"تبادلۂ خیال:ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(61 صارفین 310 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{بسم اللہ }}
{{بسم اللہ }}


=== ایونٹ کی نعتیں ===
=== ایونٹ کی نعتیں ===


اگر کوئی نام نیلے رنگ میں ہےتو اس کا مطلب یہ ان شاعر کا تعارف "نعت کائنات" پر موجود ہے ۔ اور اس نیلے نام پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر نام سرخ رنگ میں ہے تو اس پر کلک کرکے شاعر اپنا تعارفی صفحہ شروع کر سکتا ہے ۔
* قوافی پر اعراب لگانے ہیں ۔
* قلمدان ِ نعت کا قافیہ کئی بار غلط استعمال ہوا ہے ۔
* قرآن ۔ کئی اشعار میں قرآن کا تلفظ غلط ہے ۔جو فی الحال برقرار رکھے گئے ہیں
* بعض اشعار میں قافیے کہ ساتھ اضافت نہیں ۔ ایسے اشعار نکال دینے ہیں ۔
* ہندی قوافی مثلا پہچان ِ نعت ، مان ِ نعت برقرار رکھے جائیں گے ۔
* بے وزن اشعار ۔ ایسے اشعار جن میں ایک آدھ لفظ کی تبدیلی سے مصرع درست ہوسکتا ہے ۔ درست کیے جا رہے ہیں لیکن اگر ایک دو الفاظ سے زیادہ تبدیلی مطلوب ہو تو ان کو حذف کیا جا رہا ہے ۔
* "آقا نے کہ دیا کہ ستارے ہیں پنجتن" ۔ عقیل ملک کا مصرع ہے اور انہوں نے یہی املا بھیجی ہے ۔ "کہ" کی درست املا یہی ہے لیکن آج کل "کہہ" رائج ہے تو تبدیل کر دیا گیا ہے ۔
* مصعب شاہین نے لفظ "اطمینان" کی "ی " گرائی ہے ۔ جسے برقرار رکھا گیا ہے ۔
 
 
 
اگر   کوئی نام نیلے رنگ میں ہےتو اس کا مطلب یہ ان شاعر کا تعارف "نعت کائنات" پر موجود ہے ۔ اور اس نیلے نام پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر نام سرخ رنگ میں ہے تو اس پر کلک کرکے شاعر اپنا تعارفی صفحہ شروع کر سکتا ہے  
 
 
 
 
 
 




سطر 25: سطر 45:
گریہ کناں حنانہ ہے ہجرِ حبیبِ میں
گریہ کناں حنانہ ہے ہجرِ حبیبِ میں


سوکھے ہوئے تنے کو بھی پہچانِ نعت ہے
سوکھے ہوئے تنے کو بھی عرفانِ نعت ہے




سطر 40: سطر 60:
آصف ثنا کے باب میں خاموش ہی رہو
آصف ثنا کے باب میں خاموش ہی رہو


کب ہے بشر کی فکر جو شایان ِ شان ہے
کب ہے بشر کی فکر جو شایان ِ نعت ہے


===== [[آفاق رضا مشاہدی]]، [[باگ بھیرہ]]، [[انڈیا]] =====
===== [[آفاق رضا مشاہدی]]، [[گونڈہ]]، [[انڈیا]] =====
اِتنا وسیع حلقہءِ میدانِ نعت ہے  
اِتنا وسیع حلقہءِ میدانِ نعت ہے  


سطر 58: سطر 78:




مدحِ نبی کا حق ادا کوئ نہ کر سکا  
مدحِ نبی کا حق ادا کوئی نہ کر سکا  


ہاں اِک قرآن ہے کہ وہ سُلطانِ نعت ہے
ہاں اِک قرآن ہے کہ وہ سُلطانِ نعت ہے
سطر 111: سطر 131:


ہر ایک بزمِ نعت ، گلستان ِ نعت ہے  
ہر ایک بزمِ نعت ، گلستان ِ نعت ہے  
رمضان کے مہینے میں نعتوں کی برکتیں
یوں لگ رہا ہے جیسے یہ رمضان ِ نعت ہے




سطر 151: سطر 166:
کیا آسماں پہ مدح سرائی نہیں ہوئی ؟
کیا آسماں پہ مدح سرائی نہیں ہوئی ؟


کیا کوئی حد ِ وسعت ِ دامان ِ نعت ہے؟
کیا   کوئی حد ِ وسعت ِ دامان ِ نعت ہے؟




سطر 172: سطر 187:
صحرائے زیست میں ہیں گناہوں کی آندھیاں
صحرائے زیست میں ہیں گناہوں کی آندھیاں


ہے آسرا کوئی تو خیابان نعت ہے
ہے آسرا   کوئی تو خیابان نعت ہے




سطر 195: سطر 210:




نطق و بیاں کا اس کو بنا بیٹھے قبلہ ھم
نطق و بیاں کا اس کو بنا بیٹھے قبلہ ہم


حکمِ وَسَلِّمُو میں جو فرمانِ نعت ہے
حکمِ وَسَلِّمُو میں جو فرمانِ نعت ہے
سطر 281: سطر 296:
نعتِ قراں ہی اصل میں قرآنِ نعت ہے
نعتِ قراں ہی اصل میں قرآنِ نعت ہے


===== [[ابو بکر نادر]]، [[چنیوٹ]]، [[پاکستان]] =====
===== [[ابوبکر نادر]]، [[چنیوٹ]]، [[پاکستان]] =====
جس جس کو جو ملا ہے یہ احسانِ نعت ہے  
جس جس کو جو ملا ہے یہ احسانِ نعت ہے  


سطر 325: سطر 340:
یٰسین نعت سورہ ِرحمان نعت ہے
یٰسین نعت سورہ ِرحمان نعت ہے


الحمد نعت سورہِ عمران نعت ہے
الحمد نعت سورہِ عمران نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل غور




سطر 346: سطر 361:


فیضان نعت ہے یہ بھی فیضان نعت ہے
فیضان نعت ہے یہ بھی فیضان نعت ہے
===== [[احسان اللہ علیمی]]، [[کبیر نگر,اترپردیش]]، [[انڈیا]] =====
پیشکش: [[غلام جیلانی سحر]]
احمد رضا تو ہند میں حسانِ نعت ہے
,,ہرشعبہ حیات میں امکان نعت ہے,,
خواہش ہے نعت لکھنے کی دل میں بہت مگر
لاؤں کہاں سے حرف جو شایانِ نعت ہے
پڑھتے رہو درود رسولِ کریم پر
وردِ درودِ پاک ہی وجدانِ نعت ہے
قرآن پڑھتے وقت یہ احساس بھی ہوا
جیسے ہر ایک لفظ ہی عنوانِ نعت ہے
چین و سکون ڈھونڈنے والے سنو ذرا
تسکینِ روح کے لئے دیوانِ نعت ہے
میرے نصیب میں کہاں جنت کی دید تھی
جنت اگر ملی ہے تو احسانِ نعت ہے


===== [[احسان علی حیدر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احسان علی حیدر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
سطر 381: سطر 429:


اک کربلا ہے دوسرا دالان_نعت ہے
اک کربلا ہے دوسرا دالان_نعت ہے
===== [[احمد اشرفی]]، [[اترپردیش]]، [[انڈیا]] =====
پیشکش : [[غلام جیلانی سحر]]
عشقِ نبی میں دیکھیے قرآنِ نعت ہے
آیت ہو چاہے حرف ہو قربانِ نعت ہے
کیا کیا لکھوں میں شانِ رسالت مآب میں
سرکار کا سراپا ہی عنوانِ نعت ہے
مہکا رہا ہے کِھلتے ہی سب کے وجود کو
کتنا حسین وخوش نما گلدانِ نعت ہے
تصویرِ کائنات کی جو رخ چمک رہی
,,ہرشعبہِ حیات میں امکان نعت ہے,,
جس میں نبی کے خلق کے اوصاف ہوں بیاں
سچ ہے وہی تو اصل میں شایانِ نعت ہے
دل میں ہے چاہ نعتیہ دیوان لکھ کے میں
دنیا سے کہہ سکوں کہ یہ دیوانِ نعت ہے
نادر جو ذکر کرتے ہو خیر الانام کا
رب کی عطا سے تم پہ یہ فیضانِ نعت ہے
مکمل نام : محمد احمد اشرفی,نادر بستوی


===== [[احمد جہانگیر]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد جہانگیر]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
سطر 423: سطر 511:


===== [[احمد رضا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد رضا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
قرآن اصل میں تو دبستان نعت ہے


سیکھے یہاں سے جو وہی سلطان نعت ہے  
حیطہ ء دل میں میرے بھی ارمان نعت ہے


ڈر تو مگر بجا کہ یہ میدان نعت ہے


ساقی ! کمال یہ ترے جام کا نہیں


طاری ہوا جو مجھ پہ ، یہ وجدان نعت ہے
سمجھا نہیں رفعنا کا مطلب یہاں  کوئی


مصحف خدا کا سمجھو تو قرآن نعت ہے


ناں لفظ و معنی کی بھی کوئی قید اب رہی
جب عشق کا چراغ جلا ، بھید تب کھلا


خوشا ! زہے نصیب یہ عرفان نعت ہے
”ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے“




ہو باوضو تو پہلے، قدم بعد میں پڑے
عرشِ بریں پہ باغ سخن کا ہے اب دماغ


باہوش رہ کے چلنا یہ میدان نعت ہے
بٹتا ہوا یہ صدقہ ء بستان نعت ہے  
 
 
آلام کا نہیں ہے مجھے خطرہ کوئی بھی
 
محوِ سفر جہاں ہوں بیابان نعت ہے




ہر لحظہ رہتے ہیں مرے سرکار دل میں ، سو
نافے لٹا رہا ہے جو قریہ ء جان پر


”ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے“
باغِ جناں ہے یا چمنستان نعت ہے




بھینی سی چھا چکی ہے جہاں میں جو خوشبو
شیشہ ء دل پہ چھائی ہے اک تازگی سی  


بٹتا ہوا یہ صدقہ ء بستان نعت ہے  
شاید اترنے کو وہاں عرفان نعت ہے




افلاک پر رضا کا ہے دستِ سخن کہ آج


اہلِ ولا میں بیٹھا بفیضان نعت ہے
* حیطہ ءِ دل کو "حیطائے دل" اور "شیشہ ءِ دل" کو "شیشائے دل " اور "قریہ ءِ دل" کو "قریائے دل' باندھا ہے جو غلط ہے ۔


===== [[احمد رضا سعدی]],[[نندور بار]],[[بھارت]] =====
===== [[احمد رضا سعدی]],[[نندور بار]],[[بھارت]] =====
سطر 501: سطر 584:




===== [[احمد زاہد]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
===== [[احمد زاہد]]، [[سانگلہ ہل]]، [[پاکستان ]] =====


مکمل نام : محمد احمد زاہد
مکمل نام : محمد احمد زاہد


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے  
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے  


مجھ پر کرم ہے جو بھی وہ احسانِ نعت ہے
مجھ پر کرم ہے جو بھی وہ احسانِ نعت ہے  




جب سے نگاہ یارِ خدا کی ادھر پڑی
توصیف جتنی بھی کروں اور جتنی بھی سنوں


بگڑی یہ میری بن گٸی احسانِ نعت ہے
مدحت کا لفظ لفظ ہی شایانِ نعت ہے




سطر 525: سطر 608:




توصیف جتنی بھی کروں اور جتنی بھی سُنوں
ہر دَور کی زباں پہ محمدﷺ کی ہے ثنا


مدحت کا ہر لفظ لگے شایانِ نعت ہے
واضح یہ ہو رہا ہے کہ کیا شانِ نعت ہے
 
 
قابل کہاں تھا، آپﷺ نے احسان کر دیا
 
محشر میں منھ دکھانے کو دیوانِ نعت ہے
 
 
میں خود کو کس طرح سے تہی دست مان لوں
 
دیکھو یہ میرے پاس بھی دامانِ نعت ہے
 
 
ہر ایک نے کہی ہے یوں تو نعتِ مصطفیٰؐ
 
زاہد نے جو کہی ہے وہ اک شانِ نعت ہے


===== [[احمد عقیل]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد عقیل]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====
سطر 603: سطر 701:
جچتے نہیں ہیں اس کی نگاہوں میں سیم و زر
جچتے نہیں ہیں اس کی نگاہوں میں سیم و زر


جو کوئی اس جہان میں قربانِ نعت ہے
جو   کوئی اس جہان میں قربانِ نعت ہے




سطر 618: سطر 716:
احمد ہے عمر خضر بھی کم نعت کے لیے
احمد ہے عمر خضر بھی کم نعت کے لیے


دنیا میں کب کہیں کوئی پایانِ نعت ہے
دنیا میں کب کہیں   کوئی پایانِ نعت ہے


===== [[احمد مسعود قریشی]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد مسعود قریشی]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
سطر 754: سطر 852:
یہ کائنات چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے
یہ کائنات چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے


===== [[احمد وصال]]، [[پشاور]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد وصال]]، [[پشاور]]، [[پاکستان ]] =====
جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "  




طَیبہ ہو چَشم و قَلب میں، لب پہ درود ہو
طَیبہ ہو چَشمِ قَلب میں، لب پہ درود ہو


ہر لفظ با وضو ہو یہی شانِ نعت ہے
ہر لفظ با وضو ہو کہ میدانِ نعت ہے




قرآں کا لفظ لفظ ہے توصیفِ مُصطفیٰ
اللہ کا کلام ہے توصیفِ مُصطفیٰ


کتنا فَراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے
کتنا فَراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے
سطر 775: سطر 873:




نصرت ہو زہد و تقویٰ سے، حُبِّ نبی سے رب
یا رب ! کرم ہو نعت کے شایاں عطا ہوں لفظ


مُجھ ناتواں کے سامنے میدانِ نعت ہے
مُجھ ناتواں کے سامنے میدانِ نعت ہے
آو سب اپنی آنکھوں میں ڈالیں ہم اِس کی گرد
حسّان اس کا میر یہ کاروانِ نعت ہے




سطر 800: سطر 893:




احمد وصال پر بھی ہو نظرِ کرم حضور
سمجھوں گا میں وسیلہ شفاعت کا مل گیا
 
ایک شعر بھی جو نعت میں شایانِ نعت ہے
 


اک ناشناسِ نعت ہے ، دربانِ نعت ہے
احمد وصال پر بھی ہو چشمِ کرم حضور


===== [[ارتضی حیدر]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
در پر کھڑا ہے آپ کے ، دربانِ نعت ہے
 
===== [[اختر حمید گل ]] ، [[اسلام آباد ]]، [[پاکستان ]] =====
 
بشکریہ : [[حافظ محبوب احمد ]]، [[سرگودھا ]]
 
تخلیقِ کائنات بھی عُنوانِ نعت ہے
 
جاری کیا خدا نے ہی فرمانِ نعت ہے
 
 
کردارِ مُصطفٰیؐ کی ہے ہر جان میں نمُود
 
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
 
 
ساگر ہو روشنائی جو سب پیڑ ہوں قلم
 
ممکن نہیں تمام ہو ، یہ شانِ نعت ہے
 
 
جتنے حروف اِس میں پروئے گئے ہیں وہ
 
سارے ہی ضوفشاں ہیں، یہی شانِ نعت ہے
 
 
اتنی مجال کس میں کرے مدحِ مصطفیٰ
 
اللہ کاکلام ہی شایانِ نعت ہے
 
 
حسّانؓ ہو رضا ہو کہ جامی ہو یا فرید
 
رفعت ملی اِنہیں جو یہ، احسانِ نعت ہے
 
 
پیداہوئےحضورتو روشن ہوا جہان
 
ہونے لگا جہان میں اعلانِ ِ نعت ہے
 
 
سجدوں کی ساتھ لائے ہیں سوغات سب مگر
 
میرا تو آ سرا یہی سامانِ نعت ہے
 
 
بخشش کی روزِ حشر جو پوچھیں گے گل سبیل
 
کہہ دوں گامیرےپاس توبرہانِ نعت ہے
 
===== [[ارتضی حیدر]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد ارتضی حیدر
مکمل نام : محمّد ارتضی حیدر


مصرع اگر مرا کوئی شایانِ نعت ہے
مصرع اگر مرا   کوئی شایانِ نعت ہے


یہ اصل میں حقیر پہ فیضانِ نعت ہے
یہ اصل میں حقیر پہ فیضانِ نعت ہے
سطر 871: سطر 1,017:
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے  
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے  


مشکل زمین میں جو نکالے غضب کے شعر
تو جان لو کہ یہ کوئی مردانِ نعت ہے




سطر 884: سطر 1,026:
جیسا نصیب ہو گیا اُن کے بلال کو  
جیسا نصیب ہو گیا اُن کے بلال کو  


اب اِس سے بڑھ کے کیا کوئی عِرفانِ نعت ہے ؟  
اب اِس سے بڑھ کے کیا   کوئی عِرفانِ نعت ہے ؟  




سطر 902: سطر 1,044:




خوشبو سے مہکنے لگے دیوار و در میرے
خوشبو سے اب مہکتے ہیں دیوار و در میرے
 
کس درجہ مشکبیں یہ گلستانِ نعت ہے
 
 
اللہ کی سنت کو پورا کر رہے ہیں ہم


ہم پر ہزار شکر یہ احسانِ نعت ہے
کس درجہ مشک بو یہ گلستانِ نعت ہے




سطر 926: سطر 1,063:
اے ارسلان کیسا یہ فیضانِ نعت ہے
اے ارسلان کیسا یہ فیضانِ نعت ہے


===== [[ارشد منیر]]، [[لندن]]، [[برطانیہ]] =====
===== [[ارشد محمود ارشد]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمد ارشد منیر نقشبندی


بخشش کی اک سبیل یہ سامان نعت ہے
مکمل نام : الحاج ارشد محمود ارشد


اور کاسہء امید میں دیوان نعت ہے
لولاک زیرِ سایہء فیضانِ نعت ہے  


وجہء قرار، نسبتِ دامانِ نعت ہے


الفت مرے حضور کی تسکین قلب و جاں


اُسوہ مرے حضور کا عنوانِ نعت ہے
نازاں بہارِ خلد ہے اپنے نصیب پر


فرحاں بفیضِ ثروت ِ بارانِ نعت ہے


لطفِ نبیؐ ہے اور ہے توفیق کردگار


عشقِ نبی میں ہر کوئی حسانؓ نعت ہے
قرآں کے حرف حرف سے ہر دم عیاں ہے نعت


جملہ کلام ِ حق سر و سامانِ نعت ہے


" اُنظُرنا " پہ نگاہ ہے " لا ترفَعُوا " پہ دل


ملحوظ اُن کا مرتبہ دوران نعت ہے
جو حرفِ کُن ہے باعثِ آغازِ کائنات


مستور اُس میں دعوت و اعلانِ نعت ہے


ہر شعبہء حیات ہے ان کی نگاہ میں


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
حُبِ نبی ؐ سے جذبہء طاعت کو ہو فروغ


حُبِ نبیؐ ہی موجبِ میلانِ نعت ہے


واشمس، والضحٰی، نجم ، یسین، والقمر


اُم الکِتاب گویا کہ برہان نعت ہے
موقوف ایک گو شہ ِ ہستی پہ کب ہے نعت


" ہر شعبہ ِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


دربارِ مصطفےٰؐ کی حضوری اسے نصیب


جس کے شعور کو ملا عِرفان نعت ہے
پکڑو نہ قدسیو! مرے اعمال پر مجھے
دیکھو کہ میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے




خوانِ کرم کی بھیک کا مُنہ بولتا ثبوت
بہرِ حصولِ ہدیہء تحسیں، رواں دواں


بہتا جو دل سے چشمہء فیضانِ نعت ہے
طیبہ کی سمت ناقہِ وجدانِ نعت ہے




کیجئے ضرور کیجئے کثرت درود کی
وارد نبیؐ کا خُلق ہے قُرآں میں واہ واہ
کیا اہتمامِ غایتِ حفظانِ نعت ہے


دل میں اگر جناب کے ارمان نعت ہے


پوچھا جو میں نے کیا ہے فلک تو ملا جواب


فیضانِ آل مصطفٰے ہے شکر کردگار
اے بے خبر یہ گُنبدِ ایوانِ نعت ہے


صحرائے دل پہ ہر گھڑی باران نعت ہے


ارشدؔ! مرے نبیؐ کا یہ اعجاز دیکھنا


سب پر رسول پاک کی نظر کرم ہے خاص
شام و سحر نئی سے نئی شانِ نعت ہے


ہر اک کا ہی قصیدہ تو نعمان نعت ہے
===== [[ارشد منیر]]، [[لندن]]، [[برطانیہ]] =====
مکمل نام : محمد ارشد منیر نقشبندی


کل اٹھارہ میں سے گیارہ منتخب اشعار ،


ممکن کہاں منیر ہے مدحت حضؐور کی


بخشا ہوا حضؐور کا سامانِ نعت ہے
بخشش کی اک سبیل یہ سامانِ نعت ہے
اور کاسہء امید میں دیوانِ نعت ہے  


===== [[ارشاد نیازی]] ، [[چونڈہ]] ، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]] =====
الفت مرے حضور کی مضمونِ قلب و جاں
اُسوہ مرے حضور کا عنوانِ نعت ہے


بشکریہ : [[غلام جیلانی خان ]]
" اُنظُرنا " پہ نگاہ ہے " لَا تَرفَعُوا " پہ دل
ملحوظ اُن کا مرتبہ دورانِ نعت ہے


بزمِ درود برپا ہے قرطاسِ فکر پر
خامہ یہ مجھ فقیر کا مہمانِ نعت ہے


سرکار جب عطا کیا عرفانِ نعت ہے
دربار مصطفٰے کی حضوری اسے نصیب
جس کے شعور کو ملا عرفان نعت ہے  


آساں ہوا کٹھن مجھے میدانِ نعت ہے
خوان کرم کی بھیک کا منہ بولتا ثبوت
دل سے رواں جو چشمہء فیضانِ نعت ہے  


کیجئے ضرور کیجئے کثرت درود کی
دل میں اگر جناب کے ارمانِ نعت ہے


روضے کی جالیوں سے ملے گا اسے قرار
فیضانِ آل مصطفٰے ہے شکرِ کردگار
صحرائے دل پہ ہر گھڑی بارانِ نعت ہے
 
مَسعود ہے ، جو آشنا مدحِ رسول سے
مَردود وہ سخن کہ جو انجانِ نعت ہے
 
ممکن کہاں منیر ہے مدحت حضور کی
بخشا ہوا حضور کا سامانِ نعت ہے
 
گُھٹی میں پائی نعمتِ نعتِ نبی منیر
ماں سے ملا یہ تحفہء میلانِ نعت ہے
 
"ارشد منیر نقشبندی"
لندن
 
===== [[ارشاد نیازی]] ، [[چونڈہ]] ، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]] =====
 
بشکریہ : [[غلام جیلانی خان ]]
 
 
سرکار جب عطا کیا عرفانِ نعت ہے
 
آساں ہوا کٹھن مجھے میدانِ نعت ہے
 
 
روضے کی جالیوں سے ملے گا اسے قرار


مدت سے میرے دل میں جو ارمانِ نعت ہے
مدت سے میرے دل میں جو ارمانِ نعت ہے
سطر 1,065: سطر 1,240:
چن لیجئے کہیں سے بھی مدحت کے رزق کو  
چن لیجئے کہیں سے بھی مدحت کے رزق کو  


یہ کائنات جیسے کوئی خوانِ نعت ہے
یہ کائنات جیسے   کوئی خوانِ نعت ہے




سطر 1,075: سطر 1,250:
لولو عقیدتوں کے ہیں جھلمل بہ چشمِ دہر  
لولو عقیدتوں کے ہیں جھلمل بہ چشمِ دہر  


جگمگ کہیں بہ لب کوئی مرجانِ نعت ہے
جگمگ کہیں بہ لب   کوئی مرجانِ نعت ہے




سطر 1,087: سطر 1,262:
پیہم جو ایک شخص پریشانِ نعت ہے
پیہم جو ایک شخص پریشانِ نعت ہے


===== [[ارم بسرا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====
===== [[ارم اقبال نقوی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
لوح و قلم کی شرح قلمدانِ نعت ہے


أرض و سماوا صفحہ دیوانِ نعت ہے  
ذوقِ سخن جو لازمِ سامانِ نعت ہے


عشقِ رسولؐ شاملِ ارکانِ نعت ہے


مسلم ہوں میرے گھر میں حیا کے اصول ہیں


پردے میں رہتے ہیں سبھی احسانِ نعت ہے
نعتِ نبیؐ سنا گئے دادا رسولؐ کے


گویا جہاں میں ان سے ہی عرفانِ نعت ہے


بچے جوان بوڑھے سبھی نعت خوان ہیں


کنبے پہ میرے بارش بارانِ نعت ہے  
لب پہ جنابِ آمنہؑ کے نعت ہے رواں


لوری کے حرف حرف میں اک شانِ نعت ہے


والشمس والقمر ہو کہ والیل والضحی


اللہ کی طرف سے یہ سامانِ نعت ہے
تھے حامدِ رسولؐ ابوطالبِؑ عظیم


یہ اسمِ پاک خاصہِ خاصانِ نعت ہے


صلو و سلمو پہ عمل کیجیے جناب


اس حکم کا اداریہ عرفانِ نعت ہے
بی بیؑ خدیجہؑ حرفِ تسلی میں جو کہیں


===== [[اسحاق اکبری]]، [[اودیپور، راجستھان]]، [[انڈیا]] =====
وہ گفتگو بھی سربسر اعلانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد اسحاق اکبری  نقشبندی


انسان کیسے لکھے جو شایانِ نعت ہے


نازل کیا خدا نے وہ قرآن نعت ہے
نعتِ نبیؐ کا عکس مناجاتِ فاطمہؑ


کاشانہِ رسولؐ شبستانِ نعت ہے


اس زندگی میں کیا میں پڑھوں گا لحد میں بھی


""ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے""
جب بھی کہا علیؑ نے  کوئی نعتیہ کلام


سب نے کہا یہ لولو و مرجانِ نعت ہے


دنیا کی زندگی ہو کہ عقبیٰ کی زندگی


دونوں جہاں میں اپنی تو پہچان نعت ہے
ایوبؓ اورحسّانؓ کی پہچان بزمِ نعت  


ہر عہد میں رواں یہ قلمدانِ نعت ہے


میں کیا ہوں کیا نہیں ہوں یہ ہرگز نہ پوچھیۓ


جیسا بھی ہوں جو بھی ہوں یہ فیضان نعت ہے
صدیوں سے نعت لکھی، مگر تشنگی ہنوز


نے انتہائے عشق نہ پایانِ نعت ہے


حاجت ہی کیا دوا کی میں بیمار عشق ہوں


میرے لئے تو درد کا درمان نعت ہے
چادر عطا ہوئی ہے جو بردہ شریف پر


یہ معجزہ گواھیئ وجدانِ نعت ہے


ہم کو کسی بھی تیرگی کا خوف کیوں ہو جب
سیرت کی روشنی میں ہو تہذیب کی نمو


عشق حضور شمع شبستان نعت ہے
ہاں یہ چلن ہی حاصلِ عنوانِ نعت ہے




کچھ ایسی نعت سرور دیں میں ہے چاشنی
واجب ہے احتسابِ عمل، روحِ انقلاب


صد بار گنگنا کے بھی ارمان نعت ہے
”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے“




اسحاق اس سرور کو کیسے کروں بیاں
اقلیمِ شعر دائمی رفعت جو پا گئی


حاصل جو میرے قلب کو دوران نعت ہے
شاعر ہر اک زباں میں سخن دانِ نعت ہے


===== [[اسد علی اسد]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
احمد ؑ میں یہ جو حمد ہے جزدانِ نعت ہے


مدحت نبی ؑ کی اصل میں قرآنِ نعت ہے
ہم نے توخود غزل میں بھی نعتِ نبیؐ سنی


کتنا وسیع ترین یہ دامانِ نعت ہے


عشقِ نبی ؑ میں دل تو سُلیمانِ نعت ہے


لیکن میرا دماغ بھی سَلمانِ نعت ہے
آلِ نبیؑ کا ذکر بھی ذکرِ رسولؐ ہے  


سوچو تو مرثیہ بھی توایوانِ نعت ہے


جو احترامِ حضرتِ عمرانِ ؑ نعت ہے


مجھ کلمہ گو کے واسطے ایمانِ نعت ہے
مجھ بے نوا کو کچھ جو سخن کا شعور ہے  


یہ بھی تو میرے واسطے احسانِ نعت ہے


محشر کی دھوپ اُن کو جلائے گی کیا بھلا


جن عاشقوں پہ سایہ ءِ دامانِ نعت ہے
پایا ارم خدائے سخن سے یہ مرتبہ


میری بھی نعت شاملِ دیوانِ نعت ہے


ممکن ہے راز ہو یہ الف لام میم کا
===== [[ارم بسرا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====
لوح و قلم کی شرح قلمدانِ نعت ہے  


ہر ایک حرف حاملِ دیوانِ نعت ہے
أرض و سماوا صفحہ دیوانِ نعت ہے  




کر کے عمل رسول ؑ کی سیرت پہ دیکھ لیں
مسلم ہوں میرے گھر میں حیا کے اصول ہیں


ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے
پردے میں رہتے ہیں سبھی احسانِ نعت ہے  




گھر سے چلوں مدینے کو پڑھتے ہوئے درود
بچے جوان بوڑھے سبھی نعت خوان ہیں


کافی مجھے سفر میں یہ سامانِ نعت ہے
کنبے پہ میرے بارش بارانِ نعت ہے  




عشقِ نبی ؑ میں وہ بھی بلالِ نبی ؑ ہوا
والشمس والقمر ہو کہ والیل والضحی


جس شخص کی زبان کو عرفانِ نعت ہے
اللہ کی طرف سے یہ سامانِ نعت ہے  




کرنا یقیں رسول ؑ کی ہر ایک بات پر
صلو و سلمو پہ عمل کیجیے جناب


دیں کی نظر سے دیکھیں تو عنوانِ نعت ہے
اس حکم کا اداریہ عرفانِ نعت ہے


===== [[اسحاق اکبری]]، [[اودیپور، راجستھان]]، [[انڈیا]] =====


رگ رگ میں جو اسدؔ ہے رواں عشقِ مصطفیٰ ؑ
مکمل نام : محمّد اسحاق اکبری نقشبندی


میرا لہو نہیں ہے یہ دورانِ نعت ہے
انسان کیسے لکھے جو شایانِ نعت ہے


===== [[اسلم رضا خواجہ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====
نازل کیا خدا نے وہ قرآن نعت ہے


رب نے کشاد کر دیا دامان نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
اس زندگی میں کیا میں پڑھوں گا لحد میں بھی


""ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے""


ہم ایسے لوگ لائے ہیں ایمان غیب پر


یعنی ہمارے واسطے ایمان نعت ہے


میں کیا ہوں کیا نہیں ہوں یہ ہرگز نہ پوچھیۓ


تیرہ شبی میں نور کا مینار انکا نام
جیسا بھی ہوں جو بھی ہوں یہ فیضان نعت ہے


مردہ دلوں کے درد کا درمان نعت ہے


حاجت ہی کیا دوا کی میں بیمار عشق ہوں


نخل وحجر جھکے ہوئے رطب اللسان ہیں
میرے لئے تو درد کا درمان نعت ہے


انکے ہر اک غلام کی پہچان نعت ہے


ہم کو کسی بھی تیرگی کا خوف کیوں ہو جب


نوع بشر کے واسطے دستور آخری
عشق حضور شمع شبستان نعت ہے


پڑھ لو خدا کا سارا ہی قرآن نعت ہے


کچھ ایسی نعت سرور دیں میں ہے چاشنی


ان کے خدا کے وعدہ لاریب کی قسم
صد بار گنگنا کے بھی ارمان نعت ہے


ہر سمت کائینات میں اعلان نعت ہے


===== [[اشرف نقوی]] ، [[شیخوپورہ]] ، [[پاکستان]] =====
اسحاق اس سرور کو کیسے کروں بیاں


حاصل جو میرے قلب کو دوران نعت ہے


مجھ پر مرے حضور کا احسانِ نعت ہے  
===== [[اسد علی اسد]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
احمد ؑ میں یہ جو حمد ہے جزدانِ نعت ہے


میرے لیے کھلا ہوا میدانِ نعت ہے
مدحت نبی ؑ کی اصل میں قرآنِ نعت ہے




اُن کا کرم جو ہو تو ہر اِک لفظ محترم
عشقِ نبی ؑ میں دل تو سُلیمانِ نعت ہے


گر چاہیں وہ، غزل میں بھی اِمکانِ نعت ہے
لیکن میرا دماغ بھی سَلمانِ نعت ہے




گھر میں جو میرے رحمت و برکت ہے ہر گھڑی
جو احترامِ حضرتِ عمرانِ ؑ نعت ہے


قرآن کا وسیلہ ہے، فیضانِ نعت ہے
مجھ کلمہ گو کے واسطے ایمانِ نعت ہے




شانِ رسولِ پاک میں نازل کیا گیا
محشر کی دھوپ اُن کو جلائے گی کیا بھلا


یعنی قرآنِ پاک ہی قرآنِ نعت ہے
جن عاشقوں پہ سایہ ءِ دامانِ نعت ہے




آقا! مجھے بھی شہرِ مدینہ بلایئے
ممکن ہے راز ہو یہ الف لام میم کا


مجھ کو بھی در پہ پڑھنے کا ارمانِ نعت ہے
ہر ایک حرف حاملِ دیوانِ نعت ہے




گر میرے ٹوٹے پھوٹے یہ الفاظ ہوں قبول
کر کے عمل رسول ؑ کی سیرت پہ دیکھ لیں


بخشش کو میری کافی یہ دیوانِ نعت ہے
ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے




رب سے اگر ہے پیار، اطاعت نبی کی کر
گھر سے چلوں مدینے کو پڑھتے ہوئے درود


سب مومنوں سے رب کا یہ فرمانِ نعت ہے
کافی مجھے سفر میں یہ سامانِ نعت ہے




ماں باپ میرے اور میں خود آپ پر فدا
عشقِ نبی ؑ میں وہ بھی بلالِ نبی ؑ ہوا


بس اِک یہی عقیدہ ہی ایمانِ نعت ہے
جس شخص کی زبان کو عرفانِ نعت ہے




سیرت پہ اُن کی چلنا ہو جب مقصدِ حیات
کرنا یقیں رسول ؑ کی ہر ایک بات پر


"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
دیں کی نظر سے دیکھیں تو عنوانِ نعت ہے




اشرف میں ہر گھڑی تھا گماں میں گھرا ہوا
رگ رگ میں جو اسدؔ ہے رواں عشقِ مصطفیٰ ؑ


گر پُر یقیں ہوں آج تو ایقانِ نعت ہے
میرا لہو نہیں ہے یہ دورانِ نعت ہے


===== [[اسلم رضا خواجہ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====


===== [[اشرف یوسفی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
رب نے کشاد کر دیا دامان نعت ہے  
لطف و سرور و کیف جو دورانِ نعت ہے  


نخل ِ دل و نظر پہ یہ بارانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے




ہر اک ظہور پر تو ِاعیانِ نعت ہے
ہم ایسے لوگ لائے ہیں ایمان غیب پر  
ہر گوشہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


یعنی ہمارے واسطے ایمان نعت ہے


اس عالم ِخراب میں صحرائے خواب میں
صد شکرہم پہ سایہ ء مژگانِ نعت ہے


تیرہ شبی میں نور کا مینار انکا نام


گلہائے رنگا رنگ ہیں اسمائے شاہ ِدیں
مردہ دلوں کے درد کا درمان نعت ہے
دامان نو بہار یہ دامانِ نعت ہے




میثاقِ مصطفےٰ تھا جو یوم ِالست تھا
نوع بشر کے واسطے دستور آخری


قالو بلا تو اصل میں پیمانِ نعت ہے
پڑھ لو خدا کا سارا ہی قرآن نعت ہے




ان کی قبولیت سے سخن کو ہے استجاب
ان کے خدا کے وعدہ لاریب کی قسم


اک لفظ بھی کہاں مرا شایانِ نعت ہے
ہر سمت کائینات میں اعلان نعت ہے




روشن دل و دماغ ہیں حب ِرسول سے


طیبہ کی خاک سرمہ ء چشمانِ نعت ہے
===== اسلم فیضی ۔ کیا مرتبہ ہے نعت کا‘ کیا شان نعت ہے =====


شاعر : [[اسلم فیضی ]]، [[کوہاٹ ]]


اشرف در ِحضور تلک لے کے جائے گا


اس دستِ نارسا میں جو دامانِ نعت ہے
کیا مرتبہ ہے نعت کا‘ کیا شان نعت ہے


===== [[اشفاق احمد غوری]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان نعت ہے
رفعت خیال و فکر کی عرفانِ نعت ہے  


معراج میرے حرف کی دامانِ نعت ہے


یہ جو اذاں میں سوز بلالیؓ ہے جلوہ ریز


ہم تو فقط رعایا ہیں ملکِ نعوت کی
توحید کا سرُور ہے وجدان نعت ہے


واللہ رب کی ذات ہی سلطانِ نعت ہے


محشر میں کام آئے گا بخشش کے واسطے


حرفِ نیاز ،اشکِ رواں، عشقِ محترم
لفظوں کی جھولیوں میں جو سامان نعت ہے


فہم و شعور میں یہی سامانِ نعت ہے


اوصافِ مصطفےٰ سے خدا کا‘ پتہ ملا


فکر و خیال مائلِ نعتِ نبی ہوں گر
میرا تو دل بھی‘ جان بھی‘ قربان نعت ہے


"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


میرے نبیؐ کی مثل ہُوا ہے نہ ہو سکے


مٹنے لگی ہے حرف و معانی کی تشنگی
وہ جانِ نعت ہیں‘ یہی اعلان نعت ہے


لفظوں کے ریگ زار پہ بارانِ نعت ہے


میری صدا کبھی بھی پہنچتی نہ‘ عرش تک


سجدے میں ہے برائے تشکر مرا قلم
مجھ بے نوا پہ سارا یہ احسانِ نعت ہے


میرے قلم کی نوک پہ احسانِ نعت ہے


ذکر نبیؐ سے معرفتِ دیں کے گل کھلے


کہتے ہیں میرے جاننے والے یقین سے
شاداب کس قدر یہ گلستانِ نعت ہے


اشفاق صدقِ قلب سے قربانِ نعت ہے


===== [[اصغر شمیم]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
دنیا کو ہم نے عدل کی پہچان بخش دی
قرآن نعت ہے مرا ایمانِ نعت ہے


"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"
کیونکہ ہمارے ہاتھ میں میزان نعت ہے




جو بھی ہوں میں تو ان کے وسیلے سے آج ہوں
ہر دور کو شعور ملا آگہی ملی


میرے لئے تو ان کا یہ فیضانِ نعت ہے
فیضی یہ فیض اصل میں فیضانِ نعت ہے




اب تو رہوں میں ان کے ہی ہمراہ ہر گھڑی


سرکار دو جہاں کا وہ احسانِ نعت ہے
===== [[اسلم قمر]]، [[گوجرہ]]، [[پاکستان]] =====
لا ریب عشق ِ شاہ ِ امم جان ِ نعت ہے  


میں کہہ رہا ہوں نعت یہ فیضان ِ نعت ہے


لکھتا رہوں میں آپ کے بارے میں رات دن


میری بھی زندگی کا یہ ارمانِ نعت ہے
مدحت سرائی ان کی کروں، کس طرح کروں؟


مشکل سخنوری میں یہ میدان ِ نعت ہے


کتنا سکون ملتا ہے لکھتا ہوں جب شمیم


میرے لئے تو میرا یہ دیوانِ نعت ہے
کرنے کو پیش کچھ نہیں مجھ بے عمل کے پاس


===== [[اعجاز حسین عاجز ]]، [[گوجرانوالہ]] ، [[پاکستان ]] =====
بس خرقہ ءِ عمل میں یہ سامان ِ نعت ہے




ہم ہیں، قلم دوات ہے، میدانِ نعت ہے
باد ِ صبا بوقت ِ سحر کہہ گئی مجھے


کیونکہ ہمیں ازل سے ہی فرمانِ نعت ہے
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "




عالم فدائے وسعتِ دامانِ نعت ہے
کہہ کر پکارا جائے ثنا خوان ِ مصطفی


جس جس کو دیکھیے وہی قربانِ نعت ہے
اسلم قمر کو اس لیے ارمان ِ نعت ہے


===== [[اسلم ویشالوی]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
کیا کیا بتاؤں آپ کو احسان نعت ہے


نعتیں ہیں اس میں جیسے ہوں قرآں کی آیتیں
ہم شاعروں پہ ہر گھڑی فیضان نعت ہے


سینے میں دل نہیں مرے، جزدانِ نعت ہے


دل میں اگر ہو عشقِ رسالت مآب تو


ہر دور کے شعور کی تشکیل کے لیے
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


درکار ہر زمانے کو فیضانِ نعت ہے


کیوں کر نہ فکر بحر سخن میں ہو غوطہ زن


نورِ تجلیاتِ رسالت کے فیض سے
احمد رضا کا، ہاتھ میں دیوان نعت ہے


’’ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


مدحت رسول پاک کی آساں نہیں جناب


کلیاں چٹک چٹک کے یہی کہہ رہی تھیں سب
چلیے ذرا سنبھل کے یہ میدان نعت ہے


ہم کو بھی شوق دید ہے، ارمانِ نعت ہے


مجھ سے رکھوگے ربط تو پاؤگے خلد پاک


حسان ایک فرد نہیں ایک سوچ ہے
ہر مدح خواں کے واسطے اعلان نعت ہے


مدحت سرا ہے جو بھی وہ حسانِ نعت ہے


منکر نکیر دیکھ کے اسلم کو کہہ اٹھے


توصیف مصطفےٰ کی ہے توصیفِ کردگار
رہنے دو، اس کے ہاتھ میں گلدان نعت ہے


بین السطورِ حمد بھی عنوانِ نعت ہے
===== [[اشرف نقوی]] ، [[شیخوپورہ]] ، [[پاکستان]] =====




اس پر فدا، ہے جس کو ودیعت شعورِ نعت
مجھ پر مرے حضور کا احسانِ نعت ہے  


اس پر نثار جو بھی سخندانِ نعت ہے
میرے لیے کھلا ہوا میدانِ نعت ہے




تلقین خود حضور نے سعدی کو جو کیا
اُن کا کرم جو ہو تو ہر اِک لفظ محترم


وہ مصرعِ درود ہی سلطانِ نعت ہے
گر چاہیں وہ، غزل میں بھی اِمکانِ نعت ہے




اے وجہ کُن فکاں! شہِ ما کان ما یکون
گھر میں جو میرے رحمت و برکت ہے ہر گھڑی


بس تیری ذات کے لیے امکانِ نعت ہے
قرآن کا وسیلہ ہے، فیضانِ نعت ہے




لا یمکن الثنا کما کان حقہ
شانِ رسولِ پاک میں نازل کیا گیا


ذکر علو و مرتبت و شانِ نعت ہے
یعنی قرآنِ پاک ہی قرآنِ نعت ہے




سیاح لامکاں تری اک سیر کے طفیل
آقا! مجھے بھی شہرِ مدینہ بلایئے


اب لامکاں بھی شاملِ امکانِ نعت ہے
مجھ کو بھی در پہ پڑھنے کا ارمانِ نعت ہے




عاجز وفور شوق میں حد ادب رہے
گر میرے ٹوٹے پھوٹے یہ الفاظ ہوں قبول


لا ترفعوا کہ آیت دربان نعت ہے
بخشش کو میری کافی یہ دیوانِ نعت ہے




سید اعجاز حسین عاجز، گوجرانوالہ، پاکستان
رب سے اگر ہے پیار، اطاعت نبی کی کر


===== [[افتخار حسین کریمی]]، [[واہ کینٹ]]، [[پاکستان]] =====
سب مومنوں سے رب کا یہ فرمانِ نعت ہے
لُطفِ دوام مُجھ پہ بفیضانِ نعت ہے


اُن کے کرم سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے


ماں باپ میرے اور میں خود آپ پر فدا


مجھ سا حقیر مدحتِ سرکار کیا کہے
بس اِک یہی عقیدہ ہی ایمانِ نعت ہے


جاری اُنہی کے فیض سے فیضانِ نعت ہے


سیرت پہ اُن کی چلنا ہو جب مقصدِ حیات


سرکار کا ادب رہے ملحوظ ہر گھڑی
"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


ناداں! دھیان کر کہ یہ میدانِ نعت ہے


اشرف میں ہر گھڑی تھا گماں میں گھرا ہوا


پڑھتا ہوں عترتِ شہِ کونین پر درود
گر پُر یقیں ہوں آج تو ایقانِ نعت ہے


ہر ہر نَفَس فداٸی و قُربانِ نعت ہے


===== [[اشرف یوسفی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
لطف و سرور و کیف جو دورانِ نعت ہے


پہلے الف سے آخری پارے کی سین تک
نخل ِ دل و نظر پہ یہ بارانِ نعت ہے


قُرآنِ پاک دیکھ لو قُرآنِ نعت ہے


ہر اک ظہور پر تو ِاعیانِ نعت ہے
ہر گوشہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


گر ہو نظر میں رحمتِ عالم کی ذاتِ پاک


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اس عالم ِخراب میں صحرائے خواب میں
صد شکرہم پہ سایہ ء مژگانِ نعت ہے




سرکار! مجھ کو اذنِ ِثناء بخش دیجیے
گلہائے رنگا رنگ ہیں اسمائے شاہ ِدیں
دامان نو بہار یہ دامانِ نعت ہے


سرکار! میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے


میثاقِ مصطفےٰ تھا جو یوم ِالست تھا


بچپن سے لوریوں میں سُنی نعت آپ کی
قالو بلا تو اصل میں پیمانِ نعت ہے


یوں ہی نہیں مزاج میں میلانِ نعت ہے


ان کی قبولیت سے سخن کو ہے استجاب


اِس کے سبب ہی حشر میں ہو گی مِری نجات
اک لفظ بھی کہاں مرا شایانِ نعت ہے


کافی ہے میرے پاس جو سامانِ نعت ہے


روشن دل و دماغ ہیں حب ِرسول سے


لکھے بشر تو کیسے لکھے مدح آپ کی
طیبہ کی خاک سرمہ ء چشمانِ نعت ہے


وہ لفظ ہی نہیں کہ جو شایانِ نعت ہے


اشرف در ِحضور تلک لے کے جائے گا


اظفر کو کاش حشر میں سرکار یوں کہیں
اس دستِ نارسا میں جو دامانِ نعت ہے


کتنا حسیں تُو لایا یہ دیوانِ نعت ہے
===== [[اشفاق احمد غوری]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
رفعت خیال و فکر کی عرفانِ نعت ہے  


===== [[اقبال خان]]، [[باغ، کشمیر]]، [[پاکستان ]] =====
معراج میرے حرف کی دامانِ نعت ہے


مکمل نام : محمد اقبال خان


ہم تو فقط رعایا ہیں ملکِ نعوت کی


آقا کی بارگاہ میں اعلانِ نعت ہے
واللہ رب کی ذات ہی سلطانِ نعت ہے


قرآں جو کہہ رہا ہے وہی شانِ نعت ہے


حرفِ نیاز ،اشکِ رواں، عشقِ محترم


انگلی کا پور پور ثناء خوان ہے مرا
فہم و شعور میں یہی سامانِ نعت ہے


یوں نعت لکهتے رہنا بهی عرفانِ نعت ہے


فکر و خیال مائلِ نعتِ نبی ہوں گر


ہر حرف بولتا ہے محبت نبی سے یے
"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


ایسا لطیف میرا یہ دیوانِ نعت ہے


مٹنے لگی ہے حرف و معانی کی تشنگی


دو چار شعر میرے اگر ہوں قبول بس
لفظوں کے ریگ زار پہ بارانِ نعت ہے


رب کے حضور اتنا سا پیمانِ نعت ہے


سجدے میں ہے برائے تشکر مرا قلم


بطحا کو جانے والی ہواؤں سے کہہ دیا
میرے قلم کی نوک پہ احسانِ نعت ہے


میری عقیدتوں کا یہ سامانِ نعت ہے


===== [[الیاس بابر اعوان]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان ]] =====
کہتے ہیں میرے جاننے والے یقین سے
اس بحرِ بے کنار میں ایقانِ نعت ہے


یہ اشک ہی نہیں میاں، سامانِ نعت ہے
اشفاق صدقِ قلب سے قربانِ نعت ہے


===== اشفاق حسین ہمذالی ۔ ہر سو بہارِ نکہتِ بُستانِ نعت ہے =====


جو کچھ بھی ہے خیالِ صد افکار کا محیط
شاعر : [[انجنیئر اشفا ق حسین ہمذا لیؔ]] ، [[فیصل آباد]]


ہستی کے تار و پود کا دیوانِ نعت ہے
ہر سو بہارِ نکہتِ بُستانِ نعت ہے
صد شکر ، ہم پہ سا یہءدامانِ نعت ہے  




کیا پوچھتے ہو مجھ سے مقامِ غنا کا راز
ہیں مِدحتِ رسولؐ کے ہر جا کھِلے گلاب


ایمان کی کہوں مرا ایمانِ نعت ہے
بزمِ خیا ل ہے کہ گلستان ِ نعت ہے




جز رب کے کون مدح کا حق کرسکا ادا
ہیں اُن کے ذکر و فکر میں مصروف دھڑکنیں


قرآن عین آپ کے شایانِ نعت ہے
یہ شو ق میرا مظہرِ ایما نِ نعت ہے




اے کاش مجھ پہ آپ کا انعام ایسے ہو
رہبر جو ہر قدم پہ ہے اُسو ہ حضور ؐ کا  


دیکھیں مجھیں تو بولیں کہ حسنِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیا ت میں اِمکا نِ نعت ہے"




ہر لحظہ انہماک ہے آقا کی ذات پر
یُو ں زندگی ہو وقفِ ثنا اے مرے کریم
ہر شخص بو ل اٹّھے یہ قربانِ نعت ہے


ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


محشر میں ہو گا سا تھ وہ حسّانؓ و کعبؓ کے


میں نعت لکھ رہا ہوں کہ باغِ ارم میں ہوں
ہر لمحہ جس کا مصرف ِمیلا نِ نعت ہے


ہر حرف جیسے سنبل و ریحانِ نعت ہے


===== [[امجد ربانی مصباحی]]، [[آستانۂ ربانیہ]]، [[شرف آباد]]،  [[جبل پور شریف]]، [[بھارت]] =====
خو ش ہو کے میں بھی سب کو کہو ں گا یہ حشر میں


بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]
وجہِ نجا ت میرا یہ سا مانِ نعت ہے


*دل اشتیاق مند گلستانِ نعت ہے*
*سنتے ہیں نرم خوٗ بڑا، رضوانِ نعت ہے*


جو کر رہا ہے ذا تِ نبیؐ کے قریں مجھے


*حسنِ نبی کی تابِ حکایت کہاں سے لاے*
اُن کے کرم سے میر ا قلمدا ن نعت ہے
*کیا سرخروے فکر پشیمانِ نعت ہے*




*کیسی کشش ہے، ذکرِ رسالت مآب کی*
اہلِ سُخن میں جس سے مرا بھی ہوا شمار
*جو تاجدارِ فکر ہے، دربانِ نعت ہے*


میرا یہ ذوقِ شعر بھی احسا نِ نعت ہے


*ہر سانس عطرِ ذکرِ نبی میں بسائیے*
*ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*


نا عِت تما م ان کے ہیں آپس میں خیر خوا ہ


*زخم جگر میں عشقِ نبی کی ہیں لذتیں*
برکت ہے یہ ثنا کی یہ فیضا نِ نعت ہے  
*صد شکر پاس نشترِ ذیشانِ نعت ہے*




*پھر آج ہیں حکایتیں، حسنِ حضور کی*
کس کا م کے یہ لفظ ومُعا نی کے سلسلے
*پھر آج گرم محفلِ یارانِ نعت ہے*


تیری بیا ضِ فن میں جو فُقدا نِ نعت ہے


*ہوکر نثار گیسو و رخ پر حضور کے*
*میری عروس فکر، غزل خوان نعت،ہے*


مِدحت نبیؐ کی مرجع اہلِ سخن ہو ئی


*ہر آن یاد شاہ میں اشکوں کی ہے لڑی*
اس دو ر کے ادب پہ یہ فیضا نِ نعت ہے
*شامِ فراق، دعوتِ مژگانِ نعت ہے*




*"امجد" کی نعت گوئی بھی فیضاں ہے نعت کا*
ہمذا لی ؔکی دعا ہے اِلٰہی ترے حضو ر !
*کب اِس کی دسترس سرِ عرفانِ نعت ہے*


===== [[امجد نذیر ]]، [[میلسی ]] =====
و ہ لہجہ بخش مجھ کو جو شا یا نِ نعت ہے


یاسین نعت، سورہ ءِ رحمان نعت ہے
===== [[اصغر شمیم]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====


نعتوں میں سب سے اعلی یہ قرآن نعت ہے


قرآن نعت ہے مرا ایمانِ نعت ہے


کاغذ قلم دوات مہکتے ہیں رات کو
"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"


مہکیں نہ کس طرح یہ قلمدانِ نعت ہے


جو بھی ملا ہے ان کے وسیلے سے ہی ملا


ہر چیز کائنات کی ان کےلیے بنی
میرے لئے تو ان کا یہ فیضانِ نعت ہے


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


جو ہیں حبیب رب کے وہ میرے رسول ہیں


پڑھ کر درود گھر سے روانہ ہوا ہوں میں
سرکار دو جہاں کا یہ احسانِ نعت ہے


اب کوئی ڈر نہیں ،کہ نگہبان نعت ہے


مدحت سرائی ان کا میں کرتا رہوں مدام


امجدؔ نجات کےلیے کافی ہے حشر میں
میری بھی زندگی کا یہ ارمانِ نعت ہے


گر میرا ایک شعر بھی شایانِ نعت ہے
تحریر جب بھی کرتا ہو نعتِ نبی شمیم


===== [[انعام الحق معصوم]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
ہر رہ گزر میں جیت کی پہچانِ نعت ہے
مکمل نام : انعام الحق معصوم صابری


دن رات نعت ہے مرا ایمان نعت ہے
===== [[اعجاز حسین عاجز ]]، [[گوجرانوالہ]] ، [[پاکستان ]] =====


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


ہم ہیں، قلم دوات ہے، میدانِ نعت ہے


تم کھول دیکھ لو اسے معلوم تم کو ہو
کیونکہ ہمیں ازل سے ہی فرمانِ نعت ہے


قرآن نعت ہے تو یہ ایقان نعت ہے


عالم فدائے وسعتِ دامانِ نعت ہے


میری نجات ان کی شفاعت سے بالیقیں
جس جس کو دیکھیے وہی قربانِ نعت ہے


زاد سفر مرا تو یہ سامان نعت ہے


نعتیں ہیں اس میں جیسے ہوں قرآں کی آیتیں


میلاد محفلیں ہیں سجی گھر میں عاشقو
سینے میں دل نہیں مرے، جزدانِ نعت ہے


خوشبو مہک رہی ہے گلستان نعت ہے


ہر دور کے شعور کی تشکیل کے لیے


صد شکر رب کا میرے خیالات پاک ہیں
درکار ہر زمانے کو فیضانِ نعت ہے


کہ عشق میں حضور کے دیوان نعت ہے


نورِ تجلیاتِ رسالت کے فیض سے


معصوم خوش نصیب رقم نعت ہم نے کی
’’ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


پائی ہے راہ جس سے وہ حسان نعت ہے


===== [[اویس ازہر مدنی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
کلیاں چٹک چٹک کے یہی کہہ رہی تھیں سب
مکمل نام : محمّد اویس ازہر مدنی


کہئے کسے کسے کہ وہ حسانِ نعت ہے
ہم کو بھی شوق دید ہے، ارمانِ نعت ہے


پہچاں ہے جس کی نعت وہ سلطانِ نعت ہے


حسان ایک فرد نہیں ایک سوچ ہے


کھلتے ہیں یاں گُلابِ ثنائے محمدی
مدحت سرا ہے جو بھی وہ حسانِ نعت ہے


لپٹا طہارتوں میں یوں بُستانِ نعت ہے


توصیف مصطفےٰ کی ہے توصیفِ کردگار


احکام اس میں اور بھی موجود ہیں مگر
بین السطورِ حمد بھی عنوانِ نعت ہے


قرآنِ پاک اصل میں دیوانِ نعت ہے


اس پر فدا، ہے جس کو ودیعت شعورِ نعت


سرکار! بے ہنر پہ بھی اک چشمِ التفات
اس پر نثار جو بھی سخندانِ نعت ہے


سرکار! میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


تلقین خود حضور نے سعدی کو جو کیا


قائم سخن وری میں ہے یوں انفرادیت
وہ مصرعِ درود ہی سلطانِ نعت ہے


صد شکر اپنے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


اے وجہِ کُن فکاں! شہِ ما کان ما یکون


ہر شعبۂ حیات ہے سیرت سے فیضیاب
بس تیری ذات کے لیے امکانِ نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


"لَا یُمْکِنُ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ"


ہم سے تونگروں کو ہو کس چیز کی کمی
ذکرِ علوّ و مرتبت و شانِ نعت ہے


جب توشۂ حیات میں سامانِ نعت ہے


"غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم"


حد سے وفورِ شوق میں بڑھنے سے احتیاط
عجزِ بیانِ عبدِ قدردانِ نعت ہے


چلئے سنبھل سنبھل کے کہ میدانِ نعت ہے


سیّاحِ لامکاں تری اک سیر کے طفیل


شہرت وقار عزت و تکریم آبرو
اب لامکاں بھی شاملِ امکانِ نعت ہے


ازہر کرم یہ ہم پہ بفیضانِ نعت ہے


===== [[اویس راجہ]]، [[نیویارک]]، [[امریکا]] =====
شاید مجھے عطا ہو  کوئی حرفِ جاوداں
فی الوقت جیسا اب ہمیں عرفانِ نعت ہے


بس طرزِ استغاثہ ہی شایانِ نعت ہے
میری قضا ٹھہر ابھی دورانِ نعت ہے  




اس کے خمیر میں ہے گندھا عشق مصطفےٰ
عاجز وفورِ شوق میں حدِّ ادب رہے


اردو ، ہر ایک صنف میں قربان نعت ہے
لَا تَرْفَعُوا اسی لیے دربانِ نعت ہے




یہ کس کا شعر ہو گیا مقبولِ بارگاہ
سید اعجاز حسین عاجز، گوجرانوالہ، پاکستان


دنیا میں ایک طرز کا میلانِ نعت ہے
===== [[اعجاز احمد]]، [[میلسی]] ، [[پاکستان ]] =====


دیکھو یہ کیسا مطلع ِ عنوانِ نعت ہے


دنیا تو دے رہی ہے صدا پر صدا مجھے
نورِ خدا کے سامنے دیوانِ نعت ہے  


میں اٹھ کے جاؤں کیسے یہ دورانِ نعت ہے


اس دورِ ابتلاء میں بھی حسانِ نعت ہے


بےفیض ایسے اہل سخن کا ہے ہر سخن
وہ شخص جس کے پاس قلمدانِ نعت ہے  


جس کا کلام بے سر و سامانِ نعت ہے


کلیاں گلاب چاند ستارے یہ روشنی


اتنی کہاں بساط کہ اک حرف لکھ سکوں
اس کائنات ِ ارض پہ احسانِ نعت ہے


جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے


اپنے کرم سے مجھ کو عطا کیجئے حضور


زہرا ، حسن ، حسین ہوں یا بوتراب ہوں
اک حرف ایسا حرف جو شایانِ نعت ہے


سارا گھرانہ شاہ کا ایوانِ نعت ہے


حرف و قلم کی آبرو ہے آپ کے طفیل


ملتی ہیں یوں تو پہلی کتابوں میں بھی نعوت
شعر و ادب کا نور تو دیوانِ نعت ہے


پر آخری کتاب تو دیوانِ نعت ہے


صلِ علیٰ کی گونج مہکتی ہے ہر طرف


ہوتی نہ گر حضور سے نسبت انہیں اویس
سارا جہان جیسے گلستان ِ نعت ہے


دشت و جبل میں کون سا امکانِ نعت ہے
===== [[اعظم سہیل ہارون]]، [[حاصل پور]]، [[پاکستان]] =====


===== [[ایم رضوان عدم]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
دھڑکن پکارتی ہے کہ سامانِ نعت ہے
یہ ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
مہکا ہوا جو دل کا گلستانِ نعت ہے




کیا اوج پر حضور کا فیضانِ نعت ہے
دل کو قرار آیا درود و سلام سے


"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
کیسا سرور و کیف یہ دورانِ نعت ہے




کتنا یقین دل کو بہ فیضانِ نعت ہے
دنیا میں پُل صراط سے ہر گز یہ کم نہیں


مجھ ایسے بے ہنر کو بھی ارمانِ نعت ہے
چلنا ذرا سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے




فیضانِ نعت ہے کہ یہ وجدانِ نعت ہے
مجھ کو یقین ہونے لگا ہے نجات کا


ہر ایک سانس اب میری عنوانِ نعت ہے
اعمال میں مرے جو یہ دیوانِ نعت ہے




عرفانِ مصطفیٰ ہی، ہے عرفانِ ایزدی
دیکھا ہے چار سمت عقیدت کی آنکھ سے


توحید کا بیان بھی اعلانِ نعت ہے
”ہر شعبہ ِٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“




بے شک نزولِ وحی مکمل ہوا مگر
جتنا بھی خود پہ ناز کروں ، کم ہے دوستو


جاری ہماری روح پر احسانِ نعت ہے
ہر سانس میری زیست کی مہمانِ نعت ہے




ممکن نہیں ثنا ئے محمد (ﷺ) بجز کرم
محفل درودِ پاک مرے گھر میں سج گٸی


فیضانِ نعت اصل میں سامانِ نعت ہے
رحمت کا بھی نزول ہے ، بارانِ نعت ہے




باغِ بہشت کو بھی میسر یہ بُو کہاں
صد شکر ہے خدا کا ہُوا ہوں غزل سے دُور


جو نکہت و مہک بہ گلستانِ نعت ہے
اب زندگی تمام ہی قربانِ نعت ہے




سجدے میں محوِ شکر چلا جا رہا ہے آج
بخشش ضرور ہو گی تری حشر میں سہیل


حاصل مرے قلم کو بھی وجدانِ نعت ہے
ہاتھوں میں تیرے جب سے ہی دامانِ نعت ہے




آتا ہے چاند بھی اسی جلوے کی چاہ میں
ہر وقت میرے لب پہ رہے وِرد آپ ﷺکا


رونق فزا جو نورِ شبستان_ نعت ہے۔
اعظم کرم خدا کا ہے ، فیضانِ نعت ہے


===== [[افتخار حسین کریمی]]، [[واہ کینٹ]]، [[پاکستان]] =====
لُطفِ دوام مُجھ پہ بفیضانِ نعت ہے


عاجز، گناہگار، سیہ كار ہوں مگر
اُن کے کرم سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے


آقا کا مجھ حقیر پہ احسانِ نعت ہے


مجھ سا حقیر مدحتِ سرکار کیا کہے


یہ بھی مقام آتا ہے اظہارِ نعت میں
جاری اُنہی کے فیض سے فیضانِ نعت ہے


عرفانِ عجز ہی جہاں عرفانِ نعت ہے


سرکار کا ادب رہے ملحوظ ہر گھڑی


اشکوں سے قلب و روح مطھر ہوئے"عدم"
نادان! دھیان کر کہ یہ میدانِ نعت ہے


کتنا کرم نواز یہ بارانِ نعت ہے


===== [[بابر علی اسد ]]، [[فیصل آباد ]]، [[پاکستان ]] =====
پڑھتا ہوں عترتِ شہِ کونین پر درود


صحرا نصیب لوگ ہیں, بارانِ نعت ہے  
ہر ہر نَفَس فداٸی و قُربانِ نعت ہے


ہم سوکھتے نہیں ہیں تو, احسانِ نعت ہے


پہلے الف سے آخری پارے کی سین تک


پھیلی ہوئ ہے رحمت ِ عالم ,کچھ اسطرح!
قُرآنِ پاک دیکھ لو قُرآنِ نعت ہے


سینہ بہ سینہ سایہِ شاخانِ نعت ہے


گر ہو نظر میں رحمتِ عالم کی ذاتِ پاک


یہ سبز دل , اداس لہن , اشک چشم لوگ
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


یہ درد خوۓ ِءحلقہ ِ یارانِ نعت ہے


سرکار! مجھ کو اذنِ ِثناء بخش دیجیے


ہر زاویہ کے مطمع ِء معیار , آپ ہیں
سرکار! میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


بچپن سے لوریوں میں سُنی نعت آپ کی


وہ قلب ِ کائنات پہ احسان ِ زندگی!
یوں ہی نہیں مزاج میں میلانِ نعت ہے


جاں بھی وہی ہے, اور وہی جانانِ نعت ہے


اِس کے سبب ہی حشر میں ہو گی مِری نجات


ہم نے خدا کو پایا تو, پایا ترے طفیل
کافی ہے میرے پاس جو سامانِ نعت ہے


سو حمد ہے, تو حمد بھی دورانِ نعت ہے


لکھے بشر تو کیسے لکھے مدح آپ کی


تھامے ہوۓ ہیں,اور یہ ڈر بھی تو ہے اسد
وہ لفظ ہی نہیں کہ جو شایانِ نعت ہے


ہم خاک زاد لوگ ہیں دامانِ نعت ہے


===== [[بسمل شہزاد]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
اظفر کو کاش حشر میں سرکار یوں کہیں
دل کے صدف میں قطرہء نیسانِ نعت ہے


آسودہ حالِ شہر ہوں ، احسانِ نعت ہے
کتنا حسیں تُو لایا یہ دیوانِ نعت ہے


===== [[اقبال خان]]، [[باغ، کشمیر]]، [[پاکستان ]] =====


اقلیمِ ہفت میری قلمرو شمار کر
مکمل نام : محمد اقبال خان


وہ یوں کہ میرے ہاتھ ، قلمدانِ نعت ہے


آقا کی بارگاہ میں اعلانِ نعت ہے


یہ بھید مجھ پہ کلمہء لَولَاک سے کُھلا
قرآں جو کہہ رہا ہے وہی شانِ نعت ہے


”ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے“


انگلی کا پور پور ثناء خوان ہے مرا


رنج و الم کی نذر ہوۓ جا رہے ہیں لوگ
یوں نعت لکهتے رہنا بهی عرفانِ نعت ہے


مُنعَم ہے وہ جو سربگریبانِ نعت ہے


ہر حرف بولتا ہے محبت نبی سے یے


اے تختِ مصر ! یوسفِ دیگر تلاش کر
ایسا لطیف میرا یہ دیوانِ نعت ہے


میری تڑپ تو جادہء کنعانِ نعت ہے


دو چار شعر میرے اگر ہوں قبول بس


پی پی کے زندگی کی طرف لوٹتے چلو
رب کے حضور اتنا سا پیمانِ نعت ہے


اے مُردگاں! یہ چشمہء حیوانِ نعت ہے


بطحا کو جانے والی ہواؤں سے کہہ دیا


کاغذ، قلم، دوات، شکستہ سا اک چراغ
میری عقیدتوں کا یہ سامانِ نعت ہے


زادِ سفر مرا ، یہی سامانِ نعت ہے
===== [[الیاس بابر اعوان]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان ]] =====
اس بحرِ بے کنار میں ایقانِ نعت ہے


یہ اشک ہی نہیں میاں، سامانِ نعت ہے


کچھ اور جذب و فکر کی لَو کو اُبھار دے


بسملؔ ابھی تُو دُودِ چراغانِ نعت ہے
جو کچھ بھی ہے خیالِ صد افکار کا محیط


===== [[بشرٰی فرخ]]، [[پشاور]]، [[پاکستان]] =====
ہستی کے تار و پود کا دیوانِ نعت ہے




کیا وسعتِ خیال بہ دامانِ نعت ہے
کیا پوچھتے ہو مجھ سے مقامِ غنا کا راز


ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
ایمان کی کہوں مرا ایمانِ نعت ہے




کھلتے ہیں روز ہی تو نئی مدحتوں کے گُل
جز رب کے کون مدح کا حق کرسکا ادا


مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے
قرآن عین آپ کے شایانِ نعت ہے




دل اور زبان مدح سرائی میں ہیں مگن
اے کاش مجھ پہ آپ کا انعام ایسے ہو


سر چشمہِ حیات یی میلانِ نعت ہے
دیکھیں مجھیں تو بولیں کہ حسانِ نعت ہے




اعزاز مل رہا ہے ثنائے رسولؐ کا
ہر لحظہ انہماک ہے آقا کی ذات پر


یہ مجھ گنہگار پہ احسانِ نعت ہے
ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے




تکتا ہے صرف سوز و گدازِ جنونِ عشق
میں نعت لکھ رہا ہوں کہ باغِ ارم میں ہوں


معیار میں جدا ہے جو میزانِ نعت ہے
ہر حرف جیسے سنبل و ریحانِ نعت ہے


===== [[امان زرگر]]، [[قائد آباد]]، [[پاکستان]] =====
خالق کی ہم نوائی ہے عرفانِ نعت ہے


ہر لفظ با ادب رہے ہر حرف باوضو
عرشِ بریں پہ ہر گھڑی اعلانِ نعت ہے


یہ عام سی زمیں نہیں میدانِ نعت ہے


اسپِ تخیل آج تلک حد نہ پا سکا


ملحوظ ہر خیال میں تقدیس و احترام
فکر و نظر سے ماورا میدانِ نعت ہے


ہر سوچ با وقار ہویہ شانِ نعت ہے


ہر سمت محوِ سوز ہیں مرغانِ خوش نوا


گر ہو قبولیت کا شرف بھی عطا اسے
پرکیف و وجد خیز یہ بستانِ نعت ہے


ہدیہ بنامِ سید سلطانِ نعت ہے


مرقوم آیتوں میں ہے مدحت رسول کی


بشری سفر ہے طیبہ کا اور زاد ِ راہ صرف
قرآں کے حرف حرف میں دیوانِ نعت ہے


گنجینہِ درود ہے سامانِ نعت ہے


===== [[بلال حیدر گیلانی ]]، [[ مظفرآباد]]، [[کشمیر]]، [[پاکستان ]] =====
شیوہ ہے رب کا اور فرشتوں کا بھی، درود


ٹوٹا جمودِ خامہ یہ فیضانِ نعت ہے
ایماں کے حاملیں کو بھی فرمانِ نعت ہے


مدحِ نبی عطا ہوئی، احسانِ نعت ہے


نظرِ کرم حضور کی، یزداں کا فضل بھی


خاطر میں سنتِ نبوی ہو اگر، تو پھر
صد شکر میرے دل میں جو میلانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


کُن سے بروزِ حشر تلک اور بَعد بھی


مدحت سرا ہے عرش پہ خود ذاتِ لم یزل
''ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے''


گویا درود، اصل میں یزدانِ نعت ہے


صف بستہ حرف، خامہ و قرطاس مشکبو


سجتی ہے روز بزم درود و سلام کی
نالِ قلم کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


گھر میرا، گھر نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے


حسنِ خیال، اوجِ ہنر اور علم و فضل


دنیا کی رونقوں سے اسے کیا غرض بھلا
لیکن نگاہِ فیض ہی سامانِ نعت ہے


حیدرؔ کہ سب کہیں جسے مستانِ نعت ہے


===== [[پرویز ساحر]]، [[ایبٹ آباد]]، [[پاکستان]]  =====
رب نے بہ نطقِ شوق تلاوت جسے کیا


یُـوں ہی تو میرا دِل نہیـں قُربانِ نعت ہے
یٰسین کا خطاب ہی شایانِ نعت ہے


حـاصِـل مجھے سکُــون بَہ فیضـان ِ نعت ہے


فکر و خیال کا نگر، الفاظ کی نشست


جب پیش ہو گا نامہ ِ اَعمـــــــال حَشــــر میں
اور جنبشِ قلم سبھی فیضانِ نعت ہے


کہہ دُوں گا میرے پاس یہ دیـــوان ِ نعت ہے


حســان ہوں ' وہ کعب ہوں ' اِبن ِ زُہَیـر ہوں
زرگر! ترا یہ نعرۂِ سرمست خوب تر


ہر ایکــــــــ اپنی ذات میں سُلطــان ِ نعت ہے
لیکن ذرا سنبھل کہ یہ ایوانِ نعت ہے


===== [[امجد ربانی مصباحی]]، [[آستانۂ ربانیہ]]، [[شرف آباد]]، [[جبل پور شریف]]، [[بھارت]] =====


بار ِ الٰہ نے کِیــــــــــــا ذکــــــــــــر ِ نبی بَلند
بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]


وا اِس لئـے دریـــــــچــــہ ِ اِمـکان ِ نعت ہے
*دل اشتیاق مند گلستانِ نعت ہے*
*سنتے ہیں نرم خوٗ بڑا، رضوانِ نعت ہے*




قُـــرآن اور حدیث میں مذکُــــور جــــو نہیں
*حسنِ نبی کی تابِ حکایت کہاں سے لاے*
*کیا سرخروے فکر پشیمانِ نعت ہے*


ایســــی غُــلُوئیت کہــاں شـــایــان ِ نعت ہے


*کیسی کشش ہے، ذکرِ رسالت مآب کی*
*جو تاجدارِ فکر ہے، دربانِ نعت ہے*


کچھ کم نہیں ہے یہ بھی کسی پُل صراط سے


یــہ جــو ہمــارے ســـامنے میـــدان ِ نعت ہے
*ہر سانس عطرِ ذکرِ نبی میں بسائیے*
*ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*




یوں ہی برہنہ پا نہیـں چــــــلتا مَیـں رَیگ پر
*زخم جگر میں عشقِ نبی کی ہیں لذتیں*
*صد شکر پاس نشترِ ذیشانِ نعت ہے*


گُل زار سے بھی بڑھ کے بِیابان ِ نعت ہے


*پھر آج ہیں حکایتیں، حسنِ حضور کی*
*پھر آج گرم محفلِ یارانِ نعت ہے*


رکھتا ہُوں پُھونکـــ پُھونکـــ کے مَیں اپنا ہر قدم


مجھ دست رَس میں جب سے قلم دان ِ نعت ہے
*ہوکر نثار گیسو و رخ پر حضور کے*
*میری عروس فکر، غزل خوان نعت،ہے*




ہم سیرت ِ نبی کو جو لائیں بہ روئے کار
*ہر آن یاد شاہ میں اشکوں کی ہے لڑی*
*شامِ فراق، دعوتِ مژگانِ نعت ہے*


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


*"امجد" کی نعت گوئی بھی فیضاں ہے نعت کا*
*کب اِس کی دسترس سرِ عرفانِ نعت ہے*


سـاحِـرؔ ! مَیں اپنی ذات کا پھر ذِکر کیوں کرُوں
===== [[امجد نذیر ]]، [[میلسی ]] =====


جب اُن کی ذات ِ پاکـــ ہی خـود جــان ِ نعت ہے


===== [[ثروت رضوی]]، [[کیلی فورنیا]]، [[امریکہ ]] =====
کاغذ قلم دوات مہکتے ہیں رات کو


بشکریہ : [[سمعیہ ناز]]
مہکیں نہ کس طرح یہ قلمدانِ نعت ہے


یارب یہ میرا دل ہے کہ دیوانِ نعت ہے


تطہیر ہوگئی ہے یہ فیضانِ نعت ہے
ہر چیز کائنات کی ان کےلیے بنی


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


پہنچوں سرِ مدینۂ عشاق ِ آرزو


پکڑا ہوا جو خیر سے دامانِ نعت ہے
پڑھ کر درود گھر سے روانہ ہوا ہوں میں


اب  کوئی ڈر نہیں ،کہ نگہبان نعت ہے


دھڑکن میں گونج صلِ علیٰ کی بصد خلوص


میری ہر ایک سانس میں امکان نعت ہے
امجدؔ نجات کےلیے کافی ہے حشر میں


گر میرا ایک شعر بھی شایانِ نعت ہے


دل میں رواں رکھے ہے روانی درود کی
===== [[انعام الحق معصوم]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : انعام الحق معصوم صابری


دل کے بہت قریب جو شریانِ نعت ہے


قرآنِ نعت ہے یہی ایقانِ نعت ہے


خود کو حرم میں دیکھ رہی ہوں بچشمِ تر
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


یہ معجزہ ہے یا مرا وجدانِ نعت ہے


میری نجات ان کی شفاعت سے بالیقیں


لگتا ہے جیسے رات بسر کی مدینے میں
زاد سفر مرا تو یہ سامان نعت ہے


یہ خواب تو نہیں مرا عرفان نعت ہے


میلاد محفلیں ہیں سجی گھر میں عاشقو


جاروب کش ہے بس اسی دہلیز کا فقط
خوشبو مہک رہی ہے گلستان نعت ہے


میرے قلم کا بخت کہ سلمان نعت ہے


صد شکر رب کا میرے خیالات پاک ہیں


گریہ فراق عشق و جنوں ہجر اور خلش
اور عشق میں حضور کے دیوان نعت ہے


کچھ بھی نہیں یہی میرا سامانِ نعت ہے


معصوم خوش نصیب رقم نعت ہم نے کی


تقلید کررہی ہوں کہ تمثیل کے لیے
پائی ہے راہ جس سے وہ حسان نعت ہے


فرزوق بھی سامنے حسانِ نعت ہے
===== [[اویس ازہر مدنی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
مکمل نام : محمّد اویس ازہر مدنی


کہئے کسے کسے کہ وہ حسانِ نعت ہے


کیا نام ہے یہ نامِ محمد ص خدا قسم
پہچان جس کی نعت ہے۔ سلطانِ نعت ہے


یہ نام ہی تو شمع شبستانِ نعت ہے


کھلتے ہیں یاں گُلابِ ثنائے محمدی


آقا قبول کیجئے ثروت کا یہ کلام
لپٹا طہارتوں میں یوں بُستانِ نعت ہے


گر میرا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے


===== [[تبسم پرویز]]، [[سنبھل]]، [[انڈیا]] =====
احکام اس میں اور بھی موجود ہیں مگر
مکمل نام : ڈاکٹر تبسم پرویز


ہاتھوں میں اس غریب کے دیوانِ نعت ہے
قرآنِ پاک اصل میں دیوانِ نعت ہے


لطف و کرم حضورﷺکا ، فیضانِ نعت ہے


سرکار! بے ہنر پہ بھی اک چشمِ التفات


رب کی عطا سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے
سرکار! میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


مجھ سے سخنوروں پہ یہ احسانِ نعت ہے


قائم سخن وری میں ہے یوں انفرادیت


کیوں کر نہ ہوتی مدحت خیر الانام جب
صد شکر اپنے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ہر شعبۂ حیات ہے سیرت سے فیضیاب


یا رب اسے نصیب ہو قربت رسول کی
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


فرد عمل میں جس کے بھی سامان نعت ہے


ہم سے تونگروں کو ہو کس چیز کی کمی


کیوں کر نہ ہم کریں گے ثنائے حبیب رب
جب توشۂ حیات میں سامانِ نعت ہے


اللہ جبکہ خود ہی ثناء خوان نعت ہے


حد سے وفورِ شوق میں بڑھنے سے احتیاط


شاعر کا یہ ہنر نہ کبھی ہوگا پائمال
چلئے سنبھل سنبھل کے کہ میدانِ نعت ہے


جب رب ذوالجلال نگہبان نعت ہے


شہرت وقار عزت و تکریم آبرو


خورشید روز حشر نہ جھلسا سکا ہمیں
ازہر کرم یہ ہم پہ بفیضانِ نعت ہے


سر پر جو اپنے سایہ ء دامان نعت ہے
===== [[اویس راجہ]]، [[نیویارک]]، [[امریکا]] =====
فی الوقت جیسا اب ہمیں عرفانِ نعت ہے


بس طرزِ استغاثہ ہی شایانِ نعت ہے


ہجررسول پاک میں آنکھیں ہیں اشکبار


کیفیت ایسی قلب کی دوران نعت ہے
اس کے خمیر میں ہے گندھا عشق مصطفےٰ


اردو ، ہر ایک صنف میں قربان نعت ہے


لاکھوں سخنوروں کی زمانے میں بھیڑ ہے


حاصل کسی کسی کو قلمدان نعت ہے
یہ کس کا شعر ہو گیا مقبولِ بارگاہ


دنیا میں ایک طرز کا میلانِ نعت ہے


عرفان نعت جس کو تبسؔم ہوا نصیب


سلطان نعت ہے وہی سلطان نعت ہے
دنیا تو دے رہی ہے صدا پر صدا مجھے


===== [[تحسین یزدانی]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
میں اٹھ کے جاؤں کیسے یہ دورانِ نعت ہے  
مجھ سا بشر جو صاحبِ دیوانِ نعت ہے


اللہ کا کرم ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


بےفیض ایسے اہل سخن کا ہے ہر سخن


تفہیمِ نعت ہے جسےعرفانِ نعت ہے
جس کا کلام بے سر و سامانِ نعت ہے  


حسانِ نعت ہے وہی سلمانِ نعت ہے


اتنی کہاں بساط کہ اک حرف لکھ سکوں


ممنونِ نعت ہیں میری سوچیں،مرے خیال
جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے


نطق و زبان و حرف پہ احسانِ نعت ہے


زہرا ، حسن ، حسین ہوں یا بوتراب ہوں


جاری رہے گا تا بہ ابد نعت کا سفر
سارا گھرانہ شاہ کا ایوانِ نعت ہے


روشن ازل سے دیدہءِ امکانِ نعت ہے


ملتی ہیں یوں تو پہلی کتابوں میں بھی نعوت


معلوم اب ہوئی ہے مجھے دل کی کیفیت
پر آخری کتاب تو دیوانِ نعت ہے


کعبہ نہیں ہے دل میرا جز دانِ نعت ہے


ہوتی نہ گر حضور سے نسبت انہیں اویس


دائم یہاں پہ رہتا ہے موسم بہار کا
دشت و جبل میں کون سا امکانِ نعت ہے


یہ گلستانِ حمد و خیابانِ نعت ہے
===== [[اویس رضوی]]، [[ممبئی]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : اویس رضوی قادری صدیقی


کیا پر بہار ذوقِ گلستانِ نعت ہے


احرامِ عشق باندھ کے نکلا ہے ہر خیال
دل میں بسا ہے کب سے، جو ارمانِ نعت ہے


فکر و نظر کےسامنے میدانِ نعت ہے


نسبت ملی ہے مجھکوجو، پہچانِ نعت ہے


ملتان کا سکونتی ہوں،  خوش نصیب ہوں
یہ اصل زندگی ہے یہ، سامانِ نعت ہے


یہ سر زمین  شعر نگارانِ نعت ہے


مہکا خیال و فکر بھی میرا انہی سے ہے


تحسین ہے فقیر، فقیرانِ نعت کا
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


یعنی کہ اک غلامِ غلامانِ نعت ہے


===== [[تسنیم عباس قریشی]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
افکار کی صدا ہے تخیل کا حسن بھی
معراجِ مصطفٰی ص مرا عنوانِ نعت ہے


اور قابَ ءِ قوسین ہی شایانِ نعت ہے
عشقِ نبی، حضور کا عرفان نعت ہے




خوش آمدید کہتے ہیں ہر موڑ پر نبی  
حسان کہ رہے ہیں نبی سن کے شاد ہیں


منجانبِ خدا ہوا سامانِ نعت ہے
عشق رسول ہی تو مری، جانِ نعت ہے




سدرہ پہ رک گئے ہیں قدم جبرائیل کے
احمد رضا کے عشق کا صدقہ ملے مجھے


پاپوشِ مصطفٰی ص ہمہ شاہانِ نعت ہے
ارماں ہے جس کا دل میں وہ، دیوانِ نعت ہے




ہٹتے گئے حجاب سبھی آپ کے لیے
بھیجو درود ان پہ جنہیں رب ہے بھیجتا


ہر چیز کائنات کی قربانِ نعت ہے
ہر دم سلام اس پہ جو جانانِ نعت ہے




کامل ترین اسوہ ہے خیر الانام ص کا
خدمت یہ نعت کی ہی بنے مصرف حیات


ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت یے
روشن ہوئی حیات بہ فیضان نعت ہے




تسنیم خوش نصیب ہے دونوں جہان میں
عشقِ نبی میں ڈوب کے لکھّی اویس نے


سلطانِ نعت سے ملا عرفانِ نعت ہے
ہاتھوں میں آج اس کے بھی دامانِ نعت ہے


===== [[تنظیم الفردوس]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
===== [[اویس قادری کوکب]]، [[جام نگر گجرات]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر تنظیم الفردوس
مکمل نام : سید اویس قادری کوکب جیلانی


مدوجذر حیات کا سامانِ نعت ہے
کہتا ہے  نعت وہ جسے عرفان نعت ہے  


یہ ساری کائنات ہی امکانِ نعت ہے
جانانِ جاں ہی شمع شبستان نعت ہے  




قرآن ہے گواہ بلندی کے ذکر میں
جامی کا سوز دے مجھے سعدی کا رنگ دے


کیا اس سے بھی زیادہ کوئی شانِ نعت ہے
فکر رضا دے یا خدا ارمان نعت ہے  




سیرت رسولِ پاک کی پیشِ نظر رہے
الفاظ تول تول کے میزانِ شرع میں


یہ جانِ نعت ہے یہی ایمانِ نعت ہے  
رکھنا قدم سنبھال کے میدان نعت ہے  




بس اک نگاہِ شوق ہے اور میری چشمِ نم
جس کو طلب ھوں مدحِ پیمبر کے زاویے


میرے لیے تو ہاں یہی سامانِ نعت ہے
قرآن اس کے واسطے سامان نعت ہے  




میں اور لب کشا کروں ایوانِ نعت میں
غزلوں نے اس لیے مجھے مائل نہیں کیا


حسّان شاہزداۂ ایوانِ نعت ہے
پیدائشی خمیر میں رجحان نعت ہے  




محسن، امیر اور رضا عندلیب ہیں
بعد از اذان ہر گھڑی؛ ہر آن؛ ہر طرف
یہ ہند کی زمین بھی بستانِ نعت ہے


آواز گونجتی ہے  وہ ایوان نعت ہے


تکمیلِ دیں کا حکم ہے اس امر کی دلیل


ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
بعد از زہیر کعب اسی کا ہے غلغلہ


===== [[ تنویر پھول]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
مداح مصطفیٰ ہے  جو حسان نعت ہے  
حق کی عطا سے بارش فیضان نعت ہے


فکر و شعور و قلب میں ارمان نعت ہے


بخشش کے کام آے گا تھامے رہو اسے


وہ جان کائنات ہیں , وہ شان کائنات
پروانۂ نجات یہ دامان نعت ہے


' ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے '


نعتِ نبی ہے  اصل میں تحمید کبریا


لازم ہے نعت کہنے میں حساں کی پیروی
عنوان حمد ہی مرا عنوان نعت ہے  


حسان باغبان گلستان نعت ہے


مازاغ ہے  کہیں کہیں واللیل و والضحیٰ


قرآں کی روشنی میں کہو نعت شاہ دیں
قرآں میں جا بجا یہ گلستان نعت ہے


رب کی نگہ میں بس یہی فرقان نعت ہے


وہ روحِ کائنات ہے  اس کی ثنا کرو


ذیشان ان کی مدح سے ہر صنف شاعری
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


کاشانہ ء سخن میں دبستان نعت ہے


اِس کو ردا عطا ھو شہنشاہ دو جہاں


احمد بھی ان کا اسم ہے , اک نام ہے یتیم
کوکب کو بھی زہیر سا میلان نعت ہے  


یعنی 'الف' سے 'ی' سبھی دیوان نعت ہے
===== [[اورینا ادا]]، [[بھوپال، ایم پی]]، [[انڈیا]] =====


پیشکش : [[عرفان نعمانی]]


بعد از خدا بزرگ ہیں وہ , اس میں شک نہیں
جب خود خدائے پاک نگہبانِ نعت ہے


حمد خدا کے بعد قلم دان نعت ہے
محفوظ ہر خزاں سے گلستان نعت ہے




ممدوح وہ خدا کے ہیں, کج مج زبان ہم
ہشیار اے قلم کہ ہے یہ نعت کی زمیں


لائیں کہاں سے لفظ جو شایان نعت ہے
آہستہ چلنا اس میں یہ میدانِ نعت ہے




رطب اللساں ہیں بلبلیں گلزار نعت میں
مولیٰ ترے حبیب کی توصیف کے لیے


صدہا برس سے مہکا یہ بستان نعت ہے
وہ فکر کر عطا جو کہ شایانِ نعت ہے




سرور کی شاں میں اس نے 'رفعنا' ہے کہہ دیا
مفلوج لفظ فکر شکستہ کے باوجود


خود رب کائنات نگہبان نعت ہے
مجھ پر کرم نبی کا ہے احسان نعت ہے




اس کے کرم سے پھول کھلیں نعت کے سدا
محسوس کرتی ہوں میں معطر مشام جاں


تنویر پھول ! خوب یہ گلدان نعت ہے
یہ عطر عشقِ شاہ ہے لوبان نعت ہے


===== [[تنویر جمال عثمانی]]، [[مراد آباد]]، [[انڈیا]] =====
میری نظر میں صرف یہی جانِ نعت ھے


سرکار ﷺ عشق آپ کا' ایمانِ نعت ھے
سدرہ پہ فکر روح امیں دے گئی جواب


رب جانے کس بلندی پہ ایوان نعت ہے


نفرت' حسد' نفاق نے پائ نہیں جگہ


فکر و نظر پہ میرے یہ احسانِ نعت ھے
آداب حمد و نعت کے قرآں سے پوچھ ادا


معیار کیا ہے حمد کا کیا شان نعت ہے


سچ بولنے کا وصف عطا ہو گیا جسے
مکمل نام : ڈاکٹر اورینا ادا


اس کو ہی بس جہان میں عرفانِ نعت ھے
===== [[بابر علی اسد ]]، [[فیصل آباد ]]، [[پاکستان ]] =====


صحرا نصیب لوگ ہیں, بارانِ نعت ہے


نسلیں مہک رہی ہیں مرے گھر کی دوستو
ہم سوکھتے نہیں ہیں تو, احسانِ نعت ہے


حاصل جو تین پشتوں سے لوبانِ نعت ھے


پھیلی ہوئ ہے رحمت ِ عالم ,کچھ اسطرح!


حسّان کعب جامی رضا سعدی اور ھم
سینہ بہ سینہ سایہِ شاخانِ نعت ہے


پرنور سب کے عشق سے ایوانِ نعت ھے


یہ سبز دل کے مہرباں یہ اشک چشم لوگ


ادراکِ عظمتِ شہِ لولاکﷺ ہو تو آ
یہ درد خوۓ ِءحلقہ ِ یارانِ نعت ہے


سبکے لئے کہاں بھلا میدانِ نعت ھے


ہر زاویہ کے مطمع ِء معیار , آپ ہیں


سیرت کا آئنہ ہو اگر سامنے تو پھر
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ھے "


وہ قلب ِ کائنات پہ احسان ِ زندگی!


حسنِ عمل بھی رکھ دے عقیدت کے ساتھ ساتھ
جاں بھی وہی ہے, اور وہی جانانِ نعت ہے


اے رہ روانِ نعت یہ میزانِ نعت ھے


ہم نے خدا کو پایا تو, پایا ترے طفیل


آئے جو حرف نامِ نبیﷺ پر تو دیجے سر
سو حمد ہے, تو حمد بھی دورانِ نعت ہے


یہ انکے اہلِ بیعت کا عنوانِ نعت ھے


تھامے ہوۓ ہیں,اور یہ ڈر بھی تو ہے اسد


تنویر میں بھی ہو گیا دنیا میں با وقار
ہم خاک زاد لوگ ہیں دامانِ نعت ہے


فیضانِ نعت ھے یہی فیضانِ نعت ھے
===== [[بسمل شہزاد]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
دل کے صدف میں قطرہء نیسانِ نعت ہے


===== [[جاوید صدیقی]]، [[لکھنوو]]، [[انڈیا]]=====
آسودہ حالِ شہر ہوں ، احسانِ نعت ہے
نسبت مرے حضور کی سامان نعت ہے  


ان کا حسیں خیال ہی عنوان نعت ہے


اقلیمِ ہفت میری قلمرو شمار کر


مجھسے گناہگار کو بخشش کی دی نوید
وہ یوں کہ میرے ہاتھ ، قلمدانِ نعت ہے


مجھسے گناہگار پہ احسان نعت ہے


یہ بھید مجھ پہ کلمہء لَولَاک سے کُھلا


آتا ہے قبل نعت جس اک ذات کا خیال
”ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے“


اللّه کا حبیب ہے وہ ، جان نعت ہے


رنج و الم کی نذر ہوۓ جا رہے ہیں لوگ


روز ازل رکھی گئی بنیاد نعت کی
مُنعَم ہے وہ جو سربگریبانِ نعت ہے


کتنا بلند سوچئے ایوان نعت ہے


اے تختِ مصر ! یوسفِ دیگر تلاش کر


آیات ِ بینات بتاتی ہے یہ ہمیں
میری تڑپ تو جادہء کنعانِ نعت ہے


اللّه کا کلام دبستان نعت ہے


پی پی کے زندگی کی طرف لوٹتے چلو


کیا لطف ہو فرشتے بھی میزان پر کہیں
اے مُردگاں! یہ چشمہء حیوانِ نعت ہے


تیرا نجات نامہ یہ ، دیوان نعت ہے


کاغذ، قلم، دوات، شکستہ سا اک چراغ


ہے شاعران نعت پہ انعام کبریاء
زادِ سفر مرا ، یہی سامانِ نعت ہے


" ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے "


کچھ اور جذب و فکر کی لَو کو اُبھار دے


یاد شہ انام کی خوشبو میں ہے بسا
بسملؔ ابھی تُو دُودِ چراغانِ نعت ہے


" جاوید" تیرا دل ہے کہ بستان نعت ہے
===== [[بشرٰی فرخ]]، [[پشاور]]، [[پاکستان]] =====


===== [[جاوید عادل سوہاوی]]، [[جرمنی]] =====
حسن وجمال آپﷺ کا قرآن۔ نعت ہے


قرآں الف سے سین تلک شان۔ نعت ہے
کیا وسعتِ خیال بہ دامانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


ہر عالم۔ نمو میں ہے خوشبو حضور کی


"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔ نعت ہے"
کھلتے ہیں روز ہی تو نئی مدحتوں کے گُل


مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے


سب عاشقان۔ صورت ۔ محمود کے لئے


سیرت شہ۔ عرب کی دبستان نعت ہے
دل اور زبان مدح سرائی میں ہیں مگن


سر چشمہِ حیات یی میلانِ نعت ہے


گلہائے باغ۔ مدح و ثنا ہوں جو رو برو


اَمثال۔ عندلیب سخن دان۔ نعت ہے
اعزاز مل رہا ہے ثنائے رسولؐ کا


یہ مجھ گنہگار پہ احسانِ نعت ہے


طیبہ سے لامکان تلک جو ہے فاصلہ


ہر گام مصطفےٰ کا گلستان۔ نعت ہے
تکتا ہے صرف سوز و گدازِ جنونِ عشق


معیار میں جدا ہے جو میزانِ نعت ہے


سر پر ہے لخت۔ ابر۔عنایات۔ وحدہ


اپنےمزاج۔ دل کو جو میلان۔ نعت ہے
ہر لفظ با ادب رہے ہر حرف باوضو


یہ عام سی زمیں نہیں میدانِ نعت ہے


سجدہ وہ کربلا کا قصیدے کا ہے جگر


اقصیٰ میں جو نماز ہے وہ جان۔ نعت ہے
ملحوظ ہر خیال میں تقدیس و احترام


ہر سوچ با وقار ہویہ شانِ نعت ہے


باغ۔ ۔ شب۔ فلک ہے ضیا بار اس لئے


تاروں کا ہر ہجوم خیابان ۔ نعت ہے
گر ہو قبولیت کا شرف بھی عطا اسے


ہدیہ بنامِ سید سلطانِ نعت ہے


والشمس کا ہو نور کہ واللیل کی ادا


غمزہ ہر ایک وصف کا وجدان۔۔ نعت ہے
بشری سفر ہے طیبہ کا اور زاد ِ راہ صرف


گنجینہِ درود ہے سامانِ نعت ہے


ہر سورت ایک پھول ہے ہراک حدیث شاخ
===== [[بلال حیدر گیلانی ]]، [[ مظفرآباد]]، [[کشمیر]]، [[پاکستان ]] =====


یہ کنز۔ رنگ وبو ہے جو عرفان۔ نعت ہے
ٹوٹا جمودِ خامہ یہ فیضانِ نعت ہے


مدحِ نبی عطا ہوئی، احسانِ نعت ہے


آواز۔کن فکاں ہے خصائص کا زمزمہ


گویا ظہور۔ہست بھی اعلان۔ نعت ہے
خاطر میں سنتِ نبوی ہو اگر، تو پھر


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


وہ سلسبیل و کوثر و تسنیم۔ خلد سب


مل جائیں تو سمجھنا کہ احسان۔ نعت ہے
مدحت سرا ہے عرش پہ خود ذاتِ لم یزل


===== [[جعفر قمر]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
اس زاویے سے عرش بھی ایوانِ نعت ہے


بشکریہ : [[اویس ازہر مدنی]]


عشق رسول پاک ہی تو جان نعت ہے  
سجتی ہے روز بزم درود و سلام کی


اس سے ہمیشہ ہوتی پہچان نعت ہے
گھر میرا، گھر نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے




کہتا ہے خود خدا بھی نعت رسول پاک
دنیا کی رونقوں سے اسے کیا غرض بھلا


قرآن پاک اس کا دیوان نعت ہے  
حیدرؔ کہ سب کہیں جسے مستانِ نعت ہے


===== [[پرویز ساحر]]، [[ایبٹ آباد]]، [[پاکستان]] =====


قرآن پاک جو ہے نعت رسول پاک
یُـوں ہی تو میرا دِل نہیـں قُربانِ نعت ہے


یہ نعت کی ہے عظمت اور شان نعت ہے  
حـاصِـل مجھے سکُــون بَہ فیضـان ِ نعت ہے




حب رسول پاک میں جو ڈوب کر کہے
جب پیش ہو گا نامہ ِ اَعمـــــــال حَشــــر میں  


ملتا اسی کو ہی سدا فیضان نعت ہے
کہہ دُوں گا میرے پاس یہ دیـــوان ِ نعت ہے


حســان ہوں ' وہ کعب ہوں ' اِبن ِ زُہَیـر ہوں


سنت کے ہی مطابق گر کام سب کریں
ہر ایکــــــــ اپنی ذات میں سُلطــان ِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے "


بار ِ الٰہ نے کِیــــــــــــا ذکــــــــــــر ِ نبی بَلند


سب لوگوں کو دعوت نعت رسول ہے
وا اِس لئـے دریـــــــچــــہ ِ اِمـکان ِ نعت ہے


سبکے لیۓ کھلا ہوا میدان نعت ہے


قُـــرآن اور حدیث میں مذکُــــور جــــو نہیں


وہ مر کے بھی ہے زندہ و جاوید دوستو
ایســــی غُــلُوئیت کہــاں شـــایــان ِ نعت ہے


دنیا میں جو بھی ہوتا قربان نعت ہے


کچھ کم نہیں ہے یہ بھی کسی پُل صراط سے


ہر دور میں. قمر وہ رہتا ہے پر ضیاء
یــہ جــو ہمــارے ســـامنے میـــدان ِ نعت ہے


اک بار جو. بھی بنتا سلطان نعت ہے


مکمل نام : محمّد جعفر قمر سیالوی
یوں ہی برہنہ پا نہیـں چــــــلتا مَیـں رَیگ پر


===== [[جمیل حیدر عقیل]]، [[ نیویارک]]، [[امریکا]] =====
گُل زار سے بھی بڑھ کے بِیابان ِ نعت ہے


بشکریہ :  [[عباس عدیم قریشی]]


موسم ہے دل کا جاں فزا امکان نعت ہے
رکھتا ہُوں پُھونکـــ پُھونکـــ کے مَیں اپنا ہر قدم


میری سخنوری پہ بھی فیضان نعت ہے
مجھ دست رَس میں جب سے قلم دان ِ نعت ہے




لفظوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہی
ہم سیرت ِ نبی کو جو لائیں بہ روئے کار


ان کی ولائے پاک ہی سامان نعت ہے
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "




ایسے ہی تو کھلی نہیں رہ پلِ صراط کی
سـاحِـرؔ ! مَیں اپنی ذات کا پھر ذِکر کیوں کرُوں


ہاتھوں میں اس فقیر کے دامان نعت ہے
جب اُن کی ذات ِ پاکـــ ہی خـود جــان ِ نعت ہے


===== [[ثروت رضوی]]، [[کیلی فورنیا]]، [[امریکہ ]] =====


کیسے نہ نعت پاک ہو دل سے مرے کشید
بشکریہ : [[سمعیہ ناز]]


رگ رگ میں جب رچا بسا ایمان نعت ہے
یارب یہ میرا دل ہے کہ دیوانِ نعت ہے


تطہیر ہوگئی ہے یہ فیضانِ نعت ہے


قندیل جب سے ہو گئی روشن درود کی


سب حسرتیں ہی مٹ گئیں، ارمان نعت ہے
پہنچوں سرِ مدینۂ عشاق ِ آرزو


پکڑا ہوا جو خیر سے دامانِ نعت ہے


ایسا چلا ہے دور درود و سلام کا


ہونٹوں پہ قدسیوں کے بھی گردان نعت ہے
دھڑکن میں گونج صلِ علیٰ کی بصد خلوص


میری ہر ایک سانس میں امکان نعت ہے


اے دل اسی میں ڈوبنا تم احترام سے


جس ساگرِ خلوص میں ہیجان نعت ہے
دل میں رواں رکھے ہے روانی درود کی


===== [[جنید نسیم]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
دل کے بہت قریب جو شریانِ نعت ہے
مکمل نام : جنید نسیم سیٹھی


جب سے خیال و فکر کو میلانِ نعت ہے


ہر سانس ایک شعر بہ عنوانِ نعت ہے
خود کو حرم میں دیکھ رہی ہوں بچشمِ تر


یہ معجزہ ہے یا مرا وجدانِ نعت ہے


مولود ہو بیانِ سراپا ہو، خُلق ہو


قائم انھی سے رونقِ بُستانِ نعت ہے
لگتا ہے جیسے رات بسر کی مدینے میں


یہ خواب تو نہیں مرا عرفان نعت ہے


ہر رُخ حیاتِ پاک کا پیشِ نظر رہے


سیرت میں گام گام پہ سامانِ نعت ہے
گریہ فراق عشق و جنوں ہجر اور خلش


کچھ بھی نہیں یہی میرا سامانِ نعت ہے


نے قدرتِ کلام نہ فہمِ سخن وری


سلطانِ انبیا کا ادب ، جانِ نعت ہے
کیا نام ہے یہ نامِ محمد ص خدا قسم


یہ نام ہی تو شمع شبستانِ نعت ہے


صحنِ بیان و ذکر سے باہر تو دیکھیے


"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
آقا قبول کیجئے ثروت کا یہ کلام


گر میرا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے


ہر سمت کھلتے رہتے ہیں گُل ھائے رنگ رنگ
===== [[تاثیر جعفری]]، [[ کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====
میرا کلام کب بھلا شایانِ نعت ہے


میرا وطن بھی گویا گُلستانِ نعت ہے
مجھ کو ابھی کہاں بھلا عرفانِ نعت ہے




معبود! مجھکو نعت کا عرفان کر عطا
ہر ایک آیہ، آپ کی مدحت سے سرفراز


وہ لفظ ہو عطا کہ جو شایانِ نعت ہے
قرآن اُس کریم کا، دیوانِ نعت ہے




مجھ ایسا بے ہُنر بھی ہوا معتبر جنید
ہر شعبہِ حیات پر رحمت ترا وجود


میرا کمال کیا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


===== [[جہانداد منظر القادری]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
دعویٰ ذرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے


حاضر جہاں پہ ہوں مَیں وہ ایوانِ نعت ہے
آنسو بھی ہیں، جبین بھی، اور سجدہ گاہ بھی


جاری دل و دماغ پہ بارانِ نعت ہے


ممدوحِ ذات حق کی ہے مدحت کا مرحلہ


بے قیل و قال محض یہ احسانِ نعت ہے
مجھ سے لحد میں پوچھا گیا، صرف اک سوال


کیا نامہِ اعمال میں، دیوان نعت ہے؟


رب کا کلامِ نُور ہے تعبیرِ حُسنِ کُل


نعتوں کی سلطنت کا وہ سُلطانِ نعت ہے
پڑھتی ہے ذاتِ کبریا، تجھ پہ درودِ پاک


ثابت ہوا، درود ہی بس جانِ نعت ہے


عشقِ نبی میں ڈوب کے دیکھو تو تب لگے


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
لب پر درود، پلکوں پہ اشکوں کی ہے جھڑی


خامہ سنبھال اپنا کہ امکانِ نعت ہے


لے کر چلا ہُوں نعت کی فردِ عمل کو ساتھ


میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے
میرے لہو میں دوڑتا ہے، عشقِ مصطفےٰ


تاثیر جسم و جان میں، ایمانِ نعت ہے


آقا کے نقشِ نعلِ عطا زیبِ حرف ہیں
===== [[تبسم پرویز]]، [[سنبھل]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر تبسم پرویز


منظَر بھی آج صاحبِ دیوانِ نعت ہے
ہاتھوں میں اس غریب کے دیوانِ نعت ہے


===== [[جوہر قدوسی]]، [[کشمیر]]، [[بھارت]] =====
لطف و کرم حضورﷺکا ، فیضانِ نعت ہے
بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]


ارض وسماء میں ہر طرف فیضانِ نعت ہے


فرقان لا یزال ہی شایانِ نعت ہے
رب کی عطا سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے


مجھ سے سخنوروں پہ یہ احسانِ نعت ہے


مدح و ثنائے خواجہ ہو دوران نیم شب


اشک سحر گہی سے ہی عرفان نعت ہے
کیوں کر نہ ہوتی مدحت خیر الانام جب


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
یا رب اسے نصیب ہو قربت رسول کی


فرد عمل میں جس کے بھی سامان نعت ہے


عشق نبی فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں


یہ میرا جذب و کیف بھی احسان نعت ہے
کیوں کر نہ ہم کریں گے ثنائے حبیب رب


اللہ جبکہ خود ہی ثناء خوان نعت ہے


میں بے ہنر ہوں تاب سخن کی طلب مجھے


ارمان کوئی ہے تو بس ارمان نعت ہے
شاعر کا یہ ہنر نہ کبھی ہوگا پائمال


===== [[حسان المصطفٰی ]]، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]]  =====
جب رب ذوالجلال نگہبان نعت ہے
یونہی نہیں یہ رفعتِ عنوانِ نعت ہے


سب حمد جس کی ہے وہی نگرانِ نعت ہے


خورشید روز حشر نہ جھلسا سکا ہمیں


سب امتیں پڑھیں گی وہاں نعتِ مصطفیٰ
سر پر جو اپنے سایہ ء دامان نعت ہے


میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے


ہجررسول پاک میں آنکھیں ہیں اشکبار


کچھ اشکِ بے مراد ہیں آنکھوں میں موجزن
کیفیت ایسی قلب کی دوران نعت ہے


میں ہوں، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے


لاکھوں سخنوروں کی زمانے میں بھیڑ ہے


سائے میں جس کے میرے سبھی عیب چھپ گئے
حاصل کسی کسی کو قلمدان نعت ہے


خوش بخت ہوں، ملا مجھے دامانِ نعت ہے


عرفان نعت جس کو تبسؔم ہوا نصیب


اُسکی ثنا ہی اول و آخر ہے دوستو
سلطان نعت ہے وہی سلطان نعت ہے


اِسکے سوا ہے جو بھی، وہ دورانِ نعت ہے
===== [[تحسین یزدانی]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
مجھ سا بشر جو صاحبِ دیوانِ نعت ہے


اللہ کا کرم ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


غزلوں میں جو بھی آیا گماں میں وہ کہہ چُکا


ہٗشیار باش! رُو بقلمدانِ نعت ہے
تفہیمِ نعت ہے جسےعرفانِ نعت ہے


حسانِ نعت ہے وہی سلمانِ نعت ہے


ہر شعر پُل صراط ہے، محتاط ہو کے چل


ہر نعت خود کہےتٗجھے عرفانِ نعت ہے
ممنونِ نعت ہیں میری سوچیں،مرے خیال


نطق و زبان و حرف پہ احسانِ نعت ہے


ہر دور کی رگوں میں رواں اُنکا ذکر ہے


گویا زماں زماں نہیں، دیوانِ نعت ہے
جاری رہے گا تا بہ ابد نعت کا سفر


روشن ازل سے دیدہءِ امکانِ نعت ہے


اُمیدِ وصل، اشک، غمِ ہجر، اور اشک


یہ زادِ راہِ عشق ہے، سامانِ نعت ہے
معلوم اب ہوئی ہے مجھے دل کی کیفیت


کعبہ نہیں ہے دل میرا جز دانِ نعت ہے


یہ نام تھا، دعا تھی کہ والد کا خواب تھا


جِسکے سبب ہی آج یہ حسانِؔ نعت ہے
دائم یہاں پہ رہتا ہے موسم بہار کا


===== [[حسن رضا حسانی ]] ، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
یہ گلستانِ حمد و خیابانِ نعت ہے


حبِّ رسول سے سجا دامانِ نعت ہے


توصیفِ مصطفیٰ ہی فقط شانِ نعت ہے
احرامِ عشق باندھ کے نکلا ہے ہر خیال


فکر و نظر کےسامنے میدانِ نعت ہے


لفظوں کے موتی اور نکھرتے ہیں نعت سے


جو کچھ ہے عشق میں لکھا وہ جانِ نعت ہے
ملتان کا سکونتی ہوں، خوش نصیب ہوں


یہ سر زمین شعر نگارانِ نعت ہے


اب ذہن کا جہان معطر ہوا مرا


وہ اس لیے کہ دوستو فیضانِ نعت ہے
تحسین ہے فقیر، فقیرانِ نعت کا


یعنی کہ اک غلامِ غلامانِ نعت ہے


مجھ کو سلیقہ آ گیا مدحت سرائی کا
===== [[تسنیم عباس قریشی]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
معراجِ مصطفٰی ص مرا عنوانِ نعت ہے


اچھا سخن طراز ہوں احسانِ نعت ہے
قوسین کا مقام ہی شایانِ نعت ہے




یوم ِ حساب سے بھلا گھبرائے کیوں حسن
خوش آمدید کہتے ہیں ہر موڑ پر نبی


دیکھو تو اس کے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
منجانبِ خدا ہوا سامانِ نعت ہے




محمد حسن رضا حسانی، اسلام آباد، پاکستان
سدرہ پہ رک گئے ہیں قدم جبرائیل کے


===== [[حسن علی خاتم]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
پاپوشِ مصطفٰی ص ہمہ شاہانِ نعت ہے
کچھ پاسِ آرزو ہے، نہ عرفانِ نعت ہے


اک شوق ہے سو وہ بھی نہ شایانِ نعت ہے


ہٹتے گئے حجاب سبھی آپ کے لیے


اتنا سا دل ہے اور سرِ میدانِ نعت ہے
ہر چیز کائنات کی قربانِ نعت ہے


حاشا یہ حوصلہ نہیں، فیضانِ نعت ہے


کامل ترین اسوہ ہے خیر الانام ص کا


کیا کیا نہ زیرِ سایہِ دامانِ نعت ہے؟
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت یے


ہر شے پہ کائنات میں احسانِ نعت ہے


تسنیم خوش نصیب ہے دونوں جہان میں


جب لفظِ کن ہی مطلعِ دیوانِ نعت ہے
سلطانِ نعت سے ملا عرفانِ نعت ہے


پھر کیا ہے جو نہ داخلِ دامانِ نعت ہے؟
===== [[تنظیم الفردوس]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر تنظیم الفردوس


مدوجذر حیات کا سامانِ نعت ہے


مخصوص شاعری سے نہیں نعت کا عمل
یہ ساری کائنات ہی امکانِ نعت ہے


سنت کو جو بھی تھام لے، حسانِ نعت ہے


قرآن ہے گواہ بلندی کے ذکر میں


جو اشک ان کی یاد میں نکلے، سو شعر ہے
کیا اس سے بھی زیادہ  کوئی شانِ نعت ہے


جس دل میں بھی وہ ہیں، سو دبستانِ نعت ہے


سیرت رسولِ پاک کی پیشِ نظر رہے


شعر و سخن میں اس کو مقید نہ جانیے
یہ جانِ نعت ہے یہی ایمانِ نعت ہے


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


بس اک نگاہِ شوق ہے اور میری چشمِ نم


تعریف ہے خدا کی، نبی کی ہی کیوں نہ ہو
میرے لیے تو ہاں یہی سامانِ نعت ہے


یہ حمد ہے اگرچہ بہ عنوانِ نعت ہے


میں اور لب کشا کروں ایوانِ نعت میں


محشر کے واسطے یہ حوالہ بہت ہے دوست
حسّان شاہزداۂ ایوانِ نعت ہے


خاتم فقیرِ راہِ فقیرانِ نعت ہے


===== [[حسنین الثقلین]]، [[مدینہ منورہ]]، [[سعودی عرب]] =====
محسن، امیر اور رضا عندلیب ہیں
مکمل نام : سید محمّد حسنین الثقلین
یہ ہند کی زمین بھی بستانِ نعت ہے


پَل پَل جو پَل رہا ہے، وہ ارمانِ نعت ہے


دل میں جو جاوداں ہے، وہ فیضانِ نعت ہے
تکمیلِ دیں کا حکم ہے اس امر کی دلیل


ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


کہتے ہوۓ غزل بھی، مجھے دھیانِ نعت ہے
===== [[تنویر احمد تنویر]]، [[جدہ]]، [[سعودی عرب]] =====
آںکھوں میں میری آج جو بارانِ نعت ہے


سچ پوچھیے تو یہ مِرا پیمانِ نعت ہے
خوش ہو، سخنورا کہ یہ امکانِ نعت ہے




وَالَّیل، وَالضُّحی، کہیں وَالفَجر کا بیاں
کس کی مجال کر سکے توصیف آپ کی


کیسا حسیں سجا ہُوا قرآنِ نعت ہے
قران وہ سخن ہے جو شایانِ نعت ہے




سمجھا ہے کون رُتبۂ مرسل بجز خُدا
اک اک ادا حضور کی بے مثل و لاجواب


حاصل کسے بھلا ہُوا عرفانِ نعت ہے
„ ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے،،




لازم ہے ہم نماز میں اُن پر پڑھیں درود
ہر حرف عطر بیز ہے ہر لفظ مثلِ گُل


ثابت ہوا نماز بھی سامانِ نعت ہے
میرا ہر ایک شعر گلیستانِ نعت ہے




میرے خمیر میں ہے وِلاۓ نبی گُندھی
طیبہ کی حاضری کا ہمیں پھر ملا جو اذن


اِس واسطے سرشت میں میلانِ نعت ہے
تنویر یہ تو صدقہءِ فیضانِ نعت ہے


===== [[ تنویر پھول]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
حق کی عطا سے بارش فیضان نعت ہے


ہوش و خرد کو دل کے مَیں رکھتا ہوں آس پاس
فکر و شعور و قلب میں ارمان نعت ہے


اِس واسطے کہ سامنے ایوانِ نعت ہے


وہ جان کائنات ہیں , وہ شان کائنات


"صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے"
' ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے '


”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“


لازم ہے نعت کہنے میں حساں کی پیروی


حسنی کو مرحبا کہا رضوانِ خُلد نے
حسان باغبان گلستان نعت ہے


دیکھا کہ ہاتھ میں مِرے دیوانِ نعت ہے


===== [[حسنین اکبر]]، [[دوبئی]]  =====
قرآں کی روشنی میں کہو نعت شاہ دیں


اُمی لـقب سے عَلَّمَ بُرہانِ نعت ہے
رب کی نگہ میں بس یہی فرقان نعت ہے


اقرأ باســم ربـك اعلانِ نعت ہے


وہ پہلا نعت گو وہی سلطانِ نعت ہے
ذیشان ان کی مدح سے ہر صنف شاعری


ہر نعت گو رعیّتِ عمرانِ ع نعت ہے
کاشانہ ء سخن میں دبستان نعت ہے


بنیادِ مدحِ سید الابرار ص ہے درود


فرمانِ کردگار میں فرمانِ نعت ہے
احمد بھی ان کا اسم ہے , اک نام ہے یتیم


شق القمر دو باٹ کی صورت بٹے ہوئے
یعنی 'الف' سے 'ی' سبھی دیوان نعت ہے


دستِ الہُٰ العدل میں میزانِ نعت ہے


پیغمبرِ ص حیات ہیں سرکارِ ص دوجہاں
بعد از خدا بزرگ ہیں وہ , اس میں شک نہیں


"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
حمد خدا کے بعد قلم دان نعت ہے


جس نعت میں علی ع و محمد ص کی بات ہو


وہ کائناتِ نعت میں سلمانِ ع نعت ہے
ممدوح وہ خدا کے ہیں, کج مج زبان ہم


اظہارِ کُل صفاتِ الہٰی انہی ص سے ہے
لائیں کہاں سے لفظ جو شایان نعت ہے


اب اس کے بعد جو بھی ہے میدانِ نعت ہے


حرفِ دعا ہے آیہءِخیرالجزا کے بعد
رطب اللساں ہیں بلبلیں گلزار نعت میں


مجھ کو جزا کی مد میں بھی ارمانِ نعت ہے
صدہا برس سے مہکا یہ بستان نعت ہے


دنیا ادب سے لیتی ہے جو نعت گو کا نام


کوئی ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے
سرور کی شاں میں اس نے 'رفعنا' ہے کہہ دیا


پہلی اذانِ اسمِ محمد ص تھی عرش پر
خود رب کائنات نگہبان نعت ہے


دراصل کعبہ دوسرا ایوانِ نعت ہے


قرآں کہو صحیفہ کہو کوئی نام دو
اس کے کرم سے پھول کھلیں نعت کے سدا


دیوانا جانتا ہے یہ دیوانِ نعت ہے
تنویر پھول ! خوب یہ گلدان نعت ہے


دل سے دعائیں دیجیے مدحِ رسول ص پر
===== [[تنویر جمال عثمانی]]، [[مراد آباد]]، [[انڈیا]] =====
میری نظر میں صرف یہی جانِ نعت ہے


خاموشی اس مقام پہ کفرانِ نعت ہے
سرکار ﷺ عشق آپ کا' ایمانِ نعت ہے  


یہ داستان عشق ہے کارِ جہاں نہ جان


لکھنے سے پہلے یہ بتا،ایمانِ نعت ہے؟
نفرت' حسد' نفاق نے پائ نہیں جگہ


طیبہ سے ہوکے جاتے ہیں ہم سوئے کربلا
فکر و نظر پہ میرے یہ احسانِ نعت ہے


ہر شاہراہِ عشق خیابانِ نعت ہے


اکبر میں اسـکے ہاتھ پہ بیعت ابھی کروں
سچ بولنے کا وصف عطا ہو گیا جسے


جس کو بھی اس زمانے میں عرفانِ نعت ہے
اس کو ہی بس جہان میں عرفانِ نعت ہے  


===== [[حسنین شہزاد]]، [[کوٹ عبد الحکیم]] ، [[پاکستان]] =====


سُلگا ہؤا خیال میں لوبانِ نعت ہے
نسلیں مہک رہی ہیں مرے گھر کی دوستو


خوش ہیں قلم دوات کہ امکانِ نعت ہے
حاصل جو تین پشتوں سے لوبانِ نعت ہے  




باب السّلام ، بابِ امان و سکون ہے
حسّان کعب جامی رضا سعدی اور ہم


بابِ بقیع ، باب ِ خیابانِ نعت ہے
پرنور سب کے عشق سے ایوانِ نعت ہے  




عُشّاق جانتے ہیں مقام ِ مواجہہ
ادراکِ عظمتِ شہِ لولاکﷺ ہو تو آ


عُشّاق یعنی وہ جنہیں عرفانِ نعت ہے
سبکے لئے کہاں بھلا میدانِ نعت ہے  




چشمِ خیال ، بَن کے دِوانی کبوتری
سیرت کا آئنہ ہو اگر سامنے تو پھر


محوِ طواف ِ روضہ ءِ سلطانِ نعت ہے
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "




تعلیم ہو، سفر ہو، تجارت ہو ، عدل ہو
حسنِ عمل بھی رکھ دے عقیدت کے ساتھ ساتھ


" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اے رہ روانِ نعت یہ میزانِ نعت ہے  




===== [[حسنین عاقب]]، [[مہاراشٹر ]]، [[بھارت ]] =====
آئے جو حرف نامِ نبیﷺ پر تو دیجے سر


سیرت نبی کی، ذکرِ نبی جانِ نعت ہے
یہ انکے اہلِ بیعت کا عنوانِ نعت ہے  


میں نعت گو ہوں، مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


تنویر میں بھی ہو گیا دنیا میں با وقار


آدابِ نعت گوئی قلم کو سکھائیے
فیضانِ نعت ہے  یہی فیضانِ نعت ہے


اور یہ خیال رکھیے، یہ میدانِ نعت ہے
===== [[جاوید صدیقی]]، [[لکھنوو]]، [[انڈیا]]=====
نسبت مرے حضور کی سامان نعت ہے  


ان کا حسیں خیال ہی عنوان نعت ہے


اذہان جن کے مہکے عقیدت کے نور سے


حاصل انہی کو ہوسکا وجدانِ نعت ہے
مجھسے گناہگار کو بخشش کی دی نوید


مجھسے گناہگار پہ احسان نعت ہے


اصنافِ شعر جتنی ہیں، اپنی جگہ مگر


ہر ایک صنفِ شعر تو قربانِ نعت ہے
آتا ہے قبل نعت جس اک ذات کا خیال


اللّه کا حبیب ہے وہ ، جان نعت ہے


لفظوں کے جوڑ توڑ سے نسبت نہیں اسے


عشقِ رسول ہی سے تو پہچانِ نعت ہے
روز ازل رکھی گئی بنیاد نعت کی


کتنا بلند سوچئے ایوان نعت ہے


اے کاش! میری نعت سے خوش ہوکے ایک دن


کہہ دیں یہ خود نبی کہ تو خاقانِ نعت ہے
آیات ِ بینات بتاتی ہے یہ ہمیں


اللّه کا کلام دبستان نعت ہے


عاقب نے جس کا نام رکھا '' خامہ سجدہ ریز ''


باعث نجات کا مرا دیوانِ نعت ہے
کیا لطف ہو فرشتے بھی میزان پر کہیں


===== [[حسیب آرزو]]، [[بکسر]]،[[ بھارت]] =====
تیرا نجات نامہ یہ ، دیوان نعت ہے




یہ دہر کیا ہے“ واللہ گلستان نعت ہے
ہے شاعران نعت پہ انعام کبریاء


ہر شے پہ کاٸنات کی، فیضان نعت ہے
" ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے "




تابع خدا کی حمد کے، ہر اعضا ہیں مرے
یاد شہ انام کی خوشبو میں ہے بسا


واللہ میری روح اسیران نعت ہے
" جاوید" تیرا دل ہے کہ بستان نعت ہے


===== [[جاوید عادل سوہاوی]]، [[جرمنی]] =====
عشق۔ حضور، زینت۔ سامان۔ نعت ہے


ظلم و ستم کی دھوپ بگاڑے گی کچھ نہیں
روشن چراغ ۔ بخت بفیضان۔ نعت ہے


جب تک ہمارے سر پہ خیابان نعت ہے


ہر عالم۔ نمو میں ہے خوشبو حضور کی


محفوظ تو خزاٶں سے ہر وقت ہے وہی
"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔ نعت ہے"


سایہ فگن یہ جس پہ بھی باران نعت ہے


سب عاشقان۔ صورت ۔ محمود کے لئے


کیسے مٹے گا تذکرہ خیرالانام کا
سیرت شہ۔ عرب کی دبستان نعت ہے


پروردگار جب کہ نگہبان نعت ہے


گلہائے باغ۔ مدح و ثنا ہوں جو رو برو


حج کی سعادتیں ہوں یا صوم و صلوة ہوں
تو مثل۔۔ عندلیب سخن دان۔ نعت ہے


“ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے“


طیبہ سے لامکان تلک جو ہے فاصلہ


شاعر کا ہونا عشق میں کچھ شرط تو نہیں
ہر گام مصطفےٰ کا گلستان۔ نعت ہے


یہ عاشقِ رسول بھی مردان نعت ہے


سر پر ہے لخت۔ ابر۔عنایات۔ وحدہ


جاکر پڑھوں میں شہر مدینہ میں با ادب
اپنےمزاج۔ دل کو جو میلان۔ نعت ہے


اک،،آرزو کے دل میں بھی ارمان نعت ہے


===== [[حسین امجد]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]]=====
سجدہ ہے کربلا کا بھی حسن۔ ثنا گری
کب میر ے پاس آپ کے شایانِ نعت ہے  


میر ے حضور دل میں یہ ارمانِ نعت ہے  
اقصیٰ میں وہ نماز بھی جانان۔ نعت ہے




قرآں بیاں کرتا ہے ، توصیف آپ کی
باغ۔ ۔ شب۔ فلک ہے ضیا بار اس لئے


یعنی قرآن ِ پاک ہی شایانِ نعت ہے
تاروں کا ہر ہجوم خیابان ۔ نعت ہے




میر ے حضور آپ کا مدحت نگار ہوں
والشمس کا ہو نور کہ واللیل کی ادا


میر ے حضور مجھ پہ یہ ' احسان ِنعت ہے  
صلِ علیٰ کا حسن ہی شایان۔ نعت ہے




میں تٙو حضور سایہء رحمت میں آگیا
ہر سورت ایک پھول ہے ہراک حدیث شاخ


صد شکر میر ے پاس بھی دیوان ِنعت ہے
یہ کنز۔ رنگ وبو ہے جو عرفان۔ نعت ہے




میر ے حضور ایسا کوئی شعر ہو عطا
آواز۔کن فکاں ہے خصائص کا زمزمہ


محفل میِں ، میٙں پڑھوں تو کہیں جانِ نعت ہے  
گویا ظہور۔ہست بھی اعلان۔ نعت ہے




ایسی فضا حضور مری مستقل رہے
وہ سلسبیل و کوثر و تسنیم۔ خلد سب


جیسی مر ے جضور یہ دورانِ نعت ہے  
مل جائیں تو سمجھنا کہ احسان۔ نعت ہے


===== [[جمشید ساحل]]، [[بریلی شریف]] ، [[انڈیا]] =====


میر ے حضور حشر میں رسوا نہیں ہوا
جانِ بہار اور گلستانِ نعت ہے


میر ے حضور محض یہ فیضانِِ نعت ہے  
بخشش کے واسطے مرے وجدانِ نعت ہے




امجد عروجِ نعت سے قائم ہے کائنات
شاہِ عرب کی مجھ کو گدائی جو مل گئی


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
اللہ کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


===== [[حسین شاہ زاد]]، [[دوبئی]] =====
چھائی ہوئی کچھ ایسے بہارانِ نعت ہے


لب پر درود دل میں گلستانِ نعت ہے
فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک خدا گواہ


ہـر شعبئہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


قرآن جس کی شان میں دیوانِ نعت ہے


اس دلربا کی دُھن مرا سامانِ نعت ہے
یوں تو بہت ہیں نعت کے دیوان دہر میں


یکتا مگر رضا کا ہی دیوانِ نعت ہے


ساون کچھ ایسے حُسن سے آیا ہے اب کی بار


اشکوں کے جلترنگ میں بارانِ نعت ہے
دنیا کے گوشہ گوشہ میں جس سمت دیکھئے


چھایا ہوا ہر ایک سو بارانِ نعت ہے


فصلِ ربیع واہ تری دل ربائیاں


گھر گھر میں ذکرِ الفتِ جانانِ نعت ہے
ایماں سے ہاتھ دھونا نہ پڑ جاے اس لئے


رکھیے قدم کو پھونک کے میدانِ نعت ہے


کون و مکان ان کی تمنّا میں ہیں مگن


اور ان کے دھیان میں، جو ثنا خوانِ نعت ہے
دیوانگانِ شاہِ دو عالم کی ہے صدا


دل چیز کیا ہے جان بھی قربانِ نعت ہے


اعزاز میں جو ان کے سجی ہے یہ کائنات


پیرایۂِ لطیف میں اعلانِ نعت ہے
ساحل گناہ گار سیہ کار ہے مگر


مداحِ مصطفٰے ہے یہ احسانِ نعت ہے


صد مرحبا جو اشک بہے ان کے عشق میں
===== [[جمیل حیدر عقیل]]، [[ نیویارک]]، [[امریکا]] =====


گریہ اس عقل پر جو گریزانِ نعت ہے
بشکریہ : [[عباس عدیم قریشی]]


موسم ہے دل کا جاں فزا امکان نعت ہے


فیضِ نگاہِ شوق سے منطق پکار اٹھی
میری سخنوری پہ بھی فیضان نعت ہے


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


لفظوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہی


وجدان و قول و فعل پہ ہی منطبق نہیں
ان کی ولائے پاک ہی سامان نعت ہے


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ایسے ہی تو کھلی نہیں رہ پلِ صراط کی


ذوقِ سخن عطائے خداوند ہے مگر
ہاتھوں میں اس فقیر کے دامان نعت ہے


کیا بات اس عطا کی جو وجدانِ نعت ہے


کیسے نہ نعت پاک ہو دل سے مرے کشید


ہو آیا دل مدینہ سے جب رہ گئے قدم
رگ رگ میں جب رچا بسا ایمان نعت ہے


کیا کم یہ کم نصیبوں پہ احسانِ نعت ہے؟


قندیل جب سے ہو گئی روشن درود کی


آفاق دیکھ، نفس کو دیکھ، ارتقاء کو دیکھ
سب حسرتیں ہی مٹ گئیں، ارمان نعت ہے


ہر متنِ کائنات پہ عنوانِ نعت ہے


ایسا چلا ہے دور درود و سلام کا


دنیا کے بادشاہوں کا ہو کیوں نیاز مند
ہونٹوں پہ قدسیوں کے بھی گردان نعت ہے
شہ زادٓ خاکِ پائے ثنا خوانِ نعت ہے




پروانہ وار جلنے کو آیا ہے شاہ زادٓ
اے دل اسی میں ڈوبنا تم احترام سے


وہ بو الحسن کی شمعِ شبستانِ نعت ہے
جس ساگرِ خلوص میں ہیجان نعت ہے


===== [[حنیف نازش]]، [[گوجرانوالہ]]، [[پاکستان]] =====
===== [[جنید نسیم]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : جنید نسیم سیٹھی


سر پر ہمارے سایہ ٕ ذی شانِ نعت ہے
جب سے خیال و فکر کو میلانِ نعت ہے


حاصل خُدا کے فضل سے ایقانِ نعت ہے
ہر سانس ایک شعر بہ عنوانِ نعت ہے


رکھتی ہے مُجھ کو نعت رہِ مُستقیم پر


مُجھ پر، مِری حیات پر احسانِ نعت ہے
مولود ہو بیانِ سراپا ہو، خُلق ہو


جب لب سے اُن کا نام لیا، نعت ہو گٸی
قائم انھی سے رونقِ بُستانِ نعت ہے


نادان ہے وہ شخص جو انجانِ نعت ہے


صَلُّوا وَسَلِمُوا کی حلاوت کو پا کے دیکھ
ہر رُخ حیاتِ پاک کا پیشِ نظر رہے


غافل! درودِ مُصطفوی جانِ نعت ہے
سیرت میں گام گام پہ سامانِ نعت ہے


بتلا رہی ہے آیتِ میثاق صاف صاف


مہکا ہُوا ازل سے گُلستانِ نعت ہے
نے قدرتِ کلام نہ فہمِ سخن وری


ہر داٸرے کا مرکزی نُکتہ نبی کی ذات
سلطانِ انبیا کا ادب ، جانِ نعت ہے


”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


نازش لواۓ حمد ہو، محمود کا مقام
صحنِ بیان و ذکر سے باہر تو دیکھیے


میدانِ حشر گویا کہ میدانِ نعت ہے
"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


===== [[خالد رومی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
ھر ایک شعر آیت قرآن نعت ھے


جو حصر سے ورا ھے, وہ احسان نعت ھے
ہر سمت کھلتے رہتے ہیں گُل ھائے رنگ رنگ


میرا وطن بھی گویا گُلستانِ نعت ہے


انسان خوش نصیب بفیضان نعت ھے


کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوان نعت ھے
معبود! مجھکو نعت کا عرفان کر عطا


وہ لفظ ہو عطا کہ جو شایانِ نعت ہے


مخصوص شاعروں سے, کہاں خوان نعت ھے


سارے جہاں پہ سایہء دامان نعت ھے
مجھ ایسا بے ہُنر بھی ہوا معتبر جنید


میرا کمال کیا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


کوئی نبی نہ سرور جیش رسل ہوا
===== [[جہانداد منظر القادری]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
دعویٰ ذرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے


ہاں ! مصطفی' کی ذات, جو شایان نعت ھے
حاضر جہاں پہ ہوں مَیں وہ ایوانِ نعت ہے




نکتہ کھلا یہ آیہء صلوا علیہ سے
ممدوحِ ذات حق کی ہے مدحت کا مرحلہ


یعنی اس امر میں چھپا فرمان نعت ھے
بے قیل و قال محض یہ احسانِ نعت ہے




کس کا گزر ھے ناحیہء حق میں اسطرح
رب کا کلامِ نُور ہے تعبیرِ حُسنِ کُل


شایاں مرے حضور کو عنوان نعت ھے
نعتوں کی سلطنت کا وہ سُلطانِ نعت ہے




شاہ جہاں, امام صور, خواجہء ازل
عشقِ نبی میں ڈوب کے دیکھو تو تب لگے


ختم رسل ہی زینت ایوان نعت ھے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے




کیسی غرض مطاعم فردوس آز سے
لے کر چلا ہُوں نعت کی فردِ عمل کو ساتھ


درویش کو عزیز نمکدان نعت ھے
میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے




تیرہ بساط زیست تھی, پر نور ہو گئی
آقا کے نقشِ نعلِ عطا زیبِ حرف ہیں


عشق رسول شمع شبستان نعت ھے
منظَر بھی آج صاحبِ دیوانِ نعت ہے


===== [[جوہر قدوسی]]، [[کشمیر]]، [[بھارت]] =====
بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]


یہ تذکرہ نہیں ہے زلیخاۓ مصر کا
ارض وسماء میں چار سو فیضانِ نعت ہے


ھشیار ! کوۓ یوسف کنعان نعت ھے !!
فرقان لا یزال ہی شایانِ نعت ہے




داراۓ شعر بھی ہو یہاں یہاں ہوش باختہ
مدح و ثنائے خواجہ ہو دوران نیم شب


اللہ رے کیا ہی شوکت ایوان نعت ھے
اشک سحر گہی سے ہی عرفان نعت ہے




ھم کشتگان چشم ولا کو خوشا نصیب
شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا


اسباب حمد ہیں, کہیں سامان نعت ھے
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"




توفیق دے خدا تو ملے گنج آگہی
عشق نبی فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں


عالم سے بڑھ کے دولت عرفان نعت ھے
یہ میرا جذب و کیف بھی احسان نعت ہے




اس دور افتراق و تعصب گزیدہ میں
میں بے ہنر ہوں تاب سخن کی طلب مجھے


درکار ھر بشر کو ہی درمان نعت ھے
ارمان  کوئی ہے تو بس ارمان نعت ہے


===== [[حاتم رضا علیمی]]، [[سیتا مڑھی,بہار]]، [[انڈیا]] =====
سینے میں میرے حسرت و ارمانِ نعت ہے


اخلاص جاں, نہ فہم و تدبر, نہ سوز دل
باغِ جناں سے اعلی خیابانِ نعت ہے


لائق رفو کے چاک گریبان نعت ھے


لکھنے کی نعت مجھ کو سعادت نصیب ہو


خیرات فکر و فہم اسے بخشئیے حضور !
سرکار ! عشق آپ کا ایمانِ نعت ہے


رومی عجم میں آپ کا حسان نعت ھے


===== [[خالد عبداللہ اشرفی]]، [[مہاراشٹرا]]، [[بھارت]] =====
جا ہ وحشم کی مجھ کو ضرورت نہیں حضور


پیشکش : [[غلام ربانی فارح مظفرپوری]]
چشمِ زدن میں بارشِ فیضانِ نعت ہے




یہ زندگانی اصل میں عنوان نعت ہے
خیر البشر کی مدح کروں میری کیا مجال


ہرلمحہ اس کا صفحۂ دیوان نعت ہے
فضلِ خدا سے مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے




دامن میں اپنے صدقۂ حسان نعت ہے
خلدِ بریں میں جانے کی خواہش نہیں مجھے


عزت سے جی رہے ہیں یہ احسان نعت ہے
جب خود ہی میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے




جوبن ہے چھایا چارسو محفل پہ نعت کی
دنیا کے خطے خطے سے آتی ہے یہ صدا


مستی میں مست ایک اک مستان نعت ہے
,,ہر شعبہِ حیا ت میں امکا نِ نعت ہے,,




لب وقف ہیں درود پیمبر کے واسطے
نعت رسول لکھنے میں حاتم کی موت ہو


صدشکر رب کہ دل ہوا قربانِ نعت ہے
تا زیست کے لیے یہی فرحانِ نعت ہے


===== [[حسان المصطفٰی ]]، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]] =====
یونہی نہیں یہ رفعتِ عنوانِ نعت ہے


ہراک زبان ولہجہ میں موجود صنف نعت
سب حمد جس کی ہے وہی نگرانِ نعت ہے


کتنا وسیع دوستو دامانِ نعت ہے


سب امتیں پڑھیں گی وہاں نعتِ مصطفیٰ


گل ، گُلسِتاں چَرِند وپَرِند، انس و جن ،ملک
میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے


جسکو بھی دیکھیے ، لیے ارمان نعت ہے


کچھ اشکِ بے مراد ہیں آنکھوں میں موجزن


تحت الثریٰ ہو سدرہ ہو عرش علیٰ جناں
میں ہوں، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے


ہر. شعبئہ حیات میں امکان نعت ہے


سائے میں جس کے میرے سبھی عیب چھپ گئے


خون جگر سیاہی ، دل مضطرب ورق
خوش بخت ہوں، ملا مجھے دامانِ نعت ہے


لکھنے کے واسطے یہی سامان نعت ہے


اُسکی ثنا ہی اول و آخر ہے دوستو


حاضر. جو قلب رہتا ہے ان کے حضورمیں
اِسکے سوا ہے جو بھی، وہ دورانِ نعت ہے


سب یہ کرم ہے فیض ہے وجدان نعت ہے


غزلوں میں جو بھی آیا گماں میں وہ کہہ چُکا


یہ جو لحد میں پھیلا اجالا ہے دوستو
ہٗشیار باش! رُو بقلمدانِ نعت ہے


فضل خدا ۓ پاک ہے ، برھان نعت ہے


ہر شعر پُل صراط ہے، محتاط ہو کے چل


جی بھر کے باغ خلد میں خالد پڑھیں گے نعت  
ہر نعت خود کہےتٗجھے عرفانِ نعت ہے


کہتے ہیں خلد جس کو وہ ایوانِ نعت ہے


سید خالد عبداللہ اشرفی اورنگ آبادی، بھارت
ہر دور کی رگوں میں رواں اُنکا ذکر ہے


===== [[خالد عرفان]]، [[نیو یارک]]، [[امریکہ]] =====
گویا زماں زماں نہیں، دیوانِ نعت ہے
مت بے وضو اٹھا نا ، قلم دانِ نعت ہے


دیوانو ! ہوشیار ! یہ دیوانِ نعت ہے


اُمیدِ وصل، اشک، غمِ ہجر، اور اشک


میں فرض پڑھ کے لکھتا ہوں اپنے نبی کی نعت
یہ زادِ راہِ عشق ہے، سامانِ نعت ہے


جائے نماز ہی ، مرا جزدان ِ نعت ہے


یہ نام تھا، دعا تھی کہ والد کا خواب تھا


خوں کا بہاؤ، دل کی دھڑک ، آنکھ کی جھپک
جِسکے سبب ہی آج یہ حسانِؔ نعت ہے


میرا توانگ انگ ثناخوانِ نعت ہے
===== [[حسن رضا حسانی ]] ، [[کلاسوالہ سیالکوٹ ]]، [[پاکستان]] =====




مدحت کے پھول پھیلے ہوئے ہیں زمین پر
حبِّ رسول سے سجا دامانِ نعت ہے


اب آسماں بھی دیدہ ء حیرانِ نعت ہے
توصیفِ مصطفیٰ ہی فقط شانِ نعت ہے




کاغذ ، قلم ، دوات ہیں میرے شریک عشق


دنیا سمجھ رہی ہے یہ سامان ِ نعت ہے
لفظوں کے موتی اور نکھرتے ہیں نعت سے


جو کچھ ہے عشق میں لکھا وہ جانِ نعت ہے


ممکن ہے نعت گو کو ملے نعت کا صلہ


میدانِ حشر اصل میں میدان نعت ہے


ہے تیز دھار سیف پہ چلنے کی مثل نعت


دو چار لفظ لکھ کے ثنائے رسول میں
اپنا عقیدہ اصل میں پہچانِ نعت ہے


ہم نے سمجھ لیا ہمیں عرفان ِ نعت ہے


اب ذہن کا جہان معطر ہوا مرا


اکثر یہ سوچتا ہوں گناہوں کے بعد میں
وہ اس لیے کہ دوستو فیضانِ نعت ہے


کیا میرا عشق لائق ِ شایان ِ نعت ہے ؟


رب نے بھی مصطفیٰ کا ذکر خوب ہے کیا


اس راہ میں کروڑ پتی بن گئے ہیں لوگ
ہر معجزہ حضور کا شایانِ نعت ہے


ہر نعت خواں پہ رحمت ِ باران ِ نعت ہے


===== [[خادم رسول عینی]]، [[اڈیسہ]]، [[انڈیا]] =====
مجھ کو سلیقہ آ گیا مدحت سرائی کا
مکمل نام : سید خادم رسول عینی


لیل و نہار پر مرے احسان نعت ہے
اچھا سخن طراز ہوں احسانِ نعت ہے


میری حیات نور پہ جزدان نعت ہے


محشر کے دن ذرا بھی نہ گھبرائے گا حسن


بچے ہوں یا ضعیف سبھی نعت پڑھتے ہیں
دیکھو تو اس کے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


محمد حسن رضا حسانی، کلاس والہ سیالکوٹ، پاکستان


اک کنکری نے کلمہ پڑھا اور یہ کہا
===== [[حسن علی خاتم]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
کچھ پاسِ آرزو ہے، نہ عرفانِ نعت ہے
 
اک شوق ہے سو وہ بھی نہ شایانِ نعت ہے


ہر شئ کے دل میں دیکھئے ارمان نعت ہے


اتنا سا دل ہے اور سرِ میدانِ نعت ہے


توریت میں زبور میں بھی ان کی ہے ثنا
حاشا یہ حوصلہ نہیں، فیضانِ نعت ہے


قرآں مگر سدا کے لیے جان نعت ہے


کیا کیا نہ زیرِ سایہِ دامانِ نعت ہے؟


وہ نظم ہو غزل ہو کہ دوہا کہ ہائیکو
ہر شے پہ کائنات میں احسانِ نعت ہے


بس ان کا ذکر ہو یہی پہچان نعت ہے


جب لفظِ کن ہی مطلعِ دیوانِ نعت ہے


سیرت نبی کی لکھ تو سراپا بھی ان کا لکھ
پھر کیا ہے جو نہ داخلِ دامانِ نعت ہے؟


ان دونوں کو ملا دے یہ ریان نعت ہے


مخصوص شاعری سے نہیں نعت کا عمل


سرکار کے وسیلے سے مقبول ہوگئ
سنت کو جو بھی تھام لے، حسانِ نعت ہے


آدم کی" عینی" توبہ بھی برہان نعت ہے


===== [[خاور اسد]]، [[رحیم یار خان]]، [[پاکستان]]  =====
جو اشک ان کی یاد میں نکلے، سو شعر ہے
نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے


یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے
جس دل میں بھی وہ ہیں، سو دبستانِ نعت ہے




وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے
شعر و سخن میں اس کو مقید نہ جانیے


میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"




تعریف ہے خدا کی، نبی کی ہی کیوں نہ ہو


جز مدحِ شاہ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے  
یہ حمد ہے اگرچہ بہ عنوانِ نعت ہے


خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے


محشر کے واسطے یہ حوالہ بہت ہے دوست


اس کے ہر ایک لفظ پہ افسوس کیجئے
خاتم فقیرِ راہِ فقیرانِ نعت ہے
جس کی بیاض بے سرو سامانِ نعت ہے


===== [[حسنین الثقلین]]، [[مدینہ منورہ]]، [[سعودی عرب]] =====
مکمل نام : سید محمّد حسنین الثقلین


تشنہ لبی کو بوسہِ نعلین چاہئے
پَل پَل جو پَل رہا ہے، وہ ارمانِ نعت ہے


دل کی تپش کا توڑ یہ بارانِ نعت ہے
دل میں جو جاوداں ہے، وہ فیضانِ نعت ہے




احساں ہے عالمین پہ میلادِ مصطفی
کہتے ہوۓ غزل بھی، مجھے دھیانِ نعت ہے
یہ کائنات اصل میں ایوانِ نعت ہے


سچ پوچھیے تو یہ مِرا پیمانِ نعت ہے


رحمت ہیں وہ تمام جہانوں کے واسطے
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


وَالَّیل، وَالضُّحی، کہیں وَالفَجر کا بیاں


مجھ ایسے بے ہنر کو پنہ مل گئی اسد
کیسا حسیں سجا ہُوا قرآنِ نعت ہے


کتنی کشادگی سرِ دامانِ نعت ہے


===== [[خرم جمیل]]، [[میلسی]] =====
سمجھا ہے کون رُتبۂ مرسل بجز خُدا
ہر اشک میری آنکھ کا سامان ِ نعت یے


یہ حال میرا دیکھیئے دورانِ نعت ہے  
حاصل کسے بھلا ہُوا عرفانِ نعت ہے




پڑھتے. رہو درود یہی راستہ تو یے
لازم ہے ہم نماز میں اُن پر پڑھیں درود


ذکر ِ رسول پاک ہی امکانِ نعت یے
ثابت ہوا نماز بھی سامانِ نعت ہے




کرتے ہو ہر نماز میں تعریف مصطفیٰ
میرے خمیر میں ہے وِلاۓ نبی گُندھی


تم خوش نصیب ہو تمھیں عرفانِ نعت ہے
اِس واسطے سرشت میں میلانِ نعت ہے




ہر لفظ میرے سامنے رکھا ہوا تو ہے
ہوش و خرد کو دل کے مَیں رکھتا ہوں آس پاس


بس آیہِ قرآن ہی. شایانِ نعت ہے
اِس واسطے کہ سامنے ایوانِ نعت ہے




تعریف ہر غلام کرے اس غلام کی
"صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے"


عشقِ بلال اصل میں میزان نعت ہے
”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“




اس کا یقین رشک کے قابل ہے اے جمیل
حسنی کو مرحبا کہا رضوانِ خُلد نے


جو کہہ رہا ہے شعر کو دیوان نعت ہے
دیکھا کہ ہاتھ میں مِرے دیوانِ نعت ہے


===== [[حسنین اکبر]]، [[دوبئی]] =====


ہم میلسی کے لوگ عقیدت مزاج ہیں
اُمی لـقب سے عَلَّمَ بُرہانِ نعت ہے


خرم ! یہ شہر شہرِ غلامانِ نعت ہے
اقرأ باســم ربـك اعلانِ نعت ہے


===== [[خلیل الرحمان]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
وہ پہلا نعت گو وہی سلطانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد خلیل الرحمان


کس کا کلام ہو سکا شایان ِ نعت ہے
ہر نعت گو رعیّتِ عمرانِ ع نعت ہے


قرآن کا نزول ہی سامان ِ نعت ہے
بنیادِ مدحِ سید الابرار ص ہے درود


فرمانِ کردگار میں فرمانِ نعت ہے


تخلیق ِ کائنات کا سرکارؐ ہیں سبب
شق القمر دو باٹ کی صورت بٹے ہوئے


“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”
دستِ الہُٰ العدل میں میزانِ نعت ہے


پیغمبرِ ص حیات ہیں سرکارِ ص دوجہاں


ذکر ِ نبیؐ کے واسطے رزق ِ سُخن کھُلا
"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر دل بنا جبھی تو قلمدان ِ نعت ہے
جس نعت میں علی ع و محمد ص کی بات ہو


وہ کائناتِ نعت میں سلمانِ ع نعت ہے


صلّ ِ عَلٰی کے ورد سے دل کو ملے قرار
اظہارِ کُل صفاتِ الہٰی انہی ص سے ہے


شاید اسی لیے ہی یہ سُلطان ِ نعت ہے
اب اس کے بعد جو بھی ہے میدانِ نعت ہے


حرفِ دعا ہے آیہءِخیرالجزا کے بعد


کرتا ہے روز و شب وُہی توصیف ِ مُصطفٰےؐ
مجھ کو جزا کی مد میں بھی ارمانِ نعت ہے


جس شخص کو عطا ہوا عِرفان ِ نعت ہے
دنیا ادب سے لیتی ہے جو نعت گو کا نام


  کوئی ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے


ملتے ہیں لوگ پیار سے مُجھ سے غریب کو
پہلی اذانِ اسمِ محمد ص تھی عرش پر


عزت کا آسرا مِرا فیضان ِ نعت ہے
دراصل کعبہ دوسرا ایوانِ نعت ہے


قرآں کہو صحیفہ کہو  کوئی نام دو


تُو روضۂ ِ رسولؐ کے قابل نہ تھا خلیلؔ
دیوانا جانتا ہے یہ دیوانِ نعت ہے


تُجھ پر ہُوا ضرور وُہ احسان ِ نعت ہے
دل سے دعائیں دیجیے مدحِ رسول ص پر


===== [[خورشید رضوی]] ، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
خاموشی اس مقام پہ کفرانِ نعت ہے


یہ گلستانِ نغمہِ سرایانِ نعت ہے
یہ داستان عشق ہے کارِ جہاں نہ جان


سرگرم ہر روش پہ دبستانِ نعت ہے
لکھنے سے پہلے یہ بتا،ایمانِ نعت ہے؟


طیبہ سے ہوکے جاتے ہیں ہم سوئے کربلا


ہے طبع سب کی ایک ہی آہنگ میں رواں
ہر شاہراہِ عشق خیابانِ نعت ہے


یکساں تمام بزم میں فیضانِ نعت ہے
اکبر میں اسـکے ہاتھ پہ بیعت ابھی کروں


جس کو بھی اس زمانے میں عرفانِ نعت ہے


غںچے چٹک رہے ہیں نکاتِ سخن کے آج
===== [[حسنین شہزاد]]، [[کوٹ عبد الحکیم]] ، [[پاکستان]] =====


سمجھے گا کچھ وہی جسے عرفانِ نعت ہے
سُلگا ہؤا خیال میں لوبانِ نعت ہے


خوش ہیں قلم دوات کہ امکانِ نعت ہے


مضموں نکالنا ہیں ستاروں کو جوڑ کر


پھیلا ہوا فلک پہ یہ سامانِ نعت ہے
باب السّلام ، بابِ امان و سکون ہے


بابِ بقیع ، باب ِ خیابانِ نعت ہے


جو رنگ سوچئے سو ہے اس نقش سے فرو


جو حرف دیکھیےسو پشیمانِ نعت ہے
عُشّاق جانتے ہیں مقام ِ مواجہہ


عُشّاق یعنی وہ جنہیں عرفانِ نعت ہے


وہ فکر لائیے کہ ہو ہم دوشِ بامِ عرش


وہ لفظ ڈھونڈیے کہ جو شایانِ نعت ہے
چشمِ خیال ، بَن کے دِوانی کبوتری


محوِ طواف ِ روضہ ءِ سلطانِ نعت ہے


ہر بات میں ہے اُسوہِء کامل نبیؐ کی ذات


"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
تعلیم ہو، سفر ہو، تجارت ہو ، عدل ہو


" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر موجہِء ہوا میں ہے خوشبو درود کی


ہر ذرّہ رُو بہ راہِ درخشانِ نعت ہے
===== [[حسنین عاقب]]، [[مہاراشٹر ]]، [[بھارت ]] =====


سیرت نبی کی، ذکرِ نبی جانِ نعت ہے


ہے ہر شجر اُٹھائے ہوئے مدح کا عٙلٙم
میں نعت گو ہوں، مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


ہر برگ پہ لکھا ہوا عُنوانِ نعت ہے


آدابِ نعت گوئی قلم کو سکھائیے


ہے یاد آسماں کو وہ شقُ القمر کی رات
اور یہ خیال رکھیے، یہ میدانِ نعت ہے


باندھے ہوئے حضورؐ سے پیمانِ نعت ہے


اذہان جن کے مہکے عقیدت کے نور سے


خورشید ! آفتابِ قیامت کے رُو برو
حاصل انہی کو ہوسکا وجدانِ نعت ہے


کافی مجھے یہ سایہِ دامانِ نعت ہے۔


===== [[دانش حسین دانش]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
اصنافِ شعر جتنی ہیں، اپنی جگہ مگر
شہرِ تخیلات میں عرفانِ نعت ہے


دل میں مرے مکین جو سلطانِؐ نعت ہے
ہر ایک صنفِ شعر تو قربانِ نعت ہے




قرآں کی آیتوں سے کھلا ہم پہ یہ رموز
لفظوں کے جوڑ توڑ سے نسبت نہیں اسے


خود خالقِ رسولؐ ثناء خوانِ نعت ہے
عشقِ رسول ہی سے تو پہچانِ نعت ہے




خیراتِ فکر اس سے ہی لیتا ہوں بار بار
اے کاش! میری نعت سے خوش ہوکے ایک دن


عمرانؑ کا جو گھر مرے دیوانِ نعت ہے
کہہ دیں یہ خود نبی کہ تو خاقانِ نعت ہے




ہر رجس سے ہو پاک ہر اک لفظ میں ہو عشق
عاقب نے جس کا نام رکھا '' خامہ سجدہ ریز ''


اجزائے نعت ہے یہی ارکانِ نعت ہے
باعث نجات کا مرا دیوانِ نعت ہے


===== [[حسیب آرزو]]، [[بکسر]]،[[ بھارت]] =====


چکھ رکھا ہے لعابِ محمدؐ اسی لئے


مولا علیؑ بتائیں گے کیا شانِ نعت ہے
یہ دہر کیا ہے“ واللہ گلستان نعت ہے


ہر شے پہ کاٸنات کی، فیضان نعت ہے


نوکِ سناں پہ ہوں کہ ہوں شبیرؑ زیرِ تیغ


حمدِ خدا کہیں کہیں عنوانِ نعت ہے
ظلم و ستم کی دھوپ بگاڑے گی کچھ نہیں


جب تک ہمارے سر پہ خیابان نعت ہے


ذکرِ رسولِؐ پاک ہے سانسوں سے متصل


'' ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے''
محفوظ تو خزاٶں سے ہر وقت ہے وہی


سایہ فگن یہ جس پہ بھی باران نعت ہے


تو بابِ شہرِ علمؑ سے دانشؔ ہے منسلک


جب تک کہ تیرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
کیسے مٹے گا تذکرہ خیرالانام کا


===== [[دلاور علی آزر]]، کراچی، پاکستان  =====
پروردگار جب کہ نگہبان نعت ہے




پھیلا ہوا بہت سر و سامانِ نعت ہے
حج کی سعادتیں ہوں یا صوم و صلوة ہوں


وسعت پزیر عالمِ امکانِ نعت ہے
“ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے“


مجھ میں بسی ہوئی ہے مہک مدحِ شاہ کی


مجھ میں کِھلا ہوا گُلِ ریحانِ نعت ہے
شاعر کا ہونا عشق میں کچھ شرط تو نہیں


اِس لوح پر حضور کی مدحت لکھوں گا میں
یہ عاشقِ رسول بھی مردان نعت ہے


یہ میرا دل نہیں ہے یہ جزدانِ نعت ہے


باندھا گیا ہے عشق کی ڈوری سے لفظ کو
جاکر پڑھوں میں شہر مدینہ میں با ادب


مشکل ہے توڑنا اِسے پیمانِ نعت ہے
اک،،آرزو کے دل میں بھی ارمان نعت ہے


ہر کارِ خیر اُن سے عبارت ہے دہر میں
===== حسیب جمال ۔ یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے =====


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
شاعر : [[حسیب جمال]] ، [[راولپنڈی]]


پہچانتے ہیں مجھ کو جو دنیا میں چند لوگ


یہ اور کچھ نہیں ہے یہ فیضانِ نعت ہے
یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے  


ورنہ کہاں یہ ہیچ ہنر اور کہاں یہ ظرف
لیکن کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے
۔


میں نعت لکھ رہا ہوں تو احسانِ نعت ہے
لغزش سے ہو نہ جائے سبھی کچھ ہی رائگاں


لفظوں سے نورِ عشق جھلکتا ہے سر بہ سر
احباب! احتیاط، یہ میدانِ نعت ہے


میری غزل کے رنگ میں اعلانِ نعت ہے


اُس کو بیان شعر میں کیسے کرے کوئی
اشکوں کے ساتھ جانبِ طیبہ میں چل دیا


وہ کیفیت جو لفظ کی دورانِ نعت ہے
زنبیلِ چشم میں یہی سامانِ نعت ہے  


حکمت کی سب حدیں ہیں اِسی آئنے میں ضم


رحمت سمیٹتا ہوا دامانِ نعت ہے
پہلے نبی کے عشق سے دل کو سجاو تم


آزر میں پوچھتا ہوں سبھی ناعتین سے
میں نے سنا ہے دوستو یہ کانِ نعت ہے


میرا لکھا ہوا بھی کیا شایانِ نعت ہے


===== [[ذوالفقار علی دانش]] ، [[حسن ابدال]]، [[پاکستان]] =====
لکھنے لگا جو نعت تو محسوس یہ ہوا


آثار ہیں کہ آمدِ بارانِ نعت ہے  
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


دامن پسارییے شبِ فیضانِ نعت ہے


قرآن کا محافظِ مطلق ہے خود خدا


جس کو شعورِ خواہش و ارمانِ نعت ہے  
یعنی کہ خود خدا بھی نگہبانِ نعت ہے  


وہ جان لے کہ اُس پہ یہ احسانِ نعت ہے


مل کر درود بھیجیے خیر الانام پر


ہر سمت آج کل یہ جو رجحانِ نعت ہے  
لائق یہی ہے اور یہی شایانِ نعت ہے  


سرکار کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


کھل کر جمال کیجیے توصیفِ مصطفیٰ


جس شہر میں بھی نعتِ محمد کہی گئی
توصیفِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے


وہ شہر از قبیلِ خیابانِ نعت ہے  
===== [[حسین امجد]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]]=====
کب میر ے پاس آپ کے شایانِ نعت ہے  


حسۤان کے قدوم کی جو خاک بھی نہیں
میر ے حضور دل میں یہ ارمانِ نعت ہے


کیسے یہ مان لیں کہ وہ حسّانِ نعت ہے ؟


قرآں بیاں کرتا ہے ، توصیف آپ کی


انسان ہوں ، مَلَک ہوں ، کہ کنکر ، شجر ، حجر
یعنی قرآن ِ پاک ہی شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


دیکھو جسے ، شریکِ دبستانِ نعت ہے


میر ے حضور آپ کا مدحت نگار ہوں


مدحت میں صرف میرا قلم ہی نہیں رواں
میر ے حضور مجھ پہ یہ ' احسان ِنعت ہے


میرا رُواں رُواں بھی گُل افشانِ نعت ہے


میں تٙو حضور سایہء رحمت میں آگیا


زیبا ہے بس یہ حضرتِ حسّان کے لیے
صد شکر میر ے پاس بھی دیوان ِنعت ہے


ہر گز نہ کہیے کوئی بھی سلطانِ نعت ہے


میر ے حضور ایسا  کوئی شعر ہو عطا


گر نعت کہنے کا ہے ارادہ تو جانیے
محفل میِں ، میٙں پڑھوں تو کہیں جانِ نعت ہے  


" ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


ایسی فضا حضور مری مستقل رہے


جو سیکھنا ہو سیکھیے قرآں سے طرزِ نعت  
جیسی مر ے جضور یہ دورانِ نعت ہے


ہر لفظ اس صحیفے کا شایانِ نعت ہے


میر ے حضور حشر میں رسوا نہیں ہوا


صد فخر ہوں میں ناعتِ سرکارِ نامدار
میر ے حضور محض یہ فیضانِِ نعت ہے


صد شکر میری طبع میں میلانِ نعت ہے


امجد عروجِ نعت سے قائم ہے کائنات


قربانِ مدحِ سرورِ عالم ہے جاں مری
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


سب کچھ مرا فدائے فدایانِ نعت ہے  
===== [[حسین شاہ زاد]]، [[دوبئی]] =====
چھائی ہوئی کچھ ایسے بہارانِ نعت ہے


لب پر درود دل میں گلستانِ نعت ہے


رکھ پھونک پھونک کر رہِ مدحت میں ہر قدم


حدِّ ادب رہے کہ یہ میزانِ نعت ہے  
قرآن جس کی شان میں دیوانِ نعت ہے


اس دلربا کی دُھن مرا سامانِ نعت ہے


اے ساکنانِ کُوچہِ امکان دیکھنا


اِمشب بھی کیا کہیں کوئی امکانِ نعت ہے ؟؟؟
ساون کچھ ایسے حُسن سے آیا ہے اب کی بار


اشکوں کے جلترنگ میں بارانِ نعت ہے


شانِ رسول فہمِ بشر سے ہے ماورا


مت سوچیے کہ آپ کو عرفانِ نعت ہے
فصلِ ربیع واہ تری دل ربائیاں


گھر گھر میں ذکرِ الفتِ جانانِ نعت ہے


پہلی صدی ہو یا کہ ہو وہ آخری صدی


حسّان ہی امیرِ جوانانِ نعت ہے
کون و مکان ان کی تمنّا میں ہیں مگن


اور ان کے دھیان میں، جو ثنا خوانِ نعت ہے


حمدِ خدا کے دائرے کی حد سے اِس طرف


جتنا بھی جس قدر بھی ہے ، میدانِ نعت ہے  
اعزاز میں جو ان کے سجی ہے یہ کائنات


پیرایۂِ لطیف میں اعلانِ نعت ہے


کتنا کرم کیا ہے رسالت مآب نے


دانش بھی ریزہ چینِ گدایانِ نعت ہے
صد مرحبا جو اشک بہے ان کے عشق میں


گریہ اس عقل پر جو گریزانِ نعت ہے


دانش ! رموزِ شاعری ہیں قلب و جسم و روح


آقائے دو جہاں کا ادب جانِ نعت ہے
فیضِ نگاہِ شوق سے منطق پکار اٹھی


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اُڑتا پھرے ہے باغ میں آئی ہے بُوئے نعت


دانش کہ بلبلِ چَمَنِستانِ نعت ہے
وجدان و قول و فعل پہ ہی منطبق نہیں


===== [[ذوالفقار نقوی]]، [[جموں کشیمر]]، [[انڈیا]] =====
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


صَلُّوا کی صاد میں نہاں فرمانِ نعت ہے


صلِ علی کے ورد میں اعلانِ نعت ہے
ذوقِ سخن عطائے خداوند ہے مگر


کیا بات اس عطا کی جو وجدانِ نعت ہے


اس کِشتِ لالہ زار میں مصروف ہیں مَلک
ہر ذی شعور دیکھئے دہقانِ نعت ہے


مہکے ہوئے ہیں ذرّے رَفَعنا کے ذکر سے
ہو آیا دل مدینہ سے جب رہ گئے قدم


زِ ارض تا ثریا خیابانِ نعت ہے
کیا کم یہ کم نصیبوں پہ احسانِ نعت ہے؟




ہے نورِ مصطفیٰ سے زمانے میں روشنی
آفاق دیکھ، نفس کو دیکھ، ارتقاء کو دیکھ


سب کائنات شمعِ شبستانِ نعت ہے
ہر متنِ کائنات پہ عنوانِ نعت ہے




عشقِ رسولؐ پاک ہو گر دل میں موجزن
دنیا کے بادشاہوں کا ہو کیوں نیاز مند
شہ زادٓ خاکِ پائے ثنا خوانِ نعت ہے


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


پروانہ وار جلنے کو آیا ہے شاہ زادٓ


ہر آن محوِ ذکرِ رسالت مآبؐ ہوں
وہ بو الحسن کی شمعِ شبستانِ نعت ہے


اللہ کی عطا ہے یہ فیضانِ نعت ہے
===== [[حنیف نازش]]، [[گوجرانوالہ]]، [[پاکستان]] =====


سر پر ہمارے سایہ ٕ ذی شانِ نعت ہے


کر کے وضو درود سے، فکریں سنوار کر
حاصل خُدا کے فضل سے ایقانِ نعت ہے


لفظیں سجا رہا ہوں کہ میدانِ نعت ہے
رکھتی ہے مُجھ کو نعت رہِ مُستقیم پر


مُجھ پر، مِری حیات پر احسانِ نعت ہے


اہلِ سخن میں ہوتا ہے میرا شمار بھی
جب لب سے اُن کا نام لیا، نعت ہو گٸی


مدحِ نبیؐ کا ہے ثمر، احسانِ نعت ہے
نادان ہے وہ شخص جو انجانِ نعت ہے


صَلُّوا وَسَلِمُوا کی حلاوت کو پا کے دیکھ


والنجم و ھل اَتی سے مودّت کے باب تک
غافل! درودِ مُصطفوی جانِ نعت ہے


قرآن حرف حرف دبستان  ِ نعت ہے
بتلا رہی ہے آیتِ میثاق صاف صاف


مہکا ہُوا ازل سے گُلستانِ نعت ہے


صبح و مسا نہ کیوں رہوں سجدے میں
ہر داٸرے کا مرکزی نُکتہ نبی کی ذات
ذوالفقار


ہر آن میری فکر پہ بارانِ نعت ہے
”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


===== [[راحل بخاری]]، [[لکی مروت]]، [[پاکستان]] =====
نازش لواۓ حمد ہو، محمود کا مقام
سرمایۂ حیات اک ارمانِ نعت ہے


وہ کیا کرے جو بے سر و سامانِ نعت ہے
میدانِ حشر گویا کہ میدانِ نعت ہے


===== [[خالد خان]]، [[ڈیرہ اسماعیل خان]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد خالد خان


یارا نہیں کہ نعت کہیں ہم سے بے زباں
طاری کچھ ایسا موسمِ وجدانِ نعت ہے


لہجہ تو بس قرآن کا شایانِ نعت ہے
ہر دل مثیلِ طائرِ عرفانِ نعت ہے




دروازۂ بتول ع پہ آیات روشنی
جلوے ہیں کن فکاں کے فقط آپﷺ کے طفیل


دروازۂ بتول ع ہی ایوانِ نعت ہے
سارے جہاں پہ رحمتِ بارانِ نعت ہے




مسجد، کجھور، راستہ، دیوار، در، دیا
توبہ ابوالبشر کی میں نسبت تھی آپﷺ کی


اک شہر حسن زار میں سامانِ نعت ہے
جاری ازل سے ہست میں فیضانِ نعت ہے




اک نون عین تے کا ہے صدقہ بیانِ عصر
معراج سے ملا تھا جو اک تحفۂِ نماز


ایما و رمز و چاشنی فیضانِ نعت ہے
دراصل وہ نماز بھی پیمانِ نعت ہے




خوشبو کے پیش و پس کا علاقہ ہے نور کا
تاثیر وردِ صلِّ علیٰ کی تو دیکھیے


روشن سماعتوں پہ ہی بارانِ نعت ہے
درماں دلِ فگار کا دامانِ نعت ہے


===== [[رائے توکل اللہ]] =====
عرفان حمد صدقہء وجدان _نعت ہے


افکارمنتشر پہ یوں احسان _نعت ہے
ذکرِ درودِ پاک ہے مقبول ہر گھڑی


کیسا ہم عاصیوں پہ یہ احسانِ نعت ہے


بدلے میں حب کے , لفظوں کے در بے بہا ملیں


سودا یہ کتنا ارزاں بہ دکان_نعت ہے
مدحت تریﷺ بیاں کرے خالدؔ تمام عمر


خلقِ خدا کہے کہ سخندانِ نعت ہے


سیم و زر_جہان کی ہرگز نہیں طلب
===== [[خالد رومی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
ھر ایک شعر آیت قرآن نعت ہے


جب جمع پونجی گوہرمرجان _ نعت ہے  
جو حصر سے ورا ہے , وہ احسان نعت ہے  




قلبسیاہجن و بشر کی منزگی
انسان خوش نصیب بفیضان نعت ہے


من جملہ ! دو جہان میں جبران_ نعت ہے
کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوان نعت ہے  




معجب ہے جس پہ طائرفکرسخن وری
مخصوص شاعروں سے, کہاں خوان نعت ہے  


صد آفرین و مرحبا ! طیران_نعت ہے  
سارے جہاں پہ سایہء دامان نعت ہے  




ہر دم خیال میں ادب_مصطفی (ص) رہے
  کوئی نبی نہ سرور جیش رسل ہوا


آوازخامہ میں یہی اذعان نعت ہے  
ہاں ! مصطفی' کی ذات, جو شایان نعت ہے  




راقم کو اپنے نار سے کروانا رستگار
نکتہ کھلا یہ آیہء صلوا علیہ سے


لحظہ بہ لحظہ وعدہ و پیمان_نعت ہے
یعنی اس امر میں چھپا فرمان نعت ہے  




ام الکتب بھی جس پہ کرے رشک بار ہا
کس کا گزر ہے  ناحیہء حق میں اسطرح


عشاق کا لکھا ہوا دیوان_ نعت ہے
شایاں مرے حضور کو عنوان نعت ہے  




کب صنفنعت اہلادب ہی کا خاصہ ہے
شاہ جہاں, امام صور, خواجہء ازل


"ہر شعبہء حیات میں امکان_نعت ہے"
ختم رسل ہی زینت ایوان نعت ہے  




کیا خوش نصیب ہے جو غزل گوئی کی جگہ
کیسی غرض مطاعم فردوس آز سے


جدت پسند دور میں عمران_نعت ہے  
درویش کو عزیز نمکدان نعت ہے  




ملک_عدم روانگی کو دل ہے مطمئن
تیرہ بساط زیست تھی, پر نور ہو گئی


ہمراہ حشر کے لیے سامان_نعت ہے  
عشق رسول شمع شبستان نعت ہے  




کیوں کر نہ میرا علمی تبحر ہو در فشاں
یہ تذکرہ نہیں ہے زلیخاۓ مصر کا


بخشا مجھے رسول (ص) نے امعان_نعت ہے  
ھشیار ! کوۓ یوسف کنعان نعت ہے !!




حسن_خیال بخشے ہے ہر زید بکرکو
داراۓ شعر بھی ہو یہاں یہاں ہوش باختہ


نشوونما گمان کی ایقان_نعت ہے  
اللہ رے کیا ہی شوکت ایوان نعت ہے  




ڈنکا جو بج رہا ہے توکل کا چار دانگ
ھم کشتگان چشم ولا کو خوشا نصیب


فیض محمدی (ص) ہے , یہ فیضان نعت ہے
اسباب حمد ہیں, کہیں سامان نعت ہے  


===== [[رئیس جامی]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====


میں بے ہنر ہوں کب مجھے عرفانِ نعت ہے
توفیق دے خدا تو ملے گنج آگہی


مولا! مگـر کـرم ہو کہ ارمـانِ نعت ہے
عالم سے بڑھ کے دولت عرفان نعت ہے  




ان کا کرم کہ کاوشیں کرتے ہیں وہ قبول
اس دور افتراق و تعصب گزیدہ میں


ورنہ کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے
درکار ھر بشر کو ہی درمان نعت ہے  




میرے تخیـلات پہ چھائی ہے روشنی
اخلاص جاں, نہ فہم و تدبر, نہ سوز دل


کہتا ہوں میں یقیں سے یہ فیضانِ نعت ہے
لائق رفو کے چاک گریبان نعت ہے  




مطلع ہوا تو آنکھ سے آنسو نکل گئے
خیرات فکر و فہم اسے بخشئیے حضور !


قسمت کہاں مری کہاں جانانِ نعت ہے
رومی عجم میں آپ کا حسان نعت ہے  


===== [[خالد عبداللہ اشرفی]]، [[مہاراشٹرا]]، [[بھارت]] =====


دنیا مجھے حقیر نہ جانے میں ہوں غنی
پیشکش : [[غلام ربانی فارح مظفرپوری]]


دیکھو یہ میـرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


یہ زندگانی اصل میں عنوان نعت ہے


میرے خیـال میں اسے پتھر ہی جانیے
ہرلمحہ اس کا صفحۂ دیوان نعت ہے


وہ دل کہاں جو بے سـر و سامانِ نعت ہے


دامن میں اپنے صدقۂ حسان نعت ہے


اس نے رخِ حبیب کو تک کر کہی تھی نعت
عزت سے جی رہے ہیں یہ احسان نعت ہے


حسان اس لئے ہی تو سلطانِ نعت ہے




میرے تمام عیب چھپائے گا روز ِ حشر
لب وقف ہیں درود پیمبر کے واسطے


اتنـا طــویل وسعتِ دامــانِ نعـت ہے
صدشکر رب کہ دل ہوا قربانِ نعت ہے




بیٹھے بٹھائے ہوگئی اس در پہ حاضری
ہراک زبان ولہجہ میں موجود صنف نعت


کیسا رئیس دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے
کتنا وسیع دوستو دامانِ نعت ہے




===== [[رحمان حفیظ]] ، [[اسلام آباد]]، پاکستان =====
گل ، گُلسِتاں چَرِند وپَرِند، انس و جن ،ملک


جسکو بھی دیکھیے ، لیے ارمان نعت ہے


عشقِ رسول ہو تو یہ میدان ِ نعت ہے


ہر فن میں ، ہرہنر میں ہی امکان ِ نعت ہے
خون جگر سیاہی ، دل مضطرب ورق


لکھنے کے واسطے یہی سامان نعت ہے


مدح و ثنا کا سلسلہ افلاک سے چلا


'' صلو علیہ'' خاصۂ خاصانِ نعت ہے
حاضر. جو قلب رہتا ہے ان کے حضورمیں


سب یہ کرم ہے فیض ہے وجدان نعت ہے


اِس میں تو خود خُدا نے کی تحسین آپ کی


قران شاعری نہ سہی، جانِ نعت ہے
یہ جو لحد میں پھیلا اجالا ہے دوستو


فضل خدا ۓ پاک ہے ، برھان نعت ہے


الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں قطار میں


جس سے بھی پوچھ لیجئے، قربانِ نعت ہے
جی بھر کے باغ خلد میں خالد پڑھیں گے نعت  


کہتے ہیں خلد جس کو وہ ایوانِ نعت ہے


پہنچے گا اُس تلک بھی شفاعت کا سلسلہ
سید خالد عبداللہ اشرفی اورنگ آبادی، بھارت


خوش بخت ہے وہ جس میں بھی میلانِ نعت ہے
===== [[خالد عرفان]]، [[نیو یارک]]، [[امریکہ]] =====
مت بے وضو اٹھا نا ، قلم دانِ نعت ہے


دیوانو ! ہوشیار ! یہ دیوانِ نعت ہے


ان کو لُٹے پٹے تو زیادہ عزیز ہیں


اسبا ب کا نہ ہونا بھی سامانِ نعت ہے
میں فرض پڑھ کے لکھتا ہوں اپنے نبی کی نعت


جائے نماز ہی ، مرا جزدان ِ نعت ہے


حدِّ ادب سے ہو گئی عنقا صریرِ کلک


گویا مِرے قلم کو بھی عرفانِ نعت ہے
خوں کا بہاؤ، دل کی دھڑک ، آنکھ کی جھپک


میرا توانگ انگ ثناخوانِ نعت ہے


اے کوچہء سخن کے پریشان ! اتنا جان


تسکین دل جو ہے تو بفیضانِ نعت ہے
مدحت کے پھول پھیلے ہوئے ہیں زمین پر


اب آسماں بھی دیدہ ء حیرانِ نعت ہے


طیبہ سے ہو کے جائے گا باغِ بہشت تک


دشتِ ہنر میں یہ جو خیابانِ نعت ہے
کاغذ ، قلم ، دوات ہیں میرے شریک عشق


دنیا سمجھ رہی ہے یہ سامان ِ نعت ہے


واللہ ! صرف زائرِ طیبہ کا ہو تو ہو


احساس جو مجھے ابھی دورانِ نعت ہے
ممکن ہے نعت گو کو ملے نعت کا صلہ


میدانِ حشر اصل میں میدان نعت ہے


رُک سا گیا تھا چشمہء تخلیق لیکن آج


بنجر دل و دماغ میں بارانِ نعت ہے
دو چار لفظ لکھ کے ثنائے رسول میں


ہم نے سمجھ لیا ہمیں عرفان ِ نعت ہے


توفیق مانگتے ہیں سب اہلِ ہنر کہ جب


یہ ہو تو لفظ لفظ ہی شایانِ نعت ہے
اکثر یہ سوچتا ہوں گناہوں کے بعد میں


کیا میرا عشق لائق ِ شایان ِ نعت ہے ؟


اعجاز دیکھ  رحمتُ لِّلعالمین کا !


مجھ  بے ہنر کا ہاتھ بھی مہمانِ نعت ہے
اس راہ میں کروڑ پتی بن گئے ہیں لوگ


مملو ئے ادّعا ،نہ تعلّی سے بہرہ ور
ہر نعت خواں پہ رحمت ِ باران ِ نعت ہے


رحمان شاعری میں یہی شانِ نعت ہے
===== [[خادم رسول عینی]]، [[اڈیسہ]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : سید خادم رسول عینی


===== [[رحمان شاہ]] ، [[مانسہرہ]]، [[پاکستان]] =====
لیل و نہار پر مرے احسان نعت ہے
ہر موڑ پر یہ پانیوں کا چشمئہ خنک


"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
میری حیات نور پہ جزدان نعت ہے




چھو لوں میں رفعتوں کو مری شان بھی بڑھے
بچے ہوں یا ضعیف سبھی نعت پڑھتے ہیں


آقا کی داد جو ہو یہ ارمانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے




سنت کو ماننے میں جہانوں کی ہے فلاح
اک کنکری نے کلمہ پڑھا اور یہ کہا


سنت کا ہو بیان تو پہچانِ نعت ہے
ہر شئ کے دل میں دیکھئے ارمان نعت ہے  




آقا کی جو نگاہ یہ رحمانِ اب پڑی
توریت میں زبور میں بھی ان کی ہے ثنا
میرا نہیں کمال میاں شانِ نعت ہے


===== [[رحمان فارس]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
قرآں مگر سدا کے لیے جان نعت ہے


وہ جانتا ھے جس کو بھی عرفانِ نعت ھے


عشقِ مُحمَّدِ عَرَبی جانِ نعت ھے
وہ نظم ہو غزل ہو کہ دوہا کہ ہائیکو


بس ان کا ذکر ہو یہی پہچان نعت ہے


بے شک ھے حجرِ اسود اِسی بات کا ثبوت


بے جان پتھّروں میں بھی امکانِ نعت ھے
سیرت نبی کی لکھ تو سراپا بھی ان کا لکھ


ان دونوں کو ملا دے یہ ریان نعت ہے


اُس کی ھر ایک سانس ھے نعتِ نبی کا شعر


جو عاشقِ رسُول ھے دیوانِ نعت ھے
سرکار کے وسیلے سے مقبول ہوگئ


آدم کی" عینی" توبہ بھی برہان نعت ہے


ھم بندگانِ خاک بھلا کیا کہیں گے نعت
===== [[خاور اسد]]، [[رحیم یار خان]]، [[پاکستان]] =====
نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے


نُطقِ خُدائے پاک ھی شایانِ نعت ھے
یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے




کرتے ھیں یہ تو آخری ھچکی میں بھی ثنا
وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے


عُشّاق کو تو موت بھی سامانِ نعت ھے
میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے




دُنیاوی نعمتیں بھی مُجھے دِین سے ملِیں


میری غزل میں کیف بَفیضانِ نعت ھے
جز مدحِ شاہ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے


خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے


ذکرِ نبی کو کتنی بلندی پہ لے گیا


قُرآن اپنی رُوح میں قُرآنِ نعت ھے
اس کے ہر ایک لفظ پہ افسوس کیجئے
جس کی بیاض بے سرو سامانِ نعت ہے




لاھور سے عجب ھیں مدینے کی نسبتیں
تشنہ لبی کو بوسہِ نعلین چاہئے


فارس ! یہ شہر شہرِ غُلامانِ نعت ھے
دل کی تپش کا توڑ یہ بارانِ نعت ہے


===== [[رِضا شیرازی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
چھلکا جو دل کے جام سے میزانِ نعت ہے


پیدا ہوا جہان میں سامانِ نعت ہے
احساں ہے عالمین پہ میلادِ مصطفی
یہ کائنات اصل میں ایوانِ نعت ہے




اٹھتی ہوئی غدیر کے منبر پہ منقبت
رحمت ہیں وہ تمام جہانوں کے واسطے
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


آزانِ حمد ہے, یہی پالانِ نعت ہے


مجھ ایسے بے ہنر کو پنہ مل گئی اسد


سیرت, طریق, زلف, تکلم, سفر, مزاج
کتنی کشادگی سرِ دامانِ نعت ہے


آوازِ کبریا میں یہ قرآنِ نعت ہے
===== [[خرم جمیل]]، [[میلسی]] =====
ہر اشک میری آنکھ کا سامان ِ نعت یے


یہ حال میرا دیکھیئے دورانِ نعت ہے


گھر میں, سفر میں, جنگ میں, غربت میں, امن میں


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
پڑھتے. رہو درود یہی راستہ تو یے


ذکر ِ رسول پاک ہی امکانِ نعت یے


قائم ہوئی جہاں میں سبھی عاشقوں کی صف


ہونے لگی درون میں آزانِ نعت ہے
کرتے ہو ہر نماز میں تعریف مصطفیٰ


تم خوش نصیب ہو تمھیں عرفانِ نعت ہے


یوں متصل ہے آل ع سے احمد ص کا تذکرہ


کفرانِ منقبت میں ہی کفرانِ نعت ہے
ہر لفظ میرے سامنے رکھا ہوا تو ہے


بس آیہِ قرآن ہی. شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


مانگی ہے نعت حضرتِ عمران ع سے, سنو!


ہاتھوں میں جن کے اب بھی قلمدانِ نعت ہے
تعریف ہر غلام کرے اس غلام کی


===== [[رضا عباس رضا]]  ، [[لاہور]] =====
عشقِ بلال اصل میں میزان نعت ہے
بشکریہ : [[صادق جمیل]]، لاہور


یہ کائنات نکتہِ ایوان ِ نعت ہے


قرآن پاک اصل میں اعلانِ نعت ہے
اس کا یقین رشک کے قابل ہے اے جمیل


جو کہہ رہا ہے شعر کو دیوان نعت ہے




اب ذہن اپنا رنگ بدل، دل ذرا سنبھل
ہم میلسی کے لوگ عقیدت مزاج ہیں


یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے
خرم ! یہ شہر شہرِ غلامانِ نعت ہے


===== [[خلیل الرحمان]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد خلیل الرحمان


محشر میں سر اُٹھا کے چلوں گا کہ میرے پاس
کس کا کلام ہو سکا شایان ِ نعت ہے


سرمایہ منقبت کا ہے سامانِ نعت ہے
قرآن کا نزول ہی سامان ِ نعت ہے




میراثِ مصطفٰیؐ کا نہ دعویٰ کرے کوئی
تخلیق ِ کائنات کا سرکارؐ ہیں سبب


جو وارثِ نبیؐ ہے نگہبانِ نعت ہے
“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”




ہر شئے خدا کے ذکر میں مصروف ہے تو مان
ذکر ِ نبیؐ کے واسطے رزق ِ سُخن کھُلا


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر دل بنا جبھی تو قلمدان ِ نعت ہے  




ہے خاکسار عرش نشینوں کا ہم خیال
صلّ ِ عَلٰی کے ورد سے دل کو ملے قرار


یہ فضل ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے
شاید اسی لیے ہی یہ سُلطان ِ نعت ہے




مت روکنا فرشتوں ذرا غور تو کرو
کرتا ہے روز و شب وُہی توصیف ِ مُصطفٰےؐ


خاکِ شفا ہے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
جس شخص کو عطا ہوا عِرفان ِ نعت ہے




میں کیا تھا مجھ کو جانتا کوئی نہ تھا رضا
ملتے ہیں لوگ پیار سے مُجھ سے غریب کو


عزت مجھے ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے
عزت کا آسرا مِرا فیضان ِ نعت ہے


===== [[رفیع الدین راز]]، [[امریکہ]] =====
بشکریہ : [[اویس راجا]]


تُو روضۂ ِ رسولؐ کے قابل نہ تھا خلیلؔ


جن و بشر کو کیا پتا ، کیا شانِ نعت ہے
تُجھ پر ہُوا ضرور وُہ احسان ِ نعت ہے


اللہ کے سوا کسے عرفانِ نعت ہے
===== [[خورشید رضوی]] ، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


یہ گلستانِ نغمہِ سرایانِ نعت ہے


آدابِ نعت گوئی کا پیہم رہے خیال
سرگرم ہر روش پہ دبستانِ نعت ہے


شوکت میں حمد ہی کی طرح شانِ نعت ہے


ہے طبع سب کی ایک ہی آہنگ میں رواں


نغمہ سرا ہے خون کی ہر بوند میں حیات
یکساں تمام بزم میں فیضانِ نعت ہے


دل پر عجیب طور سے فیضانِ نعت ہے


غںچے چٹک رہے ہیں نکاتِ سخن کے آج


کیفیتِ دیارِ دل و جاں نہ پوچھئے
سمجھے گا کچھ وہی جسے عرفانِ نعت ہے


ہر خطۂ وجود دبستانِ نعت ہے


مضموں نکالنا ہیں ستاروں کو جوڑ کر


نوکِ قلم کو اور کیا اعزاز چاہئیے
پھیلا ہوا فلک پہ یہ سامانِ نعت ہے


آقا کا ذکرِ خیر ہے ، رجحانِ نعت ہے


جو رنگ سوچئے سو ہے اس نقش سے فرو


بھیجا درود اس نے نبی پر تو یہ کھلا
جو حرف دیکھیےسو پشیمانِ نعت ہے


وہ بھی اسیرِ حلقۂ جزدانِ نعت ہے


وہ فکر لائیے کہ ہو ہم دوشِ بامِ عرش


لب پر درود ، دھیان میں ہے ذاتِ مصطفٰے
وہ لفظ ڈھونڈیے کہ جو شایانِ نعت ہے


زادِ سفر میں بس یہی سامانِ نعت ہے


ہر بات میں ہے اُسوہِء کامل نبیؐ کی ذات


خوشبو ہے، روشنی ہے، یا پھر پرتوِ خدا
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


کوئی تو ہے جو اس گھڑی مہمانِ نعت ہے


ہر موجہِء ہوا میں ہے خوشبو درود کی


ہر موڑ ہر قدم پہ نوازا گیا ہوں میں
ہر ذرّہ رُو بہ راہِ درخشانِ نعت ہے


دن رات میری ذات پہ احسانِ نعت ہے


ہے ہر شجر اُٹھائے ہوئے مدح کا عٙلٙم


نعتِ نبی کے فیض سے میری نگاہ میں
ہر برگ پہ لکھا ہوا عُنوانِ نعت ہے


اس وقت دل کا آئینہ ایوانِ نعت ہے


ہے یاد آسماں کو وہ شقُ القمر کی رات


کھلتے رہیں گے نوکِ قلم پر ثنا کے پھول
باندھے ہوئے حضورؐ سے پیمانِ نعت ہے


جب تک نبی سے عشق ہے امکانِ نعت ہے


خورشید ! آفتابِ قیامت کے رُو برو


قلب و نظر پہ کیوں نہ ہو برسات نُور کی
کافی مجھے یہ سایہِ دامانِ نعت ہے۔


دستِ خیال میں ابھی دامانِ نعت ہے
===== [[خورشید بیک میلسوی]]، [[میلسی]]، [[پاکستان]] =====


بشکریہ: [[یاسر عباس فراز]]


یوں ہی نہیں ہے دل کی زمیں عطر بیز آج
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے  


جزدانِ قلبِ راز میں دیوانِ نعت ہے
وسعت پذیر, وسعتِ دامانِ نعت ہے  


===== [[رفیق راز]]، [[سری نگر، کشمیر]]، [[انڈیا]] =====
ام الکتاب دیکھ یہی کان نعت ہے


آیت ہے کویی در کویی مرجان نعت ہے
عرفانِ نعت گوئی بھی فیضانِ نعت ہے  


سچ پوچھیے تو مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


ہے داغ سجدہ صرف یہ ماتھا لیے ہوئے


بآقی تمام جسم ہی. جزدان نعت ہے
بے مایہِ سخن ہوں مجھے اس کا غم نہیں


اخلاصِ بے ریا , سرو سامانِ نعت ہے


آنسو ہے روشنایی مژہ ہے مرا قلم


طاری بدن پہ کپکپی دوران نعت ہے
ہر لمحہ دھڑکنوں میں ہے صلِ علیٰ کی گونج


یہ میرا دل نہیں ,  کوئی ایوانِ نعت ہے


اعمال نامہ میں مرے کچھ بھی نہیں مگر


میں مطمئن ہوں ساتھ یہ سامان نعت ہے
ہر سُو سجی ہوئی ہیں درودوں کی محفلیں


یہ ساری کائنات گلستانِ نعت ہے


آب و ہواے اسم محمد ہے دایمی


پت جھڑ میں بھی بہار پہ بستان نعت ہے
دیتا نہیں ہے مجھ کو بھٹکنے ترا خیال


آداب آشنا مرا وجدانِ نعت ہے


دل پر لبوں پہ صل علیٰ ثبت ہے مرے


اللہ کا کرم ہے یہ فیضان نعت ہے
رکھا ہے طاقِ صدر میں اس نے سنبھال کر


وہ جانتا ہے دل مرا دیوانِ نعت ہے


رکھ تو قدم اے اسپ قلم پھونک پھونک کر


دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے
رکھتا ہے بے نیاز مجھے مدحِ غیر سے


گویا مرا قلم ہی نگہبانِ نعت ہے


باکار ہاتھ ہیں ترے با یار دل کو رکھ


ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
ہو کیوں نہ بے مثال مرا حسنِ انتخاب


خورشید حرف حرف ہی مرجانِ نعت ہے


پروانوں سے تو روشنی ہوتی نہیں کوئی
===== [[دانش حسین دانش]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
شہرِ تخیلات میں عرفانِ نعت ہے


روشن اسی چراغ سے ایوان نعت ہے
دل میں مرے مکین جو سلطانِؐ نعت ہے
===== [[ریاض احمد قادری]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
تھاماجومیں نے ہاتھ میں دامان نعت ہے


بخشش کو میری کافی یہ سامان نعت ہے




خالق نے خود رقم کی ثناءے حضور ہے
خیراتِ فکر اس سے ہی لیتا ہوں بار بار


قرآن پاک سارا ہی دیوان نعت ہے
عمرانؑ کا جو گھر مرے دیوانِ نعت ہے




خلق عظیم اسوہ حسنہ حضور کا
ہر رجس سے ہو پاک ہر اک لفظ میں ہو عشق


سیر ت رسول پاک کی عنوان نعت ہے
اجزائے نعت ہے یہی ارکانِ نعت ہے




یہ صنف نعت وقف ثناءے حضور ہے  
چکھ رکھا ہے لعابِ محمدؐ اسی لئے


ذات رسول پاک ہی شایان نعت ہے
مولا علیؑ بتائیں گے کیا شانِ نعت ہے




ان کی ثنا میں لاکھوں ہی دیواں رقم ہوءے
نوکِ سناں پہ ہوں کہ ہوں شبیرؑ زیرِ تیغ


تازہ جہاں میں آج بھی امکان نعت ہے
حمدِ خدا کہیں کہیں عنوانِ نعت ہے




حسان کو جو رتبہ ملا بے مثال ہے  
ذکرِ رسولِؐ پاک ہے سانسوں سے متصل


حضرت حسان بے شبہ سلطان نعت ہے
'' ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے''




رنگ رضا میں لکھو ثناءیں حضور کی
تو بابِ شہرِ علمؑ سے دانشؔ ہے منسلک


احمد رضا تو آپ دبستان نعت ہے
جب تک کہ تیرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


===== [[دلاور علی آزر]]، کراچی، پاکستان =====


گھر گھر میں سج رہی ہیں ثناءوں کی محفلیں


ہر ایک گھر بنا ہوا بستان نعت ہے
پھیلا ہوا بہت سر و سامانِ نعت ہے


وسعت پزیر عالمِ امکانِ نعت ہے


ارض و سما و ظاہروباطن میں ہر طرف
مجھ میں بسی ہوئی ہے مہک مدحِ شاہ کی


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
مجھ میں کِھلا ہوا گُلِ ریحانِ نعت ہے


اِس لوح پر حضور کی مدحت لکھوں گا میں


طیبہ،ریاض،بطحا حدیقےہیں خلد کے
یہ میرا دل نہیں ہے یہ جزدانِ نعت ہے


ہر جا نظر میں اپنی گلستان نعت ہے
باندھا گیا ہے عشق کی ڈوری سے لفظ کو


مشکل ہے توڑنا اِسے پیمانِ نعت ہے


جن و بشر فرشتوں کو حکم درود ہے  
ہر کارِ خیر اُن سے عبارت ہے دہر میں


انسان کے لئے یہی فرمان نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


پہچانتے ہیں مجھ کو جو دنیا میں چند لوگ


ان پر درود ہوگیا شامل نماز میں
یہ اور کچھ نہیں ہے یہ فیضانِ نعت ہے


صل علی درود ہی اعلان نعت ہے
ورنہ کہاں یہ ہیچ ہنر اور کہاں یہ ظرف


میں نعت لکھ رہا ہوں تو احسانِ نعت ہے


عشق رسول روح ثنائے حضور ہے  
لفظوں سے نورِ عشق جھلکتا ہے سر بہ سر


عشق رسول کون و مکاں جان نعت ہے
میری غزل کے رنگ میں اعلانِ نعت ہے


اُس کو بیان شعر میں کیسے کرے  کوئی


تلوارکی بھی دھار سے ہے تیز اس کی دھار
وہ کیفیت جو لفظ کی دورانِ نعت ہے


نازک بہت آداب میں میزان نعت ہے
حکمت کی سب حدیں ہیں اِسی آئنے میں ضم


رحمت سمیٹتا ہوا دامانِ نعت ہے


عزت بنی ہوئی ہے زمانے میں جو ریاض
آزر میں پوچھتا ہوں سبھی ناعتین سے


میرے لئے یہ سارا ہی فیضان نعت ہے
میرا لکھا ہوا بھی کیا شایانِ نعت ہے


===== [[ریاض مجید]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
===== [[ذوالفقار علی دانش]] ، [[حسن ابدال]]، [[پاکستان]] =====


آثار ہیں کہ آمدِ بارانِ نعت ہے


جس سے درود رُو مرا وجدانِ نعت ہے
دامن پسارییے شبِ فیضانِ نعت ہے  


لفظِ مدینہ ایسا گلستانِ نعت ہے


جس کو شعورِ خواہش و ارمانِ نعت ہے


تکتے ہیں ہم کو حیرت و حسرت سے کس طرح
وہ جان لے کہ اُس پہ یہ احسانِ نعت ہے


برگ و شجر کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


ہر سمت آج کل یہ جو رجحانِ نعت ہے


ہیں سلسلے زبان و بیاں کے جہاں جہاں
سرکار کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


پھیلا ہُوا وہاں وہاں امکانِ نعت ہے


جس شہر میں بھی نعتِ محمد کہی گئی


قراں ہر امتی سے ہے پیہم درود خواہ
وہ شہر از قبیلِ خیابانِ نعت ہے  


اک طرح سے یہ دعوت و اعلان نعت ہے
حسۤان کے قدوم کی جو خاک بھی نہیں


کیسے یہ مان لیں کہ وہ حسّانِ نعت ہے ؟


قراں کی آیتوں میں ہے شان اُن کی عطربیز


بین السطّور دیکھ یہ بستانِ نعت ہے
انسان ہوں ، مَلَک ہوں ، کہ کنکر ، شجر ، حجر


دیکھو جسے ، شریکِ دبستانِ نعت ہے


اہلِ ولا و اہل صفا کی نگاہ میں


’احزاب‘ استعارہ پیمانِ نعت ہے
مدحت میں صرف میرا قلم ہی نہیں رواں


میرا رُواں رُواں بھی گُل افشانِ نعت ہے


صلّوا علیہ کی اسے توسیع جانئیے


حُبّ کا تلازمہ جو بعنوانِ نعت ہے
زیبا ہے بس یہ حضرتِ حسّان کے لیے


ہر گز نہ کہیے  کوئی بھی سلطانِ نعت ہے


قران کا خلاصہ اگر اک ورق میں ہو


تو زیب اُس نوشتے کو عنوانِ نعت ہے
گر نعت کہنے کا ہے ارادہ تو جانیے


" ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


سعی ہنر قبول ہو‘ جو ہو خلوص سے


ہر نعت گو کو اتنا تو عرفانِ نعت ہے
جو سیکھنا ہو سیکھیے قرآں سے طرزِ نعت  


ہر لفظ اس صحیفے کا شایانِ نعت ہے


اس عہدِ نعت پہ کرم خاص آپ کا


گھر گھر کھلا ہُوا جو دبستانِ نعت ہے
صد فخر ہوں میں ناعتِ سرکارِ نامدار


صد شکر میری طبع میں میلانِ نعت ہے


کیا کیا ثنا سرشت ہیں مائل بہ نعت آج


فی الواقعی یہ عہدِ درخشانِ نعت ہے
قربانِ مدحِ سرورِ عالم ہے جاں مری


سب کچھ مرا فدائے فدایانِ نعت ہے


مصرعے اتر رہے ہیں ستاروں کی شکل میں


کاغذ سے روح تک میں چراغانِ نعت ہے
رکھ پھونک پھونک کر رہِ مدحت میں ہر قدم


حدِّ ادب رہے کہ یہ میزانِ نعت ہے


فردائے نعت کی ہے ہر اک سمت سے نوید


ہر دل میں جو نمایاں یہ رجحانِ نعت ہے
اے ساکنانِ کُوچہِ امکان دیکھنا


اِمشب بھی کیا کہیں  کوئی امکانِ نعت ہے ؟؟؟


جنت میں ہو گا نعت کا دورانِ جاوداں


اب تک ہوئی جو مشق وہ اک انِ نعت ہے
شانِ رسول فہمِ بشر سے ہے ماورا


مت سوچیے کہ آپ کو عرفانِ نعت ہے


باعث ظہور ہست کا ہے ذات آپؐ کی


دھڑکن دلِ وجود کی گردانِ نعت ہے
پہلی صدی ہو یا کہ ہو وہ آخری صدی


حسّان ہی امیرِ جوانانِ نعت ہے


مصروفیت ملی ہے بہشت آفریں ہمیں


ہم اہلِ حُب یہ کیسا یہ احسان نعت ہے
حمدِ خدا کے دائرے کی حد سے اِس طرف


جتنا بھی جس قدر بھی ہے ، میدانِ نعت ہے


بخشش کی التجا کے سوا کچھ نہیں ریاض


فردِ عمل میں جو سروسامانِ نعت ہے
کتنا کرم کیا ہے رسالت مآب نے


دانش بھی ریزہ چینِ گدایانِ نعت ہے


ہے محوِ فکر رفعت و شانِ رسول میں


چپ ہے ریاض جس کو بھی عرفانِ نعت ہے
دانش ! رموزِ شاعری ہیں قلب و جسم و روح


آقائے دو جہاں کا ادب جانِ نعت ہے


===== [[زید معاویہ]]، [[گوجرانوالہ]] =====


جملہ ہو غرق عشق تو شایان نعت ہے
اُڑتا پھرے ہے باغ میں آئی ہے بُوئے نعت  


اظہار لفظ شوق ہی عنوان نعت ہے
دانش کہ بلبلِ چَمَنِستانِ نعت ہے


===== [[ذوالفقار نقوی]]، [[جموں کشیمر]]، [[انڈیا]] =====


دل میں اگر اطاعت سنت کا شوق ہو
صَلُّوا کی صاد میں نہاں فرمانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
صلِ علی کے ورد میں اعلانِ نعت ہے




حکم ِ خدا ہے مدحت ِ سرکار ِ دو جہاں
اس کِشتِ لالہ زار میں مصروف ہیں مَلک


"صلو علیہ_" اصل میں فرمان نعت ے
ہر ذی شعور دیکھئے دہقانِ نعت ہے




غمگیں سخنوروں کے دماغوں میں یہ بٹھا
مہکے ہوئے ہیں ذرّے رَفَعنا کے ذکر سے


انجام تشنگی کے لیۓ خوان نعت ہے
از ارض تا ثریا خیابانِ نعت ہے




اخلاق مصطفی پہ یہ بولی تھیں عائشہ
ہے نورِ مصطفیٰ سے زمانے میں روشنی


قرآن پڑھ ذرا کہ جو دیوان نعت ہے
سب کائنات شمعِ شبستانِ نعت ہے




قرآن کی مہک کے دلائل سبھی بجا
عشقِ رسولؐ پاک ہو گر دل میں موجزن


خوش بو ہے اس لیۓ بھی کہ گلدان نعت ہے
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


===== [[زین زیدی]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
پھر سے دلِ فقیر کو ارمانِ نعت ہے


امداد وہ کرے گا جو سلطانِ نعت ہے
ہر آن محوِ ذکرِ رسالت مآبؐ ہوں


اللہ کی عطا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


دھڑکن نہیں چٹکتی ہیں کلیاں درود کی


دل دل نہیں رہا ہے گلستانِ نعت ہے
کر کے وضو درود سے، فکریں سنوار کر


لفظیں سجا رہا ہوں کہ میدانِ نعت ہے


حیدر کی زندگی نے بتایا جہان کو


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اہلِ سخن میں ہوتا ہے میرا شمار بھی


مدحِ نبیؐ کا ہے ثمر، احسانِ نعت ہے


جب تک کسی کو منصب عصمت نہیں ملے


وہ لفظ کون لکھے جو شایانِ نعت ہے
والنجم و ھل اَتی سے مودّت کے باب تک


قرآن حرف حرف دبستان نعت ہے


خامے کو سلسبیل سے دھولیں توپھرلکھیں


وہ اسمِ چارہ ساز جو عنوانِ نعت ہے
صبح و مسا نہ کیوں رہوں سجدے میں ذوالفقار


ہر آن میری فکر پہ بارانِ نعت ہے


جس نے بچا رکھا ہے خجالت کی دھوپ سے
===== [[ذیشان متھراوی]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====


زینِ رضا وہ سایہءِ دامانِ نعت ہے
بشکریہ : [[محمد صبیح رضا]]


===== [[ساجد حیات]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
جو منبرِ رسول پہ حسانِ نعت ہے  
وابستگی رسول سے دیوانِ نعت ہے


مضمونِ عشق باعثِ عنوانِ نعت ہے
تاجِ سخن ہے،بس وہی سلطانِ نعت ہے




میں خاک اوڑھ لوں گا فقط اس یقیں کے ساتھ
ہر حرف نور نور ، تو ہر لفظ پھول پھول


بخشش کو میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے
خوشبو بتارہی ہے گلستانِ نعت ہے




احساس کے یہ اشک جو گرتے ہیں روح پر
سر کاٹ دے غلو کا ، تو قرآنی تیغ سے


دُھلتے ہیں پھر گناہ یہ فیضانِ نعت ہے
سچ کی لگام تھام ، کہ میدانِ نعت ہے




میرے نبیؐ کی شان ہے اور شان دیکھیئے
قرآں کی روشنی سے، ضیائے حدیث سے


ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے
جو شعر غسل کرلے ، وہی جانِ نعت ہے




بنجر زمینِ فکر کو سر سبز کر کے دیکھ
الفاظ ناپ تول کے پلّے میں ڈالئے


سیرت مرے رسول کی فیضانِ نعت ہے
دستِ رسولِ پاک میں میزانِ نعت ہے




میں لفظ لفظ ٹانک رہا ہوں جو نعت میں
دیوانگی نے کھینچی تھی کاغذ پہ بس لکیر


تو حرف حرف لُو لُو و مرجانِ نعت ہے
دنیا پکارنے لگی گلدانِ نعت ہے


===== [[ساجد ندیم ]]،  [[سیالکوٹ ]]، [[پاکستان ]] =====


جب مطمعِ نظر ترے دامانِ نعت ہے
حسان ، کعب اور بریلی کے شاہ تک


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
کتنا وسیع حلقہء میرانِ نعت ہے




کر دے جو بے نیاز ہر اک احتیاج سے
سوئے غزل کبھی نہ گئی ، نعت ہی کہی


کل کائنات اپنی یہ ایقانِ نعت ہے
ذیشان میری فکر پہ احسانِ نعت ہے


===== [[راحت انجم]]، [[ممبئی]]، [[انڈیا]] =====


دونوں جہاں کی اس میں میسر ہیں رفعتیں
پیشکش : [[حافظ عبدالحلیم]]


کتنی بڑی عطا ہے جو عرفانِ نعت ہے
امّت پہ ان کی سایۂ دامان نعت ہے


کیسا عظیم خلق پہ احسان نعت ہے


دل مطمعن ابھی سے ہے کوثر پہ جام کا


مجھ رو سیاہ پہ دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے
ضو بار ہر زماں رخ تابان نعت ہے


کیا ہی سدا بہار گلستان نعت ہے


شان و مقام و ادب و موءدت سے آگہی


میراثِ کل ندیم یہ سامانِ نعت ہے
توفیق دے خدا کہ کروں ان کی میں ثنا


===== [[سائرہ خان سائرہ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مجھ سے گناہگار کو ارمان نعت ہے
لاریب فضل رب ہی ، یہ فیضانِ نعت ہے


بالواسطہ ہے حمد ہی جو جانِ نعت ہے


معلوم اس کی منزلت ادراک کو کہاں


ہرلمحئہ حیات میں رہبر ہے انکی ذات
بس اہل معرفت کو ہی عرفان نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


جس کی تلاوتوں سے ہوں عشاق سیر چشم


مسحور ہیں فضائیں تو دل بھی ہیں مشکبار
صورت ہے مصطفیٰ کی کہ قرآن نعت ہے؟


ہر سو کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے


مرغان جذب و شوق ہیں محو ثنا یہاں


ہو میرے حرف حرف کو پاکیزگی عطا
یہ دل ہے میرا یا چمنستان نعت ہے؟


سوچیں بھی ہوں لطیف یہ ایوانِ نعت ہے


تاریکیِ حیات کا کردے جو خاتمہ


اے خلقِ اولیں ، تری مدحت پہ میں نثار
ضو بار اتنی شمع شبستان نعت ہے


ہر لمحہ تیرا ذکر اے سلطانِ نعت ہے


فضل و کمال مجھ میں اے راحتؔ نہیں مگر


بزم فروغ نعت سے دولت ملی مجھے
تشہیر جو ہے میری بفیضان نعت ہے


الحمد فکرِ نعت ہے، احسانِ نعت ہے
===== [[راحل بخاری]]، [[لکی مروت]]، [[پاکستان]] =====
سرمایۂ حیات اک ارمانِ نعت ہے  


وہ کیا کرے جو بے سر و سامانِ نعت ہے


جاں سے مجھے عزیز وراثت ہے نعت کی


میرا تو سب گھرانہ ہی قربان ِ نعت ہے
یارا نہیں کہ نعت کہیں ہم سے بے زباں


===== [[سجاد بخاری]]، [[مکہ مکرمہ سعودی عرب]] =====
لہجہ تو بس قرآن کا شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


آیات کیا ہیں اصل میں سامانِ نعت ہے


اللہ کا کلام ہی  شایانِ نعت ہے
دروازۂ بتول ع پہ آیات روشنی


دروازۂ بتول ع ہی ایوانِ نعت ہے


لَا تَجْهَرُوا کا ضابطہ برہانِ نعت ہے


اور سلمو کے حکم میں اعلانِ نعت ہے
مسجد، کجھور، راستہ، دیوار، در، دیا


اک شہر حسن زار میں سامانِ نعت ہے


عرفانِ حمد ہے جسے عرفانِ نعت ہے


دیوانہء سجود ہے مستانِ نعت ہے
اک نون عین تے کا ہے صدقہ بیانِ عصر


ایما و رمز و چاشنی فیضانِ نعت ہے


تحریر ہو رہی ہے ازل سے کتابِ نعت


دنیا تو ایک صفحہ ء دیوانِ نعت ہے
خوشبو کے پیش و پس کا علاقہ ہے نور کا


روشن سماعتوں پہ ہی بارانِ نعت ہے


باغِ بہشت پرتوِ حسنِ رسول ہے
===== [[رائے توکل اللہ]] =====
عرفان حمد صدقہء وجدان _نعت ہے  


گلزارِ ہست و بود میں ریحانِ نعت ہے
افکارمنتشر پہ یوں احسان _نعت ہے




لوح و قلم نے کاڑھا ہے توصیف کا لباس
سیم و زر_جہان کی ہرگز نہیں طلب


یہ کائنات وسعتِ دامانِ نعت ہے
جب جمع پونجی گوہرو مرجان _ نعت ہے  




آپ اسوہء رسول سے جڑ کر تو دیکھیے
'' ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر دم خیال میں ادب_مصطفی (ص) رہے


میلاد کی گھڑی ہے غلاموں کی عید ہے
آوازخامہ میں یہی اذعان نعت ہے  


یعنی کہ ہر سو موسمِ بارانِ نعت ہے


راقم کو اپنے نار سے کروانا رستگار


اُن پر اور اُن کی آل پہ پڑھتے رہو درود
لحظہ بہ لحظہ وعدہ و پیمان_نعت ہے


ایماں سے کہہ رہا ہوں یہی جانِ نعت ہے


کب صنف نعت اہل ادب ہی کا خاصہ ہے


ہریالیاں ہیں گنبدِ خضرا سے چار سو
"ہر شعبہء حیات میں امکان_نعت ہے"


یہ رونقیں یہ تازگی فیضانِ نعت ہے


ملک_عدم روانگی کو دل ہے مطمئن


اللہ بھیجتا ہے حضور آپ پر درود
ہمراہ حشر کے لیے سامان_نعت ہے  


کیا مرتبہ ہے آپ کا کیا شانِ نعت ہے


کیوں کر نہ میرا علمی تبحر ہو در فشاں


چنتی ہیں شہرِ طیبہ سے منسوب بلبلیں
بخشا مجھے رسول (ص) نے امعان_نعت ہے


أرض و سما پہ پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے


حسن_خیال بخشے ہے ہر زید بکرکو


سانسوں میں نغمگی ہے نگاہوں میں تازگی
نشوونما گمان کی ایقان_نعت ہے  


گویا دلوں میں بارشِ بارانِ نعت ہے


ڈنکا جو بج رہا ہے توکل کا چار دانگ


نام و نسب کا زعم نہ مشقِ سجود ہے
فیض محمدی (ص) ہے , یہ فیضان نعت ہے


امیدیء نجات میں احسانِ نعت ہے
===== [[رئیس جامی]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====


میں بے ہنر ہوں کب مجھے عرفانِ نعت ہے


جھکنا نہیں پڑا مجھے رب کے سوا کہیں
مولا! مگـر کـرم ہو کہ ارمـانِ نعت ہے


سجاد اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے


===== [[سرور حسین نقشبندی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
ان کا کرم کہ کاوشیں کرتے ہیں وہ قبول


ورنہ کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے


کیا کیا گدائے نعت پہ احسان نعت ہے


اک ایک سانس حجرہء ایوان نعت ہے
میرے تخیـلات پہ چھائی ہے روشنی


کہتا ہوں میں یقیں سے یہ فیضانِ نعت ہے


کیسی ہری بھری ہے تخیل کی سرزمیں


صد شکر کشت فکر پر باران نعت ہے
مطلع ہوا تو آنکھ سے آنسو نکل گئے


قسمت کہاں مری کہاں جانانِ نعت ہے


اصناف شعر ساری اسی کی ہیں خوشہ چیں


جو بھی سخن کی صنف ہے دربان نعت ہے
دنیا مجھے حقیر نہ جانے میں ہوں غنی


دیکھو یہ میـرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


تفہیم اس کو اسوہء کامل کی جانئے


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
میرے خیـال میں اسے پتھر ہی جانیے


وہ دل کہاں جو بے سـر و سامانِ نعت ہے


خوشبو بنائے کیوں نہ مرے گرد دائرہ


موج صباء کی ہمدمی دوران نعت ہے
اس نے رخِ حبیب کو تک کر کہی تھی نعت


حسان اس لئے ہی تو سلطانِ نعت ہے


اس کو ملے گا اجر بھلے شعر ہوں نہ ہوں


وہ خوش نصیب ہے جسے ارمان نعت ہے
میرے تمام عیب چھپائے گا روز ِ حشر


اتنـا طــویل وسعتِ دامــانِ نعـت ہے


قرآن سے حدیث سے تم کو ہے مس اگر


کافی برائے نعت یہ سامان نعت ہے
بیٹھے بٹھائے ہوگئی اس در پہ حاضری


کیسا رئیس دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے


یاں پر اک ایک لفظ رکھو ناپ تول کر


اے شوق! احتیاط یہ میزان نعت ہے
===== [[رحمان حفیظ]] ، [[اسلام آباد]]، پاکستان =====


سیرت نظر میں ہو تو یہ میدانِ نعت ہے


سرور یقیں نہ کیسے ہو اپنی نجات کا
ہر فن میں، ہر ہنر میں ہی سامانِ نعت ہے


فرد عمل میں جب مرے دیوان نعت ہے
اظہارِ عشق ہے جو بے عنوانِ نعت ہے


===== [[سلمان رسول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]]=====
قرآن شاعری نہ سہی، جانِ نعت ہے
ہاتھوں میں جس کسی کے قلمدان نعت ہے


عالم اسی کے واسطے میدان نعت ہے
دنیا میں لیتا رہتا ہوں فردوس کے مزے


جب سے مِری رسائی میں دالانِ نعت ہے


محدود اس کو شعروسخن تک نہ کیجیے
اعجاز دیکھ رحمتُ الِّلعالمین کا !


ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
مجھ بے ہنر کا ہاتھ بھی مہمانِ نعت ہے


مدح و ثنا کا سلسلہ افلاک سے چلا


جو شخص آشنائے تقاضائے عشق ہو
" صلّو علیہ" خاصہ ء خاصانِ نعت ہے


اس کا فقط وجود ہی برھان نعت ہے
الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں قطار میں


جس سے بھی پوچھ لیجئے، قربانِ نعت ہے


ان کے لیے بنائی گئی ہے یہ کائنات
ان ؐ کو لُٹے پٹے تو زیادہ عزیز ہیں


سمجھو تو گام گام پہ سامان نعت ہے
اسبا ب کا نہ ہونا بھی سامانِ نعت ہے


حدِّ ادب سے ہو گئی عنقا صریرِ کلک


سیرت سے کیوں حضور کی ہم ہو رہے ہیں دور
اتنا مِرے قلم کو بھی عرفانِ نعت ہے


جبکہ بہت عروج پہ رجحان نعت ہے
واللہ ! صرف زائرِ طیبہ کا ہو تو ہو


===== [[سلمان گیلانی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
احساس جو مجھے ابھی دورانِ نعت ہے
مکمل نام : سید سلمان گیلانی


حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے
تخلیقِ کائنات کا باعث حضُور ؐہیں


میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے
اس ڈھب سےکائنات بھی دیوانِ نعت ہے !


خود لا جواب ہو گئے منکر نکیر ، جب


مدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے
دیکھا کہ میرے پاس قلمدان نعت ہے


فیضانِ نعت حلقہءِ یارانِ نعت ہے
پہنچے گا اُس تلک بھی شفاعت کا سلسلہ


وہ خوش خصال جس میں بھی میلانِ نعت ہے


دُوراَز قیاس وُسعتِ مَیدانِ نعت ہے
اے کوچہء سخن کے پریشان ! اتنا جان


یہ مُلکِ نعت, مُلک سلیمانِ نعت ہے
تسکین دل جو ہے تو بفیضانِ نعت ہے


طیبہ سے ہو کے جائے گا باغِ بہشت تک


حَسّان ہے صحابئ سُلطان بَحر و بَر
دشتِ ہنر میں یہ جو خیابانِ نعت ہے


ہر نعت اُس کی اِس لیئے سلطانِ نعت ہے
مملو ئے ادّعا ،نہ تعلّی سے بہرہ ور


رحمان شاعری میں عجب شانِ نعت ہے


عشق رسول دل میں ہے آنکھوں میں اشک غم
===== [[رحمان شاہ]] ، [[مانسہرہ]]، [[پاکستان]] =====
ہر موڑ پر یہ پانیوں کا چشمئہ خنک


کافی مِرے لیئے یہی سامانِ نعت ہے
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"




ہر شعبہِ حیات پہ میں نے کِیا ہے غَور
چھو لوں میں رفعتوں کو مری شان بھی بڑھے


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
آقا کی داد جو ہو یہ ارمانِ نعت ہے




بس میں نہیں کسی کے اسے کر سکے عبور
سنت کو ماننے میں جہانوں کی ہے فلاح


اتنا وسیع دوستو میدانِ نعت ہے
سنت کا ہو بیان تو پہچانِ نعت ہے




مائل بہ نعت رہتی ہے طبعِ رواں مری
آقا کی جو نگاہ یہ رحمانِ اب پڑی
میرا نہیں کمال میاں شانِ نعت ہے


ہر فرد میرے گھر کا حُدی خوانِ نعت ہے
===== [[رحمان فارس]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


وہ جانتا ہے  جس کو بھی عرفانِ نعت ہے


ہر نعت گو ہے طائر سدرہ کا ہم سفر
عشقِ مُحمَّدِ عَرَبی جانِ نعت ہے  


ہر نعت خوان بلبل بستانِ نعت ہے


بے شک ہے  حجرِ اسود اِسی بات کا ثبوت


روزِاَلست باندھا تھاجو اپنے رب سےعہد
بے جان پتھّروں میں بھی امکانِ نعت ہے


اُس عہد سے بندھا مِرا پیمانِ نعت ہے


اُس کی ھر ایک سانس ہے  نعتِ نبی کا شعر


اللہ کرے کہ طاری رہے یونہی عمر بھر
جو عاشقِ رسُول ہے  دیوانِ نعت ہے


یہ وَجد و کَیف مُجھ پہ جو دَورانِ نعت ہے


ھم بندگانِ خاک بھلا کیا کہیں گے نعت


سلمان, شعر نعت کے, ہیں مِثلِ گُل تمام
نُطقِ خُدائے پاک ھی شایانِ نعت ہے


دِیوانِ نعت اصل میں گُلدانِ نعت ہے


===== [[سعید زبیر]]، [[ڈیرہ غازی خان]]، [[پاکستان]] =====
کرتے ھیں یہ تو آخری ھچکی میں بھی ثنا
پیشِ نظر حقیر کے عنوانِ نعت ہے


تھرا رہے ہیں لفظ کہ میدانِ نعت ہے
عُشّاق کو تو موت بھی سامانِ نعت ہے  




دل ہو وفورِ عشقِ شہِ دین سے غنی
دُنیاوی نعمتیں بھی مُجھے دِین سے ملِیں


پھر کہئے نعتِ پاک جو ارمانِ نعت ہے
میری غزل میں کیف بَفیضانِ نعت ہے  




دیکھو جہان والو میں کس درجہ ہوں غنی
ذکرِ نبی کو کتنی بلندی پہ لے گیا


میرے لبوں پہ نغمۂ سلطانِ نعت ہے
قُرآن اپنی رُوح میں قُرآنِ نعت ہے  




پہنچیں گے قبر میں انہی جذبات سے کہ ہاں
لاھور سے عجب ھیں مدینے کی نسبتیں


پیشِ نکیر ہم کو تو ایقانِ نعت ہے
فارس ! یہ شہر شہرِ غُلامانِ نعت ہے  


===== [[رخشندہ بتول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[علی وارث]]


سالم ہے جسدِ خاک تو ہے کفن عطر بیز
کہہ دیں حسین مجھ سے یہ ایوانِ نعت ہے


سمجھا ہوں میں کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
اور میں حسین سے ہوں یہ دیوانِ نعت ہے




آتی ہے چار دانگ یہی بانگِ لم یزل
ارض و سما میں جو ہے تصرف انہیں کا ہے


ہر سُو جہانِ دہر میں اعلانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے




گر ہو عبور سیرتِ سرکار پر سعید
تخلیق ان کے صدقے میں تخلیق ہو گئی


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
کچھ لفظ شعر ہو گئے ، فیضانِ نعت ہے


===== [[سعود عثمانی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]]  =====


گر ایک شعر بھی مرا شایانِ نعت ہے
جبریل در پہ اذن کی خاطر رکے رہے


پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے  
رکنا دلیل ہے انہیں عرفان ِ نعت ہے




سچ یہ ہےساری زیست ہی دیوان نعت ہے  
خالق بھی ان پہ بھیجتا ہے ہر گھڑی درود


ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے  
قرآن پڑھ کے دیکھیے اعلانِ نعت ہے




تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے
رخشندہ کہہ رہے ہیں سبھی نعتِ مصطفٰی


جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے
لحنِ علی ملے تو یہ شایانِ نعت ہے


===== [[رضا المصطفی]]، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]] =====
تخلیق کائنات کا عنوان نعت ہے


رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ثابت تو کر کہ ہاں مجھے عرفانِ نعت ہے


اس طرح سوئے حشر میں ہونے لگا رواں


قصے کہانیوں کو کہیں دور جا کے پھینک
دامن میں اور کچھ نہیں دیوان نعت ہے


سیرت کو نظم کر کہ یہی جانِ نعت ہے


تعریف مصطفی ہی تو منشا خدا کی ہے


آداب ہیں سکوت کے بھی' گفتگو کے بھی
ہر اک نبی کو مولا کا فرمان نعت ہے


دونوں طرح بتا کہ سخن دان نعت ہے


سب انبیاء کے سامنے رب کریم نے


گنتی کے چند لوگ ہیں' گنتی کے خوش نصیب
بعثت سے پہلے کر دیا اعلان نعت ہے


حاصل جنہیں طلائی قلم دانِ نعت ہے


لفظوں کے موتی چن لئے تو نے بھی کچھ رضا


مدح نبی تو خود بھی بڑا فخر ہے مگر
جب آیا تیرے سامنے یہ خواں نعت ہے


مصرعہ قبول ہو تو یہ احسانِ نعت ہے  
===== [[رِضا شیرازی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
چھلکا جو دل کے جام سے میزانِ نعت ہے


پیدا ہوا جہان میں سامانِ نعت ہے


سب جانثاروں مدح گزاروں کے درمیاں


جگمگ ہے ایک شخص جو حسّانِ نعت ہے
اٹھتی ہوئی غدیر کے منبر پہ منقبت


آزانِ حمد ہے, یہی پالانِ نعت ہے


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود


اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے
سیرت, طریق, زلف, تکلم, سفر, مزاج


آوازِ کبریا میں یہ قرآنِ نعت ہے


توفیق نعت دی ہے جو تو نے سعود کو


یارب وہ اجر بھی کہ جو شایان ِ نعت ہے
گھر میں, سفر میں, جنگ میں, غربت میں, امن میں


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود


اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے
قائم ہوئی جہاں میں سبھی عاشقوں کی صف


===== [[سمعیہ ناز]]، [[لیڈز]]، [[برطانیہ]] =====
ہونے لگی درون میں آزانِ نعت ہے
مخصوص  یہ  عنایت  و  احسانِ  نعت ہے


حاصل  ہوا  جو  قلب  کو  وجدانِ  نعت ہے


یوں متصل ہے آل ع سے احمد ص کا تذکرہ


عشقِ نبی کے نور سے روشن ہے جس کا دل
کفرانِ منقبت میں ہی کفرانِ نعت ہے


پھر اس پہ صبح و شام ہی فیضانِ نعت ہے


مانگی ہے نعت حضرتِ عمران ع سے, سنو!


رنج  و  الم  قریب  بھی آتے  نہیں  مرے
ہاتھوں میں جن کے اب بھی قلمدانِ نعت ہے


صد شکر جب سے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
===== [[رضا عباس رضا]] ، [[لاہور]] =====
بشکریہ : [[صادق جمیل]]، لاہور


یہ کائنات نکتہِ ایوان ِ نعت ہے


سیرت  سے  آپ  کی ہو درخشاں حیات گر
قرآن پاک اصل میں اعلانِ نعت ہے


"ہر  شعبہء  حیات  میں  امکانِ  نعت  ہے"




چنتی رہی میں گل تری مدحت کے باغ سے
اب ذہن اپنا رنگ بدل، دل ذرا سنبھل


خوشبو  سے  بھر  گیا  مرا  دیوانِ نعت ہے
یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے




وردِ  زباں  درود  ہو  آنکھیں  ہوں  نم  تری
محشر میں سر اُٹھا کے چلوں گا کہ میرے پاس


پھر  ہو  رقم  قلم  سے  جو شایانِ نعت ہے
سرمایہ منقبت کا ہے سامانِ نعت ہے




جب  سے  جمالِ  گنبدِ  خضریٰ  ہے  سامنے
میراثِ مصطفٰیؐ کا نہ دعویٰ کرے  کوئی


ہر  لمحہ  میرے  قلب  پہ  باران  نعت ہے
جو وارثِ نبیؐ ہے نگہبانِ نعت ہے




مدحت  کا  اذن  یوں ہی سمیعہ نہیں ملا
ہر شئے خدا کے ذکر میں مصروف ہے تو مان


عشقِ  رسول  ہے  تو  یہ  عرفانِ  نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


===== [[سید حسن]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
کب یہ کہا زباں مری شایانِ نعت ہے


مجھ پرکرم ہے آپ کا احسانِ نعت ہے
ہے خاکسار عرش نشینوں کا ہم خیال


یہ فضل ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے


دادا کے بعد حضرتِ عمران ہیں وجہ


باقی ابھی تلک جو دبستانِ نعت ہے
مت روکنا فرشتوں ذرا غور تو کرو


خاکِ شفا ہے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


جو دعوتِ اوّل میں تھا عمران نے کیا


سوچو ذرا تو غور سے اعلانِ نعت ہے
میں کیا تھا مجھ کو جانتا  کوئی نہ تھا رضا


عزت مجھے ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے


دعوتِ ذوالعشیرہ کو پڑھ کر پتہ چلا
===== [[رضوان انجم]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
یہ حُسنِ کائنات تو فیضانِ نعت ہے


مجلس ہوئی یہ ایک با عنوانِ نعت ہے
ہر ذرّہِ جہان ہی دیوانِ نعت ہے




بنتِ اسد کی زندگی دیکھو کبھی ذرا
قدسی بھی بھیجتے ہیں درود ان کی ذات پر


کس درجہ کا جناب کو عرفانِ نعت ہے
یہ دو جہان محفلِ بستانِ نعت ہے




روشن فلک پہ چاند ستارے نہیں کوئی
کرتا ہوں گر میں حمد تو لگتی ہے نعت سی


دراصل پھیلا یہ تو چراغانِ نعت ہے
وجدانِ حمد اصل میں عرفانِ نعت ہے




دامن میں میرے کچھ نہیں بخشش کے واسطے
قاری ہو ، کوزہ گر ہو، معلم ہو یا ادیب


اک ہے دُرودِ پاک یا فیضانِ نعت ہے
ہر گوشہ ء حیات میں امکان نعت ہے




ظاہر ہے یہ قرآن کے ہر ایک حرف سے
رضوان بخش دے مجھے جنّت میں داخلہ


ہر ایک حرف اِسکا گُلستانِ نعت ہے
سن میرے پاس کنجئ ایوانِ نعت ہے




الحمد سے والناس تک ہر سورہ و آیت
ادنیٰ تھا ان کی نعت نے اعلی بنا دیا


اللہُ کی سمت سے ہوئی بارانِ نعت ہے
مجھ خاکسار پر بڑا احسانِ نعت ہے




حیدر سرِ کوفہ سرِ کربل علی اکبر
گر ذوقِ نعت ہے تو چلو ان سے فیض لیں


دیتے ہیں جو واللہ یہی آذانِ نعت ہے
احمد رضآ کا در، درِ فیضانِ نعت ہے




جی کر دکھایا آلِ محمد نے با خُدا
عجزِ بیانِ نعت ہے حسنِ بیانِ عشق


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
انجم بھی نعت کہہ گیا، احسانِ نعت ہے


===== [[رضوان عدم]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد رضوان عدم


بُوذر اویس قرنی و سلمانِ فارسی
یہ ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے


ہر ایک اپنے آپ میں دیوانِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"




ساری خطائیں چھوڑ محبت ہے تولتا
کیا اوج پر حضور کا فیضانِ نعت ہے


کچھ ایسا میرے شاہ کا میزانِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"




جنت سے بھی پرے کوئی جنت ہے، ہوں وہاں
چھایا یوں فکر پر چمنستانِ نعت ہے


محسوس مجھکو ہوتا یوں دورانِ نعت ہے
جو لفظ ہے سو وہ گلِ ریحان_ نعت ہے




اشکوں سے حسن جب کریں الفاظ سب وضو
کتنا یقین دل کو بہ فیضانِ نعت ہے


پھر بن سکیں وہ نعت یہی شانِ نعت ہے
مجھ ایسے بے ہنر کو بھی ارمانِ نعت ہے


===== [[سیف اللہ خالد]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]]  =====
قلب و دماغ پر مری بارانِ نعت ہے


صد شکر آج مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے
فیضانِ نعت ہے کہ یہ وجدانِ نعت ہے


ہر ایک سانس اب میری عنوانِ نعت ہے


یہ میری بے بساطی کہ اب تک نہ لکھ سکا


دل میں تو مدتوں سے یہ ارمانِ نعت ہے
عرفانِ مصطفیٰ میں ہے عرفانِ ایزدی


توحید کے بیان میں اعلانِ نعت ہے


قول و عمل میں جس کے ہوسنت کی پیروی


وہ شخص ہی حقیقی سخندانِ نعت ہے
بے شک نزولِ وحی مکمل ہوا مگر


جاری ہماری روح پر احسانِ نعت ہے


پڑھ لے درود خامہ کو چھونے سے پیشتر


طاری اگر جمود ہے بحرانِ نعت ہے
استاد بھی کھڑے ہیں یہاں ہاتھ باندھ کر


دل احتیاط کر، یہ دبستانِ نعت ہے


سچا ہے تیرے دل میں اگر عشقِ مصطفیٰ


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
ممکن نہیں ثنا ئے محمد بجز کرم


فیضانِ نعت اصل میں سامانِ نعت ہے


دل ذکر سے اجال تو اشکوں سے کر وضو


لکھنی ہے نعت گر تو یہ شایانِ نعت ہے
انکا کرم ہے ورنہ مجھے اعتراف ہے


  کوئی بھی شعر کب مرا شایانِ نعت ہے


خالد زبان وقف ہے توصیف کیلئے


میرا یہ فن یہ شاعری قربانِ نعت ہے
باغِ بہشت کو بھی میسر یہ بُو کہاں


===== [[شاد مردانوی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
جو نکہت و مہک بہ گلستانِ نعت ہے
تخلیقِ آب و خاک ہی اعلانِ نعت ہے


” ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے “


سجدے میں محوِ شکر چلا جا رہا ہے آج


اشکوں سے پہلے کیجیے تطہیرِ نطق و حرف
حاصل مرے قلم کو بھی وجدانِ نعت ہے


آدابِ نعت ہیں یہی عرفانِ نعت ہے


آتا ہے چاند بھی اسی جلوے کی چاہ میں


پھر سے ہمیں زیارتِ طیبہ ہوئی نصیب
رونق فزا جو نورِ شبستان_ نعت ہے


ہم پر عطا ہے نعت کی ، فیضانِ نعت ہے


عاجز، گناہگار، سیہ كار ہوں مگر


پروانہء بہشت کا مجھ سے نہ کر سوال
آقا کا مجھ حقیر پہ احسانِ نعت ہے


رضوان ! میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


یہ بھی مقام آتا ہے اظہارِ نعت میں


یادِ مدینہ ،اشک، شفاعت کی آرزو
عرفانِ عجز ہی جہاں عرفانِ نعت ہے


ہم بے کسوں کا بس یہی سامانِ نعت ہے


اشکوں سے قلب و روح مطہر ہوئے"عدم"


لگتا ہے سب گناہ مرے دھلنے والے ہیں
کتنا کرم نواز یہ بارانِ نعت ہے۔


شعر و سخن پہ حاوی جو رجحانِ نعت ہے
===== [[رفیع الدین راز]]، [[امریکہ]] =====
بشکریہ : [[اویس راجا]]




یاسین و طاہا کی ہمیں لولاک کی قسم
جن و بشر کو کیا پتا ، کیا شانِ نعت ہے


عالم کا ذرہ ذرہ ہی حیرانِ نعت ہے
اللہ کے سوا کسے عرفانِ نعت ہے




قدموں میں شہ کے بیٹھ کے جنت دکھائی دے
آدابِ نعت گوئی کا پیہم رہے خیال


آ پاس آکے بیٹھ ، خیابانِ نعت ہے
شوکت میں حمد ہی کی طرح شانِ نعت ہے




شاد اس ورق کو چومیے ، دل سے لگائیے
نغمہ سرا ہے خون کی ہر بوند میں حیات


جو جلوہ گاہِ مطلعِ جانانِ نعت ہے
دل پر عجیب طور سے فیضانِ نعت ہے


===== [[شاہد اشرف]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
رونق لگی ہوئی ہے ، یہ احسانِ نعت ہے


ہر شخص اِس نشست میں مہمانِ نعت ہے
کیفیتِ دیارِ دل و جاں نہ پوچھئے


ہر خطۂ وجود دبستانِ نعت ہے


لکھتے ہوئے سکون کی حالت نہ پوچھیے


اِک خاص کیفیت مری دورانِ نعت ہے
نوکِ قلم کو اور کیا اعزاز چاہئیے


آقا کا ذکرِ خیر ہے ، رجحانِ نعت ہے


کہیے ہر ایک صنفِ سخن دھیان یہ رہے


روزِ جزا نجات کو دیوان نعت ہے ؟
بھیجا درود اس نے نبی پر تو یہ کھلا


اک خاص ضابطے کا تقاضا ہے دوستو!
وہ بھی اسیرِ حلقۂ جزدانِ نعت ہے


ہر درجہ احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


لب پر درود ، دھیان میں ہے ذاتِ مصطفٰے


دنیا مجھے نہ مانگ میں تیرا نہیں رہا
زادِ سفر میں بس یہی سامانِ نعت ہے


اب مقصدِ حیات ، مری جانِ نعت ہے


خوشبو ہے، روشنی ہے، یا پھر پرتوِ خدا


اُن کی عطا سے کھلتے ہیں شاہد ثنا کے پھول
  کوئی تو ہے جو اس گھڑی مہمانِ نعت ہے


ہر روز رو بہ حُسن گلستانِ نعت ہے


===== [[شاہین فصیح ربانی]]، [[دینا]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]]  =====
ہر موڑ ہر قدم پہ نوازا گیا ہوں میں
بزمِ تصورات ہے، وجدانِ نعت ہے


رقص تجلیات ز فیضانِ نعت ہے
دن رات میری ذات پہ احسانِ نعت ہے




فکر و خیال عشق ہی شایانِ نعت ہے
نعتِ نبی کے فیض سے میری نگاہ میں


الفاظ میں، حروف میں امکانِ نعت ہے
اس وقت دل کا آئنہ ایوانِ نعت ہے




کیا گرمیء حیات ہے کیا سختیء ممات
کھلتے رہیں گے نوکِ قلم پر ثنا کے پھول


حاصل ہمیں جہان میں بردانِ نعت ہے
جب تک نبی سے عشق ہے امکانِ نعت ہے




ماہ و نجوم رشک سے تکتے ہیں اس طرف
قلب و نظر پہ کیوں نہ ہو برسات نُور کی


روشن کچھ ایسے شمعِ شبستانِ نعت ہے
دستِ خیال میں ابھی دامانِ نعت ہے




کوئی غزل، قصیدہ، رباعی کہ ماہیا
یوں ہی نہیں ہے دل کی زمیں عطر بیز آج


جو میری شاعری ہے وہ قربانِ نعت ہے
جزدانِ قلبِ راز میں دیوانِ نعت ہے


===== [[رفیق راز]]، [[سری نگر، کشمیر]]، [[انڈیا]] =====
ام الکتاب دیکھ یہی کان نعت ہے


شاعر نہیں غلام رسول کریم ہوں
آیت ہے  کوئی دُر،  کوئی مرجان نعت ہے


یہ شاعری نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے


ہے داغ سجدہ صرف یہ ماتھا لیے ہوئے


کیا ہو فصیح دعویء مدحت سرائی جب
بآقی تمام جسم ہی. جزدان نعت ہے


محبوبِ رب جو ذات ہے، عنوانِ نعت ہے


===== [[ شکیل کالا باغوی]]، [[کالا باغ]]، [[پاکستان]] =====
آنسو ہے روشنایی مژہ ہے مرا قلم
یہ ابتدائے سانس ہی پیمانِ نعت ہے


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
طاری بدن پہ کپکپی دوران نعت ہے




ذکرِ نبیۖ ہے قبر کی تنہائی کا رفیق
اعمال نامہ میں مرے کچھ بھی نہیں مگر


خاکی تری نجات ہی وجدانِ نعت ہے
میں مطمئن ہوں ساتھ یہ سامان نعت ہے




اوجِ فلک پہ میرا ستارہ رواں دواں
آب و ہواے اسم محمد ہے دایمی


جادو گری نہیں ہے یہ میلانِ نعت ہے
پت جھڑ میں بھی بہار پہ بستان نعت ہے




حیراں ہیں مشک و عنبر و عود و گلِ بہار
دل پر لبوں پہ صل علیٰ ثبت ہے مرے


کس شان سے مہکتا گلستانِ نعت ہے
اللہ کا کرم ہے یہ فیضان نعت ہے




کامل دل ونگاہ کی تطہیر شرط ہے
رکھ تو قدم اے اسپ قلم پھونک پھونک کر


حدِ ادب کا پاس قلمدانِ نعت ہے
دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے




نامِ عمر، صدیق، علی، عثمان ہیں رقم
باکار ہاتھ ہیں ترے با یار دل کو رکھ


یہ قصہءِ محبتِ یارانِ نعت ہے
ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے




مصارع شکیل کیوں تیرے عطر بِیز ہیں
پروانوں سے تو روشنی ہوتی نہیں  کوئی
بادِ صبا پکارے یہ فیضانِ نعت ہے


===== [[شوزیب کاشر]]، [[راولہ کوٹ]]، [[کشمیر]]، [[پاکستان]]  =====
روشن اسی چراغ سے ایوان نعت ہے


وسعت پذیر حلقۂ دامانِ نعت ہے
===== [[ریاض احمد قادری]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
تھاماجومیں نے ہاتھ میں دامان نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
بخشش کو میری کافی یہ سامان نعت ہے




ہر شاخ رونقِ چمنستانِ نعت ہے
خالق نے خود رقم کی ثناءے حضور ہے  


دو جگ میں خوشبوئے گلِ ریحانِ نعت ہے
قرآن پاک سارا ہی دیوان نعت ہے




قرآن سے کشید مضامین نعت کے
خلق عظیم اسوہ حسنہ حضور کا


روحِ ثنا یہی ہے یہی جانِ نعت ہے
سیر ت رسول پاک کی عنوان نعت ہے




سیرت سے مشکبار ہو سنت سے مستنیر
یہ صنف نعت وقف ثناءے حضور ہے


یعنی ہو مستند یہی شایانِ نعت ہے
ذات رسول پاک ہی شایان نعت ہے




اللہ کی یہ پیاری ، فرشتوں کی لاڈلی
ان کی ثنا میں لاکھوں ہی دیواں رقم ہوءے


سبحانهٗ تعالی عجب شانِ نعت ہے
تازہ جہاں میں آج بھی امکان نعت ہے




والشمس ہے کہیں ، کہیں واللیل سے خطاب
حسان کو جو رتبہ ملا بے مثال ہے  


یہ لؤلؤِ صلوۃ ، وہ مرجانِ نعت ہے
حسان ہر زمانے کا سلطان نعت ہے




مازاغ کا سلام ہے قوسین کا درود
رنگ رضا میں لکھو ثناءیں حضور کی


معراج ان کی شان میں اعلانِ نعت ہے
احمد رضا تو آپ دبستان نعت ہے




مُدَّثِّرُ و مُبَشِّرُ و مُزَّمِّلُٗ ہیں آپ
گھر گھر میں سج رہی ہیں ثناءوں کی محفلیں


ہر نامِ نامی آپ کا ، عنوانِ نعت ہے
ہر ایک گھر بنا ہوا بستان نعت ہے




ہر عہد کو محیط وہی عہد خوشگوار
ارض و سما و ظاہروباطن میں ہر طرف


خیرُ القرون نیرِ تابانِ نعت ہے
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"




حکمِ تُعَزِّرُوہٗ ادب گاہ مصطفی
طیبہ،ریاض،بطحا حدیقےہیں خلد کے


لاتَرْفَعُوا عقیدہ و ایمانِ نعت ہے
ہر جا نظر میں اپنی گلستان نعت ہے




لولاک کیا ہے مدحتِ سرور کے باب میں؟
جن و بشر فرشتوں کو حکم درود ہے  


اللہ کی محبت و برہانِ نعت ہے
انسان کے لئے یہی فرمان نعت ہے




عقدہ کشا ہے آیتِ صَلُّوا وَسَلِّمُوا
ان پر درود ہوگیا شامل نماز میں


بے شک درودِ پاک بھی فرمانِ نعت ہے
صل علی درود ہی اعلان نعت ہے




یُعْطِیْکَ رَبّّکَ سے تونگر بشر بشر
عشق رسول روح ثنائے حضور ہے


الفقر فَخْرِی رزقِ گدایانِ نعت ہے
عشق رسول کون و مکاں جان نعت ہے




پیماں شبِ الست کا لا شک ذالک
عزت بنی ہوئی ہے زمانے میں جو ریاض


قربان جائیے کہ وہ پیمانِ نعت ہے
میرے لئے یہ سارا ہی فیضان نعت ہے


===== [[ریاض مجید]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====


تحتِ سری سے عرش بریں تک کے سلسلے


جس سے مہک رہے ہیں وہ لوبانِ نعت ہے
جس سے درود رُو مرا وجدانِ نعت ہے


لفظِ مدینہ ایسا گلستانِ نعت ہے


اے شہسوارِ دشتِ غزل ہوش میں تو ہے؟


نادان! احتیاط یہ میدانِ نعت ہے
تکتے ہیں ہم کو حیرت و حسرت سے کس طرح


برگ و شجر کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


حقِ ثنا ہو کس سے ادا اور کس طرح
سب خاک اس سفر میں وہ کیوانِ نعت ہے


ہیں سلسلے زبان و بیاں کے جہاں جہاں


مجھ سا حقیر آپ کو نذرانہ دے تو کیا
پھیلا ہُوا وہاں وہاں امکانِ نعت ہے


کر لیجیے قبول یہ دیوانِ نعت ہے


قراں ہر امتی سے ہے پیہم درود خواہ


یہ شہرت و مقام یہ سطوت یہ ننگ و نام
اک طرح سے یہ دعوت و اعلان نعت ہے


میری بساط کیا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


قراں کی آیتوں میں ہے شان اُن کی عطربیز


محشر میں اطمنان سے ہوں گے ہم امتی
بین السطّور دیکھ یہ بستانِ نعت ہے


حاصل ہمیں شفاعتِ جانانِ نعت ہے


اہلِ ولا و اہل صفا کی نگاہ میں


جذب و شعور و فکر و فن و خامہ و ہنر
’احزاب‘ استعارہ پیمانِ نعت ہے


کاشر ہر ایک شے مری قربانِ نعت ہے


===== [[ شہر یار خرم]] ، [[اٹک ]] =====
صلّوا علیہ کی اسے توسیع جانئیے


حُبّ کا تلازمہ جو بعنوانِ نعت ہے


کیسے کسی کو دل میں بسائیں گے ہم بھلا


سینے میں دل جہاں وہیں کاشانِ نعت ہے
قران کا خلاصہ اگر اک ورق میں ہو


تو زیب اُس نوشتے کو عنوانِ نعت ہے


جاہ و جلال و عزت و رتبہ ملا مجھے


یہ مجھ گناہگار پہ فیضانِ نعت ہے
سعی ہنر قبول ہو‘ جو ہو خلوص سے


ہر نعت گو کو اتنا تو عرفانِ نعت ہے


تم کو پناہ دے گا زمانے کے رنج سے


آجاؤ عاشقو کہ یہ دامانِ نعت ہے
اس عہدِ نعت پہ کرم خاص آپ کا


گھر گھر کھلا ہُوا جو دبستانِ نعت ہے


تدریس و تربیت ہو یا انصاف و عدل ہو


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
کیا کیا ثنا سرشت ہیں مائل بہ نعت آج


فی الواقعی یہ عہدِ درخشانِ نعت ہے


سالک نے ڈرتے ڈرتے جسارت تو کی مگر


اک شعر پر محیط یہ دیوانِ نعت ہے
مصرعے اتر رہے ہیں ستاروں کی شکل میں


کاغذ سے روح تک میں چراغانِ نعت ہے




شاعر:  شہر یار خرم بٹ ، اٹک
فردائے نعت کی ہے ہر اک سمت سے نوید


===== [[شہریار زیدی]]، [[لاہور]] =====
ہر دل میں جو نمایاں یہ رجحانِ نعت ہے


مجھ بے ہنر پہ یہ بھی تو احسانِ نعت ہے


ہر شعر میرا شمع شبستانِ نعت ہے
جنت میں ہو گا نعت کا دورانِ جاوداں


اب تک ہوئی جو مشق وہ اک انِ نعت ہے


تجھ کو درِ حبیبؐ تلک لے کے جاونگی


مداح مصطفٰیؐ سے یہ پیمانِ نعت ہے
باعث ظہور ہست کا ہے ذات آپؐ کی


دھڑکن دلِ وجود کی گردانِ نعت ہے


اہلِ زمین نے بھیجا ہے پھر ہدیہِ درود


یہ مصطفٰیؐ کی بزم میں اعلانِ نعت ہے
مصروفیت ملی ہے بہشت آفریں ہمیں


ہم اہلِ حُب یہ کیسا یہ احسان نعت ہے


کیا خوف رہزنوں کا انھیں راہِ شوق میں


محفوظ جن کے سینوں میں سامانِ نعت ہے
بخشش کی التجا کے سوا کچھ نہیں ریاض


فردِ عمل میں جو سروسامانِ نعت ہے


وہ سوزِ دل ہو یا ہوں تفکر کی وسعتیں


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہے محوِ فکر رفعت و شانِ رسول میں


چپ ہے ریاض جس کو بھی عرفانِ نعت ہے


اللہ اور ملائکہ سب پڑھتے ہیں درود
===== [[زوہیب عباسی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
ہر جا رہِ حیات میں سامانِ نعت ہے


یہ عرش ہے یا گوشہِ ایوانِ نعت ہے
اللٰہ اللٰہ وسعتِ دامانِ نعت ہے




ٹھکراتا ہے وہ دونوں جہاں کی مسرتیں
سب برکتیں حضور کی فیضانِ نعت ہے


خوش بخت کتنا صاحبِ عرفانِ نعت ہے
کیا اور چاہیے ہمیں امکانِ نعت ہے




ہر فرد شہریار نبیؐ کے گھرانے کا
ہیں نعت کی کرامتیں یہ شانِ نعت ہے


لاریب! رشک لُو لُو و مرجانِ نعت ہے
"ہر شعبہ۶ حیات میں امکانِ نعت ہے"




===== [[ شہزاد بیگ]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
روشن ہوٸی نِگاہ کرشمہ سا ہو گیا


جیسے جہان سارا یہ ایوان ۔ نعت ہے  
فیضانِ نعت ہے یہ تو فیضانِ نعت ہے


ہاتھوں میں اس طرح مرے دیوان۔نعت ہے


ہیں رحمتیں حبیب پر خود آپ نے کہا


لکھ لکھ کے کررہا ہوں روانہ جو رات دن
کر لیجیے قبول کہ فیضانِ نعت ہے


یہ جذبہ ہے مرا کہ قربان۔نعت ہے


جلوہ نُما ہو ساقی تو پوری مُراد ہو


صل علی کا ذکر ہے دنیا میں ہر جگہ
عالم میں آج محفلِ رِندانِ نعت ہے


تسلیم۔دوجہان بھی ایقان ۔ نعت ہے
===== [[زید معاویہ]]، [[گوجرانوالہ]] =====
یونہی نہ اس زمین پہ باران نعت ہے


قلب غریق عشق ہی شایان نعت ہے


خوشبو دیار۔دل میں جو پھیلی ہے چارسو


خوشبو نہیں ہے یہ مرا ایمان ۔ نعت ہے
ثابت کیا نبی نے تریسٹھ برس میں یہ


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


دیوار ۔ خستگی میں بنا ہے نیا جو در


"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔نعت ہے"
حکم ِ خدا ہے مدحت ِ سرکار ِ دو جہاں


"صلو علیہ_" اصل میں فرمان نعت ے




رمضان میں لکھی ہے عقیدت میں ڈوب کر
تشنہ لبی کے مارے سخنور سنیں ذرا


یہ زیست بھی تو صورت ۔ عنوان۔نعت ہے
سیراب کر لیں روح , لگا خوان نعت ہے




ہم لازمی منائیں گے میلاد۔ مصطفی
اخلاق مصطفی پہ ہے فرمان عائشہ


یہ رونق ۔ جہاں بھی فیضان ۔ نعت ہے  
قرآن پڑھ ذرا کہ جو عنوان نعت ہے




جاری ہے ایک عرصہ سے جو شہر۔نعت میں
قرآں کی رفعتوں کے دلائل سبھی بجا


یہ شاعری نہیں ہے یہ فیضان۔نعت ہے
خوش بو ہے اس لیۓ بھی کہ گلدان نعت ہے




جو دل میں بس گئی ہے عقیدت حضور کی
رائج برے معانی ہیں جس لفظ کے بھی زید


ہر شخص اپنی ذات میں سلطان ۔ نعت ہے
روتا ہے بخت پر وہ کہ انجان نعت ہے


===== [[زینب سروری]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====


کرتا ہوں جان و دل سے میں تحریر نعت جو
مکمل نام : سیدہ زینب سروری قادری


وجہ ۔ تجلیات ہے ایمان ۔ نعت ہے  
لاریب عشقِ شاہِ امم، جانِ نعت ہے


پہچانِ نعت بھی یہی، سامانِ نعت ہے


سیرت کے واقعات کے قربان جاوں میں


جو مصطفے کی شان کے شایان ۔ نعت ہے
ہر لفظ مدحِ سرورِ کونین کا ہمیں


تسکینِ روح و جان بہ سلطانِ نعت ہے


بڑھیا سے لے کے حضرت حساں کی نعت تک


ہر ایک ایک واقعہ امکان ۔ نعت ہے
بزمِ ثنائے سرورِ دیں ہے سجی ہوئی


اونچی رہی سدا جو یہاں، شانِ نعت ہے


صل علی کا ورد زباں پر ہے صبح و شام


شہزاد بیگ آپ کا دربان ۔ نعت ہے
اس کے بغیر بات بنے گی کہاں حضور


===== [[شہزاد مجددی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
قلبِ سلیم ہو تو یہ شایانِ نعت ہے
مکمل نام : علامہ شہزاد مجددی


اک نامِ مصطفیٰ ہی فقط جانِ نعت ہے
لکھنے کا شوق دل سے نہ جائے گاعمر بھر


جواس کےذیل میں ہےوہ شایانِ نعت ہے
گرچہ ضخیم تر مرا، دیوانِ نعت ہے




کوئی کلام ہو کہاں شایان ِ نعت ہے
نعتِ نبی ہے سنتِ حسّانِ ذی وقار


قرآنِ پاک ہی ہے جو قرآنِ نعت ہے
اس وقت سے ہی رحمت و بارانِ نعت ہے




الحمد کےالف سےحدِحرفِ سین تک
سیراب مدحَ حُبِ نبی ﷺ سے کرے سدا


کتنا وسیع دیکھیے میدانِ نعت ہے
خوش بخت وہ نبی ﷺ کا سخندانِ نعت ہے




پیشِ نظرحضور کا اسوہ رہے تو پھر
اصنافِ شاعری میں ہے مرغوب صرف نعت


ہرشعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
سب سے جدا الگ مرا، میلانِ نعت ہے




ختم الرسل کے ہاتھ کی انگشتری تو دیکھ
مجھکو تو نعتِ سرورِ عالمﷺ سے کام ہے


اس میں جڑا نگینہ ٔ مرجانِ نعت ہے
خوشبو کا سلسلہ مرا ایوانِ نعت ہے




مقدورہوتو پوچھ لو روح الامین سے
توصیفِ مصطفٰےﷺ سے ملی راہِ مستقیم


اس دور میں بھی کیا کوئی حسان نعت ہے
دے معرفت کا نور، یہ احسانِ نعت ہے




فردِعمل کا کوئی بھروسہ نہیں حضور!
حق مدحتِ رسول ﷺ کا وہ ہی ادا کرے


کرنے کوپیش بس یہی دیوانِ نعت ہے
سونپا جسے خدا نے، قلمدانِ نعت ہے  




اےمدح خوانِ شان رسالت بتا مجھے
پھر سے ردیف و قافیہ الہام ہو گئے


پیش نظرترے کوئی میزانِ نعت ہے
پھر سے افق پہ قلب کے، امکانِ نعت ہے


اس کے بغیر نعت لکھے  کوئی کس طرح


کچھ آگہی تھی مجھ کوبھی حامیم دال سے
عشق رسول ﷺ ہی مرا ایمانِ نعت ہے


سو میں نے کہہ دیا مجھے عرفانِ نعت ہے


اس سے بڑا شرف نہیں زینب یہاں  کوئی


دفتر کئی لکھے ہیں مدیحِ رسول میں
کاسے میں ہم گداؤں کے، فیضانِ نعت ہے


شہزاد آج تک مجھے ارمانِ نعت ہے
بشکریہ : [[فراز عرفان]]


===== [[شیر محمد]]، [[جھارکھنڈ]]، [[بھارت]] =====
===== [[زین زیدی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
پھر سے دلِ فقیر کو ارمانِ نعت ہے


بشکریہ : [[نواز اعظمی]]
امداد وہ کرے گا جو سلطانِ نعت ہے


روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے


توصیف شاہ دہر کی عنوانِ نعت ہے
دھڑکن نہیں چٹکتی ہیں کلیاں درود کی


دل دل نہیں رہا ہے گلستانِ نعت ہے


تعمیر ذات میں بڑا احسان نعت ہے


مجموعۂ کلام بھی دیوان نعت ہے
حیدر کی زندگی نے بتایا جہان کو


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر شعبۂ حیات کے سرکار رہنما


ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
جب تک کسی کو منصب عصمت نہیں ملے


وہ لفظ کون لکھے جو شایانِ نعت ہے


*لا‌ یمکن الثناءُ کما کان حقہ*


یہ عجز و اعترافِ ادیبان نعت ہے
خامے کو سلسبیل سے دھولیں تو پھر لکھیں




تعریف واہ واہ نہ تحسین و آفریں
وہ اسمِ چارہ ساز جو عنوانِ نعت ہے


چشمِ کرم، دوائے مریضانِ نعت ہے


جس نے بچا رکھا ہے خجالت کی دھوپ سے


پروانۂ نجات بھی ہوگا بروز حشر
زینِ رضا وہ سایہءِ دامانِ نعت ہے


مجھ پر خطا کے ہاتھ میں دامان نعت ہے
===== [[ساجد حیات]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
وابستگی رسول سے دیوانِ نعت ہے


مضمونِ عشق باعثِ عنوانِ نعت ہے


باشندہ جو بھی عالمِ شعر و ادب کا ہے


کاسہ بدست بر درِ ایوان نعت ہے
میں خاک اوڑھ لوں گا فقط اس یقیں کے ساتھ


بخشش کو میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے


الفاظ لاؤں کوثر و تسنیم سے دھلے


ذوق سخن وری مرا مہمان نعت ہے
احساس کے یہ اشک جو گرتے ہیں روح پر


دُھلتے ہیں پھر گناہ یہ فیضانِ نعت ہے


پاکیزگئ حرف کو حاصل اسی سے بھیک


صوت و صدا کا حسن بھی فیضانِ نعت ہے
میرے نبیؐ کی شان ہے اور شان دیکھیئے


ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


آداب و احترام ثنا اس سے سیکھیے


قرآنِ رب ذریعۂ عرفان نعت ہے
بنجر زمینِ فکر کو سر سبز کر کے دیکھ


سیرت مرے رسول کی فیضانِ نعت ہے


سیراب ہو رہا ہوں میں ذکر رسول سے


کشتِ سخن پہ چشمۂ باران نعت ہے
میں لفظ لفظ ٹانک رہا ہوں جو نعت میں


تو حرف حرف لُو لُو و مرجانِ نعت ہے


حورو ملک کہ جن وبشر آنکھوں میں رکھیں
===== [[ساجد ندیم ]]، [[سیالکوٹ ]]، [[پاکستان ]] =====


ہر دلعزیز بلبل بستانِ نعت ہے
جب مطمعِ نظر ترے دامانِ نعت ہے


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


شعری وجود و چشم ہے محفوظ ضعف سے


اشہر کے بخت میں نمک و نانِ نعت ہے
کر دے جو بے نیاز ہر اک احتیاج سے


شیر محمداشہر شمسی منانی، جھارکھنڈ (ہندوستان)
کل کائنات اپنی یہ ایقانِ نعت ہے


===== [[صادق جمیل]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
اللہ کیا ہے خالق ِ سامان ِ نعت ہے


لوح و قلم ہی اصل میں شایان ِ نعت ہے
دونوں جہاں کی اس میں میسر ہیں رفعتیں


کتنی بڑی عطا ہے جو عرفانِ نعت ہے


شامل یہ نشریات میں اعلان ِ نعت ہے


صادق جمیل ملحق دامان ِ نعت ہے  
دل مطمعن ابھی سے ہے کوثر پہ جام کا


مجھ رو سیاہ پہ دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے


اس سے سوا بھی کیا کوئی احسان ِ نعت ہے


مجھ کو خدا نے بخشا قلم دان ِ نعت ہے
آداب و شان و حب و مودت سے آگہی


میراثِ کل ندیم یہ سامانِ نعت ہے


حد ِ نظر سے آگے بھی ایوان ِ نعت ہے
===== [[ساغر مشہدی]]، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[فیصل ہاشمی]]


جبریل جانیے کہ نگہبان ِ نعت ہے  
عرفانِ ذات اصل میں عرفانِ نعت ہے  


یہ نورِ آ گہی مری پہچانِ نعت ہے


سیرت اگر ہے آپ کی پیش نظر مدام


"ہر شعبہ ءِ حیات میں میں امکان ِ نعت ہے "
محشر میں جب شناخت ہو میری تو سب کہیں


حمادِ اہلیبت ہے ، حسانِ نعت ہے


صحرا صفت وجود بھی شاداب ہوگیا


برسا کچھ اس طریق سے باران ِ نعت ہے  
پُرسش ہوئی جو حشر میں کیا کچھ ہے تیرے پاس


حالی کی طرح کہہ دوں گا دیوانِ نعت ہے


حمد ِ خدا سے نعت ِ رسالت مآب تک


حسن ِ سخن کی جان بھِی فیضان ِ نعت ہے
جنت میں بھی سجائیں گے نعتوں کی محفلیں


محبوبِ ذوالکرم جو نگہبانِ نعت ہے


اسری کی رات دیکھی کسی اور نے نہیں


جبریل کو ہی اصل میں عرفان ِ نعت ہے
عرشِ عُلٰی کہ فرشِ زمیں کی ہوں رونقیں


" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


سینے میں اور کوئی بھی خواہش نہیں جمیل


ارمان ہے تو ایک ہی ارمانِ نعت ہے
دل کا قرار روح کی بے تابیوں کا حل


===== [[صائمہ اسحاق]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہر اضطرابِ وقت کو سلمانِ نعت ہے


ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے


صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے
جس کے طفیل خلق کیا ہے جہان کو


خالق بھی نعت خوان ہے، کیا شانِ نعت ہے


پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے


جب خود درودِپاک ہی دربانِ نعت ہے
ساغر میں مدح خوانِ رسالت مآ ب ہوں


میرا کمالِ فن نہیں احسانِ نعت ہے


ہرسانس مستفیض ہے ان کے وجود سے
مکمل نام : سید ساغر مشہدی


'؛ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے؛
===== [[سائرہ خان سائرہ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
لاریب فضل رب ہی ، یہ فیضانِ نعت ہے


بالواسطہ ہے حمد ہی جو جانِ نعت ہے


اے کاش کم سخن کو بھی آئے ثنا گری


قرطاس کو قلم کو بھی ارمانِ نعت ہے
ہرلمحئہ حیات میں رہبر ہے انکی ذات


ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


جیسے ہر ایک شے میں ہے عشقِ محمدی


ویسے ہر ایک شے میں ہی میلانِ نعت ہے
مسحور ہیں فضائیں تو دل بھی ہیں مشکبار


ہر سو کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے


کوثر سے جام اس کو عطا ہو مرے حضور


شامل قطار میں جو ثنا خوانِ نعت ہے
ہو میرے حرف حرف کو پاکیزگی عطا


سوچیں بھی ہوں لطیف یہ ایوانِ نعت ہے


کیا کیاسخن طرازہیں اس کارزار میں


ناچیز کو سہاریے میدانِ نعت ہے
اے خلقِ اولیں ، تری مدحت پہ میں نثار


ہر لمحہ تیرا ذکر اے سلطانِ نعت ہے


قوسین ہے خدا سے محبت کا سلسلہ


معراج کا سفر بھی تو اعلان ِ نعت ہے
بزم فروغ نعت سے دولت ملی مجھے


الحمد فکرِ نعت ہے، احسانِ نعت ہے


کچھ اور تو نہیں مرے توشے میں صائمہ


حبِ رسول ِ پاک ہی سامانِ نعت ہے
جاں سے مجھے عزیز وراثت ہے نعت کی


===== [[صفیہ ناز]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]]=====
میرا تو سب گھرانہ ہی قربان ِ نعت ہے
چشم کرم حضور کی فیضان نعت ہے


رزق_سخن ملا جو یہ احسان _ نعت ہے
===== [[سجاد بخاری]]، [[مکہ مکرمہ سعودی عرب]] =====


آیات کیا ہیں اصل میں سامانِ نعت ہے


لکھی ثنا تو ہو گئے الفاظ نوُر نوُر
اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے


اور جگمگا اُٹھا میرا دیوان_ نعت ہے


لَا تَجْهَرُوا کا ضابطہ برہانِ نعت ہے


مدحت کے پھول بے بہا دامن میں آ گئے
اور سلمو کے حکم میں اعلانِ نعت ہے


کتنا وسیع نبی کا گلستان_ نعت ہے


عرفانِ حمد ہے جسے عرفانِ نعت ہے


کچھ سسکیاں ہیں اشک ہیں کچھ درد اور دروُد
دیوانہء سجود ہے مستانِ نعت ہے


اتنا سا پاس میرے بھی سامان_ نعت ہے


تحریر ہو رہی ہے ازل سے کتابِ نعت


عشق_ نبی میں ڈوب کر جو بھی کرے ثنا
دنیا تو ایک صفحہ ء دیوانِ نعت ہے


وہ ہی عظیم ہے وہی سلطان_ نعت ہے


باغِ بہشت پرتوِ حسنِ رسول ہے


غار_حرا کا نوُر اُترے جو روم روم تک
گلزارِ ہست و بود میں ریحانِ نعت ہے


پھر خامہ بھی لکھے گا جو شایان_ نعت ہے


لوح و قلم نے کاڑھا ہے توصیف کا لباس


دل میں سجی ہو یاد جب آقا کریم کی
یہ کائنات وسعتِ دامانِ نعت ہے


ہر شعبہ ء حیات میں امکان_ نعت ہے


آپ اسوہء رسول سے جڑ کر تو دیکھیے
'' ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


آئی بہار نعتوں کی کلیاں چٹک گئیں


اے ناز تیرے قلب پہ باران_نعت ہے
میلاد کی گھڑی ہے غلاموں کی عید ہے


===== [[صغیر انور وٹو ]]، [[اسلام آباد]] =====
یعنی کہ ہر سو موسمِ بارانِ نعت ہے


کس کو، شعور_وسعت_ دامان _نعت ہے


وہ خوش نصیب ہے، جسے عرفان_ نعت ہے
اُن پر اور اُن کی آل پہ پڑھتے رہو درود


ایماں سے کہہ رہا ہوں یہی جانِ نعت ہے


در کھل گیا ہے خیر کا، رحمت کا، نور کا


لے آئے ،جس کے پاس ،جو، سامان_ نعت ہے
ہریالیاں ہیں گنبدِ خضرا سے چار سو


یہ رونقیں یہ تازگی فیضانِ نعت ہے


لکھی نہیں ہے، مجھ کو عطا کی گئی ہے نعت


آنکھوں میں نم نہیں ہے یہ باران_ نعت ہے
اللہ بھیجتا ہے حضور آپ پر درود


کیا مرتبہ ہے آپ کا کیا شانِ نعت ہے


اس ذات کو ہی زیبا ہے مدحت حضور کی


اس کا کہا ہی اصل میں شایان_ نعت ہے
چنتی ہیں شہرِ طیبہ سے منسوب بلبلیں


أرض و سما پہ پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے


مجھ بے ہنر پہ ان کا کرم ہو گیا تو پھر


میں بھی کہوں گا یہ مرا دیوان_ نعت ہے
سانسوں میں نغمگی ہے نگاہوں میں تازگی


گویا دلوں میں بارشِ بارانِ نعت ہے


قرآں بتا رہا ہے سراپا حضور کا


کس درجہ واشگاف یہ اعلان نعت ہے
نام و نسب کا زعم نہ مشقِ سجود ہے


امیدیء نجات میں احسانِ نعت ہے


روشن ہے کائنات اسی ایک نور سے


انور، وہ  آپ شمع ٕ شبستانٕ نعت ہے
جھکنا نہیں پڑا مجھے رب کے سوا کہیں


===== [[ضمیر درویش]]، [[مراد آباد]]، [[انڈیا]] =====
سجاد اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
ہر چند بے نوا ہوں پہ عرفانِ نعت ہے  


فیضانِ نعت ہے ارے فیضانِ نعت ہے
===== [[سرور حسین نقشبندی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====




قرآں میں رب بھی کرتا ہے توصیفِ مصطفٰی
کیا کیا گدائے نعت پہ احسان نعت ہے


سلطانِ ہست و بود بھی سلطانِ نعت ہے
اک ایک سانس حجرہء ایوان نعت ہے




دراصل ہو رہا ہے یہ دل پر نزولِ نعت
کیسی ہری بھری ہے تخیل کی سرزمیں


عالم عجیب دل کا جو دورانِ نعت ہے
صد شکر کشت فکر پر باران نعت ہے




کس منھ سے کہتے ہو مجھے کم مایہ وغریب
اصناف شعر ساری اسی کی ہیں خوشہ چیں


مَیں وہ ہوں جس کے ہاتھوں میں دیوانِ نعت ہے
جو بھی سخن کی صنف ہے دربان نعت ہے




کیجے جونظم سیرتِ اقدس بھی نعت میں
تفہیم اس کو اسوہء کامل کی جانئے


'ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"




'درویش' حرف حرف سے آئیں گی خوشبوئیں
خوشبو بنائے کیوں نہ مرے گرد دائرہ


عشقِ حبیبِ پاک اگر جانِ نعت ہے
موج صباء کی ہمدمی دوران نعت ہے


===== [[طارق شہزاد]]، [[جدہ]] ، [[سعودی عرب]] =====


گلزار۔حسن_ فکر پہ احسان_ نعت ہے
اس کو ملے گا اجر بھلے شعر ہوں نہ ہوں


سب تتلیوں کے ہاتھ میں گلدان_نعت ہے
وہ خوش نصیب ہے جسے ارمان نعت ہے




جو کنز _ کن ہے سارا ہی سامان_نعت ہے
قرآن سے حدیث سے تم کو ہے مس اگر


ہر شعبہء حیات میں امکان_ نعت ہے
کافی برائے نعت یہ سامان نعت ہے




درباں کو کاش داور _ محشر یہ حکم دیں
یاں پر اک ایک لفظ رکھو ناپ تول کر


روکیں نہ اس کو صاحب_ دیوان_ نعت ہے
اے شوق! احتیاط یہ میزان نعت ہے




فصلیں خیال_سبز کی اگتی ہیں جا بجا
سرور یقیں نہ کیسے ہو اپنی نجات کا


کشت_ سخن بھی تحفہء دہقان_ نعت ہے
فرد عمل میں جب مرے دیوان نعت ہے


===== [[سکندر عزیز خان]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


اک دن چھپے گا میرا بھی دیوان ! دیکھنا
بخشش کے واسطے یہی سامان نعت ہے


حاصل مجھے بھی صحبت_ یاران_ نعت ہے


اللہ مرا بھی آپ کی مدحت میں محو ہے


پھوٹے ہیں پور پور سے چشمے درود کے
قرآن بھی تو اصل میں دیوان نعت ہے


ٹھہرا سراے روح میں مہمان_ نعت ہے


اللہ کرے ھو اس کو عطا رفعت خیال


کچھ اہتمام_ روز_ جزا کیجیے میاں
جس شخص کے بھی دل میں ارمان نعت ہے


سودا خرید لیجیے دکان _ نعت ہے


یوں لگ رہا ہے  دل میں ثنا کا ورود ہے


پت جھڑ کی کیا مجال کہ چھینے طراوتیں
میلاد کے سرور میں میلان نعت ہے


ان پتیوں پہ رنگ_ بہاران_ نعت ہے


لکھے خلق کے ساتھ خالق بھی انکی نعت


مشک_ درود_ پاک سے مس کر لباس_ زیست
حق بھی یہی ہے  اور یہی شان نعت ہے


کھولی کسی نے کاکل_ دیوان _ نعت ہے


آقا کے سامنے یہ کہوں گا میں قبر میں


===== [[طاہر جان]]، [[گوجرہ]] =====
مقبول کیجئے مرا دامان نعت ہے


پیہم قلم رواں ہے بفیضان نعت ہے


ہر لفظ کیمیا ہے بعنوان نعت ہے
ہر روز بیٹھ کے میں لکھوں اسمیں ایک نعت


میرا بھی گھر عزیز یوں ایوان نعت ہے


لفظوں کے ساتھ چاہیئے معانی کی احتیاط
===== [[سلمان راٹھور مانی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
محوِ جمالِ خاص سخندانِ نعت ہے


لغزش کی جاء نہیں کہ یہ عنوان نعت ہے
لب رحمتوں سے تر ہیں یہ فیضانِ نعت ہے




اشکوں سے آنکھ ہی نہیں دل بھی ہوں دھو رہا
زلف و رخِ حسین بھی ہے خال و خد بھی ہیں


پاکی نگاہ و فکر کی جزدان نعت ہے
ان کی ہر اک ادا میں ہی امکانِ نعت ہے




اس کی بہارِ تام خزاں سے ہے نا شناس
دشمن بھی دیکھتا تو یہ کہتا تھا برملا


ہر دور میں فروزاں گلستان نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"




ہر ذکر سے بلند کیا مصطفی کا ذکر
ہاتھوں میں کنکری کی گواہی بتا رہی


رب جہان آپ قدر دان نعت ہے
سارا جہاں مجسمِ عرفانِ نعت ہے




گرچہ ہے جاؔں بھی خوگرِمدحِ رسولِ پاک
آقا کی بزمِ خاص کا ہے رنگِ مشترک


حق ہے کہ صرف حق ہی کو عرفان نعت ہے
آنکھوں میں چار یار کے میلانِ نعت ہے
۔
مانی ہوئی ہے رومی و جامی کی نعتِ پاک


===== [[عارف امام]]، [[امریکہ]]  =====
جیسے کسی زبان پہ قرآنِ نعت ہے
سلمان مانی
اسلام آباد


عالم تمام حلقۂ دورانِ نعت ہے
===== [[سلمان رسول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]]=====
ہاتھوں میں جس کسی کے قلمدان نعت ہے


اعلانِ کُن کے “ن” میں اعلانِ نعت ہے
عالم اسی کے واسطے میدان نعت ہے




ملتی ہے عاجزی سے یہاں شعر کو اُٹھان
محدود اس کو شعروسخن تک نہ کیجیے


گردن جُھکا کے چل کہ یہ میدانِ نعت ہے
ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے




پُر پیچ تو نہیں ہے مگر سہل بھی نہیں
جو شخص آشنائے تقاضائے عشق ہو


اے راہ رو سنبھل! یہ خیابانِ نعت ہے
اس کا فقط وجود ہی برھان نعت ہے




سرنامۂ کلام ہیں اوصافِ مصطفیٰ ص
ان کے لیے بنائی گئی ہے یہ کائنات


گویا کتابِ حق ہی دبستانِ نعت ہے
سمجھو تو گام گام پہ سامان نعت ہے




مدحِ نبی ص ہے نغمۂ تارِ نفس مدام
سیرت سے کیوں حضور کی ہم ہو رہے ہیں دور


میں سانس لے رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے
جبکہ بہت عروج پہ رجحان نعت ہے


===== [[سلمان گیلانی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : سید سلمان گیلانی


سایہ ہے اِس سخن کا مِرے سر پہ تو مجھے
حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے


میدانِ حشر وادئ فارانِ نعت ہے
میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے




اس دائرے سے دور نکل اے خیالِ دہر
مدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے


حّدِ ادب! یہ بزمِ سخن دانِ نعت ہے
فیضانِ نعت حلقہءِ یارانِ نعت ہے




خطبے میں جس نے دفترِ الحمد وا کِیا
دُوراَز قیاس وُسعتِ مَیدانِ نعت ہے


تاریخ نے کہا وہ حدی خوانِ نعت ہے
یہ مُلکِ نعت, مُلک سلیمانِ نعت ہے




کوثر سے منسلک ہے یہاں کی ہر اک رَوِش
حَسّان ہے صحابئ سُلطان بَحر و بَر


یہ باغِ منقبت یہ گلستانِ نعت ہے
ہر نعت اُس کی اِس لیئے سلطانِ نعت ہے


===== [[عارف قادری]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
پھیلا ہُوا جہان میں فیضانِ نعت ہے


جو جو کرم ہے جس پہ، وہ احسانِ نعت ہے
عشق رسول دل میں ہے آنکھوں میں اشک غم


کافی مِرے لیئے یہی سامانِ نعت ہے


جاں ہے فداۓ مدحِ پیمبر، زہے نصیب


خُوش بخت ہوں، کہ دِل مِرا قُربانِ نعت ہے
ہر شعبہِ حیات پہ میں نے کِیا ہے غَور


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


یُوں ہی نہیں ہے وقت کی گردش تھمی ہُوٸی


جاری مِری زبان پہ گَردانِ نعت ہے
بس میں نہیں کسی کے اسے کر سکے عبور


اتنا وسیع دوستو میدانِ نعت ہے


مانا اَدَب میں صِنفِ غزل بھی ہے صِنفِ خاص


دیکھیں دِلِ سخن میں، تو ارمانِ نعت ہے
مائل بہ نعت رہتی ہے طبعِ رواں مری


ہر فرد میرے گھر کا حُدی خوانِ نعت ہے


آنا ذرا سنبھل کے مِرے شاعرِ عزیز


حسّاس ہے بہت، کہ یہ میدانِ نعت ہے
ہر نعت گو ہے طائر سدرہ کا ہم سفر


ہر نعت خوان بلبل بستانِ نعت ہے


دِل کا گُداز، اشکِ تپیدہ، جگر کا سوز


بہرِ قبول بس یہی سامانِ نعت ہے
روزِاَلست باندھا تھاجو اپنے رب سےعہد


اُس عہد سے بندھا مِرا پیمانِ نعت ہے


سب داٸرے مُحیطِ عطاۓ حضور ہیں


”ہر گوشہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“
اللہ کرے کہ طاری رہے یونہی عمر بھر


یہ وَجد و کَیف مُجھ پہ جو دَورانِ نعت ہے


خُلدِ بریں کی مُجھ پہ حقیقت بھی کُھل گٸی


پُر کیف و پُر بہار گُلستانِ نعت ہے
سلمان, شعر نعت کے, ہیں مِثلِ گُل تمام


دِیوانِ نعت اصل میں گُلدانِ نعت ہے


مِلتی نہیں ہر ایک کو عارف یہ روشنی
===== [[سلیم شہزاد]]، [[ فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====


قسمت کا ہے دھنی جسے عرفانِ نعت ہے
بشکریہ : [[اویس مدنی]]


===== [[عاصم زیدی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
صلِ علیٰ سے لہکا گلستانِ نعت ہے
ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے  


لیکن زہے نصیب کو عرفانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"




"کُن" کی صدا کا اُٹھنا تو عنوانِ نعت تھا
اللہ کی پیروی تو ہے لازم ہر ایک پر


ظاہر ہوا جو "کُن" سے وہ دیوانِ نعت ہے
جاری خدا نے خود کیا فرمانِ نعت ہے




قرآن پڑھ رہا ہے قصیدے رسول ؐ کے
تکریم جو نصیب ہے مجھ کو جہان میں


یعنی کہ "بے نیاز" کو ارمانِ نعت ہے
توقیر سب یہ میری تو احسانِ نعت ہے




شاعر تو کر رہا ہے اٙدا سُنّتِ خدا
نعتِ نبی کو رکھتا ہوں میں جاں سے بھی عزیز


ورنہ "احد" کی ذات ہی شایانِ نعت ہے
یہ زندگی تو اب مری پہچانِ نعت ہے




شانوں پہ کاتبین نے آرام کرلیا
فرمایا حق نے آپ کے صدقے اتار کر


بس لکھ دیا کہ یہ ابھی دورانِ نعت ہے
تو مقصدِ حیات ہے تو شانِ نعت ہے




منکر نکیر اُس سے ملیں گے بصد ادب
شاہد میں ان کی نعت سے مسرور ہو گیا


تقدیر میں عطا جسے فیضانِ نعت ہے
صد شکر میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


===== [[سعید زبیر]]، [[ڈیرہ غازی خان]]، [[پاکستان]] =====
پیشِ نظر حقیر کے عنوانِ نعت ہے


کیونکر بھٹک سکے گا رٙہِ مستقیم سے
تھرا رہے ہیں لفظ کہ میدانِ نعت ہے


عاصم ترے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


===== [[عاکف غنی]]، [[پیرس]] =====
دل ہو وفورِ عشقِ شہِ دین سے غنی
وردِ درود لب پہ ہے ،وجدانِ نعت ہے


عشقِ نبی ہے دل میں تو امکانِ نعت ہے
پھر کہئے نعتِ پاک جو ارمانِ نعت ہے




لاؤں اثر کہاں سے میں اپنے کلام میں
دیکھو جہان والو میں کس درجہ ہوں غنی


اسلوبِ فن کہاں مرا شایانِ نعت ہے
میرے لبوں پہ نغمۂ سلطانِ نعت ہے




اس کے قلم سے نعت کی پھوٹے گی روشنی
پہنچیں گے قبر میں انہی جذبات سے کہ ہاں


جس کے دل و نگاہ میں عرفانِ نعت ہے
پیشِ نکیر ہم کو تو ایقانِ نعت ہے




مدحت کروڑ ہا ہیں جو کرتے ہیں آپ کی
آتی ہے چار دانگ یہی بانگِ لم یزل


ان میں سے میں بھی ہوں جسے ارمانِ نعت ہے
ہر سُو جہانِ دہر میں اعلانِ نعت ہے




لفظوں کا انتخاب کریں دیکھ بھال کر
گر ہو عبور سیرتِ سرکار پر سعید


محتاط اہلِ فن کہ یہ میدانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


===== [[سعید شارق]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
یاقوتِ نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے


حسنِ سلوک آپ کا ہر اک سے ایک سا
آنکھوں کے پانیوں میں نہاں کانِ نعت ہے


ہر قول و فعل آپ کا عنوانِ نعت ہے


مکّہ و طیبہ مصرعِہ اولیٰ و ثانی ہیں


کہنے لگا جو نعت میں آتا گیا نکھار
یہ کائنات اصل میں دیوانِ نعت ہے


لفظوں پہ میرے دیکھیے بارانِ نعت ہے


===== [[عائشہ ناز]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ڈھونڈا لغاتِ چشم سے اک تین حرفی لفظ
موضوعِ گفتگو مرا اب شانِ نعت ہے


کتنا مرے سخن پہ یہ احسانِ نعت ہے  
اور خیر سے یہ اشک ہی عنوانِ نعت ہے




سب کے نصیب میں کہاں عرفانِ نعت ہے
رکھتا ہوں اس لیے بھی قدم پُھونک پُھونک کر


صد شکر دل محبِّ محبانِ نعت ہے  
اب میرے دوش پر سرو سامانِ نعت ہے




بتلا رہا ہے اسم ِمحمّد ﷺ کہ حشر تک
آتا نہیں سمجھ کہ چکھوں کون کون سا


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے  
صد رنگ ذائقوں سے بھرا خوانِ نعت ہے




ان کی صفات کیسے بیاں کر سکے کوئی
سینے میں چھا رہے ہیں کئی سبز سبز ابر


کہہ کر بھی نعت قلب کو ارمانِ نعت ہے
مطلع سے لگ رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے




رکھی ہوئی ہیں اس میں ادب سے سنبھال کر
مضموں کی دیکھ بھال میں   کوئی کسر نہ ہو


دل جس کو آپ سمجھے وہ جزدانِ نعت ہے  
اے لفظ! احتیاط! یہ مہمانِ نعت ہے




اس کی گلی گلی میں ہے مہکار نعت کی
دو رویہ کیاریاں ہیں مرے دل کے ساتھ ساتھ


یہ ارضِ پاک میری گلستانِ نعت ہے
یہ باغِ حمد ہے ، یہ گلستانِ نعت ہے


===== [[عباس عدیم قریشی]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]]   =====
===== [[سعود عثمانی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
انکی عطا ہے اور مرا دامانِ نعت ہے


یعنی زمینِ خشک پہ بارانِ نعت ہے
گر ایک شعر بھی مرا شایانِ نعت ہے  


پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے


فکرِ سخن ، رضا کے تکلّم کی بھیک بس


طرزِ سخن فقیر کا فیضانِ نعت ہے
سچ یہ ہےساری زیست ہی دیوان نعت ہے  


ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے


ملحوظ حدّ ِ شرع و سیرت رکھی فقط


دعویٰ نہیں ہے حاشا ، کہ عرفانِ نعت ہے
تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے  


جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے


مجھ پر جو حرف و معنی کے دفتر ہوئے ہیں وا


یہ اہلیت نہیں مری ، احسانِ نعت ہے
رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر


ثابت تو کر کہ ہاں مجھے عرفانِ نعت ہے


کچھ ان بہے سے اشک ہیں ، کچھ بےصدا سے لفظ


کاسے میں مجھ گدا کے یہ سامانِ نعت ہے
قصے کہانیوں کو کہیں دور جا کے پھینک


سیرت کو نظم کر کہ یہی جانِ نعت ہے


تغسیلِ نور کر کے اترتے ہیں یاں خیال


یہ مہبطِ جمال ہے ، میدانِ نعت ہے
آداب ہیں سکوت کے بھی' گفتگو کے بھی


دونوں طرح بتا کہ سخن دان نعت ہے


یاں قدرتِ سخن نہیں ، توفیقِ نعت مانگ


غالب ہیں ہاتھ باندھے ، یہ ایوانِ نعت ہے
گنتی کے چند لوگ ہیں' گنتی کے خوش نصیب


حاصل جنہیں طلائی قلم دانِ نعت ہے


ہر لمحہ ہوں درود سپاس انکی چاہ میں
ہر لمحہ ان کے لطف سے قربانِ نعت ہے


مدح نبی تو خود بھی بڑا فخر ہے مگر


کہنے کی بات ہے نہ بتانے کا حوصلہ
مصرعہ قبول ہو تو یہ احسانِ نعت ہے  


جتنا کرم فقیر پہ دورانِ نعت ہے


سب جانثاروں مدح گزاروں کے درمیاں


ماخوذ ہو حیات جو سیرت سے شاہ کی
جگمگ ہے ایک شخص جو حسّانِ نعت ہے  
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "




حسّان و رومی ، جامی کا صدقہ ہے یہ عدیم
جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود


توفیقِ نعت جس کو ہے حسّانِ نعت ہے
اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے


===== [[عبد الباسط]]، [[ ٹوبہ ٹیک سنگھ]]، [[پاکستان]]  =====
یہ کائنات سر بسر سامانِ نعت ہے


وہ خوش نصیب ہےجسے عرفانِ نعت ہے
توفیق نعت دی ہے جو تو نے سعود کو


یارب وہ اجر بھی کہ جو شایان ِ نعت ہے


اللہ کا ہے فرمان کانَ خلقہ القرآن


یعنی قرآنِ پاک بھی اعلانِ نعت ہے
جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود


اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے


میرے لبوں پہ رہتا ہے ذکرِ حضورِ پاک
===== [[سمعیہ ناز]]، [[لیڈز]]، [[برطانیہ]] =====
مخصوص یہ عنایت و احسانِ نعت ہے


مجھ پر یہ احسان بہ فیضانِ نعت ہے
حاصل ہوا جو قلب کو وجدانِ نعت ہے




آقا ہیں میرے باعثِ تخلیقِ کائنات
عشقِ نبی کے نور سے روشن ہے جس کا دل


یہ کائنات سمجھیے دیوانِ نعت ہے
پھر اس پہ صبح و شام ہی فیضانِ نعت ہے




ہراک نفس پہ قرض ہے مدح حضور کی
رنج و الم قریب بھی آتے نہیں مرے


ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے
صد شکر جب سے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے  


===== [[عبد الحلیم]]، [[ گونڈہ]]، [[بھارت]]  =====
فکر و نظر شعور میں فیضانِ نعت ہے


جو کچھ ہے میرے پاس وہ احسانِ نعت ہے
سیرت سے آپ کی ہو درخشاں حیات گر


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


اللٰہ کے رسول کا احسان دیکھئے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
چنتی رہی میں گل تری مدحت کے باغ سے


خوشبو سے بھر گیا مرا دیوانِ نعت ہے


تسکین قلب کے لئے نعت رسول بس


میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے
وردِ زباں درود ہو آنکھیں ہوں نم تری


پھر ہو رقم قلم سے جو شایانِ نعت ہے


ابر کرم حضور کا برسا ہے ہر جگہ


اس واسطے جہاں یہ گلستانِ نعت ہے
جب سے جمالِ گنبدِ خضریٰ ہے سامنے


ہر لمحہ میرے قلب پہ باران نعت ہے


آنکھوں میں اشک دل میں وِلا لب پہ ان کا نام


ہمراہ میرے بس یہی سامانِ نعت ہے
مدحت کا اذن یوں ہی سمیعہ نہیں ملا


عشقِ رسول ہے تو یہ عرفانِ نعت ہے


جنبش قلم کو خوب ادب سے دیا کرو
===== [[سید حسن]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
کب یہ کہا زباں مری شایانِ نعت ہے


لازم ہے احتیاط یہ میدانِ نعت ہے
مجھ پرکرم ہے آپ کا احسانِ نعت ہے




عبدالحلیم جیسے بھی لکھتے ہیں ان کی نعت
دادا کے بعد حضرتِ عمران ہیں وجہ


کتنا وسیع دیکھئے دامانِ نعت ہے
باقی ابھی تلک جو دبستانِ نعت ہے


===== [[عبدالرحیم ارحم]]، [[حیدر آباد]]، [[سندھ]]، [[پاکستان]] =====
ظاہر کلام رب سے جو فرمانِ نعت ہے


تاحشروا یونہی در امکانِ نعت ہے


روشن فلک پہ چاند ستارے نہیں  کوئی


شان رسول پاکﷺ میں قرآں کاحرف حرف
دراصل پھیلا یہ تو چراغانِ نعت ہے


لولوٸے نعت ہے کوٸی مر جانِ نعت ہے


دامن میں میرے کچھ نہیں بخشش کے واسطے


ہرآن ہو جوپیش نظراسوہٕ رسول
اک ہے دُرودِ پاک یا فیضانِ نعت ہے


ہرشعبہٕ حیات میں امکانِ نعت ہے


ظاہر ہے یہ قرآن کے ہر ایک حرف سے


مرقد میں میرے آکے فرشتے خموش تھے
ہر ایک حرف اِسکا گُلستانِ نعت ہے


دیکھا جو میے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے




عشق نبیﷺ ہی پیش خدا سرخ رو کرے
جی کر دکھایا آلِ محمد نے با خُدا


عشق نبی ﷺ ہی تاررگ جان نعت ہے  
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"




دل میں مرے جو روشنی یاد نبیﷺ کی ہے
بُوذر اویس قرنی و سلمانِ فارسی


اللہ کا کرم ہے یہ احسان نعت ہے  
ہر ایک اپنے آپ میں دیوانِ نعت ہے




عزم سفر ہے جانب طیبہ مرا ، کہ واں


وجود گام گام پہ سامان نعت ہے
جنت سے بھی پرے  کوئی جنت ہے، ہوں وہاں


===== [[عبد الغنی تائب]]، [[حافظ آباد]]، [[پاکستان]] =====
محسوس مجھکو ہوتا یوں دورانِ نعت ہے
علم و ادب میں منفرد یہ شان نعت ہے


مدح و ثنائے مصطفی' ایوان نعت ہے


اشکوں سے حسن جب کریں الفاظ سب وضو


پھیلی ہوئی ہے چار سو خوشبوئے جاں فزا
پھر بن سکیں وہ نعت یہی شانِ نعت ہے


ارض ہنر پہ کھل پڑا بستان نعت ہے
===== [[سیف اللہ خالد]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
قلب و دماغ پر مری بارانِ نعت ہے


صد شکر آج مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے


وارفتگیء شوق ہے ، بیدار بخت ہے


یہ جان لو کہ صدقہ و فیضان نعت ہے
یہ میری بے بساطی کہ اب تک نہ لکھ سکا


دل میں تو مدتوں سے یہ ارمانِ نعت ہے


ہے میرے پاس جو زر عشق رسول پاک


اک فیض بار قطرہء باران نعت ہے
قول و عمل میں جس کے ہوسنت کی پیروی


وہ شخص ہی حقیقی سخندانِ نعت ہے


تسکین قلب و جان ہے یاد شہ رسل


ذکر حبیب آن سخن، جان نعت ہے
پڑھ لے درود خامہ کو چھونے سے پیشتر


طاری اگر جمود ہے بحرانِ نعت ہے


تائید جبرائیل بھی مل جائے گی اسے


کب سے دیار قلب میں ارمان نعت ہے
سچا ہے تیرے دل میں اگر عشقِ مصطفیٰ


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


مقصود ہے جو چار سو ہو امن و آشتی


" ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
دل ذکر سے اجال تو اشکوں سے کر وضو


لکھنی ہے نعت گر تو یہ شایانِ نعت ہے


فتح و ظفر کا رستہ ، ہے امید کی کرن


بخشش کا آسرا یہی سامان نعت ہے
خالد زبان وقف ہے توصیف کیلئے


میرا یہ فن یہ شاعری قربانِ نعت ہے


اخلاص کی مہک ہو ، موءدت کی چاندنی
===== [[شاد مردانوی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
تخلیقِ آب و خاک ہی اعلانِ نعت ہے


لائو وہ حرف و صوت جو شایان نعت ہے
” ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے




رزق سخن ہے نکہت طیبہ سے مشکبو
اشکوں سے پہلے کیجیے تطہیرِ نطق و حرف


توفیق شعر گوئی بھی احسان نعت ہے
آدابِ نعت ہیں یہی عرفانِ نعت ہے




تائب یہ فخر اوج سعادت سے کم نہیں
پھر سے ہمیں زیارتِ طیبہ ہوئی نصیب


دست سخن شناس میں دامان نعت ہے
ہم پر عطا ہے نعت کی ، فیضانِ نعت ہے


===== [[عبدالقادر ہمدم قادری]]، [[گونڈہ]]، [[بھارت ]] =====


مکمل نام : انصاری عبدالقادر ہمدم قادری
پروانہء بہشت کا مجھ سے نہ کر سوال


رحمت ہے اُس پہ جو بھی قلمدانِ نعت ہے
رضوان ! میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


صد  شُکر  ہے  خدا  کا  یہ احسانِ  نعت ہے


یادِ مدینہ ،اشک، شفاعت کی آرزو
ہم بے کسوں کا بس یہی سامانِ نعت ہے


سرکار ﷺ کا کرم ہے فقط اور کچھ نہیں


قلب و جگر میں آج جو میلانِ نعت ہے
لگتا ہے سب گناہ مرے دھلنے والے ہیں


شعر و سخن پہ حاوی جو رجحانِ نعت ہے


سرکار ! یہ یقین ہے صدقے میں آپ کے


محفوظ میرے قلب میں ارمانِ نعت ہے
یاسین و طاہا کی ہمیں لولاک کی قسم


عالم کا ذرہ ذرہ ہی حیرانِ نعت ہے


دل میں بسی ہے الفتِ سرکارِ  ہر جہاں


قلب و جگر  پہ  دیکھئے بارانِ  نعت ہے
قدموں میں شہ کے بیٹھ کے جنت دکھائی دے


آ پاس آکے بیٹھ ، خیابانِ نعت ہے


مجھ کو شعور کب ہے کہ نعتِ نبی لکھوں


شکرِ خدا کہ آج یہ وجدانِ نعت ہے
شاد اس ورق کو چومیے ، دل سے لگائیے


جو جلوہ گاہِ مطلعِ جانانِ نعت ہے


جرم و خطا کا‌ بوجھ مرے سر پہ ہے مگر
===== [[شارق رضا خالدی]]، سید، [[شاہجہاں پور]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : سید شارق رضا خالدی شاہجہاں پوری


راہِ  نجات کے  لئے سامانِ نعت ہے
کس طرح ہم بیاں کریں کیا شان نعت ہے


جب خود کلامِ پاک ہی برہان نعت ہے


اعلیٰ ہے کتنی دیکھئے شانِ رسولِ پاک


" ہر  شعبۂ حیات  میں امکانِ نعت ہے
ملنے لگی ہے عزت و توقیر بے حساب


فضل خدا سے ہم پہ یہ احسان نعت ہے


ہمدمؔ درودِ پاک پڑھو جھوم جھوم کر


شایانِ نعت ہے یہی شایانِ نعت ہے
دیکھے تو  کوئی عشق شہ دیں میں ڈوب کر


===== [[عبد اللہ خان آبرو علیمی]]، [[بلرام پور]]، [[بھارت]] =====
"ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے"


پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]


جو پانچ وقت ہوتی ہے مسجد میں وہ اذان


شکرِ خدا کہ روح پریشانِ نعت ہے
حمد خدائے پاک ہے اعلان نعت ہے


سرکار ! لطفِ خاص کہ عنوانِ نعت ہے


تنگی نہیں ہے اس میں ذرا اےسخن ورو!


سرکار ! مجھ گنوار کی لاج آپ کے سپرد
کُٹیا نہیں غزل کی، یہ میدان نعت ہے


کچھ زادِ آخرت ہے نہ سامانِ نعت ہے


زاہد! وہی جو ذات ہے مقصود کائنات


سرکار ! آپ ہی کی عطا نعت اگائے گی
توصیف کر اسی کی وہی جان نعت ہے


کشتِ سخن میں آپ سے امکانِ نعت ہے


یاد مدینہ! شکریہ! تیرے طفیل اب


سرکار ! لطف آپ کا شامل رہے تو پھر
لمحہ بہ لمحہ فکر میں عنوان نعت ہے


,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


آجائے جس کے پڑھنے سے ایمان میں نکھار


ہر ایک پھول رنگت و نکہت کا شاہ کار
ایسا بریلی والے کا دیوان نعت ہے


قرآن کا, جو ایک گلستانِ نعت ہے


ممکن نہیں کہ  کوئی اسے زیر کر سکے


امداد ان کی شانِ کریمی کی واہ واہ
شارق رضا پہ ہر گھڑی فیضان نعت ہے


لب ہائے خوش نصیب پہ گردانِ نعت ہے
===== [[شاہد اشرف]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
رونق لگی ہوئی ہے ، یہ احسانِ نعت ہے


ہر شخص اِس نشست میں مہمانِ نعت ہے


ہمراہ ان کا عشق اگر ہے تو ٹھیک ہے


خطرے ہیں بے شمار,کہ میدانِ نعت ہے !!
لکھتے ہوئے سکون کی حالت نہ پوچھیے


اِک خاص کیفیت مری دورانِ نعت ہے


مجھ میں کوئی کمال نہیں ہے اے آبروؔ!


اک بے ہنر پہ بارشِ فیضانِ نعت ہے
کہیے ہر ایک صنفِ سخن دھیان یہ رہے


===== [[عبید بخاری]]، [[لودھراں]]، [[پاکستان]] =====
روزِ جزا نجات کو دیوان نعت ہے ؟
خوش قسمتی سے مل گیا وجدانِ نعت ہے


اب میں ہوں اور سَیرِ خیابانِ نعت ہے
اک خاص ضابطے کا تقاضا ہے دوستو!


ہر درجہ احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


دل میں وفورِ عشقِ رسولِ کریم ہو


دشتِ سخن میں بس یہی سامانِ نعت ہے
دنیا مجھے نہ مانگ میں تیرا نہیں رہا


اب مقصدِ حیات ، مری جانِ نعت ہے


اسمِ گرامی آپ کا مشتق ہےحمد سے


یعنی کہ نامِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے
اُن کی عطا سے کھلتے ہیں شاہد ثنا کے پھول


ہر روز رو بہ حُسن گلستانِ نعت ہے


ہےنعت اپنی ذات میں یہ مصرعِ کمال
===== [[شاہد الرحمن]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد شاہد الرحمن


”ہرشعبہ۶حیات میں امکانِ نعت ہے“
بخشا مجھے خدا نے قلمدانِ نعت ہے


خوش دست وخوش قلم ہےوہ خوش فکروخوش کلام
میرا بھی نام شاملِ ایوانِ نعت ہے


جوبھی جہاں پہ صاحبِ دیوانِ نعت ہے


سرپٹ نہ دوڑ ، دیکھ ، خبردار ہو کے چل


ہو جاؤں وقفِ مدح تشکّر میں اے عبید
اے اشہبِ خیال ! یہ میدانِ نعت ہے


قدرت نے مجھ کو بخشا قلم دانِ نعت ہے


===== [[عتیق الرحمان صفی]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
ہرگز نہیں تھا شعر کے ابجد سے باخبر
ہر فکر ہر خیال میں امکانِ نعت ہے


مدحِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے
میرا سخن تمام ہی فیضانِ نعت ہے




مجھ کو سخن عطا ہوا ہے برکتوں کے ساتھ
چمکا تصورات میں شہرِ رسولِ پاک


یعنی کرم ہے رب کا جو فیضانِ نعت ہے
تحت الشعور میں مرے امکانِ نعت ہے




میں نعت اُن کے عشق میں لکھتا ہوں اور بس
فریاد رس ہے فکر ، خرد التجا کناں


دعویٰ مرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے
لاؤں کہاں سے لفظ جو شایانِ نعت ہے




مجھ ایسے کم سخن کو بھی عزت ملی ہے جو
حسنِ و جمالِ شاہ بھی ہے جزوِ لازمی


رب کی عطا کے بعد یہ احسانِ نعت ہے
پر اسوۂ رسولِ اُمم جانِ نعت ہے




اک ایک حرف چومئے لکھنے سے پیشتر
تقویٰ ، خلوص ، عجز ، تواضع و راستی


صد احترام کیجیے میدانِ نعت ہے
ہر اک ادائے شاہ بنی شانِ نعت ہے




سیرت کے پھول نعت میں چن چن کے ڈالیے
مجھ پر عطائے حضرتِ حسانؓ ہے جبھی


کتنا حسین دیکھئے سامانِ نعت ہے
حاصل مجھے بھی نسبتِ خاصانِ نعت ہے




تعریف رب خود آپ کی کرتا ہے اس لیے
اس کی صدا ورا ہے حدود و قیود سے


ہستی مرے حضور کی شایانِ نعت ہے
شاہدؔ جو ہم صفیرِ اسیرانِ نعت ہے


===== [[شائستہ کنول عالی]]، [[وزیر آباد]]، [[پاکستان]] =====
کیا عشقِ صادقین پہ فیضان نعت ہے


انسان و جن، ملائکہ مدحت سرا ہیں سب
لولو ہیں اشک ہونٹوں پہ مرجان نعت ہے


اس کائناتِ نعت میں بارانِ نعت ہے


عشّاقِ حق کے دل پہ ہے اشعار کا نزول


اردو کے بھاگ جاگ گئے آپ کے طفیل
باران نعت ہے کہ یہ رمضان نعت ہے


ہر لفظ خوش ہے یوں کہ وہ مہمانِ نعت ہے


و اللّه ! یہ درود ہی کاشان نعت ہے


جب تک ہے سانس آپ کی کرتا رہوں گا مدح
خاصائے عاشقان ہی ایقان نعت ہے  


میرا یہ اپنے آپ سے پیمانِ نعت ہے


ہے نعت پاک نغمہ توحید کی اساس


اشعار اُن کی شان میں کہتے ہوئے صفیؔ
بد بخت و بد نما ہے جو انجان نعت ہے


لب پر درودِ پاک ہی دورانِ نعت ہے


===== [[عثمان محمود]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
زیبا ہے کس کو منصب محبوب کبریا
عثمان زیر-سا یۂ دامان- نعت ہے  


یعنی دل-سیاہ میں امکان -نعت ہے  
سلطان دو جہان ہی سلطان نعت ہے  




ایسا سکون نظم و غزل میں کہیں نہیں
خنجر ہے نعت مشرک بے دین کے لئے


جیسا سکون اب مجھے دوران -نعت ہے  
حلقومِ کفر کیلئے پیکان نعت ہے




بعد از خدا عظیم محمد کی ذات ہے
حمد خدا کے بعد کرو ذکر مصطفیٰ


حمد -خدا کے بعد ہی فرمان -نعت ہے  
ذکر علی تو شمع شبستان نعت ہے




قرآن میرے رب نے اتارا ہے آپ پر
مجنون ہوں محبت خیر الوری میں یوں


قرآن ہی تو اصل میں دیوان -نعت ہے  
وجدان روح و قلب کو عرفان نعت ہے




محدود کب ہے مد ح -نبی شاعری تلک
ہر شعبہ حیات میں حمد خدا ملے


ہر شعبۂ حیات میں امکان -نعت ہے  
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے "




ہم سےزمانے بھر کی خزائیں ہیں دور دور
عالی سلام پیش کرو اہل بیت کو


ہم پر سدا سے رحمت -باران -نعت ہے  
میرے خیال میں یہی شایان نعت ہے


===== [[شاہین فصیح ربانی]]، [[دینا]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
بزمِ تصورات ہے، وجدانِ نعت ہے


تب سے ہوئی ہے ختم ہماری فسر دگی
رقص تجلیات ز فیضانِ نعت ہے


آباد جب سے محفل -یاران -نعت ہے


فکر و خیال عشق ہی شایانِ نعت ہے


امشب دھلیں گے داغ دل- بے قرار کے
الفاظ میں، حروف میں امکانِ نعت ہے


امشب ہمارے دل میں جوارمان -نعت ہے


کیا گرمیء حیات ہے کیا سختیء ممات


آبا ترے بھی مد ح سرا عمر بھر رہے
حاصل ہمیں جہان میں بردانِ نعت ہے


عثمان تو بھی ابن- غلامان -نعت ہے


===== [[عدنان حسن زار]]، [[ گوجرنوالہ]]، [[پاکستان]] =====
ماہ و نجوم رشک سے تکتے ہیں اس طرف
مدحِ نبی جو کرتا ہوں، فیضانِ نعت ہے


مجھ بے ہنر پہ کیسا یہ احسانِ نعت ہے
روشن کچھ ایسے شمعِ شبستانِ نعت ہے




کہتے ہیں لوگ مجھ کو ثناخوانِ مصطفی
  کوئی غزل، قصیدہ، رباعی کہ ماہیا


ہاتھوں میں میرے خیر سے دامانِ نعت ہے
جو میری شاعری ہے وہ قربانِ نعت ہے




اس میں سمائی رہتی ہیں نعتیں حضور کی
شاعر نہیں غلام رسول کریم ہوں


دل میرا صرف دل نہیں، جُزدانِ نعت ہے
یہ شاعری نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے




رفعت ہے ان کے ذکر کی عالم میں چار سو
کیا ہو فصیح دعویء مدحت سرائی جب


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
محبوبِ رب جو ذات ہے، عنوانِ نعت ہے


===== [[شریف ساجد]]، [[پاکپتن]]، [[پاکستان]] =====


میں بھی کھڑا ہوں روضۂ اقدس کے سامنے
سرکار خوش ہوئے یہی احسانِ نعت ہے


وردِ زباں درود ہے، بارانِ نعت ہے
ملحوظ ہو ادب کہ یہ میزانِ نعت ہے  




میرے سخن نواز کی ذرٌہ نوازیاں
جب ہر عمل میں اسوہ ء کامل حضور ہیں


مرقوم ذہن و دل میں بھی برہانِ نعت ہے
” ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے




الحمد ابتداء ہے تو والناس انتہا
حبّ نبی ، جدائی کا غم ، دید کی تڑپ


قرآن سارا دیکھیے سامانِ نعت ہے
امید و استغاثہ ہی سامانِ نعت ہے  




شکرِ خدا کہ زارؔ کو نعمت ہے یہ ملی
اس کام سے معیت ذات خدا ملے


حاصل مرے قلم کو بھی عنوانِ نعت ہے
وہ گر کریں قبول یہی جانِ نعت ہے  


===== [[عدنان محسن]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


آنکھوں میں اشک، سینے میں ارمانِ نعت ہے
ایسا کرم ہو بردے کی صورت دکهائی دے


مجھ بے نوا کے پاس یہ سامانِ نعت ہے
ہر اک یہی کہے کہ یہ فیضانِ نعت ہے  




ہر راہ ہے مدینے کی جانب رواں دواں
ساجد مقامِ حضرتِ حسان دیکھ کر


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اب قدسیوں کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


===== [[ شکیل کالا باغوی]]، [[کالا باغ]]، [[پاکستان]] =====
یہ ابتدائے سانس ہی پیمانِ نعت ہے


عمران نے لکھی تھی جو خیرالوریٰ کی نعت
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


وہ مرتبے میں سورۂ رحمٰنِ نعت ہے


ذکرِ نبیۖ ہے قبر کی تنہائی کا رفیق


نوحہ ہو مرثیہ ہو مناقب ہوں یا سلام
خاکی تری نجات ہی وجدانِ نعت ہے


حمدِ خدا کا فیض ہے،فیضانِ نعت ہے


اوجِ فلک پہ میرا ستارہ رواں دواں


اس دل پہ جاری رہتا ہے الہام کا ورود
جادو گری نہیں ہے یہ میلانِ نعت ہے


یہ عام دل نہیں کہ یہ جز دانِ نعت ہے


حیراں ہیں مشک و عنبر و عود و گلِ بہار


اعمال کی ترازو ہے لوگوں کے واسطے
کس شان سے مہکتا گلستانِ نعت ہے


اور شاعروں کے باب میں میزانِ نعت ہے


کامل دل ونگاہ کی تطہیر شرط ہے


اس وقت ہے جدا مری سانسوں کا مرتبہ
حدِ ادب کا پاس قلمدانِ نعت ہے


تسبیح یہ وجود کی دورانِ نعت ہے


والشّمس، والضحیٰ ہے، سراجِ منیر ہے


بادل برس رہے ہیں محمد کے شہر پر
یزداں کی ہمکلامی ہی دیوانِ نعت ہے


بارش نہیں جناب یہ بارانِ نعت ہے


الفاظ کیوں شکیل تیرے عطر بِیز ہیں
بادِ صبا پکارے ۔۔یہ فیضانِ نعت ہے


عاصی ہوں نعت گوئی کا یارا نہیں مجھے
===== [[شعیب اختر قادری]]، [[سنت کبیر نگر]]، [[انڈیا]] =====


میرا سخن تمام ثنا خوانِ نعت ہے
مجھ پہ کرم حضور کا فیضانِ نعت ہے


کیا خوب آج دیکھیے عنوانِ نعت ہے


یثرب میں نینوا کا مسافر ہے خیمہ زن


اک شعر جو سلام کا مہمانِ نعت ہے
ان کے طفیل ہی ہیں بہاریں حیات کی


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
اس وقت میری صدق بیانی پہ شک نہ کر


اس وقت میرے ہاتھ میں قرآنِ نعت ہے


===== [[عرش ہاشمی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
آؤ بتاؤں کون ہے بے تاج بادشاہ
لب پرسخن ہےاور بعنوان نعت ہے


ماءل کرم پہ سرور و سلطان نعت ہے
وہ جس کے پاس ان کا قلمدانِ نعت ہے




اک نعت کہہ کے اور بھی میلان نعت ہے
والليل والضحیٰ کہیں ، ماذاغ ہے کہیں


کیسا کرم ہے خاص، یہ فیضان نعت ہے
رب کا کلام پورا ہی دیوانِ نعت ہے  




جز مدحت نبی، نه لکھے گا کوئی سخن
مداحِ مصطفیٰ مجھے کہتے ہیں لوگ جو


میرے قلم کا مجھ سے یہ پیمان نعت ہے
کیونکر کہوں نہ یہ بھی تو فیضانِ نعت ہے




قرطاس اور قلم کا شرف مدحت رسول
نعت رسول لکھنا تو آساں نہیں مگر


فکر سخن کو، نطق کو ارمان نعت ہے
لکھتا وہی ہے جس پہ بھی احسانِ نعت ہے




کامل ہدایت ا'پ کا اسوہ ہے اسقدر
قلب و نظر کو اپنی تو عشقِ نبی میں ڈھال


''ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے''
عالم کو دیکھ پورا ہی وجدانِ نعت ہے




ان کی عطا، سلام و مناقب کے سلسلے
احمد رضا کے نعتیہ اشعار کو پڑھو


خالق کی حمد بھی ہے یہ، کیا شان نعت ہے
کہنا پڑے گا نائبِ حسانِ نعت ہے




ایماں کی جان ہے جو محبت حضور کی
بندہ گنہگار ہے اعمال کچھ نہیں


ہاں اس کے جانچنے کو یہ میزان نعت ہے
بخشش کا اپنی بس یہی سامانِ نعت ہے




ماہ صیام کا ذرا فیضان دیکھیے
گمراہ کتنے ہو گئے کتنے سنبھل گئے


خود 'گوشہ ادب' ہے کہ ایوان نعت ہے  
اختر ادب سے لکھ یہ دبستانِ نعت ہے


مکمل نام : محمد شعیب اختر قادری، سنت کبیر نگر، انڈیا


ہان عرش کو ہے اپنی خطاؤں کا اعتراف
===== [[شوزیب کاشر]]، [[راولہ کوٹ]]، [[کشمیر]]، [[پاکستان]] =====


لیکن یه ہے کہ پیرو حسان نعت ہے
وسعت پذیر حلقۂ دامانِ نعت ہے


===== [[عرفان نعمانی]]، [[راجھستان]]، [[انڈیا]]=====
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اے دل تجھے نصیب جو باران نعت ہے


مخصوص تجھ پہ یہ بھی تو فیضان نعت ہے


ہر شاخ رونقِ چمنستانِ نعت ہے


رضواں کرے طواف ملک جس کی آرزو
دو جگ میں خوشبوئے گلِ ریحانِ نعت ہے


صد رشک خلد تو وہ بیابان نعت ہے


قرآن سے کشید مضامین نعت کے


تجھ کو خدا رکھے ہمیں رکھے ترا اسیر
روحِ ثنا یہی ہے یہی جانِ نعت ہے


ہم رندوں کی دعا یہ خمستان نعت ہے


سیرت سے مشکبار ہو سنت سے مستنیر


گلہائے وصف شہ سے مزین ہے میرا دل
یعنی ہو مستند یہی شایانِ نعت ہے


میں سوچتا ہوں دل ہے کہ گلدان نعت ہے


اللہ کی یہ پیاری ، فرشتوں کی لاڈلی


صبر و قرار پنہاں ہے وصفِ حضور میں
سبحانهٗ تعالی عجب شانِ نعت ہے


تسکینِ روح و دل تہہ دامانِ نعت ہے


والشمس ہے کہیں ، کہیں واللیل سے خطاب


لفظوں کی کائنات ہے تنگ جس کے سامنے
یہ لؤلؤِ صلوۃ ، وہ مرجانِ نعت ہے


وہ نعت کی زمیں ہے وہ میدان نعت ہے


مازاغ کا سلام ہے قوسین کا درود


مدح نبی کے فیض سے صد شکر دل مرا
معراج ان کی شان میں اعلانِ نعت ہے


فارس ہے روم شام ہے ایران نعت ہے


مُدَّثِّرُ و مُبَشِّرُ و مُزَّمِّلُٗ ہیں آپ


دل جس پہ وحی نعت اترتی ہے اس کے تو
ہر نامِ نامی آپ کا ، عنوانِ نعت ہے


ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے


ہر عہد کو محیط وہی عہد خوشگوار


ہر لمحہ یہ خیال رہے تجھ کو اے قلم
خیرُ القرون نیرِ تابانِ نعت ہے


عشق و ادب خلوص وفا جان نعت ہے


حکمِ تُعَزِّرُوہٗ ادب گاہ مصطفی


حسنین فاطمہ علی عثماں عمر عتیق
لاتَرْفَعُوا عقیدہ و ایمانِ نعت ہے


ہر ایک شاخ نخل گلستان نعت ہے


لولاک کیا ہے مدحتِ سرور کے باب میں؟


اشعار نعت ہوتے ہیں افطار و سحری میں
اللہ کی محبت و برہانِ نعت ہے


ہم روزہ داروں کے لئے رمضان نعت ہے


عقدہ کشا ہے آیتِ صَلُّوا وَسَلِّمُوا


مولیٰ شعور نعت دے کہ میں بھی کہہ سکوں
بے شک درودِ پاک بھی فرمانِ نعت ہے


عرفان کو بھی حاصلِ عرفان نعت ہے


===== [[عرفی ہاشمی]]، [[ آسٹریلیا]] =====
یُعْطِیْکَ رَبّّکَ سے تونگر بشر بشر
مکمل نام : سید عرفی ہاشمی


بتلاؤں تجھ کو کیا حد عرفان نعت ہے
الفقر فَخْرِی رزقِ گدایانِ نعت ہے


میرا خدا بھی قارئ قرآن نعت ہے


پیماں شبِ الست کا لا شک ذالک


دین سخن میں ایک ہی مسلک رہا مرا
قربان جائیے کہ وہ پیمانِ نعت ہے


جو شعر بھی کہا ہے مسلمان نعت ہے


تحتِ سری سے عرش بریں تک کے سلسلے


عشق نبی سے لکھی گئیں ہیں نبوتیں
جس سے مہک رہے ہیں وہ لوبانِ نعت ہے


پیغمبری دراصل قلمدان نعت ہے


اے شہسوارِ دشتِ غزل ہوش میں تو ہے؟


موزوں وہ کررہے ہیں مرا مصرعہ نجات
نادان! احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


اب تو مرا نصیب بھی دیوان نعت ہے


حقِ ثنا ہو کس سے ادا اور کس طرح
سب خاک اس سفر میں وہ کیوانِ نعت ہے


سین  بلال اس لئے افضل ہے شین سے


لکنت زبان عشق کی جزدان نعت ہے
مجھ سا حقیر آپ کو نذرانہ دے تو کیا


کر لیجیے قبول یہ دیوانِ نعت ہے


موقوف جسم و جاں ہے کہاں مدح مصطفے


نیزے پہ جو بلند ہے قرآن نعت ہے
یہ شہرت و مقام یہ سطوت یہ ننگ و نام


میری بساط کیا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


کچھ اسلیے بھی تجھ سے تعلق نہیں رہا


اے جہل نفس جاں مجھے عرفان نعت ہے
محشر میں اطمنان سے ہوں گے ہم امتی


حاصل ہمیں شفاعتِ جانانِ نعت ہے


میرے گنہ اِدھر،اُدھر اللہ کا کرم


اور درمیاں میں عرصہء امکان نعت ہے
جذب و شعور و فکر و فن و خامہ و ہنر


کاشر ہر ایک شے مری قربانِ نعت ہے


آوارگی نہیں یہاں ہجرت کا ظرف لا
===== شوکت شفا ۔ نامِ نبی ؐ کی پنکھڑی سامانِ نعت ہے =====


دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے


[[ ڈاکٹر شوکت شفا]]، [[ کشمیر]]


کاغذ پہ جو لکھا ہے اسے نعت مت سمجھ


پلکوں پہ جو نمی ہے وہی جان نعت ہے
نامِ نبی ؐ کی پنکھڑی سامانِ نعت ہے


تعظیمِ مصطفے کی لڑی جانِ نعت ہے


جسمیں خدا نے رکھے ہیں خود آیتوں کے پھول


ایسا بھی ایک دہر میں گلدان نعت ہے
شبنم نہیں یہ اشک اسی گل بدن کے ہیں


===== [[عروس فاروقی]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
پتی ہر ایک پھول کی مژگان نعت ہے
مکمل نام : ابو الکمال عروس فاروقی


عشقِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


ایمان ہے یہی، یہی وجدانِ نعت ہے
بادِ نسیم اصل میں ہے کیا ، ہے نعت ِ پاک


بلبل کی چہچہٹ بھی دبستانِ نعت ہے


آقا! مجھے بھی حرفِ عقیدت عطا کریں


آقا! مجھے بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے
اے باغ بوٹا بوٹا ترا دینِ نعتِ پاک


تیری چمن کلی کلی احسانِ نعت ہے


’’لایمکن الثناء کما کان حقہ‘‘


کہہ سکتا ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے
میری ہرایک بات سے آتی ہے بوئے نعت


گویا مری زبان گلستانِ نعت ہے


محبوبِ کائنات کی نعتوں کی گونج ہے


میدانِ حشر ہے کہ یہ ایوانِ نعت ہے
کہتی ہے ہر اک آنکھ سے تیری شفا یہ نعت


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


لے آئے تم ورق بھی، قلم بھی، دوات بھی


لیکن بتاؤ کیا یہی سامانِ نعت ہے


===== [[شفیق رائے پوری]]، [[جگدل پور چھتیس گڑھ]]، [[انڈیا]] =====


اپنا ہر اک مہینہ ہے اُن کی ثنا کے نام
بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]


شعبانِ نعت ہے کوئی رمضانِ نعت ہے
جب سے ہمارے ہاتھوں میں دامانِ نعت ہے


ہم پر سدا عنایتِ جانانِ نعت ہے


محدود کیجیے نہ زبان و بیان تک


’’ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘
گلہائے عشقِ سرورِ عالم سے ہے سجا


بے مثل و بے نظیر گلستانِ نعت ہے


نور و سرور پھوٹتا ہے لفظ لفظ سے


مصرع ہے یا قطارِ چراغانِ نعت ہے
حمدِ خدا کی راہ تو آسان ہے بہت


چلیے سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


تھا آشنائے طرزِ تکلُّم عروسؔ کب


حاصل ہے جو کمال بفیضانِ نعت ہے
شہرت کی شکل میں کبھی عزت کی شکل میں


===== [[عظیم راہی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہم پر برس رہا ہے جو بارانِ نعت ہے
جب مقصدِ حیات ہی پیمانِ نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


ہر شعبۂِ حیات ہے ممنونِ مصطفے


جاری ازل سے چشمۂ فیضانِ نعت ہے
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


فردوس ایک کنجِ گلستانِ نعت ہے


عشقِ رسول اور شب و روزِ مصطفے


وہ گام زن رہے گا رہِ مستقیم پر
ان سے بھرا ہوا ہی تو ہر خوانِ نعت ہے


ہاتھوں میں جس کے گوشۂ دامانِ نعت ہے


"اُن کی مہک نے" کہئے کہ "پر کو خبر نہ ہو"


صورت ہے ان کی آئنۂ حسنِ کردگار
لا ریب ہر کلامِ رضا جانِ نعت ہے


اور سیرتِ مطہرہ قرآنِ نعت ہے


قرآن اور حدائقِ بخشش ہے سامنے


ذکرِ حبیب ذکرِ محب سے الگ نہیں
اپنے لئے تو بس یہی سامانِ نعت ہے


اللہ کی طرف سے ہی فرمانِ نعت ہے


اللہ کا دیا ہوا سب ہے ، بجا مگر


جو شان بھی میں لکھّوں وہ اس بے مثال کے
جو کچھ ہمارے پاس ہے فیضانِ نعت ہے


شایانِ شاں نہیں ہے،یہی شانِ نعت ہے


رہ رہ کے پھر خیال میں آنے لگے حضور


گھبراتے کیوں ہو؟ دیکھو تو میزان کی طرف
چلیے شفیق آج پھر امکانِ نعت ہے


راہی تمہارے پلڑے میں دیوانِ نعت ہے
===== [[ شہر یار خرم]] ، [[اٹک ]] =====


===== [[علی احمد نظامی]],[[سدھارتھ نگر]],[[بھارت]] =====


پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]
کیسے کسی کو دل میں بسائیں گے ہم بھلا


سینے میں دل جہاں وہیں کاشانِ نعت ہے


صدقہ نبی کا مل گیا,فیضانِ نعت ہے


مشکل تو ہے بہت مگر ارمانِ نعت ہے
جاہ و جلال و عزت و رتبہ ملا مجھے


یہ مجھ گناہگار پہ فیضانِ نعت ہے


فضلِ خدائے پاک سے یہ دیکھ لیجیے


میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے
تم کو پناہ دے گا زمانے کے رنج سے


آجاؤ عاشقو کہ یہ دامانِ نعت ہے


میری کہاں مجال کہ نعتِ نبی لکھوں


یہ صدقہِ رسول ہے احسانِ نعت ہے
تدریس و تربیت ہو یا انصاف و عدل ہو


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہوں حضرتِ بلال یا سلمان فارسی


سب کی زباں پہ نغمہِ ذیشانِ نعت ہے
سالک نے ڈرتے ڈرتے جسارت تو کی مگر


اک شعر پر محیط یہ دیوانِ نعت ہے


اہلِ غزل سے کہہ دو کہ خاموش ہی رہیں


سب سے بلند شانِ غلامان نعت ہے


شاعر: شہر یار خرم بٹ ، اٹک


کیا لطف ہو کہیں جو نکیرین قبر میں
===== [[شہریار زیدی]]، [[لاہور]] =====


تیرا نجات نامہ یہ دیوان نعت ہے
مجھ بے ہنر پہ یہ بھی تو احسانِ نعت ہے


ہر شعر میرا شمع شبستانِ نعت ہے


شامل نظامی نصرتِ سرکار ہو اگر


,,ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
تجھ کو درِ حبیبؐ تلک لے کے جاونگی


===== [[علی ایاز]]، [[کبیر والہ]]، [[پاکستان]] =====
مداح مصطفٰیؐ سے یہ پیمانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد علی ایاز


مجھ پر ایاز اس طرح احسانِ نعت ہے


میری تو ساری زندگی عنوانِ نعت ہے
اہلِ زمین نے بھیجا ہے پھر ہدیہِ درود


یہ مصطفٰیؐ کی بزم میں اعلانِ نعت ہے


ہر سمت سے ہے آ رہی خوشبو کمال کی


میرا خیال ہے کہ اب امکانِ نعت ہے
کیا خوف رہزنوں کا انھیں راہِ شوق میں


محفوظ جن کے سینوں میں سامانِ نعت ہے


عشقِ رسول کے سوا ممکن نہیں کبھی


آنا سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے
وہ سوزِ دل ہو یا ہوں تفکر کی وسعتیں


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اللہ کا کرم ہے, نگاہِ کرم میں ہوں


ترتیب دے رہا جو میں دیوانِ نعت ہے
اللہ اور ملائکہ سب پڑھتے ہیں درود


یہ عرش ہے یا گوشہِ ایوانِ نعت ہے


الفاظ ہیں اتر رہے تسنیم سے دھلے


آمد کا سلسلہ تو یہ شایانِ نعت ہے
ٹھکراتا ہے وہ دونوں جہاں کی مسرتیں


خوش بخت کتنا صاحبِ عرفانِ نعت ہے


جب آپ کائنات کے رحمت نبی ہیں, سو


"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر فرد شہریار نبیؐ کے گھرانے کا


لاریب! رشک لُو لُو و مرجانِ نعت ہے


نورو تجلیات کی بارش سی ہو رہی


مجھ پر کرم خدا کا یہ دورانِ نعت ہے
===== [[ شہزاد بیگ]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====


جیسے جہان سارا یہ ایوان ۔ نعت ہے


کہہ دیجیے حضور کہ تجھ کو امان ہے
ہاتھوں میں اس طرح مرے دیوان۔نعت ہے


سمجھوں گا میں ایاز یہ فیضانِ نعت ہے


=====  [[عقیل عباس جعفری ]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]]  =====
لکھ لکھ کے کررہا ہوں روانہ جو رات دن


روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے
یہ جذبہ ہے مرا کہ قربان۔نعت ہے


" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


صل علی کا ذکر ہے دنیا میں ہر جگہ


میری رگوں میں بھی ابوطالب کا ہے لہو
تسلیم۔دوجہان بھی ایقان ۔ نعت ہے


میری ہر ایک سانس پہ فیضانِ نعت ہے


خوشبو دیار۔دل میں جو پھیلی ہے چارسو


جبریل ہوں کہ ہم سے فقیرانِ بے نوا
خوشبو نہیں ہے یہ مرا ایمان ۔ نعت ہے


سایہ فگن ہر ایک پہ دامانِ نعت ہے


دیوار ۔ خستگی میں بنا ہے نیا جو در


اے کاش اس فقیر کو بھی ہو کبھی عطا
"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔نعت ہے"


اک حرف جس کو سب کہیں "شایانِ نعت ہے"




جو کربلا میں خون سے لکھا حسین نے
رمضان میں لکھی ہے عقیدت میں ڈوب کر


ہر دل میں جاگزیں وہی دیوانِ نعت ہے
یہ زیست بھی تو صورت ۔ عنوان۔نعت ہے




منکر نکیر لوٹ گئے، کتبہ دیکھ کر
ہم لازمی منائیں گے میلاد۔ مصطفی


لکھا تھا " یہ گدائے خیابانِ نعت ہے"
یہ رونق ۔ جہاں بھی فیضان ۔ نعت ہے  


عرفانِ نعت جس کو بھی حاصل ہوا عقیل


عمرانِ نعت ہے وہی حسانِ نعت ہے
جاری ہے ایک عرصہ سے جو شہر۔نعت میں


===== [[علی شاہد]] ، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====
یہ شاعری نہیں ہے یہ فیضان۔نعت ہے


میرا نہ کوٸی لفظ بھی شایان نعت ہے


قرآن جس کی شان میں دیوان نعت ہے
جو دل میں بس گئی ہے عقیدت حضور کی


ہر شخص اپنی ذات میں سلطان ۔ نعت ہے


مل کر درود بھیجو محمد ﷺ کی شان پر


ربِ کریم کا بڑا احسان نعت ہے
کرتا ہوں جان و دل سے میں تحریر نعت جو


وجہ ۔ تجلیات ہے ایمان ۔ نعت ہے


صبحِ طلوع نے مجھے آکر یہی کہا


ہر شعبہ ٕ حیات میں امکان نعت ہے
سیرت کے واقعات کے قربان جاوں میں  


جو مصطفے کی شان کے شایان ۔ نعت ہے


اب ڈر نہیں ہے کوٸی بھی محشر کےروز کا


محشر کو بھی شفاعتِ سامان نعت ہے
بڑھیا سے لے کے حضرت حساں کی نعت تک


ہر ایک ایک واقعہ امکان ۔ نعت ہے


کر دو منادی میرے محمدﷺ کے نام کی


بخشش کا ہے وسیلہ یہ اعلان نعت ہے
صل علی کا ورد زباں پر ہے صبح و شام


شہزاد بیگ آپ کا دربان ۔ نعت ہے


ہر لفظ کی زباں پہ ہے سرکار التجا
===== [[شہزاد مجددی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : علامہ شہزاد مجددی


ہر لفظ کو فقط یہی ارمان نعت ہے
اک نامِ مصطفیٰ ہی فقط جانِ نعت ہے


جواس کےذیل میں ہےوہ شایانِ نعت ہے


پڑھتا ہوں ہر گھڑی میں درود و سلام ہی


شاہد اب اثاثے میں مجھے دان نعت ہے
  کوئی کلام ہو کہاں شایان ِ نعت ہے


قرآنِ پاک ہی ہے جو قرآنِ نعت ہے


=====  [[علی شیدا]]، [[کشمیر]]، [[انڈیا]] =====
قُرآن پڑھ کے دیکھ ' دبستانِ نعت ہے


خوشبوئے حرف و لفظ میں اعلانِ نعت ہے
الحمد کےالف سےحدِحرفِ سین تک


کتنا وسیع دیکھیے میدانِ نعت ہے


مضمونِ ہست و بود ہے کُن کی گرفت میں


مضمونِ کُن فکان ' وہ عنوانِ نعت ہے
پیشِ نظرحضور کا اسوہ رہے تو پھر


ہرشعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


دھڑکن' نفس' نگاہ ' سماعت کہ صوتیات


"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"
ختم الرسل کے ہاتھ کی انگشتری تو دیکھ


اس میں جڑا نگینہ ٔ مرجانِ نعت ہے


تمہیدِ حرف و لوح و قلم صنفِ لامکان


تجسیمِ کائنات بھی جزدانِ نعت ہے
مقدورہوتو پوچھ لو روح الامین سے


اس دور میں بھی کیا  کوئی حسان نعت ہے


امید ' روزِ حشر ہو بخشش کی اور کیا


زنبیل خاکسار میں سامانِ نعت ہے
فردِعمل کا  کوئی بھروسہ نہیں حضور!


کرنے کوپیش بس یہی دیوانِ نعت ہے


ادراک میں سمائے کہاں حسنِ لا مثال


حیرت جو منکشف ہے یہ وجدانِ نعت ہے
اےمدح خوانِ شان رسالت بتا مجھے


پیش نظرترے  کوئی میزانِ نعت ہے


شیدا جو مدح خوانِ محمد لقب ملا


انعامِ لا یزال ہے ' احسانِ نعت ہے
کچھ آگہی تھی مجھ کوبھی حامیم دال سے


===== [[علیم اطہر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====
سو میں نے کہہ دیا مجھے عرفانِ نعت ہے




مجھ پہ کرم ہوا ھے تو فیضانِ نعت ھے
دفتر کئی لکھے ہیں مدیحِ رسول میں


میرے جنون کو بھی تو عرفانِ نعت ھے
شہزاد آج تک مجھے ارمانِ نعت ہے


===== [[شیر افضل شیر]]، [[جینیوا]]، [[سوٹزرلینڈ]] =====


الفاظ باوضو ہیں، تخیّل مدینے میں
موسم بہار عجز ہے میلان نعت ہے


میرے قلم کی نوک میں وجدانِ نعت ھے
ان کا خیال آیا ہے امکان نعت ہے




ہونٹوں پہ وردِ صلّی علٰی، دل سکون میں
ہر ہر ادا حضور کی عنوان نعت ہے


اور چشمِ تر میں تیرتا سامانِ نعت ھے
جس کی پسند آ گئی حسان نعت ہے




کافر جو نعت کہتا ھے اس کو مرا سلام
ان پر مرا تھا عالم ارواح میں کبھی


دراصل دل بھی اس کا مسلمانِ نعت ھے
مجھ پر بھی ان کی رحمت و باران نعت ہے




رک جائے ساری گردِشِ دوراں سنے وہ نعت
پہنا گئے ہیں وہ جسے اسوائ کا پیرہن


وہ لمحہ جاوداں ھے جو دورانِ نعت ھے
وجدان نعت ہے اسے عرفان نعت ہے




ہر کہکشاں میں نورِ رسولِ خدا ﷺ ملا


"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ھے"
ہر شے بنی ہے جب میرے آقا کے نور سے


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


تخلیقِ کائنات بوجہِ رسولِ پاک ﷺ


اور حُکمِ کُن فکاں ہی تو اعلانِ نعت ھے
یذدان و ملک جسکے قصیدہ سرا ہوں شیر


لاریب وہ کتاب خود قرآن نعت ہے


صلّو علی الحبیب ﷺ فرشتوں کی لوریاں
===== [[شیر محمد]]، [[جھارکھنڈ]]، [[بھارت]] =====


سدرة کی انتہاء پہ بھی وجدانِ نعت ھے
بشکریہ : [[نواز اعظمی]]


===== [[عمیر لبریز]]، [[فیصل آباد]] =====
روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے


بشکریہ : [[ریاض قادری]]، [[فیصل آباد]]
توصیف شاہ دہر کی عنوانِ نعت ہے




ہر وقت پلتا قلب میں ارمانِ نعت ہے
تعمیر ذات میں بڑا احسان نعت ہے


صد شکر مجھ پہ یہ بڑا احسانِ نعت ہے
مجموعۂ کلام بھی دیوان نعت ہے




پنج تن کا ذکر نعت کو دلکش بناتا ہے
ہر شعبۂ حیات کے سرکار رہنما


یہ اصل شانِ نعت ہے اور جانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے




پڑھتا درود ان پہ فرشتوں سمیت رب
*لا‌ یمکن الثناءُ کما کان حقہ*


سارے جہان میں وہی سلطانِ نعت ہے
یہ عجز و اعترافِ ادیبان نعت ہے




پرکھے ہیں میں نے زندگی کے پہلو سارے ہی
تعریف واہ واہ نہ تحسین و آفریں


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
چشمِ کرم، دوائے مریضانِ نعت ہے




ہر روز ایک رنگ نیانعت کا بنے
پروانۂ نجات بھی ہوگا بروز حشر


ملتا مدینے سے مجھے سامانِ نعت ہے
مجھ پر خطا کے ہاتھ میں دامان نعت ہے




میرے لبوں سے نکلی جو بھی نعت آپ کی
باشندہ جو بھی عالمِ شعر و ادب کا ہے


ہر ایک کو میں سمجھا یہ حسانِ نعت ہے
کاسہ بدست بر درِ ایوان نعت ہے




لبریز شہر ِ نعت کا میں ایک باسی ہوں
الفاظ لاؤں کوثر و تسنیم سے دھلے


یاں اک سے بڑھ کے ایک ثنا خوانِ نعت ہے
ذوق سخن وری مرا مہمان نعت ہے


محمد عمیر لبریز ؔ فیصل آباد


===== [[عمیر نجمی]] ، [[رحیم یار خان]]، [[لاہور]] =====
پاکیزگئ حرف کو حاصل اسی سے بھیک


بیٹھا، کہا حضور(ص) سے: "ارمانِ نعت ہے"
صوت و صدا کا حسن بھی فیضانِ نعت ہے


پھر جو کہا ہے، دیکھ لیں، شایانِ نعت ہے


آداب و احترام ثنا اس سے سیکھیے


نعمت بھی کیا ہے "نعت" میں ضم ہو گئی ہے "میم"
قرآنِ رب ذریعۂ عرفان نعت ہے


شکران نعمت اصل میں شکرانِ نعت ہے


سیراب ہو رہا ہوں میں ذکر رسول سے


لفظوں کے لعل حرفوں کے ہیرے لگیں گے ہاتھ
کشتِ سخن پہ چشمۂ باران نعت ہے


جو کچھ ملے اٹھائیے، یہ کانِ نعت ہے


حورو ملک کہ جن وبشر آنکھوں میں رکھیں


ایسی کوئی زبان نہیں جو کرے بیان
ہر دلعزیز بلبل بستانِ نعت ہے


حالت جو میرے قلب کی دورانِ نعت ہے


شعری وجود و چشم ہے محفوظ ضعف سے


اُن سے حیات، اُن سے ہر اک شعبہِ حیات
اشہر کے بخت میں نمک و نانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
شیر محمداشہر شمسی منانی، جھارکھنڈ (ہندوستان)


===== [[صادق جمیل]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
اللہ کیا ہے خالق ِ سامان ِ نعت ہے


حجرے کی چھت پہ اتنے کبوتر یونہی نہیں
لوح و قلم ہی اصل میں شایان ِ نعت ہے


اس میں مکیں گروہِ محبانِ نعت ہے


===== [[غضنفر علی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
شامل یہ نشریات میں اعلان ِ نعت ہے  
ہر شعبۂ حیات میں اعلان نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
صادق جمیل ملحق دامان ِ نعت ہے  




صحن نبی میں حرف قطاروں میں لگ گے
اس سے سوا بھی کیا  کوئی احسان ِ نعت ہے


دالان مصطفیٰ ہی تو دالان نعت ہے
مجھ کو خدا نے بخشا قلم دان ِ نعت ہے  




وللیل و والضحیٰ پہ ہی موقوف تو نہیں
حد ِ نظر سے آگے بھی ایوان ِ نعت ہے


مصحف خدا کا سارا ہی دیوان نعت ہے
جبریل جانیے کہ نگہبان ِ نعت ہے  




آنسو ہیں سسکیاں ہیں ندامت ہے عشق ہے
سیرت اگر ہے آپ کی پیش نظر مدام


یہ ہی صریر خامہ ہےسامان نعت ہے
"ہر شعبہ ءِ حیات میں میں امکان ِ نعت ہے "




حالی نہیں ہوں حافظ و سعدی نہیں ہوں میں
صحرا صفت وجود بھی شاداب ہوگیا


پھر بھی میں لکھ ریا ہوں یہ احسان نعت ہے
برسا کچھ اس طریق سے باران ِ نعت ہے  




اک حرف لکھ کے پہروں یہ ہی سوچتا رہا
حمد ِ خدا سے نعت ِ رسالت مآب تک


کیا حرف جو لکھا ہے وہ شایان نعت ہے
حسن ِ سخن کی جان بھِی فیضان ِ نعت ہے  




ہر حرف کو برتنے لگا احترام سے
اسری کی رات دیکھی کسی اور نے نہیں


ہر حرف پر گماں ہے کہ مہمان نعت ہے
جبریل کو ہی اصل میں عرفان ِ نعت ہے  




رطب اللساں ہے آج غضنفر حضور کا
سینے میں اور  کوئی بھی خواہش نہیں جمیل


احسان نعت ہے یہ ہی احسان نعت ہے
ارمان ہے تو ایک ہی ارمانِ نعت ہے


===== [[غلام جیلانی سحر]]، [[بلرام پور]]، [[انڈیا]] =====
===== [[صائمہ آفتاب]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
محفوظ حرف حرف جو قرآنِ نعت ہے
مجھ بے نوا کے پاس کیا وجدانِ نعت ہے  


خود ربِّ کائنات نگہبانِ نعت ہے
نادم سا ایک اشک ہی سامانِ نعت ہے




حاصل اگر اجازتِ سلطانِ نعت ہے
اچھا عمل بھی مدحتِ خیر الانام ہے  


,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”




سرکار ! لطفِ خاص کا امید وار ہوں
آدم نے سیکھا اسمِ محمد ، نبی ہوئے


بے چین روح کو فقط ارمانِ نعت ہے
یعنی یہ کائنات دبستانِ نعت ہے




کچھ تو شعورِ مدح عطا ہو گنوار کو
جتنا یہاں سکوت ہے یکسر درود ہے


اہلِ زباں کو دعویِ عرفانِ نعت ہے
جتنا یہاں کلام ہے فیضانِ نعت ہے




سرکار ! کچھ حروف سلامی کو پیش ہیں
جو عرش پر امامِ صف انبیاء بنا


مقبول ہو وہ حرف جو شایانِ نعت ہے
محبوب کبریا وہی سلطانِ نعت ہے


===== [[صائمہ اسحاق]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====


پروردگار ! ڈال دے سینے میں بے حساب
ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے


عشقِ رسولِ پاک, جو ایمانِ نعت ہے
صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے




کھلتے ہیں رنگ رنگ کے گل ہائے عشقِ شاہ
پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے


سینہ ہے میرا یا کوئی گل دانِ نعت ہے
جب خود درودِپاک ہی دربانِ نعت ہے




گل ہائے رنگا رنگ کھلے ہیں چہار سمت
ہرسانس مستفیض ہے ان کے وجود سے


کتنا ہرا بھرا یہ گلستانِ نعت ہے
'؛ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے؛




نظم و غزل کے مارے ہوئے لوگ دنگ ہیں
اے کاش کم سخن کو بھی آئے ثنا گری


اس درجہ اونچی شانِ غلامانِ نعت ہے
قرطاس کو قلم کو بھی ارمانِ نعت ہے




مدح و ثنا حضور کی یوں ہی نہیں ہوئی
جیسے ہر ایک شے میں ہے عشقِ محمدی


موجود سر پہ سایہِ دامانِ نعت ہے
ویسے ہر ایک شے میں ہی میلانِ نعت ہے




پیہم نوازشاتِ رسولِ کریم واہ
کوثر سے جام اس کو عطا ہو مرے حضور


محسوس ہو رہا ہے کہ بارانِ نعت ہے
شامل قطار میں جو ثنا خوانِ نعت ہے




اس خاص کیفیت کا بیاں کس طرح کروں
کیا کیاسخن طرازہیں اس کارزار میں


طاری جو میری روح پہ دورانِ نعت ہے
ناچیز کو سہاریے میدانِ نعت ہے




مستی میں بھی نہ ہاتھ سے چھوٹے ادب کی ڈور
قوسین ہے خدا سے محبت کا سلسلہ


مد ہوشی میں بھی ہوش اے مستانے ! نعت ہے
معراج کا سفر بھی تو اعلان ِ نعت ہے




حد درجہ احترام و لحاظ و ادب سحر!
کچھ اور تو نہیں مرے توشے میں صائمہ


ہلکی سی چوک موت ہے دیوانے ! نعت ہے
حبِ رسول ِ پاک ہی سامانِ نعت ہے


===== [[غلام ربانی فارح]]، [[اعظم گڑھ ، مظفر پور]]، [[انڈیا]] =====
===== [[صفیہ ناز]]، [[مڈلزبرو، یوکے]]=====
محبوب رب جو مرکزِ فیضان نعت ہے
چشم کرم حضور کی فیضان نعت ہے


ایمان کی بھی جان وہی جانِ نعت ہے
رزق_سخن ملا جو یہ احسان _ نعت ہے




اللہ کا کرم ہے یہ فیض رسول ہے
لکھی ثنا تو ہو گئے الفاظ نوُر نوُر


بخشش کو میرے پاس بھی سامان نعت ہے
اور جگمگا اُٹھا میرا دیوان_ نعت ہے




سینے میں دفن میرے خزانہ ہے عشق کا
مدحت کے پھول بے بہا دامن میں آ گئے


الفت نبی کی بالیقیں جزدان نعت ہے
کتنا وسیع ان کا گلستان_ نعت ہے




نعت رسول پاؤ گے قرآں میں ہر جگہ
کچھ سسکیاں ہیں اشک ہیں کچھ درد اور دروُد


سچ ہے کلام پاک میں عرفان نعت ہے
اتنا سا پاس میرے بھی سامان_ نعت ہے




تھوڑی توجہ کی تو معمہ یہ حل ہوا
عشق_ نبی میں ڈوب کے جو بھی کرے ثنا


*ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*
وہ ہی عظیم ہے وہی سلطان_ نعت ہے




مقبول بس وہ فکر ہے اس بارگاہ میں  
غار_حرا کا نوُ ر ہی آنکھوں میں ہو بسا


ہے جو سخن کی شان وہ شایان نعت ہے
پھر خامہ بھی لکھے گا جو شایان_ نعت ہے




بیشک ادب سے چومیں گے اس کو ملائکہ
دل میں سجی ہو یاد جو آقا کریم کی


قرطاس دل کہ جس کو بہم خوانِ نعت ہے
"ہر شعبہ ء حیات میں امکان_ نعت ہے"




فارح ادب سے کہہ اسے سرمایۂ حیات
آئی بہار نعتوں کی کلیاں چٹک گئیں


عزت سے جی رہا ہے یہ فیضان نعت ہے
اے ناز تیرے قلب پہ باران_نعت ہے


===== [[غلام رسول احمد ضیا]] ، [[سیتا مڑھی]]، [[بھارت]] =====  
===== [[صغیر انور وٹو ]]، [[اسلام آباد]] =====


کہتا ہے وہ یہی جسے پہچانِ نعت ہے
کس کو، شعور_وسعت_ دامان _نعت ہے


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
وہ خوش نصیب ہے، جسے عرفان_ نعت ہے




منکر نکیر دیکھ کے مجھ کو کہیں گے یہ
در کھل گیا ہے خیر کا، رحمت کا، نور کا


اس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
لے آئے ،جس کے پاس ،جو، سامان_ نعت ہے




عزّت سے کھا رہا ہوں نوالہ جو صبح و شام
لکھی نہیں ہے، مجھ کو عطا کی گئی ہے نعت
 
آنکھوں میں نم نہیں ہے یہ باران_ نعت ہے


سچ کہہ رہا ہوں ہم پہ یہ احسانِ نعت ہے


اس ذات کو ہی زیبا ہے مدحت حضور کی


میرا یقین کہتا ہے ہر آن ہر گھڑی
اس کا کہا ہی اصل میں شایان_ نعت ہے


سرمایۂ نجات یہ گلدانِ نعت ہے


مجھ بے ہنر پہ ان کا کرم ہو گیا تو پھر


وہ جس کے دم قدم سے ہے قائم یہ کائنات
میں بھی کہوں گا یہ مرا دیوان_ نعت ہے


سرکار کا کرم ہے وہ فیضانِ نعت ہے


قرآں بتا رہا ہے سراپا حضور کا


عشقِ رسول پاک کی لذت جو دے گیا
کس درجہ واشگاف یہ اعلان نعت ہے


احمد ضیا! وہ ہند کا حسّانِ نعت ہے


===== [[غلام فرید واصل]]، [[شیخوپورہ]]، [[پاکستان]] =====
روشن ہے کائنات اسی ایک نور سے
کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے  


دل میں مرے بھی یا نبی ارمانِ نعت ہے  
انور، وہ آپ شمع ٕ شبستانٕ نعت ہے


===== [[صہیب ثاقب]] =====
مکمل نام : محمّد صہیب ثاقب


رحمت کی بوندیاں ہیں، یہ دورانِ نعت ہے  
کیوں کر کہوں کہ ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے  


کتنا حسین دیکھیے بارانِ نعت ہے
کیجے قبول! اک تہی دامانِ نعت ہے




خالق نے بھر دیا میرے سینے کو نعت سے  
میں حرفِ احتیاج سے نکلوں تو کچھ کہوں


موتی نکل رہے ہیں، دہن کانِ نعت ہے
اس کے سوا بھی کیا  کوئی سامانِ نعت ہے؟




سارے فصیح رکھتے ہیں اس بات پر یقین
آنکھوں میں اشک، دل میں تڑپ، لب پہ ان کا نام


نطق و سخن کا سِلسلہ قُربانِ نعت ہے  
ہوں مُستعد کہ لمحۂِ امکانِ نعت ہے




زہرا،حَسَن،حُسین بھی اس میں سمائے ہیں  
اِس کے ہر ایک گوشے میں، مدحت کے پھول ہیں
یہ دل مرا ہے یا چمنستانِ نعت ہے


کتنا ہرا، بھرا یہ گلستان نعت ہے


میرا نہیں کلام، یہ اُمّ الکلام ہے؛


آہ و فغاں کا ساتھ رہے تحریر سے جُڑا
فرمانِ عائشہ ہے کہ "قرآن، نعت ہے"


عرفانِ نعت ہے، یہی سامانِ نعت ہے


ہر ہر ورَق ہے ان کی ستائش کا ایک باب


رکھ سوچ کر قدم تُو یہ رستہ ہے پُر خطر
ہر لفظ پیشِ خیمۂِ عنوان نعت ہے


غافل نہ کھیل جان یہ میدانِ نعت ہے


دم توڑتی ہیں یاں سبھی مُعجز بیانیاں


رَگ رَگ میں عشقِ شاہ مدینہ بسے اگر
اس بارگہ میں خامشی، شایانِ نعت ہے


"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


ثاقب کو پچھلی صف کے غلاموں میں دیکھیے


محشر کی دھوپ میں بھی مجھے سائباں ملا
کچھ ادّعا نہیں کہ یہ حسّانِ نعت ہے


شکرِ خدا کہ مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے  
===== [[ضمیر درویش]]، [[مراد آباد]]، [[انڈیا]] =====
ہر چند بے نوا ہوں پہ عرفانِ نعت ہے  


فیضانِ نعت ہے ارے فیضانِ نعت ہے


تعریف مصطفیٰ کی کرو رات سن سبھی


راہِ نجات ہے، یہی تو جانِ نعت ہے  
قرآں میں رب بھی کرتا ہے توصیفِ مصطفٰی


سلطانِ ہست و بود بھی سلطانِ نعت ہے


واصلٓ نہیں خبر کہ وزارت مِلے کسے


جُز جُز ہی آیتوں کا تَو سلطانِ نعت ہے
دراصل ہو رہا ہے یہ دل پر نزولِ نعت  


===== [[غلام مصطفی دائم اعوان]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
عالم عجیب دل کا جو دورانِ نعت ہے
طاری عروسِ قلب پہ وجدانِ نعت ہے


خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے


کس منھ سے کہتے ہو مجھے کم مایہ وغریب


لفظوں کی عکس بندیاں ملحوظ ہوں، مگر
مَیں وہ ہوں جس کے ہاتھوں میں دیوانِ نعت ہے


لازم پسِ خیال بھی عرفانِ نعت ہے


کیجے جونظم سیرتِ اقدس بھی نعت میں


نقش جمالِ شوخیءِ آیات کیا کہوں
'ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


ہر نوکِ حرف لشکرِ مژگانِ نعت ہے


'درویش' حرف حرف سے آئیں گی خوشبوئیں


تکوینِ کائنات کا ہر لحظۂ وجود
عشقِ حبیبِ پاک اگر جانِ نعت ہے


عنبر سرشت لؤلؤِ بارانِ نعت ہے
===== [[ضیا بلوچ]]، [[ کوئیٹہ]]، [[پاکستان]] =====
حال آں کہ زرّے زرّے میں اعلانِ نعت ہے


اس سے کہیں کُشادہ یہ دامانِ نعت ہے


اقلیمِ نُہ سپہر کے آشفتہ خاطرو


فرحت نواز غنچۂ بستانِ نعت ہے
یوں ہی نہیں عروج پہ آھنگِ کائنات


سب کی زباں پہ سورۂ رحمانِ نعت ہے


نکہت فشانیءِ گلِ رَیحان و نسترن


سب خوشہ چِینِ عطرِ گلستانِ نعت ہے
ذکرِ خدا کو ذکرِ نبی سے بڑھائیے


یہ ذکر اپنی اصل میں قرآنِ نعت ہے


مخدومِ طائرانِ اولی الاَجنحہ، حضور


عرشِ فراخ صفحۂ دیوانِ نعت ہے
دنیا کی مشکلات کو خاطر میں لائے کون


دنیا تو گردِ خاک نشینانِ نعت ہے


دائم فروغِ نعت کی نیرنگیاں نہ پوچھ


”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“
مدحِ رسولِ پاک کا ارماں بہت، مگر


===== [[فاضل میاں]]، [[میسور]]، [[کرناٹکا]]، [[انڈیا]] =====
آسانیوں میں مشکلِ آسانِ نعت ہے
مکمل نام : سید فاضل میاں


یہ اعترافِ حسنِ قلمدانِ نعت ہے


فنِ تمام حاضرِ ایوانِ نعت ہے
لازم نہیں کہ عشقِ نبی شعر تک رہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


مت زعم کر کہ تو کوئی حسانِ نعت ہے


چل احتیاط سے کہ یہ میدانِ نعت ہے
میں وہ بلوچ ہوں کہ دلِ عشق زار کو


جس زاویے سے دیکھیے بولانِ نعت ہے


تیرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے


حاصل اگر ذرا سا بھی وجدانِ نعت ہے
میں جو ہرا بھرا ہوں تو اسمیں عجیب کیا


رگ رگ میں بوند بوند میں بارانِ نعت ہے


عمرِ تمام نذر ہے اس کی تلاش میں


وہ حرفِ معتبر کہ جو شایانِ نعت ہے
فردوسِ حرف و صوت مبارک ہو اے غلام!


تم پر ضیا بلوچ یہ احسانِ نعت ہے


صد شکر میرے بحرِ تخیل میں جابجا
===== [[طارق چغتائی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
سیرت سے جو کشید ہے سامانِ نعت ہے


لولوئے نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے
مصرعے رواں دواں ہیں یہ فیضانِ نعت ہے




کس جا نہیں ہیں لعل و گہر مدحِ شاہ کے
دلوائے گا نجات وہ محشر کی دھوپ میں


یہ ساری کائنات ہی اک کانِ نعت ہے
سامانِ آخرت میں جو دیوانِ نعت ہے




کشتِ سخن پہ فصلِ عقیدت کی ہے نمود
لغزش ذرا بھی کفر کے زمرے میں آئے گی


کیونکر نہ ہو تسلسلِ بارانِ نعت ہے
لکھنا سنبھل سنبھل کے یہ دامانِ نعت ہے




قرآں بہ نطق سوز بہ دل عجز بر جبیں
آنکھوں میں ہے خیالِ محمدؐ سے روشنی


ہر اک نشانِ باج گزارانِ نعت ہے
رچ بس گیا ہے دل میں جو ارمانِ نعت ہے




یارب ہر ایک حمد کی مالک ہے تیری ذات
لکھی ہوئی ہے بات زمانے کی لوح پر


تیرا حبیب سید و سلطانِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"




ہر رنگ ہر مہک کی ہیں کلیاں کھلی ہوئیں
نعتِ رسولؐ سن کے دلوں کو سکوں ملے


روح و نظر نواز گلستانِ نعت ہے
ذکرِ رسولؐ اصل میں بارانِ نعت ہے




بے روح پیکرِ سخن و حرف ہے تو کیا
نعتیں سنی تو پھر مجھے احساس یہ ہوا


تیرا خیال اے شہِ دیں جانِ نعت ہے
سیرت کرو بیان یہی جانِ نعت ہے




امشب وفورِ گریہ و زاری ہے مہرباں
کھلتے ہیں اس پہ آیہء قرآن کے رموز


آثار کہہ رہے ہیں کہ امکانِ نعت ہے
جس شخص کو ذرا سا بھی عرفانِ نعت ہے




مضموں میں احتیاط خط و حرف میں ادب
بنتِ رسول شیرِخدا اور حسن حسین


لہجہ بتا رہا ہے کہ عرفانِ نعت ہے
مہکا ہوا انہی سے گلستانِ نعت ہے




یہ منصبِ شہیر یہ مسند کمال کی
طارقؔ اگر میں شہرِ ادب میں ہوں معتبر


مجھ کو اگر ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے
یہ فیض ہے حضورؐ کا احسانِ نعت ہے


===== [[طارق شہزاد]]، [[جدہ]] ، [[سعودی عرب]] =====


کیا جانے اختتام ہو کس کیفیت کے ساتھ
گلزار۔حسن_ فکر پہ احسان_ نعت ہے


انوار کا نزول ہے دورانِ نعت ہے
سب تتلیوں کے ہاتھ میں گلدان_نعت ہے




باہر نکل حروف و معانی کی قید سے
جو کنز _ کن ہے سارا ہی سامان_نعت ہے


" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
ہر شعبہء حیات میں امکان_ نعت ہے




درپیش اک طویل سفر ہے حیات کو
درباں کو کاش داور _ محشر یہ حکم دیں


رختِ سفر میں جو ہے وہ سامانِ نعت ہے
روکیں نہ اس کو صاحب_ دیوان_ نعت ہے




ہوں جبرئیل پشت پہ تائید کے لیے
فصلیں خیال_سبز کی اگتی ہیں جا بجا


اک شاعرِ غریب کو ارمانِ نعت ہے
کشت_ سخن بھی تحفہء دہقان_ نعت ہے




اس کی کشش الگ ہے جمال اس کا ہے جدا
اک دن چھپے گا میرا بھی دیوان ! دیکھنا


کتنا بہار زا رخِ تابانِ نعت ہے
حاصل مجھے بھی صحبت_ یاران_ نعت ہے




جنت کی نعمتوں کا مزہ لے رہا ہوں میں
پھوٹے ہیں پور پور سے چشمے درود کے


پیشِ نگاہ جب سے مرے خوانِ نعت ہے
ٹھہرا سراے روح میں مہمان_ نعت ہے




اس میں بیانِ حلّت و حرمت نہیں فقط
کچھ اہتمام_ روز_ جزا کیجیے میاں


قرآن ایک جہت سے قرآنِ نعت ہے
سودا خرید لیجیے دکان _ نعت ہے




طیبہ ہے خواب گاہ ہے خیر الانام کی
پت جھڑ کی کیا مجال کہ چھینے طراوتیں


ہر گوشہ اس زمیں کا خیابانِ نعت ہے
ان پتیوں پہ رنگ_ بہاران_ نعت ہے




محشر کے روز پیشِ خدا باریاب ہوں
مشک_ درود_ پاک سے مس کر لباس_ زیست


صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
کھولی کسی نے کاکل_ دیوان _ نعت ہے




زیر و زبر میں کوئی کمی بیشی ہو نہ پائے
===== [[طاہر جان]]، [[گوجرہ]] =====


اے صاحبِ حروف یہ میزانِ نعت ہے
پیہم قلم رواں ہے بفیضان نعت ہے


ہر لفظ کیمیا ہے بعنوان نعت ہے


لائے کوئی کتابِ الہیٰ کے سامنے


کیسا ہی پُر اثر کوئی دیوانِ نعت ہے
لفظوں کے ساتھ چاہیئے معانی کی احتیاط


لغزش کی جاء نہیں کہ یہ عنوان نعت ہے


رکھا ہے اک حصارِ بقا و دوام میں


کتنا فنا صفت پہ یہ احسانِ نعت ہے
اشکوں سے آنکھ ہی نہیں دل بھی ہوں دھو رہا


پاکی نگاہ و فکر کی جزدان نعت ہے


منسوب ان سے ہے جو رسولوں کا ہے رسول


کیا کم یہ عظمت و شرف و شانِ نعت ہے
اس کی بہارِ تام خزاں سے ہے نا شناس


ہر دور میں فروزاں گلستان نعت ہے


والشمس والضحیٰ کی تجلی ہے چارسو


فاضل اسی کا نام شبستانِ نعت ہے
ہر ذکر سے بلند کیا مصطفی کا ذکر


===== [[فائق تُرابی]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====
رب جہان آپ قدر دان نعت ہے
یُوں بھی زبانِ حال سے فرمانِ نعت ہے


ذیشانِ دو جہاں ہے جو ذیشانِ نعت ہے


گرچہ ہے جاؔں بھی خوگرِمدحِ رسولِ پاک


ارضِ حجاز ، ارضِ درود و سلام بھی
حق ہے کہ صرف حق ہی کو عرفان نعت ہے
عَرفات ِ١ نعت ہے، کہیں فارانِ نعت ہے




حیراں ہُوں بُو تُراب کے بابا کو پڑھ کے مَیں
===== [[طاہر صدیقی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====


دیوانِ شــاعــری ہــے یا قُــرآنِ نعت ہــے
یہ ماہ اپنے واسطے رمضانِ نعت ہے


ہر نعت اپنی حاصلِ قرآنِ نعت ہے


پیشِ نَظَـر ہو سُنّتِ سـرکار ہر جگـہ


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
قرآن ہو حدیث کہ تفسیر و اجتہاد


جس کو بھی دیکھیں مصدرِ عرفانِ نعت ہے


کوئی سکھا رہا ہے ہمیں نعت کے ادب


یہ غـَـارِ ثَور ہے کہ دبســتانِ نعت ہے
مدحت سے ہوگئی مِری مقبول حاضری


مدحت کو جانیے مِرا ایمانِ نعت ہے


اصحاب کی ثنا سے بڑھے نعت کا وقار


آلِ نبی کی مدح و صِفَت جانِ نعت ہے
جو کچھ بھی میرے پاس ہے اُنؐ پر فِدا کروں


وہ جانِ نعت ہی مِرا جانانِ نعت ہے


رشکِ بُخـَـارا ، رشکِ سمــرقند ســر زمین


یہ سر زمینِ چھچھ ٢ بھی گلستانِ نعت ہے
ہر ایک ایک لفظ میں تقدیس آگئی


ہر رُکنِ نعت حاصلِ ارکانِ نعت ہے


کوئی نفیسِ نعت٣ ہے، کوئی امینِ نعت٤


منظورِ نعت ٥ ہے ، کوئی سلمانِ نعت٦ ہے
آو کہیں حضورؐ کا ذکرِ جلی کریں


چلیے وہاں جو حلقہِ یارانِ نعت ہے


جب جب نسیمِ نعت چلے، دل مچل اُٹھے


جیسے یہ دل نہیں گُلِ ریحانِ نعت ہے
طائر مِرے لیے ہوئے مفتوح دو جہاں


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


مجھ پر تری حدیث کے جوہر نہیں کُھلے
مکمل نام : پروفیسر طاہر صدیقی، فیصل آباد


کس منہ سے میں کہوں مجھے عرفانِ نعت ہے
===== [[ظفر اقبال نوری]]، [[امریکا]] =====
ہر اسم میں شعور ہے عرفانِ نعت ہے


===== [[فراز عرفان]]، [[دوبئی]] =====
یعنی ہر ایک ذات میں وجدانِ نعت ہے


قائم جو لامکان پہ ایوانِ نعت ہے


بیشک یہ شاہِ والا کے شایانِ نعت ہے
حامد کی حمد حمد میں ہیں نعت ہی کے راز


ذاکر کے ذکر ذکر میں اعلان ِ نعت ہے


چرچا ہے شش جہت میں جو گویانِ نعت کا


لاریب یہ بوجہِ گلستانِ نعت ہے
ہر ممکن الوجود پہ واجب ہے ان کی نعت


“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


باقی مکانِ دنیا میں گھومو پھرو مگر


طیبہ ادب سے جاؤ ، وہ کاشانِ نعت ہے
سمٹی ہے نعت ہی میں سبھی کائناتِ اسم


یعنی الف ہی میم کا عنوانِ نعت ہے


کہئے ثناء نبی کی ذرا احتیاط سے
کیونکہ خدا کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے


معبود دے رہا ہے تو حکمِ درود ہی


مداحِ مصطفیٰ کی ہے فہرست گو طویل
محبوبِ حق کا اذن بھی فرمانِ نعت ہے


لیکن جو شانِ نعت ہے حسانِ نعت ہے


ہےحرف حرف نعت کی اک کہکشاں سجی


نسبت ہے تیری ذات سے لکھیں تری ثنا
اور لفظ لفظ نعت کا بستانِ نعت ہے


ورنہ قلم کوئی ترا شایانِ نعت ہے ؟


لہجوں میں اک مٹھاس تو روحوں میں اک نمی


جس کے سبب ہو فردِ عمل دائیں ہاتھ میں
ہر لحن سے جمیل یوں الحانِ نعت ہے
بس ایک ایسا ہی مجھے ارمانِ نعت ہے




سامانِ آخرت ہے یہی میرا اصل میں
صورت کا حسن اس میں ہے سیرت کا بھی جمال


تھاما ہوا اسی لئے دامانِ نعت ہے  
خالق نے خُوب لکھ دیا قرآنِ نعت ہے




روحِ رواں ہیں آپ ہی اس کائنات کے
قرآں کو چشمِ دل سے ذرا پڑھ کے دیکھئے
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر ایک لفظ لؤلؤ و مرجانِ نعت ہے


خاکی سبھی پہ چشمِ کرم ہے حضور کی


لیکن فقط خواص پہ بارانِ نعت ہے
سُن کر یقولُ ناعتُ آئے ہیں صف بہ صف


===== [[فرخ ترمذی]]، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====
ہم کو علی کی بات ہی پیمانِ نعت ہے


سرکار کا کرم ہے جو باران نعت ہے


مولا تری عطا سے ہی فیضان نعت ہے
رومی کہیں پہ سعدی و جامی بھی دل بکف


یہ کارواں مقلّدِ حسّانِ نعت ہے


ہر سمت تیرے نور کے جلوے نگاہ میں


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
ہم جی رہے ہیں نعت کے عہدِ نصیر میں


چاروں طرف حضور کا فیضانِ نعت ہے


تیرا وجود مرکز و محور ہے خیر کا


تیرا کلامِ نور ہی سامان نعت ہے
نوری ہے تیرے لفظوں کی مبلغ بساط کیا


تیرے دل و دماغ پہ احسانِ نعت ہے


ذکر حبیب کرتے ہیں عشاق ہر گھڑی
===== [[ظہیر قندیل]]، [[حسن ابدال]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد ظہیر قندیل


ان کی زباں پہ ذکر بھی شایانِ نعت ہے
اجمال یہ کہ حسن ہی عنوانِ نعت ہے


تفصیل یہ کہ دہر ، دبستانِ نعت ہے


پتھر بدست لوگوں کے حق میں تری دعا


طائف کا سارا واقعہ خاصان نعت ہے
’’ہر شعبۂ حیات میں امکان ِ نعت ہے‘‘


کافی ہے یہ ثبوت کہ فیضانِ نعت ہے


سجدہ طویل کرکے نواسے کے واسطے


سب کو دکھادیا کہ یہ ریحان نعت ہے
بخشش کوروزِ حشر میں، سامانِ نعت ہے


کیا فکر ہوکہ ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


یاد رسول پاک سے دل میں گداز ہے


آنکھوں سے اشک برسے ہیں، امکان نعت ہے
تشبیہ، استعارہ، کنایہ ، مجاز، رمز


ملتا نہیں بیان، جو شایانِ نعت ہے


انعام خاص ہے مری "انعام فاطمہ"


مالک کا یہ کرم بھی تو احسانِ نعت ہے
چوموں اسے کہ دل میں بٹھاؤں میں لفظ کو


خاطر کروں نہ کیوں کہ یہ مہمانِ نعت ہے


اپنا تو ہر سخن ہے ثنائے رسول پاک


ہر جا پہ اپنے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
مانو ! یہاں پہ جیت سبھی کو ہوئی نصیب


جیتو، مرے حریف یہ میدانِ نعت ہے


تجھ پہ کرم حبیب کا " اے جان مرتضی"


گھر میں تمہارے مہکا گلستانِ نعت ہے
میں نے گزاری عمر کسی اور کے لیے


میراوہی ہے وقت جو قربانِ نعت ہے


مشکل گھڑی سے مجھ کو بچاتا ہے تیرا ذکر


فرخ رضا کے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
بے حس کا دل گداز نہ ہو، کیا مجال ہے


پتھر پگھل گئے ہیں یہ ایقانِ نعت ہے


*  بیٹی کا نام


===== [[فضل اللہ فانی]]، [[صوابی]]، [[پاکستان]] =====
ہے سلسلہ ازل سے ابدتک جڑا ہوا
آمد کا زور شور ہے، بارانِ نعت ہے


خامہ تو آج وقفِ قلمدانِ نعت ہے
موتی نکل رہے ہیں ، یہی کانِ نعت ہے




ہر عندلیبِ باغِ سخن نغمہ سنج ہے
سجدے میں سر جھکاتے ہیں مومن نماز میں


ہر سمت جشنِ فصلِ بہارانِ نعت ہے
جس میں جھکی ہے روح وہ ایوانِ نعت ہے  




مشکل ہے حملِ وحْی کے مانند حملِ نعت
قندیلؔ تم کو داد ملے گی ، یقین ہے


یعنی یہ کارِ حوصلہ مندانِ نعت ہے
لیکن ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے


===== [[عادل یزدانی]]، [[چنیوٹ]]، [[پاکستان]] =====
دل میں سبھی کے جاگا جو ارمانِ نعت ہے


صاحب نظر ہو کوئی تو ہو اس پہ منکشف
سارے کا سارا اصل میں فیضانِ نعت ہے


"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


قرآنِ پاک سمجھوں نہ مَیں اُس کو کس لیے


اصنافِ شعر میں ہے جدا رتبہ نعت کا
درکار جس کلام کو جُزدانِ نعت ہے


شاہِ غزل، گدائے گدایانِ نعت ہے


سُوئے مدینہ دھیان رہے بزمِ نعت میں


دنداں کا سِین ہے تو کہیں مِیمِ زلف ہے
یہ احترامِ نعت ہے یہ شانِ نعت ہے


قرآں نگاہِ شوق میں دیوانِ نعت ہے


اُس ہاتھ کی رسائی کا عالم نہ پوچھیئے


حسّاں کو اور ہی قدِ شعری عطا ہوا
جس ہاتھ کے نصیب میں دامانِ نعت ہے


سلطانِ نعت، سروِ گلستانِ نعت ہے


لاریب ہے وہ قُربِ الٰہی کا مستحق


"لولاک" کا ظہور ہے ہر شے میں جلوہ گر
حاصل جسے ذرا سا بھی عرفانِ نعت ہے


ہرچیز چشمِ شوق کو سامانِ نعت ہے


کام آ گئی ریاضتِ شعر و سخن مرے


ہجراں کا زخمِ کاری ہے دل میں تو کیا ہوا
ضامن مری نجات کا دیوانِ نعت


فانی ہمارے پاس تو درمانِ نعت ہے


=====  [[فہیم رحمان آزر]]، [[سمندری]]، [[پاکستان]]  =====
وابستگی کا جس کی تمنّائی ہر کلیم
ہم شاعروں پہ کس قدر احسانِ نعت ہے


طبع آزما جو آج پھر ایوانِ نعت ہے
گلزارِ نعت ہے ، وہ دبستانِ نعت ہے




ارفع سخن طراز بھی پہنچے نہ میم تک
آئینِ عشقِ احمدِ مُرسل کی پیروی


اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
اظہارِ حُبِ دین ہے اعلانِ نعت ہے




پائے گا اِس سے دل مرا دوہری حلاوتیں
عادِل وہ دل ہی پائے گا رُتبہ شہید کا


اک سلسلہ درود کا دورانِ نعت ہے
ہر پل بہ صد نیاز جو قربانِ نعت ہے


===== [[عارف امام]]، [[امریکہ]] =====


حدِ نگہ ہیں گلستاں اور گلستاں میں پھول
عالم تمام حلقۂ دورانِ نعت ہے


کتنا وسیع خیر سے میدانِ نعت ہے
اعلانِ کُن کے “ن” میں اعلانِ نعت ہے




مظہر ہیں تیرے نور کا عالم کی رونقیں
ملتی ہے عاجزی سے یہاں شعر کو اُٹھان


شمس و قمر کی روشنی عرفانِ نعت ہے
گردن جُھکا کے چل کہ یہ میدانِ نعت ہے




اُن کے کرم کا دائرہ محدود تو نہیں
پُر پیچ تو نہیں ہے مگر سہل بھی نہیں


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
اے راہ رو سنبھل! یہ خیابانِ نعت ہے




محشر میں جب سوال ہو، کچھ ہے تمہارے پاس؟
سرنامۂ کلام ہیں اوصافِ مصطفیٰ ص


تب میں کہوں کہ ہاں مرا دیوانِ نعت ہے
گویا کتابِ حق ہی دبستانِ نعت ہے




لمحہ بہ لمحہ ہوتی ہے مدحت حضور کی
مدحِ نبی ص ہے نغمۂ تارِ نفس مدام


آذرؔ ہمارا حلقہ دبستانِ نعت ہے
میں سانس لے رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے


=====  [[ فیصل قادری گنوری]]، [[گنور]]، [[ بھارت]]  =====


طرزِ    بیان  آ  گیا    احسانِ    نعت  ہے  
سایہ ہے اِس سخن کا مِرے سر پہ تو مجھے


مجھ میں  شعورِ مدح بہ فیضانِ نعت ہے
میدانِ حشر وادئ فارانِ نعت ہے




میرے شعور و فکر میں گردانِ نعت ہے
اس دائرے سے دور نکل اے خیالِ دہر


در اصل عشقِ شاہِ ہدی  جانِ  نعت ہے
حّدِ ادب! یہ بزمِ سخن دانِ نعت ہے




جب سے خیال ان کا تصور میں بس گیا
خطبے میں جس نے دفترِ الحمد وا کِیا


افکار  کا  نزول  ہے  !  بارانِ  نعت ہے
تاریخ نے کہا وہ حدی خوانِ نعت ہے




عشاقِ مصطفی کی تڑپ کی ہیں جھلکیاں
کوثر سے منسلک ہے یہاں کی ہر اک رَوِش


افضل  مری  نگاہ  میں  دیوانِ  نعت ہے
یہ باغِ منقبت یہ گلستانِ نعت ہے


===== [[عارف قادری]]، [[واہ کینٹ]]، [[پاکستان]] =====
پھیلا ہُوا جہان میں فیضانِ نعت ہے


انساں کی کہا مجال لکھے شانِ مصطفی
جو جو کرم ہے جس پہ، وہ احسانِ نعت ہے


خود  ربِّ  کائنات  ثنا  خوانِ  نعت  ہے


جاں ہے فداۓ مدحِ پیمبر، زہے نصیب


ہم عاشقوں کو  خوف  نہیں روزِ حشر کا
خُوش بخت ہوں، کہ دِل مِرا قُربانِ نعت ہے


بخشش  کے واسطے یہی سامانِ نعت  ہے


یُوں ہی نہیں ہے وقت کی گردش تھمی ہُوٸی


مداح  اس کے  جیسا  نہیں  دوسرا  کوئی
جاری مِری زبان پہ گَردانِ نعت ہے


حسّان جس کو کہتے ہیں سلطانِ نعت ہے 


مانا اَدَب میں صِنفِ غزل بھی ہے صِنفِ خاص


یہ ساری کائنات سما جائے گی میاں
دیکھیں دِلِ سخن میں، تو ارمانِ نعت ہے


اتنا  وسیع  حلقہِ  دالانِ  نعت  ہے


آنا ذرا سنبھل کے مِرے شاعرِ عزیز


خطرہ کوئی نہیں ہمیں خورشیدِ حشر کا
حسّاس ہے بہت، کہ یہ میدانِ نعت ہے


سر  پر  ہمارے  سایہِ  دامانِ  نعت  ہے


دِل کا گُداز، اشکِ تپیدہ، جگر کا سوز


طرزِ سخن سے  جس  کو  ذرا  بھی  ہے آگہی
بہرِ قبول بس یہی سامانِ نعت ہے


پھر اس کے دل میں حسرت و ارمانِ نعت ہے


سب داٸرے مُحیطِ عطاۓ حضور ہیں


مدحت میں ان کی رب نے اتارا کلامِ پاک
”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


فیصؔل بیان کیسے  ہو  کیا شانِ نعت  ہے


خُلدِ بریں کی مُجھ پہ حقیقت بھی کُھل گٸی


فیصؔل قادری گنوری
پُر کیف و پُر بہار گُلستانِ نعت ہے


===== [[فیضان قادری]]، [[ٹانڈا]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : محمّد فیضان قادری


سب سے بلند اور وسیع میدانِ نعت ہے
مِلتی نہیں ہر ایک کو عارف یہ روشنی


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
قسمت کا ہے دھنی جسے عرفانِ نعت ہے


===== [[عاصم زیدی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے


مچھ کو بھی نعت کہنے کا دے دیجئےشرف
لیکن زہے نصیب کو عرفانِ نعت ہے


مدت سے میرے دل میں ارمانِ نعت ہے


"کُن" کی صدا کا اُٹھنا تو عنوانِ نعت تھا


میرا بھرم جو ٹوٹنے دیتا نہیں خدا
ظاہر ہوا جو "کُن" سے وہ دیوانِ نعت ہے


کچھ بھی نہیں یہ واللہ فیضانِ نعت ہے


قرآن پڑھ رہا ہے قصیدے رسول ؐ کے


اس کے عوض تو ملتی ہے قربت حضور کی
یعنی کہ "بے نیاز" کو ارمانِ نعت ہے


کتنوں کو دید ہو گئی یہ شانِ نعت ہے


شاعر تو کر رہا ہے اٙدا سُنّتِ خدا


سب بڑا سخنور میری نظر میں وہ
ورنہ "احد" کی ذات ہی شایانِ نعت ہے


جس کو بھی فضلِ حق سے عرفانِ نعت ہے


===== [[قمر آسی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]]=====
شانوں پہ کاتبین نے آرام کرلیا
عرفانِ نعت ہے نہ ہی وجدانِ نعت ہے


لیکن ازل سے حسرت و ارمانِ نعت ہے  
بس لکھ دیا کہ یہ ابھی دورانِ نعت ہے




حکمِ خدائے پاک ہے مدحت رسول کی
منکر نکیر اُس سے ملیں گے بصد ادب


صلُّو علیہِ اصل میں اعلانِ نعت ہے  
تقدیر میں عطا جسے فیضانِ نعت ہے




طاعت نبی کی طاعتِ ربِ عظیم ہے
کیونکر بھٹک سکے گا رٙہِ مستقیم سے


الفت مرے کریم کی عنوانِ نعت ہے  
عاصم ترے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


===== [[عاکف غنی]]، [[پیرس]] =====
وردِ درود لب پہ ہے ،وجدانِ نعت ہے


ہر ذی قدر خیال کو پایا ہے نعت میں
عشقِ نبی ہے دل میں تو امکانِ نعت ہے


کتنا وسیع دیکھیے دامانِ نعت ہے


لاؤں اثر کہاں سے میں اپنے کلام میں


سب پھول محوِ رقص ہیں، غنچے ہیں مشکبار
اسلوبِ فن کہاں مرا شایانِ نعت ہے


کیسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے


اس کے قلم سے نعت کی پھوٹے گی روشنی


ہر انتخابِ لفظ میں لازم ہے احتیاط
جس کے دل و نگاہ میں عرفانِ نعت ہے


حد ادب جناب یہ میدانِ نعت ہے


مدحت کروڑ ہا ہیں جو کرتے ہیں آپ کی


حسان کے ہنر سے عطا ہو طریقِ نعت  
ان میں سے میں بھی ہوں جسے ارمانِ نعت ہے


درکار مجھ کو ویسا ہی سامانِ نعت ہے


لفظوں کا انتخاب کریں دیکھ بھال کر


تھوڑے سے غور و فکر سے یہ منکشف ہوا
محتاط اہلِ فن کہ یہ میدانِ نعت ہے


" ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے "


حسنِ سلوک آپ کا ہر اک سے ایک سا


خود خالقِ جہان ہے مداحِ اولیں
ہر قول و فعل آپ کا عنوانِ نعت ہے


کتنی بلند و بانگ قمر شانِ نعت ہے


===== [[قمر صدیقی]] , [[گوجرانوالہ]]، [[پاکستان]] =====
کہنے لگا جو نعت میں آتا گیا نکھار


مجھ کمتریں کے ہاتھ قلم دانِ نعت ہے
لفظوں پہ میرے دیکھیے بارانِ نعت ہے


احسانِ نعت سر بسر احسانِ نعت ہے
===== [[عائشہ ناز]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
موضوعِ گفتگو مرا اب شانِ نعت ہے  


کتنا مرے سخن پہ یہ احسانِ نعت ہے


میں حجرهٔ درود میں رہتا ہوں ہر گھڑی


میرا خیال آج کل ، ایوانِ نعت ہے
سب کے نصیب میں کہاں عرفانِ نعت ہے  


صد شکر دل محبِّ محبانِ نعت ہے


جب آل ہے درود میں شامل، کہا گیا


پھر کربلا کا ذکر بھی عرفانِ نعت ہے
بتلا رہا ہے اسم ِمحمّد ﷺ کہ حشر تک


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


بیٹھو تو "نعت ورثہ" کے سائے میں دو گھڑی


تم بھی پکار اٹھو گے بارانِ نعت ہے
ان کی صفات کیسے بیاں کر سکے  کوئی


کہہ کر بھی نعت قلب کو ارمانِ نعت ہے


انؐ کےحضور اشکِ ندامت لئے ہوئے


فریاد و استغاثہ بھی امکانِ نعت ہے
رکھی ہوئی ہیں اس میں ادب سے سنبھال کر


دل جس کو آپ سمجھے وہ جزدانِ نعت ہے


ہیں کاف پیش نون کے آثار جس قدر


صاحب ! بقدرِ ظرف یہ سامانِ نعت ہے
اس کی گلی گلی میں ہے مہکار نعت کی


یہ ارضِ پاک میری گلستانِ نعت ہے


ہر نعت مجھ کو نافهِٔ مشکِ خُتن لگے
===== [[عباس رضا نیر]]، [[لکھنو]]، [[پاکستان]] =====


حد درجہ عنبریں جبھی دالانِ نعت ہے
بشکریہ : [[کاشف حیدر]]


دنیا کی ہر زبان پہ احسانِ نعت ہے


یادِ رسولِ پاکؐ کو لوبان داں سمجھ
جو شان حمد کی ہے وہی شانِ نعت ہے


اس میں سلگتا نعت گو ، لوبانِ نعت ہے


یس دل ہے عشقِ رسالت ماب کا


یہ بات مجھ سے رومیِ کشمیر نے کہی
الحمد جس کو کہتے ہیں وہ جانِ نعت ہے


قرآنِ پاک اوّلیں دیوانِ نعت ہے


حق کی نظر میں اشرفِ مخلوق ہے وہی


ہے کنتُ کنزِ مخفی کی تفسیر یہ قمر !
تھوڑا بہت سہی جسے عرفانِ نعت ہے  


"ہر شعبهِٔ حیات میں امکانِ نعت ہے"


===== [[کاشف حیدر]]، [[بارٹلیٹ]] =====
یوں سینچ کر گیا ہے اسے اسکا باغباں
دل میں اسی لئے مرے ارمانِ نعت ہے  


میں نے سنا ہے حشر میں میزانِ نعت ہے  
بے خار و بے خزاں چمنستانِ نعت ہے  




عنوان ہی لکھا کہ قلم تھک گیا مرا
اے موجدِ ثنائے پیمبر تری ثنا


کتنا طویل جانے یہ میدانِ نعت ہے  
ہم قاریوں کے واسطے قرآنِ نعت ہے  




اب خوف کچھ نہیں مجھے منکر نکیر کا
آپس میں بات کرتے ہیں میرے دل و دماغ


مری لحد میں ساتھ جو دیوانِ نعت ہے  
میں بوذرِ ثنا ہوں تو سلمانِ نعت ہے  




لگتا ہے سجدہ ریز درِ مصطفیٰ پہ ہوں
پروردگارِ انفس و آفاق کی قسم


احساس کیا حسین یہ دورانِ نعت ہے  
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے




اک منفرد سی نعت لکھوں گا میں ابکے بار
یا صاحب الجمال و یا سید البشر


قرآں سے لفظ لوں گا جو شایانِ نعت ہے  
تیرے حوالے میرا دبستانِ نعت ہے  




کاشف مری نظر میں سخنور نہیں ہے وہ
ہم کیا کریں گے لے کے جہاں کی وزارتیں


جس کا قلم ابھی تلک انجانِ نعت ہے
نیئر ہمارے پاس قلمدانِ نعت ہے


===== [[کاشف عرفان]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
===== [[عباس عدیم قریشی]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
ذوقِ درود ہے کہیں رُجحان نعت ہے
انکی عطا ہے اور مرا دامانِ نعت ہے


صد شکر میری نسل میں میلانِ نعت ہے
یعنی زمینِ خشک پہ بارانِ نعت ہے




ہر شعبہ حیات میں درکار ہیں نبی
فکرِ سخن ، رضا کے تکلّم کی بھیک بس


"ہر گوشہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
طرزِ سخن فقیر کا فیضانِ نعت ہے




روشن کیا ہے جس نے مرا گھر مرا قلم
ملحوظ حدّ ِ شرع و سیرت رکھی فقط


نور محمدی ہے یہ تابانِ نعت ہے
دعویٰ نہیں ہے حاشا ، کہ عرفانِ نعت ہے




آنکھوں میں تیرتے ہیں مدینے کے صبح و شام
مجھ پر جو حرف و معنی کے دفتر ہوئے ہیں وا


محسوس ہو رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے
یہ اہلیت نہیں مری ، احسانِ نعت ہے




تہذیبِ بے مہار کا سیرت کو شکریہ
کچھ ان بہے سے اشک ہیں ، کچھ بےصدا سے لفظ


بدلے ہوئے ہیں ہم تو یہ احسانِ نعت ہے
کاسے میں مجھ گدا کے یہ سامانِ نعت ہے




حسنِ عمل ہی لفظ کو دیتا ہے زندگی
تغسیلِ نور کر کے اترتے ہیں یاں خیال


معیار ہے یہی ، یہی پہچانِ نعت ہے
یہ مہبطِ جمال ہے ، میدانِ نعت ہے




سیرت کا حُسن سنتِ آقا کی روشنی
یاں قدرتِ سخن نہیں ، توفیقِ نعت مانگ


کتنا سجا ہوا مرا ایوانِ نعت ہے
غالب ہیں ہاتھ باندھے ، یہ ایوانِ نعت ہے




اشکِ فراق ، خوابِ تیقن، سلامِ شوق
ہر لمحہ ہوں درود سپاس انکی چاہ میں
ہر لمحہ ان کے لطف سے قربانِ نعت ہے


کاشف ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے


===== [[کوثر سعیدی]] , [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
کہنے کی بات ہے نہ بتانے کا حوصلہ


شاعر : راجا کوثر علی
جتنا کرم فقیر پہ دورانِ نعت ہے


بشکریہ : [[حفیظ اوج | مرزا حفیظ اوج]]


غارِ حرا تو مرکزِ دیوانِ نعت ہے
ماخوذ ہو حیات جو سیرت سے شاہ کی
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


ہر حرف جو عطا ہے وہ شایانِ نعت ہے


حسّان و رومی ، جامی کا صدقہ ہے یہ عدیم


ممکن نہیں کہ اس کا احاطہ کرے کوئی
توفیقِ نعت جس کو ہے حسّانِ نعت ہے


عشق رسول پاک جو دوران نعت ہے۔
===== [[عبدالامین برکاتی]]، [[ویراول,گجرات]]، [[انڈیا]] =====


پیشکش: [[غلام جیلانی سحر]]


اے وجہ ممکنات فقط آپکے طفیل
جاری جہاں میں آج بھی فیضانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
ہر شخص کی حیات ہی عنوانِ نعت ہے




اصناف اور بھی ہیں ادب میں تو معتبر
یہ شان مصطفی کی ہے حمدِ خدا کے بعد


صد شکر کہ شعور پہ باران نعت ہے
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,




اے کاش مدح حضرت ِ جامی سی ہو عطا
حسنِ عمل تو پاس مرے کچھ نہیں مگر


کوثر کے دل میں ایک ہی ارمان نعت ہے
بخشش کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے


===== [[کوثر علی]], [[فیصل آباد ]]] =====


بشکریہ : [[ریاض قادری]]، [[فیصل آباد]]
دیکھو پلٹ کے تم بھی تو قرآں کے پاروں کو


یہ آپ کا کرم ہے جومیلان نعت ہے  
کرتا ہے مدح رب بھی جو سلطانِ نعت ہے


لیتے ہیں جس سے آپ کا وہ خوان نعت ہے


آئے نظر جو لفظوں میں عشقِ رسولِ پاک


طیبہ میں کیا حکومت شاہان نعت ہے  
لکھوں میں ایسی نعت جو شایانِ نعت ہے


ہر سمت اک ہجوم گدایان نعت ہے


نغمے غزل کے چھوڑ کے ایوانِ نعت میں


حسان و کعب و ابن رواحہ یہاں پہ ہیں
ہر سمت آج دیکھیے طوفانِ نعت ہے


منبر کے پاس جوش کریمان نعت ہے


جو کچھ لکھا امین نے وہ تو ہے مختصر


جنت کی اتنی بار بشارت اسے ملی
جامع ہے سب میں جو وہ تو قرآنِ نعت ہے


اپنا امام نعت تو حسان نعت ہے


رکھنا قدم سنبھل کے امینِ حزیں ذرا


رکتی نہیں ہے مدح کبھی آنحضور کی
میدانِ نعت ہے ! ہاں یہ میدانِ نعت ہے !


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے  
===== [[عبد الباسط]]، [[ ٹوبہ ٹیک سنگھ]]، [[پاکستان]] =====
یہ کائنات سر بسر سامانِ نعت ہے


وہ خوش نصیب ہےجسے عرفانِ نعت ہے


ان کی ہر ایک ایک دعا میں شریک ہے


دل شامل گروہ شریفان نعت ہے  
اللہ کا ہے فرمان کانَ خلقہ القرآن


یعنی قرآنِ پاک بھی اعلانِ نعت ہے


یا رب نبی کی نعت اک ایسی نصیب ہو


میں جس کو کہ سکوں کہ یہ شایان نعت ہے  
میرے لبوں پہ رہتا ہے ذکرِ حضورِ پاک


مجھ پر یہ احسان بہ فیضانِ نعت ہے


کچھ حسرتیں ہیں آنسو ہیں دوری کے رنج و غم


اک عمرہوگئ یہی سامان نعت ہے
آقا ہیں میرے باعثِ تخلیقِ کائنات


یہ کائنات سمجھیے دیوانِ نعت ہے


پریشاں اتر رہی ہیں ثناءے حبیب کی


اوج خیال کوہ سلیمان نعت ہے  
ہراک نفس پہ قرض ہے مدح حضور کی


ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے


دامن بھرا ہو اہے عطاءے رسول سے
===== [[عبدالجلیل]]، [[كوہاٹ]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : حافظ محمّد عبدالجلیل


کافی ہمیں تو بس یہی دامان نعت ہے  
انوار سے سَجا ُہوا ایوانِ نعت ہے


مِدحت مِرےحضورؐ كی عرفانِ نعت ہے


پڑتی نہیں کبھی بھی کسی چیزکی کمی


فیضان نعت سا کوئی فیضان نعت ہے  
طیبہ كی ہر گلی میں ہے مہكار اس لیۓ


ہر گام پر كِھلا ہُوا بُستانِ نعت ہے


ہر رنگ کے ہیں پھول کھلے میرے شہر میں


یہ شہر نعت ہے کہ گلستان نعت ہے  
قرآنِ پاك ذكر ہے خُلق عظیم كا


اس كا ہر ایك لفظ ہی عُنوانِ نعت ہے


اللہ کرے یہ نامہ اعمال ہو مرا


میرے جو ہاتھ میں مراد یوان نعت ہے  
ہر شعبہ حیات نے پائی ہے روشنی


”ہر شعبہ حیات میں امكانِ نعت ہے "


ہوتا ہے سینہ چاک ثناءے حبیب سے


کوثر ہمارا چاک گریبان نعت ہے ۔
ذكرِ حبیبِ كبیریا ہے جلوہ گر یہاں


=====  [[گل رابیل]]، [[پاکستان]]  =====
صد شكر ہےكہ دل مِرا جزدانِ نعت ہے
تسکینِ روح کے لئے سامانِ نعت ہے  


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


میں كیوں كہوں كہ مُفلس و نادار ہوں جلیل


میرے نبی کا پہلا ثنا خواں ہے میرا رب
زادِ سفر میں جب مِرے سامانِ نعت ہے


قرآن سب سے پہلا تُو دیوانِ نعت ہے
===== [[عبد الحلیم]]، [[ گونڈہ]]، [[بھارت]] =====
فکر و نظر شعور میں فیضانِ نعت ہے


جو کچھ ہے میرے پاس وہ احسانِ نعت ہے


ذکرِ رسولِ پاک ہی ہوتا ہے جا بجا


ہر آئینے کے رخ پہ ضیا بانِ نعت ہے
اللٰہ کے رسول کا احسان دیکھئے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


خوشبو ہے ذہن میں مری سانسیں ہیں عطر بیز


گردِ مشام بوئے گلستانِ نعت ہے
تسکین قلب کے لئے نعت رسول بس


میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے


زیور ٹٹولتی ہوں نہ زر ڈھونڈھتی ہوں میں
دل کو تو میرے ہر گھڑی ارمانِ نعت ہے


ابر کرم حضور کا برسا ہے ہر جگہ


پڑھ کر تو دیکھئے ذرا نعتیں رسول کی
اس واسطے جہاں یہ گلستانِ نعت ہے


کس طرح جاری آج بھی فیضانِ نعت ہے


آنکھوں میں اشک دل میں وِلا لب پہ ان کا نام


سجتی ہیں میرے قلب میں نعتوں کی محفلیں
ہمراہ میرے بس یہی سامانِ نعت ہے
رابیل دل یہ دل نہیں ایوانِ نعت ہے


===== [[ لیاقت علی عاصم]]، [[ کراچی ]] =====


اسمِ رسولِ پاک کا عنوانِ نعت ہے
جنبش قلم کو خوب ادب سے دیا کرو


عنوانِ نعت ہی نہیں دیوانِ نعت ہے
لازم ہے احتیاط یہ میدانِ نعت ہے




اے اسپِ تیز شان رقم دیکھ ہوشیار
عبدالحلیم جیسے بھی لکھتے ہیں ان کی نعت


یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے
کتنا وسیع دیکھئے دامانِ نعت ہے


===== [[عبد الرحمان ناصر]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
یہ وحی کا نزول تو باران نعت ہے


جائز نہیں ہے اعلٰی و ادنٰی کی اصطلاح
قرآں کاحرف حرف ہی دیوان نعت ہے


ہم لکھنے والوں پر یہی فیضانِ نعت ہے


احجار نے بھی نطق کیا مدحِ آقا میں


دنیا کی دھوپ دل کو برے چُھو نہ پائے گی
سو طاری بے زباں پہ بھی وجدانِ نعت ہے


قالب پر میرے سایہِ دامانِ نعت ہے


بن کے کھڑے ہیں مقتدی جو پہلے آے تھے


عصرِ رواں ہو یا کہ وہ عہدِ گزشتہ ہو
ہاں معشرِ رُسُل میں یہ اعلانِ نعت ہے


اس کا غلام ہوں جو سلطانِ نعت ہے


ہر ذرۂ حیات ہے "لولاک" سے رواں


نقاد تھام لے کہ کوئی نکتہ دانِ شعر
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


ہموار سب کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے


الفاظ چن تو لوح سے سدرہ سے لے خیال


دراصل نعت خواں ہے موذٌِن کہیں جسے
پر جلتے ہیں جہاں وہاں سامانِ نعت ہے


یعنی اذان بھی کوئ اعلان ِ نعت ہے


===== [[مبشر صائم علوی]]، [[حاصل پور]]، [[پاکستان]] =====
ناصر تو نعت لکھ, ندا آے گی حشر میں
مکمل نام : ملک مبشر صائم علوی


اپنا تو فخر زیست میں دیوانِ نعت ہے
جانے دو بے حساب یہ حسانِ نعت ہے.


اپنی تو آن بان فقط شانِ نعت ہے
===== [[عبدالرحیم ارحم]]، [[حیدر آباد]]، [[سندھ]]، [[پاکستان]] =====
ظاہر کلام رب سے جو فرمانِ نعت ہے  


تاحشروا یونہی در امکانِ نعت ہے


اہلِ سخن سنبھل کے، یہ عنوانِ نعت ہے


چلیے ٹھہر ٹھہر کے، یہ میدانِ نعت ہے
شان رسول پاکﷺ میں قرآں کاحرف حرف


لولوٸے نعت ہے کوٸی مر جانِ نعت ہے


اہلِ خرد پہ بات یہ کھُل کر عیاں ہوئی


بخشش کا گہرِتاب تو پنہانِ نعت ہے
ہرآن ہو جوپیش نظراسوہٕ رسول


ہرشعبہٕ حیات میں امکانِ نعت ہے


اس دن سے ہوگیا ہوں مقدر کا میں دھنی


جس دن سے میری فکر پہ بارانِ نعت ہے
مرقد میں میرے آکے فرشتے خموش تھے


دیکھا جو میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


منزل بھی ایسے شخص کی رہتی ہے منتظر


جس کو تلاشِ گوشہءبستانِ نعت ہے
عشق نبیﷺ ہی پیش خدا سرخ رو کرے


عشق نبی ﷺ ہی تاررگ جان نعت ہے


صلِّ علٰی کی لوریاں ماوں سےہیں ملی


ہر بچہ بچہ اس لئے قربانِ نعت ہے
دل میں مرے جو روشنی یاد نبیﷺ کی ہے  


اللہ کا کرم ہے یہ احسان نعت ہے


عزت، وقار ، و منزلت اس کا ہے پیرہن


جو شخص بھی یہاں پہ نگہبانِ نعت ہے
عزم سفر ہے جانب طیبہ مرا ، کہ واں


موجود گام گام پہ سامان نعت ہے


ایسے لگا میں اور ہی دنیا میں ہوں مکیں
===== عبد الغفار، حافظ =====


یہ کیفیت بنی مری دورانِ نعت ہے  
رب کی عطائے خاص ہے  احسانِ نعت ہے
سو بار شکر مجھکو بھی عرفانِ نعت ہے  


اقا عطا ھوں لفظ جو سب سے ھوں منفرد
اک عرصہِ دراز سے ارمان ِ نعت ہے


وقتِ نشور حکم ہو اے کاش اس طرح
عشق و شعور و فہم و خرد ہو تو باالیقیں
" ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


اُس دل کو لاو جس میں کہ ارمانِ نعت ہے
نظم و غزل کا شوق نہ شہرت کی آرزو
مقصد میری حیات کا دیوانِ نعت ہے  


یہ نام یہ مقام یہ عزت یہ آبرو
جو کچھ بھی میرے پاس ہے  فیضانِ نعت ہے


عیبوں کو میرے ڈھانپ کے رکھتی ہے ہر گھڑی
واجد نے عہد جب سے کیا ان کی نعت کا
دل کی زمیں پہ تب سے ہی بارانِ نعت ہے


صائم کے سر پہ چادرِ احسانِ نعت ہے
حافظ عبدالغفار واجد


===== [[محبوب احمد]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
===== [[عبد الغنی تائب]]، [[حافظ آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : حافظ محبوب احمد
علم و ادب میں منفرد یہ شان نعت ہے


پھرعالمِ حضوری ہے،امکانِ نعت ہے
مدح و ثنائے مصطفی' ایوان نعت ہے


تیارپھرنزول کوقرآنِ نعت ہے


پھیلی ہوئی ہے چار سو خوشبوئے جاں فزا


دھرتی ہوآسماں ہوکہ لاہوت ولامکاں
ارض ہنر پہ کھل پڑا بستان نعت ہے


میری نگاہ میں سبھی سامانِ نعت ہے


وارفتگیء شوق ہے ، بیدار بخت ہے


ہر پھول کی مہک سےمعنبر ہے کائنات
یہ جان لو کہ صدقہ و فیضان نعت ہے


کیا پر بہار صحنِ گلستانِ نعت ہے


ہے میرے پاس جو زر عشق رسول پاک


ہر شعبۂ حیات میں سیرت ہے جلوہ گر
اک فیض بار قطرہء باران نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


تسکین قلب و جان ہے یاد شہ رسل


ہر حرفِ نعت صورتِ خاور ہے ضوفشاں
ذکر حبیب آن سخن، جان نعت ہے


ایوانِ نور ہے کہ یہ دیوانِ نعت ہے


تائید جبرائیل بھی مل جائے گی اسے


لوح وقلم بدست ہے ہر ایک نغزگو
کب سے دیار قلب میں ارمان نعت ہے


جوبن پہ آج اپنے دبستانِ نعت ہے


مقصود ہے جو چار سو ہو امن و آشتی


آئےہےحرف حرف سے صلِّ علیٰ کی گونج
" ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


پایا درِ حضور سے فیضانِ نعت ہے


فتح و ظفر کا رستہ ، ہے امید کی کرن


نعلینِ شاہ سے ہیں ہوئی تاج پوشیاں
بخشش کا آسرا یہی سامان نعت ہے


گفتہ مرابھی صاحبو!سلطانِ نعت ہے


اخلاص کی مہک ہو ، موءدت کی چاندنی


ہر حرف ضوفشاں ہے شبِ ماہ کی طرح
لائو وہ حرف و صوت جو شایان نعت ہے


اے لذّتِ فنا! یہ شبستانِ نعت ہے


رزق سخن ہے نکہت طیبہ سے مشکبو


فکرونظرکےیہ بڑےمشکل ہیں مرحلے
توفیق شعر گوئی بھی احسان نعت ہے


یہ ہے حرائے نعت، یہ فارانِ نعت ہے


===== [[محبوب علی جوہر]] =====
تائب یہ فخر اوج سعادت سے کم نہیں
ان کے تو پاس سایہء دامانِ نعت ہے


رحم و کرم بھی ورثہ خاصانِ نعت ہے
دست سخن شناس میں دامان نعت ہے


===== [[عبدالقادر ہمدم قادری]]، [[گونڈہ]]، [[بھارت ]] =====


پیران عشق احمد و حامد کہیں جسے
مکمل نام : انصاری عبدالقادر ہمدم قادری


اس مصطفی کا نام ہی وجدان نعت ہے
رحمت ہے اُس پہ جو بھی قلمدانِ نعت ہے


صد شُکر ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے


احسن ہر اک لحاظ سے حضرتؐ کی ذات ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
سرکار ﷺ کا کرم ہے فقط اور کچھ نہیں


قلب و جگر میں آج جو میلانِ نعت ہے


روح القدس ،ہوں خلد کی خوشبوئیں ،رونقیں


کتنا عظیم تر ترا سامانِ نعت ہے
سرکار ! یہ یقین ہے صدقے میں آپ کے


محفوظ میرے قلب میں ارمانِ نعت ہے


مجھ سے کہا گیا کہ ہوں صدقہ حضور ؐ کا


بابا سے مجھکو اس لیے پیمانِ نعت ہے
دل میں بسی ہے الفتِ سرکارِ ہر جہاں


قلب و جگر پہ دیکھئے بارانِ نعت ہے


ہم پستیوں کے باسی ،کہاں تک رسائی ہو


بس ایک عرش ہی ترے شایانِ نعت ہے
مجھ کو شعور کب ہے کہ نعتِ نبی لکھوں


شکرِ خدا کہ آج یہ وجدانِ نعت ہے


ہر ایک کھا رہا ہے جو صدقہ رسول ؐ کا


ہر ایک اس لحاظ سے مہمانِ نعت ہے
جرم و خطا کا‌ بوجھ مرے سر پہ ہے مگر


راہِ نجات کے لئے سامانِ نعت ہے


ہیں نعمتیں کروڑوں پر ان میں عظیم تر


خالق کا ایک مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
اعلیٰ ہے کتنی دیکھئے شانِ رسولِ پاک


===== [[مجاہد علی]]، [[لاہور ]] =====
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


میں اور مرے حروف کی قیمت نہیں حضور
ربِّ جہاں ہی ربِّ دبستانِ نعت ہے


ہمدمؔ درودِ پاک پڑھو جھوم جھوم کر


اِس راستے پہ عقل نہیں عشق چاہئیے
شایانِ نعت ہے یہی شایانِ نعت ہے


اے دل ذرا سنبھل کہ یہ میدان ِ نعت ہے
===== [[عبد اللہ خان آبرو علیمی]]، [[بلرام پور]]، [[بھارت]] =====


===== [[محمد باقر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]
مکمل نام : سید محمّد باقر


کتنا وسیع حلقہء دامان ِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکان ِ نعت ہے"
شکرِ خدا کہ روح پریشانِ نعت ہے


سرکار ! لطفِ خاص کہ عنوانِ نعت ہے


اگتے ہیں اِس میں پھول ثناۓ رسول کے


دل کی زمین ہے کہ خیابان ِ نعت ہے
سرکار ! مجھ گنوار کی لاج آپ کے سپرد


کچھ زادِ آخرت ہے نہ سامانِ نعت ہے


تابش سے جس کی خیمہء عالم ہے ضوفشاں


سورج نہیں یہ گوہر ِ تابان ِ نعت ہے
سرکار ! آپ ہی کی عطا نعت اگائے گی


کشتِ سخن میں آپ سے امکانِ نعت ہے


اُن ص کے کرم سے دفتر ِ مدحت پہ آگیا


وہ حرف ِ بے نظیر جو شایان ِ نعت ہے
سرکار ! لطف آپ کا شامل رہے تو پھر


,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


پاس ِ ادب ، سلیقہء الفاظ ، عاجزی


وارفتگیء شوق میں سامان ِ نعت ہے
ہر ایک پھول رنگت و نکہت کا شاہ کار


قرآن کا, جو ایک گلستانِ نعت ہے


صَد شُکر میں سخن میں مُقلّد اُسی کا ہوں


وہ رشک ِ بوتراب ع جو سُلطان ِ نعت ہے
امداد ان کی شانِ کریمی کی واہ واہ


لب ہائے خوش نصیب پہ گردانِ نعت ہے


باقر ہمیں ملے گا ریاض ِ جناں میں گھر


گُلزار ِ ہست و بُود میں اعلان ِ نعت ہے
ہمراہ ان کا عشق اگر ہے تو ٹھیک ہے


===== [[محمد علی حارث]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
خطرے ہیں بے شمار,کہ میدانِ نعت ہے !!
میرے خیال میں یہی فیضان نعت ہے


عشاق کو ملا جو یہ دیوان نعت ہے


مجھ میں  کوئی کمال نہیں ہے اے آبروؔ!


کیوں آج تک احاطہ نہیں ان سے ہو سکا
اک بے ہنر پہ بارشِ فیضانِ نعت ہے


حیراں ہیں عقل والے بھی کیا شان نعت ہے
===== [[عبید بخاری]]، [[لودھراں]]، [[پاکستان]] =====
خوش قسمتی سے مل گیا وجدانِ نعت ہے


اب میں ہوں اور سَیرِ خیابانِ نعت ہے


اس پر نزول ہوتا ہے رحمت کا عمر بھر


جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامان نعت ہے
دل میں وفورِ عشقِ رسولِ کریم ہو


دشتِ سخن میں بس یہی سامانِ نعت ہے


یعنی درود اور سلام ان کی ذات پر


بخشش کے واسطے ملا سامان ِ نعت ہے
اسمِ گرامی آپ کا مشتق ہےحمد سے


یعنی کہ نامِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


وہ ذات کارساز ہے کوشش تو کیجیے


“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”
ہےنعت اپنی ذات میں یہ مصرعِ کمال


”ہرشعبہ۶حیات میں امکانِ نعت ہے“


حارث گنہگار خطاکار ہے مگر
خوش دست وخوش قلم ہےوہ خوش فکروخوش کلام


صد شکر اس خدا کا غلامان نعت ہے
جوبھی جہاں پہ صاحبِ دیوانِ نعت ہے


===== [[محمد شاہ ہمدانی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : سید محمد شاہ ہمدانی


اب روح اور سانس بھی گردانِ نعت ہے
ہو جاؤں وقفِ مدح تشکّر میں اے عبید


سو زندگی وہی ہے جو قربانِ نعت ہے
قدرت نے مجھ کو بخشا قلم دانِ نعت ہے


===== [[عتیق الرحمان صفی]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
ہر فکر ہر خیال میں امکانِ نعت ہے


عشق ِ رسول ہی مِرا سامانِ نعت ہے
مدحِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


اس کے طفیل مل گیا فیضانِ نعت ہے


مجھ کو سخن عطا ہوا ہے برکتوں کے ساتھ


کرتا رہا وظیفہ درودو سلام کا
یعنی کرم ہے رب کا جو فیضانِ نعت ہے


اس وقت کی وہ خامشی گردانِ نعت ہے


میں نعت اُن کے عشق میں لکھتا ہوں اور بس


اللہ کے ولی نے بتائی مجھے یہ بات
دعویٰ مرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


مجھ ایسے کم سخن کو بھی عزت ملی ہے جو


مجھ کو ذرا بھی خوف نہیں پل صراط کا
رب کی عطا کے بعد یہ احسانِ نعت ہے


امداد میں رسول کی فیضانِ نعت ہے


اک ایک حرف چومئے لکھنے سے پیشتر


دن رات بھیجتا ہوں شہِ طیبہ پر سلام
صد احترام کیجیے میدانِ نعت ہے


بس آخرت کو پاس یہ سامانِ نعت ہے


سیرت کے پھول نعت میں چن چن کے ڈالیے


ہر اشک کے سبب مرے اشعار ہوگئے
کتنا حسین دیکھئے سامانِ نعت ہے


اتنا حسیں تبھی مرا دیوانِ نعت ہے


تعریف رب خود آپ کی کرتا ہے اس لیے


اظہارِ عشق کرتا ہوں سرکار سے میں خوب
ہستی مرے حضور کی شایانِ نعت ہے


ہوتی ہے دلبری سبھی، دورانِ نعت ہے


انسان و جن، ملائکہ مدحت سرا ہیں سب


تم چشمِ دل سے گنبد ِخضری کو دیکھتے
اس کائناتِ نعت میں بارانِ نعت ہے


خلدِ بریں کا ٹکڑا یہ، ایوانِ نعت ہے


اردو کے بھاگ جاگ گئے آپ کے طفیل


دن رات بھیجتے رہو ان پر سلام تم
ہر لفظ خوش ہے یوں کہ وہ مہمانِ نعت ہے


میرا عقیدہ ہے ؛یہی رحمانِ نعت ہے


جب تک ہے سانس آپ کی کرتا رہوں گا مدح


جلوے رسول کے ہیں میسر مجھے مدام
میرا یہ اپنے آپ سے پیمانِ نعت ہے


لوگو میں جانتا ہوں ؛کہ امکانِ نعت ہے


اشعار اُن کی شان میں کہتے ہوئے صفیؔ


اشکوں سے نعت کہتا رہا ہوں رسول کی
لب پر درودِ پاک ہی دورانِ نعت ہے


کتنا سکون مل گیا ؛ دورانِ نعت ہے
===== [[عثمان محمود]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
عثمان زیر-سا یۂ دامان- نعت ہے  


یعنی دل-سیاہ میں امکان -نعت ہے


خلدِ بریں اسی کی ہے آمد کی منتظر


جس شخص کا عقیدہ ہے؛ ایمانِ نعت ہے
ایسا سکون نظم و غزل میں کہیں نہیں


جیسا سکون اب مجھے دوران -نعت ہے


دن رات سوچتا ہوں پیمبر کی شان میں


ہر ایک شعر میرا یوں؛ مہمانِ نعت ہے
بعد از خدا عظیم محمد کی ذات ہے  


حمد -خدا کے بعد ہی فرمان -نعت ہے


اللہ سے یہی ہے دعا، نعت کہہ سکوں


اک زیست بھر رہا مجھے ارمانِ نعت ہے  
قرآن میرے رب نے اتارا ہے آپ پر


قرآن ہی تو اصل میں دیوان -نعت ہے


چرچا انہی کے صدقے محمد شہا ہے سب


میری حیات بن گئی عنوان ِ نعت ہے
محدود کب ہے مد ح -نبی شاعری تلک


===== [[محمد صدیق]]، [[جلال پور جٹاں، گجرات]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبۂ حیات میں امکان -نعت ہے  
مدحت رسول پاک کی پہچانِ نعت ہے


الفت نبی کی آل سے پیمانِ نعت ہے


ہم سےزمانے بھر کی خزائیں ہیں دور دور


قدسی بلائیں لیتے ہیں اس خوش خیال کی
ہم پر سدا سے رحمت -باران -نعت ہے


جس آدمی کے پاس بھی سامانِ نعت ہے


تب سے ہوئی ہے ختم ہماری فسر دگی


مال و متاع دولتِ دنیا و آخرت
آباد جب سے محفل -یاران -نعت ہے


جو کچھ بھی میرے پاس ہے فیضانِ نعت ہے


امشب دھلیں گے داغ دل- بے قرار کے


منظر درِ حبیب کا کیسے بیاں کروں
امشب ہمارے دل میں جوارمان -نعت ہے


تنکا در رسول کا مژگانِ نعت ہے


آبا ترے بھی مد ح سرا عمر بھر رہے


لو لاک کا ہے معنی و مفہوم یہ کھلا
عثمان تو بھی ابن- غلامان -نعت ہے


جو کچھ ہے کائنات میں سامانِ نعت ہے
===== [[عدنان حسن زار]]، [[ گوجرنوالہ]]، [[پاکستان]] =====
مدحِ نبی جو کرتا ہوں، فیضانِ نعت ہے


مجھ بے ہنر پہ کیسا یہ احسانِ نعت ہے


ناصح نظر اٹھا کے زرا کائنات دیکھ


" ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
کہتے ہیں لوگ مجھ کو ثناخوانِ مصطفی


===== [[مرزا حفیظ اوج]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
ہاتھوں میں میرے خیر سے دامانِ نعت ہے
اصل الاصول بندگی عرفانِ نعت ھے


یارب وہ فکر دے کہ جوٰ شایانِ نعت ھے


اس میں سمائی رہتی ہیں نعتیں حضور کی


یہ رفعتِ خیال ، یہ پاکیزگئ فکر
دل میرا صرف دل نہیں، جُزدانِ نعت ہے


مدحت سپاس ذوق یہ، فیضانِ نعت ھے


رفعت ہے ان کے ذکر کی عالم میں چار سو


ہر شعبۂ حیات ترے لطف کا رہین
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ھے


میں بھی کھڑا ہوں روضۂ اقدس کے سامنے


سرسبز و شاد رکھے خدا اہلِ عشق کو
وردِ زباں درود ہے، بارانِ نعت ہے


عشاق کی زبان گلستانِ نعت ہے


میرے سخن نواز کی ذرٌہ نوازیاں


اپنی تو جستجو کا خلاصہ یہی ہے اوج
مرقوم ذہن و دل میں بھی برہانِ نعت ہے


جو کچھ ھے کائنات میں امکانِ نعت ھے


===== [[مسعود ساموں]]، [[بانڈی پورہ]]، [[ کشمیر ]]، [[انڈیا]] =====
الحمد ابتداء ہے تو والناس انتہا


حسن خیال سلسلہ جنبان نعت ہے
قرآن سارا دیکھیے سامانِ نعت ہے


اک سلسلۂ نور بدامان نعت ہے


شکرِ خدا کہ زارؔ کو نعمت ہے یہ ملی


اسوہ جنابؐ کا جو حسن ہے تو لازماً
حاصل مرے قلم کو بھی عنوانِ نعت ہے


’’ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے‘‘
===== [[عدنان محسن]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


آنکھوں میں اشک، سینے میں ارمانِ نعت ہے


ہاں اے سمند شوق سنبھل کر قدم بڑھا
مجھ بے نوا کے پاس یہ سامانِ نعت ہے


آساں نہیں یہ جادۂ پیچان نعت ہے


ہر راہ ہے مدینے کی جانب رواں دواں


ہشیار خامہ! سجدے میں لغزش کوئی نہ ہو
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہاں چل کشاں کشاں یہ خیابان نعت ہے


عمران نے لکھی تھی جو خیرالوریٰ کی نعت


ملحوظ انتہاے ادب رکھ جنابؐ میں
وہ مرتبے میں سورۂ رحمٰنِ نعت ہے


شان نبیؐ کا ذکر ہے ایوان نعت ہے


نوحہ ہو مرثیہ ہو مناقب ہوں یا سلام


نیچی نگہ خمیدہ بدن چشم باوضو
حمدِ خدا کا فیض ہے،فیضانِ نعت ہے


لرزیدہ جاں ہو ہاں یہی شایان نعت ہے


اس دل پہ جاری رہتا ہے الہام کا ورود


ساموںؔ ثنا کے پھول عقیدت کی پتّیاں
یہ عام دل نہیں کہ یہ جز دانِ نعت ہے


پاے نبیؐ میں رکھ یہی سامان نعت ہے


بشکریہ : غلام فرید واصل
اعمال کی ترازو ہے لوگوں کے واسطے


===== [[مشاہد رضا عبید]]، [[گوندا]]، [[انڈیا]] =====
اور شاعروں کے باب میں میزانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد مشاہد رضا عبید القادری


درمانِ درد نغمۂ ذی شانِ نعت ہے


قلبِ حزیں فدائے اسیرانِ نعت ہے
اس وقت ہے جدا مری سانسوں کا مرتبہ


تسبیح یہ وجود کی دورانِ نعت ہے


يارب! کبھی یہ دور و تسلسل نہ ختم ہو


بے پایاں دل میں جذبہ وارمانِ نعت ہے
بادل برس رہے ہیں محمد کے شہر پر


بارش نہیں جناب یہ بارانِ نعت ہے


عشقِ رسول خود ہی بناتا ہے راستے


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
عاصی ہوں نعت گوئی کا یارا نہیں مجھے


میرا سخن تمام ثنا خوانِ نعت ہے


پیارے رضا نےکرکے یہ سب کو دکھادیا


ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
یثرب میں نینوا کا مسافر ہے خیمہ زن


اک شعر جو سلام کا مہمانِ نعت ہے


جس کو نہ چھوسکےکبھی بادِ خزاں کاہاتھ
اس وقت میری صدق بیانی پہ شک نہ کر


ایسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے
اس وقت میرے ہاتھ میں قرآنِ نعت ہے


===== [[عرش ہاشمی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
لب پرسخن ہےاور بعنوان نعت ہے


یونہی نہیں امڈ پڑی یہ کائنات عشق
ماءل کرم پہ سرور و سلطان نعت ہے


کوثر بداماں چشمۂ حیوانِ نعت ہے


اک نعت کہہ کے اور بھی میلان نعت ہے


ہر درد بھول کر جو مچلنا ہوا نصیب
کیسا کرم ہے خاص، یہ فیضان نعت ہے


محبوبِ رب کا صدقہ ہے، فیضانِ نعت ہے


جز مدحت نبی، نه لکھے گا  کوئی سخن


دل جگمگارہے ہیں ، چمکتے ہیں حوصلے
میرے قلم کا مجھ سے یہ پیمان نعت ہے


روشن یہاں پہ شمعِ شبستانِ نعت ہے


قرطاس اور قلم کا شرف مدحت رسول


راحت رساں ، قرار نشاں ، مرحمت فشاں
فکر سخن کو، نطق کو ارمان نعت ہے


کیا دل نواز نغمۂ مرغانِ نعت ہے


کامل ہدایت ا'پ کا اسوہ ہے اسقدر


رزقِ ثنا میں حصہ ہمارا بھی ہے عبید
''ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے''


از فرش تا بعرش سجا خوانِ نعت ہے


===== [[مشاہد رضوی]]، [[میلگاؤں]]، [[انڈیا]] =====
ان کی عطا، سلام و مناقب کے سلسلے
میرے لبوں پہ نغمۂ ذیشانِ نعت ہے


"ہر گوشۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
خالق کی حمد بھی ہے یہ، کیا شان نعت ہے




میرے شعور و فکر کو بالیدگی ملی
ایماں کی جان ہے جو محبت حضور کی


لاریب مجھ پہ دوستو فیضانِ نعت ہے
ہاں اس کے جانچنے کو یہ میزان نعت ہے




اس کی نجات کے لیے ساماں بنے گی نعت
ماہ صیام کا ذرا فیضان دیکھیے


جس کو ہوا نصیب سے عرفانِ نعت ہے
خود 'گوشہ ادب' ہے کہ ایوان نعت ہے  




ظاہر کے ساتھ ہوگیا باطن بھی مستنیر
ہان عرش کو ہے اپنی خطاؤں کا اعتراف
جس کا خیال و فکر ہی عنوانِ نعت ہے


لیکن یه ہے کہ پیرو حسان نعت ہے


روزِ ازل سے بالیقیں ایقان ہے مرا
===== [[عرفان صادق]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
ان کا کرم ہے مجھ کو جو عرفان نعت ہے


پھولا پھلا ہمیشہ خیابانِ نعت ہے
میرا تو لفظ لفظ غلامان نعت ہے




ہر ہر ورق پہ نقش ہے سیرت حضور کی
صد شکر میرے دل میں ہے اسم نبی کھلا


قرآنِ پاک سارا دبستانِ نعت ہے
صد شکر میرے ہاتھ میں دیوان نعت ہے




مجھ پر ہوئی حضور کی لاکھوں عنایتیں
بس شرط یہ کہ حب نبی دل کے پاس ہو


ہاتھوں میں میرے خیر سے دیوانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے




دیدارِ مصطفیٰ ہو میسر خدا کرے
بتلا دیا ہےحضرت حسان نے ہمیں


اس خواب کے لیے مجھے ارمانِ نعت ہے
جنت کا راستہ تو خیابان نعت ہے




مضمونِ نعت میں نہ ہو کچھ بھی مبالغہ
آنکھیں ہیں یا کہ گنبد خضرا کا عکس ہیں
باہوش رہ کے چلیے یہ میدانِ نعت ہے


دل ہے کہ میرے سینے میں گلدان نعت ہے


مجھ پہ رضا کے حُسنِ تخیل کی ہے عطا


حاصل جو مجھ کو ہوگیا وجدانِ نعت ہے
کرب و بلا سے آتی ہے صلی علی کی گونج


صحرا میں جو کٹا تھا گلستان نعت ہے


اہلِ وِلا کا پیار مُشاہد کو جو ملا


سچ پوچھیے تو اس پہ یہ احسانِ نعت ہے
سوچیں تو اپ کے لیے کن کی صدا لگی


===== [[مصعب شاہین]]، [[میانوالی]]، [[پاکستان]] =====
دیکھیں تو ساری دنیا ہی ایوان نعت ہے
یزداں کا خاص فضل ہے, میلانِ نعت ہے


'ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے'


کتنے ہی شاعروں نے کہا اس زمین میں


احساس, لفظ, لہجہ و گفتار عنبری
اتنی کشادگی ہے یہ دامان نعت ہے


کیونکر نہ ہونگے؟دل جو گلستانِ نعت ہے


ان کے طفیل سے کٹا پہچان کا سفر


انؐ کی ثنا کے نور سے روشن مرا سخن
عرفان ذات اصل میں عرفان نعت ہے


الحمد, بزمِ فکر, قلمدانِ نعت ہے
===== [[عرفان نعمانی]]، [[راجھستان]]، [[انڈیا]]=====
اے دل تجھے نصیب جو باران نعت ہے


مخصوص تجھ پہ یہ بھی تو فیضان نعت ہے


عشقِ نبیِ پاکؐ رگ و پے میں ہے مرے


جاں میں بصورتِ لہو اک کانِ نعت ہے
رضواں کرے طواف ملک جس کی آرزو


صد رشک خلد تو وہ بیابان نعت ہے


کلیاں چٹک رہی ہیں بہ الفاظِ خوشنما


صبحِ گمان سیرِ خیابانِ نعت ہے
تجھ کو خدا رکھے ہمیں رکھے ترا اسیر


ہم رندوں کی دعا یہ خمستان نعت ہے


پاکیزہ قلب, پاک تخیل, طہور لفظ


اسلوبِ خوش بیان ہی شایانِ نعت ہے
گلہائے وصف شہ سے مزین ہے میرا دل


میں سوچتا ہوں دل ہے کہ گلدان نعت ہے


اوجِ ادب ہے, وجد ہے, سرمستِ عجز ہوں


سرشارِ اطمینان ہوں, فیضانِ نعت ہے
صبر و قرار پنہاں ہے وصفِ حضور میں


تسکینِ روح و دل تہہ دامانِ نعت ہے


کرتا ہے آبیاریِ گلزارِ مصطفیٰ ؐ


مصعب, تو خوش نصیب ہے, دہقانِ نعت ہے
لفظوں کی کائنات بھی تنگ جس جگہ
وہ نعت کی زمیں ہے وہ میدان نعت ہے


===== [[مطلوب الرسول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
حاصل جو کائنات کو میلان نعت ہے


ہرشعبہء حیات میں امکان نعت ہے
مدح نبی کے فیض سے صد شکر دل مرا


فارس ہے روم شام ہے ایران نعت ہے


لازم نہیں زبانِ قلم سے کریں بیاں


ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
دل جس پہ وحی نعت اترتی ہے اس کے تو


ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے


محتاط اہل فن کہ ہے دربار نعت یہ


ان کا ادب ہی اصل میں دربان نعت ہے
ہر لمحہ یہ خیال رہے تجھ کو اے قلم


عشق و ادب خلوص وفا جان نعت ہے


وہ دل بھی اک طرح سے مدینہ ہے دوستو


جس دل میں صبح وشام ہی ارمان نعت ہے
حسنین فاطمہ علی عثماں عمر عتیق


ہر ایک شاخ نخل گلستان نعت ہے


حسان ہوں یا عرفی وجامی ہوں یا رضا


جذب و وفورو شوق ہی میزان نعت ہے
اشعار نعت ہوتے ہیں افطار و سحری میں


ہم روزہ داروں کے لئے رمضان نعت ہے


رحم وکرم، مروت و جود وسخا و صدق


سیرت پہ گفتگو ہی توجزدان نعت ہے
مولیٰ شعور نعت دے مجھ کو کہہ سکوں


عرفان تو بھی صاحب ِ عرفان نعت ہے


محبوب کوخبرہے کہ عاشق ہے کون کون
===== [[عرفی ہاشمی]]، [[ آسٹریلیا]] =====
مکمل نام : سید عرفی ہاشمی


ان کی نظر میں ہوں کہ یہ احسان نعت ہے
بتلاؤں تجھ کو کیا حد عرفان نعت ہے


میرا خدا بھی قارئ قرآن نعت ہے


یا ایھاالمزمل و یا ایھاالنبی


قرآن بھی تو دیکھو گلستان نعت ہے
دین سخن میں ایک ہی مسلک رہا مرا


جو شعر بھی کہا ہے مسلمان نعت ہے


ہرلفظ میری سوچ کا خوشبو میں ڈھل گیا


میں کیوں نہ مان لوں کہ یہ فیضان نعت ہے
عشق نبی سے لکھی گئیں ہیں نبوتیں


پیغمبری دراصل قلمدان نعت ہے


شق قمر ہو اسری ومعراج ہویا حسن


ان کا ہرایک معجزہ ہی جان نعت ہے
موزوں وہ کررہے ہیں مرا مصرعہ نجات


اب تو مرا نصیب بھی دیوان نعت ہے


حب نبی سے خالی ہو دل جس کا اے قمر


اس کو کہاں خبر ہو وہ کیا جانے نعت ہے
سین بلال اس لئے افضل ہے شین سے


===== [[مظہر فرید بابا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
لکنت زبان عشق کی جزدان نعت ہے
میں کیا بتاؤں یارو کیا شان نعت ہے


قرآنِ پاک سارا سامانِ نعت ہے


موقوف جسم و جاں ہے کہاں مدح مصطفے


مجھ پر کرم ہوا ہے جو یہ نعت لکھ رہا ہوں
نیزے پہ جو بلند ہے قرآن نعت ہے


ورنہ کہاں یہ عاصی، کہاں تانِ نعت ہے


کچھ اسلیے بھی تجھ سے تعلق نہیں رہا


آقا کی ہر ادا ہے معراجِ آدمیّت
اے جہل نفس جاں مجھے عرفان نعت ہے


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


میرے گنہ اِدھر،اُدھر اللہ کا کرم


دل سے پڑھو درود محمد کی ذات پر
اور درمیاں میں عرصہء امکان نعت ہے


مظہر درود پاک ہی تو جانِ نعت ہے


===== [[مفتاح الحسن چشتی]]، [[فافوند]]، [[انڈیا]] =====
آوارگی نہیں یہاں ہجرت کا ظرف لا
سرکار کا کرم ہے یہ احسانِ نعت ہے


ہمراہ میرے ہر گھڑی فیضانِ نعت ہے
دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے




کردار کہہ رہا ہے یہ اصحابِ شاہ کا
کاغذ پہ جو لکھا ہے اسے نعت مت سمجھ


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
پلکوں پہ جو نمی ہے وہی جان نعت ہے




کھلنے لگے ہیں روز ہی چمپا سمن گلاب
جسمیں خدا نے رکھے ہیں خود آیتوں کے پھول


جب سے زمین قلب پہ بارانِ نعت ہے
ایسا بھی ایک دہر میں گلدان نعت ہے


===== [[عروس فاروقی]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : ابو الکمال عروس فاروقی


ہر واصفِ حضور نے آخر میں یہ کہا
عشقِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


قرآں میں ان کا ذکر ہی شایانِ نعت ہے
ایمان ہے یہی، یہی وجدانِ نعت ہے




خورشیدِحشرسُن،ہمیں آنکھیں نہ تودکھا
آقا! مجھے بھی حرفِ عقیدت عطا کریں


سر پر ہمارے سایہء دامانِ نعت ہے
آقا! مجھے بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے




میں ہند میں ہوں ذہن ہے دربارِ شاہ میں
’’لایمکن الثناء کما کان حقہ‘‘


مجھ پر خدا کا فضل یہ دورانِ نعت ہے
کہہ سکتا ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے




محوِ ثنائے سیدِ عالم ہے روز و شب
محبوبِ کائنات کی نعتوں کی گونج ہے


رب کی عطاسےجسکوبھی عرفانِ نعت ہے
میدانِ حشر ہے کہ یہ ایوانِ نعت ہے




لغزش ہوئی ذرا سی تو ہو جاؤ گے ہلاک
لے آئے تم ورق بھی، قلم بھی، دوات بھی


مفتاح ہوش باش یہ میدانِ نعت ہے
لیکن بتاؤ کیا یہی سامانِ نعت ہے


===== [[مقصود احمد]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
نطق و قلم کو میرے بھی ارمانِ نعت ہے


لیکن نصیب کب مجھے عرفانِ نعت ہے
اپنا ہر اک مہینہ ہے اُن کی ثنا کے نام


شعبانِ نعت ہے  کوئی رمضانِ نعت ہے


توصیف کے کھلے ہوئے ہیں گل سطر سطر


قرآن رب کا سارا گلستان ِ نعت ہے
محدود کیجیے نہ زبان و بیان تک


’’ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


بھرتے رہیں گے تا با ابد عاشقِ رسول


پھیلا ہوا ازل سے جو دامانِ نعت ہے
نور و سرور پھوٹتا ہے لفظ لفظ سے


مصرع ہے یا قطارِ چراغانِ نعت ہے


ارض و سما بھی کرتے ہیں ان کی ثنا بیاں


ساری یہ کائنات بھی عنوان ِ نعت ہے
تھا آشنائے طرزِ تکلُّم عروسؔ کب


حاصل ہے جو کمال بفیضانِ نعت ہے


ہر ذرہء زمیں پہ عنایت ہے آپ کی
===== [[عطاء المصطفٰی]]، [[سانگھڑ، سندھ]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : سید عطاء المصطفٰی


"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"
مصرع سنا ہے جب سے، تو ارمانِ نعت ہے


'' ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے ''


خالق بھی ہمنوا ہے ہمارا اسی طفیل


ہم عاشقوں پہ خاص یہ احسانِ نعت ہے
نم آنکھ ، ہاتھ کانپتے ، تو سر، نِگوں مِرا


اور قلبِ بے قرار ، یہ سامانِ نعت ہے


کیسا ہی کوئی کیوں نہ ہو ماہر سخن طراز


مت جانو معتبر اگر انجان ِ نعت ہے
ہیں چند لفظ مدحتِ سرکار میں گُندھے


عاصی کے پاس کب  کوئی دیوانِ نعت ہے


پا جاتے ہیں نمو مرے فکر و خیال بھی


ہر دم برستا مجھ پہ جو بارانِ نعت ہے
اس زندگی میں جو بھی میسر ہوا مجھے


سرکار کا کرم ہے سبھی دانِ نعت ہے


نوک ِ قلم پہ آتے ہیں الفاظ غیب سے


مقصود اور کیا ہے ، یہ فیضان ِ نعت ہے
مجھ سے اگر سنو تو سنو بس درودِ پاک


===== [[مقصود علی شاہ]]، [[برمنگھم]]، [[برطانیہ]] =====
ہمراہ قبر میں مرے سامانِ نعت ہے
مکمل نام : سید مقصود علی شاہ


ویسے تو ساری عمر ہی قُربانِ نعت ہے
===== [[عظیم راہی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
جب مقصدِ حیات ہی پیمانِ نعت ہے


واللہ پھر بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "




سانسیں بدن میں سطریں ہیں مدحِ رسول کی
جاری ازل سے چشمۂ فیضانِ نعت ہے


سامانِ زیست ہی مرا سامانِ نعت ہے
فردوس ایک کنجِ گلستانِ نعت ہے




ہم سارے اُس کے در کی سلامی کو آئے ہیں
وہ گام زن رہے گا رہِ مستقیم پر


حسّان ایک ہے، جو کہ دربانِ نعت ہے
ہاتھوں میں جس کے گوشۂ دامانِ نعت ہے




بس ایک حاضری کا سبب ہے، جو خُوب ہے
صورت ہے ان کی آئنۂ حسنِ کردگار


ورنہ تو کون ہے جسے عرفانِ نعت ہے
اور سیرتِ مطہرہ قرآنِ نعت ہے




سو سو طرح سے اُن کے کرم کے ہیں سلسلے
ذکرِ حبیب ذکرِ محب سے الگ نہیں


مجھ پر مرے کریم کا فیضانِ نعت ہے
اللہ کی طرف سے ہی فرمانِ نعت ہے




سب اہلِ دل ہی جیسے اُسی کی پنہ میں ہیں
جو شان بھی میں لکھّوں وہ اس بے مثال کے


کتنا سُخن نواز یہ دامانِ نعت ہے
شایانِ شاں نہیں ہے،یہی شانِ نعت ہے




مہکے ہیں چار سُو نئے رنگوں کے زمزمے
گھبراتے کیوں ہو؟ دیکھو تو میزان کی طرف


برسی زمینِ شوق پہ بارانِ نعت ہے
راہی تمہارے پلڑے میں دیوانِ نعت ہے


===== [[علی احمد نظامی]],[[سدھارتھ نگر]],[[بھارت]] =====


ہر صبحِ نو کی پہلی کرن سے یہی کھُلا
پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]


"ہر شُعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


صدقہ نبی کا مل گیا,فیضانِ نعت ہے


پھر سے جو حاضری کا بُلاوا ہُوا مجھے
مشکل تو ہے بہت مگر ارمانِ نعت ہے


ممنونِ نعت پر بڑا احسانِ نعت ہے


فضلِ خدائے پاک سے یہ دیکھ لیجیے


تھامے ہیں اپنی اپنی کتابِ عمل تمام
میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے


مقصود میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
===== [[میرزا امجد رازی]]، [[پاکستان]] =====
بندہ کہ فردِ نسلِ گدایانِ نعت ہے


پہچاں مری قبیلۂ حسّانِ نعت ہے
میری کہاں مجال کہ نعتِ نبی لکھوں


یہ صدقہِ رسول ہے احسانِ نعت ہے


ہر اِک جہاں کی غایتِ اولیٰ حضور ہیں


ہر اِک ظہور حجّت و برہانِ نعت ہے
ہوں حضرتِ بلال یا سلمان فارسی


سب کی زباں پہ نغمہِ ذیشانِ نعت ہے


ہے شاخ شاخ بلبلِ سدرہ طواف میں


مصحف خدا کا گلشنِ الوانِ نعت ہے
اہلِ غزل سے کہہ دو کہ خاموش ہی رہیں


سب سے بلند شانِ غلامان نعت ہے


اِک رمزِ" قُلْ"نےکھولاہےمجھ پریہ بابِ کشف


توحید عیشِ جلوۂ سامانِ نعت ہے
کیا لطف ہو کہیں جو نکیرین قبر میں


تیرا نجات نامہ یہ دیوان نعت ہے


ہر "خطِّ سرنَوِشت " کا عنوان ہے یہی


ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے
شامل نظامی نصرتِ سرکار ہو اگر


,,ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


جس کو لہو لہو کرے سجدے میں تیغِ ہجر
===== [[علی ایاز]]، [[کبیر والہ]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد علی ایاز


وہ دل شہیدِ مصحفِ عثمانِ نعت ہے
مجھ پر ایاز اس طرح احسانِ نعت ہے


میری تو ساری زندگی عنوانِ نعت ہے


اِک " وصفِ لاتناہی " کہ جملہ صفات میں


سُن لو سخنورو کہ یہی جانِ نعت ہے
ہر سمت سے ہے آ رہی خوشبو کمال کی


میرا خیال ہے کہ اب امکانِ نعت ہے


یعقوبِ فکر کو مری آنکھیں نہ کیوں ملیں


لفظوں میں بوۓ یوسفِ کنعانِ نعت ہے
عشقِ رسول کے سوا ممکن نہیں کبھی


آنا سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


کس نے کہا کہ چاہیے آزادئ سخن


دل تو ہمارا قیدئ زندانِ نعت ہے
اللہ کا کرم ہے, نگاہِ کرم میں ہوں


ترتیب دے رہا جو میں دیوانِ نعت ہے


رازی وزیر ملکِ سخن میں ہوں اُس کا میں


احمد رضا وہی کہ جو سلطانِ نعت ہے
الفاظ ہیں اتر رہے تسنیم سے دھلے


===== [[نادر صدیقی]]، [[بوریوالا]]، [[پاکستان]] =====
آمد کا سلسلہ تو یہ شایانِ نعت ہے


قرآن پاک مطلع ِ دیوانِ نعت ہے


اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
جب آپ کائنات کے رحمت نبی ہیں, سو


"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


یہ خوش نصیب حافظ ِ قرآن ِ نعت ہے


کیسا فقیر ِ نعت پہ احسانِ نعت ہے
نورو تجلیات کی بارش سی ہو رہی


مجھ پر کرم خدا کا یہ دورانِ نعت ہے


صدشکر امتی ہے مسلمانِ نعت ہے


مجھ سا گدا غلامِ غلامانِ نعت ہے  
کہہ دیجیے حضور کہ تجھ کو امان ہے


سمجھوں گا میں ایاز یہ فیضانِ نعت ہے


کیسا حسین خانہءِ عرفانِ نعت ہے
===== [[عقیل عباس جعفری ]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====


حسان ہے کہ بوذر و سلمانِ نعت ہے
روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے


" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


جس کو رسولِ پاک نے منبر عطا کیا


حسانِ نعت ہے وہی سلطانِ نعت ہے
میری رگوں میں بھی ابوطالب کا ہے لہو


===== [[ناصر حسین راضی]] , [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
میری ہر ایک سانس پہ فیضانِ نعت ہے


بشکریہ : [[ریاض قادری ]]


عرش علی پہ جب ہوا پیماں نعت ہے
جبریل ہوں کہ ہم سے فقیرانِ بے نوا


لاگو ہوانمود پہ فرمان نعت ہے  
سایہ فگن ہر ایک پہ دامانِ نعت ہے




خود خالق حیات توسلطان نعت ہے
اے کاش اس فقیر کو بھی ہو کبھی عطا


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے  
اک حرف جس کو سب کہیں "شایانِ نعت ہے"




ہونٹوں پہ ہیں سکوت کے پہرے لگے مگر
جو کربلا میں خون سے لکھا حسین نے


دھڑکن یہ کہہ رہی ہے کہ میلان نعت ہے  
ہر دل میں جاگزیں وہی دیوانِ نعت ہے




ہم کشتگاں کی جملہ تشفی کے واسطے
منکر نکیر لوٹ گئے، کتبہ دیکھ کر


صلی علی نے کردیا درمان نعت ہے  
لکھا تھا " یہ گدائے خیابانِ نعت ہے"


عرفانِ نعت جس کو بھی حاصل ہوا عقیل


مہکی حضوریاد کی خوشبو شعور میں
عمرانِ نعت ہے وہی حسانِ نعت ہے


میلادجاں سے بن گیا گلدان نعت ہے
===== [[عقیل ملک]]، [[پنڈی گھیب]]، [[پاکستان]] =====


میلانِ حمد اصل میں میلانِ نعت ہے


محشر میں اپنی تنگی داماں کے خوف سے
باطل کی جانچ کے لیے میزانِ نعت ہے


پکڑابڑے وثوق سے دامان نعت ہے


آقا نے کہہ دیا کہ ستارے ہیں پنجتن


اس کردگار شوق نے قرآں میں جو کیا
یعنی کہ ان کا نام ہی عُنوانِ نعت ہے


وہ اعتراف شوق ہی شایان نعت ہے


اشعار بن رہے ہیں طلسمِ مہ و نجوم


تلخابہ حیات کی مستی کے واسطے
کیسا سجا سجایا شبستانِ نعت ہے


نازل ہوا حضور پہ دیوان نعت ہے


لفظوں سے آشنا ہو پہ مدحت سرا نہ ہو!


بدرالدجی کا نور ہے ہر سمت جلوہ گر
یہ بھی مری نگاہ میں کفرانِ نعت ہے


پھیلاہوادیارمیں فیضان نعت ہے


محنت کشِ خیال کا رتبہ ہے بالا تر


نیرنگئ خیال کو عرفان ہوا نصیب
میرا قلم اسی لیے دہقانِ نعت ہے


قرطاس جاں پہ جب ہوا احسان نعت ہے


تزئینِ دشتِ لفظ کو پاکیزگی ہے شرط


اکرام لطف کیجئے راضی کو بھی عطا
عالِم اسے کہیں جسے عرفانِ نعت ہے


اک روسیاہ کے دل میں بھی ارمان نعت ہے


دھڑکن کے داؤ پیچ میں پنہاں ہے رمزِ عشق


صاحبزادہ ناصر حسین راضی فیصل آباد
دل کا توازن اب سرِ اوزانِ نعت ہے


===== [[ناہید اختر بلوچ]]، [[ڈیرہ اسماعیل خان]]، [[پاکستان]] =====
دل میں کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے


لفظوں پہ دم بہ دم مرے بارانِ نعت ہے
ایسی نوازشات میسر کسے عقیل


دشتِ عرب کی گرد بھی لوبانِ نعت ہے


لب پہ درود ،عشقِ نبی دل میں موجزن
===== [[عقیل ہاشمی]]، [[حیدرآباد]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر عقیل ہاشمی


آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے
ایماں کی ہے نوید کہ احسان نعت ہے


ہرشعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ


جا کے خدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے
توقیر بندگی ہے کہ تسبیح قرب حق


یانعمت الہی بعنوان نعت ہے


قسمت مری سنور گئی ان ﷺ کا کرم ہوا


ان کا کرم ہوا تو یہ فیضانِ نعت ہے
شرح صدر کی بات ہے نسبت کہوں جسے


حب رسول ہاشمی فیضان نعت ہے


تُو عشقِ مصطفیٰ کو سخن کا امام کر


یہ عشقِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے
لاریب ہےدرود و سلاموں کا سلسلہ


مدح و ثنا کے واسطے سامان نعت ہے


مجھ کو عطا ہو صدقہ ءِ حسان یا رسول


سرکار میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے
توصیف شاہ کیسی بھلا کس کی ہے مجال


حق کا کلام دیکھے شایان نعت ہے


ناہید شعر گوئی پہ موقوف تو نہیں


”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
نورانی ساعتوں کا اسے اعزاز مل گیا


===== [[ناہید ورک]]، [[مشی گن]]، [[امریکہ ]] =====
روح القدس کی پشتی کہ عرفان نعت ہے


سردارِ کائنات ہی سلطانِ نعت ہے


پڑھ لو درودِ عشق یہی جانِ نعت ہے
وجہ نجات ہے بخدا اسوہء رسول


وہ پیروی کرے جسے ارمان نعت ہے


کیا حقِ بندگی ہو ادا ان حروف سے


محبوب کی ثنا میں تو قرآنِ نعت ہے
آیات نعت کا وہ کرے ورد صبح و شام


خوش قسمتی سے جسکو بھی ارمان نعت ہے


تلقین گونجتی ہے سماعت میں روز و شب


تخلیقِ کائنات ہی شایانِ نعت ہے
فرد عمل نہ دیکھ خدایا بروز حشر


میرا وسیلہ بس میرا دیوان نعت ہے


ہر اک نبی ہے لائقِ تحسین، ہاں مگر
اتناہی جانتاہےتراہاشمی عقیل


بِن آپ ﷺ کے ہے کون جو پہچانِ نعت ہے
لکھاقلم نےلوح پہ اعلانِ نعت ہے


===== [[علی شاہد]] ، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====


بادل کا ٹکڑا سایہ کرے مجھ پہ بھی حضور ﷺ
میرا نہ کوٸی لفظ بھی شایان نعت ہے


پھر میں بھی کہہ سکوں گی یہ فیضانِ نعت ہے
قرآن جس کی شان میں دیوان نعت ہے




ہے پاس لا الٰہ بھی ، صل علٰی بھی پاس 
مل کر درود بھیجو محمد ﷺ کی شان پر
                                                         
یعنی کہ میرے پاس تو سامانِ نعت ہے


ربِ کریم کا بڑا احسان نعت ہے


پیشِ نگاہ آپ ﷺ کی توصیف ہے مگر


ناہیدؔ کیا تجھے ذرا عرفانِ نعت ہے؟
صبحِ طلوع نے مجھے آکر یہی کہا


===== [[مظہر حسین مظہر]]، [[میلسی]] =====
ہر شعبہ ٕ حیات میں امکان نعت ہے
تازہ ہر ایک دور میں عنوان نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


اب ڈر نہیں ہے کوٸی بھی محشر کےروز کا


الفاظ کی گرفت میں آتا نہیں کبھی
محشر کو بھی شفاعتِ سامان نعت ہے


شاعر پہ وجدو کیف جو دوران نعت ہے


کر دو منادی میرے محمدﷺ کے نام کی


گم کردہ حواس ہیں رومی و بایزید
بخشش کا ہے وسیلہ یہ اعلان نعت ہے
اے عشق احتیاط یہ میزان نعت ہے




امروز بھی "حدائق بخشش" کے روپ میں
ہر لفظ کی زباں پہ ہے سرکار التجا


روشن جہاں میں شمع شبستان نعت ہے
ہر لفظ کو فقط یہی ارمان نعت ہے




'نہج البلاغہ' شرح فرامین مصطفے
پڑھتا ہوں ہر گھڑی میں درود و سلام ہی


قرآن بھی حضور کا دیوان نعت ہے
شاہد مرے اثاثے میں اب دان نعت ہے


===== [[علی شیدا]]، [[کشمیر]]، [[انڈیا]] =====
قُرآن پڑھ کے دیکھ ' دبستانِ نعت ہے


اقبال ہو حفيظ ہو محسن ہو یا حسن
خوشبوئے حرف و لفظ میں اعلانِ نعت ہے


ہر ایک اپنے دور کا حسان نعت ہے


مضمونِ ہست و بود ہے کُن کی گرفت میں


کیوں کر نہ مشکبار ہو گلدستہ حروف
مضمونِ کُن فکان ' وہ عنوانِ نعت ہے


مہکا خیال و فکر میں بستان نعت ہے


دھڑکن' نفس' نگاہ ' سماعت کہ صوتیات


ہر خوشہ خیال بھرا ہے درود سے
"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


جب سے قلم کو ہوگیا عرفان نعت ہے


تمہیدِ حرف و لوح و قلم صنفِ لامکان


اے فکر پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدم
تجسیمِ کائنات بھی جزدانِ نعت ہے


ایوان نعت ہے یہ دبستان نعت ہے


امید ' روزِ حشر ہو بخشش کی اور کیا


اے کاش ان کی شان کے شایان لکھ سکے
زنبیل خاکسار میں سامانِ نعت ہے


مظہر وجود عشق میں ارمان نعت ہے


===== [[ندیم نوری برکاتی]]، [[ممبئی]]، [[انڈیا]] =====
ادراک میں سمائے کہاں حسنِ لا مثال
اک بے ہنر ہے اور قلمدانِ نعت ہے
سرکار وہ لکھائیں جو شایانِ نعت ہے


حیرت جو منکشف ہے یہ وجدانِ نعت ہے


انکی تو ذاتِ پاک ہے سر چشمۂ کمال


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
شیدا جو مدح خوانِ محمد لقب ملا


انعامِ لا یزال ہے ' احسانِ نعت ہے


آداب عشق عاجزی سیرت و معجزات
===== [[علی قائم نقوی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مجھ بےنوا پہ نعت بھی احسانِ نعت ہے
ملحوظ رکھئے اس کو یہی جانِ نعت ہے


ورنہ خدا کی ذات ہی شایانِ نعت ہے


شکرِ خدا کہ زیست رہی ہے غزل سے دور


میری متاعِ زندگی قربانِ نعت ہے
گر عشقِ بُوتراب ہی سامانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


اک نگہِ التفات ہو مجھ سے فقیر پر


آقا حضور مچھ کو بھی ارمانِ نعت ہے
کعبے کی سمت بھی میں مدینے سے آیا ہوں


لکھتا ہوں میں جو حمد یہ فیضانِ نعت ہے


احسان آپ کا ہے کرم آپ کا حضور


ورنہ کہاں گنوار کو عرفانِ نعت ہے
مکہ سے کربلا اسے عمران لائے تھے


کربل سے پھر حُسین۴ نگہبانِ نعت ہے


دل بے قرار, دیدۂ تر , وردِ لب درود
کیا کیف کیا سرور سا دورانِ نعت ہے


اک اہلیبیت۴ چھوڑے ہدایت کے واسطے


عزت بھری نگاہ سے تکتے ہیں مجھ کو لوگ
دوجا یہ تیس پاروں کا دیوانِ نعت ہے


نوری یہ اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
===== [[علیم اطہر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====


===== [[نسرین سید]]، [[اونٹاریو]]، [[کینیڈا]] =====
تخلیقِ کائنات ہی  احسانِ نعت ہے


گردوں ہے وجد میں، تو یہ وجدانِ نعت ہے
مجھ پہ کرم ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے  


میرے جنون کو بھی تو عرفانِ نعت ہے


اُنﷺ کی ثنا میں حرفِ گُماں کا گزر کہاں؟


قرآنِ بالیقین جب  اعلانِ نعت ہے
الفاظ باوضو ہیں، تخیّل مدینے میں


میرے قلم کی نوک میں وجدانِ نعت ہے


آنکھوں میں اشک، سینے میں رقت ہو موجزن


پھر دل میں اُنﷺ کا عشق، ہی سامانِ نعت ہے
ہونٹوں پہ وردِ صلّی علٰی، دل سکون میں


اور چشمِ تر میں تیرتا سامانِ نعت ہے


رکھو جو انﷺ کی سیرتِ کامل کو سامنے


" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
کافر جو نعت کہتا ہے اس کو مرا سلام


دراصل دل بھی اس کا مسلمانِ نعت ہے


لاؤں کہاں سے لفظ جو شایانِ شان ہوں


اشکوں سے ہو بیاں، اِنہیں عرفانِ نعت ہے
رک جائے ساری گردِشِ دوراں سنے وہ نعت


وہ لمحہ جاوداں ہے  جو دورانِ نعت ہے


یہ عجزِ بے پناہ ، میسر جو دل کو ہے


یہ کیف ، یہ سکون ، یہی جانِ نعت ہے
ہر کہکشاں میں نورِ رسولِ خدا ﷺ ملا


"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


تکریمِ خاص ، حسنِ ادب ، حدِ اعتدال


رکھے جو یہ خیال، نگہبانِ نعت ہے
تخلیقِ کائنات بوجہِ رسولِ پاک ﷺ


اور حُکمِ کُن فکاں ہی تو اعلانِ نعت ہے


ہے دین ساری ، مدحتِ آلِ رسولﷺ کی


سرکارﷺ کی عطا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے
صلّو علی الحبیب ﷺ فرشتوں کی لوریاں


سدرة کی انتہاء پہ بھی وجدانِ نعت ہے


کھلتے ہیں پھول صلِ علیٰ کے جہاں مدام


نسرینؔ ، یہ جہان  خیابانِ نعت ہے
===== [[عمران تنہا ]]، [[کامونکی ]]، [[پاکستان ]] =====


===== [[نسیمی تاجی]]، [[ ناگپور]]، [[انڈیا]] =====
اک عرصۂ دراز سے ارمانِ نعت ہے


بشکریہ : [[ارشد رضا قادری]]
لیکن کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے


ارضِ غزل نہیں ہے یہ میدانِ نعت ہے


ہوش و خرد سے کام لے دیوانے ،نعت ہے
لکھنے لگوں تو دل پہ اترتے ہیں خود خیال


اللہ نوازتا مجھے دورانِ نعت ہے


ہر سانس پر درود کا ہدیہ گزاریے


"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
انسان کی بساط ہے جتنا وہ کھوج لے


"ہر شعبہءحیات میں امکانِ نعت ہے "


یہ سر اٹھا ہوا ہے تو سرکار کے سبب


یہ دل کھلا ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے
ہم کو ملے گی نسبتِ حسان حشر میں


صد شکر اپنا پیشوا سلطانِ نعت ہے


کچھ بھی نہیں حضور کی الفت اگر نہیں


انجانِ زندگی ہے جو انجانِ نعت ہے
تم کو امر کروں گا مضامینِ نعت سے


میرا یہی حروف سے پیمانِ نعت ہے


نسلیں مہک نہ جائے تمہاری تو بولنا


لے جاؤ ساتھ میں کہ یہ گل دانِ نعت ہے
تنہا کبھی حضور نے چھوڑا نہ رنج میں


میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے


احمد کا پہلا حرف محمد کا پہلا حرف
محمد عمران تنہا


قرآنِ حمد کے لیے جزدانِ نعت ہے
===== [[عمران شریف]]، [[مدینہ منورہ]]، [[سعودی عرب]] =====


بشکریہ : [[محمد علی حارث]]


کچھ خاص مٹیوں کو نمی کی گئی عطا
دنیا اگرچہ ساری ہی سامانِ نعت ہے


ویسے تو سب پہ مہرباں بارانِ نعت ہے
تشنہ حضور پھر بھی دبستانِ نعت ہے




سو فیصدی درست ہے یہ بات دوستو
ہیں ساتھ اس کے روشنی عنبر گلاب و نور


ہر صفحہءِ دو کون بہ عنوانِ نعت ہے
دورِ قلم کے پاس نہ فقدانِ نعت ہے




ہر لفظ پھول ہے تو کلی سب حروف ہیں
ہوگا مگر کشید عطا سے نبی کی،جو


کس طور شان دار گلستانِ نعت ہے
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے




فرضی جمال و حسن کے پرخچے اڑ گئے
میرے قلم کی باندی بنی ہے سخنوری
چاروں طرف بپا ہوا میلانِ نعت ہے


صد شکر یہ فقیر پہ احسانِ نعت ہے


حد درجہ احتیاط ، مقام ادب ہے یہ


دورانِ خوں ٹہر کہ یہ دورانِ نعت ہے
ہر امرِ ربیِ میں ہے بلندی حضور کی


لولاک کی صدا نہیں اعلانِ نعت ہے


اسمِ مبارکہ پہ درودوں کی ڈالیاں


اب تک مجھے تو اتنا ہی عرفانِ نعت ہے
قرآن الف سے سین تلک نور ہے مگر


رشد و ہدا کے ساتھ یہ دیوانِ نعت ہے


معلوم میرے قول و عمل سے چلے گا یہ


مضبوط کس قدر مرا ایمانِ نعت ہے
کاندھوں سے میرے کاندھے ملائے فرشتوں نے


دیکھا جو میرے ہاتھوں میں دامانِ نعت ہے


صدیوں سے ہو رہا ہے یہاں ذکرِ مصطفی
یہ شہرِ ناگ پور دبستانِ نعت ہے


تصویر جس سے لطف و کرم کی میں بن گیا


سمجھوں گا میری نعتیں ، نسیمی قبول ہیں
عمران اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے


مجھ کو جو کوئی کہ دے یہ مستانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد عمران شریف


===== [[ نعیم عباس ساجد]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]]=====
===== [[عمر فاروق ناعم]]، [[چکوال]]، [[پاکستان]] =====
میرے کہاں نصیب میں بارانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد عمر فاروق ناعم
گر ہو گئی عطا  تو یہ احسانِ نعت ہے


جب سے خیال و فکر پہ باران نعت ہے


جس کو سمجھ رہے ہیں سبھی لوگ کائنات
کھلنے لگا سخن سے گلستان نعت ہے


وہ اہلِ ذوق کے لیے سامانِ نعت ہے


کعبہ ثناء و حمد کا مرکز ہے اولین


ہر لفظ کاٹ چھانٹ کے کرنا ہے منتخب
اور مدح میں مدینہ خیابان نعت ہے


کرکے یقیں کہ واقعی شایانِ نعت ہے


کون و مکاں سجائے گئے جن کے واسطے


پاکیزگیِ قلب و نظر لازمی ہے یاں
وہ ذات مصطفیٰ ﷺ ہی تو عنوان نعت ہے


میدانِ منقبت ہے کہ میدانِ نعت ہے


ڈھل کر نبی ﷺ کے اسوۂ کامل میں دیکھیے


اک سبز روشنی ہے تخیل کے ارد گرد
"ہر گوشۂ حیات میں امکان نعت ہے"


یعنی کہ اب قریب ہی امکان نعت ہے


===== [[نواز اعظمی]]، [[گھوسی]]، [[انڈیا]]=====
شہرت نہیں کبھی بھی مرا مطمحِ نظر
وہ شخص ہی لکھے جسے عرفانِ نعت ہے


ورنہ بہت ہی دھیان سے میدانِ نعت ہے
مقصود نعت گوئی سے عرفان نعت ہے




پیہم زمینِ فکر پہ بارانِ نعت ہے
رحمت کا سائبان مرے سر پہ تن گیا


دل اس کے باوجود بھی عطشانِ نعت ہے
کیسا یہ مجھ اثیم پہ احسان نعت ہے




غم ،ہجر، درد، گریہ، قلق، اشک، سوز، عشق
رنج و محن بھی حزن بھی کافور ہوگیا


ہر ایک میرے واسطے سامانِ نعت ہے
درمان میرے درد کا دامان نعت ہے




اٹھتی ہے ہر ورق سے ہی بوئے ثنائے شاہ
اے کاش جالیوں کے مقابل سناؤں نعت


قرآں مری نگاہ میں بستانِ نعت ہے
حسرت ہے دل کی میرا یہ ارمان نعت ہے




آ بیٹھ اور یہاں سے تُو رزقِ ثنا اٹھا
الفاظ آبِ گِل سے کریں بارہا وضو


روئے زمینِ شہرِ نبی خوانِ نعت ہے
پھر بھی کہاں وہ لفظ جو شایان نعت ہے




بہتا ہے جو بھی ہجرِ رسالت مآب میں
عسرت بھی مفلسی بھی جو مجھ سے ہے دور آج


آنسو نہیں وہ اصل میں بارانِ نعت ہے
کچھ اور تو نہیں ہے یہ فیضان نعت ہے




رنج و الم میں سرورِ کون و مکاں کی یاد
خواہش کروں کسی بھی قلم رو کی کیوں عمر


واللہ وجہِ حرکتِ شریانِ نعت ہے
ہاتھوں میں جب کہ میرے قلمدان نعت ہے


===== [[عمر فاروق وڑائچ]]، [[پاکپتن]]، [[پاکستان]] =====


حاصل ہے اس پہ اوروں کو بھی دسترس مگر
بشکریہ : [[محبوب احمد]]، [[سرگودھا]]


حسّان شاہِ ملکِ سلیمانِ نعت ہے
والنجم کے طفیل یہ سامان نعت ہے


ورنہ کلام کب مرا شایان نعت ہے


ہر شعبہ وصفِ شاہِ امم سے ہے تابناک


"ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
واللیل کہ کے زلف کی تعریف کی گئی


والفجر میں بھی مطلع ذیشان نعت ہے


اب تک نواز میں نے جو مدحِ رسول کی


کیا اس کا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے؟
کوثر سے ہے مراد کثیر ان کے پاس ہے


===== [[نگار سلطانہ]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
قد جاءکم سے مقصد اعلان نعت ہے
مکمل نام : ڈاکٹر نگار سلطانہ


لکھنے کو میرے دل میں تو ارمان نعت ھے


اک پھول کیا چنوں کہ گلستان نعت ھے
جاؤک سے دلیل ملی نعت کے لیے


یہ بھی تو ایک صورت اعلان نعت ہے


ہر لمحہء حیات کی بس جان نعت ھے


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ھے"
سارا کلام حق ہی تو ہے نعت مصطفی


لیکن سمجھ سکے، جسے عرفان نعت ہے


جب تک نہ دل میں چاہت سرکار دین ہو


کیسے لکھے کوئ کہ یہ شایان نعت ھے


عاصی نہائیں اس میں تو بخشش ملے ضرور


جب سے خیال ڈھل گئے اشعار میں مرے
ہر دم برس رہا ہے جو باران نعت ہے


ہر سانس میں بسا ھوا عنوان نعت ھے


تسکین دل درود کی برکت ہی سے ملے


مجھ کو دکھاتی ہے یہ سدا راستی کی راہ
اور اضطراب دل ہو تو سامان نعت ہے


چلنا شروع کروں تو یہ احسان نعت ھے


کھوٹے کھرے قبول ہوں، اک بول کے عوض


مرے خیال و فکر میں پیوست ہوگئ
بخشش ملے جہاں وہی دکان نعت ہے


ہر ایک لمحہ اور ہر اک آن نعت ھے


دامن میں اور  کوئی نیکی نہ تھی مگر


قرآن میں بھی ذکر کا مرکز نبی ہی ہیں
جنت میں جا رہا ہوں، یہ فیضان نعت ہے


گویا ظہور ہستی میں اعلان نعت ھے


ان کی مہک سے دل نہ معطر ہوں کیوں بھلا


مدحت کی روشنی سے جو لفظوں کو بھر دیا
عنبر فشاں ہر اک گل ریحان نعت ہے


جو کچھ ملا نگار یہ فیضان نعت ھے


===== [[نور الحسن نور نوابی]]، [[قاضی پور]]، [[انڈیا]] =====
دوزخ کی آگ چھو نہ سکے گی انھیں، جہاں
اعلان کائنات غلامانِ نعت ہے


حسان جس کا نام ہے سلطانِ نعت ہے
عاصی چھپے ہوئے ہیں، وہ دامان نعت ہے


===== [[عمر نقشبندی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد عمر نقشبندی


سوچے بغیر ہوتی ہے مدحت رسول کی
آنکھوں سے جو برستا ہے بارانِ نعت ہے


ارزاں ہمارے واسطے فیضانِ نعت ہے
سرمایۂ حیات ہے یہ جانِ نعت ہے




عشق رسول پاک کی صورت میں دوستو!
پڑھنے کے باوجود اِسےہر نِماز میں


بیٹھا درِ خیال پہ دربانِ نعت ہے
اک طبقہ ایسا ہے کہ جو انجانِ نعت ہے




عشق رسول شہر نبی کی جمالیات
محدود کب ہے دائرہ توصیف کا میاں


حاصل خدا کے فضل سے سامانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"




اس کی حدوں میں گرم ہوا کا گزر کہاں
اک ایک حرف تول پھر اُسکو رقم تو کر


دشت غزل نہیں یہ گلستانِ نعت ہے
یہ پُل صراط ہی ہے جو میدانِ نعت ہے




سنتی ہیں ذکر سرور دیں جو سماعتیں
تجھ سابھی بے ہُنر لکھے اشعار جو عمر


ان کی ضیافتوں کے لیے خوانِ نعت ہے
یہ خوب جان لے کہ یہ احسانِ نعت ہے


===== [[عمیر لبریز]]، [[فیصل آباد]] =====


کہنے کو لوگ کہتے ہیں نعتیں بہت مگر
بشکریہ : [[ریاض قادری]]، [[فیصل آباد]]


حاصل کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے


ہر وقت پلتا قلب میں ارمانِ نعت ہے


قسمت کا اس کی لا نہ سکے گا کوئی جواب
صد شکر مجھ پہ یہ بڑا احسانِ نعت ہے


جس کے لیے کھلا در ایوانِ نعت ہے


پنج تن کا ذکر نعت کو دلکش بناتا ہے


حسان آگے سعدی و جامی ہیں ان کے بعد
یہ اصل شانِ نعت ہے اور جانِ نعت ہے


اے آنکھ دیکھ وہ صف شاہانِ نعت ہے


پڑھتا درود ان پہ فرشتوں سمیت رب


ڈرتا نہیں ہوں دھوپ کے تیروں سے اس لیے
سارے جہان میں وہی سلطانِ نعت ہے


حاصل مجھے بھی سایہ دامانِ نعت ہے


پرکھے ہیں میں نے زندگی کے پہلو سارے ہی


ہوجائے یوں تو کام کی ہو میری زندگی
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


سرکار کہہ دیں یہ مرا دربانِ نعت ہے


ہر روز ایک رنگ نیانعت کا بنے


ہر شعبۂ حیات ہے آقا سے منسلک
ملتا مدینے سے مجھے سامانِ نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
 


غنچے کھلے ہیں مدحت آقا کے ہر طرف
میرے لبوں سے نکلی جو بھی نعت آپ کی


شادابیوں کا آئنہ میدانِ نعت ہے
ہر ایک کو میں سمجھا یہ حسانِ نعت ہے




ہر اک ورق پہ مدحت سرکار ہے رقم
لبریز شہر ِ نعت کا میں ایک باسی ہوں


دل عاشق رسول کا دیوانِ نعت ہے
یاں اک سے بڑھ کے ایک ثنا خوانِ نعت ہے


محمد عمیر لبریز ؔ فیصل آباد


دل کر رہا ہے ضد مرا مضمون کر رقم
===== [[عمیر نجمی]] ، [[رحیم یار خان]]، [[لاہور]] =====


در پیش میری فکر کو عنوانِ نعت ہے
بیٹھا، کہا حضور(ص) سے: "ارمانِ نعت ہے"


پھر جو کہا ہے، دیکھ لیں، شایانِ نعت ہے


خوشبو بسی ہوئی ہے محلے میں دور تک


گھر کے ہر ایک طاق پہ گلدانِ نعت ہے
نعمت بھی کیا ہے "نعت" میں ضم ہو گئی ہے "میم"


شکران نعمت اصل میں شکرانِ نعت ہے


ابر کرم کے پھول برستے ہیں پے بہ پے


جب سے زباں پہ ذکرِ محبانِ نعت ہے
لفظوں کے لعل حرفوں کے ہیرے لگیں گے ہاتھ


جو کچھ ملے اٹھائیے، یہ کانِ نعت ہے


ہر صنف کی امام ہے نعت شہ امم


یہ افتخار نعت ہے یہ شانِ نعت ہے
ایسی  کوئی زبان نہیں جو کرے بیان


حالت جو میرے قلب کی دورانِ نعت ہے


کچھ لوگ شب چراغ سمجھتے ہیں کچھ گلاب


رکھا ہماری میز پہ دیوانِ نعت ہے
اُن سے حیات، اُن سے ہر اک شعبہِ حیات


ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


دیکھا عقیدتوں کی نظر سے تو یہ کھلا


جو شعر بھی ہے نعت کا وہ جانِ نعت ہے
حجرے کی چھت پہ اتنے کبوتر یونہی نہیں


اس میں مکیں گروہِ محبانِ نعت ہے


دو چار ساعتوں پہ نہیں منحصر فقط
===== [[غضنفر علی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبۂ حیات میں اعلان نعت ہے


ایک ایک سانس نور کی قربانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے




===== [[نور محمد اشرفی]], [[پورنیہ]] ,[[بہار]],[[بھارت]] =====
صحن نبی میں حرف قطاروں میں لگ گے


پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]
دالان مصطفیٰ ہی تو دالان نعت ہے




محوِ ثنائے آقا ہوں, عنوانِ نعت ہے
وللیل و والضحیٰ پہ ہی موقوف تو نہیں


یا رب ! کرم ہو خاص کہ ارمانِ نعت ہے
مصحف خدا کا سارا ہی دیوان نعت ہے




بے عشقِ مصطفے ہے سبھی بندگی فضول
آنسو ہیں سسکیاں ہیں ندامت ہے عشق ہے


عشقِ رسولِ پاک ہی ایمانِ نعت ہے
یہ ہی صریر خامہ ہےسامان نعت ہے




حالی نہیں ہوں حافظ و سعدی نہیں ہوں میں


فضلِ خدا سے اور مدد سے حضور کی
پھر بھی میں لکھ ریا ہوں یہ احسان نعت ہے


,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


اک حرف لکھ کے پہروں یہ ہی سوچتا رہا


تاریخ تم پڑھو گے تو ہوگا تمہیں پتا
کیا حرف جو لکھا ہے وہ شایان نعت ہے


حسان ہی سے مہکا گلستانِ نعت ہے


ہر حرف کو برتنے لگا احترام سے


خلدِ بریں میں جائیں گے حسان کے وہ ساتھ
ہر حرف پر گماں ہے کہ مہمان نعت ہے


جن خوش نصیب لوگوں کو عرفانِ نعت ہے


رطب اللساں ہے آج غضنفر حضور کا


چشمِ کرم حضور کی مجھ پر ہوئی ہے خاص
احسان نعت ہے یہ ہی احسان نعت ہے


جاری مری زباں پہ جو گردانِ نعت ہے
===== [[غلام جیلانی سحر]]، [[بلرام پور]]، [[انڈیا]] =====
محفوظ حرف حرف جو قرآنِ نعت ہے


خود ربِّ کائنات نگہبانِ نعت ہے


شہرت جو نورٓ تم کو ملی ہے جہان میں


فضلِ خدائے پاک ہے,فیضانِ نعت ہے
حاصل اگر اجازتِ سلطانِ نعت ہے


===== [[نور محمد جرال]]، [[نیویارک]]، [[امریکا]] =====
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
شکرِ خُدا کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے  


سرپر میرے بھی سایۂ دامانِ نعت ہے


سرکار ! لطفِ خاص کا امید وار ہوں


حرف و سخن پہ دسترس اپنی جگہ مگر
بے چین روح کو فقط ارمانِ نعت ہے


دراصل وصفِ حبِ نبی جانِ نعت ہے


کچھ تو شعورِ مدح عطا ہو گنوار کو


فکرو شعور و حرف و ہُنر باوضو رہیں
اہلِ زباں کو دعویِ عرفانِ نعت ہے


تخلیق کے لیے یہی سامانِ نعت ہے


سرکار ! کچھ حروف سلامی کو پیش ہیں


اشعار میں ہے سورۂِ یٖس کا جمال
مقبول ہو وہ حرف جو شایانِ نعت ہے


حرفِ درود شمعِ شبستانِ نعت ہے


پروردگار ! ڈال دے سینے میں بے حساب


صدیوں سےلکھی جاتی ہےقرطاسِ وقت پر
عشقِ رسولِ پاک, جو ایمانِ نعت ہے


لیکن ابھی شعور کو ارمانِ نعت ہے


کھلتے ہیں رنگ رنگ کے گل ہائے عشقِ شاہ


ہے آپ کی حیات ہمہ گیر اس قدر
سینہ ہے میرا یا  کوئی گل دانِ نعت ہے


“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


گل ہائے رنگا رنگ کھلے ہیں چہار سمت


گلہاۓ رنگ رنگ کی مہکار چار سُو
کتنا ہرا بھرا یہ گلستانِ نعت ہے


دںیا تو ایک مزرعۂِ بستانِ نعت ہے


نظم و غزل کے مارے ہوئے لوگ دنگ ہیں


ہر اک اداۓ نور پہ ہیں آیتیں گواہ
اس درجہ اونچی شانِ غلامانِ نعت ہے


سیرت میرےحضور کی قرآنِ نعت ہے


مدح و ثنا حضور کی یوں ہی نہیں ہوئی


حسنِ عمل ہے مدحتِ مولا کا اک چمن
موجود سر پہ سایہِ دامانِ نعت ہے


حسنِ کلام زیبِ سخندانِ نعت ہے


پیہم نوازشاتِ رسولِ کریم واہ


آنکھیں کہ ان کے ذکرمیں نمناک ہیں سدا
محسوس ہو رہا ہے کہ بارانِ نعت ہے


اور دل ہزار جان سے قربانِ نعت ہے


اس خاص کیفیت کا بیاں کس طرح کروں


ہر عندلیبِ قدس کے لب مشکبوۓ نعت
طاری جو میری روح پہ دورانِ نعت ہے


باغِ اِرم ہے یا کوئی دالانِ نعت ہے


مستی میں بھی نہ ہاتھ سے چھوٹے ادب کی ڈور


آنکھوں کے طاقچوں میں رکھے آرزوۓ دید
مد ہوشی میں بھی ہوش اے مستانے ! نعت ہے


بے چین کب سے حلقۂ مستانِ نعت ہے


حد درجہ احترام و لحاظ و ادب سحر!


جل تھل ہوئی ہے دل کی زمیں یادِ شاہ میں
ہلکی سی چوک موت ہے دیوانے ! نعت ہے


اشکوں کی یہ گھٹا ہے یا بارانِ نعت ہے
===== [[غلام ربانی فارح]]، [[ ، مظفر پور]]،> بہار < [[انڈیا]] =====
محبوب رب جو مرکزِ فیضان نعت ہے


ایمان کی بھی جان وہی جانِ نعت ہے


الفاتحہ سے سُورۂِ والناس تک گواہ


قرآن حرف حرف ہی بُرھانِ نعت ہے
اللہ کا کرم ہے یہ فیض رسول ہے  


بخشش کو میرے پاس بھی سامان نعت ہے


سرکار کوئی اچھا نہیں نامۂ عمل


محشر میں دستِ نور میں دیوانِ نعت ہے
سینے میں دفن میرے خزانہ ہے عشق کا


===== [[واجد امیر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
الفت نبی کی بالیقیں جزدان نعت ہے
دربان ِ شاہ دین ہی دربان ِ نعت ہے  


روح الامین یعنی نگہبان ِ نعت ہے


نعت رسول پاؤ گے قرآں میں ہر جگہ


صد لاکھ احتیاط کہ عنوان ِ نعت ہے  
سچ ہے کلام پاک میں عرفان نعت ہے


وہ آئے اس طرف جسے ایقان ِ نعت ہے


تھوڑی توجہ کی تو معمہ یہ حل ہوا


مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں
*ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*


باغ ِ عدن کے پاس خیابان ِ نعت ہے


مقبول بس وہ فکر ہے اس بارگاہ میں


مصرعے سجے ہوئے کہ رنگوں کی لہر ہے  
ہے جو سخن کی شان وہ شایان نعت ہے


قوس ِ قزح ہے یا کوئی گل دان ِ نعت ہے


بیشک ادب سے چومیں گے اس کو ملائکہ
قرطاس دل کہ جس کو بہم خوانِ نعت ہے
فارح ادب سے کہہ اسے سرمایۂ حیات
عزت سے جی رہا ہے یہ فیضان نعت ہے
===== [[غلام رسول احمد ضیا]] ، [[سیتا مڑھی]]، [[بھارت]] =====
کہتا ہے وہ یہی جسے پہچانِ نعت ہے
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
منکر نکیر دیکھ کے مجھ کو کہیں گے یہ
اس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
عزّت سے کھا رہا ہوں نوالہ جو صبح و شام
سچ کہہ رہا ہوں ہم پہ یہ احسانِ نعت ہے
میرا یقین کہتا ہے ہر آن ہر گھڑی
سرمایۂ نجات یہ گلدانِ نعت ہے
وہ جس کے دم قدم سے ہے قائم یہ کائنات
سرکار کا کرم ہے وہ فیضانِ نعت ہے
عشقِ رسول پاک کی لذت جو دے گیا
احمد ضیا! وہ ہند کا حسّانِ نعت ہے
===== [[غلام فرید واصل]]، [[شیخوپورہ]]، [[پاکستان]] =====
کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
دل میں مرے بھی یا نبی ارمانِ نعت ہے
خالق نے بھر دیا میرے سینے کو نعت سے
موتی نکل رہے ہیں، دہن کانِ نعت ہے
سارے فصیح رکھتے ہیں اس بات پر یقین
نطق و سخن کا سِلسلہ قُربانِ نعت ہے
زہرا،حَسَن،حُسین بھی اس میں سمائے ہیں
کتنا ہرا، بھرا یہ گلستان نعت ہے
رَگ رَگ میں عشقِ شاہ مدینہ بسے اگر
"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
محشر کی دھوپ میں بھی مجھے سائباں ملا
شکرِ خدا کہ مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
واصلٓ نہیں خبر کہ وزارت مِلے کسے
جُز جُز ہی آیتوں کا تَو سلطانِ نعت ہے
===== [[غلام مرتضیٰ طرب]]، [[کٹیہار,بہار]]، [[انڈیا]] =====
پیشکش: [[غلام جیلانی سحر]]
احسان میرے رب کا ہے,فیضان نعت ہے
میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے
نازل رسولِ پاک پہ قرآں کیا گیا
جس کے ہر ایک پارے میں عنوانِ نعت ہے
سرکار ! مجھ غریب کا بیڑا لگا دو پار
بخشش کو کچھ نہیں ہے, نہ سامانِ نعت ہے
عشقِ نبی میں دل جو تڑپتا ہے دم بدم
یعنی کہ دل مرا  کوئی گل دانِ نعت ہے
آقا مِرے خیال میں کچھ بھی نہیں ہے اب
سینے میں موجزن ہے جو ایمانِ نعت ہے
اپنوں کو جو عطا ہوا کیا دیکھنا اسے
غیروں پہ بھی تو دیکھیے بارانِ نعت ہے
جاری زباں پہ نعت نبی کی ہے ہر گھڑی
کیا دل بھی اے طرب ! ترا قربانِ نعت ہے
مکمل نام : غلام مرتضیٰ طرب علیمی
===== [[غلام مصطفی دائم اعوان]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
طاری عروسِ قلب پہ وجدانِ نعت ہے
خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے
لفظوں کی عکس بندیاں ملحوظ ہوں، مگر
لازم پسِ خیال بھی عرفانِ نعت ہے
نقش جمالِ شوخیءِ آیات کیا کہوں
ہر نوکِ حرف لشکرِ مژگانِ نعت ہے
تکوینِ کائنات کا ہر لحظۂ وجود
عنبر سرشت لؤلؤِ بارانِ نعت ہے
اقلیمِ نُہ سپہر کے آشفتہ خاطرو
فرحت نواز غنچۂ بستانِ نعت ہے
نکہت فشانیءِ گلِ رَیحان و نسترن
خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے
مخدومِ طائرانِ اولی الاَجنحہ، حضور
عرشِ فراخ صفحۂ دیوانِ نعت ہے
دائم فروغِ نعت کی نیرنگیاں نہ پوچھ
”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“
===== [[ فاتح چشتی]]، [[مظفر پور]]، [[انڈیا]] =====
بشکریہ : [[حافظ محبوب احمد]]
آغاز تا اخیر یہ ایوان نعت ہے
قرآن پاک اصل میں بنیان نعت ہے
شاید کھلے ہیں گیسوۓ مشکیں حضورکے
مہکی ہوئی جو یہ شب شعبان نعت ہے
بزم سخن میں نغمہ سراؤں کی بھیڑ ہے
اوج فلک پہ جذبۂ مردان نعت ہے
بادل برس رہے ہیں نشاط و سرور کے
ہر سمت ازدحام گدایان نعت ہے
چھلکی ہے چشم ناز کرم سےشراب عشق
مخمور آج حلقۂ رندان نعت ہے
ہوں خوشہ چین سعدی و جامی زہے نصیب
حاصل مجھے بھی صدقۂ حسان نعت ہے
ماہ و نجوم ، سدرہ و عرش و فلک ، ملک
چن لیجیے کسی کو بھی ، عنوان نعت ہے
باغ بہشت دیکھتے ہی دل پکار اٹھا
یہ گلستان و گلبن و گلدان نعت ہے
سینہ ہر ایک حرف کا ساغر بدوش ہے
برپا شعور لفظ میں ہیجان نعت ہے
اللہ رے وہ رونق شہر رسول پاک
گو آبجوۓ ہست میں مرجان نعت ہے
تنہائی کی خموشی ہو یا محفلوں کے شور
*ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*
*فاتح* یونہی نہیں ہے چمن میں بہار نو
طاری گلوں پہ نشۂ الحان نعت ہے
مکمل نام : فاتح چشتی مظفر پوری
===== [[ فریاب عظمی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
جو روحِ کائنات ہے سلطانِ نعت ہے
دونوں جہاں کی جان ہے وہ جان ِ نعت ہے
یارا کسے لکھے جو کہ شایانِ نعت ہے
بس رب ہی جانتا ہے جو پیمانِ نعت ہے
نم آنکھیں اور لب پہ درودوں کی ڈالیاں
مجھ ناتواں کا بس یہی سامان ِ نعت ہے
اوقات کیا بھلا یہاں مجھ سے حقیر کی
بو صیری رومی جامی یاں حسانِ نعت ہے
فطرت میں جھانک دیکھ ثناء رب ہے کر رہا
ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
سانسیں مہک رہی ہیں جو ذکرِ رسول سے
خوشبو ہے چار سو یہ گلستانِ نعت ہے
کچھ اور تو نہیں مرے اعمال میں حضور
سامان ِ آخرت یہی دیوانِ نعت ہے
===== [[فاضل میاں]]، [[میسور]]، [[کرناٹکا]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : سید فاضل میاں
یہ اعترافِ حسنِ قلمدانِ نعت ہے
فنِ تمام حاضرِ ایوانِ نعت ہے
مت زعم کر کہ تو  کوئی حسانِ نعت ہے
چل احتیاط سے کہ یہ میدانِ نعت ہے
تیرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے
حاصل اگر ذرا سا بھی وجدانِ نعت ہے
عمرِ تمام نذر ہے اس کی تلاش میں
وہ حرفِ معتبر کہ جو شایانِ نعت ہے
صد شکر میرے بحرِ تخیل میں جابجا
لولوئے نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے
کس جا نہیں ہیں لعل و گہر مدحِ شاہ کے
یہ ساری کائنات ہی اک کانِ نعت ہے
کشتِ سخن پہ فصلِ عقیدت کی ہے نمود
کیونکر نہ ہو تسلسلِ بارانِ نعت ہے
قرآں بہ نطق سوز بہ دل عجز بر جبیں
ہر اک نشانِ باج گزارانِ نعت ہے
یارب ہر ایک حمد کی مالک ہے تیری ذات
تیرا حبیب سید و سلطانِ نعت ہے
ہر رنگ ہر مہک کی ہیں کلیاں کھلی ہوئیں
روح و نظر نواز گلستانِ نعت ہے
بے روح پیکرِ سخن و حرف ہے تو کیا
تیرا خیال اے شہِ دیں جانِ نعت ہے
امشب وفورِ گریہ و زاری ہے مہرباں
آثار کہہ رہے ہیں کہ امکانِ نعت ہے
مضموں میں احتیاط خط و حرف میں ادب
لہجہ بتا رہا ہے کہ عرفانِ نعت ہے
یہ منصبِ شہیر یہ مسند کمال کی
مجھ کو اگر ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے
کیا جانے اختتام ہو کس کیفیت کے ساتھ
انوار کا نزول ہے دورانِ نعت ہے
باہر نکل حروف و معانی کی قید سے
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
درپیش اک طویل سفر ہے حیات کو
رختِ سفر میں جو ہے وہ سامانِ نعت ہے
ہوں جبرئیل پشت پہ تائید کے لیے
اک شاعرِ غریب کو ارمانِ نعت ہے
اس کی کشش الگ ہے جمال اس کا ہے جدا
کتنا بہار زا رخِ تابانِ نعت ہے
جنت کی نعمتوں کا مزہ لے رہا ہوں میں
پیشِ نگاہ جب سے مرے خوانِ نعت ہے
اس میں بیانِ حلّت و حرمت نہیں فقط
قرآن ایک جہت سے قرآنِ نعت ہے
طیبہ ہے خواب گاہ ہے خیر الانام کی
ہر گوشہ اس زمیں کا خیابانِ نعت ہے
محشر کے روز پیشِ خدا باریاب ہوں
صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
زیر و زبر میں  کوئی کمی بیشی ہو نہ پائے
اے صاحبِ حروف یہ میزانِ نعت ہے
لائے  کوئی کتابِ الہیٰ کے سامنے
کیسا ہی پُر اثر  کوئی دیوانِ نعت ہے
رکھا ہے اک حصارِ بقا و دوام میں
کتنا فنا صفت پہ یہ احسانِ نعت ہے
منسوب ان سے ہے جو رسولوں کا ہے رسول
کیا کم یہ عظمت و شرف و شانِ نعت ہے
والشمس والضحیٰ کی تجلی ہے چارسو
فاضل اسی کا نام شبستانِ نعت ہے
===== [[فائق تُرابی]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====
یُوں بھی زبانِ حال سے فرمانِ نعت ہے
ذیشانِ دو جہاں ہے جو ذیشانِ نعت ہے
ارضِ حجاز ، ارضِ درود و سلام بھی
عَرفات ِ١ نعت ہے، کہیں فارانِ نعت ہے
حیراں ہُوں بُو تُراب کے بابا کو پڑھ کے مَیں
دیوانِ شــاعــری ہــے یا قُــرآنِ نعت ہــے
پیشِ نَظَـر ہو سُنّتِ سـرکار ہر جگـہ
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
  کوئی سکھا رہا ہے ہمیں نعت کے ادب
یہ غـَـارِ ثَور ہے کہ دبســتانِ نعت ہے
اصحاب کی ثنا سے بڑھے نعت کا وقار
آلِ نبی کی مدح و صِفَت جانِ نعت ہے
رشکِ بُخـَـارا ، رشکِ سمــرقند ســر زمین
یہ سر زمینِ چھچھ ٢ بھی گلستانِ نعت ہے
  کوئی نفیسِ نعت٣ ہے،  کوئی امینِ نعت٤
منظورِ نعت ٥ ہے ،  کوئی سلمانِ نعت٦ ہے
جب جب نسیمِ نعت چلے، دل مچل اُٹھے
جیسے یہ دل نہیں گُلِ ریحانِ نعت ہے
مجھ پر تری حدیث کے جوہر نہیں کُھلے
کس منہ سے میں کہوں مجھے عرفانِ نعت ہے
===== [[فراز حیدر کاظمی]]، [[مسقط]]، [[عمان]] =====
بشکریہ : [[حسنین اکبر]]
سر سبز کس قدر یہ دبستانِ نعت ہے
قاری جہانِ کن پئے قرآنِ نعت ہے
حمدِ خدا ہے جنبشِ اعضائے خاکسار
سانسوں کی سلسبیل میں گردانِ نعت ہے
اک سمت حمد دوسری جانب علی کی مدح
کتنا عدیل پہلوئے میزانِ نعت ہے
مجھ پر عطائے بابِ مدینہء علم ہے
حاصل مجھے جبھی تو یہ عرفانِ نعت ہے
مفہوم مِنِیت کے ذرا دیکھئے حضور
نوحے کے ساتھ دائمی پیمانِ نعت ہے
چھ سات شعر نعتِ محمد میں کہہ دیئے
حیدر پہ کیا عظیم یہ احسانِ نعت ہے
===== [[فراز عرفان]]، [[دوبئی]] =====
قائم جو لامکان پہ ایوانِ نعت ہے
بیشک یہ شاہِ والا کے شایانِ نعت ہے
چرچا ہے شش جہت میں جو گویانِ نعت کا
لاریب یہ بوجہِ گلستانِ نعت ہے
باقی مکانِ دنیا میں گھومو پھرو مگر
طیبہ ادب سے جاؤ ، وہ کاشانِ نعت ہے
کہئے ثناء نبی کی ذرا احتیاط سے
کیونکہ خدا کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے
مداحِ مصطفیٰ کی ہے فہرست گو طویل
لیکن جو شانِ نعت ہے حسانِ نعت ہے
نسبت ہے تیری ذات سے لکھیں تری ثنا
ورنہ قلم  کوئی ترا شایانِ نعت ہے ؟
جس کے سبب ہو فردِ عمل دائیں ہاتھ میں
بس ایک ایسا ہی مجھے ارمانِ نعت ہے
سامانِ آخرت ہے یہی میرا اصل میں
تھاما ہوا اسی لئے دامانِ نعت ہے
روحِ رواں ہیں آپ ہی اس کائنات کے
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
خاکی سبھی پہ چشمِ کرم ہے حضور کی
لیکن فقط خواص پہ بارانِ نعت ہے
===== [[فرخ رضا ترمذی]]، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====
سرکار کا کرم ہے جو بارانِ نعت ہے
مولا تری عطا سے ہی فیضانِ نعت ہے
ہر سمت تیرے نور کے جلوے نگاہ میں
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
تیرا وجود مرکز و محور ہے خیر کا
تیرا کلامِ نور ہی سامانِ نعت ہے
ذکرِ حبیب کرتے ہیں عشاق ہر گھڑی
ان کی زباں پہ ذکر بھی شایانِ نعت ہے
پتھر بدست لوگوں کے حق میں تری دعا
طائف کا سارا واقعہ خاصانِ نعت ہے
سجدہ طویل کرکے نواسے کے واسطے
سب کو دکھادیا کہ یہ ریحانِ نعت ہے
یادِ رسولِ پاک سے دل میں گداز ہے
آنکھوں سے اشک برسے ہیں، امکانِ نعت ہے
انعامِ خاص ہے مری "انعام فاطمہ*"
مالک کا یہ کرم بھی تو احسانِ نعت ہے
اپنا تو ہر سخن ہے ثنائےِ رسولِ پاک
ہر جا پہ اپنے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
تجھ پہ کرم حبیب کا " اے جانِ مرتضی"
گھر میں تمہارے مہکا گلستانِ نعت ہے
مشکل گھڑی سے مجھ کو بچاتا ہے تیرا ذکر
فرخ رضا کے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
* بیٹی کا نام
===== [[فرقان بزمی]]، [[ پیلی بھیت، یوپی]]، [[انڈیا]] =====
بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]
میرا خیال طالبِ عرفانِ نعت ہے
لگتا ہے طبعِ ناز کو میلانِ نعت ہے
ہر لفظ اِس کا دل میں اُترتا چلا گیا
ایسا کمالِ حسن میں دیوانِ نعت ہے
قائم بہارِ عشق و محبت ہے خوب خوب
آراستہ جہاں میں گلستانِ نعت ہے
ہر مکتبِ سخن میں اِسی کے ہیں تذکرے
معروف کس قدر یہ دبستانِ نعت ہے
ٹھہری ہوئی ہے اپنی جگہ رفعتِ فلک
صبح و مسا عروج پہ ایوانِ نعت ہے
اپنے تو اپنے غیر بھی کرتے ہیں احترام
مقبولِ خاص و عام ہے ، کیا شانِ نعت ہے
ہے کون ؟ جو نہ نعت کی کھاتا ہو نعمتیں
دونوں جہاں میں پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے
ملتی رہی بلال کو لذّت وصال کی
شوقِ لقائے یار بہ عنوانِ نعت ہے
محبوب کے فراق کا ہے درد اس قدر
ہر آہ میں اویس کی فیضانِ نعت ہے
اُس کے لیے ہے رحمتِ سرکار میزباں
فضلِ خدا سے جو  کوئی مہمانِ نعت ہے
تسلیم ہے اُنہیں کو یہ ، زندہ ہے جن کا دل
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
بزمی کی کشت شعر و سخن لہلہا اٹھی
برسا کچھ ایسے ابرِ بہارانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد فرقان بزمی پورن پور پیلی بھیت یوپی
===== [[فضل اللہ فانی]]، [[صوابی]]، [[پاکستان]] =====
آمد کا زور شور ہے، بارانِ نعت ہے
خامہ تو آج وقفِ قلمدانِ نعت ہے
ہر عندلیبِ باغِ سخن نغمہ سنج ہے
ہر سمت جشنِ فصلِ بہارانِ نعت ہے
مشکل ہے حملِ وحْی کے مانند حملِ نعت
یعنی یہ کارِ حوصلہ مندانِ نعت ہے
صاحب نظر ہو  کوئی تو ہو اس پہ منکشف
"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اصنافِ شعر میں ہے جدا رتبہ نعت کا
شاہِ غزل، گدائے گدایانِ نعت ہے
دنداں کا سِین ہے تو کہیں مِیمِ زلف ہے
قرآں نگاہِ شوق میں دیوانِ نعت ہے
حسّاں کو اور ہی قدِ شعری عطا ہوا
سلطانِ نعت، سروِ گلستانِ نعت ہے
"لولاک" کا ظہور ہے ہر شے میں جلوہ گر
ہرچیز چشمِ شوق کو سامانِ نعت ہے
ہجراں کا زخمِ کاری ہے دل میں تو کیا ہوا
فانی ہمارے پاس تو درمانِ نعت ہے
===== [[فہیم رحمان آزر]]، [[سمندری]]، [[پاکستان]] =====
ہم شاعروں پہ کس قدر احسانِ نعت ہے
طبع آزما جو آج پھر ایوانِ نعت ہے
ارفع سخن طراز بھی پہنچے نہ میم تک
اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
پائے گا اِس سے دل مرا دوہری حلاوتیں
اک سلسلہ درود کا دورانِ نعت ہے
حدِ نگہ ہیں گلستاں اور گلستاں میں پھول
کتنا وسیع خیر سے میدانِ نعت ہے
مظہر ہیں تیرے نور کا عالم کی رونقیں
شمس و قمر کی روشنی عرفانِ نعت ہے
اُن کے کرم کا دائرہ محدود تو نہیں
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
محشر میں جب سوال ہو، کچھ ہے تمہارے پاس؟
تب میں کہوں کہ ہاں مرا دیوانِ نعت ہے
لمحہ بہ لمحہ ہوتی ہے مدحت حضور کی
آذرؔ ہمارا حلقہ دبستانِ نعت ہے
===== [[فیصل حسن نقشبندی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
آنسو دلِ گداز یہ سامانِ نعت ہے
نظروں میں اُنؐ کا حسن ہی دورانِ نعت ہے
اللہ جانتا ہے حقیقت حضورؐ کی
کس کو نصیب دہر میں عرفانِ نعت ہے
صدقے میں پنجتن کے کرم تجھ پہ خاص ہے
اولاد میں مری جو یہ میلانِ نعت ہے
حُبِّ رسولؐ لے کے پڑھے  کوئی دوستو !
سارا کلامِ پاک ہی دیوانِ نعت ہے
بےشک یہ اپنی عزت و شہرت وقار سب
اپنا کمال کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
سرمایہِ حیات ہے نعتِ رسولِ پاک
صد شکر شوق ِ حلقہِ یارانِ نعت ہے
اک کیف اک سُرور ہے اک بے خودی سی ہے
حالت بتارہی ہے کہ امکانِ نعت ہے
اس کے لیے ہیں دونوں جہاں کی بھلائیاں
واللہ جان و دل سے جو قربانِ نعت ہے
دنیا میں ہر گھڑی رہی مدحت کی آرزو
زیر لوائے حمد بھی ارمانِ نعت ہے
فیصل حسنِ کرم ہے کرم ہے حضورؐ کا
تُو بھی جو ایک بُلبلِ بُستانِ نعت ہے
===== [[ فیصل قادری گنوری]]، [[گنور]]، [[ بھارت]] =====
طرزِ بیان آ گیا احسانِ نعت ہے
مجھ میں شعورِ مدح بہ فیضانِ نعت ہے
میرے شعور و فکر میں گردانِ نعت ہے
در اصل عشقِ شاہِ ہدی جانِ نعت ہے
جب سے خیال ان کا تصور میں بس گیا
افکار کا نزول ہے ! بارانِ نعت ہے
عشاقِ مصطفی کی تڑپ کی ہیں جھلکیاں
افضل مری نگاہ میں دیوانِ نعت ہے
انساں کی کیا مجال لکھے شانِ مصطفی
خود ربِّ کائنات ثنا خوانِ نعت ہے
ہم عاشقوں کو خوف نہیں روزِ حشر کا
بخشش کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے
مداح اس کے جیسا نہیں دوسرا  کوئی
حسّان جس کو کہتے ہیں سلطانِ نعت ہے
یہ ساری کائنات سما جائے گی میاں
اتنا وسیع حلقہِ دالانِ نعت ہے
خطرہ  کوئی نہیں ہمیں خورشیدِ حشر کا
سر پر ہمارے سایہِ دامانِ نعت ہے
طرزِ سخن سے جس کو ذرا بھی ہے آگہی
پھر اس کے دل میں حسرت و ارمانِ نعت ہے
مدحت میں ان کی رب نے اتارا کلامِ پاک
فیصؔل بیان کیسے ہو کیا شانِ نعت ہے
فیصؔل قادری گنوری
===== [[فیضان قادری]]، [[ٹانڈا]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : محمّد فیضان قادری
سب سے بلند کہ وسیع میدانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
مچھ کو بھی نعت کہنے کا دے دیجئےشرف
مدت سے میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے
میرا بھرم جو ٹوٹنے دیتا نہیں خدا
کچھ بھی نہیں یہ واللہ فیضانِ نعت ہے
اس کے عوض تو ملتی ہے قربت حضور کی
کتنوں کو دید ہو گئی یہ شانِ نعت ہے
سب بڑا سخنور میری نظر میں وہ
جس کو بھی فضلِ حق سے عرفانِ نعت ہے
===== [[قمر آسی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]]=====
عرفانِ نعت ہے نہ ہی وجدانِ نعت ہے
لیکن ازل سے حسرت و ارمانِ نعت ہے
حکمِ خدائے پاک ہے مدحت رسول کی
صلُّو علیہِ اصل میں اعلانِ نعت ہے
طاعت نبی کی طاعتِ ربِ عظیم ہے
الفت مرے کریم کی عنوانِ نعت ہے
ہر ذی قدر خیال کو پایا ہے نعت میں
کتنا وسیع دیکھیے دامانِ نعت ہے
سب پھول محوِ رقص ہیں، غنچے ہیں مشکبار
کیسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے
ہر انتخابِ لفظ میں لازم ہے احتیاط
حد ادب جناب یہ میدانِ نعت ہے
حسان کے ہنر سے عطا ہو طریقِ نعت
درکار مجھ کو ویسا ہی سامانِ نعت ہے
تھوڑے سے غور و فکر سے یہ منکشف ہوا
" ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے "
خود خالقِ جہان ہے مداحِ اولیں
کتنی بلند و بانگ قمر شانِ نعت ہے
===== [[ قمر خورشید خان]]، [[باغ، کشمیر]]، [[پاکستان]] =====
میرے نبی کی ذات ہی عنوان_نعت ہے
ذکر_رسول_ پاک تو دیوان _ نعت ہے
ملتی سخنوری کی اگر داد ہے مجھے
میں مانتا ہوں مجھ پہ یہ احسان_ نعت ہے
تعمیر_ قصر_ نعت میں لازم ہے فن مگر
عشق ونیازوشوق بھی سامان_ نعت ہے
مجھ کو جزاء_نعت_نبی ہے یہی بہت
میرے بھی ہاتھ میں تو قلمدان_ نعت ہے
حسن_نبی ثنا کے احاطہ سے ہے وراء
ہر اک ادا ہی آپ کی میدان_ نعت ہے
اتنے حسیں ہیں آپ کے لمحات_ زندگی
"ہرشعبہء_ حیات میں امکان_ نعت ہے"
قرآن تو قمر ہے قصیدہ حضور کا
اللہ کی یہ کتاب ہی شایان_ نعت ہے
===== [[قمر صدیقی]] , [[گوجرانوالہ]]، [[پاکستان]] =====
مجھ کمتریں کے ہاتھ قلم دانِ نعت ہے
احسانِ نعت سر بسر احسانِ نعت ہے
میں حجرهٔ درود میں رہتا ہوں ہر گھڑی
میرا خیال آج کل ، ایوانِ نعت ہے
جب آل ہے درود میں شامل، کہا گیا
پھر کربلا کا ذکر بھی عرفانِ نعت ہے
بیٹھو تو "نعت ورثہ" کے سائے میں دو گھڑی
تم بھی پکار اٹھو گے بارانِ نعت ہے
انؐ کےحضور اشکِ ندامت لئے ہوئے
فریاد و استغاثہ بھی امکانِ نعت ہے
ہیں کاف پیش نون کے آثار جس قدر
صاحب ! بقدرِ ظرف یہ سامانِ نعت ہے
ہر نعت مجھ کو نافهِٔ مشکِ خُتن لگے
حد درجہ عنبریں جبھی دالانِ نعت ہے
یادِ رسولِ پاکؐ کو لوبان داں سمجھ
اس میں سلگتا نعت گو ، لوبانِ نعت ہے
یہ بات مجھ سے رومیِ کشمیر نے کہی
قرآنِ پاک اوّلیں دیوانِ نعت ہے
ہے کنتُ کنزِ مخفی کی تفسیر یہ قمر !
"ہر شعبهِٔ حیات میں امکانِ نعت ہے"
===== [[قمر وارثی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہر زاویے سے ایک دبستانِ نعت ہے
وہ جس کی دسترس میں قلمدانِ نعت ہے
اُسّوہ شہِؐ انام کا ، سیرت حضورؐ کی
دنیائے نعت میں یہی دیوانِ نعت ہے
روزِ ازل سے ذکرِ نبیؐ ہے زباں زباں
یعنی ہر ایک عہد بہارانِ نعت ہے
ہم ہی نہیں، صحابہ رطب اللساں رہے
کیا پوچھئے خدائی میں کیا شانِ نعت ہے
مقبول ہو جو بارگاہِ ذیؐ وقار میں!!
سچ پوچھئے تو نعت وہی جانِ نعت ہے
رحمت کا نُور جلوہ فگن ہے وہاں وہاں
روشن جہاں جہاں بھی شبستانِ نعت ہے
منصب جدا جو حضرتِ حسانؓ کو ملا!
بے شک بہ فکرِ نعت یہ فیضانِ نعت ہے
کم کم ہے فکر اُن کی ، کسی اور صنف میں
وہ لوگ جن کے سامنے میدانِ نعت ہے
کچھ اور بات ان سے کے تقدس کی ہے قمر
منسوب جو کتاب بہ عنوانِ نعت ہے
===== [[قیوم طایر]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[علیم اطہر]]
کتنا وسیع تر ہے جو دامانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
بس شرط ہے ادا ہو مکمل خلوص سے
اک مصرع ، ایک شعر بھی دیوانِ نعت ہے
صد احترام گلشنِ جنت میں جو پڑھی
میرے حضور ﷺ ! مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
جیسے  کوئی پرندہ چہکتا اڑا پھرے
اک دل نواز تجربہ دورانِ نعت ہے
اس تن بدن پہ گنبدِ اخضر کی چھاؤں سے
مدحت رواں جو لب پہ ہے فیضانِ نعت ہے
لب پر درود آنکھ میں آنسو سجے ہوئے
اے میرے آقا ﷺ ، پاس یہ سامانِ نعت ہے
میں خار خار ، جانے کو بیتاب کس قدر
یہ جانتے ہوئے وہ خیابانِ نعت ہے
===== [[کاشف حیدر]]، [[بارٹلیٹ]] =====
دل میں اسی لئے مرے ارمانِ نعت ہے
میں نے سنا ہے حشر میں میزانِ نعت ہے
عنوان ہی لکھا کہ قلم تھک گیا مرا
کتنا طویل جانے یہ میدانِ نعت ہے
اب خوف کچھ نہیں مجھے منکر نکیر کا
مری لحد میں ساتھ جو دیوانِ نعت ہے
لگتا ہے سجدہ ریز درِ مصطفیٰ پہ ہوں
احساس کیا حسین یہ دورانِ نعت ہے
اک منفرد سی نعت لکھوں گا میں ابکے بار
قرآں سے لفظ لوں گا جو شایانِ نعت ہے
کاشف مری نظر میں سخنور نہیں ہے وہ
جس کا قلم ابھی تلک انجانِ نعت ہے
===== [[کاشف عرفان]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
ذوقِ درود ہے کہیں رُجحان نعت ہے
صد شکر میری نسل میں میلانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں درکار ہیں نبی
"ہر گوشہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
روشن کیا ہے جس نے مرا گھر مرا قلم
نور محمدی ہے یہ تابانِ نعت ہے
آنکھوں میں تیرتے ہیں مدینے کے صبح و شام
محسوس ہو رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے
تہذیبِ بے مہار کا سیرت کو شکریہ
بدلے ہوئے ہیں ہم تو یہ احسانِ نعت ہے
حسنِ عمل ہی لفظ کو دیتا ہے زندگی
معیار ہے یہی ، یہی پہچانِ نعت ہے
سیرت کا حُسن سنتِ آقا کی روشنی
کتنا سجا ہوا مرا ایوانِ نعت ہے
اشکِ فراق ، خوابِ تیقن، سلامِ شوق
کاشف ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے
===== [[کامران ارشد]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
چونکہ جہاں کی جان ہی جانان نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
ہر لحظہ ہو رہے ہیں دواوینِ نعت جمع
ہر ذرہ کائنات کا دیوان نعت ہے
مد و جزر سے ذکر کے دل زندہ ہو گیا
اعجاز ماہتاب غلامان نعت ہے
معراج مصطفی نے سکھائی ہمیں یہ بات
عرش خدا بھی آپ کا ایوان نعت ہے
خوش ہوں کہ گل نعوت کے کھلتے ہیں اس پہ آج
میرا سخن بھی آج کہ بستان نعت ہے
کردیجیے نہ شاہ امم مجھ پہ اک نظر
بے تاب ہو چلا ہوں کہ ارمان نعت ہے
===== [[کوثر سعیدی]] , [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
شاعر : راجا کوثر علی
بشکریہ : [[حفیظ اوج | مرزا حفیظ اوج]]
غارِ حرا تو مرکزِ دیوانِ نعت ہے
ہر حرف جو عطا ہے وہ شایانِ نعت ہے
ممکن نہیں کہ اس کا احاطہ کرے  کوئی
عشق رسول پاک جو دوران نعت ہے۔
اے وجہ ممکنات فقط آپکے طفیل
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
اصناف اور بھی ہیں ادب میں تو معتبر
صد شکر ہے شعور پہ باران نعت ہے
اے کاش مدح حضرت ِ جامی سی ہو عطا
کوثر کے دل میں ایک ہی ارمان نعت ہے
===== [[کوثر علی]], [[فیصل آباد ]]] =====
بشکریہ : [[ریاض قادری]]، [[فیصل آباد]]
یہ آپ کا کرم ہے جومیلان نعت ہے
لیتے ہیں جس سے آپ کا وہ خوان نعت ہے
طیبہ میں کیا حکومت شاہان نعت ہے
ہر سمت اک ہجوم گدایان نعت ہے
حسان و کعب و ابن رواحہ یہاں پہ ہیں
منبر کے پاس جوش کریمان نعت ہے
جنت کی اتنی بار بشارت اسے ملی
اپنا امام نعت تو حسان نعت ہے
رکتی نہیں ہے مدح کبھی آنحضور کی
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
ان کی ہر ایک ایک دعا میں شریک ہے
دل شامل گروہ شریفان نعت ہے
یا رب نبی کی نعت اک ایسی نصیب ہو
میں جس کو کہ سکوں کہ یہ شایان نعت ہے
کچھ حسرتیں ہیں آنسو ہیں دوری کے رنج و غم
اک عمرہوگئ یہی سامان نعت ہے
بارش اتر رہی ہیں ثنائے حبیب کی
اوج خیال کوہ سلیمان نعت ہے
دامن بھرا ہو اہے عطاءے رسول سے
کافی ہمیں تو بس یہی دامان نعت ہے
پڑتی نہیں کبھی بھی کسی چیزکی کمی
فیضان نعت سا  کوئی فیضان نعت ہے
ہر رنگ کے ہیں پھول کھلے میرے شہر میں
یہ شہر نعت ہے کہ گلستان نعت ہے
اللہ کرے یہ نامہ اعمال ہو مرا
میرے جو ہاتھ میں مراد یوان نعت ہے
ہوتا ہے سینہ چاک ثناءے حبیب سے
کوثر ہمارا چاک گریبان نعت ہے ۔
===== [[گل رابیل]]، [[پاکستان]] =====
تسکینِ روح کے لئے سامانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
میرے نبی کا پہلا ثنا خواں ہے میرا رب
قرآن سب سے پہلا تُو دیوانِ نعت ہے
ذکرِ رسولِ پاک ہی ہوتا ہے جا بجا
ہر آئینے کے رخ پہ ضیا بانِ نعت ہے
خوشبو ہے ذہن میں مری سانسیں ہیں عطر بیز
گردِ مشام بوئے گلستانِ نعت ہے
زیور ٹٹولتی ہوں نہ زر ڈھونڈھتی ہوں میں
دل کو تو میرے ہر گھڑی ارمانِ نعت ہے
پڑھ کر تو دیکھئے ذرا نعتیں رسول کی
کس طرح جاری آج بھی فیضانِ نعت ہے
سجتی ہیں میرے قلب میں نعتوں کی محفلیں
رابیل دل یہ دل نہیں ایوانِ نعت ہے
===== [[ لیاقت علی عاصم]]، [[ کراچی ]] =====
اسمِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے
عنوانِ نعت ہی نہیں دیوانِ نعت ہے
اے اسپِ تیز شان رقم دیکھ ہوشیار
یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے
جائز نہیں ہے اعلٰی و ادنٰی کی اصطلاح
ہم لکھنے والوں پر یہی فیضانِ نعت ہے
دنیا کی دھوپ دل کو مرے چُھو نہ پائے گی
قالب پہ میرے سایہِ دامانِ نعت ہے
عصرِ رواں ہو یا کہ وہ عہدِ گزشتہ ہو
اس کا غلام ہوں کہ جو سلطانِ نعت ہے
نقاد تھام لے کہ  کوئی نکتہ دانِ شعر
ہموار سب کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے
دراصل نعت خواں ہے موذٌِن کہیں جسے
یعنی اذان بھی  کوئی اعلان ِ نعت ہے
===== [[مبشر صائم علوی]]، [[حاصل پور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : ملک مبشر صائم علوی
اپنا تو فخر زیست میں دیوانِ نعت ہے
اپنی تو آن بان فقط شانِ نعت ہے
اہلِ سخن سنبھل کے، یہ عنوانِ نعت ہے
چلیے ٹھہر ٹھہر کے، یہ میدانِ نعت ہے
اس دن سے ہوگیا ہوں مقدر کا میں دھنی
جس دن سے میری فکر پہ بارانِ نعت ہے
منزل بھی ایسے شخص کی رہتی ہے منتظر
جس کو تلاشِ گوشہءبستانِ نعت ہے
صلِّ علٰی کی لوریاں ماوں سےہیں ملی
ہر بچہ بچہ اس لئے قربانِ نعت ہے
عزت، وقار ، و منزلت اس کا ہے پیرہن
جو شخص بھی یہاں پہ نگہبانِ نعت ہے
ایسے لگا میں اور ہی دنیا میں ہوں مکیں
یہ کیفیت بنی مری دورانِ نعت ہے
وقتِ نشور حکم ہو اے کاش اس طرح
اُس دل کو لاو جس میں کہ ارمانِ نعت ہے
عیبوں کو میرے ڈھانپ کے رکھتی ہے ہر گھڑی
صائم کے سر پہ چادرِ احسانِ نعت ہے
===== [[محبوب احمد]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : حافظ محبوب احمد
پھرعالمِ حضوری ہے،امکانِ نعت ہے
تیارپھرنزول کوقرآنِ نعت ہے
دھرتی ہوآسماں ہوکہ لاہوت ولامکاں
میری نگاہ میں سبھی سامانِ نعت ہے
ہر پھول کی مہک سےمعنبر ہے کائنات
کیا پر بہار صحنِ گلستانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں سیرت ہے جلوہ گر
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر حرفِ نعت صورتِ خاور ہے ضوفشاں
ایوانِ نور ہے کہ یہ دیوانِ نعت ہے
لوح وقلم بدست ہے ہر ایک نغزگو
جوبن پہ آج اپنے دبستانِ نعت ہے
آئےہےحرف حرف سے صلِّ علیٰ کی گونج
پایا درِ حضور سے فیضانِ نعت ہے
نعلینِ شاہ سے ہیں ہوئی تاج پوشیاں
گفتہ مرابھی صاحبو!سلطانِ نعت ہے
ہر حرف ضوفشاں ہے شبِ ماہ کی طرح
اے لذّتِ فنا! یہ شبستانِ نعت ہے
فکرونظرکےیہ بڑےمشکل ہیں مرحلے
یہ ہے حرائے نعت، یہ فارانِ نعت ہے
===== [[محبوب علی جوہر]] =====
ان کے تو پاس سایہء دامانِ نعت ہے
رحم و کرم بھی ورثہ خاصانِ نعت ہے
پیران عشق احمد و حامد کہیں جسے
اس مصطفی کا نام ہی وجدان نعت ہے
احسن ہر اک لحاظ سے حضرتؐ کی ذات ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
روح القدس ،ہوں خلد کی خوشبوئیں ،رونقیں
کتنا عظیم تر ترا سامانِ نعت ہے
مجھ سے کہا گیا کہ ہوں صدقہ حضور ؐ کا
بابا سے مجھکو اس لیے پیمانِ نعت ہے
ہم پستیوں کے باسی ،کہاں تک رسائی ہو
بس ایک عرش ہی ترے شایانِ نعت ہے
ہر ایک کھا رہا ہے جو صدقہ رسول ؐ کا
ہر ایک اس لحاظ سے مہمانِ نعت ہے
ہیں نعمتیں کروڑوں پر ان میں عظیم تر
خالق کا ایک مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
===== [[مجاہد علی]]، [[لاہور ]] =====
میں اور مرے حروف کی قیمت نہیں حضور
ربِّ جہاں ہی ربِّ دبستانِ نعت ہے
اِس راستے پہ عقل نہیں عشق چاہئیے
اے دل ذرا سنبھل کہ یہ میدان ِ نعت ہے
===== [[مجید اختر رومانی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
مدت سے دل کو یانبی ارمانِ نعت ہے
کیجے عطا وہ حرف جو شایانِ نعت ہے
فرمانِ ربِ مصطفی فرمانِ نعت ہے
ہر بات ہی رسول کی ایمانِ نعت ہے
ہر ایک ذرہ گویا ثناءخوانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
تعریف ہر زبان پہ میرے نبی کی ہے
کیا خوب ہی یہ وسعتِ فیضانِ نعت ہے
اخترکہ کیا سجائیں گے ہم ان کی محفلیں
یہ ساری کائنات ہی ایوانِ نعت ہے
===== [[محسن رضا شافی]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[عباس عدیم قریشی]]
سینے میں میرے دل نہیں گُلـدانِ نعت ہے
یا پھر جوارِ قلب ، گلستانِ نعت ہے
امکان کا وجوب ہے ممکن جہاں جہاں
" ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے "
پوچھا کسی نے نامۂ اعمال میں ہے کیا؟
عاجز نے بس کہا میاں ، ارمانِ نعت ہے
نطق و بیان و صوت و صدا تک نہیں ہے نعت
یہ بزمِ کائنات بہ فیضانِ نعت ہے
یادِ نبی میں آج ہے دل مضطرب بہت
حالت بتا رہی ہے کہ امکانِ نعت ہے
صلّ ِ علیٰ کا ورد ہے جائے نماز پر
اور کشتِ ذہن و فکر پہ بارانِ نعت ہے
نیزے پہ سر بلند ہے لب پر کلام حق
ایسا بھی  کوئی اور سخندانِ نعت ہے؟
شافی خدا نے نعت میں کیا کیا سمودیا
تکوینی ارتقاء سبھی ، دیوان نعت ہے
===== [[محمد باقر ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : سید محمّد باقر زیدی
کتنا وسیع حلقہء دامان ِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکان ِ نعت ہے"
اگتے ہیں اِس میں پھول ثناۓ رسول کے
دل کی زمین ہے کہ خیابان ِ نعت ہے
تابش سے جس کی خیمہء عالم ہے ضوفشاں
سورج نہیں یہ گوہر ِ تابان ِ نعت ہے
اُن ص کے کرم سے دفتر ِ مدحت پہ آگیا
وہ حرف ِ بے نظیر جو شایان ِ نعت ہے
پاس ِ ادب ، سلیقہء الفاظ ، عاجزی
وارفتگیء شوق میں سامان ِ نعت ہے
صَد شُکر میں سخن میں مُقلّد اُسی کا ہوں
وہ رشک ِ بوتراب ع جو سُلطان ِ نعت ہے
باقر ہمیں ملے گا ریاض ِ جناں میں گھر
گُلزار ِ ہست و بُود میں اعلان ِ نعت ہے
===== [[علی حارث]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
میرے خیال میں یہی فیضان نعت ہے
عشاق کو ملا جو یہ دیوان نعت ہے
کیوں آج تک احاطہ نہیں ان سے ہو سکا
حیراں ہیں عقل والے بھی کیا شان نعت ہے
اس پر نزول ہوتا ہے رحمت کا عمر بھر
جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامان نعت ہے
یعنی درود اور سلام ان کی ذات پر
بخشش کے واسطے ملا سامان ِ نعت ہے
وہ ذات کارساز ہے کوشش تو کیجیے
“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”
حارث گنہگار خطاکار ہے مگر
صد شکر اس خدا کا غلامان نعت ہے
===== [[محمد شاہ ہمدانی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : سید محمد شاہ ہمدانی
اب روح اور سانس بھی گردانِ نعت ہے
سو زندگی وہی ہے جو قربانِ نعت ہے
عشق ِ رسول ہی مِرا سامانِ نعت ہے
اس کے طفیل مل گیا فیضانِ نعت ہے
کرتا رہا وظیفہ درودو سلام کا
اس وقت کی وہ خامشی گردانِ نعت ہے
اللہ کے ولی نے بتائی مجھے یہ بات
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
مجھ کو ذرا بھی خوف نہیں پل صراط کا
امداد میں رسول کی فیضانِ نعت ہے
دن رات بھیجتا ہوں شہِ طیبہ پر سلام
بس آخرت کو پاس یہ سامانِ نعت ہے
ہر اشک کے سبب مرے اشعار ہوگئے
اتنا حسیں تبھی مرا دیوانِ نعت ہے
اظہارِ عشق کرتا ہوں سرکار سے میں خوب
ہوتی ہے دلبری سبھی، دورانِ نعت ہے
تم چشمِ دل سے گنبد ِخضری کو دیکھتے
خلدِ بریں کا ٹکڑا یہ، ایوانِ نعت ہے
دن رات بھیجتے رہو ان پر سلام تم
میرا عقیدہ ہے ؛یہی رحمانِ نعت ہے
جلوے رسول کے ہیں میسر مجھے مدام
لوگو میں جانتا ہوں ؛کہ امکانِ نعت ہے
اشکوں سے نعت کہتا رہا ہوں رسول کی
کتنا سکون مل گیا ؛ دورانِ نعت ہے
خلدِ بریں اسی کی ہے آمد کی منتظر
جس شخص کا عقیدہ ہے؛ ایمانِ نعت ہے
دن رات سوچتا ہوں پیمبر کی شان میں
ہر ایک شعر میرا یوں؛ مہمانِ نعت ہے
اللہ سے یہی ہے دعا، نعت کہہ سکوں
اک زیست بھر رہا مجھے ارمانِ نعت ہے
چرچا انہی کے صدقے محمد شہا ہے سب
میری حیات بن گئی عنوان ِ نعت ہے
===== [[محمد صدیق]]، [[جلال پور جٹاں، گجرات]]، [[پاکستان]] =====
مدحت رسول پاک کی پہچانِ نعت ہے
الفت نبی کی آل سے پیمانِ نعت ہے
قدسی بلائیں لیتے ہیں اس خوش خیال کی
جس آدمی کے پاس بھی سامانِ نعت ہے
مال و متاع دولتِ دنیا و آخرت
جو کچھ بھی میرے پاس ہے فیضانِ نعت ہے
منظر درِ حبیب کا کیسے بیاں کروں
تنکا در رسول کا مژگانِ نعت ہے
لو لاک کا ہے معنی و مفہوم یہ کھلا
جو کچھ ہے کائنات میں سامانِ نعت ہے
ناصح نظر اٹھا کے زرا کائنات دیکھ
" ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
===== [[مرزا حفیظ اوج]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
اصل الاصول بندگی عرفانِ نعت ہے
یارب وہ فکر دے کہ جوٰ شایانِ نعت ہے
یہ رفعتِ خیال ، یہ پاکیزگئ فکر
مدحت سپاس ذوق یہ، فیضانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات ترے لطف کا رہین
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
سرسبز و شاد رکھے خدا اہلِ عشق کو
عشاق کی زبان گلستانِ نعت ہے
اپنی تو جستجو کا خلاصہ یہی ہے اوج
جو کچھ ہے  کائنات میں امکانِ نعت ہے
===== [[مرغوب بانہالی]]، [[کشمیر]]، =====
پیشکش : [[جوہر قدوسی]]
ہر سورئہ فُرقان اِک دیوانِ نعت ہے
ہر سُنّتِ رسولؐ اِک عُنوانِ نعت ہے
اُن کے وقار و صبر کے ذکرِ جمیل سے
ملکوت کے جہاں میں خیابانِ نعت ہے
شجر و حجر بھی آپؐ کے مِدحت گذار ہیں
عالم نواز گویا کہ فیضانِ نعت ہے
ایثار ہے سراپا ہی اسوہ رسول کا
ہر اِک حوالہ جِس کا چراغان نعت ہے
مرغوبؔ اُن کے اُسوہ میں ڈھلنے کی دیر ہے
ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے
مکمل نام : پروفیسر مرغوب بانہالی، صدر نعت اکادمی کشمیر
===== [[مرید عباس خاور]]، [[میلسی]] =====
بشکریہ : [[یاسر عباس فراز]]، [[میلسی]]
اس مضطرب وجود میں بس جانِ نعت ہے
یہ فکر سانس دل سبھی سامانِ نعت ہے
آنکھوں میں خاکِ راہِ مدینہ کا نور ہے
پلکیں فلک کو چھوتی ھیں احسانِ نعت ہے
یوں مل گیا مدینے کی ٹھنڈی ھوا میں سانس
سینے کی سبز روشنی فیضانِ نعت ہے
خوابوں میں زائرینِ مدینہ ملے مجھے
تعبیر ھو گیا ھوں یہ ایمانِ نعت ہے
جبریل ساتھ لے کے پیامِ خدا چلے
گذرا جہاں جہاں سے بھی قرآنِ نعت ہے
میرا و ضو ,نماز, تلاوت, قبول ھو
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے "
نعلینِ مصطفٰی ص کا ہے  نقشِ حسیں ملا
خاور مجھے عطا ھوا وجدانِ نعت ہے
===== [[مزمل رضا جاذب]]، [[ امراوتی مہاراشٹر]]، [[انڈیا]] =====
بشکریہ : [[محبوب احمد]]، [[سرگودھا]]
کونین میں بلند قلمدانِ نعت ہے
ہر مدح و وصف زینت ایوانِ نعت ہے
کوثر دوات ہو پَرِ جبریل ہو قلم
پھر بھی نہ ہو تمام عجب شانِ نعت ہے
ہر ایک حرف، مدح، ہر اک لفظ ہے ثنا
قرآن کی زبان ہی شایانِ نعت ہے
سامانِ حشر مل گیا مجھ کو بہ فیض عشق
صد شکر! میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
عشق رسول سے ہیں رضا کی بلندیاں
نعمان ِ وقت پیروِ حسانِ نعت ہے
دنیا کے راستے ہوں کہ محشر کی منزلیں
"ہر شعبہ حیات میں اِمکان نعت ہے"
جاذب خزاں کی زد میں وہ گلشن نہ آئے گا
دن رات جس پہ سایہ ء بارانِ نعت ہے
===== [[مزمل شاہ]]، [[بری امام، اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
کِتنا بسیط دوستو عنوانِ نعت ہے
" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
محشر میں اپنے نعت نگاروں میں گنئے گا
آقا مرے بھی ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
سرسبز کشتِ شعر ہے لطفِ کریم سے
میری بھی شعر گوئی پہ بارانِ نعت ہے
اپنے حضور کی سدا مدحت لکھا کروں
دل میں مرے تو بس یہی ، ارمانِ نعت ہے
یہ وہ چمن ہے جو کہ خزاں آشنا نہیں
مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے
دیکھو تو پڑھ کے غور سے قرآں کا حرف حرف
ہر ایک حرف مایۂ دیوانِ نعت ہے
واصف جو مصطفےٰ کا مزمل ہوا ہوں میں
میرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے
===== [[مسعود ساموں]]، [[بانڈی پورہ]]، [[ کشمیر ]]، [[انڈیا]] =====
حسن خیال سلسلہ جنبان نعت ہے
اک سلسلۂ نور بدامانِ نعت ہے
اسوہ جنابؐ کا جو حسن ہے تو لازماً
’’ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے‘‘
ہاں اے سمند شوق سنبھل کر قدم بڑھا
آساں نہیں یہ جادۂ پیچان نعت ہے
ہشیار خامہ! سجدے میں لغزش  کوئی نہ ہو
ہاں چل کشاں کشاں یہ خیابان نعت ہے
ملحوظ انتہاے ادب رکھ جنابؐ میں
شان نبیؐ کا ذکر ہے ایوان نعت ہے
نیچی نگہ خمیدہ بدن چشم باوضو
لرزیدہ جاں ہو ہاں یہی شایان نعت ہے
ساموںؔ ثنا کے پھول عقیدت کی پتّیاں
پاے نبیؐ میں رکھ یہی سامان نعت ہے
بشکریہ : غلام فرید واصل
===== [[مشاہد رضا عبید]]، [[گوندا]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : محمّد مشاہد رضا عبید القادری
درمانِ درد نغمۂ ذی شانِ نعت ہے
قلبِ حزیں فدائے اسیرانِ نعت ہے
يارب! کبھی یہ دور و تسلسل نہ ختم ہو
بے پایاں دل میں جذبہ وارمانِ نعت ہے
عشقِ رسول خود ہی بناتا ہے راستے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
پیارے رضا نےکرکے یہ سب کو دکھادیا
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
جس کو نہ چھوسکےکبھی بادِ خزاں کاہاتھ
ایسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے
یونہی نہیں امڈ پڑی یہ کائنات عشق
کوثر بداماں چشمۂ حیوانِ نعت ہے
ہر درد بھول کر جو مچلنا ہوا نصیب
محبوبِ رب کا صدقہ ہے، فیضانِ نعت ہے
دل جگمگارہے ہیں ، چمکتے ہیں حوصلے
روشن یہاں پہ شمعِ شبستانِ نعت ہے
راحت رساں ، قرار نشاں ، مرحمت فشاں
کیا دل نواز نغمۂ مرغانِ نعت ہے
رزقِ ثنا میں حصہ ہمارا بھی ہے عبید
از فرش تا بعرش سجا خوانِ نعت ہے
===== [[مشاہد رضوی]]، [[میلگاؤں]]، [[انڈیا]] =====
میرے لبوں پہ نغمۂ ذیشانِ نعت ہے
"ہر گوشۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
میرے شعور و فکر کو بالیدگی ملی
لاریب مجھ پہ دوستو فیضانِ نعت ہے
اس کی نجات کے لیے ساماں بنے گی نعت
جس کو ہوا نصیب سے عرفانِ نعت ہے
ظاہر کے ساتھ ہوگیا باطن بھی مستنیر
جس کا خیال و فکر ہی عنوانِ نعت ہے
روزِ ازل سے بالیقیں ایقان ہے مرا
پھولا پھلا ہمیشہ خیابانِ نعت ہے
ہر ہر ورق پہ نقش ہے سیرت حضور کی
قرآنِ پاک سارا دبستانِ نعت ہے
مجھ پر ہوئی حضور کی لاکھوں عنایتیں
ہاتھوں میں میرے خیر سے دیوانِ نعت ہے
دیدارِ مصطفیٰ ہو میسر خدا کرے
اس خواب کے لیے مجھے ارمانِ نعت ہے
مضمونِ نعت میں نہ ہو کچھ بھی مبالغہ
باہوش رہ کے چلیے یہ میدانِ نعت ہے
مجھ پہ رضا کے حُسنِ تخیل کی ہے عطا
حاصل جو مجھ کو ہوگیا وجدانِ نعت ہے
اہلِ وِلا کا پیار مُشاہد کو جو ملا
سچ پوچھیے تو اس پہ یہ احسانِ نعت ہے
===== [[مصعب شاہین]]، [[میانوالی]]، [[پاکستان]] =====
یزداں کا خاص فضل ہے, میلانِ نعت ہے
'ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے'
احساس, لفظ, لہجہ و گفتار عنبریں
کیونکر نہ ہونگے؟دل جو گلستانِ نعت ہے
انؐ کی ثنا کے نور سے روشن مرا سخن
الحمد, بزمِ فکر, قلمدانِ نعت ہے
عشقِ نبیِ پاکؐ رگ و پے میں ہے مرے
جاں میں بصورتِ لہو اک کانِ نعت ہے
کلیاں چٹک رہی ہیں بہ الفاظِ خوشنما
صبحِ گمان سیرِ خیابانِ نعت ہے
پاکیزہ قلب, پاک تخیل, طہور لفظ
اسلوبِ خوش بیان ہی شایانِ نعت ہے
اوجِ ادب ہے, وجد ہے, سرمستِ عجز ہوں
سرشارِ اطمینان ہوں, فیضانِ نعت ہے
کرتا ہے آبیاریِ گلزارِ مصطفیٰ ؐ
مصعب, تو خوش نصیب ہے, دہقانِ نعت ہے
* اطمینان کی "ی" گرائی گئ ہے ۔
===== [[مطلوب الرسول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
حاصل جو کائنات کو میلان نعت ہے
ہرشعبہء حیات میں امکان نعت ہے
لازم نہیں زبانِ قلم سے کریں بیاں
ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
محتاط اہل فن کہ ہے دربار نعت یہ
ان کا ادب ہی اصل میں دربان نعت ہے
وہ دل بھی اک طرح سے مدینہ ہے دوستو
جس دل میں صبح وشام ہی ارمان نعت ہے
حسان ہوں یا عرفی وجامی ہوں یا رضا
جذب و وفورو شوق ہی میزان نعت ہے
رحم وکرم، مروت و جود وسخا و صدق
سیرت پہ گفتگو ہی توجزدان نعت ہے
محبوب کوخبرہے کہ عاشق ہے کون کون
ان کی نظر میں ہوں کہ یہ احسان نعت ہے
ہرلفظ میری سوچ کا خوشبو میں ڈھل گیا
میں کیوں نہ مان لوں کہ یہ فیضان نعت ہے
شق قمر ہو اسری ومعراج ہویا حسن
ان کا ہرایک معجزہ ہی جان نعت ہے
حب نبی سے خالی ہو دل جس کا اے قمر
اس کو کہاں خبر ہو وہ کیا جانے نعت ہے
===== [[مظہر فرید بابا وٹو]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
میں کیا بتاؤں دوستو کیا شان نعت ہے
قرآنِ پاک سارا ہی سامانِ نعت ہے
مجھ پر کرم ہوا ہے جو لکھی ہے میں نے نعت
ورنہ کہاں یہ عاصی، کہاں تانِ نعت ہے
آقا کی ہر ادا میں ہے معراجِ بندگی
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
عشقِ نبی ضروری ہے ہر نعت کے لئے
مضمر نبی کے عشق میں عرفان نعت ہے
دل سے پڑھو درود محمد کی ذات پر
مظہر درود پاک ہی تو جانِ نعت ہے
===== [[مفتاح الحسن چشتی]]، [[فافوند]]، [[انڈیا]] =====
سرکار کا کرم ہے یہ احسانِ نعت ہے
ہمراہ میرے ہر گھڑی فیضانِ نعت ہے
کردار کہہ رہا ہے یہ اصحابِ شاہ کا
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
کھلنے لگے ہیں روز ہی چمپا سمن گلاب
جب سے زمین قلب پہ بارانِ نعت ہے
ہر واصفِ حضور نے آخر میں یہ کہا
قرآں میں ان کا ذکر ہی شایانِ نعت ہے
خورشیدِحشرسُن،ہمیں آنکھیں نہ تودکھا
سر پر ہمارے سایہء دامانِ نعت ہے
میں ہند میں ہوں ذہن ہے دربارِ شاہ میں
مجھ پر خدا کا فضل یہ دورانِ نعت ہے
محوِ ثنائے سیدِ عالم ہے روز و شب
رب کی عطاسےجسکوبھی عرفانِ نعت ہے
لغزش ہوئی ذرا سی تو ہو جاؤ گے ہلاک
مفتاح ہوش باش یہ میدانِ نعت ہے
===== [[مقصود احمد]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
نطق و قلم کو میرے بھی ارمانِ نعت ہے
لیکن نصیب کب مجھے عرفانِ نعت ہے
توصیف کے کھلے ہوئے ہیں گل سطر سطر
قرآن رب کا سارا گلستان ِ نعت ہے
بھرتے رہیں گے تا با ابد عاشقِ رسول
پھیلا ہوا ازل سے جو دامانِ نعت ہے
ارض و سما بھی کرتے ہیں ان کی ثنا بیاں
ساری یہ کائنات بھی عنوان ِ نعت ہے
ہر ذرہء زمیں پہ عنایت ہے آپ کی
"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"
خالق بھی ہمنوا ہے ہمارا اسی طفیل
ہم عاشقوں پہ خاص یہ احسانِ نعت ہے
کیسا ہی  کوئی کیوں نہ ہو ماہر سخن طراز
مت جانو معتبر اگر انجان ِ نعت ہے
پا جاتے ہیں نمو مرے فکر و خیال بھی
ہر دم برستا مجھ پہ جو بارانِ نعت ہے
نوک ِ قلم پہ آتے ہیں الفاظ غیب سے
مقصود اور کیا ہے ، یہ فیضان ِ نعت ہے
===== [[مقصود احمد تبسم]]، [[دوبئی]] =====
زُلفِ رُسول ﷺ مشک بہ دامانِ نعت ہے
سر پر سجی شفاعتِ سلطانِ نعت ہے
ماتھے پہ نورِ شمعِ فروزانِ نعت ہے
رگ کا جلال ہاشمِ اعلانِ نعت ہے
مِحراب ابروؤں میں نِہاں جُنبشِ نِجات
اَلطاف ہم پہ صدقۂ چشمانِ نعت ہے
پلکوں کا حُسن ، زینتِ ابصارِ مصطفےٰ ﷺ
کتنا حسین سایۂ مژگانِ نعت ہے
انفِ مبارک آپ ﷺ کی رخشِندہ و جمیل
عارِض کی سُرخیوں میں گلستانِ نعت ہے
گل اس لئے بھی شرم سے گُلنار ہو گئے
ہونٹوں پہ رشکِ لعلِ بدخشانِ نعت ہے
ریخوں سے پھُوٹتے ہوئے انوار دیکھ کر
موتی عدن کا عاشقِ اسنانِ نعت ہے
آیاتِ بیّنات کو ہے ناز اِس لئے
سرکار ﷺ کی زبان پہ قرآنِ نعت ہے
دندان ، لب ، زبان ، کلام اور لعابِ پاک
میرے نبی ﷺکا کنزِ دہن ، کانِ نعت ہے
ریشِ مبارک آپﷺ کی ہے رِحلِ مصحفی
رُخ پر تجلیات کا جُزدانِ نعت ہے
حُسنِ ملیحِ مصطفویﷺ کا نہیں جواب
مانا صبیح یوسفِ کنعانِ نعت ہے
اصحاب حِفظ کرتے رہے مُصحفِ رُسولﷺ
چہرہ مرے حُضور ﷺ کا قرآنِ نعت ہے
اُن ﷺ کی سماعتوں سے تو کچھ بھی نہیں بعید
کانوں میں صوتیات کا اَلحانِ نعت ہے
گردن کا وصف لکھتے ہوئے سوچتا رہا
اعضائے پاک وِرد ہیں گردانِ نعت ہے
مُہرِ نبوّت آپ ﷺ کی ، ہے زیبِ منکبین
سلمان فارسی ، یہیں ایمانِ نعت ہے
شانوں پہ جس گھڑی ہوں نواسے براجمان
طولانئ سجود ہی عرفانِ نعت ہے
سینے کو اِنشراح کا رتبہ دیا گیا
قلبِ رُسول ﷺ مہبطِ قرآنِ نعت ہے
جسمِ نبی ﷺ کے پاک پسینے کا سلسلہ
مُشک و گُلاب و سُنبل و ریحانِ نعت ہے
دل کش کلائیاں ہیں تو بازو طویل ہیں
قامت بھی رشکِ سروِ گلستانِ نعت ہے
آقا ﷺ کے ناخنوں کو سنبھالا تبرُّکاً
اصحاب کا یہ ذوق ہی وجدانِ نعت ہے
چشمے اُبلتی انگلیاں ، نازُک ہتھیلیاں
دستِ کرم پہ بیعتِ رضوانِ نعت ہے
اِمکان کی حُدود سے باہَر نکل کے دیکھ
اُن ﷺکے نُقوشِ پا میں بھی سامانِ نعت ہے
زانو ، قدوم ، پنڈلیاں ، تلوے اور ایڑیاں
مقصودؔ اِن کا ذکر خِرامانِ نعت ہے
===== [[مقصود علی شاہ]]، [[برمنگھم]]، [[برطانیہ]] =====
مکمل نام : سید مقصود علی شاہ
ویسے تو ساری عمر ہی قُربانِ نعت ہے
واللہ پھر بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے
سانسیں بدن میں سطریں ہیں مدحِ رسول کی
سامانِ زیست ہی مرا سامانِ نعت ہے
ہم سارے اُس کے در کی سلامی کو آئے ہیں
حسّان ایک ہے، جو کہ دربانِ نعت ہے
بس ایک حاضری کا سبب ہے، جو خُوب ہے
ورنہ تو کون ہے جسے عرفانِ نعت ہے
سو سو طرح سے اُن کے کرم کے ہیں سلسلے
مجھ پر مرے کریم کا فیضانِ نعت ہے
سب اہلِ دل ہی جیسے اُسی کی پنہ میں ہیں
کتنا سُخن نواز یہ دامانِ نعت ہے
مہکے ہیں چار سُو نئے رنگوں کے زمزمے
برسا زمینِ شوق پہ بارانِ نعت ہے
ہر صبحِ نو کی پہلی کرن سے یہی کھُلا
"ہر شُعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
پھر سے جو حاضری کا بُلاوا ہُوا مجھے
ممنونِ نعت پر بڑا احسانِ نعت ہے
تھامے ہیں اپنی اپنی کتابِ عمل تمام
مقصود میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
===== [[منظر پھلوری]]، [[ٹوبہ ٹیک سنگھ]]، [[پاکستان]] =====
کس درجہ لاجواب یہ عنوانِ نعت ہے
جو سچ کہوں تو مجھ کو یہ تابانِ نعت ہے
محوِ ثنا میں رہتا ہوں ہر گام ہر گھڑی
دل سے مرا یوں ہو گیا پیمانِ نعت ہے
ڈرتا ہوں بیش و کم سے محبت کے باب میں
خامہ ہے اور سامنے میزانِ نعت ہے
بستی ہے روح و جان میں قلب و جگر میں بھی
یہ جسم کی جاگیر میں سامانِ نعت ہے
یہ فکر و آگہی یہ تصور خیال سب
ان سب میں جاوداں فقط ارمانِ نعت ہے
جھک جھک کے مجھ کو ملتا ہے ہر شخص جو یہاں
منظؔر یہ مجھکو لگتا ہے فیضانِ نعت ہے
===== [[منظر چشتی]]، [[دار الخیر پھپھوند شریف]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : سید محمّد منظر چشتی
*کاغذ، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے*
*فیضان نعت ہے یہی فیضانِ نعت ہے*
*الفاظ، فکر اور تخیل تو ہے بدن*
*میری نظر میں عشق نبی جانِ نعت ہے*
*جس جا تمام "صنف سخن" لیتی ہیں پناہ*
*وہ کیا ہے؟ میں بتاؤں؟ وہ دامانِ نعت ہے*
*سب نعت گو وزیر ہیں سلطانِ نعت کے*
*"حسان" تاجدار ہے سلطانِ نعت ہے*
*جس میں چہک رہی ہوں دو عالم کی بلبلیں*
*ایسا تو صرف ایک گلستانِ نعت ہے*
*لکھیں گے اب سے نعت ہمارے قلم، دوات*
*ہم سے ہماری فکر کا پیمانِ نعت ہے*
*عشق ان سے پہلے کیجیے پھر غور کیجیے*
*"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"*
*میرا وجود اس لیے مہکا ہوا رہا*
*میرے بھی دل کے حجرے میں گلدان نعت ہے*
*اٹھ کر لحد سے ہم بھی پڑھیں گے مشاعرہ*
*منؔظر! ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے*
===== [[منصور فریدی]]، [[گایا]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر منصور فریدی
ہر لفظ تازہ پھول بہ عنوانِ نعت ہے
قرآن اک شگفتہ گُلِسْتانِ نعت ہے
مرغِ خیال آج بھی ، پہنچا نہیں وہاں
تعمیر جس بلندی پہ ایوانِ نعت ہے
جس کی چمک پہ دن کے اجالے نثار ہیں
کیا خوب تاب ناک شبستانِ نعت ہے
ہر گوشہ کائنات کا مہکے گا تا ابد
ہر وقت عطر بیز یوں گل دانِ نعت ہے
کیا ہے مری بساط کہ میں نعت لکھ سکوں
جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں یہ فیضانِ نعت ہے
فرصت ملے تو جاگتی آنکھوں سے دیکھیے
*ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*
نذرِ خزاں نہ ہوگا مری فکر کا چمن
شاداب اِس میں فصلِ بہارانِ نعت ہے
بکھری ہوئی حیات کی زلفیں سنوار دیں
صد شکر مجھ پہ کتنا یہ احسانِ نعت ہے
فکر و قلم دوات پہ مجھ کو نہیں یقین
لطف و کرم حضور کا سامانِ نعت ہے
ہرگز نہ کرسکے گا *فریدی*  کوئی عبور
وسعت بہت لیے ہوئے میدانِ نعت ہے
===== [[منیب خان نیازی]]، [[پنڈی بھٹیاں]]، [[پاکستان]] =====
جب سے وفورِ شوق پہ بارانِ نعت ہے
دل دل نہیں ہے تب سے گلستانِ ِ نعت ہے
اہلِ نظر پہ بات ہوئی ہے یہ منکشف
ہر شعبہء ِِ حیات میں امکانِ نعت ہے
پھولوں کی مثل خوشبو ہے ہر ایک نعت کی
دیوانِ نعت ہے کہ یہ گلدانِ نعت ہے
حد سے بڑھے تو شرک گھٹایا تو بے ادب
چلنا ذرا سنبھل کہ یہ میدانِ نعت ہے
آگاہ فن سے ہونا اہم ہے بہت مگر
در اصل عشقِ مصطفیٰ ہی جانِ نعت ہے
صدقے میں نعت ہی کے ملیں ہم کو عزتیں
بے پایاں ہم پہ شفقت و احسانِ نعت ہے
ہو صبح یا کہ رات مگن ہوں میں نعت میں
اب تو ہر ایک لحظہ ہی ارمانِ نعت ہے
وہ آلِ مصطفیٰ ہوں کہ اصحابِ مصطفیٰ
ہر دو کا ذکر شَامِلِ عنوانِ نعت ہے
"سایہ ہے نعت پر ورفعنا کا دوستو"
خود ربِ کائنات نگہبانِ نعت ہے
ہر زاویے میں فکر کے مضمونِ نعت ہے
گویا تمام عمر ہی دورانِ نعت ہے
سب نعت لکھنے والے ستاروں کی مثل ہیں
جگ مگ انہی سے چرخِ خیابان ِ نعت ہے
جِس جِس جگہ بھی گونجتی ہے بانگِ حمدِ رب
اُس اُس جگہ پہ گونجتی آذانِ نعت ہے
اعمال پر تو  کوئی بھروسہ نہیں مجھے
صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
رب کا نیازی تجھ پہ ہے کتنا بڑا کرم
حاصل تجھے بھی حصہ ءِ فیضانِ نعت ہے
===== [[منیر احمد خاور]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
دل میں کُھلا ہوا جو دبستان نعت ہے
اللہ کا کرم ہے،یہ فیضان نعت ہے
یٰسین وطہٰ،والضحیٰ،والیل سے سجا
رب عُلی نے بھی لکھا دیوان نعت ہے
نورانی فکر،قافیے،قرطاس اور قلَم
میرا اثاثہ بس یہی سامان نعت ہے
خالق کا لے کے ساتھ فرشتوں کو دم بدم
پڑھنا درود پاک ہی اعلان نعت ہے
جاں میں مری درود کے، مدحت کے گُل کّھلے
دل ہو گیا مٹالِ گلستان نعت ہے
صوفی،ولی ہو یا کہ ہو  کوئی امام وقت
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
چڑھ کر جو پڑھتا نعت ہے ممبر پہ آپ کے
حساّنِ خوش نصیب وہ سلطان نعت ہے
حکمِ خدا کی پیروی خاور کا ہے شِعار
یہ بھی نبھاتا ہر گھڑی پیمان نعت ہے
===== [[مونا نقوی ]]، [[سرگودھا ]]، [[پاکستان ]] =====
وردِ زباں درود بھی دورانِ نعت ہے
شاہِ اُمم کا ذکر ہی پہچانِ نعت ہے
جھک کر فرشتے بھی ہیں مرا ہاتھ چومتے
جس ہاتھ سے رقم ہوا دیوانِ نعت ہے
بخشا ہے پھر دوام یوں نانا کے دین کو
زینب س کے دم سے عام یہ فیضانِ نعت ہے
پڑھتا ہے خود قصیدے خدا جن کے نام کے
آلِ عبا کا گھر ہی وہ وجدانِ نعت ہے
اسلام کو حیات نئی دے گیا ہے جو
مضطر سا وہ اسیر ہی سلطانِ نعت ہے
مجھ پر یہ منکشف ہوا الہامِ نعت سے
ہر شعبہِ حیات میں امکان نعت ہے
===== [[میرزا امجد رازی]]، [[پاکستان]] =====
بندہ کہ فردِ نسلِ گدایانِ نعت ہے
پہچاں مری قبیلۂ حسّانِ نعت ہے
ہر اِک جہاں کی غایتِ اولیٰ حضور ہیں
ہر اِک ظہور حجّت و برہانِ نعت ہے
ہے شاخ شاخ بلبلِ سدرہ طواف میں
مصحف خدا کا گلشنِ الوانِ نعت ہے
اِک رمزِ" قُلْ"نےکھولاہےمجھ پریہ بابِ کشف
توحید عیشِ جلوۂ سامانِ نعت ہے
ہر "خطِّ سرنَوِشت " کا عنوان ہے یہی
ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے
جس کو لہو لہو کرے سجدے میں تیغِ ہجر
وہ دل شہیدِ مصحفِ عثمانِ نعت ہے
اِک " وصفِ لاتناہی " کہ جملہ صفات میں
سُن لو سخنورو کہ یہی جانِ نعت ہے
یعقوبِ فکر کو مری آنکھیں نہ کیوں ملیں
لفظوں میں بوۓ یوسفِ کنعانِ نعت ہے
کس نے کہا کہ چاہیے آزادئ سخن
دل تو ہمارا قیدئ زندانِ نعت ہے
رازی وزیر ملکِ سخن میں ہوں اُس کا میں
احمد رضا وہی کہ جو سلطانِ نعت ہے
===== [[نادر صدیقی]]، [[بوریوالا]]، [[پاکستان]] =====
قرآن پاک مطلع ِ دیوانِ نعت ہے
اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
یہ خوش نصیب حافظ ِ قرآن ِ نعت ہے
کیسا فقیر ِ نعت پہ احسانِ نعت ہے
صدشکر امتی ہے مسلمانِ نعت ہے
مجھ سا گدا غلامِ غلامانِ نعت ہے
کیسا حسین خانہءِ عرفانِ نعت ہے
حسان ہے کہ بوذر و سلمانِ نعت ہے
جس کو رسولِ پاک نے منبر عطا کیا
حسانِ نعت ہے وہی سلطانِ نعت ہے
===== [[ناصر حسین راضی]] , [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[ریاض قادری ]]
عرش علی پہ جب ہوا پیماں نعت ہے
لاگو ہوانمود پہ فرمان نعت ہے
خود خالق حیات توسلطان نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
ہونٹوں پہ ہیں سکوت کے پہرے لگے مگر
دھڑکن یہ کہہ رہی ہے کہ میلان نعت ہے
ہم کشتگاں کی جملہ تشفی کے واسطے
صلی علی نے کردیا درمان نعت ہے
مہکی حضوریاد کی خوشبو شعور میں
میلادجاں سے بن گیا گلدان نعت ہے
محشر میں اپنی تنگی داماں کے خوف سے
پکڑابڑے وثوق سے دامان نعت ہے
اس کردگار شوق نے قرآں میں جو کیا
وہ اعتراف شوق ہی شایان نعت ہے
تلخابہ حیات کی مستی کے واسطے
نازل ہوا حضور پہ دیوان نعت ہے
بدرالدجی کا نور ہے ہر سمت جلوہ گر
پھیلاہوادیارمیں فیضان نعت ہے
نیرنگئ خیال کو عرفان ہوا نصیب
قرطاس جاں پہ جب ہوا احسان نعت ہے
اکرام لطف کیجئے راضی کو بھی عطا
اک روسیاہ کے دل میں بھی ارمان نعت ہے
صاحبزادہ ناصر حسین راضی فیصل آباد
===== [[ناظر کاظمی ]]، [[لاہور ]] =====
اہل ِیقین کے بخت میں عرفان ِنعت ہے
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
قرآن میں ہے رفعت ِذکرِنبی کی بات
وہ بات خوش نصیب جو شایانِ نعت ہے
کیسے  کوئی کرے گا مدیح نبی بیان
جب نعت خود ہی آیہِ قرآن ِ نعت ہے
فائزجو مدح گوئی کے منصب پہ ہوگیا
ناظر تجھے عطاءہوا فرقانِ نعت ہے
سید ناظر کاظمی، لاہور
===== [[ناہید اختر بلوچ]]، [[ڈیرہ اسماعیل خان]]، [[پاکستان]] =====
دل میں کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے
لفظوں پہ دم بہ دم مرے بارانِ نعت ہے
لب پہ درود ،عشقِ نبی دل میں موجزن
آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے
ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ
جا کے خدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے
قسمت مری سنور گئی ان ﷺ کا کرم ہوا
ان کا کرم ہوا تو یہ فیضانِ نعت ہے
تُو عشقِ مصطفیٰ کو سخن کا امام کر
یہ عشقِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے
مجھ کو عطا ہو صدقہ ءِ حسان یا رسول
سرکار میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے
ناہید شعر گوئی پہ موقوف تو نہیں
”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
===== [[ناہید ورک]]، [[مشی گن]]، [[امریکہ ]] =====
سردارِ کائنات ہی سلطانِ نعت ہے
پڑھ لو درودِ عشق یہی جانِ نعت ہے
کیا حقِ بندگی ہو ادا ان حروف سے
محبوب کی ثنا میں تو قرآنِ نعت ہے
تلقین گونجتی ہے سماعت میں روز و شب
تخلیقِ کائنات ہی شایانِ نعت ہے
ہر اک نبی ہے لائقِ تحسین، ہاں مگر
بِن آپ ﷺ کے ہے کون جو پہچانِ نعت ہے
بادل کا ٹکڑا سایہ کرے مجھ پہ بھی حضور ﷺ
پھر میں بھی کہہ سکوں گی یہ فیضانِ نعت ہے
ہے پاس لا الٰہ بھی ، صل علٰی بھی پاس
یعنی کہ میرے پاس تو سامانِ نعت ہے
پیشِ نگاہ آپ ﷺ کی توصیف ہے مگر
ناہیدؔ کیا تجھے ذرا عرفانِ نعت ہے؟
===== [[مظہر حسین مظہر]]، [[میلسی]] =====
تازہ ہر ایک دور میں عنوان نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
الفاظ کی گرفت میں آتا نہیں کبھی
شاعر پہ وجدو کیف جو دوران نعت ہے
گم کردہ حواس ہیں رومی و بایزید
اے عشق احتیاط یہ میزان نعت ہے
امروز بھی "حدائق بخشش" کے روپ میں
روشن جہاں میں شمع شبستان نعت ہے
'نہج البلاغہ' شرح فرامین مصطفے
قرآن بھی حضور کا دیوان نعت ہے
اقبال ہو حفيظ ہو محسن ہو یا حسن
ہر ایک اپنے دور کا حسان نعت ہے
کیوں کر نہ مشکبار ہو گلدستہ حروف
مہکا خیال و فکر میں بستان نعت ہے
ہر خوشہ خیال بھرا ہے درود سے
جب سے قلم کو ہوگیا عرفان نعت ہے
اے فکر پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدم
ایوان نعت ہے یہ دبستان نعت ہے
اے کاش ان کی شان کے شایان لکھ سکے
مظہر وجود عشق میں ارمان نعت ہے
===== [[ندیم سلطان پوری]]، [[سلطان پور]]، [[انڈیا]] =====
سیرت شہ مدینہ کی عنوان نعت ہے
اس سے ہی کائنات میں فیضان نعت ہے
عاشق رسول پاک کا حسان نعت ہے
دشمن رسول پاک کا نادان نعت ہے
جن و بشر ، ملائکہ،غلمان و حور کے
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
شمس وقمر ستارے ہوں یا ہو وہ کہکشاں
ہر ایک کی جبین پہ لمعان نعت ہے
اس کے لبوں کو چومتے ہوں گے ملائکہ
لب پر سجاے جو  کوئی گلدان نعت ہے
حسان سا ہمیں بھی ہنر کردے تو عطا
یارب ہمارے قلب میں ارمان نعت ہے
مختارکائنات کا جلوہ ہے ہرطرف
دنیا کو مشک بو کیے ریحان نعت ہے
اس کو ملے گا خلد میں ایواں سجا ہوا
دنیا میں جو سنوارتا ایوان نعت ہے
ان کی وِلا میں ڈوب کے نعتیں لکھا کرو
اے مومنو! وِلاے نبی ﷺ جان نعت ہے
مقبول بارگاہ نبی جو بھی ہو گیا
اللہ کی قسم وہی سلطان نعت ہے
پورا کلام پاک ہے توصیف مصطفے
تو  کوئی کیا سمجھ سکے کیا شان نعت ہے
لکھتا ہوں نعت شاہ مدینہ، بروز حشر
کافی مری نجات کو سامان نعت ہے
اے کاش کہہ دیں شاہ مدینہ کبھی ندیم
مجھ کو پسند تیرا یہ دیوان نعت ہے
===== [[ندیم ملک]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
دیوانِ نعت اصل میں عرفانِ نعت ہے
ہر اک سُخن طراز بہ ایمانِ نعت ہے
میں شاعرِ حقیر ہوں اور اک فقیر ہوں
اور مجھ فقیر کو مِلا دیوانِ نعت ہے
میں نے بھی سر کو آپ کی چوکھٹ پہ ڈال کر
ہر آن لے لیا یہاں وجدانِ نعت ہے
مجھ کو ندیم شوخئی یزداں سے کیا غرض
مجھ کو تو مل گیا یہاں رحمانِ نعت ہے
* مقطع فکری طور پر قابل غور ہے
===== [[ندیم نوری برکاتی]]، [[ممبئی]]، [[انڈیا]] =====
اک بے ہنر ہے اور قلمدانِ نعت ہے
سرکار وہ لکھائیں جو شایانِ نعت ہے
انکی تو ذاتِ پاک ہے سر چشمۂ کمال
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
آداب عشق عاجزی سیرت و معجزات
ملحوظ رکھئے اس کو یہی جانِ نعت ہے
شکرِ خدا کہ زیست رہی ہے غزل سے دور
میری متاعِ زندگی قربانِ نعت ہے
احسان آپ کا ہے کرم آپ کا حضور
ورنہ کہاں گنوار کو عرفانِ نعت ہے
دل بے قرار, دیدۂ تر , وردِ لب درود
کیا کیف کیا سرور سا دورانِ نعت ہے
عزت بھری نگاہ سے تکتے ہیں مجھ کو لوگ
نوری یہ اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
===== [[نذیر اے قمر]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[محمّد احمد زاہد]]
رب کی عطائے خاص ہے وجدانِ نعت ہے
ایقانِ نعت ، مرکزِ ایمانِ نعت ہے
محشر میں سراٹھا کے یوں اپنا چلوں گا میں
ہاتھوں میں میرے ہر گھڑی دیوانِ نعت ہے
یہ لمحہ لمحہ گنبدِ خضرا کو سوچنا
آقا کا ہے کرم ، یہی فیضانِ نعت ہے
مدح رسولؐ سے مری قسمت سنور گئی
کس درجہ میری ذات پہ احسانِ نعت ہے
یا رب نہ چھوٹے تادمِ آخر یہ ہاتھ سے
حاصل جو اب نصیب سے دامانِ نعت ہے
ہر اک زمانہ نعت کےصدقے میں ہے قمر
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
===== [[نسرین سید]]، [[اونٹاریو]]، [[کینیڈا]] =====
تخلیقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
گردوں ہے وجد میں، تو یہ وجدانِ نعت ہے
الحمد سے ثنا کروں ، یٰسین سے دُرود
یہ جانِ حمدِ پاک ہے، وہ جانِ نعت ہے
اُنﷺ کی ثنا میں حرفِ گُماں کا گزر کہاں؟
قرآنِ بالیقین جب اعلانِ نعت ہے
آنکھوں میں اشک، سینے میں رقت ہو موجزن
پھر دل میں اُنﷺ کا عشق، ہی سامانِ نعت ہے
رکھو جو انﷺ کی سیرتِ کامل کو سامنے
" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
یہ عجزِ بے پناہ ، میسر جو دل کو ہے
یہ کیف ، یہ سکون ، یہی جانِ نعت ہے
تکریمِ خاص ، حسنِ ادب ، حدِ اعتدال
رکھے جو یہ خیال، نگہبانِ نعت ہے
ہے دین ساری ، مدحتِ آلِ رسولﷺ کی
سرکارﷺ کی عطا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے
کھلتے ہیں پھول صلِ علیٰ کے جہاں مدام
نسرینؔ ، یہ جہان خیابانِ نعت ہے
===== [[نسیم سحر]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
کیسا بھرا ہوا مرا دامان_نعت ہے
عشق ِ نبی مرا سر و سامان ِنعت ہے
سردارنعت گویاں ہے، سلطان نعت ہے
تاریخ میں بس ایک ہی حسانِ نعت یے
موضوع بھی وہی ہے، وہی جان_نعت ہے
وہ حاصلکلام ہی عنوان ِنعت ہے
رکھا ہوا جہاں مرا دیوان_نعت ہے
میرا قلم بھی زینت ِجزدان ِ نعت ہے
اس کے سوا نہ ذکر کسی کا ہو نعت میں
وہ جان ِکائنات ہی جانان ِنعت ہے
ہر شعر میں بیان ہوئی مدحت_رسول
ہر شعر گویا حاصل دیوان ِنعت ہے
ہوتے ہیں قدسیاں بھی یقینا وہاں شریک
برپا جہاں بھی محفل ِیاران ِ نعت ہے
خوشبو کے جھونکے آتے ہی رہتے ہیں میرے گھر
کھولا ہوا جو میں نے ہوادان_نعت ہے
کانوں میں گونجتی ہیں صدائیں درود کی
یعنی کہ آج پھر  کوئی امکان_نعت ہے؟
صل_علی کے ورد سے کرتا ہوں ابتدا
ص ِلعلی کا ورد ہی اعلان ِنعت ہے
حاصل یہ مرتبہ ہے اسے نعت کے طفیل
جو نعت گو ہے، جان ِ دبستان ِنعت ہے
مدحت کی برکتوں سے منور ہے رات دن
گھر نعت کہنے والے کا ایوان_نعت ہے
ہر لحطہ نعت گوئی کے آداب کا خیال
لازم ہے احتیاط، یہ میزان_بعت ہے
جاری رہے گا سلسلہء نعت_مصطفی
اللہ پاک خود ہی نگہبان_نعت ہے
تفہیم. کس کو ہو سکی ان کے مقام کی
انسان کو کہاں ابھی عرفان_نعت ہے
آقائے نامدار کا جب سے ہوا کرم
طبع رواں میں اور بھی مہلان ِنعت ہے
ہونے لگی جو نعتیہ اشعار کی عطا
کیفیت ِجمال سی دوران ِ نعت ہے
آمد کا ایک لامتناہی ہے سلسلہ
اب میں ہوں اور عطایے فراوان_نعت ہے
===== [[نسیمی تاجی]]، [[ ناگپور]]، [[انڈیا]] =====
بشکریہ : [[ارشد رضا قادری]]
ارضِ غزل نہیں ہے یہ میدانِ نعت ہے
ہوش و خرد سے کام لے دیوانے ،نعت ہے
ہر سانس پر درود کا ہدیہ گزاریے
"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
یہ سر اٹھا ہوا ہے تو سرکار کے سبب
یہ دل کھلا ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے
کچھ بھی نہیں حضور کی الفت اگر نہیں
انجانِ زندگی ہے جو انجانِ نعت ہے
نسلیں مہک نہ جائیں تمہاری تو بولنا
لے جاؤ ساتھ میں کہ یہ گل دانِ نعت ہے
احمد کا پہلا حرف محمد کا پہلا حرف
قرآنِ حمد کے لیے جزدانِ نعت ہے
کچھ خاص مٹیوں کو نمی کی گئی عطا
ویسے تو سب پہ مہرباں بارانِ نعت ہے
سو فیصدی درست ہے یہ بات دوستو
ہر صفحہءِ دو کون بہ عنوانِ نعت ہے
ہر لفظ پھول ہے تو کلی سب حروف ہیں
کس طور شان دار گلستانِ نعت ہے
حد درجہ احتیاط ، مقام ادب ہے یہ
دورانِ خوں ٹہر کہ یہ دورانِ نعت ہے
اسمِ مبارکہ پہ درودوں کی ڈالیاں
اب تک مجھے تو اتنا ہی عرفانِ نعت ہے
معلوم میرے قول و عمل سے چلے گا یہ
مضبوط کس قدر مرا ایمانِ نعت ہے
صدیوں سے ہو رہا ہے یہاں ذکرِ مصطفی
یہ شہرِ ناگ پور دبستانِ نعت ہے
سمجھوں گا میری نعتیں ، نسیمی قبول ہیں
مجھ کو جو  کوئی کہ دے یہ مستانِ نعت ہے
===== [[نصرت حنفی]]، [[اورنگ آباد، مہاراشٹر]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر نصرت حنفی
کچھ اور ہو نہ ہو مجھے عرفان نعت ہے
اب میرے ذمے دیکھ قلمدان نعت ہے
یہ ذکر ہے خدا کا. یہی شان نعت ہے
ذکرِ نبی ہی اصل میں. قرآن نعت ہے
جب سے سجائی محفلِ نعت و درود
میرا ہر ایک لمحہ گلستان نعت ہے
سر پر اٹھا کے لاے ہیں محشر میں کاتبین
اعمال نامہ ہے میرا دیوان نعت ہے
جوں اس کے سامنے ہو رکھا ایک آئینہ
قرآن بھی رسول کی ہی شان نعت ہے
روشن ہے ان کے نور سے اس دل کی کائنات
نصرت یہی تو اصل میں فیضان نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
یہ ہے کرم خدا کا یہ باران نعت ہے
===== [[ نعیم عباس ساجد]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]]=====
میرے کہاں نصیب میں بارانِ نعت ہے
گر ہو گئی عطا تو یہ احسانِ نعت ہے
جس کو سمجھ رہے ہیں سبھی لوگ کائنات
وہ اہلِ ذوق کے لیے سامانِ نعت ہے
ہر لفظ کاٹ چھانٹ کے کرنا ہے منتخب
کرکے یقیں کہ واقعی شایانِ نعت ہے
پاکیزگیِ قلب و نظر لازمی ہے یاں
میدانِ منقبت ہے کہ میدانِ نعت ہے
اک سبز روشنی ہے تخیل کے ارد گرد
یعنی کہ اب قریب ہی امکان نعت ہے
===== [[نفیس اکرم محب]]، [[بنارس]]، [[انڈیا]] =====
کیا  کوئی جان پائے گا کیا شانِ نعت ہے
قرآں کا لفظ لفظ ہی عنوانِ نعت ہے
مٹ جائیں گے وہ خود ہی مٹانے جو آئیں گے
خلاق کائنات نگہبان نعت ہے
سب انبیاء نے ہے پڑھی نعت شہ امم
کس درجہ پر بہار گلستان نعت ہے
ممکن نہیں احاطہ  کوئی اس کا کر سکے
باہر ہر ایک فہم سے عنوان نعت ہے
تنہائی ہو سفر ہو تجارت ہو بزم ہو
"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"
مجھ کو زمانہ کہتا ہے مداح مصطفیٰ
کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسان نعت ہے
قسمت پہ اپنی ناز کروں کیوں نہ میں محب
ہاتھوں میں میرے دیکھئے دامان نعت ہے
مکمل نام : نفیس اکرم محب رضوی اویسی ، بنارس ، انڈیا
===== [[نواز اعظمی]]، [[گھوسی]]، [[انڈیا]]=====
وہ شخص ہی لکھے جسے عرفانِ نعت ہے
ورنہ بہت ہی دھیان سے میدانِ نعت ہے
پیہم زمینِ فکر پہ بارانِ نعت ہے
دل اس کے باوجود بھی عطشانِ نعت ہے
غم ،ہجر، درد، گریہ، قلق، اشک، سوز، عشق
ہر ایک میرے واسطے سامانِ نعت ہے
اٹھتی ہے ہر ورق سے ہی بوئے ثنائے شاہ
قرآں مری نگاہ میں بستانِ نعت ہے
آ بیٹھ اور یہاں سے تُو رزقِ ثنا اٹھا
روئے زمینِ شہرِ نبی خوانِ نعت ہے
بہتا ہے جو بھی ہجرِ رسالت مآب میں
آنسو نہیں وہ اصل میں بارانِ نعت ہے
رنج و الم میں سرورِ کون و مکاں کی یاد
واللہ وجہِ حرکتِ شریانِ نعت ہے
حاصل ہے اس پہ اوروں کو بھی دسترس مگر
حسّان شاہِ ملکِ سلیمانِ نعت ہے
ہر شعبہ وصفِ شاہِ امم سے ہے تابناک
"ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اب تک نواز میں نے جو مدحِ رسول کی
کیا اس کا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے؟
===== [[نگار سلطانہ]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر نگار سلطانہ
لکھنے کو میرے دل میں تو ارمان نعت ہے
اک پھول کیا چنوں کہ گلستان نعت ہے
ہر لمحہء حیات کی بس جان نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے "
جب تک نہ دل میں چاہت سرکار دین ہو
کیسے لکھے  کوئی کہ یہ شایان نعت ہے
جب سے خیال ڈھل گئے اشعار میں مرے
ہر سانس میں بسا ھوا عنوان نعت ہے
میرے خیال و فکر میں پیوست ہوگئ
ہر ایک لمحہ اور ہر اک آن نعت ہے
قرآن میں بھی ذکر کا مرکز نبی ہی ہیں
گویا ظہور ہستی میں اعلان نعت ہے
مدحت کی روشنی سے جو لفظوں کو بھر دیا
جو کچھ ملا نگار یہ فیضان نعت ہے
===== [[نور آسی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد نور آسی
نہ حرف و لفظ نہ  کوئی سامان نعت ہے
خاموش اس لئے ہوں کہ عرفانِ نعت ہے
گو بائیں ہاتھ میں ہے میرے نامہء سیاہ
صد شکر، دائیں ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں ہو اسوہِ رسول ﷺ
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
بقرہ سے لے کے سورہ والناس دیکھ لو
ہرایک حرف اک نیا عنوانِ نعت ہے
جنت میں مجھ کو جانے دیا کہہ کے اتنی بات
اب اس کو کیسے روکیے؟ مہمانِ نعت ہے
پتوں کو ، ٹہنیوں کو ، گلوں کو پرند کو
گلشن میں ایک ایک کو عرفانِ نعت ہے
آسی کی کیا مجال کہ نعت نبی کہے
یہ جو عطا ہوئی ہے وہ احسانِ نعت ہے
===== [[نور الحسن نور نوابی]]، [[قاضی پور]]، [[انڈیا]] =====
اعلان کائنات غلامانِ نعت ہے
حسان جس کا نام ہے سلطانِ نعت ہے
سوچے بغیر ہوتی ہے مدحت رسول کی
ارزاں ہمارے واسطے فیضانِ نعت ہے
عشق رسول پاک کی صورت میں دوستو!
بیٹھا درِ خیال پہ دربانِ نعت ہے
عشق رسول شہر نبی کی جمالیات
حاصل خدا کے فضل سے سامانِ نعت ہے
اس کی حدوں میں گرم ہوا کا گزر کہاں
دشت غزل نہیں یہ گلستانِ نعت ہے
سنتی ہیں ذکر سرور دیں جو سماعتیں
ان کی ضیافتوں کے لیے خوانِ نعت ہے
کہنے کو لوگ کہتے ہیں نعتیں بہت مگر
حاصل کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے
قسمت کا اس کی لا نہ سکے گا  کوئی جواب
جس کے لیے کھلا در ایوانِ نعت ہے
حسان آگے سعدی و جامی ہیں ان کے بعد
اے آنکھ دیکھ وہ صف شاہانِ نعت ہے
ڈرتا نہیں ہوں دھوپ کے تیروں سے اس لیے
حاصل مجھے بھی سایہ دامانِ نعت ہے
ہوجائے یوں تو کام کی ہو میری زندگی
سرکار کہہ دیں یہ مرا دربانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات ہے آقا سے منسلک
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
غنچے کھلے ہیں مدحت آقا کے ہر طرف
شادابیوں کا آئنہ میدانِ نعت ہے
ہر اک ورق پہ مدحت سرکار ہے رقم
دل عاشق رسول کا دیوانِ نعت ہے
دل کر رہا ہے ضد مرا مضمون کر رقم
در پیش میری فکر کو عنوانِ نعت ہے
خوشبو بسی ہوئی ہے محلے میں دور تک
گھر کے ہر ایک طاق پہ گلدانِ نعت ہے
ابر کرم کے پھول برستے ہیں پے بہ پے
جب سے زباں پہ ذکرِ محبانِ نعت ہے
ہر صنف کی امام ہے نعت شہ امم
یہ افتخار نعت ہے یہ شانِ نعت ہے
کچھ لوگ شب چراغ سمجھتے ہیں کچھ گلاب
رکھا ہماری میز پہ دیوانِ نعت ہے
دیکھا عقیدتوں کی نظر سے تو یہ کھلا
جو شعر بھی ہے نعت کا وہ جانِ نعت ہے
دو چار ساعتوں پہ نہیں منحصر فقط
ایک ایک سانس نور کی قربانِ نعت ہے
===== [[نور محمد اشرفی]], [[پورنیہ]] ,[[بہار]],[[بھارت]] =====
پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]
محوِ ثنائے آقا ہوں, عنوانِ نعت ہے
یا رب ! کرم ہو خاص کہ ارمانِ نعت ہے
بے عشقِ مصطفے ہے سبھی بندگی فضول
عشقِ رسولِ پاک ہی ایمانِ نعت ہے
فضلِ خدا سے اور مدد سے حضور کی
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
تاریخ تم پڑھو گے تو ہوگا تمہیں پتا
حسان ہی سے مہکا گلستانِ نعت ہے
خلدِ بریں میں جائیں گے حسان کے وہ ساتھ
جن خوش نصیب لوگوں کو عرفانِ نعت ہے
چشمِ کرم حضور کی مجھ پر ہوئی ہے خاص
جاری مری زباں پہ جو گردانِ نعت ہے
شہرت جو نورٓ تم کو ملی ہے جہان میں
فضلِ خدائے پاک ہے,فیضانِ نعت ہے
===== [[نور محمد جرال]]، [[نیویارک]]، [[امریکا]] =====
شکرِ خُدا کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
سرپر میرے بھی سایۂ دامانِ نعت ہے
حرف و سخن پہ دسترس اپنی جگہ مگر
دراصل وصفِ حبِ نبی جانِ نعت ہے
فکرو شعور و حرف و ہُنر باوضو رہیں
تخلیق کے لیے یہی سامانِ نعت ہے
اشعار میں ہے سورۂِ یٖس کا جمال
حرفِ درود شمعِ شبستانِ نعت ہے
صدیوں سےلکھی جاتی ہےقرطاسِ وقت پر
لیکن ابھی شعور کو ارمانِ نعت ہے
ہے آپ کی حیات ہمہ گیر اس قدر
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”
ہر اک اداۓ نور پہ ہیں آیتیں گواہ
سیرت میرےحضور کی قرآنِ نعت ہے
حسنِ عمل ہے مدحتِ مولا کا اک چمن
حسنِ کلام زیبِ سخندانِ نعت ہے
آنکھیں کہ ان کے ذکرمیں نمناک ہیں سدا
اور دل ہزار جان سے قربانِ نعت ہے
ہر عندلیبِ قدس کے لب مشکبوۓ نعت
باغِ اِرم ہے یا  کوئی دالانِ نعت ہے
آنکھوں کے طاقچوں میں رکھے آرزوۓ دید
بے چین کب سے حلقۂ مستانِ نعت ہے
جل تھل ہوئی ہے دل کی زمیں یادِ شاہ میں
اشکوں کی یہ گھٹا ہے یا بارانِ نعت ہے
الفاتحہ سے سُورۂِ والناس تک گواہ
قرآن حرف حرف ہی بُرھانِ نعت ہے
سرکار  کوئی اچھا نہیں نامۂ عمل
محشر میں دستِ نور میں دیوانِ نعت ہے
===== [[نورین طلعت عُروبہ]]، [[امریکا]] =====
جب دل سے مُنسلک ہے جو پیمانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
سُنت کے راستے پہ ہوں اوڑھے ہوئے درود
سب کچھ تو ہے نصیب جو سامانِ نعت ہے
ہر سانس میں ہے عشقِ نبیؐ بولتا ہوا
طیبہ کی سرزمین یہ فیضانِ نعت ہے
ٹُکڑا جو ایک خلد کا شہر ِ نبیؐ میں ہے
تکمیل اس کی ہو وہیں ارمانِ نعت ہے
کیا وصف ہے کہ جس کو عبادت بھی کہہ سکیں
قربان ہے یہ دل مِرا قربانِ نعت ہے
سیرتؐ کی خوشبوئیں یا مہکتا درودِ پاک
چھوٹا سا میرا گھر بھی گلستانِ نعت ہے
ایمان کو کیا ہے مُکمل اسی کے ساتھ
عشقِ نبیؐ کریم ہی تو جانِ نعت ہے
ہے وہ امیر ، وارثِ حُبِ نبیؐ ہے جو
خوش بخت ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے
لفظوں کا انتخاب عقیدت کا عکس ہو
مضمون وہ چُنوں کہ جو شایانِ نعت ہے
نورین طلعت عُروبہ، امریکہ
===== [[نیر جونپوری]]، [[سرت، گجرات]]، [[انڈیا]] =====
لکھوں نبی کی نعت جو سلطان نعت ہے
آیاتِ بَیِّنات میں عنوانِ نعت ہے
شہر نبی کے کوچہ و بازار کی صدا
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
کرتا ہوں مصطفٰی کی ثناء خوانی اس لئے
بخشش کے واسطے مِرے دامانِ نعت ہے
مولا نے ہر طرح سے نوازا ہے خوب تر
ہم جیسے خادموں پہ تو فیضانِ نعت ہے
رزقِ سخن ملے ہمیں سرکار آپ سے
قلب حزیں میں میرے بھی ارمانِ نعت ہے
بوصیری  کوئی، جامی  کوئی سعدی ہو گیا
احمد رضا تو ہند کا حسانِ نعت ہے
نَؔیَّر یہ کہہ اٹھا مِرے سرکار کا غلام
پڑھئے درود محفل بارانِ نعت ہے
===== [[واجد امیر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
دربان ِ شاہ دین ہی دربان ِ نعت ہے
روح الامین یعنی نگہبان ِ نعت ہے
صد لاکھ احتیاط کہ عنوان ِ نعت ہے
وہ آئے اس طرف جسے ایقان ِ نعت ہے
مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں
باغ ِ عدن کے پاس خیابان ِ نعت ہے
مصرعے سجے ہوئے ہیں کہ رنگوں کی لہر ہے
قوس ِ قزح ہے یا  کوئی گل دان ِ نعت ہے
ہر شعبہ ءِ حیات ہے سیرت سے متصل
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "
جس پر نگاہ کی وہی مقبول بارگاہ
جس پر کرم ہوا وہی سلطان ِ نعت ہے
ہوگی منادی حشر میں آئے وہ اس طرف
جس پاس اک بھی مصرعِ امکان ِ نعت ہے
دشت ِ غزل میں گھوم لیے ہو تو پھر سنو
اب اس سے آگے سارا گلستان ِ نعت ہے
مدحت نگاری میں ہمیں اس پر بھِی فخر ہے
اردو زباں کا اپنا دبستان ِ نعت ہے
واجد ڈھکا چھپا نہیں چشم ِ خدائی سے
تیری سخن وری پہ جو احسان ِ نعت ہے
=====[[ واحد نظیر]]، [[دہلی]] =====
معیار ہے اصول ہے میزانِ نعت ہے
قرآن خضرِ راہ اے یارانِ نعت ہے
لوح و قلم کے خالق و مالک ہے یہ دعا
لہجہ ہو وہ نصیب جو شایانِ نعت ہے
اپنی زبان جلتی ہے غیروں کی مدح سے
پونجی مرے خمیر کی میلانِ نعت ہے
مرکز میں غور و فکر کے دائم ہو وجہِ کن
یہ محورِ عناصر و ارکانِ نعت ہے
سب ہے نبی کے صدقے میں، کہنے کی بات کیا
ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے
لائق تھی سرزنش کے یہ انعام پا گئی
صنفِ سخن پہ دائمی احسانِ نعت ہے
علم و ہنر سے شعر تو ہو جاتے ہیں مگر
واحد نظیر عشقِ نبی جانِ نعت ہے
===== [[وحید القادری عارف]] ، [[حیدر آباد ]]، [[بھارت ]] =====
مکمل نام : سید وحید القادری، حیدر آباد، بھارت
جاری کچھ ایسی شان سے فیضانِ نعت ہے
دل جگمگا رہے ہیں کہ بارانِ نعت ہے
صلّوا علیہِ اصل میں فرمانِ نعت ہے
حکمِ خدا ہی شمعِ فروزانِ نعت ہے
تا حشر اس کے سایہء رحمت میں ہے سکوں
تا حشر یہ بہارِ گلستانِ نعت ہے
ہوں طرزِ فکر پر جو کرم کی تجلیاں
ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے
جتنا بھی عرض کیجئے کم ہی لگے ہمیں
کیا خوب، کتنی وسعتِ دامانِ نعت ہے
اک حرف لکھ نہ پاؤں جو اُن کا کرم نہ ہو
نسبت مری حضور سے عنوانِ نعت ہے
مدحِ نبی بہ لب تو خیالِ نبی بہ دل
ہر آن میری زیست پہ احسانِ نعت ہے
مقبولِ بارگاہِ رسالت مآب ہو
پورا خدا کرے جو یہ ارمانِ نعت ہے
سرمایہ اور کچھ نہیں بخشش کے واسطے
جھولی میں میری بس یہی سامانِ نعت ہے
عارف  کوئی نہیں جو ادا اِس کا حق کرے
ہے کون جس کو دعویء عرفانِ نعت ہے
===== [[وسیم عباس]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
صحنِ بتول بُوئے گلستانِ نعت ہے
چودہ کا نور زینتِ گلدانِ نعت ہے
ٹھوکر نہیں لگی کبھی بھٹکا نہیں ہوں میں
جس دن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
ملتا نہ کیسےدہر میں اس صنف کو فروغ
صاحب! پدر علیؑ کا نگہبانِ نعت ہے
"آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں "


ہر شعبہ ءِ حیات ہے سیرت سے متصل
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "
جس پہ نگاہ کی وہی مقبول بارگاہ
جس پر کرم ہوا وہی سلطان ِ نعت ہے
ہوگی منادی حشر میں آئے وہ اس طرف
حس پاس اک بھی مصرعہءِ امکان ِ نعت ہے
دشت ِ غزل میں گھوم لیے ہو تو پھر سنو
اب اس سے آگے سارا گلستان ِ نعت ہے
مدحت نگاری میں ہمیں اس پر بھِی فخر ہے
اردو زباں کا اپنا دبستان ِ نعت ہے
واجد ڈھکا چھپا نہیں چشم ِ خدائی سے
تیری سخن وری پہ جو احسان ِ نعت ہے
=====[[ واحد نظیر]]، [[دہلی]] =====
معیار ہے اصول ہے میزانِ نعت ہے
قرآن خضرِ راہ اے یارانِ نعت ہے
لوح و قلم کے خالق و مالک ہے یہ دعا
لہجہ ہو وہ نصیب جو شایانِ نعت ہے
اپنی زبان جلتی ہے غیروں کی مدح سے
پونجی مرے خمیر کی میلانِ نعت ہے
مرکز میں غور و فکر کے دائم ہو وجہِ کن
یہ محورِ عناصر و ارکانِ نعت ہے
سب ہے نبی کے صدقے میں، کہنے کی بات کیا
ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے
لائق تھی سرزنش کے یہ انعام پا گئی
صنفِ سخن پہ دائمی احسانِ نعت ہے
علم و ہنر سے شعر تو ہو جاتے ہیں مگر
واحد نظیر عشقِ نبی جانِ نعت ہے
===== [[وسیم عباس]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
صحنِ بتول بُوئے گلستانِ نعت ہے
چودہ کا نور زینتِ گلدانِ نعت ہے
ٹھوکر نہیں لگی کبھی بھٹکا نہیں ہوں میں
جس دن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
ملتا نہ کیسےدہر میں اس صنف کو فروغ
صاحب! پدر علیؑ کا نگہبانِ نعت ہے
"آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں "
شہرِ سخن میں مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
شہرِ سخن میں مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے


سطر 9,779: سطر 13,928:


قرآن رَب کا رَب کی قسم شانِ نعت ہے
قرآن رَب کا رَب کی قسم شانِ نعت ہے
کچھ بہکنے کا مجھ کو یہاں غم نہیں رَہا
تھاما خیال نے مرے دامانِ نعت ہے




سطر 9,851: سطر 13,995:


وقار احمد نوری, کرناٹک, بھارت
وقار احمد نوری, کرناٹک, بھارت
===== [[ولی صادق]]، [[کوہستان]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد ولی صادق
ہر ناطقہ کے لب پہ ہی عنوانِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
مدت سے ہوں سکون کی دولت سے فیض یاب
یہ بھی میں جانتا ہوں کہ احسانِ نعت ہے
جب خود ہی کہہ رہا ہے خدا نعتِ مصطفیٰ
میں کیا بتاؤں دوستو! کیا شانِ نعت ہے
اُس خوش نصیب شخص کی منزل ہے باغِ خلد
تھامے ہوے جو شخص بھی دامانِ نعت ہے
اُس عاشقِ رسول کی عظمت کو ہے سلام
جس عاشقِ رسول کو عرفانِ نعت ہے
ہاں وہ سخن شناس ہے دراصل خوش نصیب
جو بھی رقم طراز بہ عنوانِ نعت ہے
ہر شعر جیسے ایک عقیدت کا پھول ہو
صادق! تِرا کلام گلستانِ نعت ہے۔


===== [[یاسر عباس فراز]]، [[میلسی]] =====
===== [[یاسر عباس فراز]]، [[میلسی]] =====
قائم جو آج بھی ترا ص ایوانِ نعت ہے
قائم جو آج بھی ترا ص ایوانِ نعت ہے
   
   
پردے میں کوئی ہے جو نگہبانِ نعت ہے
پردے میں   کوئی ہے جو نگہبانِ نعت ہے




سطر 9,924: سطر 14,105:




حد سے فزوں نہ حرف کوئی ہے نہ حد سے کم  
حد سے فزوں نہ حرف   کوئی ہے نہ حد سے کم  


دستِ خدائے پاک میں میزانِ نعت ہے
دستِ خدائے پاک میں میزانِ نعت ہے




ہجرت کی شب علی ع کے سوا اور بھی کوئی  
ہجرت کی شب علی ع کے سوا اور بھی   کوئی  


جلوہ فگن بہ تختِ سلیمانِ نعت ہے
جلوہ فگن بہ تختِ سلیمانِ نعت ہے
سطر 9,989: سطر 14,170:




یاور جہاں خیال پہونچتا نہیں کوئی
یاور جہاں خیال پہونچتا نہیں   کوئی


جاری وہاں بھی چشمہ فیضان نعت ہے
جاری وہاں بھی چشمہ فیضان نعت ہے

حالیہ نسخہ بمطابق 14:20، 19 جولائی 2021ء



ایونٹ کی نعتیں

  • قوافی پر اعراب لگانے ہیں ۔
  • قلمدان ِ نعت کا قافیہ کئی بار غلط استعمال ہوا ہے ۔
  • قرآن ۔ کئی اشعار میں قرآن کا تلفظ غلط ہے ۔جو فی الحال برقرار رکھے گئے ہیں
  • بعض اشعار میں قافیے کہ ساتھ اضافت نہیں ۔ ایسے اشعار نکال دینے ہیں ۔
  • ہندی قوافی مثلا پہچان ِ نعت ، مان ِ نعت برقرار رکھے جائیں گے ۔
  • بے وزن اشعار ۔ ایسے اشعار جن میں ایک آدھ لفظ کی تبدیلی سے مصرع درست ہوسکتا ہے ۔ درست کیے جا رہے ہیں لیکن اگر ایک دو الفاظ سے زیادہ تبدیلی مطلوب ہو تو ان کو حذف کیا جا رہا ہے ۔
  • "آقا نے کہ دیا کہ ستارے ہیں پنجتن" ۔ عقیل ملک کا مصرع ہے اور انہوں نے یہی املا بھیجی ہے ۔ "کہ" کی درست املا یہی ہے لیکن آج کل "کہہ" رائج ہے تو تبدیل کر دیا گیا ہے ۔
  • مصعب شاہین نے لفظ "اطمینان" کی "ی " گرائی ہے ۔ جسے برقرار رکھا گیا ہے ۔


اگر کوئی نام نیلے رنگ میں ہےتو اس کا مطلب یہ ان شاعر کا تعارف "نعت کائنات" پر موجود ہے ۔ اور اس نیلے نام پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر نام سرخ رنگ میں ہے تو اس پر کلک کرکے شاعر اپنا تعارفی صفحہ شروع کر سکتا ہے





آصف قادری ، واہ کینٹ ، پاکستان

اللہ کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر لفظ نعت کے لیے سرخم کئے ہوئے

گویا کہ حرف حرف کو ارمانِ نعت ہے


دل میں نبی کی یاد زباں پر درودِ پاک

صد شکر پاس کچھ مرے سامانِ نعت ہے


گریہ کناں حنانہ ہے ہجرِ حبیبِ میں

سوکھے ہوئے تنے کو بھی عرفانِ نعت ہے


میری زبان گنگ ہے لرزاں قلم ہے اور

لاچار فکر، سامنے میدانِ نعت ہے


وہ شخص بخشا جائے گا محشر میں بالیقیں

جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


آصف ثنا کے باب میں خاموش ہی رہو

کب ہے بشر کی فکر جو شایان ِ نعت ہے

آفاق رضا مشاہدی، گونڈہ، انڈیا

اِتنا وسیع حلقہءِ میدانِ نعت ہے

ہر شعبہءِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے


میدانِ حشر میں ،مری بخشش کیواسطے

جو کچھ ہے میرے پاس وہ سامانِ نعت ہے


شہرِ نبی کے کُتّے بھی پہچاننے لگے

جِس دِن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


مدحِ نبی کا حق ادا کوئی نہ کر سکا

ہاں اِک قرآن ہے کہ وہ سُلطانِ نعت ہے


پہچان اُسکی حشر میں ہوگی الگ تھلگ

حاصل جِسے بھی دَہر میں عِرفانِِ نعت ہے


پڑھ کر لگا حدائقِ بخشش کا حرف حرف

احمد رضا ہی ہِند کا حسّانِ نعت ہے


آفاق وہ بھی جائے گا خُلدِ بریں کی اور

رکھتا جو اپنے قلب میں اَرمانِ نعت ہے

ابرار نیر، اٹک، پاکستان

اک بار پھر فقیر پہ احسانِ نعت ہے

پھر بے ہنر کے ہاتھ قلمدان ِ نعت ہے


حاصل جو شرف بوسہِ دامان ِ نعت ہے

میرا کہاں کمال ، یہ فیضان ِ نعت ہے


فن کا کمال ہے نہ تخیل پہ منحصر

ہو جاۓ جو عطا وہی سامان ِ نعت ہے


دوڑا یہاں نہ عقل کے گھوڑے سخنورا

دے فکر کو لگام کہ میدان ِ نعت ہے


آقا کے حکم پر جو پڑھا ان کے سامنے

حسان کا کلام وہ سلطان ِ نعت ہے


بازار گھر دکان ہو دفتر کہ مدرسہ

ہر شعبہِ حیات میں امکان ِ نعت ہے


گلہائے رنگا رنگ معطر ہیں چارسو

ہر ایک بزمِ نعت ، گلستان ِ نعت ہے


بوندیں کرم کی ڈال دے نیر فقیر پر

یہ کم سخن بھی طالبِ باران ِ نعت ہے

ابو الحسن خاور ، لاہور ، پاکستان

کیا صرف شعر گوئی ہی شایان ِ نعت ہے

اس سے کہیں وسیع یہ میدان ِ نعت ہے


خاور نظر اٹھا بڑا ساما ن نعت ہے

ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے


لو لوئے ِ نعت ہے کہیں مرجان ِ نعت ہے

یہ کائنات سورہ ءِ رحمان ِ نعت ہے


پھیلی ہوئی ہیں طہ و یسیں کی نکہتیں

قرآن اس کنایے میں گل دان ِ نعت ہے


ہر نخل میں ہے گنبد ِ خضری کی سبزگی

جس سمت دیکھتا ہوں گلستان ِ نعت ہے


کیا آسماں پہ مدح سرائی نہیں ہوئی ؟

کیا کوئی حد ِ وسعت ِ دامان ِ نعت ہے؟


بے نور و خشک زار ہے جو چاند کی زمیں

اک نعت خوان پہنچے تو فاران ِ نعت ہے


جتنا ہے جس کا علم وہ اتنا خموش ہے

وہ نعت کیا لکھے جسے عرفان ِ نعت ہے


آنکھوں میں نم ہے دل کو مصلے کی آرزو

یعنی کہ دل میں اوج پہ ارمان ِ نعت ہے


صحرائے زیست میں ہیں گناہوں کی آندھیاں

ہے آسرا کوئی تو خیابان نعت ہے


یہ جو مرے گھرانے میں عشق رسول ہے

خاور یہ اور کچھ نہیں فیضان ِ نعت ہے

ابو المیزاب اویس، کراچی، پاکستان

بشکریہ : غلام فرید واصل


قرآن اصل قاسمِ عرفانِ نعت ہے

ہر آیہِ کریمہ گلستانِ نعت ہے


گلہائے حمد اِس کے وسیلے سے کِھل گئے

دل کے افق پہ ابرِ بہارانِ نعت ہے


نطق و بیاں کا اس کو بنا بیٹھے قبلہ ہم

حکمِ وَسَلِّمُو میں جو فرمانِ نعت ہے


میلادِ مصطفٰے کی سجائیں گے محفلیں

فَلیَفرَحُوْا میں مؤمنو اعلانِ نعت ہے


کہتے ہیں جس کو اہلِ نظر قصرِ لامکاں

ایوانِ حمد ہے کہ دبستانِ نعت ہے؟


کچھ غم نہیں ہے گرمیِ بازارِ فکر کا

فرقِ سخن پہ سایہِ دامانِ نعت ہے


ہر آن اُن کی یاد ہے محور خیال کا

"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


خوفِ خدا و عشقِ نبی میں بسا ہے دل

یعنی کہ شوقِ حمد ہے، ارمانِ نعت ہے


پھیکا ہی رہتا نظم و غزل کا یہ سلسلہ

لذت رساۓ فکر نمکدانِ نعت ہے


ہے دھوم جس کے نغموں کی سارے جہان میں

میرا رضا وہ بلبلِ بستانِ نعت ہے


ہم بندگانِ عشق کا ہے آبؔ فیصلہ

شاعر وہی ہے دل سے جو قربانِ نعت ہے

ابوبکر تبسم، پاکستان

مکمل نام : حافظ ابوبکر تبسم

مجھ نعت کے گدا پہ یہ احسانِ نعت ہے

ہاتھوں میں روزِ حشر بھی دیوانِ نعت ہے


منزل ہے میری قربِ شہنشاہِ کائنات

زادِ سفر کے طور پہ سامانِ نعت ہے


سانسوں کو دے کے درسِ سکوت و ادب بہت

پھر لکھنے بیٹھتا ہوں، کہ میدانِ نعت ہے


نعت اور نعت خواں کا بھٹکنا محال ہے

موصوفِ نعت خود ہی نگہبانِ نعت ہے


اب غم بھی مجھ کو غم نہیں لگتا نجانے کیوں

کیا میرے گرد حلقہِ یارانِ نعت ہے؟


ہوں گے بڑے بڑوں کے بڑے مان حشر میں

میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے مانِ نعت ہے


نعتِ حضور لکھی تو یہ راز کھل گیا

عزت کا ہر مقام قدردانِ نعت ہے


بس انتہائے فکرِ تبسم یہی تو ہے

نعتِ قراں ہی اصل میں قرآنِ نعت ہے

ابوبکر نادر، چنیوٹ، پاکستان

جس جس کو جو ملا ہے یہ احسانِ نعت ہے

ہر اہلِ فن پہ سایہِ سلطانِ ﷺنعت ہے


سرکار ﷺ! چند لفظ عطا ہوں ہے التجا

دل کے قلم کو دیر سے ارمانِ نعت ہے


ہر سانس دے رہی ہے گواہی قدم قدم

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


ارض و سما کی حد کو بھی ہے پار کر گیا

کتنا وسیع حلقہِ دامانِ نعت ہے


ویسے تو کچھ نہیں ہے مرے پاس ہاں مگر

اک روشنی قلم میں جو فیضانِ نعت ہے


گہرائیوں سے دل کیں وہ واقف ہیں خوب تر

دل سے جو لفظ نکلے وہ شایانِ نعت ہے


نادرؔ بنا دیا ہے مجھ ایسے حقیر کو

کچھ بھی نہیں ہے یہ فقط عرفانِ نعت ہے

ابو لویزا علی ، کراچی ، پاکستان

قالو بلی سے آج تک اعلان نعت ہے

امکان کی یہ بزم تو ایوان نعت ہے


یٰسین نعت سورہ ِرحمان نعت ہے

الحمد نعت سورہِ عمران نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل غور


عرفان نعت حق کی عطا پر ہے منحصر

آنکھیں ملیں تو پورا ہی قرآن نعت ہے


طب ہو ،معاشرت ہو یا میدان کار زار

"ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے"


مصرع کی شان دیکھیے اشعار دیکھیۓ

کتنی طویل دیکھیے دیوان نعت ہے


ہم سے گنہہ گار بھی لکھنے لگیں اگر

فیضان نعت ہے یہ بھی فیضان نعت ہے

احسان اللہ علیمی، کبیر نگر,اترپردیش، انڈیا

پیشکش: غلام جیلانی سحر

احمد رضا تو ہند میں حسانِ نعت ہے

,,ہرشعبہ حیات میں امکان نعت ہے,,


خواہش ہے نعت لکھنے کی دل میں بہت مگر

لاؤں کہاں سے حرف جو شایانِ نعت ہے


پڑھتے رہو درود رسولِ کریم پر

وردِ درودِ پاک ہی وجدانِ نعت ہے


قرآن پڑھتے وقت یہ احساس بھی ہوا

جیسے ہر ایک لفظ ہی عنوانِ نعت ہے


چین و سکون ڈھونڈنے والے سنو ذرا

تسکینِ روح کے لئے دیوانِ نعت ہے


میرے نصیب میں کہاں جنت کی دید تھی

جنت اگر ملی ہے تو احسانِ نعت ہے

احسان علی حیدر، لاہور، پاکستان

دشت_سخن کو تحفہ_ باران _نعت ہے

فکر_بشر کی لوح پہ امکان_نعت ہے


ہم نے تو آج نعت کی عظمت پہ بات کی

پروردگار پہلا ثنا خوان _نعت ہے


تنزیل کب رکی ہے خدا کے کلام کی

جاری ہے جس کا فیض وہ قرآن_نعت ہے


شبیر پڑھنے آئے ہیں رن میں نماز_حمد

اکبر کی یہ ازاں نہیں اعلان_نعت ہے


حسن و حسین نعت کی تصویر_اصل ہیں

صحن_ابوتراب ہی جزدان_نعت ہے


شان _حضور عیب_تناہی سے دور ہے

عجز_بیان وصف_سخندان_نعت ہے


دو ہی تو آسرے ہیں بشر کے زمین پر

اک کربلا ہے دوسرا دالان_نعت ہے

احمد اشرفی، اترپردیش، انڈیا

پیشکش : غلام جیلانی سحر

عشقِ نبی میں دیکھیے قرآنِ نعت ہے

آیت ہو چاہے حرف ہو قربانِ نعت ہے


کیا کیا لکھوں میں شانِ رسالت مآب میں

سرکار کا سراپا ہی عنوانِ نعت ہے


مہکا رہا ہے کِھلتے ہی سب کے وجود کو

کتنا حسین وخوش نما گلدانِ نعت ہے


تصویرِ کائنات کی جو رخ چمک رہی

,,ہرشعبہِ حیات میں امکان نعت ہے,,


جس میں نبی کے خلق کے اوصاف ہوں بیاں

سچ ہے وہی تو اصل میں شایانِ نعت ہے


دل میں ہے چاہ نعتیہ دیوان لکھ کے میں

دنیا سے کہہ سکوں کہ یہ دیوانِ نعت ہے


نادر جو ذکر کرتے ہو خیر الانام کا

رب کی عطا سے تم پہ یہ فیضانِ نعت ہے

مکمل نام : محمد احمد اشرفی,نادر بستوی

احمد جہانگیر، کراچی، پاکستان

حمدِ الہ کی گونج ہے، اعلانِ نعت ہے

دنیا، خدا کے فضل سے ایوانِ نعت ہے


مولا، عجم کے گُنگ بیاباں میں جا بہ جا

مدحت کے اِصفہان ہیں، ملتانِ نعت ہے


روشن ہے بابِ شہرِ تمدّن پہ اب چراغ

حدِّ ادب کہ گوشہِ بُستانِ نعت ہے


زنجیر پڑھ رہی ہے، قصیدے کے بیت و بند

بیمار، نینوا میں نگہ بانِ نعت ہے


رسوائی کا سبب ہے مگر آپؐ کا غلام

اقبال کے دیار میں امکانِ نعت ہے


مردود ہو جنابؐ کی رحمت سے چشمِ بد

تعریف خواں غلامِ غلامانِ نعت ہے


دنیا کی واہ واہ سے، بزمِ سخن سے دور

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


آئے ہر اک گروہ و جماعت کا با شعور

حلقہ تمام حلقہِ مستانِ نعت ہے

احمد رضا، لاہور، پاکستان

حیطہ ء دل میں میرے بھی ارمان نعت ہے

ڈر تو مگر بجا کہ یہ میدان نعت ہے


سمجھا نہیں رفعنا کا مطلب یہاں کوئی

مصحف خدا کا سمجھو تو قرآن نعت ہے


جب عشق کا چراغ جلا ، بھید تب کھلا

”ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے“


عرشِ بریں پہ باغ سخن کا ہے اب دماغ

بٹتا ہوا یہ صدقہ ء بستان نعت ہے


نافے لٹا رہا ہے جو قریہ ء جان پر

باغِ جناں ہے یا چمنستان نعت ہے


شیشہ ء دل پہ چھائی ہے اک تازگی سی

شاید اترنے کو وہاں عرفان نعت ہے


  • حیطہ ءِ دل کو "حیطائے دل" اور "شیشہ ءِ دل" کو "شیشائے دل " اور "قریہ ءِ دل" کو "قریائے دل' باندھا ہے جو غلط ہے ۔
احمد رضا سعدی,نندور بار,بھارت

پیش کش: غلام جیلانی سحر

پروردگار ! سینے میں ارمانِ نعت ہے

میری متاعِ زیست ہی عنوانِ نعت ہے


کر وقف ان کی ذات پہ ہر لمحہِ حیات

ناکام ہے حیات جو ویرانِ نعت ہے


تاریک قبر ہو یا ہو میدان حشر کا

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


کیسا کرم ہے دیکھیے ان کا غلام پر

نغمہ درودِ پاک کا دورانِ نعت ہے


الفاظ ختم ہوگئے شانِ رسول میں

کچھ اس قدر وسیع یہ دامانِ نعت ہے


احمد رضا کے نام کا چرچا ہے چار سو

دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ فیضانِ نعت ہے


سعدی کو کیا غرض ہے جہاں کے متاع کی

سرمایہِ حیات جب ایمانِ نعت ہے


احمد زاہد، سانگلہ ہل، پاکستان

مکمل نام : محمد احمد زاہد

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے

مجھ پر کرم ہے جو بھی وہ احسانِ نعت ہے


توصیف جتنی بھی کروں اور جتنی بھی سنوں

مدحت کا لفظ لفظ ہی شایانِ نعت ہے


سب لوگ مجھ کو کہتے ہیں جو ان کا نعت گو

اس کو بھی میں کہوں گا کہ فیضانِ نعت ہے


کچھ بھی زباں کہے نہ تری مدح کے سوا

ہر پل ہر اک گھڑی مجھے ارمانِ نعت ہے


ہر دَور کی زباں پہ محمدﷺ کی ہے ثنا

واضح یہ ہو رہا ہے کہ کیا شانِ نعت ہے


قابل کہاں تھا، آپﷺ نے احسان کر دیا

محشر میں منھ دکھانے کو دیوانِ نعت ہے


میں خود کو کس طرح سے تہی دست مان لوں

دیکھو یہ میرے پاس بھی دامانِ نعت ہے


ہر ایک نے کہی ہے یوں تو نعتِ مصطفیٰؐ

زاہد نے جو کہی ہے وہ اک شانِ نعت ہے

احمد عقیل، اٹک، پاکستان

بیٹھا ہوں با ادب کہ اب امکانِ نعت ہے

آنسو نہیں عقیل! یہ بارانِ نعت ہے


اول سے لے کے ناس تلک سوچتا ہوں میں

قرآن سامنے ہے یا دیوانِ نعت ہے


قلب و نظر کی پاکی ضروری ہے نعت میں

ورنہ تُو کس طرح کا سخن دانِ نعت ہے


ان کے بغیر عالمِ اسباب تھا عبث

اِس دہر کا وجود بھی عنوانِ نعت ہے


جب "راعِنا" پکارنا جائز نہیں ہے پھر

ہر لفظ دیکھ بھال، یہ میدانِ نعت ہے


پھیلی ہوئی چہار سو خوشبو ہے نعت کی

خوش بخت ہوں کہ مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے


جب جب پڑھوں درود، نئے شعر ہوں عطا

صَلُّوا عَلَی الرسول " بھی اعلانِ نعت ہے

احمد محمود الزمان، اسلام آباد

اللہ کا کرم میرا سامانِ نعت ہے

محبوبِ حق کی یاد سے میلانِ نعت ہے


ذکرِ حضور سے ہوا عنبر فشاں قلم

قرطاس خوشبو گل و ریحانِ نعت ہے


کرتی ہے ورد صلِ علٰی کا میری زبان

حاصل میرے شعور کو عرفانِ نعت ہے


رحمت خدا کی میری محافظ اک ایک پل

کس درجہ میرے حال پہ احسانِ نعت ہے


ہوگا نہ ختم تزکرہِ شانِ مصطفٰی

اتنی ذیادہ وسعتِ دامانِ نعت ہے


قراں کرے حضور کے اوصاف کو عیاں

محدود آدمی کا تو وجدانِ نعت ہے


بخشے گا اس کے فیض سے مجھ کو مِرا خدا

پختہ کچھ اس قدر میرا ایمانِ نعت ہے


جچتے نہیں ہیں اس کی نگاہوں میں سیم و زر

جو کوئی اس جہان میں قربانِ نعت ہے


خوشنودیِ خدا کا وسیلہ بنے یہی

میرے دل و نظر کو یہ فرمانِ نعت ہے


ان کے حضور پیش کروں ارمغانِ نعت

پنہاں جو میرے قلب میں ارمان۔ نعت ہے


احمد ہے عمر خضر بھی کم نعت کے لیے

دنیا میں کب کہیں کوئی پایانِ نعت ہے

احمد مسعود قریشی، ملتان، پاکستان

شعروں کا میرے دوستو عنوان نعت ہے

مشکل بڑا اگرچہ یہ میدان نعت ہے


مدحت نبی کی کرتا ہوں صورت میں شعر کی

دنیا میں ان سے پیار ہی سامان نعت ہے


رحمت وہ بن کے آئے ہیں سارے جہان میں

لکھتا ہوں لفظ جو بھی وہ فیضان نعت ہے


کرتے رہو بیان محمد کی شان کو

ملتا سکون -دل ہے یہ ایقان نعت ہے


بڑھتی ہے آرزو یہ کہ جائیں انھی کے در

ہوتا ہے پیدا دل میں جو عرفان نعت ہے


دیکھا جو کائنات کو محسوس یہ ہوا

ہر شعبہ ء حیات میں امکان ِ نعت ہے


دنیا میں خوش نصیب ہے جس کو ملا ہنر

کہتا ہے دل سے نعت جو سلطان نعت ہے

احمد ندیم، سرگودھا، پاکستان

بشکریہ : حافظ محبوب احمد


قوسین کا مقام بھی میدانِ نعت ہے

کتنا وسیع گوشہء دامانِ نعت ہے


جس پر کھلا ہے عقدہ ء تخلیق کائنات

حاصل اسے ہی اصل میں عرفانِ نعت ہے


یہ ہست و بود اصل میں ہے ان کا فیض نور

سو جملہ کائنات میں میلانِ نعت ہے


امکان اور وجوب میں برزخ ہے ان کی ذات

یہ حسن کائنات بھی سیلانِ نعت ہے


وہ رحمت تمام ہیں، وہ اصل جود ہیں

امکان کے وجود میں دورانِ نعت ہے


حرف و بیاں شعور و تخیل قیاس و وہم

ادراک اور شعور بھی سامانِ نعت ہے


جس پر کھلے ہیں فہم و فراست کے جتنے در

ہے بھیک اس جناب کی، فیضانِ نعت ہے


وحئ خدا ہی ان کی ثنائے کمال ہے

قرآن کا بیان ہی میزانِ نعت ہے


ہے غار میں تلاوتِ آیاتِ حسنِ یار

عارض کریم ذات کا قرآنِ نعت ہے


ان کے لئے ہی خلق ہوئی ساری کائنات

یوں ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے


لفظوں کے تار و پود سے بنتی نہیں ہے یہ

عشق رسول پاک ہی فرقانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات کا مصدر ہے ان کا نور

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ان کے نثار جان ملاحت ہے ان کا حسن

توصیف حسن گویا نمک دانِ نعت ہے


یہ جتنی کاوشیں ہیں سبھی ناتمام ہیں

خالق کے پاس اصل قلم دانِ نعت ہے


طرفہ ہیں فکر و فہم کے سب سلسلے یہاں

آباد کس قدر یہ خیابانِ نعت ہے


مدحت کے آسمان پر بکھرے مہ و نجوم

پرکیف کس قدر یہ شبستانِ نعت ہے


میں بھی کسی قطار میں ہوتا ہوں اب شمار

یہ فضل کردگار ہے احسانِ نعت ہے


دل کی زمین سبز ہے مہکی ہوئی ہے جان

آنکھوں میں سیل اشک ہے بارانِ نعت ہے


ان کے جمال پاک کی کچھ جھلکیاں ندیم

یہ کائنات چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے

احمد وصال، پشاور، پاکستان

جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


طَیبہ ہو چَشمِ قَلب میں، لب پہ درود ہو

ہر لفظ با وضو ہو کہ میدانِ نعت ہے


اللہ کا کلام ہے توصیفِ مُصطفیٰ

کتنا فَراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے


رب نے پڑھی، فرشتے بھی پڑھتے ہیں دم بہ دم

صلّ علیٰ کا ورد بھی فرمانِ نعت ہے


یا رب ! کرم ہو نعت کے شایاں عطا ہوں لفظ

مُجھ ناتواں کے سامنے میدانِ نعت ہے


الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں جو روبرو

میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے


دولت نہ جاہِ دنیا نہ شہرت کی ہے طلب

مجھ کو مدینہ شہر میں ارمانِ نعت ہے


رمضاں، عبادتیں ہیں ، محافل ہیں ذکر کی

صلّ عَلا لبوں پہ ہے ، بارانِ نعت ہے


سمجھوں گا میں وسیلہ شفاعت کا مل گیا

ایک شعر بھی جو نعت میں شایانِ نعت ہے


احمد وصال پر بھی ہو چشمِ کرم حضور

در پر کھڑا ہے آپ کے ، دربانِ نعت ہے

اختر حمید گل ، اسلام آباد ، پاکستان

بشکریہ : حافظ محبوب احمد ، سرگودھا

تخلیقِ کائنات بھی عُنوانِ نعت ہے

جاری کیا خدا نے ہی فرمانِ نعت ہے


کردارِ مُصطفٰیؐ کی ہے ہر جان میں نمُود

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


ساگر ہو روشنائی جو سب پیڑ ہوں قلم

ممکن نہیں تمام ہو ، یہ شانِ نعت ہے


جتنے حروف اِس میں پروئے گئے ہیں وہ

سارے ہی ضوفشاں ہیں، یہی شانِ نعت ہے


اتنی مجال کس میں کرے مدحِ مصطفیٰ

اللہ کاکلام ہی شایانِ نعت ہے


حسّانؓ ہو رضا ہو کہ جامی ہو یا فرید

رفعت ملی اِنہیں جو یہ، احسانِ نعت ہے


پیداہوئےحضورتو روشن ہوا جہان

ہونے لگا جہان میں اعلانِ ِ نعت ہے


سجدوں کی ساتھ لائے ہیں سوغات سب مگر

میرا تو آ سرا یہی سامانِ نعت ہے


بخشش کی روزِ حشر جو پوچھیں گے گل سبیل

کہہ دوں گامیرےپاس توبرہانِ نعت ہے

ارتضی حیدر، اسلام آباد، پاکستان

مکمل نام : محمّد ارتضی حیدر

مصرع اگر مرا کوئی شایانِ نعت ہے

یہ اصل میں حقیر پہ فیضانِ نعت ہے


قرآں کی آیتوں کے معانی پہ غور کر

تو بھی کہے گا یہ تو ثناء خوانِ نعت ہے


محشر کی بھیڑ بھاڑ سے کیونکر ڈروں گا میں

سر پر مرے جو سایہِ دامانِ نعت ہے


محمود ہے خدا تو ہیں احمد مرے نبی

عنوانِ حمد اصل میں عنوانِ نعت ہے


الفت نبی و آل کی دل میں بسی ہوئی

یعنی کہ پورا سارا ہی سامانِ نعت ہے


ہر شعر پر رسولؐ کے گھر سے دعا ملی

دیکھو تو مجھ پہ کیسا یہ احسانِ نعت ہے


گر اسوہِ رسولؐ کی ہو پیروی تو پھر

  • ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


کچھ بھی کہا ہو اس نے سخنور نہ بن سکا

وہ جس کی شاعری میں بھی فقدانِ نعت ہے


حیدرؔ کی کیا مجال کہ دعویٰ ہو نعت کا

سلمان ہیں کہیں کہیں عمرانِ نعت ہے

ارسلان احمد ارسل، لاہور، پاکستان

لو دیکھو کیسا مطلعء دربانِ نعت ہے

فضلِ خدا سے شانِ دبستانِ نعت ہے


کیف و سُرور بھی ہے یہاں واہ واہ بھی

یہ چشتیوں کی بزمِ شبِستانِ نعت ہے


جزبہ سے بچہ کہتا ہے تو اس کو کہنے دو

یہ آنے والے دور میں مرجانِ نعت ہے


خاور کی رائے ٹھیک ہے میری نگاہ میں

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


سر کو جھکا کے اک نیا مضمون باندھ لوں

دل میں مرے سجا ہُوا جُزدانِ نعت ہے


جیسا نصیب ہو گیا اُن کے بلال کو

اب اِس سے بڑھ کے کیا کوئی عِرفانِ نعت ہے ؟


ارسل کو جذب و کیف کے عالم میں دیکھ کر

مجذوب بھی کہیں کہ یہ مستانِ نعت ہے

ارسلان ارشد، لاہور، پاکستان

شاعر نہیں ہُوں نہ میرا دیوانِ نعت ہے

دل میں نبی کا عشق ہے ارمانِ نعت ہے


آنکھوں میں اشک قلب میں الفت حضور کی

بس مختصر سا یہ میرا سامانِ نعت ہے


خوشبو سے اب مہکتے ہیں دیوار و در میرے

کس درجہ مشک بو یہ گلستانِ نعت ہے


مدحت کریں جو شاہِ عوالم کی ہر گھڑی

اُن پر سدا ہی سایہء دامانِ نعت ہے


میزانِ سخن پر نہ فقط پرکھیئے اِسے

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


ان کا خیال آیا تو سوچیں نکھر گئیں

اے ارسلان کیسا یہ فیضانِ نعت ہے

ارشد محمود ارشد، فیصل آباد، پاکستان

مکمل نام : الحاج ارشد محمود ارشد

لولاک زیرِ سایہء فیضانِ نعت ہے

وجہء قرار، نسبتِ دامانِ نعت ہے


نازاں بہارِ خلد ہے اپنے نصیب پر

فرحاں بفیضِ ثروت ِ بارانِ نعت ہے


قرآں کے حرف حرف سے ہر دم عیاں ہے نعت

جملہ کلام ِ حق سر و سامانِ نعت ہے


جو حرفِ کُن ہے باعثِ آغازِ کائنات

مستور اُس میں دعوت و اعلانِ نعت ہے


حُبِ نبی ؐ سے جذبہء طاعت کو ہو فروغ

حُبِ نبیؐ ہی موجبِ میلانِ نعت ہے


موقوف ایک گو شہ ِ ہستی پہ کب ہے نعت

" ہر شعبہ ِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


پکڑو نہ قدسیو! مرے اعمال پر مجھے

دیکھو کہ میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


بہرِ حصولِ ہدیہء تحسیں، رواں دواں

طیبہ کی سمت ناقہِ وجدانِ نعت ہے


وارد نبیؐ کا خُلق ہے قُرآں میں واہ واہ

کیا اہتمامِ غایتِ حفظانِ نعت ہے


پوچھا جو میں نے کیا ہے فلک تو ملا جواب

اے بے خبر یہ گُنبدِ ایوانِ نعت ہے


ارشدؔ! مرے نبیؐ کا یہ اعجاز دیکھنا

شام و سحر نئی سے نئی شانِ نعت ہے

ارشد منیر، لندن، برطانیہ

مکمل نام : محمد ارشد منیر نقشبندی

کل اٹھارہ میں سے گیارہ منتخب اشعار ،


بخشش کی اک سبیل یہ سامانِ نعت ہے اور کاسہء امید میں دیوانِ نعت ہے

الفت مرے حضور کی مضمونِ قلب و جاں اُسوہ مرے حضور کا عنوانِ نعت ہے

" اُنظُرنا " پہ نگاہ ہے " لَا تَرفَعُوا " پہ دل ملحوظ اُن کا مرتبہ دورانِ نعت ہے

بزمِ درود برپا ہے قرطاسِ فکر پر خامہ یہ مجھ فقیر کا مہمانِ نعت ہے

دربار مصطفٰے کی حضوری اسے نصیب جس کے شعور کو ملا عرفان نعت ہے

خوان کرم کی بھیک کا منہ بولتا ثبوت دل سے رواں جو چشمہء فیضانِ نعت ہے

کیجئے ضرور کیجئے کثرت درود کی دل میں اگر جناب کے ارمانِ نعت ہے

فیضانِ آل مصطفٰے ہے شکرِ کردگار صحرائے دل پہ ہر گھڑی بارانِ نعت ہے

مَسعود ہے ، جو آشنا مدحِ رسول سے مَردود وہ سخن کہ جو انجانِ نعت ہے

ممکن کہاں منیر ہے مدحت حضور کی بخشا ہوا حضور کا سامانِ نعت ہے

گُھٹی میں پائی نعمتِ نعتِ نبی منیر ماں سے ملا یہ تحفہء میلانِ نعت ہے

"ارشد منیر نقشبندی" لندن

ارشاد نیازی ، چونڈہ ، سیالکوٹ، پاکستان

بشکریہ : غلام جیلانی خان


سرکار جب عطا کیا عرفانِ نعت ہے

آساں ہوا کٹھن مجھے میدانِ نعت ہے


روضے کی جالیوں سے ملے گا اسے قرار

مدت سے میرے دل میں جو ارمانِ نعت ہے


حمد و ثنا کے بعد کیا ذکرِ اہلِ بیت

دراصل ذکرِ آل ہی اعلانِ نعت ہے


آساں کرے گا دیکھنا برزخ کی منزلیں

رختِ سفر میں رکھا جو سامانِ نعت ہے


پڑھتے ہیں جو نماز میں اس آل پر درود

میرے خیال میں تو یہ ایوانِ نعت ہے


صلو علیہ آلہِ وردِ زباں کے بعد

کامل یقین رکھتا ہوں امکانِ نعت ہے


کہتا رہوں گا واعظا میں یاعلی مدد

مابعد یانبی یہی ایمانِ نعت ہے


کہتے ہیں لوگ مجھکو غلامِ رسولِ پاک

کتنا بڑا فقیر پہ احسانِ نعت ہے


زہرا بتول اور حسن حیدر و حسین

حکمِ رسول مان گلستانِ نعت ہے


کرب و بلا کہانی سمجھنے سے پیش تر

ناداں سمجھتا کیوں نہیں کفرانِ نعت ہے


دیکھے سنہری جالیاں اذنِ حضور سے

ارشاد بھی جو شاعرِ دیوانِ نعت ہے

ارشد جمال، اعظم گڑھ، انڈیا

یوں دوجہان محوِ خیابانِ نعت ہے

جاناں ہے جو خدا کا وہ جانانِ نعت ہے


ہو حرف حرف کیوں نہ بھلا اس کی قرآتیں

ہر صفحہ جس کی ذات کا قرآنِ نعت ہے


اس پر سخن کے سات سمندر نثار ہیں

روشن جو ایک اشک بہ مژگانِ نعت ہے


چن لیجئے کہیں سے بھی مدحت کے رزق کو

یہ کائنات جیسے کوئی خوانِ نعت ہے


سمجھوں گا عمر بھر کی ریاضت کا پھل اسے

اک لفظ بھی اگر مرا شایانِ نعت ہے


لولو عقیدتوں کے ہیں جھلمل بہ چشمِ دہر

جگمگ کہیں بہ لب کوئی مرجانِ نعت ہے


لفظوں میں روشنی کے خزانے انڈیل دے

وہ جادوئی چراغ قلمدانِ نعت ہے


صارم اسے نصیب ہیں آسانیاں تمام

پیہم جو ایک شخص پریشانِ نعت ہے

ارم اقبال نقوی، راولپنڈی، پاکستان

ذوقِ سخن جو لازمِ سامانِ نعت ہے

عشقِ رسولؐ شاملِ ارکانِ نعت ہے


نعتِ نبیؐ سنا گئے دادا رسولؐ کے

گویا جہاں میں ان سے ہی عرفانِ نعت ہے


لب پہ جنابِ آمنہؑ کے نعت ہے رواں

لوری کے حرف حرف میں اک شانِ نعت ہے


تھے حامدِ رسولؐ ابوطالبِؑ عظیم

یہ اسمِ پاک خاصہِ خاصانِ نعت ہے


بی بیؑ خدیجہؑ حرفِ تسلی میں جو کہیں

وہ گفتگو بھی سربسر اعلانِ نعت ہے


نعتِ نبیؐ کا عکس مناجاتِ فاطمہؑ

کاشانہِ رسولؐ شبستانِ نعت ہے


جب بھی کہا علیؑ نے کوئی نعتیہ کلام

سب نے کہا یہ لولو و مرجانِ نعت ہے


ایوبؓ اورحسّانؓ کی پہچان بزمِ نعت

ہر عہد میں رواں یہ قلمدانِ نعت ہے


صدیوں سے نعت لکھی، مگر تشنگی ہنوز

نے انتہائے عشق نہ پایانِ نعت ہے


چادر عطا ہوئی ہے جو بردہ شریف پر

یہ معجزہ گواھیئ وجدانِ نعت ہے

سیرت کی روشنی میں ہو تہذیب کی نمو

ہاں یہ چلن ہی حاصلِ عنوانِ نعت ہے


واجب ہے احتسابِ عمل، روحِ انقلاب

”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے“


اقلیمِ شعر دائمی رفعت جو پا گئی

شاعر ہر اک زباں میں سخن دانِ نعت ہے


ہم نے توخود غزل میں بھی نعتِ نبیؐ سنی

کتنا وسیع ترین یہ دامانِ نعت ہے


آلِ نبیؑ کا ذکر بھی ذکرِ رسولؐ ہے

سوچو تو مرثیہ بھی توایوانِ نعت ہے


مجھ بے نوا کو کچھ جو سخن کا شعور ہے

یہ بھی تو میرے واسطے احسانِ نعت ہے


پایا ارم خدائے سخن سے یہ مرتبہ

میری بھی نعت شاملِ دیوانِ نعت ہے

ارم بسرا، لاہور، پاکستان

لوح و قلم کی شرح قلمدانِ نعت ہے

أرض و سماوا صفحہ دیوانِ نعت ہے


مسلم ہوں میرے گھر میں حیا کے اصول ہیں

پردے میں رہتے ہیں سبھی احسانِ نعت ہے


بچے جوان بوڑھے سبھی نعت خوان ہیں

کنبے پہ میرے بارش بارانِ نعت ہے


والشمس والقمر ہو کہ والیل والضحی

اللہ کی طرف سے یہ سامانِ نعت ہے


صلو و سلمو پہ عمل کیجیے جناب

اس حکم کا اداریہ عرفانِ نعت ہے

اسحاق اکبری، اودیپور، راجستھان، انڈیا

مکمل نام : محمّد اسحاق اکبری نقشبندی

انسان کیسے لکھے جو شایانِ نعت ہے

نازل کیا خدا نے وہ قرآن نعت ہے


اس زندگی میں کیا میں پڑھوں گا لحد میں بھی

""ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے""


میں کیا ہوں کیا نہیں ہوں یہ ہرگز نہ پوچھیۓ

جیسا بھی ہوں جو بھی ہوں یہ فیضان نعت ہے


حاجت ہی کیا دوا کی میں بیمار عشق ہوں

میرے لئے تو درد کا درمان نعت ہے


ہم کو کسی بھی تیرگی کا خوف کیوں ہو جب

عشق حضور شمع شبستان نعت ہے


کچھ ایسی نعت سرور دیں میں ہے چاشنی

صد بار گنگنا کے بھی ارمان نعت ہے


اسحاق اس سرور کو کیسے کروں بیاں

حاصل جو میرے قلب کو دوران نعت ہے

اسد علی اسد، اسلام آباد، پاکستان

احمد ؑ میں یہ جو حمد ہے جزدانِ نعت ہے

مدحت نبی ؑ کی اصل میں قرآنِ نعت ہے


عشقِ نبی ؑ میں دل تو سُلیمانِ نعت ہے

لیکن میرا دماغ بھی سَلمانِ نعت ہے


جو احترامِ حضرتِ عمرانِ ؑ نعت ہے

مجھ کلمہ گو کے واسطے ایمانِ نعت ہے


محشر کی دھوپ اُن کو جلائے گی کیا بھلا

جن عاشقوں پہ سایہ ءِ دامانِ نعت ہے


ممکن ہے راز ہو یہ الف لام میم کا

ہر ایک حرف حاملِ دیوانِ نعت ہے


کر کے عمل رسول ؑ کی سیرت پہ دیکھ لیں

ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے


گھر سے چلوں مدینے کو پڑھتے ہوئے درود

کافی مجھے سفر میں یہ سامانِ نعت ہے


عشقِ نبی ؑ میں وہ بھی بلالِ نبی ؑ ہوا

جس شخص کی زبان کو عرفانِ نعت ہے


کرنا یقیں رسول ؑ کی ہر ایک بات پر

دیں کی نظر سے دیکھیں تو عنوانِ نعت ہے


رگ رگ میں جو اسدؔ ہے رواں عشقِ مصطفیٰ ؑ

میرا لہو نہیں ہے یہ دورانِ نعت ہے

اسلم رضا خواجہ، لاہور، پاکستان

رب نے کشاد کر دیا دامان نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ہم ایسے لوگ لائے ہیں ایمان غیب پر

یعنی ہمارے واسطے ایمان نعت ہے


تیرہ شبی میں نور کا مینار انکا نام

مردہ دلوں کے درد کا درمان نعت ہے


نوع بشر کے واسطے دستور آخری

پڑھ لو خدا کا سارا ہی قرآن نعت ہے


ان کے خدا کے وعدہ لاریب کی قسم

ہر سمت کائینات میں اعلان نعت ہے


اسلم فیضی ۔ کیا مرتبہ ہے نعت کا‘ کیا شان نعت ہے

شاعر : اسلم فیضی ، کوہاٹ


کیا مرتبہ ہے نعت کا‘ کیا شان نعت ہے

ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان نعت ہے


یہ جو اذاں میں سوز بلالیؓ ہے جلوہ ریز

توحید کا سرُور ہے وجدان نعت ہے


محشر میں کام آئے گا بخشش کے واسطے

لفظوں کی جھولیوں میں جو سامان نعت ہے


اوصافِ مصطفےٰ سے خدا کا‘ پتہ ملا

میرا تو دل بھی‘ جان بھی‘ قربان نعت ہے


میرے نبیؐ کی مثل ہُوا ہے نہ ہو سکے

وہ جانِ نعت ہیں‘ یہی اعلان نعت ہے


میری صدا کبھی بھی پہنچتی نہ‘ عرش تک

مجھ بے نوا پہ سارا یہ احسانِ نعت ہے


ذکر نبیؐ سے معرفتِ دیں کے گل کھلے

شاداب کس قدر یہ گلستانِ نعت ہے


دنیا کو ہم نے عدل کی پہچان بخش دی

کیونکہ ہمارے ہاتھ میں میزان نعت ہے


ہر دور کو شعور ملا آگہی ملی

فیضی یہ فیض اصل میں فیضانِ نعت ہے


اسلم قمر، گوجرہ، پاکستان

لا ریب عشق ِ شاہ ِ امم جان ِ نعت ہے

میں کہہ رہا ہوں نعت یہ فیضان ِ نعت ہے


مدحت سرائی ان کی کروں، کس طرح کروں؟

مشکل سخنوری میں یہ میدان ِ نعت ہے


کرنے کو پیش کچھ نہیں مجھ بے عمل کے پاس

بس خرقہ ءِ عمل میں یہ سامان ِ نعت ہے


باد ِ صبا بوقت ِ سحر کہہ گئی مجھے

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


کہہ کر پکارا جائے ثنا خوان ِ مصطفی

اسلم قمر کو اس لیے ارمان ِ نعت ہے

اسلم ویشالوی، کولکتہ، انڈیا

کیا کیا بتاؤں آپ کو احسان نعت ہے

ہم شاعروں پہ ہر گھڑی فیضان نعت ہے


دل میں اگر ہو عشقِ رسالت مآب تو

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


کیوں کر نہ فکر بحر سخن میں ہو غوطہ زن

احمد رضا کا، ہاتھ میں دیوان نعت ہے


مدحت رسول پاک کی آساں نہیں جناب

چلیے ذرا سنبھل کے یہ میدان نعت ہے


مجھ سے رکھوگے ربط تو پاؤگے خلد پاک

ہر مدح خواں کے واسطے اعلان نعت ہے


منکر نکیر دیکھ کے اسلم کو کہہ اٹھے

رہنے دو، اس کے ہاتھ میں گلدان نعت ہے

اشرف نقوی ، شیخوپورہ ، پاکستان

مجھ پر مرے حضور کا احسانِ نعت ہے

میرے لیے کھلا ہوا میدانِ نعت ہے


اُن کا کرم جو ہو تو ہر اِک لفظ محترم

گر چاہیں وہ، غزل میں بھی اِمکانِ نعت ہے


گھر میں جو میرے رحمت و برکت ہے ہر گھڑی

قرآن کا وسیلہ ہے، فیضانِ نعت ہے


شانِ رسولِ پاک میں نازل کیا گیا

یعنی قرآنِ پاک ہی قرآنِ نعت ہے


آقا! مجھے بھی شہرِ مدینہ بلایئے

مجھ کو بھی در پہ پڑھنے کا ارمانِ نعت ہے


گر میرے ٹوٹے پھوٹے یہ الفاظ ہوں قبول

بخشش کو میری کافی یہ دیوانِ نعت ہے


رب سے اگر ہے پیار، اطاعت نبی کی کر

سب مومنوں سے رب کا یہ فرمانِ نعت ہے


ماں باپ میرے اور میں خود آپ پر فدا

بس اِک یہی عقیدہ ہی ایمانِ نعت ہے


سیرت پہ اُن کی چلنا ہو جب مقصدِ حیات

"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


اشرف میں ہر گھڑی تھا گماں میں گھرا ہوا

گر پُر یقیں ہوں آج تو ایقانِ نعت ہے


اشرف یوسفی، فیصل آباد، پاکستان

لطف و سرور و کیف جو دورانِ نعت ہے

نخل ِ دل و نظر پہ یہ بارانِ نعت ہے


ہر اک ظہور پر تو ِاعیانِ نعت ہے

ہر گوشہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


اس عالم ِخراب میں صحرائے خواب میں

صد شکرہم پہ سایہ ء مژگانِ نعت ہے


گلہائے رنگا رنگ ہیں اسمائے شاہ ِدیں

دامان نو بہار یہ دامانِ نعت ہے


میثاقِ مصطفےٰ تھا جو یوم ِالست تھا

قالو بلا تو اصل میں پیمانِ نعت ہے


ان کی قبولیت سے سخن کو ہے استجاب

اک لفظ بھی کہاں مرا شایانِ نعت ہے


روشن دل و دماغ ہیں حب ِرسول سے

طیبہ کی خاک سرمہ ء چشمانِ نعت ہے


اشرف در ِحضور تلک لے کے جائے گا

اس دستِ نارسا میں جو دامانِ نعت ہے

اشفاق احمد غوری، ملتان، پاکستان

رفعت خیال و فکر کی عرفانِ نعت ہے

معراج میرے حرف کی دامانِ نعت ہے


ہم تو فقط رعایا ہیں ملکِ نعوت کی

واللہ رب کی ذات ہی سلطانِ نعت ہے


حرفِ نیاز ،اشکِ رواں، عشقِ محترم

فہم و شعور میں یہی سامانِ نعت ہے


فکر و خیال مائلِ نعتِ نبی ہوں گر

"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


مٹنے لگی ہے حرف و معانی کی تشنگی

لفظوں کے ریگ زار پہ بارانِ نعت ہے


سجدے میں ہے برائے تشکر مرا قلم

میرے قلم کی نوک پہ احسانِ نعت ہے


کہتے ہیں میرے جاننے والے یقین سے

اشفاق صدقِ قلب سے قربانِ نعت ہے

اشفاق حسین ہمذالی ۔ ہر سو بہارِ نکہتِ بُستانِ نعت ہے

شاعر : انجنیئر اشفا ق حسین ہمذا لیؔ ، فیصل آباد

ہر سو بہارِ نکہتِ بُستانِ نعت ہے

صد شکر ، ہم پہ سا یہءدامانِ نعت ہے


ہیں مِدحتِ رسولؐ کے ہر جا کھِلے گلاب

بزمِ خیا ل ہے کہ گلستان ِ نعت ہے


ہیں اُن کے ذکر و فکر میں مصروف دھڑکنیں

یہ شو ق میرا مظہرِ ایما نِ نعت ہے


رہبر جو ہر قدم پہ ہے اُسو ہ حضور ؐ کا

"ہر شعبہء حیا ت میں اِمکا نِ نعت ہے"


یُو ں زندگی ہو وقفِ ثنا اے مرے کریم

ہر شخص بو ل اٹّھے یہ قربانِ نعت ہے


محشر میں ہو گا سا تھ وہ حسّانؓ و کعبؓ کے

ہر لمحہ جس کا مصرف ِمیلا نِ نعت ہے


خو ش ہو کے میں بھی سب کو کہو ں گا یہ حشر میں

وجہِ نجا ت میرا یہ سا مانِ نعت ہے


جو کر رہا ہے ذا تِ نبیؐ کے قریں مجھے

اُن کے کرم سے میر ا قلمدا ن نعت ہے


اہلِ سُخن میں جس سے مرا بھی ہوا شمار

میرا یہ ذوقِ شعر بھی احسا نِ نعت ہے


نا عِت تما م ان کے ہیں آپس میں خیر خوا ہ

برکت ہے یہ ثنا کی یہ فیضا نِ نعت ہے


کس کا م کے یہ لفظ ومُعا نی کے سلسلے

تیری بیا ضِ فن میں جو فُقدا نِ نعت ہے


مِدحت نبیؐ کی مرجع اہلِ سخن ہو ئی

اس دو ر کے ادب پہ یہ فیضا نِ نعت ہے


ہمذا لی ؔکی دعا ہے اِلٰہی ترے حضو ر !

و ہ لہجہ بخش مجھ کو جو شا یا نِ نعت ہے

اصغر شمیم، کولکتہ، انڈیا

قرآن نعت ہے مرا ایمانِ نعت ہے

"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"


جو بھی ملا ہے ان کے وسیلے سے ہی ملا

میرے لئے تو ان کا یہ فیضانِ نعت ہے


جو ہیں حبیب رب کے وہ میرے رسول ہیں

سرکار دو جہاں کا یہ احسانِ نعت ہے


مدحت سرائی ان کا میں کرتا رہوں مدام

میری بھی زندگی کا یہ ارمانِ نعت ہے

تحریر جب بھی کرتا ہو نعتِ نبی شمیم

ہر رہ گزر میں جیت کی پہچانِ نعت ہے

اعجاز حسین عاجز ، گوجرانوالہ ، پاکستان

ہم ہیں، قلم دوات ہے، میدانِ نعت ہے

کیونکہ ہمیں ازل سے ہی فرمانِ نعت ہے


عالم فدائے وسعتِ دامانِ نعت ہے

جس جس کو دیکھیے وہی قربانِ نعت ہے


نعتیں ہیں اس میں جیسے ہوں قرآں کی آیتیں

سینے میں دل نہیں مرے، جزدانِ نعت ہے


ہر دور کے شعور کی تشکیل کے لیے

درکار ہر زمانے کو فیضانِ نعت ہے


نورِ تجلیاتِ رسالت کے فیض سے

’’ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


کلیاں چٹک چٹک کے یہی کہہ رہی تھیں سب

ہم کو بھی شوق دید ہے، ارمانِ نعت ہے


حسان ایک فرد نہیں ایک سوچ ہے

مدحت سرا ہے جو بھی وہ حسانِ نعت ہے


توصیف مصطفےٰ کی ہے توصیفِ کردگار

بین السطورِ حمد بھی عنوانِ نعت ہے


اس پر فدا، ہے جس کو ودیعت شعورِ نعت

اس پر نثار جو بھی سخندانِ نعت ہے


تلقین خود حضور نے سعدی کو جو کیا

وہ مصرعِ درود ہی سلطانِ نعت ہے


اے وجہِ کُن فکاں! شہِ ما کان ما یکون

بس تیری ذات کے لیے امکانِ نعت ہے


"لَا یُمْکِنُ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ"

ذکرِ علوّ و مرتبت و شانِ نعت ہے


"غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم"

عجزِ بیانِ عبدِ قدردانِ نعت ہے


سیّاحِ لامکاں تری اک سیر کے طفیل

اب لامکاں بھی شاملِ امکانِ نعت ہے


شاید مجھے عطا ہو کوئی حرفِ جاوداں

میری قضا ٹھہر ابھی دورانِ نعت ہے


عاجز وفورِ شوق میں حدِّ ادب رہے

لَا تَرْفَعُوا اسی لیے دربانِ نعت ہے


سید اعجاز حسین عاجز، گوجرانوالہ، پاکستان

اعجاز احمد، میلسی ، پاکستان

دیکھو یہ کیسا مطلع ِ عنوانِ نعت ہے

نورِ خدا کے سامنے دیوانِ نعت ہے


اس دورِ ابتلاء میں بھی حسانِ نعت ہے

وہ شخص جس کے پاس قلمدانِ نعت ہے


کلیاں گلاب چاند ستارے یہ روشنی

اس کائنات ِ ارض پہ احسانِ نعت ہے


اپنے کرم سے مجھ کو عطا کیجئے حضور

اک حرف ایسا حرف جو شایانِ نعت ہے


حرف و قلم کی آبرو ہے آپ کے طفیل

شعر و ادب کا نور تو دیوانِ نعت ہے


صلِ علیٰ کی گونج مہکتی ہے ہر طرف

سارا جہان جیسے گلستان ِ نعت ہے

اعظم سہیل ہارون، حاصل پور، پاکستان

دھڑکن پکارتی ہے کہ سامانِ نعت ہے

مہکا ہوا جو دل کا گلستانِ نعت ہے


دل کو قرار آیا درود و سلام سے

کیسا سرور و کیف یہ دورانِ نعت ہے


دنیا میں پُل صراط سے ہر گز یہ کم نہیں

چلنا ذرا سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


مجھ کو یقین ہونے لگا ہے نجات کا

اعمال میں مرے جو یہ دیوانِ نعت ہے


دیکھا ہے چار سمت عقیدت کی آنکھ سے

”ہر شعبہ ِٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


جتنا بھی خود پہ ناز کروں ، کم ہے دوستو

ہر سانس میری زیست کی مہمانِ نعت ہے


محفل درودِ پاک مرے گھر میں سج گٸی

رحمت کا بھی نزول ہے ، بارانِ نعت ہے


صد شکر ہے خدا کا ہُوا ہوں غزل سے دُور

اب زندگی تمام ہی قربانِ نعت ہے


بخشش ضرور ہو گی تری حشر میں سہیل

ہاتھوں میں تیرے جب سے ہی دامانِ نعت ہے


ہر وقت میرے لب پہ رہے وِرد آپ ﷺکا

اعظم کرم خدا کا ہے ، فیضانِ نعت ہے

افتخار حسین کریمی، واہ کینٹ، پاکستان

لُطفِ دوام مُجھ پہ بفیضانِ نعت ہے

اُن کے کرم سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے


مجھ سا حقیر مدحتِ سرکار کیا کہے

جاری اُنہی کے فیض سے فیضانِ نعت ہے


سرکار کا ادب رہے ملحوظ ہر گھڑی

نادان! دھیان کر کہ یہ میدانِ نعت ہے


پڑھتا ہوں عترتِ شہِ کونین پر درود

ہر ہر نَفَس فداٸی و قُربانِ نعت ہے


پہلے الف سے آخری پارے کی سین تک

قُرآنِ پاک دیکھ لو قُرآنِ نعت ہے


گر ہو نظر میں رحمتِ عالم کی ذاتِ پاک

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


سرکار! مجھ کو اذنِ ِثناء بخش دیجیے

سرکار! میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے


بچپن سے لوریوں میں سُنی نعت آپ کی

یوں ہی نہیں مزاج میں میلانِ نعت ہے


اِس کے سبب ہی حشر میں ہو گی مِری نجات

کافی ہے میرے پاس جو سامانِ نعت ہے


لکھے بشر تو کیسے لکھے مدح آپ کی

وہ لفظ ہی نہیں کہ جو شایانِ نعت ہے


اظفر کو کاش حشر میں سرکار یوں کہیں

کتنا حسیں تُو لایا یہ دیوانِ نعت ہے

اقبال خان، باغ، کشمیر، پاکستان

مکمل نام : محمد اقبال خان


آقا کی بارگاہ میں اعلانِ نعت ہے

قرآں جو کہہ رہا ہے وہی شانِ نعت ہے


انگلی کا پور پور ثناء خوان ہے مرا

یوں نعت لکهتے رہنا بهی عرفانِ نعت ہے


ہر حرف بولتا ہے محبت نبی سے یے

ایسا لطیف میرا یہ دیوانِ نعت ہے


دو چار شعر میرے اگر ہوں قبول بس

رب کے حضور اتنا سا پیمانِ نعت ہے


بطحا کو جانے والی ہواؤں سے کہہ دیا

میری عقیدتوں کا یہ سامانِ نعت ہے

الیاس بابر اعوان، راولپنڈی، پاکستان

اس بحرِ بے کنار میں ایقانِ نعت ہے

یہ اشک ہی نہیں میاں، سامانِ نعت ہے


جو کچھ بھی ہے خیالِ صد افکار کا محیط

ہستی کے تار و پود کا دیوانِ نعت ہے


کیا پوچھتے ہو مجھ سے مقامِ غنا کا راز

ایمان کی کہوں مرا ایمانِ نعت ہے


جز رب کے کون مدح کا حق کرسکا ادا

قرآن عین آپ کے شایانِ نعت ہے


اے کاش مجھ پہ آپ کا انعام ایسے ہو

دیکھیں مجھیں تو بولیں کہ حسانِ نعت ہے


ہر لحظہ انہماک ہے آقا کی ذات پر

ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


میں نعت لکھ رہا ہوں کہ باغِ ارم میں ہوں

ہر حرف جیسے سنبل و ریحانِ نعت ہے

امان زرگر، قائد آباد، پاکستان

خالق کی ہم نوائی ہے عرفانِ نعت ہے

عرشِ بریں پہ ہر گھڑی اعلانِ نعت ہے


اسپِ تخیل آج تلک حد نہ پا سکا

فکر و نظر سے ماورا میدانِ نعت ہے


ہر سمت محوِ سوز ہیں مرغانِ خوش نوا

پرکیف و وجد خیز یہ بستانِ نعت ہے


مرقوم آیتوں میں ہے مدحت رسول کی

قرآں کے حرف حرف میں دیوانِ نعت ہے


شیوہ ہے رب کا اور فرشتوں کا بھی، درود

ایماں کے حاملیں کو بھی فرمانِ نعت ہے


نظرِ کرم حضور کی، یزداں کا فضل بھی

صد شکر میرے دل میں جو میلانِ نعت ہے


کُن سے بروزِ حشر تلک اور بَعد بھی

ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے


صف بستہ حرف، خامہ و قرطاس مشکبو

نالِ قلم کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


حسنِ خیال، اوجِ ہنر اور علم و فضل

لیکن نگاہِ فیض ہی سامانِ نعت ہے


رب نے بہ نطقِ شوق تلاوت جسے کیا

یٰسین کا خطاب ہی شایانِ نعت ہے


فکر و خیال کا نگر، الفاظ کی نشست

اور جنبشِ قلم سبھی فیضانِ نعت ہے


زرگر! ترا یہ نعرۂِ سرمست خوب تر

لیکن ذرا سنبھل کہ یہ ایوانِ نعت ہے

امجد ربانی مصباحی، آستانۂ ربانیہ، شرف آباد، جبل پور شریف، بھارت

بشکریہ : غلام فرید واصل

  • دل اشتیاق مند گلستانِ نعت ہے*
  • سنتے ہیں نرم خوٗ بڑا، رضوانِ نعت ہے*


  • حسنِ نبی کی تابِ حکایت کہاں سے لاے*
  • کیا سرخروے فکر پشیمانِ نعت ہے*


  • کیسی کشش ہے، ذکرِ رسالت مآب کی*
  • جو تاجدارِ فکر ہے، دربانِ نعت ہے*


  • ہر سانس عطرِ ذکرِ نبی میں بسائیے*
  • ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*


  • زخم جگر میں عشقِ نبی کی ہیں لذتیں*
  • صد شکر پاس نشترِ ذیشانِ نعت ہے*


  • پھر آج ہیں حکایتیں، حسنِ حضور کی*
  • پھر آج گرم محفلِ یارانِ نعت ہے*


  • ہوکر نثار گیسو و رخ پر حضور کے*
  • میری عروس فکر، غزل خوان نعت،ہے*


  • ہر آن یاد شاہ میں اشکوں کی ہے لڑی*
  • شامِ فراق، دعوتِ مژگانِ نعت ہے*


  • "امجد" کی نعت گوئی بھی فیضاں ہے نعت کا*
  • کب اِس کی دسترس سرِ عرفانِ نعت ہے*
امجد نذیر ، میلسی

کاغذ قلم دوات مہکتے ہیں رات کو

مہکیں نہ کس طرح یہ قلمدانِ نعت ہے


ہر چیز کائنات کی ان کےلیے بنی

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


پڑھ کر درود گھر سے روانہ ہوا ہوں میں

اب کوئی ڈر نہیں ،کہ نگہبان نعت ہے


امجدؔ نجات کےلیے کافی ہے حشر میں

گر میرا ایک شعر بھی شایانِ نعت ہے

انعام الحق معصوم، ملتان، پاکستان

مکمل نام : انعام الحق معصوم صابری


قرآنِ نعت ہے یہی ایقانِ نعت ہے

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


میری نجات ان کی شفاعت سے بالیقیں

زاد سفر مرا تو یہ سامان نعت ہے


میلاد محفلیں ہیں سجی گھر میں عاشقو

خوشبو مہک رہی ہے گلستان نعت ہے


صد شکر رب کا میرے خیالات پاک ہیں

اور عشق میں حضور کے دیوان نعت ہے


معصوم خوش نصیب رقم نعت ہم نے کی

پائی ہے راہ جس سے وہ حسان نعت ہے

اویس ازہر مدنی، فیصل آباد، پاکستان

مکمل نام : محمّد اویس ازہر مدنی

کہئے کسے کسے کہ وہ حسانِ نعت ہے

پہچان جس کی نعت ہے۔ سلطانِ نعت ہے


کھلتے ہیں یاں گُلابِ ثنائے محمدی

لپٹا طہارتوں میں یوں بُستانِ نعت ہے


احکام اس میں اور بھی موجود ہیں مگر

قرآنِ پاک اصل میں دیوانِ نعت ہے


سرکار! بے ہنر پہ بھی اک چشمِ التفات

سرکار! میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


قائم سخن وری میں ہے یوں انفرادیت

صد شکر اپنے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات ہے سیرت سے فیضیاب

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہم سے تونگروں کو ہو کس چیز کی کمی

جب توشۂ حیات میں سامانِ نعت ہے


حد سے وفورِ شوق میں بڑھنے سے احتیاط

چلئے سنبھل سنبھل کے کہ میدانِ نعت ہے


شہرت وقار عزت و تکریم آبرو

ازہر کرم یہ ہم پہ بفیضانِ نعت ہے

اویس راجہ، نیویارک، امریکا

فی الوقت جیسا اب ہمیں عرفانِ نعت ہے

بس طرزِ استغاثہ ہی شایانِ نعت ہے


اس کے خمیر میں ہے گندھا عشق مصطفےٰ

اردو ، ہر ایک صنف میں قربان نعت ہے


یہ کس کا شعر ہو گیا مقبولِ بارگاہ

دنیا میں ایک طرز کا میلانِ نعت ہے


دنیا تو دے رہی ہے صدا پر صدا مجھے

میں اٹھ کے جاؤں کیسے یہ دورانِ نعت ہے


بےفیض ایسے اہل سخن کا ہے ہر سخن

جس کا کلام بے سر و سامانِ نعت ہے


اتنی کہاں بساط کہ اک حرف لکھ سکوں

جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے


زہرا ، حسن ، حسین ہوں یا بوتراب ہوں

سارا گھرانہ شاہ کا ایوانِ نعت ہے


ملتی ہیں یوں تو پہلی کتابوں میں بھی نعوت

پر آخری کتاب تو دیوانِ نعت ہے


ہوتی نہ گر حضور سے نسبت انہیں اویس

دشت و جبل میں کون سا امکانِ نعت ہے

اویس رضوی، ممبئی، انڈیا

مکمل نام : اویس رضوی قادری صدیقی

کیا پر بہار ذوقِ گلستانِ نعت ہے

دل میں بسا ہے کب سے، جو ارمانِ نعت ہے


نسبت ملی ہے مجھکوجو، پہچانِ نعت ہے

یہ اصل زندگی ہے یہ، سامانِ نعت ہے


مہکا خیال و فکر بھی میرا انہی سے ہے

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


افکار کی صدا ہے تخیل کا حسن بھی

عشقِ نبی، حضور کا عرفان نعت ہے


حسان کہ رہے ہیں نبی سن کے شاد ہیں

عشق رسول ہی تو مری، جانِ نعت ہے


احمد رضا کے عشق کا صدقہ ملے مجھے

ارماں ہے جس کا دل میں وہ، دیوانِ نعت ہے


بھیجو درود ان پہ جنہیں رب ہے بھیجتا

ہر دم سلام اس پہ جو جانانِ نعت ہے


خدمت یہ نعت کی ہی بنے مصرف حیات

روشن ہوئی حیات بہ فیضان نعت ہے


عشقِ نبی میں ڈوب کے لکھّی اویس نے

ہاتھوں میں آج اس کے بھی دامانِ نعت ہے

اویس قادری کوکب، جام نگر گجرات، انڈیا

مکمل نام : سید اویس قادری کوکب جیلانی

کہتا ہے نعت وہ جسے عرفان نعت ہے

جانانِ جاں ہی شمع شبستان نعت ہے


جامی کا سوز دے مجھے سعدی کا رنگ دے

فکر رضا دے یا خدا ارمان نعت ہے


الفاظ تول تول کے میزانِ شرع میں

رکھنا قدم سنبھال کے میدان نعت ہے


جس کو طلب ھوں مدحِ پیمبر کے زاویے

قرآن اس کے واسطے سامان نعت ہے


غزلوں نے اس لیے مجھے مائل نہیں کیا

پیدائشی خمیر میں رجحان نعت ہے


بعد از اذان ہر گھڑی؛ ہر آن؛ ہر طرف

آواز گونجتی ہے وہ ایوان نعت ہے


بعد از زہیر کعب اسی کا ہے غلغلہ

مداح مصطفیٰ ہے جو حسان نعت ہے


بخشش کے کام آے گا تھامے رہو اسے

پروانۂ نجات یہ دامان نعت ہے


نعتِ نبی ہے اصل میں تحمید کبریا

عنوان حمد ہی مرا عنوان نعت ہے


مازاغ ہے کہیں کہیں واللیل و والضحیٰ

قرآں میں جا بجا یہ گلستان نعت ہے


وہ روحِ کائنات ہے اس کی ثنا کرو

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


اِس کو ردا عطا ھو شہنشاہ دو جہاں

کوکب کو بھی زہیر سا میلان نعت ہے

اورینا ادا، بھوپال، ایم پی، انڈیا

پیشکش : عرفان نعمانی

جب خود خدائے پاک نگہبانِ نعت ہے

محفوظ ہر خزاں سے گلستان نعت ہے


ہشیار اے قلم کہ ہے یہ نعت کی زمیں

آہستہ چلنا اس میں یہ میدانِ نعت ہے


مولیٰ ترے حبیب کی توصیف کے لیے

وہ فکر کر عطا جو کہ شایانِ نعت ہے


مفلوج لفظ فکر شکستہ کے باوجود

مجھ پر کرم نبی کا ہے احسان نعت ہے


محسوس کرتی ہوں میں معطر مشام جاں

یہ عطر عشقِ شاہ ہے لوبان نعت ہے


سدرہ پہ فکر روح امیں دے گئی جواب

رب جانے کس بلندی پہ ایوان نعت ہے


آداب حمد و نعت کے قرآں سے پوچھ ادا

معیار کیا ہے حمد کا کیا شان نعت ہے

مکمل نام : ڈاکٹر اورینا ادا

بابر علی اسد ، فیصل آباد ، پاکستان

صحرا نصیب لوگ ہیں, بارانِ نعت ہے

ہم سوکھتے نہیں ہیں تو, احسانِ نعت ہے


پھیلی ہوئ ہے رحمت ِ عالم ,کچھ اسطرح!

سینہ بہ سینہ سایہِ شاخانِ نعت ہے


یہ سبز دل کے مہرباں یہ اشک چشم لوگ

یہ درد خوۓ ِءحلقہ ِ یارانِ نعت ہے


ہر زاویہ کے مطمع ِء معیار , آپ ہیں

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


وہ قلب ِ کائنات پہ احسان ِ زندگی!

جاں بھی وہی ہے, اور وہی جانانِ نعت ہے


ہم نے خدا کو پایا تو, پایا ترے طفیل

سو حمد ہے, تو حمد بھی دورانِ نعت ہے


تھامے ہوۓ ہیں,اور یہ ڈر بھی تو ہے اسد

ہم خاک زاد لوگ ہیں دامانِ نعت ہے

بسمل شہزاد، فیصل آباد، پاکستان

دل کے صدف میں قطرہء نیسانِ نعت ہے

آسودہ حالِ شہر ہوں ، احسانِ نعت ہے


اقلیمِ ہفت میری قلمرو شمار کر

وہ یوں کہ میرے ہاتھ ، قلمدانِ نعت ہے


یہ بھید مجھ پہ کلمہء لَولَاک سے کُھلا

”ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے“


رنج و الم کی نذر ہوۓ جا رہے ہیں لوگ

مُنعَم ہے وہ جو سربگریبانِ نعت ہے


اے تختِ مصر ! یوسفِ دیگر تلاش کر

میری تڑپ تو جادہء کنعانِ نعت ہے


پی پی کے زندگی کی طرف لوٹتے چلو

اے مُردگاں! یہ چشمہء حیوانِ نعت ہے


کاغذ، قلم، دوات، شکستہ سا اک چراغ

زادِ سفر مرا ، یہی سامانِ نعت ہے


کچھ اور جذب و فکر کی لَو کو اُبھار دے

بسملؔ ابھی تُو دُودِ چراغانِ نعت ہے

بشرٰی فرخ، پشاور، پاکستان

کیا وسعتِ خیال بہ دامانِ نعت ہے

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


کھلتے ہیں روز ہی تو نئی مدحتوں کے گُل

مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے


دل اور زبان مدح سرائی میں ہیں مگن

سر چشمہِ حیات یی میلانِ نعت ہے


اعزاز مل رہا ہے ثنائے رسولؐ کا

یہ مجھ گنہگار پہ احسانِ نعت ہے


تکتا ہے صرف سوز و گدازِ جنونِ عشق

معیار میں جدا ہے جو میزانِ نعت ہے


ہر لفظ با ادب رہے ہر حرف باوضو

یہ عام سی زمیں نہیں میدانِ نعت ہے


ملحوظ ہر خیال میں تقدیس و احترام

ہر سوچ با وقار ہویہ شانِ نعت ہے


گر ہو قبولیت کا شرف بھی عطا اسے

ہدیہ بنامِ سید سلطانِ نعت ہے


بشری سفر ہے طیبہ کا اور زاد ِ راہ صرف

گنجینہِ درود ہے سامانِ نعت ہے

بلال حیدر گیلانی ، مظفرآباد، کشمیر، پاکستان

ٹوٹا جمودِ خامہ یہ فیضانِ نعت ہے

مدحِ نبی عطا ہوئی، احسانِ نعت ہے


خاطر میں سنتِ نبوی ہو اگر، تو پھر

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


مدحت سرا ہے عرش پہ خود ذاتِ لم یزل

اس زاویے سے عرش بھی ایوانِ نعت ہے


سجتی ہے روز بزم درود و سلام کی

گھر میرا، گھر نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے


دنیا کی رونقوں سے اسے کیا غرض بھلا

حیدرؔ کہ سب کہیں جسے مستانِ نعت ہے

پرویز ساحر، ایبٹ آباد، پاکستان

یُـوں ہی تو میرا دِل نہیـں قُربانِ نعت ہے

حـاصِـل مجھے سکُــون بَہ فیضـان ِ نعت ہے


جب پیش ہو گا نامہ ِ اَعمـــــــال حَشــــر میں

کہہ دُوں گا میرے پاس یہ دیـــوان ِ نعت ہے

حســان ہوں ' وہ کعب ہوں ' اِبن ِ زُہَیـر ہوں

ہر ایکــــــــ اپنی ذات میں سُلطــان ِ نعت ہے


بار ِ الٰہ نے کِیــــــــــــا ذکــــــــــــر ِ نبی بَلند

وا اِس لئـے دریـــــــچــــہ ِ اِمـکان ِ نعت ہے


قُـــرآن اور حدیث میں مذکُــــور جــــو نہیں

ایســــی غُــلُوئیت کہــاں شـــایــان ِ نعت ہے


کچھ کم نہیں ہے یہ بھی کسی پُل صراط سے

یــہ جــو ہمــارے ســـامنے میـــدان ِ نعت ہے


یوں ہی برہنہ پا نہیـں چــــــلتا مَیـں رَیگ پر

گُل زار سے بھی بڑھ کے بِیابان ِ نعت ہے


رکھتا ہُوں پُھونکـــ پُھونکـــ کے مَیں اپنا ہر قدم

مجھ دست رَس میں جب سے قلم دان ِ نعت ہے


ہم سیرت ِ نبی کو جو لائیں بہ روئے کار

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


سـاحِـرؔ ! مَیں اپنی ذات کا پھر ذِکر کیوں کرُوں

جب اُن کی ذات ِ پاکـــ ہی خـود جــان ِ نعت ہے

ثروت رضوی، کیلی فورنیا، امریکہ

بشکریہ : سمعیہ ناز

یارب یہ میرا دل ہے کہ دیوانِ نعت ہے

تطہیر ہوگئی ہے یہ فیضانِ نعت ہے


پہنچوں سرِ مدینۂ عشاق ِ آرزو

پکڑا ہوا جو خیر سے دامانِ نعت ہے


دھڑکن میں گونج صلِ علیٰ کی بصد خلوص

میری ہر ایک سانس میں امکان نعت ہے


دل میں رواں رکھے ہے روانی درود کی

دل کے بہت قریب جو شریانِ نعت ہے


خود کو حرم میں دیکھ رہی ہوں بچشمِ تر

یہ معجزہ ہے یا مرا وجدانِ نعت ہے


لگتا ہے جیسے رات بسر کی مدینے میں

یہ خواب تو نہیں مرا عرفان نعت ہے


گریہ فراق عشق و جنوں ہجر اور خلش

کچھ بھی نہیں یہی میرا سامانِ نعت ہے


کیا نام ہے یہ نامِ محمد ص خدا قسم

یہ نام ہی تو شمع شبستانِ نعت ہے


آقا قبول کیجئے ثروت کا یہ کلام

گر میرا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے

تاثیر جعفری، کبیر والا، پاکستان

میرا کلام کب بھلا شایانِ نعت ہے

مجھ کو ابھی کہاں بھلا عرفانِ نعت ہے


ہر ایک آیہ، آپ کی مدحت سے سرفراز

قرآن اُس کریم کا، دیوانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات پر رحمت ترا وجود

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


آنسو بھی ہیں، جبین بھی، اور سجدہ گاہ بھی

جاری دل و دماغ پہ بارانِ نعت ہے


مجھ سے لحد میں پوچھا گیا، صرف اک سوال

کیا نامہِ اعمال میں، دیوان نعت ہے؟


پڑھتی ہے ذاتِ کبریا، تجھ پہ درودِ پاک

ثابت ہوا، درود ہی بس جانِ نعت ہے


لب پر درود، پلکوں پہ اشکوں کی ہے جھڑی

خامہ سنبھال اپنا کہ امکانِ نعت ہے


میرے لہو میں دوڑتا ہے، عشقِ مصطفےٰ

تاثیر جسم و جان میں، ایمانِ نعت ہے

تبسم پرویز، سنبھل، انڈیا

مکمل نام : ڈاکٹر تبسم پرویز

ہاتھوں میں اس غریب کے دیوانِ نعت ہے

لطف و کرم حضورﷺکا ، فیضانِ نعت ہے


رب کی عطا سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے

مجھ سے سخنوروں پہ یہ احسانِ نعت ہے


کیوں کر نہ ہوتی مدحت خیر الانام جب

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


یا رب اسے نصیب ہو قربت رسول کی

فرد عمل میں جس کے بھی سامان نعت ہے


کیوں کر نہ ہم کریں گے ثنائے حبیب رب

اللہ جبکہ خود ہی ثناء خوان نعت ہے


شاعر کا یہ ہنر نہ کبھی ہوگا پائمال

جب رب ذوالجلال نگہبان نعت ہے


خورشید روز حشر نہ جھلسا سکا ہمیں

سر پر جو اپنے سایہ ء دامان نعت ہے


ہجررسول پاک میں آنکھیں ہیں اشکبار

کیفیت ایسی قلب کی دوران نعت ہے


لاکھوں سخنوروں کی زمانے میں بھیڑ ہے

حاصل کسی کسی کو قلمدان نعت ہے


عرفان نعت جس کو تبسؔم ہوا نصیب

سلطان نعت ہے وہی سلطان نعت ہے

تحسین یزدانی، ملتان، پاکستان

مجھ سا بشر جو صاحبِ دیوانِ نعت ہے

اللہ کا کرم ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


تفہیمِ نعت ہے جسےعرفانِ نعت ہے

حسانِ نعت ہے وہی سلمانِ نعت ہے


ممنونِ نعت ہیں میری سوچیں،مرے خیال

نطق و زبان و حرف پہ احسانِ نعت ہے


جاری رہے گا تا بہ ابد نعت کا سفر

روشن ازل سے دیدہءِ امکانِ نعت ہے


معلوم اب ہوئی ہے مجھے دل کی کیفیت

کعبہ نہیں ہے دل میرا جز دانِ نعت ہے


دائم یہاں پہ رہتا ہے موسم بہار کا

یہ گلستانِ حمد و خیابانِ نعت ہے


احرامِ عشق باندھ کے نکلا ہے ہر خیال

فکر و نظر کےسامنے میدانِ نعت ہے


ملتان کا سکونتی ہوں، خوش نصیب ہوں

یہ سر زمین شعر نگارانِ نعت ہے


تحسین ہے فقیر، فقیرانِ نعت کا

یعنی کہ اک غلامِ غلامانِ نعت ہے

تسنیم عباس قریشی، سرگودھا، پاکستان

معراجِ مصطفٰی ص مرا عنوانِ نعت ہے

قوسین کا مقام ہی شایانِ نعت ہے


خوش آمدید کہتے ہیں ہر موڑ پر نبی

منجانبِ خدا ہوا سامانِ نعت ہے


سدرہ پہ رک گئے ہیں قدم جبرائیل کے

پاپوشِ مصطفٰی ص ہمہ شاہانِ نعت ہے


ہٹتے گئے حجاب سبھی آپ کے لیے

ہر چیز کائنات کی قربانِ نعت ہے


کامل ترین اسوہ ہے خیر الانام ص کا

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت یے


تسنیم خوش نصیب ہے دونوں جہان میں

سلطانِ نعت سے ملا عرفانِ نعت ہے

تنظیم الفردوس، کراچی، پاکستان

مکمل نام : ڈاکٹر تنظیم الفردوس

مدوجذر حیات کا سامانِ نعت ہے

یہ ساری کائنات ہی امکانِ نعت ہے


قرآن ہے گواہ بلندی کے ذکر میں

کیا اس سے بھی زیادہ کوئی شانِ نعت ہے


سیرت رسولِ پاک کی پیشِ نظر رہے

یہ جانِ نعت ہے یہی ایمانِ نعت ہے


بس اک نگاہِ شوق ہے اور میری چشمِ نم

میرے لیے تو ہاں یہی سامانِ نعت ہے


میں اور لب کشا کروں ایوانِ نعت میں

حسّان شاہزداۂ ایوانِ نعت ہے


محسن، امیر اور رضا عندلیب ہیں

یہ ہند کی زمین بھی بستانِ نعت ہے


تکمیلِ دیں کا حکم ہے اس امر کی دلیل

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے

تنویر احمد تنویر، جدہ، سعودی عرب

آںکھوں میں میری آج جو بارانِ نعت ہے

خوش ہو، سخنورا کہ یہ امکانِ نعت ہے


کس کی مجال کر سکے توصیف آپ کی

قران وہ سخن ہے جو شایانِ نعت ہے


اک اک ادا حضور کی بے مثل و لاجواب

„ ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے،،


ہر حرف عطر بیز ہے ہر لفظ مثلِ گُل

میرا ہر ایک شعر گلیستانِ نعت ہے


طیبہ کی حاضری کا ہمیں پھر ملا جو اذن

تنویر یہ تو صدقہءِ فیضانِ نعت ہے

تنویر پھول، کراچی، پاکستان

حق کی عطا سے بارش فیضان نعت ہے

فکر و شعور و قلب میں ارمان نعت ہے


وہ جان کائنات ہیں , وہ شان کائنات

' ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے '


لازم ہے نعت کہنے میں حساں کی پیروی

حسان باغبان گلستان نعت ہے


قرآں کی روشنی میں کہو نعت شاہ دیں

رب کی نگہ میں بس یہی فرقان نعت ہے


ذیشان ان کی مدح سے ہر صنف شاعری

کاشانہ ء سخن میں دبستان نعت ہے


احمد بھی ان کا اسم ہے , اک نام ہے یتیم

یعنی 'الف' سے 'ی' سبھی دیوان نعت ہے


بعد از خدا بزرگ ہیں وہ , اس میں شک نہیں

حمد خدا کے بعد قلم دان نعت ہے


ممدوح وہ خدا کے ہیں, کج مج زبان ہم

لائیں کہاں سے لفظ جو شایان نعت ہے


رطب اللساں ہیں بلبلیں گلزار نعت میں

صدہا برس سے مہکا یہ بستان نعت ہے


سرور کی شاں میں اس نے 'رفعنا' ہے کہہ دیا

خود رب کائنات نگہبان نعت ہے


اس کے کرم سے پھول کھلیں نعت کے سدا

تنویر پھول ! خوب یہ گلدان نعت ہے

تنویر جمال عثمانی، مراد آباد، انڈیا

میری نظر میں صرف یہی جانِ نعت ہے

سرکار ﷺ عشق آپ کا' ایمانِ نعت ہے


نفرت' حسد' نفاق نے پائ نہیں جگہ

فکر و نظر پہ میرے یہ احسانِ نعت ہے


سچ بولنے کا وصف عطا ہو گیا جسے

اس کو ہی بس جہان میں عرفانِ نعت ہے


نسلیں مہک رہی ہیں مرے گھر کی دوستو

حاصل جو تین پشتوں سے لوبانِ نعت ہے


حسّان کعب جامی رضا سعدی اور ہم

پرنور سب کے عشق سے ایوانِ نعت ہے


ادراکِ عظمتِ شہِ لولاکﷺ ہو تو آ

سبکے لئے کہاں بھلا میدانِ نعت ہے


سیرت کا آئنہ ہو اگر سامنے تو پھر

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


حسنِ عمل بھی رکھ دے عقیدت کے ساتھ ساتھ

اے رہ روانِ نعت یہ میزانِ نعت ہے


آئے جو حرف نامِ نبیﷺ پر تو دیجے سر

یہ انکے اہلِ بیعت کا عنوانِ نعت ہے


تنویر میں بھی ہو گیا دنیا میں با وقار

فیضانِ نعت ہے یہی فیضانِ نعت ہے

جاوید صدیقی، لکھنوو، انڈیا

نسبت مرے حضور کی سامان نعت ہے

ان کا حسیں خیال ہی عنوان نعت ہے


مجھسے گناہگار کو بخشش کی دی نوید

مجھسے گناہگار پہ احسان نعت ہے


آتا ہے قبل نعت جس اک ذات کا خیال

اللّه کا حبیب ہے وہ ، جان نعت ہے


روز ازل رکھی گئی بنیاد نعت کی

کتنا بلند سوچئے ایوان نعت ہے


آیات ِ بینات بتاتی ہے یہ ہمیں

اللّه کا کلام دبستان نعت ہے


کیا لطف ہو فرشتے بھی میزان پر کہیں

تیرا نجات نامہ یہ ، دیوان نعت ہے


ہے شاعران نعت پہ انعام کبریاء

" ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے "


یاد شہ انام کی خوشبو میں ہے بسا

" جاوید" تیرا دل ہے کہ بستان نعت ہے

جاوید عادل سوہاوی، جرمنی

عشق۔ حضور، زینت۔ سامان۔ نعت ہے

روشن چراغ ۔ بخت بفیضان۔ نعت ہے


ہر عالم۔ نمو میں ہے خوشبو حضور کی

"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔ نعت ہے"


سب عاشقان۔ صورت ۔ محمود کے لئے

سیرت شہ۔ عرب کی دبستان نعت ہے


گلہائے باغ۔ مدح و ثنا ہوں جو رو برو

تو مثل۔۔ عندلیب سخن دان۔ نعت ہے


طیبہ سے لامکان تلک جو ہے فاصلہ

ہر گام مصطفےٰ کا گلستان۔ نعت ہے


سر پر ہے لخت۔ ابر۔عنایات۔ وحدہ

اپنےمزاج۔ دل کو جو میلان۔ نعت ہے


سجدہ ہے کربلا کا بھی حسن۔ ثنا گری

اقصیٰ میں وہ نماز بھی جانان۔ نعت ہے


باغ۔ ۔ شب۔ فلک ہے ضیا بار اس لئے

تاروں کا ہر ہجوم خیابان ۔ نعت ہے


والشمس کا ہو نور کہ واللیل کی ادا

صلِ علیٰ کا حسن ہی شایان۔ نعت ہے


ہر سورت ایک پھول ہے ہراک حدیث شاخ

یہ کنز۔ رنگ وبو ہے جو عرفان۔ نعت ہے


آواز۔کن فکاں ہے خصائص کا زمزمہ

گویا ظہور۔ہست بھی اعلان۔ نعت ہے


وہ سلسبیل و کوثر و تسنیم۔ خلد سب

مل جائیں تو سمجھنا کہ احسان۔ نعت ہے

جمشید ساحل، بریلی شریف ، انڈیا

جانِ بہار اور گلستانِ نعت ہے

بخشش کے واسطے مرے وجدانِ نعت ہے


شاہِ عرب کی مجھ کو گدائی جو مل گئی

اللہ کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک خدا گواہ

ہـر شعبئہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


یوں تو بہت ہیں نعت کے دیوان دہر میں

یکتا مگر رضا کا ہی دیوانِ نعت ہے


دنیا کے گوشہ گوشہ میں جس سمت دیکھئے

چھایا ہوا ہر ایک سو بارانِ نعت ہے


ایماں سے ہاتھ دھونا نہ پڑ جاے اس لئے

رکھیے قدم کو پھونک کے میدانِ نعت ہے


دیوانگانِ شاہِ دو عالم کی ہے صدا

دل چیز کیا ہے جان بھی قربانِ نعت ہے


ساحل گناہ گار سیہ کار ہے مگر

مداحِ مصطفٰے ہے یہ احسانِ نعت ہے

جمیل حیدر عقیل، نیویارک، امریکا

بشکریہ : عباس عدیم قریشی

موسم ہے دل کا جاں فزا امکان نعت ہے

میری سخنوری پہ بھی فیضان نعت ہے


لفظوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہی

ان کی ولائے پاک ہی سامان نعت ہے


ایسے ہی تو کھلی نہیں رہ پلِ صراط کی

ہاتھوں میں اس فقیر کے دامان نعت ہے


کیسے نہ نعت پاک ہو دل سے مرے کشید

رگ رگ میں جب رچا بسا ایمان نعت ہے


قندیل جب سے ہو گئی روشن درود کی

سب حسرتیں ہی مٹ گئیں، ارمان نعت ہے


ایسا چلا ہے دور درود و سلام کا

ہونٹوں پہ قدسیوں کے بھی گردان نعت ہے


اے دل اسی میں ڈوبنا تم احترام سے

جس ساگرِ خلوص میں ہیجان نعت ہے

جنید نسیم، راولپنڈی، پاکستان

مکمل نام : جنید نسیم سیٹھی

جب سے خیال و فکر کو میلانِ نعت ہے

ہر سانس ایک شعر بہ عنوانِ نعت ہے


مولود ہو بیانِ سراپا ہو، خُلق ہو

قائم انھی سے رونقِ بُستانِ نعت ہے


ہر رُخ حیاتِ پاک کا پیشِ نظر رہے

سیرت میں گام گام پہ سامانِ نعت ہے


نے قدرتِ کلام نہ فہمِ سخن وری

سلطانِ انبیا کا ادب ، جانِ نعت ہے


صحنِ بیان و ذکر سے باہر تو دیکھیے

"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر سمت کھلتے رہتے ہیں گُل ھائے رنگ رنگ

میرا وطن بھی گویا گُلستانِ نعت ہے


معبود! مجھکو نعت کا عرفان کر عطا

وہ لفظ ہو عطا کہ جو شایانِ نعت ہے


مجھ ایسا بے ہُنر بھی ہوا معتبر جنید

میرا کمال کیا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے

جہانداد منظر القادری، کراچی، پاکستان

دعویٰ ذرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے

حاضر جہاں پہ ہوں مَیں وہ ایوانِ نعت ہے


ممدوحِ ذات حق کی ہے مدحت کا مرحلہ

بے قیل و قال محض یہ احسانِ نعت ہے


رب کا کلامِ نُور ہے تعبیرِ حُسنِ کُل

نعتوں کی سلطنت کا وہ سُلطانِ نعت ہے


عشقِ نبی میں ڈوب کے دیکھو تو تب لگے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


لے کر چلا ہُوں نعت کی فردِ عمل کو ساتھ

میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے


آقا کے نقشِ نعلِ عطا زیبِ حرف ہیں

منظَر بھی آج صاحبِ دیوانِ نعت ہے

جوہر قدوسی، کشمیر، بھارت

بشکریہ : غلام فرید واصل

ارض وسماء میں چار سو فیضانِ نعت ہے

فرقان لا یزال ہی شایانِ نعت ہے


مدح و ثنائے خواجہ ہو دوران نیم شب

اشک سحر گہی سے ہی عرفان نعت ہے


شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


عشق نبی فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں

یہ میرا جذب و کیف بھی احسان نعت ہے


میں بے ہنر ہوں تاب سخن کی طلب مجھے

ارمان کوئی ہے تو بس ارمان نعت ہے

حاتم رضا علیمی، سیتا مڑھی,بہار، انڈیا

سینے میں میرے حسرت و ارمانِ نعت ہے

باغِ جناں سے اعلی خیابانِ نعت ہے


لکھنے کی نعت مجھ کو سعادت نصیب ہو

سرکار ! عشق آپ کا ایمانِ نعت ہے


جا ہ وحشم کی مجھ کو ضرورت نہیں حضور

چشمِ زدن میں بارشِ فیضانِ نعت ہے


خیر البشر کی مدح کروں میری کیا مجال

فضلِ خدا سے مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


خلدِ بریں میں جانے کی خواہش نہیں مجھے

جب خود ہی میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


دنیا کے خطے خطے سے آتی ہے یہ صدا

,,ہر شعبہِ حیا ت میں امکا نِ نعت ہے,,


نعت رسول لکھنے میں حاتم کی موت ہو

تا زیست کے لیے یہی فرحانِ نعت ہے

حسان المصطفٰی ، سیالکوٹ، پاکستان

یونہی نہیں یہ رفعتِ عنوانِ نعت ہے

سب حمد جس کی ہے وہی نگرانِ نعت ہے


سب امتیں پڑھیں گی وہاں نعتِ مصطفیٰ

میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے


کچھ اشکِ بے مراد ہیں آنکھوں میں موجزن

میں ہوں، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے


سائے میں جس کے میرے سبھی عیب چھپ گئے

خوش بخت ہوں، ملا مجھے دامانِ نعت ہے


اُسکی ثنا ہی اول و آخر ہے دوستو

اِسکے سوا ہے جو بھی، وہ دورانِ نعت ہے


غزلوں میں جو بھی آیا گماں میں وہ کہہ چُکا

ہٗشیار باش! رُو بقلمدانِ نعت ہے


ہر شعر پُل صراط ہے، محتاط ہو کے چل

ہر نعت خود کہےتٗجھے عرفانِ نعت ہے


ہر دور کی رگوں میں رواں اُنکا ذکر ہے

گویا زماں زماں نہیں، دیوانِ نعت ہے


اُمیدِ وصل، اشک، غمِ ہجر، اور اشک

یہ زادِ راہِ عشق ہے، سامانِ نعت ہے


یہ نام تھا، دعا تھی کہ والد کا خواب تھا

جِسکے سبب ہی آج یہ حسانِؔ نعت ہے

حسن رضا حسانی ، کلاسوالہ سیالکوٹ ، پاکستان

حبِّ رسول سے سجا دامانِ نعت ہے

توصیفِ مصطفیٰ ہی فقط شانِ نعت ہے


لفظوں کے موتی اور نکھرتے ہیں نعت سے

جو کچھ ہے عشق میں لکھا وہ جانِ نعت ہے


ہے تیز دھار سیف پہ چلنے کی مثل نعت

اپنا عقیدہ اصل میں پہچانِ نعت ہے


اب ذہن کا جہان معطر ہوا مرا

وہ اس لیے کہ دوستو فیضانِ نعت ہے


رب نے بھی مصطفیٰ کا ذکر خوب ہے کیا

ہر معجزہ حضور کا شایانِ نعت ہے


مجھ کو سلیقہ آ گیا مدحت سرائی کا

اچھا سخن طراز ہوں احسانِ نعت ہے


محشر کے دن ذرا بھی نہ گھبرائے گا حسن

دیکھو تو اس کے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


محمد حسن رضا حسانی، کلاس والہ سیالکوٹ، پاکستان

حسن علی خاتم، لاہور، پاکستان

کچھ پاسِ آرزو ہے، نہ عرفانِ نعت ہے

اک شوق ہے سو وہ بھی نہ شایانِ نعت ہے


اتنا سا دل ہے اور سرِ میدانِ نعت ہے

حاشا یہ حوصلہ نہیں، فیضانِ نعت ہے


کیا کیا نہ زیرِ سایہِ دامانِ نعت ہے؟

ہر شے پہ کائنات میں احسانِ نعت ہے


جب لفظِ کن ہی مطلعِ دیوانِ نعت ہے

پھر کیا ہے جو نہ داخلِ دامانِ نعت ہے؟


مخصوص شاعری سے نہیں نعت کا عمل

سنت کو جو بھی تھام لے، حسانِ نعت ہے


جو اشک ان کی یاد میں نکلے، سو شعر ہے

جس دل میں بھی وہ ہیں، سو دبستانِ نعت ہے


شعر و سخن میں اس کو مقید نہ جانیے

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


تعریف ہے خدا کی، نبی کی ہی کیوں نہ ہو

یہ حمد ہے اگرچہ بہ عنوانِ نعت ہے


محشر کے واسطے یہ حوالہ بہت ہے دوست

خاتم فقیرِ راہِ فقیرانِ نعت ہے

حسنین الثقلین، مدینہ منورہ، سعودی عرب

مکمل نام : سید محمّد حسنین الثقلین

پَل پَل جو پَل رہا ہے، وہ ارمانِ نعت ہے

دل میں جو جاوداں ہے، وہ فیضانِ نعت ہے


کہتے ہوۓ غزل بھی، مجھے دھیانِ نعت ہے

سچ پوچھیے تو یہ مِرا پیمانِ نعت ہے


وَالَّیل، وَالضُّحی، کہیں وَالفَجر کا بیاں

کیسا حسیں سجا ہُوا قرآنِ نعت ہے


سمجھا ہے کون رُتبۂ مرسل بجز خُدا

حاصل کسے بھلا ہُوا عرفانِ نعت ہے


لازم ہے ہم نماز میں اُن پر پڑھیں درود

ثابت ہوا نماز بھی سامانِ نعت ہے


میرے خمیر میں ہے وِلاۓ نبی گُندھی

اِس واسطے سرشت میں میلانِ نعت ہے


ہوش و خرد کو دل کے مَیں رکھتا ہوں آس پاس

اِس واسطے کہ سامنے ایوانِ نعت ہے


"صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے"

”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“


حسنی کو مرحبا کہا رضوانِ خُلد نے

دیکھا کہ ہاتھ میں مِرے دیوانِ نعت ہے

حسنین اکبر، دوبئی

اُمی لـقب سے عَلَّمَ بُرہانِ نعت ہے

اقرأ باســم ربـك اعلانِ نعت ہے

وہ پہلا نعت گو وہی سلطانِ نعت ہے

ہر نعت گو رعیّتِ عمرانِ ع نعت ہے

بنیادِ مدحِ سید الابرار ص ہے درود

فرمانِ کردگار میں فرمانِ نعت ہے

شق القمر دو باٹ کی صورت بٹے ہوئے

دستِ الہُٰ العدل میں میزانِ نعت ہے

پیغمبرِ ص حیات ہیں سرکارِ ص دوجہاں

"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"

جس نعت میں علی ع و محمد ص کی بات ہو

وہ کائناتِ نعت میں سلمانِ ع نعت ہے

اظہارِ کُل صفاتِ الہٰی انہی ص سے ہے

اب اس کے بعد جو بھی ہے میدانِ نعت ہے

حرفِ دعا ہے آیہءِخیرالجزا کے بعد

مجھ کو جزا کی مد میں بھی ارمانِ نعت ہے

دنیا ادب سے لیتی ہے جو نعت گو کا نام

 کوئی ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے

پہلی اذانِ اسمِ محمد ص تھی عرش پر

دراصل کعبہ دوسرا ایوانِ نعت ہے

قرآں کہو صحیفہ کہو کوئی نام دو

دیوانا جانتا ہے یہ دیوانِ نعت ہے

دل سے دعائیں دیجیے مدحِ رسول ص پر

خاموشی اس مقام پہ کفرانِ نعت ہے

یہ داستان عشق ہے کارِ جہاں نہ جان

لکھنے سے پہلے یہ بتا،ایمانِ نعت ہے؟

طیبہ سے ہوکے جاتے ہیں ہم سوئے کربلا

ہر شاہراہِ عشق خیابانِ نعت ہے

اکبر میں اسـکے ہاتھ پہ بیعت ابھی کروں

جس کو بھی اس زمانے میں عرفانِ نعت ہے

حسنین شہزاد، کوٹ عبد الحکیم ، پاکستان

سُلگا ہؤا خیال میں لوبانِ نعت ہے

خوش ہیں قلم دوات کہ امکانِ نعت ہے


باب السّلام ، بابِ امان و سکون ہے

بابِ بقیع ، باب ِ خیابانِ نعت ہے


عُشّاق جانتے ہیں مقام ِ مواجہہ

عُشّاق یعنی وہ جنہیں عرفانِ نعت ہے


چشمِ خیال ، بَن کے دِوانی کبوتری

محوِ طواف ِ روضہ ءِ سلطانِ نعت ہے


تعلیم ہو، سفر ہو، تجارت ہو ، عدل ہو

" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


حسنین عاقب، مہاراشٹر ، بھارت

سیرت نبی کی، ذکرِ نبی جانِ نعت ہے

میں نعت گو ہوں، مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


آدابِ نعت گوئی قلم کو سکھائیے

اور یہ خیال رکھیے، یہ میدانِ نعت ہے


اذہان جن کے مہکے عقیدت کے نور سے

حاصل انہی کو ہوسکا وجدانِ نعت ہے


اصنافِ شعر جتنی ہیں، اپنی جگہ مگر

ہر ایک صنفِ شعر تو قربانِ نعت ہے


لفظوں کے جوڑ توڑ سے نسبت نہیں اسے

عشقِ رسول ہی سے تو پہچانِ نعت ہے


اے کاش! میری نعت سے خوش ہوکے ایک دن

کہہ دیں یہ خود نبی کہ تو خاقانِ نعت ہے


عاقب نے جس کا نام رکھا خامہ سجدہ ریز

باعث نجات کا مرا دیوانِ نعت ہے

حسیب آرزو، بکسر،بھارت

یہ دہر کیا ہے“ واللہ گلستان نعت ہے

ہر شے پہ کاٸنات کی، فیضان نعت ہے


ظلم و ستم کی دھوپ بگاڑے گی کچھ نہیں

جب تک ہمارے سر پہ خیابان نعت ہے


محفوظ تو خزاٶں سے ہر وقت ہے وہی

سایہ فگن یہ جس پہ بھی باران نعت ہے


کیسے مٹے گا تذکرہ خیرالانام کا

پروردگار جب کہ نگہبان نعت ہے


حج کی سعادتیں ہوں یا صوم و صلوة ہوں

“ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے“


شاعر کا ہونا عشق میں کچھ شرط تو نہیں

یہ عاشقِ رسول بھی مردان نعت ہے


جاکر پڑھوں میں شہر مدینہ میں با ادب

اک،،آرزو کے دل میں بھی ارمان نعت ہے

حسیب جمال ۔ یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے

شاعر : حسیب جمال ، راولپنڈی


یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے

لیکن کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے ۔

لغزش سے ہو نہ جائے سبھی کچھ ہی رائگاں

احباب! احتیاط، یہ میدانِ نعت ہے


اشکوں کے ساتھ جانبِ طیبہ میں چل دیا

زنبیلِ چشم میں یہی سامانِ نعت ہے


پہلے نبی کے عشق سے دل کو سجاو تم

میں نے سنا ہے دوستو یہ کانِ نعت ہے


لکھنے لگا جو نعت تو محسوس یہ ہوا

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


قرآن کا محافظِ مطلق ہے خود خدا

یعنی کہ خود خدا بھی نگہبانِ نعت ہے


مل کر درود بھیجیے خیر الانام پر

لائق یہی ہے اور یہی شایانِ نعت ہے


کھل کر جمال کیجیے توصیفِ مصطفیٰ

توصیفِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے

حسین امجد، اٹک، پاکستان

کب میر ے پاس آپ کے شایانِ نعت ہے

میر ے حضور دل میں یہ ارمانِ نعت ہے


قرآں بیاں کرتا ہے ، توصیف آپ کی

یعنی قرآن ِ پاک ہی شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


میر ے حضور آپ کا مدحت نگار ہوں

میر ے حضور مجھ پہ یہ ' احسان ِنعت ہے


میں تٙو حضور سایہء رحمت میں آگیا

صد شکر میر ے پاس بھی دیوان ِنعت ہے


میر ے حضور ایسا کوئی شعر ہو عطا

محفل میِں ، میٙں پڑھوں تو کہیں جانِ نعت ہے


ایسی فضا حضور مری مستقل رہے

جیسی مر ے جضور یہ دورانِ نعت ہے


میر ے حضور حشر میں رسوا نہیں ہوا

میر ے حضور محض یہ فیضانِِ نعت ہے


امجد عروجِ نعت سے قائم ہے کائنات

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "

حسین شاہ زاد، دوبئی

چھائی ہوئی کچھ ایسے بہارانِ نعت ہے

لب پر درود دل میں گلستانِ نعت ہے


قرآن جس کی شان میں دیوانِ نعت ہے

اس دلربا کی دُھن مرا سامانِ نعت ہے


ساون کچھ ایسے حُسن سے آیا ہے اب کی بار

اشکوں کے جلترنگ میں بارانِ نعت ہے


فصلِ ربیع واہ تری دل ربائیاں

گھر گھر میں ذکرِ الفتِ جانانِ نعت ہے


کون و مکان ان کی تمنّا میں ہیں مگن

اور ان کے دھیان میں، جو ثنا خوانِ نعت ہے


اعزاز میں جو ان کے سجی ہے یہ کائنات

پیرایۂِ لطیف میں اعلانِ نعت ہے


صد مرحبا جو اشک بہے ان کے عشق میں

گریہ اس عقل پر جو گریزانِ نعت ہے


فیضِ نگاہِ شوق سے منطق پکار اٹھی

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


وجدان و قول و فعل پہ ہی منطبق نہیں

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ذوقِ سخن عطائے خداوند ہے مگر

کیا بات اس عطا کی جو وجدانِ نعت ہے


ہو آیا دل مدینہ سے جب رہ گئے قدم

کیا کم یہ کم نصیبوں پہ احسانِ نعت ہے؟


آفاق دیکھ، نفس کو دیکھ، ارتقاء کو دیکھ

ہر متنِ کائنات پہ عنوانِ نعت ہے


دنیا کے بادشاہوں کا ہو کیوں نیاز مند

شہ زادٓ خاکِ پائے ثنا خوانِ نعت ہے


پروانہ وار جلنے کو آیا ہے شاہ زادٓ

وہ بو الحسن کی شمعِ شبستانِ نعت ہے

حنیف نازش، گوجرانوالہ، پاکستان

سر پر ہمارے سایہ ٕ ذی شانِ نعت ہے

حاصل خُدا کے فضل سے ایقانِ نعت ہے

رکھتی ہے مُجھ کو نعت رہِ مُستقیم پر

مُجھ پر، مِری حیات پر احسانِ نعت ہے

جب لب سے اُن کا نام لیا، نعت ہو گٸی

نادان ہے وہ شخص جو انجانِ نعت ہے

صَلُّوا وَسَلِمُوا کی حلاوت کو پا کے دیکھ

غافل! درودِ مُصطفوی جانِ نعت ہے

بتلا رہی ہے آیتِ میثاق صاف صاف

مہکا ہُوا ازل سے گُلستانِ نعت ہے

ہر داٸرے کا مرکزی نُکتہ نبی کی ذات

”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“

نازش لواۓ حمد ہو، محمود کا مقام

میدانِ حشر گویا کہ میدانِ نعت ہے

خالد خان، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان

مکمل نام : محمّد خالد خان

طاری کچھ ایسا موسمِ وجدانِ نعت ہے

ہر دل مثیلِ طائرِ عرفانِ نعت ہے


جلوے ہیں کن فکاں کے فقط آپﷺ کے طفیل

سارے جہاں پہ رحمتِ بارانِ نعت ہے


توبہ ابوالبشر کی میں نسبت تھی آپﷺ کی

جاری ازل سے ہست میں فیضانِ نعت ہے


معراج سے ملا تھا جو اک تحفۂِ نماز

دراصل وہ نماز بھی پیمانِ نعت ہے


تاثیر وردِ صلِّ علیٰ کی تو دیکھیے

درماں دلِ فگار کا دامانِ نعت ہے


ذکرِ درودِ پاک ہے مقبول ہر گھڑی

کیسا ہم عاصیوں پہ یہ احسانِ نعت ہے


مدحت تریﷺ بیاں کرے خالدؔ تمام عمر

خلقِ خدا کہے کہ سخندانِ نعت ہے

خالد رومی، راولپنڈی، پاکستان

ھر ایک شعر آیت قرآن نعت ہے

جو حصر سے ورا ہے , وہ احسان نعت ہے


انسان خوش نصیب بفیضان نعت ہے

کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوان نعت ہے


مخصوص شاعروں سے, کہاں خوان نعت ہے

سارے جہاں پہ سایہء دامان نعت ہے


 کوئی نبی نہ سرور جیش رسل ہوا

ہاں ! مصطفی' کی ذات, جو شایان نعت ہے


نکتہ کھلا یہ آیہء صلوا علیہ سے

یعنی اس امر میں چھپا فرمان نعت ہے


کس کا گزر ہے ناحیہء حق میں اسطرح

شایاں مرے حضور کو عنوان نعت ہے


شاہ جہاں, امام صور, خواجہء ازل

ختم رسل ہی زینت ایوان نعت ہے


کیسی غرض مطاعم فردوس آز سے

درویش کو عزیز نمکدان نعت ہے


تیرہ بساط زیست تھی, پر نور ہو گئی

عشق رسول شمع شبستان نعت ہے


یہ تذکرہ نہیں ہے زلیخاۓ مصر کا

ھشیار ! کوۓ یوسف کنعان نعت ہے  !!


داراۓ شعر بھی ہو یہاں یہاں ہوش باختہ

اللہ رے کیا ہی شوکت ایوان نعت ہے


ھم کشتگان چشم ولا کو خوشا نصیب

اسباب حمد ہیں, کہیں سامان نعت ہے


توفیق دے خدا تو ملے گنج آگہی

عالم سے بڑھ کے دولت عرفان نعت ہے


اس دور افتراق و تعصب گزیدہ میں

درکار ھر بشر کو ہی درمان نعت ہے


اخلاص جاں, نہ فہم و تدبر, نہ سوز دل

لائق رفو کے چاک گریبان نعت ہے


خیرات فکر و فہم اسے بخشئیے حضور !

رومی عجم میں آپ کا حسان نعت ہے

خالد عبداللہ اشرفی، مہاراشٹرا، بھارت

پیشکش : غلام ربانی فارح مظفرپوری


یہ زندگانی اصل میں عنوان نعت ہے

ہرلمحہ اس کا صفحۂ دیوان نعت ہے


دامن میں اپنے صدقۂ حسان نعت ہے

عزت سے جی رہے ہیں یہ احسان نعت ہے


لب وقف ہیں درود پیمبر کے واسطے

صدشکر رب کہ دل ہوا قربانِ نعت ہے


ہراک زبان ولہجہ میں موجود صنف نعت

کتنا وسیع دوستو دامانِ نعت ہے


گل ، گُلسِتاں چَرِند وپَرِند، انس و جن ،ملک

جسکو بھی دیکھیے ، لیے ارمان نعت ہے


خون جگر سیاہی ، دل مضطرب ورق

لکھنے کے واسطے یہی سامان نعت ہے


حاضر. جو قلب رہتا ہے ان کے حضورمیں

سب یہ کرم ہے فیض ہے وجدان نعت ہے


یہ جو لحد میں پھیلا اجالا ہے دوستو

فضل خدا ۓ پاک ہے ، برھان نعت ہے


جی بھر کے باغ خلد میں خالد پڑھیں گے نعت

کہتے ہیں خلد جس کو وہ ایوانِ نعت ہے

سید خالد عبداللہ اشرفی اورنگ آبادی، بھارت

خالد عرفان، نیو یارک، امریکہ

مت بے وضو اٹھا نا ، قلم دانِ نعت ہے

دیوانو ! ہوشیار ! یہ دیوانِ نعت ہے


میں فرض پڑھ کے لکھتا ہوں اپنے نبی کی نعت

جائے نماز ہی ، مرا جزدان ِ نعت ہے


خوں کا بہاؤ، دل کی دھڑک ، آنکھ کی جھپک

میرا توانگ انگ ثناخوانِ نعت ہے


مدحت کے پھول پھیلے ہوئے ہیں زمین پر

اب آسماں بھی دیدہ ء حیرانِ نعت ہے


کاغذ ، قلم ، دوات ہیں میرے شریک عشق

دنیا سمجھ رہی ہے یہ سامان ِ نعت ہے


ممکن ہے نعت گو کو ملے نعت کا صلہ

میدانِ حشر اصل میں میدان نعت ہے


دو چار لفظ لکھ کے ثنائے رسول میں

ہم نے سمجھ لیا ہمیں عرفان ِ نعت ہے


اکثر یہ سوچتا ہوں گناہوں کے بعد میں

کیا میرا عشق لائق ِ شایان ِ نعت ہے ؟


اس راہ میں کروڑ پتی بن گئے ہیں لوگ

ہر نعت خواں پہ رحمت ِ باران ِ نعت ہے

خادم رسول عینی، اڈیسہ، انڈیا

مکمل نام : سید خادم رسول عینی

لیل و نہار پر مرے احسان نعت ہے

میری حیات نور پہ جزدان نعت ہے


بچے ہوں یا ضعیف سبھی نعت پڑھتے ہیں

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


اک کنکری نے کلمہ پڑھا اور یہ کہا

ہر شئ کے دل میں دیکھئے ارمان نعت ہے


توریت میں زبور میں بھی ان کی ہے ثنا

قرآں مگر سدا کے لیے جان نعت ہے


وہ نظم ہو غزل ہو کہ دوہا کہ ہائیکو

بس ان کا ذکر ہو یہی پہچان نعت ہے


سیرت نبی کی لکھ تو سراپا بھی ان کا لکھ

ان دونوں کو ملا دے یہ ریان نعت ہے


سرکار کے وسیلے سے مقبول ہوگئ

آدم کی" عینی" توبہ بھی برہان نعت ہے

خاور اسد، رحیم یار خان، پاکستان

نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے

یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے


وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے

میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے


جز مدحِ شاہ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے

خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے


اس کے ہر ایک لفظ پہ افسوس کیجئے

جس کی بیاض بے سرو سامانِ نعت ہے


تشنہ لبی کو بوسہِ نعلین چاہئے

دل کی تپش کا توڑ یہ بارانِ نعت ہے


احساں ہے عالمین پہ میلادِ مصطفی

یہ کائنات اصل میں ایوانِ نعت ہے


رحمت ہیں وہ تمام جہانوں کے واسطے

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


مجھ ایسے بے ہنر کو پنہ مل گئی اسد

کتنی کشادگی سرِ دامانِ نعت ہے

خرم جمیل، میلسی

ہر اشک میری آنکھ کا سامان ِ نعت یے

یہ حال میرا دیکھیئے دورانِ نعت ہے


پڑھتے. رہو درود یہی راستہ تو یے

ذکر ِ رسول پاک ہی امکانِ نعت یے


کرتے ہو ہر نماز میں تعریف مصطفیٰ

تم خوش نصیب ہو تمھیں عرفانِ نعت ہے


ہر لفظ میرے سامنے رکھا ہوا تو ہے

بس آیہِ قرآن ہی. شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


تعریف ہر غلام کرے اس غلام کی

عشقِ بلال اصل میں میزان نعت ہے


اس کا یقین رشک کے قابل ہے اے جمیل

جو کہہ رہا ہے شعر کو دیوان نعت ہے


ہم میلسی کے لوگ عقیدت مزاج ہیں

خرم ! یہ شہر شہرِ غلامانِ نعت ہے

خلیل الرحمان، اسلام آباد، پاکستان

مکمل نام : محمّد خلیل الرحمان

کس کا کلام ہو سکا شایان ِ نعت ہے

قرآن کا نزول ہی سامان ِ نعت ہے


تخلیق ِ کائنات کا سرکارؐ ہیں سبب

“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”


ذکر ِ نبیؐ کے واسطے رزق ِ سُخن کھُلا

ہر دل بنا جبھی تو قلمدان ِ نعت ہے


صلّ ِ عَلٰی کے ورد سے دل کو ملے قرار

شاید اسی لیے ہی یہ سُلطان ِ نعت ہے


کرتا ہے روز و شب وُہی توصیف ِ مُصطفٰےؐ

جس شخص کو عطا ہوا عِرفان ِ نعت ہے


ملتے ہیں لوگ پیار سے مُجھ سے غریب کو

عزت کا آسرا مِرا فیضان ِ نعت ہے


تُو روضۂ ِ رسولؐ کے قابل نہ تھا خلیلؔ

تُجھ پر ہُوا ضرور وُہ احسان ِ نعت ہے

خورشید رضوی ، لاہور، پاکستان

یہ گلستانِ نغمہِ سرایانِ نعت ہے

سرگرم ہر روش پہ دبستانِ نعت ہے


ہے طبع سب کی ایک ہی آہنگ میں رواں

یکساں تمام بزم میں فیضانِ نعت ہے


غںچے چٹک رہے ہیں نکاتِ سخن کے آج

سمجھے گا کچھ وہی جسے عرفانِ نعت ہے


مضموں نکالنا ہیں ستاروں کو جوڑ کر

پھیلا ہوا فلک پہ یہ سامانِ نعت ہے


جو رنگ سوچئے سو ہے اس نقش سے فرو

جو حرف دیکھیےسو پشیمانِ نعت ہے


وہ فکر لائیے کہ ہو ہم دوشِ بامِ عرش

وہ لفظ ڈھونڈیے کہ جو شایانِ نعت ہے


ہر بات میں ہے اُسوہِء کامل نبیؐ کی ذات

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر موجہِء ہوا میں ہے خوشبو درود کی

ہر ذرّہ رُو بہ راہِ درخشانِ نعت ہے


ہے ہر شجر اُٹھائے ہوئے مدح کا عٙلٙم

ہر برگ پہ لکھا ہوا عُنوانِ نعت ہے


ہے یاد آسماں کو وہ شقُ القمر کی رات

باندھے ہوئے حضورؐ سے پیمانِ نعت ہے


خورشید ! آفتابِ قیامت کے رُو برو

کافی مجھے یہ سایہِ دامانِ نعت ہے۔

خورشید بیک میلسوی، میلسی، پاکستان

بشکریہ: یاسر عباس فراز

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے

وسعت پذیر, وسعتِ دامانِ نعت ہے


عرفانِ نعت گوئی بھی فیضانِ نعت ہے

سچ پوچھیے تو مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


بے مایہِ سخن ہوں مجھے اس کا غم نہیں

اخلاصِ بے ریا , سرو سامانِ نعت ہے


ہر لمحہ دھڑکنوں میں ہے صلِ علیٰ کی گونج

یہ میرا دل نہیں , کوئی ایوانِ نعت ہے


ہر سُو سجی ہوئی ہیں درودوں کی محفلیں

یہ ساری کائنات گلستانِ نعت ہے


دیتا نہیں ہے مجھ کو بھٹکنے ترا خیال

آداب آشنا مرا وجدانِ نعت ہے


رکھا ہے طاقِ صدر میں اس نے سنبھال کر

وہ جانتا ہے دل مرا دیوانِ نعت ہے


رکھتا ہے بے نیاز مجھے مدحِ غیر سے

گویا مرا قلم ہی نگہبانِ نعت ہے


ہو کیوں نہ بے مثال مرا حسنِ انتخاب

خورشید حرف حرف ہی مرجانِ نعت ہے

دانش حسین دانش، کولکتہ، انڈیا

شہرِ تخیلات میں عرفانِ نعت ہے

دل میں مرے مکین جو سلطانِؐ نعت ہے


خیراتِ فکر اس سے ہی لیتا ہوں بار بار

عمرانؑ کا جو گھر مرے دیوانِ نعت ہے


ہر رجس سے ہو پاک ہر اک لفظ میں ہو عشق

اجزائے نعت ہے یہی ارکانِ نعت ہے


چکھ رکھا ہے لعابِ محمدؐ اسی لئے

مولا علیؑ بتائیں گے کیا شانِ نعت ہے


نوکِ سناں پہ ہوں کہ ہوں شبیرؑ زیرِ تیغ

حمدِ خدا کہیں کہیں عنوانِ نعت ہے


ذکرِ رسولِؐ پاک ہے سانسوں سے متصل

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


تو بابِ شہرِ علمؑ سے دانشؔ ہے منسلک

جب تک کہ تیرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے

دلاور علی آزر، کراچی، پاکستان

پھیلا ہوا بہت سر و سامانِ نعت ہے

وسعت پزیر عالمِ امکانِ نعت ہے

مجھ میں بسی ہوئی ہے مہک مدحِ شاہ کی

مجھ میں کِھلا ہوا گُلِ ریحانِ نعت ہے

اِس لوح پر حضور کی مدحت لکھوں گا میں

یہ میرا دل نہیں ہے یہ جزدانِ نعت ہے

باندھا گیا ہے عشق کی ڈوری سے لفظ کو

مشکل ہے توڑنا اِسے پیمانِ نعت ہے

ہر کارِ خیر اُن سے عبارت ہے دہر میں

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے

پہچانتے ہیں مجھ کو جو دنیا میں چند لوگ

یہ اور کچھ نہیں ہے یہ فیضانِ نعت ہے

ورنہ کہاں یہ ہیچ ہنر اور کہاں یہ ظرف

میں نعت لکھ رہا ہوں تو احسانِ نعت ہے

لفظوں سے نورِ عشق جھلکتا ہے سر بہ سر

میری غزل کے رنگ میں اعلانِ نعت ہے

اُس کو بیان شعر میں کیسے کرے کوئی

وہ کیفیت جو لفظ کی دورانِ نعت ہے

حکمت کی سب حدیں ہیں اِسی آئنے میں ضم

رحمت سمیٹتا ہوا دامانِ نعت ہے

آزر میں پوچھتا ہوں سبھی ناعتین سے

میرا لکھا ہوا بھی کیا شایانِ نعت ہے

ذوالفقار علی دانش ، حسن ابدال، پاکستان

آثار ہیں کہ آمدِ بارانِ نعت ہے

دامن پسارییے شبِ فیضانِ نعت ہے


جس کو شعورِ خواہش و ارمانِ نعت ہے

وہ جان لے کہ اُس پہ یہ احسانِ نعت ہے


ہر سمت آج کل یہ جو رجحانِ نعت ہے

سرکار کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


جس شہر میں بھی نعتِ محمد کہی گئی

وہ شہر از قبیلِ خیابانِ نعت ہے

حسۤان کے قدوم کی جو خاک بھی نہیں

کیسے یہ مان لیں کہ وہ حسّانِ نعت ہے ؟


انسان ہوں ، مَلَک ہوں ، کہ کنکر ، شجر ، حجر

دیکھو جسے ، شریکِ دبستانِ نعت ہے


مدحت میں صرف میرا قلم ہی نہیں رواں

میرا رُواں رُواں بھی گُل افشانِ نعت ہے


زیبا ہے بس یہ حضرتِ حسّان کے لیے

ہر گز نہ کہیے کوئی بھی سلطانِ نعت ہے


گر نعت کہنے کا ہے ارادہ تو جانیے

" ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


جو سیکھنا ہو سیکھیے قرآں سے طرزِ نعت

ہر لفظ اس صحیفے کا شایانِ نعت ہے


صد فخر ہوں میں ناعتِ سرکارِ نامدار

صد شکر میری طبع میں میلانِ نعت ہے


قربانِ مدحِ سرورِ عالم ہے جاں مری

سب کچھ مرا فدائے فدایانِ نعت ہے


رکھ پھونک پھونک کر رہِ مدحت میں ہر قدم

حدِّ ادب رہے کہ یہ میزانِ نعت ہے


اے ساکنانِ کُوچہِ امکان دیکھنا

اِمشب بھی کیا کہیں کوئی امکانِ نعت ہے ؟؟؟


شانِ رسول فہمِ بشر سے ہے ماورا

مت سوچیے کہ آپ کو عرفانِ نعت ہے


پہلی صدی ہو یا کہ ہو وہ آخری صدی

حسّان ہی امیرِ جوانانِ نعت ہے


حمدِ خدا کے دائرے کی حد سے اِس طرف

جتنا بھی جس قدر بھی ہے ، میدانِ نعت ہے


کتنا کرم کیا ہے رسالت مآب نے

دانش بھی ریزہ چینِ گدایانِ نعت ہے


دانش ! رموزِ شاعری ہیں قلب و جسم و روح

آقائے دو جہاں کا ادب جانِ نعت ہے


اُڑتا پھرے ہے باغ میں آئی ہے بُوئے نعت

دانش کہ بلبلِ چَمَنِستانِ نعت ہے

ذوالفقار نقوی، جموں کشیمر، انڈیا

صَلُّوا کی صاد میں نہاں فرمانِ نعت ہے

صلِ علی کے ورد میں اعلانِ نعت ہے


اس کِشتِ لالہ زار میں مصروف ہیں مَلک

ہر ذی شعور دیکھئے دہقانِ نعت ہے


مہکے ہوئے ہیں ذرّے رَفَعنا کے ذکر سے

از ارض تا ثریا خیابانِ نعت ہے


ہے نورِ مصطفیٰ سے زمانے میں روشنی

سب کائنات شمعِ شبستانِ نعت ہے


عشقِ رسولؐ پاک ہو گر دل میں موجزن

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر آن محوِ ذکرِ رسالت مآبؐ ہوں

اللہ کی عطا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


کر کے وضو درود سے، فکریں سنوار کر

لفظیں سجا رہا ہوں کہ میدانِ نعت ہے


اہلِ سخن میں ہوتا ہے میرا شمار بھی

مدحِ نبیؐ کا ہے ثمر، احسانِ نعت ہے


والنجم و ھل اَتی سے مودّت کے باب تک

قرآن حرف حرف دبستان نعت ہے


صبح و مسا نہ کیوں رہوں سجدے میں ذوالفقار

ہر آن میری فکر پہ بارانِ نعت ہے

ذیشان متھراوی، کولکتہ، انڈیا

بشکریہ : محمد صبیح رضا

جو منبرِ رسول پہ حسانِ نعت ہے

تاجِ سخن ہے،بس وہی سلطانِ نعت ہے


ہر حرف نور نور ، تو ہر لفظ پھول پھول

خوشبو بتارہی ہے گلستانِ نعت ہے


سر کاٹ دے غلو کا ، تو قرآنی تیغ سے

سچ کی لگام تھام ، کہ میدانِ نعت ہے


قرآں کی روشنی سے، ضیائے حدیث سے

جو شعر غسل کرلے ، وہی جانِ نعت ہے


الفاظ ناپ تول کے پلّے میں ڈالئے

دستِ رسولِ پاک میں میزانِ نعت ہے


دیوانگی نے کھینچی تھی کاغذ پہ بس لکیر

دنیا پکارنے لگی گلدانِ نعت ہے


حسان ، کعب اور بریلی کے شاہ تک

کتنا وسیع حلقہء میرانِ نعت ہے


سوئے غزل کبھی نہ گئی ، نعت ہی کہی

ذیشان میری فکر پہ احسانِ نعت ہے

راحت انجم، ممبئی، انڈیا

پیشکش : حافظ عبدالحلیم

امّت پہ ان کی سایۂ دامان نعت ہے

کیسا عظیم خلق پہ احسان نعت ہے


ضو بار ہر زماں رخ تابان نعت ہے

کیا ہی سدا بہار گلستان نعت ہے


توفیق دے خدا کہ کروں ان کی میں ثنا

مجھ سے گناہگار کو ارمان نعت ہے


معلوم اس کی منزلت ادراک کو کہاں

بس اہل معرفت کو ہی عرفان نعت ہے


جس کی تلاوتوں سے ہوں عشاق سیر چشم

صورت ہے مصطفیٰ کی کہ قرآن نعت ہے؟


مرغان جذب و شوق ہیں محو ثنا یہاں

یہ دل ہے میرا یا چمنستان نعت ہے؟


تاریکیِ حیات کا کردے جو خاتمہ

ضو بار اتنی شمع شبستان نعت ہے


فضل و کمال مجھ میں اے راحتؔ نہیں مگر

تشہیر جو ہے میری بفیضان نعت ہے

راحل بخاری، لکی مروت، پاکستان

سرمایۂ حیات اک ارمانِ نعت ہے

وہ کیا کرے جو بے سر و سامانِ نعت ہے


یارا نہیں کہ نعت کہیں ہم سے بے زباں

لہجہ تو بس قرآن کا شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


دروازۂ بتول ع پہ آیات روشنی

دروازۂ بتول ع ہی ایوانِ نعت ہے


مسجد، کجھور، راستہ، دیوار، در، دیا

اک شہر حسن زار میں سامانِ نعت ہے


اک نون عین تے کا ہے صدقہ بیانِ عصر

ایما و رمز و چاشنی فیضانِ نعت ہے


خوشبو کے پیش و پس کا علاقہ ہے نور کا

روشن سماعتوں پہ ہی بارانِ نعت ہے

رائے توکل اللہ

عرفان حمد صدقہء وجدان _نعت ہے

افکارمنتشر پہ یوں احسان _نعت ہے


سیم و زر_جہان کی ہرگز نہیں طلب

جب جمع پونجی گوہرو مرجان _ نعت ہے


ہر دم خیال میں ادب_مصطفی (ص) رہے

آوازخامہ میں یہی اذعان نعت ہے


راقم کو اپنے نار سے کروانا رستگار

لحظہ بہ لحظہ وعدہ و پیمان_نعت ہے


کب صنف نعت اہل ادب ہی کا خاصہ ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکان_نعت ہے"


ملک_عدم روانگی کو دل ہے مطمئن

ہمراہ حشر کے لیے سامان_نعت ہے


کیوں کر نہ میرا علمی تبحر ہو در فشاں

بخشا مجھے رسول (ص) نے امعان_نعت ہے


حسن_خیال بخشے ہے ہر زید بکرکو

نشوونما گمان کی ایقان_نعت ہے


ڈنکا جو بج رہا ہے توکل کا چار دانگ

فیض محمدی (ص) ہے , یہ فیضان نعت ہے

رئیس جامی، اٹک، پاکستان

میں بے ہنر ہوں کب مجھے عرفانِ نعت ہے

مولا! مگـر کـرم ہو کہ ارمـانِ نعت ہے


ان کا کرم کہ کاوشیں کرتے ہیں وہ قبول

ورنہ کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے


میرے تخیـلات پہ چھائی ہے روشنی

کہتا ہوں میں یقیں سے یہ فیضانِ نعت ہے


مطلع ہوا تو آنکھ سے آنسو نکل گئے

قسمت کہاں مری کہاں جانانِ نعت ہے


دنیا مجھے حقیر نہ جانے میں ہوں غنی

دیکھو یہ میـرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


میرے خیـال میں اسے پتھر ہی جانیے

وہ دل کہاں جو بے سـر و سامانِ نعت ہے


اس نے رخِ حبیب کو تک کر کہی تھی نعت

حسان اس لئے ہی تو سلطانِ نعت ہے


میرے تمام عیب چھپائے گا روز ِ حشر

اتنـا طــویل وسعتِ دامــانِ نعـت ہے


بیٹھے بٹھائے ہوگئی اس در پہ حاضری

کیسا رئیس دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے


رحمان حفیظ ، اسلام آباد، پاکستان

سیرت نظر میں ہو تو یہ میدانِ نعت ہے

ہر فن میں، ہر ہنر میں ہی سامانِ نعت ہے

اظہارِ عشق ہے جو بے عنوانِ نعت ہے

قرآن شاعری نہ سہی، جانِ نعت ہے

دنیا میں لیتا رہتا ہوں فردوس کے مزے

جب سے مِری رسائی میں دالانِ نعت ہے

اعجاز دیکھ رحمتُ الِّلعالمین کا !

مجھ بے ہنر کا ہاتھ بھی مہمانِ نعت ہے

مدح و ثنا کا سلسلہ افلاک سے چلا

" صلّو علیہ" خاصہ ء خاصانِ نعت ہے

الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں قطار میں

جس سے بھی پوچھ لیجئے، قربانِ نعت ہے

ان ؐ کو لُٹے پٹے تو زیادہ عزیز ہیں

اسبا ب کا نہ ہونا بھی سامانِ نعت ہے

حدِّ ادب سے ہو گئی عنقا صریرِ کلک

اتنا مِرے قلم کو بھی عرفانِ نعت ہے

واللہ ! صرف زائرِ طیبہ کا ہو تو ہو

احساس جو مجھے ابھی دورانِ نعت ہے

تخلیقِ کائنات کا باعث حضُور ؐہیں

اس ڈھب سےکائنات بھی دیوانِ نعت ہے !

خود لا جواب ہو گئے منکر نکیر ، جب

دیکھا کہ میرے پاس قلمدان نعت ہے

پہنچے گا اُس تلک بھی شفاعت کا سلسلہ

وہ خوش خصال جس میں بھی میلانِ نعت ہے

اے کوچہء سخن کے پریشان ! اتنا جان

تسکین دل جو ہے تو بفیضانِ نعت ہے

طیبہ سے ہو کے جائے گا باغِ بہشت تک

دشتِ ہنر میں یہ جو خیابانِ نعت ہے

مملو ئے ادّعا ،نہ تعلّی سے بہرہ ور

رحمان شاعری میں عجب شانِ نعت ہے

رحمان شاہ ، مانسہرہ، پاکستان

ہر موڑ پر یہ پانیوں کا چشمئہ خنک

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


چھو لوں میں رفعتوں کو مری شان بھی بڑھے

آقا کی داد جو ہو یہ ارمانِ نعت ہے


سنت کو ماننے میں جہانوں کی ہے فلاح

سنت کا ہو بیان تو پہچانِ نعت ہے


آقا کی جو نگاہ یہ رحمانِ اب پڑی

میرا نہیں کمال میاں شانِ نعت ہے

رحمان فارس، لاہور، پاکستان

وہ جانتا ہے جس کو بھی عرفانِ نعت ہے

عشقِ مُحمَّدِ عَرَبی جانِ نعت ہے


بے شک ہے حجرِ اسود اِسی بات کا ثبوت

بے جان پتھّروں میں بھی امکانِ نعت ہے


اُس کی ھر ایک سانس ہے نعتِ نبی کا شعر

جو عاشقِ رسُول ہے دیوانِ نعت ہے


ھم بندگانِ خاک بھلا کیا کہیں گے نعت

نُطقِ خُدائے پاک ھی شایانِ نعت ہے


کرتے ھیں یہ تو آخری ھچکی میں بھی ثنا

عُشّاق کو تو موت بھی سامانِ نعت ہے


دُنیاوی نعمتیں بھی مُجھے دِین سے ملِیں

میری غزل میں کیف بَفیضانِ نعت ہے


ذکرِ نبی کو کتنی بلندی پہ لے گیا

قُرآن اپنی رُوح میں قُرآنِ نعت ہے


لاھور سے عجب ھیں مدینے کی نسبتیں

فارس ! یہ شہر شہرِ غُلامانِ نعت ہے

رخشندہ بتول، لاہور، پاکستان

بشکریہ : علی وارث

کہہ دیں حسین مجھ سے یہ ایوانِ نعت ہے

اور میں حسین سے ہوں یہ دیوانِ نعت ہے


ارض و سما میں جو ہے تصرف انہیں کا ہے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


تخلیق ان کے صدقے میں تخلیق ہو گئی

کچھ لفظ شعر ہو گئے ، فیضانِ نعت ہے


جبریل در پہ اذن کی خاطر رکے رہے

رکنا دلیل ہے انہیں عرفان ِ نعت ہے


خالق بھی ان پہ بھیجتا ہے ہر گھڑی درود

قرآن پڑھ کے دیکھیے اعلانِ نعت ہے


رخشندہ کہہ رہے ہیں سبھی نعتِ مصطفٰی

لحنِ علی ملے تو یہ شایانِ نعت ہے

رضا المصطفی، سیالکوٹ، پاکستان

تخلیق کائنات کا عنوان نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


اس طرح سوئے حشر میں ہونے لگا رواں

دامن میں اور کچھ نہیں دیوان نعت ہے


تعریف مصطفی ہی تو منشا خدا کی ہے

ہر اک نبی کو مولا کا فرمان نعت ہے


سب انبیاء کے سامنے رب کریم نے

بعثت سے پہلے کر دیا اعلان نعت ہے


لفظوں کے موتی چن لئے تو نے بھی کچھ رضا

جب آیا تیرے سامنے یہ خواں نعت ہے

رِضا شیرازی، اسلام آباد، پاکستان

چھلکا جو دل کے جام سے میزانِ نعت ہے

پیدا ہوا جہان میں سامانِ نعت ہے


اٹھتی ہوئی غدیر کے منبر پہ منقبت

آزانِ حمد ہے, یہی پالانِ نعت ہے


سیرت, طریق, زلف, تکلم, سفر, مزاج

آوازِ کبریا میں یہ قرآنِ نعت ہے


گھر میں, سفر میں, جنگ میں, غربت میں, امن میں

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


قائم ہوئی جہاں میں سبھی عاشقوں کی صف

ہونے لگی درون میں آزانِ نعت ہے


یوں متصل ہے آل ع سے احمد ص کا تذکرہ

کفرانِ منقبت میں ہی کفرانِ نعت ہے


مانگی ہے نعت حضرتِ عمران ع سے, سنو!

ہاتھوں میں جن کے اب بھی قلمدانِ نعت ہے

رضا عباس رضا ، لاہور

بشکریہ : صادق جمیل، لاہور

یہ کائنات نکتہِ ایوان ِ نعت ہے

قرآن پاک اصل میں اعلانِ نعت ہے


اب ذہن اپنا رنگ بدل، دل ذرا سنبھل

یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے


محشر میں سر اُٹھا کے چلوں گا کہ میرے پاس

سرمایہ منقبت کا ہے سامانِ نعت ہے


میراثِ مصطفٰیؐ کا نہ دعویٰ کرے کوئی

جو وارثِ نبیؐ ہے نگہبانِ نعت ہے


ہر شئے خدا کے ذکر میں مصروف ہے تو مان

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہے خاکسار عرش نشینوں کا ہم خیال

یہ فضل ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے


مت روکنا فرشتوں ذرا غور تو کرو

خاکِ شفا ہے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


میں کیا تھا مجھ کو جانتا کوئی نہ تھا رضا

عزت مجھے ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے

رضوان انجم، لاہور، پاکستان

یہ حُسنِ کائنات تو فیضانِ نعت ہے

ہر ذرّہِ جہان ہی دیوانِ نعت ہے


قدسی بھی بھیجتے ہیں درود ان کی ذات پر

یہ دو جہان محفلِ بستانِ نعت ہے


کرتا ہوں گر میں حمد تو لگتی ہے نعت سی

وجدانِ حمد اصل میں عرفانِ نعت ہے


قاری ہو ، کوزہ گر ہو، معلم ہو یا ادیب

ہر گوشہ ء حیات میں امکان نعت ہے


رضوان بخش دے مجھے جنّت میں داخلہ

سن میرے پاس کنجئ ایوانِ نعت ہے


ادنیٰ تھا ان کی نعت نے اعلی بنا دیا

مجھ خاکسار پر بڑا احسانِ نعت ہے


گر ذوقِ نعت ہے تو چلو ان سے فیض لیں

احمد رضآ کا در، درِ فیضانِ نعت ہے


عجزِ بیانِ نعت ہے حسنِ بیانِ عشق

انجم بھی نعت کہہ گیا، احسانِ نعت ہے

رضوان عدم، کراچی، پاکستان

مکمل نام : محمّد رضوان عدم

یہ ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


کیا اوج پر حضور کا فیضانِ نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


چھایا یوں فکر پر چمنستانِ نعت ہے

جو لفظ ہے سو وہ گلِ ریحان_ نعت ہے


کتنا یقین دل کو بہ فیضانِ نعت ہے

مجھ ایسے بے ہنر کو بھی ارمانِ نعت ہے


فیضانِ نعت ہے کہ یہ وجدانِ نعت ہے

ہر ایک سانس اب میری عنوانِ نعت ہے


عرفانِ مصطفیٰ میں ہے عرفانِ ایزدی

توحید کے بیان میں اعلانِ نعت ہے


بے شک نزولِ وحی مکمل ہوا مگر

جاری ہماری روح پر احسانِ نعت ہے


استاد بھی کھڑے ہیں یہاں ہاتھ باندھ کر

دل احتیاط کر، یہ دبستانِ نعت ہے


ممکن نہیں ثنا ئے محمد بجز کرم

فیضانِ نعت اصل میں سامانِ نعت ہے


انکا کرم ہے ورنہ مجھے اعتراف ہے

 کوئی بھی شعر کب مرا شایانِ نعت ہے


باغِ بہشت کو بھی میسر یہ بُو کہاں

جو نکہت و مہک بہ گلستانِ نعت ہے


سجدے میں محوِ شکر چلا جا رہا ہے آج

حاصل مرے قلم کو بھی وجدانِ نعت ہے


آتا ہے چاند بھی اسی جلوے کی چاہ میں

رونق فزا جو نورِ شبستان_ نعت ہے


عاجز، گناہگار، سیہ كار ہوں مگر

آقا کا مجھ حقیر پہ احسانِ نعت ہے


یہ بھی مقام آتا ہے اظہارِ نعت میں

عرفانِ عجز ہی جہاں عرفانِ نعت ہے


اشکوں سے قلب و روح مطہر ہوئے"عدم"

کتنا کرم نواز یہ بارانِ نعت ہے۔

رفیع الدین راز، امریکہ

بشکریہ : اویس راجا


جن و بشر کو کیا پتا ، کیا شانِ نعت ہے

اللہ کے سوا کسے عرفانِ نعت ہے


آدابِ نعت گوئی کا پیہم رہے خیال

شوکت میں حمد ہی کی طرح شانِ نعت ہے


نغمہ سرا ہے خون کی ہر بوند میں حیات

دل پر عجیب طور سے فیضانِ نعت ہے


کیفیتِ دیارِ دل و جاں نہ پوچھئے

ہر خطۂ وجود دبستانِ نعت ہے


نوکِ قلم کو اور کیا اعزاز چاہئیے

آقا کا ذکرِ خیر ہے ، رجحانِ نعت ہے


بھیجا درود اس نے نبی پر تو یہ کھلا

وہ بھی اسیرِ حلقۂ جزدانِ نعت ہے


لب پر درود ، دھیان میں ہے ذاتِ مصطفٰے

زادِ سفر میں بس یہی سامانِ نعت ہے


خوشبو ہے، روشنی ہے، یا پھر پرتوِ خدا

 کوئی تو ہے جو اس گھڑی مہمانِ نعت ہے


ہر موڑ ہر قدم پہ نوازا گیا ہوں میں

دن رات میری ذات پہ احسانِ نعت ہے


نعتِ نبی کے فیض سے میری نگاہ میں

اس وقت دل کا آئنہ ایوانِ نعت ہے


کھلتے رہیں گے نوکِ قلم پر ثنا کے پھول

جب تک نبی سے عشق ہے امکانِ نعت ہے


قلب و نظر پہ کیوں نہ ہو برسات نُور کی

دستِ خیال میں ابھی دامانِ نعت ہے


یوں ہی نہیں ہے دل کی زمیں عطر بیز آج

جزدانِ قلبِ راز میں دیوانِ نعت ہے

رفیق راز، سری نگر، کشمیر، انڈیا

ام الکتاب دیکھ یہی کان نعت ہے

آیت ہے کوئی دُر، کوئی مرجان نعت ہے


ہے داغ سجدہ صرف یہ ماتھا لیے ہوئے

بآقی تمام جسم ہی. جزدان نعت ہے


آنسو ہے روشنایی مژہ ہے مرا قلم

طاری بدن پہ کپکپی دوران نعت ہے


اعمال نامہ میں مرے کچھ بھی نہیں مگر

میں مطمئن ہوں ساتھ یہ سامان نعت ہے


آب و ہواے اسم محمد ہے دایمی

پت جھڑ میں بھی بہار پہ بستان نعت ہے


دل پر لبوں پہ صل علیٰ ثبت ہے مرے

اللہ کا کرم ہے یہ فیضان نعت ہے


رکھ تو قدم اے اسپ قلم پھونک پھونک کر

دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے


باکار ہاتھ ہیں ترے با یار دل کو رکھ

ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے


پروانوں سے تو روشنی ہوتی نہیں کوئی

روشن اسی چراغ سے ایوان نعت ہے

ریاض احمد قادری، فیصل آباد، پاکستان

تھاماجومیں نے ہاتھ میں دامان نعت ہے

بخشش کو میری کافی یہ سامان نعت ہے


خالق نے خود رقم کی ثناءے حضور ہے

قرآن پاک سارا ہی دیوان نعت ہے


خلق عظیم اسوہ حسنہ حضور کا

سیر ت رسول پاک کی عنوان نعت ہے


یہ صنف نعت وقف ثناءے حضور ہے

ذات رسول پاک ہی شایان نعت ہے


ان کی ثنا میں لاکھوں ہی دیواں رقم ہوءے

تازہ جہاں میں آج بھی امکان نعت ہے


حسان کو جو رتبہ ملا بے مثال ہے

حسان ہر زمانے کا سلطان نعت ہے


رنگ رضا میں لکھو ثناءیں حضور کی

احمد رضا تو آپ دبستان نعت ہے


گھر گھر میں سج رہی ہیں ثناءوں کی محفلیں

ہر ایک گھر بنا ہوا بستان نعت ہے


ارض و سما و ظاہروباطن میں ہر طرف

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


طیبہ،ریاض،بطحا حدیقےہیں خلد کے

ہر جا نظر میں اپنی گلستان نعت ہے


جن و بشر فرشتوں کو حکم درود ہے

انسان کے لئے یہی فرمان نعت ہے


ان پر درود ہوگیا شامل نماز میں

صل علی درود ہی اعلان نعت ہے


عشق رسول روح ثنائے حضور ہے

عشق رسول کون و مکاں جان نعت ہے


عزت بنی ہوئی ہے زمانے میں جو ریاض

میرے لئے یہ سارا ہی فیضان نعت ہے

ریاض مجید، فیصل آباد، پاکستان

جس سے درود رُو مرا وجدانِ نعت ہے

لفظِ مدینہ ایسا گلستانِ نعت ہے


تکتے ہیں ہم کو حیرت و حسرت سے کس طرح

برگ و شجر کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


ہیں سلسلے زبان و بیاں کے جہاں جہاں

پھیلا ہُوا وہاں وہاں امکانِ نعت ہے


قراں ہر امتی سے ہے پیہم درود خواہ

اک طرح سے یہ دعوت و اعلان نعت ہے


قراں کی آیتوں میں ہے شان اُن کی عطربیز

بین السطّور دیکھ یہ بستانِ نعت ہے


اہلِ ولا و اہل صفا کی نگاہ میں

’احزاب‘ استعارہ پیمانِ نعت ہے


صلّوا علیہ کی اسے توسیع جانئیے

حُبّ کا تلازمہ جو بعنوانِ نعت ہے


قران کا خلاصہ اگر اک ورق میں ہو

تو زیب اُس نوشتے کو عنوانِ نعت ہے


سعی ہنر قبول ہو‘ جو ہو خلوص سے

ہر نعت گو کو اتنا تو عرفانِ نعت ہے


اس عہدِ نعت پہ کرم خاص آپ کا

گھر گھر کھلا ہُوا جو دبستانِ نعت ہے


کیا کیا ثنا سرشت ہیں مائل بہ نعت آج

فی الواقعی یہ عہدِ درخشانِ نعت ہے


مصرعے اتر رہے ہیں ستاروں کی شکل میں

کاغذ سے روح تک میں چراغانِ نعت ہے


فردائے نعت کی ہے ہر اک سمت سے نوید

ہر دل میں جو نمایاں یہ رجحانِ نعت ہے


جنت میں ہو گا نعت کا دورانِ جاوداں

اب تک ہوئی جو مشق وہ اک انِ نعت ہے


باعث ظہور ہست کا ہے ذات آپؐ کی

دھڑکن دلِ وجود کی گردانِ نعت ہے


مصروفیت ملی ہے بہشت آفریں ہمیں

ہم اہلِ حُب یہ کیسا یہ احسان نعت ہے


بخشش کی التجا کے سوا کچھ نہیں ریاض

فردِ عمل میں جو سروسامانِ نعت ہے


ہے محوِ فکر رفعت و شانِ رسول میں

چپ ہے ریاض جس کو بھی عرفانِ نعت ہے

زوہیب عباسی، اسلام آباد، پاکستان

ہر جا رہِ حیات میں سامانِ نعت ہے

اللٰہ اللٰہ وسعتِ دامانِ نعت ہے


سب برکتیں حضور کی فیضانِ نعت ہے

کیا اور چاہیے ہمیں امکانِ نعت ہے


ہیں نعت کی کرامتیں یہ شانِ نعت ہے

"ہر شعبہ۶ حیات میں امکانِ نعت ہے"


روشن ہوٸی نِگاہ کرشمہ سا ہو گیا

فیضانِ نعت ہے یہ تو فیضانِ نعت ہے


ہیں رحمتیں حبیب پر خود آپ نے کہا

کر لیجیے قبول کہ فیضانِ نعت ہے


جلوہ نُما ہو ساقی تو پوری مُراد ہو

عالم میں آج محفلِ رِندانِ نعت ہے

زید معاویہ، گوجرانوالہ

یونہی نہ اس زمین پہ باران نعت ہے

قلب غریق عشق ہی شایان نعت ہے


ثابت کیا نبی نے تریسٹھ برس میں یہ

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


حکم ِ خدا ہے مدحت ِ سرکار ِ دو جہاں

"صلو علیہ_" اصل میں فرمان نعت ے


تشنہ لبی کے مارے سخنور سنیں ذرا

سیراب کر لیں روح , لگا خوان نعت ہے


اخلاق مصطفی پہ ہے فرمان عائشہ

قرآن پڑھ ذرا کہ جو عنوان نعت ہے


قرآں کی رفعتوں کے دلائل سبھی بجا

خوش بو ہے اس لیۓ بھی کہ گلدان نعت ہے


رائج برے معانی ہیں جس لفظ کے بھی زید

روتا ہے بخت پر وہ کہ انجان نعت ہے

زینب سروری، اسلام آباد، پاکستان

مکمل نام : سیدہ زینب سروری قادری

لاریب عشقِ شاہِ امم، جانِ نعت ہے

پہچانِ نعت بھی یہی، سامانِ نعت ہے


ہر لفظ مدحِ سرورِ کونین کا ہمیں

تسکینِ روح و جان بہ سلطانِ نعت ہے


بزمِ ثنائے سرورِ دیں ہے سجی ہوئی

اونچی رہی سدا جو یہاں، شانِ نعت ہے


اس کے بغیر بات بنے گی کہاں حضور

قلبِ سلیم ہو تو یہ شایانِ نعت ہے


لکھنے کا شوق دل سے نہ جائے گاعمر بھر

گرچہ ضخیم تر مرا، دیوانِ نعت ہے


نعتِ نبی ہے سنتِ حسّانِ ذی وقار

اس وقت سے ہی رحمت و بارانِ نعت ہے


سیراب مدحَ حُبِ نبی ﷺ سے کرے سدا

خوش بخت وہ نبی ﷺ کا سخندانِ نعت ہے


اصنافِ شاعری میں ہے مرغوب صرف نعت

سب سے جدا الگ مرا، میلانِ نعت ہے


مجھکو تو نعتِ سرورِ عالمﷺ سے کام ہے

خوشبو کا سلسلہ مرا ایوانِ نعت ہے


توصیفِ مصطفٰےﷺ سے ملی راہِ مستقیم

دے معرفت کا نور، یہ احسانِ نعت ہے


حق مدحتِ رسول ﷺ کا وہ ہی ادا کرے

سونپا جسے خدا نے، قلمدانِ نعت ہے


پھر سے ردیف و قافیہ الہام ہو گئے

پھر سے افق پہ قلب کے، امکانِ نعت ہے


اس کے بغیر نعت لکھے کوئی کس طرح

عشق رسول ﷺ ہی مرا ایمانِ نعت ہے


اس سے بڑا شرف نہیں زینب یہاں کوئی

کاسے میں ہم گداؤں کے، فیضانِ نعت ہے

بشکریہ : فراز عرفان

زین زیدی، اسلام آباد، پاکستان

پھر سے دلِ فقیر کو ارمانِ نعت ہے

امداد وہ کرے گا جو سلطانِ نعت ہے


دھڑکن نہیں چٹکتی ہیں کلیاں درود کی

دل دل نہیں رہا ہے گلستانِ نعت ہے


حیدر کی زندگی نے بتایا جہان کو

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


جب تک کسی کو منصب عصمت نہیں ملے

وہ لفظ کون لکھے جو شایانِ نعت ہے


خامے کو سلسبیل سے دھولیں تو پھر لکھیں


وہ اسمِ چارہ ساز جو عنوانِ نعت ہے


جس نے بچا رکھا ہے خجالت کی دھوپ سے

زینِ رضا وہ سایہءِ دامانِ نعت ہے

ساجد حیات، راولپنڈی، پاکستان

وابستگی رسول سے دیوانِ نعت ہے

مضمونِ عشق باعثِ عنوانِ نعت ہے


میں خاک اوڑھ لوں گا فقط اس یقیں کے ساتھ

بخشش کو میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے


احساس کے یہ اشک جو گرتے ہیں روح پر

دُھلتے ہیں پھر گناہ یہ فیضانِ نعت ہے


میرے نبیؐ کی شان ہے اور شان دیکھیئے

ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


بنجر زمینِ فکر کو سر سبز کر کے دیکھ

سیرت مرے رسول کی فیضانِ نعت ہے


میں لفظ لفظ ٹانک رہا ہوں جو نعت میں

تو حرف حرف لُو لُو و مرجانِ نعت ہے

ساجد ندیم ، سیالکوٹ ، پاکستان

جب مطمعِ نظر ترے دامانِ نعت ہے

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


کر دے جو بے نیاز ہر اک احتیاج سے

کل کائنات اپنی یہ ایقانِ نعت ہے


دونوں جہاں کی اس میں میسر ہیں رفعتیں

کتنی بڑی عطا ہے جو عرفانِ نعت ہے


دل مطمعن ابھی سے ہے کوثر پہ جام کا

مجھ رو سیاہ پہ دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے


آداب و شان و حب و مودت سے آگہی

میراثِ کل ندیم یہ سامانِ نعت ہے

ساغر مشہدی، کبیر والا، پاکستان

بشکریہ : فیصل ہاشمی

عرفانِ ذات اصل میں عرفانِ نعت ہے

یہ نورِ آ گہی مری پہچانِ نعت ہے


محشر میں جب شناخت ہو میری تو سب کہیں

حمادِ اہلیبت ہے ، حسانِ نعت ہے


پُرسش ہوئی جو حشر میں کیا کچھ ہے تیرے پاس

حالی کی طرح کہہ دوں گا دیوانِ نعت ہے


جنت میں بھی سجائیں گے نعتوں کی محفلیں

محبوبِ ذوالکرم جو نگہبانِ نعت ہے


عرشِ عُلٰی کہ فرشِ زمیں کی ہوں رونقیں

" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


دل کا قرار روح کی بے تابیوں کا حل

ہر اضطرابِ وقت کو سلمانِ نعت ہے


جس کے طفیل خلق کیا ہے جہان کو

خالق بھی نعت خوان ہے، کیا شانِ نعت ہے


ساغر میں مدح خوانِ رسالت مآ ب ہوں

میرا کمالِ فن نہیں احسانِ نعت ہے

مکمل نام : سید ساغر مشہدی

سائرہ خان سائرہ، لاہور، پاکستان

لاریب فضل رب ہی ، یہ فیضانِ نعت ہے

بالواسطہ ہے حمد ہی جو جانِ نعت ہے


ہرلمحئہ حیات میں رہبر ہے انکی ذات

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


مسحور ہیں فضائیں تو دل بھی ہیں مشکبار

ہر سو کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے


ہو میرے حرف حرف کو پاکیزگی عطا

سوچیں بھی ہوں لطیف یہ ایوانِ نعت ہے


اے خلقِ اولیں ، تری مدحت پہ میں نثار

ہر لمحہ تیرا ذکر اے سلطانِ نعت ہے


بزم فروغ نعت سے دولت ملی مجھے

الحمد فکرِ نعت ہے، احسانِ نعت ہے


جاں سے مجھے عزیز وراثت ہے نعت کی

میرا تو سب گھرانہ ہی قربان ِ نعت ہے

سجاد بخاری، مکہ مکرمہ سعودی عرب

آیات کیا ہیں اصل میں سامانِ نعت ہے

اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے


لَا تَجْهَرُوا کا ضابطہ برہانِ نعت ہے

اور سلمو کے حکم میں اعلانِ نعت ہے


عرفانِ حمد ہے جسے عرفانِ نعت ہے

دیوانہء سجود ہے مستانِ نعت ہے


تحریر ہو رہی ہے ازل سے کتابِ نعت

دنیا تو ایک صفحہ ء دیوانِ نعت ہے


باغِ بہشت پرتوِ حسنِ رسول ہے

گلزارِ ہست و بود میں ریحانِ نعت ہے


لوح و قلم نے کاڑھا ہے توصیف کا لباس

یہ کائنات وسعتِ دامانِ نعت ہے


آپ اسوہء رسول سے جڑ کر تو دیکھیے

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


میلاد کی گھڑی ہے غلاموں کی عید ہے

یعنی کہ ہر سو موسمِ بارانِ نعت ہے


اُن پر اور اُن کی آل پہ پڑھتے رہو درود

ایماں سے کہہ رہا ہوں یہی جانِ نعت ہے


ہریالیاں ہیں گنبدِ خضرا سے چار سو

یہ رونقیں یہ تازگی فیضانِ نعت ہے


اللہ بھیجتا ہے حضور آپ پر درود

کیا مرتبہ ہے آپ کا کیا شانِ نعت ہے


چنتی ہیں شہرِ طیبہ سے منسوب بلبلیں

أرض و سما پہ پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے


سانسوں میں نغمگی ہے نگاہوں میں تازگی

گویا دلوں میں بارشِ بارانِ نعت ہے


نام و نسب کا زعم نہ مشقِ سجود ہے

امیدیء نجات میں احسانِ نعت ہے


جھکنا نہیں پڑا مجھے رب کے سوا کہیں

سجاد اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے

سرور حسین نقشبندی، لاہور، پاکستان

کیا کیا گدائے نعت پہ احسان نعت ہے

اک ایک سانس حجرہء ایوان نعت ہے


کیسی ہری بھری ہے تخیل کی سرزمیں

صد شکر کشت فکر پر باران نعت ہے


اصناف شعر ساری اسی کی ہیں خوشہ چیں

جو بھی سخن کی صنف ہے دربان نعت ہے


تفہیم اس کو اسوہء کامل کی جانئے

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


خوشبو بنائے کیوں نہ مرے گرد دائرہ

موج صباء کی ہمدمی دوران نعت ہے


اس کو ملے گا اجر بھلے شعر ہوں نہ ہوں

وہ خوش نصیب ہے جسے ارمان نعت ہے


قرآن سے حدیث سے تم کو ہے مس اگر

کافی برائے نعت یہ سامان نعت ہے


یاں پر اک ایک لفظ رکھو ناپ تول کر

اے شوق! احتیاط یہ میزان نعت ہے


سرور یقیں نہ کیسے ہو اپنی نجات کا

فرد عمل میں جب مرے دیوان نعت ہے

سکندر عزیز خان، فیصل آباد، پاکستان

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے

بخشش کے واسطے یہی سامان نعت ہے


اللہ مرا بھی آپ کی مدحت میں محو ہے

قرآن بھی تو اصل میں دیوان نعت ہے


اللہ کرے ھو اس کو عطا رفعت خیال

جس شخص کے بھی دل میں ارمان نعت ہے


یوں لگ رہا ہے دل میں ثنا کا ورود ہے

میلاد کے سرور میں میلان نعت ہے


لکھے خلق کے ساتھ خالق بھی انکی نعت

حق بھی یہی ہے اور یہی شان نعت ہے


آقا کے سامنے یہ کہوں گا میں قبر میں

مقبول کیجئے مرا دامان نعت ہے


ہر روز بیٹھ کے میں لکھوں اسمیں ایک نعت

میرا بھی گھر عزیز یوں ایوان نعت ہے

سلمان راٹھور مانی، اسلام آباد، پاکستان

محوِ جمالِ خاص سخندانِ نعت ہے

لب رحمتوں سے تر ہیں یہ فیضانِ نعت ہے


زلف و رخِ حسین بھی ہے خال و خد بھی ہیں

ان کی ہر اک ادا میں ہی امکانِ نعت ہے


دشمن بھی دیکھتا تو یہ کہتا تھا برملا

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہاتھوں میں کنکری کی گواہی بتا رہی

سارا جہاں مجسمِ عرفانِ نعت ہے


آقا کی بزمِ خاص کا ہے رنگِ مشترک

آنکھوں میں چار یار کے میلانِ نعت ہے ۔ مانی ہوئی ہے رومی و جامی کی نعتِ پاک

جیسے کسی زبان پہ قرآنِ نعت ہے سلمان مانی اسلام آباد

سلمان رسول، لاہور، پاکستان

ہاتھوں میں جس کسی کے قلمدان نعت ہے

عالم اسی کے واسطے میدان نعت ہے


محدود اس کو شعروسخن تک نہ کیجیے

ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے


جو شخص آشنائے تقاضائے عشق ہو

اس کا فقط وجود ہی برھان نعت ہے


ان کے لیے بنائی گئی ہے یہ کائنات

سمجھو تو گام گام پہ سامان نعت ہے


سیرت سے کیوں حضور کی ہم ہو رہے ہیں دور

جبکہ بہت عروج پہ رجحان نعت ہے

سلمان گیلانی، لاہور، پاکستان

مکمل نام : سید سلمان گیلانی

حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے

میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے


مدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے

فیضانِ نعت حلقہءِ یارانِ نعت ہے


دُوراَز قیاس وُسعتِ مَیدانِ نعت ہے

یہ مُلکِ نعت, مُلک سلیمانِ نعت ہے


حَسّان ہے صحابئ سُلطان بَحر و بَر

ہر نعت اُس کی اِس لیئے سلطانِ نعت ہے


عشق رسول دل میں ہے آنکھوں میں اشک غم

کافی مِرے لیئے یہی سامانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات پہ میں نے کِیا ہے غَور

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


بس میں نہیں کسی کے اسے کر سکے عبور

اتنا وسیع دوستو میدانِ نعت ہے


مائل بہ نعت رہتی ہے طبعِ رواں مری

ہر فرد میرے گھر کا حُدی خوانِ نعت ہے


ہر نعت گو ہے طائر سدرہ کا ہم سفر

ہر نعت خوان بلبل بستانِ نعت ہے


روزِاَلست باندھا تھاجو اپنے رب سےعہد

اُس عہد سے بندھا مِرا پیمانِ نعت ہے


اللہ کرے کہ طاری رہے یونہی عمر بھر

یہ وَجد و کَیف مُجھ پہ جو دَورانِ نعت ہے


سلمان, شعر نعت کے, ہیں مِثلِ گُل تمام

دِیوانِ نعت اصل میں گُلدانِ نعت ہے

سلیم شہزاد، فیصل آباد، پاکستان

بشکریہ : اویس مدنی

صلِ علیٰ سے لہکا گلستانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اللہ کی پیروی تو ہے لازم ہر ایک پر

جاری خدا نے خود کیا فرمانِ نعت ہے


تکریم جو نصیب ہے مجھ کو جہان میں

توقیر سب یہ میری تو احسانِ نعت ہے


نعتِ نبی کو رکھتا ہوں میں جاں سے بھی عزیز

یہ زندگی تو اب مری پہچانِ نعت ہے


فرمایا حق نے آپ کے صدقے اتار کر

تو مقصدِ حیات ہے تو شانِ نعت ہے


شاہد میں ان کی نعت سے مسرور ہو گیا

صد شکر میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے

سعید زبیر، ڈیرہ غازی خان، پاکستان

پیشِ نظر حقیر کے عنوانِ نعت ہے

تھرا رہے ہیں لفظ کہ میدانِ نعت ہے


دل ہو وفورِ عشقِ شہِ دین سے غنی

پھر کہئے نعتِ پاک جو ارمانِ نعت ہے


دیکھو جہان والو میں کس درجہ ہوں غنی

میرے لبوں پہ نغمۂ سلطانِ نعت ہے


پہنچیں گے قبر میں انہی جذبات سے کہ ہاں

پیشِ نکیر ہم کو تو ایقانِ نعت ہے


آتی ہے چار دانگ یہی بانگِ لم یزل

ہر سُو جہانِ دہر میں اعلانِ نعت ہے


گر ہو عبور سیرتِ سرکار پر سعید

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"

سعید شارق، اسلام آباد، پاکستان

یاقوتِ نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے

آنکھوں کے پانیوں میں نہاں کانِ نعت ہے


مکّہ و طیبہ مصرعِہ اولیٰ و ثانی ہیں

یہ کائنات اصل میں دیوانِ نعت ہے


ڈھونڈا لغاتِ چشم سے اک تین حرفی لفظ

اور خیر سے یہ اشک ہی عنوانِ نعت ہے


رکھتا ہوں اس لیے بھی قدم پُھونک پُھونک کر

اب میرے دوش پر سرو سامانِ نعت ہے


آتا نہیں سمجھ کہ چکھوں کون کون سا

صد رنگ ذائقوں سے بھرا خوانِ نعت ہے


سینے میں چھا رہے ہیں کئی سبز سبز ابر

مطلع سے لگ رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے


مضموں کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہ ہو

اے لفظ! احتیاط! یہ مہمانِ نعت ہے


دو رویہ کیاریاں ہیں مرے دل کے ساتھ ساتھ

یہ باغِ حمد ہے ، یہ گلستانِ نعت ہے

سعود عثمانی، لاہور، پاکستان

گر ایک شعر بھی مرا شایانِ نعت ہے

پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے


سچ یہ ہےساری زیست ہی دیوان نعت ہے

ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے


تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے

جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے


رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر

ثابت تو کر کہ ہاں مجھے عرفانِ نعت ہے


قصے کہانیوں کو کہیں دور جا کے پھینک

سیرت کو نظم کر کہ یہی جانِ نعت ہے


آداب ہیں سکوت کے بھی' گفتگو کے بھی

دونوں طرح بتا کہ سخن دان نعت ہے


گنتی کے چند لوگ ہیں' گنتی کے خوش نصیب

حاصل جنہیں طلائی قلم دانِ نعت ہے


مدح نبی تو خود بھی بڑا فخر ہے مگر

مصرعہ قبول ہو تو یہ احسانِ نعت ہے


سب جانثاروں مدح گزاروں کے درمیاں

جگمگ ہے ایک شخص جو حسّانِ نعت ہے


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود

اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے


توفیق نعت دی ہے جو تو نے سعود کو

یارب وہ اجر بھی کہ جو شایان ِ نعت ہے


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود

اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے

سمعیہ ناز، لیڈز، برطانیہ

مخصوص یہ عنایت و احسانِ نعت ہے

حاصل ہوا جو قلب کو وجدانِ نعت ہے


عشقِ نبی کے نور سے روشن ہے جس کا دل

پھر اس پہ صبح و شام ہی فیضانِ نعت ہے


رنج و الم قریب بھی آتے نہیں مرے

صد شکر جب سے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


سیرت سے آپ کی ہو درخشاں حیات گر

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


چنتی رہی میں گل تری مدحت کے باغ سے

خوشبو سے بھر گیا مرا دیوانِ نعت ہے


وردِ زباں درود ہو آنکھیں ہوں نم تری

پھر ہو رقم قلم سے جو شایانِ نعت ہے


جب سے جمالِ گنبدِ خضریٰ ہے سامنے

ہر لمحہ میرے قلب پہ باران نعت ہے


مدحت کا اذن یوں ہی سمیعہ نہیں ملا

عشقِ رسول ہے تو یہ عرفانِ نعت ہے

سید حسن، ملتان، پاکستان

کب یہ کہا زباں مری شایانِ نعت ہے

مجھ پرکرم ہے آپ کا احسانِ نعت ہے


دادا کے بعد حضرتِ عمران ہیں وجہ

باقی ابھی تلک جو دبستانِ نعت ہے


روشن فلک پہ چاند ستارے نہیں کوئی

دراصل پھیلا یہ تو چراغانِ نعت ہے


دامن میں میرے کچھ نہیں بخشش کے واسطے

اک ہے دُرودِ پاک یا فیضانِ نعت ہے


ظاہر ہے یہ قرآن کے ہر ایک حرف سے

ہر ایک حرف اِسکا گُلستانِ نعت ہے


جی کر دکھایا آلِ محمد نے با خُدا

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


بُوذر اویس قرنی و سلمانِ فارسی

ہر ایک اپنے آپ میں دیوانِ نعت ہے


جنت سے بھی پرے کوئی جنت ہے، ہوں وہاں

محسوس مجھکو ہوتا یوں دورانِ نعت ہے


اشکوں سے حسن جب کریں الفاظ سب وضو

پھر بن سکیں وہ نعت یہی شانِ نعت ہے

سیف اللہ خالد، ملتان، پاکستان

قلب و دماغ پر مری بارانِ نعت ہے

صد شکر آج مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے


یہ میری بے بساطی کہ اب تک نہ لکھ سکا

دل میں تو مدتوں سے یہ ارمانِ نعت ہے


قول و عمل میں جس کے ہوسنت کی پیروی

وہ شخص ہی حقیقی سخندانِ نعت ہے


پڑھ لے درود خامہ کو چھونے سے پیشتر

طاری اگر جمود ہے بحرانِ نعت ہے


سچا ہے تیرے دل میں اگر عشقِ مصطفیٰ

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


دل ذکر سے اجال تو اشکوں سے کر وضو

لکھنی ہے نعت گر تو یہ شایانِ نعت ہے


خالد زبان وقف ہے توصیف کیلئے

میرا یہ فن یہ شاعری قربانِ نعت ہے

شاد مردانوی، کراچی، پاکستان

تخلیقِ آب و خاک ہی اعلانِ نعت ہے

” ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے “


اشکوں سے پہلے کیجیے تطہیرِ نطق و حرف

آدابِ نعت ہیں یہی عرفانِ نعت ہے


پھر سے ہمیں زیارتِ طیبہ ہوئی نصیب

ہم پر عطا ہے نعت کی ، فیضانِ نعت ہے


پروانہء بہشت کا مجھ سے نہ کر سوال

رضوان ! میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


یادِ مدینہ ،اشک، شفاعت کی آرزو

ہم بے کسوں کا بس یہی سامانِ نعت ہے


لگتا ہے سب گناہ مرے دھلنے والے ہیں

شعر و سخن پہ حاوی جو رجحانِ نعت ہے


یاسین و طاہا کی ہمیں لولاک کی قسم

عالم کا ذرہ ذرہ ہی حیرانِ نعت ہے


قدموں میں شہ کے بیٹھ کے جنت دکھائی دے

آ پاس آکے بیٹھ ، خیابانِ نعت ہے


شاد اس ورق کو چومیے ، دل سے لگائیے

جو جلوہ گاہِ مطلعِ جانانِ نعت ہے

شارق رضا خالدی، سید، شاہجہاں پور، انڈیا

مکمل نام : سید شارق رضا خالدی شاہجہاں پوری

کس طرح ہم بیاں کریں کیا شان نعت ہے

جب خود کلامِ پاک ہی برہان نعت ہے


ملنے لگی ہے عزت و توقیر بے حساب

فضل خدا سے ہم پہ یہ احسان نعت ہے


دیکھے تو کوئی عشق شہ دیں میں ڈوب کر

"ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے"


جو پانچ وقت ہوتی ہے مسجد میں وہ اذان

حمد خدائے پاک ہے اعلان نعت ہے


تنگی نہیں ہے اس میں ذرا اےسخن ورو!

کُٹیا نہیں غزل کی، یہ میدان نعت ہے


زاہد! وہی جو ذات ہے مقصود کائنات

توصیف کر اسی کی وہی جان نعت ہے


یاد مدینہ! شکریہ! تیرے طفیل اب

لمحہ بہ لمحہ فکر میں عنوان نعت ہے


آجائے جس کے پڑھنے سے ایمان میں نکھار

ایسا بریلی والے کا دیوان نعت ہے


ممکن نہیں کہ کوئی اسے زیر کر سکے

شارق رضا پہ ہر گھڑی فیضان نعت ہے

شاہد اشرف، فیصل آباد، پاکستان

رونق لگی ہوئی ہے ، یہ احسانِ نعت ہے

ہر شخص اِس نشست میں مہمانِ نعت ہے


لکھتے ہوئے سکون کی حالت نہ پوچھیے

اِک خاص کیفیت مری دورانِ نعت ہے


کہیے ہر ایک صنفِ سخن دھیان یہ رہے

روزِ جزا نجات کو دیوان نعت ہے ؟


اک خاص ضابطے کا تقاضا ہے دوستو!

ہر درجہ احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


دنیا مجھے نہ مانگ میں تیرا نہیں رہا

اب مقصدِ حیات ، مری جانِ نعت ہے


اُن کی عطا سے کھلتے ہیں شاہد ثنا کے پھول

ہر روز رو بہ حُسن گلستانِ نعت ہے

شاہد الرحمن، اسلام آباد، پاکستان

مکمل نام : محمّد شاہد الرحمن

بخشا مجھے خدا نے قلمدانِ نعت ہے

میرا بھی نام شاملِ ایوانِ نعت ہے


سرپٹ نہ دوڑ ، دیکھ ، خبردار ہو کے چل

اے اشہبِ خیال ! یہ میدانِ نعت ہے


ہرگز نہیں تھا شعر کے ابجد سے باخبر

میرا سخن تمام ہی فیضانِ نعت ہے


چمکا تصورات میں شہرِ رسولِ پاک

تحت الشعور میں مرے امکانِ نعت ہے


فریاد رس ہے فکر ، خرد التجا کناں

لاؤں کہاں سے لفظ جو شایانِ نعت ہے


حسنِ و جمالِ شاہ بھی ہے جزوِ لازمی

پر اسوۂ رسولِ اُمم جانِ نعت ہے


تقویٰ ، خلوص ، عجز ، تواضع و راستی

ہر اک ادائے شاہ بنی شانِ نعت ہے


مجھ پر عطائے حضرتِ حسانؓ ہے جبھی

حاصل مجھے بھی نسبتِ خاصانِ نعت ہے


اس کی صدا ورا ہے حدود و قیود سے

شاہدؔ جو ہم صفیرِ اسیرانِ نعت ہے

شائستہ کنول عالی، وزیر آباد، پاکستان

کیا عشقِ صادقین پہ فیضان نعت ہے

لولو ہیں اشک ہونٹوں پہ مرجان نعت ہے


عشّاقِ حق کے دل پہ ہے اشعار کا نزول

باران نعت ہے کہ یہ رمضان نعت ہے


و اللّه ! یہ درود ہی کاشان نعت ہے

خاصائے عاشقان ہی ایقان نعت ہے


ہے نعت پاک نغمہ توحید کی اساس

بد بخت و بد نما ہے جو انجان نعت ہے


زیبا ہے کس کو منصب محبوب کبریا

سلطان دو جہان ہی سلطان نعت ہے


خنجر ہے نعت مشرک بے دین کے لئے

حلقومِ کفر کیلئے پیکان نعت ہے


حمد خدا کے بعد کرو ذکر مصطفیٰ

ذکر علی تو شمع شبستان نعت ہے


مجنون ہوں محبت خیر الوری میں یوں

وجدان روح و قلب کو عرفان نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں حمد خدا ملے

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے "


عالی سلام پیش کرو اہل بیت کو

میرے خیال میں یہی شایان نعت ہے

شاہین فصیح ربانی، دینا، گجرات، پاکستان

بزمِ تصورات ہے، وجدانِ نعت ہے

رقص تجلیات ز فیضانِ نعت ہے


فکر و خیال عشق ہی شایانِ نعت ہے

الفاظ میں، حروف میں امکانِ نعت ہے


کیا گرمیء حیات ہے کیا سختیء ممات

حاصل ہمیں جہان میں بردانِ نعت ہے


ماہ و نجوم رشک سے تکتے ہیں اس طرف

روشن کچھ ایسے شمعِ شبستانِ نعت ہے


 کوئی غزل، قصیدہ، رباعی کہ ماہیا

جو میری شاعری ہے وہ قربانِ نعت ہے


شاعر نہیں غلام رسول کریم ہوں

یہ شاعری نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے


کیا ہو فصیح دعویء مدحت سرائی جب

محبوبِ رب جو ذات ہے، عنوانِ نعت ہے

شریف ساجد، پاکپتن، پاکستان

سرکار خوش ہوئے یہی احسانِ نعت ہے

ملحوظ ہو ادب کہ یہ میزانِ نعت ہے


جب ہر عمل میں اسوہ ء کامل حضور ہیں

” ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے “


حبّ نبی ، جدائی کا غم ، دید کی تڑپ

امید و استغاثہ ہی سامانِ نعت ہے


اس کام سے معیت ذات خدا ملے

وہ گر کریں قبول یہی جانِ نعت ہے


ایسا کرم ہو بردے کی صورت دکهائی دے

ہر اک یہی کہے کہ یہ فیضانِ نعت ہے


ساجد مقامِ حضرتِ حسان دیکھ کر

اب قدسیوں کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے

شکیل کالا باغوی، کالا باغ، پاکستان

یہ ابتدائے سانس ہی پیمانِ نعت ہے

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ذکرِ نبیۖ ہے قبر کی تنہائی کا رفیق

خاکی تری نجات ہی وجدانِ نعت ہے


اوجِ فلک پہ میرا ستارہ رواں دواں

جادو گری نہیں ہے یہ میلانِ نعت ہے


حیراں ہیں مشک و عنبر و عود و گلِ بہار

کس شان سے مہکتا گلستانِ نعت ہے


کامل دل ونگاہ کی تطہیر شرط ہے

حدِ ادب کا پاس قلمدانِ نعت ہے


والشّمس، والضحیٰ ہے، سراجِ منیر ہے

یزداں کی ہمکلامی ہی دیوانِ نعت ہے


الفاظ کیوں شکیل تیرے عطر بِیز ہیں

بادِ صبا پکارے ۔۔یہ فیضانِ نعت ہے

شعیب اختر قادری، سنت کبیر نگر، انڈیا

مجھ پہ کرم حضور کا فیضانِ نعت ہے

کیا خوب آج دیکھیے عنوانِ نعت ہے


ان کے طفیل ہی ہیں بہاریں حیات کی

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


آؤ بتاؤں کون ہے بے تاج بادشاہ

وہ جس کے پاس ان کا قلمدانِ نعت ہے


والليل والضحیٰ کہیں ، ماذاغ ہے کہیں

رب کا کلام پورا ہی دیوانِ نعت ہے


مداحِ مصطفیٰ مجھے کہتے ہیں لوگ جو

کیونکر کہوں نہ یہ بھی تو فیضانِ نعت ہے


نعت رسول لکھنا تو آساں نہیں مگر

لکھتا وہی ہے جس پہ بھی احسانِ نعت ہے


قلب و نظر کو اپنی تو عشقِ نبی میں ڈھال

عالم کو دیکھ پورا ہی وجدانِ نعت ہے


احمد رضا کے نعتیہ اشعار کو پڑھو

کہنا پڑے گا نائبِ حسانِ نعت ہے


بندہ گنہگار ہے اعمال کچھ نہیں

بخشش کا اپنی بس یہی سامانِ نعت ہے


گمراہ کتنے ہو گئے کتنے سنبھل گئے

اختر ادب سے لکھ یہ دبستانِ نعت ہے

مکمل نام : محمد شعیب اختر قادری، سنت کبیر نگر، انڈیا

شوزیب کاشر، راولہ کوٹ، کشمیر، پاکستان

وسعت پذیر حلقۂ دامانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر شاخ رونقِ چمنستانِ نعت ہے

دو جگ میں خوشبوئے گلِ ریحانِ نعت ہے


قرآن سے کشید مضامین نعت کے

روحِ ثنا یہی ہے یہی جانِ نعت ہے


سیرت سے مشکبار ہو سنت سے مستنیر

یعنی ہو مستند یہی شایانِ نعت ہے


اللہ کی یہ پیاری ، فرشتوں کی لاڈلی

سبحانهٗ تعالی عجب شانِ نعت ہے


والشمس ہے کہیں ، کہیں واللیل سے خطاب

یہ لؤلؤِ صلوۃ ، وہ مرجانِ نعت ہے


مازاغ کا سلام ہے قوسین کا درود

معراج ان کی شان میں اعلانِ نعت ہے


مُدَّثِّرُ و مُبَشِّرُ و مُزَّمِّلُٗ ہیں آپ

ہر نامِ نامی آپ کا ، عنوانِ نعت ہے


ہر عہد کو محیط وہی عہد خوشگوار

خیرُ القرون نیرِ تابانِ نعت ہے


حکمِ تُعَزِّرُوہٗ ادب گاہ مصطفی

لاتَرْفَعُوا عقیدہ و ایمانِ نعت ہے


لولاک کیا ہے مدحتِ سرور کے باب میں؟

اللہ کی محبت و برہانِ نعت ہے


عقدہ کشا ہے آیتِ صَلُّوا وَسَلِّمُوا

بے شک درودِ پاک بھی فرمانِ نعت ہے


یُعْطِیْکَ رَبّّکَ سے تونگر بشر بشر

الفقر فَخْرِی رزقِ گدایانِ نعت ہے


پیماں شبِ الست کا لا شک ذالک

قربان جائیے کہ وہ پیمانِ نعت ہے


تحتِ سری سے عرش بریں تک کے سلسلے

جس سے مہک رہے ہیں وہ لوبانِ نعت ہے


اے شہسوارِ دشتِ غزل ہوش میں تو ہے؟

نادان! احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


حقِ ثنا ہو کس سے ادا اور کس طرح

سب خاک اس سفر میں وہ کیوانِ نعت ہے


مجھ سا حقیر آپ کو نذرانہ دے تو کیا

کر لیجیے قبول یہ دیوانِ نعت ہے


یہ شہرت و مقام یہ سطوت یہ ننگ و نام

میری بساط کیا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


محشر میں اطمنان سے ہوں گے ہم امتی

حاصل ہمیں شفاعتِ جانانِ نعت ہے


جذب و شعور و فکر و فن و خامہ و ہنر

کاشر ہر ایک شے مری قربانِ نعت ہے

شوکت شفا ۔ نامِ نبی ؐ کی پنکھڑی سامانِ نعت ہے

ڈاکٹر شوکت شفا، کشمیر


نامِ نبی ؐ کی پنکھڑی سامانِ نعت ہے

تعظیمِ مصطفے کی لڑی جانِ نعت ہے


شبنم نہیں یہ اشک اسی گل بدن کے ہیں

پتی ہر ایک پھول کی مژگان نعت ہے


بادِ نسیم اصل میں ہے کیا ، ہے نعت ِ پاک

بلبل کی چہچہٹ بھی دبستانِ نعت ہے


اے باغ بوٹا بوٹا ترا دینِ نعتِ پاک

تیری چمن کلی کلی احسانِ نعت ہے


میری ہرایک بات سے آتی ہے بوئے نعت

گویا مری زبان گلستانِ نعت ہے


کہتی ہے ہر اک آنکھ سے تیری شفا یہ نعت

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


شفیق رائے پوری، جگدل پور چھتیس گڑھ، انڈیا

بشکریہ : غلام فرید واصل

جب سے ہمارے ہاتھوں میں دامانِ نعت ہے

ہم پر سدا عنایتِ جانانِ نعت ہے


گلہائے عشقِ سرورِ عالم سے ہے سجا

بے مثل و بے نظیر گلستانِ نعت ہے


حمدِ خدا کی راہ تو آسان ہے بہت

چلیے سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


شہرت کی شکل میں کبھی عزت کی شکل میں

ہم پر برس رہا ہے جو بارانِ نعت ہے


ہر شعبۂِ حیات ہے ممنونِ مصطفے

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


عشقِ رسول اور شب و روزِ مصطفے

ان سے بھرا ہوا ہی تو ہر خوانِ نعت ہے


"اُن کی مہک نے" کہئے کہ "پر کو خبر نہ ہو"

لا ریب ہر کلامِ رضا جانِ نعت ہے


قرآن اور حدائقِ بخشش ہے سامنے

اپنے لئے تو بس یہی سامانِ نعت ہے


اللہ کا دیا ہوا سب ہے ، بجا مگر

جو کچھ ہمارے پاس ہے فیضانِ نعت ہے


رہ رہ کے پھر خیال میں آنے لگے حضور

چلیے شفیق آج پھر امکانِ نعت ہے

شہر یار خرم ، اٹک

کیسے کسی کو دل میں بسائیں گے ہم بھلا

سینے میں دل جہاں وہیں کاشانِ نعت ہے


جاہ و جلال و عزت و رتبہ ملا مجھے

یہ مجھ گناہگار پہ فیضانِ نعت ہے


تم کو پناہ دے گا زمانے کے رنج سے

آجاؤ عاشقو کہ یہ دامانِ نعت ہے


تدریس و تربیت ہو یا انصاف و عدل ہو

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


سالک نے ڈرتے ڈرتے جسارت تو کی مگر

اک شعر پر محیط یہ دیوانِ نعت ہے


شاعر: شہر یار خرم بٹ ، اٹک

شہریار زیدی، لاہور

مجھ بے ہنر پہ یہ بھی تو احسانِ نعت ہے

ہر شعر میرا شمع شبستانِ نعت ہے


تجھ کو درِ حبیبؐ تلک لے کے جاونگی

مداح مصطفٰیؐ سے یہ پیمانِ نعت ہے


اہلِ زمین نے بھیجا ہے پھر ہدیہِ درود

یہ مصطفٰیؐ کی بزم میں اعلانِ نعت ہے


کیا خوف رہزنوں کا انھیں راہِ شوق میں

محفوظ جن کے سینوں میں سامانِ نعت ہے


وہ سوزِ دل ہو یا ہوں تفکر کی وسعتیں

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اللہ اور ملائکہ سب پڑھتے ہیں درود

یہ عرش ہے یا گوشہِ ایوانِ نعت ہے


ٹھکراتا ہے وہ دونوں جہاں کی مسرتیں

خوش بخت کتنا صاحبِ عرفانِ نعت ہے


ہر فرد شہریار نبیؐ کے گھرانے کا

لاریب! رشک لُو لُو و مرجانِ نعت ہے


شہزاد بیگ، فیصل آباد، پاکستان

جیسے جہان سارا یہ ایوان ۔ نعت ہے

ہاتھوں میں اس طرح مرے دیوان۔نعت ہے


لکھ لکھ کے کررہا ہوں روانہ جو رات دن

یہ جذبہ ہے مرا کہ قربان۔نعت ہے


صل علی کا ذکر ہے دنیا میں ہر جگہ

تسلیم۔دوجہان بھی ایقان ۔ نعت ہے


خوشبو دیار۔دل میں جو پھیلی ہے چارسو

خوشبو نہیں ہے یہ مرا ایمان ۔ نعت ہے


دیوار ۔ خستگی میں بنا ہے نیا جو در

"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔نعت ہے"


رمضان میں لکھی ہے عقیدت میں ڈوب کر

یہ زیست بھی تو صورت ۔ عنوان۔نعت ہے


ہم لازمی منائیں گے میلاد۔ مصطفی

یہ رونق ۔ جہاں بھی فیضان ۔ نعت ہے


جاری ہے ایک عرصہ سے جو شہر۔نعت میں

یہ شاعری نہیں ہے یہ فیضان۔نعت ہے


جو دل میں بس گئی ہے عقیدت حضور کی

ہر شخص اپنی ذات میں سلطان ۔ نعت ہے


کرتا ہوں جان و دل سے میں تحریر نعت جو

وجہ ۔ تجلیات ہے ایمان ۔ نعت ہے


سیرت کے واقعات کے قربان جاوں میں

جو مصطفے کی شان کے شایان ۔ نعت ہے


بڑھیا سے لے کے حضرت حساں کی نعت تک

ہر ایک ایک واقعہ امکان ۔ نعت ہے


صل علی کا ورد زباں پر ہے صبح و شام

شہزاد بیگ آپ کا دربان ۔ نعت ہے

شہزاد مجددی، لاہور، پاکستان

مکمل نام : علامہ شہزاد مجددی

اک نامِ مصطفیٰ ہی فقط جانِ نعت ہے

جواس کےذیل میں ہےوہ شایانِ نعت ہے


 کوئی کلام ہو کہاں شایان ِ نعت ہے

قرآنِ پاک ہی ہے جو قرآنِ نعت ہے


الحمد کےالف سےحدِحرفِ سین تک

کتنا وسیع دیکھیے میدانِ نعت ہے


پیشِ نظرحضور کا اسوہ رہے تو پھر

ہرشعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


ختم الرسل کے ہاتھ کی انگشتری تو دیکھ

اس میں جڑا نگینہ ٔ مرجانِ نعت ہے


مقدورہوتو پوچھ لو روح الامین سے

اس دور میں بھی کیا کوئی حسان نعت ہے


فردِعمل کا کوئی بھروسہ نہیں حضور!

کرنے کوپیش بس یہی دیوانِ نعت ہے


اےمدح خوانِ شان رسالت بتا مجھے

پیش نظرترے کوئی میزانِ نعت ہے


کچھ آگہی تھی مجھ کوبھی حامیم دال سے

سو میں نے کہہ دیا مجھے عرفانِ نعت ہے


دفتر کئی لکھے ہیں مدیحِ رسول میں

شہزاد آج تک مجھے ارمانِ نعت ہے

شیر افضل شیر، جینیوا، سوٹزرلینڈ

موسم بہار عجز ہے میلان نعت ہے

ان کا خیال آیا ہے امکان نعت ہے


ہر ہر ادا حضور کی عنوان نعت ہے

جس کی پسند آ گئی حسان نعت ہے


ان پر مرا تھا عالم ارواح میں کبھی

مجھ پر بھی ان کی رحمت و باران نعت ہے


پہنا گئے ہیں وہ جسے اسوائ کا پیرہن

وجدان نعت ہے اسے عرفان نعت ہے


ہر شے بنی ہے جب میرے آقا کے نور سے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


یذدان و ملک جسکے قصیدہ سرا ہوں شیر

لاریب وہ کتاب خود قرآن نعت ہے

شیر محمد، جھارکھنڈ، بھارت

بشکریہ : نواز اعظمی

روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے

توصیف شاہ دہر کی عنوانِ نعت ہے


تعمیر ذات میں بڑا احسان نعت ہے

مجموعۂ کلام بھی دیوان نعت ہے


ہر شعبۂ حیات کے سرکار رہنما

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


  • لا‌ یمکن الثناءُ کما کان حقہ*

یہ عجز و اعترافِ ادیبان نعت ہے


تعریف واہ واہ نہ تحسین و آفریں

چشمِ کرم، دوائے مریضانِ نعت ہے


پروانۂ نجات بھی ہوگا بروز حشر

مجھ پر خطا کے ہاتھ میں دامان نعت ہے


باشندہ جو بھی عالمِ شعر و ادب کا ہے

کاسہ بدست بر درِ ایوان نعت ہے


الفاظ لاؤں کوثر و تسنیم سے دھلے

ذوق سخن وری مرا مہمان نعت ہے


پاکیزگئ حرف کو حاصل اسی سے بھیک

صوت و صدا کا حسن بھی فیضانِ نعت ہے


آداب و احترام ثنا اس سے سیکھیے

قرآنِ رب ذریعۂ عرفان نعت ہے


سیراب ہو رہا ہوں میں ذکر رسول سے

کشتِ سخن پہ چشمۂ باران نعت ہے


حورو ملک کہ جن وبشر آنکھوں میں رکھیں

ہر دلعزیز بلبل بستانِ نعت ہے


شعری وجود و چشم ہے محفوظ ضعف سے

اشہر کے بخت میں نمک و نانِ نعت ہے

شیر محمداشہر شمسی منانی، جھارکھنڈ (ہندوستان)

صادق جمیل، لاہور، پاکستان

اللہ کیا ہے خالق ِ سامان ِ نعت ہے

لوح و قلم ہی اصل میں شایان ِ نعت ہے


شامل یہ نشریات میں اعلان ِ نعت ہے

صادق جمیل ملحق دامان ِ نعت ہے


اس سے سوا بھی کیا کوئی احسان ِ نعت ہے

مجھ کو خدا نے بخشا قلم دان ِ نعت ہے


حد ِ نظر سے آگے بھی ایوان ِ نعت ہے

جبریل جانیے کہ نگہبان ِ نعت ہے


سیرت اگر ہے آپ کی پیش نظر مدام

"ہر شعبہ ءِ حیات میں میں امکان ِ نعت ہے "


صحرا صفت وجود بھی شاداب ہوگیا

برسا کچھ اس طریق سے باران ِ نعت ہے


حمد ِ خدا سے نعت ِ رسالت مآب تک

حسن ِ سخن کی جان بھِی فیضان ِ نعت ہے


اسری کی رات دیکھی کسی اور نے نہیں

جبریل کو ہی اصل میں عرفان ِ نعت ہے


سینے میں اور کوئی بھی خواہش نہیں جمیل

ارمان ہے تو ایک ہی ارمانِ نعت ہے

صائمہ آفتاب، لاہور، پاکستان

مجھ بے نوا کے پاس کیا وجدانِ نعت ہے

نادم سا ایک اشک ہی سامانِ نعت ہے


اچھا عمل بھی مدحتِ خیر الانام ہے

“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


آدم نے سیکھا اسمِ محمد ، نبی ہوئے

یعنی یہ کائنات دبستانِ نعت ہے


جتنا یہاں سکوت ہے یکسر درود ہے

جتنا یہاں کلام ہے فیضانِ نعت ہے


جو عرش پر امامِ صف انبیاء بنا

محبوب کبریا وہی سلطانِ نعت ہے

صائمہ اسحاق، کراچی، پاکستان

ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے

صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے


پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے

جب خود درودِپاک ہی دربانِ نعت ہے


ہرسانس مستفیض ہے ان کے وجود سے

'؛ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے؛


اے کاش کم سخن کو بھی آئے ثنا گری

قرطاس کو قلم کو بھی ارمانِ نعت ہے


جیسے ہر ایک شے میں ہے عشقِ محمدی

ویسے ہر ایک شے میں ہی میلانِ نعت ہے


کوثر سے جام اس کو عطا ہو مرے حضور

شامل قطار میں جو ثنا خوانِ نعت ہے


کیا کیاسخن طرازہیں اس کارزار میں

ناچیز کو سہاریے میدانِ نعت ہے


قوسین ہے خدا سے محبت کا سلسلہ

معراج کا سفر بھی تو اعلان ِ نعت ہے


کچھ اور تو نہیں مرے توشے میں صائمہ

حبِ رسول ِ پاک ہی سامانِ نعت ہے

صفیہ ناز، مڈلزبرو، یوکے

چشم کرم حضور کی فیضان نعت ہے

رزق_سخن ملا جو یہ احسان _ نعت ہے


لکھی ثنا تو ہو گئے الفاظ نوُر نوُر

اور جگمگا اُٹھا میرا دیوان_ نعت ہے


مدحت کے پھول بے بہا دامن میں آ گئے

کتنا وسیع ان کا گلستان_ نعت ہے


کچھ سسکیاں ہیں اشک ہیں کچھ درد اور دروُد

اتنا سا پاس میرے بھی سامان_ نعت ہے


عشق_ نبی میں ڈوب کے جو بھی کرے ثنا

وہ ہی عظیم ہے وہی سلطان_ نعت ہے


غار_حرا کا نوُ ر ہی آنکھوں میں ہو بسا

پھر خامہ بھی لکھے گا جو شایان_ نعت ہے


دل میں سجی ہو یاد جو آقا کریم کی

"ہر شعبہ ء حیات میں امکان_ نعت ہے"


آئی بہار نعتوں کی کلیاں چٹک گئیں

اے ناز تیرے قلب پہ باران_نعت ہے

صغیر انور وٹو ، اسلام آباد

کس کو، شعور_وسعت_ دامان _نعت ہے

وہ خوش نصیب ہے، جسے عرفان_ نعت ہے


در کھل گیا ہے خیر کا، رحمت کا، نور کا

لے آئے ،جس کے پاس ،جو، سامان_ نعت ہے


لکھی نہیں ہے، مجھ کو عطا کی گئی ہے نعت

آنکھوں میں نم نہیں ہے یہ باران_ نعت ہے


اس ذات کو ہی زیبا ہے مدحت حضور کی

اس کا کہا ہی اصل میں شایان_ نعت ہے


مجھ بے ہنر پہ ان کا کرم ہو گیا تو پھر

میں بھی کہوں گا یہ مرا دیوان_ نعت ہے


قرآں بتا رہا ہے سراپا حضور کا

کس درجہ واشگاف یہ اعلان نعت ہے


روشن ہے کائنات اسی ایک نور سے

انور، وہ آپ شمع ٕ شبستانٕ نعت ہے

صہیب ثاقب

مکمل نام : محمّد صہیب ثاقب

کیوں کر کہوں کہ ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے

کیجے قبول! اک تہی دامانِ نعت ہے


میں حرفِ احتیاج سے نکلوں تو کچھ کہوں

اس کے سوا بھی کیا کوئی سامانِ نعت ہے؟


آنکھوں میں اشک، دل میں تڑپ، لب پہ ان کا نام

ہوں مُستعد کہ لمحۂِ امکانِ نعت ہے


اِس کے ہر ایک گوشے میں، مدحت کے پھول ہیں

یہ دل مرا ہے یا چمنستانِ نعت ہے


میرا نہیں کلام، یہ اُمّ الکلام ہے؛

فرمانِ عائشہ ہے کہ "قرآن، نعت ہے"


ہر ہر ورَق ہے ان کی ستائش کا ایک باب

ہر لفظ پیشِ خیمۂِ عنوان نعت ہے


دم توڑتی ہیں یاں سبھی مُعجز بیانیاں

اس بارگہ میں خامشی، شایانِ نعت ہے


ثاقب کو پچھلی صف کے غلاموں میں دیکھیے

کچھ ادّعا نہیں کہ یہ حسّانِ نعت ہے

ضمیر درویش، مراد آباد، انڈیا

ہر چند بے نوا ہوں پہ عرفانِ نعت ہے

فیضانِ نعت ہے ارے فیضانِ نعت ہے


قرآں میں رب بھی کرتا ہے توصیفِ مصطفٰی

سلطانِ ہست و بود بھی سلطانِ نعت ہے


دراصل ہو رہا ہے یہ دل پر نزولِ نعت

عالم عجیب دل کا جو دورانِ نعت ہے


کس منھ سے کہتے ہو مجھے کم مایہ وغریب

مَیں وہ ہوں جس کے ہاتھوں میں دیوانِ نعت ہے


کیجے جونظم سیرتِ اقدس بھی نعت میں

'ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


'درویش' حرف حرف سے آئیں گی خوشبوئیں

عشقِ حبیبِ پاک اگر جانِ نعت ہے

ضیا بلوچ، کوئیٹہ، پاکستان

حال آں کہ زرّے زرّے میں اعلانِ نعت ہے

اس سے کہیں کُشادہ یہ دامانِ نعت ہے


یوں ہی نہیں عروج پہ آھنگِ کائنات

سب کی زباں پہ سورۂ رحمانِ نعت ہے


ذکرِ خدا کو ذکرِ نبی سے بڑھائیے

یہ ذکر اپنی اصل میں قرآنِ نعت ہے


دنیا کی مشکلات کو خاطر میں لائے کون

دنیا تو گردِ خاک نشینانِ نعت ہے


مدحِ رسولِ پاک کا ارماں بہت، مگر

آسانیوں میں مشکلِ آسانِ نعت ہے


لازم نہیں کہ عشقِ نبی شعر تک رہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


میں وہ بلوچ ہوں کہ دلِ عشق زار کو

جس زاویے سے دیکھیے بولانِ نعت ہے


میں جو ہرا بھرا ہوں تو اسمیں عجیب کیا

رگ رگ میں بوند بوند میں بارانِ نعت ہے


فردوسِ حرف و صوت مبارک ہو اے غلام!

تم پر ضیا بلوچ یہ احسانِ نعت ہے

طارق چغتائی، لاہور، پاکستان

سیرت سے جو کشید ہے سامانِ نعت ہے

مصرعے رواں دواں ہیں یہ فیضانِ نعت ہے


دلوائے گا نجات وہ محشر کی دھوپ میں

سامانِ آخرت میں جو دیوانِ نعت ہے


لغزش ذرا بھی کفر کے زمرے میں آئے گی

لکھنا سنبھل سنبھل کے یہ دامانِ نعت ہے


آنکھوں میں ہے خیالِ محمدؐ سے روشنی

رچ بس گیا ہے دل میں جو ارمانِ نعت ہے


لکھی ہوئی ہے بات زمانے کی لوح پر

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


نعتِ رسولؐ سن کے دلوں کو سکوں ملے

ذکرِ رسولؐ اصل میں بارانِ نعت ہے


نعتیں سنی تو پھر مجھے احساس یہ ہوا

سیرت کرو بیان یہی جانِ نعت ہے


کھلتے ہیں اس پہ آیہء قرآن کے رموز

جس شخص کو ذرا سا بھی عرفانِ نعت ہے


بنتِ رسول شیرِخدا اور حسن حسین

مہکا ہوا انہی سے گلستانِ نعت ہے


طارقؔ اگر میں شہرِ ادب میں ہوں معتبر

یہ فیض ہے حضورؐ کا احسانِ نعت ہے

طارق شہزاد، جدہ ، سعودی عرب

گلزار۔حسن_ فکر پہ احسان_ نعت ہے

سب تتلیوں کے ہاتھ میں گلدان_نعت ہے


جو کنز _ کن ہے سارا ہی سامان_نعت ہے

ہر شعبہء حیات میں امکان_ نعت ہے


درباں کو کاش داور _ محشر یہ حکم دیں

روکیں نہ اس کو صاحب_ دیوان_ نعت ہے


فصلیں خیال_سبز کی اگتی ہیں جا بجا

کشت_ سخن بھی تحفہء دہقان_ نعت ہے


اک دن چھپے گا میرا بھی دیوان ! دیکھنا

حاصل مجھے بھی صحبت_ یاران_ نعت ہے


پھوٹے ہیں پور پور سے چشمے درود کے

ٹھہرا سراے روح میں مہمان_ نعت ہے


کچھ اہتمام_ روز_ جزا کیجیے میاں

سودا خرید لیجیے دکان _ نعت ہے


پت جھڑ کی کیا مجال کہ چھینے طراوتیں

ان پتیوں پہ رنگ_ بہاران_ نعت ہے


مشک_ درود_ پاک سے مس کر لباس_ زیست

کھولی کسی نے کاکل_ دیوان _ نعت ہے


طاہر جان، گوجرہ

پیہم قلم رواں ہے بفیضان نعت ہے

ہر لفظ کیمیا ہے بعنوان نعت ہے


لفظوں کے ساتھ چاہیئے معانی کی احتیاط

لغزش کی جاء نہیں کہ یہ عنوان نعت ہے


اشکوں سے آنکھ ہی نہیں دل بھی ہوں دھو رہا

پاکی نگاہ و فکر کی جزدان نعت ہے


اس کی بہارِ تام خزاں سے ہے نا شناس

ہر دور میں فروزاں گلستان نعت ہے


ہر ذکر سے بلند کیا مصطفی کا ذکر

رب جہان آپ قدر دان نعت ہے


گرچہ ہے جاؔں بھی خوگرِمدحِ رسولِ پاک

حق ہے کہ صرف حق ہی کو عرفان نعت ہے


طاہر صدیقی، فیصل آباد، پاکستان

یہ ماہ اپنے واسطے رمضانِ نعت ہے

ہر نعت اپنی حاصلِ قرآنِ نعت ہے


قرآن ہو حدیث کہ تفسیر و اجتہاد

جس کو بھی دیکھیں مصدرِ عرفانِ نعت ہے


مدحت سے ہوگئی مِری مقبول حاضری

مدحت کو جانیے مِرا ایمانِ نعت ہے


جو کچھ بھی میرے پاس ہے اُنؐ پر فِدا کروں

وہ جانِ نعت ہی مِرا جانانِ نعت ہے


ہر ایک ایک لفظ میں تقدیس آگئی

ہر رُکنِ نعت حاصلِ ارکانِ نعت ہے


آو کہیں حضورؐ کا ذکرِ جلی کریں

چلیے وہاں جو حلقہِ یارانِ نعت ہے


طائر مِرے لیے ہوئے مفتوح دو جہاں

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"

مکمل نام : پروفیسر طاہر صدیقی، فیصل آباد

ظفر اقبال نوری، امریکا

ہر اسم میں شعور ہے عرفانِ نعت ہے

یعنی ہر ایک ذات میں وجدانِ نعت ہے


حامد کی حمد حمد میں ہیں نعت ہی کے راز

ذاکر کے ذکر ذکر میں اعلان ِ نعت ہے


ہر ممکن الوجود پہ واجب ہے ان کی نعت

“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


سمٹی ہے نعت ہی میں سبھی کائناتِ اسم

یعنی الف ہی میم کا عنوانِ نعت ہے


معبود دے رہا ہے تو حکمِ درود ہی

محبوبِ حق کا اذن بھی فرمانِ نعت ہے


ہےحرف حرف نعت کی اک کہکشاں سجی

اور لفظ لفظ نعت کا بستانِ نعت ہے


لہجوں میں اک مٹھاس تو روحوں میں اک نمی

ہر لحن سے جمیل یوں الحانِ نعت ہے


صورت کا حسن اس میں ہے سیرت کا بھی جمال

خالق نے خُوب لکھ دیا قرآنِ نعت ہے


قرآں کو چشمِ دل سے ذرا پڑھ کے دیکھئے

ہر ایک لفظ لؤلؤ و مرجانِ نعت ہے


سُن کر یقولُ ناعتُ آئے ہیں صف بہ صف

ہم کو علی کی بات ہی پیمانِ نعت ہے


رومی کہیں پہ سعدی و جامی بھی دل بکف

یہ کارواں مقلّدِ حسّانِ نعت ہے


ہم جی رہے ہیں نعت کے عہدِ نصیر میں

چاروں طرف حضور کا فیضانِ نعت ہے


نوری ہے تیرے لفظوں کی مبلغ بساط کیا

تیرے دل و دماغ پہ احسانِ نعت ہے

ظہیر قندیل، حسن ابدال، پاکستان

مکمل نام : محمّد ظہیر قندیل

اجمال یہ کہ حسن ہی عنوانِ نعت ہے

تفصیل یہ کہ دہر ، دبستانِ نعت ہے


’’ہر شعبۂ حیات میں امکان ِ نعت ہے‘‘

کافی ہے یہ ثبوت کہ فیضانِ نعت ہے


بخشش کوروزِ حشر میں، سامانِ نعت ہے

کیا فکر ہوکہ ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


تشبیہ، استعارہ، کنایہ ، مجاز، رمز

ملتا نہیں بیان، جو شایانِ نعت ہے


چوموں اسے کہ دل میں بٹھاؤں میں لفظ کو

خاطر کروں نہ کیوں کہ یہ مہمانِ نعت ہے


مانو ! یہاں پہ جیت سبھی کو ہوئی نصیب

جیتو، مرے حریف یہ میدانِ نعت ہے


میں نے گزاری عمر کسی اور کے لیے

میراوہی ہے وقت جو قربانِ نعت ہے


بے حس کا دل گداز نہ ہو، کیا مجال ہے

پتھر پگھل گئے ہیں یہ ایقانِ نعت ہے


ہے سلسلہ ازل سے ابدتک جڑا ہوا

موتی نکل رہے ہیں ، یہی کانِ نعت ہے


سجدے میں سر جھکاتے ہیں مومن نماز میں

جس میں جھکی ہے روح وہ ایوانِ نعت ہے


قندیلؔ تم کو داد ملے گی ، یقین ہے

لیکن ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے

عادل یزدانی، چنیوٹ، پاکستان

دل میں سبھی کے جاگا جو ارمانِ نعت ہے

سارے کا سارا اصل میں فیضانِ نعت ہے


قرآنِ پاک سمجھوں نہ مَیں اُس کو کس لیے

درکار جس کلام کو جُزدانِ نعت ہے


سُوئے مدینہ دھیان رہے بزمِ نعت میں

یہ احترامِ نعت ہے یہ شانِ نعت ہے


اُس ہاتھ کی رسائی کا عالم نہ پوچھیئے

جس ہاتھ کے نصیب میں دامانِ نعت ہے


لاریب ہے وہ قُربِ الٰہی کا مستحق

حاصل جسے ذرا سا بھی عرفانِ نعت ہے


کام آ گئی ریاضتِ شعر و سخن مرے

ضامن مری نجات کا دیوانِ نعت


وابستگی کا جس کی تمنّائی ہر کلیم

گلزارِ نعت ہے ، وہ دبستانِ نعت ہے


آئینِ عشقِ احمدِ مُرسل کی پیروی

اظہارِ حُبِ دین ہے اعلانِ نعت ہے


عادِل وہ دل ہی پائے گا رُتبہ شہید کا

ہر پل بہ صد نیاز جو قربانِ نعت ہے

عارف امام، امریکہ

عالم تمام حلقۂ دورانِ نعت ہے

اعلانِ کُن کے “ن” میں اعلانِ نعت ہے


ملتی ہے عاجزی سے یہاں شعر کو اُٹھان

گردن جُھکا کے چل کہ یہ میدانِ نعت ہے


پُر پیچ تو نہیں ہے مگر سہل بھی نہیں

اے راہ رو سنبھل! یہ خیابانِ نعت ہے


سرنامۂ کلام ہیں اوصافِ مصطفیٰ ص

گویا کتابِ حق ہی دبستانِ نعت ہے


مدحِ نبی ص ہے نغمۂ تارِ نفس مدام

میں سانس لے رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے


سایہ ہے اِس سخن کا مِرے سر پہ تو مجھے

میدانِ حشر وادئ فارانِ نعت ہے


اس دائرے سے دور نکل اے خیالِ دہر

حّدِ ادب! یہ بزمِ سخن دانِ نعت ہے


خطبے میں جس نے دفترِ الحمد وا کِیا

تاریخ نے کہا وہ حدی خوانِ نعت ہے


کوثر سے منسلک ہے یہاں کی ہر اک رَوِش

یہ باغِ منقبت یہ گلستانِ نعت ہے

عارف قادری، واہ کینٹ، پاکستان

پھیلا ہُوا جہان میں فیضانِ نعت ہے

جو جو کرم ہے جس پہ، وہ احسانِ نعت ہے


جاں ہے فداۓ مدحِ پیمبر، زہے نصیب

خُوش بخت ہوں، کہ دِل مِرا قُربانِ نعت ہے


یُوں ہی نہیں ہے وقت کی گردش تھمی ہُوٸی

جاری مِری زبان پہ گَردانِ نعت ہے


مانا اَدَب میں صِنفِ غزل بھی ہے صِنفِ خاص

دیکھیں دِلِ سخن میں، تو ارمانِ نعت ہے


آنا ذرا سنبھل کے مِرے شاعرِ عزیز

حسّاس ہے بہت، کہ یہ میدانِ نعت ہے


دِل کا گُداز، اشکِ تپیدہ، جگر کا سوز

بہرِ قبول بس یہی سامانِ نعت ہے


سب داٸرے مُحیطِ عطاۓ حضور ہیں

”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


خُلدِ بریں کی مُجھ پہ حقیقت بھی کُھل گٸی

پُر کیف و پُر بہار گُلستانِ نعت ہے


مِلتی نہیں ہر ایک کو عارف یہ روشنی

قسمت کا ہے دھنی جسے عرفانِ نعت ہے

عاصم زیدی، کراچی، پاکستان

ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے

لیکن زہے نصیب کو عرفانِ نعت ہے


"کُن" کی صدا کا اُٹھنا تو عنوانِ نعت تھا

ظاہر ہوا جو "کُن" سے وہ دیوانِ نعت ہے


قرآن پڑھ رہا ہے قصیدے رسول ؐ کے

یعنی کہ "بے نیاز" کو ارمانِ نعت ہے


شاعر تو کر رہا ہے اٙدا سُنّتِ خدا

ورنہ "احد" کی ذات ہی شایانِ نعت ہے


شانوں پہ کاتبین نے آرام کرلیا

بس لکھ دیا کہ یہ ابھی دورانِ نعت ہے


منکر نکیر اُس سے ملیں گے بصد ادب

تقدیر میں عطا جسے فیضانِ نعت ہے


کیونکر بھٹک سکے گا رٙہِ مستقیم سے

عاصم ترے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے

عاکف غنی، پیرس

وردِ درود لب پہ ہے ،وجدانِ نعت ہے

عشقِ نبی ہے دل میں تو امکانِ نعت ہے


لاؤں اثر کہاں سے میں اپنے کلام میں

اسلوبِ فن کہاں مرا شایانِ نعت ہے


اس کے قلم سے نعت کی پھوٹے گی روشنی

جس کے دل و نگاہ میں عرفانِ نعت ہے


مدحت کروڑ ہا ہیں جو کرتے ہیں آپ کی

ان میں سے میں بھی ہوں جسے ارمانِ نعت ہے


لفظوں کا انتخاب کریں دیکھ بھال کر

محتاط اہلِ فن کہ یہ میدانِ نعت ہے


حسنِ سلوک آپ کا ہر اک سے ایک سا

ہر قول و فعل آپ کا عنوانِ نعت ہے


کہنے لگا جو نعت میں آتا گیا نکھار

لفظوں پہ میرے دیکھیے بارانِ نعت ہے

عائشہ ناز، کراچی، پاکستان

موضوعِ گفتگو مرا اب شانِ نعت ہے

کتنا مرے سخن پہ یہ احسانِ نعت ہے


سب کے نصیب میں کہاں عرفانِ نعت ہے

صد شکر دل محبِّ محبانِ نعت ہے


بتلا رہا ہے اسم ِمحمّد ﷺ کہ حشر تک

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


ان کی صفات کیسے بیاں کر سکے کوئی

کہہ کر بھی نعت قلب کو ارمانِ نعت ہے


رکھی ہوئی ہیں اس میں ادب سے سنبھال کر

دل جس کو آپ سمجھے وہ جزدانِ نعت ہے


اس کی گلی گلی میں ہے مہکار نعت کی

یہ ارضِ پاک میری گلستانِ نعت ہے

عباس رضا نیر، لکھنو، پاکستان

بشکریہ : کاشف حیدر

دنیا کی ہر زبان پہ احسانِ نعت ہے

جو شان حمد کی ہے وہی شانِ نعت ہے


یس دل ہے عشقِ رسالت ماب کا

الحمد جس کو کہتے ہیں وہ جانِ نعت ہے


حق کی نظر میں اشرفِ مخلوق ہے وہی

تھوڑا بہت سہی جسے عرفانِ نعت ہے


یوں سینچ کر گیا ہے اسے اسکا باغباں

بے خار و بے خزاں چمنستانِ نعت ہے


اے موجدِ ثنائے پیمبر تری ثنا

ہم قاریوں کے واسطے قرآنِ نعت ہے


آپس میں بات کرتے ہیں میرے دل و دماغ

میں بوذرِ ثنا ہوں تو سلمانِ نعت ہے


پروردگارِ انفس و آفاق کی قسم

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


یا صاحب الجمال و یا سید البشر

تیرے حوالے میرا دبستانِ نعت ہے


ہم کیا کریں گے لے کے جہاں کی وزارتیں

نیئر ہمارے پاس قلمدانِ نعت ہے

عباس عدیم قریشی، خانیوال، پاکستان

انکی عطا ہے اور مرا دامانِ نعت ہے

یعنی زمینِ خشک پہ بارانِ نعت ہے


فکرِ سخن ، رضا کے تکلّم کی بھیک بس

طرزِ سخن فقیر کا فیضانِ نعت ہے


ملحوظ حدّ ِ شرع و سیرت رکھی فقط

دعویٰ نہیں ہے حاشا ، کہ عرفانِ نعت ہے


مجھ پر جو حرف و معنی کے دفتر ہوئے ہیں وا

یہ اہلیت نہیں مری ، احسانِ نعت ہے


کچھ ان بہے سے اشک ہیں ، کچھ بےصدا سے لفظ

کاسے میں مجھ گدا کے یہ سامانِ نعت ہے


تغسیلِ نور کر کے اترتے ہیں یاں خیال

یہ مہبطِ جمال ہے ، میدانِ نعت ہے


یاں قدرتِ سخن نہیں ، توفیقِ نعت مانگ

غالب ہیں ہاتھ باندھے ، یہ ایوانِ نعت ہے


ہر لمحہ ہوں درود سپاس انکی چاہ میں

ہر لمحہ ان کے لطف سے قربانِ نعت ہے


کہنے کی بات ہے نہ بتانے کا حوصلہ

جتنا کرم فقیر پہ دورانِ نعت ہے


ماخوذ ہو حیات جو سیرت سے شاہ کی

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


حسّان و رومی ، جامی کا صدقہ ہے یہ عدیم

توفیقِ نعت جس کو ہے حسّانِ نعت ہے

عبدالامین برکاتی، ویراول,گجرات، انڈیا

پیشکش: غلام جیلانی سحر

جاری جہاں میں آج بھی فیضانِ نعت ہے

ہر شخص کی حیات ہی عنوانِ نعت ہے


یہ شان مصطفی کی ہے حمدِ خدا کے بعد

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


حسنِ عمل تو پاس مرے کچھ نہیں مگر

بخشش کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے


دیکھو پلٹ کے تم بھی تو قرآں کے پاروں کو

کرتا ہے مدح رب بھی جو سلطانِ نعت ہے


آئے نظر جو لفظوں میں عشقِ رسولِ پاک

لکھوں میں ایسی نعت جو شایانِ نعت ہے


نغمے غزل کے چھوڑ کے ایوانِ نعت میں

ہر سمت آج دیکھیے طوفانِ نعت ہے


جو کچھ لکھا امین نے وہ تو ہے مختصر

جامع ہے سب میں جو وہ تو قرآنِ نعت ہے


رکھنا قدم سنبھل کے امینِ حزیں ذرا

میدانِ نعت ہے ! ہاں یہ میدانِ نعت ہے !

عبد الباسط، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکستان

یہ کائنات سر بسر سامانِ نعت ہے

وہ خوش نصیب ہےجسے عرفانِ نعت ہے


اللہ کا ہے فرمان کانَ خلقہ القرآن

یعنی قرآنِ پاک بھی اعلانِ نعت ہے


میرے لبوں پہ رہتا ہے ذکرِ حضورِ پاک

مجھ پر یہ احسان بہ فیضانِ نعت ہے


آقا ہیں میرے باعثِ تخلیقِ کائنات

یہ کائنات سمجھیے دیوانِ نعت ہے


ہراک نفس پہ قرض ہے مدح حضور کی

ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے

عبدالجلیل، كوہاٹ، پاکستان

مکمل نام : حافظ محمّد عبدالجلیل

انوار سے سَجا ُہوا ایوانِ نعت ہے

مِدحت مِرےحضورؐ كی عرفانِ نعت ہے


طیبہ كی ہر گلی میں ہے مہكار اس لیۓ

ہر گام پر كِھلا ہُوا بُستانِ نعت ہے


قرآنِ پاك ذكر ہے خُلق عظیم كا

اس كا ہر ایك لفظ ہی عُنوانِ نعت ہے


ہر شعبہ حیات نے پائی ہے روشنی

”ہر شعبہ حیات میں امكانِ نعت ہے "


ذكرِ حبیبِ كبیریا ہے جلوہ گر یہاں

صد شكر ہےكہ دل مِرا جزدانِ نعت ہے


میں كیوں كہوں كہ مُفلس و نادار ہوں جلیل

زادِ سفر میں جب مِرے سامانِ نعت ہے

عبد الحلیم، گونڈہ، بھارت

فکر و نظر شعور میں فیضانِ نعت ہے

جو کچھ ہے میرے پاس وہ احسانِ نعت ہے


اللٰہ کے رسول کا احسان دیکھئے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


تسکین قلب کے لئے نعت رسول بس

میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے


ابر کرم حضور کا برسا ہے ہر جگہ

اس واسطے جہاں یہ گلستانِ نعت ہے


آنکھوں میں اشک دل میں وِلا لب پہ ان کا نام

ہمراہ میرے بس یہی سامانِ نعت ہے


جنبش قلم کو خوب ادب سے دیا کرو

لازم ہے احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


عبدالحلیم جیسے بھی لکھتے ہیں ان کی نعت

کتنا وسیع دیکھئے دامانِ نعت ہے

عبد الرحمان ناصر، خانیوال، پاکستان

یہ وحی کا نزول تو باران نعت ہے

قرآں کاحرف حرف ہی دیوان نعت ہے


احجار نے بھی نطق کیا مدحِ آقا میں

سو طاری بے زباں پہ بھی وجدانِ نعت ہے


بن کے کھڑے ہیں مقتدی جو پہلے آے تھے

ہاں معشرِ رُسُل میں یہ اعلانِ نعت ہے


ہر ذرۂ حیات ہے "لولاک" سے رواں

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


الفاظ چن تو لوح سے سدرہ سے لے خیال

پر جلتے ہیں جہاں وہاں سامانِ نعت ہے


ناصر تو نعت لکھ, ندا آے گی حشر میں

جانے دو بے حساب یہ حسانِ نعت ہے.

عبدالرحیم ارحم، حیدر آباد، سندھ، پاکستان

ظاہر کلام رب سے جو فرمانِ نعت ہے

تاحشروا یونہی در امکانِ نعت ہے


شان رسول پاکﷺ میں قرآں کاحرف حرف

لولوٸے نعت ہے کوٸی مر جانِ نعت ہے


ہرآن ہو جوپیش نظراسوہٕ رسول

ہرشعبہٕ حیات میں امکانِ نعت ہے


مرقد میں میرے آکے فرشتے خموش تھے

دیکھا جو میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


عشق نبیﷺ ہی پیش خدا سرخ رو کرے

عشق نبی ﷺ ہی تاررگ جان نعت ہے


دل میں مرے جو روشنی یاد نبیﷺ کی ہے

اللہ کا کرم ہے یہ احسان نعت ہے


عزم سفر ہے جانب طیبہ مرا ، کہ واں

موجود گام گام پہ سامان نعت ہے

عبد الغفار، حافظ

رب کی عطائے خاص ہے احسانِ نعت ہے سو بار شکر مجھکو بھی عرفانِ نعت ہے

اقا عطا ھوں لفظ جو سب سے ھوں منفرد اک عرصہِ دراز سے ارمان ِ نعت ہے

عشق و شعور و فہم و خرد ہو تو باالیقیں " ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "

نظم و غزل کا شوق نہ شہرت کی آرزو مقصد میری حیات کا دیوانِ نعت ہے

یہ نام یہ مقام یہ عزت یہ آبرو جو کچھ بھی میرے پاس ہے فیضانِ نعت ہے

واجد نے عہد جب سے کیا ان کی نعت کا دل کی زمیں پہ تب سے ہی بارانِ نعت ہے

حافظ عبدالغفار واجد

عبد الغنی تائب، حافظ آباد، پاکستان

علم و ادب میں منفرد یہ شان نعت ہے

مدح و ثنائے مصطفی' ایوان نعت ہے


پھیلی ہوئی ہے چار سو خوشبوئے جاں فزا

ارض ہنر پہ کھل پڑا بستان نعت ہے


وارفتگیء شوق ہے ، بیدار بخت ہے

یہ جان لو کہ صدقہ و فیضان نعت ہے


ہے میرے پاس جو زر عشق رسول پاک

اک فیض بار قطرہء باران نعت ہے


تسکین قلب و جان ہے یاد شہ رسل

ذکر حبیب آن سخن، جان نعت ہے


تائید جبرائیل بھی مل جائے گی اسے

کب سے دیار قلب میں ارمان نعت ہے


مقصود ہے جو چار سو ہو امن و آشتی

" ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


فتح و ظفر کا رستہ ، ہے امید کی کرن

بخشش کا آسرا یہی سامان نعت ہے


اخلاص کی مہک ہو ، موءدت کی چاندنی

لائو وہ حرف و صوت جو شایان نعت ہے


رزق سخن ہے نکہت طیبہ سے مشکبو

توفیق شعر گوئی بھی احسان نعت ہے


تائب یہ فخر اوج سعادت سے کم نہیں

دست سخن شناس میں دامان نعت ہے

عبدالقادر ہمدم قادری، گونڈہ، بھارت

مکمل نام : انصاری عبدالقادر ہمدم قادری

رحمت ہے اُس پہ جو بھی قلمدانِ نعت ہے

صد شُکر ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے


سرکار ﷺ کا کرم ہے فقط اور کچھ نہیں

قلب و جگر میں آج جو میلانِ نعت ہے


سرکار ! یہ یقین ہے صدقے میں آپ کے

محفوظ میرے قلب میں ارمانِ نعت ہے


دل میں بسی ہے الفتِ سرکارِ ہر جہاں

قلب و جگر پہ دیکھئے بارانِ نعت ہے


مجھ کو شعور کب ہے کہ نعتِ نبی لکھوں

شکرِ خدا کہ آج یہ وجدانِ نعت ہے


جرم و خطا کا‌ بوجھ مرے سر پہ ہے مگر

راہِ نجات کے لئے سامانِ نعت ہے


اعلیٰ ہے کتنی دیکھئے شانِ رسولِ پاک

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


ہمدمؔ درودِ پاک پڑھو جھوم جھوم کر

شایانِ نعت ہے یہی شایانِ نعت ہے

عبد اللہ خان آبرو علیمی، بلرام پور، بھارت

پیش کش: غلام جیلانی سحر


شکرِ خدا کہ روح پریشانِ نعت ہے

سرکار ! لطفِ خاص کہ عنوانِ نعت ہے


سرکار ! مجھ گنوار کی لاج آپ کے سپرد

کچھ زادِ آخرت ہے نہ سامانِ نعت ہے


سرکار ! آپ ہی کی عطا نعت اگائے گی

کشتِ سخن میں آپ سے امکانِ نعت ہے


سرکار ! لطف آپ کا شامل رہے تو پھر

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


ہر ایک پھول رنگت و نکہت کا شاہ کار

قرآن کا, جو ایک گلستانِ نعت ہے


امداد ان کی شانِ کریمی کی واہ واہ

لب ہائے خوش نصیب پہ گردانِ نعت ہے


ہمراہ ان کا عشق اگر ہے تو ٹھیک ہے

خطرے ہیں بے شمار,کہ میدانِ نعت ہے !!


مجھ میں کوئی کمال نہیں ہے اے آبروؔ!

اک بے ہنر پہ بارشِ فیضانِ نعت ہے

عبید بخاری، لودھراں، پاکستان

خوش قسمتی سے مل گیا وجدانِ نعت ہے

اب میں ہوں اور سَیرِ خیابانِ نعت ہے


دل میں وفورِ عشقِ رسولِ کریم ہو

دشتِ سخن میں بس یہی سامانِ نعت ہے


اسمِ گرامی آپ کا مشتق ہےحمد سے

یعنی کہ نامِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


ہےنعت اپنی ذات میں یہ مصرعِ کمال

”ہرشعبہ۶حیات میں امکانِ نعت ہے“

خوش دست وخوش قلم ہےوہ خوش فکروخوش کلام

جوبھی جہاں پہ صاحبِ دیوانِ نعت ہے


ہو جاؤں وقفِ مدح تشکّر میں اے عبید

قدرت نے مجھ کو بخشا قلم دانِ نعت ہے

عتیق الرحمان صفی، گجرات، پاکستان

ہر فکر ہر خیال میں امکانِ نعت ہے

مدحِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


مجھ کو سخن عطا ہوا ہے برکتوں کے ساتھ

یعنی کرم ہے رب کا جو فیضانِ نعت ہے


میں نعت اُن کے عشق میں لکھتا ہوں اور بس

دعویٰ مرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے


مجھ ایسے کم سخن کو بھی عزت ملی ہے جو

رب کی عطا کے بعد یہ احسانِ نعت ہے


اک ایک حرف چومئے لکھنے سے پیشتر

صد احترام کیجیے میدانِ نعت ہے


سیرت کے پھول نعت میں چن چن کے ڈالیے

کتنا حسین دیکھئے سامانِ نعت ہے


تعریف رب خود آپ کی کرتا ہے اس لیے

ہستی مرے حضور کی شایانِ نعت ہے


انسان و جن، ملائکہ مدحت سرا ہیں سب

اس کائناتِ نعت میں بارانِ نعت ہے


اردو کے بھاگ جاگ گئے آپ کے طفیل

ہر لفظ خوش ہے یوں کہ وہ مہمانِ نعت ہے


جب تک ہے سانس آپ کی کرتا رہوں گا مدح

میرا یہ اپنے آپ سے پیمانِ نعت ہے


اشعار اُن کی شان میں کہتے ہوئے صفیؔ

لب پر درودِ پاک ہی دورانِ نعت ہے

عثمان محمود، لاہور، پاکستان

عثمان زیر-سا یۂ دامان- نعت ہے

یعنی دل-سیاہ میں امکان -نعت ہے


ایسا سکون نظم و غزل میں کہیں نہیں

جیسا سکون اب مجھے دوران -نعت ہے


بعد از خدا عظیم محمد کی ذات ہے

حمد -خدا کے بعد ہی فرمان -نعت ہے


قرآن میرے رب نے اتارا ہے آپ پر

قرآن ہی تو اصل میں دیوان -نعت ہے


محدود کب ہے مد ح -نبی شاعری تلک

ہر شعبۂ حیات میں امکان -نعت ہے


ہم سےزمانے بھر کی خزائیں ہیں دور دور

ہم پر سدا سے رحمت -باران -نعت ہے


تب سے ہوئی ہے ختم ہماری فسر دگی

آباد جب سے محفل -یاران -نعت ہے


امشب دھلیں گے داغ دل- بے قرار کے

امشب ہمارے دل میں جوارمان -نعت ہے


آبا ترے بھی مد ح سرا عمر بھر رہے

عثمان تو بھی ابن- غلامان -نعت ہے

عدنان حسن زار، گوجرنوالہ، پاکستان

مدحِ نبی جو کرتا ہوں، فیضانِ نعت ہے

مجھ بے ہنر پہ کیسا یہ احسانِ نعت ہے


کہتے ہیں لوگ مجھ کو ثناخوانِ مصطفی

ہاتھوں میں میرے خیر سے دامانِ نعت ہے


اس میں سمائی رہتی ہیں نعتیں حضور کی

دل میرا صرف دل نہیں، جُزدانِ نعت ہے


رفعت ہے ان کے ذکر کی عالم میں چار سو

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


میں بھی کھڑا ہوں روضۂ اقدس کے سامنے

وردِ زباں درود ہے، بارانِ نعت ہے


میرے سخن نواز کی ذرٌہ نوازیاں

مرقوم ذہن و دل میں بھی برہانِ نعت ہے


الحمد ابتداء ہے تو والناس انتہا

قرآن سارا دیکھیے سامانِ نعت ہے


شکرِ خدا کہ زارؔ کو نعمت ہے یہ ملی

حاصل مرے قلم کو بھی عنوانِ نعت ہے

عدنان محسن، لاہور، پاکستان

آنکھوں میں اشک، سینے میں ارمانِ نعت ہے

مجھ بے نوا کے پاس یہ سامانِ نعت ہے


ہر راہ ہے مدینے کی جانب رواں دواں

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


عمران نے لکھی تھی جو خیرالوریٰ کی نعت

وہ مرتبے میں سورۂ رحمٰنِ نعت ہے


نوحہ ہو مرثیہ ہو مناقب ہوں یا سلام

حمدِ خدا کا فیض ہے،فیضانِ نعت ہے


اس دل پہ جاری رہتا ہے الہام کا ورود

یہ عام دل نہیں کہ یہ جز دانِ نعت ہے


اعمال کی ترازو ہے لوگوں کے واسطے

اور شاعروں کے باب میں میزانِ نعت ہے


اس وقت ہے جدا مری سانسوں کا مرتبہ

تسبیح یہ وجود کی دورانِ نعت ہے


بادل برس رہے ہیں محمد کے شہر پر

بارش نہیں جناب یہ بارانِ نعت ہے


عاصی ہوں نعت گوئی کا یارا نہیں مجھے

میرا سخن تمام ثنا خوانِ نعت ہے


یثرب میں نینوا کا مسافر ہے خیمہ زن

اک شعر جو سلام کا مہمانِ نعت ہے


اس وقت میری صدق بیانی پہ شک نہ کر

اس وقت میرے ہاتھ میں قرآنِ نعت ہے

عرش ہاشمی، راولپنڈی، پاکستان

لب پرسخن ہےاور بعنوان نعت ہے

ماءل کرم پہ سرور و سلطان نعت ہے


اک نعت کہہ کے اور بھی میلان نعت ہے

کیسا کرم ہے خاص، یہ فیضان نعت ہے


جز مدحت نبی، نه لکھے گا کوئی سخن

میرے قلم کا مجھ سے یہ پیمان نعت ہے


قرطاس اور قلم کا شرف مدحت رسول

فکر سخن کو، نطق کو ارمان نعت ہے


کامل ہدایت ا'پ کا اسوہ ہے اسقدر

ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے


ان کی عطا، سلام و مناقب کے سلسلے

خالق کی حمد بھی ہے یہ، کیا شان نعت ہے


ایماں کی جان ہے جو محبت حضور کی

ہاں اس کے جانچنے کو یہ میزان نعت ہے


ماہ صیام کا ذرا فیضان دیکھیے

خود 'گوشہ ادب' ہے کہ ایوان نعت ہے


ہان عرش کو ہے اپنی خطاؤں کا اعتراف

لیکن یه ہے کہ پیرو حسان نعت ہے

عرفان صادق، لاہور، پاکستان

ان کا کرم ہے مجھ کو جو عرفان نعت ہے

میرا تو لفظ لفظ غلامان نعت ہے


صد شکر میرے دل میں ہے اسم نبی کھلا

صد شکر میرے ہاتھ میں دیوان نعت ہے


بس شرط یہ کہ حب نبی دل کے پاس ہو

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


بتلا دیا ہےحضرت حسان نے ہمیں

جنت کا راستہ تو خیابان نعت ہے


آنکھیں ہیں یا کہ گنبد خضرا کا عکس ہیں

دل ہے کہ میرے سینے میں گلدان نعت ہے


کرب و بلا سے آتی ہے صلی علی کی گونج

صحرا میں جو کٹا تھا گلستان نعت ہے


سوچیں تو اپ کے لیے کن کی صدا لگی

دیکھیں تو ساری دنیا ہی ایوان نعت ہے


کتنے ہی شاعروں نے کہا اس زمین میں

اتنی کشادگی ہے یہ دامان نعت ہے


ان کے طفیل سے کٹا پہچان کا سفر

عرفان ذات اصل میں عرفان نعت ہے

عرفان نعمانی، راجھستان، انڈیا

اے دل تجھے نصیب جو باران نعت ہے

مخصوص تجھ پہ یہ بھی تو فیضان نعت ہے


رضواں کرے طواف ملک جس کی آرزو

صد رشک خلد تو وہ بیابان نعت ہے


تجھ کو خدا رکھے ہمیں رکھے ترا اسیر

ہم رندوں کی دعا یہ خمستان نعت ہے


گلہائے وصف شہ سے مزین ہے میرا دل

میں سوچتا ہوں دل ہے کہ گلدان نعت ہے


صبر و قرار پنہاں ہے وصفِ حضور میں

تسکینِ روح و دل تہہ دامانِ نعت ہے


لفظوں کی کائنات بھی تنگ جس جگہ وہ نعت کی زمیں ہے وہ میدان نعت ہے


مدح نبی کے فیض سے صد شکر دل مرا

فارس ہے روم شام ہے ایران نعت ہے


دل جس پہ وحی نعت اترتی ہے اس کے تو

ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے


ہر لمحہ یہ خیال رہے تجھ کو اے قلم

عشق و ادب خلوص وفا جان نعت ہے


حسنین فاطمہ علی عثماں عمر عتیق

ہر ایک شاخ نخل گلستان نعت ہے


اشعار نعت ہوتے ہیں افطار و سحری میں

ہم روزہ داروں کے لئے رمضان نعت ہے


مولیٰ شعور نعت دے مجھ کو کہہ سکوں

عرفان تو بھی صاحب ِ عرفان نعت ہے

عرفی ہاشمی، آسٹریلیا

مکمل نام : سید عرفی ہاشمی

بتلاؤں تجھ کو کیا حد عرفان نعت ہے

میرا خدا بھی قارئ قرآن نعت ہے


دین سخن میں ایک ہی مسلک رہا مرا

جو شعر بھی کہا ہے مسلمان نعت ہے


عشق نبی سے لکھی گئیں ہیں نبوتیں

پیغمبری دراصل قلمدان نعت ہے


موزوں وہ کررہے ہیں مرا مصرعہ نجات

اب تو مرا نصیب بھی دیوان نعت ہے


سین بلال اس لئے افضل ہے شین سے

لکنت زبان عشق کی جزدان نعت ہے


موقوف جسم و جاں ہے کہاں مدح مصطفے

نیزے پہ جو بلند ہے قرآن نعت ہے


کچھ اسلیے بھی تجھ سے تعلق نہیں رہا

اے جہل نفس جاں مجھے عرفان نعت ہے


میرے گنہ اِدھر،اُدھر اللہ کا کرم

اور درمیاں میں عرصہء امکان نعت ہے


آوارگی نہیں یہاں ہجرت کا ظرف لا

دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے


کاغذ پہ جو لکھا ہے اسے نعت مت سمجھ

پلکوں پہ جو نمی ہے وہی جان نعت ہے


جسمیں خدا نے رکھے ہیں خود آیتوں کے پھول

ایسا بھی ایک دہر میں گلدان نعت ہے

عروس فاروقی، گجرات، پاکستان

مکمل نام : ابو الکمال عروس فاروقی

عشقِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے

ایمان ہے یہی، یہی وجدانِ نعت ہے


آقا! مجھے بھی حرفِ عقیدت عطا کریں

آقا! مجھے بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے


’’لایمکن الثناء کما کان حقہ‘‘

کہہ سکتا ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے


محبوبِ کائنات کی نعتوں کی گونج ہے

میدانِ حشر ہے کہ یہ ایوانِ نعت ہے


لے آئے تم ورق بھی، قلم بھی، دوات بھی

لیکن بتاؤ کیا یہی سامانِ نعت ہے


اپنا ہر اک مہینہ ہے اُن کی ثنا کے نام

شعبانِ نعت ہے کوئی رمضانِ نعت ہے


محدود کیجیے نہ زبان و بیان تک

’’ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


نور و سرور پھوٹتا ہے لفظ لفظ سے

مصرع ہے یا قطارِ چراغانِ نعت ہے


تھا آشنائے طرزِ تکلُّم عروسؔ کب

حاصل ہے جو کمال بفیضانِ نعت ہے

عطاء المصطفٰی، سانگھڑ، سندھ، پاکستان

مکمل نام : سید عطاء المصطفٰی

مصرع سنا ہے جب سے، تو ارمانِ نعت ہے

ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے


نم آنکھ ، ہاتھ کانپتے ، تو سر، نِگوں مِرا

اور قلبِ بے قرار ، یہ سامانِ نعت ہے


ہیں چند لفظ مدحتِ سرکار میں گُندھے

عاصی کے پاس کب کوئی دیوانِ نعت ہے


اس زندگی میں جو بھی میسر ہوا مجھے

سرکار کا کرم ہے سبھی دانِ نعت ہے


مجھ سے اگر سنو تو سنو بس درودِ پاک

ہمراہ قبر میں مرے سامانِ نعت ہے

عظیم راہی، کراچی، پاکستان

جب مقصدِ حیات ہی پیمانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


جاری ازل سے چشمۂ فیضانِ نعت ہے

فردوس ایک کنجِ گلستانِ نعت ہے


وہ گام زن رہے گا رہِ مستقیم پر

ہاتھوں میں جس کے گوشۂ دامانِ نعت ہے


صورت ہے ان کی آئنۂ حسنِ کردگار

اور سیرتِ مطہرہ قرآنِ نعت ہے


ذکرِ حبیب ذکرِ محب سے الگ نہیں

اللہ کی طرف سے ہی فرمانِ نعت ہے


جو شان بھی میں لکھّوں وہ اس بے مثال کے

شایانِ شاں نہیں ہے،یہی شانِ نعت ہے


گھبراتے کیوں ہو؟ دیکھو تو میزان کی طرف

راہی تمہارے پلڑے میں دیوانِ نعت ہے

علی احمد نظامی,سدھارتھ نگر,بھارت

پیش کش: غلام جیلانی سحر


صدقہ نبی کا مل گیا,فیضانِ نعت ہے

مشکل تو ہے بہت مگر ارمانِ نعت ہے


فضلِ خدائے پاک سے یہ دیکھ لیجیے

میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے


میری کہاں مجال کہ نعتِ نبی لکھوں

یہ صدقہِ رسول ہے احسانِ نعت ہے


ہوں حضرتِ بلال یا سلمان فارسی

سب کی زباں پہ نغمہِ ذیشانِ نعت ہے


اہلِ غزل سے کہہ دو کہ خاموش ہی رہیں

سب سے بلند شانِ غلامان نعت ہے


کیا لطف ہو کہیں جو نکیرین قبر میں

تیرا نجات نامہ یہ دیوان نعت ہے


شامل نظامی نصرتِ سرکار ہو اگر

,,ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے,,

علی ایاز، کبیر والہ، پاکستان

مکمل نام : محمّد علی ایاز

مجھ پر ایاز اس طرح احسانِ نعت ہے

میری تو ساری زندگی عنوانِ نعت ہے


ہر سمت سے ہے آ رہی خوشبو کمال کی

میرا خیال ہے کہ اب امکانِ نعت ہے


عشقِ رسول کے سوا ممکن نہیں کبھی

آنا سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


اللہ کا کرم ہے, نگاہِ کرم میں ہوں

ترتیب دے رہا جو میں دیوانِ نعت ہے


الفاظ ہیں اتر رہے تسنیم سے دھلے

آمد کا سلسلہ تو یہ شایانِ نعت ہے


جب آپ کائنات کے رحمت نبی ہیں, سو

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


نورو تجلیات کی بارش سی ہو رہی

مجھ پر کرم خدا کا یہ دورانِ نعت ہے


کہہ دیجیے حضور کہ تجھ کو امان ہے

سمجھوں گا میں ایاز یہ فیضانِ نعت ہے

عقیل عباس جعفری ، کراچی، پاکستان

روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


میری رگوں میں بھی ابوطالب کا ہے لہو

میری ہر ایک سانس پہ فیضانِ نعت ہے


جبریل ہوں کہ ہم سے فقیرانِ بے نوا

سایہ فگن ہر ایک پہ دامانِ نعت ہے


اے کاش اس فقیر کو بھی ہو کبھی عطا

اک حرف جس کو سب کہیں "شایانِ نعت ہے"


جو کربلا میں خون سے لکھا حسین نے

ہر دل میں جاگزیں وہی دیوانِ نعت ہے


منکر نکیر لوٹ گئے، کتبہ دیکھ کر

لکھا تھا " یہ گدائے خیابانِ نعت ہے"


عرفانِ نعت جس کو بھی حاصل ہوا عقیل

عمرانِ نعت ہے وہی حسانِ نعت ہے

عقیل ملک، پنڈی گھیب، پاکستان

میلانِ حمد اصل میں میلانِ نعت ہے

باطل کی جانچ کے لیے میزانِ نعت ہے


آقا نے کہہ دیا کہ ستارے ہیں پنجتن

یعنی کہ ان کا نام ہی عُنوانِ نعت ہے


اشعار بن رہے ہیں طلسمِ مہ و نجوم

کیسا سجا سجایا شبستانِ نعت ہے


لفظوں سے آشنا ہو پہ مدحت سرا نہ ہو!

یہ بھی مری نگاہ میں کفرانِ نعت ہے


محنت کشِ خیال کا رتبہ ہے بالا تر

میرا قلم اسی لیے دہقانِ نعت ہے


تزئینِ دشتِ لفظ کو پاکیزگی ہے شرط

عالِم اسے کہیں جسے عرفانِ نعت ہے


دھڑکن کے داؤ پیچ میں پنہاں ہے رمزِ عشق

دل کا توازن اب سرِ اوزانِ نعت ہے


ایسی نوازشات میسر کسے عقیل

دشتِ عرب کی گرد بھی لوبانِ نعت ہے

عقیل ہاشمی، حیدرآباد، انڈیا

مکمل نام : ڈاکٹر عقیل ہاشمی

ایماں کی ہے نوید کہ احسان نعت ہے

ہرشعبہ حیات میں امکان نعت ہے


توقیر بندگی ہے کہ تسبیح قرب حق

یانعمت الہی بعنوان نعت ہے


شرح صدر کی بات ہے نسبت کہوں جسے

حب رسول ہاشمی فیضان نعت ہے


لاریب ہےدرود و سلاموں کا سلسلہ

مدح و ثنا کے واسطے سامان نعت ہے


توصیف شاہ کیسی بھلا کس کی ہے مجال

حق کا کلام دیکھے شایان نعت ہے


نورانی ساعتوں کا اسے اعزاز مل گیا

روح القدس کی پشتی کہ عرفان نعت ہے


وجہ نجات ہے بخدا اسوہء رسول

وہ پیروی کرے جسے ارمان نعت ہے


آیات نعت کا وہ کرے ورد صبح و شام

خوش قسمتی سے جسکو بھی ارمان نعت ہے


فرد عمل نہ دیکھ خدایا بروز حشر

میرا وسیلہ بس میرا دیوان نعت ہے

اتناہی جانتاہےتراہاشمی عقیل

لکھاقلم نےلوح پہ اعلانِ نعت ہے

علی شاہد ، کبیر والا، پاکستان

میرا نہ کوٸی لفظ بھی شایان نعت ہے

قرآن جس کی شان میں دیوان نعت ہے


مل کر درود بھیجو محمد ﷺ کی شان پر

ربِ کریم کا بڑا احسان نعت ہے


صبحِ طلوع نے مجھے آکر یہی کہا

ہر شعبہ ٕ حیات میں امکان نعت ہے


اب ڈر نہیں ہے کوٸی بھی محشر کےروز کا

محشر کو بھی شفاعتِ سامان نعت ہے


کر دو منادی میرے محمدﷺ کے نام کی

بخشش کا ہے وسیلہ یہ اعلان نعت ہے


ہر لفظ کی زباں پہ ہے سرکار التجا

ہر لفظ کو فقط یہی ارمان نعت ہے


پڑھتا ہوں ہر گھڑی میں درود و سلام ہی

شاہد مرے اثاثے میں اب دان نعت ہے

علی شیدا، کشمیر، انڈیا

قُرآن پڑھ کے دیکھ ' دبستانِ نعت ہے

خوشبوئے حرف و لفظ میں اعلانِ نعت ہے


مضمونِ ہست و بود ہے کُن کی گرفت میں

مضمونِ کُن فکان ' وہ عنوانِ نعت ہے


دھڑکن' نفس' نگاہ ' سماعت کہ صوتیات

"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


تمہیدِ حرف و لوح و قلم صنفِ لامکان

تجسیمِ کائنات بھی جزدانِ نعت ہے


امید ' روزِ حشر ہو بخشش کی اور کیا

زنبیل خاکسار میں سامانِ نعت ہے


ادراک میں سمائے کہاں حسنِ لا مثال

حیرت جو منکشف ہے یہ وجدانِ نعت ہے


شیدا جو مدح خوانِ محمد لقب ملا

انعامِ لا یزال ہے ' احسانِ نعت ہے

علی قائم نقوی، لاہور، پاکستان

مجھ بےنوا پہ نعت بھی احسانِ نعت ہے

ورنہ خدا کی ذات ہی شایانِ نعت ہے


گر عشقِ بُوتراب ہی سامانِ نعت ہے

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


کعبے کی سمت بھی میں مدینے سے آیا ہوں

لکھتا ہوں میں جو حمد یہ فیضانِ نعت ہے


مکہ سے کربلا اسے عمران لائے تھے

کربل سے پھر حُسین۴ نگہبانِ نعت ہے


اک اہلیبیت۴ چھوڑے ہدایت کے واسطے

دوجا یہ تیس پاروں کا دیوانِ نعت ہے

علیم اطہر، لاہور، پاکستان

مجھ پہ کرم ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے

میرے جنون کو بھی تو عرفانِ نعت ہے


الفاظ باوضو ہیں، تخیّل مدینے میں

میرے قلم کی نوک میں وجدانِ نعت ہے


ہونٹوں پہ وردِ صلّی علٰی، دل سکون میں

اور چشمِ تر میں تیرتا سامانِ نعت ہے


کافر جو نعت کہتا ہے اس کو مرا سلام

دراصل دل بھی اس کا مسلمانِ نعت ہے


رک جائے ساری گردِشِ دوراں سنے وہ نعت

وہ لمحہ جاوداں ہے جو دورانِ نعت ہے


ہر کہکشاں میں نورِ رسولِ خدا ﷺ ملا

"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


تخلیقِ کائنات بوجہِ رسولِ پاک ﷺ

اور حُکمِ کُن فکاں ہی تو اعلانِ نعت ہے


صلّو علی الحبیب ﷺ فرشتوں کی لوریاں

سدرة کی انتہاء پہ بھی وجدانِ نعت ہے


عمران تنہا ، کامونکی ، پاکستان

اک عرصۂ دراز سے ارمانِ نعت ہے

لیکن کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے


لکھنے لگوں تو دل پہ اترتے ہیں خود خیال

اللہ نوازتا مجھے دورانِ نعت ہے


انسان کی بساط ہے جتنا وہ کھوج لے

"ہر شعبہءحیات میں امکانِ نعت ہے "


ہم کو ملے گی نسبتِ حسان حشر میں

صد شکر اپنا پیشوا سلطانِ نعت ہے


تم کو امر کروں گا مضامینِ نعت سے

میرا یہی حروف سے پیمانِ نعت ہے


تنہا کبھی حضور نے چھوڑا نہ رنج میں

میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے

محمد عمران تنہا

عمران شریف، مدینہ منورہ، سعودی عرب

بشکریہ : محمد علی حارث

دنیا اگرچہ ساری ہی سامانِ نعت ہے

تشنہ حضور پھر بھی دبستانِ نعت ہے


ہیں ساتھ اس کے روشنی عنبر گلاب و نور

دورِ قلم کے پاس نہ فقدانِ نعت ہے


ہوگا مگر کشید عطا سے نبی کی،جو

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


میرے قلم کی باندی بنی ہے سخنوری

صد شکر یہ فقیر پہ احسانِ نعت ہے


ہر امرِ ربیِ میں ہے بلندی حضور کی

لولاک کی صدا نہیں اعلانِ نعت ہے


قرآن الف سے سین تلک نور ہے مگر

رشد و ہدا کے ساتھ یہ دیوانِ نعت ہے


کاندھوں سے میرے کاندھے ملائے فرشتوں نے

دیکھا جو میرے ہاتھوں میں دامانِ نعت ہے


تصویر جس سے لطف و کرم کی میں بن گیا

عمران اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے

مکمل نام : محمّد عمران شریف

عمر فاروق ناعم، چکوال، پاکستان

مکمل نام : محمّد عمر فاروق ناعم

جب سے خیال و فکر پہ باران نعت ہے

کھلنے لگا سخن سے گلستان نعت ہے


کعبہ ثناء و حمد کا مرکز ہے اولین

اور مدح میں مدینہ خیابان نعت ہے


کون و مکاں سجائے گئے جن کے واسطے

وہ ذات مصطفیٰ ﷺ ہی تو عنوان نعت ہے


ڈھل کر نبی ﷺ کے اسوۂ کامل میں دیکھیے

"ہر گوشۂ حیات میں امکان نعت ہے"


شہرت نہیں کبھی بھی مرا مطمحِ نظر

مقصود نعت گوئی سے عرفان نعت ہے


رحمت کا سائبان مرے سر پہ تن گیا

کیسا یہ مجھ اثیم پہ احسان نعت ہے


رنج و محن بھی حزن بھی کافور ہوگیا

درمان میرے درد کا دامان نعت ہے


اے کاش جالیوں کے مقابل سناؤں نعت

حسرت ہے دل کی میرا یہ ارمان نعت ہے


الفاظ آبِ گِل سے کریں بارہا وضو

پھر بھی کہاں وہ لفظ جو شایان نعت ہے


عسرت بھی مفلسی بھی جو مجھ سے ہے دور آج

کچھ اور تو نہیں ہے یہ فیضان نعت ہے


خواہش کروں کسی بھی قلم رو کی کیوں عمر

ہاتھوں میں جب کہ میرے قلمدان نعت ہے

عمر فاروق وڑائچ، پاکپتن، پاکستان

بشکریہ : محبوب احمد، سرگودھا

والنجم کے طفیل یہ سامان نعت ہے

ورنہ کلام کب مرا شایان نعت ہے


واللیل کہ کے زلف کی تعریف کی گئی

والفجر میں بھی مطلع ذیشان نعت ہے


کوثر سے ہے مراد کثیر ان کے پاس ہے

قد جاءکم سے مقصد اعلان نعت ہے


جاؤک سے دلیل ملی نعت کے لیے

یہ بھی تو ایک صورت اعلان نعت ہے


سارا کلام حق ہی تو ہے نعت مصطفی

لیکن سمجھ سکے، جسے عرفان نعت ہے


عاصی نہائیں اس میں تو بخشش ملے ضرور

ہر دم برس رہا ہے جو باران نعت ہے


تسکین دل درود کی برکت ہی سے ملے

اور اضطراب دل ہو تو سامان نعت ہے


کھوٹے کھرے قبول ہوں، اک بول کے عوض

بخشش ملے جہاں وہی دکان نعت ہے


دامن میں اور کوئی نیکی نہ تھی مگر

جنت میں جا رہا ہوں، یہ فیضان نعت ہے


ان کی مہک سے دل نہ معطر ہوں کیوں بھلا

عنبر فشاں ہر اک گل ریحان نعت ہے


دوزخ کی آگ چھو نہ سکے گی انھیں، جہاں

عاصی چھپے ہوئے ہیں، وہ دامان نعت ہے

عمر نقشبندی، لاہور، پاکستان

مکمل نام : محمّد عمر نقشبندی

آنکھوں سے جو برستا ہے بارانِ نعت ہے

سرمایۂ حیات ہے یہ جانِ نعت ہے


پڑھنے کے باوجود اِسےہر نِماز میں

اک طبقہ ایسا ہے کہ جو انجانِ نعت ہے


محدود کب ہے دائرہ توصیف کا میاں

"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


اک ایک حرف تول پھر اُسکو رقم تو کر

یہ پُل صراط ہی ہے جو میدانِ نعت ہے


تجھ سابھی بے ہُنر لکھے اشعار جو عمر

یہ خوب جان لے کہ یہ احسانِ نعت ہے

عمیر لبریز، فیصل آباد

بشکریہ : ریاض قادری، فیصل آباد


ہر وقت پلتا قلب میں ارمانِ نعت ہے

صد شکر مجھ پہ یہ بڑا احسانِ نعت ہے


پنج تن کا ذکر نعت کو دلکش بناتا ہے

یہ اصل شانِ نعت ہے اور جانِ نعت ہے


پڑھتا درود ان پہ فرشتوں سمیت رب

سارے جہان میں وہی سلطانِ نعت ہے


پرکھے ہیں میں نے زندگی کے پہلو سارے ہی

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر روز ایک رنگ نیانعت کا بنے

ملتا مدینے سے مجھے سامانِ نعت ہے


میرے لبوں سے نکلی جو بھی نعت آپ کی

ہر ایک کو میں سمجھا یہ حسانِ نعت ہے


لبریز شہر ِ نعت کا میں ایک باسی ہوں

یاں اک سے بڑھ کے ایک ثنا خوانِ نعت ہے

محمد عمیر لبریز ؔ فیصل آباد

عمیر نجمی ، رحیم یار خان، لاہور

بیٹھا، کہا حضور(ص) سے: "ارمانِ نعت ہے"

پھر جو کہا ہے، دیکھ لیں، شایانِ نعت ہے


نعمت بھی کیا ہے "نعت" میں ضم ہو گئی ہے "میم"

شکران نعمت اصل میں شکرانِ نعت ہے


لفظوں کے لعل حرفوں کے ہیرے لگیں گے ہاتھ

جو کچھ ملے اٹھائیے، یہ کانِ نعت ہے


ایسی کوئی زبان نہیں جو کرے بیان

حالت جو میرے قلب کی دورانِ نعت ہے


اُن سے حیات، اُن سے ہر اک شعبہِ حیات

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


حجرے کی چھت پہ اتنے کبوتر یونہی نہیں

اس میں مکیں گروہِ محبانِ نعت ہے

غضنفر علی، کراچی، پاکستان

ہر شعبۂ حیات میں اعلان نعت ہے

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


صحن نبی میں حرف قطاروں میں لگ گے

دالان مصطفیٰ ہی تو دالان نعت ہے


وللیل و والضحیٰ پہ ہی موقوف تو نہیں

مصحف خدا کا سارا ہی دیوان نعت ہے


آنسو ہیں سسکیاں ہیں ندامت ہے عشق ہے

یہ ہی صریر خامہ ہےسامان نعت ہے


حالی نہیں ہوں حافظ و سعدی نہیں ہوں میں

پھر بھی میں لکھ ریا ہوں یہ احسان نعت ہے


اک حرف لکھ کے پہروں یہ ہی سوچتا رہا

کیا حرف جو لکھا ہے وہ شایان نعت ہے


ہر حرف کو برتنے لگا احترام سے

ہر حرف پر گماں ہے کہ مہمان نعت ہے


رطب اللساں ہے آج غضنفر حضور کا

احسان نعت ہے یہ ہی احسان نعت ہے

غلام جیلانی سحر، بلرام پور، انڈیا

محفوظ حرف حرف جو قرآنِ نعت ہے

خود ربِّ کائنات نگہبانِ نعت ہے


حاصل اگر اجازتِ سلطانِ نعت ہے

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


سرکار ! لطفِ خاص کا امید وار ہوں

بے چین روح کو فقط ارمانِ نعت ہے


کچھ تو شعورِ مدح عطا ہو گنوار کو

اہلِ زباں کو دعویِ عرفانِ نعت ہے


سرکار ! کچھ حروف سلامی کو پیش ہیں

مقبول ہو وہ حرف جو شایانِ نعت ہے


پروردگار ! ڈال دے سینے میں بے حساب

عشقِ رسولِ پاک, جو ایمانِ نعت ہے


کھلتے ہیں رنگ رنگ کے گل ہائے عشقِ شاہ

سینہ ہے میرا یا کوئی گل دانِ نعت ہے


گل ہائے رنگا رنگ کھلے ہیں چہار سمت

کتنا ہرا بھرا یہ گلستانِ نعت ہے


نظم و غزل کے مارے ہوئے لوگ دنگ ہیں

اس درجہ اونچی شانِ غلامانِ نعت ہے


مدح و ثنا حضور کی یوں ہی نہیں ہوئی

موجود سر پہ سایہِ دامانِ نعت ہے


پیہم نوازشاتِ رسولِ کریم واہ

محسوس ہو رہا ہے کہ بارانِ نعت ہے


اس خاص کیفیت کا بیاں کس طرح کروں

طاری جو میری روح پہ دورانِ نعت ہے


مستی میں بھی نہ ہاتھ سے چھوٹے ادب کی ڈور

مد ہوشی میں بھی ہوش اے مستانے ! نعت ہے


حد درجہ احترام و لحاظ و ادب سحر!

ہلکی سی چوک موت ہے دیوانے ! نعت ہے

غلام ربانی فارح، ، مظفر پور،> بہار < انڈیا

محبوب رب جو مرکزِ فیضان نعت ہے

ایمان کی بھی جان وہی جانِ نعت ہے


اللہ کا کرم ہے یہ فیض رسول ہے

بخشش کو میرے پاس بھی سامان نعت ہے


سینے میں دفن میرے خزانہ ہے عشق کا

الفت نبی کی بالیقیں جزدان نعت ہے


نعت رسول پاؤ گے قرآں میں ہر جگہ

سچ ہے کلام پاک میں عرفان نعت ہے


تھوڑی توجہ کی تو معمہ یہ حل ہوا

  • ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*


مقبول بس وہ فکر ہے اس بارگاہ میں

ہے جو سخن کی شان وہ شایان نعت ہے


بیشک ادب سے چومیں گے اس کو ملائکہ

قرطاس دل کہ جس کو بہم خوانِ نعت ہے


فارح ادب سے کہہ اسے سرمایۂ حیات

عزت سے جی رہا ہے یہ فیضان نعت ہے

غلام رسول احمد ضیا ، سیتا مڑھی، بھارت

کہتا ہے وہ یہی جسے پہچانِ نعت ہے

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


منکر نکیر دیکھ کے مجھ کو کہیں گے یہ

اس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


عزّت سے کھا رہا ہوں نوالہ جو صبح و شام

سچ کہہ رہا ہوں ہم پہ یہ احسانِ نعت ہے


میرا یقین کہتا ہے ہر آن ہر گھڑی

سرمایۂ نجات یہ گلدانِ نعت ہے


وہ جس کے دم قدم سے ہے قائم یہ کائنات

سرکار کا کرم ہے وہ فیضانِ نعت ہے


عشقِ رسول پاک کی لذت جو دے گیا

احمد ضیا! وہ ہند کا حسّانِ نعت ہے

غلام فرید واصل، شیخوپورہ، پاکستان

کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے

دل میں مرے بھی یا نبی ارمانِ نعت ہے


خالق نے بھر دیا میرے سینے کو نعت سے

موتی نکل رہے ہیں، دہن کانِ نعت ہے


سارے فصیح رکھتے ہیں اس بات پر یقین

نطق و سخن کا سِلسلہ قُربانِ نعت ہے


زہرا،حَسَن،حُسین بھی اس میں سمائے ہیں

کتنا ہرا، بھرا یہ گلستان نعت ہے


رَگ رَگ میں عشقِ شاہ مدینہ بسے اگر

"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


محشر کی دھوپ میں بھی مجھے سائباں ملا

شکرِ خدا کہ مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے


واصلٓ نہیں خبر کہ وزارت مِلے کسے

جُز جُز ہی آیتوں کا تَو سلطانِ نعت ہے

غلام مرتضیٰ طرب، کٹیہار,بہار، انڈیا

پیشکش: غلام جیلانی سحر

احسان میرے رب کا ہے,فیضان نعت ہے

میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے


نازل رسولِ پاک پہ قرآں کیا گیا

جس کے ہر ایک پارے میں عنوانِ نعت ہے


سرکار ! مجھ غریب کا بیڑا لگا دو پار

بخشش کو کچھ نہیں ہے, نہ سامانِ نعت ہے


عشقِ نبی میں دل جو تڑپتا ہے دم بدم

یعنی کہ دل مرا کوئی گل دانِ نعت ہے


آقا مِرے خیال میں کچھ بھی نہیں ہے اب

سینے میں موجزن ہے جو ایمانِ نعت ہے


اپنوں کو جو عطا ہوا کیا دیکھنا اسے

غیروں پہ بھی تو دیکھیے بارانِ نعت ہے


جاری زباں پہ نعت نبی کی ہے ہر گھڑی

کیا دل بھی اے طرب ! ترا قربانِ نعت ہے

مکمل نام : غلام مرتضیٰ طرب علیمی

غلام مصطفی دائم اعوان، اسلام آباد، پاکستان

طاری عروسِ قلب پہ وجدانِ نعت ہے

خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے


لفظوں کی عکس بندیاں ملحوظ ہوں، مگر

لازم پسِ خیال بھی عرفانِ نعت ہے


نقش جمالِ شوخیءِ آیات کیا کہوں

ہر نوکِ حرف لشکرِ مژگانِ نعت ہے


تکوینِ کائنات کا ہر لحظۂ وجود

عنبر سرشت لؤلؤِ بارانِ نعت ہے


اقلیمِ نُہ سپہر کے آشفتہ خاطرو

فرحت نواز غنچۂ بستانِ نعت ہے


نکہت فشانیءِ گلِ رَیحان و نسترن

خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے


مخدومِ طائرانِ اولی الاَجنحہ، حضور

عرشِ فراخ صفحۂ دیوانِ نعت ہے


دائم فروغِ نعت کی نیرنگیاں نہ پوچھ

”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“

فاتح چشتی، مظفر پور، انڈیا

بشکریہ : حافظ محبوب احمد

آغاز تا اخیر یہ ایوان نعت ہے

قرآن پاک اصل میں بنیان نعت ہے


شاید کھلے ہیں گیسوۓ مشکیں حضورکے

مہکی ہوئی جو یہ شب شعبان نعت ہے


بزم سخن میں نغمہ سراؤں کی بھیڑ ہے

اوج فلک پہ جذبۂ مردان نعت ہے


بادل برس رہے ہیں نشاط و سرور کے

ہر سمت ازدحام گدایان نعت ہے


چھلکی ہے چشم ناز کرم سےشراب عشق

مخمور آج حلقۂ رندان نعت ہے


ہوں خوشہ چین سعدی و جامی زہے نصیب

حاصل مجھے بھی صدقۂ حسان نعت ہے


ماہ و نجوم ، سدرہ و عرش و فلک ، ملک

چن لیجیے کسی کو بھی ، عنوان نعت ہے


باغ بہشت دیکھتے ہی دل پکار اٹھا

یہ گلستان و گلبن و گلدان نعت ہے


سینہ ہر ایک حرف کا ساغر بدوش ہے

برپا شعور لفظ میں ہیجان نعت ہے


اللہ رے وہ رونق شہر رسول پاک

گو آبجوۓ ہست میں مرجان نعت ہے


تنہائی کی خموشی ہو یا محفلوں کے شور

  • ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*


  • فاتح* یونہی نہیں ہے چمن میں بہار نو

طاری گلوں پہ نشۂ الحان نعت ہے

مکمل نام : فاتح چشتی مظفر پوری

فریاب عظمی، راولپنڈی، پاکستان

جو روحِ کائنات ہے سلطانِ نعت ہے

دونوں جہاں کی جان ہے وہ جان ِ نعت ہے


یارا کسے لکھے جو کہ شایانِ نعت ہے

بس رب ہی جانتا ہے جو پیمانِ نعت ہے


نم آنکھیں اور لب پہ درودوں کی ڈالیاں

مجھ ناتواں کا بس یہی سامان ِ نعت ہے


اوقات کیا بھلا یہاں مجھ سے حقیر کی

بو صیری رومی جامی یاں حسانِ نعت ہے


فطرت میں جھانک دیکھ ثناء رب ہے کر رہا

ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


سانسیں مہک رہی ہیں جو ذکرِ رسول سے

خوشبو ہے چار سو یہ گلستانِ نعت ہے


کچھ اور تو نہیں مرے اعمال میں حضور

سامان ِ آخرت یہی دیوانِ نعت ہے

فاضل میاں، میسور، کرناٹکا، انڈیا

مکمل نام : سید فاضل میاں

یہ اعترافِ حسنِ قلمدانِ نعت ہے

فنِ تمام حاضرِ ایوانِ نعت ہے


مت زعم کر کہ تو کوئی حسانِ نعت ہے

چل احتیاط سے کہ یہ میدانِ نعت ہے


تیرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے

حاصل اگر ذرا سا بھی وجدانِ نعت ہے


عمرِ تمام نذر ہے اس کی تلاش میں

وہ حرفِ معتبر کہ جو شایانِ نعت ہے


صد شکر میرے بحرِ تخیل میں جابجا

لولوئے نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے


کس جا نہیں ہیں لعل و گہر مدحِ شاہ کے

یہ ساری کائنات ہی اک کانِ نعت ہے


کشتِ سخن پہ فصلِ عقیدت کی ہے نمود

کیونکر نہ ہو تسلسلِ بارانِ نعت ہے


قرآں بہ نطق سوز بہ دل عجز بر جبیں

ہر اک نشانِ باج گزارانِ نعت ہے


یارب ہر ایک حمد کی مالک ہے تیری ذات

تیرا حبیب سید و سلطانِ نعت ہے


ہر رنگ ہر مہک کی ہیں کلیاں کھلی ہوئیں

روح و نظر نواز گلستانِ نعت ہے


بے روح پیکرِ سخن و حرف ہے تو کیا

تیرا خیال اے شہِ دیں جانِ نعت ہے


امشب وفورِ گریہ و زاری ہے مہرباں

آثار کہہ رہے ہیں کہ امکانِ نعت ہے


مضموں میں احتیاط خط و حرف میں ادب

لہجہ بتا رہا ہے کہ عرفانِ نعت ہے


یہ منصبِ شہیر یہ مسند کمال کی

مجھ کو اگر ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے


کیا جانے اختتام ہو کس کیفیت کے ساتھ

انوار کا نزول ہے دورانِ نعت ہے


باہر نکل حروف و معانی کی قید سے

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


درپیش اک طویل سفر ہے حیات کو

رختِ سفر میں جو ہے وہ سامانِ نعت ہے


ہوں جبرئیل پشت پہ تائید کے لیے

اک شاعرِ غریب کو ارمانِ نعت ہے


اس کی کشش الگ ہے جمال اس کا ہے جدا

کتنا بہار زا رخِ تابانِ نعت ہے


جنت کی نعمتوں کا مزہ لے رہا ہوں میں

پیشِ نگاہ جب سے مرے خوانِ نعت ہے


اس میں بیانِ حلّت و حرمت نہیں فقط

قرآن ایک جہت سے قرآنِ نعت ہے


طیبہ ہے خواب گاہ ہے خیر الانام کی

ہر گوشہ اس زمیں کا خیابانِ نعت ہے


محشر کے روز پیشِ خدا باریاب ہوں

صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


زیر و زبر میں کوئی کمی بیشی ہو نہ پائے

اے صاحبِ حروف یہ میزانِ نعت ہے


لائے کوئی کتابِ الہیٰ کے سامنے

کیسا ہی پُر اثر کوئی دیوانِ نعت ہے


رکھا ہے اک حصارِ بقا و دوام میں

کتنا فنا صفت پہ یہ احسانِ نعت ہے


منسوب ان سے ہے جو رسولوں کا ہے رسول

کیا کم یہ عظمت و شرف و شانِ نعت ہے


والشمس والضحیٰ کی تجلی ہے چارسو

فاضل اسی کا نام شبستانِ نعت ہے

فائق تُرابی، اٹک، پاکستان

یُوں بھی زبانِ حال سے فرمانِ نعت ہے

ذیشانِ دو جہاں ہے جو ذیشانِ نعت ہے


ارضِ حجاز ، ارضِ درود و سلام بھی

عَرفات ِ١ نعت ہے، کہیں فارانِ نعت ہے


حیراں ہُوں بُو تُراب کے بابا کو پڑھ کے مَیں

دیوانِ شــاعــری ہــے یا قُــرآنِ نعت ہــے


پیشِ نَظَـر ہو سُنّتِ سـرکار ہر جگـہ

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


 کوئی سکھا رہا ہے ہمیں نعت کے ادب

یہ غـَـارِ ثَور ہے کہ دبســتانِ نعت ہے


اصحاب کی ثنا سے بڑھے نعت کا وقار

آلِ نبی کی مدح و صِفَت جانِ نعت ہے


رشکِ بُخـَـارا ، رشکِ سمــرقند ســر زمین

یہ سر زمینِ چھچھ ٢ بھی گلستانِ نعت ہے


 کوئی نفیسِ نعت٣ ہے،   کوئی امینِ نعت٤

منظورِ نعت ٥ ہے ، کوئی سلمانِ نعت٦ ہے


جب جب نسیمِ نعت چلے، دل مچل اُٹھے

جیسے یہ دل نہیں گُلِ ریحانِ نعت ہے


مجھ پر تری حدیث کے جوہر نہیں کُھلے

کس منہ سے میں کہوں مجھے عرفانِ نعت ہے

فراز حیدر کاظمی، مسقط، عمان

بشکریہ : حسنین اکبر

سر سبز کس قدر یہ دبستانِ نعت ہے

قاری جہانِ کن پئے قرآنِ نعت ہے


حمدِ خدا ہے جنبشِ اعضائے خاکسار

سانسوں کی سلسبیل میں گردانِ نعت ہے


اک سمت حمد دوسری جانب علی کی مدح

کتنا عدیل پہلوئے میزانِ نعت ہے


مجھ پر عطائے بابِ مدینہء علم ہے

حاصل مجھے جبھی تو یہ عرفانِ نعت ہے


مفہوم مِنِیت کے ذرا دیکھئے حضور

نوحے کے ساتھ دائمی پیمانِ نعت ہے


چھ سات شعر نعتِ محمد میں کہہ دیئے

حیدر پہ کیا عظیم یہ احسانِ نعت ہے

فراز عرفان، دوبئی

قائم جو لامکان پہ ایوانِ نعت ہے

بیشک یہ شاہِ والا کے شایانِ نعت ہے


چرچا ہے شش جہت میں جو گویانِ نعت کا

لاریب یہ بوجہِ گلستانِ نعت ہے


باقی مکانِ دنیا میں گھومو پھرو مگر

طیبہ ادب سے جاؤ ، وہ کاشانِ نعت ہے


کہئے ثناء نبی کی ذرا احتیاط سے

کیونکہ خدا کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے


مداحِ مصطفیٰ کی ہے فہرست گو طویل

لیکن جو شانِ نعت ہے حسانِ نعت ہے


نسبت ہے تیری ذات سے لکھیں تری ثنا

ورنہ قلم کوئی ترا شایانِ نعت ہے ؟


جس کے سبب ہو فردِ عمل دائیں ہاتھ میں

بس ایک ایسا ہی مجھے ارمانِ نعت ہے


سامانِ آخرت ہے یہی میرا اصل میں

تھاما ہوا اسی لئے دامانِ نعت ہے


روحِ رواں ہیں آپ ہی اس کائنات کے

“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


خاکی سبھی پہ چشمِ کرم ہے حضور کی

لیکن فقط خواص پہ بارانِ نعت ہے

فرخ رضا ترمذی، کبیر والا، پاکستان

سرکار کا کرم ہے جو بارانِ نعت ہے

مولا تری عطا سے ہی فیضانِ نعت ہے


ہر سمت تیرے نور کے جلوے نگاہ میں

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


تیرا وجود مرکز و محور ہے خیر کا

تیرا کلامِ نور ہی سامانِ نعت ہے


ذکرِ حبیب کرتے ہیں عشاق ہر گھڑی

ان کی زباں پہ ذکر بھی شایانِ نعت ہے


پتھر بدست لوگوں کے حق میں تری دعا

طائف کا سارا واقعہ خاصانِ نعت ہے


سجدہ طویل کرکے نواسے کے واسطے

سب کو دکھادیا کہ یہ ریحانِ نعت ہے


یادِ رسولِ پاک سے دل میں گداز ہے

آنکھوں سے اشک برسے ہیں، امکانِ نعت ہے


انعامِ خاص ہے مری "انعام فاطمہ*"

مالک کا یہ کرم بھی تو احسانِ نعت ہے


اپنا تو ہر سخن ہے ثنائےِ رسولِ پاک

ہر جا پہ اپنے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


تجھ پہ کرم حبیب کا " اے جانِ مرتضی"

گھر میں تمہارے مہکا گلستانِ نعت ہے


مشکل گھڑی سے مجھ کو بچاتا ہے تیرا ذکر

فرخ رضا کے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


  • بیٹی کا نام
فرقان بزمی، پیلی بھیت، یوپی، انڈیا

بشکریہ : غلام فرید واصل

میرا خیال طالبِ عرفانِ نعت ہے

لگتا ہے طبعِ ناز کو میلانِ نعت ہے


ہر لفظ اِس کا دل میں اُترتا چلا گیا

ایسا کمالِ حسن میں دیوانِ نعت ہے


قائم بہارِ عشق و محبت ہے خوب خوب

آراستہ جہاں میں گلستانِ نعت ہے


ہر مکتبِ سخن میں اِسی کے ہیں تذکرے

معروف کس قدر یہ دبستانِ نعت ہے


ٹھہری ہوئی ہے اپنی جگہ رفعتِ فلک

صبح و مسا عروج پہ ایوانِ نعت ہے


اپنے تو اپنے غیر بھی کرتے ہیں احترام

مقبولِ خاص و عام ہے ، کیا شانِ نعت ہے


ہے کون ؟ جو نہ نعت کی کھاتا ہو نعمتیں

دونوں جہاں میں پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے


ملتی رہی بلال کو لذّت وصال کی

شوقِ لقائے یار بہ عنوانِ نعت ہے


محبوب کے فراق کا ہے درد اس قدر

ہر آہ میں اویس کی فیضانِ نعت ہے


اُس کے لیے ہے رحمتِ سرکار میزباں

فضلِ خدا سے جو کوئی مہمانِ نعت ہے


تسلیم ہے اُنہیں کو یہ ، زندہ ہے جن کا دل

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


بزمی کی کشت شعر و سخن لہلہا اٹھی

برسا کچھ ایسے ابرِ بہارانِ نعت ہے

مکمل نام : محمّد فرقان بزمی پورن پور پیلی بھیت یوپی

فضل اللہ فانی، صوابی، پاکستان

آمد کا زور شور ہے، بارانِ نعت ہے

خامہ تو آج وقفِ قلمدانِ نعت ہے


ہر عندلیبِ باغِ سخن نغمہ سنج ہے

ہر سمت جشنِ فصلِ بہارانِ نعت ہے


مشکل ہے حملِ وحْی کے مانند حملِ نعت

یعنی یہ کارِ حوصلہ مندانِ نعت ہے


صاحب نظر ہو کوئی تو ہو اس پہ منکشف

"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اصنافِ شعر میں ہے جدا رتبہ نعت کا

شاہِ غزل، گدائے گدایانِ نعت ہے


دنداں کا سِین ہے تو کہیں مِیمِ زلف ہے

قرآں نگاہِ شوق میں دیوانِ نعت ہے


حسّاں کو اور ہی قدِ شعری عطا ہوا

سلطانِ نعت، سروِ گلستانِ نعت ہے


"لولاک" کا ظہور ہے ہر شے میں جلوہ گر

ہرچیز چشمِ شوق کو سامانِ نعت ہے


ہجراں کا زخمِ کاری ہے دل میں تو کیا ہوا

فانی ہمارے پاس تو درمانِ نعت ہے

فہیم رحمان آزر، سمندری، پاکستان

ہم شاعروں پہ کس قدر احسانِ نعت ہے

طبع آزما جو آج پھر ایوانِ نعت ہے


ارفع سخن طراز بھی پہنچے نہ میم تک

اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے


پائے گا اِس سے دل مرا دوہری حلاوتیں

اک سلسلہ درود کا دورانِ نعت ہے


حدِ نگہ ہیں گلستاں اور گلستاں میں پھول

کتنا وسیع خیر سے میدانِ نعت ہے


مظہر ہیں تیرے نور کا عالم کی رونقیں

شمس و قمر کی روشنی عرفانِ نعت ہے


اُن کے کرم کا دائرہ محدود تو نہیں

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


محشر میں جب سوال ہو، کچھ ہے تمہارے پاس؟

تب میں کہوں کہ ہاں مرا دیوانِ نعت ہے


لمحہ بہ لمحہ ہوتی ہے مدحت حضور کی

آذرؔ ہمارا حلقہ دبستانِ نعت ہے

فیصل حسن نقشبندی، کراچی، پاکستان

آنسو دلِ گداز یہ سامانِ نعت ہے

نظروں میں اُنؐ کا حسن ہی دورانِ نعت ہے


اللہ جانتا ہے حقیقت حضورؐ کی

کس کو نصیب دہر میں عرفانِ نعت ہے


صدقے میں پنجتن کے کرم تجھ پہ خاص ہے

اولاد میں مری جو یہ میلانِ نعت ہے


حُبِّ رسولؐ لے کے پڑھے کوئی دوستو !

سارا کلامِ پاک ہی دیوانِ نعت ہے


بےشک یہ اپنی عزت و شہرت وقار سب

اپنا کمال کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے


سرمایہِ حیات ہے نعتِ رسولِ پاک

صد شکر شوق ِ حلقہِ یارانِ نعت ہے


اک کیف اک سُرور ہے اک بے خودی سی ہے

حالت بتارہی ہے کہ امکانِ نعت ہے


اس کے لیے ہیں دونوں جہاں کی بھلائیاں

واللہ جان و دل سے جو قربانِ نعت ہے


دنیا میں ہر گھڑی رہی مدحت کی آرزو

زیر لوائے حمد بھی ارمانِ نعت ہے


فیصل حسنِ کرم ہے کرم ہے حضورؐ کا

تُو بھی جو ایک بُلبلِ بُستانِ نعت ہے

فیصل قادری گنوری، گنور، بھارت

طرزِ بیان آ گیا احسانِ نعت ہے

مجھ میں شعورِ مدح بہ فیضانِ نعت ہے


میرے شعور و فکر میں گردانِ نعت ہے

در اصل عشقِ شاہِ ہدی جانِ نعت ہے


جب سے خیال ان کا تصور میں بس گیا

افکار کا نزول ہے ! بارانِ نعت ہے


عشاقِ مصطفی کی تڑپ کی ہیں جھلکیاں

افضل مری نگاہ میں دیوانِ نعت ہے


انساں کی کیا مجال لکھے شانِ مصطفی

خود ربِّ کائنات ثنا خوانِ نعت ہے


ہم عاشقوں کو خوف نہیں روزِ حشر کا

بخشش کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے


مداح اس کے جیسا نہیں دوسرا کوئی

حسّان جس کو کہتے ہیں سلطانِ نعت ہے


یہ ساری کائنات سما جائے گی میاں

اتنا وسیع حلقہِ دالانِ نعت ہے


خطرہ کوئی نہیں ہمیں خورشیدِ حشر کا

سر پر ہمارے سایہِ دامانِ نعت ہے


طرزِ سخن سے جس کو ذرا بھی ہے آگہی

پھر اس کے دل میں حسرت و ارمانِ نعت ہے


مدحت میں ان کی رب نے اتارا کلامِ پاک

فیصؔل بیان کیسے ہو کیا شانِ نعت ہے


فیصؔل قادری گنوری

فیضان قادری، ٹانڈا، انڈیا

مکمل نام : محمّد فیضان قادری

سب سے بلند کہ وسیع میدانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


مچھ کو بھی نعت کہنے کا دے دیجئےشرف

مدت سے میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


میرا بھرم جو ٹوٹنے دیتا نہیں خدا

کچھ بھی نہیں یہ واللہ فیضانِ نعت ہے


اس کے عوض تو ملتی ہے قربت حضور کی

کتنوں کو دید ہو گئی یہ شانِ نعت ہے


سب بڑا سخنور میری نظر میں وہ

جس کو بھی فضلِ حق سے عرفانِ نعت ہے

قمر آسی، کراچی، پاکستان

عرفانِ نعت ہے نہ ہی وجدانِ نعت ہے

لیکن ازل سے حسرت و ارمانِ نعت ہے


حکمِ خدائے پاک ہے مدحت رسول کی

صلُّو علیہِ اصل میں اعلانِ نعت ہے


طاعت نبی کی طاعتِ ربِ عظیم ہے

الفت مرے کریم کی عنوانِ نعت ہے


ہر ذی قدر خیال کو پایا ہے نعت میں

کتنا وسیع دیکھیے دامانِ نعت ہے


سب پھول محوِ رقص ہیں، غنچے ہیں مشکبار

کیسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے


ہر انتخابِ لفظ میں لازم ہے احتیاط

حد ادب جناب یہ میدانِ نعت ہے


حسان کے ہنر سے عطا ہو طریقِ نعت

درکار مجھ کو ویسا ہی سامانِ نعت ہے


تھوڑے سے غور و فکر سے یہ منکشف ہوا

" ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے "


خود خالقِ جہان ہے مداحِ اولیں

کتنی بلند و بانگ قمر شانِ نعت ہے

قمر خورشید خان، باغ، کشمیر، پاکستان

میرے نبی کی ذات ہی عنوان_نعت ہے

ذکر_رسول_ پاک تو دیوان _ نعت ہے


ملتی سخنوری کی اگر داد ہے مجھے

میں مانتا ہوں مجھ پہ یہ احسان_ نعت ہے


تعمیر_ قصر_ نعت میں لازم ہے فن مگر

عشق ونیازوشوق بھی سامان_ نعت ہے


مجھ کو جزاء_نعت_نبی ہے یہی بہت

میرے بھی ہاتھ میں تو قلمدان_ نعت ہے


حسن_نبی ثنا کے احاطہ سے ہے وراء

ہر اک ادا ہی آپ کی میدان_ نعت ہے


اتنے حسیں ہیں آپ کے لمحات_ زندگی

"ہرشعبہء_ حیات میں امکان_ نعت ہے"


قرآن تو قمر ہے قصیدہ حضور کا

اللہ کی یہ کتاب ہی شایان_ نعت ہے

قمر صدیقی , گوجرانوالہ، پاکستان

مجھ کمتریں کے ہاتھ قلم دانِ نعت ہے

احسانِ نعت سر بسر احسانِ نعت ہے


میں حجرهٔ درود میں رہتا ہوں ہر گھڑی

میرا خیال آج کل ، ایوانِ نعت ہے


جب آل ہے درود میں شامل، کہا گیا

پھر کربلا کا ذکر بھی عرفانِ نعت ہے


بیٹھو تو "نعت ورثہ" کے سائے میں دو گھڑی

تم بھی پکار اٹھو گے بارانِ نعت ہے


انؐ کےحضور اشکِ ندامت لئے ہوئے

فریاد و استغاثہ بھی امکانِ نعت ہے


ہیں کاف پیش نون کے آثار جس قدر

صاحب ! بقدرِ ظرف یہ سامانِ نعت ہے


ہر نعت مجھ کو نافهِٔ مشکِ خُتن لگے

حد درجہ عنبریں جبھی دالانِ نعت ہے


یادِ رسولِ پاکؐ کو لوبان داں سمجھ

اس میں سلگتا نعت گو ، لوبانِ نعت ہے


یہ بات مجھ سے رومیِ کشمیر نے کہی

قرآنِ پاک اوّلیں دیوانِ نعت ہے


ہے کنتُ کنزِ مخفی کی تفسیر یہ قمر !

"ہر شعبهِٔ حیات میں امکانِ نعت ہے"

قمر وارثی، کراچی، پاکستان

ہر زاویے سے ایک دبستانِ نعت ہے

وہ جس کی دسترس میں قلمدانِ نعت ہے


اُسّوہ شہِؐ انام کا ، سیرت حضورؐ کی

دنیائے نعت میں یہی دیوانِ نعت ہے


روزِ ازل سے ذکرِ نبیؐ ہے زباں زباں

یعنی ہر ایک عہد بہارانِ نعت ہے


ہم ہی نہیں، صحابہ رطب اللساں رہے

کیا پوچھئے خدائی میں کیا شانِ نعت ہے


مقبول ہو جو بارگاہِ ذیؐ وقار میں!!

سچ پوچھئے تو نعت وہی جانِ نعت ہے


رحمت کا نُور جلوہ فگن ہے وہاں وہاں

روشن جہاں جہاں بھی شبستانِ نعت ہے


منصب جدا جو حضرتِ حسانؓ کو ملا!

بے شک بہ فکرِ نعت یہ فیضانِ نعت ہے


کم کم ہے فکر اُن کی ، کسی اور صنف میں

وہ لوگ جن کے سامنے میدانِ نعت ہے


کچھ اور بات ان سے کے تقدس کی ہے قمر

منسوب جو کتاب بہ عنوانِ نعت ہے


قیوم طایر، راولپنڈی، پاکستان

بشکریہ : علیم اطہر

کتنا وسیع تر ہے جو دامانِ نعت ہے

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


بس شرط ہے ادا ہو مکمل خلوص سے

اک مصرع ، ایک شعر بھی دیوانِ نعت ہے


صد احترام گلشنِ جنت میں جو پڑھی

میرے حضور ﷺ ! مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


جیسے کوئی پرندہ چہکتا اڑا پھرے

اک دل نواز تجربہ دورانِ نعت ہے


اس تن بدن پہ گنبدِ اخضر کی چھاؤں سے

مدحت رواں جو لب پہ ہے فیضانِ نعت ہے


لب پر درود آنکھ میں آنسو سجے ہوئے

اے میرے آقا ﷺ ، پاس یہ سامانِ نعت ہے


میں خار خار ، جانے کو بیتاب کس قدر

یہ جانتے ہوئے وہ خیابانِ نعت ہے

کاشف حیدر، بارٹلیٹ

دل میں اسی لئے مرے ارمانِ نعت ہے

میں نے سنا ہے حشر میں میزانِ نعت ہے


عنوان ہی لکھا کہ قلم تھک گیا مرا

کتنا طویل جانے یہ میدانِ نعت ہے


اب خوف کچھ نہیں مجھے منکر نکیر کا

مری لحد میں ساتھ جو دیوانِ نعت ہے


لگتا ہے سجدہ ریز درِ مصطفیٰ پہ ہوں

احساس کیا حسین یہ دورانِ نعت ہے


اک منفرد سی نعت لکھوں گا میں ابکے بار

قرآں سے لفظ لوں گا جو شایانِ نعت ہے


کاشف مری نظر میں سخنور نہیں ہے وہ

جس کا قلم ابھی تلک انجانِ نعت ہے

کاشف عرفان، راولپنڈی، پاکستان

ذوقِ درود ہے کہیں رُجحان نعت ہے

صد شکر میری نسل میں میلانِ نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں درکار ہیں نبی

"ہر گوشہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


روشن کیا ہے جس نے مرا گھر مرا قلم

نور محمدی ہے یہ تابانِ نعت ہے


آنکھوں میں تیرتے ہیں مدینے کے صبح و شام

محسوس ہو رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے


تہذیبِ بے مہار کا سیرت کو شکریہ

بدلے ہوئے ہیں ہم تو یہ احسانِ نعت ہے


حسنِ عمل ہی لفظ کو دیتا ہے زندگی

معیار ہے یہی ، یہی پہچانِ نعت ہے


سیرت کا حُسن سنتِ آقا کی روشنی

کتنا سجا ہوا مرا ایوانِ نعت ہے


اشکِ فراق ، خوابِ تیقن، سلامِ شوق

کاشف ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے

کامران ارشد، لاہور، پاکستان

چونکہ جہاں کی جان ہی جانان نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ہر لحظہ ہو رہے ہیں دواوینِ نعت جمع

ہر ذرہ کائنات کا دیوان نعت ہے


مد و جزر سے ذکر کے دل زندہ ہو گیا

اعجاز ماہتاب غلامان نعت ہے


معراج مصطفی نے سکھائی ہمیں یہ بات

عرش خدا بھی آپ کا ایوان نعت ہے


خوش ہوں کہ گل نعوت کے کھلتے ہیں اس پہ آج

میرا سخن بھی آج کہ بستان نعت ہے


کردیجیے نہ شاہ امم مجھ پہ اک نظر

بے تاب ہو چلا ہوں کہ ارمان نعت ہے

کوثر سعیدی , ملتان، پاکستان

شاعر : راجا کوثر علی

بشکریہ : مرزا حفیظ اوج

غارِ حرا تو مرکزِ دیوانِ نعت ہے

ہر حرف جو عطا ہے وہ شایانِ نعت ہے


ممکن نہیں کہ اس کا احاطہ کرے کوئی

عشق رسول پاک جو دوران نعت ہے۔


اے وجہ ممکنات فقط آپکے طفیل

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


اصناف اور بھی ہیں ادب میں تو معتبر

صد شکر ہے شعور پہ باران نعت ہے


اے کاش مدح حضرت ِ جامی سی ہو عطا

کوثر کے دل میں ایک ہی ارمان نعت ہے

کوثر علی, فیصل آباد ]

بشکریہ : ریاض قادری، فیصل آباد

یہ آپ کا کرم ہے جومیلان نعت ہے

لیتے ہیں جس سے آپ کا وہ خوان نعت ہے


طیبہ میں کیا حکومت شاہان نعت ہے

ہر سمت اک ہجوم گدایان نعت ہے


حسان و کعب و ابن رواحہ یہاں پہ ہیں

منبر کے پاس جوش کریمان نعت ہے


جنت کی اتنی بار بشارت اسے ملی

اپنا امام نعت تو حسان نعت ہے


رکتی نہیں ہے مدح کبھی آنحضور کی

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ان کی ہر ایک ایک دعا میں شریک ہے

دل شامل گروہ شریفان نعت ہے


یا رب نبی کی نعت اک ایسی نصیب ہو

میں جس کو کہ سکوں کہ یہ شایان نعت ہے


کچھ حسرتیں ہیں آنسو ہیں دوری کے رنج و غم

اک عمرہوگئ یہی سامان نعت ہے


بارش اتر رہی ہیں ثنائے حبیب کی

اوج خیال کوہ سلیمان نعت ہے


دامن بھرا ہو اہے عطاءے رسول سے

کافی ہمیں تو بس یہی دامان نعت ہے


پڑتی نہیں کبھی بھی کسی چیزکی کمی

فیضان نعت سا کوئی فیضان نعت ہے


ہر رنگ کے ہیں پھول کھلے میرے شہر میں

یہ شہر نعت ہے کہ گلستان نعت ہے


اللہ کرے یہ نامہ اعمال ہو مرا

میرے جو ہاتھ میں مراد یوان نعت ہے


ہوتا ہے سینہ چاک ثناءے حبیب سے

کوثر ہمارا چاک گریبان نعت ہے ۔

گل رابیل، پاکستان

تسکینِ روح کے لئے سامانِ نعت ہے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


میرے نبی کا پہلا ثنا خواں ہے میرا رب

قرآن سب سے پہلا تُو دیوانِ نعت ہے


ذکرِ رسولِ پاک ہی ہوتا ہے جا بجا

ہر آئینے کے رخ پہ ضیا بانِ نعت ہے


خوشبو ہے ذہن میں مری سانسیں ہیں عطر بیز

گردِ مشام بوئے گلستانِ نعت ہے


زیور ٹٹولتی ہوں نہ زر ڈھونڈھتی ہوں میں

دل کو تو میرے ہر گھڑی ارمانِ نعت ہے


پڑھ کر تو دیکھئے ذرا نعتیں رسول کی

کس طرح جاری آج بھی فیضانِ نعت ہے


سجتی ہیں میرے قلب میں نعتوں کی محفلیں

رابیل دل یہ دل نہیں ایوانِ نعت ہے

لیاقت علی عاصم، کراچی

اسمِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے

عنوانِ نعت ہی نہیں دیوانِ نعت ہے


اے اسپِ تیز شان رقم دیکھ ہوشیار

یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے


جائز نہیں ہے اعلٰی و ادنٰی کی اصطلاح

ہم لکھنے والوں پر یہی فیضانِ نعت ہے


دنیا کی دھوپ دل کو مرے چُھو نہ پائے گی

قالب پہ میرے سایہِ دامانِ نعت ہے


عصرِ رواں ہو یا کہ وہ عہدِ گزشتہ ہو

اس کا غلام ہوں کہ جو سلطانِ نعت ہے


نقاد تھام لے کہ کوئی نکتہ دانِ شعر

ہموار سب کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے


دراصل نعت خواں ہے موذٌِن کہیں جسے

یعنی اذان بھی کوئی اعلان ِ نعت ہے

مبشر صائم علوی، حاصل پور، پاکستان

مکمل نام : ملک مبشر صائم علوی

اپنا تو فخر زیست میں دیوانِ نعت ہے

اپنی تو آن بان فقط شانِ نعت ہے


اہلِ سخن سنبھل کے، یہ عنوانِ نعت ہے

چلیے ٹھہر ٹھہر کے، یہ میدانِ نعت ہے


اس دن سے ہوگیا ہوں مقدر کا میں دھنی

جس دن سے میری فکر پہ بارانِ نعت ہے


منزل بھی ایسے شخص کی رہتی ہے منتظر

جس کو تلاشِ گوشہءبستانِ نعت ہے


صلِّ علٰی کی لوریاں ماوں سےہیں ملی

ہر بچہ بچہ اس لئے قربانِ نعت ہے


عزت، وقار ، و منزلت اس کا ہے پیرہن

جو شخص بھی یہاں پہ نگہبانِ نعت ہے


ایسے لگا میں اور ہی دنیا میں ہوں مکیں

یہ کیفیت بنی مری دورانِ نعت ہے


وقتِ نشور حکم ہو اے کاش اس طرح

اُس دل کو لاو جس میں کہ ارمانِ نعت ہے


عیبوں کو میرے ڈھانپ کے رکھتی ہے ہر گھڑی

صائم کے سر پہ چادرِ احسانِ نعت ہے

محبوب احمد، سرگودھا، پاکستان

مکمل نام : حافظ محبوب احمد

پھرعالمِ حضوری ہے،امکانِ نعت ہے

تیارپھرنزول کوقرآنِ نعت ہے


دھرتی ہوآسماں ہوکہ لاہوت ولامکاں

میری نگاہ میں سبھی سامانِ نعت ہے


ہر پھول کی مہک سےمعنبر ہے کائنات

کیا پر بہار صحنِ گلستانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں سیرت ہے جلوہ گر

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر حرفِ نعت صورتِ خاور ہے ضوفشاں

ایوانِ نور ہے کہ یہ دیوانِ نعت ہے


لوح وقلم بدست ہے ہر ایک نغزگو

جوبن پہ آج اپنے دبستانِ نعت ہے


آئےہےحرف حرف سے صلِّ علیٰ کی گونج

پایا درِ حضور سے فیضانِ نعت ہے


نعلینِ شاہ سے ہیں ہوئی تاج پوشیاں

گفتہ مرابھی صاحبو!سلطانِ نعت ہے


ہر حرف ضوفشاں ہے شبِ ماہ کی طرح

اے لذّتِ فنا! یہ شبستانِ نعت ہے


فکرونظرکےیہ بڑےمشکل ہیں مرحلے

یہ ہے حرائے نعت، یہ فارانِ نعت ہے

محبوب علی جوہر

ان کے تو پاس سایہء دامانِ نعت ہے

رحم و کرم بھی ورثہ خاصانِ نعت ہے


پیران عشق احمد و حامد کہیں جسے

اس مصطفی کا نام ہی وجدان نعت ہے


احسن ہر اک لحاظ سے حضرتؐ کی ذات ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


روح القدس ،ہوں خلد کی خوشبوئیں ،رونقیں

کتنا عظیم تر ترا سامانِ نعت ہے


مجھ سے کہا گیا کہ ہوں صدقہ حضور ؐ کا

بابا سے مجھکو اس لیے پیمانِ نعت ہے


ہم پستیوں کے باسی ،کہاں تک رسائی ہو

بس ایک عرش ہی ترے شایانِ نعت ہے


ہر ایک کھا رہا ہے جو صدقہ رسول ؐ کا

ہر ایک اس لحاظ سے مہمانِ نعت ہے


ہیں نعمتیں کروڑوں پر ان میں عظیم تر

خالق کا ایک مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے

مجاہد علی، لاہور

میں اور مرے حروف کی قیمت نہیں حضور

ربِّ جہاں ہی ربِّ دبستانِ نعت ہے


اِس راستے پہ عقل نہیں عشق چاہئیے

اے دل ذرا سنبھل کہ یہ میدان ِ نعت ہے

مجید اختر رومانی، راولپنڈی، پاکستان

مدت سے دل کو یانبی ارمانِ نعت ہے

کیجے عطا وہ حرف جو شایانِ نعت ہے



فرمانِ ربِ مصطفی فرمانِ نعت ہے

ہر بات ہی رسول کی ایمانِ نعت ہے


ہر ایک ذرہ گویا ثناءخوانِ نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


تعریف ہر زبان پہ میرے نبی کی ہے

کیا خوب ہی یہ وسعتِ فیضانِ نعت ہے


اخترکہ کیا سجائیں گے ہم ان کی محفلیں

یہ ساری کائنات ہی ایوانِ نعت ہے


محسن رضا شافی، خانیوال، پاکستان

بشکریہ : عباس عدیم قریشی

سینے میں میرے دل نہیں گُلـدانِ نعت ہے

یا پھر جوارِ قلب ، گلستانِ نعت ہے


امکان کا وجوب ہے ممکن جہاں جہاں

" ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے "


پوچھا کسی نے نامۂ اعمال میں ہے کیا؟

عاجز نے بس کہا میاں ، ارمانِ نعت ہے


نطق و بیان و صوت و صدا تک نہیں ہے نعت

یہ بزمِ کائنات بہ فیضانِ نعت ہے


یادِ نبی میں آج ہے دل مضطرب بہت

حالت بتا رہی ہے کہ امکانِ نعت ہے


صلّ ِ علیٰ کا ورد ہے جائے نماز پر

اور کشتِ ذہن و فکر پہ بارانِ نعت ہے


نیزے پہ سر بلند ہے لب پر کلام حق

ایسا بھی کوئی اور سخندانِ نعت ہے؟


شافی خدا نے نعت میں کیا کیا سمودیا

تکوینی ارتقاء سبھی ، دیوان نعت ہے

محمد باقر ، لاہور، پاکستان

مکمل نام : سید محمّد باقر زیدی

کتنا وسیع حلقہء دامان ِ نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکان ِ نعت ہے"


اگتے ہیں اِس میں پھول ثناۓ رسول کے

دل کی زمین ہے کہ خیابان ِ نعت ہے


تابش سے جس کی خیمہء عالم ہے ضوفشاں

سورج نہیں یہ گوہر ِ تابان ِ نعت ہے


اُن ص کے کرم سے دفتر ِ مدحت پہ آگیا

وہ حرف ِ بے نظیر جو شایان ِ نعت ہے


پاس ِ ادب ، سلیقہء الفاظ ، عاجزی

وارفتگیء شوق میں سامان ِ نعت ہے


صَد شُکر میں سخن میں مُقلّد اُسی کا ہوں

وہ رشک ِ بوتراب ع جو سُلطان ِ نعت ہے


باقر ہمیں ملے گا ریاض ِ جناں میں گھر

گُلزار ِ ہست و بُود میں اعلان ِ نعت ہے

علی حارث، کراچی، پاکستان

میرے خیال میں یہی فیضان نعت ہے

عشاق کو ملا جو یہ دیوان نعت ہے


کیوں آج تک احاطہ نہیں ان سے ہو سکا

حیراں ہیں عقل والے بھی کیا شان نعت ہے


اس پر نزول ہوتا ہے رحمت کا عمر بھر

جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامان نعت ہے


یعنی درود اور سلام ان کی ذات پر

بخشش کے واسطے ملا سامان ِ نعت ہے


وہ ذات کارساز ہے کوشش تو کیجیے

“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”


حارث گنہگار خطاکار ہے مگر

صد شکر اس خدا کا غلامان نعت ہے

محمد شاہ ہمدانی، اسلام آباد، پاکستان

مکمل نام : سید محمد شاہ ہمدانی

اب روح اور سانس بھی گردانِ نعت ہے

سو زندگی وہی ہے جو قربانِ نعت ہے


عشق ِ رسول ہی مِرا سامانِ نعت ہے

اس کے طفیل مل گیا فیضانِ نعت ہے


کرتا رہا وظیفہ درودو سلام کا

اس وقت کی وہ خامشی گردانِ نعت ہے


اللہ کے ولی نے بتائی مجھے یہ بات

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


مجھ کو ذرا بھی خوف نہیں پل صراط کا

امداد میں رسول کی فیضانِ نعت ہے


دن رات بھیجتا ہوں شہِ طیبہ پر سلام

بس آخرت کو پاس یہ سامانِ نعت ہے


ہر اشک کے سبب مرے اشعار ہوگئے

اتنا حسیں تبھی مرا دیوانِ نعت ہے


اظہارِ عشق کرتا ہوں سرکار سے میں خوب

ہوتی ہے دلبری سبھی، دورانِ نعت ہے


تم چشمِ دل سے گنبد ِخضری کو دیکھتے

خلدِ بریں کا ٹکڑا یہ، ایوانِ نعت ہے


دن رات بھیجتے رہو ان پر سلام تم

میرا عقیدہ ہے ؛یہی رحمانِ نعت ہے


جلوے رسول کے ہیں میسر مجھے مدام

لوگو میں جانتا ہوں ؛کہ امکانِ نعت ہے


اشکوں سے نعت کہتا رہا ہوں رسول کی

کتنا سکون مل گیا ؛ دورانِ نعت ہے


خلدِ بریں اسی کی ہے آمد کی منتظر

جس شخص کا عقیدہ ہے؛ ایمانِ نعت ہے


دن رات سوچتا ہوں پیمبر کی شان میں

ہر ایک شعر میرا یوں؛ مہمانِ نعت ہے


اللہ سے یہی ہے دعا، نعت کہہ سکوں

اک زیست بھر رہا مجھے ارمانِ نعت ہے


چرچا انہی کے صدقے محمد شہا ہے سب

میری حیات بن گئی عنوان ِ نعت ہے

محمد صدیق، جلال پور جٹاں، گجرات، پاکستان

مدحت رسول پاک کی پہچانِ نعت ہے

الفت نبی کی آل سے پیمانِ نعت ہے


قدسی بلائیں لیتے ہیں اس خوش خیال کی

جس آدمی کے پاس بھی سامانِ نعت ہے


مال و متاع دولتِ دنیا و آخرت

جو کچھ بھی میرے پاس ہے فیضانِ نعت ہے


منظر درِ حبیب کا کیسے بیاں کروں

تنکا در رسول کا مژگانِ نعت ہے


لو لاک کا ہے معنی و مفہوم یہ کھلا

جو کچھ ہے کائنات میں سامانِ نعت ہے


ناصح نظر اٹھا کے زرا کائنات دیکھ

" ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"

مرزا حفیظ اوج، خانیوال، پاکستان

اصل الاصول بندگی عرفانِ نعت ہے

یارب وہ فکر دے کہ جوٰ شایانِ نعت ہے


یہ رفعتِ خیال ، یہ پاکیزگئ فکر

مدحت سپاس ذوق یہ، فیضانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات ترے لطف کا رہین

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


سرسبز و شاد رکھے خدا اہلِ عشق کو

عشاق کی زبان گلستانِ نعت ہے


اپنی تو جستجو کا خلاصہ یہی ہے اوج

جو کچھ ہے کائنات میں امکانِ نعت ہے

مرغوب بانہالی، کشمیر،

پیشکش : جوہر قدوسی

ہر سورئہ فُرقان اِک دیوانِ نعت ہے

ہر سُنّتِ رسولؐ اِک عُنوانِ نعت ہے


اُن کے وقار و صبر کے ذکرِ جمیل سے

ملکوت کے جہاں میں خیابانِ نعت ہے


شجر و حجر بھی آپؐ کے مِدحت گذار ہیں

عالم نواز گویا کہ فیضانِ نعت ہے


ایثار ہے سراپا ہی اسوہ رسول کا

ہر اِک حوالہ جِس کا چراغان نعت ہے


مرغوبؔ اُن کے اُسوہ میں ڈھلنے کی دیر ہے

ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے


مکمل نام : پروفیسر مرغوب بانہالی، صدر نعت اکادمی کشمیر

مرید عباس خاور، میلسی

بشکریہ : یاسر عباس فراز، میلسی

اس مضطرب وجود میں بس جانِ نعت ہے

یہ فکر سانس دل سبھی سامانِ نعت ہے


آنکھوں میں خاکِ راہِ مدینہ کا نور ہے

پلکیں فلک کو چھوتی ھیں احسانِ نعت ہے


یوں مل گیا مدینے کی ٹھنڈی ھوا میں سانس

سینے کی سبز روشنی فیضانِ نعت ہے


خوابوں میں زائرینِ مدینہ ملے مجھے

تعبیر ھو گیا ھوں یہ ایمانِ نعت ہے


جبریل ساتھ لے کے پیامِ خدا چلے

گذرا جہاں جہاں سے بھی قرآنِ نعت ہے


میرا و ضو ,نماز, تلاوت, قبول ھو

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے "


نعلینِ مصطفٰی ص کا ہے نقشِ حسیں ملا

خاور مجھے عطا ھوا وجدانِ نعت ہے

مزمل رضا جاذب، امراوتی مہاراشٹر، انڈیا

بشکریہ : محبوب احمد، سرگودھا

کونین میں بلند قلمدانِ نعت ہے

ہر مدح و وصف زینت ایوانِ نعت ہے


کوثر دوات ہو پَرِ جبریل ہو قلم

پھر بھی نہ ہو تمام عجب شانِ نعت ہے


ہر ایک حرف، مدح، ہر اک لفظ ہے ثنا

قرآن کی زبان ہی شایانِ نعت ہے


سامانِ حشر مل گیا مجھ کو بہ فیض عشق

صد شکر! میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


عشق رسول سے ہیں رضا کی بلندیاں

نعمان ِ وقت پیروِ حسانِ نعت ہے


دنیا کے راستے ہوں کہ محشر کی منزلیں

"ہر شعبہ حیات میں اِمکان نعت ہے"


جاذب خزاں کی زد میں وہ گلشن نہ آئے گا

دن رات جس پہ سایہ ء بارانِ نعت ہے

مزمل شاہ، بری امام، اسلام آباد، پاکستان

کِتنا بسیط دوستو عنوانِ نعت ہے

" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


محشر میں اپنے نعت نگاروں میں گنئے گا

آقا مرے بھی ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


سرسبز کشتِ شعر ہے لطفِ کریم سے

میری بھی شعر گوئی پہ بارانِ نعت ہے


اپنے حضور کی سدا مدحت لکھا کروں

دل میں مرے تو بس یہی ، ارمانِ نعت ہے


یہ وہ چمن ہے جو کہ خزاں آشنا نہیں

مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے


دیکھو تو پڑھ کے غور سے قرآں کا حرف حرف

ہر ایک حرف مایۂ دیوانِ نعت ہے


واصف جو مصطفےٰ کا مزمل ہوا ہوں میں

میرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے

مسعود ساموں، بانڈی پورہ، کشمیر ، انڈیا

حسن خیال سلسلہ جنبان نعت ہے

اک سلسلۂ نور بدامانِ نعت ہے


اسوہ جنابؐ کا جو حسن ہے تو لازماً

’’ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے‘‘


ہاں اے سمند شوق سنبھل کر قدم بڑھا

آساں نہیں یہ جادۂ پیچان نعت ہے


ہشیار خامہ! سجدے میں لغزش کوئی نہ ہو

ہاں چل کشاں کشاں یہ خیابان نعت ہے


ملحوظ انتہاے ادب رکھ جنابؐ میں

شان نبیؐ کا ذکر ہے ایوان نعت ہے


نیچی نگہ خمیدہ بدن چشم باوضو

لرزیدہ جاں ہو ہاں یہی شایان نعت ہے


ساموںؔ ثنا کے پھول عقیدت کی پتّیاں

پاے نبیؐ میں رکھ یہی سامان نعت ہے

بشکریہ : غلام فرید واصل

مشاہد رضا عبید، گوندا، انڈیا

مکمل نام : محمّد مشاہد رضا عبید القادری

درمانِ درد نغمۂ ذی شانِ نعت ہے

قلبِ حزیں فدائے اسیرانِ نعت ہے


يارب! کبھی یہ دور و تسلسل نہ ختم ہو

بے پایاں دل میں جذبہ وارمانِ نعت ہے


عشقِ رسول خود ہی بناتا ہے راستے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


پیارے رضا نےکرکے یہ سب کو دکھادیا

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


جس کو نہ چھوسکےکبھی بادِ خزاں کاہاتھ

ایسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے


یونہی نہیں امڈ پڑی یہ کائنات عشق

کوثر بداماں چشمۂ حیوانِ نعت ہے


ہر درد بھول کر جو مچلنا ہوا نصیب

محبوبِ رب کا صدقہ ہے، فیضانِ نعت ہے


دل جگمگارہے ہیں ، چمکتے ہیں حوصلے

روشن یہاں پہ شمعِ شبستانِ نعت ہے


راحت رساں ، قرار نشاں ، مرحمت فشاں

کیا دل نواز نغمۂ مرغانِ نعت ہے


رزقِ ثنا میں حصہ ہمارا بھی ہے عبید

از فرش تا بعرش سجا خوانِ نعت ہے

مشاہد رضوی، میلگاؤں، انڈیا

میرے لبوں پہ نغمۂ ذیشانِ نعت ہے

"ہر گوشۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


میرے شعور و فکر کو بالیدگی ملی

لاریب مجھ پہ دوستو فیضانِ نعت ہے


اس کی نجات کے لیے ساماں بنے گی نعت

جس کو ہوا نصیب سے عرفانِ نعت ہے


ظاہر کے ساتھ ہوگیا باطن بھی مستنیر

جس کا خیال و فکر ہی عنوانِ نعت ہے


روزِ ازل سے بالیقیں ایقان ہے مرا

پھولا پھلا ہمیشہ خیابانِ نعت ہے


ہر ہر ورق پہ نقش ہے سیرت حضور کی

قرآنِ پاک سارا دبستانِ نعت ہے


مجھ پر ہوئی حضور کی لاکھوں عنایتیں

ہاتھوں میں میرے خیر سے دیوانِ نعت ہے


دیدارِ مصطفیٰ ہو میسر خدا کرے

اس خواب کے لیے مجھے ارمانِ نعت ہے


مضمونِ نعت میں نہ ہو کچھ بھی مبالغہ

باہوش رہ کے چلیے یہ میدانِ نعت ہے


مجھ پہ رضا کے حُسنِ تخیل کی ہے عطا

حاصل جو مجھ کو ہوگیا وجدانِ نعت ہے


اہلِ وِلا کا پیار مُشاہد کو جو ملا

سچ پوچھیے تو اس پہ یہ احسانِ نعت ہے

مصعب شاہین، میانوالی، پاکستان

یزداں کا خاص فضل ہے, میلانِ نعت ہے

'ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے'


احساس, لفظ, لہجہ و گفتار عنبریں

کیونکر نہ ہونگے؟دل جو گلستانِ نعت ہے


انؐ کی ثنا کے نور سے روشن مرا سخن

الحمد, بزمِ فکر, قلمدانِ نعت ہے


عشقِ نبیِ پاکؐ رگ و پے میں ہے مرے

جاں میں بصورتِ لہو اک کانِ نعت ہے


کلیاں چٹک رہی ہیں بہ الفاظِ خوشنما

صبحِ گمان سیرِ خیابانِ نعت ہے


پاکیزہ قلب, پاک تخیل, طہور لفظ

اسلوبِ خوش بیان ہی شایانِ نعت ہے


اوجِ ادب ہے, وجد ہے, سرمستِ عجز ہوں

سرشارِ اطمینان ہوں, فیضانِ نعت ہے


کرتا ہے آبیاریِ گلزارِ مصطفیٰ ؐ

مصعب, تو خوش نصیب ہے, دہقانِ نعت ہے

  • اطمینان کی "ی" گرائی گئ ہے ۔
مطلوب الرسول، لاہور، پاکستان

حاصل جو کائنات کو میلان نعت ہے

ہرشعبہء حیات میں امکان نعت ہے


لازم نہیں زبانِ قلم سے کریں بیاں

ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے


محتاط اہل فن کہ ہے دربار نعت یہ

ان کا ادب ہی اصل میں دربان نعت ہے


وہ دل بھی اک طرح سے مدینہ ہے دوستو

جس دل میں صبح وشام ہی ارمان نعت ہے


حسان ہوں یا عرفی وجامی ہوں یا رضا

جذب و وفورو شوق ہی میزان نعت ہے


رحم وکرم، مروت و جود وسخا و صدق

سیرت پہ گفتگو ہی توجزدان نعت ہے


محبوب کوخبرہے کہ عاشق ہے کون کون

ان کی نظر میں ہوں کہ یہ احسان نعت ہے


ہرلفظ میری سوچ کا خوشبو میں ڈھل گیا

میں کیوں نہ مان لوں کہ یہ فیضان نعت ہے


شق قمر ہو اسری ومعراج ہویا حسن

ان کا ہرایک معجزہ ہی جان نعت ہے


حب نبی سے خالی ہو دل جس کا اے قمر

اس کو کہاں خبر ہو وہ کیا جانے نعت ہے

مظہر فرید بابا وٹو، لاہور، پاکستان

میں کیا بتاؤں دوستو کیا شان نعت ہے

قرآنِ پاک سارا ہی سامانِ نعت ہے


مجھ پر کرم ہوا ہے جو لکھی ہے میں نے نعت

ورنہ کہاں یہ عاصی، کہاں تانِ نعت ہے


آقا کی ہر ادا میں ہے معراجِ بندگی

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


عشقِ نبی ضروری ہے ہر نعت کے لئے

مضمر نبی کے عشق میں عرفان نعت ہے


دل سے پڑھو درود محمد کی ذات پر

مظہر درود پاک ہی تو جانِ نعت ہے

مفتاح الحسن چشتی، فافوند، انڈیا

سرکار کا کرم ہے یہ احسانِ نعت ہے

ہمراہ میرے ہر گھڑی فیضانِ نعت ہے


کردار کہہ رہا ہے یہ اصحابِ شاہ کا

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


کھلنے لگے ہیں روز ہی چمپا سمن گلاب

جب سے زمین قلب پہ بارانِ نعت ہے


ہر واصفِ حضور نے آخر میں یہ کہا

قرآں میں ان کا ذکر ہی شایانِ نعت ہے


خورشیدِحشرسُن،ہمیں آنکھیں نہ تودکھا

سر پر ہمارے سایہء دامانِ نعت ہے


میں ہند میں ہوں ذہن ہے دربارِ شاہ میں

مجھ پر خدا کا فضل یہ دورانِ نعت ہے


محوِ ثنائے سیدِ عالم ہے روز و شب

رب کی عطاسےجسکوبھی عرفانِ نعت ہے


لغزش ہوئی ذرا سی تو ہو جاؤ گے ہلاک

مفتاح ہوش باش یہ میدانِ نعت ہے

مقصود احمد، کراچی، پاکستان

نطق و قلم کو میرے بھی ارمانِ نعت ہے

لیکن نصیب کب مجھے عرفانِ نعت ہے


توصیف کے کھلے ہوئے ہیں گل سطر سطر

قرآن رب کا سارا گلستان ِ نعت ہے


بھرتے رہیں گے تا با ابد عاشقِ رسول

پھیلا ہوا ازل سے جو دامانِ نعت ہے


ارض و سما بھی کرتے ہیں ان کی ثنا بیاں

ساری یہ کائنات بھی عنوان ِ نعت ہے


ہر ذرہء زمیں پہ عنایت ہے آپ کی

"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


خالق بھی ہمنوا ہے ہمارا اسی طفیل

ہم عاشقوں پہ خاص یہ احسانِ نعت ہے


کیسا ہی کوئی کیوں نہ ہو ماہر سخن طراز

مت جانو معتبر اگر انجان ِ نعت ہے


پا جاتے ہیں نمو مرے فکر و خیال بھی

ہر دم برستا مجھ پہ جو بارانِ نعت ہے


نوک ِ قلم پہ آتے ہیں الفاظ غیب سے

مقصود اور کیا ہے ، یہ فیضان ِ نعت ہے

مقصود احمد تبسم، دوبئی

زُلفِ رُسول ﷺ مشک بہ دامانِ نعت ہے

سر پر سجی شفاعتِ سلطانِ نعت ہے


ماتھے پہ نورِ شمعِ فروزانِ نعت ہے

رگ کا جلال ہاشمِ اعلانِ نعت ہے


مِحراب ابروؤں میں نِہاں جُنبشِ نِجات

اَلطاف ہم پہ صدقۂ چشمانِ نعت ہے


پلکوں کا حُسن ، زینتِ ابصارِ مصطفےٰ ﷺ

کتنا حسین سایۂ مژگانِ نعت ہے


انفِ مبارک آپ ﷺ کی رخشِندہ و جمیل

عارِض کی سُرخیوں میں گلستانِ نعت ہے


گل اس لئے بھی شرم سے گُلنار ہو گئے

ہونٹوں پہ رشکِ لعلِ بدخشانِ نعت ہے


ریخوں سے پھُوٹتے ہوئے انوار دیکھ کر

موتی عدن کا عاشقِ اسنانِ نعت ہے


آیاتِ بیّنات کو ہے ناز اِس لئے

سرکار ﷺ کی زبان پہ قرآنِ نعت ہے


دندان ، لب ، زبان ، کلام اور لعابِ پاک

میرے نبی ﷺکا کنزِ دہن ، کانِ نعت ہے


ریشِ مبارک آپﷺ کی ہے رِحلِ مصحفی

رُخ پر تجلیات کا جُزدانِ نعت ہے


حُسنِ ملیحِ مصطفویﷺ کا نہیں جواب

مانا صبیح یوسفِ کنعانِ نعت ہے


اصحاب حِفظ کرتے رہے مُصحفِ رُسولﷺ

چہرہ مرے حُضور ﷺ کا قرآنِ نعت ہے


اُن ﷺ کی سماعتوں سے تو کچھ بھی نہیں بعید

کانوں میں صوتیات کا اَلحانِ نعت ہے


گردن کا وصف لکھتے ہوئے سوچتا رہا

اعضائے پاک وِرد ہیں گردانِ نعت ہے


مُہرِ نبوّت آپ ﷺ کی ، ہے زیبِ منکبین

سلمان فارسی ، یہیں ایمانِ نعت ہے


شانوں پہ جس گھڑی ہوں نواسے براجمان

طولانئ سجود ہی عرفانِ نعت ہے


سینے کو اِنشراح کا رتبہ دیا گیا

قلبِ رُسول ﷺ مہبطِ قرآنِ نعت ہے


جسمِ نبی ﷺ کے پاک پسینے کا سلسلہ

مُشک و گُلاب و سُنبل و ریحانِ نعت ہے


دل کش کلائیاں ہیں تو بازو طویل ہیں

قامت بھی رشکِ سروِ گلستانِ نعت ہے


آقا ﷺ کے ناخنوں کو سنبھالا تبرُّکاً

اصحاب کا یہ ذوق ہی وجدانِ نعت ہے


چشمے اُبلتی انگلیاں ، نازُک ہتھیلیاں

دستِ کرم پہ بیعتِ رضوانِ نعت ہے


اِمکان کی حُدود سے باہَر نکل کے دیکھ

اُن ﷺکے نُقوشِ پا میں بھی سامانِ نعت ہے


زانو ، قدوم ، پنڈلیاں ، تلوے اور ایڑیاں

مقصودؔ اِن کا ذکر خِرامانِ نعت ہے

مقصود علی شاہ، برمنگھم، برطانیہ

مکمل نام : سید مقصود علی شاہ

ویسے تو ساری عمر ہی قُربانِ نعت ہے

واللہ پھر بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے


سانسیں بدن میں سطریں ہیں مدحِ رسول کی

سامانِ زیست ہی مرا سامانِ نعت ہے


ہم سارے اُس کے در کی سلامی کو آئے ہیں

حسّان ایک ہے، جو کہ دربانِ نعت ہے


بس ایک حاضری کا سبب ہے، جو خُوب ہے

ورنہ تو کون ہے جسے عرفانِ نعت ہے


سو سو طرح سے اُن کے کرم کے ہیں سلسلے

مجھ پر مرے کریم کا فیضانِ نعت ہے


سب اہلِ دل ہی جیسے اُسی کی پنہ میں ہیں

کتنا سُخن نواز یہ دامانِ نعت ہے


مہکے ہیں چار سُو نئے رنگوں کے زمزمے

برسا زمینِ شوق پہ بارانِ نعت ہے


ہر صبحِ نو کی پہلی کرن سے یہی کھُلا

"ہر شُعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


پھر سے جو حاضری کا بُلاوا ہُوا مجھے

ممنونِ نعت پر بڑا احسانِ نعت ہے


تھامے ہیں اپنی اپنی کتابِ عمل تمام

مقصود میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے

منظر پھلوری، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکستان

کس درجہ لاجواب یہ عنوانِ نعت ہے

جو سچ کہوں تو مجھ کو یہ تابانِ نعت ہے


محوِ ثنا میں رہتا ہوں ہر گام ہر گھڑی

دل سے مرا یوں ہو گیا پیمانِ نعت ہے


ڈرتا ہوں بیش و کم سے محبت کے باب میں

خامہ ہے اور سامنے میزانِ نعت ہے


بستی ہے روح و جان میں قلب و جگر میں بھی

یہ جسم کی جاگیر میں سامانِ نعت ہے


یہ فکر و آگہی یہ تصور خیال سب

ان سب میں جاوداں فقط ارمانِ نعت ہے


جھک جھک کے مجھ کو ملتا ہے ہر شخص جو یہاں

منظؔر یہ مجھکو لگتا ہے فیضانِ نعت ہے

منظر چشتی، دار الخیر پھپھوند شریف، انڈیا

مکمل نام : سید محمّد منظر چشتی

  • کاغذ، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے*
  • فیضان نعت ہے یہی فیضانِ نعت ہے*


  • الفاظ، فکر اور تخیل تو ہے بدن*
  • میری نظر میں عشق نبی جانِ نعت ہے*


  • جس جا تمام "صنف سخن" لیتی ہیں پناہ*
  • وہ کیا ہے؟ میں بتاؤں؟ وہ دامانِ نعت ہے*


  • سب نعت گو وزیر ہیں سلطانِ نعت کے*
  • "حسان" تاجدار ہے سلطانِ نعت ہے*


  • جس میں چہک رہی ہوں دو عالم کی بلبلیں*
  • ایسا تو صرف ایک گلستانِ نعت ہے*


  • لکھیں گے اب سے نعت ہمارے قلم، دوات*
  • ہم سے ہماری فکر کا پیمانِ نعت ہے*


  • عشق ان سے پہلے کیجیے پھر غور کیجیے*
  • "ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"*


  • میرا وجود اس لیے مہکا ہوا رہا*
  • میرے بھی دل کے حجرے میں گلدان نعت ہے*


  • اٹھ کر لحد سے ہم بھی پڑھیں گے مشاعرہ*
  • منؔظر! ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے*
منصور فریدی، گایا، انڈیا

مکمل نام : ڈاکٹر منصور فریدی

ہر لفظ تازہ پھول بہ عنوانِ نعت ہے

قرآن اک شگفتہ گُلِسْتانِ نعت ہے


مرغِ خیال آج بھی ، پہنچا نہیں وہاں

تعمیر جس بلندی پہ ایوانِ نعت ہے


جس کی چمک پہ دن کے اجالے نثار ہیں

کیا خوب تاب ناک شبستانِ نعت ہے


ہر گوشہ کائنات کا مہکے گا تا ابد

ہر وقت عطر بیز یوں گل دانِ نعت ہے


کیا ہے مری بساط کہ میں نعت لکھ سکوں

جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں یہ فیضانِ نعت ہے


فرصت ملے تو جاگتی آنکھوں سے دیکھیے

  • ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*


نذرِ خزاں نہ ہوگا مری فکر کا چمن

شاداب اِس میں فصلِ بہارانِ نعت ہے


بکھری ہوئی حیات کی زلفیں سنوار دیں

صد شکر مجھ پہ کتنا یہ احسانِ نعت ہے


فکر و قلم دوات پہ مجھ کو نہیں یقین

لطف و کرم حضور کا سامانِ نعت ہے


ہرگز نہ کرسکے گا *فریدی* کوئی عبور

وسعت بہت لیے ہوئے میدانِ نعت ہے


منیب خان نیازی، پنڈی بھٹیاں، پاکستان

جب سے وفورِ شوق پہ بارانِ نعت ہے

دل دل نہیں ہے تب سے گلستانِ ِ نعت ہے


اہلِ نظر پہ بات ہوئی ہے یہ منکشف

ہر شعبہء ِِ حیات میں امکانِ نعت ہے


پھولوں کی مثل خوشبو ہے ہر ایک نعت کی

دیوانِ نعت ہے کہ یہ گلدانِ نعت ہے


حد سے بڑھے تو شرک گھٹایا تو بے ادب

چلنا ذرا سنبھل کہ یہ میدانِ نعت ہے


آگاہ فن سے ہونا اہم ہے بہت مگر

در اصل عشقِ مصطفیٰ ہی جانِ نعت ہے


صدقے میں نعت ہی کے ملیں ہم کو عزتیں

بے پایاں ہم پہ شفقت و احسانِ نعت ہے


ہو صبح یا کہ رات مگن ہوں میں نعت میں

اب تو ہر ایک لحظہ ہی ارمانِ نعت ہے


وہ آلِ مصطفیٰ ہوں کہ اصحابِ مصطفیٰ

ہر دو کا ذکر شَامِلِ عنوانِ نعت ہے


"سایہ ہے نعت پر ورفعنا کا دوستو"

خود ربِ کائنات نگہبانِ نعت ہے


ہر زاویے میں فکر کے مضمونِ نعت ہے

گویا تمام عمر ہی دورانِ نعت ہے


سب نعت لکھنے والے ستاروں کی مثل ہیں

جگ مگ انہی سے چرخِ خیابان ِ نعت ہے


جِس جِس جگہ بھی گونجتی ہے بانگِ حمدِ رب

اُس اُس جگہ پہ گونجتی آذانِ نعت ہے


اعمال پر تو کوئی بھروسہ نہیں مجھے

صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


رب کا نیازی تجھ پہ ہے کتنا بڑا کرم

حاصل تجھے بھی حصہ ءِ فیضانِ نعت ہے


منیر احمد خاور، فیصل آباد، پاکستان

دل میں کُھلا ہوا جو دبستان نعت ہے

اللہ کا کرم ہے،یہ فیضان نعت ہے


یٰسین وطہٰ،والضحیٰ،والیل سے سجا

رب عُلی نے بھی لکھا دیوان نعت ہے


نورانی فکر،قافیے،قرطاس اور قلَم

میرا اثاثہ بس یہی سامان نعت ہے


خالق کا لے کے ساتھ فرشتوں کو دم بدم

پڑھنا درود پاک ہی اعلان نعت ہے


جاں میں مری درود کے، مدحت کے گُل کّھلے

دل ہو گیا مٹالِ گلستان نعت ہے


صوفی،ولی ہو یا کہ ہو کوئی امام وقت

"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


چڑھ کر جو پڑھتا نعت ہے ممبر پہ آپ کے

حساّنِ خوش نصیب وہ سلطان نعت ہے


حکمِ خدا کی پیروی خاور کا ہے شِعار

یہ بھی نبھاتا ہر گھڑی پیمان نعت ہے

مونا نقوی ، سرگودھا ، پاکستان

وردِ زباں درود بھی دورانِ نعت ہے شاہِ اُمم کا ذکر ہی پہچانِ نعت ہے

جھک کر فرشتے بھی ہیں مرا ہاتھ چومتے جس ہاتھ سے رقم ہوا دیوانِ نعت ہے


بخشا ہے پھر دوام یوں نانا کے دین کو زینب س کے دم سے عام یہ فیضانِ نعت ہے


پڑھتا ہے خود قصیدے خدا جن کے نام کے

آلِ عبا کا گھر ہی وہ وجدانِ نعت ہے


اسلام کو حیات نئی دے گیا ہے جو 

مضطر سا وہ اسیر ہی سلطانِ نعت ہے


مجھ پر یہ منکشف ہوا الہامِ نعت سے ہر شعبہِ حیات میں امکان نعت ہے


میرزا امجد رازی، پاکستان

بندہ کہ فردِ نسلِ گدایانِ نعت ہے

پہچاں مری قبیلۂ حسّانِ نعت ہے


ہر اِک جہاں کی غایتِ اولیٰ حضور ہیں

ہر اِک ظہور حجّت و برہانِ نعت ہے


ہے شاخ شاخ بلبلِ سدرہ طواف میں

مصحف خدا کا گلشنِ الوانِ نعت ہے


اِک رمزِ" قُلْ"نےکھولاہےمجھ پریہ بابِ کشف

توحید عیشِ جلوۂ سامانِ نعت ہے


ہر "خطِّ سرنَوِشت " کا عنوان ہے یہی

ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے


جس کو لہو لہو کرے سجدے میں تیغِ ہجر

وہ دل شہیدِ مصحفِ عثمانِ نعت ہے


اِک " وصفِ لاتناہی " کہ جملہ صفات میں

سُن لو سخنورو کہ یہی جانِ نعت ہے


یعقوبِ فکر کو مری آنکھیں نہ کیوں ملیں

لفظوں میں بوۓ یوسفِ کنعانِ نعت ہے


کس نے کہا کہ چاہیے آزادئ سخن

دل تو ہمارا قیدئ زندانِ نعت ہے


رازی وزیر ملکِ سخن میں ہوں اُس کا میں

احمد رضا وہی کہ جو سلطانِ نعت ہے

نادر صدیقی، بوریوالا، پاکستان

قرآن پاک مطلع ِ دیوانِ نعت ہے

اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے


یہ خوش نصیب حافظ ِ قرآن ِ نعت ہے

کیسا فقیر ِ نعت پہ احسانِ نعت ہے


صدشکر امتی ہے مسلمانِ نعت ہے

مجھ سا گدا غلامِ غلامانِ نعت ہے


کیسا حسین خانہءِ عرفانِ نعت ہے

حسان ہے کہ بوذر و سلمانِ نعت ہے


جس کو رسولِ پاک نے منبر عطا کیا

حسانِ نعت ہے وہی سلطانِ نعت ہے

ناصر حسین راضی , فیصل آباد، پاکستان

بشکریہ : ریاض قادری

عرش علی پہ جب ہوا پیماں نعت ہے

لاگو ہوانمود پہ فرمان نعت ہے


خود خالق حیات توسلطان نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ہونٹوں پہ ہیں سکوت کے پہرے لگے مگر

دھڑکن یہ کہہ رہی ہے کہ میلان نعت ہے


ہم کشتگاں کی جملہ تشفی کے واسطے

صلی علی نے کردیا درمان نعت ہے


مہکی حضوریاد کی خوشبو شعور میں

میلادجاں سے بن گیا گلدان نعت ہے


محشر میں اپنی تنگی داماں کے خوف سے

پکڑابڑے وثوق سے دامان نعت ہے


اس کردگار شوق نے قرآں میں جو کیا

وہ اعتراف شوق ہی شایان نعت ہے


تلخابہ حیات کی مستی کے واسطے

نازل ہوا حضور پہ دیوان نعت ہے


بدرالدجی کا نور ہے ہر سمت جلوہ گر

پھیلاہوادیارمیں فیضان نعت ہے


نیرنگئ خیال کو عرفان ہوا نصیب

قرطاس جاں پہ جب ہوا احسان نعت ہے


اکرام لطف کیجئے راضی کو بھی عطا

اک روسیاہ کے دل میں بھی ارمان نعت ہے


صاحبزادہ ناصر حسین راضی فیصل آباد

ناظر کاظمی ، لاہور

اہل ِیقین کے بخت میں عرفان ِنعت ہے

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


قرآن میں ہے رفعت ِذکرِنبی کی بات

وہ بات خوش نصیب جو شایانِ نعت ہے


کیسے کوئی کرے گا مدیح نبی بیان

جب نعت خود ہی آیہِ قرآن ِ نعت ہے


فائزجو مدح گوئی کے منصب پہ ہوگیا

ناظر تجھے عطاءہوا فرقانِ نعت ہے

سید ناظر کاظمی، لاہور

ناہید اختر بلوچ، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان

دل میں کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے

لفظوں پہ دم بہ دم مرے بارانِ نعت ہے


لب پہ درود ،عشقِ نبی دل میں موجزن

آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے


ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ

جا کے خدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے


قسمت مری سنور گئی ان ﷺ کا کرم ہوا

ان کا کرم ہوا تو یہ فیضانِ نعت ہے


تُو عشقِ مصطفیٰ کو سخن کا امام کر

یہ عشقِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے


مجھ کو عطا ہو صدقہ ءِ حسان یا رسول

سرکار میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے


ناہید شعر گوئی پہ موقوف تو نہیں

”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے

ناہید ورک، مشی گن، امریکہ

سردارِ کائنات ہی سلطانِ نعت ہے

پڑھ لو درودِ عشق یہی جانِ نعت ہے


کیا حقِ بندگی ہو ادا ان حروف سے

محبوب کی ثنا میں تو قرآنِ نعت ہے


تلقین گونجتی ہے سماعت میں روز و شب

تخلیقِ کائنات ہی شایانِ نعت ہے


ہر اک نبی ہے لائقِ تحسین، ہاں مگر

بِن آپ ﷺ کے ہے کون جو پہچانِ نعت ہے


بادل کا ٹکڑا سایہ کرے مجھ پہ بھی حضور ﷺ

پھر میں بھی کہہ سکوں گی یہ فیضانِ نعت ہے


ہے پاس لا الٰہ بھی ، صل علٰی بھی پاس

یعنی کہ میرے پاس تو سامانِ نعت ہے


پیشِ نگاہ آپ ﷺ کی توصیف ہے مگر

ناہیدؔ کیا تجھے ذرا عرفانِ نعت ہے؟

مظہر حسین مظہر، میلسی

تازہ ہر ایک دور میں عنوان نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


الفاظ کی گرفت میں آتا نہیں کبھی

شاعر پہ وجدو کیف جو دوران نعت ہے


گم کردہ حواس ہیں رومی و بایزید

اے عشق احتیاط یہ میزان نعت ہے


امروز بھی "حدائق بخشش" کے روپ میں

روشن جہاں میں شمع شبستان نعت ہے


'نہج البلاغہ' شرح فرامین مصطفے

قرآن بھی حضور کا دیوان نعت ہے


اقبال ہو حفيظ ہو محسن ہو یا حسن

ہر ایک اپنے دور کا حسان نعت ہے


کیوں کر نہ مشکبار ہو گلدستہ حروف

مہکا خیال و فکر میں بستان نعت ہے


ہر خوشہ خیال بھرا ہے درود سے

جب سے قلم کو ہوگیا عرفان نعت ہے


اے فکر پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدم

ایوان نعت ہے یہ دبستان نعت ہے


اے کاش ان کی شان کے شایان لکھ سکے

مظہر وجود عشق میں ارمان نعت ہے

ندیم سلطان پوری، سلطان پور، انڈیا

سیرت شہ مدینہ کی عنوان نعت ہے

اس سے ہی کائنات میں فیضان نعت ہے


عاشق رسول پاک کا حسان نعت ہے

دشمن رسول پاک کا نادان نعت ہے


جن و بشر ، ملائکہ،غلمان و حور کے

"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


شمس وقمر ستارے ہوں یا ہو وہ کہکشاں

ہر ایک کی جبین پہ لمعان نعت ہے


اس کے لبوں کو چومتے ہوں گے ملائکہ

لب پر سجاے جو کوئی گلدان نعت ہے


حسان سا ہمیں بھی ہنر کردے تو عطا

یارب ہمارے قلب میں ارمان نعت ہے


مختارکائنات کا جلوہ ہے ہرطرف

دنیا کو مشک بو کیے ریحان نعت ہے


اس کو ملے گا خلد میں ایواں سجا ہوا

دنیا میں جو سنوارتا ایوان نعت ہے


ان کی وِلا میں ڈوب کے نعتیں لکھا کرو

اے مومنو! وِلاے نبی ﷺ جان نعت ہے


مقبول بارگاہ نبی جو بھی ہو گیا

اللہ کی قسم وہی سلطان نعت ہے


پورا کلام پاک ہے توصیف مصطفے

تو کوئی کیا سمجھ سکے کیا شان نعت ہے


لکھتا ہوں نعت شاہ مدینہ، بروز حشر

کافی مری نجات کو سامان نعت ہے


اے کاش کہہ دیں شاہ مدینہ کبھی ندیم

مجھ کو پسند تیرا یہ دیوان نعت ہے

ندیم ملک، لاہور، پاکستان

دیوانِ نعت اصل میں عرفانِ نعت ہے

ہر اک سُخن طراز بہ ایمانِ نعت ہے


میں شاعرِ حقیر ہوں اور اک فقیر ہوں

اور مجھ فقیر کو مِلا دیوانِ نعت ہے


میں نے بھی سر کو آپ کی چوکھٹ پہ ڈال کر

ہر آن لے لیا یہاں وجدانِ نعت ہے


مجھ کو ندیم شوخئی یزداں سے کیا غرض

مجھ کو تو مل گیا یہاں رحمانِ نعت ہے

  • مقطع فکری طور پر قابل غور ہے
ندیم نوری برکاتی، ممبئی، انڈیا

اک بے ہنر ہے اور قلمدانِ نعت ہے

سرکار وہ لکھائیں جو شایانِ نعت ہے


انکی تو ذاتِ پاک ہے سر چشمۂ کمال

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


آداب عشق عاجزی سیرت و معجزات

ملحوظ رکھئے اس کو یہی جانِ نعت ہے


شکرِ خدا کہ زیست رہی ہے غزل سے دور

میری متاعِ زندگی قربانِ نعت ہے


احسان آپ کا ہے کرم آپ کا حضور

ورنہ کہاں گنوار کو عرفانِ نعت ہے


دل بے قرار, دیدۂ تر , وردِ لب درود

کیا کیف کیا سرور سا دورانِ نعت ہے


عزت بھری نگاہ سے تکتے ہیں مجھ کو لوگ

نوری یہ اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے

نذیر اے قمر، فیصل آباد، پاکستان

بشکریہ : محمّد احمد زاہد

رب کی عطائے خاص ہے وجدانِ نعت ہے

ایقانِ نعت ، مرکزِ ایمانِ نعت ہے


محشر میں سراٹھا کے یوں اپنا چلوں گا میں

ہاتھوں میں میرے ہر گھڑی دیوانِ نعت ہے


یہ لمحہ لمحہ گنبدِ خضرا کو سوچنا

آقا کا ہے کرم ، یہی فیضانِ نعت ہے


مدح رسولؐ سے مری قسمت سنور گئی

کس درجہ میری ذات پہ احسانِ نعت ہے


یا رب نہ چھوٹے تادمِ آخر یہ ہاتھ سے

حاصل جو اب نصیب سے دامانِ نعت ہے


ہر اک زمانہ نعت کےصدقے میں ہے قمر

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "

نسرین سید، اونٹاریو، کینیڈا

تخلیقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے

گردوں ہے وجد میں، تو یہ وجدانِ نعت ہے


الحمد سے ثنا کروں ، یٰسین سے دُرود

یہ جانِ حمدِ پاک ہے، وہ جانِ نعت ہے


اُنﷺ کی ثنا میں حرفِ گُماں کا گزر کہاں؟

قرآنِ بالیقین جب اعلانِ نعت ہے


آنکھوں میں اشک، سینے میں رقت ہو موجزن

پھر دل میں اُنﷺ کا عشق، ہی سامانِ نعت ہے


رکھو جو انﷺ کی سیرتِ کامل کو سامنے

" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


یہ عجزِ بے پناہ ، میسر جو دل کو ہے

یہ کیف ، یہ سکون ، یہی جانِ نعت ہے


تکریمِ خاص ، حسنِ ادب ، حدِ اعتدال

رکھے جو یہ خیال، نگہبانِ نعت ہے


ہے دین ساری ، مدحتِ آلِ رسولﷺ کی

سرکارﷺ کی عطا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


کھلتے ہیں پھول صلِ علیٰ کے جہاں مدام

نسرینؔ ، یہ جہان خیابانِ نعت ہے

نسیم سحر، اسلام آباد، پاکستان

کیسا بھرا ہوا مرا دامان_نعت ہے

عشق ِ نبی مرا سر و سامان ِنعت ہے


سردارنعت گویاں ہے، سلطان نعت ہے

تاریخ میں بس ایک ہی حسانِ نعت یے


موضوع بھی وہی ہے، وہی جان_نعت ہے

وہ حاصلکلام ہی عنوان ِنعت ہے


رکھا ہوا جہاں مرا دیوان_نعت ہے

میرا قلم بھی زینت ِجزدان ِ نعت ہے


اس کے سوا نہ ذکر کسی کا ہو نعت میں

وہ جان ِکائنات ہی جانان ِنعت ہے


ہر شعر میں بیان ہوئی مدحت_رسول

ہر شعر گویا حاصل دیوان ِنعت ہے


ہوتے ہیں قدسیاں بھی یقینا وہاں شریک

برپا جہاں بھی محفل ِیاران ِ نعت ہے


خوشبو کے جھونکے آتے ہی رہتے ہیں میرے گھر

کھولا ہوا جو میں نے ہوادان_نعت ہے


کانوں میں گونجتی ہیں صدائیں درود کی

یعنی کہ آج پھر کوئی امکان_نعت ہے؟


صل_علی کے ورد سے کرتا ہوں ابتدا

ص ِلعلی کا ورد ہی اعلان ِنعت ہے


حاصل یہ مرتبہ ہے اسے نعت کے طفیل

جو نعت گو ہے، جان ِ دبستان ِنعت ہے


مدحت کی برکتوں سے منور ہے رات دن

گھر نعت کہنے والے کا ایوان_نعت ہے


ہر لحطہ نعت گوئی کے آداب کا خیال

لازم ہے احتیاط، یہ میزان_بعت ہے


جاری رہے گا سلسلہء نعت_مصطفی

اللہ پاک خود ہی نگہبان_نعت ہے


تفہیم. کس کو ہو سکی ان کے مقام کی

انسان کو کہاں ابھی عرفان_نعت ہے


آقائے نامدار کا جب سے ہوا کرم

طبع رواں میں اور بھی مہلان ِنعت ہے


ہونے لگی جو نعتیہ اشعار کی عطا

کیفیت ِجمال سی دوران ِ نعت ہے


آمد کا ایک لامتناہی ہے سلسلہ

اب میں ہوں اور عطایے فراوان_نعت ہے

نسیمی تاجی، ناگپور، انڈیا

بشکریہ : ارشد رضا قادری

ارضِ غزل نہیں ہے یہ میدانِ نعت ہے

ہوش و خرد سے کام لے دیوانے ،نعت ہے


ہر سانس پر درود کا ہدیہ گزاریے

"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


یہ سر اٹھا ہوا ہے تو سرکار کے سبب

یہ دل کھلا ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے


کچھ بھی نہیں حضور کی الفت اگر نہیں

انجانِ زندگی ہے جو انجانِ نعت ہے


نسلیں مہک نہ جائیں تمہاری تو بولنا

لے جاؤ ساتھ میں کہ یہ گل دانِ نعت ہے


احمد کا پہلا حرف محمد کا پہلا حرف

قرآنِ حمد کے لیے جزدانِ نعت ہے


کچھ خاص مٹیوں کو نمی کی گئی عطا

ویسے تو سب پہ مہرباں بارانِ نعت ہے


سو فیصدی درست ہے یہ بات دوستو

ہر صفحہءِ دو کون بہ عنوانِ نعت ہے


ہر لفظ پھول ہے تو کلی سب حروف ہیں

کس طور شان دار گلستانِ نعت ہے


حد درجہ احتیاط ، مقام ادب ہے یہ

دورانِ خوں ٹہر کہ یہ دورانِ نعت ہے


اسمِ مبارکہ پہ درودوں کی ڈالیاں

اب تک مجھے تو اتنا ہی عرفانِ نعت ہے


معلوم میرے قول و عمل سے چلے گا یہ

مضبوط کس قدر مرا ایمانِ نعت ہے


صدیوں سے ہو رہا ہے یہاں ذکرِ مصطفی

یہ شہرِ ناگ پور دبستانِ نعت ہے


سمجھوں گا میری نعتیں ، نسیمی قبول ہیں

مجھ کو جو کوئی کہ دے یہ مستانِ نعت ہے

نصرت حنفی، اورنگ آباد، مہاراشٹر، انڈیا

مکمل نام : ڈاکٹر نصرت حنفی

کچھ اور ہو نہ ہو مجھے عرفان نعت ہے

اب میرے ذمے دیکھ قلمدان نعت ہے


یہ ذکر ہے خدا کا. یہی شان نعت ہے

ذکرِ نبی ہی اصل میں. قرآن نعت ہے


جب سے سجائی محفلِ نعت و درود

میرا ہر ایک لمحہ گلستان نعت ہے


سر پر اٹھا کے لاے ہیں محشر میں کاتبین

اعمال نامہ ہے میرا دیوان نعت ہے


جوں اس کے سامنے ہو رکھا ایک آئینہ

قرآن بھی رسول کی ہی شان نعت ہے


روشن ہے ان کے نور سے اس دل کی کائنات

نصرت یہی تو اصل میں فیضان نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے

یہ ہے کرم خدا کا یہ باران نعت ہے

نعیم عباس ساجد، ملتان، پاکستان

میرے کہاں نصیب میں بارانِ نعت ہے

گر ہو گئی عطا تو یہ احسانِ نعت ہے


جس کو سمجھ رہے ہیں سبھی لوگ کائنات

وہ اہلِ ذوق کے لیے سامانِ نعت ہے


ہر لفظ کاٹ چھانٹ کے کرنا ہے منتخب

کرکے یقیں کہ واقعی شایانِ نعت ہے


پاکیزگیِ قلب و نظر لازمی ہے یاں

میدانِ منقبت ہے کہ میدانِ نعت ہے


اک سبز روشنی ہے تخیل کے ارد گرد

یعنی کہ اب قریب ہی امکان نعت ہے

نفیس اکرم محب، بنارس، انڈیا

کیا کوئی جان پائے گا کیا شانِ نعت ہے

قرآں کا لفظ لفظ ہی عنوانِ نعت ہے


مٹ جائیں گے وہ خود ہی مٹانے جو آئیں گے

خلاق کائنات نگہبان نعت ہے


سب انبیاء نے ہے پڑھی نعت شہ امم

کس درجہ پر بہار گلستان نعت ہے


ممکن نہیں احاطہ کوئی اس کا کر سکے

باہر ہر ایک فہم سے عنوان نعت ہے


تنہائی ہو سفر ہو تجارت ہو بزم ہو

"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"


مجھ کو زمانہ کہتا ہے مداح مصطفیٰ

کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسان نعت ہے


قسمت پہ اپنی ناز کروں کیوں نہ میں محب

ہاتھوں میں میرے دیکھئے دامان نعت ہے


مکمل نام : نفیس اکرم محب رضوی اویسی ، بنارس ، انڈیا

نواز اعظمی، گھوسی، انڈیا

وہ شخص ہی لکھے جسے عرفانِ نعت ہے

ورنہ بہت ہی دھیان سے میدانِ نعت ہے


پیہم زمینِ فکر پہ بارانِ نعت ہے

دل اس کے باوجود بھی عطشانِ نعت ہے


غم ،ہجر، درد، گریہ، قلق، اشک، سوز، عشق

ہر ایک میرے واسطے سامانِ نعت ہے


اٹھتی ہے ہر ورق سے ہی بوئے ثنائے شاہ

قرآں مری نگاہ میں بستانِ نعت ہے


آ بیٹھ اور یہاں سے تُو رزقِ ثنا اٹھا

روئے زمینِ شہرِ نبی خوانِ نعت ہے


بہتا ہے جو بھی ہجرِ رسالت مآب میں

آنسو نہیں وہ اصل میں بارانِ نعت ہے


رنج و الم میں سرورِ کون و مکاں کی یاد

واللہ وجہِ حرکتِ شریانِ نعت ہے


حاصل ہے اس پہ اوروں کو بھی دسترس مگر

حسّان شاہِ ملکِ سلیمانِ نعت ہے


ہر شعبہ وصفِ شاہِ امم سے ہے تابناک

"ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اب تک نواز میں نے جو مدحِ رسول کی

کیا اس کا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے؟

نگار سلطانہ، کولکتہ، انڈیا

مکمل نام : ڈاکٹر نگار سلطانہ

لکھنے کو میرے دل میں تو ارمان نعت ہے

اک پھول کیا چنوں کہ گلستان نعت ہے


ہر لمحہء حیات کی بس جان نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے "


جب تک نہ دل میں چاہت سرکار دین ہو

کیسے لکھے کوئی کہ یہ شایان نعت ہے


جب سے خیال ڈھل گئے اشعار میں مرے

ہر سانس میں بسا ھوا عنوان نعت ہے


میرے خیال و فکر میں پیوست ہوگئ

ہر ایک لمحہ اور ہر اک آن نعت ہے


قرآن میں بھی ذکر کا مرکز نبی ہی ہیں

گویا ظہور ہستی میں اعلان نعت ہے


مدحت کی روشنی سے جو لفظوں کو بھر دیا

جو کچھ ملا نگار یہ فیضان نعت ہے

نور آسی، اسلام آباد، پاکستان

مکمل نام : محمّد نور آسی

نہ حرف و لفظ نہ کوئی سامان نعت ہے

خاموش اس لئے ہوں کہ عرفانِ نعت ہے


گو بائیں ہاتھ میں ہے میرے نامہء سیاہ

صد شکر، دائیں ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں ہو اسوہِ رسول ﷺ

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


بقرہ سے لے کے سورہ والناس دیکھ لو

ہرایک حرف اک نیا عنوانِ نعت ہے


جنت میں مجھ کو جانے دیا کہہ کے اتنی بات

اب اس کو کیسے روکیے؟ مہمانِ نعت ہے


پتوں کو ، ٹہنیوں کو ، گلوں کو پرند کو

گلشن میں ایک ایک کو عرفانِ نعت ہے


آسی کی کیا مجال کہ نعت نبی کہے

یہ جو عطا ہوئی ہے وہ احسانِ نعت ہے

نور الحسن نور نوابی، قاضی پور، انڈیا

اعلان کائنات غلامانِ نعت ہے

حسان جس کا نام ہے سلطانِ نعت ہے


سوچے بغیر ہوتی ہے مدحت رسول کی

ارزاں ہمارے واسطے فیضانِ نعت ہے


عشق رسول پاک کی صورت میں دوستو!

بیٹھا درِ خیال پہ دربانِ نعت ہے


عشق رسول شہر نبی کی جمالیات

حاصل خدا کے فضل سے سامانِ نعت ہے


اس کی حدوں میں گرم ہوا کا گزر کہاں

دشت غزل نہیں یہ گلستانِ نعت ہے


سنتی ہیں ذکر سرور دیں جو سماعتیں

ان کی ضیافتوں کے لیے خوانِ نعت ہے


کہنے کو لوگ کہتے ہیں نعتیں بہت مگر

حاصل کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے


قسمت کا اس کی لا نہ سکے گا کوئی جواب

جس کے لیے کھلا در ایوانِ نعت ہے


حسان آگے سعدی و جامی ہیں ان کے بعد

اے آنکھ دیکھ وہ صف شاہانِ نعت ہے


ڈرتا نہیں ہوں دھوپ کے تیروں سے اس لیے

حاصل مجھے بھی سایہ دامانِ نعت ہے


ہوجائے یوں تو کام کی ہو میری زندگی

سرکار کہہ دیں یہ مرا دربانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات ہے آقا سے منسلک

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


غنچے کھلے ہیں مدحت آقا کے ہر طرف

شادابیوں کا آئنہ میدانِ نعت ہے


ہر اک ورق پہ مدحت سرکار ہے رقم

دل عاشق رسول کا دیوانِ نعت ہے


دل کر رہا ہے ضد مرا مضمون کر رقم

در پیش میری فکر کو عنوانِ نعت ہے


خوشبو بسی ہوئی ہے محلے میں دور تک

گھر کے ہر ایک طاق پہ گلدانِ نعت ہے


ابر کرم کے پھول برستے ہیں پے بہ پے

جب سے زباں پہ ذکرِ محبانِ نعت ہے


ہر صنف کی امام ہے نعت شہ امم

یہ افتخار نعت ہے یہ شانِ نعت ہے


کچھ لوگ شب چراغ سمجھتے ہیں کچھ گلاب

رکھا ہماری میز پہ دیوانِ نعت ہے


دیکھا عقیدتوں کی نظر سے تو یہ کھلا

جو شعر بھی ہے نعت کا وہ جانِ نعت ہے


دو چار ساعتوں پہ نہیں منحصر فقط

ایک ایک سانس نور کی قربانِ نعت ہے

نور محمد اشرفی, پورنیہ ,بہار,بھارت

پیش کش: غلام جیلانی سحر


محوِ ثنائے آقا ہوں, عنوانِ نعت ہے

یا رب ! کرم ہو خاص کہ ارمانِ نعت ہے


بے عشقِ مصطفے ہے سبھی بندگی فضول

عشقِ رسولِ پاک ہی ایمانِ نعت ہے


فضلِ خدا سے اور مدد سے حضور کی

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


تاریخ تم پڑھو گے تو ہوگا تمہیں پتا

حسان ہی سے مہکا گلستانِ نعت ہے


خلدِ بریں میں جائیں گے حسان کے وہ ساتھ

جن خوش نصیب لوگوں کو عرفانِ نعت ہے


چشمِ کرم حضور کی مجھ پر ہوئی ہے خاص

جاری مری زباں پہ جو گردانِ نعت ہے


شہرت جو نورٓ تم کو ملی ہے جہان میں

فضلِ خدائے پاک ہے,فیضانِ نعت ہے

نور محمد جرال، نیویارک، امریکا

شکرِ خُدا کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے

سرپر میرے بھی سایۂ دامانِ نعت ہے


حرف و سخن پہ دسترس اپنی جگہ مگر

دراصل وصفِ حبِ نبی جانِ نعت ہے


فکرو شعور و حرف و ہُنر باوضو رہیں

تخلیق کے لیے یہی سامانِ نعت ہے


اشعار میں ہے سورۂِ یٖس کا جمال

حرفِ درود شمعِ شبستانِ نعت ہے


صدیوں سےلکھی جاتی ہےقرطاسِ وقت پر

لیکن ابھی شعور کو ارمانِ نعت ہے


ہے آپ کی حیات ہمہ گیر اس قدر

“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


ہر اک اداۓ نور پہ ہیں آیتیں گواہ

سیرت میرےحضور کی قرآنِ نعت ہے


حسنِ عمل ہے مدحتِ مولا کا اک چمن

حسنِ کلام زیبِ سخندانِ نعت ہے


آنکھیں کہ ان کے ذکرمیں نمناک ہیں سدا

اور دل ہزار جان سے قربانِ نعت ہے


ہر عندلیبِ قدس کے لب مشکبوۓ نعت

باغِ اِرم ہے یا کوئی دالانِ نعت ہے


آنکھوں کے طاقچوں میں رکھے آرزوۓ دید

بے چین کب سے حلقۂ مستانِ نعت ہے


جل تھل ہوئی ہے دل کی زمیں یادِ شاہ میں

اشکوں کی یہ گھٹا ہے یا بارانِ نعت ہے


الفاتحہ سے سُورۂِ والناس تک گواہ

قرآن حرف حرف ہی بُرھانِ نعت ہے


سرکار کوئی اچھا نہیں نامۂ عمل

محشر میں دستِ نور میں دیوانِ نعت ہے

نورین طلعت عُروبہ، امریکا

جب دل سے مُنسلک ہے جو پیمانِ نعت ہے

"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


سُنت کے راستے پہ ہوں اوڑھے ہوئے درود

سب کچھ تو ہے نصیب جو سامانِ نعت ہے


ہر سانس میں ہے عشقِ نبیؐ بولتا ہوا

طیبہ کی سرزمین یہ فیضانِ نعت ہے


ٹُکڑا جو ایک خلد کا شہر ِ نبیؐ میں ہے

تکمیل اس کی ہو وہیں ارمانِ نعت ہے


کیا وصف ہے کہ جس کو عبادت بھی کہہ سکیں

قربان ہے یہ دل مِرا قربانِ نعت ہے


سیرتؐ کی خوشبوئیں یا مہکتا درودِ پاک

چھوٹا سا میرا گھر بھی گلستانِ نعت ہے


ایمان کو کیا ہے مُکمل اسی کے ساتھ

عشقِ نبیؐ کریم ہی تو جانِ نعت ہے


ہے وہ امیر ، وارثِ حُبِ نبیؐ ہے جو

خوش بخت ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے


لفظوں کا انتخاب عقیدت کا عکس ہو

مضمون وہ چُنوں کہ جو شایانِ نعت ہے


نورین طلعت عُروبہ، امریکہ

نیر جونپوری، سرت، گجرات، انڈیا

لکھوں نبی کی نعت جو سلطان نعت ہے

آیاتِ بَیِّنات میں عنوانِ نعت ہے


شہر نبی کے کوچہ و بازار کی صدا

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


کرتا ہوں مصطفٰی کی ثناء خوانی اس لئے

بخشش کے واسطے مِرے دامانِ نعت ہے


مولا نے ہر طرح سے نوازا ہے خوب تر

ہم جیسے خادموں پہ تو فیضانِ نعت ہے


رزقِ سخن ملے ہمیں سرکار آپ سے

قلب حزیں میں میرے بھی ارمانِ نعت ہے


بوصیری کوئی، جامی کوئی سعدی ہو گیا

احمد رضا تو ہند کا حسانِ نعت ہے


نَؔیَّر یہ کہہ اٹھا مِرے سرکار کا غلام

پڑھئے درود محفل بارانِ نعت ہے

واجد امیر، لاہور، پاکستان

دربان ِ شاہ دین ہی دربان ِ نعت ہے

روح الامین یعنی نگہبان ِ نعت ہے


صد لاکھ احتیاط کہ عنوان ِ نعت ہے

وہ آئے اس طرف جسے ایقان ِ نعت ہے


مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں

باغ ِ عدن کے پاس خیابان ِ نعت ہے


مصرعے سجے ہوئے ہیں کہ رنگوں کی لہر ہے

قوس ِ قزح ہے یا کوئی گل دان ِ نعت ہے


ہر شعبہ ءِ حیات ہے سیرت سے متصل

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


جس پر نگاہ کی وہی مقبول بارگاہ

جس پر کرم ہوا وہی سلطان ِ نعت ہے


ہوگی منادی حشر میں آئے وہ اس طرف

جس پاس اک بھی مصرعِ امکان ِ نعت ہے


دشت ِ غزل میں گھوم لیے ہو تو پھر سنو

اب اس سے آگے سارا گلستان ِ نعت ہے


مدحت نگاری میں ہمیں اس پر بھِی فخر ہے

اردو زباں کا اپنا دبستان ِ نعت ہے


واجد ڈھکا چھپا نہیں چشم ِ خدائی سے

تیری سخن وری پہ جو احسان ِ نعت ہے

واحد نظیر، دہلی

معیار ہے اصول ہے میزانِ نعت ہے

قرآن خضرِ راہ اے یارانِ نعت ہے


لوح و قلم کے خالق و مالک ہے یہ دعا

لہجہ ہو وہ نصیب جو شایانِ نعت ہے


اپنی زبان جلتی ہے غیروں کی مدح سے

پونجی مرے خمیر کی میلانِ نعت ہے


مرکز میں غور و فکر کے دائم ہو وجہِ کن

یہ محورِ عناصر و ارکانِ نعت ہے


سب ہے نبی کے صدقے میں، کہنے کی بات کیا

ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے


لائق تھی سرزنش کے یہ انعام پا گئی

صنفِ سخن پہ دائمی احسانِ نعت ہے


علم و ہنر سے شعر تو ہو جاتے ہیں مگر

واحد نظیر عشقِ نبی جانِ نعت ہے


وحید القادری عارف ، حیدر آباد ، بھارت

مکمل نام : سید وحید القادری، حیدر آباد، بھارت


جاری کچھ ایسی شان سے فیضانِ نعت ہے

دل جگمگا رہے ہیں کہ بارانِ نعت ہے


صلّوا علیہِ اصل میں فرمانِ نعت ہے

حکمِ خدا ہی شمعِ فروزانِ نعت ہے


تا حشر اس کے سایہء رحمت میں ہے سکوں

تا حشر یہ بہارِ گلستانِ نعت ہے


ہوں طرزِ فکر پر جو کرم کی تجلیاں

ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے


جتنا بھی عرض کیجئے کم ہی لگے ہمیں

کیا خوب، کتنی وسعتِ دامانِ نعت ہے


اک حرف لکھ نہ پاؤں جو اُن کا کرم نہ ہو

نسبت مری حضور سے عنوانِ نعت ہے


مدحِ نبی بہ لب تو خیالِ نبی بہ دل

ہر آن میری زیست پہ احسانِ نعت ہے


مقبولِ بارگاہِ رسالت مآب ہو

پورا خدا کرے جو یہ ارمانِ نعت ہے


سرمایہ اور کچھ نہیں بخشش کے واسطے

جھولی میں میری بس یہی سامانِ نعت ہے


عارف کوئی نہیں جو ادا اِس کا حق کرے

ہے کون جس کو دعویء عرفانِ نعت ہے

وسیم عباس، لاہور، پاکستان

صحنِ بتول بُوئے گلستانِ نعت ہے

چودہ کا نور زینتِ گلدانِ نعت ہے


ٹھوکر نہیں لگی کبھی بھٹکا نہیں ہوں میں

جس دن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


ملتا نہ کیسےدہر میں اس صنف کو فروغ

صاحب! پدر علیؑ کا نگہبانِ نعت ہے


"آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں "

شہرِ سخن میں مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے


دیکھیں جو دل سے بغض کی مٹی کو جھاڑ کر

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


بھولے نہ آدمی کبھی من کنت کا پیام

یہ آگہی ہے نعت کی عرفانِ نعت ہے


مجھ پر بھی اتنا لطف و کرم کیجئے حضورﷺ

میں کہہ سکوں کہ میرا بھی دیوانِ نعت ہے


اسرارِ کائنات ہیں مجھ پر کھُلے ہوئے

وہ اس لئے کہ دل مرا شعیانِ نعت ہے

وقار احمد وقار ، لاہور

لگتا کلام رَب کا یہ عنوانِ نعت ہے

قرآن رَب کا رَب کی قسم شانِ نعت ہے


نعتوں کا سلسلہ نہیں رُکنے ہے والا یہ

اعلان اُس جہاں کا بھی اعلانِ نعت ہے


محوِ درود رَب ہے فرشتے بھی ساتھ ہیں

گویا کہ ہر گھڑی یہاں فیضانِ نعت ہے


گوشہ درود اِک میں نے لاہور دیکھا ہے

ہر بیٹھا جس میں شخص ہی قربانِ نعت ہے


خاور ؔ نے سچ کہا مجھے ہے نعت کی قسم

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


منزل تلک سفر میں کفایت کرے گا یہ

جو توشہ ء وقار میں سامانِ نعت ہے

وقار احمد نوری ، کرناٹک، بھارت

بشکریہ : غلام جیلانی سحر


بخشش کا میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے

جنت سے بڑھ کے مجھ کو شبستانِ نعت ہے


بو بکر ہوں عمر ہوں غنی ہوں کہ ہوں علی

اِن میں ہر ایک صاحبِ عرفانِ نعت ہے


عشقِ رسولِ پاک کا فیضان ہی تو ہے

سینے میں جلوہ بار جو ایمانِ نعت ہے


اپنی جبینِ ناز کو ان کے حضور رکھ

تسکینِ روح و قلب ہے ذیشانِ نعت ہے


کُل کائنات چھان کے جبریل نے کہا

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


عشقِ نبی کی آنکھ سے قرآن پڑھ کے دیکھ

مدحِ رسولِ پاک ہی وجدانِ نعت ہے


شعر و سخن کے باب میں جو کچھ بھی ہے وقار

سب ہے عطا رسول کی, فیضانِ نعت ہے


وقار احمد نوری, کرناٹک, بھارت

ولی صادق، کوہستان، پاکستان

مکمل نام : محمّد ولی صادق

ہر ناطقہ کے لب پہ ہی عنوانِ نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


مدت سے ہوں سکون کی دولت سے فیض یاب

یہ بھی میں جانتا ہوں کہ احسانِ نعت ہے


جب خود ہی کہہ رہا ہے خدا نعتِ مصطفیٰ

میں کیا بتاؤں دوستو! کیا شانِ نعت ہے


اُس خوش نصیب شخص کی منزل ہے باغِ خلد

تھامے ہوے جو شخص بھی دامانِ نعت ہے


اُس عاشقِ رسول کی عظمت کو ہے سلام

جس عاشقِ رسول کو عرفانِ نعت ہے


ہاں وہ سخن شناس ہے دراصل خوش نصیب

جو بھی رقم طراز بہ عنوانِ نعت ہے


ہر شعر جیسے ایک عقیدت کا پھول ہو

صادق! تِرا کلام گلستانِ نعت ہے۔

یاسر عباس فراز، میلسی

قائم جو آج بھی ترا ص ایوانِ نعت ہے

پردے میں کوئی ہے جو نگہبانِ نعت ہے


در سے دکھائی دیتا ہے شہرِ ادب کا حسن

ایمانِ منقبت میں ہی ایمانِ نعت ہے


یہ میں جو آپ لوگوں کو لگتا ہوں معتبر

میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے


اے دوست مجھ فقیر کو تو نعت گو نہ لکھ

مجھ میں نہیں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے


میلاد مصطفی ص سے بنی مجلسِ حسین ع

ذکرِ حسین ع اصل میں عرفانِ نعت ہے


ان کے قدم کی دھول ہے یا ان کا نقشِ پا

مجھ خاک کی رسائی یہ سامانِ نعت ہے


بابائے مرتضی ع سے سخن گوئی سیکھ لیں

عجز و ادب کے بعد ہی امکانِ نعت ہے


مخفی رکھا ہے میں نے جو اک نام نعت میں

وہ گوشہِ رسول ص ہے اور جانِ نعت ہے

یاور حسین، پٹنہ، انڈیا

پہلا قدم بہ فرشِ دبستانِ نعت ہے

میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے


الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں جھکائے سر

اظہارِ عشق آج بہ عنوانِ نعت ہے


تعریف کر رہا ہے خدائے قدیم خود

اللہ کا کلام گلستانِ نعت ہے


ہر شے سے آشکار ہے وصفِ شہہِ امم

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


تخلیقِ کائنات کا واحد سبب ہیں یہ

جو کچھ ہے اس جہاں میں وہ سامانِ نعت ہے


اتنی کشادگی ہے کہاں عرش و فرش میں

جتنا کشادہ حلقہء دامانِ نعت ہے


حد سے فزوں نہ حرف کوئی ہے نہ حد سے کم

دستِ خدائے پاک میں میزانِ نعت ہے


ہجرت کی شب علی ع کے سوا اور بھی کوئی

جلوہ فگن بہ تختِ سلیمانِ نعت ہے


پروانہء بہشت ہے مدحت رسول کی

یاور خوشا کہ تم پہ بھی فیضانِ نعت ہے

یاور وارثی، کانپور، انڈیا

جو پھول جو کلی ہے وہ عنوان نعت ہے

پھرتا ہوں میں جہاں چمنستان نعت ہے


حاصل جسے سرور ہو عشق رسول کا

ارزاں اسی کے واسطے عرفان نعت ہے


کرتے ہیں آتے جاتے ہوئے پل مجھے سلام

صد شکر میرے ہاتھ میں دامان نعت ہے


اب اور کسی شرف کی نہیں مجھ کو آرزو

در کھولے میرے واسطے دربان نعت ہے


سب مانتے ہیں نعت نگاران مصطفے

حسان کو نصیب قلم دان نعت ہے


ہر لمحہ ہر صدی ہے ثناخوان مصطفے

کیا عظمتیں ہیں نعت کی کیا شان نعت ہے


آنکھیں جو ہوں تو کھول کے دیکھو ورق ورق

ہر ذرہ کائنات کا دیوان نعت ہے


اے کاش دن وہ آئے کہ سب کا ہو فیصلہ

اب شہر کانپور دبستان نعت ہے


پڑھتی ہے نعت آنکھ سے بہتی ہوئی ندی

ان کا خیال شمع شبستان نعت ہے


تا عمر چلتے رہئے سرا مل نہ پائے گا

اتنا طویل کوچہ امکان نعت ہے


یاور جہاں خیال پہونچتا نہیں کوئی

جاری وہاں بھی چشمہ فیضان نعت ہے