سے قرآنِ نعت ہے
طیبہ ہے خواب گاہ ہے خیر الانام کی
ہر گوشہ اس زمیں کا خیابانِ نعت ہے
محشر کے روز پیشِ خدا باریاب ہوں
صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
زیر و زبر میں کوئی کمی بیشی ہو نہ پائے
اے صاحبِ حروف یہ میزانِ نعت ہے
لائے کوئی کتابِ الہیٰ کے سامنے
کیسا ہی پُر اثر کوئی دیوانِ نعت ہے
رکھا ہے اک حصارِ بقا و دوام میں
کتنا فنا صفت پہ یہ احسانِ نعت ہے
منسوب ان سے ہے جو رسولوں کا ہے رسول
کیا کم یہ عظمت و شرف و شانِ نعت ہے
والشمس والضحیٰ کی تجلی ہے چارسو
فاضل اسی کا نام شبستانِ نعت ہے
فائق تُرابی، اٹک، پاکستان
یُوں بھی زبانِ حال سے فرمانِ نعت ہے
ذیشانِ دو جہاں ہے جو ذیشانِ نعت ہے
ارضِ حجاز ، ارضِ درود و سلام بھی
عَرفات ِ١ نعت ہے، کہیں فارانِ نعت ہے
حیراں ہُوں بُو تُراب کے بابا کو پڑھ کے مَیں
دیوانِ شــاعــری ہــے یا قُــرآنِ نعت ہــے
پیشِ نَظَـر ہو سُنّتِ سـرکار ہر جگـہ
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
کوئی سکھا رہا ہے ہمیں نعت کے ادب
یہ غـَـارِ ثَور ہے کہ دبســتانِ نعت ہے
اصحاب کی ثنا سے بڑھے نعت کا وقار
آلِ نبی کی مدح و صِفَت جانِ نعت ہے
رشکِ بُخـَـارا ، رشکِ سمــرقند ســر زمین
یہ سر زمینِ چھچھ ٢ بھی گلستانِ نعت ہے
کوئی نفیسِ نعت٣ ہے، کوئی امینِ نعت٤
منظورِ نعت ٥ ہے ، کوئی سلمانِ نعت٦ ہے
جب جب نسیمِ نعت چلے، دل مچل اُٹھے
جیسے یہ دل نہیں گُلِ ریحانِ نعت ہے
مجھ پر تری حدیث کے جوہر نہیں کُھلے
کس منہ سے میں کہوں مجھے عرفانِ نعت ہے
فراز عرفان، دوبئی
قائم جو لامکان پہ ایوانِ نعت ہے
بیشک یہ شاہِ والا کے شایانِ نعت ہے
چرچا ہے شش جہت میں جو گویانِ نعت کا
لاریب یہ بوجہِ گلستانِ نعت ہے
باقی مکانِ دنیا میں گھومو پھرو مگر
طیبہ ادب سے جاؤ ، وہ کاشانِ نعت ہے
کہئے ثناء نبی کی ذرا احتیاط سے
کیونکہ خدا کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے
مداحِ مصطفیٰ کی ہے فہرست گو طویل
لیکن جو شانِ نعت ہے حسانِ نعت ہے
نسبت ہے تیری ذات سے لکھیں تری ثنا
ورنہ قلم کوئی ترا شایانِ نعت ہے ؟
جس کے سبب ہو فردِ عمل دائیں ہاتھ میں
بس ایک ایسا ہی مجھے ارمانِ نعت ہے
سامانِ آخرت ہے یہی میرا اصل میں
تھاما ہوا اسی لئے دامانِ نعت ہے
روحِ رواں ہیں آپ ہی اس کائنات کے
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
خاکی سبھی پہ چشمِ کرم ہے حضور کی
لیکن فقط خواص پہ بارانِ نعت ہے
فرخ ترمذی، کبیر والا، پاکستان
سرکار کا کرم ہے جو باران نعت ہے
مولا تری عطا سے ہی فیضان نعت ہے
ہر سمت تیرے نور کے جلوے نگاہ میں
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
تیرا وجود مرکز و محور ہے خیر کا
تیرا کلامِ نور ہی سامان نعت ہے
ذکر حبیب کرتے ہیں عشاق ہر گھڑی
ان کی زباں پہ ذکر بھی شایانِ نعت ہے
پتھر بدست لوگوں کے حق میں تری دعا
طائف کا سارا واقعہ خاصان نعت ہے
سجدہ طویل کرکے نواسے کے واسطے
سب کو دکھادیا کہ یہ ریحان نعت ہے
یاد رسول پاک سے دل میں گداز ہے
آنکھوں سے اشک برسے ہیں، امکان نعت ہے
انعام خاص ہے مری "انعام فاطمہ"
مالک کا یہ کرم بھی تو احسانِ نعت ہے
اپنا تو ہر سخن ہے ثنائے رسول پاک
ہر جا پہ اپنے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
تجھ پہ کرم حبیب کا " اے جان مرتضی"
گھر میں تمہارے مہکا گلستانِ نعت ہے
مشکل گھڑی سے مجھ کو بچاتا ہے تیرا ذکر
فرخ رضا کے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
- بیٹی کا نام
فضل اللہ فانی، صوابی، پاکستان
آمد کا زور شور ہے، بارانِ نعت ہے
خامہ تو آج وقفِ قلمدانِ نعت ہے
ہر عندلیبِ باغِ سخن نغمہ سنج ہے
ہر سمت جشنِ فصلِ بہارانِ نعت ہے
مشکل ہے حملِ وحْی کے مانند حملِ نعت
یعنی یہ کارِ حوصلہ مندانِ نعت ہے
صاحب نظر ہو کوئی تو ہو اس پہ منکشف
"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اصنافِ شعر میں ہے جدا رتبہ نعت کا
شاہِ غزل، گدائے گدایانِ نعت ہے
دنداں کا سِین ہے تو کہیں مِیمِ زلف ہے
قرآں نگاہِ شوق میں دیوانِ نعت ہے
حسّاں کو اور ہی قدِ شعری عطا ہوا
سلطانِ نعت، سروِ گلستانِ نعت ہے
"لولاک" کا ظہور ہے ہر شے میں جلوہ گر
ہرچیز چشمِ شوق کو سامانِ نعت ہے
ہجراں کا زخمِ کاری ہے دل میں تو کیا ہوا
فانی ہمارے پاس تو درمانِ نعت ہے
فہیم رحمان آزر، سمندری، پاکستان
ہم شاعروں پہ کس قدر احسانِ نعت ہے
طبع آزما جو آج پھر ایوانِ نعت ہے
ارفع سخن طراز بھی پہنچے نہ میم تک
اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
پائے گا اِس سے دل مرا دوہری حلاوتیں
اک سلسلہ درود کا دورانِ نعت ہے
حدِ نگہ ہیں گلستاں اور گلستاں میں پھول
کتنا وسیع خیر سے میدانِ نعت ہے
مظہر ہیں تیرے نور کا عالم کی رونقیں
شمس و قمر کی روشنی عرفانِ نعت ہے
اُن کے کرم کا دائرہ محدود تو نہیں
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
محشر میں جب سوال ہو، کچھ ہے تمہارے پاس؟
تب میں کہوں کہ ہاں مرا دیوانِ نعت ہے
لمحہ بہ لمحہ ہوتی ہے مدحت حضور کی
آذرؔ ہمارا حلقہ دبستانِ نعت ہے
فیصل قادری گنوری، گنور، بھارت
طرزِ بیان آ گیا احسانِ نعت ہے
مجھ میں شعورِ مدح بہ فیضانِ نعت ہے
میرے شعور و فکر میں گردانِ نعت ہے
در اصل عشقِ شاہِ ہدی جانِ نعت ہے
جب سے خیال ان کا تصور میں بس گیا
افکار کا نزول ہے ! بارانِ نعت ہے
عشاقِ مصطفی کی تڑپ کی ہیں جھلکیاں
افضل مری نگاہ میں دیوانِ نعت ہے
انساں کی کہا مجال لکھے شانِ مصطفی
خود ربِّ کائنات ثنا خوانِ نعت ہے
ہم عاشقوں کو خوف نہیں روزِ حشر کا
بخشش کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے
مداح اس کے جیسا نہیں دوسرا کوئی
حسّان جس کو کہتے ہیں سلطانِ نعت ہے
یہ ساری کائنات سما جائے گی میاں
اتنا وسیع حلقہِ دالانِ نعت ہے
خطرہ کوئی نہیں ہمیں خورشیدِ حشر کا
سر پر ہمارے سایہِ دامانِ نعت ہے
طرزِ سخن سے جس کو ذرا بھی ہے آگہی
پھر اس کے دل میں حسرت و ارمانِ نعت ہے
مدحت میں ان کی رب نے اتارا کلامِ پاک
فیصؔل بیان کیسے ہو کیا شانِ نعت ہے
فیصؔل قادری گنوری
قمر آسی، کراچی، پاکستان
عرفانِ نعت ہے نہ ہی وجدانِ نعت ہے
لیکن ازل سے حسرت و ارمانِ نعت ہے
حکمِ خدائے پاک ہے مدحت رسول کی
صلُّو علیہِ اصل میں اعلانِ نعت ہے
طاعت نبی کی طاعتِ ربِ عظیم ہے
الفت مرے کریم کی عنوانِ نعت ہے
ہر ذی قدر خیال کو پایا ہے نعت میں
کتنا وسیع دیکھیے دامانِ نعت ہے
سب پھول محوِ رقص ہیں، غنچے ہیں مشکبار
کیسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے
ہر انتخابِ لفظ میں لازم ہے احتیاط
حد ادب جناب یہ میدانِ نعت ہے
حسان کے ہنر سے عطا ہو طریقِ نعت
درکار مجھ کو ویسا ہی سامانِ نعت ہے
تھوڑے سے غور و فکر سے یہ منکشف ہوا
" ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے "
خود خالقِ جہان ہے مداحِ اولیں
کتنی بلند و بانگ قمر شانِ نعت ہے
قمر صدیقی , گوجرانوالہ، پاکستان
مجھ کمتریں کے ہاتھ قلم دانِ نعت ہے
احسانِ نعت سر بسر احسانِ نعت ہے
میں حجرهٔ درود میں رہتا ہوں ہر گھڑی
میرا خیال آج کل ، ایوانِ نعت ہے
جب آل ہے درود میں شامل، کہا گیا
پھر کربلا کا ذکر بھی عرفانِ نعت ہے
بیٹھو تو "نعت ورثہ" کے سائے میں دو گھڑی
تم بھی پکار اٹھو گے بارانِ نعت ہے
انؐ کےحضور اشکِ ندامت لئے ہوئے
فریاد و استغاثہ بھی امکانِ نعت ہے
ہیں کاف پیش نون کے آثار جس قدر
صاحب ! بقدرِ ظرف یہ سامانِ نعت ہے
ہر نعت مجھ کو نافهِٔ مشکِ خُتن لگے
حد درجہ عنبریں جبھی دالانِ نعت ہے
یادِ رسولِ پاکؐ کو لوبان داں سمجھ
اس میں سلگتا نعت گو ، لوبانِ نعت ہے
یہ بات مجھ سے رومیِ کشمیر نے کہی
قرآنِ پاک اوّلیں دیوانِ نعت ہے
ہے کنتُ کنزِ مخفی کی تفسیر یہ قمر !
"ہر شعبهِٔ حیات میں امکانِ نعت ہے"
کاشف حیدر، بارٹلیٹ
دل میں اسی لئے مرے ارمانِ نعت ہے
میں نے سنا ہے حشر میں میزانِ نعت ہے
عنوان ہی لکھا کہ قلم تھک گیا مرا
کتنا طویل جانے یہ میدانِ نعت ہے
اب خوف کچھ نہیں مجھے منکر نکیر کا
مری لحد میں ساتھ جو دیوانِ نعت ہے
لگتا ہے سجدہ ریز درِ مصطفیٰ پہ ہوں
احساس کیا حسین یہ دورانِ نعت ہے
اک منفرد سی نعت لکھوں گا میں ابکے بار
قرآں سے لفظ لوں گا جو شایانِ نعت ہے
کاشف مری نظر میں سخنور نہیں ہے وہ
جس کا قلم ابھی تلک انجانِ نعت ہے
کاشف عرفان، راولپنڈی، پاکستان
ذوقِ درود ہے کہیں رُجحان نعت ہے
صد شکر میری نسل میں میلانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں درکار ہیں نبی
"ہر گوشہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
روشن کیا ہے جس نے مرا گھر مرا قلم
نور محمدی ہے یہ تابانِ نعت ہے
آنکھوں میں تیرتے ہیں مدینے کے صبح و شام
محسوس ہو رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے
تہذیبِ بے مہار کا سیرت کو شکریہ
بدلے ہوئے ہیں ہم تو یہ احسانِ نعت ہے
حسنِ عمل ہی لفظ کو دیتا ہے زندگی
معیار ہے یہی ، یہی پہچانِ نعت ہے
سیرت کا حُسن سنتِ آقا کی روشنی
کتنا سجا ہوا مرا ایوانِ نعت ہے
اشکِ فراق ، خوابِ تیقن، سلامِ شوق
کاشف ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے
کوثر سعیدی , ملتان، پاکستان
شاعر : راجا کوثر علی
بشکریہ : مرزا حفیظ اوج
غارِ حرا تو مرکزِ دیوانِ نعت ہے
ہر حرف جو عطا ہے وہ شایانِ نعت ہے
ممکن نہیں کہ اس کا احاطہ کرے کوئی
عشق رسول پاک جو دوران نعت ہے۔
اے وجہ ممکنات فقط آپکے طفیل
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
اصناف اور بھی ہیں ادب میں تو معتبر
صد شکر کہ شعور پہ باران نعت ہے
اے کاش مدح حضرت ِ جامی سی ہو عطا
کوثر کے دل میں ایک ہی ارمان نعت ہے
کوثر علی, فیصل آباد ]
بشکریہ : ریاض قادری، فیصل آباد
یہ آپ کا کرم ہے جومیلان نعت ہے
لیتے ہیں جس سے آپ کا وہ خوان نعت ہے
طیبہ میں کیا حکومت شاہان نعت ہے
ہر سمت اک ہجوم گدایان نعت ہے
حسان و کعب و ابن رواحہ یہاں پہ ہیں
منبر کے پاس جوش کریمان نعت ہے
جنت کی اتنی بار بشارت اسے ملی
اپنا امام نعت تو حسان نعت ہے
رکتی نہیں ہے مدح کبھی آنحضور کی
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
ان کی ہر ایک ایک دعا میں شریک ہے
دل شامل گروہ شریفان نعت ہے
یا رب نبی کی نعت اک ایسی نصیب ہو
میں جس کو کہ سکوں کہ یہ شایان نعت ہے
کچھ حسرتیں ہیں آنسو ہیں دوری کے رنج و غم
اک عمرہوگئ یہی سامان نعت ہے
پریشاں اتر رہی ہیں ثناءے حبیب کی
اوج خیال کوہ سلیمان نعت ہے
دامن بھرا ہو اہے عطاءے رسول سے
کافی ہمیں تو بس یہی دامان نعت ہے
پڑتی نہیں کبھی بھی کسی چیزکی کمی
فیضان نعت سا کوئی فیضان نعت ہے
ہر رنگ کے ہیں پھول کھلے میرے شہر میں
یہ شہر نعت ہے کہ گلستان نعت ہے
اللہ کرے یہ نامہ اعمال ہو مرا
میرے جو ہاتھ میں مراد یوان نعت ہے
ہوتا ہے سینہ چاک ثناءے حبیب سے
کوثر ہمارا چاک گریبان نعت ہے ۔
گل رابیل، پاکستان
تسکینِ روح کے لئے سامانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
میرے نبی کا پہلا ثنا خواں ہے میرا رب
قرآن سب سے پہلا تُو دیوانِ نعت ہے
ذکرِ رسولِ پاک ہی ہوتا ہے جا بجا
ہر آئینے کے رخ پہ ضیا بانِ نعت ہے
خوشبو ہے ذہن میں مری سانسیں ہیں عطر بیز
گردِ مشام بوئے گلستانِ نعت ہے
زیور ٹٹولتی ہوں نہ زر ڈھونڈھتی ہوں میں
دل کو تو میرے ہر گھڑی ارمانِ نعت ہے
پڑھ کر تو دیکھئے ذرا نعتیں رسول کی
کس طرح جاری آج بھی فیضانِ نعت ہے
سجتی ہیں میرے قلب میں نعتوں کی محفلیں
رابیل دل یہ دل نہیں ایوانِ نعت ہے
لیاقت علی عاصم، کراچی
اسمِ رسولِ پاک کا عنوانِ نعت ہے
عنوانِ نعت ہی نہیں دیوانِ نعت ہے
اے اسپِ تیز شان رقم دیکھ ہوشیار
یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے
جائز نہیں ہے اعلٰی و ادنٰی کی اصطلاح
ہم لکھنے والوں پر یہی فیضانِ نعت ہے
دنیا کی دھوپ دل کو برے چُھو نہ پائے گی
قالب پر میرے سایہِ دامانِ نعت ہے
عصرِ رواں ہو یا کہ وہ عہدِ گزشتہ ہو
اس کا غلام ہوں جو سلطانِ نعت ہے
نقاد تھام لے کہ کوئی نکتہ دانِ شعر
ہموار سب کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے
دراصل نعت خواں ہے موذٌِن کہیں جسے
یعنی اذان بھی کوئ اعلان ِ نعت ہے
مبشر صائم علوی، حاصل پور، پاکستان
مکمل نام : ملک مبشر صائم علوی
اپنا تو فخر زیست میں دیوانِ نعت ہے
اپنی تو آن بان فقط شانِ نعت ہے
اہلِ سخن سنبھل کے، یہ عنوانِ نعت ہے
چلیے ٹھہر ٹھہر کے، یہ میدانِ نعت ہے
اہلِ خرد پہ بات یہ کھُل کر عیاں ہوئی
بخشش کا گہرِتاب تو پنہانِ نعت ہے
اس دن سے ہوگیا ہوں مقدر کا میں دھنی
جس دن سے میری فکر پہ بارانِ نعت ہے
منزل بھی ایسے شخص کی رہتی ہے منتظر
جس کو تلاشِ گوشہءبستانِ نعت ہے
صلِّ علٰی کی لوریاں ماوں سےہیں ملی
ہر بچہ بچہ اس لئے قربانِ نعت ہے
عزت، وقار ، و منزلت اس کا ہے پیرہن
جو شخص بھی یہاں پہ نگہبانِ نعت ہے
ایسے لگا میں اور ہی دنیا میں ہوں مکیں
یہ کیفیت بنی مری دورانِ نعت ہے
وقتِ نشور حکم ہو اے کاش اس طرح
اُس دل کو لاو جس میں کہ ارمانِ نعت ہے
عیبوں کو میرے ڈھانپ کے رکھتی ہے ہر گھڑی
صائم کے سر پہ چادرِ احسانِ نعت ہے
محبوب احمد، سرگودھا، پاکستان
مکمل نام : حافظ محبوب احمد
پھرعالمِ حضوری ہے،امکانِ نعت ہے
تیارپھرنزول کوقرآنِ نعت ہے
دھرتی ہوآسماں ہوکہ لاہوت ولامکاں
میری نگاہ میں سبھی سامانِ نعت ہے
ہر پھول کی مہک سےمعنبر ہے کائنات
کیا پر بہار صحنِ گلستانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں سیرت ہے جلوہ گر
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر حرفِ نعت صورتِ خاور ہے ضوفشاں
ایوانِ نور ہے کہ یہ دیوانِ نعت ہے
لوح وقلم بدست ہے ہر ایک نغزگو
جوبن پہ آج اپنے دبستانِ نعت ہے
آئےہےحرف حرف سے صلِّ علیٰ کی گونج
پایا درِ حضور سے فیضانِ نعت ہے
نعلینِ شاہ سے ہیں ہوئی تاج پوشیاں
گفتہ مرابھی صاحبو!سلطانِ نعت ہے
ہر حرف ضوفشاں ہے شبِ ماہ کی طرح
اے لذّتِ فنا! یہ شبستانِ نعت ہے
فکرونظرکےیہ بڑےمشکل ہیں مرحلے
یہ ہے حرائے نعت، یہ فارانِ نعت ہے
محبوب علی جوہر
ان کے تو پاس سایہء دامانِ نعت ہے
رحم و کرم بھی ورثہ خاصانِ نعت ہے
پیران عشق احمد و حامد کہیں جسے
اس مصطفی کا نام ہی وجدان نعت ہے
احسن ہر اک لحاظ سے حضرتؐ کی ذات ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
روح القدس ،ہوں خلد کی خوشبوئیں ،رونقیں
کتنا عظیم تر ترا سامانِ نعت ہے
مجھ سے کہا گیا کہ ہوں صدقہ حضور ؐ کا
بابا سے مجھکو اس لیے پیمانِ نعت ہے
ہم پستیوں کے باسی ،کہاں تک رسائی ہو
بس ایک عرش ہی ترے شایانِ نعت ہے
ہر ایک کھا رہا ہے جو صدقہ رسول ؐ کا
ہر ایک اس لحاظ سے مہمانِ نعت ہے
ہیں نعمتیں کروڑوں پر ان میں عظیم تر
خالق کا ایک مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
مجاہد علی، لاہور
میں اور مرے حروف کی قیمت نہیں حضور
ربِّ جہاں ہی ربِّ دبستانِ نعت ہے
اِس راستے پہ عقل نہیں عشق چاہئیے
اے دل ذرا سنبھل کہ یہ میدان ِ نعت ہے
محمد باقر، لاہور، پاکستان
مکمل نام : سید محمّد باقر
کتنا وسیع حلقہء دامان ِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکان ِ نعت ہے"
اگتے ہیں اِس میں پھول ثناۓ رسول کے
دل کی زمین ہے کہ خیابان ِ نعت ہے
تابش سے جس کی خیمہء عالم ہے ضوفشاں
سورج نہیں یہ گوہر ِ تابان ِ نعت ہے
اُن ص کے کرم سے دفتر ِ مدحت پہ آگیا
وہ حرف ِ بے نظیر جو شایان ِ نعت ہے
پاس ِ ادب ، سلیقہء الفاظ ، عاجزی
وارفتگیء شوق میں سامان ِ نعت ہے
صَد شُکر میں سخن میں مُقلّد اُسی کا ہوں
وہ رشک ِ بوتراب ع جو سُلطان ِ نعت ہے
باقر ہمیں ملے گا ریاض ِ جناں میں گھر
گُلزار ِ ہست و بُود میں اعلان ِ نعت ہے
محمد علی حارث، کراچی، پاکستان
میرے خیال میں یہی فیضان نعت ہے
عشاق کو ملا جو یہ دیوان نعت ہے
کیوں آج تک احاطہ نہیں ان سے ہو سکا
حیراں ہیں عقل والے بھی کیا شان نعت ہے
اس پر نزول ہوتا ہے رحمت کا عمر بھر
جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامان نعت ہے
یعنی درود اور سلام ان کی ذات پر
بخشش کے واسطے ملا سامان ِ نعت ہے
وہ ذات کارساز ہے کوشش تو کیجیے
“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”
حارث گنہگار خطاکار ہے مگر
صد شکر اس خدا کا غلامان نعت ہے
محمد شاہ ہمدانی، اسلام آباد، پاکستان
مکمل نام : سید محمد شاہ ہمدانی
اب روح اور سانس بھی گردانِ نعت ہے
سو زندگی وہی ہے جو قربانِ نعت ہے
عشق ِ رسول ہی مِرا سامانِ نعت ہے
اس کے طفیل مل گیا فیضانِ نعت ہے
کرتا رہا وظیفہ درودو سلام کا
اس وقت کی وہ خامشی گردانِ نعت ہے
اللہ کے ولی نے بتائی مجھے یہ بات
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
مجھ کو ذرا بھی خوف نہیں پل صراط کا
امداد میں رسول کی فیضانِ نعت ہے
دن رات بھیجتا ہوں شہِ طیبہ پر سلام
بس آخرت کو پاس یہ سامانِ نعت ہے
ہر اشک کے سبب مرے اشعار ہوگئے
اتنا حسیں تبھی مرا دیوانِ نعت ہے
اظہارِ عشق کرتا ہوں سرکار سے میں خوب
ہوتی ہے دلبری سبھی، دورانِ نعت ہے
تم چشمِ دل سے گنبد ِخضری کو دیکھتے
خلدِ بریں کا ٹکڑا یہ، ایوانِ نعت ہے
دن رات بھیجتے رہو ان پر سلام تم
میرا عقیدہ ہے ؛یہی رحمانِ نعت ہے
جلوے رسول کے ہیں میسر مجھے مدام
لوگو میں جانتا ہوں ؛کہ امکانِ نعت ہے
اشکوں سے نعت کہتا رہا ہوں رسول کی
کتنا سکون مل گیا ؛ دورانِ نعت ہے
خلدِ بریں اسی کی ہے آمد کی منتظر
جس شخص کا عقیدہ ہے؛ ایمانِ نعت ہے
دن رات سوچتا ہوں پیمبر کی شان میں
ہر ایک شعر میرا یوں؛ مہمانِ نعت ہے
اللہ سے یہی ہے دعا، نعت کہہ سکوں
اک زیست بھر رہا مجھے ارمانِ نعت ہے
چرچا انہی کے صدقے محمد شہا ہے سب
میری حیات بن گئی عنوان ِ نعت ہے
مرزا حفیظ اوج، خانیوال، پاکستان
اصل الاصول بندگی عرفانِ نعت ھے
یارب وہ فکر دے کہ جوٰ شایانِ نعت ھے
یہ رفعتِ خیال ، یہ پاکیزگئ فکر
مدحت سپاس ذوق یہ، فیضانِ نعت ھے
ہر شعبۂ حیات ترے لطف کا رہین
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ھے
سرسبز و شاد رکھے خدا اہلِ عشق کو
عشاق کی زبان گلستانِ نعت ہے
اپنی تو جستجو کا خلاصہ یہی ہے اوج
جو کچھ ھے کائنات میں امکانِ نعت ھے
مسعود ساموں، بانڈی پورہ، کشمیر ، انڈیا
حسن خیال سلسلہ جنبان نعت ہے
اک سلسلۂ نور بدامان نعت ہے
اسوہ جنابؐ کا جو حسن ہے تو لازماً
’’ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے‘‘
ہاں اے سمند شوق سنبھل کر قدم بڑھا
آساں نہیں یہ جادۂ پیچان نعت ہے
ہشیار خامہ! سجدے میں لغزش کوئی نہ ہو
ہاں چل کشاں کشاں یہ خیابان نعت ہے
ملحوظ انتہاے ادب رکھ جنابؐ میں
شان نبیؐ کا ذکر ہے ایوان نعت ہے
نیچی نگہ خمیدہ بدن چشم باوضو
لرزیدہ جاں ہو ہاں یہی شایان نعت ہے
ساموںؔ ثنا کے پھول عقیدت کی پتّیاں
پاے نبیؐ میں رکھ یہی سامان نعت ہے
بشکریہ : غلام فرید واصل
مشاہد رضا عبید، گوندا، انڈیا
مکمل نام : محمّد مشاہد رضا عبید القادری
درمانِ درد نغمۂ ذی شانِ نعت ہے
قلبِ حزیں فدائے اسیرانِ نعت ہے
يارب! کبھی یہ دور و تسلسل نہ ختم ہو
بے پایاں دل میں جذبہ وارمانِ نعت ہے
عشقِ رسول خود ہی بناتا ہے راستے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
پیارے رضا نےکرکے یہ سب کو دکھادیا
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
جس کو نہ چھوسکےکبھی بادِ خزاں کاہاتھ
ایسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے
یونہی نہیں امڈ پڑی یہ کائنات عشق
کوثر بداماں چشمۂ حیوانِ نعت ہے
ہر درد بھول کر جو مچلنا ہوا نصیب
محبوبِ رب کا صدقہ ہے، فیضانِ نعت ہے
دل جگمگارہے ہیں ، چمکتے ہیں حوصلے
روشن یہاں پہ شمعِ شبستانِ نعت ہے
راحت رساں ، قرار نشاں ، مرحمت فشاں
کیا دل نواز نغمۂ مرغانِ نعت ہے
رزقِ ثنا میں حصہ ہمارا بھی ہے عبید
از فرش تا بعرش سجا خوانِ نعت ہے
مشاہد رضوی، میلگاؤں، انڈیا
میرے لبوں پہ نغمۂ ذیشانِ نعت ہے
"ہر گوشۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
میرے شعور و فکر کو بالیدگی ملی
لاریب مجھ پہ دوستو فیضانِ نعت ہے
اس کی نجات کے لیے ساماں بنے گی نعت
جس کو ہوا نصیب سے عرفانِ نعت ہے
ظاہر کے ساتھ ہوگیا باطن بھی مستنیر
جس کا خیال و فکر ہی عنوانِ نعت ہے
روزِ ازل سے بالیقیں ایقان ہے مرا
پھولا پھلا ہمیشہ خیابانِ نعت ہے
ہر ہر ورق پہ نقش ہے سیرت حضور کی
قرآنِ پاک سارا دبستانِ نعت ہے
مجھ پر ہوئی حضور کی لاکھوں عنایتیں
ہاتھوں میں میرے خیر سے دیوانِ نعت ہے
دیدارِ مصطفیٰ ہو میسر خدا کرے
اس خواب کے لیے مجھے ارمانِ نعت ہے
مضمونِ نعت میں نہ ہو کچھ بھی مبالغہ
باہوش رہ کے چلیے یہ میدانِ نعت ہے
مجھ پہ رضا کے حُسنِ تخیل کی ہے عطا
حاصل جو مجھ کو ہوگیا وجدانِ نعت ہے
اہلِ وِلا کا پیار مُشاہد کو جو ملا
سچ پوچھیے تو اس پہ یہ احسانِ نعت ہے
مصعب شاہین، میانوالی، پاکستان
یزداں کا خاص فضل ہے, میلانِ نعت ہے
'ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے'
احساس, لفظ, لہجہ و گفتار عنبری
کیونکر نہ ہونگے؟دل جو گلستانِ نعت ہے
انؐ کی ثنا کے نور سے روشن مرا سخن
الحمد, بزمِ فکر, قلمدانِ نعت ہے
عشقِ نبیِ پاکؐ رگ و پے میں ہے مرے
جاں میں بصورتِ لہو اک کانِ نعت ہے
کلیاں چٹک رہی ہیں بہ الفاظِ خوشنما
صبحِ گمان سیرِ خیابانِ نعت ہے
پاکیزہ قلب, پاک تخیل, طہور لفظ
اسلوبِ خوش بیان ہی شایانِ نعت ہے
اوجِ ادب ہے, وجد ہے, سرمستِ عجز ہوں
سرشارِ اطمینان ہوں, فیضانِ نعت ہے
کرتا ہے آبیاریِ گلزارِ مصطفیٰ ؐ
مصعب, تو خوش نصیب ہے, دہقانِ نعت ہے
مطلوب الرسول، لاہور، پاکستان
حاصل جو کائنات کو میلان نعت ہے
ہرشعبہء حیات میں امکان نعت ہے
لازم نہیں زبانِ قلم سے کریں بیاں
ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
محتاط اہل فن کہ ہے دربار نعت یہ
ان کا ادب ہی اصل میں دربان نعت ہے
وہ دل بھی اک طرح سے مدینہ ہے دوستو
جس دل میں صبح وشام ہی ارمان نعت ہے
حسان ہوں یا عرفی وجامی ہوں یا رضا
جذب و وفورو شوق ہی میزان نعت ہے
رحم وکرم، مروت و جود وسخا و صدق
سیرت پہ گفتگو ہی توجزدان نعت ہے
محبوب کوخبرہے کہ عاشق ہے کون کون
ان کی نظر میں ہوں کہ یہ احسان نعت ہے
یا ایھاالمزمل و یا ایھاالنبی
قرآن بھی تو دیکھو گلستان نعت ہے
ہرلفظ میری سوچ کا خوشبو میں ڈھل گیا
میں کیوں نہ مان لوں کہ یہ فیضان نعت ہے
شق قمر ہو اسری ومعراج ہویا حسن
ان کا ہرایک معجزہ ہی جان نعت ہے
حب نبی سے خالی ہو دل جس کا اے قمر
اس کو کہاں خبر ہو وہ کیا جانے نعت ہے
مظہر فرید بابا، لاہور، پاکستان
میں کیا بتاؤں یارو کیا شان نعت ہے
قرآنِ پاک سارا سامانِ نعت ہے
مجھ پر کرم ہوا ہے جو یہ نعت لکھ رہا ہوں
ورنہ کہاں یہ عاصی، کہاں تانِ نعت ہے
آقا کی ہر ادا ہے معراجِ آدمیّت
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
دل سے پڑھو درود محمد کی ذات پر
مظہر درود پاک ہی تو جانِ نعت ہے
مفتاح الحسن چشتی، فافوند، انڈیا
سرکار کا کرم ہے یہ احسانِ نعت ہے
ہمراہ میرے ہر گھڑی فیضانِ نعت ہے
کردار کہہ رہا ہے یہ اصحابِ شاہ کا
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
کھلنے لگے ہیں روز ہی چمپا سمن گلاب
جب سے زمین قلب پہ بارانِ نعت ہے
ہر واصفِ حضور نے آخر میں یہ کہا
قرآں میں ان کا ذکر ہی شایانِ نعت ہے
خورشیدِحشرسُن،ہمیں آنکھیں نہ تودکھا
سر پر ہمارے سایہء دامانِ نعت ہے
میں ہند میں ہوں ذہن ہے دربارِ شاہ میں
مجھ پر خدا کا فضل یہ دورانِ نعت ہے
محوِ ثنائے سیدِ عالم ہے روز و شب
رب کی عطاسےجسکوبھی عرفانِ نعت ہے
لغزش ہوئی ذرا سی تو ہو جاؤ گے ہلاک
مفتاح ہوش باش یہ میدانِ نعت ہے
مقصود احمد، کراچی، پاکستان
نطق و قلم کو میرے بھی ارمانِ نعت ہے
لیکن نصیب کب مجھے عرفانِ نعت ہے
توصیف کے کھلے ہوئے ہیں گل سطر سطر
قرآن رب کا سارا گلستان ِ نعت ہے
بھرتے رہیں گے تا با ابد عاشقِ رسول
پھیلا ہوا ازل سے جو دامانِ نعت ہے
ارض و سما بھی کرتے ہیں ان کی ثنا بیاں
ساری یہ کائنات بھی عنوان ِ نعت ہے
ہر ذرہء زمیں پہ عنایت ہے آپ کی
"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"
خالق بھی ہمنوا ہے ہمارا اسی طفیل
ہم عاشقوں پہ خاص یہ احسانِ نعت ہے
کیسا ہی کوئی کیوں نہ ہو ماہر سخن طراز
مت جانو معتبر اگر انجان ِ نعت ہے
پا جاتے ہیں نمو مرے فکر و خیال بھی
ہر دم برستا مجھ پہ جو بارانِ نعت ہے
نوک ِ قلم پہ آتے ہیں الفاظ غیب سے
مقصود اور کیا ہے ، یہ فیضان ِ نعت ہے
مقصود علی شاہ، برمنگھم، برطانیہ
مکمل نام : سید مقصود علی شاہ
ویسے تو ساری عمر ہی قُربانِ نعت ہے
واللہ پھر بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے
سانسیں بدن میں سطریں ہیں مدحِ رسول کی
سامانِ زیست ہی مرا سامانِ نعت ہے
ہم سارے اُس کے در کی سلامی کو آئے ہیں
حسّان ایک ہے، جو کہ دربانِ نعت ہے
بس ایک حاضری کا سبب ہے، جو خُوب ہے
ورنہ تو کون ہے جسے عرفانِ نعت ہے
سو سو طرح سے اُن کے کرم کے ہیں سلسلے
مجھ پر مرے کریم کا فیضانِ نعت ہے
سب اہلِ دل ہی جیسے اُسی کی پنہ میں ہیں
کتنا سُخن نواز یہ دامانِ نعت ہے
مہکے ہیں چار سُو نئے رنگوں کے زمزمے
برسی زمینِ شوق پہ بارانِ نعت ہے
ہر صبحِ نو کی پہلی کرن سے یہی کھُلا
"ہر شُعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
پھر سے جو حاضری کا بُلاوا ہُوا مجھے
ممنونِ نعت پر بڑا احسانِ نعت ہے
تھامے ہیں اپنی اپنی کتابِ عمل تمام
مقصود میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
میرزا امجد رازی، پاکستان
بندہ کہ فردِ نسلِ گدایانِ نعت ہے
پہچاں مری قبیلۂ حسّانِ نعت ہے
ہر اِک جہاں کی غایتِ اولیٰ حضور ہیں
ہر اِک ظہور حجّت و برہانِ نعت ہے
ہے شاخ شاخ بلبلِ سدرہ طواف میں
مصحف خدا کا گلشنِ الوانِ نعت ہے
اِک رمزِ" قُلْ"نےکھولاہےمجھ پریہ بابِ کشف
توحید عیشِ جلوۂ سامانِ نعت ہے
ہر "خطِّ سرنَوِشت " کا عنوان ہے یہی
ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے
جس کو لہو لہو کرے سجدے میں تیغِ ہجر
وہ دل شہیدِ مصحفِ عثمانِ نعت ہے
اِک " وصفِ لاتناہی " کہ جملہ صفات میں
سُن لو سخنورو کہ یہی جانِ نعت ہے
یعقوبِ فکر کو مری آنکھیں نہ کیوں ملیں
لفظوں میں بوۓ یوسفِ کنعانِ نعت ہے
کس نے کہا کہ چاہیے آزادئ سخن
دل تو ہمارا قیدئ زندانِ نعت ہے
رازی وزیر ملکِ سخن میں ہوں اُس کا میں
احمد رضا وہی کہ جو سلطانِ نعت ہے
نادر صدیقی، بوریوالا، پاکستان
قرآن پاک مطلع ِ دیوانِ نعت ہے
اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
یہ خوش نصیب حافظ ِ قرآن ِ نعت ہے
کیسا فقیر ِ نعت پہ احسانِ نعت ہے
صدشکر امتی ہے مسلمانِ نعت ہے
مجھ سا گدا غلامِ غلامانِ نعت ہے
کیسا حسین خانہءِ عرفانِ نعت ہے
حسان ہے کہ بوذر و سلمانِ نعت ہے
جس کو رسولِ پاک نے منبر عطا کیا
حسانِ نعت ہے وہی سلطانِ نعت ہے
ناصر حسین راضی , فیصل آباد، پاکستان
بشکریہ : ریاض قادری
عرش علی پہ جب ہوا پیماں نعت ہے
لاگو ہوانمود پہ فرمان نعت ہے
خود خالق حیات توسلطان نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
ہونٹوں پہ ہیں سکوت کے پہرے لگے مگر
دھڑکن یہ کہہ رہی ہے کہ میلان نعت ہے
ہم کشتگاں کی جملہ تشفی کے واسطے
صلی علی نے کردیا درمان نعت ہے
مہکی حضوریاد کی خوشبو شعور میں
میلادجاں سے بن گیا گلدان نعت ہے
محشر میں اپنی تنگی داماں کے خوف سے
پکڑابڑے وثوق سے دامان نعت ہے
اس کردگار شوق نے قرآں میں جو کیا
وہ اعتراف شوق ہی شایان نعت ہے
تلخابہ حیات کی مستی کے واسطے
نازل ہوا حضور پہ دیوان نعت ہے
بدرالدجی کا نور ہے ہر سمت جلوہ گر
پھیلاہوادیارمیں فیضان نعت ہے
نیرنگئ خیال کو عرفان ہوا نصیب
قرطاس جاں پہ جب ہوا احسان نعت ہے
اکرام لطف کیجئے راضی کو بھی عطا
اک روسیاہ کے دل میں بھی ارمان نعت ہے
صاحبزادہ ناصر حسین راضی فیصل آباد
ناہید اختر بلوچ، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان
دل میں کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے
لفظوں پہ دم بہ دم مرے بارانِ نعت ہے
لب پہ درود ،عشقِ نبی دل میں موجزن
آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے
ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ
جا کے خدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے
قسمت مری سنور گئی ان ﷺ کا کرم ہوا
ان کا کرم ہوا تو یہ فیضانِ نعت ہے
تُو عشقِ مصطفیٰ کو سخن کا امام کر
یہ عشقِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے
مجھ کو عطا ہو صدقہ ءِ حسان یا رسول
سرکار میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے
ناہید شعر گوئی پہ موقوف تو نہیں
”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
ناہید ورک، مشی گن، امریکہ
سردارِ کائنات ہی سلطانِ نعت ہے
پڑھ لو درودِ عشق یہی جانِ نعت ہے
کیا حقِ بندگی ہو ادا ان حروف سے
محبوب کی ثنا میں تو قرآنِ نعت ہے
تلقین گونجتی ہے سماعت میں روز و شب
تخلیقِ کائنات ہی شایانِ نعت ہے
ہر اک نبی ہے لائقِ تحسین، ہاں مگر
بِن آپ ﷺ کے ہے کون جو پہچانِ نعت ہے
بادل کا ٹکڑا سایہ کرے مجھ پہ بھی حضور ﷺ
پھر میں بھی کہہ سکوں گی یہ فیضانِ نعت ہے
ہے پاس لا الٰہ بھی ، صل علٰی بھی پاس
یعنی کہ میرے پاس تو سامانِ نعت ہے
پیشِ نگاہ آپ ﷺ کی توصیف ہے مگر
ناہیدؔ کیا تجھے ذرا عرفانِ نعت ہے؟
مظہر حسین مظہر، میلسی
تازہ ہر ایک دور میں عنوان نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
الفاظ کی گرفت میں آتا نہیں کبھی
شاعر پہ وجدو کیف جو دوران نعت ہے
گم کردہ حواس ہیں رومی و بایزید
اے عشق احتیاط یہ میزان نعت ہے
امروز بھی "حدائق بخشش" کے روپ میں
روشن جہاں میں شمع شبستان نعت ہے
'نہج البلاغہ' شرح فرامین مصطفے
قرآن بھی حضور کا دیوان نعت ہے
اقبال ہو حفيظ ہو محسن ہو یا حسن
ہر ایک اپنے دور کا حسان نعت ہے
کیوں کر نہ مشکبار ہو گلدستہ حروف
مہکا خیال و فکر میں بستان نعت ہے
ہر خوشہ خیال بھرا ہے درود سے
جب سے قلم کو ہوگیا عرفان نعت ہے
اے فکر پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدم
ایوان نعت ہے یہ دبستان نعت ہے
اے کاش ان کی شان کے شایان لکھ سکے
مظہر وجود عشق میں ارمان نعت ہے
ندیم نوری برکاتی، ممبئی، انڈیا
اک بے ہنر ہے اور قلمدانِ نعت ہے
سرکار وہ لکھائیں جو شایانِ نعت ہے
انکی تو ذاتِ پاک ہے سر چشمۂ کمال
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
آداب عشق عاجزی سیرت و معجزات
ملحوظ رکھئے اس کو یہی جانِ نعت ہے
شکرِ خدا کہ زیست رہی ہے غزل سے دور
میری متاعِ زندگی قربانِ نعت ہے
اک نگہِ التفات ہو مجھ سے فقیر پر
آقا حضور مچھ کو بھی ارمانِ نعت ہے
احسان آپ کا ہے کرم آپ کا حضور
ورنہ کہاں گنوار کو عرفانِ نعت ہے
دل بے قرار, دیدۂ تر , وردِ لب درود
کیا کیف کیا سرور سا دورانِ نعت ہے
عزت بھری نگاہ سے تکتے ہیں مجھ کو لوگ
نوری یہ اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
نسرین سید، اونٹاریو، کینیڈا
تخلیقِ کائنات ہی احسانِ نعت ہے
گردوں ہے وجد میں، تو یہ وجدانِ نعت ہے
اُنﷺ کی ثنا میں حرفِ گُماں کا گزر کہاں؟
قرآنِ بالیقین جب اعلانِ نعت ہے
آنکھوں میں اشک، سینے میں رقت ہو موجزن
پھر دل میں اُنﷺ کا عشق، ہی سامانِ نعت ہے
رکھو جو انﷺ کی سیرتِ کامل کو سامنے
" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
لاؤں کہاں سے لفظ جو شایانِ شان ہوں
اشکوں سے ہو بیاں، اِنہیں عرفانِ نعت ہے
یہ عجزِ بے پناہ ، میسر جو دل کو ہے
یہ کیف ، یہ سکون ، یہی جانِ نعت ہے
تکریمِ خاص ، حسنِ ادب ، حدِ اعتدال
رکھے جو یہ خیال، نگہبانِ نعت ہے
ہے دین ساری ، مدحتِ آلِ رسولﷺ کی
سرکارﷺ کی عطا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے
کھلتے ہیں پھول صلِ علیٰ کے جہاں مدام
نسرینؔ ، یہ جہان خیابانِ نعت ہے
نسیمی تاجی، ناگپور، انڈیا
بشکریہ : ارشد رضا قادری
ارضِ غزل نہیں ہے یہ میدانِ نعت ہے
ہوش و خرد سے کام لے دیوانے ،نعت ہے
ہر سانس پر درود کا ہدیہ گزاریے
"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
یہ سر اٹھا ہوا ہے تو سرکار کے سبب
یہ دل کھلا ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے
کچھ بھی نہیں حضور کی الفت اگر نہیں
انجانِ زندگی ہے جو انجانِ نعت ہے
نسلیں مہک نہ جائے تمہاری تو بولنا
لے جاؤ ساتھ میں کہ یہ گل دانِ نعت ہے
احمد کا پہلا حرف محمد کا پہلا حرف
قرآنِ حمد کے لیے جزدانِ نعت ہے
کچھ خاص مٹیوں کو نمی کی گئی عطا
ویسے تو سب پہ مہرباں بارانِ نعت ہے
سو فیصدی درست ہے یہ بات دوستو
ہر صفحہءِ دو کون بہ عنوانِ نعت ہے
ہر لفظ پھول ہے تو کلی سب حروف ہیں
کس طور شان دار گلستانِ نعت ہے
فرضی جمال و حسن کے پرخچے اڑ گئے
چاروں طرف بپا ہوا میلانِ نعت ہے
حد درجہ احتیاط ، مقام ادب ہے یہ
دورانِ خوں ٹہر کہ یہ دورانِ نعت ہے
اسمِ مبارکہ پہ درودوں کی ڈالیاں
اب تک مجھے تو اتنا ہی عرفانِ نعت ہے
معلوم میرے قول و عمل سے چلے گا یہ
مضبوط کس قدر مرا ایمانِ نعت ہے
صدیوں سے ہو رہا ہے یہاں ذکرِ مصطفی
یہ شہرِ ناگ پور دبستانِ نعت ہے
سمجھوں گا میری نعتیں ، نسیمی قبول ہیں
مجھ کو جو کوئی کہ دے یہ مستانِ نعت ہے
نعیم عباس ساجد، ملتان، پاکستان
میرے کہاں نصیب میں بارانِ نعت ہے
گر ہو گئی عطا تو یہ احسانِ نعت ہے
جس کو سمجھ رہے ہیں سبھی لوگ کائنات
وہ اہلِ ذوق کے لیے سامانِ نعت ہے
ہر لفظ کاٹ چھانٹ کے کرنا ہے منتخب
کرکے یقیں کہ واقعی شایانِ نعت ہے
پاکیزگیِ قلب و نظر لازمی ہے یاں
میدانِ منقبت ہے کہ میدانِ نعت ہے
اک سبز روشنی ہے تخیل کے ارد گرد
یعنی کہ اب قریب ہی امکان نعت ہے
نواز اعظمی، گھوسی، انڈیا
وہ شخص ہی لکھے جسے عرفانِ نعت ہے
ورنہ بہت ہی دھیان سے میدانِ نعت ہے
پیہم زمینِ فکر پہ بارانِ نعت ہے
دل اس کے باوجود بھی عطشانِ نعت ہے
غم ،ہجر، درد، گریہ، قلق، اشک، سوز، عشق
ہر ایک میرے واسطے سامانِ نعت ہے
اٹھتی ہے ہر ورق سے ہی بوئے ثنائے شاہ
قرآں مری نگاہ میں بستانِ نعت ہے
آ بیٹھ اور یہاں سے تُو رزقِ ثنا اٹھا
روئے زمینِ شہرِ نبی خوانِ نعت ہے
بہتا ہے جو بھی ہجرِ رسالت مآب میں
آنسو نہیں وہ اصل میں بارانِ نعت ہے
رنج و الم میں سرورِ کون و مکاں کی یاد
واللہ وجہِ حرکتِ شریانِ نعت ہے
حاصل ہے اس پہ اوروں کو بھی دسترس مگر
حسّان شاہِ ملکِ سلیمانِ نعت ہے
ہر شعبہ وصفِ شاہِ امم سے ہے تابناک
"ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اب تک نواز میں نے جو مدحِ رسول کی
کیا اس کا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے؟
نگار سلطانہ، کولکتہ، انڈیا
مکمل نام : ڈاکٹر نگار سلطانہ
لکھنے کو میرے دل میں تو ارمان نعت ھے
اک پھول کیا چنوں کہ گلستان نعت ھے
ہر لمحہء حیات کی بس جان نعت ھے
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ھے"
جب تک نہ دل میں چاہت سرکار دین ہو
کیسے لکھے کوئ کہ یہ شایان نعت ھے
جب سے خیال ڈھل گئے اشعار میں مرے
ہر سانس میں بسا ھوا عنوان نعت ھے
مجھ کو دکھاتی ہے یہ سدا راستی کی راہ
چلنا شروع کروں تو یہ احسان نعت ھے
مرے خیال و فکر میں پیوست ہوگئ
ہر ایک لمحہ اور ہر اک آن نعت ھے
قرآن میں بھی ذکر کا مرکز نبی ہی ہیں
گویا ظہور ہستی میں اعلان نعت ھے
مدحت کی روشنی سے جو لفظوں کو بھر دیا
جو کچھ ملا نگار یہ فیضان نعت ھے
نور الحسن نور نوابی، قاضی پور، انڈیا
اعلان کائنات غلامانِ نعت ہے
حسان جس کا نام ہے سلطانِ نعت ہے
سوچے بغیر ہوتی ہے مدحت رسول کی
ارزاں ہمارے واسطے فیضانِ نعت ہے
عشق رسول پاک کی صورت میں دوستو!
بیٹھا درِ خیال پہ دربانِ نعت ہے
عشق رسول شہر نبی کی جمالیات
حاصل خدا کے فضل سے سامانِ نعت ہے
اس کی حدوں میں گرم ہوا کا گزر کہاں
دشت غزل نہیں یہ گلستانِ نعت ہے
سنتی ہیں ذکر سرور دیں جو سماعتیں
ان کی ضیافتوں کے لیے خوانِ نعت ہے
کہنے کو لوگ کہتے ہیں نعتیں بہت مگر
حاصل کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے
قسمت کا اس کی لا نہ سکے گا کوئی جواب
جس کے لیے کھلا در ایوانِ نعت ہے
حسان آگے سعدی و جامی ہیں ان کے بعد
اے آنکھ دیکھ وہ صف شاہانِ نعت ہے
ڈرتا نہیں ہوں دھوپ کے تیروں سے اس لیے
حاصل مجھے بھی سایہ دامانِ نعت ہے
ہوجائے یوں تو کام کی ہو میری زندگی
سرکار کہہ دیں یہ مرا دربانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات ہے آقا سے منسلک
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
غنچے کھلے ہیں مدحت آقا کے ہر طرف
شادابیوں کا آئنہ میدانِ نعت ہے
ہر اک ورق پہ مدحت سرکار ہے رقم
دل عاشق رسول کا دیوانِ نعت ہے
دل کر رہا ہے ضد مرا مضمون کر رقم
در پیش میری فکر کو عنوانِ نعت ہے
خوشبو بسی ہوئی ہے محلے میں دور تک
گھر کے ہر ایک طاق پہ گلدانِ نعت ہے
ابر کرم کے پھول برستے ہیں پے بہ پے
جب سے زباں پہ ذکرِ محبانِ نعت ہے
ہر صنف کی امام ہے نعت شہ امم
یہ افتخار نعت ہے یہ شانِ نعت ہے
کچھ لوگ شب چراغ سمجھتے ہیں کچھ گلاب
رکھا ہماری میز پہ دیوانِ نعت ہے
دیکھا عقیدتوں کی نظر سے تو یہ کھلا
جو شعر بھی ہے نعت کا وہ جانِ نعت ہے
دو چار ساعتوں پہ نہیں منحصر فقط
ایک ایک سانس نور کی قربانِ نعت ہے
نور محمد اشرفی, پورنیہ ,بہار,بھارت
پیش کش: غلام جیلانی سحر
محوِ ثنائے آقا ہوں, عنوانِ نعت ہے
یا رب ! کرم ہو خاص کہ ارمانِ نعت ہے
بے عشقِ مصطفے ہے سبھی بندگی فضول
عشقِ رسولِ پاک ہی ایمانِ نعت ہے
فضلِ خدا سے اور مدد سے حضور کی
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
تاریخ تم پڑھو گے تو ہوگا تمہیں پتا
حسان ہی سے مہکا گلستانِ نعت ہے
خلدِ بریں میں جائیں گے حسان کے وہ ساتھ
جن خوش نصیب لوگوں کو عرفانِ نعت ہے
چشمِ کرم حضور کی مجھ پر ہوئی ہے خاص
جاری مری زباں پہ جو گردانِ نعت ہے
شہرت جو نورٓ تم کو ملی ہے جہان میں
فضلِ خدائے پاک ہے,فیضانِ نعت ہے
نور محمد جرال، نیویارک، امریکا
شکرِ خُدا کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
سرپر میرے بھی سایۂ دامانِ نعت ہے
حرف و سخن پہ دسترس اپنی جگہ مگر
دراصل وصفِ حبِ نبی جانِ نعت ہے
فکرو شعور و حرف و ہُنر باوضو رہیں
تخلیق کے لیے یہی سامانِ نعت ہے
اشعار میں ہے سورۂِ یٖس کا جمال
حرفِ درود شمعِ شبستانِ نعت ہے
صدیوں سےلکھی جاتی ہےقرطاسِ وقت پر
لیکن ابھی شعور کو ارمانِ نعت ہے
ہے آپ کی حیات ہمہ گیر اس قدر
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”
گلہاۓ رنگ رنگ کی مہکار چار سُو
دںیا تو ایک مزرعۂِ بستانِ نعت ہے
ہر اک اداۓ نور پہ ہیں آیتیں گواہ
سیرت میرےحضور کی قرآنِ نعت ہے
حسنِ عمل ہے مدحتِ مولا کا اک چمن
حسنِ کلام زیبِ سخندانِ نعت ہے
آنکھیں کہ ان کے ذکرمیں نمناک ہیں سدا
اور دل ہزار جان سے قربانِ نعت ہے
ہر عندلیبِ قدس کے لب مشکبوۓ نعت
باغِ اِرم ہے یا کوئی دالانِ نعت ہے
آنکھوں کے طاقچوں میں رکھے آرزوۓ دید
بے چین کب سے حلقۂ مستانِ نعت ہے
جل تھل ہوئی ہے دل کی زمیں یادِ شاہ میں
اشکوں کی یہ گھٹا ہے یا بارانِ نعت ہے
الفاتحہ سے سُورۂِ والناس تک گواہ
قرآن حرف حرف ہی بُرھانِ نعت ہے
سرکار کوئی اچھا نہیں نامۂ عمل
محشر میں دستِ نور میں دیوانِ نعت ہے
واجد امیر، لاہور، پاکستان
دربان ِ شاہ دین ہی دربان ِ نعت ہے
روح الامین یعنی نگہبان ِ نعت ہے
صد لاکھ احتیاط کہ عنوان ِ نعت ہے
وہ آئے اس طرف جسے ایقان ِ نعت ہے
مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں
باغ ِ عدن کے پاس خیابان ِ نعت ہے
مصرعے سجے ہوئے کہ رنگوں کی لہر ہے
قوس ِ قزح ہے یا کوئی گل دان ِ نعت ہے
ہر شعبہ ءِ حیات ہے سیرت سے متصل
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "
جس پہ نگاہ کی وہی مقبول بارگاہ
جس پر کرم ہوا وہی سلطان ِ نعت ہے
ہوگی منادی حشر میں آئے وہ اس طرف
حس پاس اک بھی مصرعہءِ امکان ِ نعت ہے
دشت ِ غزل میں گھوم لیے ہو تو پھر سنو
اب اس سے آگے سارا گلستان ِ نعت ہے
مدحت نگاری میں ہمیں اس پر بھِی فخر ہے
اردو زباں کا اپنا دبستان ِ نعت ہے
واجد ڈھکا چھپا نہیں چشم ِ خدائی سے
تیری سخن وری پہ جو احسان ِ نعت ہے
واحد نظیر، دہلی
معیار ہے اصول ہے میزانِ نعت ہے
قرآن خضرِ راہ اے یارانِ نعت ہے
لوح و قلم کے خالق و مالک ہے یہ دعا
لہجہ ہو وہ نصیب جو شایانِ نعت ہے
اپنی زبان جلتی ہے غیروں کی مدح سے
پونجی مرے خمیر کی میلانِ نعت ہے
مرکز میں غور و فکر کے دائم ہو وجہِ کن
یہ محورِ عناصر و ارکانِ نعت ہے
سب ہے نبی کے صدقے میں، کہنے کی بات کیا
ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے
لائق تھی سرزنش کے یہ انعام پا گئی
صنفِ سخن پہ دائمی احسانِ نعت ہے
علم و ہنر سے شعر تو ہو جاتے ہیں مگر
واحد نظیر عشقِ نبی جانِ نعت ہے
وسیم عباس، لاہور، پاکستان
صحنِ بتول بُوئے گلستانِ نعت ہے
چودہ کا نور زینتِ گلدانِ نعت ہے
ٹھوکر نہیں لگی کبھی بھٹکا نہیں ہوں میں
جس دن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
ملتا نہ کیسےدہر میں اس صنف کو فروغ
صاحب! پدر علیؑ کا نگہبانِ نعت ہے
"آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں "
شہرِ سخن میں مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
دیکھیں جو دل سے بغض کی مٹی کو جھاڑ کر
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
بھولے نہ آدمی کبھی من کنت کا پیام
یہ آگہی ہے نعت کی عرفانِ نعت ہے
مجھ پر بھی اتنا لطف و کرم کیجئے حضورﷺ
میں کہہ سکوں کہ میرا بھی دیوانِ نعت ہے
اسرارِ کائنات ہیں مجھ پر کھُلے ہوئے
وہ اس لئے کہ دل مرا شعیانِ نعت ہے
وقار احمد وقار ، لاہور
لگتا کلام رَب کا یہ عنوانِ نعت ہے
قرآن رَب کا رَب کی قسم شانِ نعت ہے
کچھ بہکنے کا مجھ کو یہاں غم نہیں رَہا
تھاما خیال نے مرے دامانِ نعت ہے
نعتوں کا سلسلہ نہیں رُکنے ہے والا یہ
اعلان اُس جہاں کا بھی اعلانِ نعت ہے
محوِ درود رَب ہے فرشتے بھی ساتھ ہیں
گویا کہ ہر گھڑی یہاں فیضانِ نعت ہے
گوشہ درود اِک میں نے لاہور دیکھا ہے
ہر بیٹھا جس میں شخص ہی قربانِ نعت ہے
خاور ؔ نے سچ کہا مجھے ہے نعت کی قسم
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
منزل تلک سفر میں کفایت کرے گا یہ
جو توشہ ء وقار میں سامانِ نعت ہے
وقار احمد نوری ، کرناٹک، بھارت
بشکریہ : غلام جیلانی سحر
بخشش کا میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے
جنت سے بڑھ کے مجھ کو شبستانِ نعت ہے
بو بکر ہوں عمر ہوں غنی ہوں کہ ہوں علی
اِن میں ہر ایک صاحبِ عرفانِ نعت ہے
عشقِ رسولِ پاک کا فیضان ہی تو ہے
سینے میں جلوہ بار جو ایمانِ نعت ہے
اپنی جبینِ ناز کو ان کے حضور رکھ
تسکینِ روح و قلب ہے ذیشانِ نعت ہے
کُل کائنات چھان کے جبریل نے کہا
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
عشقِ نبی کی آنکھ سے قرآن پڑھ کے دیکھ
مدحِ رسولِ پاک ہی وجدانِ نعت ہے
شعر و سخن کے باب میں جو کچھ بھی ہے وقار
سب ہے عطا رسول کی, فیضانِ نعت ہے
وقار احمد نوری, کرناٹک, بھارت
یاسر عباس فراز، میلسی
قائم جو آج بھی ترا ص ایوانِ نعت ہے
پردے میں کوئی ہے جو نگہبانِ نعت ہے
در سے دکھائی دیتا ہے شہرِ ادب کا حسن
ایمانِ منقبت میں ہی ایمانِ نعت ہے
یہ میں جو آپ لوگوں کو لگتا ہوں معتبر
میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے
اے دوست مجھ فقیر کو تو نعت گو نہ لکھ
مجھ میں نہیں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے
میلاد مصطفی ص سے بنی مجلسِ حسین ع
ذکرِ حسین ع اصل میں عرفانِ نعت ہے
ان کے قدم کی دھول ہے یا ان کا نقشِ پا
مجھ خاک کی رسائی یہ سامانِ نعت ہے
بابائے مرتضی ع سے سخن گوئی سیکھ لیں
عجز و ادب کے بعد ہی امکانِ نعت ہے
مخفی رکھا ہے میں نے جو اک نام نعت میں
وہ گوشہِ رسول ص ہے اور جانِ نعت ہے
یاور حسین، پٹنہ، انڈیا
پہلا قدم بہ فرشِ دبستانِ نعت ہے
میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے
الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں جھکائے سر
اظہارِ عشق آج بہ عنوانِ نعت ہے
تعریف کر رہا ہے خدائے قدیم خود
اللہ کا کلام گلستانِ نعت ہے
ہر شے سے آشکار ہے وصفِ شہہِ امم
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
تخلیقِ کائنات کا واحد سبب ہیں یہ
جو کچھ ہے اس جہاں میں وہ سامانِ نعت ہے
اتنی کشادگی ہے کہاں عرش و فرش میں
جتنا کشادہ حلقہء دامانِ نعت ہے
حد سے فزوں نہ حرف کوئی ہے نہ حد سے کم
دستِ خدائے پاک میں میزانِ نعت ہے
ہجرت کی شب علی ع کے سوا اور بھی کوئی
جلوہ فگن بہ تختِ سلیمانِ نعت ہے
پروانہء بہشت ہے مدحت رسول کی
یاور خوشا کہ تم پہ بھی فیضانِ نعت ہے
یاور وارثی، کانپور، انڈیا
جو پھول جو کلی ہے وہ عنوان نعت ہے
پھرتا ہوں میں جہاں چمنستان نعت ہے
حاصل جسے سرور ہو عشق رسول کا
ارزاں اسی کے واسطے عرفان نعت ہے
کرتے ہیں آتے جاتے ہوئے پل مجھے سلام
صد شکر میرے ہاتھ میں دامان نعت ہے
اب اور کسی شرف کی نہیں مجھ کو آرزو
در کھولے میرے واسطے دربان نعت ہے
سب مانتے ہیں نعت نگاران مصطفے
حسان کو نصیب قلم دان نعت ہے
ہر لمحہ ہر صدی ہے ثناخوان مصطفے
کیا عظمتیں ہیں نعت کی کیا شان نعت ہے
آنکھیں جو ہوں تو کھول کے دیکھو ورق ورق
ہر ذرہ کائنات کا دیوان نعت ہے
اے کاش دن وہ آئے کہ سب کا ہو فیصلہ
اب شہر کانپور دبستان نعت ہے
پڑھتی ہے نعت آنکھ سے بہتی ہوئی ندی
ان کا خیال شمع شبستان نعت ہے
تا عمر چلتے رہئے سرا مل نہ پائے گا
اتنا طویل کوچہ امکان نعت ہے
یاور جہاں خیال پہونچتا نہیں کوئی
جاری وہاں بھی چشمہ فیضان نعت ہے