"تبادلۂ خیال:ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(64 صارفین 330 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{بسم اللہ }}
{{بسم اللہ }}


=== ایونٹ کی نعتیں ===
=== ایونٹ کی نعتیں ===


اگر کوئی نام نیلے رنگ میں ہےتو اس کا مطلب یہ ان شاعر کا تعارف "نعت کائنات" پر موجود ہے ۔ اور اس نیلے نام پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر نام سرخ رنگ میں ہے تو اس پر کلک کرکے شاعر اپنا تعارفی صفحہ شروع کر سکتا ہے ۔
* قوافی پر اعراب لگانے ہیں ۔
* قلمدان ِ نعت کا قافیہ کئی بار غلط استعمال ہوا ہے ۔
* قرآن ۔ کئی اشعار میں قرآن کا تلفظ غلط ہے ۔جو فی الحال برقرار رکھے گئے ہیں
* بعض اشعار میں قافیے کہ ساتھ اضافت نہیں ۔ ایسے اشعار نکال دینے ہیں ۔
* ہندی قوافی مثلا پہچان ِ نعت ، مان ِ نعت برقرار رکھے جائیں گے ۔
* بے وزن اشعار ۔ ایسے اشعار جن میں ایک آدھ لفظ کی تبدیلی سے مصرع درست ہوسکتا ہے ۔ درست کیے جا رہے ہیں لیکن اگر ایک دو الفاظ سے زیادہ تبدیلی مطلوب ہو تو ان کو حذف کیا جا رہا ہے ۔
* "آقا نے کہ دیا کہ ستارے ہیں پنجتن" ۔ عقیل ملک کا مصرع ہے اور انہوں نے یہی املا بھیجی ہے ۔ "کہ" کی درست املا یہی ہے لیکن آج کل "کہہ" رائج ہے تو تبدیل کر دیا گیا ہے ۔
* مصعب شاہین نے لفظ "اطمینان" کی "ی " گرائی ہے ۔ جسے برقرار رکھا گیا ہے ۔
 
 
 
اگر   کوئی نام نیلے رنگ میں ہےتو اس کا مطلب یہ ان شاعر کا تعارف "نعت کائنات" پر موجود ہے ۔ اور اس نیلے نام پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر نام سرخ رنگ میں ہے تو اس پر کلک کرکے شاعر اپنا تعارفی صفحہ شروع کر سکتا ہے  
 
 
 
 
 
 




سطر 25: سطر 45:
گریہ کناں حنانہ ہے ہجرِ حبیبِ میں
گریہ کناں حنانہ ہے ہجرِ حبیبِ میں


سوکھے ہوئے تنے کو بھی پہچانِ نعت ہے
سوکھے ہوئے تنے کو بھی عرفانِ نعت ہے




سطر 40: سطر 60:
آصف ثنا کے باب میں خاموش ہی رہو
آصف ثنا کے باب میں خاموش ہی رہو


کب ہے بشر کی فکر جو شایان ِ شان ہے
کب ہے بشر کی فکر جو شایان ِ نعت ہے


===== [[آفاق رضا مشاہدی]]، [[باگ بھیرہ]]، [[انڈیا]] =====
===== [[آفاق رضا مشاہدی]]، [[گونڈہ]]، [[انڈیا]] =====
اِتنا وسیع حلقہءِ میدانِ نعت ہے  
اِتنا وسیع حلقہءِ میدانِ نعت ہے  


سطر 58: سطر 78:




مدحِ نبی کا حق ادا کوئ نہ کر سکا  
مدحِ نبی کا حق ادا کوئی نہ کر سکا  


ہاں اِک قرآن ہے کہ وہ سُلطانِ نعت ہے
ہاں اِک قرآن ہے کہ وہ سُلطانِ نعت ہے
سطر 111: سطر 131:


ہر ایک بزمِ نعت ، گلستان ِ نعت ہے  
ہر ایک بزمِ نعت ، گلستان ِ نعت ہے  
رمضان کے مہینے میں نعتوں کی برکتیں
یوں لگ رہا ہے جیسے یہ رمضان ِ نعت ہے




سطر 151: سطر 166:
کیا آسماں پہ مدح سرائی نہیں ہوئی ؟
کیا آسماں پہ مدح سرائی نہیں ہوئی ؟


کیا کوئی حد ِ وسعت ِ دامان ِ نعت ہے؟
کیا   کوئی حد ِ وسعت ِ دامان ِ نعت ہے؟




سطر 172: سطر 187:
صحرائے زیست میں ہیں گناہوں کی آندھیاں
صحرائے زیست میں ہیں گناہوں کی آندھیاں


ہے آسرا کوئی تو خیابان نعت ہے
ہے آسرا   کوئی تو خیابان نعت ہے




سطر 195: سطر 210:




نطق و بیاں کا اس کو بنا بیٹھے قبلہ ھم
نطق و بیاں کا اس کو بنا بیٹھے قبلہ ہم


حکمِ وَسَلِّمُو میں جو فرمانِ نعت ہے
حکمِ وَسَلِّمُو میں جو فرمانِ نعت ہے
سطر 281: سطر 296:
نعتِ قراں ہی اصل میں قرآنِ نعت ہے
نعتِ قراں ہی اصل میں قرآنِ نعت ہے


===== [[ابو بکر نادر]]، [[چنیوٹ]]، [[پاکستان]] =====
===== [[ابوبکر نادر]]، [[چنیوٹ]]، [[پاکستان]] =====
جس جس کو جو ملا ہے یہ احسانِ نعت ہے  
جس جس کو جو ملا ہے یہ احسانِ نعت ہے  


سطر 325: سطر 340:
یٰسین نعت سورہ ِرحمان نعت ہے
یٰسین نعت سورہ ِرحمان نعت ہے


الحمد نعت سورہِ عمران نعت ہے
الحمد نعت سورہِ عمران نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل غور




سطر 346: سطر 361:


فیضان نعت ہے یہ بھی فیضان نعت ہے
فیضان نعت ہے یہ بھی فیضان نعت ہے
===== [[احسان اللہ علیمی]]، [[کبیر نگر,اترپردیش]]، [[انڈیا]] =====
پیشکش: [[غلام جیلانی سحر]]
احمد رضا تو ہند میں حسانِ نعت ہے
,,ہرشعبہ حیات میں امکان نعت ہے,,
خواہش ہے نعت لکھنے کی دل میں بہت مگر
لاؤں کہاں سے حرف جو شایانِ نعت ہے
پڑھتے رہو درود رسولِ کریم پر
وردِ درودِ پاک ہی وجدانِ نعت ہے
قرآن پڑھتے وقت یہ احساس بھی ہوا
جیسے ہر ایک لفظ ہی عنوانِ نعت ہے
چین و سکون ڈھونڈنے والے سنو ذرا
تسکینِ روح کے لئے دیوانِ نعت ہے
میرے نصیب میں کہاں جنت کی دید تھی
جنت اگر ملی ہے تو احسانِ نعت ہے


===== [[احسان علی حیدر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احسان علی حیدر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
سطر 381: سطر 429:


اک کربلا ہے دوسرا دالان_نعت ہے
اک کربلا ہے دوسرا دالان_نعت ہے
===== [[احمد اشرفی]]، [[اترپردیش]]، [[انڈیا]] =====
پیشکش : [[غلام جیلانی سحر]]
عشقِ نبی میں دیکھیے قرآنِ نعت ہے
آیت ہو چاہے حرف ہو قربانِ نعت ہے
کیا کیا لکھوں میں شانِ رسالت مآب میں
سرکار کا سراپا ہی عنوانِ نعت ہے
مہکا رہا ہے کِھلتے ہی سب کے وجود کو
کتنا حسین وخوش نما گلدانِ نعت ہے
تصویرِ کائنات کی جو رخ چمک رہی
,,ہرشعبہِ حیات میں امکان نعت ہے,,
جس میں نبی کے خلق کے اوصاف ہوں بیاں
سچ ہے وہی تو اصل میں شایانِ نعت ہے
دل میں ہے چاہ نعتیہ دیوان لکھ کے میں
دنیا سے کہہ سکوں کہ یہ دیوانِ نعت ہے
نادر جو ذکر کرتے ہو خیر الانام کا
رب کی عطا سے تم پہ یہ فیضانِ نعت ہے
مکمل نام : محمد احمد اشرفی,نادر بستوی


===== [[احمد جہانگیر]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد جہانگیر]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
سطر 423: سطر 511:


===== [[احمد رضا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد رضا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
قرآن اصل میں تو دبستان نعت ہے


سیکھے یہاں سے جو وہی سلطان نعت ہے  
حیطہ ء دل میں میرے بھی ارمان نعت ہے


ڈر تو مگر بجا کہ یہ میدان نعت ہے


ساقی ! کمال یہ ترے جام کا نہیں


طاری ہوا جو مجھ پہ ، یہ وجدان نعت ہے
سمجھا نہیں رفعنا کا مطلب یہاں  کوئی


مصحف خدا کا سمجھو تو قرآن نعت ہے


ناں لفظ و معنی کی بھی کوئی قید اب رہی
جب عشق کا چراغ جلا ، بھید تب کھلا


خوشا ! زہے نصیب یہ عرفان نعت ہے
”ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے“




ہو باوضو تو پہلے، قدم بعد میں پڑے
عرشِ بریں پہ باغ سخن کا ہے اب دماغ


باہوش رہ کے چلنا یہ میدان نعت ہے  
بٹتا ہوا یہ صدقہ ء بستان نعت ہے  




آلام کا نہیں ہے مجھے خطرہ کوئی بھی
نافے لٹا رہا ہے جو قریہ ء جان پر


محوِ سفر جہاں ہوں بیابان نعت ہے
باغِ جناں ہے یا چمنستان نعت ہے




ہر لحظہ رہتے ہیں مرے سرکار دل میں ، سو
شیشہ ء دل پہ چھائی ہے اک تازگی سی


”ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے“
شاید اترنے کو وہاں عرفان نعت ہے




بھینی سی چھا چکی ہے جہاں میں جو خوشبو


بٹتا ہوا یہ صدقہ ء بستان نعت ہے  
* حیطہ ءِ دل کو "حیطائے دل" اور "شیشہ ءِ دل" کو "شیشائے دل " اور "قریہ ءِ دل" کو "قریائے دل' باندھا ہے جو غلط ہے ۔


===== [[احمد رضا سعدی]],[[نندور بار]],[[بھارت]] =====


افلاک پر رضا کا ہے دستِ سخن کہ آج
پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]
 
اہلِ ولا میں بیٹھا بفیضان نعت ہے
 
===== [[احمد رضا سعدی]],[[نندور بار]],[[بھارت]] =====
 
پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]


پروردگار ! سینے میں ارمانِ نعت ہے
پروردگار ! سینے میں ارمانِ نعت ہے
سطر 501: سطر 584:




===== [[احمد زاہد]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
===== [[احمد زاہد]]، [[سانگلہ ہل]]، [[پاکستان ]] =====


مکمل نام : محمد احمد زاہد
مکمل نام : محمد احمد زاہد


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے  
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے  


مجھ پر کرم ہے جو بھی وہ احسانِ نعت ہے
مجھ پر کرم ہے جو بھی وہ احسانِ نعت ہے  




جب سے نگاہ یارِ خدا کی ادھر پڑی
توصیف جتنی بھی کروں اور جتنی بھی سنوں


بگڑی یہ میری بن گٸی احسانِ نعت ہے
مدحت کا لفظ لفظ ہی شایانِ نعت ہے




سطر 525: سطر 608:




توصیف جتنی بھی کروں اور جتنی بھی سُنوں
ہر دَور کی زباں پہ محمدﷺ کی ہے ثنا
 
واضح یہ ہو رہا ہے کہ کیا شانِ نعت ہے
 
 
قابل کہاں تھا، آپﷺ نے احسان کر دیا
 
محشر میں منھ دکھانے کو دیوانِ نعت ہے
 
 
میں خود کو کس طرح سے تہی دست مان لوں
 
دیکھو یہ میرے پاس بھی دامانِ نعت ہے
 
 
ہر ایک نے کہی ہے یوں تو نعتِ مصطفیٰؐ


مدحت کا ہر لفظ لگے شایانِ نعت ہے
زاہد نے جو کہی ہے وہ اک شانِ نعت ہے


===== [[احمد عقیل]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد عقیل]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====
سطر 603: سطر 701:
جچتے نہیں ہیں اس کی نگاہوں میں سیم و زر
جچتے نہیں ہیں اس کی نگاہوں میں سیم و زر


جو کوئی اس جہان میں قربانِ نعت ہے
جو   کوئی اس جہان میں قربانِ نعت ہے




سطر 618: سطر 716:
احمد ہے عمر خضر بھی کم نعت کے لیے
احمد ہے عمر خضر بھی کم نعت کے لیے


دنیا میں کب کہیں کوئی پایانِ نعت ہے
دنیا میں کب کہیں   کوئی پایانِ نعت ہے


===== [[احمد مسعود قریشی]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد مسعود قریشی]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
سطر 754: سطر 852:
یہ کائنات چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے
یہ کائنات چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے


===== [[احمد وصال]]، [[پشاور]]، [[پاکستان]] =====
===== [[احمد وصال]]، [[پشاور]]، [[پاکستان ]] =====
جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "  




طَیبہ ہو چَشم و قَلب میں، لب پہ درود ہو
طَیبہ ہو چَشمِ قَلب میں، لب پہ درود ہو


ہر لفظ با وضو ہو یہی شانِ نعت ہے
ہر لفظ با وضو ہو کہ میدانِ نعت ہے




قرآں کا لفظ لفظ ہے توصیفِ مُصطفیٰ
اللہ کا کلام ہے توصیفِ مُصطفیٰ


کتنا فَراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے
کتنا فَراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے
سطر 775: سطر 873:




نصرت ہو زہد و تقویٰ سے، حُبِّ نبی سے رب
یا رب ! کرم ہو نعت کے شایاں عطا ہوں لفظ


مُجھ ناتواں کے سامنے میدانِ نعت ہے
مُجھ ناتواں کے سامنے میدانِ نعت ہے
آو سب اپنی آنکھوں میں ڈالیں ہم اِس کی گرد
حسّان اس کا میر یہ کاروانِ نعت ہے




سطر 800: سطر 893:




احمد وصال پر بھی ہو نظرِ کرم حضور
سمجھوں گا میں وسیلہ شفاعت کا مل گیا
 
ایک شعر بھی جو نعت میں شایانِ نعت ہے
 
 
احمد وصال پر بھی ہو چشمِ کرم حضور
 
در پر کھڑا ہے آپ کے ، دربانِ نعت ہے
 
===== [[اختر حمید گل ]] ، [[اسلام آباد ]]، [[پاکستان ]] =====
 
بشکریہ : [[حافظ محبوب احمد ]]، [[سرگودھا ]]
 
تخلیقِ کائنات بھی عُنوانِ نعت ہے
 
جاری کیا خدا نے ہی فرمانِ نعت ہے
 
 
کردارِ مُصطفٰیؐ کی ہے ہر جان میں نمُود
 
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
 
 
ساگر ہو روشنائی جو سب پیڑ ہوں قلم
 
ممکن نہیں تمام ہو ، یہ شانِ نعت ہے
 
 
جتنے حروف اِس میں پروئے گئے ہیں وہ
 
سارے ہی ضوفشاں ہیں، یہی شانِ نعت ہے
 
 
اتنی مجال کس میں کرے مدحِ مصطفیٰ
 
اللہ کاکلام ہی شایانِ نعت ہے
 
 
حسّانؓ ہو رضا ہو کہ جامی ہو یا فرید
 
رفعت ملی اِنہیں جو یہ، احسانِ نعت ہے
 
 
پیداہوئےحضورتو روشن ہوا جہان
 
ہونے لگا جہان میں اعلانِ ِ نعت ہے
 
 
سجدوں کی ساتھ لائے ہیں سوغات سب مگر
 
میرا تو آ سرا یہی سامانِ نعت ہے
 
 
بخشش کی روزِ حشر جو پوچھیں گے گل سبیل


اک ناشناسِ نعت ہے ، دربانِ نعت ہے
کہہ دوں گامیرےپاس توبرہانِ نعت ہے


===== [[ارتضی حیدر]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
===== [[ارتضی حیدر]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد ارتضی حیدر
مکمل نام : محمّد ارتضی حیدر


مصرع اگر مرا کوئی شایانِ نعت ہے
مصرع اگر مرا   کوئی شایانِ نعت ہے


یہ اصل میں حقیر پہ فیضانِ نعت ہے
یہ اصل میں حقیر پہ فیضانِ نعت ہے
سطر 871: سطر 1,017:
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے  
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے  


مشکل زمین میں جو نکالے غضب کے شعر
تو جان لو کہ یہ کوئی مردانِ نعت ہے




سطر 884: سطر 1,026:
جیسا نصیب ہو گیا اُن کے بلال کو  
جیسا نصیب ہو گیا اُن کے بلال کو  


اب اِس سے بڑھ کے کیا کوئی عِرفانِ نعت ہے ؟  
اب اِس سے بڑھ کے کیا   کوئی عِرفانِ نعت ہے ؟  




سطر 902: سطر 1,044:




خوشبو سے مہکنے لگے دیوار و در میرے
خوشبو سے اب مہکتے ہیں دیوار و در میرے
 
کس درجہ مشکبیں یہ گلستانِ نعت ہے
 
 
اللہ کی سنت کو پورا کر رہے ہیں ہم


ہم پر ہزار شکر یہ احسانِ نعت ہے
کس درجہ مشک بو یہ گلستانِ نعت ہے




سطر 926: سطر 1,063:
اے ارسلان کیسا یہ فیضانِ نعت ہے
اے ارسلان کیسا یہ فیضانِ نعت ہے


===== [[ارشد منیر]]، [[لندن]]، [[برطانیہ]] =====
===== [[ارشد محمود ارشد]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمد ارشد منیر نقشبندی


بخشش کی اک سبیل یہ سامان نعت ہے
مکمل نام : الحاج ارشد محمود ارشد


اور کاسہء امید میں دیوان نعت ہے
لولاک زیرِ سایہء فیضانِ نعت ہے  


وجہء قرار، نسبتِ دامانِ نعت ہے


الفت مرے حضور کی تسکین قلب و جاں


اُسوہ مرے حضور کا عنوانِ نعت ہے
نازاں بہارِ خلد ہے اپنے نصیب پر


فرحاں بفیضِ ثروت ِ بارانِ نعت ہے


لطفِ نبیؐ ہے اور ہے توفیق کردگار


عشقِ نبی میں ہر کوئی حسانؓ نعت ہے
قرآں کے حرف حرف سے ہر دم عیاں ہے نعت


جملہ کلام ِ حق سر و سامانِ نعت ہے


" اُنظُرنا " پہ نگاہ ہے " لا ترفَعُوا " پہ دل


ملحوظ اُن کا مرتبہ دوران نعت ہے
جو حرفِ کُن ہے باعثِ آغازِ کائنات


مستور اُس میں دعوت و اعلانِ نعت ہے


ہر شعبہء حیات ہے ان کی نگاہ میں


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
حُبِ نبی ؐ سے جذبہء طاعت کو ہو فروغ


حُبِ نبیؐ ہی موجبِ میلانِ نعت ہے


واشمس، والضحٰی، نجم ، یسین، والقمر


اُم الکِتاب گویا کہ برہان نعت ہے
موقوف ایک گو شہ ِ ہستی پہ کب ہے نعت


" ہر شعبہ ِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


دربارِ مصطفےٰؐ کی حضوری اسے نصیب


جس کے شعور کو ملا عِرفان نعت ہے
پکڑو نہ قدسیو! مرے اعمال پر مجھے
دیکھو کہ میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے




خوانِ کرم کی بھیک کا مُنہ بولتا ثبوت
بہرِ حصولِ ہدیہء تحسیں، رواں دواں


بہتا جو دل سے چشمہء فیضانِ نعت ہے
طیبہ کی سمت ناقہِ وجدانِ نعت ہے




کیجئے ضرور کیجئے کثرت درود کی
وارد نبیؐ کا خُلق ہے قُرآں میں واہ واہ
کیا اہتمامِ غایتِ حفظانِ نعت ہے


دل میں اگر جناب کے ارمان نعت ہے


پوچھا جو میں نے کیا ہے فلک تو ملا جواب


فیضانِ آل مصطفٰے ہے شکر کردگار
اے بے خبر یہ گُنبدِ ایوانِ نعت ہے


صحرائے دل پہ ہر گھڑی باران نعت ہے


ارشدؔ! مرے نبیؐ کا یہ اعجاز دیکھنا


سب پر رسول پاک کی نظر کرم ہے خاص
شام و سحر نئی سے نئی شانِ نعت ہے


ہر اک کا ہی قصیدہ تو نعمان نعت ہے
===== [[ارشد منیر]]، [[لندن]]، [[برطانیہ]] =====
مکمل نام : محمد ارشد منیر نقشبندی


کل اٹھارہ میں سے گیارہ منتخب اشعار ،


ممکن کہاں منیر ہے مدحت حضؐور کی


بخشا ہوا حضؐور کا سامانِ نعت ہے
بخشش کی اک سبیل یہ سامانِ نعت ہے
اور کاسہء امید میں دیوانِ نعت ہے
 
الفت مرے حضور کی مضمونِ قلب و جاں
اُسوہ مرے حضور کا عنوانِ نعت ہے
 
" اُنظُرنا " پہ نگاہ ہے " لَا تَرفَعُوا " پہ دل
ملحوظ اُن کا مرتبہ دورانِ نعت ہے
 
بزمِ درود برپا ہے قرطاسِ فکر پر
خامہ یہ مجھ فقیر کا مہمانِ نعت ہے
 
دربار مصطفٰے کی حضوری اسے نصیب
جس کے شعور کو ملا عرفان نعت ہے
 
خوان کرم کی بھیک کا منہ بولتا ثبوت
دل سے رواں جو چشمہء فیضانِ نعت ہے
 
کیجئے ضرور کیجئے کثرت درود کی
دل میں اگر جناب کے ارمانِ نعت ہے
 
فیضانِ آل مصطفٰے ہے شکرِ کردگار
صحرائے دل پہ ہر گھڑی بارانِ نعت ہے
 
مَسعود ہے ، جو آشنا مدحِ رسول سے
مَردود وہ سخن کہ جو انجانِ نعت ہے
 
ممکن کہاں منیر ہے مدحت حضور کی
بخشا ہوا حضور کا سامانِ نعت ہے  
 
گُھٹی میں پائی نعمتِ نعتِ نبی منیر
ماں سے ملا یہ تحفہء میلانِ نعت ہے
 
"ارشد منیر نقشبندی"
لندن


===== [[ارشاد نیازی]] ، [[چونڈہ]] ، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]] =====
===== [[ارشاد نیازی]] ، [[چونڈہ]] ، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]] =====
سطر 1,065: سطر 1,240:
چن لیجئے کہیں سے بھی مدحت کے رزق کو  
چن لیجئے کہیں سے بھی مدحت کے رزق کو  


یہ کائنات جیسے کوئی خوانِ نعت ہے
یہ کائنات جیسے   کوئی خوانِ نعت ہے




سطر 1,075: سطر 1,250:
لولو عقیدتوں کے ہیں جھلمل بہ چشمِ دہر  
لولو عقیدتوں کے ہیں جھلمل بہ چشمِ دہر  


جگمگ کہیں بہ لب کوئی مرجانِ نعت ہے
جگمگ کہیں بہ لب   کوئی مرجانِ نعت ہے




سطر 1,087: سطر 1,262:
پیہم جو ایک شخص پریشانِ نعت ہے
پیہم جو ایک شخص پریشانِ نعت ہے


===== [[ارم بسرا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====
===== [[ارم اقبال نقوی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
لوح و قلم کی شرح قلمدانِ نعت ہے


أرض و سماوا صفحہ دیوانِ نعت ہے  
ذوقِ سخن جو لازمِ سامانِ نعت ہے


عشقِ رسولؐ شاملِ ارکانِ نعت ہے


مسلم ہوں میرے گھر میں حیا کے اصول ہیں


پردے میں رہتے ہیں سبھی احسانِ نعت ہے
نعتِ نبیؐ سنا گئے دادا رسولؐ کے


گویا جہاں میں ان سے ہی عرفانِ نعت ہے


بچے جوان بوڑھے سبھی نعت خوان ہیں


کنبے پہ میرے بارش بارانِ نعت ہے  
لب پہ جنابِ آمنہؑ کے نعت ہے رواں


لوری کے حرف حرف میں اک شانِ نعت ہے


والشمس والقمر ہو کہ والیل والضحی


اللہ کی طرف سے یہ سامانِ نعت ہے
تھے حامدِ رسولؐ ابوطالبِؑ عظیم


یہ اسمِ پاک خاصہِ خاصانِ نعت ہے


صلو و سلمو پہ عمل کیجیے جناب


اس حکم کا اداریہ عرفانِ نعت ہے
بی بیؑ خدیجہؑ حرفِ تسلی میں جو کہیں


===== [[اسحاق اکبری]]، [[اودیپور، راجستھان]]، [[انڈیا]] =====
وہ گفتگو بھی سربسر اعلانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد اسحاق اکبری  نقشبندی


انسان کیسے لکھے جو شایانِ نعت ہے


نازل کیا خدا نے وہ قرآن نعت ہے
نعتِ نبیؐ کا عکس مناجاتِ فاطمہؑ


کاشانہِ رسولؐ شبستانِ نعت ہے


اس زندگی میں کیا میں پڑھوں گا لحد میں بھی


""ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے""
جب بھی کہا علیؑ نے  کوئی نعتیہ کلام


سب نے کہا یہ لولو و مرجانِ نعت ہے


دنیا کی زندگی ہو کہ عقبیٰ کی زندگی


دونوں جہاں میں اپنی تو پہچان نعت ہے
ایوبؓ اورحسّانؓ کی پہچان بزمِ نعت  


ہر عہد میں رواں یہ قلمدانِ نعت ہے


میں کیا ہوں کیا نہیں ہوں یہ ہرگز نہ پوچھیۓ


جیسا بھی ہوں جو بھی ہوں یہ فیضان نعت ہے
صدیوں سے نعت لکھی، مگر تشنگی ہنوز


نے انتہائے عشق نہ پایانِ نعت ہے


حاجت ہی کیا دوا کی میں بیمار عشق ہوں


میرے لئے تو درد کا درمان نعت ہے
چادر عطا ہوئی ہے جو بردہ شریف پر


یہ معجزہ گواھیئ وجدانِ نعت ہے


ہم کو کسی بھی تیرگی کا خوف کیوں ہو جب
سیرت کی روشنی میں ہو تہذیب کی نمو


عشق حضور شمع شبستان نعت ہے
ہاں یہ چلن ہی حاصلِ عنوانِ نعت ہے




کچھ ایسی نعت سرور دیں میں ہے چاشنی
واجب ہے احتسابِ عمل، روحِ انقلاب


صد بار گنگنا کے بھی ارمان نعت ہے
”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے“




اسحاق اس سرور کو کیسے کروں بیاں
اقلیمِ شعر دائمی رفعت جو پا گئی


حاصل جو میرے قلب کو دوران نعت ہے
شاعر ہر اک زباں میں سخن دانِ نعت ہے


===== [[اسد علی اسد]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
احمد ؑ میں یہ جو حمد ہے جزدانِ نعت ہے


مدحت نبی ؑ کی اصل میں قرآنِ نعت ہے
ہم نے توخود غزل میں بھی نعتِ نبیؐ سنی


کتنا وسیع ترین یہ دامانِ نعت ہے


عشقِ نبی ؑ میں دل تو سُلیمانِ نعت ہے


لیکن میرا دماغ بھی سَلمانِ نعت ہے
آلِ نبیؑ کا ذکر بھی ذکرِ رسولؐ ہے  


سوچو تو مرثیہ بھی توایوانِ نعت ہے


جو احترامِ حضرتِ عمرانِ ؑ نعت ہے


مجھ کلمہ گو کے واسطے ایمانِ نعت ہے
مجھ بے نوا کو کچھ جو سخن کا شعور ہے  


یہ بھی تو میرے واسطے احسانِ نعت ہے


محشر کی دھوپ اُن کو جلائے گی کیا بھلا


جن عاشقوں پہ سایہ ءِ دامانِ نعت ہے
پایا ارم خدائے سخن سے یہ مرتبہ


میری بھی نعت شاملِ دیوانِ نعت ہے


ممکن ہے راز ہو یہ الف لام میم کا
===== [[ارم بسرا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====
لوح و قلم کی شرح قلمدانِ نعت ہے  


ہر ایک حرف حاملِ دیوانِ نعت ہے
أرض و سماوا صفحہ دیوانِ نعت ہے  




کر کے عمل رسول ؑ کی سیرت پہ دیکھ لیں
مسلم ہوں میرے گھر میں حیا کے اصول ہیں


ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے
پردے میں رہتے ہیں سبھی احسانِ نعت ہے  




گھر سے چلوں مدینے کو پڑھتے ہوئے درود
بچے جوان بوڑھے سبھی نعت خوان ہیں


کافی مجھے سفر میں یہ سامانِ نعت ہے
کنبے پہ میرے بارش بارانِ نعت ہے  




عشقِ نبی ؑ میں وہ بھی بلالِ نبی ؑ ہوا
والشمس والقمر ہو کہ والیل والضحی


جس شخص کی زبان کو عرفانِ نعت ہے
اللہ کی طرف سے یہ سامانِ نعت ہے  




کرنا یقیں رسول ؑ کی ہر ایک بات پر
صلو و سلمو پہ عمل کیجیے جناب


دیں کی نظر سے دیکھیں تو عنوانِ نعت ہے
اس حکم کا اداریہ عرفانِ نعت ہے


===== [[اسحاق اکبری]]، [[اودیپور، راجستھان]]، [[انڈیا]] =====


رگ رگ میں جو اسدؔ ہے رواں عشقِ مصطفیٰ ؑ
مکمل نام : محمّد اسحاق اکبری نقشبندی


میرا لہو نہیں ہے یہ دورانِ نعت ہے
انسان کیسے لکھے جو شایانِ نعت ہے


===== [[اسلم رضا خواجہ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====
نازل کیا خدا نے وہ قرآن نعت ہے


رب نے کشاد کر دیا دامان نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
اس زندگی میں کیا میں پڑھوں گا لحد میں بھی


""ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے""


ہم ایسے لوگ لائے ہیں ایمان غیب پر


یعنی ہمارے واسطے ایمان نعت ہے


میں کیا ہوں کیا نہیں ہوں یہ ہرگز نہ پوچھیۓ


تیرہ شبی میں نور کا مینار انکا نام
جیسا بھی ہوں جو بھی ہوں یہ فیضان نعت ہے


مردہ دلوں کے درد کا درمان نعت ہے


حاجت ہی کیا دوا کی میں بیمار عشق ہوں


نخل وحجر جھکے ہوئے رطب اللسان ہیں
میرے لئے تو درد کا درمان نعت ہے


انکے ہر اک غلام کی پہچان نعت ہے


ہم کو کسی بھی تیرگی کا خوف کیوں ہو جب


نوع بشر کے واسطے دستور آخری
عشق حضور شمع شبستان نعت ہے


پڑھ لو خدا کا سارا ہی قرآن نعت ہے


کچھ ایسی نعت سرور دیں میں ہے چاشنی


ان کے خدا کے وعدہ لاریب کی قسم
صد بار گنگنا کے بھی ارمان نعت ہے


ہر سمت کائینات میں اعلان نعت ہے


===== [[اشرف نقوی]] ، [[شیخوپورہ]] ، [[پاکستان]] =====
اسحاق اس سرور کو کیسے کروں بیاں


حاصل جو میرے قلب کو دوران نعت ہے


مجھ پر مرے حضور کا احسانِ نعت ہے  
===== [[اسد علی اسد]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
احمد ؑ میں یہ جو حمد ہے جزدانِ نعت ہے


میرے لیے کھلا ہوا میدانِ نعت ہے
مدحت نبی ؑ کی اصل میں قرآنِ نعت ہے




اُن کا کرم جو ہو تو ہر اِک لفظ محترم
عشقِ نبی ؑ میں دل تو سُلیمانِ نعت ہے


گر چاہیں وہ، غزل میں بھی اِمکانِ نعت ہے
لیکن میرا دماغ بھی سَلمانِ نعت ہے




گھر میں جو میرے رحمت و برکت ہے ہر گھڑی
جو احترامِ حضرتِ عمرانِ ؑ نعت ہے


قرآن کا وسیلہ ہے، فیضانِ نعت ہے
مجھ کلمہ گو کے واسطے ایمانِ نعت ہے




شانِ رسولِ پاک میں نازل کیا گیا
محشر کی دھوپ اُن کو جلائے گی کیا بھلا


یعنی قرآنِ پاک ہی قرآنِ نعت ہے
جن عاشقوں پہ سایہ ءِ دامانِ نعت ہے




آقا! مجھے بھی شہرِ مدینہ بلایئے
ممکن ہے راز ہو یہ الف لام میم کا


مجھ کو بھی در پہ پڑھنے کا ارمانِ نعت ہے
ہر ایک حرف حاملِ دیوانِ نعت ہے




گر میرے ٹوٹے پھوٹے یہ الفاظ ہوں قبول
کر کے عمل رسول ؑ کی سیرت پہ دیکھ لیں


بخشش کو میری کافی یہ دیوانِ نعت ہے
ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے




رب سے اگر ہے پیار، اطاعت نبی کی کر
گھر سے چلوں مدینے کو پڑھتے ہوئے درود


سب مومنوں سے رب کا یہ فرمانِ نعت ہے
کافی مجھے سفر میں یہ سامانِ نعت ہے




ماں باپ میرے اور میں خود آپ پر فدا
عشقِ نبی ؑ میں وہ بھی بلالِ نبی ؑ ہوا


بس اِک یہی عقیدہ ہی ایمانِ نعت ہے
جس شخص کی زبان کو عرفانِ نعت ہے




سیرت پہ اُن کی چلنا ہو جب مقصدِ حیات
کرنا یقیں رسول ؑ کی ہر ایک بات پر


"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
دیں کی نظر سے دیکھیں تو عنوانِ نعت ہے




اشرف میں ہر گھڑی تھا گماں میں گھرا ہوا
رگ رگ میں جو اسدؔ ہے رواں عشقِ مصطفیٰ ؑ


گر پُر یقیں ہوں آج تو ایقانِ نعت ہے
میرا لہو نہیں ہے یہ دورانِ نعت ہے


===== [[اسلم رضا خواجہ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====


===== [[اشرف یوسفی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
رب نے کشاد کر دیا دامان نعت ہے  
لطف و سرور و کیف جو دورانِ نعت ہے  


نخل ِ دل و نظر پہ یہ بارانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے




ہر اک ظہور پر تو ِاعیانِ نعت ہے
ہم ایسے لوگ لائے ہیں ایمان غیب پر  
ہر گوشہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


یعنی ہمارے واسطے ایمان نعت ہے


اس عالم ِخراب میں صحرائے خواب میں
صد شکرہم پہ سایہ ء مژگانِ نعت ہے


تیرہ شبی میں نور کا مینار انکا نام


گلہائے رنگا رنگ ہیں اسمائے شاہ ِدیں
مردہ دلوں کے درد کا درمان نعت ہے
دامان نو بہار یہ دامانِ نعت ہے




میثاقِ مصطفےٰ تھا جو یوم ِالست تھا
نوع بشر کے واسطے دستور آخری


قالو بلا تو اصل میں پیمانِ نعت ہے
پڑھ لو خدا کا سارا ہی قرآن نعت ہے




ان کی قبولیت سے سخن کو ہے استجاب
ان کے خدا کے وعدہ لاریب کی قسم


اک لفظ بھی کہاں مرا شایانِ نعت ہے
ہر سمت کائینات میں اعلان نعت ہے




روشن دل و دماغ ہیں حب ِرسول سے


طیبہ کی خاک سرمہ ء چشمانِ نعت ہے
===== اسلم فیضی ۔ کیا مرتبہ ہے نعت کا‘ کیا شان نعت ہے =====


شاعر : [[اسلم فیضی ]]، [[کوہاٹ ]]


اشرف در ِحضور تلک لے کے جائے گا


اس دستِ نارسا میں جو دامانِ نعت ہے
کیا مرتبہ ہے نعت کا‘ کیا شان نعت ہے


===== [[اشفاق احمد غوری]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان نعت ہے
رفعت خیال و فکر کی عرفانِ نعت ہے  


معراج میرے حرف کی دامانِ نعت ہے


یہ جو اذاں میں سوز بلالیؓ ہے جلوہ ریز


ہم تو فقط رعایا ہیں ملکِ نعوت کی
توحید کا سرُور ہے وجدان نعت ہے


واللہ رب کی ذات ہی سلطانِ نعت ہے


محشر میں کام آئے گا بخشش کے واسطے


حرفِ نیاز ،اشکِ رواں، عشقِ محترم
لفظوں کی جھولیوں میں جو سامان نعت ہے


فہم و شعور میں یہی سامانِ نعت ہے


اوصافِ مصطفےٰ سے خدا کا‘ پتہ ملا


فکر و خیال مائلِ نعتِ نبی ہوں گر
میرا تو دل بھی‘ جان بھی‘ قربان نعت ہے


"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


میرے نبیؐ کی مثل ہُوا ہے نہ ہو سکے


مٹنے لگی ہے حرف و معانی کی تشنگی
وہ جانِ نعت ہیں‘ یہی اعلان نعت ہے


لفظوں کے ریگ زار پہ بارانِ نعت ہے


میری صدا کبھی بھی پہنچتی نہ‘ عرش تک


سجدے میں ہے برائے تشکر مرا قلم
مجھ بے نوا پہ سارا یہ احسانِ نعت ہے


میرے قلم کی نوک پہ احسانِ نعت ہے


ذکر نبیؐ سے معرفتِ دیں کے گل کھلے


کہتے ہیں میرے جاننے والے یقین سے
شاداب کس قدر یہ گلستانِ نعت ہے


اشفاق صدقِ قلب سے قربانِ نعت ہے


===== [[اصغر شمیم]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
دنیا کو ہم نے عدل کی پہچان بخش دی
قرآن نعت ہے مرا ایمانِ نعت ہے


"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"
کیونکہ ہمارے ہاتھ میں میزان نعت ہے




جو بھی ہوں میں تو ان کے وسیلے سے آج ہوں
ہر دور کو شعور ملا آگہی ملی


میرے لئے تو ان کا یہ فیضانِ نعت ہے
فیضی یہ فیض اصل میں فیضانِ نعت ہے




اب تو رہوں میں ان کے ہی ہمراہ ہر گھڑی


سرکار دو جہاں کا وہ احسانِ نعت ہے
===== [[اسلم قمر]]، [[گوجرہ]]، [[پاکستان]] =====
لا ریب عشق ِ شاہ ِ امم جان ِ نعت ہے  


میں کہہ رہا ہوں نعت یہ فیضان ِ نعت ہے


لکھتا رہوں میں آپ کے بارے میں رات دن


میری بھی زندگی کا یہ ارمانِ نعت ہے
مدحت سرائی ان کی کروں، کس طرح کروں؟


مشکل سخنوری میں یہ میدان ِ نعت ہے


کتنا سکون ملتا ہے لکھتا ہوں جب شمیم


میرے لئے تو میرا یہ دیوانِ نعت ہے
کرنے کو پیش کچھ نہیں مجھ بے عمل کے پاس


===== [[اعجاز حسین عاجز ]]، [[گوجرانوالہ]] ، [[پاکستان ]] =====
بس خرقہ ءِ عمل میں یہ سامان ِ نعت ہے




ہم ہیں، قلم دوات ہے، میدانِ نعت ہے
باد ِ صبا بوقت ِ سحر کہہ گئی مجھے


کیونکہ ہمیں ازل سے ہی فرمانِ نعت ہے
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "




عالم فدائے وسعتِ دامانِ نعت ہے
کہہ کر پکارا جائے ثنا خوان ِ مصطفی


جس جس کو دیکھیے وہی قربانِ نعت ہے
اسلم قمر کو اس لیے ارمان ِ نعت ہے


===== [[اسلم ویشالوی]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
کیا کیا بتاؤں آپ کو احسان نعت ہے


نعتیں ہیں اس میں جیسے ہوں قرآں کی آیتیں
ہم شاعروں پہ ہر گھڑی فیضان نعت ہے


سینے میں دل نہیں مرے، جزدانِ نعت ہے


دل میں اگر ہو عشقِ رسالت مآب تو


ہر دور کے شعور کی تشکیل کے لیے
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


درکار ہر زمانے کو فیضانِ نعت ہے


کیوں کر نہ فکر بحر سخن میں ہو غوطہ زن


نورِ تجلیاتِ رسالت کے فیض سے
احمد رضا کا، ہاتھ میں دیوان نعت ہے


’’ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


مدحت رسول پاک کی آساں نہیں جناب


کلیاں چٹک چٹک کے یہی کہہ رہی تھیں سب
چلیے ذرا سنبھل کے یہ میدان نعت ہے


ہم کو بھی شوق دید ہے، ارمانِ نعت ہے


مجھ سے رکھوگے ربط تو پاؤگے خلد پاک


حسان ایک فرد نہیں ایک سوچ ہے
ہر مدح خواں کے واسطے اعلان نعت ہے


مدحت سرا ہے جو بھی وہ حسانِ نعت ہے


منکر نکیر دیکھ کے اسلم کو کہہ اٹھے


توصیف مصطفےٰ کی ہے توصیفِ کردگار
رہنے دو، اس کے ہاتھ میں گلدان نعت ہے


بین السطورِ حمد بھی عنوانِ نعت ہے
===== [[اشرف نقوی]] ، [[شیخوپورہ]] ، [[پاکستان]] =====




اس پر فدا، ہے جس کو ودیعت شعورِ نعت
مجھ پر مرے حضور کا احسانِ نعت ہے  


اس پر نثار جو بھی سخندانِ نعت ہے
میرے لیے کھلا ہوا میدانِ نعت ہے




تلقین خود حضور نے سعدی کو جو کیا
اُن کا کرم جو ہو تو ہر اِک لفظ محترم


وہ مصرعِ درود ہی سلطانِ نعت ہے
گر چاہیں وہ، غزل میں بھی اِمکانِ نعت ہے




اے وجہ کُن فکاں! شہِ ما کان ما یکون
گھر میں جو میرے رحمت و برکت ہے ہر گھڑی


بس تیری ذات کے لیے امکانِ نعت ہے
قرآن کا وسیلہ ہے، فیضانِ نعت ہے




لا یمکن الثنا کما کان حقہ
شانِ رسولِ پاک میں نازل کیا گیا


ذکر علو و مرتبت و شانِ نعت ہے
یعنی قرآنِ پاک ہی قرآنِ نعت ہے




سیاح لامکاں تری اک سیر کے طفیل
آقا! مجھے بھی شہرِ مدینہ بلایئے


اب لامکاں بھی شاملِ امکانِ نعت ہے
مجھ کو بھی در پہ پڑھنے کا ارمانِ نعت ہے




عاجز وفور شوق میں حد ادب رہے
گر میرے ٹوٹے پھوٹے یہ الفاظ ہوں قبول


لا ترفعوا کہ آیت دربان نعت ہے
بخشش کو میری کافی یہ دیوانِ نعت ہے




سید اعجاز حسین عاجز، گوجرانوالہ، پاکستان
رب سے اگر ہے پیار، اطاعت نبی کی کر


===== [[افتخار حسین کریمی]]، [[واہ کینٹ]]، [[پاکستان]] =====
سب مومنوں سے رب کا یہ فرمانِ نعت ہے
لُطفِ دوام مُجھ پہ بفیضانِ نعت ہے


اُن کے کرم سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے


ماں باپ میرے اور میں خود آپ پر فدا


مجھ سا حقیر مدحتِ سرکار کیا کہے
بس اِک یہی عقیدہ ہی ایمانِ نعت ہے


جاری اُنہی کے فیض سے فیضانِ نعت ہے


سیرت پہ اُن کی چلنا ہو جب مقصدِ حیات


سرکار کا ادب رہے ملحوظ ہر گھڑی
"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


ناداں! دھیان کر کہ یہ میدانِ نعت ہے


اشرف میں ہر گھڑی تھا گماں میں گھرا ہوا


پڑھتا ہوں عترتِ شہِ کونین پر درود
گر پُر یقیں ہوں آج تو ایقانِ نعت ہے


ہر ہر نَفَس فداٸی و قُربانِ نعت ہے


===== [[اشرف یوسفی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
لطف و سرور و کیف جو دورانِ نعت ہے


پہلے الف سے آخری پارے کی سین تک
نخل ِ دل و نظر پہ یہ بارانِ نعت ہے


قُرآنِ پاک دیکھ لو قُرآنِ نعت ہے


ہر اک ظہور پر تو ِاعیانِ نعت ہے
ہر گوشہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


گر ہو نظر میں رحمتِ عالم کی ذاتِ پاک


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اس عالم ِخراب میں صحرائے خواب میں
صد شکرہم پہ سایہ ء مژگانِ نعت ہے




سرکار! مجھ کو اذنِ ِثناء بخش دیجیے
گلہائے رنگا رنگ ہیں اسمائے شاہ ِدیں
دامان نو بہار یہ دامانِ نعت ہے


سرکار! میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے


میثاقِ مصطفےٰ تھا جو یوم ِالست تھا


بچپن سے لوریوں میں سُنی نعت آپ کی
قالو بلا تو اصل میں پیمانِ نعت ہے


یوں ہی نہیں مزاج میں میلانِ نعت ہے


ان کی قبولیت سے سخن کو ہے استجاب


اِس کے سبب ہی حشر میں ہو گی مِری نجات
اک لفظ بھی کہاں مرا شایانِ نعت ہے


کافی ہے میرے پاس جو سامانِ نعت ہے


روشن دل و دماغ ہیں حب ِرسول سے


لکھے بشر تو کیسے لکھے مدح آپ کی
طیبہ کی خاک سرمہ ء چشمانِ نعت ہے


وہ لفظ ہی نہیں کہ جو شایانِ نعت ہے


اشرف در ِحضور تلک لے کے جائے گا


اظفر کو کاش حشر میں سرکار یوں کہیں
اس دستِ نارسا میں جو دامانِ نعت ہے


کتنا حسیں تُو لایا یہ دیوانِ نعت ہے
===== [[اشفاق احمد غوری]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
رفعت خیال و فکر کی عرفانِ نعت ہے  


===== [[اقبال خان]]، [[باغ، کشمیر]]، [[پاکستان ]] =====
معراج میرے حرف کی دامانِ نعت ہے


مکمل نام : محمد اقبال خان


ہم تو فقط رعایا ہیں ملکِ نعوت کی


آقا کی بارگاہ میں اعلانِ نعت ہے
واللہ رب کی ذات ہی سلطانِ نعت ہے


قرآں جو کہہ رہا ہے وہی شانِ نعت ہے


حرفِ نیاز ،اشکِ رواں، عشقِ محترم


انگلی کا پور پور ثناء خوان ہے مرا
فہم و شعور میں یہی سامانِ نعت ہے


یوں نعت لکهتے رہنا بهی عرفانِ نعت ہے


فکر و خیال مائلِ نعتِ نبی ہوں گر


ہر حرف بولتا ہے محبت نبی سے یے
"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


ایسا لطیف میرا یہ دیوانِ نعت ہے


مٹنے لگی ہے حرف و معانی کی تشنگی


دو چار شعر میرے اگر ہوں قبول بس
لفظوں کے ریگ زار پہ بارانِ نعت ہے


رب کے حضور اتنا سا پیمانِ نعت ہے


سجدے میں ہے برائے تشکر مرا قلم


بطحا کو جانے والی ہواؤں سے کہہ دیا
میرے قلم کی نوک پہ احسانِ نعت ہے


میری عقیدتوں کا یہ سامانِ نعت ہے


===== [[الیاس بابر اعوان]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان ]] =====
کہتے ہیں میرے جاننے والے یقین سے
اس بحرِ بے کنار میں ایقانِ نعت ہے


یہ اشک ہی نہیں میاں، سامانِ نعت ہے
اشفاق صدقِ قلب سے قربانِ نعت ہے


===== اشفاق حسین ہمذالی ۔ ہر سو بہارِ نکہتِ بُستانِ نعت ہے =====


جو کچھ بھی ہے خیالِ صد افکار کا محیط
شاعر : [[انجنیئر اشفا ق حسین ہمذا لیؔ]] ، [[فیصل آباد]]


ہستی کے تار و پود کا دیوانِ نعت ہے
ہر سو بہارِ نکہتِ بُستانِ نعت ہے
صد شکر ، ہم پہ سا یہءدامانِ نعت ہے  




کیا پوچھتے ہو مجھ سے مقامِ غنا کا راز
ہیں مِدحتِ رسولؐ کے ہر جا کھِلے گلاب


ایمان کی کہوں مرا ایمانِ نعت ہے
بزمِ خیا ل ہے کہ گلستان ِ نعت ہے




جز رب کے کون مدح کا حق کرسکا ادا
ہیں اُن کے ذکر و فکر میں مصروف دھڑکنیں


قرآن عین آپ کے شایانِ نعت ہے
یہ شو ق میرا مظہرِ ایما نِ نعت ہے




اے کاش مجھ پہ آپ کا انعام ایسے ہو
رہبر جو ہر قدم پہ ہے اُسو ہ حضور ؐ کا  


دیکھیں مجھیں تو بولیں کہ حسنِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیا ت میں اِمکا نِ نعت ہے"




ہر لحظہ انہماک ہے آقا کی ذات پر
یُو ں زندگی ہو وقفِ ثنا اے مرے کریم
ہر شخص بو ل اٹّھے یہ قربانِ نعت ہے


ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


محشر میں ہو گا سا تھ وہ حسّانؓ و کعبؓ کے


میں نعت لکھ رہا ہوں کہ باغِ ارم میں ہوں
ہر لمحہ جس کا مصرف ِمیلا نِ نعت ہے


ہر حرف جیسے سنبل و ریحانِ نعت ہے


===== [[امجد ربانی مصباحی]]، [[آستانۂ ربانیہ]]، [[شرف آباد]]،  [[جبل پور شریف]]، [[بھارت]] =====
خو ش ہو کے میں بھی سب کو کہو ں گا یہ حشر میں


بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]
وجہِ نجا ت میرا یہ سا مانِ نعت ہے


*دل اشتیاق مند گلستانِ نعت ہے*
*سنتے ہیں نرم خوٗ بڑا، رضوانِ نعت ہے*


جو کر رہا ہے ذا تِ نبیؐ کے قریں مجھے


*حسنِ نبی کی تابِ حکایت کہاں سے لاے*
اُن کے کرم سے میر ا قلمدا ن نعت ہے
*کیا سرخروے فکر پشیمانِ نعت ہے*




*کیسی کشش ہے، ذکرِ رسالت مآب کی*
اہلِ سُخن میں جس سے مرا بھی ہوا شمار
*جو تاجدارِ فکر ہے، دربانِ نعت ہے*


میرا یہ ذوقِ شعر بھی احسا نِ نعت ہے


*ہر سانس عطرِ ذکرِ نبی میں بسائیے*
*ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*


نا عِت تما م ان کے ہیں آپس میں خیر خوا ہ


*زخم جگر میں عشقِ نبی کی ہیں لذتیں*
برکت ہے یہ ثنا کی یہ فیضا نِ نعت ہے  
*صد شکر پاس نشترِ ذیشانِ نعت ہے*




*پھر آج ہیں حکایتیں، حسنِ حضور کی*
کس کا م کے یہ لفظ ومُعا نی کے سلسلے
*پھر آج گرم محفلِ یارانِ نعت ہے*


تیری بیا ضِ فن میں جو فُقدا نِ نعت ہے


*ہوکر نثار گیسو و رخ پر حضور کے*
*میری عروس فکر، غزل خوان نعت،ہے*


مِدحت نبیؐ کی مرجع اہلِ سخن ہو ئی


*ہر آن یاد شاہ میں اشکوں کی ہے لڑی*
اس دو ر کے ادب پہ یہ فیضا نِ نعت ہے
*شامِ فراق، دعوتِ مژگانِ نعت ہے*




*"امجد" کی نعت گوئی بھی فیضاں ہے نعت کا*
ہمذا لی ؔکی دعا ہے اِلٰہی ترے حضو ر !
*کب اِس کی دسترس سرِ عرفانِ نعت ہے*


===== [[امجد نذیر ]]، [[میلسی ]] =====
و ہ لہجہ بخش مجھ کو جو شا یا نِ نعت ہے


یاسین نعت، سورہ ءِ رحمان نعت ہے
===== [[اصغر شمیم]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====


نعتوں میں سب سے اعلی یہ قرآن نعت ہے


قرآن نعت ہے مرا ایمانِ نعت ہے


کاغذ قلم دوات مہکتے ہیں رات کو
"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"


مہکیں نہ کس طرح یہ قلمدانِ نعت ہے


جو بھی ملا ہے ان کے وسیلے سے ہی ملا


ہر چیز کائنات کی ان کےلیے بنی
میرے لئے تو ان کا یہ فیضانِ نعت ہے


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


جو ہیں حبیب رب کے وہ میرے رسول ہیں


پڑھ کر درود گھر سے روانہ ہوا ہوں میں
سرکار دو جہاں کا یہ احسانِ نعت ہے


اب کوئی ڈر نہیں ،کہ نگہبان نعت ہے


مدحت سرائی ان کا میں کرتا رہوں مدام


امجدؔ نجات کےلیے کافی ہے حشر میں
میری بھی زندگی کا یہ ارمانِ نعت ہے


گر میرا ایک شعر بھی شایانِ نعت ہے
تحریر جب بھی کرتا ہو نعتِ نبی شمیم


===== [[انعام الحق معصوم]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
ہر رہ گزر میں جیت کی پہچانِ نعت ہے
مکمل نام : انعام الحق معصوم صابری


دن رات نعت ہے مرا ایمان نعت ہے
===== [[اعجاز حسین عاجز ]]، [[گوجرانوالہ]] ، [[پاکستان ]] =====


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


ہم ہیں، قلم دوات ہے، میدانِ نعت ہے


تم کھول دیکھ لو اسے معلوم تم کو ہو
کیونکہ ہمیں ازل سے ہی فرمانِ نعت ہے


قرآن نعت ہے تو یہ ایقان نعت ہے


عالم فدائے وسعتِ دامانِ نعت ہے


میری نجات ان کی شفاعت سے بالیقیں
جس جس کو دیکھیے وہی قربانِ نعت ہے


زاد سفر مرا تو یہ سامان نعت ہے


نعتیں ہیں اس میں جیسے ہوں قرآں کی آیتیں


میلاد محفلیں ہیں سجی گھر میں عاشقو
سینے میں دل نہیں مرے، جزدانِ نعت ہے


خوشبو مہک رہی ہے گلستان نعت ہے


ہر دور کے شعور کی تشکیل کے لیے


صد شکر رب کا میرے خیالات پاک ہیں
درکار ہر زمانے کو فیضانِ نعت ہے


کہ عشق میں حضور کے دیوان نعت ہے


نورِ تجلیاتِ رسالت کے فیض سے


معصوم خوش نصیب رقم نعت ہم نے کی
’’ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


پائی ہے راہ جس سے وہ حسان نعت ہے


===== [[اویس ازہر مدنی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
کلیاں چٹک چٹک کے یہی کہہ رہی تھیں سب
مکمل نام : محمّد اویس ازہر مدنی


کہئے کسے کسے کہ وہ حسانِ نعت ہے
ہم کو بھی شوق دید ہے، ارمانِ نعت ہے


پہچاں ہے جس کی نعت وہ سلطانِ نعت ہے


حسان ایک فرد نہیں ایک سوچ ہے


کھلتے ہیں یاں گُلابِ ثنائے محمدی
مدحت سرا ہے جو بھی وہ حسانِ نعت ہے


لپٹا طہارتوں میں یوں بُستانِ نعت ہے


توصیف مصطفےٰ کی ہے توصیفِ کردگار


احکام اس میں اور بھی موجود ہیں مگر
بین السطورِ حمد بھی عنوانِ نعت ہے


قرآنِ پاک اصل میں دیوانِ نعت ہے


اس پر فدا، ہے جس کو ودیعت شعورِ نعت


سرکار! بے ہنر پہ بھی اک چشمِ التفات
اس پر نثار جو بھی سخندانِ نعت ہے


سرکار! میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


تلقین خود حضور نے سعدی کو جو کیا


قائم سخن وری میں ہے یوں انفرادیت
وہ مصرعِ درود ہی سلطانِ نعت ہے


صد شکر اپنے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


اے وجہِ کُن فکاں! شہِ ما کان ما یکون


ہر گوشۂ حیات ہے مدحت سے فیضیاب
بس تیری ذات کے لیے امکانِ نعت ہے


"ہر گوشۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


"لَا یُمْکِنُ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ"


ہم سے تونگروں کو ہو کس چیز کی کمی
ذکرِ علوّ و مرتبت و شانِ نعت ہے


جب توشۂ حیات میں سامانِ نعت ہے


"غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم"


حد سے وفورِ شوق میں بڑھنے سے احتیاط
عجزِ بیانِ عبدِ قدردانِ نعت ہے


چلئے سنبھل سنبھل کے کہ میدانِ نعت ہے


سیّاحِ لامکاں تری اک سیر کے طفیل


شہرت وقار عزت و تکریم آبرو
اب لامکاں بھی شاملِ امکانِ نعت ہے


ازہر کرم یہ ہم پہ بفیضانِ نعت ہے


===== [[ایم رضوان عدم]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
شاید مجھے عطا ہو  کوئی حرفِ جاوداں
یہ ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
میری قضا ٹھہر ابھی دورانِ نعت ہے  




کیا اوج پر حضور کا فیضانِ نعت ہے
عاجز وفورِ شوق میں حدِّ ادب رہے


"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
لَا تَرْفَعُوا اسی لیے دربانِ نعت ہے




کتنا یقین دل کو بہ فیضانِ نعت ہے
سید اعجاز حسین عاجز، گوجرانوالہ، پاکستان


مجھ ایسے بے ہنر کو بھی ارمانِ نعت ہے
===== [[اعجاز احمد]]، [[میلسی]] ، [[پاکستان ]] =====


دیکھو یہ کیسا مطلع ِ عنوانِ نعت ہے


فیضانِ نعت ہے کہ یہ وجدانِ نعت ہے
نورِ خدا کے سامنے دیوانِ نعت ہے  


ہر ایک سانس اب میری عنوانِ نعت ہے


اس دورِ ابتلاء میں بھی حسانِ نعت ہے


عرفانِ مصطفیٰ ہی، ہے عرفانِ ایزدی
وہ شخص جس کے پاس قلمدانِ نعت ہے  


توحید کا بیان بھی اعلانِ نعت ہے


کلیاں گلاب چاند ستارے یہ روشنی


بے شک نزولِ وحی مکمل ہوا مگر
اس کائنات ِ ارض پہ احسانِ نعت ہے


جاری ہماری روح پر احسانِ نعت ہے


اپنے کرم سے مجھ کو عطا کیجئے حضور


ممکن نہیں ثنا ئے محمد (ﷺ) بجز کرم
اک حرف ایسا حرف جو شایانِ نعت ہے


فیضانِ نعت اصل میں سامانِ نعت ہے


حرف و قلم کی آبرو ہے آپ کے طفیل


باغِ بہشت کو بھی میسر یہ بُو کہاں
شعر و ادب کا نور تو دیوانِ نعت ہے


جو نکہت و مہک بہ گلستانِ نعت ہے


صلِ علیٰ کی گونج مہکتی ہے ہر طرف


سجدے میں محوِ شکر چلا جا رہا ہے آج
سارا جہان جیسے گلستان ِ نعت ہے


حاصل مرے قلم کو بھی وجدانِ نعت ہے
===== [[اعظم سہیل ہارون]]، [[حاصل پور]]، [[پاکستان]] =====


دھڑکن پکارتی ہے کہ سامانِ نعت ہے


آتا ہے چاند بھی اسی جلوے کی چاہ میں
مہکا ہوا جو دل کا گلستانِ نعت ہے


رونق فزا جو نورِ شبستان_ نعت ہے۔


دل کو قرار آیا درود و سلام سے


عاجز، گناہگار، سیہ كار ہوں مگر
کیسا سرور و کیف یہ دورانِ نعت ہے


آقا کا مجھ حقیر پہ احسانِ نعت ہے


دنیا میں پُل صراط سے ہر گز یہ کم نہیں


یہ بھی مقام آتا ہے اظہارِ نعت میں
چلنا ذرا سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


عرفانِ عجز ہی جہاں عرفانِ نعت ہے


مجھ کو یقین ہونے لگا ہے نجات کا


اشکوں سے قلب و روح مطھر ہوئے"عدم"
اعمال میں مرے جو یہ دیوانِ نعت ہے


کتنا کرم نواز یہ بارانِ نعت ہے


===== [[بابر علی اسد ]]، [[فیصل آباد ]]، [[پاکستان ]] =====
دیکھا ہے چار سمت عقیدت کی آنکھ سے


صحرا نصیب لوگ ہیں, بارانِ نعت ہے
”ہر شعبہ ِٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


ہم سوکھتے نہیں ہیں تو, احسانِ نعت ہے


جتنا بھی خود پہ ناز کروں ، کم ہے دوستو


پھیلی ہوئ ہے رحمت ِ عالم ,کچھ اسطرح!
ہر سانس میری زیست کی مہمانِ نعت ہے


سینہ بہ سینہ سایہِ شاخانِ نعت ہے


محفل درودِ پاک مرے گھر میں سج گٸی


یہ سبز دل , اداس لہن , اشک چشم لوگ
رحمت کا بھی نزول ہے ، بارانِ نعت ہے


یہ درد خوۓ ِءحلقہ ِ یارانِ نعت ہے


صد شکر ہے خدا کا ہُوا ہوں غزل سے دُور


ہر زاویہ کے مطمع ِء معیار , آپ ہیں
اب زندگی تمام ہی قربانِ نعت ہے


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


بخشش ضرور ہو گی تری حشر میں سہیل


وہ قلب ِ کائنات پہ احسان ِ زندگی!
ہاتھوں میں تیرے جب سے ہی دامانِ نعت ہے


جاں بھی وہی ہے, اور وہی جانانِ نعت ہے


ہر وقت میرے لب پہ رہے وِرد آپ ﷺکا


ہم نے خدا کو پایا تو, پایا ترے طفیل
اعظم کرم خدا کا ہے ، فیضانِ نعت ہے


سو حمد ہے, تو حمد بھی دورانِ نعت ہے
===== [[افتخار حسین کریمی]]، [[واہ کینٹ]]، [[پاکستان]] =====
لُطفِ دوام مُجھ پہ بفیضانِ نعت ہے


اُن کے کرم سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے


تھامے ہوۓ ہیں,اور یہ ڈر بھی تو ہے اسد


ہم خاک زاد لوگ ہیں دامانِ نعت ہے
مجھ سا حقیر مدحتِ سرکار کیا کہے


===== [[بسمل شہزاد]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
جاری اُنہی کے فیض سے فیضانِ نعت ہے
دل کے صدف میں قطرہء نیسانِ نعت ہے


آسودہ حالِ شہر ہوں ، احسانِ نعت ہے


سرکار کا ادب رہے ملحوظ ہر گھڑی


اقلیمِ ہفت میری قلمرو شمار کر
نادان! دھیان کر کہ یہ میدانِ نعت ہے


وہ یوں کہ میرے ہاتھ ، قلمدانِ نعت ہے


پڑھتا ہوں عترتِ شہِ کونین پر درود


یہ بھید مجھ پہ کلمہء لَولَاک سے کُھلا
ہر ہر نَفَس فداٸی و قُربانِ نعت ہے


”ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے“


پہلے الف سے آخری پارے کی سین تک


رنج و الم کی نذر ہوۓ جا رہے ہیں لوگ
قُرآنِ پاک دیکھ لو قُرآنِ نعت ہے


مُنعَم ہے وہ جو سربگریبانِ نعت ہے


گر ہو نظر میں رحمتِ عالم کی ذاتِ پاک


اے تختِ مصر ! یوسفِ دیگر تلاش کر
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


میری تڑپ تو جادہء کنعانِ نعت ہے


سرکار! مجھ کو اذنِ ِثناء بخش دیجیے


پی پی کے زندگی کی طرف لوٹتے چلو
سرکار! میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے


اے مُردگاں! یہ چشمہء حیوانِ نعت ہے


بچپن سے لوریوں میں سُنی نعت آپ کی


کاغذ، قلم، دوات، شکستہ سا اک چراغ
یوں ہی نہیں مزاج میں میلانِ نعت ہے


زادِ سفر مرا ، یہی سامانِ نعت ہے


اِس کے سبب ہی حشر میں ہو گی مِری نجات


کچھ اور جذب و فکر کی لَو کو اُبھار دے
کافی ہے میرے پاس جو سامانِ نعت ہے


بسملؔ ابھی تُو دُودِ چراغانِ نعت ہے


===== [[بشرٰی فرخ]]، [[پشاور]]، [[پاکستان]] =====
لکھے بشر تو کیسے لکھے مدح آپ کی


وہ لفظ ہی نہیں کہ جو شایانِ نعت ہے


کیا وسعتِ خیال بہ دامانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
اظفر کو کاش حشر میں سرکار یوں کہیں


کتنا حسیں تُو لایا یہ دیوانِ نعت ہے


کھلتے ہیں روز ہی تو نئی مدحتوں کے گُل
===== [[اقبال خان]]، [[باغ، کشمیر]]، [[پاکستان ]] =====


مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے
مکمل نام : محمد اقبال خان




دل اور زبان مدح سرائی میں ہیں مگن
آقا کی بارگاہ میں اعلانِ نعت ہے


سر چشمہِ حیات یی میلانِ نعت ہے
قرآں جو کہہ رہا ہے وہی شانِ نعت ہے  




اعزاز مل رہا ہے ثنائے رسولؐ کا
انگلی کا پور پور ثناء خوان ہے مرا


یہ مجھ گنہگار پہ احسانِ نعت ہے
یوں نعت لکهتے رہنا بهی عرفانِ نعت ہے  




تکتا ہے صرف سوز و گدازِ جنونِ عشق
ہر حرف بولتا ہے محبت نبی سے یے


معیار میں جدا ہے جو میزانِ نعت ہے
ایسا لطیف میرا یہ دیوانِ نعت ہے  




ہر لفظ با ادب رہے ہر حرف باوضو
دو چار شعر میرے اگر ہوں قبول بس


یہ عام سی زمیں نہیں میدانِ نعت ہے
رب کے حضور اتنا سا پیمانِ نعت ہے  




ملحوظ ہر خیال میں تقدیس و احترام
بطحا کو جانے والی ہواؤں سے کہہ دیا


ہر سوچ با وقار ہویہ شانِ نعت ہے
میری عقیدتوں کا یہ سامانِ نعت ہے


===== [[الیاس بابر اعوان]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان ]] =====
اس بحرِ بے کنار میں ایقانِ نعت ہے


گر ہو قبولیت کا شرف بھی عطا اسے
یہ اشک ہی نہیں میاں، سامانِ نعت ہے


ہدیہ بنامِ سید سلطانِ نعت ہے


جو کچھ بھی ہے خیالِ صد افکار کا محیط


بشری سفر ہے طیبہ کا اور زاد ِ راہ صرف
ہستی کے تار و پود کا دیوانِ نعت ہے


گنجینہِ درود ہے سامانِ نعت ہے


===== [[بلال حیدر گیلانی ]]، [[ مظفرآباد]]، [[کشمیر]]، [[پاکستان ]] =====
کیا پوچھتے ہو مجھ سے مقامِ غنا کا راز


ٹوٹا جمودِ خامہ یہ فیضانِ نعت ہے
ایمان کی کہوں مرا ایمانِ نعت ہے


مدحِ نبی عطا ہوئی، احسانِ نعت ہے


جز رب کے کون مدح کا حق کرسکا ادا


خاطر میں سنتِ نبوی ہو اگر، تو پھر
قرآن عین آپ کے شایانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


اے کاش مجھ پہ آپ کا انعام ایسے ہو


مدحت سرا ہے عرش پہ خود ذاتِ لم یزل
دیکھیں مجھیں تو بولیں کہ حسانِ نعت ہے


گویا درود، اصل میں یزدانِ نعت ہے


ہر لحظہ انہماک ہے آقا کی ذات پر


سجتی ہے روز بزم درود و سلام کی
ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


گھر میرا، گھر نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے


میں نعت لکھ رہا ہوں کہ باغِ ارم میں ہوں


دنیا کی رونقوں سے اسے کیا غرض بھلا
ہر حرف جیسے سنبل و ریحانِ نعت ہے


حیدرؔ کہ سب کہیں جسے مستانِ نعت ہے
===== [[امان زرگر]]، [[قائد آباد]]، [[پاکستان]] =====
خالق کی ہم نوائی ہے عرفانِ نعت ہے


===== [[پرویز ساحر]]، [[ایبٹ آباد]]، [[پاکستان]]  =====
عرشِ بریں پہ ہر گھڑی اعلانِ نعت ہے


یُـوں ہی تو میرا دِل نہیـں قُربانِ نعت ہے


حـاصِـل مجھے سکُــون بَہ فیضـان ِ نعت ہے
اسپِ تخیل آج تلک حد نہ پا سکا


فکر و نظر سے ماورا میدانِ نعت ہے


جب پیش ہو گا نامہ ِ اَعمـــــــال حَشــــر میں


کہہ دُوں گا میرے پاس یہ دیـــوان ِ نعت ہے
ہر سمت محوِ سوز ہیں مرغانِ خوش نوا


حســان ہوں ' وہ کعب ہوں ' اِبن ِ زُہَیـر ہوں
پرکیف و وجد خیز یہ بستانِ نعت ہے


ہر ایکــــــــ اپنی ذات میں سُلطــان ِ نعت ہے


مرقوم آیتوں میں ہے مدحت رسول کی


بار ِ الٰہ نے کِیــــــــــــا ذکــــــــــــر ِ نبی بَلند
قرآں کے حرف حرف میں دیوانِ نعت ہے


وا اِس لئـے دریـــــــچــــہ ِ اِمـکان ِ نعت ہے


شیوہ ہے رب کا اور فرشتوں کا بھی، درود


قُـــرآن اور حدیث میں مذکُــــور جــــو نہیں
ایماں کے حاملیں کو بھی فرمانِ نعت ہے


ایســــی غُــلُوئیت کہــاں شـــایــان ِ نعت ہے


نظرِ کرم حضور کی، یزداں کا فضل بھی


کچھ کم نہیں ہے یہ بھی کسی پُل صراط سے
صد شکر میرے دل میں جو میلانِ نعت ہے


یــہ جــو ہمــارے ســـامنے میـــدان ِ نعت ہے


کُن سے بروزِ حشر تلک اور بَعد بھی


یوں ہی برہنہ پا نہیـں چــــــلتا مَیـں رَیگ پر
''ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے''


گُل زار سے بھی بڑھ کے بِیابان ِ نعت ہے


صف بستہ حرف، خامہ و قرطاس مشکبو


رکھتا ہُوں پُھونکـــ پُھونکـــ کے مَیں اپنا ہر قدم
نالِ قلم کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


مجھ دست رَس میں جب سے قلم دان ِ نعت ہے


حسنِ خیال، اوجِ ہنر اور علم و فضل


ہم سیرت ِ نبی کو جو لائیں بہ روئے کار
لیکن نگاہِ فیض ہی سامانِ نعت ہے


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


رب نے بہ نطقِ شوق تلاوت جسے کیا


سـاحِـرؔ ! مَیں اپنی ذات کا پھر ذِکر کیوں کرُوں
یٰسین کا خطاب ہی شایانِ نعت ہے


جب اُن کی ذات ِ پاکـــ ہی خـود جــان ِ نعت ہے


===== [[ثروت رضوی]]، [[کیلی فورنیا]]، [[امریکہ ]] =====
فکر و خیال کا نگر، الفاظ کی نشست


بشکریہ : [[سمعیہ ناز]]
اور جنبشِ قلم سبھی فیضانِ نعت ہے


یارب یہ میرا دل ہے کہ دیوانِ نعت ہے


تطہیر ہوگئی ہے یہ فیضانِ نعت ہے
زرگر! ترا یہ نعرۂِ سرمست خوب تر


لیکن ذرا سنبھل کہ یہ ایوانِ نعت ہے


پہنچوں سرِ مدینۂ عشاق ِ آرزو
===== [[امجد ربانی مصباحی]]، [[آستانۂ ربانیہ]]، [[شرف آباد]]، [[جبل پور شریف]]، [[بھارت]] =====


پکڑا ہوا جو خیر سے دامانِ نعت ہے
بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]


*دل اشتیاق مند گلستانِ نعت ہے*
*سنتے ہیں نرم خوٗ بڑا، رضوانِ نعت ہے*


دھڑکن میں گونج صلِ علیٰ کی بصد خلوص


میری ہر ایک سانس میں امکان نعت ہے
*حسنِ نبی کی تابِ حکایت کہاں سے لاے*
*کیا سرخروے فکر پشیمانِ نعت ہے*




دل میں رواں رکھے ہے روانی درود کی
*کیسی کشش ہے، ذکرِ رسالت مآب کی*
*جو تاجدارِ فکر ہے، دربانِ نعت ہے*


دل کے بہت قریب جو شریانِ نعت ہے


*ہر سانس عطرِ ذکرِ نبی میں بسائیے*
*ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*


خود کو حرم میں دیکھ رہی ہوں بچشمِ تر


یہ معجزہ ہے یا مرا وجدانِ نعت ہے
*زخم جگر میں عشقِ نبی کی ہیں لذتیں*
*صد شکر پاس نشترِ ذیشانِ نعت ہے*




لگتا ہے جیسے رات بسر کی مدینے میں
*پھر آج ہیں حکایتیں، حسنِ حضور کی*
*پھر آج گرم محفلِ یارانِ نعت ہے*


یہ خواب تو نہیں مرا عرفان نعت ہے


*ہوکر نثار گیسو و رخ پر حضور کے*
*میری عروس فکر، غزل خوان نعت،ہے*


جاروب کش ہے بس اسی دہلیز کا فقط


میرے قلم کا بخت کہ سلمان نعت ہے
*ہر آن یاد شاہ میں اشکوں کی ہے لڑی*
*شامِ فراق، دعوتِ مژگانِ نعت ہے*




گریہ فراق عشق و جنوں ہجر اور خلش
*"امجد" کی نعت گوئی بھی فیضاں ہے نعت کا*
*کب اِس کی دسترس سرِ عرفانِ نعت ہے*


کچھ بھی نہیں یہی میرا سامانِ نعت ہے
===== [[امجد نذیر ]]، [[میلسی ]] =====




تقلید کررہی ہوں کہ تمثیل کے لیے
کاغذ قلم دوات مہکتے ہیں رات کو


فرزوق بھی سامنے حسانِ نعت ہے
مہکیں نہ کس طرح یہ قلمدانِ نعت ہے




کیا نام ہے یہ نامِ محمد ص خدا قسم
ہر چیز کائنات کی ان کےلیے بنی


یہ نام ہی تو شمع شبستانِ نعت ہے
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"




آقا قبول کیجئے ثروت کا یہ کلام
پڑھ کر درود گھر سے روانہ ہوا ہوں میں


گر میرا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے
اب  کوئی ڈر نہیں ،کہ نگہبان نعت ہے


===== [[تحسین یزدانی]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
مجھ سا بشر جو صاحبِ دیوانِ نعت ہے


اللہ کی عطا ہے یہ فیضانِ نعت ہے
امجدؔ نجات کےلیے کافی ہے حشر میں


گر میرا ایک شعر بھی شایانِ نعت ہے


جس جس کو فہمِ نعت ہے، عرفانِ نعت ہے
===== [[انعام الحق معصوم]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : انعام الحق معصوم صابری


حسانِ نعت ہے وہی سلمانِ نعت ہے


قرآنِ نعت ہے یہی ایقانِ نعت ہے


ممنونِ نعت ہیں میری سوچیں،مرے خیال
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


نطق و زبان و حرف پہ احسانِ نعت ہے


میری نجات ان کی شفاعت سے بالیقیں


جاری رہے گا تا بہ ابد نعت کا سفر
زاد سفر مرا تو یہ سامان نعت ہے


روشن ازل سے دیدہِ امکانِ نعت ہے


میلاد محفلیں ہیں سجی گھر میں عاشقو


دائم یہاں پہ رہتا ہے موسم بہار کا
خوشبو مہک رہی ہے گلستان نعت ہے


یہ گلستانِ حمد و خیابانِ نعت ہے


صد شکر رب کا میرے خیالات پاک ہیں


محبوبِ کبریا کا جو محبوب ہے تو پھر
اور عشق میں حضور کے دیوان نعت ہے


میرا حسین، جانِ سخن، جانِ نعت ہے


معصوم خوش نصیب رقم نعت ہم نے کی


تحسین ہے فقیر فقیرانِ نعت کا
پائی ہے راہ جس سے وہ حسان نعت ہے


یعنی کہ اک غلامِ غلامانِ نعت ہے
===== [[اویس ازہر مدنی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان ]] =====
مکمل نام : محمّد اویس ازہر مدنی


===== [[تسنیم عباس قریشی]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
کہئے کسے کسے کہ وہ حسانِ نعت ہے
معراجِ مصطفٰی ص مرا عنوانِ نعت ہے


اور قابَ ءِ قوسین ہی شایانِ نعت ہے
پہچان جس کی نعت ہے۔ سلطانِ نعت ہے




خوش آمدید کہتے ہیں ہر موڑ پر نبی
کھلتے ہیں یاں گُلابِ ثنائے محمدی


منجانبِ خدا ہوا سامانِ نعت ہے
لپٹا طہارتوں میں یوں بُستانِ نعت ہے




سدرہ پہ رک گئے ہیں قدم جبرائیل کے
احکام اس میں اور بھی موجود ہیں مگر


پاپوشِ مصطفٰی ص ہمہ شاہانِ نعت ہے
قرآنِ پاک اصل میں دیوانِ نعت ہے




ہٹتے گئے حجاب سبھی آپ کے لیے
سرکار! بے ہنر پہ بھی اک چشمِ التفات


ہر چیز کائنات کی قربانِ نعت ہے
سرکار! میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے




کامل ترین اسوہ ہے خیر الانام ص کا
قائم سخن وری میں ہے یوں انفرادیت


ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت یے
صد شکر اپنے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے




تسنیم خوش نصیب ہے دونوں جہان میں
ہر شعبۂ حیات ہے سیرت سے فیضیاب


سلطانِ نعت سے ملا عرفانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


===== [[تنظیم الفردوس]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر تنظیم الفردوس


مدوجذر حیات کا سامانِ نعت ہے
ہم سے تونگروں کو ہو کس چیز کی کمی


یہ ساری کائنات ہی امکانِ نعت ہے
جب توشۂ حیات میں سامانِ نعت ہے




قرآن ہے گواہ بلندی کے ذکر میں  
حد سے وفورِ شوق میں بڑھنے سے احتیاط


کیا اس سے بھی زیادہ کوئی شانِ نعت ہے
چلئے سنبھل سنبھل کے کہ میدانِ نعت ہے




سیرت رسولِ پاک کی پیشِ نظر رہے
شہرت وقار عزت و تکریم آبرو


یہ جانِ نعت ہے یہی ایمانِ نعت ہے  
ازہر کرم یہ ہم پہ بفیضانِ نعت ہے


===== [[اویس راجہ]]، [[نیویارک]]، [[امریکا]] =====
فی الوقت جیسا اب ہمیں عرفانِ نعت ہے


بس اک نگاہِ شوق ہے اور میری چشمِ نم
بس طرزِ استغاثہ ہی شایانِ نعت ہے


میرے لیے تو ہاں یہی سامانِ نعت ہے


اس کے خمیر میں ہے گندھا عشق مصطفےٰ


میں اور لب کشا کروں ایوانِ نعت میں
اردو ، ہر ایک صنف میں قربان نعت ہے


حسّان شاہزداۂ ایوانِ نعت ہے


یہ کس کا شعر ہو گیا مقبولِ بارگاہ


محسن، امیر اور رضا عندلیب ہیں
دنیا میں ایک طرز کا میلانِ نعت ہے  
یہ ہند کی زمین بھی بستانِ نعت ہے  




تکمیلِ دیں کا حکم ہے اس امر کی دلیل
دنیا تو دے رہی ہے صدا پر صدا مجھے


ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
میں اٹھ کے جاؤں کیسے یہ دورانِ نعت ہے  


===== [[ تنویر پھول]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
حق کی عطا سے بارش فیضان نعت ہے


فکر و شعور و قلب میں ارمان نعت ہے
بےفیض ایسے اہل سخن کا ہے ہر سخن


جس کا کلام بے سر و سامانِ نعت ہے


وہ جان کائنات ہیں , وہ شان کائنات


' ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے '
اتنی کہاں بساط کہ اک حرف لکھ سکوں


جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے


لازم ہے نعت کہنے میں حساں کی پیروی


حسان باغبان گلستان نعت ہے
زہرا ، حسن ، حسین ہوں یا بوتراب ہوں


سارا گھرانہ شاہ کا ایوانِ نعت ہے


قرآں کی روشنی میں کہو نعت شاہ دیں


رب کی نگہ میں بس یہی فرقان نعت ہے
ملتی ہیں یوں تو پہلی کتابوں میں بھی نعوت


پر آخری کتاب تو دیوانِ نعت ہے


ذیشان ان کی مدح سے ہر صنف شاعری


کاشانہ ء سخن میں دبستان نعت ہے
ہوتی نہ گر حضور سے نسبت انہیں اویس


دشت و جبل میں کون سا امکانِ نعت ہے


احمد بھی ان کا اسم ہے , اک نام ہے یتیم
===== [[اویس رضوی]]، [[ممبئی]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : اویس رضوی قادری صدیقی


یعنی 'الف' سے 'ی' سبھی دیوان نعت ہے
کیا پر بہار ذوقِ گلستانِ نعت ہے


دل میں بسا ہے کب سے، جو ارمانِ نعت ہے


بعد از خدا بزرگ ہیں وہ , اس میں شک نہیں


حمد خدا کے بعد قلم دان نعت ہے
نسبت ملی ہے مجھکوجو، پہچانِ نعت ہے


یہ اصل زندگی ہے یہ، سامانِ نعت ہے


ممدوح وہ خدا کے ہیں, کج مج زبان ہم


لائیں کہاں سے لفظ جو شایان نعت ہے
مہکا خیال و فکر بھی میرا انہی سے ہے


"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


رطب اللساں ہیں بلبلیں گلزار نعت میں


صدہا برس سے مہکا یہ بستان نعت ہے
افکار کی صدا ہے تخیل کا حسن بھی


عشقِ نبی، حضور کا عرفان نعت ہے


سرور کی شاں میں اس نے 'رفعنا' ہے کہہ دیا


خود رب کائنات نگہبان نعت ہے
حسان کہ رہے ہیں نبی سن کے شاد ہیں


عشق رسول ہی تو مری، جانِ نعت ہے


اس کے کرم سے پھول کھلیں نعت کے سدا


تنویر پھول ! خوب یہ گلدان نعت ہے
احمد رضا کے عشق کا صدقہ ملے مجھے


===== [[تنویر جمال عثمانی]]، [[مراد آباد]]، [[انڈیا]] =====
ارماں ہے جس کا دل میں وہ، دیوانِ نعت ہے
میری نظر میں صرف یہی جانِ نعت ھے


سرکار ﷺ عشق آپ کا' ایمانِ نعت ھے


بھیجو درود ان پہ جنہیں رب ہے بھیجتا


نفرت' حسد' نفاق نے پائ نہیں جگہ
ہر دم سلام اس پہ جو جانانِ نعت ہے


فکر و نظر پہ میرے یہ احسانِ نعت ھے


خدمت یہ نعت کی ہی بنے مصرف حیات


سچ بولنے کا وصف عطا ہو گیا جسے
روشن ہوئی حیات بہ فیضان نعت ہے


اس کو ہی بس جہان میں عرفانِ نعت ھے


عشقِ نبی میں ڈوب کے لکھّی اویس نے


نسلیں مہک رہی ہیں مرے گھر کی دوستو
ہاتھوں میں آج اس کے بھی دامانِ نعت ہے


حاصل جو تین پشتوں سے لوبانِ نعت ھے
===== [[اویس قادری کوکب]]، [[جام نگر گجرات]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : سید اویس قادری کوکب جیلانی


کہتا ہے  نعت وہ جسے عرفان نعت ہے


حسّان کعب جامی رضا سعدی اور ھم
جانانِ جاں ہی شمع شبستان نعت ہے


پرنور سب کے عشق سے ایوانِ نعت ھے


جامی کا سوز دے مجھے سعدی کا رنگ دے


ادراکِ عظمتِ شہِ لولاکﷺ ہو تو آ
فکر رضا دے یا خدا ارمان نعت ہے


سبکے لئے کہاں بھلا میدانِ نعت ھے


الفاظ تول تول کے میزانِ شرع میں


سیرت کا آئنہ ہو اگر سامنے تو پھر
رکھنا قدم سنبھال کے میدان نعت ہے


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ھے "


جس کو طلب ھوں مدحِ پیمبر کے زاویے


حسنِ عمل بھی رکھ دے عقیدت کے ساتھ ساتھ
قرآن اس کے واسطے سامان نعت ہے


اے رہ روانِ نعت یہ میزانِ نعت ھے


غزلوں نے اس لیے مجھے مائل نہیں کیا


آئے جو حرف نامِ نبیﷺ پر تو دیجے سر
پیدائشی خمیر میں رجحان نعت ہے


یہ انکے اہلِ بیعت کا عنوانِ نعت ھے


بعد از اذان ہر گھڑی؛ ہر آن؛ ہر طرف


تنویر میں بھی ہو گیا دنیا میں با وقار
آواز گونجتی ہے  وہ ایوان نعت ہے


فیضانِ نعت ھے یہی فیضانِ نعت ھے


===== [[جاوید صدیقی]]، [[لکھنوو]]، [[انڈیا]]=====
بعد از زہیر کعب اسی کا ہے غلغلہ
نسبت مرے حضور کی سامان نعت ہے  


ان کا حسیں خیال ہی عنوان نعت ہے  
مداح مصطفیٰ ہے  جو حسان نعت ہے  




مجھسے گناہگار کو بخشش کی دی نوید
بخشش کے کام آے گا تھامے رہو اسے


مجھسے گناہگار پہ احسان نعت ہے  
پروانۂ نجات یہ دامان نعت ہے  




آتا ہے قبل نعت جس اک ذات کا خیال
نعتِ نبی ہے اصل میں تحمید کبریا


اللّه کا حبیب ہے وہ ، جان نعت ہے  
عنوان حمد ہی مرا عنوان نعت ہے  




روز ازل رکھی گئی بنیاد نعت کی
مازاغ ہے  کہیں کہیں واللیل و والضحیٰ


کتنا بلند سوچئے ایوان نعت ہے  
قرآں میں جا بجا یہ گلستان نعت ہے  




آیات ِ بینات بتاتی ہے یہ ہمیں
وہ روحِ کائنات ہے اس کی ثنا کرو


اللّه کا کلام دبستان نعت ہے  
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے  




کیا لطف ہو فرشتے بھی میزان پر کہیں
اِس کو ردا عطا ھو شہنشاہ دو جہاں


تیرا نجات نامہ یہ ، دیوان نعت ہے  
کوکب کو بھی زہیر سا میلان نعت ہے  


===== [[اورینا ادا]]، [[بھوپال، ایم پی]]، [[انڈیا]] =====


ہے شاعران نعت پہ انعام کبریاء
پیشکش : [[عرفان نعمانی]]


" ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے "
جب خود خدائے پاک نگہبانِ نعت ہے


محفوظ ہر خزاں سے گلستان نعت ہے


یاد شہ انام کی خوشبو میں ہے بسا


" جاوید" تیرا دل ہے کہ بستان نعت ہے
ہشیار اے قلم کہ ہے یہ نعت کی زمیں


===== [[جاوید عادل سوہاوی]]، [[جرمنی]] =====
آہستہ چلنا اس میں یہ میدانِ نعت ہے
حسن وجمال آپﷺ کا قرآن۔ نعت ہے


قرآں الف سے سین تلک شان۔ نعت ہے


مولیٰ ترے حبیب کی توصیف کے لیے


ہر عالم۔ نمو میں ہے خوشبو حضور کی
وہ فکر کر عطا جو کہ شایانِ نعت ہے


"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔ نعت ہے"


مفلوج لفظ فکر شکستہ کے باوجود


سب عاشقان۔ صورت ۔ محمود کے لئے
مجھ پر کرم نبی کا ہے احسان نعت ہے


سیرت شہ۔ عرب کی دبستان نعت ہے


محسوس کرتی ہوں میں معطر مشام جاں


گلہائے باغ۔ مدح و ثنا ہوں جو رو برو
یہ عطر عشقِ شاہ ہے لوبان نعت ہے


اَمثال۔ عندلیب سخن دان۔ نعت ہے


سدرہ پہ فکر روح امیں دے گئی جواب


طیبہ سے لامکان تلک جو ہے فاصلہ
رب جانے کس بلندی پہ ایوان نعت ہے


ہر گام مصطفےٰ کا گلستان۔ نعت ہے


آداب حمد و نعت کے قرآں سے پوچھ ادا


سر پر ہے لخت۔ ابر۔عنایات۔ وحدہ
معیار کیا ہے حمد کا کیا شان نعت ہے


اپنےمزاج۔ دل کو جو میلان۔ نعت ہے
مکمل نام : ڈاکٹر اورینا ادا


===== [[بابر علی اسد ]]، [[فیصل آباد ]]، [[پاکستان ]] =====


سجدہ وہ کربلا کا قصیدے کا ہے جگر
صحرا نصیب لوگ ہیں, بارانِ نعت ہے  


اقصیٰ میں جو نماز ہے وہ جان۔ نعت ہے
ہم سوکھتے نہیں ہیں تو, احسانِ نعت ہے




باغ۔ ۔ شب۔ فلک ہے ضیا بار اس لئے
پھیلی ہوئ ہے رحمت ِ عالم ,کچھ اسطرح!


تاروں کا ہر ہجوم خیابان ۔ نعت ہے
سینہ بہ سینہ سایہِ شاخانِ نعت ہے




والشمس کا ہو نور کہ واللیل کی ادا
یہ سبز دل کے مہرباں یہ اشک چشم لوگ


غمزہ ہر ایک وصف کا وجدان۔۔ نعت ہے
یہ درد خوۓ ِءحلقہ ِ یارانِ نعت ہے




ہر سورت ایک پھول ہے ہراک حدیث شاخ
ہر زاویہ کے مطمع ِء معیار , آپ ہیں


یہ کنز۔ رنگ وبو ہے جو عرفان۔ نعت ہے
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"




آواز۔کن فکاں ہے خصائص کا زمزمہ
وہ قلب ِ کائنات پہ احسان ِ زندگی!


گویا ظہور۔ہست بھی اعلان۔ نعت ہے
جاں بھی وہی ہے, اور وہی جانانِ نعت ہے




وہ سلسبیل و کوثر و تسنیم۔ خلد سب
ہم نے خدا کو پایا تو, پایا ترے طفیل


مل جائیں تو سمجھنا کہ احسان۔ نعت ہے
سو حمد ہے, تو حمد بھی دورانِ نعت ہے


===== [[جمیل حیدر عقیل]]، [[ نیویارک]]، [[امریکا]] =====


بشکریہ :  [[عباس عدیم قریشی]]
تھامے ہوۓ ہیں,اور یہ ڈر بھی تو ہے اسد


موسم ہے دل کا جاں فزا امکان نعت ہے
ہم خاک زاد لوگ ہیں دامانِ نعت ہے


میری سخنوری پہ بھی فیضان نعت ہے
===== [[بسمل شہزاد]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
دل کے صدف میں قطرہء نیسانِ نعت ہے


آسودہ حالِ شہر ہوں ، احسانِ نعت ہے


لفظوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہی


ان کی ولائے پاک ہی سامان نعت ہے
اقلیمِ ہفت میری قلمرو شمار کر


وہ یوں کہ میرے ہاتھ ، قلمدانِ نعت ہے


ایسے ہی تو کھلی نہیں رہ پلِ صراط کی


ہاتھوں میں اس فقیر کے دامان نعت ہے
یہ بھید مجھ پہ کلمہء لَولَاک سے کُھلا


”ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے“


کیسے نہ نعت پاک ہو دل سے مرے کشید


رگ رگ میں جب رچا بسا ایمان نعت ہے
رنج و الم کی نذر ہوۓ جا رہے ہیں لوگ


مُنعَم ہے وہ جو سربگریبانِ نعت ہے


قندیل جب سے ہو گئی روشن درود کی


سب حسرتیں ہی مٹ گئیں، ارمان نعت ہے
اے تختِ مصر ! یوسفِ دیگر تلاش کر


میری تڑپ تو جادہء کنعانِ نعت ہے


ایسا چلا ہے دور درود و سلام کا


ہونٹوں پہ قدسیوں کے بھی گردان نعت ہے
پی پی کے زندگی کی طرف لوٹتے چلو


اے مُردگاں! یہ چشمہء حیوانِ نعت ہے


اے دل اسی میں ڈوبنا تم احترام سے


جس ساگرِ خلوص میں ہیجان نعت ہے
کاغذ، قلم، دوات، شکستہ سا اک چراغ


===== [[جنید نسیم]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
زادِ سفر مرا ، یہی سامانِ نعت ہے
مکمل نام : جنید نسیم سیٹھی


جب سے خیال و فکر کو میلانِ نعت ہے


ہر سانس ایک شعر بہ عنوانِ نعت ہے
کچھ اور جذب و فکر کی لَو کو اُبھار دے


بسملؔ ابھی تُو دُودِ چراغانِ نعت ہے


مولود ہو بیانِ سراپا ہو، خُلق ہو
===== [[بشرٰی فرخ]]، [[پشاور]]، [[پاکستان]] =====


قائم انھی سے رونقِ بُستانِ نعت ہے


کیا وسعتِ خیال بہ دامانِ نعت ہے


ہر رُخ حیاتِ پاک کا پیشِ نظر رہے
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


سیرت میں گام گام پہ سامانِ نعت ہے


کھلتے ہیں روز ہی تو نئی مدحتوں کے گُل


نے قدرتِ کلام نہ فہمِ سخن وری
مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے


سلطانِ انبیا کا ادب ، جانِ نعت ہے


دل اور زبان مدح سرائی میں ہیں مگن


صحنِ بیان و ذکر سے باہر تو دیکھیے
سر چشمہِ حیات یی میلانِ نعت ہے


"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


اعزاز مل رہا ہے ثنائے رسولؐ کا


ہر سمت کھلتے رہتے ہیں گُل ھائے رنگ رنگ
یہ مجھ گنہگار پہ احسانِ نعت ہے


میرا وطن بھی گویا گُلستانِ نعت ہے


تکتا ہے صرف سوز و گدازِ جنونِ عشق


معبود! مجھکو نعت کا عرفان کر عطا
معیار میں جدا ہے جو میزانِ نعت ہے


وہ لفظ ہو عطا کہ جو شایانِ نعت ہے


ہر لفظ با ادب رہے ہر حرف باوضو


مجھ ایسا بے ہُنر بھی ہوا معتبر جنید
یہ عام سی زمیں نہیں میدانِ نعت ہے


میرا کمال کیا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


===== [[جہانداد منظر القادری]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ملحوظ ہر خیال میں تقدیس و احترام
دعویٰ ذرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے


حاضر جہاں پہ ہوں مَیں وہ ایوانِ نعت ہے
ہر سوچ با وقار ہویہ شانِ نعت ہے




ممدوحِ ذات حق کی ہے مدحت کا مرحلہ
گر ہو قبولیت کا شرف بھی عطا اسے


بے قیل و قال محض یہ احسانِ نعت ہے
ہدیہ بنامِ سید سلطانِ نعت ہے




رب کا کلامِ نُور ہے تعبیرِ حُسنِ کُل
بشری سفر ہے طیبہ کا اور زاد ِ راہ صرف


نعتوں کی سلطنت کا وہ سُلطانِ نعت ہے
گنجینہِ درود ہے سامانِ نعت ہے


===== [[بلال حیدر گیلانی ]]، [[ مظفرآباد]]، [[کشمیر]]، [[پاکستان ]] =====


عشقِ نبی میں ڈوب کے دیکھو تو تب لگے
ٹوٹا جمودِ خامہ یہ فیضانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
مدحِ نبی عطا ہوئی، احسانِ نعت ہے




لے کر چلا ہُوں نعت کی فردِ عمل کو ساتھ
خاطر میں سنتِ نبوی ہو اگر، تو پھر


میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"




آقا کے نقشِ نعلِ عطا زیبِ حرف ہیں
مدحت سرا ہے عرش پہ خود ذاتِ لم یزل


منظَر بھی آج صاحبِ دیوانِ نعت ہے
اس زاویے سے عرش بھی ایوانِ نعت ہے


===== [[جوہر قدوسی]]، [[کشمیر]]، [[بھارت]] =====
بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]


ارض وسماء میں ہر طرف فیضانِ نعت ہے
سجتی ہے روز بزم درود و سلام کی


فرقان لا یزال ہی شایانِ نعت ہے
گھر میرا، گھر نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے




مدح و ثنائے خواجہ ہو دوران نیم شب
دنیا کی رونقوں سے اسے کیا غرض بھلا


اشک سحر گہی سے ہی عرفان نعت ہے
حیدرؔ کہ سب کہیں جسے مستانِ نعت ہے


===== [[پرویز ساحر]]، [[ایبٹ آباد]]، [[پاکستان]] =====


شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا
یُـوں ہی تو میرا دِل نہیـں قُربانِ نعت ہے


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
حـاصِـل مجھے سکُــون بَہ فیضـان ِ نعت ہے




عشق نبی فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں  
جب پیش ہو گا نامہ ِ اَعمـــــــال حَشــــر میں  


یہ میرا جذب و کیف بھی احسان نعت ہے
کہہ دُوں گا میرے پاس یہ دیـــوان ِ نعت ہے


حســان ہوں ' وہ کعب ہوں ' اِبن ِ زُہَیـر ہوں


میں بے ہنر ہوں تاب سخن کی طلب مجھے
ہر ایکــــــــ اپنی ذات میں سُلطــان ِ نعت ہے


ارمان کوئی ہے تو بس ارمان نعت ہے


===== [[حسان المصطفٰی ]]، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]]  =====
بار ِ الٰہ نے کِیــــــــــــا ذکــــــــــــر ِ نبی بَلند
یونہی نہیں یہ رفعتِ عنوانِ نعت ہے


سب حمد جس کی ہے وہی نگرانِ نعت ہے
وا اِس لئـے دریـــــــچــــہ ِ اِمـکان ِ نعت ہے




سب امتیں پڑھیں گی وہاں نعتِ مصطفیٰ
قُـــرآن اور حدیث میں مذکُــــور جــــو نہیں


میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے
ایســــی غُــلُوئیت کہــاں شـــایــان ِ نعت ہے




کچھ اشکِ بے مراد ہیں آنکھوں میں موجزن
کچھ کم نہیں ہے یہ بھی کسی پُل صراط سے


میں ہوں، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے
یــہ جــو ہمــارے ســـامنے میـــدان ِ نعت ہے




سائے میں جس کے میرے سبھی عیب چھپ گئے
یوں ہی برہنہ پا نہیـں چــــــلتا مَیـں رَیگ پر


خوش بخت ہوں، ملا مجھے دامانِ نعت ہے
گُل زار سے بھی بڑھ کے بِیابان ِ نعت ہے




اُسکی ثنا ہی اول و آخر ہے دوستو
رکھتا ہُوں پُھونکـــ پُھونکـــ کے مَیں اپنا ہر قدم


اِسکے سوا ہے جو بھی، وہ دورانِ نعت ہے
مجھ دست رَس میں جب سے قلم دان ِ نعت ہے




غزلوں میں جو بھی آیا گماں میں وہ کہہ چُکا
ہم سیرت ِ نبی کو جو لائیں بہ روئے کار


ہٗشیار باش! رُو بقلمدانِ نعت ہے
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "




ہر شعر پُل صراط ہے، محتاط ہو کے چل
سـاحِـرؔ ! مَیں اپنی ذات کا پھر ذِکر کیوں کرُوں


ہر نعت خود کہےتٗجھے عرفانِ نعت ہے
جب اُن کی ذات ِ پاکـــ ہی خـود جــان ِ نعت ہے


===== [[ثروت رضوی]]، [[کیلی فورنیا]]، [[امریکہ ]] =====


ہر دور کی رگوں میں رواں اُنکا ذکر ہے
بشکریہ : [[سمعیہ ناز]]


گویا زماں زماں نہیں، دیوانِ نعت ہے
یارب یہ میرا دل ہے کہ دیوانِ نعت ہے


تطہیر ہوگئی ہے یہ فیضانِ نعت ہے


اُمیدِ وصل، اشک، غمِ ہجر، اور اشک


یہ زادِ راہِ عشق ہے، سامانِ نعت ہے
پہنچوں سرِ مدینۂ عشاق ِ آرزو


پکڑا ہوا جو خیر سے دامانِ نعت ہے


یہ نام تھا، دعا تھی کہ والد کا خواب تھا


جِسکے سبب ہی آج یہ حسانِؔ نعت ہے
دھڑکن میں گونج صلِ علیٰ کی بصد خلوص


===== [[حسن رضا حسانی ]] ، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
میری ہر ایک سانس میں امکان نعت ہے


حبِّ رسول سے سجا دامانِ نعت ہے


توصیفِ مصطفیٰ ہی فقط شانِ نعت ہے
دل میں رواں رکھے ہے روانی درود کی


دل کے بہت قریب جو شریانِ نعت ہے


لفظوں کے موتی اور نکھرتے ہیں نعت سے


جو کچھ ہے عشق میں لکھا وہ جانِ نعت ہے
خود کو حرم میں دیکھ رہی ہوں بچشمِ تر


یہ معجزہ ہے یا مرا وجدانِ نعت ہے


اب ذہن کا جہان معطر ہوا مرا


وہ اس لیے کہ دوستو فیضانِ نعت ہے
لگتا ہے جیسے رات بسر کی مدینے میں


یہ خواب تو نہیں مرا عرفان نعت ہے


مجھ کو سلیقہ آ گیا مدحت سرائی کا


اچھا سخن طراز ہوں احسانِ نعت ہے
گریہ فراق عشق و جنوں ہجر اور خلش


کچھ بھی نہیں یہی میرا سامانِ نعت ہے


یوم ِ حساب سے بھلا گھبرائے کیوں حسن


دیکھو تو اس کے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
کیا نام ہے یہ نامِ محمد ص خدا قسم


یہ نام ہی تو شمع شبستانِ نعت ہے


محمد حسن رضا حسانی، اسلام آباد، پاکستان


===== [[حسن علی خاتم]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
آقا قبول کیجئے ثروت کا یہ کلام
کچھ پاسِ آرزو ہے، نہ عرفانِ نعت ہے


اک شوق ہے سو وہ بھی نہ شایانِ نعت ہے
گر میرا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے


===== [[تاثیر جعفری]]، [[ کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====
میرا کلام کب بھلا شایانِ نعت ہے


اتنا سا دل ہے اور سرِ میدانِ نعت ہے
مجھ کو ابھی کہاں بھلا عرفانِ نعت ہے


حاشا یہ حوصلہ نہیں، فیضانِ نعت ہے


ہر ایک آیہ، آپ کی مدحت سے سرفراز


کیا کیا نہ زیرِ سایہِ دامانِ نعت ہے؟
قرآن اُس کریم کا، دیوانِ نعت ہے


ہر شے پہ کائنات میں احسانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات پر رحمت ترا وجود


جب لفظِ کن ہی مطلعِ دیوانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


پھر کیا ہے جو نہ داخلِ دامانِ نعت ہے؟


آنسو بھی ہیں، جبین بھی، اور سجدہ گاہ بھی


مخصوص شاعری سے نہیں نعت کا عمل
جاری دل و دماغ پہ بارانِ نعت ہے


سنت کو جو بھی تھام لے، حسانِ نعت ہے


مجھ سے لحد میں پوچھا گیا، صرف اک سوال


جو اشک ان کی یاد میں نکلے، سو شعر ہے
کیا نامہِ اعمال میں، دیوان نعت ہے؟


جس دل میں بھی وہ ہیں، سو دبستانِ نعت ہے


پڑھتی ہے ذاتِ کبریا، تجھ پہ درودِ پاک


شعر و سخن میں اس کو مقید نہ جانیے
ثابت ہوا، درود ہی بس جانِ نعت ہے


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


لب پر درود، پلکوں پہ اشکوں کی ہے جھڑی


تعریف ہے خدا کی، نبی کی ہی کیوں نہ ہو
خامہ سنبھال اپنا کہ امکانِ نعت ہے


یہ حمد ہے اگرچہ بہ عنوانِ نعت ہے


میرے لہو میں دوڑتا ہے، عشقِ مصطفےٰ


محشر کے واسطے یہ حوالہ بہت ہے دوست
تاثیر جسم و جان میں، ایمانِ نعت ہے


خاتم فقیرِ راہِ فقیرانِ نعت ہے
===== [[تبسم پرویز]]، [[سنبھل]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر تبسم پرویز


===== [[حسنین الثقلین]]، [[مدینہ منورہ]]، [[سعودی عرب]] =====
ہاتھوں میں اس غریب کے دیوانِ نعت ہے
مکمل نام : سید محمّد حسنین الثقلین


پَل پَل جو پَل رہا ہے، وہ ارمانِ نعت ہے
لطف و کرم حضورﷺکا ، فیضانِ نعت ہے


دل میں جو جاوداں ہے، وہ فیضانِ نعت ہے


رب کی عطا سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے


کہتے ہوۓ غزل بھی، مجھے دھیانِ نعت ہے
مجھ سے سخنوروں پہ یہ احسانِ نعت ہے


سچ پوچھیے تو یہ مِرا پیمانِ نعت ہے


کیوں کر نہ ہوتی مدحت خیر الانام جب


وَالَّیل، وَالضُّحی، کہیں وَالفَجر کا بیاں
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


کیسا حسیں سجا ہُوا قرآنِ نعت ہے


یا رب اسے نصیب ہو قربت رسول کی


سمجھا ہے کون رُتبۂ مرسل بجز خُدا
فرد عمل میں جس کے بھی سامان نعت ہے


حاصل کسے بھلا ہُوا عرفانِ نعت ہے


کیوں کر نہ ہم کریں گے ثنائے حبیب رب


لازم ہے ہم نماز میں اُن پر پڑھیں درود
اللہ جبکہ خود ہی ثناء خوان نعت ہے


ثابت ہوا نماز بھی سامانِ نعت ہے


شاعر کا یہ ہنر نہ کبھی ہوگا پائمال


میرے خمیر میں ہے وِلاۓ نبی گُندھی
جب رب ذوالجلال نگہبان نعت ہے


اِس واسطے سرشت میں میلانِ نعت ہے


خورشید روز حشر نہ جھلسا سکا ہمیں


ہوش و خرد کو دل کے مَیں رکھتا ہوں آس پاس
سر پر جو اپنے سایہ ء دامان نعت ہے


اِس واسطے کہ سامنے ایوانِ نعت ہے


ہجررسول پاک میں آنکھیں ہیں اشکبار


"صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے"
کیفیت ایسی قلب کی دوران نعت ہے


”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“


لاکھوں سخنوروں کی زمانے میں بھیڑ ہے


حسنی کو مرحبا کہا رضوانِ خُلد نے
حاصل کسی کسی کو قلمدان نعت ہے


دیکھا کہ ہاتھ میں مِرے دیوانِ نعت ہے


===== [[حسنین اکبر]]، [[دوبئی]]  =====
عرفان نعت جس کو تبسؔم ہوا نصیب


اُمی لـقب سے عَلَّمَ بُرہانِ نعت ہے
سلطان نعت ہے وہی سلطان نعت ہے


اقرأ باســم ربـك اعلانِ نعت ہے
===== [[تحسین یزدانی]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
مجھ سا بشر جو صاحبِ دیوانِ نعت ہے


وہ پہلا نعت گو وہی سلطانِ نعت ہے
اللہ کا کرم ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


ہر نعت گو رعیّتِ عمرانِ ع نعت ہے


بنیادِ مدحِ سید الابرار ص ہے درود
تفہیمِ نعت ہے جسےعرفانِ نعت ہے


فرمانِ کردگار میں فرمانِ نعت ہے
حسانِ نعت ہے وہی سلمانِ نعت ہے


شق القمر دو باٹ کی صورت بٹے ہوئے


دستِ الہُٰ العدل میں میزانِ نعت ہے
ممنونِ نعت ہیں میری سوچیں،مرے خیال


پیغمبرِ ص حیات ہیں سرکارِ ص دوجہاں
نطق و زبان و حرف پہ احسانِ نعت ہے


"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


جس نعت میں علی ع و محمد ص کی بات ہو
جاری رہے گا تا بہ ابد نعت کا سفر


وہ کائناتِ نعت میں سلمانِ ع نعت ہے
روشن ازل سے دیدہءِ امکانِ نعت ہے


اظہارِ کُل صفاتِ الہٰی انہی ص سے ہے


اب اس کے بعد جو بھی ہے میدانِ نعت ہے
معلوم اب ہوئی ہے مجھے دل کی کیفیت


حرفِ دعا ہے آیہءِخیرالجزا کے بعد
کعبہ نہیں ہے دل میرا جز دانِ نعت ہے


مجھ کو جزا کی مد میں بھی ارمانِ نعت ہے


دنیا ادب سے لیتی ہے جو نعت گو کا نام
دائم یہاں پہ رہتا ہے موسم بہار کا


کوئی ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے
یہ گلستانِ حمد و خیابانِ نعت ہے


پہلی اذانِ اسمِ محمد ص تھی عرش پر


دراصل کعبہ دوسرا ایوانِ نعت ہے
احرامِ عشق باندھ کے نکلا ہے ہر خیال


قرآں کہو صحیفہ کہو کوئی نام دو
فکر و نظر کےسامنے میدانِ نعت ہے


دیوانا جانتا ہے یہ دیوانِ نعت ہے


دل سے دعائیں دیجیے مدحِ رسول ص پر
ملتان کا سکونتی ہوں، خوش نصیب ہوں


خاموشی اس مقام پہ کفرانِ نعت ہے
یہ سر زمین شعر نگارانِ نعت ہے


یہ داستان عشق ہے کارِ جہاں نہ جان


لکھنے سے پہلے یہ بتا،ایمانِ نعت ہے؟
تحسین ہے فقیر، فقیرانِ نعت کا


طیبہ سے ہوکے جاتے ہیں ہم سوئے کربلا
یعنی کہ اک غلامِ غلامانِ نعت ہے


ہر شاہراہِ عشق خیابانِ نعت ہے
===== [[تسنیم عباس قریشی]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
معراجِ مصطفٰی ص مرا عنوانِ نعت ہے


اکبر میں اسـکے ہاتھ پہ بیعت ابھی کروں
قوسین کا مقام ہی شایانِ نعت ہے


جس کو بھی اس زمانے میں عرفانِ نعت ہے


===== [[حسنین شہزاد]]، [[کوٹ عبد الحکیم]] ، [[پاکستان]] =====
خوش آمدید کہتے ہیں ہر موڑ پر نبی


سُلگا ہؤا خیال میں لوبانِ نعت ہے
منجانبِ خدا ہوا سامانِ نعت ہے


خوش ہیں قلم دوات کہ امکانِ نعت ہے


سدرہ پہ رک گئے ہیں قدم جبرائیل کے


باب السّلام ، بابِ امان و سکون ہے
پاپوشِ مصطفٰی ص ہمہ شاہانِ نعت ہے


بابِ بقیع ، باب ِ خیابانِ نعت ہے


ہٹتے گئے حجاب سبھی آپ کے لیے


عُشّاق جانتے ہیں مقام ِ مواجہہ
ہر چیز کائنات کی قربانِ نعت ہے


عُشّاق یعنی وہ جنہیں عرفانِ نعت ہے


کامل ترین اسوہ ہے خیر الانام ص کا


چشمِ خیال ، بَن کے دِوانی کبوتری
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت یے


محوِ طواف ِ روضہ ءِ سلطانِ نعت ہے


تسنیم خوش نصیب ہے دونوں جہان میں


تعلیم ہو، سفر ہو، تجارت ہو ، عدل ہو
سلطانِ نعت سے ملا عرفانِ نعت ہے


" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
===== [[تنظیم الفردوس]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر تنظیم الفردوس


مدوجذر حیات کا سامانِ نعت ہے


===== [[حسنین عاقب]]، [[مہاراشٹر ]]، [[بھارت ]] =====
یہ ساری کائنات ہی امکانِ نعت ہے


سیرت نبی کی، ذکرِ نبی جانِ نعت ہے


میں نعت گو ہوں، مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
قرآن ہے گواہ بلندی کے ذکر میں  


کیا اس سے بھی زیادہ  کوئی شانِ نعت ہے


آدابِ نعت گوئی قلم کو سکھائیے


اور یہ خیال رکھیے، یہ میدانِ نعت ہے
سیرت رسولِ پاک کی پیشِ نظر رہے


یہ جانِ نعت ہے یہی ایمانِ نعت ہے


اذہان جن کے مہکے عقیدت کے نور سے


حاصل انہی کو ہوسکا وجدانِ نعت ہے
بس اک نگاہِ شوق ہے اور میری چشمِ نم


میرے لیے تو ہاں یہی سامانِ نعت ہے


اصنافِ شعر جتنی ہیں، اپنی جگہ مگر


ہر ایک صنفِ شعر تو قربانِ نعت ہے
میں اور لب کشا کروں ایوانِ نعت میں


حسّان شاہزداۂ ایوانِ نعت ہے


لفظوں کے جوڑ توڑ سے نسبت نہیں اسے


عشقِ رسول ہی سے تو پہچانِ نعت ہے
محسن، امیر اور رضا عندلیب ہیں
یہ ہند کی زمین بھی بستانِ نعت ہے  




اے کاش! میری نعت سے خوش ہوکے ایک دن
تکمیلِ دیں کا حکم ہے اس امر کی دلیل


کہہ دیں یہ خود نبی کہ تو خاقانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


===== [[تنویر احمد تنویر]]، [[جدہ]]، [[سعودی عرب]] =====
آںکھوں میں میری آج جو بارانِ نعت ہے


عاقب نے جس کا نام رکھا '' خامہ سجدہ ریز ''
خوش ہو، سخنورا کہ یہ امکانِ نعت ہے


باعث نجات کا مرا دیوانِ نعت ہے


===== [[حسیب آرزو]]، [[بکسر]]،[[ بھارت]] =====
کس کی مجال کر سکے توصیف آپ کی


قران وہ سخن ہے جو شایانِ نعت ہے


یہ دہر کیا ہے“ واللہ گلستان نعت ہے


ہر شے پہ کاٸنات کی، فیضان نعت ہے
اک اک ادا حضور کی بے مثل و لاجواب


„ ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے،،


تابع خدا کی حمد کے، ہر اعضا ہیں مرے


واللہ میری روح اسیران نعت ہے
ہر حرف عطر بیز ہے ہر لفظ مثلِ گُل


میرا ہر ایک شعر گلیستانِ نعت ہے


ظلم و ستم کی دھوپ بگاڑے گی کچھ نہیں


جب تک ہمارے سر پہ خیابان نعت ہے
طیبہ کی حاضری کا ہمیں پھر ملا جو اذن


تنویر یہ تو صدقہءِ فیضانِ نعت ہے


محفوظ تو خزاٶں سے ہر وقت ہے وہی
===== [[ تنویر پھول]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
حق کی عطا سے بارش فیضان نعت ہے


سایہ فگن یہ جس پہ بھی باران نعت ہے
فکر و شعور و قلب میں ارمان نعت ہے




کیسے مٹے گا تذکرہ خیرالانام کا
وہ جان کائنات ہیں , وہ شان کائنات


پروردگار جب کہ نگہبان نعت ہے
' ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے '




حج کی سعادتیں ہوں یا صوم و صلوة ہوں
لازم ہے نعت کہنے میں حساں کی پیروی


“ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے“
حسان باغبان گلستان نعت ہے




شاعر کا ہونا عشق میں کچھ شرط تو نہیں
قرآں کی روشنی میں کہو نعت شاہ دیں


یہ عاشقِ رسول بھی مردان نعت ہے
رب کی نگہ میں بس یہی فرقان نعت ہے




جاکر پڑھوں میں شہر مدینہ میں با ادب
ذیشان ان کی مدح سے ہر صنف شاعری


اک،،آرزو کے دل میں بھی ارمان نعت ہے
کاشانہ ء سخن میں دبستان نعت ہے


===== [[حسین امجد]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]]=====
کب میر ے پاس آپ کے شایانِ نعت ہے


میر ے حضور دل میں یہ ارمانِ نعت ہے  
احمد بھی ان کا اسم ہے , اک نام ہے یتیم


یعنی 'الف' سے 'ی' سبھی دیوان نعت ہے


قرآں بیاں کرتا ہے ، توصیف آپ کی


یعنی قرآن ِ پاک ہی شایانِ نعت ہے
بعد از خدا بزرگ ہیں وہ , اس میں شک نہیں


حمد خدا کے بعد قلم دان نعت ہے


میر ے حضور آپ کا مدحت نگار ہوں


میر ے حضور مجھ پہ یہ ' احسان ِنعت ہے
ممدوح وہ خدا کے ہیں, کج مج زبان ہم


لائیں کہاں سے لفظ جو شایان نعت ہے


میں تٙو حضور سایہء رحمت میں آگیا


صد شکر میر ے پاس بھی دیوان ِنعت ہے
رطب اللساں ہیں بلبلیں گلزار نعت میں


صدہا برس سے مہکا یہ بستان نعت ہے


میر ے حضور ایسا کوئی شعر ہو عطا


محفل میِں ، میٙں پڑھوں تو کہیں جانِ نعت ہے  
سرور کی شاں میں اس نے 'رفعنا' ہے کہہ دیا


خود رب کائنات نگہبان نعت ہے


ایسی فضا حضور مری مستقل رہے


جیسی مر ے جضور یہ دورانِ نعت ہے
اس کے کرم سے پھول کھلیں نعت کے سدا


تنویر پھول ! خوب یہ گلدان نعت ہے


میر ے حضور حشر میں رسوا نہیں ہوا
===== [[تنویر جمال عثمانی]]، [[مراد آباد]]، [[انڈیا]] =====
میری نظر میں صرف یہی جانِ نعت ہے


میر ے حضور محض یہ فیضانِِ نعت ہے  
سرکار ﷺ عشق آپ کا' ایمانِ نعت ہے  




امجد عروجِ نعت سے قائم ہے کائنات
نفرت' حسد' نفاق نے پائ نہیں جگہ


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
فکر و نظر پہ میرے یہ احسانِ نعت ہے  


===== [[حسین شاہ زاد]]، [[دوبئی]] =====
چھائی ہوئی کچھ ایسے بہارانِ نعت ہے


لب پر درود دل میں گلستانِ نعت ہے
سچ بولنے کا وصف عطا ہو گیا جسے


اس کو ہی بس جہان میں عرفانِ نعت ہے


قرآن جس کی شان میں دیوانِ نعت ہے


اس دلربا کی دُھن مرا سامانِ نعت ہے
نسلیں مہک رہی ہیں مرے گھر کی دوستو


حاصل جو تین پشتوں سے لوبانِ نعت ہے


ساون کچھ ایسے حُسن سے آیا ہے اب کی بار


اشکوں کے جلترنگ میں بارانِ نعت ہے
حسّان کعب جامی رضا سعدی اور ہم


پرنور سب کے عشق سے ایوانِ نعت ہے


فصلِ ربیع واہ تری دل ربائیاں


گھر گھر میں ذکرِ الفتِ جانانِ نعت ہے
ادراکِ عظمتِ شہِ لولاکﷺ ہو تو آ


سبکے لئے کہاں بھلا میدانِ نعت ہے


کون و مکان ان کی تمنّا میں ہیں مگن


اور ان کے دھیان میں، جو ثنا خوانِ نعت ہے
سیرت کا آئنہ ہو اگر سامنے تو پھر


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے  "


اعزاز میں جو ان کے سجی ہے یہ کائنات


پیرایۂِ لطیف میں اعلانِ نعت ہے
حسنِ عمل بھی رکھ دے عقیدت کے ساتھ ساتھ


اے رہ روانِ نعت یہ میزانِ نعت ہے


صد مرحبا جو اشک بہے ان کے عشق میں


گریہ اس عقل پر جو گریزانِ نعت ہے
آئے جو حرف نامِ نبیﷺ پر تو دیجے سر


یہ انکے اہلِ بیعت کا عنوانِ نعت ہے


فیضِ نگاہِ شوق سے منطق پکار اٹھی


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
تنویر میں بھی ہو گیا دنیا میں با وقار


فیضانِ نعت ہے  یہی فیضانِ نعت ہے


وجدان و قول و فعل پہ ہی منطبق نہیں
===== [[جاوید صدیقی]]، [[لکھنوو]]، [[انڈیا]]=====
نسبت مرے حضور کی سامان نعت ہے


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ان کا حسیں خیال ہی عنوان نعت ہے  




ذوقِ سخن عطائے خداوند ہے مگر
مجھسے گناہگار کو بخشش کی دی نوید


کیا بات اس عطا کی جو وجدانِ نعت ہے
مجھسے گناہگار پہ احسان نعت ہے  




ہو آیا دل مدینہ سے جب رہ گئے قدم
آتا ہے قبل نعت جس اک ذات کا خیال


کیا کم یہ کم نصیبوں پہ احسانِ نعت ہے؟
اللّه کا حبیب ہے وہ ، جان نعت ہے




آفاق دیکھ، نفس کو دیکھ، ارتقاء کو دیکھ
روز ازل رکھی گئی بنیاد نعت کی


ہر متنِ کائنات پہ عنوانِ نعت ہے
کتنا بلند سوچئے ایوان نعت ہے  




دنیا کے بادشاہوں کا ہو کیوں نیاز مند
آیات ِ بینات بتاتی ہے یہ ہمیں
شہ زادٓ خاکِ پائے ثنا خوانِ نعت ہے


اللّه کا کلام دبستان نعت ہے


پروانہ وار جلنے کو آیا ہے شاہ زادٓ


وہ بو الحسن کی شمعِ شبستانِ نعت ہے
کیا لطف ہو فرشتے بھی میزان پر کہیں


===== [[حنیف نازش]]، [[گوجرانوالہ]]، [[پاکستان]]  =====
تیرا نجات نامہ یہ ، دیوان نعت ہے


سر پر ہمارے سایہ ٕ ذی شانِ نعت ہے


حاصل خُدا کے فضل سے ایقانِ نعت ہے
ہے شاعران نعت پہ انعام کبریاء


رکھتی ہے مُجھ کو نعت رہِ مُستقیم پر
" ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے "


مُجھ پر، مِری حیات پر احسانِ نعت ہے


جب لب سے اُن کا نام لیا، نعت ہو گٸی
یاد شہ انام کی خوشبو میں ہے بسا


نادان ہے وہ شخص جو انجانِ نعت ہے
" جاوید" تیرا دل ہے کہ بستان نعت ہے


صَلُّوا وَسَلِمُوا کی حلاوت کو پا کے دیکھ
===== [[جاوید عادل سوہاوی]]، [[جرمنی]] =====
عشق۔ حضور، زینت۔ سامان۔ نعت ہے


غافل! درودِ مُصطفوی جانِ نعت ہے
روشن چراغ ۔ بخت بفیضان۔ نعت ہے


بتلا رہی ہے آیتِ میثاق صاف صاف


مہکا ہُوا ازل سے گُلستانِ نعت ہے
ہر عالم۔ نمو میں ہے خوشبو حضور کی


ہر داٸرے کا مرکزی نُکتہ نبی کی ذات
"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔ نعت ہے"


”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


نازش لواۓ حمد ہو، محمود کا مقام
سب عاشقان۔ صورت ۔ محمود کے لئے


میدانِ حشر گویا کہ میدانِ نعت ہے
سیرت شہ۔ عرب کی دبستان نعت ہے


===== [[خالد رومی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
ھر ایک شعر آیت قرآن نعت ھے


جو حصر سے ورا ھے, وہ احسان نعت ھے
گلہائے باغ۔ مدح و ثنا ہوں جو رو برو


تو مثل۔۔ عندلیب سخن دان۔ نعت ہے


انسان خوش نصیب بفیضان نعت ھے


کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوان نعت ھے
طیبہ سے لامکان تلک جو ہے فاصلہ


ہر گام مصطفےٰ کا گلستان۔ نعت ہے


مخصوص شاعروں سے, کہاں خوان نعت ھے


سارے جہاں پہ سایہء دامان نعت ھے
سر پر ہے لخت۔ ابر۔عنایات۔ وحدہ


اپنےمزاج۔ دل کو جو میلان۔ نعت ہے


کوئی نبی نہ سرور جیش رسل ہوا


ہاں ! مصطفی' کی ذات, جو شایان نعت ھے
سجدہ ہے کربلا کا بھی حسن۔ ثنا گری


اقصیٰ میں وہ نماز بھی جانان۔ نعت ہے


نکتہ کھلا یہ آیہء صلوا علیہ سے


یعنی اس امر میں چھپا فرمان نعت ھے
باغ۔ ۔ شب۔ فلک ہے ضیا بار اس لئے


تاروں کا ہر ہجوم خیابان ۔ نعت ہے


کس کا گزر ھے ناحیہء حق میں اسطرح


شایاں مرے حضور کو عنوان نعت ھے
والشمس کا ہو نور کہ واللیل کی ادا


صلِ علیٰ کا حسن ہی شایان۔ نعت ہے


شاہ جہاں, امام صور, خواجہء ازل


ختم رسل ہی زینت ایوان نعت ھے
ہر سورت ایک پھول ہے ہراک حدیث شاخ


یہ کنز۔ رنگ وبو ہے جو عرفان۔ نعت ہے


کیسی غرض مطاعم فردوس آز سے


درویش کو عزیز نمکدان نعت ھے
آواز۔کن فکاں ہے خصائص کا زمزمہ


گویا ظہور۔ہست بھی اعلان۔ نعت ہے


تیرہ بساط زیست تھی, پر نور ہو گئی


عشق رسول شمع شبستان نعت ھے
وہ سلسبیل و کوثر و تسنیم۔ خلد سب


مل جائیں تو سمجھنا کہ احسان۔ نعت ہے


یہ تذکرہ نہیں ہے زلیخاۓ مصر کا
===== [[جمشید ساحل]]، [[بریلی شریف]] ، [[انڈیا]] =====


ھشیار ! کوۓ یوسف کنعان نعت ھے !!
جانِ بہار اور گلستانِ نعت ہے


بخشش کے واسطے مرے وجدانِ نعت ہے


داراۓ شعر بھی ہو یہاں یہاں ہوش باختہ


اللہ رے کیا ہی شوکت ایوان نعت ھے
شاہِ عرب کی مجھ کو گدائی جو مل گئی


اللہ کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


ھم کشتگان چشم ولا کو خوشا نصیب


اسباب حمد ہیں, کہیں سامان نعت ھے
فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک خدا گواہ


ہـر شعبئہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


توفیق دے خدا تو ملے گنج آگہی


عالم سے بڑھ کے دولت عرفان نعت ھے
یوں تو بہت ہیں نعت کے دیوان دہر میں


یکتا مگر رضا کا ہی دیوانِ نعت ہے


اس دور افتراق و تعصب گزیدہ میں


درکار ھر بشر کو ہی درمان نعت ھے
دنیا کے گوشہ گوشہ میں جس سمت دیکھئے


چھایا ہوا ہر ایک سو بارانِ نعت ہے


اخلاص جاں, نہ فہم و تدبر, نہ سوز دل


لائق رفو کے چاک گریبان نعت ھے
ایماں سے ہاتھ دھونا نہ پڑ جاے اس لئے


رکھیے قدم کو پھونک کے میدانِ نعت ہے


خیرات فکر و فہم اسے بخشئیے حضور !


رومی عجم میں آپ کا حسان نعت ھے
دیوانگانِ شاہِ دو عالم کی ہے صدا


===== [[خالد عبداللہ اشرفی]]، [[مہاراشٹرا]]، [[بھارت]] =====
دل چیز کیا ہے جان بھی قربانِ نعت ہے


پیشکش : [[غلام ربانی فارح مظفرپوری]]


ساحل گناہ گار سیہ کار ہے مگر


یہ زندگانی اصل میں عنوان نعت ہے  
مداحِ مصطفٰے ہے یہ احسانِ نعت ہے


ہرلمحہ اس کا صفحۂ دیوان نعت ہے
===== [[جمیل حیدر عقیل]]، [[ نیویارک]]، [[امریکا]] =====


بشکریہ : [[عباس عدیم قریشی]]


دامن میں اپنے صدقۂ حسان نعت ہے  
موسم ہے دل کا جاں فزا امکان نعت ہے


عزت سے جی رہے ہیں یہ احسان نعت ہے
میری سخنوری پہ بھی فیضان نعت ہے




جوبن ہے چھایا چارسو محفل پہ نعت کی
لفظوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہی


مستی میں مست ایک اک مستان نعت ہے
ان کی ولائے پاک ہی سامان نعت ہے




لب وقف ہیں درود پیمبر کے واسطے
ایسے ہی تو کھلی نہیں رہ پلِ صراط کی


صدشکر رب کہ دل ہوا قربانِ نعت ہے
ہاتھوں میں اس فقیر کے دامان نعت ہے




ہراک زبان ولہجہ میں موجود صنف نعت
کیسے نہ نعت پاک ہو دل سے مرے کشید


کتنا وسیع دوستو دامانِ نعت ہے
رگ رگ میں جب رچا بسا ایمان نعت ہے




گل ، گُلسِتاں چَرِند وپَرِند، انس و جن ،ملک
قندیل جب سے ہو گئی روشن درود کی


جسکو بھی دیکھیے ، لیے ارمان نعت ہے
سب حسرتیں ہی مٹ گئیں، ارمان نعت ہے




تحت الثریٰ ہو سدرہ ہو عرش علیٰ جناں
ایسا چلا ہے دور درود و سلام کا


ہر. شعبئہ حیات میں امکان نعت ہے
ہونٹوں پہ قدسیوں کے بھی گردان نعت ہے




خون جگر سیاہی ، دل مضطرب ورق
اے دل اسی میں ڈوبنا تم احترام سے


لکھنے کے واسطے یہی سامان نعت ہے
جس ساگرِ خلوص میں ہیجان نعت ہے


===== [[جنید نسیم]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : جنید نسیم سیٹھی


حاضر. جو قلب رہتا ہے ان کے حضورمیں
جب سے خیال و فکر کو میلانِ نعت ہے


سب یہ کرم ہے فیض ہے وجدان نعت ہے
ہر سانس ایک شعر بہ عنوانِ نعت ہے




یہ جو لحد میں پھیلا اجالا ہے دوستو
مولود ہو بیانِ سراپا ہو، خُلق ہو


فضل خدا ۓ پاک ہے ، برھان نعت ہے
قائم انھی سے رونقِ بُستانِ نعت ہے




جی بھر کے باغ خلد میں خالد پڑھیں گے نعت
ہر رُخ حیاتِ پاک کا پیشِ نظر رہے


کہتے ہیں خلد جس کو وہ ایوانِ نعت ہے
سیرت میں گام گام پہ سامانِ نعت ہے


سید خالد عبداللہ اشرفی اورنگ آبادی، بھارت


===== [[خادم رسول عینی]]، [[اڈیسہ]]، [[انڈیا]] =====
نے قدرتِ کلام نہ فہمِ سخن وری
مکمل نام : سید خادم رسول عینی


لیل و نہار پر مرے احسان نعت ہے
سلطانِ انبیا کا ادب ، جانِ نعت ہے


میری حیات نور پہ جزدان نعت ہے


صحنِ بیان و ذکر سے باہر تو دیکھیے


بچے ہوں یا ضعیف سبھی نعت پڑھتے ہیں
"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


ہر سمت کھلتے رہتے ہیں گُل ھائے رنگ رنگ


اک کنکری نے کلمہ پڑھا اور یہ کہا
میرا وطن بھی گویا گُلستانِ نعت ہے


ہر شئ کے دل میں دیکھئے ارمان نعت ہے


معبود! مجھکو نعت کا عرفان کر عطا


توریت میں زبور میں بھی ان کی ہے ثنا
وہ لفظ ہو عطا کہ جو شایانِ نعت ہے


قرآں مگر سدا کے لیے جان نعت ہے


مجھ ایسا بے ہُنر بھی ہوا معتبر جنید


وہ نظم ہو غزل ہو کہ دوہا کہ ہائیکو
میرا کمال کیا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


بس ان کا ذکر ہو یہی پہچان نعت ہے  
===== [[جہانداد منظر القادری]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
دعویٰ ذرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے


حاضر جہاں پہ ہوں مَیں وہ ایوانِ نعت ہے


سیرت نبی کی لکھ تو سراپا بھی ان کا لکھ


ان دونوں کو ملا دے یہ ریان نعت ہے  
ممدوحِ ذات حق کی ہے مدحت کا مرحلہ


بے قیل و قال محض یہ احسانِ نعت ہے


سرکار کے وسیلے سے مقبول ہوگئ


آدم کی" عینی" توبہ بھی برہان نعت ہے
رب کا کلامِ نُور ہے تعبیرِ حُسنِ کُل


===== [[خاور اسد]]، [[رحیم یار خان]]، [[پاکستان]]  =====
نعتوں کی سلطنت کا وہ سُلطانِ نعت ہے
نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے


یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے


عشقِ نبی میں ڈوب کے دیکھو تو تب لگے


وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے


لے کر چلا ہُوں نعت کی فردِ عمل کو ساتھ


میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے


جز مدحِ شاہ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے


خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے
آقا کے نقشِ نعلِ عطا زیبِ حرف ہیں


منظَر بھی آج صاحبِ دیوانِ نعت ہے


اس کے ہر ایک لفظ پہ افسوس کیجئے
===== [[جوہر قدوسی]]، [[کشمیر]]، [[بھارت]] =====
   
   
جس کی بیاض بے سرو سامانِ نعت ہے
بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]


ارض وسماء میں چار سو فیضانِ نعت ہے


تشنہ لبی کو بوسہِ نعلین چاہئے
فرقان لا یزال ہی شایانِ نعت ہے


دل کی تپش کا توڑ یہ بارانِ نعت ہے


مدح و ثنائے خواجہ ہو دوران نیم شب


احساں ہے عالمین پہ میلادِ مصطفی
اشک سحر گہی سے ہی عرفان نعت ہے
یہ کائنات اصل میں ایوانِ نعت ہے




رحمت ہیں وہ تمام جہانوں کے واسطے
شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


مجھ ایسے بے ہنر کو پنہ مل گئی اسد


کتنی کشادگی سرِ دامانِ نعت ہے
عشق نبی فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں


===== [[خرم جمیل]]، [[میلسی]] =====
یہ میرا جذب و کیف بھی احسان نعت ہے
ہر اشک میری آنکھ کا سامان ِ نعت یے


یہ حال میرا دیکھیئے دورانِ نعت ہے


میں بے ہنر ہوں تاب سخن کی طلب مجھے


پڑھتے. رہو درود یہی راستہ تو یے
ارمان  کوئی ہے تو بس ارمان نعت ہے


ذکر ِ رسول پاک ہی امکانِ نعت یے
===== [[حاتم رضا علیمی]]، [[سیتا مڑھی,بہار]]، [[انڈیا]] =====
سینے میں میرے حسرت و ارمانِ نعت ہے


باغِ جناں سے اعلی خیابانِ نعت ہے


کرتے ہو ہر نماز میں تعریف مصطفیٰ


تم خوش نصیب ہو تمھیں عرفانِ نعت ہے
لکھنے کی نعت مجھ کو سعادت نصیب ہو  


سرکار ! عشق آپ کا ایمانِ نعت ہے


ہر لفظ میرے سامنے رکھا ہوا تو ہے


بس آیہِ قرآن ہی. شایانِ نعت ہے
جا ہ وحشم کی مجھ کو ضرورت نہیں حضور


چشمِ زدن میں بارشِ فیضانِ نعت ہے


تعریف ہر غلام کرے اس غلام کی


عشقِ بلال اصل میں میزان نعت ہے
خیر البشر کی مدح کروں میری کیا مجال


فضلِ خدا سے مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


اس کا یقین رشک کے قابل ہے اے جمیل


جو کہہ رہا ہے شعر کو دیوان نعت ہے
خلدِ بریں میں جانے کی خواہش نہیں مجھے


جب خود ہی میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


ہم میلسی کے لوگ عقیدت مزاج ہیں


خرم ! یہ شہر شہرِ غلامانِ نعت ہے
دنیا کے خطے خطے سے آتی ہے یہ صدا


===== [[خلیل الرحمان]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
,,ہر شعبہِ حیا ت میں امکا نِ نعت ہے,,
مکمل نام : محمّد خلیل الرحمان


کس کا کلام ہو سکا شایان ِ نعت ہے


قرآن کا نزول ہی سامان ِ نعت ہے
نعت رسول لکھنے میں حاتم کی موت ہو


تا زیست کے لیے یہی فرحانِ نعت ہے


تخلیق ِ کائنات کا سرکارؐ ہیں سبب
===== [[حسان المصطفٰی ]]، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]] =====
یونہی نہیں یہ رفعتِ عنوانِ نعت ہے


“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”
سب حمد جس کی ہے وہی نگرانِ نعت ہے




ذکر ِ نبیؐ کے واسطے رزق ِ سُخن کھُلا
سب امتیں پڑھیں گی وہاں نعتِ مصطفیٰ


ہر دل بنا جبھی تو قلمدان ِ نعت ہے  
میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے




صلّ ِ عَلٰی کے ورد سے دل کو ملے قرار
کچھ اشکِ بے مراد ہیں آنکھوں میں موجزن


شاید اسی لیے ہی یہ سُلطان ِ نعت ہے
میں ہوں، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے




کرتا ہے روز و شب وُہی توصیف ِ مُصطفٰےؐ
سائے میں جس کے میرے سبھی عیب چھپ گئے


جس شخص کو عطا ہوا عِرفان ِ نعت ہے
خوش بخت ہوں، ملا مجھے دامانِ نعت ہے




ملتے ہیں لوگ پیار سے مُجھ سے غریب کو
اُسکی ثنا ہی اول و آخر ہے دوستو


عزت کا آسرا مِرا فیضان ِ نعت ہے
اِسکے سوا ہے جو بھی، وہ دورانِ نعت ہے




تُو روضۂ ِ رسولؐ کے قابل نہ تھا خلیلؔ
غزلوں میں جو بھی آیا گماں میں وہ کہہ چُکا


تُجھ پر ہُوا ضرور وُہ احسان ِ نعت ہے
ہٗشیار باش! رُو بقلمدانِ نعت ہے


===== [[خورشید رضوی]] ، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


یہ گلستانِ نغمہِ سرایانِ نعت ہے
ہر شعر پُل صراط ہے، محتاط ہو کے چل


سرگرم ہر روش پہ دبستانِ نعت ہے
ہر نعت خود کہےتٗجھے عرفانِ نعت ہے




ہے طبع سب کی ایک ہی آہنگ میں رواں  
ہر دور کی رگوں میں رواں اُنکا ذکر ہے


یکساں تمام بزم میں فیضانِ نعت ہے
گویا زماں زماں نہیں، دیوانِ نعت ہے




غںچے چٹک رہے ہیں نکاتِ سخن کے آج
اُمیدِ وصل، اشک، غمِ ہجر، اور اشک


سمجھے گا کچھ وہی جسے عرفانِ نعت ہے
یہ زادِ راہِ عشق ہے، سامانِ نعت ہے




مضموں نکالنا ہیں ستاروں کو جوڑ کر
یہ نام تھا، دعا تھی کہ والد کا خواب تھا


پھیلا ہوا فلک پہ یہ سامانِ نعت ہے
جِسکے سبب ہی آج یہ حسانِؔ نعت ہے


===== [[حسن رضا حسانی ]] ، [[کلاسوالہ سیالکوٹ ]]، [[پاکستان]] =====


جو رنگ سوچئے سو ہے اس نقش سے فرو


جو حرف دیکھیےسو پشیمانِ نعت ہے
حبِّ رسول سے سجا دامانِ نعت ہے


توصیفِ مصطفیٰ ہی فقط شانِ نعت ہے


وہ فکر لائیے کہ ہو ہم دوشِ بامِ عرش


وہ لفظ ڈھونڈیے کہ جو شایانِ نعت ہے


لفظوں کے موتی اور نکھرتے ہیں نعت سے


ہر بات میں ہے اُسوہِء کامل نبیؐ کی ذات
جو کچھ ہے عشق میں لکھا وہ جانِ نعت ہے


"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"




ہر موجہِء ہوا میں ہے خوشبو درود کی
ہے تیز دھار سیف پہ چلنے کی مثل نعت


ہر ذرّہ رُو بہ راہِ درخشانِ نعت ہے
اپنا عقیدہ اصل میں پہچانِ نعت ہے




ہے ہر شجر اُٹھائے ہوئے مدح کا عٙلٙم
اب ذہن کا جہان معطر ہوا مرا


ہر برگ پہ لکھا ہوا عُنوانِ نعت ہے
وہ اس لیے کہ دوستو فیضانِ نعت ہے




ہے یاد آسماں کو وہ شقُ القمر کی رات
رب نے بھی مصطفیٰ کا ذکر خوب ہے کیا


باندھے ہوئے حضورؐ سے پیمانِ نعت ہے
ہر معجزہ حضور کا شایانِ نعت ہے




خورشید ! آفتابِ قیامت کے رُو برو
مجھ کو سلیقہ آ گیا مدحت سرائی کا


کافی مجھے یہ سایہِ دامانِ نعت ہے۔
اچھا سخن طراز ہوں احسانِ نعت ہے


===== [[دانش حسین دانش]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
شہرِ تخیلات میں عرفانِ نعت ہے


دل میں مرے مکین جو سلطانِؐ نعت ہے
محشر کے دن ذرا بھی نہ گھبرائے گا حسن


دیکھو تو اس کے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


قرآں کی آیتوں سے کھلا ہم پہ یہ رموز


خود خالقِ رسولؐ ثناء خوانِ نعت ہے
محمد حسن رضا حسانی، کلاس والہ سیالکوٹ، پاکستان


===== [[حسن علی خاتم]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
کچھ پاسِ آرزو ہے، نہ عرفانِ نعت ہے


خیراتِ فکر اس سے ہی لیتا ہوں بار بار
اک شوق ہے سو وہ بھی نہ شایانِ نعت ہے


عمرانؑ کا جو گھر مرے دیوانِ نعت ہے


اتنا سا دل ہے اور سرِ میدانِ نعت ہے


ہر رجس سے ہو پاک ہر اک لفظ میں ہو عشق
حاشا یہ حوصلہ نہیں، فیضانِ نعت ہے


اجزائے نعت ہے یہی ارکانِ نعت ہے


کیا کیا نہ زیرِ سایہِ دامانِ نعت ہے؟


چکھ رکھا ہے لعابِ محمدؐ اسی لئے
ہر شے پہ کائنات میں احسانِ نعت ہے


مولا علیؑ بتائیں گے کیا شانِ نعت ہے


جب لفظِ کن ہی مطلعِ دیوانِ نعت ہے


نوکِ سناں پہ ہوں کہ ہوں شبیرؑ زیرِ تیغ
پھر کیا ہے جو نہ داخلِ دامانِ نعت ہے؟


حمدِ خدا کہیں کہیں عنوانِ نعت ہے


مخصوص شاعری سے نہیں نعت کا عمل


ذکرِ رسولِؐ پاک ہے سانسوں سے متصل
سنت کو جو بھی تھام لے، حسانِ نعت ہے


'' ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے''


جو اشک ان کی یاد میں نکلے، سو شعر ہے


تو بابِ شہرِ علمؑ سے دانشؔ ہے منسلک
جس دل میں بھی وہ ہیں، سو دبستانِ نعت ہے


جب تک کہ تیرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


===== [[دلاور علی آزر]]، کراچی، پاکستان  =====
شعر و سخن میں اس کو مقید نہ جانیے


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


پھیلا ہوا بہت سر و سامانِ نعت ہے


وسعت پزیر عالمِ امکانِ نعت ہے
تعریف ہے خدا کی، نبی کی ہی کیوں نہ ہو


مجھ میں بسی ہوئی ہے مہک مدحِ شاہ کی
یہ حمد ہے اگرچہ بہ عنوانِ نعت ہے


مجھ میں کِھلا ہوا گُلِ ریحانِ نعت ہے


اِس لوح پر حضور کی مدحت لکھوں گا میں
محشر کے واسطے یہ حوالہ بہت ہے دوست


یہ میرا دل نہیں ہے یہ جزدانِ نعت ہے
خاتم فقیرِ راہِ فقیرانِ نعت ہے


باندھا گیا ہے عشق کی ڈوری سے لفظ کو
===== [[حسنین الثقلین]]، [[مدینہ منورہ]]، [[سعودی عرب]] =====
مکمل نام : سید محمّد حسنین الثقلین


مشکل ہے توڑنا اِسے پیمانِ نعت ہے
پَل پَل جو پَل رہا ہے، وہ ارمانِ نعت ہے


ہر کارِ خیر اُن سے عبارت ہے دہر میں
دل میں جو جاوداں ہے، وہ فیضانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


پہچانتے ہیں مجھ کو جو دنیا میں چند لوگ
کہتے ہوۓ غزل بھی، مجھے دھیانِ نعت ہے


یہ اور کچھ نہیں ہے یہ فیضانِ نعت ہے
سچ پوچھیے تو یہ مِرا پیمانِ نعت ہے


ورنہ کہاں یہ ہیچ ہنر اور کہاں یہ ظرف


میں نعت لکھ رہا ہوں تو احسانِ نعت ہے
وَالَّیل، وَالضُّحی، کہیں وَالفَجر کا بیاں


لفظوں سے نورِ عشق جھلکتا ہے سر بہ سر
کیسا حسیں سجا ہُوا قرآنِ نعت ہے


میری غزل کے رنگ میں اعلانِ نعت ہے


اُس کو بیان شعر میں کیسے کرے کوئی
سمجھا ہے کون رُتبۂ مرسل بجز خُدا


وہ کیفیت جو لفظ کی دورانِ نعت ہے
حاصل کسے بھلا ہُوا عرفانِ نعت ہے


حکمت کی سب حدیں ہیں اِسی آئنے میں ضم


رحمت سمیٹتا ہوا دامانِ نعت ہے
لازم ہے ہم نماز میں اُن پر پڑھیں درود


آزر میں پوچھتا ہوں سبھی ناعتین سے
ثابت ہوا نماز بھی سامانِ نعت ہے


میرا لکھا ہوا بھی کیا شایانِ نعت ہے


===== [[ذوالفقار علی دانش]] ، [[حسن ابدال]]، [[پاکستان]] =====
میرے خمیر میں ہے وِلاۓ نبی گُندھی


آثار ہیں کہ آمدِ بارانِ نعت ہے  
اِس واسطے سرشت میں میلانِ نعت ہے


دامن پسارییے شبِ فیضانِ نعت ہے


ہوش و خرد کو دل کے مَیں رکھتا ہوں آس پاس


جس کو شعورِ خواہش و ارمانِ نعت ہے  
اِس واسطے کہ سامنے ایوانِ نعت ہے


وہ جان لے کہ اُس پہ یہ احسانِ نعت ہے


"صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے"


ہر سمت آج کل یہ جو رجحانِ نعت ہے
”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“


سرکار کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


حسنی کو مرحبا کہا رضوانِ خُلد نے


جس شہر میں بھی نعتِ محمد کہی گئی
دیکھا کہ ہاتھ میں مِرے دیوانِ نعت ہے


وہ شہر از قبیلِ خیابانِ نعت ہے
===== [[حسنین اکبر]]، [[دوبئی]] =====


حسۤان کے قدوم کی جو خاک بھی نہیں
اُمی لـقب سے عَلَّمَ بُرہانِ نعت ہے


کیسے یہ مان لیں کہ وہ حسّانِ نعت ہے ؟
اقرأ باســم ربـك اعلانِ نعت ہے


وہ پہلا نعت گو وہی سلطانِ نعت ہے


انسان ہوں ، مَلَک ہوں ، کہ کنکر ، شجر ، حجر
ہر نعت گو رعیّتِ عمرانِ ع نعت ہے


دیکھو جسے ، شریکِ دبستانِ نعت ہے  
بنیادِ مدحِ سید الابرار ص ہے درود


فرمانِ کردگار میں فرمانِ نعت ہے


مدحت میں صرف میرا قلم ہی نہیں رواں
شق القمر دو باٹ کی صورت بٹے ہوئے


میرا رُواں رُواں بھی گُل افشانِ نعت ہے  
دستِ الہُٰ العدل میں میزانِ نعت ہے


پیغمبرِ ص حیات ہیں سرکارِ ص دوجہاں


زیبا ہے بس یہ حضرتِ حسّان کے لیے
"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر گز نہ کہیے کوئی بھی سلطانِ نعت ہے
جس نعت میں علی ع و محمد ص کی بات ہو


وہ کائناتِ نعت میں سلمانِ ع نعت ہے


گر نعت کہنے کا ہے ارادہ تو جانیے
اظہارِ کُل صفاتِ الہٰی انہی ص سے ہے


" ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
اب اس کے بعد جو بھی ہے میدانِ نعت ہے


حرفِ دعا ہے آیہءِخیرالجزا کے بعد


جو سیکھنا ہو سیکھیے قرآں سے طرزِ نعت  
مجھ کو جزا کی مد میں بھی ارمانِ نعت ہے


ہر لفظ اس صحیفے کا شایانِ نعت ہے
دنیا ادب سے لیتی ہے جو نعت گو کا نام


  کوئی ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے


صد فخر ہوں میں ناعتِ سرکارِ نامدار
پہلی اذانِ اسمِ محمد ص تھی عرش پر


صد شکر میری طبع میں میلانِ نعت ہے  
دراصل کعبہ دوسرا ایوانِ نعت ہے


قرآں کہو صحیفہ کہو  کوئی نام دو


قربانِ مدحِ سرورِ عالم ہے جاں مری
دیوانا جانتا ہے یہ دیوانِ نعت ہے


سب کچھ مرا فدائے فدایانِ نعت ہے
دل سے دعائیں دیجیے مدحِ رسول ص پر


خاموشی اس مقام پہ کفرانِ نعت ہے


رکھ پھونک پھونک کر رہِ مدحت میں ہر قدم
یہ داستان عشق ہے کارِ جہاں نہ جان


حدِّ ادب رہے کہ یہ میزانِ نعت ہے
لکھنے سے پہلے یہ بتا،ایمانِ نعت ہے؟


طیبہ سے ہوکے جاتے ہیں ہم سوئے کربلا


اے ساکنانِ کُوچہِ امکان دیکھنا
ہر شاہراہِ عشق خیابانِ نعت ہے


اِمشب بھی کیا کہیں کوئی امکانِ نعت ہے ؟؟؟
اکبر میں اسـکے ہاتھ پہ بیعت ابھی کروں


جس کو بھی اس زمانے میں عرفانِ نعت ہے


شانِ رسول فہمِ بشر سے ہے ماورا
===== [[حسنین شہزاد]]، [[کوٹ عبد الحکیم]] ، [[پاکستان]] =====


مت سوچیے کہ آپ کو عرفانِ نعت ہے  
سُلگا ہؤا خیال میں لوبانِ نعت ہے


خوش ہیں قلم دوات کہ امکانِ نعت ہے


پہلی صدی ہو یا کہ ہو وہ آخری صدی


حسّان ہی امیرِ جوانانِ نعت ہے  
باب السّلام ، بابِ امان و سکون ہے


بابِ بقیع ، باب ِ خیابانِ نعت ہے


حمدِ خدا کے دائرے کی حد سے اِس طرف


جتنا بھی جس قدر بھی ہے ، میدانِ نعت ہے
عُشّاق جانتے ہیں مقام ِ مواجہہ


عُشّاق یعنی وہ جنہیں عرفانِ نعت ہے


کتنا کرم کیا ہے رسالت مآب نے


دانش بھی ریزہ چینِ گدایانِ نعت ہے
چشمِ خیال ، بَن کے دِوانی کبوتری


محوِ طواف ِ روضہ ءِ سلطانِ نعت ہے


دانش ! رموزِ شاعری ہیں قلب و جسم و روح


آقائے دو جہاں کا ادب جانِ نعت ہے
تعلیم ہو، سفر ہو، تجارت ہو ، عدل ہو


" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اُڑتا پھرے ہے باغ میں آئی ہے بُوئے نعت


دانش کہ بلبلِ چَمَنِستانِ نعت ہے
===== [[حسنین عاقب]]، [[مہاراشٹر ]]، [[بھارت ]] =====


===== [[راحل بخاری]]، [[لکی مروت]]، [[پاکستان]] =====
سیرت نبی کی، ذکرِ نبی جانِ نعت ہے
سرمایۂ حیات اک ارمانِ نعت ہے  


وہ کیا کرے جو بے سر و سامانِ نعت ہے
میں نعت گو ہوں، مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے




یارا نہیں کہ نعت کہیں ہم سے بے زباں
آدابِ نعت گوئی قلم کو سکھائیے


لہجہ تو بس قرآن کا شایانِ نعت ہے
اور یہ خیال رکھیے، یہ میدانِ نعت ہے




دروازۂ بتول ع پہ آیات روشنی
اذہان جن کے مہکے عقیدت کے نور سے


دروازۂ بتول ع ہی ایوانِ نعت ہے
حاصل انہی کو ہوسکا وجدانِ نعت ہے




مسجد، کجھور، راستہ، دیوار، در، دیا
اصنافِ شعر جتنی ہیں، اپنی جگہ مگر


اک شہر حسن زار میں سامانِ نعت ہے
ہر ایک صنفِ شعر تو قربانِ نعت ہے




اک نون عین تے کا ہے صدقہ بیانِ عصر
لفظوں کے جوڑ توڑ سے نسبت نہیں اسے


ایما و رمز و چاشنی فیضانِ نعت ہے
عشقِ رسول ہی سے تو پہچانِ نعت ہے




خوشبو کے پیش و پس کا علاقہ ہے نور کا
اے کاش! میری نعت سے خوش ہوکے ایک دن


روشن سماعتوں پہ ہی بارانِ نعت ہے
کہہ دیں یہ خود نبی کہ تو خاقانِ نعت ہے


===== [[رائے توکل اللہ]] =====
عرفان حمد صدقہء وجدان _نعت ہے


افکارمنتشر پہ یوں احسان _نعت ہے
عاقب نے جس کا نام رکھا '' خامہ سجدہ ریز ''


باعث نجات کا مرا دیوانِ نعت ہے


بدلے میں حب کے , لفظوں کے در بے بہا ملیں
===== [[حسیب آرزو]]، [[بکسر]]،[[ بھارت]] =====


سودا یہ کتنا ارزاں بہ دکان_نعت ہے


یہ دہر کیا ہے“ واللہ گلستان نعت ہے


سیم و زر_جہان کی ہرگز نہیں طلب
ہر شے پہ کاٸنات کی، فیضان نعت ہے


جب جمع پونجی گوہرمرجان _ نعت ہے


ظلم و ستم کی دھوپ بگاڑے گی کچھ نہیں


قلبسیاہجن و بشر کی منزگی
جب تک ہمارے سر پہ خیابان نعت ہے


من جملہ ! دو جہان میں جبران_ نعت ہے


محفوظ تو خزاٶں سے ہر وقت ہے وہی


معجب ہے جس پہ طائرفکرسخن وری
سایہ فگن یہ جس پہ بھی باران نعت ہے


صد آفرین و مرحبا ! طیران_نعت ہے


کیسے مٹے گا تذکرہ خیرالانام کا


ہر دم خیال میں ادب_مصطفی (ص) رہے
پروردگار جب کہ نگہبان نعت ہے


آوازخامہ میں یہی اذعان نعت ہے


حج کی سعادتیں ہوں یا صوم و صلوة ہوں


راقم کو اپنے نار سے کروانا رستگار
“ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے“


لحظہ بہ لحظہ وعدہ و پیمان_نعت ہے


شاعر کا ہونا عشق میں کچھ شرط تو نہیں


ام الکتب بھی جس پہ کرے رشک بار ہا
یہ عاشقِ رسول بھی مردان نعت ہے


عشاق کا لکھا ہوا دیوان_ نعت ہے


جاکر پڑھوں میں شہر مدینہ میں با ادب


کب صنفنعت اہلادب ہی کا خاصہ ہے  
اک،،آرزو کے دل میں بھی ارمان نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکان_نعت ہے"
===== حسیب جمال ۔ یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے =====


شاعر : [[حسیب جمال]] ، [[راولپنڈی]]


کیا خوش نصیب ہے جو غزل گوئی کی جگہ


جدت پسند دور میں عمران_نعت ہے  
یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے  


لیکن کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے
۔


ملک_عدم روانگی کو دل ہے مطمئن
لغزش سے ہو نہ جائے سبھی کچھ ہی رائگاں


ہمراہ حشر کے لیے سامان_نعت ہے  
احباب! احتیاط، یہ میدانِ نعت ہے




کیوں کر نہ میرا علمی تبحر ہو در فشاں
اشکوں کے ساتھ جانبِ طیبہ میں چل دیا


بخشا مجھے رسول (ص) نے امعان_نعت ہے  
زنبیلِ چشم میں یہی سامانِ نعت ہے  




حسن_خیال بخشے ہے ہر زید بکرکو
پہلے نبی کے عشق سے دل کو سجاو تم


نشوونما گمان کی ایقان_نعت ہے  
میں نے سنا ہے دوستو یہ کانِ نعت ہے  




ڈنکا جو بج رہا ہے توکل کا چار دانگ
لکھنے لگا جو نعت تو محسوس یہ ہوا


فیض محمدی (ص) ہے , یہ فیضان نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


===== [[رئیس جامی]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====


میں بے ہنر ہوں کب مجھے عرفانِ نعت ہے
قرآن کا محافظِ مطلق ہے خود خدا


مولا! مگـر کـرم ہو کہ ارمـانِ نعت ہے
یعنی کہ خود خدا بھی نگہبانِ نعت ہے  




ان کا کرم کہ کاوشیں کرتے ہیں وہ قبول
مل کر درود بھیجیے خیر الانام پر


ورنہ کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے
لائق یہی ہے اور یہی شایانِ نعت ہے  




میرے تخیـلات پہ چھائی ہے روشنی
کھل کر جمال کیجیے توصیفِ مصطفیٰ


کہتا ہوں میں یقیں سے یہ فیضانِ نعت ہے
توصیفِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے


===== [[حسین امجد]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]]=====
کب میر ے پاس آپ کے شایانِ نعت ہے


مطلع ہوا تو آنکھ سے آنسو نکل گئے
میر ے حضور دل میں یہ ارمانِ نعت ہے


قسمت کہاں مری کہاں جانانِ نعت ہے


قرآں بیاں کرتا ہے ، توصیف آپ کی


دنیا مجھے حقیر نہ جانے میں ہوں غنی
یعنی قرآن ِ پاک ہی شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


دیکھو یہ میـرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


میر ے حضور آپ کا مدحت نگار ہوں


میرے خیـال میں اسے پتھر ہی جانیے
میر ے حضور مجھ پہ یہ ' احسان ِنعت ہے


وہ دل کہاں جو بے سـر و سامانِ نعت ہے


میں تٙو حضور سایہء رحمت میں آگیا


اس نے رخِ حبیب کو تک کر کہی تھی نعت
صد شکر میر ے پاس بھی دیوان ِنعت ہے


حسان اس لئے ہی تو سلطانِ نعت ہے


میر ے حضور ایسا  کوئی شعر ہو عطا


میرے تمام عیب چھپائے گا روز ِ حشر
محفل میِں ، میٙں پڑھوں تو کہیں جانِ نعت ہے


اتنـا طــویل وسعتِ دامــانِ نعـت ہے


ایسی فضا حضور مری مستقل رہے


بیٹھے بٹھائے ہوگئی اس در پہ حاضری
جیسی مر ے جضور یہ دورانِ نعت ہے


کیسا رئیس دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے


میر ے حضور حشر میں رسوا نہیں ہوا


===== [[رحمان حفیظ]] ، [[اسلام آباد]]، پاکستان =====
میر ے حضور محض یہ فیضانِِ نعت ہے




عشقِ رسول ہو تو یہ میدان ِ نعت ہے
امجد عروجِ نعت سے قائم ہے کائنات


ہر فن میں ، ہرہنر میں ہی امکان ِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


===== [[حسین شاہ زاد]]، [[دوبئی]] =====
چھائی ہوئی کچھ ایسے بہارانِ نعت ہے


مدح و ثنا کا سلسلہ افلاک سے چلا
لب پر درود دل میں گلستانِ نعت ہے


'' صلو علیہ'' خاصۂ خاصانِ نعت ہے


قرآن جس کی شان میں دیوانِ نعت ہے


اِس میں تو خود خُدا نے کی تحسین آپ کی
اس دلربا کی دُھن مرا سامانِ نعت ہے


قران شاعری نہ سہی، جانِ نعت ہے


ساون کچھ ایسے حُسن سے آیا ہے اب کی بار


الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں قطار میں
اشکوں کے جلترنگ میں بارانِ نعت ہے


جس سے بھی پوچھ لیجئے، قربانِ نعت ہے


فصلِ ربیع واہ تری دل ربائیاں


پہنچے گا اُس تلک بھی شفاعت کا سلسلہ
گھر گھر میں ذکرِ الفتِ جانانِ نعت ہے


خوش بخت ہے وہ جس میں بھی میلانِ نعت ہے


کون و مکان ان کی تمنّا میں ہیں مگن


ان کو لُٹے پٹے تو زیادہ عزیز ہیں
اور ان کے دھیان میں، جو ثنا خوانِ نعت ہے


اسبا ب کا نہ ہونا بھی سامانِ نعت ہے


اعزاز میں جو ان کے سجی ہے یہ کائنات


حدِّ ادب سے ہو گئی عنقا صریرِ کلک
پیرایۂِ لطیف میں اعلانِ نعت ہے


گویا مِرے قلم کو بھی عرفانِ نعت ہے


صد مرحبا جو اشک بہے ان کے عشق میں


اے کوچہء سخن کے پریشان ! اتنا جان
گریہ اس عقل پر جو گریزانِ نعت ہے


تسکین دل جو ہے تو بفیضانِ نعت ہے


فیضِ نگاہِ شوق سے منطق پکار اٹھی


طیبہ سے ہو کے جائے گا باغِ بہشت تک
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


دشتِ ہنر میں یہ جو خیابانِ نعت ہے


وجدان و قول و فعل پہ ہی منطبق نہیں


واللہ ! صرف زائرِ طیبہ کا ہو تو ہو
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


احساس جو مجھے ابھی دورانِ نعت ہے


ذوقِ سخن عطائے خداوند ہے مگر


رُک سا گیا تھا چشمہء تخلیق لیکن آج
کیا بات اس عطا کی جو وجدانِ نعت ہے


بنجر دل و دماغ میں بارانِ نعت ہے


ہو آیا دل مدینہ سے جب رہ گئے قدم


توفیق مانگتے ہیں سب اہلِ ہنر کہ جب
کیا کم یہ کم نصیبوں پہ احسانِ نعت ہے؟


یہ ہو تو لفظ لفظ ہی شایانِ نعت ہے


آفاق دیکھ، نفس کو دیکھ، ارتقاء کو دیکھ


اعجاز دیکھ  رحمتُ لِّلعالمین کا !
ہر متنِ کائنات پہ عنوانِ نعت ہے


مجھ  بے ہنر کا ہاتھ بھی مہمانِ نعت ہے


مملو ئے ادّعا ،نہ تعلّی سے بہرہ ور
دنیا کے بادشاہوں کا ہو کیوں نیاز مند
شہ زادٓ خاکِ پائے ثنا خوانِ نعت ہے


رحمان شاعری میں یہی شانِ نعت ہے


===== [[رحمان شاہ]] ، [[مانسہرہ]]، [[پاکستان]] =====
پروانہ وار جلنے کو آیا ہے شاہ زادٓ
ہر موڑ پر یہ پانیوں کا چشمئہ خنک


"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
وہ بو الحسن کی شمعِ شبستانِ نعت ہے


===== [[حنیف نازش]]، [[گوجرانوالہ]]، [[پاکستان]] =====


چھو لوں میں رفعتوں کو مری شان بھی بڑھے
سر پر ہمارے سایہ ٕ ذی شانِ نعت ہے


آقا کی داد جو ہو یہ ارمانِ نعت ہے
حاصل خُدا کے فضل سے ایقانِ نعت ہے


رکھتی ہے مُجھ کو نعت رہِ مُستقیم پر


سنت کو ماننے میں جہانوں کی ہے فلاح
مُجھ پر، مِری حیات پر احسانِ نعت ہے


سنت کا ہو بیان تو پہچانِ نعت ہے
جب لب سے اُن کا نام لیا، نعت ہو گٸی


نادان ہے وہ شخص جو انجانِ نعت ہے


آقا کی جو نگاہ یہ رحمانِ اب پڑی
صَلُّوا وَسَلِمُوا کی حلاوت کو پا کے دیکھ
میرا نہیں کمال میاں شانِ نعت ہے


===== [[رحمان فارس]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
غافل! درودِ مُصطفوی جانِ نعت ہے


وہ جانتا ھے جس کو بھی عرفانِ نعت ھے
بتلا رہی ہے آیتِ میثاق صاف صاف


عشقِ مُحمَّدِ عَرَبی جانِ نعت ھے
مہکا ہُوا ازل سے گُلستانِ نعت ہے


ہر داٸرے کا مرکزی نُکتہ نبی کی ذات


بے شک ھے حجرِ اسود اِسی بات کا ثبوت
”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


بے جان پتھّروں میں بھی امکانِ نعت ھے
نازش لواۓ حمد ہو، محمود کا مقام


میدانِ حشر گویا کہ میدانِ نعت ہے


اُس کی ھر ایک سانس ھے نعتِ نبی کا شعر
===== [[خالد خان]]، [[ڈیرہ اسماعیل خان]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد خالد خان


جو عاشقِ رسُول ھے دیوانِ نعت ھے
طاری کچھ ایسا موسمِ وجدانِ نعت ہے


ہر دل مثیلِ طائرِ عرفانِ نعت ہے


ھم بندگانِ خاک بھلا کیا کہیں گے نعت


نُطقِ خُدائے پاک ھی شایانِ نعت ھے
جلوے ہیں کن فکاں کے فقط آپﷺ کے طفیل


سارے جہاں پہ رحمتِ بارانِ نعت ہے


کرتے ھیں یہ تو آخری ھچکی میں بھی ثنا


عُشّاق کو تو موت بھی سامانِ نعت ھے
توبہ ابوالبشر کی میں نسبت تھی آپﷺ کی


جاری ازل سے ہست میں فیضانِ نعت ہے


دُنیاوی نعمتیں بھی مُجھے دِین سے ملِیں


میری غزل میں کیف بَفیضانِ نعت ھے
معراج سے ملا تھا جو اک تحفۂِ نماز


دراصل وہ نماز بھی پیمانِ نعت ہے


ذکرِ نبی کو کتنی بلندی پہ لے گیا


قُرآن اپنی رُوح میں قُرآنِ نعت ھے
تاثیر وردِ صلِّ علیٰ کی تو دیکھیے


درماں دلِ فگار کا دامانِ نعت ہے


لاھور سے عجب ھیں مدینے کی نسبتیں


فارس ! یہ شہر شہرِ غُلامانِ نعت ھے
ذکرِ درودِ پاک ہے مقبول ہر گھڑی


===== [[رِضا شیرازی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
کیسا ہم عاصیوں پہ یہ احسانِ نعت ہے
چھلکا جو دل کے جام سے میزانِ نعت ہے


پیدا ہوا جہان میں سامانِ نعت ہے


مدحت تریﷺ بیاں کرے خالدؔ تمام عمر


اٹھتی ہوئی غدیر کے منبر پہ منقبت
خلقِ خدا کہے کہ سخندانِ نعت ہے


آزانِ حمد ہے, یہی پالانِ نعت ہے
===== [[خالد رومی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
ھر ایک شعر آیت قرآن نعت ہے  


جو حصر سے ورا ہے , وہ احسان نعت ہے


سیرت, طریق, زلف, تکلم, سفر, مزاج


آوازِ کبریا میں یہ قرآنِ نعت ہے
انسان خوش نصیب بفیضان نعت ہے  


کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوان نعت ہے


گھر میں, سفر میں, جنگ میں, غربت میں, امن میں


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
مخصوص شاعروں سے, کہاں خوان نعت ہے  


سارے جہاں پہ سایہء دامان نعت ہے


قائم ہوئی جہاں میں سبھی عاشقوں کی صف


ہونے لگی درون میں آزانِ نعت ہے
  کوئی نبی نہ سرور جیش رسل ہوا


ہاں ! مصطفی' کی ذات, جو شایان نعت ہے


یوں متصل ہے آل ع سے احمد ص کا تذکرہ


کفرانِ منقبت میں ہی کفرانِ نعت ہے
نکتہ کھلا یہ آیہء صلوا علیہ سے


یعنی اس امر میں چھپا فرمان نعت ہے


مانگی ہے نعت حضرتِ عمران ع سے, سنو!


ہاتھوں میں جن کے اب بھی قلمدانِ نعت ہے
کس کا گزر ہے  ناحیہء حق میں اسطرح


===== [[رضا عباس رضا]]  ، [[لاہور]] =====
شایاں مرے حضور کو عنوان نعت ہے
بشکریہ : [[صادق جمیل]]، لاہور


یہ کائنات نکتہِ ایوان ِ نعت ہے


قرآن پاک اصل میں اعلانِ نعت ہے
شاہ جہاں, امام صور, خواجہء ازل


ختم رسل ہی زینت ایوان نعت ہے




اب ذہن اپنا رنگ بدل، دل ذرا سنبھل
کیسی غرض مطاعم فردوس آز سے


یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے
درویش کو عزیز نمکدان نعت ہے  




محشر میں سر اُٹھا کے چلوں گا کہ میرے پاس
تیرہ بساط زیست تھی, پر نور ہو گئی


سرمایہ منقبت کا ہے سامانِ نعت ہے
عشق رسول شمع شبستان نعت ہے  




میراثِ مصطفٰیؐ کا نہ دعویٰ کرے کوئی
یہ تذکرہ نہیں ہے زلیخاۓ مصر کا


جو وارثِ نبیؐ ہے نگہبانِ نعت ہے
ھشیار ! کوۓ یوسف کنعان نعت ہے !!




ہر شئے خدا کے ذکر میں مصروف ہے تو مان
داراۓ شعر بھی ہو یہاں یہاں ہوش باختہ


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اللہ رے کیا ہی شوکت ایوان نعت ہے  




ہے خاکسار عرش نشینوں کا ہم خیال
ھم کشتگان چشم ولا کو خوشا نصیب


یہ فضل ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے
اسباب حمد ہیں, کہیں سامان نعت ہے  




مت روکنا فرشتوں ذرا غور تو کرو
توفیق دے خدا تو ملے گنج آگہی


خاکِ شفا ہے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
عالم سے بڑھ کے دولت عرفان نعت ہے  




میں کیا تھا مجھ کو جانتا کوئی نہ تھا رضا
اس دور افتراق و تعصب گزیدہ میں


عزت مجھے ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے
درکار ھر بشر کو ہی درمان نعت ہے  


===== [[رفیع الدین راز]]، [[امریکہ]] =====
بشکریہ : [[اویس راجا]]


اخلاص جاں, نہ فہم و تدبر, نہ سوز دل


جن و بشر کو کیا پتا ، کیا شانِ نعت ہے
لائق رفو کے چاک گریبان نعت ہے  


اللہ کے سوا کسے عرفانِ نعت ہے


خیرات فکر و فہم اسے بخشئیے حضور !


آدابِ نعت گوئی کا پیہم رہے خیال
رومی عجم میں آپ کا حسان نعت ہے


شوکت میں حمد ہی کی طرح شانِ نعت ہے
===== [[خالد عبداللہ اشرفی]]، [[مہاراشٹرا]]، [[بھارت]] =====


پیشکش : [[غلام ربانی فارح مظفرپوری]]


نغمہ سرا ہے خون کی ہر بوند میں حیات


دل پر عجیب طور سے فیضانِ نعت ہے
یہ زندگانی اصل میں عنوان نعت ہے  


ہرلمحہ اس کا صفحۂ دیوان نعت ہے


کیفیتِ دیارِ دل و جاں نہ پوچھئے


ہر خطۂ وجود دبستانِ نعت ہے
دامن میں اپنے صدقۂ حسان نعت ہے  


عزت سے جی رہے ہیں یہ احسان نعت ہے


نوکِ قلم کو اور کیا اعزاز چاہئیے


آقا کا ذکرِ خیر ہے ، رجحانِ نعت ہے


لب وقف ہیں درود پیمبر کے واسطے


بھیجا درود اس نے نبی پر تو یہ کھلا
صدشکر رب کہ دل ہوا قربانِ نعت ہے


وہ بھی اسیرِ حلقۂ جزدانِ نعت ہے


ہراک زبان ولہجہ میں موجود صنف نعت


لب پر درود ، دھیان میں ہے ذاتِ مصطفٰے
کتنا وسیع دوستو دامانِ نعت ہے


زادِ سفر میں بس یہی سامانِ نعت ہے


گل ، گُلسِتاں چَرِند وپَرِند، انس و جن ،ملک


خوشبو ہے، روشنی ہے، یا پھر پرتوِ خدا
جسکو بھی دیکھیے ، لیے ارمان نعت ہے


کوئی تو ہے جو اس گھڑی مہمانِ نعت ہے


خون جگر سیاہی ، دل مضطرب ورق


ہر موڑ ہر قدم پہ نوازا گیا ہوں میں
لکھنے کے واسطے یہی سامان نعت ہے


دن رات میری ذات پہ احسانِ نعت ہے


حاضر. جو قلب رہتا ہے ان کے حضورمیں


نعتِ نبی کے فیض سے میری نگاہ میں
سب یہ کرم ہے فیض ہے وجدان نعت ہے


اس وقت دل کا آئینہ ایوانِ نعت ہے


یہ جو لحد میں پھیلا اجالا ہے دوستو


کھلتے رہیں گے نوکِ قلم پر ثنا کے پھول
فضل خدا ۓ پاک ہے ، برھان نعت ہے


جب تک نبی سے عشق ہے امکانِ نعت ہے


جی بھر کے باغ خلد میں خالد پڑھیں گے نعت


قلب و نظر پہ کیوں نہ ہو برسات نُور کی
کہتے ہیں خلد جس کو وہ ایوانِ نعت ہے


دستِ خیال میں ابھی دامانِ نعت ہے
سید خالد عبداللہ اشرفی اورنگ آبادی، بھارت


===== [[خالد عرفان]]، [[نیو یارک]]، [[امریکہ]] =====
مت بے وضو اٹھا نا ، قلم دانِ نعت ہے


یوں ہی نہیں ہے دل کی زمیں عطر بیز آج
دیوانو ! ہوشیار ! یہ دیوانِ نعت ہے


جزدانِ قلبِ راز میں دیوانِ نعت ہے


===== [[رفیق راز]]، [[سری نگر، کشمیر]]، [[انڈیا]] =====
میں فرض پڑھ کے لکھتا ہوں اپنے نبی کی نعت
ام الکتاب دیکھ یہی کان نعت ہے


آیت ہے کویی در کویی مرجان نعت ہے
جائے نماز ہی ، مرا جزدان ِ نعت ہے




ہے داغ سجدہ صرف یہ ماتھا لیے ہوئے
خوں کا بہاؤ، دل کی دھڑک ، آنکھ کی جھپک


بآقی تمام جسم ہی. جزدان نعت ہے
میرا توانگ انگ ثناخوانِ نعت ہے




آنسو ہے روشنایی مژہ ہے مرا قلم
مدحت کے پھول پھیلے ہوئے ہیں زمین پر


طاری بدن پہ کپکپی دوران نعت ہے
اب آسماں بھی دیدہ ء حیرانِ نعت ہے




اعمال نامہ میں مرے کچھ بھی نہیں مگر
کاغذ ، قلم ، دوات ہیں میرے شریک عشق


میں مطمئن ہوں ساتھ یہ سامان نعت ہے
دنیا سمجھ رہی ہے یہ سامان ِ نعت ہے




آب و ہواے اسم محمد ہے دایمی
ممکن ہے نعت گو کو ملے نعت کا صلہ


پت جھڑ میں بھی بہار پہ بستان نعت ہے
میدانِ حشر اصل میں میدان نعت ہے




دل پر لبوں پہ صل علیٰ ثبت ہے مرے
دو چار لفظ لکھ کے ثنائے رسول میں


اللہ کا کرم ہے یہ فیضان نعت ہے
ہم نے سمجھ لیا ہمیں عرفان ِ نعت ہے




رکھ تو قدم اے اسپ قلم پھونک پھونک کر
اکثر یہ سوچتا ہوں گناہوں کے بعد میں


دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے
کیا میرا عشق لائق ِ شایان ِ نعت ہے ؟




باکار ہاتھ ہیں ترے با یار دل کو رکھ
اس راہ میں کروڑ پتی بن گئے ہیں لوگ


ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
ہر نعت خواں پہ رحمت ِ باران ِ نعت ہے


===== [[خادم رسول عینی]]، [[اڈیسہ]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : سید خادم رسول عینی


پروانوں سے تو روشنی ہوتی نہیں کوئی
لیل و نہار پر مرے احسان نعت ہے


روشن اسی چراغ سے ایوان نعت ہے
میری حیات نور پہ جزدان نعت ہے


===== [[ریاض مجید]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]]  =====


بچے ہوں یا ضعیف سبھی نعت پڑھتے ہیں


جس سے درود رُو مرا وجدانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


لفظِ مدینہ ایسا گلستانِ نعت ہے


اک کنکری نے کلمہ پڑھا اور یہ کہا


تکتے ہیں ہم کو حیرت و حسرت سے کس طرح
ہر شئ کے دل میں دیکھئے ارمان نعت ہے


برگ و شجر کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


توریت میں زبور میں بھی ان کی ہے ثنا


ہیں سلسلے زبان و بیاں کے جہاں جہاں
قرآں مگر سدا کے لیے جان نعت ہے


پھیلا ہُوا وہاں وہاں امکانِ نعت ہے


وہ نظم ہو غزل ہو کہ دوہا کہ ہائیکو


قراں ہر امتی سے ہے پیہم درود خواہ
بس ان کا ذکر ہو یہی پہچان نعت ہے  


اک طرح سے یہ دعوت و اعلان نعت ہے


سیرت نبی کی لکھ تو سراپا بھی ان کا لکھ


قراں کی آیتوں میں ہے شان اُن کی عطربیز
ان دونوں کو ملا دے یہ ریان نعت ہے  


بین السطّور دیکھ یہ بستانِ نعت ہے


سرکار کے وسیلے سے مقبول ہوگئ


اہلِ ولا و اہل صفا کی نگاہ میں
آدم کی" عینی" توبہ بھی برہان نعت ہے


’احزاب‘ استعارہ پیمانِ نعت ہے
===== [[خاور اسد]]، [[رحیم یار خان]]، [[پاکستان]] =====
نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے


یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے


صلّوا علیہ کی اسے توسیع جانئیے


حُبّ کا تلازمہ جو بعنوانِ نعت ہے
وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے


میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے


قران کا خلاصہ اگر اک ورق میں ہو


تو زیب اُس نوشتے کو عنوانِ نعت ہے


جز مدحِ شاہ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے


سعی ہنر قبول ہو‘ جو ہو خلوص سے
خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے


ہر نعت گو کو اتنا تو عرفانِ نعت ہے


اس کے ہر ایک لفظ پہ افسوس کیجئے
جس کی بیاض بے سرو سامانِ نعت ہے


اس عہدِ نعت پہ کرم خاص آپ کا


گھر گھر کھلا ہُوا جو دبستانِ نعت ہے
تشنہ لبی کو بوسہِ نعلین چاہئے


دل کی تپش کا توڑ یہ بارانِ نعت ہے


کیا کیا ثنا سرشت ہیں مائل بہ نعت آج


فی الواقعی یہ عہدِ درخشانِ نعت ہے
احساں ہے عالمین پہ میلادِ مصطفی
یہ کائنات اصل میں ایوانِ نعت ہے




مصرعے اتر رہے ہیں ستاروں کی شکل میں
رحمت ہیں وہ تمام جہانوں کے واسطے
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


کاغذ سے روح تک میں چراغانِ نعت ہے


مجھ ایسے بے ہنر کو پنہ مل گئی اسد


فردائے نعت کی ہے ہر اک سمت سے نوید
کتنی کشادگی سرِ دامانِ نعت ہے


ہر دل میں جو نمایاں یہ رجحانِ نعت ہے
===== [[خرم جمیل]]، [[میلسی]] =====
ہر اشک میری آنکھ کا سامان ِ نعت یے


یہ حال میرا دیکھیئے دورانِ نعت ہے


جنت میں ہو گا نعت کا دورانِ جاوداں


اب تک ہوئی جو مشق وہ اک انِ نعت ہے
پڑھتے. رہو درود یہی راستہ تو یے


ذکر ِ رسول پاک ہی امکانِ نعت یے


باعث ظہور ہست کا ہے ذات آپؐ کی


دھڑکن دلِ وجود کی گردانِ نعت ہے
کرتے ہو ہر نماز میں تعریف مصطفیٰ


تم خوش نصیب ہو تمھیں عرفانِ نعت ہے


مصروفیت ملی ہے بہشت آفریں ہمیں


ہم اہلِ حُب یہ کیسا یہ احسان نعت ہے
ہر لفظ میرے سامنے رکھا ہوا تو ہے


بس آیہِ قرآن ہی. شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


بخشش کی التجا کے سوا کچھ نہیں ریاض


فردِ عمل میں جو سروسامانِ نعت ہے
تعریف ہر غلام کرے اس غلام کی


عشقِ بلال اصل میں میزان نعت ہے


ہے محوِ فکر رفعت و شانِ رسول میں


چپ ہے ریاض جس کو بھی عرفانِ نعت ہے
اس کا یقین رشک کے قابل ہے اے جمیل


جو کہہ رہا ہے شعر کو دیوان نعت ہے


===== [[زید معاویہ]]، [[گوجرانوالہ]] =====


جملہ ہو غرق عشق تو شایان نعت ہے
ہم میلسی کے لوگ عقیدت مزاج ہیں


اظہار لفظ شوق ہی عنوان نعت ہے
خرم ! یہ شہر شہرِ غلامانِ نعت ہے


===== [[خلیل الرحمان]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد خلیل الرحمان


دل میں اگر اطاعت سنت کا شوق ہو
کس کا کلام ہو سکا شایان ِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
قرآن کا نزول ہی سامان ِ نعت ہے




حکم ِ خدا ہے مدحت ِ سرکار ِ دو جہاں
تخلیق ِ کائنات کا سرکارؐ ہیں سبب


"صلو علیہ_" اصل میں فرمان نعت ے
“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”




غمگیں سخنوروں کے دماغوں میں یہ بٹھا
ذکر ِ نبیؐ کے واسطے رزق ِ سُخن کھُلا


انجام تشنگی کے لیۓ خوان نعت ہے
ہر دل بنا جبھی تو قلمدان ِ نعت ہے  




اخلاق مصطفی پہ یہ بولی تھیں عائشہ
صلّ ِ عَلٰی کے ورد سے دل کو ملے قرار


قرآن پڑھ ذرا کہ جو دیوان نعت ہے
شاید اسی لیے ہی یہ سُلطان ِ نعت ہے




قرآن کی مہک کے دلائل سبھی بجا
کرتا ہے روز و شب وُہی توصیف ِ مُصطفٰےؐ


خوش بو ہے اس لیۓ بھی کہ گلدان نعت ہے
جس شخص کو عطا ہوا عِرفان ِ نعت ہے


===== [[زین زیدی]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
پھر سے دلِ فقیر کو ارمانِ نعت ہے


امداد وہ کرے گا جو سلطانِ نعت ہے
ملتے ہیں لوگ پیار سے مُجھ سے غریب کو


عزت کا آسرا مِرا فیضان ِ نعت ہے


دھڑکن نہیں چٹکتی ہیں کلیاں درود کی


دل دل نہیں رہا ہے گلستانِ نعت ہے
تُو روضۂ ِ رسولؐ کے قابل نہ تھا خلیلؔ


تُجھ پر ہُوا ضرور وُہ احسان ِ نعت ہے


حیدر کی زندگی نے بتایا جہان کو
===== [[خورشید رضوی]] ، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
یہ گلستانِ نغمہِ سرایانِ نعت ہے


سرگرم ہر روش پہ دبستانِ نعت ہے


جب تک کسی کو منصب عصمت نہیں ملے


وہ لفظ کون لکھے جو شایانِ نعت ہے
ہے طبع سب کی ایک ہی آہنگ میں رواں


یکساں تمام بزم میں فیضانِ نعت ہے


خامے کو سلسبیل سے دھولیں توپھرلکھیں


وہ اسمِ چارہ ساز جو عنوانِ نعت ہے
غںچے چٹک رہے ہیں نکاتِ سخن کے آج


سمجھے گا کچھ وہی جسے عرفانِ نعت ہے


جس نے بچا رکھا ہے خجالت کی دھوپ سے


زینِ رضا وہ سایہءِ دامانِ نعت ہے
مضموں نکالنا ہیں ستاروں کو جوڑ کر


===== [[ساجد حیات]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
پھیلا ہوا فلک پہ یہ سامانِ نعت ہے
وابستگی رسول سے دیوانِ نعت ہے


مضمونِ عشق باعثِ عنوانِ نعت ہے


جو رنگ سوچئے سو ہے اس نقش سے فرو


میں خاک اوڑھ لوں گا فقط اس یقیں کے ساتھ
جو حرف دیکھیےسو پشیمانِ نعت ہے


بخشش کو میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے


وہ فکر لائیے کہ ہو ہم دوشِ بامِ عرش


احساس کے یہ اشک جو گرتے ہیں روح پر
وہ لفظ ڈھونڈیے کہ جو شایانِ نعت ہے


دُھلتے ہیں پھر گناہ یہ فیضانِ نعت ہے


ہر بات میں ہے اُسوہِء کامل نبیؐ کی ذات


میرے نبیؐ کی شان ہے اور شان دیکھیئے
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


ہر موجہِء ہوا میں ہے خوشبو درود کی


بنجر زمینِ فکر کو سر سبز کر کے دیکھ
ہر ذرّہ رُو بہ راہِ درخشانِ نعت ہے


سیرت مرے رسول کی فیضانِ نعت ہے


ہے ہر شجر اُٹھائے ہوئے مدح کا عٙلٙم


میں لفظ لفظ ٹانک رہا ہوں جو نعت میں
ہر برگ پہ لکھا ہوا عُنوانِ نعت ہے


تو حرف حرف لُو لُو و مرجانِ نعت ہے


===== [[ساجد ندیم ]]،  [[سیالکوٹ ]]، [[پاکستان ]] =====
ہے یاد آسماں کو وہ شقُ القمر کی رات


جب مطمعِ نظر ترے دامانِ نعت ہے
باندھے ہوئے حضورؐ سے پیمانِ نعت ہے


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


خورشید ! آفتابِ قیامت کے رُو برو


کر دے جو بے نیاز ہر اک احتیاج سے
کافی مجھے یہ سایہِ دامانِ نعت ہے۔


کل کائنات اپنی یہ ایقانِ نعت ہے
===== [[خورشید بیک میلسوی]]، [[میلسی]]، [[پاکستان]] =====


بشکریہ: [[یاسر عباس فراز]]


دونوں جہاں کی اس میں میسر ہیں رفعتیں
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


کتنی بڑی عطا ہے جو عرفانِ نعت ہے
وسعت پذیر, وسعتِ دامانِ نعت ہے  




دل مطمعن ابھی سے ہے کوثر پہ جام کا
عرفانِ نعت گوئی بھی فیضانِ نعت ہے  


مجھ رو سیاہ پہ دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے
سچ پوچھیے تو مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے  




شان و مقام و ادب و موءدت سے آگہی
بے مایہِ سخن ہوں مجھے اس کا غم نہیں


میراثِ کل ندیم یہ سامانِ نعت ہے
اخلاصِ بے ریا , سرو سامانِ نعت ہے  


===== [[سائرہ خان سائرہ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
لاریب فضل رب ہی ، یہ فیضانِ نعت ہے


بالواسطہ ہے حمد ہی جو جانِ نعت ہے
ہر لمحہ دھڑکنوں میں ہے صلِ علیٰ کی گونج


یہ میرا دل نہیں ,  کوئی ایوانِ نعت ہے


ہرلمحئہ حیات میں رہبر ہے انکی ذات


ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
ہر سُو سجی ہوئی ہیں درودوں کی محفلیں


یہ ساری کائنات گلستانِ نعت ہے


مسحور ہیں فضائیں تو دل بھی ہیں مشکبار


ہر سو کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے
دیتا نہیں ہے مجھ کو بھٹکنے ترا خیال


آداب آشنا مرا وجدانِ نعت ہے


ہو میرے حرف حرف کو پاکیزگی عطا


سوچیں بھی ہوں لطیف یہ ایوانِ نعت ہے
رکھا ہے طاقِ صدر میں اس نے سنبھال کر


وہ جانتا ہے دل مرا دیوانِ نعت ہے


اے خلقِ اولیں ، تری مدحت پہ میں نثار


ہر لمحہ تیرا ذکر اے سلطانِ نعت ہے
رکھتا ہے بے نیاز مجھے مدحِ غیر سے


گویا مرا قلم ہی نگہبانِ نعت ہے


بزم فروغ نعت سے دولت ملی مجھے


الحمد فکرِ نعت ہے، احسانِ نعت ہے
ہو کیوں نہ بے مثال مرا حسنِ انتخاب


خورشید حرف حرف ہی مرجانِ نعت ہے


جاں سے مجھے عزیز وراثت ہے نعت کی
===== [[دانش حسین دانش]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
شہرِ تخیلات میں عرفانِ نعت ہے


میرا تو سب گھرانہ ہی قربان ِ نعت ہے
دل میں مرے مکین جو سلطانِؐ نعت ہے


===== [[سجاد بخاری]]، [[مکہ مکرمہ سعودی عرب]] =====


آیات کیا ہیں اصل میں سامانِ نعت ہے


اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
خیراتِ فکر اس سے ہی لیتا ہوں بار بار


عمرانؑ کا جو گھر مرے دیوانِ نعت ہے


لَا تَجْهَرُوا کا ضابطہ برہانِ نعت ہے


اور سلمو کے حکم میں اعلانِ نعت ہے
ہر رجس سے ہو پاک ہر اک لفظ میں ہو عشق


اجزائے نعت ہے یہی ارکانِ نعت ہے


عرفانِ حمد ہے جسے عرفانِ نعت ہے


دیوانہء سجود ہے مستانِ نعت ہے
چکھ رکھا ہے لعابِ محمدؐ اسی لئے


مولا علیؑ بتائیں گے کیا شانِ نعت ہے


تحریر ہو رہی ہے ازل سے کتابِ نعت


دنیا تو ایک صفحہ ء دیوانِ نعت ہے
نوکِ سناں پہ ہوں کہ ہوں شبیرؑ زیرِ تیغ


حمدِ خدا کہیں کہیں عنوانِ نعت ہے


باغِ بہشت پرتوِ حسنِ رسول ہے


گلزارِ ہست و بود میں ریحانِ نعت ہے
ذکرِ رسولِؐ پاک ہے سانسوں سے متصل


'' ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے''


لوح و قلم نے کاڑھا ہے توصیف کا لباس


یہ کائنات وسعتِ دامانِ نعت ہے
تو بابِ شہرِ علمؑ سے دانشؔ ہے منسلک


جب تک کہ تیرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


آپ اسوہء رسول سے جڑ کر تو دیکھیے
===== [[دلاور علی آزر]]، کراچی، پاکستان =====
'' ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"




میلاد کی گھڑی ہے غلاموں کی عید ہے
پھیلا ہوا بہت سر و سامانِ نعت ہے


یعنی کہ ہر سو موسمِ بارانِ نعت ہے
وسعت پزیر عالمِ امکانِ نعت ہے


مجھ میں بسی ہوئی ہے مہک مدحِ شاہ کی


اُن پر اور اُن کی آل پہ پڑھتے رہو درود
مجھ میں کِھلا ہوا گُلِ ریحانِ نعت ہے


ایماں سے کہہ رہا ہوں یہی جانِ نعت ہے
اِس لوح پر حضور کی مدحت لکھوں گا میں


یہ میرا دل نہیں ہے یہ جزدانِ نعت ہے


ہریالیاں ہیں گنبدِ خضرا سے چار سو
باندھا گیا ہے عشق کی ڈوری سے لفظ کو


یہ رونقیں یہ تازگی فیضانِ نعت ہے
مشکل ہے توڑنا اِسے پیمانِ نعت ہے


ہر کارِ خیر اُن سے عبارت ہے دہر میں


اللہ بھیجتا ہے حضور آپ پر درود
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


کیا مرتبہ ہے آپ کا کیا شانِ نعت ہے
پہچانتے ہیں مجھ کو جو دنیا میں چند لوگ


یہ اور کچھ نہیں ہے یہ فیضانِ نعت ہے


چنتی ہیں شہرِ طیبہ سے منسوب بلبلیں
ورنہ کہاں یہ ہیچ ہنر اور کہاں یہ ظرف


أرض و سما پہ پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے
میں نعت لکھ رہا ہوں تو احسانِ نعت ہے


لفظوں سے نورِ عشق جھلکتا ہے سر بہ سر


سانسوں میں نغمگی ہے نگاہوں میں تازگی
میری غزل کے رنگ میں اعلانِ نعت ہے


گویا دلوں میں بارشِ بارانِ نعت ہے
اُس کو بیان شعر میں کیسے کرے  کوئی


وہ کیفیت جو لفظ کی دورانِ نعت ہے


نام و نسب کا زعم نہ مشقِ سجود ہے
حکمت کی سب حدیں ہیں اِسی آئنے میں ضم


امیدیء نجات میں احسانِ نعت ہے
رحمت سمیٹتا ہوا دامانِ نعت ہے


آزر میں پوچھتا ہوں سبھی ناعتین سے


جھکنا نہیں پڑا مجھے رب کے سوا کہیں
میرا لکھا ہوا بھی کیا شایانِ نعت ہے


سجاد اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
===== [[ذوالفقار علی دانش]] ، [[حسن ابدال]]، [[پاکستان]] =====


===== [[سرور حسین نقشبندی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
آثار ہیں کہ آمدِ بارانِ نعت ہے


دامن پسارییے شبِ فیضانِ نعت ہے


کیا کیا گدائے نعت پہ احسان نعت ہے


اک ایک سانس حجرہء ایوان نعت ہے
جس کو شعورِ خواہش و ارمانِ نعت ہے  


وہ جان لے کہ اُس پہ یہ احسانِ نعت ہے


کیسی ہری بھری ہے تخیل کی سرزمیں


صد شکر کشت فکر پر باران نعت ہے
ہر سمت آج کل یہ جو رجحانِ نعت ہے  


سرکار کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


اصناف شعر ساری اسی کی ہیں خوشہ چیں


جو بھی سخن کی صنف ہے دربان نعت ہے
جس شہر میں بھی نعتِ محمد کہی گئی


وہ شہر از قبیلِ خیابانِ نعت ہے


تفہیم اس کو اسوہء کامل کی جانئے
حسۤان کے قدوم کی جو خاک بھی نہیں


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
کیسے یہ مان لیں کہ وہ حسّانِ نعت ہے ؟




خوشبو بنائے کیوں نہ مرے گرد دائرہ
انسان ہوں ، مَلَک ہوں ، کہ کنکر ، شجر ، حجر


موج صباء کی ہمدمی دوران نعت ہے
دیکھو جسے ، شریکِ دبستانِ نعت ہے  




اس کو ملے گا اجر بھلے شعر ہوں نہ ہوں
مدحت میں صرف میرا قلم ہی نہیں رواں


وہ خوش نصیب ہے جسے ارمان نعت ہے
میرا رُواں رُواں بھی گُل افشانِ نعت ہے  




قرآن سے حدیث سے تم کو ہے مس اگر
زیبا ہے بس یہ حضرتِ حسّان کے لیے


کافی برائے نعت یہ سامان نعت ہے
ہر گز نہ کہیے  کوئی بھی سلطانِ نعت ہے  




یاں پر اک ایک لفظ رکھو ناپ تول کر
گر نعت کہنے کا ہے ارادہ تو جانیے


اے شوق! احتیاط یہ میزان نعت ہے
" ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "




سرور یقیں نہ کیسے ہو اپنی نجات کا
جو سیکھنا ہو سیکھیے قرآں سے طرزِ نعت


فرد عمل میں جب مرے دیوان نعت ہے
ہر لفظ اس صحیفے کا شایانِ نعت ہے  


===== [[سلمان رسول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]]=====
ہاتھوں میں جس کسی کے قلمدان نعت ہے


عالم اسی کے واسطے میدان نعت ہے
صد فخر ہوں میں ناعتِ سرکارِ نامدار


صد شکر میری طبع میں میلانِ نعت ہے


محدود اس کو شعروسخن تک نہ کیجیے


ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
قربانِ مدحِ سرورِ عالم ہے جاں مری


سب کچھ مرا فدائے فدایانِ نعت ہے


جو شخص آشنائے تقاضائے عشق ہو


اس کا فقط وجود ہی برھان نعت ہے
رکھ پھونک پھونک کر رہِ مدحت میں ہر قدم


حدِّ ادب رہے کہ یہ میزانِ نعت ہے


ان کے لیے بنائی گئی ہے یہ کائنات


سمجھو تو گام گام پہ سامان نعت ہے
اے ساکنانِ کُوچہِ امکان دیکھنا


اِمشب بھی کیا کہیں  کوئی امکانِ نعت ہے ؟؟؟


سیرت سے کیوں حضور کی ہم ہو رہے ہیں دور


جبکہ بہت عروج پہ رجحان نعت ہے
شانِ رسول فہمِ بشر سے ہے ماورا


===== [[سلمان گیلانی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مت سوچیے کہ آپ کو عرفانِ نعت ہے
مکمل نام : سید سلمان گیلانی


حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے


میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے
پہلی صدی ہو یا کہ ہو وہ آخری صدی


حسّان ہی امیرِ جوانانِ نعت ہے


مدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے


فیضانِ نعت حلقہءِ یارانِ نعت ہے
حمدِ خدا کے دائرے کی حد سے اِس طرف


جتنا بھی جس قدر بھی ہے ، میدانِ نعت ہے


دُوراَز قیاس وُسعتِ مَیدانِ نعت ہے


یہ مُلکِ نعت, مُلک سلیمانِ نعت ہے
کتنا کرم کیا ہے رسالت مآب نے


دانش بھی ریزہ چینِ گدایانِ نعت ہے


حَسّان ہے صحابئ سُلطان بَحر و بَر


ہر نعت اُس کی اِس لیئے سلطانِ نعت ہے
دانش ! رموزِ شاعری ہیں قلب و جسم و روح


آقائے دو جہاں کا ادب جانِ نعت ہے


عشق رسول دل میں ہے آنکھوں میں اشک غم


کافی مِرے لیئے یہی سامانِ نعت ہے
اُڑتا پھرے ہے باغ میں آئی ہے بُوئے نعت  


دانش کہ بلبلِ چَمَنِستانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات پہ میں نے کِیا ہے غَور
===== [[ذوالفقار نقوی]]، [[جموں کشیمر]]، [[انڈیا]] =====


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
صَلُّوا کی صاد میں نہاں فرمانِ نعت ہے


صلِ علی کے ورد میں اعلانِ نعت ہے


بس میں نہیں کسی کے اسے کر سکے عبور


اتنا وسیع دوستو میدانِ نعت ہے
اس کِشتِ لالہ زار میں مصروف ہیں مَلک


ہر ذی شعور دیکھئے دہقانِ نعت ہے


مائل بہ نعت رہتی ہے طبعِ رواں مری


ہر فرد میرے گھر کا حُدی خوانِ نعت ہے
مہکے ہوئے ہیں ذرّے رَفَعنا کے ذکر سے


از ارض تا ثریا خیابانِ نعت ہے


ہر نعت گو ہے طائر سدرہ کا ہم سفر


ہر نعت خوان بلبل بستانِ نعت ہے
ہے نورِ مصطفیٰ سے زمانے میں روشنی


سب کائنات شمعِ شبستانِ نعت ہے


روزِاَلست باندھا تھاجو اپنے رب سےعہد


اُس عہد سے بندھا مِرا پیمانِ نعت ہے
عشقِ رسولؐ پاک ہو گر دل میں موجزن


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اللہ کرے کہ طاری رہے یونہی عمر بھر


یہ وَجد و کَیف مُجھ پہ جو دَورانِ نعت ہے
ہر آن محوِ ذکرِ رسالت مآبؐ ہوں


اللہ کی عطا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


سلمان, شعر نعت کے, ہیں مِثلِ گُل تمام


دِیوانِ نعت اصل میں گُلدانِ نعت ہے
کر کے وضو درود سے، فکریں سنوار کر


===== [[سعید زبیر]]، [[ڈیرہ غازی خان]]، [[پاکستان]] =====
لفظیں سجا رہا ہوں کہ میدانِ نعت ہے
پیشِ نظر حقیر کے عنوانِ نعت ہے


تھرا رہے ہیں لفظ کہ میدانِ نعت ہے


اہلِ سخن میں ہوتا ہے میرا شمار بھی


دل ہو وفورِ عشقِ شہِ دین سے غنی
مدحِ نبیؐ کا ہے ثمر، احسانِ نعت ہے


پھر کہئے نعتِ پاک جو ارمانِ نعت ہے


والنجم و ھل اَتی سے مودّت کے باب تک


دیکھو جہان والو میں کس درجہ ہوں غنی
قرآن حرف حرف دبستان نعت ہے


میرے لبوں پہ نغمۂ سلطانِ نعت ہے


صبح و مسا نہ کیوں رہوں سجدے میں ذوالفقار


پہنچیں گے قبر میں انہی جذبات سے کہ ہاں
ہر آن میری فکر پہ بارانِ نعت ہے


پیشِ نکیر ہم کو تو ایقانِ نعت ہے
===== [[ذیشان متھراوی]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====


بشکریہ : [[محمد صبیح رضا]]


سالم ہے جسدِ خاک تو ہے کفن عطر بیز
جو منبرِ رسول پہ حسانِ نعت ہے  


سمجھا ہوں میں کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
تاجِ سخن ہے،بس وہی سلطانِ نعت ہے




آتی ہے چار دانگ یہی بانگِ لم یزل
ہر حرف نور نور ، تو ہر لفظ پھول پھول


ہر سُو جہانِ دہر میں اعلانِ نعت ہے
خوشبو بتارہی ہے گلستانِ نعت ہے




گر ہو عبور سیرتِ سرکار پر سعید
سر کاٹ دے غلو کا ، تو قرآنی تیغ سے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
سچ کی لگام تھام ، کہ میدانِ نعت ہے


===== [[سعود عثمانی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]]  =====


گر ایک شعر بھی مرا شایانِ نعت ہے
قرآں کی روشنی سے، ضیائے حدیث سے


پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے  
جو شعر غسل کرلے ، وہی جانِ نعت ہے




سچ یہ ہےساری زیست ہی دیوان نعت ہے
الفاظ ناپ تول کے پلّے میں ڈالئے


ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے  
دستِ رسولِ پاک میں میزانِ نعت ہے




تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے
دیوانگی نے کھینچی تھی کاغذ پہ بس لکیر


جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے
دنیا پکارنے لگی گلدانِ نعت ہے




رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر
حسان ، کعب اور بریلی کے شاہ تک


ثابت تو کر کہ ہاں مجھے عرفانِ نعت ہے  
کتنا وسیع حلقہء میرانِ نعت ہے




قصے کہانیوں کو کہیں دور جا کے پھینک
سوئے غزل کبھی نہ گئی ، نعت ہی کہی


سیرت کو نظم کر کہ یہی جانِ نعت ہے
ذیشان میری فکر پہ احسانِ نعت ہے


===== [[راحت انجم]]، [[ممبئی]]، [[انڈیا]] =====


آداب ہیں سکوت کے بھی' گفتگو کے بھی
پیشکش : [[حافظ عبدالحلیم]]


دونوں طرح بتا کہ سخن دان نعت ہے  
امّت پہ ان کی سایۂ دامان نعت ہے


کیسا عظیم خلق پہ احسان نعت ہے


گنتی کے چند لوگ ہیں' گنتی کے خوش نصیب


حاصل جنہیں طلائی قلم دانِ نعت ہے  
ضو بار ہر زماں رخ تابان نعت ہے


کیا ہی سدا بہار گلستان نعت ہے


مدح نبی تو خود بھی بڑا فخر ہے مگر


مصرعہ قبول ہو تو یہ احسانِ نعت ہے
توفیق دے خدا کہ کروں ان کی میں ثنا


مجھ سے گناہگار کو ارمان نعت ہے


سب جانثاروں مدح گزاروں کے درمیاں


جگمگ ہے ایک شخص جو حسّانِ نعت ہے
معلوم اس کی منزلت ادراک کو کہاں


بس اہل معرفت کو ہی عرفان نعت ہے


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود


اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے
جس کی تلاوتوں سے ہوں عشاق سیر چشم


صورت ہے مصطفیٰ کی کہ قرآن نعت ہے؟


توفیق نعت دی ہے جو تو نے سعود کو


یارب وہ اجر بھی کہ جو شایان ِ نعت ہے
مرغان جذب و شوق ہیں محو ثنا یہاں


یہ دل ہے میرا یا چمنستان نعت ہے؟


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود


اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے
تاریکیِ حیات کا کردے جو خاتمہ


===== [[سمعیہ ناز]]، [[لیڈز]]، [[برطانیہ]] =====
ضو بار اتنی شمع شبستان نعت ہے
مخصوص  یہ  عنایت  و  احسانِ  نعت ہے


حاصل  ہوا  جو  قلب  کو  وجدانِ  نعت ہے


فضل و کمال مجھ میں اے راحتؔ نہیں مگر


عشقِ نبی کے نور سے روشن ہے جس کا دل
تشہیر جو ہے میری بفیضان نعت ہے


پھر اس پہ صبح و شام ہی فیضانِ نعت ہے
===== [[راحل بخاری]]، [[لکی مروت]]، [[پاکستان]] =====
سرمایۂ حیات اک ارمانِ نعت ہے  


وہ کیا کرے جو بے سر و سامانِ نعت ہے


رنج  و  الم  قریب  بھی  آتے  نہیں  مرے


صد شکر جب سے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
یارا نہیں کہ نعت کہیں ہم سے بے زباں


لہجہ تو بس قرآن کا شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


سیرت  سے  آپ  کی ہو درخشاں حیات گر


"ہر  شعبہء  حیات  میں  امکانِ  نعت  ہے"
دروازۂ بتول ع پہ آیات روشنی


دروازۂ بتول ع ہی ایوانِ نعت ہے


چنتی رہی میں گل تری مدحت کے باغ سے


خوشبو  سے  بھر  گیا  مرا  دیوانِ نعت ہے
مسجد، کجھور، راستہ، دیوار، در، دیا


اک شہر حسن زار میں سامانِ نعت ہے


وردِ  زباں  درود  ہو  آنکھیں  ہوں  نم  تری


پھر  ہو  رقم  قلم  سے  جو شایانِ نعت ہے
اک نون عین تے کا ہے صدقہ بیانِ عصر


ایما و رمز و چاشنی فیضانِ نعت ہے


جب  سے  جمالِ  گنبدِ  خضریٰ  ہے  سامنے


ہر  لمحہ  میرے  قلب  پہ  باران  نعت  ہے
خوشبو کے پیش و پس کا علاقہ ہے نور کا


روشن سماعتوں پہ ہی بارانِ نعت ہے


مدحت  کا  اذن  یوں ہی سمیعہ نہیں ملا
===== [[رائے توکل اللہ]] =====
عرفان حمد صدقہء وجدان _نعت ہے


عشقِ  رسول  ہے  تو  یہ  عرفانِ  نعت  ہے
افکارمنتشر پہ یوں احسان _نعت ہے


===== [[سید حسن]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
کب یہ کہا زباں مری شایانِ نعت ہے


مجھ پرکرم ہے آپ کا احسانِ نعت ہے
سیم و زر_جہان کی ہرگز نہیں طلب


جب جمع پونجی گوہرو مرجان _ نعت ہے


دادا کے بعد حضرتِ عمران ہیں وجہ


باقی ابھی تلک جو دبستانِ نعت ہے


ہر دم خیال میں ادب_مصطفی (ص) رہے


جو دعوتِ اوّل میں تھا عمران نے کیا
آوازخامہ میں یہی اذعان نعت ہے


سوچو ذرا تو غور سے اعلانِ نعت ہے


راقم کو اپنے نار سے کروانا رستگار


دعوتِ ذوالعشیرہ کو پڑھ کر پتہ چلا
لحظہ بہ لحظہ وعدہ و پیمان_نعت ہے


مجلس ہوئی یہ ایک با عنوانِ نعت ہے


کب صنف نعت اہل ادب ہی کا خاصہ ہے


بنتِ اسد کی زندگی دیکھو کبھی ذرا
"ہر شعبہء حیات میں امکان_نعت ہے"


کس درجہ کا جناب کو عرفانِ نعت ہے


ملک_عدم روانگی کو دل ہے مطمئن


روشن فلک پہ چاند ستارے نہیں کوئی
ہمراہ حشر کے لیے سامان_نعت ہے


دراصل پھیلا یہ تو چراغانِ نعت ہے


کیوں کر نہ میرا علمی تبحر ہو در فشاں


دامن میں میرے کچھ نہیں بخشش کے واسطے
بخشا مجھے رسول (ص) نے امعان_نعت ہے


اک ہے دُرودِ پاک یا فیضانِ نعت ہے


حسن_خیال بخشے ہے ہر زید بکرکو


ظاہر ہے یہ قرآن کے ہر ایک حرف سے
نشوونما گمان کی ایقان_نعت ہے  


ہر ایک حرف اِسکا گُلستانِ نعت ہے


ڈنکا جو بج رہا ہے توکل کا چار دانگ


الحمد سے والناس تک ہر سورہ و آیت
فیض محمدی (ص) ہے , یہ فیضان نعت ہے


اللہُ کی سمت سے ہوئی بارانِ نعت ہے
===== [[رئیس جامی]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====


میں بے ہنر ہوں کب مجھے عرفانِ نعت ہے


حیدر سرِ کوفہ سرِ کربل علی اکبر
مولا! مگـر کـرم ہو کہ ارمـانِ نعت ہے


دیتے ہیں جو واللہ یہی آذانِ نعت ہے


ان کا کرم کہ کاوشیں کرتے ہیں وہ قبول


جی کر دکھایا آلِ محمد نے با خُدا
ورنہ کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


میرے تخیـلات پہ چھائی ہے روشنی


بُوذر اویس قرنی و سلمانِ فارسی
کہتا ہوں میں یقیں سے یہ فیضانِ نعت ہے


ہر ایک اپنے آپ میں دیوانِ نعت ہے


مطلع ہوا تو آنکھ سے آنسو نکل گئے


ساری خطائیں چھوڑ محبت ہے تولتا
قسمت کہاں مری کہاں جانانِ نعت ہے


کچھ ایسا میرے شاہ کا میزانِ نعت ہے


دنیا مجھے حقیر نہ جانے میں ہوں غنی


جنت سے بھی پرے کوئی جنت ہے، ہوں وہاں
دیکھو یہ میـرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


محسوس مجھکو ہوتا یوں دورانِ نعت ہے


میرے خیـال میں اسے پتھر ہی جانیے


اشکوں سے حسن جب کریں الفاظ سب وضو
وہ دل کہاں جو بے سـر و سامانِ نعت ہے


پھر بن سکیں وہ نعت یہی شانِ نعت ہے


===== [[سیف اللہ خالد]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]]  =====
اس نے رخِ حبیب کو تک کر کہی تھی نعت
قلب و دماغ پر مری بارانِ نعت ہے


صد شکر آج مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے
حسان اس لئے ہی تو سلطانِ نعت ہے




یہ میری بے بساطی کہ اب تک نہ لکھ سکا
میرے تمام عیب چھپائے گا روز ِ حشر


دل میں تو مدتوں سے یہ ارمانِ نعت ہے
اتنـا طــویل وسعتِ دامــانِ نعـت ہے




قول و عمل میں جس کے ہوسنت کی پیروی
بیٹھے بٹھائے ہوگئی اس در پہ حاضری


وہ شخص ہی حقیقی سخندانِ نعت ہے
کیسا رئیس دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے




پڑھ لے درود خامہ کو چھونے سے پیشتر
===== [[رحمان حفیظ]] ، [[اسلام آباد]]، پاکستان =====


طاری اگر جمود ہے بحرانِ نعت ہے
سیرت نظر میں ہو تو یہ میدانِ نعت ہے


ہر فن میں، ہر ہنر میں ہی سامانِ نعت ہے


سچا ہے تیرے دل میں اگر عشقِ مصطفیٰ
اظہارِ عشق ہے جو بے عنوانِ نعت ہے


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
قرآن شاعری نہ سہی، جانِ نعت ہے


دنیا میں لیتا رہتا ہوں فردوس کے مزے


دل ذکر سے اجال تو اشکوں سے کر وضو
جب سے مِری رسائی میں دالانِ نعت ہے


لکھنی ہے نعت گر تو یہ شایانِ نعت ہے
اعجاز دیکھ رحمتُ الِّلعالمین کا !


مجھ بے ہنر کا ہاتھ بھی مہمانِ نعت ہے


خالد زبان وقف ہے توصیف کیلئے
مدح و ثنا کا سلسلہ افلاک سے چلا


میرا یہ فن یہ شاعری قربانِ نعت ہے
" صلّو علیہ" خاصہ ء خاصانِ نعت ہے


===== [[شاد مردانوی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں قطار میں
تخلیقِ آب و خاک ہی اعلانِ نعت ہے


” ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
جس سے بھی پوچھ لیجئے، قربانِ نعت ہے


ان ؐ کو لُٹے پٹے تو زیادہ عزیز ہیں


اشکوں سے پہلے کیجیے تطہیرِ نطق و حرف
اسبا ب کا نہ ہونا بھی سامانِ نعت ہے


آدابِ نعت ہیں یہی عرفانِ نعت ہے
حدِّ ادب سے ہو گئی عنقا صریرِ کلک


اتنا مِرے قلم کو بھی عرفانِ نعت ہے


پھر سے ہمیں زیارتِ طیبہ ہوئی نصیب
واللہ ! صرف زائرِ طیبہ کا ہو تو ہو


ہم پر عطا ہے نعت کی ، فیضانِ نعت ہے
احساس جو مجھے ابھی دورانِ نعت ہے


تخلیقِ کائنات کا باعث حضُور ؐہیں


پروانہء بہشت کا مجھ سے نہ کر سوال
اس ڈھب سےکائنات بھی دیوانِ نعت ہے !


رضوان ! میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
خود لا جواب ہو گئے منکر نکیر ، جب


دیکھا کہ میرے پاس قلمدان نعت ہے


یادِ مدینہ ،اشک، شفاعت کی آرزو
پہنچے گا اُس تلک بھی شفاعت کا سلسلہ


ہم بے کسوں کا بس یہی سامانِ نعت ہے
وہ خوش خصال جس میں بھی میلانِ نعت ہے


اے کوچہء سخن کے پریشان ! اتنا جان


لگتا ہے سب گناہ مرے دھلنے والے ہیں
تسکین دل جو ہے تو بفیضانِ نعت ہے


شعر و سخن پہ حاوی جو رجحانِ نعت ہے
طیبہ سے ہو کے جائے گا باغِ بہشت تک


دشتِ ہنر میں یہ جو خیابانِ نعت ہے


یاسین و طاہا کی ہمیں لولاک کی قسم
مملو ئے ادّعا ،نہ تعلّی سے بہرہ ور


عالم کا ذرہ ذرہ ہی حیرانِ نعت ہے
رحمان شاعری میں عجب شانِ نعت ہے


===== [[رحمان شاہ]] ، [[مانسہرہ]]، [[پاکستان]] =====
ہر موڑ پر یہ پانیوں کا چشمئہ خنک


قدموں میں شہ کے بیٹھ کے جنت دکھائی دے
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


آ پاس آکے بیٹھ ، خیابانِ نعت ہے


چھو لوں میں رفعتوں کو مری شان بھی بڑھے


شاد اس ورق کو چومیے ، دل سے لگائیے
آقا کی داد جو ہو یہ ارمانِ نعت ہے


جو جلوہ گاہِ مطلعِ جانانِ نعت ہے


===== [[شاہد اشرف]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
سنت کو ماننے میں جہانوں کی ہے فلاح
رونق لگی ہوئی ہے ، یہ احسانِ نعت ہے


ہر شخص اِس نشست میں مہمانِ نعت ہے
سنت کا ہو بیان تو پہچانِ نعت ہے




لکھتے ہوئے سکون کی حالت نہ پوچھیے
آقا کی جو نگاہ یہ رحمانِ اب پڑی
میرا نہیں کمال میاں شانِ نعت ہے


اِک خاص کیفیت مری دورانِ نعت ہے
===== [[رحمان فارس]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


وہ جانتا ہے  جس کو بھی عرفانِ نعت ہے


کہیے ہر ایک صنفِ سخن دھیان یہ رہے
عشقِ مُحمَّدِ عَرَبی جانِ نعت ہے


روزِ جزا نجات کو دیوان نعت ہے ؟


اک خاص ضابطے کا تقاضا ہے دوستو!
بے شک ہے  حجرِ اسود اِسی بات کا ثبوت


ہر درجہ احتیاط یہ میدانِ نعت ہے
بے جان پتھّروں میں بھی امکانِ نعت ہے  




دنیا مجھے نہ مانگ میں تیرا نہیں رہا
اُس کی ھر ایک سانس ہے  نعتِ نبی کا شعر


اب مقصدِ حیات ، مری جانِ نعت ہے
جو عاشقِ رسُول ہے  دیوانِ نعت ہے  




اُن کی عطا سے کھلتے ہیں شاہد ثنا کے پھول
ھم بندگانِ خاک بھلا کیا کہیں گے نعت


ہر روز رو بہ حُسن گلستانِ نعت ہے
نُطقِ خُدائے پاک ھی شایانِ نعت ہے  


===== [[شاہین فصیح ربانی]]، [[دینا]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]]  =====
بزمِ تصورات ہے، وجدانِ نعت ہے


رقص تجلیات ز فیضانِ نعت ہے
کرتے ھیں یہ تو آخری ھچکی میں بھی ثنا


عُشّاق کو تو موت بھی سامانِ نعت ہے


فکر و خیال عشق ہی شایانِ نعت ہے


الفاظ میں، حروف میں امکانِ نعت ہے
دُنیاوی نعمتیں بھی مُجھے دِین سے ملِیں


میری غزل میں کیف بَفیضانِ نعت ہے


کیا گرمیء حیات ہے کیا سختیء ممات


حاصل ہمیں جہان میں بردانِ نعت ہے
ذکرِ نبی کو کتنی بلندی پہ لے گیا


قُرآن اپنی رُوح میں قُرآنِ نعت ہے


ماہ و نجوم رشک سے تکتے ہیں اس طرف


روشن کچھ ایسے شمعِ شبستانِ نعت ہے
لاھور سے عجب ھیں مدینے کی نسبتیں


فارس ! یہ شہر شہرِ غُلامانِ نعت ہے


کوئی غزل، قصیدہ، رباعی کہ ماہیا
===== [[رخشندہ بتول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[علی وارث]]


جو میری شاعری ہے وہ قربانِ نعت ہے
کہہ دیں حسین مجھ سے یہ ایوانِ نعت ہے


اور میں حسین سے ہوں یہ دیوانِ نعت ہے


شاعر نہیں غلام رسول کریم ہوں


یہ شاعری نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے
ارض و سما میں جو ہے تصرف انہیں کا ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


کیا ہو فصیح دعویء مدحت سرائی جب


محبوبِ رب جو ذات ہے، عنوانِ نعت ہے
تخلیق ان کے صدقے میں تخلیق ہو گئی


===== [[ شکیل کالا باغوی]]، [[کالا باغ]]، [[پاکستان]] =====
کچھ لفظ شعر ہو گئے ، فیضانِ نعت ہے
یہ ابتدائے سانس ہی پیمانِ نعت ہے


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


جبریل در پہ اذن کی خاطر رکے رہے


ذکرِ نبیۖ ہے قبر کی تنہائی کا رفیق
رکنا دلیل ہے انہیں عرفان ِ نعت ہے


خاکی تری نجات ہی وجدانِ نعت ہے


خالق بھی ان پہ بھیجتا ہے ہر گھڑی درود


اوجِ فلک پہ میرا ستارہ رواں دواں
قرآن پڑھ کے دیکھیے اعلانِ نعت ہے


جادو گری نہیں ہے یہ میلانِ نعت ہے


رخشندہ کہہ رہے ہیں سبھی نعتِ مصطفٰی


حیراں ہیں مشک و عنبر و عود و گلِ بہار
لحنِ علی ملے تو یہ شایانِ نعت ہے


کس شان سے مہکتا گلستانِ نعت ہے
===== [[رضا المصطفی]]، [[سیالکوٹ]]، [[پاکستان]] =====
تخلیق کائنات کا عنوان نعت ہے  


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


کامل دل ونگاہ کی تطہیر شرط ہے


حدِ ادب کا پاس قلمدانِ نعت ہے
اس طرح سوئے حشر میں ہونے لگا رواں


دامن میں اور کچھ نہیں دیوان نعت ہے


نامِ عمر، صدیق، علی، عثمان ہیں رقم


یہ قصہءِ محبتِ یارانِ نعت ہے
تعریف مصطفی ہی تو منشا خدا کی ہے  


ہر اک نبی کو مولا کا فرمان نعت ہے


مصارع شکیل کیوں تیرے عطر بِیز ہیں
بادِ صبا پکارے یہ فیضانِ نعت ہے


===== [[شوزیب کاشر]]، [[راولہ کوٹ]]، [[کشمیر]]، [[پاکستان]]  =====
سب انبیاء کے سامنے رب کریم نے


وسعت پذیر حلقۂ دامانِ نعت ہے
بعثت سے پہلے کر دیا اعلان نعت ہے  


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


لفظوں کے موتی چن لئے تو نے بھی کچھ رضا


ہر شاخ رونقِ چمنستانِ نعت ہے
جب آیا تیرے سامنے یہ خواں نعت ہے


دو جگ میں خوشبوئے گلِ ریحانِ نعت ہے
===== [[رِضا شیرازی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
چھلکا جو دل کے جام سے میزانِ نعت ہے


پیدا ہوا جہان میں سامانِ نعت ہے


قرآن سے کشید مضامین نعت کے


روحِ ثنا یہی ہے یہی جانِ نعت ہے
اٹھتی ہوئی غدیر کے منبر پہ منقبت


آزانِ حمد ہے, یہی پالانِ نعت ہے


سیرت سے مشکبار ہو سنت سے مستنیر


یعنی ہو مستند یہی شایانِ نعت ہے
سیرت, طریق, زلف, تکلم, سفر, مزاج


آوازِ کبریا میں یہ قرآنِ نعت ہے


اللہ کی یہ پیاری ، فرشتوں کی لاڈلی


سبحانهٗ تعالی عجب شانِ نعت ہے
گھر میں, سفر میں, جنگ میں, غربت میں, امن میں


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


والشمس ہے کہیں ، کہیں واللیل سے خطاب


یہ لؤلؤِ صلوۃ ، وہ مرجانِ نعت ہے
قائم ہوئی جہاں میں سبھی عاشقوں کی صف


ہونے لگی درون میں آزانِ نعت ہے


مازاغ کا سلام ہے قوسین کا درود


معراج ان کی شان میں اعلانِ نعت ہے
یوں متصل ہے آل ع سے احمد ص کا تذکرہ


کفرانِ منقبت میں ہی کفرانِ نعت ہے


مُدَّثِّرُ و مُبَشِّرُ و مُزَّمِّلُٗ ہیں آپ


ہر نامِ نامی آپ کا ، عنوانِ نعت ہے
مانگی ہے نعت حضرتِ عمران ع سے, سنو!


ہاتھوں میں جن کے اب بھی قلمدانِ نعت ہے


ہر عہد کو محیط وہی عہد خوشگوار
===== [[رضا عباس رضا]] ، [[لاہور]] =====
بشکریہ : [[صادق جمیل]]، لاہور


خیرُ القرون نیرِ تابانِ نعت ہے
یہ کائنات نکتہِ ایوان ِ نعت ہے


قرآن پاک اصل میں اعلانِ نعت ہے


حکمِ تُعَزِّرُوہٗ ادب گاہ مصطفی


لاتَرْفَعُوا عقیدہ و ایمانِ نعت ہے


اب ذہن اپنا رنگ بدل، دل ذرا سنبھل


لولاک کیا ہے مدحتِ سرور کے باب میں؟
یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے


اللہ کی محبت و برہانِ نعت ہے


محشر میں سر اُٹھا کے چلوں گا کہ میرے پاس


عقدہ کشا ہے آیتِ صَلُّوا وَسَلِّمُوا
سرمایہ منقبت کا ہے سامانِ نعت ہے


بے شک درودِ پاک بھی فرمانِ نعت ہے


میراثِ مصطفٰیؐ کا نہ دعویٰ کرے  کوئی


یُعْطِیْکَ رَبّّکَ سے تونگر بشر بشر
جو وارثِ نبیؐ ہے نگہبانِ نعت ہے


الفقر فَخْرِی رزقِ گدایانِ نعت ہے


ہر شئے خدا کے ذکر میں مصروف ہے تو مان


پیماں شبِ الست کا لا شک ذالک
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


قربان جائیے کہ وہ پیمانِ نعت ہے


ہے خاکسار عرش نشینوں کا ہم خیال


تحتِ سری سے عرش بریں تک کے سلسلے
یہ فضل ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے


جس سے مہک رہے ہیں وہ لوبانِ نعت ہے


مت روکنا فرشتوں ذرا غور تو کرو


اے شہسوارِ دشتِ غزل ہوش میں تو ہے؟
خاکِ شفا ہے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


نادان! احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


میں کیا تھا مجھ کو جانتا  کوئی نہ تھا رضا


حقِ ثنا ہو کس سے ادا اور کس طرح
عزت مجھے ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے
سب خاک اس سفر میں وہ کیوانِ نعت ہے


===== [[رضوان انجم]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
یہ حُسنِ کائنات تو فیضانِ نعت ہے


مجھ سا حقیر آپ کو نذرانہ دے تو کیا
ہر ذرّہِ جہان ہی دیوانِ نعت ہے


کر لیجیے قبول یہ دیوانِ نعت ہے


قدسی بھی بھیجتے ہیں درود ان کی ذات پر


یہ شہرت و مقام یہ سطوت یہ ننگ و نام
یہ دو جہان محفلِ بستانِ نعت ہے


میری بساط کیا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


کرتا ہوں گر میں حمد تو لگتی ہے نعت سی


محشر میں اطمنان سے ہوں گے ہم امتی
وجدانِ حمد اصل میں عرفانِ نعت ہے


حاصل ہمیں شفاعتِ جانانِ نعت ہے


قاری ہو ، کوزہ گر ہو، معلم ہو یا ادیب


جذب و شعور و فکر و فن و خامہ و ہنر
ہر گوشہ ء حیات میں امکان نعت ہے


کاشر ہر ایک شے مری قربانِ نعت ہے


===== [[ شہر یار خرم]] ، [[اٹک ]] =====
رضوان بخش دے مجھے جنّت میں داخلہ


سن میرے پاس کنجئ ایوانِ نعت ہے


کیسے کسی کو دل میں بسائیں گے ہم بھلا


سینے میں دل جہاں وہیں کاشانِ نعت ہے
ادنیٰ تھا ان کی نعت نے اعلی بنا دیا


مجھ خاکسار پر بڑا احسانِ نعت ہے


جاہ و جلال و عزت و رتبہ ملا مجھے


یہ مجھ گناہگار پہ فیضانِ نعت ہے
گر ذوقِ نعت ہے تو چلو ان سے فیض لیں


احمد رضآ کا در، درِ فیضانِ نعت ہے


تم کو پناہ دے گا زمانے کے رنج سے


آجاؤ عاشقو کہ یہ دامانِ نعت ہے
عجزِ بیانِ نعت ہے حسنِ بیانِ عشق


انجم بھی نعت کہہ گیا، احسانِ نعت ہے


تدریس و تربیت ہو یا انصاف و عدل ہو
===== [[رضوان عدم]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد رضوان عدم


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
یہ ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


سالک نے ڈرتے ڈرتے جسارت تو کی مگر


اک شعر پر محیط یہ دیوانِ نعت ہے
کیا اوج پر حضور کا فیضانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"




شاعر:  شہر یار خرم بٹ ، اٹک
چھایا یوں فکر پر چمنستانِ نعت ہے


===== [[شہریار زیدی]]، [[لاہور]] =====
جو لفظ ہے سو وہ گلِ ریحان_ نعت ہے


مجھ بے ہنر پہ یہ بھی تو احسانِ نعت ہے


ہر شعر میرا شمع شبستانِ نعت ہے
کتنا یقین دل کو بہ فیضانِ نعت ہے


مجھ ایسے بے ہنر کو بھی ارمانِ نعت ہے


تجھ کو درِ حبیبؐ تلک لے کے جاونگی


مداح مصطفٰیؐ سے یہ پیمانِ نعت ہے
فیضانِ نعت ہے کہ یہ وجدانِ نعت ہے


ہر ایک سانس اب میری عنوانِ نعت ہے


اہلِ زمین نے بھیجا ہے پھر ہدیہِ درود


یہ مصطفٰیؐ کی بزم میں اعلانِ نعت ہے
عرفانِ مصطفیٰ میں ہے عرفانِ ایزدی


توحید کے بیان میں اعلانِ نعت ہے


کیا خوف رہزنوں کا انھیں راہِ شوق میں


محفوظ جن کے سینوں میں سامانِ نعت ہے
بے شک نزولِ وحی مکمل ہوا مگر


جاری ہماری روح پر احسانِ نعت ہے


وہ سوزِ دل ہو یا ہوں تفکر کی وسعتیں


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
استاد بھی کھڑے ہیں یہاں ہاتھ باندھ کر


دل احتیاط کر، یہ دبستانِ نعت ہے


اللہ اور ملائکہ سب پڑھتے ہیں درود


یہ عرش ہے یا گوشہِ ایوانِ نعت ہے
ممکن نہیں ثنا ئے محمد بجز کرم


فیضانِ نعت اصل میں سامانِ نعت ہے


ٹھکراتا ہے وہ دونوں جہاں کی مسرتیں


خوش بخت کتنا صاحبِ عرفانِ نعت ہے
انکا کرم ہے ورنہ مجھے اعتراف ہے


  کوئی بھی شعر کب مرا شایانِ نعت ہے


ہر فرد شہریار نبیؐ کے گھرانے کا


لاریب! رشک لُو لُو و مرجانِ نعت ہے
باغِ بہشت کو بھی میسر یہ بُو کہاں


جو نکہت و مہک بہ گلستانِ نعت ہے


===== [[ شہزاد بیگ]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====


سجدے میں محوِ شکر چلا جا رہا ہے آج


جیسے جہان سارا یہ ایوان ۔ نعت ہے  
حاصل مرے قلم کو بھی وجدانِ نعت ہے


ہاتھوں میں اس طرح مرے دیوان۔نعت ہے


آتا ہے چاند بھی اسی جلوے کی چاہ میں


لکھ لکھ کے کررہا ہوں روانہ جو رات دن
رونق فزا جو نورِ شبستان_ نعت ہے


یہ جذبہ ہے مرا کہ قربان۔نعت ہے


عاجز، گناہگار، سیہ كار ہوں مگر


صل علی کا ذکر ہے دنیا میں ہر جگہ
آقا کا مجھ حقیر پہ احسانِ نعت ہے


تسلیم۔دوجہان بھی ایقان ۔ نعت ہے


یہ بھی مقام آتا ہے اظہارِ نعت میں


خوشبو دیار۔دل میں جو پھیلی ہے چارسو
عرفانِ عجز ہی جہاں عرفانِ نعت ہے


خوشبو نہیں ہے یہ مرا ایمان ۔ نعت ہے


اشکوں سے قلب و روح مطہر ہوئے"عدم"


دیوار ۔ خستگی میں بنا ہے نیا جو در
کتنا کرم نواز یہ بارانِ نعت ہے۔


"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔نعت ہے"
===== [[رفیع الدین راز]]، [[امریکہ]] =====
بشکریہ : [[اویس راجا]]




جن و بشر کو کیا پتا ، کیا شانِ نعت ہے


رمضان میں لکھی ہے عقیدت میں ڈوب کر
اللہ کے سوا کسے عرفانِ نعت ہے


یہ زیست بھی تو صورت ۔ عنوان۔نعت ہے


آدابِ نعت گوئی کا پیہم رہے خیال


ہم لازمی منائیں گے میلاد۔ مصطفی
شوکت میں حمد ہی کی طرح شانِ نعت ہے


یہ رونق ۔ جہاں بھی فیضان ۔ نعت ہے


نغمہ سرا ہے خون کی ہر بوند میں حیات


جاری ہے ایک عرصہ سے جو شہر۔نعت میں
دل پر عجیب طور سے فیضانِ نعت ہے


یہ شاعری نہیں ہے یہ فیضان۔نعت ہے


کیفیتِ دیارِ دل و جاں نہ پوچھئے


جو دل میں بس گئی ہے عقیدت حضور کی
ہر خطۂ وجود دبستانِ نعت ہے


ہر شخص اپنی ذات میں سلطان ۔ نعت ہے


نوکِ قلم کو اور کیا اعزاز چاہئیے


کرتا ہوں جان و دل سے میں تحریر نعت جو
آقا کا ذکرِ خیر ہے ، رجحانِ نعت ہے


وجہ ۔ تجلیات ہے ایمان ۔ نعت ہے


بھیجا درود اس نے نبی پر تو یہ کھلا


سیرت کے واقعات کے قربان جاوں میں
وہ بھی اسیرِ حلقۂ جزدانِ نعت ہے


جو مصطفے کی شان کے شایان ۔ نعت ہے


لب پر درود ، دھیان میں ہے ذاتِ مصطفٰے


بڑھیا سے لے کے حضرت حساں کی نعت تک
زادِ سفر میں بس یہی سامانِ نعت ہے


ہر ایک ایک واقعہ امکان ۔ نعت ہے


خوشبو ہے، روشنی ہے، یا پھر پرتوِ خدا


صل علی کا ورد زباں پر ہے صبح و شام
  کوئی تو ہے جو اس گھڑی مہمانِ نعت ہے


شہزاد بیگ آپ کا دربان ۔ نعت ہے


===== [[شیر محمد]]، [[جھارکھنڈ]]، [[بھارت]] =====
ہر موڑ ہر قدم پہ نوازا گیا ہوں میں


بشکریہ : [[نواز اعظمی]]
دن رات میری ذات پہ احسانِ نعت ہے


روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے


توصیف شاہ دہر کی عنوانِ نعت ہے
نعتِ نبی کے فیض سے میری نگاہ میں


اس وقت دل کا آئنہ ایوانِ نعت ہے


تعمیر ذات میں بڑا احسان نعت ہے


مجموعۂ کلام بھی دیوان نعت ہے
کھلتے رہیں گے نوکِ قلم پر ثنا کے پھول


جب تک نبی سے عشق ہے امکانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات کے سرکار رہنما


ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
قلب و نظر پہ کیوں نہ ہو برسات نُور کی


دستِ خیال میں ابھی دامانِ نعت ہے


*لا‌ یمکن الثناءُ کما کان حقہ*


یہ عجز و اعترافِ ادیبان نعت ہے
یوں ہی نہیں ہے دل کی زمیں عطر بیز آج


جزدانِ قلبِ راز میں دیوانِ نعت ہے


تعریف واہ واہ نہ تحسین و آفریں
===== [[رفیق راز]]، [[سری نگر، کشمیر]]، [[انڈیا]] =====
ام الکتاب دیکھ یہی کان نعت ہے


چشمِ کرم، دوائے مریضانِ نعت ہے
آیت ہے  کوئی دُر،  کوئی مرجان نعت ہے




پروانۂ نجات بھی ہوگا بروز حشر
ہے داغ سجدہ صرف یہ ماتھا لیے ہوئے


مجھ پر خطا کے ہاتھ میں دامان نعت ہے
بآقی تمام جسم ہی. جزدان نعت ہے




باشندہ جو بھی عالمِ شعر و ادب کا ہے
آنسو ہے روشنایی مژہ ہے مرا قلم


کاسہ بدست بر درِ ایوان نعت ہے
طاری بدن پہ کپکپی دوران نعت ہے




الفاظ لاؤں کوثر و تسنیم سے دھلے
اعمال نامہ میں مرے کچھ بھی نہیں مگر


ذوق سخن وری مرا مہمان نعت ہے
میں مطمئن ہوں ساتھ یہ سامان نعت ہے




پاکیزگئ حرف کو حاصل اسی سے بھیک
آب و ہواے اسم محمد ہے دایمی


صوت و صدا کا حسن بھی فیضانِ نعت ہے
پت جھڑ میں بھی بہار پہ بستان نعت ہے




آداب و احترام ثنا اس سے سیکھیے
دل پر لبوں پہ صل علیٰ ثبت ہے مرے


قرآنِ رب ذریعۂ عرفان نعت ہے
اللہ کا کرم ہے یہ فیضان نعت ہے




سیراب ہو رہا ہوں میں ذکر رسول سے
رکھ تو قدم اے اسپ قلم پھونک پھونک کر


کشتِ سخن پہ چشمۂ باران نعت ہے
دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے




حورو ملک کہ جن وبشر آنکھوں میں رکھیں
باکار ہاتھ ہیں ترے با یار دل کو رکھ


ہر دلعزیز بلبل بستانِ نعت ہے
ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے




شعری وجود و چشم ہے محفوظ ضعف سے
پروانوں سے تو روشنی ہوتی نہیں  کوئی


اشہر کے بخت میں نمک و نانِ نعت ہے
روشن اسی چراغ سے ایوان نعت ہے


شیر محمداشہر شمسی منانی، جھارکھنڈ (ہندوستان)
===== [[ریاض احمد قادری]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
تھاماجومیں نے ہاتھ میں دامان نعت ہے


===== [[صادق جمیل]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
بخشش کو میری کافی یہ سامان نعت ہے
اللہ کیا ہے خالق ِ سامان ِ نعت ہے  


لوح و قلم ہی اصل میں شایان ِ نعت ہے


خالق نے خود رقم کی ثناءے حضور ہے


شامل یہ نشریات میں اعلان ِ نعت ہے  
قرآن پاک سارا ہی دیوان نعت ہے


صادق جمیل ملحق دامان ِ نعت ہے


خلق عظیم اسوہ حسنہ حضور کا


اس سے سوا بھی کیا کوئی احسان ِ نعت ہے  
سیر ت رسول پاک کی عنوان نعت ہے


مجھ کو خدا نے بخشا قلم دان ِ نعت ہے


یہ صنف نعت وقف ثناءے حضور ہے


حد ِ نظر سے آگے بھی ایوان ِ نعت ہے  
ذات رسول پاک ہی شایان نعت ہے


جبریل جانیے کہ نگہبان ِ نعت ہے


ان کی ثنا میں لاکھوں ہی دیواں رقم ہوءے


سیرت اگر ہے آپ کی پیش نظر مدام
تازہ جہاں میں آج بھی امکان نعت ہے


"ہر شعبہ ءِ حیات میں میں امکان ِ نعت ہے "


حسان کو جو رتبہ ملا بے مثال ہے


صحرا صفت وجود بھی شاداب ہوگیا
حسان ہر زمانے کا سلطان نعت ہے


برسا کچھ اس طریق سے باران ِ نعت ہے


رنگ رضا میں لکھو ثناءیں حضور کی


حمد ِ خدا سے نعت ِ رسالت مآب تک
احمد رضا تو آپ دبستان نعت ہے


حسن ِ سخن کی جان بھِی فیضان ِ نعت ہے


گھر گھر میں سج رہی ہیں ثناءوں کی محفلیں


اسری کی رات دیکھی کسی اور نے نہیں
ہر ایک گھر بنا ہوا بستان نعت ہے


جبریل کو ہی اصل میں عرفان ِ نعت ہے


ارض و سما و ظاہروباطن میں ہر طرف


سینے میں اور کوئی بھی خواہش نہیں جمیل
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


ارمان ہے تو ایک ہی ارمانِ نعت ہے


===== [[صائمہ اسحاق]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
طیبہ،ریاض،بطحا حدیقےہیں خلد کے


ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے
ہر جا نظر میں اپنی گلستان نعت ہے


صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے


جن و بشر فرشتوں کو حکم درود ہے


پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے
انسان کے لئے یہی فرمان نعت ہے


جب خود درودِپاک ہی دربانِ نعت ہے


ان پر درود ہوگیا شامل نماز میں


ہرسانس مستفیض ہے ان کے وجود سے
صل علی درود ہی اعلان نعت ہے


'؛ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے؛


عشق رسول روح ثنائے حضور ہے


اے کاش کم سخن کو بھی آئے ثنا گری
عشق رسول کون و مکاں جان نعت ہے


قرطاس کو قلم کو بھی ارمانِ نعت ہے


عزت بنی ہوئی ہے زمانے میں جو ریاض


جیسے ہر ایک شے میں ہے عشقِ محمدی
میرے لئے یہ سارا ہی فیضان نعت ہے


ویسے ہر ایک شے میں ہی میلانِ نعت ہے
===== [[ریاض مجید]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====




کوثر سے جام اس کو عطا ہو مرے حضور
جس سے درود رُو مرا وجدانِ نعت ہے


شامل قطار میں جو ثنا خوانِ نعت ہے
لفظِ مدینہ ایسا گلستانِ نعت ہے




کیا کیاسخن طرازہیں اس کارزار میں
تکتے ہیں ہم کو حیرت و حسرت سے کس طرح


ناچیز کو سہاریے میدانِ نعت ہے
برگ و شجر کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے




قوسین ہے خدا سے محبت کا سلسلہ
ہیں سلسلے زبان و بیاں کے جہاں جہاں


معراج کا سفر بھی تو اعلان ِ نعت ہے
پھیلا ہُوا وہاں وہاں امکانِ نعت ہے




کچھ اور تو نہیں مرے توشے میں صائمہ
قراں ہر امتی سے ہے پیہم درود خواہ


حبِ رسول ِ پاک ہی سامانِ نعت ہے
اک طرح سے یہ دعوت و اعلان نعت ہے


===== [[صفیہ ناز]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]]=====
چشم کرم حضور کی فیضان نعت ہے


رزق_سخن ملا جو یہ احسان _ نعت ہے
قراں کی آیتوں میں ہے شان اُن کی عطربیز


بین السطّور دیکھ یہ بستانِ نعت ہے


لکھی ثنا تو ہو گئے الفاظ نوُر نوُر


اور جگمگا اُٹھا میرا دیوان_ نعت ہے
اہلِ ولا و اہل صفا کی نگاہ میں


’احزاب‘ استعارہ پیمانِ نعت ہے


مدحت کے پھول بے بہا دامن میں آ گئے


کتنا وسیع نبی کا گلستان_ نعت ہے
صلّوا علیہ کی اسے توسیع جانئیے


حُبّ کا تلازمہ جو بعنوانِ نعت ہے


کچھ سسکیاں ہیں اشک ہیں کچھ درد اور دروُد


اتنا سا پاس میرے بھی سامان_ نعت ہے
قران کا خلاصہ اگر اک ورق میں ہو


تو زیب اُس نوشتے کو عنوانِ نعت ہے


عشق_ نبی میں ڈوب کر جو بھی کرے ثنا


وہ ہی عظیم ہے وہی سلطان_ نعت ہے
سعی ہنر قبول ہو‘ جو ہو خلوص سے


ہر نعت گو کو اتنا تو عرفانِ نعت ہے


غار_حرا کا نوُر اُترے جو روم روم تک


پھر خامہ بھی لکھے گا جو شایان_ نعت ہے
اس عہدِ نعت پہ کرم خاص آپ کا


گھر گھر کھلا ہُوا جو دبستانِ نعت ہے


دل میں سجی ہو یاد جب آقا کریم کی


ہر شعبہ ء حیات میں امکان_ نعت ہے
کیا کیا ثنا سرشت ہیں مائل بہ نعت آج


فی الواقعی یہ عہدِ درخشانِ نعت ہے


آئی بہار نعتوں کی کلیاں چٹک گئیں


اے ناز تیرے قلب پہ باران_نعت ہے
مصرعے اتر رہے ہیں ستاروں کی شکل میں


===== [[صغیر انور وٹو ]]، [[اسلام آباد]] =====
کاغذ سے روح تک میں چراغانِ نعت ہے


کس کو، شعور_وسعت_ دامان _نعت ہے


وہ خوش نصیب ہے، جسے عرفان_ نعت ہے
فردائے نعت کی ہے ہر اک سمت سے نوید


ہر دل میں جو نمایاں یہ رجحانِ نعت ہے


در کھل گیا ہے خیر کا، رحمت کا، نور کا


لے آئے ،جس کے پاس ،جو، سامان_ نعت ہے
جنت میں ہو گا نعت کا دورانِ جاوداں


اب تک ہوئی جو مشق وہ اک انِ نعت ہے


لکھی نہیں ہے، مجھ کو عطا کی گئی ہے نعت


آنکھوں میں نم نہیں ہے یہ باران_ نعت ہے
باعث ظہور ہست کا ہے ذات آپؐ کی


دھڑکن دلِ وجود کی گردانِ نعت ہے


اس ذات کو ہی زیبا ہے مدحت حضور کی


اس کا کہا ہی اصل میں شایان_ نعت ہے
مصروفیت ملی ہے بہشت آفریں ہمیں


ہم اہلِ حُب یہ کیسا یہ احسان نعت ہے


مجھ بے ہنر پہ ان کا کرم ہو گیا تو پھر


میں بھی کہوں گا یہ مرا دیوان_ نعت ہے
بخشش کی التجا کے سوا کچھ نہیں ریاض


فردِ عمل میں جو سروسامانِ نعت ہے


قرآں بتا رہا ہے سراپا حضور کا


کس درجہ واشگاف یہ اعلان نعت ہے
ہے محوِ فکر رفعت و شانِ رسول میں


چپ ہے ریاض جس کو بھی عرفانِ نعت ہے


روشن ہے کائنات اسی ایک نور سے
===== [[زوہیب عباسی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
ہر جا رہِ حیات میں سامانِ نعت ہے


انور، وہ  آپ شمع ٕ شبستانٕ نعت ہے
اللٰہ اللٰہ وسعتِ دامانِ نعت ہے


===== [[ضمیر درویش]]، [[مراد آباد]]، [[انڈیا]] =====
ہر چند بے نوا ہوں پہ عرفانِ نعت ہے


فیضانِ نعت ہے ارے فیضانِ نعت ہے
سب برکتیں حضور کی فیضانِ نعت ہے


کیا اور چاہیے ہمیں امکانِ نعت ہے


قرآں میں رب بھی کرتا ہے توصیفِ مصطفٰی


سلطانِ ہست و بود بھی سلطانِ نعت ہے
ہیں نعت کی کرامتیں یہ شانِ نعت ہے


"ہر شعبہ۶ حیات میں امکانِ نعت ہے"


دراصل ہو رہا ہے یہ دل پر نزولِ نعت


عالم عجیب دل کا جو دورانِ نعت ہے
روشن ہوٸی نِگاہ کرشمہ سا ہو گیا


فیضانِ نعت ہے یہ تو فیضانِ نعت ہے


کس منھ سے کہتے ہو مجھے کم مایہ وغریب


مَیں وہ ہوں جس کے ہاتھوں میں دیوانِ نعت ہے
ہیں رحمتیں حبیب پر خود آپ نے کہا


کر لیجیے قبول کہ فیضانِ نعت ہے


کیجے جونظم سیرتِ اقدس بھی نعت میں


'ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
جلوہ نُما ہو ساقی تو پوری مُراد ہو


عالم میں آج محفلِ رِندانِ نعت ہے


'درویش' حرف حرف سے آئیں گی خوشبوئیں
===== [[زید معاویہ]]، [[گوجرانوالہ]] =====
یونہی نہ اس زمین پہ باران نعت ہے


عشقِ حبیبِ پاک اگر جانِ نعت ہے
قلب غریق عشق ہی شایان نعت ہے


===== [[طارق شہزاد]]، [[جدہ]] ، [[سعودی عرب]] =====


گلزار۔حسن_ فکر پہ احسان_ نعت ہے
ثابت کیا نبی نے تریسٹھ برس میں یہ


سب تتلیوں کے ہاتھ میں گلدان_نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"




جو کنز _ کن ہے سارا ہی سامان_نعت ہے
حکم ِ خدا ہے مدحت ِ سرکار ِ دو جہاں


ہر شعبہء حیات میں امکان_ نعت ہے
"صلو علیہ_" اصل میں فرمان نعت ے




درباں کو کاش داور _ محشر یہ حکم دیں
تشنہ لبی کے مارے سخنور سنیں ذرا


روکیں نہ اس کو صاحب_ دیوان_ نعت ہے
سیراب کر لیں روح , لگا خوان نعت ہے




فصلیں خیال_سبز کی اگتی ہیں جا بجا
اخلاق مصطفی پہ ہے فرمان عائشہ


کشت_ سخن بھی تحفہء دہقان_ نعت ہے
قرآن پڑھ ذرا کہ جو عنوان نعت ہے




اک دن چھپے گا میرا بھی دیوان ! دیکھنا
قرآں کی رفعتوں کے دلائل سبھی بجا


حاصل مجھے بھی صحبت_ یاران_ نعت ہے
خوش بو ہے اس لیۓ بھی کہ گلدان نعت ہے




پھوٹے ہیں پور پور سے چشمے درود کے
رائج برے معانی ہیں جس لفظ کے بھی زید


ٹھہرا سراے روح میں مہمان_ نعت ہے
روتا ہے بخت پر وہ کہ انجان نعت ہے


===== [[زینب سروری]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====


کچھ اہتمام_ روز_ جزا کیجیے میاں
مکمل نام : سیدہ زینب سروری قادری


سودا خرید لیجیے دکان _ نعت ہے
لاریب عشقِ شاہِ امم، جانِ نعت ہے


پہچانِ نعت بھی یہی، سامانِ نعت ہے


پت جھڑ کی کیا مجال کہ چھینے طراوتیں


ان پتیوں پہ رنگ_ بہاران_ نعت ہے
ہر لفظ مدحِ سرورِ کونین کا ہمیں


تسکینِ روح و جان بہ سلطانِ نعت ہے


مشک_ درود_ پاک سے مس کر لباس_ زیست


کھولی کسی نے کاکل_ دیوان _ نعت ہے
بزمِ ثنائے سرورِ دیں ہے سجی ہوئی


اونچی رہی سدا جو یہاں، شانِ نعت ہے


===== [[طاہر جان]]، [[گوجرہ]] =====


پیہم قلم رواں ہے بفیضان نعت ہے
اس کے بغیر بات بنے گی کہاں حضور


ہر لفظ کیمیا ہے بعنوان نعت ہے
قلبِ سلیم ہو تو یہ شایانِ نعت ہے


لکھنے کا شوق دل سے نہ جائے گاعمر بھر


لفظوں کے ساتھ چاہیئے معانی کی احتیاط
گرچہ ضخیم تر مرا، دیوانِ نعت ہے


لغزش کی جاء نہیں کہ یہ عنوان نعت ہے


نعتِ نبی ہے سنتِ حسّانِ ذی وقار


اشکوں سے آنکھ ہی نہیں دل بھی ہوں دھو رہا
اس وقت سے ہی رحمت و بارانِ نعت ہے


پاکی نگاہ و فکر کی جزدان نعت ہے


سیراب مدحَ حُبِ نبی ﷺ سے کرے سدا


اس کی بہارِ تام خزاں سے ہے نا شناس
خوش بخت وہ نبی ﷺ کا سخندانِ نعت ہے


ہر دور میں فروزاں گلستان نعت ہے


اصنافِ شاعری میں ہے مرغوب صرف نعت


ہر ذکر سے بلند کیا مصطفی کا ذکر
سب سے جدا الگ مرا، میلانِ نعت ہے


رب جہان آپ قدر دان نعت ہے


مجھکو تو نعتِ سرورِ عالمﷺ سے کام ہے


گرچہ ہے جاؔں بھی خوگرِمدحِ رسولِ پاک
خوشبو کا سلسلہ مرا ایوانِ نعت ہے


حق ہے کہ صرف حق ہی کو عرفان نعت ہے


===== [[عارف امام]]، [[امریکہ]]  =====
توصیفِ مصطفٰےﷺ سے ملی راہِ مستقیم


عالم تمام حلقۂ دورانِ نعت ہے
دے معرفت کا نور، یہ احسانِ نعت ہے


اعلانِ کُن کے “ن” میں اعلانِ نعت ہے


حق مدحتِ رسول ﷺ کا وہ ہی ادا کرے


ملتی ہے عاجزی سے یہاں شعر کو اُٹھان
سونپا جسے خدا نے، قلمدانِ نعت ہے  


گردن جُھکا کے چل کہ یہ میدانِ نعت ہے


پھر سے ردیف و قافیہ الہام ہو گئے


پُر پیچ تو نہیں ہے مگر سہل بھی نہیں
پھر سے افق پہ قلب کے، امکانِ نعت ہے


اے راہ رو سنبھل! یہ خیابانِ نعت ہے
اس کے بغیر نعت لکھے  کوئی کس طرح


عشق رسول ﷺ ہی مرا ایمانِ نعت ہے


سرنامۂ کلام ہیں اوصافِ مصطفیٰ ص


گویا کتابِ حق ہی دبستانِ نعت ہے
اس سے بڑا شرف نہیں زینب یہاں  کوئی


کاسے میں ہم گداؤں کے، فیضانِ نعت ہے


مدحِ نبی ص ہے نغمۂ تارِ نفس مدام
بشکریہ : [[فراز عرفان]]


میں سانس لے رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے
===== [[زین زیدی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
پھر سے دلِ فقیر کو ارمانِ نعت ہے


امداد وہ کرے گا جو سلطانِ نعت ہے


سایہ ہے اِس سخن کا مِرے سر پہ تو مجھے


میدانِ حشر وادئ فارانِ نعت ہے
دھڑکن نہیں چٹکتی ہیں کلیاں درود کی


دل دل نہیں رہا ہے گلستانِ نعت ہے


اس دائرے سے دور نکل اے خیالِ دہر


حّدِ ادب! یہ بزمِ سخن دانِ نعت ہے
حیدر کی زندگی نے بتایا جہان کو


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


خطبے میں جس نے دفترِ الحمد وا کِیا


تاریخ نے کہا وہ حدی خوانِ نعت ہے
جب تک کسی کو منصب عصمت نہیں ملے


وہ لفظ کون لکھے جو شایانِ نعت ہے


کوثر سے منسلک ہے یہاں کی ہر اک رَوِش


یہ باغِ منقبت یہ گلستانِ نعت ہے
خامے کو سلسبیل سے دھولیں تو پھر لکھیں


===== [[عارف قادری]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
پھیلا ہُوا جہان میں فیضانِ نعت ہے


جو جو کرم ہے جس پہ، وہ احسانِ نعت ہے
وہ اسمِ چارہ ساز جو عنوانِ نعت ہے




جاں ہے فداۓ مدحِ پیمبر، زہے نصیب
جس نے بچا رکھا ہے خجالت کی دھوپ سے


خُوش بخت ہوں، کہ دِل مِرا قُربانِ نعت ہے
زینِ رضا وہ سایہءِ دامانِ نعت ہے


===== [[ساجد حیات]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
وابستگی رسول سے دیوانِ نعت ہے


یُوں ہی نہیں ہے وقت کی گردش تھمی ہُوٸی
مضمونِ عشق باعثِ عنوانِ نعت ہے


جاری مِری زبان پہ گَردانِ نعت ہے


میں خاک اوڑھ لوں گا فقط اس یقیں کے ساتھ


مانا اَدَب میں صِنفِ غزل بھی ہے صِنفِ خاص
بخشش کو میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے


دیکھیں دِلِ سخن میں، تو ارمانِ نعت ہے


احساس کے یہ اشک جو گرتے ہیں روح پر


آنا ذرا سنبھل کے مِرے شاعرِ عزیز
دُھلتے ہیں پھر گناہ یہ فیضانِ نعت ہے


حسّاس ہے بہت، کہ یہ میدانِ نعت ہے


میرے نبیؐ کی شان ہے اور شان دیکھیئے


دِل کا گُداز، اشکِ تپیدہ، جگر کا سوز
ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


بہرِ قبول بس یہی سامانِ نعت ہے


بنجر زمینِ فکر کو سر سبز کر کے دیکھ


سب داٸرے مُحیطِ عطاۓ حضور ہیں
سیرت مرے رسول کی فیضانِ نعت ہے


”ہر گوشہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


میں لفظ لفظ ٹانک رہا ہوں جو نعت میں


خُلدِ بریں کی مُجھ پہ حقیقت بھی کُھل گٸی
تو حرف حرف لُو لُو و مرجانِ نعت ہے


پُر کیف و پُر بہار گُلستانِ نعت ہے
===== [[ساجد ندیم ]]، [[سیالکوٹ ]]، [[پاکستان ]] =====


جب مطمعِ نظر ترے دامانِ نعت ہے


مِلتی نہیں ہر ایک کو عارف یہ روشنی
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


قسمت کا ہے دھنی جسے عرفانِ نعت ہے


===== [[عاصم زیدی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
کر دے جو بے نیاز ہر اک احتیاج سے
ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے


لیکن زہے نصیب کو عرفانِ نعت ہے
کل کائنات اپنی یہ ایقانِ نعت ہے




"کُن" کی صدا کا اُٹھنا تو عنوانِ نعت تھا
دونوں جہاں کی اس میں میسر ہیں رفعتیں


ظاہر ہوا جو "کُن" سے وہ دیوانِ نعت ہے
کتنی بڑی عطا ہے جو عرفانِ نعت ہے




قرآن پڑھ رہا ہے قصیدے رسول ؐ کے
دل مطمعن ابھی سے ہے کوثر پہ جام کا


یعنی کہ "بے نیاز" کو ارمانِ نعت ہے
مجھ رو سیاہ پہ دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے




شاعر تو کر رہا ہے اٙدا سُنّتِ خدا
آداب و شان و حب و مودت سے آگہی


ورنہ "احد" کی ذات ہی شایانِ نعت ہے
میراثِ کل ندیم یہ سامانِ نعت ہے


===== [[ساغر مشہدی]]، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[فیصل ہاشمی]]


شانوں پہ کاتبین نے آرام کرلیا
عرفانِ ذات اصل میں عرفانِ نعت ہے


بس لکھ دیا کہ یہ ابھی دورانِ نعت ہے
یہ نورِ آ گہی مری پہچانِ نعت ہے  




منکر نکیر اُس سے ملیں گے بصد ادب
محشر میں جب شناخت ہو میری تو سب کہیں


تقدیر میں عطا جسے فیضانِ نعت ہے
حمادِ اہلیبت ہے ، حسانِ نعت ہے  




کیونکر بھٹک سکے گا رٙہِ مستقیم سے
پُرسش ہوئی جو حشر میں کیا کچھ ہے تیرے پاس


عاصم ترے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
حالی کی طرح کہہ دوں گا دیوانِ نعت ہے  


===== [[عاکف غنی]]، [[پیرس]] =====
وردِ درود لب پہ ہے ،وجدانِ نعت ہے


عشقِ نبی ہے دل میں تو امکانِ نعت ہے
جنت میں بھی سجائیں گے نعتوں کی محفلیں


محبوبِ ذوالکرم جو نگہبانِ نعت ہے


لاؤں اثر کہاں سے میں اپنے کلام میں


اسلوبِ فن کہاں مرا شایانِ نعت ہے
عرشِ عُلٰی کہ فرشِ زمیں کی ہوں رونقیں


" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


اس کے قلم سے نعت کی پھوٹے گی روشنی


جس کے دل و نگاہ میں عرفانِ نعت ہے
دل کا قرار روح کی بے تابیوں کا حل


ہر اضطرابِ وقت کو سلمانِ نعت ہے


مدحت کروڑ ہا ہیں جو کرتے ہیں آپ کی


ان میں سے میں بھی ہوں جسے ارمانِ نعت ہے
جس کے طفیل خلق کیا ہے جہان کو


خالق بھی نعت خوان ہے، کیا شانِ نعت ہے


لفظوں کا انتخاب کریں دیکھ بھال کر


محتاط اہلِ فن کہ یہ میدانِ نعت ہے
ساغر میں مدح خوانِ رسالت مآ ب ہوں


میرا کمالِ فن نہیں احسانِ نعت ہے


حسنِ سلوک آپ کا ہر اک سے ایک سا
مکمل نام : سید ساغر مشہدی


ہر قول و فعل آپ کا عنوانِ نعت ہے
===== [[سائرہ خان سائرہ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
لاریب فضل رب ہی ، یہ فیضانِ نعت ہے


بالواسطہ ہے حمد ہی جو جانِ نعت ہے


کہنے لگا جو نعت میں آتا گیا نکھار


لفظوں پہ میرے دیکھیے بارانِ نعت ہے
ہرلمحئہ حیات میں رہبر ہے انکی ذات


===== [[عائشہ ناز]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
موضوعِ گفتگو مرا اب شانِ نعت ہے  


کتنا مرے سخن پہ یہ احسانِ نعت ہے


مسحور ہیں فضائیں تو دل بھی ہیں مشکبار


سب کے نصیب میں کہاں عرفانِ نعت ہے  
ہر سو کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے


صد شکر دل محبِّ محبانِ نعت ہے


ہو میرے حرف حرف کو پاکیزگی عطا


بتلا رہا ہے اسم ِمحمّد ﷺ کہ حشر تک
سوچیں بھی ہوں لطیف یہ ایوانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


اے خلقِ اولیں ، تری مدحت پہ میں نثار


ان کی صفات کیسے بیاں کر سکے کوئی
ہر لمحہ تیرا ذکر اے سلطانِ نعت ہے


کہہ کر بھی نعت قلب کو ارمانِ نعت ہے


بزم فروغ نعت سے دولت ملی مجھے


رکھی ہوئی ہیں اس میں ادب سے سنبھال کر
الحمد فکرِ نعت ہے، احسانِ نعت ہے


دل جس کو آپ سمجھے وہ جزدانِ نعت ہے


جاں سے مجھے عزیز وراثت ہے نعت کی


اس کی گلی گلی میں ہے مہکار نعت کی
میرا تو سب گھرانہ ہی قربان ِ نعت ہے


یہ ارضِ پاک میری گلستانِ نعت ہے
===== [[سجاد بخاری]]، [[مکہ مکرمہ سعودی عرب]] =====


===== [[عباس عدیم قریشی]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]]  =====
آیات کیا ہیں اصل میں سامانِ نعت ہے
انکی عطا ہے اور مرا دامانِ نعت ہے


یعنی زمینِ خشک پہ بارانِ نعت ہے
اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے




فکرِ سخن ، رضا کے تکلّم کی بھیک بس
لَا تَجْهَرُوا کا ضابطہ برہانِ نعت ہے


طرزِ سخن فقیر کا فیضانِ نعت ہے
اور سلمو کے حکم میں اعلانِ نعت ہے




ملحوظ حدّ ِ شرع و سیرت رکھی فقط
عرفانِ حمد ہے جسے عرفانِ نعت ہے


دعویٰ نہیں ہے حاشا ، کہ عرفانِ نعت ہے
دیوانہء سجود ہے مستانِ نعت ہے




مجھ پر جو حرف و معنی کے دفتر ہوئے ہیں وا
تحریر ہو رہی ہے ازل سے کتابِ نعت


یہ اہلیت نہیں مری ، احسانِ نعت ہے
دنیا تو ایک صفحہ ء دیوانِ نعت ہے




کچھ ان بہے سے اشک ہیں ، کچھ بےصدا سے لفظ
باغِ بہشت پرتوِ حسنِ رسول ہے


کاسے میں مجھ گدا کے یہ سامانِ نعت ہے
گلزارِ ہست و بود میں ریحانِ نعت ہے




تغسیلِ نور کر کے اترتے ہیں یاں خیال
لوح و قلم نے کاڑھا ہے توصیف کا لباس


یہ مہبطِ جمال ہے ، میدانِ نعت ہے
یہ کائنات وسعتِ دامانِ نعت ہے




یاں قدرتِ سخن نہیں ، توفیقِ نعت مانگ
آپ اسوہء رسول سے جڑ کر تو دیکھیے
'' ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


غالب ہیں ہاتھ باندھے ، یہ ایوانِ نعت ہے


میلاد کی گھڑی ہے غلاموں کی عید ہے


ہر لمحہ ہوں درود سپاس انکی چاہ میں
یعنی کہ ہر سو موسمِ بارانِ نعت ہے
ہر لمحہ ان کے لطف سے قربانِ نعت ہے




کہنے کی بات ہے نہ بتانے کا حوصلہ
اُن پر اور اُن کی آل پہ پڑھتے رہو درود


جتنا کرم فقیر پہ دورانِ نعت ہے
ایماں سے کہہ رہا ہوں یہی جانِ نعت ہے




ماخوذ ہو حیات جو سیرت سے شاہ کی
ہریالیاں ہیں گنبدِ خضرا سے چار سو
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


یہ رونقیں یہ تازگی فیضانِ نعت ہے


حسّان و رومی ، جامی کا صدقہ ہے یہ عدیم


توفیقِ نعت جس کو ہے حسّانِ نعت ہے
اللہ بھیجتا ہے حضور آپ پر درود


===== [[عبد الباسط]]، [[ ٹوبہ ٹیک سنگھ]]، [[پاکستان]]  =====
کیا مرتبہ ہے آپ کا کیا شانِ نعت ہے
یہ کائنات سر بسر سامانِ نعت ہے


وہ خوش نصیب ہےجسے عرفانِ نعت ہے


چنتی ہیں شہرِ طیبہ سے منسوب بلبلیں


اللہ کا ہے فرمان کانَ خلقہ القرآن
أرض و سما پہ پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے


یعنی قرآنِ پاک بھی اعلانِ نعت ہے


سانسوں میں نغمگی ہے نگاہوں میں تازگی


میرے لبوں پہ رہتا ہے ذکرِ حضورِ پاک
گویا دلوں میں بارشِ بارانِ نعت ہے


مجھ پر یہ احسان بہ فیضانِ نعت ہے


نام و نسب کا زعم نہ مشقِ سجود ہے


آقا ہیں میرے باعثِ تخلیقِ کائنات
امیدیء نجات میں احسانِ نعت ہے


یہ کائنات سمجھیے دیوانِ نعت ہے


جھکنا نہیں پڑا مجھے رب کے سوا کہیں


ہراک نفس پہ قرض ہے مدح حضور کی
سجاد اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے


ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے
===== [[سرور حسین نقشبندی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


===== [[عبد الحلیم]]، [[ گونڈہ]]، [[بھارت]]  =====
فکر و نظر شعور میں فیضانِ نعت ہے


جو کچھ ہے میرے پاس وہ احسانِ نعت ہے
کیا کیا گدائے نعت پہ احسان نعت ہے


اک ایک سانس حجرہء ایوان نعت ہے


اللٰہ کے رسول کا احسان دیکھئے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
کیسی ہری بھری ہے تخیل کی سرزمیں


صد شکر کشت فکر پر باران نعت ہے


تسکین قلب کے لئے نعت رسول بس


میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے
اصناف شعر ساری اسی کی ہیں خوشہ چیں


جو بھی سخن کی صنف ہے دربان نعت ہے


ابر کرم حضور کا برسا ہے ہر جگہ


اس واسطے جہاں یہ گلستانِ نعت ہے
تفہیم اس کو اسوہء کامل کی جانئے


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


آنکھوں میں اشک دل میں وِلا لب پہ ان کا نام


ہمراہ میرے بس یہی سامانِ نعت ہے
خوشبو بنائے کیوں نہ مرے گرد دائرہ


موج صباء کی ہمدمی دوران نعت ہے


جنبش قلم کو خوب ادب سے دیا کرو


لازم ہے احتیاط یہ میدانِ نعت ہے
اس کو ملے گا اجر بھلے شعر ہوں نہ ہوں


وہ خوش نصیب ہے جسے ارمان نعت ہے


عبدالحلیم جیسے بھی لکھتے ہیں ان کی نعت


کتنا وسیع دیکھئے دامانِ نعت ہے
قرآن سے حدیث سے تم کو ہے مس اگر


===== [[عبدالرحیم ارحم]]، [[حیدر آباد]]، [[سندھ]]، [[پاکستان]] =====
کافی برائے نعت یہ سامان نعت ہے
ظاہر کلام رب سے جو فرمانِ نعت ہے  


تاحشروا یونہی در امکانِ نعت ہے


یاں پر اک ایک لفظ رکھو ناپ تول کر


شان رسول پاکﷺ میں قرآں کاحرف حرف
اے شوق! احتیاط یہ میزان نعت ہے


لولوٸے نعت ہے کوٸی مر جانِ نعت ہے


سرور یقیں نہ کیسے ہو اپنی نجات کا


ہرآن ہو جوپیش نظراسوہٕ رسول
فرد عمل میں جب مرے دیوان نعت ہے


ہرشعبہٕ حیات میں امکانِ نعت ہے  
===== [[سکندر عزیز خان]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے  


بخشش کے واسطے یہی سامان نعت ہے


مرقد میں میرے آکے فرشتے خموش تھے


دیکھا جو میے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے  
اللہ مرا بھی آپ کی مدحت میں محو ہے  


قرآن بھی تو اصل میں دیوان نعت ہے


عشق نبیﷺ ہی پیش خدا سرخ رو کرے


عشق نبی ﷺ ہی تاررگ جان نعت ہے
اللہ کرے ھو اس کو عطا رفعت خیال


جس شخص کے بھی دل میں ارمان نعت ہے


دل میں مرے جو روشنی یاد نبیﷺ کی ہے


اللہ کا کرم ہے یہ احسان نعت ہے  
یوں لگ رہا ہے  دل میں ثنا کا ورود ہے  


میلاد کے سرور میں میلان نعت ہے


عزم سفر ہے جانب طیبہ مرا ، کہ واں


وجود گام گام پہ سامان نعت ہے
لکھے خلق کے ساتھ خالق بھی انکی نعت


===== [[عبد الغنی تائب]]، [[حافظ آباد]]، [[پاکستان]] =====
حق بھی یہی ہے  اور یہی شان نعت ہے  
علم و ادب میں منفرد یہ شان نعت ہے


مدح و ثنائے مصطفی' ایوان نعت ہے


آقا کے سامنے یہ کہوں گا میں قبر میں


پھیلی ہوئی ہے چار سو خوشبوئے جاں فزا
مقبول کیجئے مرا دامان نعت ہے  


ارض ہنر پہ کھل پڑا بستان نعت ہے


ہر روز بیٹھ کے میں لکھوں اسمیں ایک نعت


وارفتگیء شوق ہے ، بیدار بخت ہے
میرا بھی گھر عزیز یوں ایوان نعت ہے  


یہ جان لو کہ صدقہ و فیضان نعت ہے
===== [[سلمان راٹھور مانی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
محوِ جمالِ خاص سخندانِ نعت ہے


لب رحمتوں سے تر ہیں یہ فیضانِ نعت ہے


ہے میرے پاس جو زر عشق رسول پاک


اک فیض بار قطرہء باران نعت ہے
زلف و رخِ حسین بھی ہے خال و خد بھی ہیں


ان کی ہر اک ادا میں ہی امکانِ نعت ہے


تسکین قلب و جان ہے یاد شہ رسل


ذکر حبیب آن سخن، جان نعت ہے
دشمن بھی دیکھتا تو یہ کہتا تھا برملا


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


تائید جبرائیل بھی مل جائے گی اسے


کب سے دیار قلب میں ارمان نعت ہے
ہاتھوں میں کنکری کی گواہی بتا رہی


سارا جہاں مجسمِ عرفانِ نعت ہے


مقصود ہے جو چار سو ہو امن و آشتی


" ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
آقا کی بزمِ خاص کا ہے رنگِ مشترک


آنکھوں میں چار یار کے میلانِ نعت ہے
۔
مانی ہوئی ہے رومی و جامی کی نعتِ پاک


فتح و ظفر کا رستہ ، ہے امید کی کرن
جیسے کسی زبان پہ قرآنِ نعت ہے
سلمان مانی
اسلام آباد


بخشش کا آسرا یہی سامان نعت ہے
===== [[سلمان رسول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]]=====
ہاتھوں میں جس کسی کے قلمدان نعت ہے


عالم اسی کے واسطے میدان نعت ہے


اخلاص کی مہک ہو ، موءدت کی چاندنی


لائو وہ حرف و صوت جو شایان نعت ہے
محدود اس کو شعروسخن تک نہ کیجیے


ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے


رزق سخن ہے نکہت طیبہ سے مشکبو


توفیق شعر گوئی بھی احسان نعت ہے
جو شخص آشنائے تقاضائے عشق ہو


اس کا فقط وجود ہی برھان نعت ہے


تائب یہ فخر اوج سعادت سے کم نہیں


دست سخن شناس میں دامان نعت ہے
ان کے لیے بنائی گئی ہے یہ کائنات


===== [[عبدالقادر ہمدم قادری]]، [[گونڈہ]]، [[بھارت ]] =====
سمجھو تو گام گام پہ سامان نعت ہے


مکمل نام : انصاری عبدالقادر ہمدم قادری


رحمت ہے اُس پہ جو بھی قلمدانِ نعت ہے
سیرت سے کیوں حضور کی ہم ہو رہے ہیں دور


صد  شُکر  ہے  خدا  کا  یہ احسانِ  نعت ہے
جبکہ بہت عروج پہ رجحان نعت ہے


===== [[سلمان گیلانی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : سید سلمان گیلانی


سرکار ﷺ کا کرم ہے فقط اور کچھ نہیں
حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے


قلب و جگر میں آج جو میلانِ نعت ہے
میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے




سرکار ! یہ یقین ہے صدقے میں آپ کے
مدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے


محفوظ میرے قلب میں ارمانِ نعت ہے
فیضانِ نعت حلقہءِ یارانِ نعت ہے




دل میں بسی ہے الفتِ سرکارِ  ہر جہاں
دُوراَز قیاس وُسعتِ مَیدانِ نعت ہے


قلب و جگر  پہ  دیکھئے بارانِ  نعت ہے
یہ مُلکِ نعت, مُلک سلیمانِ نعت ہے




مجھ کو شعور کب ہے کہ نعتِ نبی لکھوں
حَسّان ہے صحابئ سُلطان بَحر و بَر


شکرِ خدا کہ آج یہ وجدانِ نعت ہے
ہر نعت اُس کی اِس لیئے سلطانِ نعت ہے




جرم و خطا کا‌ بوجھ مرے سر پہ ہے مگر
عشق رسول دل میں ہے آنکھوں میں اشک غم


راہِ  نجات کے  لئے سامانِ نعت ہے
کافی مِرے لیئے یہی سامانِ نعت ہے




اعلیٰ ہے کتنی دیکھئے شانِ رسولِ پاک
ہر شعبہِ حیات پہ میں نے کِیا ہے غَور


" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"




ہمدمؔ درودِ پاک پڑھو جھوم جھوم کر
بس میں نہیں کسی کے اسے کر سکے عبور


شایانِ نعت ہے یہی شایانِ نعت ہے
اتنا وسیع دوستو میدانِ نعت ہے


===== [[عبد اللہ خان آبرو علیمی]]، [[بلرام پور]]، [[بھارت]] =====


پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]
مائل بہ نعت رہتی ہے طبعِ رواں مری


ہر فرد میرے گھر کا حُدی خوانِ نعت ہے


شکرِ خدا کہ روح پریشانِ نعت ہے


سرکار ! لطفِ خاص کہ عنوانِ نعت ہے
ہر نعت گو ہے طائر سدرہ کا ہم سفر


ہر نعت خوان بلبل بستانِ نعت ہے


سرکار ! مجھ گنوار کی لاج آپ کے سپرد


کچھ زادِ آخرت ہے نہ سامانِ نعت ہے
روزِاَلست باندھا تھاجو اپنے رب سےعہد


اُس عہد سے بندھا مِرا پیمانِ نعت ہے


سرکار ! آپ ہی کی عطا نعت اگائے گی


کشتِ سخن میں آپ سے امکانِ نعت ہے
اللہ کرے کہ طاری رہے یونہی عمر بھر


یہ وَجد و کَیف مُجھ پہ جو دَورانِ نعت ہے


سرکار ! لطف آپ کا شامل رہے تو پھر


,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
سلمان, شعر نعت کے, ہیں مِثلِ گُل تمام


دِیوانِ نعت اصل میں گُلدانِ نعت ہے


ہر ایک پھول رنگت و نکہت کا شاہ کار
===== [[سلیم شہزاد]]، [[ فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====


قرآن کا, جو ایک گلستانِ نعت ہے
بشکریہ : [[اویس مدنی]]


صلِ علیٰ سے لہکا گلستانِ نعت ہے


امداد ان کی شانِ کریمی کی واہ واہ
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


لب ہائے خوش نصیب پہ گردانِ نعت ہے


اللہ کی پیروی تو ہے لازم ہر ایک پر


ہمراہ ان کا عشق اگر ہے تو ٹھیک ہے
جاری خدا نے خود کیا فرمانِ نعت ہے


خطرے ہیں بے شمار,کہ میدانِ نعت ہے !!


تکریم جو نصیب ہے مجھ کو جہان میں


مجھ میں کوئی کمال نہیں ہے اے آبروؔ!
توقیر سب یہ میری تو احسانِ نعت ہے


اک بے ہنر پہ بارشِ فیضانِ نعت ہے


===== [[عبید بخاری]]، [[بہاولپور]]، [[پاکستان]] =====
نعتِ نبی کو رکھتا ہوں میں جاں سے بھی عزیز
خوش قسمتی سے مل گیا وجدانِ نعت ہے


اب میں ہوں اور سَیرِ خیابانِ نعت ہے
یہ زندگی تو اب مری پہچانِ نعت ہے




دل میں وفورِ عشقِ رسولِ کریم ہو
فرمایا حق نے آپ کے صدقے اتار کر


دشتِ سخن میں بس یہی سامانِ نعت ہے
تو مقصدِ حیات ہے تو شانِ نعت ہے




اسمِ گرامی آپ کا مشتق ہےحمد سے
شاہد میں ان کی نعت سے مسرور ہو گیا


یعنی کہ نامِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے
صد شکر میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


===== [[سعید زبیر]]، [[ڈیرہ غازی خان]]، [[پاکستان]] =====
پیشِ نظر حقیر کے عنوانِ نعت ہے


ہےنعت اپنی ذات میں یہ مصرعِ کمال
تھرا رہے ہیں لفظ کہ میدانِ نعت ہے


”ہرشعبہ۶حیات میں امکانِ نعت ہے“


دل ہو وفورِ عشقِ شہِ دین سے غنی


حاشا،کہ شانِ مصطفےمحتاجِ نعت ہو
پھر کہئے نعتِ پاک جو ارمانِ نعت ہے


ہاں ذکرِمصطفےسے مگرشانِ نعت ہے


دیکھو جہان والو میں کس درجہ ہوں غنی


خوش دست وخوش قلم ہےوہ خوش فکروخوش کلام
میرے لبوں پہ نغمۂ سلطانِ نعت ہے


جوبھی جہاں پہ صاحبِ دیوانِ نعت ہے


پہنچیں گے قبر میں انہی جذبات سے کہ ہاں


ہو جاؤں وقفِ مدح تشکّر میں اے عبید
پیشِ نکیر ہم کو تو ایقانِ نعت ہے


قدرت نے مجھ کو بخشا قلم دانِ نعت ہے


===== [[عتیق الرحمان صفی]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
آتی ہے چار دانگ یہی بانگِ لم یزل
ہر فکر ہر خیال میں امکانِ نعت ہے


مدحِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے
ہر سُو جہانِ دہر میں اعلانِ نعت ہے




مجھ کو سخن عطا ہوا ہے برکتوں کے ساتھ
گر ہو عبور سیرتِ سرکار پر سعید


یعنی کرم ہے رب کا جو فیضانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


===== [[سعید شارق]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
یاقوتِ نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے


میں نعت اُن کے عشق میں لکھتا ہوں اور بس
آنکھوں کے پانیوں میں نہاں کانِ نعت ہے


دعویٰ مرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے


مکّہ و طیبہ مصرعِہ اولیٰ و ثانی ہیں


مجھ ایسے کم سخن کو بھی عزت ملی ہے جو
یہ کائنات اصل میں دیوانِ نعت ہے


رب کی عطا کے بعد یہ احسانِ نعت ہے


ڈھونڈا لغاتِ چشم سے اک تین حرفی لفظ


اک ایک حرف چومئے لکھنے سے پیشتر
اور خیر سے یہ اشک ہی عنوانِ نعت ہے


صد احترام کیجیے میدانِ نعت ہے


رکھتا ہوں اس لیے بھی قدم پُھونک پُھونک کر


سیرت کے پھول نعت میں چن چن کے ڈالیے
اب میرے دوش پر سرو سامانِ نعت ہے


کتنا حسین دیکھئے سامانِ نعت ہے


آتا نہیں سمجھ کہ چکھوں کون کون سا


تعریف رب خود آپ کی کرتا ہے اس لیے
صد رنگ ذائقوں سے بھرا خوانِ نعت ہے


ہستی مرے حضور کی شایانِ نعت ہے


سینے میں چھا رہے ہیں کئی سبز سبز ابر


انسان و جن، ملائکہ مدحت سرا ہیں سب
مطلع سے لگ رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے


اس کائناتِ نعت میں بارانِ نعت ہے


مضموں کی دیکھ بھال میں  کوئی کسر نہ ہو


اردو کے بھاگ جاگ گئے آپ کے طفیل
اے لفظ! احتیاط! یہ مہمانِ نعت ہے


ہر لفظ خوش ہے یوں کہ وہ مہمانِ نعت ہے


دو رویہ کیاریاں ہیں مرے دل کے ساتھ ساتھ


جب تک ہے سانس آپ کی کرتا رہوں گا مدح
یہ باغِ حمد ہے ، یہ گلستانِ نعت ہے


میرا یہ اپنے آپ سے پیمانِ نعت ہے
===== [[سعود عثمانی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


گر ایک شعر بھی مرا شایانِ نعت ہے


اشعار اُن کی شان میں کہتے ہوئے صفیؔ
پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے


لب پر درودِ پاک ہی دورانِ نعت ہے


===== [[عدنان محسن]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
سچ یہ ہےساری زیست ہی دیوان نعت ہے


آنکھوں میں اشک، سینے میں ارمانِ نعت ہے
ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے  


مجھ بے نوا کے پاس یہ سامانِ نعت ہے


تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے


ہر راہ ہے مدینے کی جانب رواں دواں
جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر


عمران نے لکھی تھی جو خیرالوریٰ کی نعت
ثابت تو کر کہ ہاں مجھے عرفانِ نعت ہے


وہ مرتبے میں سورۂ رحمٰنِ نعت ہے


قصے کہانیوں کو کہیں دور جا کے پھینک


نوحہ ہو مرثیہ ہو مناقب ہوں یا سلام
سیرت کو نظم کر کہ یہی جانِ نعت ہے


حمدِ خدا کا فیض ہے،فیضانِ نعت ہے


آداب ہیں سکوت کے بھی' گفتگو کے بھی


اس دل پہ جاری رہتا ہے الہام کا ورود
دونوں طرح بتا کہ سخن دان نعت ہے  


یہ عام دل نہیں کہ یہ جز دانِ نعت ہے


گنتی کے چند لوگ ہیں' گنتی کے خوش نصیب


اعمال کی ترازو ہے لوگوں کے واسطے
حاصل جنہیں طلائی قلم دانِ نعت ہے  


اور شاعروں کے باب میں میزانِ نعت ہے


مدح نبی تو خود بھی بڑا فخر ہے مگر


اس وقت ہے جدا مری سانسوں کا مرتبہ
مصرعہ قبول ہو تو یہ احسانِ نعت ہے  


تسبیح یہ وجود کی دورانِ نعت ہے


سب جانثاروں مدح گزاروں کے درمیاں


بادل برس رہے ہیں محمد کے شہر پر
جگمگ ہے ایک شخص جو حسّانِ نعت ہے


بارش نہیں جناب یہ بارانِ نعت ہے


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود


عاصی ہوں نعت گوئی کا یارا نہیں مجھے
اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے


میرا سخن تمام ثنا خوانِ نعت ہے


توفیق نعت دی ہے جو تو نے سعود کو


یثرب میں نینوا کا مسافر ہے خیمہ زن
یارب وہ اجر بھی کہ جو شایان ِ نعت ہے


اک شعر جو سلام کا مہمانِ نعت ہے


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود
اس وقت میری صدق بیانی پہ شک نہ کر


اس وقت میرے ہاتھ میں قرآنِ نعت ہے
اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے


===== [[عرفان نعمانی]]، [[راجھستان]]، [[انڈیا]]=====
===== [[سمعیہ ناز]]، [[لیڈز]]، [[برطانیہ]] =====
اے دل تجھے نصیب جو باران نعت ہے
مخصوص یہ عنایت و احسانِ نعت ہے


مخصوص تجھ پہ یہ بھی تو فیضان نعت ہے
حاصل ہوا جو قلب کو وجدانِ نعت ہے




رضواں کرے طواف ملک جس کی آرزو
عشقِ نبی کے نور سے روشن ہے جس کا دل


صد رشک خلد تو وہ بیابان نعت ہے
پھر اس پہ صبح و شام ہی فیضانِ نعت ہے




تجھ کو خدا رکھے ہمیں رکھے ترا اسیر
رنج و الم قریب بھی آتے نہیں مرے


ہم رندوں کی دعا یہ خمستان نعت ہے
صد شکر جب سے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے  




گلہائے وصف شہ سے مزین ہے میرا دل
سیرت سے آپ کی ہو درخشاں حیات گر


میں سوچتا ہوں دل ہے کہ گلدان نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"




صبر و قرار پنہاں ہے وصفِ حضور میں
چنتی رہی میں گل تری مدحت کے باغ سے


تسکینِ روح و دل تہہ دامانِ نعت ہے
خوشبو سے بھر گیا مرا دیوانِ نعت ہے




لفظوں کی کائنات ہے تنگ جس کے سامنے
وردِ زباں درود ہو آنکھیں ہوں نم تری


وہ نعت کی زمیں ہے وہ میدان نعت ہے
پھر ہو رقم قلم سے جو شایانِ نعت ہے




مدح نبی کے فیض سے صد شکر دل مرا
جب سے جمالِ گنبدِ خضریٰ ہے سامنے


فارس ہے روم شام ہے ایران نعت ہے
ہر لمحہ میرے قلب پہ باران نعت ہے




دل جس پہ وحی نعت اترتی ہے اس کے تو
مدحت کا اذن یوں ہی سمیعہ نہیں ملا


ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے
عشقِ رسول ہے تو یہ عرفانِ نعت ہے


===== [[سید حسن]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
کب یہ کہا زباں مری شایانِ نعت ہے


ہر لمحہ یہ خیال رہے تجھ کو اے قلم
مجھ پرکرم ہے آپ کا احسانِ نعت ہے


عشق و ادب خلوص وفا جان نعت ہے


دادا کے بعد حضرتِ عمران ہیں وجہ


حسنین فاطمہ علی عثماں عمر عتیق
باقی ابھی تلک جو دبستانِ نعت ہے


ہر ایک شاخ نخل گلستان نعت ہے




اشعار نعت ہوتے ہیں افطار و سحری میں
روشن فلک پہ چاند ستارے نہیں  کوئی


ہم روزہ داروں کے لئے رمضان نعت ہے
دراصل پھیلا یہ تو چراغانِ نعت ہے




مولیٰ شعور نعت دے کہ میں بھی کہہ سکوں
دامن میں میرے کچھ نہیں بخشش کے واسطے


عرفان کو بھی حاصلِ عرفان نعت ہے
اک ہے دُرودِ پاک یا فیضانِ نعت ہے


===== [[عرفی ہاشمی]]، [[ آسٹریلیا]] =====
مکمل نام : سید عرفی ہاشمی


بتلاؤں تجھ کو کیا حد عرفان نعت ہے
ظاہر ہے یہ قرآن کے ہر ایک حرف سے


میرا خدا بھی قارئ قرآن نعت ہے
ہر ایک حرف اِسکا گُلستانِ نعت ہے




دین سخن میں ایک ہی مسلک رہا مرا


جو شعر بھی کہا ہے مسلمان نعت ہے
جی کر دکھایا آلِ محمد نے با خُدا


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


عشق نبی سے لکھی گئیں ہیں نبوتیں


پیغمبری دراصل قلمدان نعت ہے
بُوذر اویس قرنی و سلمانِ فارسی


ہر ایک اپنے آپ میں دیوانِ نعت ہے


موزوں وہ کررہے ہیں مرا مصرعہ نجات


اب تو مرا نصیب بھی دیوان نعت ہے


جنت سے بھی پرے  کوئی جنت ہے، ہوں وہاں


سین  بلال اس لئے افضل ہے شین سے
محسوس مجھکو ہوتا یوں دورانِ نعت ہے


لکنت زبان عشق کی جزدان نعت ہے


اشکوں سے حسن جب کریں الفاظ سب وضو


موقوف جسم و جاں ہے کہاں مدح مصطفے
پھر بن سکیں وہ نعت یہی شانِ نعت ہے


نیزے پہ جو بلند ہے قرآن نعت ہے
===== [[سیف اللہ خالد]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
قلب و دماغ پر مری بارانِ نعت ہے


صد شکر آج مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے


کچھ اسلیے بھی تجھ سے تعلق نہیں رہا


اے جہل نفس جاں مجھے عرفان نعت ہے
یہ میری بے بساطی کہ اب تک نہ لکھ سکا


دل میں تو مدتوں سے یہ ارمانِ نعت ہے


میرے گنہ اِدھر،اُدھر اللہ کا کرم


اور درمیاں میں عرصہء امکان نعت ہے
قول و عمل میں جس کے ہوسنت کی پیروی


وہ شخص ہی حقیقی سخندانِ نعت ہے


آوارگی نہیں یہاں ہجرت کا ظرف لا


دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے
پڑھ لے درود خامہ کو چھونے سے پیشتر


طاری اگر جمود ہے بحرانِ نعت ہے


کاغذ پہ جو لکھا ہے اسے نعت مت سمجھ


پلکوں پہ جو نمی ہے وہی جان نعت ہے
سچا ہے تیرے دل میں اگر عشقِ مصطفیٰ


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


جسمیں خدا نے رکھے ہیں خود آیتوں کے پھول


ایسا بھی ایک دہر میں گلدان نعت ہے
دل ذکر سے اجال تو اشکوں سے کر وضو


===== [[عروس فاروقی]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
لکھنی ہے نعت گر تو یہ شایانِ نعت ہے
مکمل نام : ابو الکمال عروس فاروقی


عشقِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


ایمان ہے یہی، یہی وجدانِ نعت ہے
خالد زبان وقف ہے توصیف کیلئے


میرا یہ فن یہ شاعری قربانِ نعت ہے


آقا! مجھے بھی حرفِ عقیدت عطا کریں
===== [[شاد مردانوی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
تخلیقِ آب و خاک ہی اعلانِ نعت ہے


آقا! مجھے بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے
” ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے




’’لایمکن الثناء کما کان حقہ‘‘
اشکوں سے پہلے کیجیے تطہیرِ نطق و حرف


کہہ سکتا ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے
آدابِ نعت ہیں یہی عرفانِ نعت ہے




محبوبِ کائنات کی نعتوں کی گونج ہے
پھر سے ہمیں زیارتِ طیبہ ہوئی نصیب


میدانِ حشر ہے کہ یہ ایوانِ نعت ہے
ہم پر عطا ہے نعت کی ، فیضانِ نعت ہے




لے آئے تم ورق بھی، قلم بھی، دوات بھی
پروانہء بہشت کا مجھ سے نہ کر سوال


لیکن بتاؤ کیا یہی سامانِ نعت ہے
رضوان ! میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے




اپنا ہر اک مہینہ ہے اُن کی ثنا کے نام
یادِ مدینہ ،اشک، شفاعت کی آرزو


شعبانِ نعت ہے کوئی رمضانِ نعت ہے
ہم بے کسوں کا بس یہی سامانِ نعت ہے




محدود کیجیے نہ زبان و بیان تک
لگتا ہے سب گناہ مرے دھلنے والے ہیں


’’ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘
شعر و سخن پہ حاوی جو رجحانِ نعت ہے




نور و سرور پھوٹتا ہے لفظ لفظ سے
یاسین و طاہا کی ہمیں لولاک کی قسم


مصرع ہے یا قطارِ چراغانِ نعت ہے
عالم کا ذرہ ذرہ ہی حیرانِ نعت ہے




تھا آشنائے طرزِ تکلُّم عروسؔ کب
قدموں میں شہ کے بیٹھ کے جنت دکھائی دے


حاصل ہے جو کمال بفیضانِ نعت ہے
آ پاس آکے بیٹھ ، خیابانِ نعت ہے


===== [[عظیم راہی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
جب مقصدِ حیات ہی پیمانِ نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
شاد اس ورق کو چومیے ، دل سے لگائیے


جو جلوہ گاہِ مطلعِ جانانِ نعت ہے


جاری ازل سے چشمۂ فیضانِ نعت ہے
===== [[شارق رضا خالدی]]، سید، [[شاہجہاں پور]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : سید شارق رضا خالدی شاہجہاں پوری


فردوس ایک کنجِ گلستانِ نعت ہے
کس طرح ہم بیاں کریں کیا شان نعت ہے


جب خود کلامِ پاک ہی برہان نعت ہے


وہ گام زن رہے گا رہِ مستقیم پر


ہاتھوں میں جس کے گوشۂ دامانِ نعت ہے
ملنے لگی ہے عزت و توقیر بے حساب


فضل خدا سے ہم پہ یہ احسان نعت ہے


صورت ہے ان کی آئنۂ حسنِ کردگار


اور سیرتِ مطہرہ قرآنِ نعت ہے
دیکھے تو  کوئی عشق شہ دیں میں ڈوب کر


"ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے"


ذکرِ حبیب ذکرِ محب سے الگ نہیں


اللہ کی طرف سے ہی فرمانِ نعت ہے
جو پانچ وقت ہوتی ہے مسجد میں وہ اذان


حمد خدائے پاک ہے اعلان نعت ہے


جو شان بھی میں لکھّوں وہ اس بے مثال کے


شایانِ شاں نہیں ہے،یہی شانِ نعت ہے
تنگی نہیں ہے اس میں ذرا اےسخن ورو!


کُٹیا نہیں غزل کی، یہ میدان نعت ہے


گھبراتے کیوں ہو؟ دیکھو تو میزان کی طرف


راہی تمہارے پلڑے میں دیوانِ نعت ہے
زاہد! وہی جو ذات ہے مقصود کائنات


===== [[علی احمد نظامی]],[[سدھارتھ نگر]],[[بھارت]] =====
توصیف کر اسی کی وہی جان نعت ہے


پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]


یاد مدینہ! شکریہ! تیرے طفیل اب


صدقہ نبی کا مل گیا,فیضانِ نعت ہے
لمحہ بہ لمحہ فکر میں عنوان نعت ہے


مشکل تو ہے بہت مگر ارمانِ نعت ہے


آجائے جس کے پڑھنے سے ایمان میں نکھار


فضلِ خدائے پاک سے یہ دیکھ لیجیے
ایسا بریلی والے کا دیوان نعت ہے


میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے


ممکن نہیں کہ  کوئی اسے زیر کر سکے


میری کہاں مجال کہ نعتِ نبی لکھوں
شارق رضا پہ ہر گھڑی فیضان نعت ہے


یہ صدقہِ رسول ہے احسانِ نعت ہے
===== [[شاہد اشرف]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
رونق لگی ہوئی ہے ، یہ احسانِ نعت ہے


ہر شخص اِس نشست میں مہمانِ نعت ہے


ہوں حضرتِ بلال یا سلمان فارسی


سب کی زباں پہ نغمہِ ذیشانِ نعت ہے
لکھتے ہوئے سکون کی حالت نہ پوچھیے


اِک خاص کیفیت مری دورانِ نعت ہے


اہلِ غزل سے کہہ دو کہ خاموش ہی رہیں


سب سے بلند شانِ غلامان نعت ہے
کہیے ہر ایک صنفِ سخن دھیان یہ رہے


روزِ جزا نجات کو دیوان نعت ہے ؟


کیا لطف ہو کہیں جو نکیرین قبر میں
اک خاص ضابطے کا تقاضا ہے دوستو!


تیرا نجات نامہ یہ دیوان نعت ہے
ہر درجہ احتیاط یہ میدانِ نعت ہے




شامل نظامی نصرتِ سرکار ہو اگر
دنیا مجھے نہ مانگ میں تیرا نہیں رہا


,,ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
اب مقصدِ حیات ، مری جانِ نعت ہے


===== [[علی ایاز]]، [[کبیر والہ]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد علی ایاز


مجھ پر ایاز اس طرح احسانِ نعت ہے
اُن کی عطا سے کھلتے ہیں شاہد ثنا کے پھول


میری تو ساری زندگی عنوانِ نعت ہے
ہر روز رو بہ حُسن گلستانِ نعت ہے


===== [[شاہد الرحمن]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد شاہد الرحمن


ہر سمت سے ہے آ رہی خوشبو کمال کی
بخشا مجھے خدا نے قلمدانِ نعت ہے


میرا خیال ہے کہ اب امکانِ نعت ہے
میرا بھی نام شاملِ ایوانِ نعت ہے




عشقِ رسول کے سوا ممکن نہیں کبھی
سرپٹ نہ دوڑ ، دیکھ ، خبردار ہو کے چل


آنا سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے
اے اشہبِ خیال ! یہ میدانِ نعت ہے




اللہ کا کرم ہے, نگاہِ کرم میں ہوں
ہرگز نہیں تھا شعر کے ابجد سے باخبر


ترتیب دے رہا جو میں دیوانِ نعت ہے
میرا سخن تمام ہی فیضانِ نعت ہے




الفاظ ہیں اتر رہے تسنیم سے دھلے
چمکا تصورات میں شہرِ رسولِ پاک


آمد کا سلسلہ تو یہ شایانِ نعت ہے
تحت الشعور میں مرے امکانِ نعت ہے




جب آپ کائنات کے رحمت نبی ہیں, سو
فریاد رس ہے فکر ، خرد التجا کناں


"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
لاؤں کہاں سے لفظ جو شایانِ نعت ہے




نورو تجلیات کی بارش سی ہو رہی
حسنِ و جمالِ شاہ بھی ہے جزوِ لازمی


مجھ پر کرم خدا کا یہ دورانِ نعت ہے
پر اسوۂ رسولِ اُمم جانِ نعت ہے




کہہ دیجیے حضور کہ تجھ کو امان ہے
تقویٰ ، خلوص ، عجز ، تواضع و راستی


سمجھوں گا میں ایاز یہ فیضانِ نعت ہے
ہر اک ادائے شاہ بنی شانِ نعت ہے


=====  [[عقیل عباس جعفری ]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]]  =====


روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے
مجھ پر عطائے حضرتِ حسانؓ ہے جبھی


" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
حاصل مجھے بھی نسبتِ خاصانِ نعت ہے




میری رگوں میں بھی ابوطالب کا ہے لہو
اس کی صدا ورا ہے حدود و قیود سے


میری ہر ایک سانس پہ فیضانِ نعت ہے
شاہدؔ جو ہم صفیرِ اسیرانِ نعت ہے


===== [[شائستہ کنول عالی]]، [[وزیر آباد]]، [[پاکستان]] =====
کیا عشقِ صادقین پہ فیضان نعت ہے


جبریل ہوں کہ ہم سے فقیرانِ بے نوا
لولو ہیں اشک ہونٹوں پہ مرجان نعت ہے


سایہ فگن ہر ایک پہ دامانِ نعت ہے


عشّاقِ حق کے دل پہ ہے اشعار کا نزول


اے کاش اس فقیر کو بھی ہو کبھی عطا
باران نعت ہے کہ یہ رمضان نعت ہے


اک حرف جس کو سب کہیں "شایانِ نعت ہے"


و اللّه ! یہ درود ہی کاشان نعت ہے


جو کربلا میں خون سے لکھا حسین نے
خاصائے عاشقان ہی ایقان نعت ہے


ہر دل میں جاگزیں وہی دیوانِ نعت ہے


ہے نعت پاک نغمہ توحید کی اساس


منکر نکیر لوٹ گئے، کتبہ دیکھ کر
بد بخت و بد نما ہے جو انجان نعت ہے


لکھا تھا " یہ گدائے خیابانِ نعت ہے"


عرفانِ نعت جس کو بھی حاصل ہوا عقیل
زیبا ہے کس کو منصب محبوب کبریا


عمرانِ نعت ہے وہی حسانِ نعت ہے
سلطان دو جہان ہی سلطان نعت ہے  


===== [[علی شاہد]] ، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====


میرا نہ کوٸی لفظ بھی شایان نعت ہے
خنجر ہے نعت مشرک بے دین کے لئے


قرآن جس کی شان میں دیوان نعت ہے
حلقومِ کفر کیلئے پیکان نعت ہے




مل کر درود بھیجو محمد ﷺ کی شان پر
حمد خدا کے بعد کرو ذکر مصطفیٰ


ربِ کریم کا بڑا احسان نعت ہے
ذکر علی تو شمع شبستان نعت ہے




صبحِ طلوع نے مجھے آکر یہی کہا
مجنون ہوں محبت خیر الوری میں یوں


ہر شعبہ ٕ حیات میں امکان نعت ہے
وجدان روح و قلب کو عرفان نعت ہے




اب ڈر نہیں ہے کوٸی بھی محشر کےروز کا
ہر شعبہ حیات میں حمد خدا ملے


محشر کو بھی شفاعتِ سامان نعت ہے
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے "




کر دو منادی میرے محمدﷺ کے نام کی
عالی سلام پیش کرو اہل بیت کو


بخشش کا ہے وسیلہ یہ اعلان نعت ہے
میرے خیال میں یہی شایان نعت ہے


===== [[شاہین فصیح ربانی]]، [[دینا]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
بزمِ تصورات ہے، وجدانِ نعت ہے


ہر لفظ کی زباں پہ ہے سرکار التجا
رقص تجلیات ز فیضانِ نعت ہے


ہر لفظ کو فقط یہی ارمان نعت ہے


فکر و خیال عشق ہی شایانِ نعت ہے


پڑھتا ہوں ہر گھڑی میں درود و سلام ہی
الفاظ میں، حروف میں امکانِ نعت ہے


شاہد اب اثاثے میں مجھے دان نعت ہے


کیا گرمیء حیات ہے کیا سختیء ممات


=====  [[علی شیدا]]، [[کشمیر]]، [[انڈیا]] =====
حاصل ہمیں جہان میں بردانِ نعت ہے
قُرآن پڑھ کے دیکھ ' دبستانِ نعت ہے


خوشبوئے حرف و لفظ میں اعلانِ نعت ہے


ماہ و نجوم رشک سے تکتے ہیں اس طرف


مضمونِ ہست و بود ہے کُن کی گرفت میں
روشن کچھ ایسے شمعِ شبستانِ نعت ہے


مضمونِ کُن فکان ' وہ عنوانِ نعت ہے


  کوئی غزل، قصیدہ، رباعی کہ ماہیا


دھڑکن' نفس' نگاہ ' سماعت کہ صوتیات
جو میری شاعری ہے وہ قربانِ نعت ہے


"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


شاعر نہیں غلام رسول کریم ہوں


تمہیدِ حرف و لوح و قلم صنفِ لامکان
یہ شاعری نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے


تجسیمِ کائنات بھی جزدانِ نعت ہے


کیا ہو فصیح دعویء مدحت سرائی جب


امید ' روزِ حشر ہو بخشش کی اور کیا
محبوبِ رب جو ذات ہے، عنوانِ نعت ہے


زنبیل خاکسار میں سامانِ نعت ہے
===== [[شریف ساجد]]، [[پاکپتن]]، [[پاکستان]] =====


سرکار خوش ہوئے یہی احسانِ نعت ہے


ادراک میں سمائے کہاں حسنِ لا مثال
ملحوظ ہو ادب کہ یہ میزانِ نعت ہے


حیرت جو منکشف ہے یہ وجدانِ نعت ہے


جب ہر عمل میں اسوہ ء کامل حضور ہیں


شیدا جو مدح خوانِ محمد لقب ملا
” ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے “


انعامِ لا یزال ہے ' احسانِ نعت ہے


===== [[علیم اطہر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====
حبّ نبی ، جدائی کا غم ، دید کی تڑپ


امید و استغاثہ ہی سامانِ نعت ہے


مجھ پہ کرم ہوا ھے تو فیضانِ نعت ھے


میرے جنون کو بھی تو عرفانِ نعت ھے
اس کام سے معیت ذات خدا ملے


وہ گر کریں قبول یہی جانِ نعت ہے


الفاظ باوضو ہیں، تخیّل مدینے میں


میرے قلم کی نوک میں وجدانِ نعت ھے
ایسا کرم ہو بردے کی صورت دکهائی دے


ہر اک یہی کہے کہ یہ فیضانِ نعت ہے


ہونٹوں پہ وردِ صلّی علٰی، دل سکون میں


اور چشمِ تر میں تیرتا سامانِ نعت ھے
ساجد مقامِ حضرتِ حسان دیکھ کر


اب قدسیوں کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


کافر جو نعت کہتا ھے اس کو مرا سلام
===== [[ شکیل کالا باغوی]]، [[کالا باغ]]، [[پاکستان]] =====
یہ ابتدائے سانس ہی پیمانِ نعت ہے


دراصل دل بھی اس کا مسلمانِ نعت ھے
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"




رک جائے ساری گردِشِ دوراں سنے وہ نعت
ذکرِ نبیۖ ہے قبر کی تنہائی کا رفیق


وہ لمحہ جاوداں ھے جو دورانِ نعت ھے
خاکی تری نجات ہی وجدانِ نعت ہے




ہر کہکشاں میں نورِ رسولِ خدا ﷺ ملا
اوجِ فلک پہ میرا ستارہ رواں دواں


"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ھے"
جادو گری نہیں ہے یہ میلانِ نعت ہے




تخلیقِ کائنات بوجہِ رسولِ پاک ﷺ
حیراں ہیں مشک و عنبر و عود و گلِ بہار


اور حُکمِ کُن فکاں ہی تو اعلانِ نعت ھے
کس شان سے مہکتا گلستانِ نعت ہے




صلّو علی الحبیب ﷺ فرشتوں کی لوریاں
کامل دل ونگاہ کی تطہیر شرط ہے


سدرة کی انتہاء پہ بھی وجدانِ نعت ھے
حدِ ادب کا پاس قلمدانِ نعت ہے


===== [[عمیر لبریز]]، [[فیصل آباد]] =====


بشکریہ : [[ریاض قادری]]، [[فیصل آباد]]
والشّمس، والضحیٰ ہے، سراجِ منیر ہے


یزداں کی ہمکلامی ہی دیوانِ نعت ہے


ہر وقت پلتا قلب میں ارمانِ نعت ہے


صد شکر مجھ پہ یہ بڑا احسانِ نعت ہے
الفاظ کیوں شکیل تیرے عطر بِیز ہیں
بادِ صبا پکارے ۔۔یہ فیضانِ نعت ہے


===== [[شعیب اختر قادری]]، [[سنت کبیر نگر]]، [[انڈیا]] =====


پنج تن کا ذکر نعت کو دلکش بناتا ہے
مجھ پہ کرم حضور کا فیضانِ نعت ہے


یہ اصل شانِ نعت ہے اور جانِ نعت ہے
کیا خوب آج دیکھیے عنوانِ نعت ہے




پڑھتا درود ان پہ فرشتوں سمیت رب
ان کے طفیل ہی ہیں بہاریں حیات کی


سارے جہان میں وہی سلطانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے




پرکھے ہیں میں نے زندگی کے پہلو سارے ہی
آؤ بتاؤں کون ہے بے تاج بادشاہ


"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
وہ جس کے پاس ان کا قلمدانِ نعت ہے




ہر روز ایک رنگ نیانعت کا بنے
والليل والضحیٰ کہیں ، ماذاغ ہے کہیں


ملتا مدینے سے مجھے سامانِ نعت ہے
رب کا کلام پورا ہی دیوانِ نعت ہے  




میرے لبوں سے نکلی جو بھی نعت آپ کی
مداحِ مصطفیٰ مجھے کہتے ہیں لوگ جو


ہر ایک کو میں سمجھا یہ حسانِ نعت ہے
کیونکر کہوں نہ یہ بھی تو فیضانِ نعت ہے




لبریز شہر ِ نعت کا میں ایک باسی ہوں
نعت رسول لکھنا تو آساں نہیں مگر


یاں اک سے بڑھ کے ایک ثنا خوانِ نعت ہے
لکھتا وہی ہے جس پہ بھی احسانِ نعت ہے


محمد عمیر لبریز ؔ فیصل آباد


===== [[عمیر نجمی]] ، [[رحیم یار خان]]، [[لاہور]] =====
قلب و نظر کو اپنی تو عشقِ نبی میں ڈھال


بیٹھا، کہا حضور(ص) سے: "ارمانِ نعت ہے"
عالم کو دیکھ پورا ہی وجدانِ نعت ہے


پھر جو کہا ہے، دیکھ لیں، شایانِ نعت ہے


احمد رضا کے نعتیہ اشعار کو پڑھو


نعمت بھی کیا ہے "نعت" میں ضم ہو گئی ہے "میم"
کہنا پڑے گا نائبِ حسانِ نعت ہے


شکران نعمت اصل میں شکرانِ نعت ہے


بندہ گنہگار ہے اعمال کچھ نہیں


لفظوں کے لعل حرفوں کے ہیرے لگیں گے ہاتھ
بخشش کا اپنی بس یہی سامانِ نعت ہے


جو کچھ ملے اٹھائیے، یہ کانِ نعت ہے


گمراہ کتنے ہو گئے کتنے سنبھل گئے


ایسی کوئی زبان نہیں جو کرے بیان
اختر ادب سے لکھ یہ دبستانِ نعت ہے


حالت جو میرے قلب کی دورانِ نعت ہے
مکمل نام : محمد شعیب اختر قادری، سنت کبیر نگر، انڈیا


===== [[شوزیب کاشر]]، [[راولہ کوٹ]]، [[کشمیر]]، [[پاکستان]] =====


اُن سے حیات، اُن سے ہر اک شعبہِ حیات
وسعت پذیر حلقۂ دامانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"




حجرے کی چھت پہ اتنے کبوتر یونہی نہیں
ہر شاخ رونقِ چمنستانِ نعت ہے


اس میں مکیں گروہِ محبانِ نعت ہے
دو جگ میں خوشبوئے گلِ ریحانِ نعت ہے


===== [[غضنفر علی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبۂ حیات میں اعلان نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
قرآن سے کشید مضامین نعت کے


روحِ ثنا یہی ہے یہی جانِ نعت ہے


صحن نبی میں حرف قطاروں میں لگ گے


دالان مصطفیٰ ہی تو دالان نعت ہے
سیرت سے مشکبار ہو سنت سے مستنیر


یعنی ہو مستند یہی شایانِ نعت ہے


وللیل و والضحیٰ پہ ہی موقوف تو نہیں


مصحف خدا کا سارا ہی دیوان نعت ہے
اللہ کی یہ پیاری ، فرشتوں کی لاڈلی


سبحانهٗ تعالی عجب شانِ نعت ہے


آنسو ہیں سسکیاں ہیں ندامت ہے عشق ہے


یہ ہی صریر خامہ ہےسامان نعت ہے
والشمس ہے کہیں ، کہیں واللیل سے خطاب


یہ لؤلؤِ صلوۃ ، وہ مرجانِ نعت ہے


حالی نہیں ہوں حافظ و سعدی نہیں ہوں میں


پھر بھی میں لکھ ریا ہوں یہ احسان نعت ہے
مازاغ کا سلام ہے قوسین کا درود


معراج ان کی شان میں اعلانِ نعت ہے


اک حرف لکھ کے پہروں یہ ہی سوچتا رہا


کیا حرف جو لکھا ہے وہ شایان نعت ہے
مُدَّثِّرُ و مُبَشِّرُ و مُزَّمِّلُٗ ہیں آپ


ہر نامِ نامی آپ کا ، عنوانِ نعت ہے


ہر حرف کو برتنے لگا احترام سے


ہر حرف پر گماں ہے کہ مہمان نعت ہے
ہر عہد کو محیط وہی عہد خوشگوار


خیرُ القرون نیرِ تابانِ نعت ہے


رطب اللساں ہے آج غضنفر حضور کا


احسان نعت ہے یہ ہی احسان نعت ہے
حکمِ تُعَزِّرُوہٗ ادب گاہ مصطفی


===== [[غلام جیلانی سحر]]، [[بلرام پور]]، [[انڈیا]] =====
لاتَرْفَعُوا عقیدہ و ایمانِ نعت ہے
محفوظ حرف حرف جو قرآنِ نعت ہے


خود ربِّ کائنات نگہبانِ نعت ہے


لولاک کیا ہے مدحتِ سرور کے باب میں؟


حاصل اگر اجازتِ سلطانِ نعت ہے
اللہ کی محبت و برہانِ نعت ہے


,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


عقدہ کشا ہے آیتِ صَلُّوا وَسَلِّمُوا


سرکار ! لطفِ خاص کا امید وار ہوں
بے شک درودِ پاک بھی فرمانِ نعت ہے


بے چین روح کو فقط ارمانِ نعت ہے


یُعْطِیْکَ رَبّّکَ سے تونگر بشر بشر


کچھ تو شعورِ مدح عطا ہو گنوار کو
الفقر فَخْرِی رزقِ گدایانِ نعت ہے


اہلِ زباں کو دعویِ عرفانِ نعت ہے


پیماں شبِ الست کا لا شک ذالک


سرکار ! کچھ حروف سلامی کو پیش ہیں
قربان جائیے کہ وہ پیمانِ نعت ہے


مقبول ہو وہ حرف جو شایانِ نعت ہے


تحتِ سری سے عرش بریں تک کے سلسلے


پروردگار ! ڈال دے سینے میں بے حساب
جس سے مہک رہے ہیں وہ لوبانِ نعت ہے


عشقِ رسولِ پاک, جو ایمانِ نعت ہے


اے شہسوارِ دشتِ غزل ہوش میں تو ہے؟


کھلتے ہیں رنگ رنگ کے گل ہائے عشقِ شاہ
نادان! احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


سینہ ہے میرا یا کوئی گل دانِ نعت ہے


حقِ ثنا ہو کس سے ادا اور کس طرح
سب خاک اس سفر میں وہ کیوانِ نعت ہے


گل ہائے رنگا رنگ کھلے ہیں چہار سمت
کتنا ہرا بھرا یہ گلستانِ نعت ہے


مجھ سا حقیر آپ کو نذرانہ دے تو کیا


نظم و غزل کے مارے ہوئے لوگ دنگ ہیں
کر لیجیے قبول یہ دیوانِ نعت ہے


اس درجہ اونچی شانِ غلامانِ نعت ہے


یہ شہرت و مقام یہ سطوت یہ ننگ و نام


مدح و ثنا حضور کی یوں ہی نہیں ہوئی
میری بساط کیا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


موجود سر پہ سایہِ دامانِ نعت ہے


محشر میں اطمنان سے ہوں گے ہم امتی


پیہم نوازشاتِ رسولِ کریم واہ
حاصل ہمیں شفاعتِ جانانِ نعت ہے


محسوس ہو رہا ہے کہ بارانِ نعت ہے


جذب و شعور و فکر و فن و خامہ و ہنر


اس خاص کیفیت کا بیاں کس طرح کروں
کاشر ہر ایک شے مری قربانِ نعت ہے


طاری جو میری روح پہ دورانِ نعت ہے
===== شوکت شفا ۔ نامِ نبی ؐ کی پنکھڑی سامانِ نعت ہے =====




مستی میں بھی نہ ہاتھ سے چھوٹے ادب کی ڈور
[[ ڈاکٹر شوکت شفا]]، [[ کشمیر]]


مد ہوشی میں بھی ہوش اے مستانے ! نعت ہے


نامِ نبی ؐ کی پنکھڑی سامانِ نعت ہے


حد درجہ احترام و لحاظ و ادب سحر!
تعظیمِ مصطفے کی لڑی جانِ نعت ہے


ہلکی سی چوک موت ہے دیوانے ! نعت ہے


===== [[غلام ربانی فارح]]، [[اعظم گڑھ ، مظفر پور]]، [[انڈیا]] =====
شبنم نہیں یہ اشک اسی گل بدن کے ہیں
محبوب رب جو مرکزِ فیضان نعت ہے


ایمان کی بھی جان وہی جانِ نعت ہے
پتی ہر ایک پھول کی مژگان نعت ہے




اللہ کا کرم ہے یہ فیض رسول ہے  
بادِ نسیم اصل میں ہے کیا ، ہے نعت ِ پاک


بخشش کو میرے پاس بھی سامان نعت ہے
بلبل کی چہچہٹ بھی دبستانِ نعت ہے




سینے میں دفن میرے خزانہ ہے عشق کا
اے باغ بوٹا بوٹا ترا دینِ نعتِ پاک


الفت نبی کی بالیقیں جزدان نعت ہے
تیری چمن کلی کلی احسانِ نعت ہے




نعت رسول پاؤ گے قرآں میں ہر جگہ
میری ہرایک بات سے آتی ہے بوئے نعت


سچ ہے کلام پاک میں عرفان نعت ہے
گویا مری زبان گلستانِ نعت ہے




تھوڑی توجہ کی تو معمہ یہ حل ہوا
کہتی ہے ہر اک آنکھ سے تیری شفا یہ نعت


*ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"




مقبول بس وہ فکر ہے اس بارگاہ میں


ہے جو سخن کی شان وہ شایان نعت ہے
===== [[شفیق رائے پوری]]، [[جگدل پور چھتیس گڑھ]]، [[انڈیا]] =====


بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]


بیشک ادب سے چومیں گے اس کو ملائکہ
جب سے ہمارے ہاتھوں میں دامانِ نعت ہے


قرطاس دل کہ جس کو بہم خوانِ نعت ہے
ہم پر سدا عنایتِ جانانِ نعت ہے




فارح ادب سے کہہ اسے سرمایۂ حیات
گلہائے عشقِ سرورِ عالم سے ہے سجا


عزت سے جی رہا ہے یہ فیضان نعت ہے
بے مثل و بے نظیر گلستانِ نعت ہے


===== [[غلام رسول احمد ضیا]] ، [[سیتا مڑھی]]، [[بھارت]] =====


کہتا ہے وہ یہی جسے پہچانِ نعت ہے
حمدِ خدا کی راہ تو آسان ہے بہت


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
چلیے سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے




منکر نکیر دیکھ کے مجھ کو کہیں گے یہ
شہرت کی شکل میں کبھی عزت کی شکل میں


اس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
ہم پر برس رہا ہے جو بارانِ نعت ہے




عزّت سے کھا رہا ہوں نوالہ جو صبح و شام
ہر شعبۂِ حیات ہے ممنونِ مصطفے


سچ کہہ رہا ہوں ہم پہ یہ احسانِ نعت ہے
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"




میرا یقین کہتا ہے ہر آن ہر گھڑی
عشقِ رسول اور شب و روزِ مصطفے


سرمایۂ نجات یہ گلدانِ نعت ہے
ان سے بھرا ہوا ہی تو ہر خوانِ نعت ہے




وہ جس کے دم قدم سے ہے قائم یہ کائنات
"اُن کی مہک نے" کہئے کہ "پر کو خبر نہ ہو"


سرکار کا کرم ہے وہ فیضانِ نعت ہے
لا ریب ہر کلامِ رضا جانِ نعت ہے




عشقِ رسول پاک کی لذت جو دے گیا
قرآن اور حدائقِ بخشش ہے سامنے


احمد ضیا! وہ ہند کا حسّانِ نعت ہے
اپنے لئے تو بس یہی سامانِ نعت ہے


===== [[غلام فرید واصل]]، [[شیخوپورہ]]، [[پاکستان]] =====
کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


دل میں مرے بھی یا نبی ارمانِ نعت ہے  
اللہ کا دیا ہوا سب ہے ، بجا مگر


جو کچھ ہمارے پاس ہے فیضانِ نعت ہے


رحمت کی بوندیاں ہیں، یہ دورانِ نعت ہے


کتنا حسین دیکھیے بارانِ نعت ہے
رہ رہ کے پھر خیال میں آنے لگے حضور


چلیے شفیق آج پھر امکانِ نعت ہے


خالق نے بھر دیا میرے سینے کو نعت سے
===== [[ شہر یار خرم]] ، [[اٹک ]] =====


موتی نکل رہے ہیں، دہن کانِ نعت ہے


کیسے کسی کو دل میں بسائیں گے ہم بھلا


سارے فصیح رکھتے ہیں اس بات پر یقین
سینے میں دل جہاں وہیں کاشانِ نعت ہے


نطق و سخن کا سِلسلہ قُربانِ نعت ہے


جاہ و جلال و عزت و رتبہ ملا مجھے


زہرا،حَسَن،حُسین بھی اس میں سمائے ہیں
یہ مجھ گناہگار پہ فیضانِ نعت ہے


کتنا ہرا، بھرا یہ گلستان نعت ہے


تم کو پناہ دے گا زمانے کے رنج سے


آہ و فغاں کا ساتھ رہے تحریر سے جُڑا
آجاؤ عاشقو کہ یہ دامانِ نعت ہے


عرفانِ نعت ہے، یہی سامانِ نعت ہے


تدریس و تربیت ہو یا انصاف و عدل ہو


رکھ سوچ کر قدم تُو یہ رستہ ہے پُر خطر
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


غافل نہ کھیل جان یہ میدانِ نعت ہے


سالک نے ڈرتے ڈرتے جسارت تو کی مگر


رَگ رَگ میں عشقِ شاہ مدینہ بسے اگر
اک شعر پر محیط یہ دیوانِ نعت ہے


"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"




محشر کی دھوپ میں بھی مجھے سائباں ملا
شاعر: شہر یار خرم بٹ ، اٹک


شکرِ خدا کہ مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
===== [[شہریار زیدی]]، [[لاہور]] =====


مجھ بے ہنر پہ یہ بھی تو احسانِ نعت ہے


تعریف مصطفیٰ کی کرو رات سن سبھی
ہر شعر میرا شمع شبستانِ نعت ہے


راہِ نجات ہے، یہی تو جانِ نعت ہے


تجھ کو درِ حبیبؐ تلک لے کے جاونگی


واصلٓ نہیں خبر کہ وزارت مِلے کسے
مداح مصطفٰیؐ سے یہ پیمانِ نعت ہے


جُز جُز ہی آیتوں کا تَو سلطانِ نعت ہے


===== [[غلام مصطفی دائم اعوان]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
اہلِ زمین نے بھیجا ہے پھر ہدیہِ درود
طاری عروسِ قلب پہ وجدانِ نعت ہے


خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے
یہ مصطفٰیؐ کی بزم میں اعلانِ نعت ہے




لفظوں کی عکس بندیاں ملحوظ ہوں، مگر
کیا خوف رہزنوں کا انھیں راہِ شوق میں


لازم پسِ خیال بھی عرفانِ نعت ہے
محفوظ جن کے سینوں میں سامانِ نعت ہے




نقش جمالِ شوخیءِ آیات کیا کہوں
وہ سوزِ دل ہو یا ہوں تفکر کی وسعتیں


ہر نوکِ حرف لشکرِ مژگانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"




تکوینِ کائنات کا ہر لحظۂ وجود
اللہ اور ملائکہ سب پڑھتے ہیں درود


عنبر سرشت لؤلؤِ بارانِ نعت ہے
یہ عرش ہے یا گوشہِ ایوانِ نعت ہے




اقلیمِ نُہ سپہر کے آشفتہ خاطرو
ٹھکراتا ہے وہ دونوں جہاں کی مسرتیں


فرحت نواز غنچۂ بستانِ نعت ہے  
خوش بخت کتنا صاحبِ عرفانِ نعت ہے




نکہت فشانیءِ گلِ رَیحان و نسترن
ہر فرد شہریار نبیؐ کے گھرانے کا


سب خوشہ چِینِ عطرِ گلستانِ نعت ہے
لاریب! رشک لُو لُو و مرجانِ نعت ہے




مخدومِ طائرانِ اولی الاَجنحہ، حضور
===== [[ شہزاد بیگ]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====


عرشِ فراخ صفحۂ دیوانِ نعت ہے
جیسے جہان سارا یہ ایوان ۔ نعت ہے  


ہاتھوں میں اس طرح مرے دیوان۔نعت ہے


دائم فروغِ نعت کی نیرنگیاں نہ پوچھ


”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“
لکھ لکھ کے کررہا ہوں روانہ جو رات دن


===== [[فاضل میاں]]، [[میسور]]، [[کرناٹکا]]، [[انڈیا]] =====
یہ جذبہ ہے مرا کہ قربان۔نعت ہے
مکمل نام : سید فاضل میاں


یہ اعترافِ حسنِ قلمدانِ نعت ہے


فنِ تمام حاضرِ ایوانِ نعت ہے
صل علی کا ذکر ہے دنیا میں ہر جگہ


تسلیم۔دوجہان بھی ایقان ۔ نعت ہے


مت زعم کر کہ تو کوئی حسانِ نعت ہے


چل احتیاط سے کہ یہ میدانِ نعت ہے
خوشبو دیار۔دل میں جو پھیلی ہے چارسو


خوشبو نہیں ہے یہ مرا ایمان ۔ نعت ہے


تیرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے


حاصل اگر ذرا سا بھی وجدانِ نعت ہے
دیوار ۔ خستگی میں بنا ہے نیا جو در


"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔نعت ہے"


عمرِ تمام نذر ہے اس کی تلاش میں


وہ حرفِ معتبر کہ جو شایانِ نعت ہے


رمضان میں لکھی ہے عقیدت میں ڈوب کر


صد شکر میرے بحرِ تخیل میں جابجا
یہ زیست بھی تو صورت ۔ عنوان۔نعت ہے


لولوئے نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے


ہم لازمی منائیں گے میلاد۔ مصطفی


کس جا نہیں ہیں لعل و گہر مدحِ شاہ کے
یہ رونق ۔ جہاں بھی فیضان ۔ نعت ہے


یہ ساری کائنات ہی اک کانِ نعت ہے


جاری ہے ایک عرصہ سے جو شہر۔نعت میں


کشتِ سخن پہ فصلِ عقیدت کی ہے نمود
یہ شاعری نہیں ہے یہ فیضان۔نعت ہے


کیونکر نہ ہو تسلسلِ بارانِ نعت ہے


جو دل میں بس گئی ہے عقیدت حضور کی


قرآں بہ نطق سوز بہ دل عجز بر جبیں
ہر شخص اپنی ذات میں سلطان ۔ نعت ہے


ہر اک نشانِ باج گزارانِ نعت ہے


کرتا ہوں جان و دل سے میں تحریر نعت جو


یارب ہر ایک حمد کی مالک ہے تیری ذات
وجہ ۔ تجلیات ہے ایمان ۔ نعت ہے  


تیرا حبیب سید و سلطانِ نعت ہے


سیرت کے واقعات کے قربان جاوں میں


ہر رنگ ہر مہک کی ہیں کلیاں کھلی ہوئیں
جو مصطفے کی شان کے شایان ۔ نعت ہے


روح و نظر نواز گلستانِ نعت ہے


بڑھیا سے لے کے حضرت حساں کی نعت تک


بے روح پیکرِ سخن و حرف ہے تو کیا
ہر ایک ایک واقعہ امکان ۔ نعت ہے


تیرا خیال اے شہِ دیں جانِ نعت ہے


صل علی کا ورد زباں پر ہے صبح و شام


امشب وفورِ گریہ و زاری ہے مہرباں
شہزاد بیگ آپ کا دربان ۔ نعت ہے


آثار کہہ رہے ہیں کہ امکانِ نعت ہے
===== [[شہزاد مجددی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : علامہ شہزاد مجددی


اک نامِ مصطفیٰ ہی فقط جانِ نعت ہے


مضموں میں احتیاط خط و حرف میں ادب
جواس کےذیل میں ہےوہ شایانِ نعت ہے


لہجہ بتا رہا ہے کہ عرفانِ نعت ہے


  کوئی کلام ہو کہاں شایان ِ نعت ہے


یہ منصبِ شہیر یہ مسند کمال کی
قرآنِ پاک ہی ہے جو قرآنِ نعت ہے


مجھ کو اگر ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے


الحمد کےالف سےحدِحرفِ سین تک


کیا جانے اختتام ہو کس کیفیت کے ساتھ
کتنا وسیع دیکھیے میدانِ نعت ہے


انوار کا نزول ہے دورانِ نعت ہے


پیشِ نظرحضور کا اسوہ رہے تو پھر


باہر نکل حروف و معانی کی قید سے
ہرشعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


ختم الرسل کے ہاتھ کی انگشتری تو دیکھ


درپیش اک طویل سفر ہے حیات کو
اس میں جڑا نگینہ ٔ مرجانِ نعت ہے


رختِ سفر میں جو ہے وہ سامانِ نعت ہے


مقدورہوتو پوچھ لو روح الامین سے


ہوں جبرئیل پشت پہ تائید کے لیے
اس دور میں بھی کیا  کوئی حسان نعت ہے


اک شاعرِ غریب کو ارمانِ نعت ہے


فردِعمل کا  کوئی بھروسہ نہیں حضور!


اس کی کشش الگ ہے جمال اس کا ہے جدا
کرنے کوپیش بس یہی دیوانِ نعت ہے


کتنا بہار زا رخِ تابانِ نعت ہے


اےمدح خوانِ شان رسالت بتا مجھے


جنت کی نعمتوں کا مزہ لے رہا ہوں میں
پیش نظرترے  کوئی میزانِ نعت ہے


پیشِ نگاہ جب سے مرے خوانِ نعت ہے


کچھ آگہی تھی مجھ کوبھی حامیم دال سے


اس میں بیانِ حلّت و حرمت نہیں فقط
سو میں نے کہہ دیا مجھے عرفانِ نعت ہے


قرآن ایک جہت سے قرآنِ نعت ہے


دفتر کئی لکھے ہیں مدیحِ رسول میں


طیبہ ہے خواب گاہ ہے خیر الانام کی
شہزاد آج تک مجھے ارمانِ نعت ہے


ہر گوشہ اس زمیں کا خیابانِ نعت ہے
===== [[شیر افضل شیر]]، [[جینیوا]]، [[سوٹزرلینڈ]] =====


موسم بہار عجز ہے میلان نعت ہے


محشر کے روز پیشِ خدا باریاب ہوں
ان کا خیال آیا ہے امکان نعت ہے


صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


ہر ہر ادا حضور کی عنوان نعت ہے


زیر و زبر میں کوئی کمی بیشی ہو نہ پائے
جس کی پسند آ گئی حسان نعت ہے


اے صاحبِ حروف یہ میزانِ نعت ہے


ان پر مرا تھا عالم ارواح میں کبھی


لائے کوئی کتابِ الہیٰ کے سامنے
مجھ پر بھی ان کی رحمت و باران نعت ہے


کیسا ہی پُر اثر کوئی دیوانِ نعت ہے


پہنا گئے ہیں وہ جسے اسوائ کا پیرہن


رکھا ہے اک حصارِ بقا و دوام میں
وجدان نعت ہے اسے عرفان نعت ہے  


کتنا فنا صفت پہ یہ احسانِ نعت ہے




منسوب ان سے ہے جو رسولوں کا ہے رسول
ہر شے بنی ہے جب میرے آقا کے نور سے  


کیا کم یہ عظمت و شرف و شانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے  




والشمس والضحیٰ کی تجلی ہے چارسو
یذدان و ملک جسکے قصیدہ سرا ہوں شیر


فاضل اسی کا نام شبستانِ نعت ہے
لاریب وہ کتاب خود قرآن نعت ہے


===== [[فائق تُرابی]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====
===== [[شیر محمد]]، [[جھارکھنڈ]]، [[بھارت]] =====
یُوں بھی زبانِ حال سے فرمانِ نعت ہے


ذیشانِ دو جہاں ہے جو ذیشانِ نعت ہے
بشکریہ : [[نواز اعظمی]]


روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے


ارضِ حجاز ، ارضِ درود و سلام بھی
توصیف شاہ دہر کی عنوانِ نعت ہے
عَرفات ِ١ نعت ہے، کہیں فارانِ نعت ہے




حیراں ہُوں بُو تُراب کے بابا کو پڑھ کے مَیں
تعمیر ذات میں بڑا احسان نعت ہے


دیوانِ شــاعــری ہــے یا قُــرآنِ نعت ہــے
مجموعۂ کلام بھی دیوان نعت ہے




پیشِ نَظَـر ہو سُنّتِ سـرکار ہر جگـہ
ہر شعبۂ حیات کے سرکار رہنما


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے




کوئی سکھا رہا ہے ہمیں نعت کے ادب
*لا‌ یمکن الثناءُ کما کان حقہ*


یہ غـَـارِ ثَور ہے کہ دبســتانِ نعت ہے
یہ عجز و اعترافِ ادیبان نعت ہے




اصحاب کی ثنا سے بڑھے نعت کا وقار
تعریف واہ واہ نہ تحسین و آفریں


آلِ نبی کی مدح و صِفَت جانِ نعت ہے
چشمِ کرم، دوائے مریضانِ نعت ہے




رشکِ بُخـَـارا ، رشکِ سمــرقند ســر زمین
پروانۂ نجات بھی ہوگا بروز حشر


یہ سر زمینِ چھچھ ٢ بھی گلستانِ نعت ہے  
مجھ پر خطا کے ہاتھ میں دامان نعت ہے




کوئی نفیسِ نعت٣ ہے، کوئی امینِ نعت٤
باشندہ جو بھی عالمِ شعر و ادب کا ہے


منظورِ نعت ٥ ہے ، کوئی سلمانِ نعت٦ ہے  
کاسہ بدست بر درِ ایوان نعت ہے




جب جب نسیمِ نعت چلے، دل مچل اُٹھے
الفاظ لاؤں کوثر و تسنیم سے دھلے


جیسے یہ دل نہیں گُلِ ریحانِ نعت ہے  
ذوق سخن وری مرا مہمان نعت ہے




مجھ پر تری حدیث کے جوہر نہیں کُھلے
پاکیزگئ حرف کو حاصل اسی سے بھیک


کس منہ سے میں کہوں مجھے عرفانِ نعت ہے
صوت و صدا کا حسن بھی فیضانِ نعت ہے


===== [[فراز عرفان]]، [[دوبئی]] =====


قائم جو لامکان پہ ایوانِ نعت ہے
آداب و احترام ثنا اس سے سیکھیے


بیشک یہ شاہِ والا کے شایانِ نعت ہے  
قرآنِ رب ذریعۂ عرفان نعت ہے




چرچا ہے شش جہت میں جو گویانِ نعت کا
سیراب ہو رہا ہوں میں ذکر رسول سے


لاریب یہ بوجہِ گلستانِ نعت ہے
کشتِ سخن پہ چشمۂ باران نعت ہے




باقی مکانِ دنیا میں گھومو پھرو مگر
حورو ملک کہ جن وبشر آنکھوں میں رکھیں


طیبہ ادب سے جاؤ ، وہ کاشانِ نعت ہے  
ہر دلعزیز بلبل بستانِ نعت ہے




کہئے ثناء نبی کی ذرا احتیاط سے
شعری وجود و چشم ہے محفوظ ضعف سے
کیونکہ خدا کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے


اشہر کے بخت میں نمک و نانِ نعت ہے


مداحِ مصطفیٰ کی ہے فہرست گو طویل
شیر محمداشہر شمسی منانی، جھارکھنڈ (ہندوستان)


لیکن جو شانِ نعت ہے حسانِ نعت ہے  
===== [[صادق جمیل]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
اللہ کیا ہے خالق ِ سامان ِ نعت ہے  


لوح و قلم ہی اصل میں شایان ِ نعت ہے


نسبت ہے تیری ذات سے لکھیں تری ثنا


ورنہ قلم کوئی ترا شایانِ نعت ہے ؟
شامل یہ نشریات میں اعلان ِ نعت ہے  


صادق جمیل ملحق دامان ِ نعت ہے


جس کے سبب ہو فردِ عمل دائیں ہاتھ میں
بس ایک ایسا ہی مجھے ارمانِ نعت ہے


اس سے سوا بھی کیا  کوئی احسان ِ نعت ہے


سامانِ آخرت ہے یہی میرا اصل میں
مجھ کو خدا نے بخشا قلم دان ِ نعت ہے  


تھاما ہوا اسی لئے دامانِ نعت ہے


حد ِ نظر سے آگے بھی ایوان ِ نعت ہے


روحِ رواں ہیں آپ ہی اس کائنات کے
جبریل جانیے کہ نگہبان ِ نعت ہے  
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"




خاکی سبھی پہ چشمِ کرم ہے حضور کی  
سیرت اگر ہے آپ کی پیش نظر مدام


لیکن فقط خواص پہ بارانِ نعت ہے
"ہر شعبہ ءِ حیات میں میں امکان ِ نعت ہے "


===== [[فرخ ترمذی]]، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====


سرکار کا کرم ہے جو باران نعت ہے
صحرا صفت وجود بھی شاداب ہوگیا


مولا تری عطا سے ہی فیضان نعت ہے
برسا کچھ اس طریق سے باران ِ نعت ہے  




ہر سمت تیرے نور کے جلوے نگاہ میں
حمد ِ خدا سے نعت ِ رسالت مآب تک


"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
حسن ِ سخن کی جان بھِی فیضان ِ نعت ہے  




تیرا وجود مرکز و محور ہے خیر کا
اسری کی رات دیکھی کسی اور نے نہیں


تیرا کلامِ نور ہی سامان نعت ہے
جبریل کو ہی اصل میں عرفان ِ نعت ہے  




ذکر حبیب کرتے ہیں عشاق ہر گھڑی
سینے میں اور  کوئی بھی خواہش نہیں جمیل


ان کی زباں پہ ذکر بھی شایانِ نعت ہے
ارمان ہے تو ایک ہی ارمانِ نعت ہے


===== [[صائمہ آفتاب]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مجھ بے نوا کے پاس کیا وجدانِ نعت ہے


پتھر بدست لوگوں کے حق میں تری دعا
نادم سا ایک اشک ہی سامانِ نعت ہے


طائف کا سارا واقعہ خاصان نعت ہے


اچھا عمل بھی مدحتِ خیر الانام ہے


سجدہ طویل کرکے نواسے کے واسطے
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


سب کو دکھادیا کہ یہ ریحان نعت ہے


آدم نے سیکھا اسمِ محمد ، نبی ہوئے


یاد رسول پاک سے دل میں گداز ہے  
یعنی یہ کائنات دبستانِ نعت ہے


آنکھوں سے اشک برسے ہیں، امکان نعت ہے


جتنا یہاں سکوت ہے یکسر درود ہے


انعام خاص ہے مری "انعام فاطمہ"
جتنا یہاں کلام ہے فیضانِ نعت ہے


مالک کا یہ کرم بھی تو احسانِ نعت ہے


جو عرش پر امامِ صف انبیاء بنا


اپنا تو ہر سخن ہے ثنائے رسول پاک
محبوب کبریا وہی سلطانِ نعت ہے


ہر جا پہ اپنے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
===== [[صائمہ اسحاق]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====


ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے


تجھ پہ کرم حبیب کا " اے جان مرتضی"
صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے


گھر میں تمہارے مہکا گلستانِ نعت ہے


پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے


مشکل گھڑی سے مجھ کو بچاتا ہے تیرا ذکر
جب خود درودِپاک ہی دربانِ نعت ہے


فرخ رضا کے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


ہرسانس مستفیض ہے ان کے وجود سے


*  بیٹی کا نام
'؛ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے؛


===== [[فضل اللہ فانی]]، [[صوابی]]، [[پاکستان]] =====
آمد کا زور شور ہے، بارانِ نعت ہے


خامہ تو آج وقفِ قلمدانِ نعت ہے
اے کاش کم سخن کو بھی آئے ثنا گری


قرطاس کو قلم کو بھی ارمانِ نعت ہے


ہر عندلیبِ باغِ سخن نغمہ سنج ہے


ہر سمت جشنِ فصلِ بہارانِ نعت ہے
جیسے ہر ایک شے میں ہے عشقِ محمدی


ویسے ہر ایک شے میں ہی میلانِ نعت ہے


مشکل ہے حملِ وحْی کے مانند حملِ نعت


یعنی یہ کارِ حوصلہ مندانِ نعت ہے
کوثر سے جام اس کو عطا ہو مرے حضور


شامل قطار میں جو ثنا خوانِ نعت ہے


صاحب نظر ہو کوئی تو ہو اس پہ منکشف


"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
کیا کیاسخن طرازہیں اس کارزار میں  


ناچیز کو سہاریے میدانِ نعت ہے


اصنافِ شعر میں ہے جدا رتبہ نعت کا


شاہِ غزل، گدائے گدایانِ نعت ہے
قوسین ہے خدا سے محبت کا سلسلہ
 
معراج کا سفر بھی تو اعلان ِ نعت ہے




دنداں کا سِین ہے تو کہیں مِیمِ زلف ہے
کچھ اور تو نہیں مرے توشے میں صائمہ


قرآں نگاہِ شوق میں دیوانِ نعت ہے
حبِ رسول ِ پاک ہی سامانِ نعت ہے


===== [[صفیہ ناز]]، [[مڈلزبرو، یوکے]]=====
چشم کرم حضور کی فیضان نعت ہے


حسّاں کو اور ہی قدِ شعری عطا ہوا
رزق_سخن ملا جو یہ احسان _ نعت ہے


سلطانِ نعت، سروِ گلستانِ نعت ہے


لکھی ثنا تو ہو گئے الفاظ نوُر نوُر


"لولاک" کا ظہور ہے ہر شے میں جلوہ گر
اور جگمگا اُٹھا میرا دیوان_ نعت ہے


ہرچیز چشمِ شوق کو سامانِ نعت ہے


مدحت کے پھول بے بہا دامن میں آ گئے


ہجراں کا زخمِ کاری ہے دل میں تو کیا ہوا
کتنا وسیع ان کا گلستان_ نعت ہے


فانی ہمارے پاس تو درمانِ نعت ہے


=====  [[فہیم رحمان آزر]]، [[سمندری]]، [[پاکستان]]  =====
کچھ سسکیاں ہیں اشک ہیں کچھ درد اور دروُد
ہم شاعروں پہ کس قدر احسانِ نعت ہے


طبع آزما جو آج پھر ایوانِ نعت ہے
اتنا سا پاس میرے بھی سامان_ نعت ہے




ارفع سخن طراز بھی پہنچے نہ میم تک
عشق_ نبی میں ڈوب کے جو بھی کرے ثنا


اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
وہ ہی عظیم ہے وہی سلطان_ نعت ہے




پائے گا اِس سے دل مرا دوہری حلاوتیں
غار_حرا کا نوُ ر ہی آنکھوں میں ہو بسا


اک سلسلہ درود کا دورانِ نعت ہے
پھر خامہ بھی لکھے گا جو شایان_ نعت ہے




حدِ نگہ ہیں گلستاں اور گلستاں میں پھول
دل میں سجی ہو یاد جو آقا کریم کی


کتنا وسیع خیر سے میدانِ نعت ہے
"ہر شعبہ ء حیات میں امکان_ نعت ہے"




مظہر ہیں تیرے نور کا عالم کی رونقیں
آئی بہار نعتوں کی کلیاں چٹک گئیں


شمس و قمر کی روشنی عرفانِ نعت ہے
اے ناز تیرے قلب پہ باران_نعت ہے


===== [[صغیر انور وٹو ]]، [[اسلام آباد]] =====


اُن کے کرم کا دائرہ محدود تو نہیں
کس کو، شعور_وسعت_ دامان _نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
وہ خوش نصیب ہے، جسے عرفان_ نعت ہے




محشر میں جب سوال ہو، کچھ ہے تمہارے پاس؟
در کھل گیا ہے خیر کا، رحمت کا، نور کا


تب میں کہوں کہ ہاں مرا دیوانِ نعت ہے
لے آئے ،جس کے پاس ،جو، سامان_ نعت ہے




لمحہ بہ لمحہ ہوتی ہے مدحت حضور کی
لکھی نہیں ہے، مجھ کو عطا کی گئی ہے نعت


آذرؔ ہمارا حلقہ دبستانِ نعت ہے
آنکھوں میں نم نہیں ہے یہ باران_ نعت ہے


=====  [[ فیصل قادری گنوری]]، [[گنور]]، [[ بھارت]]  =====


طرزِ    بیان  آ  گیا    احسانِ    نعت  ہے  
اس ذات کو ہی زیبا ہے مدحت حضور کی


مجھ میں شعورِ مدح بہ فیضانِ نعت ہے
اس کا کہا ہی اصل میں شایان_ نعت ہے




میرے شعور و فکر میں گردانِ نعت ہے
مجھ بے ہنر پہ ان کا کرم ہو گیا تو پھر


در اصل عشقِ شاہِ ہدی  جانِ  نعت ہے
میں بھی کہوں گا یہ مرا دیوان_ نعت ہے




جب سے خیال ان کا تصور میں بس گیا
قرآں بتا رہا ہے سراپا حضور کا


افکار  کا  نزول  ہے  !  بارانِ  نعت ہے
کس درجہ واشگاف یہ اعلان نعت ہے




عشاقِ مصطفی کی تڑپ کی ہیں جھلکیاں
روشن ہے کائنات اسی ایک نور سے


افضل  مری  نگاہ  میں  دیوانِ  نعت ہے
انور، وہ آپ شمع ٕ شبستانٕ نعت ہے


===== [[صہیب ثاقب]] =====
مکمل نام : محمّد صہیب ثاقب


انساں کی کہا مجال لکھے شانِ مصطفی
کیوں کر کہوں کہ ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


خود  ربِّ  کائنات  ثنا  خوانِ  نعت ہے  
کیجے قبول! اک تہی دامانِ نعت ہے




ہم عاشقوں کو  خوف  نہیں روزِ حشر کا
میں حرفِ احتیاج سے نکلوں تو کچھ کہوں


بخشش  کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے
اس کے سوا بھی کیا  کوئی سامانِ نعت ہے؟




مداح  اس کے  جیسا  نہیں  دوسرا  کوئی
آنکھوں میں اشک، دل میں تڑپ، لب پہ ان کا نام


حسّان جس کو کہتے ہیں سلطانِ نعت ہے
ہوں مُستعد کہ لمحۂِ امکانِ نعت ہے




یہ ساری کائنات سما جائے گی میاں
اِس کے ہر ایک گوشے میں، مدحت کے پھول ہیں
یہ دل مرا ہے یا چمنستانِ نعت ہے


اتنا  وسیع  حلقہِ  دالانِ  نعت  ہے


میرا نہیں کلام، یہ اُمّ الکلام ہے؛


خطرہ کوئی نہیں ہمیں خورشیدِ حشر کا
فرمانِ عائشہ ہے کہ "قرآن، نعت ہے"


سر  پر  ہمارے  سایہِ  دامانِ  نعت  ہے


ہر ہر ورَق ہے ان کی ستائش کا ایک باب


طرزِ سخن سے  جس  کو  ذرا  بھی  ہے آگہی
ہر لفظ پیشِ خیمۂِ عنوان نعت ہے


پھر اس کے دل میں حسرت و ارمانِ نعت ہے


دم توڑتی ہیں یاں سبھی مُعجز بیانیاں


مدحت میں ان کی رب نے اتارا کلامِ پاک
اس بارگہ میں خامشی، شایانِ نعت ہے


فیصؔل بیان کیسے  ہو  کیا شانِ نعت  ہے


ثاقب کو پچھلی صف کے غلاموں میں دیکھیے


فیصؔل قادری گنوری
کچھ ادّعا نہیں کہ یہ حسّانِ نعت ہے


===== [[قمر آسی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]]=====
===== [[ضمیر درویش]]، [[مراد آباد]]، [[انڈیا]] =====
عرفانِ نعت ہے نہ ہی وجدانِ نعت ہے  
ہر چند بے نوا ہوں پہ عرفانِ نعت ہے  


لیکن ازل سے حسرت و ارمانِ نعت ہے  
فیضانِ نعت ہے ارے فیضانِ نعت ہے




حکمِ خدائے پاک ہے مدحت رسول کی
قرآں میں رب بھی کرتا ہے توصیفِ مصطفٰی


صلُّو علیہِ اصل میں اعلانِ نعت ہے  
سلطانِ ہست و بود بھی سلطانِ نعت ہے




طاعت نبی کی طاعتِ ربِ عظیم ہے  
دراصل ہو رہا ہے یہ دل پر نزولِ نعت


الفت مرے کریم کی عنوانِ نعت ہے  
عالم عجیب دل کا جو دورانِ نعت ہے




ہر ذی قدر خیال کو پایا ہے نعت میں
کس منھ سے کہتے ہو مجھے کم مایہ وغریب


کتنا وسیع دیکھیے دامانِ نعت ہے  
مَیں وہ ہوں جس کے ہاتھوں میں دیوانِ نعت ہے




سب پھول محوِ رقص ہیں، غنچے ہیں مشکبار
کیجے جونظم سیرتِ اقدس بھی نعت میں


کیسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے
'ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے




ہر انتخابِ لفظ میں لازم ہے احتیاط
'درویش' حرف حرف سے آئیں گی خوشبوئیں


حد ادب جناب یہ میدانِ نعت ہے  
عشقِ حبیبِ پاک اگر جانِ نعت ہے


===== [[ضیا بلوچ]]، [[ کوئیٹہ]]، [[پاکستان]] =====
حال آں کہ زرّے زرّے میں اعلانِ نعت ہے


حسان کے ہنر سے عطا ہو طریقِ نعت  
اس سے کہیں کُشادہ یہ دامانِ نعت ہے


درکار مجھ کو ویسا ہی سامانِ نعت ہے


یوں ہی نہیں عروج پہ آھنگِ کائنات


تھوڑے سے غور و فکر سے یہ منکشف ہوا
سب کی زباں پہ سورۂ رحمانِ نعت ہے


" ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے "


ذکرِ خدا کو ذکرِ نبی سے بڑھائیے


خود خالقِ جہان ہے مداحِ اولیں
یہ ذکر اپنی اصل میں قرآنِ نعت ہے


کتنی بلند و بانگ قمر شانِ نعت ہے


===== [[قمر صدیقی]] , [[گوجرانوالہ]]، [[پاکستان]] =====
دنیا کی مشکلات کو خاطر میں لائے کون


مجھ کمتریں کے ہاتھ قلم دانِ نعت ہے
دنیا تو گردِ خاک نشینانِ نعت ہے  


احسانِ نعت سر بسر احسانِ نعت ہے


مدحِ رسولِ پاک کا ارماں بہت، مگر


میں حجرهٔ درود میں رہتا ہوں ہر گھڑی
آسانیوں میں مشکلِ آسانِ نعت ہے


میرا خیال آج کل ، ایوانِ نعت ہے


لازم نہیں کہ عشقِ نبی شعر تک رہے


جب آل ہے درود میں شامل، کہا گیا
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


پھر کربلا کا ذکر بھی عرفانِ نعت ہے


میں وہ بلوچ ہوں کہ دلِ عشق زار کو


بیٹھو تو "نعت ورثہ" کے سائے میں دو گھڑی
جس زاویے سے دیکھیے بولانِ نعت ہے


تم بھی پکار اٹھو گے بارانِ نعت ہے


میں جو ہرا بھرا ہوں تو اسمیں عجیب کیا


انؐ کےحضور اشکِ ندامت لئے ہوئے
رگ رگ میں بوند بوند میں بارانِ نعت ہے


فریاد و استغاثہ بھی امکانِ نعت ہے


فردوسِ حرف و صوت مبارک ہو اے غلام!


ہیں کاف پیش نون کے آثار جس قدر
تم پر ضیا بلوچ یہ احسانِ نعت ہے


صاحب ! بقدرِ ظرف یہ سامانِ نعت ہے
===== [[طارق چغتائی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
سیرت سے جو کشید ہے سامانِ نعت ہے


مصرعے رواں دواں ہیں یہ فیضانِ نعت ہے


ہر نعت مجھ کو نافهِٔ مشکِ خُتن لگے


حد درجہ عنبریں جبھی دالانِ نعت ہے
دلوائے گا نجات وہ محشر کی دھوپ میں


سامانِ آخرت میں جو دیوانِ نعت ہے


یادِ رسولِ پاکؐ کو لوبان داں سمجھ


اس میں سلگتا نعت گو ، لوبانِ نعت ہے
لغزش ذرا بھی کفر کے زمرے میں آئے گی


لکھنا سنبھل سنبھل کے یہ دامانِ نعت ہے


یہ بات مجھ سے رومیِ کشمیر نے کہی


قرآنِ پاک اوّلیں دیوانِ نعت ہے
آنکھوں میں ہے خیالِ محمدؐ سے روشنی


رچ بس گیا ہے دل میں جو ارمانِ نعت ہے


ہے کنتُ کنزِ مخفی کی تفسیر یہ قمر !


"ہر شعبهِٔ حیات میں امکانِ نعت ہے"
لکھی ہوئی ہے بات زمانے کی لوح پر


===== [[کاشف حیدر]]، [[بارٹلیٹ]] =====
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
دل میں اسی لئے مرے ارمانِ نعت ہے  


میں نے سنا ہے حشر میں میزانِ نعت ہے


نعتِ رسولؐ سن کے دلوں کو سکوں ملے


عنوان ہی لکھا کہ قلم تھک گیا مرا
ذکرِ رسولؐ اصل میں بارانِ نعت ہے


کتنا طویل جانے یہ میدانِ نعت ہے


نعتیں سنی تو پھر مجھے احساس یہ ہوا


اب خوف کچھ نہیں مجھے منکر نکیر کا
سیرت کرو بیان یہی جانِ نعت ہے


مری لحد میں ساتھ جو دیوانِ نعت ہے


کھلتے ہیں اس پہ آیہء قرآن کے رموز


لگتا ہے سجدہ ریز درِ مصطفیٰ پہ ہوں
جس شخص کو ذرا سا بھی عرفانِ نعت ہے


احساس کیا حسین یہ دورانِ نعت ہے


بنتِ رسول شیرِخدا اور حسن حسین


اک منفرد سی نعت لکھوں گا میں ابکے بار
مہکا ہوا انہی سے گلستانِ نعت ہے


قرآں سے لفظ لوں گا جو شایانِ نعت ہے


طارقؔ اگر میں شہرِ ادب میں ہوں معتبر


کاشف مری نظر میں سخنور نہیں ہے وہ
یہ فیض ہے حضورؐ کا احسانِ نعت ہے


جس کا قلم ابھی تلک انجانِ نعت ہے
===== [[طارق شہزاد]]، [[جدہ]] ، [[سعودی عرب]] =====


===== [[کاشف عرفان]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
گلزار۔حسن_ فکر پہ احسان_ نعت ہے
ذوقِ درود ہے کہیں رُجحان نعت ہے


صد شکر میری نسل میں میلانِ نعت ہے
سب تتلیوں کے ہاتھ میں گلدان_نعت ہے




ہر شعبہ حیات میں درکار ہیں نبی
جو کنز _ کن ہے سارا ہی سامان_نعت ہے


"ہر گوشہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر شعبہء حیات میں امکان_ نعت ہے




روشن کیا ہے جس نے مرا گھر مرا قلم
درباں کو کاش داور _ محشر یہ حکم دیں


نور محمدی ہے یہ تابانِ نعت ہے
روکیں نہ اس کو صاحب_ دیوان_ نعت ہے




آنکھوں میں تیرتے ہیں مدینے کے صبح و شام
فصلیں خیال_سبز کی اگتی ہیں جا بجا


محسوس ہو رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے
کشت_ سخن بھی تحفہء دہقان_ نعت ہے




تہذیبِ بے مہار کا سیرت کو شکریہ
اک دن چھپے گا میرا بھی دیوان ! دیکھنا


بدلے ہوئے ہیں ہم تو یہ احسانِ نعت ہے
حاصل مجھے بھی صحبت_ یاران_ نعت ہے




حسنِ عمل ہی لفظ کو دیتا ہے زندگی
پھوٹے ہیں پور پور سے چشمے درود کے


معیار ہے یہی ، یہی پہچانِ نعت ہے
ٹھہرا سراے روح میں مہمان_ نعت ہے




سیرت کا حُسن سنتِ آقا کی روشنی
کچھ اہتمام_ روز_ جزا کیجیے میاں


کتنا سجا ہوا مرا ایوانِ نعت ہے
سودا خرید لیجیے دکان _ نعت ہے




اشکِ فراق ، خوابِ تیقن، سلامِ شوق
پت جھڑ کی کیا مجال کہ چھینے طراوتیں


کاشف ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے
ان پتیوں پہ رنگ_ بہاران_ نعت ہے


===== [[کوثر سعیدی]] , [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====


شاعر : راجا کوثر علی
مشک_ درود_ پاک سے مس کر لباس_ زیست


بشکریہ : [[حفیظ اوج | مرزا حفیظ اوج]]
کھولی کسی نے کاکل_ دیوان _ نعت ہے


غارِ حرا تو مرکزِ دیوانِ نعت ہے


ہر حرف جو عطا ہے وہ شایانِ نعت ہے
===== [[طاہر جان]]، [[گوجرہ]] =====


پیہم قلم رواں ہے بفیضان نعت ہے


ممکن نہیں کہ اس کا احاطہ کرے کوئی
ہر لفظ کیمیا ہے بعنوان نعت ہے


عشق رسول پاک جو دوران نعت ہے۔


لفظوں کے ساتھ چاہیئے معانی کی احتیاط


اے وجہ ممکنات فقط آپکے طفیل
لغزش کی جاء نہیں کہ یہ عنوان نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


اشکوں سے آنکھ ہی نہیں دل بھی ہوں دھو رہا


اصناف اور بھی ہیں ادب میں تو معتبر
پاکی نگاہ و فکر کی جزدان نعت ہے


صد شکر کہ شعور پہ باران نعت ہے


اس کی بہارِ تام خزاں سے ہے نا شناس


اے کاش مدح حضرت ِ جامی سی ہو عطا
ہر دور میں فروزاں گلستان نعت ہے


کوثر کے دل میں ایک ہی ارمان نعت ہے


===== [[کوثر علی]], [[فیصل آباد ]]] =====
ہر ذکر سے بلند کیا مصطفی کا ذکر


بشکریہ : [[ریاض قادری]]، [[فیصل آباد]]
رب جہان آپ قدر دان نعت ہے


یہ آپ کا کرم ہے جومیلان نعت ہے


لیتے ہیں جس سے آپ کا وہ خوان نعت ہے  
گرچہ ہے جاؔں بھی خوگرِمدحِ رسولِ پاک


حق ہے کہ صرف حق ہی کو عرفان نعت ہے


طیبہ میں کیا حکومت شاہان نعت ہے


ہر سمت اک ہجوم گدایان نعت ہے
===== [[طاہر صدیقی]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====


یہ ماہ اپنے واسطے رمضانِ نعت ہے


حسان و کعب و ابن رواحہ یہاں پہ ہیں
ہر نعت اپنی حاصلِ قرآنِ نعت ہے


منبر کے پاس جوش کریمان نعت ہے


قرآن ہو حدیث کہ تفسیر و اجتہاد


جنت کی اتنی بار بشارت اسے ملی
جس کو بھی دیکھیں مصدرِ عرفانِ نعت ہے


اپنا امام نعت تو حسان نعت ہے


مدحت سے ہوگئی مِری مقبول حاضری


رکتی نہیں ہے مدح کبھی آنحضور کی
مدحت کو جانیے مِرا ایمانِ نعت ہے  


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


جو کچھ بھی میرے پاس ہے اُنؐ پر فِدا کروں


ان کی ہر ایک ایک دعا میں شریک ہے  
وہ جانِ نعت ہی مِرا جانانِ نعت ہے  


دل شامل گروہ شریفان نعت ہے


ہر ایک ایک لفظ میں تقدیس آگئی


یا رب نبی کی نعت اک ایسی نصیب ہو
ہر رُکنِ نعت حاصلِ ارکانِ نعت ہے


میں جس کو کہ سکوں کہ یہ شایان نعت ہے


آو کہیں حضورؐ کا ذکرِ جلی کریں


کچھ حسرتیں ہیں آنسو ہیں دوری کے رنج و غم
چلیے وہاں جو حلقہِ یارانِ نعت ہے


اک عمرہوگئ یہی سامان نعت ہے


طائر مِرے لیے ہوئے مفتوح دو جہاں


پریشاں اتر رہی ہیں ثناءے حبیب کی
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اوج خیال کوہ سلیمان نعت ہے
مکمل نام : پروفیسر طاہر صدیقی، فیصل آباد


===== [[ظفر اقبال نوری]]، [[امریکا]] =====
ہر اسم میں شعور ہے عرفانِ نعت ہے


دامن بھرا ہو اہے عطاءے رسول سے
یعنی ہر ایک ذات میں وجدانِ نعت ہے


کافی ہمیں تو بس یہی دامان نعت ہے


حامد کی حمد حمد میں ہیں نعت ہی کے راز


پڑتی نہیں کبھی بھی کسی چیزکی کمی
ذاکر کے ذکر ذکر میں اعلان ِ نعت ہے


فیضان نعت سا کوئی فیضان نعت ہے


ہر ممکن الوجود پہ واجب ہے ان کی نعت


ہر رنگ کے ہیں پھول کھلے میرے شہر میں  
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


یہ شہر نعت ہے کہ گلستان نعت ہے


سمٹی ہے نعت ہی میں سبھی کائناتِ اسم


اللہ کرے یہ نامہ اعمال ہو مرا
یعنی الف ہی میم کا عنوانِ نعت ہے


میرے جو ہاتھ میں مراد یوان نعت ہے


معبود دے رہا ہے تو حکمِ درود ہی


ہوتا ہے سینہ چاک ثناءے حبیب سے
محبوبِ حق کا اذن بھی فرمانِ نعت ہے


کوثر ہمارا چاک گریبان نعت ہے ۔


=====  [[گل رابیل]]، [[پاکستان]]  =====
ہےحرف حرف نعت کی اک کہکشاں سجی
تسکینِ روح کے لئے سامانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
اور لفظ لفظ نعت کا بستانِ نعت ہے




میرے نبی کا پہلا ثنا خواں ہے میرا رب
لہجوں میں اک مٹھاس تو روحوں میں اک نمی


قرآن سب سے پہلا تُو دیوانِ نعت ہے
ہر لحن سے جمیل یوں الحانِ نعت ہے




ذکرِ رسولِ پاک ہی ہوتا ہے جا بجا
صورت کا حسن اس میں ہے سیرت کا بھی جمال


ہر آئینے کے رخ پہ ضیا بانِ نعت ہے
خالق نے خُوب لکھ دیا قرآنِ نعت ہے




خوشبو ہے ذہن میں مری سانسیں ہیں عطر بیز
قرآں کو چشمِ دل سے ذرا پڑھ کے دیکھئے


گردِ مشام بوئے گلستانِ نعت ہے
ہر ایک لفظ لؤلؤ و مرجانِ نعت ہے




زیور ٹٹولتی ہوں نہ زر ڈھونڈھتی ہوں میں
سُن کر یقولُ ناعتُ آئے ہیں صف بہ صف
دل کو تو میرے ہر گھڑی ارمانِ نعت ہے


ہم کو علی کی بات ہی پیمانِ نعت ہے


پڑھ کر تو دیکھئے ذرا نعتیں رسول کی


کس طرح جاری آج بھی فیضانِ نعت ہے
رومی کہیں پہ سعدی و جامی بھی دل بکف


یہ کارواں مقلّدِ حسّانِ نعت ہے


سجتی ہیں میرے قلب میں نعتوں کی محفلیں
رابیل دل یہ دل نہیں ایوانِ نعت ہے


===== [[ لیاقت علی عاصم]]، [[ کراچی ]] =====
ہم جی رہے ہیں نعت کے عہدِ نصیر میں


اسمِ رسولِ پاک کا عنوانِ نعت ہے
چاروں طرف حضور کا فیضانِ نعت ہے


عنوانِ نعت ہی نہیں دیوانِ نعت ہے


نوری ہے تیرے لفظوں کی مبلغ بساط کیا


اے اسپِ تیز شان رقم دیکھ ہوشیار
تیرے دل و دماغ پہ احسانِ نعت ہے


یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے
===== [[ظہیر قندیل]]، [[حسن ابدال]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد ظہیر قندیل


اجمال یہ کہ حسن ہی عنوانِ نعت ہے


جائز نہیں ہے اعلٰی و ادنٰی کی اصطلاح
تفصیل یہ کہ دہر ، دبستانِ نعت ہے


ہم لکھنے والوں پر یہی فیضانِ نعت ہے


’’ہر شعبۂ حیات میں امکان ِ نعت ہے‘‘


دنیا کی دھوپ دل کو برے چُھو نہ پائے گی
کافی ہے یہ ثبوت کہ فیضانِ نعت ہے


قالب پر میرے سایہِ دامانِ نعت ہے


بخشش کوروزِ حشر میں، سامانِ نعت ہے


عصرِ رواں ہو یا کہ وہ عہدِ گزشتہ ہو
کیا فکر ہوکہ ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


اس کا غلام ہوں جو سلطانِ نعت ہے


تشبیہ، استعارہ، کنایہ ، مجاز، رمز


نقاد تھام لے کہ کوئی نکتہ دانِ شعر
ملتا نہیں بیان، جو شایانِ نعت ہے


ہموار سب کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے


چوموں اسے کہ دل میں بٹھاؤں میں لفظ کو


دراصل نعت خواں ہے موذٌِن کہیں جسے
خاطر کروں نہ کیوں کہ یہ مہمانِ نعت ہے


یعنی اذان بھی کوئ اعلان ِ نعت ہے


===== [[مبشر صائم علوی]]، [[حاصل پور]]، [[پاکستان]] =====
مانو ! یہاں پہ جیت سبھی کو ہوئی نصیب
مکمل نام : ملک مبشر صائم علوی


اپنا تو فخر زیست میں دیوانِ نعت ہے
جیتو، مرے حریف یہ میدانِ نعت ہے


اپنی تو آن بان فقط شانِ نعت ہے


میں نے گزاری عمر کسی اور کے لیے


اہلِ سخن سنبھل کے، یہ عنوانِ نعت ہے
میراوہی ہے وقت جو قربانِ نعت ہے


چلیے ٹھہر ٹھہر کے، یہ میدانِ نعت ہے


بے حس کا دل گداز نہ ہو، کیا مجال ہے


اہلِ خرد پہ بات یہ کھُل کر عیاں ہوئی
پتھر پگھل گئے ہیں یہ ایقانِ نعت ہے


بخشش کا گہرِتاب تو پنہانِ نعت ہے


ہے سلسلہ ازل سے ابدتک جڑا ہوا


اس دن سے ہوگیا ہوں مقدر کا میں دھنی
موتی نکل رہے ہیں ، یہی کانِ نعت ہے


جس دن سے میری فکر پہ بارانِ نعت ہے


سجدے میں سر جھکاتے ہیں مومن نماز میں


منزل بھی ایسے شخص کی رہتی ہے منتظر
جس میں جھکی ہے روح وہ ایوانِ نعت ہے  


جس کو تلاشِ گوشہءبستانِ نعت ہے


قندیلؔ تم کو داد ملے گی ، یقین ہے


صلِّ علٰی کی لوریاں ماوں سےہیں ملی
لیکن ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے


ہر بچہ بچہ اس لئے قربانِ نعت ہے
===== [[عادل یزدانی]]، [[چنیوٹ]]، [[پاکستان]] =====
دل میں سبھی کے جاگا جو ارمانِ نعت ہے  


سارے کا سارا اصل میں فیضانِ نعت ہے


عزت، وقار ، و منزلت اس کا ہے پیرہن


جو شخص بھی یہاں پہ نگہبانِ نعت ہے
قرآنِ پاک سمجھوں نہ مَیں اُس کو کس لیے


درکار جس کلام کو جُزدانِ نعت ہے


ایسے لگا میں اور ہی دنیا میں ہوں مکیں


یہ کیفیت بنی مری دورانِ نعت ہے
سُوئے مدینہ دھیان رہے بزمِ نعت میں


یہ احترامِ نعت ہے یہ شانِ نعت ہے


وقتِ نشور حکم ہو اے کاش اس طرح


اُس دل کو لاو جس میں کہ ارمانِ نعت ہے
اُس ہاتھ کی رسائی کا عالم نہ پوچھیئے


جس ہاتھ کے نصیب میں دامانِ نعت ہے


عیبوں کو میرے ڈھانپ کے رکھتی ہے ہر گھڑی


صائم کے سر پہ چادرِ احسانِ نعت ہے
لاریب ہے وہ قُربِ الٰہی کا مستحق


===== [[محبوب احمد]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
حاصل جسے ذرا سا بھی عرفانِ نعت ہے
مکمل نام : حافظ محبوب احمد


پھرعالمِ حضوری ہے،امکانِ نعت ہے


تیارپھرنزول کوقرآنِ نعت ہے
کام آ گئی ریاضتِ شعر و سخن مرے


ضامن مری نجات کا دیوانِ نعت


دھرتی ہوآسماں ہوکہ لاہوت ولامکاں


میری نگاہ میں سبھی سامانِ نعت ہے
وابستگی کا جس کی تمنّائی ہر کلیم


گلزارِ نعت ہے ، وہ دبستانِ نعت ہے


ہر پھول کی مہک سےمعنبر ہے کائنات


کیا پر بہار صحنِ گلستانِ نعت ہے
آئینِ عشقِ احمدِ مُرسل کی پیروی


اظہارِ حُبِ دین ہے اعلانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں سیرت ہے جلوہ گر


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
عادِل وہ دل ہی پائے گا رُتبہ شہید کا


ہر پل بہ صد نیاز جو قربانِ نعت ہے


ہر حرفِ نعت صورتِ خاور ہے ضوفشاں
===== [[عارف امام]]، [[امریکہ]] =====


ایوانِ نور ہے کہ یہ دیوانِ نعت ہے
عالم تمام حلقۂ دورانِ نعت ہے


اعلانِ کُن کے “ن” میں اعلانِ نعت ہے


لوح وقلم بدست ہے ہر ایک نغزگو


جوبن پہ آج اپنے دبستانِ نعت ہے
ملتی ہے عاجزی سے یہاں شعر کو اُٹھان


گردن جُھکا کے چل کہ یہ میدانِ نعت ہے


آئےہےحرف حرف سے صلِّ علیٰ کی گونج


پایا درِ حضور سے فیضانِ نعت ہے
پُر پیچ تو نہیں ہے مگر سہل بھی نہیں


اے راہ رو سنبھل! یہ خیابانِ نعت ہے


نعلینِ شاہ سے ہیں ہوئی تاج پوشیاں


گفتہ مرابھی صاحبو!سلطانِ نعت ہے
سرنامۂ کلام ہیں اوصافِ مصطفیٰ ص


گویا کتابِ حق ہی دبستانِ نعت ہے


ہر حرف ضوفشاں ہے شبِ ماہ کی طرح


اے لذّتِ فنا! یہ شبستانِ نعت ہے
مدحِ نبی ص ہے نغمۂ تارِ نفس مدام


میں سانس لے رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے


فکرونظرکےیہ بڑےمشکل ہیں مرحلے


یہ ہے حرائے نعت، یہ فارانِ نعت ہے
سایہ ہے اِس سخن کا مِرے سر پہ تو مجھے


===== [[محبوب علی جوہر]] =====
میدانِ حشر وادئ فارانِ نعت ہے
ان کے تو پاس سایہء دامانِ نعت ہے


رحم و کرم بھی ورثہ خاصانِ نعت ہے


اس دائرے سے دور نکل اے خیالِ دہر


پیران عشق احمد و حامد کہیں جسے
حّدِ ادب! یہ بزمِ سخن دانِ نعت ہے


اس مصطفی کا نام ہی وجدان نعت ہے


خطبے میں جس نے دفترِ الحمد وا کِیا


احسن ہر اک لحاظ سے حضرتؐ کی ذات ہے  
تاریخ نے کہا وہ حدی خوانِ نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


کوثر سے منسلک ہے یہاں کی ہر اک رَوِش


روح القدس ،ہوں خلد کی خوشبوئیں ،رونقیں
یہ باغِ منقبت یہ گلستانِ نعت ہے


کتنا عظیم تر ترا سامانِ نعت ہے
===== [[عارف قادری]]، [[واہ کینٹ]]، [[پاکستان]] =====
پھیلا ہُوا جہان میں فیضانِ نعت ہے


جو جو کرم ہے جس پہ، وہ احسانِ نعت ہے


مجھ سے کہا گیا کہ ہوں صدقہ حضور ؐ کا


بابا سے مجھکو اس لیے پیمانِ نعت ہے
جاں ہے فداۓ مدحِ پیمبر، زہے نصیب


خُوش بخت ہوں، کہ دِل مِرا قُربانِ نعت ہے


ہم پستیوں کے باسی ،کہاں تک رسائی ہو


بس ایک عرش ہی ترے شایانِ نعت ہے
یُوں ہی نہیں ہے وقت کی گردش تھمی ہُوٸی


جاری مِری زبان پہ گَردانِ نعت ہے


ہر ایک کھا رہا ہے جو صدقہ رسول ؐ کا


ہر ایک اس لحاظ سے مہمانِ نعت ہے
مانا اَدَب میں صِنفِ غزل بھی ہے صِنفِ خاص


دیکھیں دِلِ سخن میں، تو ارمانِ نعت ہے


ہیں نعمتیں کروڑوں پر ان میں عظیم تر


خالق کا ایک مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
آنا ذرا سنبھل کے مِرے شاعرِ عزیز


===== [[مجاہد علی]]، [[لاہور ]] =====
حسّاس ہے بہت، کہ یہ میدانِ نعت ہے


میں اور مرے حروف کی قیمت نہیں حضور
ربِّ جہاں ہی ربِّ دبستانِ نعت ہے


دِل کا گُداز، اشکِ تپیدہ، جگر کا سوز


اِس راستے پہ عقل نہیں عشق چاہئیے
بہرِ قبول بس یہی سامانِ نعت ہے


اے دل ذرا سنبھل کہ یہ میدان ِ نعت ہے


===== [[محمد باقر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
سب داٸرے مُحیطِ عطاۓ حضور ہیں
مکمل نام : سید محمّد باقر


کتنا وسیع حلقہء دامان ِ نعت ہے
”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


"ہر شعبہء حیات میں امکان ِ نعت ہے"


خُلدِ بریں کی مُجھ پہ حقیقت بھی کُھل گٸی


اگتے ہیں اِس میں پھول ثناۓ رسول کے
پُر کیف و پُر بہار گُلستانِ نعت ہے


دل کی زمین ہے کہ خیابان ِ نعت ہے


مِلتی نہیں ہر ایک کو عارف یہ روشنی


تابش سے جس کی خیمہء عالم ہے ضوفشاں
قسمت کا ہے دھنی جسے عرفانِ نعت ہے


سورج نہیں یہ گوہر ِ تابان ِ نعت ہے
===== [[عاصم زیدی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے  


لیکن زہے نصیب کو عرفانِ نعت ہے


اُن ص کے کرم سے دفتر ِ مدحت پہ آگیا


وہ حرف ِ بے نظیر جو شایان ِ نعت ہے
"کُن" کی صدا کا اُٹھنا تو عنوانِ نعت تھا


ظاہر ہوا جو "کُن" سے وہ دیوانِ نعت ہے


پاس ِ ادب ، سلیقہء الفاظ ، عاجزی


وارفتگیء شوق میں سامان ِ نعت ہے
قرآن پڑھ رہا ہے قصیدے رسول ؐ کے


یعنی کہ "بے نیاز" کو ارمانِ نعت ہے


صَد شُکر میں سخن میں مُقلّد اُسی کا ہوں


وہ رشک ِ بوتراب ع جو سُلطان ِ نعت ہے
شاعر تو کر رہا ہے اٙدا سُنّتِ خدا


ورنہ "احد" کی ذات ہی شایانِ نعت ہے


باقر ہمیں ملے گا ریاض ِ جناں میں گھر


گُلزار ِ ہست و بُود میں اعلان ِ نعت ہے
شانوں پہ کاتبین نے آرام کرلیا


===== [[محمد علی حارث]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
بس لکھ دیا کہ یہ ابھی دورانِ نعت ہے
میرے خیال میں یہی فیضان نعت ہے


عشاق کو ملا جو یہ دیوان نعت ہے


منکر نکیر اُس سے ملیں گے بصد ادب


کیوں آج تک احاطہ نہیں ان سے ہو سکا
تقدیر میں عطا جسے فیضانِ نعت ہے


حیراں ہیں عقل والے بھی کیا شان نعت ہے


کیونکر بھٹک سکے گا رٙہِ مستقیم سے


اس پر نزول ہوتا ہے رحمت کا عمر بھر
عاصم ترے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامان نعت ہے
===== [[عاکف غنی]]، [[پیرس]] =====
وردِ درود لب پہ ہے ،وجدانِ نعت ہے


عشقِ نبی ہے دل میں تو امکانِ نعت ہے


یعنی درود اور سلام ان کی ذات پر


بخشش کے واسطے ملا سامان ِ نعت ہے
لاؤں اثر کہاں سے میں اپنے کلام میں


اسلوبِ فن کہاں مرا شایانِ نعت ہے


وہ ذات کارساز ہے کوشش تو کیجیے


“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”
اس کے قلم سے نعت کی پھوٹے گی روشنی


جس کے دل و نگاہ میں عرفانِ نعت ہے


حارث گنہگار خطاکار ہے مگر


صد شکر اس خدا کا غلامان نعت ہے
مدحت کروڑ ہا ہیں جو کرتے ہیں آپ کی


===== [[محمد شاہ ہمدانی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
ان میں سے میں بھی ہوں جسے ارمانِ نعت ہے
مکمل نام : سید محمد شاہ ہمدانی


اب روح اور سانس بھی گردانِ نعت ہے


سو زندگی وہی ہے جو قربانِ نعت ہے
لفظوں کا انتخاب کریں دیکھ بھال کر


محتاط اہلِ فن کہ یہ میدانِ نعت ہے


عشق ِ رسول ہی مِرا سامانِ نعت ہے


اس کے طفیل مل گیا فیضانِ نعت ہے
حسنِ سلوک آپ کا ہر اک سے ایک سا


ہر قول و فعل آپ کا عنوانِ نعت ہے


کرتا رہا وظیفہ درودو سلام کا


اس وقت کی وہ خامشی گردانِ نعت ہے
کہنے لگا جو نعت میں آتا گیا نکھار


لفظوں پہ میرے دیکھیے بارانِ نعت ہے


اللہ کے ولی نے بتائی مجھے یہ بات
===== [[عائشہ ناز]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
موضوعِ گفتگو مرا اب شانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
کتنا مرے سخن پہ یہ احسانِ نعت ہے  




مجھ کو ذرا بھی خوف نہیں پل صراط کا
سب کے نصیب میں کہاں عرفانِ نعت ہے


امداد میں رسول کی فیضانِ نعت ہے
صد شکر دل محبِّ محبانِ نعت ہے  




دن رات بھیجتا ہوں شہِ طیبہ پر سلام
بتلا رہا ہے اسم ِمحمّد ﷺ کہ حشر تک


بس آخرت کو پاس یہ سامانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے  




ہر اشک کے سبب مرے اشعار ہوگئے
ان کی صفات کیسے بیاں کر سکے  کوئی


اتنا حسیں تبھی مرا دیوانِ نعت ہے
کہہ کر بھی نعت قلب کو ارمانِ نعت ہے




اظہارِ عشق کرتا ہوں سرکار سے میں خوب
رکھی ہوئی ہیں اس میں ادب سے سنبھال کر


ہوتی ہے دلبری سبھی، دورانِ نعت ہے
دل جس کو آپ سمجھے وہ جزدانِ نعت ہے  




تم چشمِ دل سے گنبد ِخضری کو دیکھتے
اس کی گلی گلی میں ہے مہکار نعت کی


خلدِ بریں کا ٹکڑا یہ، ایوانِ نعت ہے
یہ ارضِ پاک میری گلستانِ نعت ہے


===== [[عباس رضا نیر]]، [[لکھنو]]، [[پاکستان]] =====


دن رات بھیجتے رہو ان پر سلام تم
بشکریہ : [[کاشف حیدر]]


میرا عقیدہ ہے ؛یہی رحمانِ نعت ہے
دنیا کی ہر زبان پہ احسانِ نعت ہے  


جو شان حمد کی ہے وہی شانِ نعت ہے


جلوے رسول کے ہیں میسر مجھے مدام


لوگو میں جانتا ہوں ؛کہ امکانِ نعت ہے
یس دل ہے عشقِ رسالت ماب کا


الحمد جس کو کہتے ہیں وہ جانِ نعت ہے


اشکوں سے نعت کہتا رہا ہوں رسول کی


کتنا سکون مل گیا ؛ دورانِ نعت ہے
حق کی نظر میں اشرفِ مخلوق ہے وہی


تھوڑا بہت سہی جسے عرفانِ نعت ہے


خلدِ بریں اسی کی ہے آمد کی منتظر


جس شخص کا عقیدہ ہے؛ ایمانِ نعت ہے
یوں سینچ کر گیا ہے اسے اسکا باغباں


بے خار و بے خزاں چمنستانِ نعت ہے


دن رات سوچتا ہوں پیمبر کی شان میں


ہر ایک شعر میرا یوں؛ مہمانِ نعت ہے
اے موجدِ ثنائے پیمبر تری ثنا


ہم قاریوں کے واسطے قرآنِ نعت ہے


اللہ سے یہی ہے دعا، نعت کہہ سکوں


اک زیست بھر رہا مجھے ارمانِ نعت ہے
آپس میں بات کرتے ہیں میرے دل و دماغ


میں بوذرِ ثنا ہوں تو سلمانِ نعت ہے


چرچا انہی کے صدقے محمد شہا ہے سب


میری حیات بن گئی عنوان ِ نعت ہے
پروردگارِ انفس و آفاق کی قسم


===== [[مرزا حفیظ اوج]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
اصل الاصول بندگی عرفانِ نعت ھے


یارب وہ فکر دے کہ جوٰ شایانِ نعت ھے


یا صاحب الجمال و یا سید البشر


یہ رفعتِ خیال ، یہ پاکیزگئ فکر
تیرے حوالے میرا دبستانِ نعت ہے


مدحت سپاس ذوق یہ، فیضانِ نعت ھے


ہم کیا کریں گے لے کے جہاں کی وزارتیں


ہر شعبۂ حیات ترے لطف کا رہین
نیئر ہمارے پاس قلمدانِ نعت ہے


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ھے
===== [[عباس عدیم قریشی]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
انکی عطا ہے اور مرا دامانِ نعت ہے


یعنی زمینِ خشک پہ بارانِ نعت ہے


سرسبز و شاد رکھے خدا اہلِ عشق کو


عشاق کی زبان گلستانِ نعت ہے
فکرِ سخن ، رضا کے تکلّم کی بھیک بس


طرزِ سخن فقیر کا فیضانِ نعت ہے


اپنی تو جستجو کا خلاصہ یہی ہے اوج


جو کچھ ھے کائنات میں امکانِ نعت ھے
ملحوظ حدّ ِ شرع و سیرت رکھی فقط


===== [[مسعود ساموں]]، [[بانڈی پورہ]]، [[ کشمیر ]]، [[انڈیا]] =====
دعویٰ نہیں ہے حاشا ، کہ عرفانِ نعت ہے


حسن خیال سلسلہ جنبان نعت ہے


اک سلسلۂ نور بدامان نعت ہے
مجھ پر جو حرف و معنی کے دفتر ہوئے ہیں وا


یہ اہلیت نہیں مری ، احسانِ نعت ہے


اسوہ جنابؐ کا جو حسن ہے تو لازماً


’’ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے‘‘
کچھ ان بہے سے اشک ہیں ، کچھ بےصدا سے لفظ


کاسے میں مجھ گدا کے یہ سامانِ نعت ہے


ہاں اے سمند شوق سنبھل کر قدم بڑھا


آساں نہیں یہ جادۂ پیچان نعت ہے
تغسیلِ نور کر کے اترتے ہیں یاں خیال


یہ مہبطِ جمال ہے ، میدانِ نعت ہے


ہشیار خامہ! سجدے میں لغزش کوئی نہ ہو


ہاں چل کشاں کشاں یہ خیابان نعت ہے
یاں قدرتِ سخن نہیں ، توفیقِ نعت مانگ


غالب ہیں ہاتھ باندھے ، یہ ایوانِ نعت ہے


ملحوظ انتہاے ادب رکھ جنابؐ میں


شان نبیؐ کا ذکر ہے ایوان نعت ہے
ہر لمحہ ہوں درود سپاس انکی چاہ میں
ہر لمحہ ان کے لطف سے قربانِ نعت ہے




نیچی نگہ خمیدہ بدن چشم باوضو
کہنے کی بات ہے نہ بتانے کا حوصلہ


لرزیدہ جاں ہو ہاں یہی شایان نعت ہے
جتنا کرم فقیر پہ دورانِ نعت ہے




ساموںؔ ثنا کے پھول عقیدت کی پتّیاں
ماخوذ ہو حیات جو سیرت سے شاہ کی
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


پاے نبیؐ میں رکھ یہی سامان نعت ہے


بشکریہ : غلام فرید واصل
حسّان و رومی ، جامی کا صدقہ ہے یہ عدیم


===== [[مشاہد رضا عبید]]، [[گوندا]]، [[انڈیا]] =====
توفیقِ نعت جس کو ہے حسّانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد مشاہد رضا عبید القادری


درمانِ درد نغمۂ ذی شانِ نعت ہے
===== [[عبدالامین برکاتی]]، [[ویراول,گجرات]]، [[انڈیا]] =====


قلبِ حزیں فدائے اسیرانِ نعت ہے
پیشکش: [[غلام جیلانی سحر]]


جاری جہاں میں آج بھی فیضانِ نعت ہے


يارب! کبھی یہ دور و تسلسل نہ ختم ہو
ہر شخص کی حیات ہی عنوانِ نعت ہے


بے پایاں دل میں جذبہ وارمانِ نعت ہے


یہ شان مصطفی کی ہے حمدِ خدا کے بعد


عشقِ رسول خود ہی بناتا ہے راستے
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


حسنِ عمل تو پاس مرے کچھ نہیں مگر


پیارے رضا نےکرکے یہ سب کو دکھادیا
بخشش کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


دیکھو پلٹ کے تم بھی تو قرآں کے پاروں کو


جس کو نہ چھوسکےکبھی بادِ خزاں کاہاتھ
کرتا ہے مدح رب بھی جو سلطانِ نعت ہے


ایسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے


آئے نظر جو لفظوں میں عشقِ رسولِ پاک


یونہی نہیں امڈ پڑی یہ کائنات عشق
لکھوں میں ایسی نعت جو شایانِ نعت ہے


کوثر بداماں چشمۂ حیوانِ نعت ہے


نغمے غزل کے چھوڑ کے ایوانِ نعت میں


ہر درد بھول کر جو مچلنا ہوا نصیب
ہر سمت آج دیکھیے طوفانِ نعت ہے


محبوبِ رب کا صدقہ ہے، فیضانِ نعت ہے


جو کچھ لکھا امین نے وہ تو ہے مختصر


دل جگمگارہے ہیں ، چمکتے ہیں حوصلے
جامع ہے سب میں جو وہ تو قرآنِ نعت ہے


روشن یہاں پہ شمعِ شبستانِ نعت ہے


رکھنا قدم سنبھل کے امینِ حزیں ذرا


راحت رساں ، قرار نشاں ، مرحمت فشاں
میدانِ نعت ہے ! ہاں یہ میدانِ نعت ہے !


کیا دل نواز نغمۂ مرغانِ نعت ہے
===== [[عبد الباسط]]، [[ ٹوبہ ٹیک سنگھ]]، [[پاکستان]] =====
یہ کائنات سر بسر سامانِ نعت ہے


وہ خوش نصیب ہےجسے عرفانِ نعت ہے


رزقِ ثنا میں حصہ ہمارا بھی ہے عبید


از فرش تا بعرش سجا خوانِ نعت ہے
اللہ کا ہے فرمان کانَ خلقہ القرآن


===== [[مشاہد رضوی]]، [[میلگاؤں]]، [[انڈیا]] =====
یعنی قرآنِ پاک بھی اعلانِ نعت ہے
میرے لبوں پہ نغمۂ ذیشانِ نعت ہے  


"ہر گوشۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


میرے لبوں پہ رہتا ہے ذکرِ حضورِ پاک


میرے شعور و فکر کو بالیدگی ملی
مجھ پر یہ احسان بہ فیضانِ نعت ہے


لاریب مجھ پہ دوستو فیضانِ نعت ہے


آقا ہیں میرے باعثِ تخلیقِ کائنات


اس کی نجات کے لیے ساماں بنے گی نعت
یہ کائنات سمجھیے دیوانِ نعت ہے


جس کو ہوا نصیب سے عرفانِ نعت ہے


ہراک نفس پہ قرض ہے مدح حضور کی


ظاہر کے ساتھ ہوگیا باطن بھی مستنیر
ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے
جس کا خیال و فکر ہی عنوانِ نعت ہے


===== [[عبدالجلیل]]، [[كوہاٹ]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : حافظ محمّد عبدالجلیل


روزِ ازل سے بالیقیں ایقان ہے مرا
انوار سے سَجا ُہوا ایوانِ نعت ہے


پھولا پھلا ہمیشہ خیابانِ نعت ہے
مِدحت مِرےحضورؐ كی عرفانِ نعت ہے  




ہر ہر ورق پہ نقش ہے سیرت حضور کی
طیبہ كی ہر گلی میں ہے مہكار اس لیۓ


قرآنِ پاک سارا دبستانِ نعت ہے
ہر گام پر كِھلا ہُوا بُستانِ نعت ہے




مجھ پر ہوئی حضور کی لاکھوں عنایتیں
قرآنِ پاك ذكر ہے خُلق عظیم كا


ہاتھوں میں میرے خیر سے دیوانِ نعت ہے
اس كا ہر ایك لفظ ہی عُنوانِ نعت ہے




دیدارِ مصطفیٰ ہو میسر خدا کرے
ہر شعبہ حیات نے پائی ہے روشنی


اس خواب کے لیے مجھے ارمانِ نعت ہے
”ہر شعبہ حیات میں امكانِ نعت ہے "




مضمونِ نعت میں نہ ہو کچھ بھی مبالغہ
ذكرِ حبیبِ كبیریا ہے جلوہ گر یہاں
باہوش رہ کے چلیے یہ میدانِ نعت ہے


صد شكر ہےكہ دل مِرا جزدانِ نعت ہے


مجھ پہ رضا کے حُسنِ تخیل کی ہے عطا


حاصل جو مجھ کو ہوگیا وجدانِ نعت ہے
میں كیوں كہوں كہ مُفلس و نادار ہوں جلیل


زادِ سفر میں جب مِرے سامانِ نعت ہے


اہلِ وِلا کا پیار مُشاہد کو جو ملا
===== [[عبد الحلیم]]، [[ گونڈہ]]، [[بھارت]] =====
فکر و نظر شعور میں فیضانِ نعت ہے


سچ پوچھیے تو اس پہ یہ احسانِ نعت ہے
جو کچھ ہے میرے پاس وہ احسانِ نعت ہے


===== [[مصعب شاہین]]، [[میانوالی]]، [[پاکستان]] =====
یزداں کا خاص فضل ہے, میلانِ نعت ہے


'ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے'
اللٰہ کے رسول کا احسان دیکھئے


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


احساس, لفظ, لہجہ و گفتار عنبری


کیونکر نہ ہونگے؟دل جو گلستانِ نعت ہے
تسکین قلب کے لئے نعت رسول بس


میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے


انؐ کی ثنا کے نور سے روشن مرا سخن


الحمد, بزمِ فکر, قلمدانِ نعت ہے
ابر کرم حضور کا برسا ہے ہر جگہ


اس واسطے جہاں یہ گلستانِ نعت ہے


عشقِ نبیِ پاکؐ رگ و پے میں ہے مرے


جاں میں بصورتِ لہو اک کانِ نعت ہے
آنکھوں میں اشک دل میں وِلا لب پہ ان کا نام


ہمراہ میرے بس یہی سامانِ نعت ہے


کلیاں چٹک رہی ہیں بہ الفاظِ خوشنما


صبحِ گمان سیرِ خیابانِ نعت ہے
جنبش قلم کو خوب ادب سے دیا کرو


لازم ہے احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


پاکیزہ قلب, پاک تخیل, طہور لفظ


اسلوبِ خوش بیان ہی شایانِ نعت ہے
عبدالحلیم جیسے بھی لکھتے ہیں ان کی نعت


کتنا وسیع دیکھئے دامانِ نعت ہے


اوجِ ادب ہے, وجد ہے, سرمستِ عجز ہوں
===== [[عبد الرحمان ناصر]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
یہ وحی کا نزول تو باران نعت ہے


سرشارِ اطمینان ہوں, فیضانِ نعت ہے
قرآں کاحرف حرف ہی دیوان نعت ہے




کرتا ہے آبیاریِ گلزارِ مصطفیٰ ؐ
احجار نے بھی نطق کیا مدحِ آقا میں


مصعب, تو خوش نصیب ہے, دہقانِ نعت ہے
سو طاری بے زباں پہ بھی وجدانِ نعت ہے


===== [[مطلوب الرسول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
حاصل جو کائنات کو میلان نعت ہے


ہرشعبہء حیات میں امکان نعت ہے
بن کے کھڑے ہیں مقتدی جو پہلے آے تھے


ہاں معشرِ رُسُل میں یہ اعلانِ نعت ہے


لازم نہیں زبانِ قلم سے کریں بیاں


ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
ہر ذرۂ حیات ہے "لولاک" سے رواں


ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


محتاط اہل فن کہ ہے دربار نعت یہ


ان کا ادب ہی اصل میں دربان نعت ہے
الفاظ چن تو لوح سے سدرہ سے لے خیال


پر جلتے ہیں جہاں وہاں سامانِ نعت ہے


وہ دل بھی اک طرح سے مدینہ ہے دوستو


جس دل میں صبح وشام ہی ارمان نعت ہے
ناصر تو نعت لکھ, ندا آے گی حشر میں  


جانے دو بے حساب یہ حسانِ نعت ہے.


حسان ہوں یا عرفی وجامی ہوں یا رضا
===== [[عبدالرحیم ارحم]]، [[حیدر آباد]]، [[سندھ]]، [[پاکستان]] =====
ظاہر کلام رب سے جو فرمانِ نعت ہے


جذب و وفورو شوق ہی میزان نعت ہے
تاحشروا یونہی در امکانِ نعت ہے  




رحم وکرم، مروت و جود وسخا و صدق
شان رسول پاکﷺ میں قرآں کاحرف حرف


سیرت پہ گفتگو ہی توجزدان نعت ہے
لولوٸے نعت ہے کوٸی مر جانِ نعت ہے  




محبوب کوخبرہے کہ عاشق ہے کون کون
ہرآن ہو جوپیش نظراسوہٕ رسول


ان کی نظر میں ہوں کہ یہ احسان نعت ہے
ہرشعبہٕ حیات میں امکانِ نعت ہے  




یا ایھاالمزمل و یا ایھاالنبی
مرقد میں میرے آکے فرشتے خموش تھے


قرآن بھی تو دیکھو گلستان نعت ہے
دیکھا جو میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے  




ہرلفظ میری سوچ کا خوشبو میں ڈھل گیا
عشق نبیﷺ ہی پیش خدا سرخ رو کرے


میں کیوں نہ مان لوں کہ یہ فیضان نعت ہے
عشق نبی ﷺ ہی تاررگ جان نعت ہے  




شق قمر ہو اسری ومعراج ہویا حسن
دل میں مرے جو روشنی یاد نبیﷺ کی ہے


ان کا ہرایک معجزہ ہی جان نعت ہے
اللہ کا کرم ہے یہ احسان نعت ہے  




حب نبی سے خالی ہو دل جس کا اے قمر
عزم سفر ہے جانب طیبہ مرا ، کہ واں


اس کو کہاں خبر ہو وہ کیا جانے نعت ہے
موجود گام گام پہ سامان نعت ہے


===== [[مظہر فرید بابا]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
===== عبد الغفار، حافظ =====
میں کیا بتاؤں یارو کیا شان نعت ہے


قرآنِ پاک سارا سامانِ نعت ہے
رب کی عطائے خاص ہے  احسانِ نعت ہے
سو بار شکر مجھکو بھی عرفانِ نعت ہے  


اقا عطا ھوں لفظ جو سب سے ھوں منفرد
اک عرصہِ دراز سے ارمان ِ نعت ہے


مجھ پر کرم ہوا ہے جو یہ نعت لکھ رہا ہوں
عشق و شعور و فہم و خرد ہو تو باالیقیں
" ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


ورنہ کہاں یہ عاصی، کہاں تانِ نعت ہے
نظم و غزل کا شوق نہ شہرت کی آرزو
مقصد میری حیات کا دیوانِ نعت ہے  


یہ نام یہ مقام یہ عزت یہ آبرو
جو کچھ بھی میرے پاس ہے  فیضانِ نعت ہے


آقا کی ہر ادا ہے معراجِ آدمیّت
واجد نے عہد جب سے کیا ان کی نعت کا
دل کی زمیں پہ تب سے ہی بارانِ نعت ہے


"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
حافظ عبدالغفار واجد


===== [[عبد الغنی تائب]]، [[حافظ آباد]]، [[پاکستان]] =====
علم و ادب میں منفرد یہ شان نعت ہے


دل سے پڑھو درود محمد کی ذات پر
مدح و ثنائے مصطفی' ایوان نعت ہے


مظہر درود پاک ہی تو جانِ نعت ہے


===== [[مفتاح الحسن چشتی]]، [[فافوند]]، [[انڈیا]] =====
پھیلی ہوئی ہے چار سو خوشبوئے جاں فزا
سرکار کا کرم ہے یہ احسانِ نعت ہے


ہمراہ میرے ہر گھڑی فیضانِ نعت ہے
ارض ہنر پہ کھل پڑا بستان نعت ہے




کردار کہہ رہا ہے یہ اصحابِ شاہ کا
وارفتگیء شوق ہے ، بیدار بخت ہے


ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
یہ جان لو کہ صدقہ و فیضان نعت ہے




کھلنے لگے ہیں روز ہی چمپا سمن گلاب
ہے میرے پاس جو زر عشق رسول پاک


جب سے زمین قلب پہ بارانِ نعت ہے
اک فیض بار قطرہء باران نعت ہے




ہر واصفِ حضور نے آخر میں یہ کہا
تسکین قلب و جان ہے یاد شہ رسل


قرآں میں ان کا ذکر ہی شایانِ نعت ہے
ذکر حبیب آن سخن، جان نعت ہے




خورشیدِحشرسُن،ہمیں آنکھیں نہ تودکھا
تائید جبرائیل بھی مل جائے گی اسے


سر پر ہمارے سایہء دامانِ نعت ہے
کب سے دیار قلب میں ارمان نعت ہے




میں ہند میں ہوں ذہن ہے دربارِ شاہ میں
مقصود ہے جو چار سو ہو امن و آشتی


مجھ پر خدا کا فضل یہ دورانِ نعت ہے
" ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"




محوِ ثنائے سیدِ عالم ہے روز و شب
فتح و ظفر کا رستہ ، ہے امید کی کرن


رب کی عطاسےجسکوبھی عرفانِ نعت ہے
بخشش کا آسرا یہی سامان نعت ہے




لغزش ہوئی ذرا سی تو ہو جاؤ گے ہلاک
اخلاص کی مہک ہو ، موءدت کی چاندنی


مفتاح ہوش باش یہ میدانِ نعت ہے
لائو وہ حرف و صوت جو شایان نعت ہے


===== [[مقصود احمد]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
نطق و قلم کو میرے بھی ارمانِ نعت ہے


لیکن نصیب کب مجھے عرفانِ نعت ہے
رزق سخن ہے نکہت طیبہ سے مشکبو


توفیق شعر گوئی بھی احسان نعت ہے


توصیف کے کھلے ہوئے ہیں گل سطر سطر


قرآن رب کا سارا گلستان ِ نعت ہے
تائب یہ فخر اوج سعادت سے کم نہیں


دست سخن شناس میں دامان نعت ہے


بھرتے رہیں گے تا با ابد عاشقِ رسول
===== [[عبدالقادر ہمدم قادری]]، [[گونڈہ]]، [[بھارت ]] =====


پھیلا ہوا ازل سے جو دامانِ نعت ہے
مکمل نام : انصاری عبدالقادر ہمدم قادری


رحمت ہے اُس پہ جو بھی قلمدانِ نعت ہے


ارض و سما بھی کرتے ہیں ان کی ثنا بیاں
صد شُکر ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے


ساری یہ کائنات بھی عنوان ِ نعت ہے


سرکار ﷺ کا کرم ہے فقط اور کچھ نہیں


ہر ذرہء زمیں پہ عنایت ہے آپ کی
قلب و جگر میں آج جو میلانِ نعت ہے


"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


سرکار ! یہ یقین ہے صدقے میں آپ کے


خالق بھی ہمنوا ہے ہمارا اسی طفیل
محفوظ میرے قلب میں ارمانِ نعت ہے


ہم عاشقوں پہ خاص یہ احسانِ نعت ہے


دل میں بسی ہے الفتِ سرکارِ ہر جہاں


کیسا ہی کوئی کیوں نہ ہو ماہر سخن طراز
قلب و جگر پہ دیکھئے بارانِ نعت ہے


مت جانو معتبر اگر انجان ِ نعت ہے


مجھ کو شعور کب ہے کہ نعتِ نبی لکھوں


پا جاتے ہیں نمو مرے فکر و خیال بھی
شکرِ خدا کہ آج یہ وجدانِ نعت ہے


ہر دم برستا مجھ پہ جو بارانِ نعت ہے


جرم و خطا کا‌ بوجھ مرے سر پہ ہے مگر


نوک ِ قلم پہ آتے ہیں الفاظ غیب سے
راہِ نجات کے لئے سامانِ نعت ہے


مقصود اور کیا ہے ، یہ فیضان ِ نعت ہے


===== [[مقصود علی شاہ]]، [[برمنگھم]]، [[برطانیہ]] =====
اعلیٰ ہے کتنی دیکھئے شانِ رسولِ پاک
مکمل نام : سید مقصود علی شاہ


ویسے تو ساری عمر ہی قُربانِ نعت ہے
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


واللہ پھر بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے


ہمدمؔ درودِ پاک پڑھو جھوم جھوم کر


سانسیں بدن میں سطریں ہیں مدحِ رسول کی
شایانِ نعت ہے یہی شایانِ نعت ہے


سامانِ زیست ہی مرا سامانِ نعت ہے
===== [[عبد اللہ خان آبرو علیمی]]، [[بلرام پور]]، [[بھارت]] =====


پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]


ہم سارے اُس کے در کی سلامی کو آئے ہیں


حسّان ایک ہے، جو کہ دربانِ نعت ہے
شکرِ خدا کہ روح پریشانِ نعت ہے


سرکار ! لطفِ خاص کہ عنوانِ نعت ہے


بس ایک حاضری کا سبب ہے، جو خُوب ہے


ورنہ تو کون ہے جسے عرفانِ نعت ہے
سرکار ! مجھ گنوار کی لاج آپ کے سپرد


کچھ زادِ آخرت ہے نہ سامانِ نعت ہے


سو سو طرح سے اُن کے کرم کے ہیں سلسلے


مجھ پر مرے کریم کا فیضانِ نعت ہے
سرکار ! آپ ہی کی عطا نعت اگائے گی


کشتِ سخن میں آپ سے امکانِ نعت ہے


سب اہلِ دل ہی جیسے اُسی کی پنہ میں ہیں


کتنا سُخن نواز یہ دامانِ نعت ہے
سرکار ! لطف آپ کا شامل رہے تو پھر


,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


مہکے ہیں چار سُو نئے رنگوں کے زمزمے


برسی زمینِ شوق پہ بارانِ نعت ہے
ہر ایک پھول رنگت و نکہت کا شاہ کار


قرآن کا, جو ایک گلستانِ نعت ہے


ہر صبحِ نو کی پہلی کرن سے یہی کھُلا


"ہر شُعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
امداد ان کی شانِ کریمی کی واہ واہ


لب ہائے خوش نصیب پہ گردانِ نعت ہے


پھر سے جو حاضری کا بُلاوا ہُوا مجھے


ممنونِ نعت پر بڑا احسانِ نعت ہے
ہمراہ ان کا عشق اگر ہے تو ٹھیک ہے


خطرے ہیں بے شمار,کہ میدانِ نعت ہے !!


تھامے ہیں اپنی اپنی کتابِ عمل تمام


مقصود میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
مجھ میں   کوئی کمال نہیں ہے اے آبروؔ!
===== [[میرزا امجد رازی]]، [[پاکستان]] =====
بندہ کہ فردِ نسلِ گدایانِ نعت ہے


پہچاں مری قبیلۂ حسّانِ نعت ہے
اک بے ہنر پہ بارشِ فیضانِ نعت ہے


===== [[عبید بخاری]]، [[لودھراں]]، [[پاکستان]] =====
خوش قسمتی سے مل گیا وجدانِ نعت ہے


ہر اِک جہاں کی غایتِ اولیٰ حضور ہیں
اب میں ہوں اور سَیرِ خیابانِ نعت ہے


ہر اِک ظہور حجّت و برہانِ نعت ہے


دل میں وفورِ عشقِ رسولِ کریم ہو


ہے شاخ شاخ بلبلِ سدرہ طواف میں
دشتِ سخن میں بس یہی سامانِ نعت ہے


مصحف خدا کا گلشنِ الوانِ نعت ہے


اسمِ گرامی آپ کا مشتق ہےحمد سے


اِک رمزِ" قُلْ"نےکھولاہےمجھ پریہ بابِ کشف
یعنی کہ نامِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


توحید عیشِ جلوۂ سامانِ نعت ہے


ہےنعت اپنی ذات میں یہ مصرعِ کمال


ہر "خطِّ سرنَوِشت " کا عنوان ہے یہی
”ہرشعبہ۶حیات میں امکانِ نعت ہے“


ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے
خوش دست وخوش قلم ہےوہ خوش فکروخوش کلام


جوبھی جہاں پہ صاحبِ دیوانِ نعت ہے


جس کو لہو لہو کرے سجدے میں تیغِ ہجر


وہ دل شہیدِ مصحفِ عثمانِ نعت ہے
ہو جاؤں وقفِ مدح تشکّر میں اے عبید


قدرت نے مجھ کو بخشا قلم دانِ نعت ہے


اِک " وصفِ لاتناہی " کہ جملہ صفات میں
===== [[عتیق الرحمان صفی]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
ہر فکر ہر خیال میں امکانِ نعت ہے


سُن لو سخنورو کہ یہی جانِ نعت ہے
مدحِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے




یعقوبِ فکر کو مری آنکھیں نہ کیوں ملیں
مجھ کو سخن عطا ہوا ہے برکتوں کے ساتھ


لفظوں میں بوۓ یوسفِ کنعانِ نعت ہے
یعنی کرم ہے رب کا جو فیضانِ نعت ہے




کس نے کہا کہ چاہیے آزادئ سخن
میں نعت اُن کے عشق میں لکھتا ہوں اور بس


دل تو ہمارا قیدئ زندانِ نعت ہے
دعویٰ مرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے




رازی وزیر ملکِ سخن میں ہوں اُس کا میں
مجھ ایسے کم سخن کو بھی عزت ملی ہے جو


احمد رضا وہی کہ جو سلطانِ نعت ہے
رب کی عطا کے بعد یہ احسانِ نعت ہے


===== [[نادر صدیقی]]، [[بوریوالا]]، [[پاکستان]] =====


قرآن پاک مطلع ِ دیوانِ نعت ہے
اک ایک حرف چومئے لکھنے سے پیشتر


اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے  
صد احترام کیجیے میدانِ نعت ہے




یہ خوش نصیب حافظ ِ قرآن ِ نعت ہے
سیرت کے پھول نعت میں چن چن کے ڈالیے


کیسا فقیر ِ نعت پہ احسانِ نعت ہے  
کتنا حسین دیکھئے سامانِ نعت ہے




صدشکر امتی ہے مسلمانِ نعت ہے  
تعریف رب خود آپ کی کرتا ہے اس لیے


مجھ سا گدا غلامِ غلامانِ نعت ہے  
ہستی مرے حضور کی شایانِ نعت ہے




کیسا حسین خانہءِ عرفانِ نعت ہے
انسان و جن، ملائکہ مدحت سرا ہیں سب


حسان ہے کہ بوذر و سلمانِ نعت ہے
اس کائناتِ نعت میں بارانِ نعت ہے




جس کو رسولِ پاک نے منبر عطا کیا
اردو کے بھاگ جاگ گئے آپ کے طفیل


حسانِ نعت ہے وہی سلطانِ نعت ہے
ہر لفظ خوش ہے یوں کہ وہ مہمانِ نعت ہے


===== [[ناصر حسین راضی]] , [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====


بشکریہ : [[ریاض قادری ]]
جب تک ہے سانس آپ کی کرتا رہوں گا مدح


عرش علی پہ جب ہوا پیماں نعت ہے  
میرا یہ اپنے آپ سے پیمانِ نعت ہے


لاگو ہوانمود پہ فرمان نعت ہے


اشعار اُن کی شان میں کہتے ہوئے صفیؔ


خود خالق حیات توسلطان نعت ہے  
لب پر درودِ پاک ہی دورانِ نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے  
===== [[عثمان محمود]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
عثمان زیر-سا یۂ دامان- نعت ہے  


یعنی دل-سیاہ میں امکان -نعت ہے


ہونٹوں پہ ہیں سکوت کے پہرے لگے مگر


دھڑکن یہ کہہ رہی ہے کہ میلان نعت ہے
ایسا سکون نظم و غزل میں کہیں نہیں


جیسا سکون اب مجھے دوران -نعت ہے


ہم کشتگاں کی جملہ تشفی کے واسطے


صلی علی نے کردیا درمان نعت ہے  
بعد از خدا عظیم محمد کی ذات ہے  


حمد -خدا کے بعد ہی فرمان -نعت ہے


مہکی حضوریاد کی خوشبو شعور میں


میلادجاں سے بن گیا گلدان نعت ہے  
قرآن میرے رب نے اتارا ہے آپ پر


قرآن ہی تو اصل میں دیوان -نعت ہے


محشر میں اپنی تنگی داماں کے خوف سے


پکڑابڑے وثوق سے دامان نعت ہے  
محدود کب ہے مد ح -نبی شاعری تلک


ہر شعبۂ حیات میں امکان -نعت ہے


اس کردگار شوق نے قرآں میں جو کیا


وہ اعتراف شوق ہی شایان نعت ہے
ہم سےزمانے بھر کی خزائیں ہیں دور دور


ہم پر سدا سے رحمت -باران -نعت ہے


تلخابہ حیات کی مستی کے واسطے


نازل ہوا حضور پہ دیوان نعت ہے  
تب سے ہوئی ہے ختم ہماری فسر دگی


آباد جب سے محفل -یاران -نعت ہے


بدرالدجی کا نور ہے ہر سمت جلوہ گر


پھیلاہوادیارمیں فیضان نعت ہے
امشب دھلیں گے داغ دل- بے قرار کے


امشب ہمارے دل میں جوارمان -نعت ہے


نیرنگئ خیال کو عرفان ہوا نصیب


قرطاس جاں پہ جب ہوا احسان نعت ہے
آبا ترے بھی مد ح سرا عمر بھر رہے


عثمان تو بھی ابن- غلامان -نعت ہے


اکرام لطف کیجئے راضی کو بھی عطا
===== [[عدنان حسن زار]]، [[ گوجرنوالہ]]، [[پاکستان]] =====
مدحِ نبی جو کرتا ہوں، فیضانِ نعت ہے


اک روسیاہ کے دل میں بھی ارمان نعت ہے  
مجھ بے ہنر پہ کیسا یہ احسانِ نعت ہے




صاحبزادہ ناصر حسین راضی فیصل آباد
کہتے ہیں لوگ مجھ کو ثناخوانِ مصطفی


===== [[ناہید اختر بلوچ]]، [[ڈیرہ اسماعیل خان]]، [[پاکستان]] =====
ہاتھوں میں میرے خیر سے دامانِ نعت ہے
دل میں کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے


لفظوں پہ دم بہ دم مرے بارانِ نعت ہے


اس میں سمائی رہتی ہیں نعتیں حضور کی


لب پہ درود ،عشقِ نبی دل میں موجزن
دل میرا صرف دل نہیں، جُزدانِ نعت ہے


آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے


رفعت ہے ان کے ذکر کی عالم میں چار سو


ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


جا کے خدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے


میں بھی کھڑا ہوں روضۂ اقدس کے سامنے


قسمت مری سنور گئی ان ﷺ کا کرم ہوا
وردِ زباں درود ہے، بارانِ نعت ہے
 
 
میرے سخن نواز کی ذرٌہ نوازیاں
 
مرقوم ذہن و دل میں بھی برہانِ نعت ہے


ان کا کرم ہوا تو یہ فیضانِ نعت ہے


الحمد ابتداء ہے تو والناس انتہا


تُو عشقِ مصطفیٰ کو سخن کا امام کر
قرآن سارا دیکھیے سامانِ نعت ہے


یہ عشقِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے


شکرِ خدا کہ زارؔ کو نعمت ہے یہ ملی


مجھ کو عطا ہو صدقہ ءِ حسان یا رسول
حاصل مرے قلم کو بھی عنوانِ نعت ہے


سرکار میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے
===== [[عدنان محسن]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====


آنکھوں میں اشک، سینے میں ارمانِ نعت ہے


ناہید شعر گوئی پہ موقوف تو نہیں
مجھ بے نوا کے پاس یہ سامانِ نعت ہے


”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


===== [[ناہید ورک]]، [[مشی گن]]، [[امریکہ ]] =====
ہر راہ ہے مدینے کی جانب رواں دواں


سردارِ کائنات ہی سلطانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


پڑھ لو درودِ عشق یہی جانِ نعت ہے


عمران نے لکھی تھی جو خیرالوریٰ کی نعت


کیا حقِ بندگی ہو ادا ان حروف سے
وہ مرتبے میں سورۂ رحمٰنِ نعت ہے


محبوب کی ثنا میں تو قرآنِ نعت ہے


نوحہ ہو مرثیہ ہو مناقب ہوں یا سلام


تلقین گونجتی ہے سماعت میں روز و شب
حمدِ خدا کا فیض ہے،فیضانِ نعت ہے


تخلیقِ کائنات ہی شایانِ نعت ہے


اس دل پہ جاری رہتا ہے الہام کا ورود


ہر اک نبی ہے لائقِ تحسین، ہاں مگر
یہ عام دل نہیں کہ یہ جز دانِ نعت ہے


بِن آپ ﷺ کے ہے کون جو پہچانِ نعت ہے


اعمال کی ترازو ہے لوگوں کے واسطے


بادل کا ٹکڑا سایہ کرے مجھ پہ بھی حضور ﷺ
اور شاعروں کے باب میں میزانِ نعت ہے


پھر میں بھی کہہ سکوں گی یہ فیضانِ نعت ہے


اس وقت ہے جدا مری سانسوں کا مرتبہ


ہے پاس لا الٰہ بھی ، صل علٰی بھی پاس 
تسبیح یہ وجود کی دورانِ نعت ہے
                                                         
یعنی کہ میرے پاس تو سامانِ نعت ہے




پیشِ نگاہ آپ ﷺ کی توصیف ہے مگر
بادل برس رہے ہیں محمد کے شہر پر


ناہیدؔ کیا تجھے ذرا عرفانِ نعت ہے؟
بارش نہیں جناب یہ بارانِ نعت ہے


===== [[مظہر حسین مظہر]]، [[میلسی]] =====
تازہ ہر ایک دور میں عنوان نعت ہے


"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
عاصی ہوں نعت گوئی کا یارا نہیں مجھے


میرا سخن تمام ثنا خوانِ نعت ہے


الفاظ کی گرفت میں آتا نہیں کبھی


شاعر پہ وجدو کیف جو دوران نعت ہے
یثرب میں نینوا کا مسافر ہے خیمہ زن


اک شعر جو سلام کا مہمانِ نعت ہے


گم کردہ حواس ہیں رومی و بایزید
   
   
اے عشق احتیاط یہ میزان نعت ہے
اس وقت میری صدق بیانی پہ شک نہ کر


اس وقت میرے ہاتھ میں قرآنِ نعت ہے


امروز بھی "حدائق بخشش" کے روپ میں
===== [[عرش ہاشمی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
لب پرسخن ہےاور بعنوان نعت ہے


روشن جہاں میں شمع شبستان نعت ہے
ماءل کرم پہ سرور و سلطان نعت ہے




'نہج البلاغہ' شرح فرامین مصطفے
اک نعت کہہ کے اور بھی میلان نعت ہے


قرآن بھی حضور کا دیوان نعت ہے
کیسا کرم ہے خاص، یہ فیضان نعت ہے




اقبال ہو حفيظ ہو محسن ہو یا حسن
جز مدحت نبی، نه لکھے گا  کوئی سخن


ہر ایک اپنے دور کا حسان نعت ہے
میرے قلم کا مجھ سے یہ پیمان نعت ہے




کیوں کر نہ مشکبار ہو گلدستہ حروف
قرطاس اور قلم کا شرف مدحت رسول


مہکا خیال و فکر میں بستان نعت ہے
فکر سخن کو، نطق کو ارمان نعت ہے




ہر خوشہ خیال بھرا ہے درود سے
کامل ہدایت ا'پ کا اسوہ ہے اسقدر


جب سے قلم کو ہوگیا عرفان نعت ہے
''ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے''




اے فکر پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدم
ان کی عطا، سلام و مناقب کے سلسلے


ایوان نعت ہے یہ دبستان نعت ہے
خالق کی حمد بھی ہے یہ، کیا شان نعت ہے




اے کاش ان کی شان کے شایان لکھ سکے
ایماں کی جان ہے جو محبت حضور کی


مظہر وجود عشق میں ارمان نعت ہے
ہاں اس کے جانچنے کو یہ میزان نعت ہے


===== [[ندیم نوری برکاتی]]، [[ممبئی]]، [[انڈیا]] =====
اک بے ہنر ہے اور قلمدانِ نعت ہے
سرکار وہ لکھائیں جو شایانِ نعت ہے


ماہ صیام کا ذرا فیضان دیکھیے


انکی تو ذاتِ پاک ہے سر چشمۂ کمال
خود 'گوشہ ادب' ہے کہ ایوان نعت ہے  


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہان عرش کو ہے اپنی خطاؤں کا اعتراف


آداب عشق عاجزی سیرت و معجزات
لیکن یه ہے کہ پیرو حسان نعت ہے
ملحوظ رکھئے اس کو یہی جانِ نعت ہے


===== [[عرفان صادق]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
ان کا کرم ہے مجھ کو جو عرفان نعت ہے


شکرِ خدا کہ زیست رہی ہے غزل سے دور
میرا تو لفظ لفظ غلامان نعت ہے


میری متاعِ زندگی قربانِ نعت ہے


صد شکر میرے دل میں ہے اسم نبی کھلا


اک نگہِ التفات ہو مجھ سے فقیر پر
صد شکر میرے ہاتھ میں دیوان نعت ہے


آقا حضور مچھ کو بھی ارمانِ نعت ہے


بس شرط یہ کہ حب نبی دل کے پاس ہو


احسان آپ کا ہے کرم آپ کا حضور
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ورنہ کہاں گنوار کو عرفانِ نعت ہے


بتلا دیا ہےحضرت حسان نے ہمیں


دل بے قرار, دیدۂ تر , وردِ لب درود
جنت کا راستہ تو خیابان نعت ہے
کیا کیف کیا سرور سا دورانِ نعت ہے




عزت بھری نگاہ سے تکتے ہیں مجھ کو لوگ
آنکھیں ہیں یا کہ گنبد خضرا کا عکس ہیں


نوری یہ اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
دل ہے کہ میرے سینے میں گلدان نعت ہے


===== [[نسیمی تاجی]]، [[ ناگپور]]، [[انڈیا]] =====


بشکریہ : [[ارشد رضا قادری]]
کرب و بلا سے آتی ہے صلی علی کی گونج


ارضِ غزل نہیں ہے یہ میدانِ نعت ہے
صحرا میں جو کٹا تھا گلستان نعت ہے


ہوش و خرد سے کام لے دیوانے ،نعت ہے


سوچیں تو اپ کے لیے کن کی صدا لگی


ہر سانس پر درود کا ہدیہ گزاریے
دیکھیں تو ساری دنیا ہی ایوان نعت ہے


"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


کتنے ہی شاعروں نے کہا اس زمین میں


یہ سر اٹھا ہوا ہے تو سرکار کے سبب
اتنی کشادگی ہے یہ دامان نعت ہے


یہ دل کھلا ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے


ان کے طفیل سے کٹا پہچان کا سفر


کچھ بھی نہیں حضور کی الفت اگر نہیں
عرفان ذات اصل میں عرفان نعت ہے


انجانِ زندگی ہے جو انجانِ نعت ہے
===== [[عرفان نعمانی]]، [[راجھستان]]، [[انڈیا]]=====
اے دل تجھے نصیب جو باران نعت ہے


مخصوص تجھ پہ یہ بھی تو فیضان نعت ہے


نسلیں مہک نہ جائے تمہاری تو بولنا


لے جاؤ ساتھ میں کہ یہ گل دانِ نعت ہے
رضواں کرے طواف ملک جس کی آرزو


صد رشک خلد تو وہ بیابان نعت ہے


احمد کا پہلا حرف محمد کا پہلا حرف


قرآنِ حمد کے لیے جزدانِ نعت ہے
تجھ کو خدا رکھے ہمیں رکھے ترا اسیر


ہم رندوں کی دعا یہ خمستان نعت ہے


کچھ خاص مٹیوں کو نمی کی گئی عطا


ویسے تو سب پہ مہرباں بارانِ نعت ہے
گلہائے وصف شہ سے مزین ہے میرا دل


میں سوچتا ہوں دل ہے کہ گلدان نعت ہے


سو فیصدی درست ہے یہ بات دوستو


ہر صفحہءِ دو کون بہ عنوانِ نعت ہے
صبر و قرار پنہاں ہے وصفِ حضور میں


تسکینِ روح و دل تہہ دامانِ نعت ہے


ہر لفظ پھول ہے تو کلی سب حروف ہیں


کس طور شان دار گلستانِ نعت ہے
لفظوں کی کائنات بھی تنگ جس جگہ
وہ نعت کی زمیں ہے وہ میدان نعت ہے




فرضی جمال و حسن کے پرخچے اڑ گئے
مدح نبی کے فیض سے صد شکر دل مرا
چاروں طرف بپا ہوا میلانِ نعت ہے


فارس ہے روم شام ہے ایران نعت ہے


حد درجہ احتیاط ، مقام ادب ہے یہ


دورانِ خوں ٹہر کہ یہ دورانِ نعت ہے
دل جس پہ وحی نعت اترتی ہے اس کے تو


ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے


اسمِ مبارکہ پہ درودوں کی ڈالیاں


اب تک مجھے تو اتنا ہی عرفانِ نعت ہے
ہر لمحہ یہ خیال رہے تجھ کو اے قلم


عشق و ادب خلوص وفا جان نعت ہے


معلوم میرے قول و عمل سے چلے گا یہ


مضبوط کس قدر مرا ایمانِ نعت ہے
حسنین فاطمہ علی عثماں عمر عتیق


ہر ایک شاخ نخل گلستان نعت ہے


صدیوں سے ہو رہا ہے یہاں ذکرِ مصطفی
یہ شہرِ ناگ پور دبستانِ نعت ہے


اشعار نعت ہوتے ہیں افطار و سحری میں


سمجھوں گا میری نعتیں ، نسیمی قبول ہیں
ہم روزہ داروں کے لئے رمضان نعت ہے


مجھ کو جو کوئی کہ دے یہ مستانِ نعت ہے


===== [[ نعیم عباس ساجد]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]]=====
مولیٰ شعور نعت دے مجھ کو کہہ سکوں
میرے کہاں نصیب میں بارانِ نعت ہے
گر ہو گئی عطا  تو یہ احسانِ نعت ہے


عرفان تو بھی صاحب ِ عرفان نعت ہے


جس کو سمجھ رہے ہیں سبھی لوگ کائنات
===== [[عرفی ہاشمی]]، [[ آسٹریلیا]] =====
مکمل نام : سید عرفی ہاشمی


وہ اہلِ ذوق کے لیے سامانِ نعت ہے
بتلاؤں تجھ کو کیا حد عرفان نعت ہے


میرا خدا بھی قارئ قرآن نعت ہے


ہر لفظ کاٹ چھانٹ کے کرنا ہے منتخب


کرکے یقیں کہ واقعی شایانِ نعت ہے
دین سخن میں ایک ہی مسلک رہا مرا


جو شعر بھی کہا ہے مسلمان نعت ہے


پاکیزگیِ قلب و نظر لازمی ہے یاں


میدانِ منقبت ہے کہ میدانِ نعت ہے
عشق نبی سے لکھی گئیں ہیں نبوتیں


پیغمبری دراصل قلمدان نعت ہے


اک سبز روشنی ہے تخیل کے ارد گرد


یعنی کہ اب قریب ہی امکان نعت ہے
موزوں وہ کررہے ہیں مرا مصرعہ نجات


===== [[نواز اعظمی]]، [[گھوسی]]، [[انڈیا]]=====
اب تو مرا نصیب بھی دیوان نعت ہے  
وہ شخص ہی لکھے جسے عرفانِ نعت ہے


ورنہ بہت ہی دھیان سے میدانِ نعت ہے


سین بلال اس لئے افضل ہے شین سے


پیہم زمینِ فکر پہ بارانِ نعت ہے
لکنت زبان عشق کی جزدان نعت ہے


دل اس کے باوجود بھی عطشانِ نعت ہے


موقوف جسم و جاں ہے کہاں مدح مصطفے


غم ،ہجر، درد، گریہ، قلق، اشک، سوز، عشق
نیزے پہ جو بلند ہے قرآن نعت ہے


ہر ایک میرے واسطے سامانِ نعت ہے


کچھ اسلیے بھی تجھ سے تعلق نہیں رہا


اٹھتی ہے ہر ورق سے ہی بوئے ثنائے شاہ
اے جہل نفس جاں مجھے عرفان نعت ہے


قرآں مری نگاہ میں بستانِ نعت ہے


میرے گنہ اِدھر،اُدھر اللہ کا کرم


آ بیٹھ اور یہاں سے تُو رزقِ ثنا اٹھا
اور درمیاں میں عرصہء امکان نعت ہے


روئے زمینِ شہرِ نبی خوانِ نعت ہے


آوارگی نہیں یہاں ہجرت کا ظرف لا


بہتا ہے جو بھی ہجرِ رسالت مآب میں
دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے


آنسو نہیں وہ اصل میں بارانِ نعت ہے


کاغذ پہ جو لکھا ہے اسے نعت مت سمجھ


رنج و الم میں سرورِ کون و مکاں کی یاد
پلکوں پہ جو نمی ہے وہی جان نعت ہے


واللہ وجہِ حرکتِ شریانِ نعت ہے


جسمیں خدا نے رکھے ہیں خود آیتوں کے پھول


حاصل ہے اس پہ اوروں کو بھی دسترس مگر
ایسا بھی ایک دہر میں گلدان نعت ہے


حسّان شاہِ ملکِ سلیمانِ نعت ہے
===== [[عروس فاروقی]]، [[گجرات]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : ابو الکمال عروس فاروقی


عشقِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


ہر شعبہ وصفِ شاہِ امم سے ہے تابناک
ایمان ہے یہی، یہی وجدانِ نعت ہے


"ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


آقا! مجھے بھی حرفِ عقیدت عطا کریں


اب تک نواز میں نے جو مدحِ رسول کی
آقا! مجھے بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے


کیا اس کا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے؟


===== [[نگار سلطانہ]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
’’لایمکن الثناء کما کان حقہ‘‘
مکمل نام : ڈاکٹر نگار سلطانہ


لکھنے کو میرے دل میں تو ارمان نعت ھے
کہہ سکتا ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے


اک پھول کیا چنوں کہ گلستان نعت ھے


محبوبِ کائنات کی نعتوں کی گونج ہے


ہر لمحہء حیات کی بس جان نعت ھے
میدانِ حشر ہے کہ یہ ایوانِ نعت ہے


"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ھے"


لے آئے تم ورق بھی، قلم بھی، دوات بھی


جب تک نہ دل میں چاہت سرکار دین ہو
لیکن بتاؤ کیا یہی سامانِ نعت ہے


کیسے لکھے کوئ کہ یہ شایان نعت ھے


اپنا ہر اک مہینہ ہے اُن کی ثنا کے نام


جب سے خیال ڈھل گئے اشعار میں مرے
شعبانِ نعت ہے  کوئی رمضانِ نعت ہے


ہر سانس میں بسا ھوا عنوان نعت ھے


محدود کیجیے نہ زبان و بیان تک


مجھ کو دکھاتی ہے یہ سدا راستی کی راہ
’’ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


چلنا شروع کروں تو یہ احسان نعت ھے


نور و سرور پھوٹتا ہے لفظ لفظ سے


مرے خیال و فکر میں پیوست ہوگئ
مصرع ہے یا قطارِ چراغانِ نعت ہے


ہر ایک لمحہ اور ہر اک آن نعت ھے


تھا آشنائے طرزِ تکلُّم عروسؔ کب


قرآن میں بھی ذکر کا مرکز نبی ہی ہیں
حاصل ہے جو کمال بفیضانِ نعت ہے


گویا ظہور ہستی میں اعلان نعت ھے
===== [[عطاء المصطفٰی]]، [[سانگھڑ، سندھ]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : سید عطاء المصطفٰی


مصرع سنا ہے جب سے، تو ارمانِ نعت ہے


مدحت کی روشنی سے جو لفظوں کو بھر دیا
'' ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے ''


جو کچھ ملا نگار یہ فیضان نعت ھے


===== [[نور الحسن نور نوابی]]، [[قاضی پور]]، [[انڈیا]] =====
نم آنکھ ، ہاتھ کانپتے ، تو سر، نِگوں مِرا
اعلان کائنات غلامانِ نعت ہے


حسان جس کا نام ہے سلطانِ نعت ہے
اور قلبِ بے قرار ، یہ سامانِ نعت ہے




سوچے بغیر ہوتی ہے مدحت رسول کی
ہیں چند لفظ مدحتِ سرکار میں گُندھے


ارزاں ہمارے واسطے فیضانِ نعت ہے
عاصی کے پاس کب  کوئی دیوانِ نعت ہے




عشق رسول پاک کی صورت میں دوستو!
اس زندگی میں جو بھی میسر ہوا مجھے


بیٹھا درِ خیال پہ دربانِ نعت ہے
سرکار کا کرم ہے سبھی دانِ نعت ہے




عشق رسول شہر نبی کی جمالیات
مجھ سے اگر سنو تو سنو بس درودِ پاک


حاصل خدا کے فضل سے سامانِ نعت ہے
ہمراہ قبر میں مرے سامانِ نعت ہے


===== [[عظیم راہی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
جب مقصدِ حیات ہی پیمانِ نعت ہے


اس کی حدوں میں گرم ہوا کا گزر کہاں
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


دشت غزل نہیں یہ گلستانِ نعت ہے


جاری ازل سے چشمۂ فیضانِ نعت ہے


سنتی ہیں ذکر سرور دیں جو سماعتیں
فردوس ایک کنجِ گلستانِ نعت ہے


ان کی ضیافتوں کے لیے خوانِ نعت ہے


وہ گام زن رہے گا رہِ مستقیم پر


کہنے کو لوگ کہتے ہیں نعتیں بہت مگر
ہاتھوں میں جس کے گوشۂ دامانِ نعت ہے


حاصل کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے


صورت ہے ان کی آئنۂ حسنِ کردگار


قسمت کا اس کی لا نہ سکے گا کوئی جواب
اور سیرتِ مطہرہ قرآنِ نعت ہے


جس کے لیے کھلا در ایوانِ نعت ہے


ذکرِ حبیب ذکرِ محب سے الگ نہیں


حسان آگے سعدی و جامی ہیں ان کے بعد
اللہ کی طرف سے ہی فرمانِ نعت ہے


اے آنکھ دیکھ وہ صف شاہانِ نعت ہے


جو شان بھی میں لکھّوں وہ اس بے مثال کے


ڈرتا نہیں ہوں دھوپ کے تیروں سے اس لیے
شایانِ شاں نہیں ہے،یہی شانِ نعت ہے


حاصل مجھے بھی سایہ دامانِ نعت ہے


گھبراتے کیوں ہو؟ دیکھو تو میزان کی طرف


ہوجائے یوں تو کام کی ہو میری زندگی
راہی تمہارے پلڑے میں دیوانِ نعت ہے


سرکار کہہ دیں یہ مرا دربانِ نعت ہے
===== [[علی احمد نظامی]],[[سدھارتھ نگر]],[[بھارت]] =====


پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]


ہر شعبۂ حیات ہے آقا سے منسلک


"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
صدقہ نبی کا مل گیا,فیضانِ نعت ہے
 


غنچے کھلے ہیں مدحت آقا کے ہر طرف
مشکل تو ہے بہت مگر ارمانِ نعت ہے


شادابیوں کا آئنہ میدانِ نعت ہے


فضلِ خدائے پاک سے یہ دیکھ لیجیے


ہر اک ورق پہ مدحت سرکار ہے رقم
میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے


دل عاشق رسول کا دیوانِ نعت ہے


میری کہاں مجال کہ نعتِ نبی لکھوں


دل کر رہا ہے ضد مرا مضمون کر رقم
یہ صدقہِ رسول ہے احسانِ نعت ہے


در پیش میری فکر کو عنوانِ نعت ہے


ہوں حضرتِ بلال یا سلمان فارسی


خوشبو بسی ہوئی ہے محلے میں دور تک
سب کی زباں پہ نغمہِ ذیشانِ نعت ہے


گھر کے ہر ایک طاق پہ گلدانِ نعت ہے


اہلِ غزل سے کہہ دو کہ خاموش ہی رہیں


ابر کرم کے پھول برستے ہیں پے بہ پے
سب سے بلند شانِ غلامان نعت ہے


جب سے زباں پہ ذکرِ محبانِ نعت ہے


کیا لطف ہو کہیں جو نکیرین قبر میں


ہر صنف کی امام ہے نعت شہ امم
تیرا نجات نامہ یہ دیوان نعت ہے


یہ افتخار نعت ہے یہ شانِ نعت ہے


شامل نظامی نصرتِ سرکار ہو اگر


کچھ لوگ شب چراغ سمجھتے ہیں کچھ گلاب
,,ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


رکھا ہماری میز پہ دیوانِ نعت ہے
===== [[علی ایاز]]، [[کبیر والہ]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد علی ایاز


مجھ پر ایاز اس طرح احسانِ نعت ہے


دیکھا عقیدتوں کی نظر سے تو یہ کھلا
میری تو ساری زندگی عنوانِ نعت ہے


جو شعر بھی ہے نعت کا وہ جانِ نعت ہے


ہر سمت سے ہے آ رہی خوشبو کمال کی


دو چار ساعتوں پہ نہیں منحصر فقط
میرا خیال ہے کہ اب امکانِ نعت ہے


ایک ایک سانس نور کی قربانِ نعت ہے


عشقِ رسول کے سوا ممکن نہیں کبھی


===== [[نور محمد اشرفی]], [[پورنیہ]] ,[[بہار]],[[بھارت]] =====
آنا سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]


اللہ کا کرم ہے, نگاہِ کرم میں ہوں


محوِ ثنائے آقا ہوں, عنوانِ نعت ہے
ترتیب دے رہا جو میں دیوانِ نعت ہے


یا رب ! کرم ہو خاص کہ ارمانِ نعت ہے


الفاظ ہیں اتر رہے تسنیم سے دھلے


بے عشقِ مصطفے ہے سبھی بندگی فضول
آمد کا سلسلہ تو یہ شایانِ نعت ہے


عشقِ رسولِ پاک ہی ایمانِ نعت ہے


جب آپ کائنات کے رحمت نبی ہیں, سو


"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


فضلِ خدا سے اور مدد سے حضور کی


,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
نورو تجلیات کی بارش سی ہو رہی


مجھ پر کرم خدا کا یہ دورانِ نعت ہے


تاریخ تم پڑھو گے تو ہوگا تمہیں پتا


حسان ہی سے مہکا گلستانِ نعت ہے
کہہ دیجیے حضور کہ تجھ کو امان ہے


سمجھوں گا میں ایاز یہ فیضانِ نعت ہے


خلدِ بریں میں جائیں گے حسان کے وہ ساتھ
===== [[عقیل عباس جعفری ]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====


جن خوش نصیب لوگوں کو عرفانِ نعت ہے
روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے


" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


چشمِ کرم حضور کی مجھ پر ہوئی ہے خاص


جاری مری زباں پہ جو گردانِ نعت ہے
میری رگوں میں بھی ابوطالب کا ہے لہو


میری ہر ایک سانس پہ فیضانِ نعت ہے


شہرت جو نورٓ تم کو ملی ہے جہان میں


فضلِ خدائے پاک ہے,فیضانِ نعت ہے
جبریل ہوں کہ ہم سے فقیرانِ بے نوا


===== [[نور محمد جرال]]، [[نیویارک]]، [[امریکا]] =====
سایہ فگن ہر ایک پہ دامانِ نعت ہے
شکرِ خُدا کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے  


سرپر میرے بھی سایۂ دامانِ نعت ہے


اے کاش اس فقیر کو بھی ہو کبھی عطا


حرف و سخن پہ دسترس اپنی جگہ مگر
اک حرف جس کو سب کہیں "شایانِ نعت ہے"


دراصل وصفِ حبِ نبی جانِ نعت ہے


جو کربلا میں خون سے لکھا حسین نے


فکرو شعور و حرف و ہُنر باوضو رہیں
ہر دل میں جاگزیں وہی دیوانِ نعت ہے


تخلیق کے لیے یہی سامانِ نعت ہے


منکر نکیر لوٹ گئے، کتبہ دیکھ کر


اشعار میں ہے سورۂِ یٖس کا جمال
لکھا تھا " یہ گدائے خیابانِ نعت ہے"


حرفِ درود شمعِ شبستانِ نعت ہے
عرفانِ نعت جس کو بھی حاصل ہوا عقیل


عمرانِ نعت ہے وہی حسانِ نعت ہے


صدیوں سےلکھی جاتی ہےقرطاسِ وقت پر
===== [[عقیل ملک]]، [[پنڈی گھیب]]، [[پاکستان]] =====


لیکن ابھی شعور کو ارمانِ نعت ہے
میلانِ حمد اصل میں میلانِ نعت ہے


باطل کی جانچ کے لیے میزانِ نعت ہے


ہے آپ کی حیات ہمہ گیر اس قدر


“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”
آقا نے کہہ دیا کہ ستارے ہیں پنجتن


یعنی کہ ان کا نام ہی عُنوانِ نعت ہے


گلہاۓ رنگ رنگ کی مہکار چار سُو


دںیا تو ایک مزرعۂِ بستانِ نعت ہے
اشعار بن رہے ہیں طلسمِ مہ و نجوم


کیسا سجا سجایا شبستانِ نعت ہے


ہر اک اداۓ نور پہ ہیں آیتیں گواہ


سیرت میرےحضور کی قرآنِ نعت ہے
لفظوں سے آشنا ہو پہ مدحت سرا نہ ہو!


یہ بھی مری نگاہ میں کفرانِ نعت ہے


حسنِ عمل ہے مدحتِ مولا کا اک چمن


حسنِ کلام زیبِ سخندانِ نعت ہے
محنت کشِ خیال کا رتبہ ہے بالا تر


میرا قلم اسی لیے دہقانِ نعت ہے


آنکھیں کہ ان کے ذکرمیں نمناک ہیں سدا


اور دل ہزار جان سے قربانِ نعت ہے
تزئینِ دشتِ لفظ کو پاکیزگی ہے شرط


عالِم اسے کہیں جسے عرفانِ نعت ہے


ہر عندلیبِ قدس کے لب مشکبوۓ نعت


باغِ اِرم ہے یا کوئی دالانِ نعت ہے
دھڑکن کے داؤ پیچ میں پنہاں ہے رمزِ عشق


دل کا توازن اب سرِ اوزانِ نعت ہے


آنکھوں کے طاقچوں میں رکھے آرزوۓ دید


بے چین کب سے حلقۂ مستانِ نعت ہے
ایسی نوازشات میسر کسے عقیل


دشتِ عرب کی گرد بھی لوبانِ نعت ہے


جل تھل ہوئی ہے دل کی زمیں یادِ شاہ میں
===== [[عقیل ہاشمی]]، [[حیدرآباد]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر عقیل ہاشمی


اشکوں کی یہ گھٹا ہے یا بارانِ نعت ہے
ایماں کی ہے نوید کہ احسان نعت ہے


ہرشعبہ حیات میں امکان نعت ہے


الفاتحہ سے سُورۂِ والناس تک گواہ


قرآن حرف حرف ہی بُرھانِ نعت ہے
توقیر بندگی ہے کہ تسبیح قرب حق


یانعمت الہی بعنوان نعت ہے


سرکار کوئی اچھا نہیں نامۂ عمل


محشر میں دستِ نور میں دیوانِ نعت ہے
شرح صدر کی بات ہے نسبت کہوں جسے


===== [[واجد امیر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
حب رسول ہاشمی فیضان نعت ہے
دربان ِ شاہ دین ہی دربان ِ نعت ہے  


روح الامین یعنی نگہبان ِ نعت ہے


لاریب ہےدرود و سلاموں کا سلسلہ


صد لاکھ احتیاط کہ عنوان ِ نعت ہے  
مدح و ثنا کے واسطے سامان نعت ہے


وہ آئے اس طرف جسے ایقان ِ نعت ہے


توصیف شاہ کیسی بھلا کس کی ہے مجال


مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں
حق کا کلام دیکھے شایان نعت ہے


باغ ِ عدن کے پاس خیابان ِ نعت ہے


نورانی ساعتوں کا اسے اعزاز مل گیا


مصرعے سجے ہوئے کہ رنگوں کی لہر ہے  
روح القدس کی پشتی کہ عرفان نعت ہے


قوس ِ قزح ہے یا کوئی گل دان ِ نعت ہے


وجہ نجات ہے بخدا اسوہء رسول


ہر شعبہ ءِ حیات ہے سیرت سے متصل
وہ پیروی کرے جسے ارمان نعت ہے


"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


آیات نعت کا وہ کرے ورد صبح و شام


جس پہ نگاہ کی وہی مقبول بارگاہ
خوش قسمتی سے جسکو بھی ارمان نعت ہے


جس پر کرم ہوا وہی سلطان ِ نعت ہے


فرد عمل نہ دیکھ خدایا بروز حشر


ہوگی منادی حشر میں آئے وہ اس طرف
میرا وسیلہ بس میرا دیوان نعت ہے


حس پاس اک بھی مصرعہءِ امکان ِ نعت ہے
اتناہی جانتاہےتراہاشمی عقیل


لکھاقلم نےلوح پہ اعلانِ نعت ہے


دشت ِ غزل میں گھوم لیے ہو تو پھر سنو
===== [[علی شاہد]] ، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====


اب اس سے آگے سارا گلستان ِ نعت ہے  
میرا نہ کوٸی لفظ بھی شایان نعت ہے


قرآن جس کی شان میں دیوان نعت ہے
مل کر درود بھیجو محمد ﷺ کی شان پر
ربِ کریم کا بڑا احسان نعت ہے
صبحِ طلوع نے مجھے آکر یہی کہا
ہر شعبہ ٕ حیات میں امکان نعت ہے
اب ڈر نہیں ہے کوٸی بھی محشر کےروز کا
محشر کو بھی شفاعتِ سامان نعت ہے
کر دو منادی میرے محمدﷺ کے نام کی
بخشش کا ہے وسیلہ یہ اعلان نعت ہے
ہر لفظ کی زباں پہ ہے سرکار التجا
ہر لفظ کو فقط یہی ارمان نعت ہے
پڑھتا ہوں ہر گھڑی میں درود و سلام ہی
شاہد مرے اثاثے میں اب دان نعت ہے
===== [[علی شیدا]]، [[کشمیر]]، [[انڈیا]] =====
قُرآن پڑھ کے دیکھ ' دبستانِ نعت ہے
خوشبوئے حرف و لفظ میں اعلانِ نعت ہے
مضمونِ ہست و بود ہے کُن کی گرفت میں
مضمونِ کُن فکان ' وہ عنوانِ نعت ہے
دھڑکن' نفس' نگاہ ' سماعت کہ صوتیات
"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"
تمہیدِ حرف و لوح و قلم صنفِ لامکان
تجسیمِ کائنات بھی جزدانِ نعت ہے
امید ' روزِ حشر ہو بخشش کی اور کیا
زنبیل خاکسار میں سامانِ نعت ہے
ادراک میں سمائے کہاں حسنِ لا مثال
حیرت جو منکشف ہے یہ وجدانِ نعت ہے
شیدا جو مدح خوانِ محمد لقب ملا
انعامِ لا یزال ہے ' احسانِ نعت ہے
===== [[علی قائم نقوی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مجھ بےنوا پہ نعت بھی احسانِ نعت ہے
ورنہ خدا کی ذات ہی شایانِ نعت ہے
گر عشقِ بُوتراب ہی سامانِ نعت ہے
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
کعبے کی سمت بھی میں مدینے سے آیا ہوں
لکھتا ہوں میں جو حمد یہ فیضانِ نعت ہے
مکہ سے کربلا اسے عمران لائے تھے
کربل سے پھر حُسین۴ نگہبانِ نعت ہے
اک اہلیبیت۴ چھوڑے ہدایت کے واسطے
دوجا یہ تیس پاروں کا دیوانِ نعت ہے
===== [[علیم اطہر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان ]] =====
مجھ پہ کرم ہوا ہے  تو فیضانِ نعت ہے
میرے جنون کو بھی تو عرفانِ نعت ہے
الفاظ باوضو ہیں، تخیّل مدینے میں
میرے قلم کی نوک میں وجدانِ نعت ہے
ہونٹوں پہ وردِ صلّی علٰی، دل سکون میں
اور چشمِ تر میں تیرتا سامانِ نعت ہے
کافر جو نعت کہتا ہے  اس کو مرا سلام
دراصل دل بھی اس کا مسلمانِ نعت ہے
رک جائے ساری گردِشِ دوراں سنے وہ نعت
وہ لمحہ جاوداں ہے  جو دورانِ نعت ہے
ہر کہکشاں میں نورِ رسولِ خدا ﷺ ملا
"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
تخلیقِ کائنات بوجہِ رسولِ پاک ﷺ
اور حُکمِ کُن فکاں ہی تو اعلانِ نعت ہے
صلّو علی الحبیب ﷺ فرشتوں کی لوریاں
سدرة کی انتہاء پہ بھی وجدانِ نعت ہے
===== [[عمران تنہا ]]، [[کامونکی ]]، [[پاکستان ]] =====
اک عرصۂ دراز سے ارمانِ نعت ہے
لیکن کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے
لکھنے لگوں تو دل پہ اترتے ہیں خود خیال
اللہ نوازتا مجھے دورانِ نعت ہے
انسان کی بساط ہے جتنا وہ کھوج لے
"ہر شعبہءحیات میں امکانِ نعت ہے "
ہم کو ملے گی نسبتِ حسان حشر میں
صد شکر اپنا پیشوا سلطانِ نعت ہے
تم کو امر کروں گا مضامینِ نعت سے
میرا یہی حروف سے پیمانِ نعت ہے
تنہا کبھی حضور نے چھوڑا نہ رنج میں
میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے
محمد عمران تنہا
===== [[عمران شریف]]، [[مدینہ منورہ]]، [[سعودی عرب]] =====
بشکریہ : [[محمد علی حارث]]
دنیا اگرچہ ساری ہی سامانِ نعت ہے
تشنہ حضور پھر بھی دبستانِ نعت ہے
ہیں ساتھ اس کے روشنی عنبر گلاب و نور
دورِ قلم کے پاس نہ فقدانِ نعت ہے
ہوگا مگر کشید عطا سے نبی کی،جو
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
میرے قلم کی باندی بنی ہے سخنوری
صد شکر یہ فقیر پہ احسانِ نعت ہے
ہر امرِ ربیِ میں ہے بلندی حضور کی
لولاک کی صدا نہیں اعلانِ نعت ہے
قرآن الف سے سین تلک نور ہے مگر
رشد و ہدا کے ساتھ یہ دیوانِ نعت ہے
کاندھوں سے میرے کاندھے ملائے فرشتوں نے
دیکھا جو میرے ہاتھوں میں دامانِ نعت ہے
تصویر جس سے لطف و کرم کی میں بن گیا
عمران اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد عمران شریف
===== [[عمر فاروق ناعم]]، [[چکوال]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد عمر فاروق ناعم
جب سے خیال و فکر پہ باران نعت ہے
کھلنے لگا سخن سے گلستان نعت ہے
کعبہ ثناء و حمد کا مرکز ہے اولین
اور مدح میں مدینہ خیابان نعت ہے
کون و مکاں سجائے گئے جن کے واسطے
وہ ذات مصطفیٰ ﷺ ہی تو عنوان نعت ہے
ڈھل کر نبی ﷺ کے اسوۂ کامل میں دیکھیے
"ہر گوشۂ حیات میں امکان نعت ہے"
شہرت نہیں کبھی بھی مرا مطمحِ نظر
مقصود نعت گوئی سے عرفان نعت ہے
رحمت کا سائبان مرے سر پہ تن گیا
کیسا یہ مجھ اثیم پہ احسان نعت ہے
رنج و محن بھی حزن بھی کافور ہوگیا
درمان میرے درد کا دامان نعت ہے
اے کاش جالیوں کے مقابل سناؤں نعت
حسرت ہے دل کی میرا یہ ارمان نعت ہے
الفاظ آبِ گِل سے کریں بارہا وضو
پھر بھی کہاں وہ لفظ جو شایان نعت ہے
عسرت بھی مفلسی بھی جو مجھ سے ہے دور آج
کچھ اور تو نہیں ہے یہ فیضان نعت ہے
خواہش کروں کسی بھی قلم رو کی کیوں عمر
ہاتھوں میں جب کہ میرے قلمدان نعت ہے
===== [[عمر فاروق وڑائچ]]، [[پاکپتن]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[محبوب احمد]]، [[سرگودھا]]
والنجم کے طفیل یہ سامان نعت ہے
ورنہ کلام کب مرا شایان نعت ہے
واللیل کہ کے زلف کی تعریف کی گئی
والفجر میں بھی مطلع ذیشان نعت ہے
کوثر سے ہے مراد کثیر ان کے پاس ہے
قد جاءکم سے مقصد اعلان نعت ہے
جاؤک سے دلیل ملی نعت کے لیے
یہ بھی تو ایک صورت اعلان نعت ہے
سارا کلام حق ہی تو ہے نعت مصطفی
لیکن سمجھ سکے، جسے عرفان نعت ہے
عاصی نہائیں اس میں تو بخشش ملے ضرور
ہر دم برس رہا ہے جو باران نعت ہے
تسکین دل درود کی برکت ہی سے ملے
اور اضطراب دل ہو تو سامان نعت ہے
کھوٹے کھرے قبول ہوں، اک بول کے عوض
بخشش ملے جہاں وہی دکان نعت ہے
دامن میں اور  کوئی نیکی نہ تھی مگر
جنت میں جا رہا ہوں، یہ فیضان نعت ہے
ان کی مہک سے دل نہ معطر ہوں کیوں بھلا
عنبر فشاں ہر اک گل ریحان نعت ہے
دوزخ کی آگ چھو نہ سکے گی انھیں، جہاں
عاصی چھپے ہوئے ہیں، وہ دامان نعت ہے
===== [[عمر نقشبندی]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد عمر نقشبندی
آنکھوں سے جو برستا ہے بارانِ نعت ہے
سرمایۂ حیات ہے یہ جانِ نعت ہے
پڑھنے کے باوجود اِسےہر نِماز میں
اک طبقہ ایسا ہے کہ جو انجانِ نعت ہے
محدود کب ہے دائرہ توصیف کا میاں
"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
اک ایک حرف تول پھر اُسکو رقم تو کر
یہ پُل صراط ہی ہے جو میدانِ نعت ہے
تجھ سابھی بے ہُنر لکھے اشعار جو عمر
یہ خوب جان لے کہ یہ احسانِ نعت ہے
===== [[عمیر لبریز]]، [[فیصل آباد]] =====
بشکریہ : [[ریاض قادری]]، [[فیصل آباد]]
ہر وقت پلتا قلب میں ارمانِ نعت ہے
صد شکر مجھ پہ یہ بڑا احسانِ نعت ہے
پنج تن کا ذکر نعت کو دلکش بناتا ہے
یہ اصل شانِ نعت ہے اور جانِ نعت ہے
پڑھتا درود ان پہ فرشتوں سمیت رب
سارے جہان میں وہی سلطانِ نعت ہے
پرکھے ہیں میں نے زندگی کے پہلو سارے ہی
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر روز ایک رنگ نیانعت کا بنے
ملتا مدینے سے مجھے سامانِ نعت ہے
میرے لبوں سے نکلی جو بھی نعت آپ کی
ہر ایک کو میں سمجھا یہ حسانِ نعت ہے
لبریز شہر ِ نعت کا میں ایک باسی ہوں
یاں اک سے بڑھ کے ایک ثنا خوانِ نعت ہے
محمد عمیر لبریز ؔ فیصل آباد
===== [[عمیر نجمی]] ، [[رحیم یار خان]]، [[لاہور]] =====
بیٹھا، کہا حضور(ص) سے: "ارمانِ نعت ہے"
پھر جو کہا ہے، دیکھ لیں، شایانِ نعت ہے
نعمت بھی کیا ہے "نعت" میں ضم ہو گئی ہے "میم"
شکران نعمت اصل میں شکرانِ نعت ہے
لفظوں کے لعل حرفوں کے ہیرے لگیں گے ہاتھ
جو کچھ ملے اٹھائیے، یہ کانِ نعت ہے
ایسی  کوئی زبان نہیں جو کرے بیان
حالت جو میرے قلب کی دورانِ نعت ہے
اُن سے حیات، اُن سے ہر اک شعبہِ حیات
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
حجرے کی چھت پہ اتنے کبوتر یونہی نہیں
اس میں مکیں گروہِ محبانِ نعت ہے
===== [[غضنفر علی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہر شعبۂ حیات میں اعلان نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
صحن نبی میں حرف قطاروں میں لگ گے
دالان مصطفیٰ ہی تو دالان نعت ہے
وللیل و والضحیٰ پہ ہی موقوف تو نہیں
مصحف خدا کا سارا ہی دیوان نعت ہے
آنسو ہیں سسکیاں ہیں ندامت ہے عشق ہے
یہ ہی صریر خامہ ہےسامان نعت ہے
حالی نہیں ہوں حافظ و سعدی نہیں ہوں میں
پھر بھی میں لکھ ریا ہوں یہ احسان نعت ہے
اک حرف لکھ کے پہروں یہ ہی سوچتا رہا
کیا حرف جو لکھا ہے وہ شایان نعت ہے
ہر حرف کو برتنے لگا احترام سے
ہر حرف پر گماں ہے کہ مہمان نعت ہے
رطب اللساں ہے آج غضنفر حضور کا
احسان نعت ہے یہ ہی احسان نعت ہے
===== [[غلام جیلانی سحر]]، [[بلرام پور]]، [[انڈیا]] =====
محفوظ حرف حرف جو قرآنِ نعت ہے
خود ربِّ کائنات نگہبانِ نعت ہے
حاصل اگر اجازتِ سلطانِ نعت ہے
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
سرکار ! لطفِ خاص کا امید وار ہوں
بے چین روح کو فقط ارمانِ نعت ہے
کچھ تو شعورِ مدح عطا ہو گنوار کو
اہلِ زباں کو دعویِ عرفانِ نعت ہے
سرکار ! کچھ حروف سلامی کو پیش ہیں
مقبول ہو وہ حرف جو شایانِ نعت ہے
پروردگار ! ڈال دے سینے میں بے حساب
عشقِ رسولِ پاک, جو ایمانِ نعت ہے
کھلتے ہیں رنگ رنگ کے گل ہائے عشقِ شاہ
سینہ ہے میرا یا  کوئی گل دانِ نعت ہے
گل ہائے رنگا رنگ کھلے ہیں چہار سمت
کتنا ہرا بھرا یہ گلستانِ نعت ہے
نظم و غزل کے مارے ہوئے لوگ دنگ ہیں
اس درجہ اونچی شانِ غلامانِ نعت ہے
مدح و ثنا حضور کی یوں ہی نہیں ہوئی
موجود سر پہ سایہِ دامانِ نعت ہے
پیہم نوازشاتِ رسولِ کریم واہ
محسوس ہو رہا ہے کہ بارانِ نعت ہے
اس خاص کیفیت کا بیاں کس طرح کروں
طاری جو میری روح پہ دورانِ نعت ہے
مستی میں بھی نہ ہاتھ سے چھوٹے ادب کی ڈور
مد ہوشی میں بھی ہوش اے مستانے ! نعت ہے
حد درجہ احترام و لحاظ و ادب سحر!
ہلکی سی چوک موت ہے دیوانے ! نعت ہے
===== [[غلام ربانی فارح]]، [[ ، مظفر پور]]،> بہار < [[انڈیا]] =====
محبوب رب جو مرکزِ فیضان نعت ہے
ایمان کی بھی جان وہی جانِ نعت ہے
اللہ کا کرم ہے یہ فیض رسول ہے
بخشش کو میرے پاس بھی سامان نعت ہے
سینے میں دفن میرے خزانہ ہے عشق کا
الفت نبی کی بالیقیں جزدان نعت ہے
نعت رسول پاؤ گے قرآں میں ہر جگہ
سچ ہے کلام پاک میں عرفان نعت ہے
تھوڑی توجہ کی تو معمہ یہ حل ہوا
*ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*
مقبول بس وہ فکر ہے اس بارگاہ میں
ہے جو سخن کی شان وہ شایان نعت ہے
بیشک ادب سے چومیں گے اس کو ملائکہ
قرطاس دل کہ جس کو بہم خوانِ نعت ہے
فارح ادب سے کہہ اسے سرمایۂ حیات
عزت سے جی رہا ہے یہ فیضان نعت ہے
===== [[غلام رسول احمد ضیا]] ، [[سیتا مڑھی]]، [[بھارت]] =====
کہتا ہے وہ یہی جسے پہچانِ نعت ہے
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
منکر نکیر دیکھ کے مجھ کو کہیں گے یہ
اس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
عزّت سے کھا رہا ہوں نوالہ جو صبح و شام
سچ کہہ رہا ہوں ہم پہ یہ احسانِ نعت ہے
میرا یقین کہتا ہے ہر آن ہر گھڑی
سرمایۂ نجات یہ گلدانِ نعت ہے
وہ جس کے دم قدم سے ہے قائم یہ کائنات
سرکار کا کرم ہے وہ فیضانِ نعت ہے
عشقِ رسول پاک کی لذت جو دے گیا
احمد ضیا! وہ ہند کا حسّانِ نعت ہے
===== [[غلام فرید واصل]]، [[شیخوپورہ]]، [[پاکستان]] =====
کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
دل میں مرے بھی یا نبی ارمانِ نعت ہے
خالق نے بھر دیا میرے سینے کو نعت سے
موتی نکل رہے ہیں، دہن کانِ نعت ہے
سارے فصیح رکھتے ہیں اس بات پر یقین
نطق و سخن کا سِلسلہ قُربانِ نعت ہے
زہرا،حَسَن،حُسین بھی اس میں سمائے ہیں
کتنا ہرا، بھرا یہ گلستان نعت ہے
رَگ رَگ میں عشقِ شاہ مدینہ بسے اگر
"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
محشر کی دھوپ میں بھی مجھے سائباں ملا
شکرِ خدا کہ مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
واصلٓ نہیں خبر کہ وزارت مِلے کسے
جُز جُز ہی آیتوں کا تَو سلطانِ نعت ہے
===== [[غلام مرتضیٰ طرب]]، [[کٹیہار,بہار]]، [[انڈیا]] =====
پیشکش: [[غلام جیلانی سحر]]
احسان میرے رب کا ہے,فیضان نعت ہے
میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے
نازل رسولِ پاک پہ قرآں کیا گیا
جس کے ہر ایک پارے میں عنوانِ نعت ہے
سرکار ! مجھ غریب کا بیڑا لگا دو پار
بخشش کو کچھ نہیں ہے, نہ سامانِ نعت ہے
عشقِ نبی میں دل جو تڑپتا ہے دم بدم
یعنی کہ دل مرا  کوئی گل دانِ نعت ہے
آقا مِرے خیال میں کچھ بھی نہیں ہے اب
سینے میں موجزن ہے جو ایمانِ نعت ہے
اپنوں کو جو عطا ہوا کیا دیکھنا اسے
غیروں پہ بھی تو دیکھیے بارانِ نعت ہے
جاری زباں پہ نعت نبی کی ہے ہر گھڑی
کیا دل بھی اے طرب ! ترا قربانِ نعت ہے
مکمل نام : غلام مرتضیٰ طرب علیمی
===== [[غلام مصطفی دائم اعوان]]، [[ اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
طاری عروسِ قلب پہ وجدانِ نعت ہے
خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے
لفظوں کی عکس بندیاں ملحوظ ہوں، مگر
لازم پسِ خیال بھی عرفانِ نعت ہے
نقش جمالِ شوخیءِ آیات کیا کہوں
ہر نوکِ حرف لشکرِ مژگانِ نعت ہے
تکوینِ کائنات کا ہر لحظۂ وجود
عنبر سرشت لؤلؤِ بارانِ نعت ہے
اقلیمِ نُہ سپہر کے آشفتہ خاطرو
فرحت نواز غنچۂ بستانِ نعت ہے
نکہت فشانیءِ گلِ رَیحان و نسترن
خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے
مخدومِ طائرانِ اولی الاَجنحہ، حضور
عرشِ فراخ صفحۂ دیوانِ نعت ہے
دائم فروغِ نعت کی نیرنگیاں نہ پوچھ
”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“
===== [[ فاتح چشتی]]، [[مظفر پور]]، [[انڈیا]] =====
بشکریہ : [[حافظ محبوب احمد]]
آغاز تا اخیر یہ ایوان نعت ہے
قرآن پاک اصل میں بنیان نعت ہے
شاید کھلے ہیں گیسوۓ مشکیں حضورکے
مہکی ہوئی جو یہ شب شعبان نعت ہے
بزم سخن میں نغمہ سراؤں کی بھیڑ ہے
اوج فلک پہ جذبۂ مردان نعت ہے
بادل برس رہے ہیں نشاط و سرور کے
ہر سمت ازدحام گدایان نعت ہے
چھلکی ہے چشم ناز کرم سےشراب عشق
مخمور آج حلقۂ رندان نعت ہے
ہوں خوشہ چین سعدی و جامی زہے نصیب
حاصل مجھے بھی صدقۂ حسان نعت ہے
ماہ و نجوم ، سدرہ و عرش و فلک ، ملک
چن لیجیے کسی کو بھی ، عنوان نعت ہے
باغ بہشت دیکھتے ہی دل پکار اٹھا
یہ گلستان و گلبن و گلدان نعت ہے
سینہ ہر ایک حرف کا ساغر بدوش ہے
برپا شعور لفظ میں ہیجان نعت ہے
اللہ رے وہ رونق شہر رسول پاک
گو آبجوۓ ہست میں مرجان نعت ہے
تنہائی کی خموشی ہو یا محفلوں کے شور
*ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*
*فاتح* یونہی نہیں ہے چمن میں بہار نو
طاری گلوں پہ نشۂ الحان نعت ہے
مکمل نام : فاتح چشتی مظفر پوری
===== [[ فریاب عظمی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
جو روحِ کائنات ہے سلطانِ نعت ہے
دونوں جہاں کی جان ہے وہ جان ِ نعت ہے
یارا کسے لکھے جو کہ شایانِ نعت ہے
بس رب ہی جانتا ہے جو پیمانِ نعت ہے
نم آنکھیں اور لب پہ درودوں کی ڈالیاں
مجھ ناتواں کا بس یہی سامان ِ نعت ہے
اوقات کیا بھلا یہاں مجھ سے حقیر کی
بو صیری رومی جامی یاں حسانِ نعت ہے
فطرت میں جھانک دیکھ ثناء رب ہے کر رہا
ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
سانسیں مہک رہی ہیں جو ذکرِ رسول سے
خوشبو ہے چار سو یہ گلستانِ نعت ہے
کچھ اور تو نہیں مرے اعمال میں حضور
سامان ِ آخرت یہی دیوانِ نعت ہے
===== [[فاضل میاں]]، [[میسور]]، [[کرناٹکا]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : سید فاضل میاں
یہ اعترافِ حسنِ قلمدانِ نعت ہے
فنِ تمام حاضرِ ایوانِ نعت ہے
مت زعم کر کہ تو  کوئی حسانِ نعت ہے
چل احتیاط سے کہ یہ میدانِ نعت ہے
تیرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے
حاصل اگر ذرا سا بھی وجدانِ نعت ہے
عمرِ تمام نذر ہے اس کی تلاش میں
وہ حرفِ معتبر کہ جو شایانِ نعت ہے
صد شکر میرے بحرِ تخیل میں جابجا
لولوئے نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے
کس جا نہیں ہیں لعل و گہر مدحِ شاہ کے
یہ ساری کائنات ہی اک کانِ نعت ہے
کشتِ سخن پہ فصلِ عقیدت کی ہے نمود
کیونکر نہ ہو تسلسلِ بارانِ نعت ہے
قرآں بہ نطق سوز بہ دل عجز بر جبیں
ہر اک نشانِ باج گزارانِ نعت ہے
یارب ہر ایک حمد کی مالک ہے تیری ذات
تیرا حبیب سید و سلطانِ نعت ہے
ہر رنگ ہر مہک کی ہیں کلیاں کھلی ہوئیں
روح و نظر نواز گلستانِ نعت ہے
بے روح پیکرِ سخن و حرف ہے تو کیا
تیرا خیال اے شہِ دیں جانِ نعت ہے
امشب وفورِ گریہ و زاری ہے مہرباں
آثار کہہ رہے ہیں کہ امکانِ نعت ہے
مضموں میں احتیاط خط و حرف میں ادب
لہجہ بتا رہا ہے کہ عرفانِ نعت ہے
یہ منصبِ شہیر یہ مسند کمال کی
مجھ کو اگر ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے
کیا جانے اختتام ہو کس کیفیت کے ساتھ
انوار کا نزول ہے دورانِ نعت ہے
باہر نکل حروف و معانی کی قید سے
" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
درپیش اک طویل سفر ہے حیات کو
رختِ سفر میں جو ہے وہ سامانِ نعت ہے
ہوں جبرئیل پشت پہ تائید کے لیے
اک شاعرِ غریب کو ارمانِ نعت ہے
اس کی کشش الگ ہے جمال اس کا ہے جدا
کتنا بہار زا رخِ تابانِ نعت ہے
جنت کی نعمتوں کا مزہ لے رہا ہوں میں
پیشِ نگاہ جب سے مرے خوانِ نعت ہے
اس میں بیانِ حلّت و حرمت نہیں فقط
قرآن ایک جہت سے قرآنِ نعت ہے
طیبہ ہے خواب گاہ ہے خیر الانام کی
ہر گوشہ اس زمیں کا خیابانِ نعت ہے
محشر کے روز پیشِ خدا باریاب ہوں
صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
زیر و زبر میں  کوئی کمی بیشی ہو نہ پائے
اے صاحبِ حروف یہ میزانِ نعت ہے
لائے  کوئی کتابِ الہیٰ کے سامنے
کیسا ہی پُر اثر  کوئی دیوانِ نعت ہے
رکھا ہے اک حصارِ بقا و دوام میں
کتنا فنا صفت پہ یہ احسانِ نعت ہے
منسوب ان سے ہے جو رسولوں کا ہے رسول
کیا کم یہ عظمت و شرف و شانِ نعت ہے
والشمس والضحیٰ کی تجلی ہے چارسو
فاضل اسی کا نام شبستانِ نعت ہے
===== [[فائق تُرابی]]، [[اٹک]]، [[پاکستان]] =====
یُوں بھی زبانِ حال سے فرمانِ نعت ہے
ذیشانِ دو جہاں ہے جو ذیشانِ نعت ہے
ارضِ حجاز ، ارضِ درود و سلام بھی
عَرفات ِ١ نعت ہے، کہیں فارانِ نعت ہے
حیراں ہُوں بُو تُراب کے بابا کو پڑھ کے مَیں
دیوانِ شــاعــری ہــے یا قُــرآنِ نعت ہــے
پیشِ نَظَـر ہو سُنّتِ سـرکار ہر جگـہ
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
  کوئی سکھا رہا ہے ہمیں نعت کے ادب
یہ غـَـارِ ثَور ہے کہ دبســتانِ نعت ہے
اصحاب کی ثنا سے بڑھے نعت کا وقار
آلِ نبی کی مدح و صِفَت جانِ نعت ہے
رشکِ بُخـَـارا ، رشکِ سمــرقند ســر زمین
یہ سر زمینِ چھچھ ٢ بھی گلستانِ نعت ہے
  کوئی نفیسِ نعت٣ ہے،  کوئی امینِ نعت٤
منظورِ نعت ٥ ہے ،  کوئی سلمانِ نعت٦ ہے
جب جب نسیمِ نعت چلے، دل مچل اُٹھے
جیسے یہ دل نہیں گُلِ ریحانِ نعت ہے
مجھ پر تری حدیث کے جوہر نہیں کُھلے
کس منہ سے میں کہوں مجھے عرفانِ نعت ہے
===== [[فراز حیدر کاظمی]]، [[مسقط]]، [[عمان]] =====
بشکریہ : [[حسنین اکبر]]
سر سبز کس قدر یہ دبستانِ نعت ہے
قاری جہانِ کن پئے قرآنِ نعت ہے
حمدِ خدا ہے جنبشِ اعضائے خاکسار
سانسوں کی سلسبیل میں گردانِ نعت ہے
اک سمت حمد دوسری جانب علی کی مدح
کتنا عدیل پہلوئے میزانِ نعت ہے
مجھ پر عطائے بابِ مدینہء علم ہے
حاصل مجھے جبھی تو یہ عرفانِ نعت ہے
مفہوم مِنِیت کے ذرا دیکھئے حضور
نوحے کے ساتھ دائمی پیمانِ نعت ہے
چھ سات شعر نعتِ محمد میں کہہ دیئے
حیدر پہ کیا عظیم یہ احسانِ نعت ہے
===== [[فراز عرفان]]، [[دوبئی]] =====
قائم جو لامکان پہ ایوانِ نعت ہے
بیشک یہ شاہِ والا کے شایانِ نعت ہے
چرچا ہے شش جہت میں جو گویانِ نعت کا
لاریب یہ بوجہِ گلستانِ نعت ہے
باقی مکانِ دنیا میں گھومو پھرو مگر
طیبہ ادب سے جاؤ ، وہ کاشانِ نعت ہے
کہئے ثناء نبی کی ذرا احتیاط سے
کیونکہ خدا کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے
مداحِ مصطفیٰ کی ہے فہرست گو طویل
لیکن جو شانِ نعت ہے حسانِ نعت ہے
نسبت ہے تیری ذات سے لکھیں تری ثنا
ورنہ قلم  کوئی ترا شایانِ نعت ہے ؟
جس کے سبب ہو فردِ عمل دائیں ہاتھ میں
بس ایک ایسا ہی مجھے ارمانِ نعت ہے
سامانِ آخرت ہے یہی میرا اصل میں
تھاما ہوا اسی لئے دامانِ نعت ہے
روحِ رواں ہیں آپ ہی اس کائنات کے
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
خاکی سبھی پہ چشمِ کرم ہے حضور کی
لیکن فقط خواص پہ بارانِ نعت ہے
===== [[فرخ رضا ترمذی]]، [[کبیر والا]]، [[پاکستان]] =====
سرکار کا کرم ہے جو بارانِ نعت ہے
مولا تری عطا سے ہی فیضانِ نعت ہے
ہر سمت تیرے نور کے جلوے نگاہ میں
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
تیرا وجود مرکز و محور ہے خیر کا
تیرا کلامِ نور ہی سامانِ نعت ہے
ذکرِ حبیب کرتے ہیں عشاق ہر گھڑی
ان کی زباں پہ ذکر بھی شایانِ نعت ہے
پتھر بدست لوگوں کے حق میں تری دعا
طائف کا سارا واقعہ خاصانِ نعت ہے
سجدہ طویل کرکے نواسے کے واسطے
سب کو دکھادیا کہ یہ ریحانِ نعت ہے
یادِ رسولِ پاک سے دل میں گداز ہے
آنکھوں سے اشک برسے ہیں، امکانِ نعت ہے
انعامِ خاص ہے مری "انعام فاطمہ*"
مالک کا یہ کرم بھی تو احسانِ نعت ہے
اپنا تو ہر سخن ہے ثنائےِ رسولِ پاک
ہر جا پہ اپنے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
تجھ پہ کرم حبیب کا " اے جانِ مرتضی"
گھر میں تمہارے مہکا گلستانِ نعت ہے
مشکل گھڑی سے مجھ کو بچاتا ہے تیرا ذکر
فرخ رضا کے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
* بیٹی کا نام
===== [[فرقان بزمی]]، [[ پیلی بھیت، یوپی]]، [[انڈیا]] =====
بشکریہ : [[غلام فرید واصل]]
میرا خیال طالبِ عرفانِ نعت ہے
لگتا ہے طبعِ ناز کو میلانِ نعت ہے
ہر لفظ اِس کا دل میں اُترتا چلا گیا
ایسا کمالِ حسن میں دیوانِ نعت ہے
قائم بہارِ عشق و محبت ہے خوب خوب
آراستہ جہاں میں گلستانِ نعت ہے
ہر مکتبِ سخن میں اِسی کے ہیں تذکرے
معروف کس قدر یہ دبستانِ نعت ہے
ٹھہری ہوئی ہے اپنی جگہ رفعتِ فلک
صبح و مسا عروج پہ ایوانِ نعت ہے
اپنے تو اپنے غیر بھی کرتے ہیں احترام
مقبولِ خاص و عام ہے ، کیا شانِ نعت ہے
ہے کون ؟ جو نہ نعت کی کھاتا ہو نعمتیں
دونوں جہاں میں پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے
ملتی رہی بلال کو لذّت وصال کی
شوقِ لقائے یار بہ عنوانِ نعت ہے
محبوب کے فراق کا ہے درد اس قدر
ہر آہ میں اویس کی فیضانِ نعت ہے
اُس کے لیے ہے رحمتِ سرکار میزباں
فضلِ خدا سے جو  کوئی مہمانِ نعت ہے
تسلیم ہے اُنہیں کو یہ ، زندہ ہے جن کا دل
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
بزمی کی کشت شعر و سخن لہلہا اٹھی
برسا کچھ ایسے ابرِ بہارانِ نعت ہے
مکمل نام : محمّد فرقان بزمی پورن پور پیلی بھیت یوپی
===== [[فضل اللہ فانی]]، [[صوابی]]، [[پاکستان]] =====
آمد کا زور شور ہے، بارانِ نعت ہے
خامہ تو آج وقفِ قلمدانِ نعت ہے
ہر عندلیبِ باغِ سخن نغمہ سنج ہے
ہر سمت جشنِ فصلِ بہارانِ نعت ہے
مشکل ہے حملِ وحْی کے مانند حملِ نعت
یعنی یہ کارِ حوصلہ مندانِ نعت ہے
صاحب نظر ہو  کوئی تو ہو اس پہ منکشف
"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اصنافِ شعر میں ہے جدا رتبہ نعت کا
شاہِ غزل، گدائے گدایانِ نعت ہے
دنداں کا سِین ہے تو کہیں مِیمِ زلف ہے
قرآں نگاہِ شوق میں دیوانِ نعت ہے
حسّاں کو اور ہی قدِ شعری عطا ہوا
سلطانِ نعت، سروِ گلستانِ نعت ہے
"لولاک" کا ظہور ہے ہر شے میں جلوہ گر
ہرچیز چشمِ شوق کو سامانِ نعت ہے
ہجراں کا زخمِ کاری ہے دل میں تو کیا ہوا
فانی ہمارے پاس تو درمانِ نعت ہے
===== [[فہیم رحمان آزر]]، [[سمندری]]، [[پاکستان]] =====
ہم شاعروں پہ کس قدر احسانِ نعت ہے
طبع آزما جو آج پھر ایوانِ نعت ہے
ارفع سخن طراز بھی پہنچے نہ میم تک
اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
پائے گا اِس سے دل مرا دوہری حلاوتیں
اک سلسلہ درود کا دورانِ نعت ہے
حدِ نگہ ہیں گلستاں اور گلستاں میں پھول
کتنا وسیع خیر سے میدانِ نعت ہے
مظہر ہیں تیرے نور کا عالم کی رونقیں
شمس و قمر کی روشنی عرفانِ نعت ہے
اُن کے کرم کا دائرہ محدود تو نہیں
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
محشر میں جب سوال ہو، کچھ ہے تمہارے پاس؟
تب میں کہوں کہ ہاں مرا دیوانِ نعت ہے
لمحہ بہ لمحہ ہوتی ہے مدحت حضور کی
آذرؔ ہمارا حلقہ دبستانِ نعت ہے
===== [[فیصل حسن نقشبندی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
آنسو دلِ گداز یہ سامانِ نعت ہے
نظروں میں اُنؐ کا حسن ہی دورانِ نعت ہے
اللہ جانتا ہے حقیقت حضورؐ کی
کس کو نصیب دہر میں عرفانِ نعت ہے
صدقے میں پنجتن کے کرم تجھ پہ خاص ہے
اولاد میں مری جو یہ میلانِ نعت ہے
حُبِّ رسولؐ لے کے پڑھے  کوئی دوستو !
سارا کلامِ پاک ہی دیوانِ نعت ہے
بےشک یہ اپنی عزت و شہرت وقار سب
اپنا کمال کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
سرمایہِ حیات ہے نعتِ رسولِ پاک
صد شکر شوق ِ حلقہِ یارانِ نعت ہے
اک کیف اک سُرور ہے اک بے خودی سی ہے
حالت بتارہی ہے کہ امکانِ نعت ہے
اس کے لیے ہیں دونوں جہاں کی بھلائیاں
واللہ جان و دل سے جو قربانِ نعت ہے
دنیا میں ہر گھڑی رہی مدحت کی آرزو
زیر لوائے حمد بھی ارمانِ نعت ہے
فیصل حسنِ کرم ہے کرم ہے حضورؐ کا
تُو بھی جو ایک بُلبلِ بُستانِ نعت ہے
===== [[ فیصل قادری گنوری]]، [[گنور]]، [[ بھارت]] =====
طرزِ بیان آ گیا احسانِ نعت ہے
مجھ میں شعورِ مدح بہ فیضانِ نعت ہے
میرے شعور و فکر میں گردانِ نعت ہے
در اصل عشقِ شاہِ ہدی جانِ نعت ہے
جب سے خیال ان کا تصور میں بس گیا
افکار کا نزول ہے ! بارانِ نعت ہے
عشاقِ مصطفی کی تڑپ کی ہیں جھلکیاں
افضل مری نگاہ میں دیوانِ نعت ہے
انساں کی کیا مجال لکھے شانِ مصطفی
خود ربِّ کائنات ثنا خوانِ نعت ہے
ہم عاشقوں کو خوف نہیں روزِ حشر کا
بخشش کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے
مداح اس کے جیسا نہیں دوسرا  کوئی
حسّان جس کو کہتے ہیں سلطانِ نعت ہے
یہ ساری کائنات سما جائے گی میاں
اتنا وسیع حلقہِ دالانِ نعت ہے
خطرہ  کوئی نہیں ہمیں خورشیدِ حشر کا
سر پر ہمارے سایہِ دامانِ نعت ہے
طرزِ سخن سے جس کو ذرا بھی ہے آگہی
پھر اس کے دل میں حسرت و ارمانِ نعت ہے
مدحت میں ان کی رب نے اتارا کلامِ پاک
فیصؔل بیان کیسے ہو کیا شانِ نعت ہے
فیصؔل قادری گنوری
===== [[فیضان قادری]]، [[ٹانڈا]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : محمّد فیضان قادری
سب سے بلند کہ وسیع میدانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
مچھ کو بھی نعت کہنے کا دے دیجئےشرف
مدت سے میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے
میرا بھرم جو ٹوٹنے دیتا نہیں خدا
کچھ بھی نہیں یہ واللہ فیضانِ نعت ہے
اس کے عوض تو ملتی ہے قربت حضور کی
کتنوں کو دید ہو گئی یہ شانِ نعت ہے
سب بڑا سخنور میری نظر میں وہ
جس کو بھی فضلِ حق سے عرفانِ نعت ہے
===== [[قمر آسی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]]=====
عرفانِ نعت ہے نہ ہی وجدانِ نعت ہے
لیکن ازل سے حسرت و ارمانِ نعت ہے
حکمِ خدائے پاک ہے مدحت رسول کی
صلُّو علیہِ اصل میں اعلانِ نعت ہے
طاعت نبی کی طاعتِ ربِ عظیم ہے
الفت مرے کریم کی عنوانِ نعت ہے
ہر ذی قدر خیال کو پایا ہے نعت میں
کتنا وسیع دیکھیے دامانِ نعت ہے
سب پھول محوِ رقص ہیں، غنچے ہیں مشکبار
کیسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے
ہر انتخابِ لفظ میں لازم ہے احتیاط
حد ادب جناب یہ میدانِ نعت ہے
حسان کے ہنر سے عطا ہو طریقِ نعت
درکار مجھ کو ویسا ہی سامانِ نعت ہے
تھوڑے سے غور و فکر سے یہ منکشف ہوا
" ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے "
خود خالقِ جہان ہے مداحِ اولیں
کتنی بلند و بانگ قمر شانِ نعت ہے
===== [[ قمر خورشید خان]]، [[باغ، کشمیر]]، [[پاکستان]] =====
میرے نبی کی ذات ہی عنوان_نعت ہے
ذکر_رسول_ پاک تو دیوان _ نعت ہے
ملتی سخنوری کی اگر داد ہے مجھے
میں مانتا ہوں مجھ پہ یہ احسان_ نعت ہے
تعمیر_ قصر_ نعت میں لازم ہے فن مگر
عشق ونیازوشوق بھی سامان_ نعت ہے
مجھ کو جزاء_نعت_نبی ہے یہی بہت
میرے بھی ہاتھ میں تو قلمدان_ نعت ہے
حسن_نبی ثنا کے احاطہ سے ہے وراء
ہر اک ادا ہی آپ کی میدان_ نعت ہے
اتنے حسیں ہیں آپ کے لمحات_ زندگی
"ہرشعبہء_ حیات میں امکان_ نعت ہے"
قرآن تو قمر ہے قصیدہ حضور کا
اللہ کی یہ کتاب ہی شایان_ نعت ہے
===== [[قمر صدیقی]] , [[گوجرانوالہ]]، [[پاکستان]] =====
مجھ کمتریں کے ہاتھ قلم دانِ نعت ہے
احسانِ نعت سر بسر احسانِ نعت ہے
میں حجرهٔ درود میں رہتا ہوں ہر گھڑی
میرا خیال آج کل ، ایوانِ نعت ہے
جب آل ہے درود میں شامل، کہا گیا
پھر کربلا کا ذکر بھی عرفانِ نعت ہے
بیٹھو تو "نعت ورثہ" کے سائے میں دو گھڑی
تم بھی پکار اٹھو گے بارانِ نعت ہے
انؐ کےحضور اشکِ ندامت لئے ہوئے
فریاد و استغاثہ بھی امکانِ نعت ہے
ہیں کاف پیش نون کے آثار جس قدر
صاحب ! بقدرِ ظرف یہ سامانِ نعت ہے
ہر نعت مجھ کو نافهِٔ مشکِ خُتن لگے
حد درجہ عنبریں جبھی دالانِ نعت ہے
یادِ رسولِ پاکؐ کو لوبان داں سمجھ
اس میں سلگتا نعت گو ، لوبانِ نعت ہے
یہ بات مجھ سے رومیِ کشمیر نے کہی
قرآنِ پاک اوّلیں دیوانِ نعت ہے
ہے کنتُ کنزِ مخفی کی تفسیر یہ قمر !
"ہر شعبهِٔ حیات میں امکانِ نعت ہے"
===== [[قمر وارثی]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
ہر زاویے سے ایک دبستانِ نعت ہے
وہ جس کی دسترس میں قلمدانِ نعت ہے
اُسّوہ شہِؐ انام کا ، سیرت حضورؐ کی
دنیائے نعت میں یہی دیوانِ نعت ہے
روزِ ازل سے ذکرِ نبیؐ ہے زباں زباں
یعنی ہر ایک عہد بہارانِ نعت ہے
ہم ہی نہیں، صحابہ رطب اللساں رہے
کیا پوچھئے خدائی میں کیا شانِ نعت ہے
مقبول ہو جو بارگاہِ ذیؐ وقار میں!!
سچ پوچھئے تو نعت وہی جانِ نعت ہے
رحمت کا نُور جلوہ فگن ہے وہاں وہاں
روشن جہاں جہاں بھی شبستانِ نعت ہے
منصب جدا جو حضرتِ حسانؓ کو ملا!
بے شک بہ فکرِ نعت یہ فیضانِ نعت ہے
کم کم ہے فکر اُن کی ، کسی اور صنف میں
وہ لوگ جن کے سامنے میدانِ نعت ہے
کچھ اور بات ان سے کے تقدس کی ہے قمر
منسوب جو کتاب بہ عنوانِ نعت ہے
===== [[قیوم طایر]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[علیم اطہر]]
کتنا وسیع تر ہے جو دامانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
بس شرط ہے ادا ہو مکمل خلوص سے
اک مصرع ، ایک شعر بھی دیوانِ نعت ہے
صد احترام گلشنِ جنت میں جو پڑھی
میرے حضور ﷺ ! مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
جیسے  کوئی پرندہ چہکتا اڑا پھرے
اک دل نواز تجربہ دورانِ نعت ہے
اس تن بدن پہ گنبدِ اخضر کی چھاؤں سے
مدحت رواں جو لب پہ ہے فیضانِ نعت ہے
لب پر درود آنکھ میں آنسو سجے ہوئے
اے میرے آقا ﷺ ، پاس یہ سامانِ نعت ہے
میں خار خار ، جانے کو بیتاب کس قدر
یہ جانتے ہوئے وہ خیابانِ نعت ہے
===== [[کاشف حیدر]]، [[بارٹلیٹ]] =====
دل میں اسی لئے مرے ارمانِ نعت ہے
میں نے سنا ہے حشر میں میزانِ نعت ہے
عنوان ہی لکھا کہ قلم تھک گیا مرا
کتنا طویل جانے یہ میدانِ نعت ہے
اب خوف کچھ نہیں مجھے منکر نکیر کا
مری لحد میں ساتھ جو دیوانِ نعت ہے
لگتا ہے سجدہ ریز درِ مصطفیٰ پہ ہوں
احساس کیا حسین یہ دورانِ نعت ہے
اک منفرد سی نعت لکھوں گا میں ابکے بار
قرآں سے لفظ لوں گا جو شایانِ نعت ہے
کاشف مری نظر میں سخنور نہیں ہے وہ
جس کا قلم ابھی تلک انجانِ نعت ہے
===== [[کاشف عرفان]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
ذوقِ درود ہے کہیں رُجحان نعت ہے
صد شکر میری نسل میں میلانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں درکار ہیں نبی
"ہر گوشہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
روشن کیا ہے جس نے مرا گھر مرا قلم
نور محمدی ہے یہ تابانِ نعت ہے
آنکھوں میں تیرتے ہیں مدینے کے صبح و شام
محسوس ہو رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے
تہذیبِ بے مہار کا سیرت کو شکریہ
بدلے ہوئے ہیں ہم تو یہ احسانِ نعت ہے
حسنِ عمل ہی لفظ کو دیتا ہے زندگی
معیار ہے یہی ، یہی پہچانِ نعت ہے
سیرت کا حُسن سنتِ آقا کی روشنی
کتنا سجا ہوا مرا ایوانِ نعت ہے
اشکِ فراق ، خوابِ تیقن، سلامِ شوق
کاشف ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے
===== [[کامران ارشد]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
چونکہ جہاں کی جان ہی جانان نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
ہر لحظہ ہو رہے ہیں دواوینِ نعت جمع
ہر ذرہ کائنات کا دیوان نعت ہے
مد و جزر سے ذکر کے دل زندہ ہو گیا
اعجاز ماہتاب غلامان نعت ہے
معراج مصطفی نے سکھائی ہمیں یہ بات
عرش خدا بھی آپ کا ایوان نعت ہے
خوش ہوں کہ گل نعوت کے کھلتے ہیں اس پہ آج
میرا سخن بھی آج کہ بستان نعت ہے
کردیجیے نہ شاہ امم مجھ پہ اک نظر
بے تاب ہو چلا ہوں کہ ارمان نعت ہے
===== [[کوثر سعیدی]] , [[ملتان]]، [[پاکستان]] =====
شاعر : راجا کوثر علی
بشکریہ : [[حفیظ اوج | مرزا حفیظ اوج]]
غارِ حرا تو مرکزِ دیوانِ نعت ہے
ہر حرف جو عطا ہے وہ شایانِ نعت ہے
ممکن نہیں کہ اس کا احاطہ کرے  کوئی
عشق رسول پاک جو دوران نعت ہے۔
اے وجہ ممکنات فقط آپکے طفیل
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"
اصناف اور بھی ہیں ادب میں تو معتبر
صد شکر ہے شعور پہ باران نعت ہے
اے کاش مدح حضرت ِ جامی سی ہو عطا
کوثر کے دل میں ایک ہی ارمان نعت ہے
===== [[کوثر علی]], [[فیصل آباد ]]] =====
بشکریہ : [[ریاض قادری]]، [[فیصل آباد]]
یہ آپ کا کرم ہے جومیلان نعت ہے
لیتے ہیں جس سے آپ کا وہ خوان نعت ہے
طیبہ میں کیا حکومت شاہان نعت ہے
ہر سمت اک ہجوم گدایان نعت ہے
حسان و کعب و ابن رواحہ یہاں پہ ہیں
منبر کے پاس جوش کریمان نعت ہے
جنت کی اتنی بار بشارت اسے ملی
اپنا امام نعت تو حسان نعت ہے
رکتی نہیں ہے مدح کبھی آنحضور کی
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
ان کی ہر ایک ایک دعا میں شریک ہے
دل شامل گروہ شریفان نعت ہے
یا رب نبی کی نعت اک ایسی نصیب ہو
میں جس کو کہ سکوں کہ یہ شایان نعت ہے
کچھ حسرتیں ہیں آنسو ہیں دوری کے رنج و غم
اک عمرہوگئ یہی سامان نعت ہے
بارش اتر رہی ہیں ثنائے حبیب کی
اوج خیال کوہ سلیمان نعت ہے
دامن بھرا ہو اہے عطاءے رسول سے
کافی ہمیں تو بس یہی دامان نعت ہے
پڑتی نہیں کبھی بھی کسی چیزکی کمی
فیضان نعت سا  کوئی فیضان نعت ہے
ہر رنگ کے ہیں پھول کھلے میرے شہر میں
یہ شہر نعت ہے کہ گلستان نعت ہے
اللہ کرے یہ نامہ اعمال ہو مرا
میرے جو ہاتھ میں مراد یوان نعت ہے
ہوتا ہے سینہ چاک ثناءے حبیب سے
کوثر ہمارا چاک گریبان نعت ہے ۔
===== [[گل رابیل]]، [[پاکستان]] =====
تسکینِ روح کے لئے سامانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
میرے نبی کا پہلا ثنا خواں ہے میرا رب
قرآن سب سے پہلا تُو دیوانِ نعت ہے
ذکرِ رسولِ پاک ہی ہوتا ہے جا بجا
ہر آئینے کے رخ پہ ضیا بانِ نعت ہے
خوشبو ہے ذہن میں مری سانسیں ہیں عطر بیز
گردِ مشام بوئے گلستانِ نعت ہے
زیور ٹٹولتی ہوں نہ زر ڈھونڈھتی ہوں میں
دل کو تو میرے ہر گھڑی ارمانِ نعت ہے
پڑھ کر تو دیکھئے ذرا نعتیں رسول کی
کس طرح جاری آج بھی فیضانِ نعت ہے
سجتی ہیں میرے قلب میں نعتوں کی محفلیں
رابیل دل یہ دل نہیں ایوانِ نعت ہے
===== [[ لیاقت علی عاصم]]، [[ کراچی ]] =====
اسمِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے
عنوانِ نعت ہی نہیں دیوانِ نعت ہے
اے اسپِ تیز شان رقم دیکھ ہوشیار
یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے
جائز نہیں ہے اعلٰی و ادنٰی کی اصطلاح
ہم لکھنے والوں پر یہی فیضانِ نعت ہے
دنیا کی دھوپ دل کو مرے چُھو نہ پائے گی
قالب پہ میرے سایہِ دامانِ نعت ہے
عصرِ رواں ہو یا کہ وہ عہدِ گزشتہ ہو
اس کا غلام ہوں کہ جو سلطانِ نعت ہے
نقاد تھام لے کہ  کوئی نکتہ دانِ شعر
ہموار سب کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے
دراصل نعت خواں ہے موذٌِن کہیں جسے
یعنی اذان بھی  کوئی اعلان ِ نعت ہے
===== [[مبشر صائم علوی]]، [[حاصل پور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : ملک مبشر صائم علوی
اپنا تو فخر زیست میں دیوانِ نعت ہے
اپنی تو آن بان فقط شانِ نعت ہے
اہلِ سخن سنبھل کے، یہ عنوانِ نعت ہے
چلیے ٹھہر ٹھہر کے، یہ میدانِ نعت ہے
اس دن سے ہوگیا ہوں مقدر کا میں دھنی
جس دن سے میری فکر پہ بارانِ نعت ہے
منزل بھی ایسے شخص کی رہتی ہے منتظر
جس کو تلاشِ گوشہءبستانِ نعت ہے
صلِّ علٰی کی لوریاں ماوں سےہیں ملی
ہر بچہ بچہ اس لئے قربانِ نعت ہے
عزت، وقار ، و منزلت اس کا ہے پیرہن
جو شخص بھی یہاں پہ نگہبانِ نعت ہے
ایسے لگا میں اور ہی دنیا میں ہوں مکیں
یہ کیفیت بنی مری دورانِ نعت ہے
وقتِ نشور حکم ہو اے کاش اس طرح
اُس دل کو لاو جس میں کہ ارمانِ نعت ہے
عیبوں کو میرے ڈھانپ کے رکھتی ہے ہر گھڑی
صائم کے سر پہ چادرِ احسانِ نعت ہے
===== [[محبوب احمد]]، [[سرگودھا]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : حافظ محبوب احمد
پھرعالمِ حضوری ہے،امکانِ نعت ہے
تیارپھرنزول کوقرآنِ نعت ہے
دھرتی ہوآسماں ہوکہ لاہوت ولامکاں
میری نگاہ میں سبھی سامانِ نعت ہے
ہر پھول کی مہک سےمعنبر ہے کائنات
کیا پر بہار صحنِ گلستانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات میں سیرت ہے جلوہ گر
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
ہر حرفِ نعت صورتِ خاور ہے ضوفشاں
ایوانِ نور ہے کہ یہ دیوانِ نعت ہے
لوح وقلم بدست ہے ہر ایک نغزگو
جوبن پہ آج اپنے دبستانِ نعت ہے
آئےہےحرف حرف سے صلِّ علیٰ کی گونج
پایا درِ حضور سے فیضانِ نعت ہے
نعلینِ شاہ سے ہیں ہوئی تاج پوشیاں
گفتہ مرابھی صاحبو!سلطانِ نعت ہے
ہر حرف ضوفشاں ہے شبِ ماہ کی طرح
اے لذّتِ فنا! یہ شبستانِ نعت ہے
فکرونظرکےیہ بڑےمشکل ہیں مرحلے
یہ ہے حرائے نعت، یہ فارانِ نعت ہے
===== [[محبوب علی جوہر]] =====
ان کے تو پاس سایہء دامانِ نعت ہے
رحم و کرم بھی ورثہ خاصانِ نعت ہے
پیران عشق احمد و حامد کہیں جسے
اس مصطفی کا نام ہی وجدان نعت ہے
احسن ہر اک لحاظ سے حضرتؐ کی ذات ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
روح القدس ،ہوں خلد کی خوشبوئیں ،رونقیں
کتنا عظیم تر ترا سامانِ نعت ہے
مجھ سے کہا گیا کہ ہوں صدقہ حضور ؐ کا
بابا سے مجھکو اس لیے پیمانِ نعت ہے
ہم پستیوں کے باسی ،کہاں تک رسائی ہو
بس ایک عرش ہی ترے شایانِ نعت ہے
ہر ایک کھا رہا ہے جو صدقہ رسول ؐ کا
ہر ایک اس لحاظ سے مہمانِ نعت ہے
ہیں نعمتیں کروڑوں پر ان میں عظیم تر
خالق کا ایک مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
===== [[مجاہد علی]]، [[لاہور ]] =====
میں اور مرے حروف کی قیمت نہیں حضور
ربِّ جہاں ہی ربِّ دبستانِ نعت ہے
اِس راستے پہ عقل نہیں عشق چاہئیے
اے دل ذرا سنبھل کہ یہ میدان ِ نعت ہے
===== [[مجید اختر رومانی]]، [[راولپنڈی]]، [[پاکستان]] =====
مدت سے دل کو یانبی ارمانِ نعت ہے
کیجے عطا وہ حرف جو شایانِ نعت ہے
فرمانِ ربِ مصطفی فرمانِ نعت ہے
ہر بات ہی رسول کی ایمانِ نعت ہے
ہر ایک ذرہ گویا ثناءخوانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
تعریف ہر زبان پہ میرے نبی کی ہے
کیا خوب ہی یہ وسعتِ فیضانِ نعت ہے
اخترکہ کیا سجائیں گے ہم ان کی محفلیں
یہ ساری کائنات ہی ایوانِ نعت ہے
===== [[محسن رضا شافی]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[عباس عدیم قریشی]]
سینے میں میرے دل نہیں گُلـدانِ نعت ہے
یا پھر جوارِ قلب ، گلستانِ نعت ہے
امکان کا وجوب ہے ممکن جہاں جہاں
" ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے "
پوچھا کسی نے نامۂ اعمال میں ہے کیا؟
عاجز نے بس کہا میاں ، ارمانِ نعت ہے
نطق و بیان و صوت و صدا تک نہیں ہے نعت
یہ بزمِ کائنات بہ فیضانِ نعت ہے
یادِ نبی میں آج ہے دل مضطرب بہت
حالت بتا رہی ہے کہ امکانِ نعت ہے
صلّ ِ علیٰ کا ورد ہے جائے نماز پر
اور کشتِ ذہن و فکر پہ بارانِ نعت ہے
نیزے پہ سر بلند ہے لب پر کلام حق
ایسا بھی  کوئی اور سخندانِ نعت ہے؟
شافی خدا نے نعت میں کیا کیا سمودیا
تکوینی ارتقاء سبھی ، دیوان نعت ہے
===== [[محمد باقر ]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : سید محمّد باقر زیدی
کتنا وسیع حلقہء دامان ِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکان ِ نعت ہے"
اگتے ہیں اِس میں پھول ثناۓ رسول کے
دل کی زمین ہے کہ خیابان ِ نعت ہے
تابش سے جس کی خیمہء عالم ہے ضوفشاں
سورج نہیں یہ گوہر ِ تابان ِ نعت ہے
اُن ص کے کرم سے دفتر ِ مدحت پہ آگیا
وہ حرف ِ بے نظیر جو شایان ِ نعت ہے
پاس ِ ادب ، سلیقہء الفاظ ، عاجزی
وارفتگیء شوق میں سامان ِ نعت ہے
صَد شُکر میں سخن میں مُقلّد اُسی کا ہوں
وہ رشک ِ بوتراب ع جو سُلطان ِ نعت ہے
باقر ہمیں ملے گا ریاض ِ جناں میں گھر
گُلزار ِ ہست و بُود میں اعلان ِ نعت ہے
===== [[علی حارث]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
میرے خیال میں یہی فیضان نعت ہے
عشاق کو ملا جو یہ دیوان نعت ہے
کیوں آج تک احاطہ نہیں ان سے ہو سکا
حیراں ہیں عقل والے بھی کیا شان نعت ہے
اس پر نزول ہوتا ہے رحمت کا عمر بھر
جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامان نعت ہے
یعنی درود اور سلام ان کی ذات پر
بخشش کے واسطے ملا سامان ِ نعت ہے
وہ ذات کارساز ہے کوشش تو کیجیے
“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”
حارث گنہگار خطاکار ہے مگر
صد شکر اس خدا کا غلامان نعت ہے
===== [[محمد شاہ ہمدانی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : سید محمد شاہ ہمدانی
اب روح اور سانس بھی گردانِ نعت ہے
سو زندگی وہی ہے جو قربانِ نعت ہے
عشق ِ رسول ہی مِرا سامانِ نعت ہے
اس کے طفیل مل گیا فیضانِ نعت ہے
کرتا رہا وظیفہ درودو سلام کا
اس وقت کی وہ خامشی گردانِ نعت ہے
اللہ کے ولی نے بتائی مجھے یہ بات
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
مجھ کو ذرا بھی خوف نہیں پل صراط کا
امداد میں رسول کی فیضانِ نعت ہے
دن رات بھیجتا ہوں شہِ طیبہ پر سلام
بس آخرت کو پاس یہ سامانِ نعت ہے
ہر اشک کے سبب مرے اشعار ہوگئے
اتنا حسیں تبھی مرا دیوانِ نعت ہے
اظہارِ عشق کرتا ہوں سرکار سے میں خوب
ہوتی ہے دلبری سبھی، دورانِ نعت ہے
تم چشمِ دل سے گنبد ِخضری کو دیکھتے
خلدِ بریں کا ٹکڑا یہ، ایوانِ نعت ہے
دن رات بھیجتے رہو ان پر سلام تم
میرا عقیدہ ہے ؛یہی رحمانِ نعت ہے
جلوے رسول کے ہیں میسر مجھے مدام
لوگو میں جانتا ہوں ؛کہ امکانِ نعت ہے
اشکوں سے نعت کہتا رہا ہوں رسول کی
کتنا سکون مل گیا ؛ دورانِ نعت ہے
خلدِ بریں اسی کی ہے آمد کی منتظر
جس شخص کا عقیدہ ہے؛ ایمانِ نعت ہے
دن رات سوچتا ہوں پیمبر کی شان میں
ہر ایک شعر میرا یوں؛ مہمانِ نعت ہے
اللہ سے یہی ہے دعا، نعت کہہ سکوں
اک زیست بھر رہا مجھے ارمانِ نعت ہے
چرچا انہی کے صدقے محمد شہا ہے سب
میری حیات بن گئی عنوان ِ نعت ہے
===== [[محمد صدیق]]، [[جلال پور جٹاں، گجرات]]، [[پاکستان]] =====
مدحت رسول پاک کی پہچانِ نعت ہے
الفت نبی کی آل سے پیمانِ نعت ہے
قدسی بلائیں لیتے ہیں اس خوش خیال کی
جس آدمی کے پاس بھی سامانِ نعت ہے
مال و متاع دولتِ دنیا و آخرت
جو کچھ بھی میرے پاس ہے فیضانِ نعت ہے
منظر درِ حبیب کا کیسے بیاں کروں
تنکا در رسول کا مژگانِ نعت ہے
لو لاک کا ہے معنی و مفہوم یہ کھلا
جو کچھ ہے کائنات میں سامانِ نعت ہے
ناصح نظر اٹھا کے زرا کائنات دیکھ
" ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
===== [[مرزا حفیظ اوج]]، [[خانیوال]]، [[پاکستان]] =====
اصل الاصول بندگی عرفانِ نعت ہے
یارب وہ فکر دے کہ جوٰ شایانِ نعت ہے
یہ رفعتِ خیال ، یہ پاکیزگئ فکر
مدحت سپاس ذوق یہ، فیضانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات ترے لطف کا رہین
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
سرسبز و شاد رکھے خدا اہلِ عشق کو
عشاق کی زبان گلستانِ نعت ہے
اپنی تو جستجو کا خلاصہ یہی ہے اوج
جو کچھ ہے  کائنات میں امکانِ نعت ہے
===== [[مرغوب بانہالی]]، [[کشمیر]]، =====
پیشکش : [[جوہر قدوسی]]
ہر سورئہ فُرقان اِک دیوانِ نعت ہے
ہر سُنّتِ رسولؐ اِک عُنوانِ نعت ہے
اُن کے وقار و صبر کے ذکرِ جمیل سے
ملکوت کے جہاں میں خیابانِ نعت ہے
شجر و حجر بھی آپؐ کے مِدحت گذار ہیں
عالم نواز گویا کہ فیضانِ نعت ہے
ایثار ہے سراپا ہی اسوہ رسول کا
ہر اِک حوالہ جِس کا چراغان نعت ہے
مرغوبؔ اُن کے اُسوہ میں ڈھلنے کی دیر ہے
ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے
مکمل نام : پروفیسر مرغوب بانہالی، صدر نعت اکادمی کشمیر
===== [[مرید عباس خاور]]، [[میلسی]] =====
بشکریہ : [[یاسر عباس فراز]]، [[میلسی]]
اس مضطرب وجود میں بس جانِ نعت ہے
یہ فکر سانس دل سبھی سامانِ نعت ہے
آنکھوں میں خاکِ راہِ مدینہ کا نور ہے
پلکیں فلک کو چھوتی ھیں احسانِ نعت ہے
یوں مل گیا مدینے کی ٹھنڈی ھوا میں سانس
سینے کی سبز روشنی فیضانِ نعت ہے
خوابوں میں زائرینِ مدینہ ملے مجھے
تعبیر ھو گیا ھوں یہ ایمانِ نعت ہے
جبریل ساتھ لے کے پیامِ خدا چلے
گذرا جہاں جہاں سے بھی قرآنِ نعت ہے
میرا و ضو ,نماز, تلاوت, قبول ھو
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے "
نعلینِ مصطفٰی ص کا ہے  نقشِ حسیں ملا
خاور مجھے عطا ھوا وجدانِ نعت ہے
===== [[مزمل رضا جاذب]]، [[ امراوتی مہاراشٹر]]، [[انڈیا]] =====
بشکریہ : [[محبوب احمد]]، [[سرگودھا]]
کونین میں بلند قلمدانِ نعت ہے
ہر مدح و وصف زینت ایوانِ نعت ہے
کوثر دوات ہو پَرِ جبریل ہو قلم
پھر بھی نہ ہو تمام عجب شانِ نعت ہے
ہر ایک حرف، مدح، ہر اک لفظ ہے ثنا
قرآن کی زبان ہی شایانِ نعت ہے
سامانِ حشر مل گیا مجھ کو بہ فیض عشق
صد شکر! میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
عشق رسول سے ہیں رضا کی بلندیاں
نعمان ِ وقت پیروِ حسانِ نعت ہے
دنیا کے راستے ہوں کہ محشر کی منزلیں
"ہر شعبہ حیات میں اِمکان نعت ہے"
جاذب خزاں کی زد میں وہ گلشن نہ آئے گا
دن رات جس پہ سایہ ء بارانِ نعت ہے
===== [[مزمل شاہ]]، [[بری امام، اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
کِتنا بسیط دوستو عنوانِ نعت ہے
" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "
محشر میں اپنے نعت نگاروں میں گنئے گا
آقا مرے بھی ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
سرسبز کشتِ شعر ہے لطفِ کریم سے
میری بھی شعر گوئی پہ بارانِ نعت ہے
اپنے حضور کی سدا مدحت لکھا کروں
دل میں مرے تو بس یہی ، ارمانِ نعت ہے
یہ وہ چمن ہے جو کہ خزاں آشنا نہیں
مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے
دیکھو تو پڑھ کے غور سے قرآں کا حرف حرف
ہر ایک حرف مایۂ دیوانِ نعت ہے
واصف جو مصطفےٰ کا مزمل ہوا ہوں میں
میرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے
===== [[مسعود ساموں]]، [[بانڈی پورہ]]، [[ کشمیر ]]، [[انڈیا]] =====
حسن خیال سلسلہ جنبان نعت ہے
اک سلسلۂ نور بدامانِ نعت ہے
اسوہ جنابؐ کا جو حسن ہے تو لازماً
’’ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے‘‘
ہاں اے سمند شوق سنبھل کر قدم بڑھا
آساں نہیں یہ جادۂ پیچان نعت ہے
ہشیار خامہ! سجدے میں لغزش  کوئی نہ ہو
ہاں چل کشاں کشاں یہ خیابان نعت ہے
ملحوظ انتہاے ادب رکھ جنابؐ میں
شان نبیؐ کا ذکر ہے ایوان نعت ہے
نیچی نگہ خمیدہ بدن چشم باوضو
لرزیدہ جاں ہو ہاں یہی شایان نعت ہے
ساموںؔ ثنا کے پھول عقیدت کی پتّیاں
پاے نبیؐ میں رکھ یہی سامان نعت ہے
بشکریہ : غلام فرید واصل
===== [[مشاہد رضا عبید]]، [[گوندا]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : محمّد مشاہد رضا عبید القادری
درمانِ درد نغمۂ ذی شانِ نعت ہے
قلبِ حزیں فدائے اسیرانِ نعت ہے
يارب! کبھی یہ دور و تسلسل نہ ختم ہو
بے پایاں دل میں جذبہ وارمانِ نعت ہے
عشقِ رسول خود ہی بناتا ہے راستے
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
پیارے رضا نےکرکے یہ سب کو دکھادیا
ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے
جس کو نہ چھوسکےکبھی بادِ خزاں کاہاتھ
ایسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے
یونہی نہیں امڈ پڑی یہ کائنات عشق
کوثر بداماں چشمۂ حیوانِ نعت ہے
ہر درد بھول کر جو مچلنا ہوا نصیب
محبوبِ رب کا صدقہ ہے، فیضانِ نعت ہے
دل جگمگارہے ہیں ، چمکتے ہیں حوصلے
روشن یہاں پہ شمعِ شبستانِ نعت ہے
راحت رساں ، قرار نشاں ، مرحمت فشاں
کیا دل نواز نغمۂ مرغانِ نعت ہے
رزقِ ثنا میں حصہ ہمارا بھی ہے عبید
از فرش تا بعرش سجا خوانِ نعت ہے
===== [[مشاہد رضوی]]، [[میلگاؤں]]، [[انڈیا]] =====
میرے لبوں پہ نغمۂ ذیشانِ نعت ہے
"ہر گوشۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
میرے شعور و فکر کو بالیدگی ملی
لاریب مجھ پہ دوستو فیضانِ نعت ہے
اس کی نجات کے لیے ساماں بنے گی نعت
جس کو ہوا نصیب سے عرفانِ نعت ہے
ظاہر کے ساتھ ہوگیا باطن بھی مستنیر
جس کا خیال و فکر ہی عنوانِ نعت ہے
روزِ ازل سے بالیقیں ایقان ہے مرا
پھولا پھلا ہمیشہ خیابانِ نعت ہے
ہر ہر ورق پہ نقش ہے سیرت حضور کی
قرآنِ پاک سارا دبستانِ نعت ہے
مجھ پر ہوئی حضور کی لاکھوں عنایتیں
ہاتھوں میں میرے خیر سے دیوانِ نعت ہے
دیدارِ مصطفیٰ ہو میسر خدا کرے
اس خواب کے لیے مجھے ارمانِ نعت ہے
مضمونِ نعت میں نہ ہو کچھ بھی مبالغہ
باہوش رہ کے چلیے یہ میدانِ نعت ہے
مجھ پہ رضا کے حُسنِ تخیل کی ہے عطا
حاصل جو مجھ کو ہوگیا وجدانِ نعت ہے
اہلِ وِلا کا پیار مُشاہد کو جو ملا
سچ پوچھیے تو اس پہ یہ احسانِ نعت ہے
===== [[مصعب شاہین]]، [[میانوالی]]، [[پاکستان]] =====
یزداں کا خاص فضل ہے, میلانِ نعت ہے
'ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے'
احساس, لفظ, لہجہ و گفتار عنبریں
کیونکر نہ ہونگے؟دل جو گلستانِ نعت ہے
انؐ کی ثنا کے نور سے روشن مرا سخن
الحمد, بزمِ فکر, قلمدانِ نعت ہے
عشقِ نبیِ پاکؐ رگ و پے میں ہے مرے
جاں میں بصورتِ لہو اک کانِ نعت ہے
کلیاں چٹک رہی ہیں بہ الفاظِ خوشنما
صبحِ گمان سیرِ خیابانِ نعت ہے
پاکیزہ قلب, پاک تخیل, طہور لفظ
اسلوبِ خوش بیان ہی شایانِ نعت ہے
اوجِ ادب ہے, وجد ہے, سرمستِ عجز ہوں
سرشارِ اطمینان ہوں, فیضانِ نعت ہے
کرتا ہے آبیاریِ گلزارِ مصطفیٰ ؐ
مصعب, تو خوش نصیب ہے, دہقانِ نعت ہے
* اطمینان کی "ی" گرائی گئ ہے ۔
===== [[مطلوب الرسول]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
حاصل جو کائنات کو میلان نعت ہے
ہرشعبہء حیات میں امکان نعت ہے
لازم نہیں زبانِ قلم سے کریں بیاں
ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے
محتاط اہل فن کہ ہے دربار نعت یہ
ان کا ادب ہی اصل میں دربان نعت ہے
وہ دل بھی اک طرح سے مدینہ ہے دوستو
جس دل میں صبح وشام ہی ارمان نعت ہے
حسان ہوں یا عرفی وجامی ہوں یا رضا
جذب و وفورو شوق ہی میزان نعت ہے
رحم وکرم، مروت و جود وسخا و صدق
سیرت پہ گفتگو ہی توجزدان نعت ہے
محبوب کوخبرہے کہ عاشق ہے کون کون
ان کی نظر میں ہوں کہ یہ احسان نعت ہے
ہرلفظ میری سوچ کا خوشبو میں ڈھل گیا
میں کیوں نہ مان لوں کہ یہ فیضان نعت ہے
شق قمر ہو اسری ومعراج ہویا حسن
ان کا ہرایک معجزہ ہی جان نعت ہے
حب نبی سے خالی ہو دل جس کا اے قمر
اس کو کہاں خبر ہو وہ کیا جانے نعت ہے
===== [[مظہر فرید بابا وٹو]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
میں کیا بتاؤں دوستو کیا شان نعت ہے
قرآنِ پاک سارا ہی سامانِ نعت ہے
مجھ پر کرم ہوا ہے جو لکھی ہے میں نے نعت
ورنہ کہاں یہ عاصی، کہاں تانِ نعت ہے
آقا کی ہر ادا میں ہے معراجِ بندگی
"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
عشقِ نبی ضروری ہے ہر نعت کے لئے
مضمر نبی کے عشق میں عرفان نعت ہے
دل سے پڑھو درود محمد کی ذات پر
مظہر درود پاک ہی تو جانِ نعت ہے
===== [[مفتاح الحسن چشتی]]، [[فافوند]]، [[انڈیا]] =====
سرکار کا کرم ہے یہ احسانِ نعت ہے
ہمراہ میرے ہر گھڑی فیضانِ نعت ہے
کردار کہہ رہا ہے یہ اصحابِ شاہ کا
ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے
کھلنے لگے ہیں روز ہی چمپا سمن گلاب
جب سے زمین قلب پہ بارانِ نعت ہے
ہر واصفِ حضور نے آخر میں یہ کہا
قرآں میں ان کا ذکر ہی شایانِ نعت ہے
خورشیدِحشرسُن،ہمیں آنکھیں نہ تودکھا
سر پر ہمارے سایہء دامانِ نعت ہے
میں ہند میں ہوں ذہن ہے دربارِ شاہ میں
مجھ پر خدا کا فضل یہ دورانِ نعت ہے
محوِ ثنائے سیدِ عالم ہے روز و شب
رب کی عطاسےجسکوبھی عرفانِ نعت ہے
لغزش ہوئی ذرا سی تو ہو جاؤ گے ہلاک
مفتاح ہوش باش یہ میدانِ نعت ہے
===== [[مقصود احمد]]، [[کراچی]]، [[پاکستان]] =====
نطق و قلم کو میرے بھی ارمانِ نعت ہے
لیکن نصیب کب مجھے عرفانِ نعت ہے
توصیف کے کھلے ہوئے ہیں گل سطر سطر
قرآن رب کا سارا گلستان ِ نعت ہے
بھرتے رہیں گے تا با ابد عاشقِ رسول
پھیلا ہوا ازل سے جو دامانِ نعت ہے
ارض و سما بھی کرتے ہیں ان کی ثنا بیاں
ساری یہ کائنات بھی عنوان ِ نعت ہے
ہر ذرہء زمیں پہ عنایت ہے آپ کی
"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"
خالق بھی ہمنوا ہے ہمارا اسی طفیل
ہم عاشقوں پہ خاص یہ احسانِ نعت ہے
کیسا ہی  کوئی کیوں نہ ہو ماہر سخن طراز
مت جانو معتبر اگر انجان ِ نعت ہے
پا جاتے ہیں نمو مرے فکر و خیال بھی
ہر دم برستا مجھ پہ جو بارانِ نعت ہے
نوک ِ قلم پہ آتے ہیں الفاظ غیب سے
مقصود اور کیا ہے ، یہ فیضان ِ نعت ہے
===== [[مقصود احمد تبسم]]، [[دوبئی]] =====
زُلفِ رُسول ﷺ مشک بہ دامانِ نعت ہے
سر پر سجی شفاعتِ سلطانِ نعت ہے
ماتھے پہ نورِ شمعِ فروزانِ نعت ہے
رگ کا جلال ہاشمِ اعلانِ نعت ہے
مِحراب ابروؤں میں نِہاں جُنبشِ نِجات
اَلطاف ہم پہ صدقۂ چشمانِ نعت ہے
پلکوں کا حُسن ، زینتِ ابصارِ مصطفےٰ ﷺ
کتنا حسین سایۂ مژگانِ نعت ہے
انفِ مبارک آپ ﷺ کی رخشِندہ و جمیل
عارِض کی سُرخیوں میں گلستانِ نعت ہے
گل اس لئے بھی شرم سے گُلنار ہو گئے
ہونٹوں پہ رشکِ لعلِ بدخشانِ نعت ہے
ریخوں سے پھُوٹتے ہوئے انوار دیکھ کر
موتی عدن کا عاشقِ اسنانِ نعت ہے
آیاتِ بیّنات کو ہے ناز اِس لئے
سرکار ﷺ کی زبان پہ قرآنِ نعت ہے
دندان ، لب ، زبان ، کلام اور لعابِ پاک
میرے نبی ﷺکا کنزِ دہن ، کانِ نعت ہے
ریشِ مبارک آپﷺ کی ہے رِحلِ مصحفی
رُخ پر تجلیات کا جُزدانِ نعت ہے
حُسنِ ملیحِ مصطفویﷺ کا نہیں جواب
مانا صبیح یوسفِ کنعانِ نعت ہے
اصحاب حِفظ کرتے رہے مُصحفِ رُسولﷺ
چہرہ مرے حُضور ﷺ کا قرآنِ نعت ہے
اُن ﷺ کی سماعتوں سے تو کچھ بھی نہیں بعید
کانوں میں صوتیات کا اَلحانِ نعت ہے
گردن کا وصف لکھتے ہوئے سوچتا رہا
اعضائے پاک وِرد ہیں گردانِ نعت ہے
مُہرِ نبوّت آپ ﷺ کی ، ہے زیبِ منکبین
سلمان فارسی ، یہیں ایمانِ نعت ہے
شانوں پہ جس گھڑی ہوں نواسے براجمان
طولانئ سجود ہی عرفانِ نعت ہے
سینے کو اِنشراح کا رتبہ دیا گیا
قلبِ رُسول ﷺ مہبطِ قرآنِ نعت ہے
جسمِ نبی ﷺ کے پاک پسینے کا سلسلہ
مُشک و گُلاب و سُنبل و ریحانِ نعت ہے
دل کش کلائیاں ہیں تو بازو طویل ہیں
قامت بھی رشکِ سروِ گلستانِ نعت ہے
آقا ﷺ کے ناخنوں کو سنبھالا تبرُّکاً
اصحاب کا یہ ذوق ہی وجدانِ نعت ہے
چشمے اُبلتی انگلیاں ، نازُک ہتھیلیاں
دستِ کرم پہ بیعتِ رضوانِ نعت ہے
اِمکان کی حُدود سے باہَر نکل کے دیکھ
اُن ﷺکے نُقوشِ پا میں بھی سامانِ نعت ہے
زانو ، قدوم ، پنڈلیاں ، تلوے اور ایڑیاں
مقصودؔ اِن کا ذکر خِرامانِ نعت ہے
===== [[مقصود علی شاہ]]، [[برمنگھم]]، [[برطانیہ]] =====
مکمل نام : سید مقصود علی شاہ
ویسے تو ساری عمر ہی قُربانِ نعت ہے
واللہ پھر بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے
سانسیں بدن میں سطریں ہیں مدحِ رسول کی
سامانِ زیست ہی مرا سامانِ نعت ہے
ہم سارے اُس کے در کی سلامی کو آئے ہیں
حسّان ایک ہے، جو کہ دربانِ نعت ہے
بس ایک حاضری کا سبب ہے، جو خُوب ہے
ورنہ تو کون ہے جسے عرفانِ نعت ہے
سو سو طرح سے اُن کے کرم کے ہیں سلسلے
مجھ پر مرے کریم کا فیضانِ نعت ہے
سب اہلِ دل ہی جیسے اُسی کی پنہ میں ہیں
کتنا سُخن نواز یہ دامانِ نعت ہے
مہکے ہیں چار سُو نئے رنگوں کے زمزمے
برسا زمینِ شوق پہ بارانِ نعت ہے
ہر صبحِ نو کی پہلی کرن سے یہی کھُلا
"ہر شُعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
پھر سے جو حاضری کا بُلاوا ہُوا مجھے
ممنونِ نعت پر بڑا احسانِ نعت ہے
تھامے ہیں اپنی اپنی کتابِ عمل تمام
مقصود میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
===== [[منظر پھلوری]]، [[ٹوبہ ٹیک سنگھ]]، [[پاکستان]] =====
کس درجہ لاجواب یہ عنوانِ نعت ہے
جو سچ کہوں تو مجھ کو یہ تابانِ نعت ہے
محوِ ثنا میں رہتا ہوں ہر گام ہر گھڑی
دل سے مرا یوں ہو گیا پیمانِ نعت ہے
ڈرتا ہوں بیش و کم سے محبت کے باب میں
خامہ ہے اور سامنے میزانِ نعت ہے
بستی ہے روح و جان میں قلب و جگر میں بھی
یہ جسم کی جاگیر میں سامانِ نعت ہے
یہ فکر و آگہی یہ تصور خیال سب
ان سب میں جاوداں فقط ارمانِ نعت ہے
جھک جھک کے مجھ کو ملتا ہے ہر شخص جو یہاں
منظؔر یہ مجھکو لگتا ہے فیضانِ نعت ہے
===== [[منظر چشتی]]، [[دار الخیر پھپھوند شریف]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : سید محمّد منظر چشتی
*کاغذ، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے*
*فیضان نعت ہے یہی فیضانِ نعت ہے*
*الفاظ، فکر اور تخیل تو ہے بدن*
*میری نظر میں عشق نبی جانِ نعت ہے*
*جس جا تمام "صنف سخن" لیتی ہیں پناہ*
*وہ کیا ہے؟ میں بتاؤں؟ وہ دامانِ نعت ہے*
*سب نعت گو وزیر ہیں سلطانِ نعت کے*
*"حسان" تاجدار ہے سلطانِ نعت ہے*
*جس میں چہک رہی ہوں دو عالم کی بلبلیں*
*ایسا تو صرف ایک گلستانِ نعت ہے*
*لکھیں گے اب سے نعت ہمارے قلم، دوات*
*ہم سے ہماری فکر کا پیمانِ نعت ہے*
*عشق ان سے پہلے کیجیے پھر غور کیجیے*
*"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"*
*میرا وجود اس لیے مہکا ہوا رہا*
*میرے بھی دل کے حجرے میں گلدان نعت ہے*
*اٹھ کر لحد سے ہم بھی پڑھیں گے مشاعرہ*
*منؔظر! ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے*
===== [[منصور فریدی]]، [[گایا]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر منصور فریدی
ہر لفظ تازہ پھول بہ عنوانِ نعت ہے
قرآن اک شگفتہ گُلِسْتانِ نعت ہے
مرغِ خیال آج بھی ، پہنچا نہیں وہاں
تعمیر جس بلندی پہ ایوانِ نعت ہے
جس کی چمک پہ دن کے اجالے نثار ہیں
کیا خوب تاب ناک شبستانِ نعت ہے
ہر گوشہ کائنات کا مہکے گا تا ابد
ہر وقت عطر بیز یوں گل دانِ نعت ہے
کیا ہے مری بساط کہ میں نعت لکھ سکوں
جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں یہ فیضانِ نعت ہے
فرصت ملے تو جاگتی آنکھوں سے دیکھیے
*ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*
نذرِ خزاں نہ ہوگا مری فکر کا چمن
شاداب اِس میں فصلِ بہارانِ نعت ہے
بکھری ہوئی حیات کی زلفیں سنوار دیں
صد شکر مجھ پہ کتنا یہ احسانِ نعت ہے
فکر و قلم دوات پہ مجھ کو نہیں یقین
لطف و کرم حضور کا سامانِ نعت ہے
ہرگز نہ کرسکے گا *فریدی*  کوئی عبور
وسعت بہت لیے ہوئے میدانِ نعت ہے
===== [[منیب خان نیازی]]، [[پنڈی بھٹیاں]]، [[پاکستان]] =====
جب سے وفورِ شوق پہ بارانِ نعت ہے
دل دل نہیں ہے تب سے گلستانِ ِ نعت ہے
اہلِ نظر پہ بات ہوئی ہے یہ منکشف
ہر شعبہء ِِ حیات میں امکانِ نعت ہے
پھولوں کی مثل خوشبو ہے ہر ایک نعت کی
دیوانِ نعت ہے کہ یہ گلدانِ نعت ہے
حد سے بڑھے تو شرک گھٹایا تو بے ادب
چلنا ذرا سنبھل کہ یہ میدانِ نعت ہے
آگاہ فن سے ہونا اہم ہے بہت مگر
در اصل عشقِ مصطفیٰ ہی جانِ نعت ہے
صدقے میں نعت ہی کے ملیں ہم کو عزتیں
بے پایاں ہم پہ شفقت و احسانِ نعت ہے
ہو صبح یا کہ رات مگن ہوں میں نعت میں
اب تو ہر ایک لحظہ ہی ارمانِ نعت ہے
وہ آلِ مصطفیٰ ہوں کہ اصحابِ مصطفیٰ
ہر دو کا ذکر شَامِلِ عنوانِ نعت ہے
"سایہ ہے نعت پر ورفعنا کا دوستو"
خود ربِ کائنات نگہبانِ نعت ہے
ہر زاویے میں فکر کے مضمونِ نعت ہے
گویا تمام عمر ہی دورانِ نعت ہے
سب نعت لکھنے والے ستاروں کی مثل ہیں
جگ مگ انہی سے چرخِ خیابان ِ نعت ہے
جِس جِس جگہ بھی گونجتی ہے بانگِ حمدِ رب
اُس اُس جگہ پہ گونجتی آذانِ نعت ہے
اعمال پر تو  کوئی بھروسہ نہیں مجھے
صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
رب کا نیازی تجھ پہ ہے کتنا بڑا کرم
حاصل تجھے بھی حصہ ءِ فیضانِ نعت ہے
===== [[منیر احمد خاور]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
دل میں کُھلا ہوا جو دبستان نعت ہے
اللہ کا کرم ہے،یہ فیضان نعت ہے
یٰسین وطہٰ،والضحیٰ،والیل سے سجا
رب عُلی نے بھی لکھا دیوان نعت ہے
نورانی فکر،قافیے،قرطاس اور قلَم
میرا اثاثہ بس یہی سامان نعت ہے
خالق کا لے کے ساتھ فرشتوں کو دم بدم
پڑھنا درود پاک ہی اعلان نعت ہے
جاں میں مری درود کے، مدحت کے گُل کّھلے
دل ہو گیا مٹالِ گلستان نعت ہے
صوفی،ولی ہو یا کہ ہو  کوئی امام وقت
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
چڑھ کر جو پڑھتا نعت ہے ممبر پہ آپ کے
حساّنِ خوش نصیب وہ سلطان نعت ہے
حکمِ خدا کی پیروی خاور کا ہے شِعار
یہ بھی نبھاتا ہر گھڑی پیمان نعت ہے
===== [[مونا نقوی ]]، [[سرگودھا ]]، [[پاکستان ]] =====
وردِ زباں درود بھی دورانِ نعت ہے
شاہِ اُمم کا ذکر ہی پہچانِ نعت ہے
جھک کر فرشتے بھی ہیں مرا ہاتھ چومتے
جس ہاتھ سے رقم ہوا دیوانِ نعت ہے
بخشا ہے پھر دوام یوں نانا کے دین کو
زینب س کے دم سے عام یہ فیضانِ نعت ہے
پڑھتا ہے خود قصیدے خدا جن کے نام کے
آلِ عبا کا گھر ہی وہ وجدانِ نعت ہے
اسلام کو حیات نئی دے گیا ہے جو
مضطر سا وہ اسیر ہی سلطانِ نعت ہے
مجھ پر یہ منکشف ہوا الہامِ نعت سے
ہر شعبہِ حیات میں امکان نعت ہے
===== [[میرزا امجد رازی]]، [[پاکستان]] =====
بندہ کہ فردِ نسلِ گدایانِ نعت ہے
پہچاں مری قبیلۂ حسّانِ نعت ہے
ہر اِک جہاں کی غایتِ اولیٰ حضور ہیں
ہر اِک ظہور حجّت و برہانِ نعت ہے
ہے شاخ شاخ بلبلِ سدرہ طواف میں
مصحف خدا کا گلشنِ الوانِ نعت ہے
اِک رمزِ" قُلْ"نےکھولاہےمجھ پریہ بابِ کشف
توحید عیشِ جلوۂ سامانِ نعت ہے
ہر "خطِّ سرنَوِشت " کا عنوان ہے یہی
ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے
جس کو لہو لہو کرے سجدے میں تیغِ ہجر
وہ دل شہیدِ مصحفِ عثمانِ نعت ہے
اِک " وصفِ لاتناہی " کہ جملہ صفات میں
سُن لو سخنورو کہ یہی جانِ نعت ہے
یعقوبِ فکر کو مری آنکھیں نہ کیوں ملیں
لفظوں میں بوۓ یوسفِ کنعانِ نعت ہے
کس نے کہا کہ چاہیے آزادئ سخن
دل تو ہمارا قیدئ زندانِ نعت ہے
رازی وزیر ملکِ سخن میں ہوں اُس کا میں
احمد رضا وہی کہ جو سلطانِ نعت ہے
===== [[نادر صدیقی]]، [[بوریوالا]]، [[پاکستان]] =====
قرآن پاک مطلع ِ دیوانِ نعت ہے
اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے
یہ خوش نصیب حافظ ِ قرآن ِ نعت ہے
کیسا فقیر ِ نعت پہ احسانِ نعت ہے
صدشکر امتی ہے مسلمانِ نعت ہے
مجھ سا گدا غلامِ غلامانِ نعت ہے
کیسا حسین خانہءِ عرفانِ نعت ہے
حسان ہے کہ بوذر و سلمانِ نعت ہے
جس کو رسولِ پاک نے منبر عطا کیا
حسانِ نعت ہے وہی سلطانِ نعت ہے
===== [[ناصر حسین راضی]] , [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[ریاض قادری ]]
عرش علی پہ جب ہوا پیماں نعت ہے
لاگو ہوانمود پہ فرمان نعت ہے
خود خالق حیات توسلطان نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
ہونٹوں پہ ہیں سکوت کے پہرے لگے مگر
دھڑکن یہ کہہ رہی ہے کہ میلان نعت ہے
ہم کشتگاں کی جملہ تشفی کے واسطے
صلی علی نے کردیا درمان نعت ہے
مہکی حضوریاد کی خوشبو شعور میں
میلادجاں سے بن گیا گلدان نعت ہے
محشر میں اپنی تنگی داماں کے خوف سے
پکڑابڑے وثوق سے دامان نعت ہے
اس کردگار شوق نے قرآں میں جو کیا
وہ اعتراف شوق ہی شایان نعت ہے
تلخابہ حیات کی مستی کے واسطے
نازل ہوا حضور پہ دیوان نعت ہے
بدرالدجی کا نور ہے ہر سمت جلوہ گر
پھیلاہوادیارمیں فیضان نعت ہے
نیرنگئ خیال کو عرفان ہوا نصیب
قرطاس جاں پہ جب ہوا احسان نعت ہے
اکرام لطف کیجئے راضی کو بھی عطا
اک روسیاہ کے دل میں بھی ارمان نعت ہے
صاحبزادہ ناصر حسین راضی فیصل آباد
===== [[ناظر کاظمی ]]، [[لاہور ]] =====
اہل ِیقین کے بخت میں عرفان ِنعت ہے
ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے
قرآن میں ہے رفعت ِذکرِنبی کی بات
وہ بات خوش نصیب جو شایانِ نعت ہے
کیسے  کوئی کرے گا مدیح نبی بیان
جب نعت خود ہی آیہِ قرآن ِ نعت ہے
فائزجو مدح گوئی کے منصب پہ ہوگیا
ناظر تجھے عطاءہوا فرقانِ نعت ہے
سید ناظر کاظمی، لاہور
===== [[ناہید اختر بلوچ]]، [[ڈیرہ اسماعیل خان]]، [[پاکستان]] =====
دل میں کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے
لفظوں پہ دم بہ دم مرے بارانِ نعت ہے
لب پہ درود ،عشقِ نبی دل میں موجزن
آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے
ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ
جا کے خدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے
قسمت مری سنور گئی ان ﷺ کا کرم ہوا
ان کا کرم ہوا تو یہ فیضانِ نعت ہے
تُو عشقِ مصطفیٰ کو سخن کا امام کر
یہ عشقِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے
مجھ کو عطا ہو صدقہ ءِ حسان یا رسول
سرکار میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے
ناہید شعر گوئی پہ موقوف تو نہیں
”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
===== [[ناہید ورک]]، [[مشی گن]]، [[امریکہ ]] =====
سردارِ کائنات ہی سلطانِ نعت ہے
پڑھ لو درودِ عشق یہی جانِ نعت ہے
کیا حقِ بندگی ہو ادا ان حروف سے
محبوب کی ثنا میں تو قرآنِ نعت ہے
تلقین گونجتی ہے سماعت میں روز و شب
تخلیقِ کائنات ہی شایانِ نعت ہے
ہر اک نبی ہے لائقِ تحسین، ہاں مگر
بِن آپ ﷺ کے ہے کون جو پہچانِ نعت ہے
بادل کا ٹکڑا سایہ کرے مجھ پہ بھی حضور ﷺ
پھر میں بھی کہہ سکوں گی یہ فیضانِ نعت ہے
ہے پاس لا الٰہ بھی ، صل علٰی بھی پاس
یعنی کہ میرے پاس تو سامانِ نعت ہے
پیشِ نگاہ آپ ﷺ کی توصیف ہے مگر
ناہیدؔ کیا تجھے ذرا عرفانِ نعت ہے؟
===== [[مظہر حسین مظہر]]، [[میلسی]] =====
تازہ ہر ایک دور میں عنوان نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
الفاظ کی گرفت میں آتا نہیں کبھی
شاعر پہ وجدو کیف جو دوران نعت ہے
گم کردہ حواس ہیں رومی و بایزید
اے عشق احتیاط یہ میزان نعت ہے
امروز بھی "حدائق بخشش" کے روپ میں
روشن جہاں میں شمع شبستان نعت ہے
'نہج البلاغہ' شرح فرامین مصطفے
قرآن بھی حضور کا دیوان نعت ہے
اقبال ہو حفيظ ہو محسن ہو یا حسن
ہر ایک اپنے دور کا حسان نعت ہے
کیوں کر نہ مشکبار ہو گلدستہ حروف
مہکا خیال و فکر میں بستان نعت ہے
ہر خوشہ خیال بھرا ہے درود سے
جب سے قلم کو ہوگیا عرفان نعت ہے
اے فکر پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدم
ایوان نعت ہے یہ دبستان نعت ہے
اے کاش ان کی شان کے شایان لکھ سکے
مظہر وجود عشق میں ارمان نعت ہے
===== [[ندیم سلطان پوری]]، [[سلطان پور]]، [[انڈیا]] =====
سیرت شہ مدینہ کی عنوان نعت ہے
اس سے ہی کائنات میں فیضان نعت ہے
عاشق رسول پاک کا حسان نعت ہے
دشمن رسول پاک کا نادان نعت ہے
جن و بشر ، ملائکہ،غلمان و حور کے
"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"
شمس وقمر ستارے ہوں یا ہو وہ کہکشاں
ہر ایک کی جبین پہ لمعان نعت ہے
اس کے لبوں کو چومتے ہوں گے ملائکہ
لب پر سجاے جو  کوئی گلدان نعت ہے
حسان سا ہمیں بھی ہنر کردے تو عطا
یارب ہمارے قلب میں ارمان نعت ہے
مختارکائنات کا جلوہ ہے ہرطرف
دنیا کو مشک بو کیے ریحان نعت ہے
اس کو ملے گا خلد میں ایواں سجا ہوا
دنیا میں جو سنوارتا ایوان نعت ہے
ان کی وِلا میں ڈوب کے نعتیں لکھا کرو
اے مومنو! وِلاے نبی ﷺ جان نعت ہے
مقبول بارگاہ نبی جو بھی ہو گیا
اللہ کی قسم وہی سلطان نعت ہے
پورا کلام پاک ہے توصیف مصطفے
تو  کوئی کیا سمجھ سکے کیا شان نعت ہے
لکھتا ہوں نعت شاہ مدینہ، بروز حشر
کافی مری نجات کو سامان نعت ہے
اے کاش کہہ دیں شاہ مدینہ کبھی ندیم
مجھ کو پسند تیرا یہ دیوان نعت ہے
===== [[ندیم ملک]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
دیوانِ نعت اصل میں عرفانِ نعت ہے
ہر اک سُخن طراز بہ ایمانِ نعت ہے
میں شاعرِ حقیر ہوں اور اک فقیر ہوں
اور مجھ فقیر کو مِلا دیوانِ نعت ہے
میں نے بھی سر کو آپ کی چوکھٹ پہ ڈال کر
ہر آن لے لیا یہاں وجدانِ نعت ہے
مجھ کو ندیم شوخئی یزداں سے کیا غرض
مجھ کو تو مل گیا یہاں رحمانِ نعت ہے
* مقطع فکری طور پر قابل غور ہے
===== [[ندیم نوری برکاتی]]، [[ممبئی]]، [[انڈیا]] =====
اک بے ہنر ہے اور قلمدانِ نعت ہے
سرکار وہ لکھائیں جو شایانِ نعت ہے
انکی تو ذاتِ پاک ہے سر چشمۂ کمال
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
آداب عشق عاجزی سیرت و معجزات
ملحوظ رکھئے اس کو یہی جانِ نعت ہے
شکرِ خدا کہ زیست رہی ہے غزل سے دور
میری متاعِ زندگی قربانِ نعت ہے
احسان آپ کا ہے کرم آپ کا حضور
ورنہ کہاں گنوار کو عرفانِ نعت ہے
دل بے قرار, دیدۂ تر , وردِ لب درود
کیا کیف کیا سرور سا دورانِ نعت ہے
عزت بھری نگاہ سے تکتے ہیں مجھ کو لوگ
نوری یہ اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے
===== [[نذیر اے قمر]]، [[فیصل آباد]]، [[پاکستان]] =====
بشکریہ : [[محمّد احمد زاہد]]
رب کی عطائے خاص ہے وجدانِ نعت ہے
ایقانِ نعت ، مرکزِ ایمانِ نعت ہے
محشر میں سراٹھا کے یوں اپنا چلوں گا میں
ہاتھوں میں میرے ہر گھڑی دیوانِ نعت ہے
یہ لمحہ لمحہ گنبدِ خضرا کو سوچنا
آقا کا ہے کرم ، یہی فیضانِ نعت ہے
مدح رسولؐ سے مری قسمت سنور گئی
کس درجہ میری ذات پہ احسانِ نعت ہے
یا رب نہ چھوٹے تادمِ آخر یہ ہاتھ سے
حاصل جو اب نصیب سے دامانِ نعت ہے
ہر اک زمانہ نعت کےصدقے میں ہے قمر
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
===== [[نسرین سید]]، [[اونٹاریو]]، [[کینیڈا]] =====
تخلیقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
گردوں ہے وجد میں، تو یہ وجدانِ نعت ہے
الحمد سے ثنا کروں ، یٰسین سے دُرود
یہ جانِ حمدِ پاک ہے، وہ جانِ نعت ہے
اُنﷺ کی ثنا میں حرفِ گُماں کا گزر کہاں؟
قرآنِ بالیقین جب اعلانِ نعت ہے
آنکھوں میں اشک، سینے میں رقت ہو موجزن
پھر دل میں اُنﷺ کا عشق، ہی سامانِ نعت ہے
رکھو جو انﷺ کی سیرتِ کامل کو سامنے
" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "
یہ عجزِ بے پناہ ، میسر جو دل کو ہے
یہ کیف ، یہ سکون ، یہی جانِ نعت ہے
تکریمِ خاص ، حسنِ ادب ، حدِ اعتدال
رکھے جو یہ خیال، نگہبانِ نعت ہے
ہے دین ساری ، مدحتِ آلِ رسولﷺ کی
سرکارﷺ کی عطا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے
کھلتے ہیں پھول صلِ علیٰ کے جہاں مدام
نسرینؔ ، یہ جہان خیابانِ نعت ہے
===== [[نسیم سحر]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
کیسا بھرا ہوا مرا دامان_نعت ہے
عشق ِ نبی مرا سر و سامان ِنعت ہے
سردارنعت گویاں ہے، سلطان نعت ہے
تاریخ میں بس ایک ہی حسانِ نعت یے
موضوع بھی وہی ہے، وہی جان_نعت ہے
وہ حاصلکلام ہی عنوان ِنعت ہے
رکھا ہوا جہاں مرا دیوان_نعت ہے
میرا قلم بھی زینت ِجزدان ِ نعت ہے
اس کے سوا نہ ذکر کسی کا ہو نعت میں
وہ جان ِکائنات ہی جانان ِنعت ہے
ہر شعر میں بیان ہوئی مدحت_رسول
ہر شعر گویا حاصل دیوان ِنعت ہے
ہوتے ہیں قدسیاں بھی یقینا وہاں شریک
برپا جہاں بھی محفل ِیاران ِ نعت ہے
خوشبو کے جھونکے آتے ہی رہتے ہیں میرے گھر
کھولا ہوا جو میں نے ہوادان_نعت ہے
کانوں میں گونجتی ہیں صدائیں درود کی
یعنی کہ آج پھر  کوئی امکان_نعت ہے؟
صل_علی کے ورد سے کرتا ہوں ابتدا
ص ِلعلی کا ورد ہی اعلان ِنعت ہے
حاصل یہ مرتبہ ہے اسے نعت کے طفیل
جو نعت گو ہے، جان ِ دبستان ِنعت ہے
مدحت کی برکتوں سے منور ہے رات دن
گھر نعت کہنے والے کا ایوان_نعت ہے
ہر لحطہ نعت گوئی کے آداب کا خیال
لازم ہے احتیاط، یہ میزان_بعت ہے
جاری رہے گا سلسلہء نعت_مصطفی
اللہ پاک خود ہی نگہبان_نعت ہے
تفہیم. کس کو ہو سکی ان کے مقام کی
انسان کو کہاں ابھی عرفان_نعت ہے
آقائے نامدار کا جب سے ہوا کرم
طبع رواں میں اور بھی مہلان ِنعت ہے
ہونے لگی جو نعتیہ اشعار کی عطا
کیفیت ِجمال سی دوران ِ نعت ہے
آمد کا ایک لامتناہی ہے سلسلہ
اب میں ہوں اور عطایے فراوان_نعت ہے
===== [[نسیمی تاجی]]، [[ ناگپور]]، [[انڈیا]] =====
بشکریہ : [[ارشد رضا قادری]]
ارضِ غزل نہیں ہے یہ میدانِ نعت ہے
ہوش و خرد سے کام لے دیوانے ،نعت ہے
ہر سانس پر درود کا ہدیہ گزاریے
"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"
یہ سر اٹھا ہوا ہے تو سرکار کے سبب
یہ دل کھلا ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے
کچھ بھی نہیں حضور کی الفت اگر نہیں
انجانِ زندگی ہے جو انجانِ نعت ہے
نسلیں مہک نہ جائیں تمہاری تو بولنا
لے جاؤ ساتھ میں کہ یہ گل دانِ نعت ہے
احمد کا پہلا حرف محمد کا پہلا حرف
قرآنِ حمد کے لیے جزدانِ نعت ہے
کچھ خاص مٹیوں کو نمی کی گئی عطا
ویسے تو سب پہ مہرباں بارانِ نعت ہے
سو فیصدی درست ہے یہ بات دوستو
ہر صفحہءِ دو کون بہ عنوانِ نعت ہے
ہر لفظ پھول ہے تو کلی سب حروف ہیں
کس طور شان دار گلستانِ نعت ہے
حد درجہ احتیاط ، مقام ادب ہے یہ
دورانِ خوں ٹہر کہ یہ دورانِ نعت ہے
اسمِ مبارکہ پہ درودوں کی ڈالیاں
اب تک مجھے تو اتنا ہی عرفانِ نعت ہے
معلوم میرے قول و عمل سے چلے گا یہ
مضبوط کس قدر مرا ایمانِ نعت ہے
صدیوں سے ہو رہا ہے یہاں ذکرِ مصطفی
یہ شہرِ ناگ پور دبستانِ نعت ہے
سمجھوں گا میری نعتیں ، نسیمی قبول ہیں
مجھ کو جو  کوئی کہ دے یہ مستانِ نعت ہے
===== [[نصرت حنفی]]، [[اورنگ آباد، مہاراشٹر]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر نصرت حنفی
کچھ اور ہو نہ ہو مجھے عرفان نعت ہے
اب میرے ذمے دیکھ قلمدان نعت ہے
یہ ذکر ہے خدا کا. یہی شان نعت ہے
ذکرِ نبی ہی اصل میں. قرآن نعت ہے
جب سے سجائی محفلِ نعت و درود
میرا ہر ایک لمحہ گلستان نعت ہے
سر پر اٹھا کے لاے ہیں محشر میں کاتبین
اعمال نامہ ہے میرا دیوان نعت ہے
جوں اس کے سامنے ہو رکھا ایک آئینہ
قرآن بھی رسول کی ہی شان نعت ہے
روشن ہے ان کے نور سے اس دل کی کائنات
نصرت یہی تو اصل میں فیضان نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
یہ ہے کرم خدا کا یہ باران نعت ہے
===== [[ نعیم عباس ساجد]]، [[ملتان]]، [[پاکستان]]=====
میرے کہاں نصیب میں بارانِ نعت ہے
گر ہو گئی عطا تو یہ احسانِ نعت ہے
جس کو سمجھ رہے ہیں سبھی لوگ کائنات
وہ اہلِ ذوق کے لیے سامانِ نعت ہے
ہر لفظ کاٹ چھانٹ کے کرنا ہے منتخب
کرکے یقیں کہ واقعی شایانِ نعت ہے
پاکیزگیِ قلب و نظر لازمی ہے یاں
میدانِ منقبت ہے کہ میدانِ نعت ہے
اک سبز روشنی ہے تخیل کے ارد گرد
یعنی کہ اب قریب ہی امکان نعت ہے
===== [[نفیس اکرم محب]]، [[بنارس]]، [[انڈیا]] =====
کیا  کوئی جان پائے گا کیا شانِ نعت ہے
قرآں کا لفظ لفظ ہی عنوانِ نعت ہے
مٹ جائیں گے وہ خود ہی مٹانے جو آئیں گے
خلاق کائنات نگہبان نعت ہے
سب انبیاء نے ہے پڑھی نعت شہ امم
کس درجہ پر بہار گلستان نعت ہے
ممکن نہیں احاطہ  کوئی اس کا کر سکے
باہر ہر ایک فہم سے عنوان نعت ہے
تنہائی ہو سفر ہو تجارت ہو بزم ہو
"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"
مجھ کو زمانہ کہتا ہے مداح مصطفیٰ
کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسان نعت ہے
قسمت پہ اپنی ناز کروں کیوں نہ میں محب
ہاتھوں میں میرے دیکھئے دامان نعت ہے
مکمل نام : نفیس اکرم محب رضوی اویسی ، بنارس ، انڈیا
===== [[نواز اعظمی]]، [[گھوسی]]، [[انڈیا]]=====
وہ شخص ہی لکھے جسے عرفانِ نعت ہے
ورنہ بہت ہی دھیان سے میدانِ نعت ہے
پیہم زمینِ فکر پہ بارانِ نعت ہے
دل اس کے باوجود بھی عطشانِ نعت ہے
غم ،ہجر، درد، گریہ، قلق، اشک، سوز، عشق
ہر ایک میرے واسطے سامانِ نعت ہے
اٹھتی ہے ہر ورق سے ہی بوئے ثنائے شاہ
قرآں مری نگاہ میں بستانِ نعت ہے
آ بیٹھ اور یہاں سے تُو رزقِ ثنا اٹھا
روئے زمینِ شہرِ نبی خوانِ نعت ہے
بہتا ہے جو بھی ہجرِ رسالت مآب میں
آنسو نہیں وہ اصل میں بارانِ نعت ہے
رنج و الم میں سرورِ کون و مکاں کی یاد
واللہ وجہِ حرکتِ شریانِ نعت ہے
حاصل ہے اس پہ اوروں کو بھی دسترس مگر
حسّان شاہِ ملکِ سلیمانِ نعت ہے
ہر شعبہ وصفِ شاہِ امم سے ہے تابناک
"ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے"
اب تک نواز میں نے جو مدحِ رسول کی
کیا اس کا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے؟
===== [[نگار سلطانہ]]، [[کولکتہ]]، [[انڈیا]] =====
مکمل نام : ڈاکٹر نگار سلطانہ
لکھنے کو میرے دل میں تو ارمان نعت ہے
اک پھول کیا چنوں کہ گلستان نعت ہے
ہر لمحہء حیات کی بس جان نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے "
جب تک نہ دل میں چاہت سرکار دین ہو
کیسے لکھے  کوئی کہ یہ شایان نعت ہے
جب سے خیال ڈھل گئے اشعار میں مرے
ہر سانس میں بسا ھوا عنوان نعت ہے
میرے خیال و فکر میں پیوست ہوگئ
ہر ایک لمحہ اور ہر اک آن نعت ہے
قرآن میں بھی ذکر کا مرکز نبی ہی ہیں
گویا ظہور ہستی میں اعلان نعت ہے
مدحت کی روشنی سے جو لفظوں کو بھر دیا
جو کچھ ملا نگار یہ فیضان نعت ہے
===== [[نور آسی]]، [[اسلام آباد]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد نور آسی
نہ حرف و لفظ نہ  کوئی سامان نعت ہے
خاموش اس لئے ہوں کہ عرفانِ نعت ہے
گو بائیں ہاتھ میں ہے میرے نامہء سیاہ
صد شکر، دائیں ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
ہر شعبہ حیات میں ہو اسوہِ رسول ﷺ
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
بقرہ سے لے کے سورہ والناس دیکھ لو
ہرایک حرف اک نیا عنوانِ نعت ہے
جنت میں مجھ کو جانے دیا کہہ کے اتنی بات
اب اس کو کیسے روکیے؟ مہمانِ نعت ہے
پتوں کو ، ٹہنیوں کو ، گلوں کو پرند کو
گلشن میں ایک ایک کو عرفانِ نعت ہے
آسی کی کیا مجال کہ نعت نبی کہے
یہ جو عطا ہوئی ہے وہ احسانِ نعت ہے
===== [[نور الحسن نور نوابی]]، [[قاضی پور]]، [[انڈیا]] =====
اعلان کائنات غلامانِ نعت ہے
حسان جس کا نام ہے سلطانِ نعت ہے
سوچے بغیر ہوتی ہے مدحت رسول کی
ارزاں ہمارے واسطے فیضانِ نعت ہے
عشق رسول پاک کی صورت میں دوستو!
بیٹھا درِ خیال پہ دربانِ نعت ہے
عشق رسول شہر نبی کی جمالیات
حاصل خدا کے فضل سے سامانِ نعت ہے
اس کی حدوں میں گرم ہوا کا گزر کہاں
دشت غزل نہیں یہ گلستانِ نعت ہے
سنتی ہیں ذکر سرور دیں جو سماعتیں
ان کی ضیافتوں کے لیے خوانِ نعت ہے
کہنے کو لوگ کہتے ہیں نعتیں بہت مگر
حاصل کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے
قسمت کا اس کی لا نہ سکے گا  کوئی جواب
جس کے لیے کھلا در ایوانِ نعت ہے
حسان آگے سعدی و جامی ہیں ان کے بعد
اے آنکھ دیکھ وہ صف شاہانِ نعت ہے
ڈرتا نہیں ہوں دھوپ کے تیروں سے اس لیے
حاصل مجھے بھی سایہ دامانِ نعت ہے
ہوجائے یوں تو کام کی ہو میری زندگی
سرکار کہہ دیں یہ مرا دربانِ نعت ہے
ہر شعبۂ حیات ہے آقا سے منسلک
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
غنچے کھلے ہیں مدحت آقا کے ہر طرف
شادابیوں کا آئنہ میدانِ نعت ہے
ہر اک ورق پہ مدحت سرکار ہے رقم
دل عاشق رسول کا دیوانِ نعت ہے
دل کر رہا ہے ضد مرا مضمون کر رقم
در پیش میری فکر کو عنوانِ نعت ہے
خوشبو بسی ہوئی ہے محلے میں دور تک
گھر کے ہر ایک طاق پہ گلدانِ نعت ہے
ابر کرم کے پھول برستے ہیں پے بہ پے
جب سے زباں پہ ذکرِ محبانِ نعت ہے
ہر صنف کی امام ہے نعت شہ امم
یہ افتخار نعت ہے یہ شانِ نعت ہے
کچھ لوگ شب چراغ سمجھتے ہیں کچھ گلاب
رکھا ہماری میز پہ دیوانِ نعت ہے
دیکھا عقیدتوں کی نظر سے تو یہ کھلا
جو شعر بھی ہے نعت کا وہ جانِ نعت ہے
دو چار ساعتوں پہ نہیں منحصر فقط
ایک ایک سانس نور کی قربانِ نعت ہے
===== [[نور محمد اشرفی]], [[پورنیہ]] ,[[بہار]],[[بھارت]] =====
پیش کش: [[غلام جیلانی سحر]]
محوِ ثنائے آقا ہوں, عنوانِ نعت ہے
یا رب ! کرم ہو خاص کہ ارمانِ نعت ہے
بے عشقِ مصطفے ہے سبھی بندگی فضول
عشقِ رسولِ پاک ہی ایمانِ نعت ہے
فضلِ خدا سے اور مدد سے حضور کی
,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,
تاریخ تم پڑھو گے تو ہوگا تمہیں پتا
حسان ہی سے مہکا گلستانِ نعت ہے
خلدِ بریں میں جائیں گے حسان کے وہ ساتھ
جن خوش نصیب لوگوں کو عرفانِ نعت ہے
چشمِ کرم حضور کی مجھ پر ہوئی ہے خاص
جاری مری زباں پہ جو گردانِ نعت ہے
شہرت جو نورٓ تم کو ملی ہے جہان میں
فضلِ خدائے پاک ہے,فیضانِ نعت ہے
===== [[نور محمد جرال]]، [[نیویارک]]، [[امریکا]] =====
شکرِ خُدا کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
سرپر میرے بھی سایۂ دامانِ نعت ہے
حرف و سخن پہ دسترس اپنی جگہ مگر
دراصل وصفِ حبِ نبی جانِ نعت ہے
فکرو شعور و حرف و ہُنر باوضو رہیں
تخلیق کے لیے یہی سامانِ نعت ہے
اشعار میں ہے سورۂِ یٖس کا جمال
حرفِ درود شمعِ شبستانِ نعت ہے
صدیوں سےلکھی جاتی ہےقرطاسِ وقت پر
لیکن ابھی شعور کو ارمانِ نعت ہے
ہے آپ کی حیات ہمہ گیر اس قدر
“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”
ہر اک اداۓ نور پہ ہیں آیتیں گواہ
سیرت میرےحضور کی قرآنِ نعت ہے
حسنِ عمل ہے مدحتِ مولا کا اک چمن
حسنِ کلام زیبِ سخندانِ نعت ہے
آنکھیں کہ ان کے ذکرمیں نمناک ہیں سدا
اور دل ہزار جان سے قربانِ نعت ہے
ہر عندلیبِ قدس کے لب مشکبوۓ نعت
باغِ اِرم ہے یا  کوئی دالانِ نعت ہے
آنکھوں کے طاقچوں میں رکھے آرزوۓ دید
بے چین کب سے حلقۂ مستانِ نعت ہے
جل تھل ہوئی ہے دل کی زمیں یادِ شاہ میں
اشکوں کی یہ گھٹا ہے یا بارانِ نعت ہے
الفاتحہ سے سُورۂِ والناس تک گواہ
قرآن حرف حرف ہی بُرھانِ نعت ہے
سرکار  کوئی اچھا نہیں نامۂ عمل
محشر میں دستِ نور میں دیوانِ نعت ہے
===== [[نورین طلعت عُروبہ]]، [[امریکا]] =====
جب دل سے مُنسلک ہے جو پیمانِ نعت ہے
"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
سُنت کے راستے پہ ہوں اوڑھے ہوئے درود
سب کچھ تو ہے نصیب جو سامانِ نعت ہے
ہر سانس میں ہے عشقِ نبیؐ بولتا ہوا
طیبہ کی سرزمین یہ فیضانِ نعت ہے
ٹُکڑا جو ایک خلد کا شہر ِ نبیؐ میں ہے
تکمیل اس کی ہو وہیں ارمانِ نعت ہے
کیا وصف ہے کہ جس کو عبادت بھی کہہ سکیں
قربان ہے یہ دل مِرا قربانِ نعت ہے
سیرتؐ کی خوشبوئیں یا مہکتا درودِ پاک
چھوٹا سا میرا گھر بھی گلستانِ نعت ہے
ایمان کو کیا ہے مُکمل اسی کے ساتھ
عشقِ نبیؐ کریم ہی تو جانِ نعت ہے
ہے وہ امیر ، وارثِ حُبِ نبیؐ ہے جو
خوش بخت ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے
لفظوں کا انتخاب عقیدت کا عکس ہو
مضمون وہ چُنوں کہ جو شایانِ نعت ہے
نورین طلعت عُروبہ، امریکہ
===== [[نیر جونپوری]]، [[سرت، گجرات]]، [[انڈیا]] =====
لکھوں نبی کی نعت جو سلطان نعت ہے
آیاتِ بَیِّنات میں عنوانِ نعت ہے
شہر نبی کے کوچہ و بازار کی صدا
ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے
کرتا ہوں مصطفٰی کی ثناء خوانی اس لئے
بخشش کے واسطے مِرے دامانِ نعت ہے
مولا نے ہر طرح سے نوازا ہے خوب تر
ہم جیسے خادموں پہ تو فیضانِ نعت ہے
رزقِ سخن ملے ہمیں سرکار آپ سے
قلب حزیں میں میرے بھی ارمانِ نعت ہے
بوصیری  کوئی، جامی  کوئی سعدی ہو گیا
احمد رضا تو ہند کا حسانِ نعت ہے
نَؔیَّر یہ کہہ اٹھا مِرے سرکار کا غلام
پڑھئے درود محفل بارانِ نعت ہے
===== [[واجد امیر]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
دربان ِ شاہ دین ہی دربان ِ نعت ہے
روح الامین یعنی نگہبان ِ نعت ہے
صد لاکھ احتیاط کہ عنوان ِ نعت ہے
وہ آئے اس طرف جسے ایقان ِ نعت ہے
مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں
باغ ِ عدن کے پاس خیابان ِ نعت ہے
مصرعے سجے ہوئے ہیں کہ رنگوں کی لہر ہے
قوس ِ قزح ہے یا  کوئی گل دان ِ نعت ہے
ہر شعبہ ءِ حیات ہے سیرت سے متصل
"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "
جس پر نگاہ کی وہی مقبول بارگاہ
جس پر کرم ہوا وہی سلطان ِ نعت ہے
ہوگی منادی حشر میں آئے وہ اس طرف
جس پاس اک بھی مصرعِ امکان ِ نعت ہے
دشت ِ غزل میں گھوم لیے ہو تو پھر سنو
اب اس سے آگے سارا گلستان ِ نعت ہے
مدحت نگاری میں ہمیں اس پر بھِی فخر ہے
اردو زباں کا اپنا دبستان ِ نعت ہے
واجد ڈھکا چھپا نہیں چشم ِ خدائی سے
تیری سخن وری پہ جو احسان ِ نعت ہے
=====[[ واحد نظیر]]، [[دہلی]] =====
معیار ہے اصول ہے میزانِ نعت ہے
قرآن خضرِ راہ اے یارانِ نعت ہے
لوح و قلم کے خالق و مالک ہے یہ دعا
لہجہ ہو وہ نصیب جو شایانِ نعت ہے
اپنی زبان جلتی ہے غیروں کی مدح سے
پونجی مرے خمیر کی میلانِ نعت ہے
مرکز میں غور و فکر کے دائم ہو وجہِ کن
یہ محورِ عناصر و ارکانِ نعت ہے
سب ہے نبی کے صدقے میں، کہنے کی بات کیا
ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے
لائق تھی سرزنش کے یہ انعام پا گئی
صنفِ سخن پہ دائمی احسانِ نعت ہے
علم و ہنر سے شعر تو ہو جاتے ہیں مگر
واحد نظیر عشقِ نبی جانِ نعت ہے
===== [[وحید القادری عارف]] ، [[حیدر آباد ]]، [[بھارت ]] =====
مکمل نام : سید وحید القادری، حیدر آباد، بھارت
جاری کچھ ایسی شان سے فیضانِ نعت ہے
دل جگمگا رہے ہیں کہ بارانِ نعت ہے
صلّوا علیہِ اصل میں فرمانِ نعت ہے
حکمِ خدا ہی شمعِ فروزانِ نعت ہے
تا حشر اس کے سایہء رحمت میں ہے سکوں
تا حشر یہ بہارِ گلستانِ نعت ہے
ہوں طرزِ فکر پر جو کرم کی تجلیاں
ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے
جتنا بھی عرض کیجئے کم ہی لگے ہمیں
کیا خوب، کتنی وسعتِ دامانِ نعت ہے
اک حرف لکھ نہ پاؤں جو اُن کا کرم نہ ہو
نسبت مری حضور سے عنوانِ نعت ہے
مدحِ نبی بہ لب تو خیالِ نبی بہ دل
ہر آن میری زیست پہ احسانِ نعت ہے
مقبولِ بارگاہِ رسالت مآب ہو
پورا خدا کرے جو یہ ارمانِ نعت ہے
سرمایہ اور کچھ نہیں بخشش کے واسطے
جھولی میں میری بس یہی سامانِ نعت ہے
عارف  کوئی نہیں جو ادا اِس کا حق کرے
ہے کون جس کو دعویء عرفانِ نعت ہے
===== [[وسیم عباس]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
صحنِ بتول بُوئے گلستانِ نعت ہے
چودہ کا نور زینتِ گلدانِ نعت ہے
ٹھوکر نہیں لگی کبھی بھٹکا نہیں ہوں میں
جس دن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
ملتا نہ کیسےدہر میں اس صنف کو فروغ
صاحب! پدر علیؑ کا نگہبانِ نعت ہے
"آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں "
شہرِ سخن میں مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
دیکھیں جو دل سے بغض کی مٹی کو جھاڑ کر
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
بھولے نہ آدمی کبھی من کنت کا پیام
یہ آگہی ہے نعت کی عرفانِ نعت ہے
مجھ پر بھی اتنا لطف و کرم کیجئے حضورﷺ
میں کہہ سکوں کہ میرا بھی دیوانِ نعت ہے


مدحت نگاری میں ہمیں اس پر بھِی فخر ہے
اردو زباں کا اپنا دبستان ِ نعت ہے
واجد ڈھکا چھپا نہیں چشم ِ خدائی سے
تیری سخن وری پہ جو احسان ِ نعت ہے
=====[[ واحد نظیر]]، [[دہلی]] =====
معیار ہے اصول ہے میزانِ نعت ہے
قرآن خضرِ راہ اے یارانِ نعت ہے
لوح و قلم کے خالق و مالک ہے یہ دعا
لہجہ ہو وہ نصیب جو شایانِ نعت ہے
اپنی زبان جلتی ہے غیروں کی مدح سے
پونجی مرے خمیر کی میلانِ نعت ہے
مرکز میں غور و فکر کے دائم ہو وجہِ کن
یہ محورِ عناصر و ارکانِ نعت ہے
سب ہے نبی کے صدقے میں، کہنے کی بات کیا
ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے
لائق تھی سرزنش کے یہ انعام پا گئی
صنفِ سخن پہ دائمی احسانِ نعت ہے
علم و ہنر سے شعر تو ہو جاتے ہیں مگر
واحد نظیر عشقِ نبی جانِ نعت ہے
===== [[وسیم عباس]]، [[لاہور]]، [[پاکستان]] =====
صحنِ بتول بُوئے گلستانِ نعت ہے
چودہ کا نور زینتِ گلدانِ نعت ہے
ٹھوکر نہیں لگی کبھی بھٹکا نہیں ہوں میں
جس دن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے
ملتا نہ کیسےدہر میں اس صنف کو فروغ
صاحب! پدر علیؑ کا نگہبانِ نعت ہے
"آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں "
شہرِ سخن میں مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
دیکھیں جو دل سے بغض کی مٹی کو جھاڑ کر
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
بھولے نہ آدمی کبھی من کنت کا پیام
یہ آگہی ہے نعت کی عرفانِ نعت ہے
مجھ پر بھی اتنا لطف و کرم کیجئے حضورﷺ
میں کہہ سکوں کہ میرا بھی دیوانِ نعت ہے


اسرارِ کائنات ہیں مجھ پر کھُلے ہوئے
اسرارِ کائنات ہیں مجھ پر کھُلے ہوئے
سطر 9,181: سطر 13,928:


قرآن رَب کا رَب کی قسم شانِ نعت ہے
قرآن رَب کا رَب کی قسم شانِ نعت ہے
کچھ بہکنے کا مجھ کو یہاں غم نہیں رَہا
تھاما خیال نے مرے دامانِ نعت ہے




سطر 9,253: سطر 13,995:


وقار احمد نوری, کرناٹک, بھارت
وقار احمد نوری, کرناٹک, بھارت
===== [[ولی صادق]]، [[کوہستان]]، [[پاکستان]] =====
مکمل نام : محمّد ولی صادق
ہر ناطقہ کے لب پہ ہی عنوانِ نعت ہے
"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"
مدت سے ہوں سکون کی دولت سے فیض یاب
یہ بھی میں جانتا ہوں کہ احسانِ نعت ہے
جب خود ہی کہہ رہا ہے خدا نعتِ مصطفیٰ
میں کیا بتاؤں دوستو! کیا شانِ نعت ہے
اُس خوش نصیب شخص کی منزل ہے باغِ خلد
تھامے ہوے جو شخص بھی دامانِ نعت ہے
اُس عاشقِ رسول کی عظمت کو ہے سلام
جس عاشقِ رسول کو عرفانِ نعت ہے
ہاں وہ سخن شناس ہے دراصل خوش نصیب
جو بھی رقم طراز بہ عنوانِ نعت ہے
ہر شعر جیسے ایک عقیدت کا پھول ہو
صادق! تِرا کلام گلستانِ نعت ہے۔


===== [[یاسر عباس فراز]]، [[میلسی]] =====
===== [[یاسر عباس فراز]]، [[میلسی]] =====
قائم جو آج بھی ترا ص ایوانِ نعت ہے
قائم جو آج بھی ترا ص ایوانِ نعت ہے
   
   
پردے میں کوئی ہے جو نگہبانِ نعت ہے
پردے میں   کوئی ہے جو نگہبانِ نعت ہے




سطر 9,326: سطر 14,105:




حد سے فزوں نہ حرف کوئی ہے نہ حد سے کم  
حد سے فزوں نہ حرف   کوئی ہے نہ حد سے کم  


دستِ خدائے پاک میں میزانِ نعت ہے
دستِ خدائے پاک میں میزانِ نعت ہے




ہجرت کی شب علی ع کے سوا اور بھی کوئی  
ہجرت کی شب علی ع کے سوا اور بھی   کوئی  


جلوہ فگن بہ تختِ سلیمانِ نعت ہے
جلوہ فگن بہ تختِ سلیمانِ نعت ہے
سطر 9,391: سطر 14,170:




یاور جہاں خیال پہونچتا نہیں کوئی
یاور جہاں خیال پہونچتا نہیں   کوئی


جاری وہاں بھی چشمہ فیضان نعت ہے
جاری وہاں بھی چشمہ فیضان نعت ہے

حالیہ نسخہ بمطابق 14:20، 19 جولائی 2021ء



ایونٹ کی نعتیں[ماخذ میں ترمیم کریں]

  • قوافی پر اعراب لگانے ہیں ۔
  • قلمدان ِ نعت کا قافیہ کئی بار غلط استعمال ہوا ہے ۔
  • قرآن ۔ کئی اشعار میں قرآن کا تلفظ غلط ہے ۔جو فی الحال برقرار رکھے گئے ہیں
  • بعض اشعار میں قافیے کہ ساتھ اضافت نہیں ۔ ایسے اشعار نکال دینے ہیں ۔
  • ہندی قوافی مثلا پہچان ِ نعت ، مان ِ نعت برقرار رکھے جائیں گے ۔
  • بے وزن اشعار ۔ ایسے اشعار جن میں ایک آدھ لفظ کی تبدیلی سے مصرع درست ہوسکتا ہے ۔ درست کیے جا رہے ہیں لیکن اگر ایک دو الفاظ سے زیادہ تبدیلی مطلوب ہو تو ان کو حذف کیا جا رہا ہے ۔
  • "آقا نے کہ دیا کہ ستارے ہیں پنجتن" ۔ عقیل ملک کا مصرع ہے اور انہوں نے یہی املا بھیجی ہے ۔ "کہ" کی درست املا یہی ہے لیکن آج کل "کہہ" رائج ہے تو تبدیل کر دیا گیا ہے ۔
  • مصعب شاہین نے لفظ "اطمینان" کی "ی " گرائی ہے ۔ جسے برقرار رکھا گیا ہے ۔


اگر کوئی نام نیلے رنگ میں ہےتو اس کا مطلب یہ ان شاعر کا تعارف "نعت کائنات" پر موجود ہے ۔ اور اس نیلے نام پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر نام سرخ رنگ میں ہے تو اس پر کلک کرکے شاعر اپنا تعارفی صفحہ شروع کر سکتا ہے





آصف قادری ، واہ کینٹ ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

اللہ کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر لفظ نعت کے لیے سرخم کئے ہوئے

گویا کہ حرف حرف کو ارمانِ نعت ہے


دل میں نبی کی یاد زباں پر درودِ پاک

صد شکر پاس کچھ مرے سامانِ نعت ہے


گریہ کناں حنانہ ہے ہجرِ حبیبِ میں

سوکھے ہوئے تنے کو بھی عرفانِ نعت ہے


میری زبان گنگ ہے لرزاں قلم ہے اور

لاچار فکر، سامنے میدانِ نعت ہے


وہ شخص بخشا جائے گا محشر میں بالیقیں

جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


آصف ثنا کے باب میں خاموش ہی رہو

کب ہے بشر کی فکر جو شایان ِ نعت ہے

آفاق رضا مشاہدی، گونڈہ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

اِتنا وسیع حلقہءِ میدانِ نعت ہے

ہر شعبہءِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے


میدانِ حشر میں ،مری بخشش کیواسطے

جو کچھ ہے میرے پاس وہ سامانِ نعت ہے


شہرِ نبی کے کُتّے بھی پہچاننے لگے

جِس دِن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


مدحِ نبی کا حق ادا کوئی نہ کر سکا

ہاں اِک قرآن ہے کہ وہ سُلطانِ نعت ہے


پہچان اُسکی حشر میں ہوگی الگ تھلگ

حاصل جِسے بھی دَہر میں عِرفانِِ نعت ہے


پڑھ کر لگا حدائقِ بخشش کا حرف حرف

احمد رضا ہی ہِند کا حسّانِ نعت ہے


آفاق وہ بھی جائے گا خُلدِ بریں کی اور

رکھتا جو اپنے قلب میں اَرمانِ نعت ہے

ابرار نیر، اٹک، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

اک بار پھر فقیر پہ احسانِ نعت ہے

پھر بے ہنر کے ہاتھ قلمدان ِ نعت ہے


حاصل جو شرف بوسہِ دامان ِ نعت ہے

میرا کہاں کمال ، یہ فیضان ِ نعت ہے


فن کا کمال ہے نہ تخیل پہ منحصر

ہو جاۓ جو عطا وہی سامان ِ نعت ہے


دوڑا یہاں نہ عقل کے گھوڑے سخنورا

دے فکر کو لگام کہ میدان ِ نعت ہے


آقا کے حکم پر جو پڑھا ان کے سامنے

حسان کا کلام وہ سلطان ِ نعت ہے


بازار گھر دکان ہو دفتر کہ مدرسہ

ہر شعبہِ حیات میں امکان ِ نعت ہے


گلہائے رنگا رنگ معطر ہیں چارسو

ہر ایک بزمِ نعت ، گلستان ِ نعت ہے


بوندیں کرم کی ڈال دے نیر فقیر پر

یہ کم سخن بھی طالبِ باران ِ نعت ہے

ابو الحسن خاور ، لاہور ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

کیا صرف شعر گوئی ہی شایان ِ نعت ہے

اس سے کہیں وسیع یہ میدان ِ نعت ہے


خاور نظر اٹھا بڑا ساما ن نعت ہے

ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے


لو لوئے ِ نعت ہے کہیں مرجان ِ نعت ہے

یہ کائنات سورہ ءِ رحمان ِ نعت ہے


پھیلی ہوئی ہیں طہ و یسیں کی نکہتیں

قرآن اس کنایے میں گل دان ِ نعت ہے


ہر نخل میں ہے گنبد ِ خضری کی سبزگی

جس سمت دیکھتا ہوں گلستان ِ نعت ہے


کیا آسماں پہ مدح سرائی نہیں ہوئی ؟

کیا کوئی حد ِ وسعت ِ دامان ِ نعت ہے؟


بے نور و خشک زار ہے جو چاند کی زمیں

اک نعت خوان پہنچے تو فاران ِ نعت ہے


جتنا ہے جس کا علم وہ اتنا خموش ہے

وہ نعت کیا لکھے جسے عرفان ِ نعت ہے


آنکھوں میں نم ہے دل کو مصلے کی آرزو

یعنی کہ دل میں اوج پہ ارمان ِ نعت ہے


صحرائے زیست میں ہیں گناہوں کی آندھیاں

ہے آسرا کوئی تو خیابان نعت ہے


یہ جو مرے گھرانے میں عشق رسول ہے

خاور یہ اور کچھ نہیں فیضان ِ نعت ہے

ابو المیزاب اویس، کراچی، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : غلام فرید واصل


قرآن اصل قاسمِ عرفانِ نعت ہے

ہر آیہِ کریمہ گلستانِ نعت ہے


گلہائے حمد اِس کے وسیلے سے کِھل گئے

دل کے افق پہ ابرِ بہارانِ نعت ہے


نطق و بیاں کا اس کو بنا بیٹھے قبلہ ہم

حکمِ وَسَلِّمُو میں جو فرمانِ نعت ہے


میلادِ مصطفٰے کی سجائیں گے محفلیں

فَلیَفرَحُوْا میں مؤمنو اعلانِ نعت ہے


کہتے ہیں جس کو اہلِ نظر قصرِ لامکاں

ایوانِ حمد ہے کہ دبستانِ نعت ہے؟


کچھ غم نہیں ہے گرمیِ بازارِ فکر کا

فرقِ سخن پہ سایہِ دامانِ نعت ہے


ہر آن اُن کی یاد ہے محور خیال کا

"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


خوفِ خدا و عشقِ نبی میں بسا ہے دل

یعنی کہ شوقِ حمد ہے، ارمانِ نعت ہے


پھیکا ہی رہتا نظم و غزل کا یہ سلسلہ

لذت رساۓ فکر نمکدانِ نعت ہے


ہے دھوم جس کے نغموں کی سارے جہان میں

میرا رضا وہ بلبلِ بستانِ نعت ہے


ہم بندگانِ عشق کا ہے آبؔ فیصلہ

شاعر وہی ہے دل سے جو قربانِ نعت ہے

ابوبکر تبسم، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : حافظ ابوبکر تبسم

مجھ نعت کے گدا پہ یہ احسانِ نعت ہے

ہاتھوں میں روزِ حشر بھی دیوانِ نعت ہے


منزل ہے میری قربِ شہنشاہِ کائنات

زادِ سفر کے طور پہ سامانِ نعت ہے


سانسوں کو دے کے درسِ سکوت و ادب بہت

پھر لکھنے بیٹھتا ہوں، کہ میدانِ نعت ہے


نعت اور نعت خواں کا بھٹکنا محال ہے

موصوفِ نعت خود ہی نگہبانِ نعت ہے


اب غم بھی مجھ کو غم نہیں لگتا نجانے کیوں

کیا میرے گرد حلقہِ یارانِ نعت ہے؟


ہوں گے بڑے بڑوں کے بڑے مان حشر میں

میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے مانِ نعت ہے


نعتِ حضور لکھی تو یہ راز کھل گیا

عزت کا ہر مقام قدردانِ نعت ہے


بس انتہائے فکرِ تبسم یہی تو ہے

نعتِ قراں ہی اصل میں قرآنِ نعت ہے

ابوبکر نادر، چنیوٹ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

جس جس کو جو ملا ہے یہ احسانِ نعت ہے

ہر اہلِ فن پہ سایہِ سلطانِ ﷺنعت ہے


سرکار ﷺ! چند لفظ عطا ہوں ہے التجا

دل کے قلم کو دیر سے ارمانِ نعت ہے


ہر سانس دے رہی ہے گواہی قدم قدم

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


ارض و سما کی حد کو بھی ہے پار کر گیا

کتنا وسیع حلقہِ دامانِ نعت ہے


ویسے تو کچھ نہیں ہے مرے پاس ہاں مگر

اک روشنی قلم میں جو فیضانِ نعت ہے


گہرائیوں سے دل کیں وہ واقف ہیں خوب تر

دل سے جو لفظ نکلے وہ شایانِ نعت ہے


نادرؔ بنا دیا ہے مجھ ایسے حقیر کو

کچھ بھی نہیں ہے یہ فقط عرفانِ نعت ہے

ابو لویزا علی ، کراچی ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

قالو بلی سے آج تک اعلان نعت ہے

امکان کی یہ بزم تو ایوان نعت ہے


یٰسین نعت سورہ ِرحمان نعت ہے

الحمد نعت سورہِ عمران نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل غور


عرفان نعت حق کی عطا پر ہے منحصر

آنکھیں ملیں تو پورا ہی قرآن نعت ہے


طب ہو ،معاشرت ہو یا میدان کار زار

"ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے"


مصرع کی شان دیکھیے اشعار دیکھیۓ

کتنی طویل دیکھیے دیوان نعت ہے


ہم سے گنہہ گار بھی لکھنے لگیں اگر

فیضان نعت ہے یہ بھی فیضان نعت ہے

احسان اللہ علیمی، کبیر نگر,اترپردیش، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیشکش: غلام جیلانی سحر

احمد رضا تو ہند میں حسانِ نعت ہے

,,ہرشعبہ حیات میں امکان نعت ہے,,


خواہش ہے نعت لکھنے کی دل میں بہت مگر

لاؤں کہاں سے حرف جو شایانِ نعت ہے


پڑھتے رہو درود رسولِ کریم پر

وردِ درودِ پاک ہی وجدانِ نعت ہے


قرآن پڑھتے وقت یہ احساس بھی ہوا

جیسے ہر ایک لفظ ہی عنوانِ نعت ہے


چین و سکون ڈھونڈنے والے سنو ذرا

تسکینِ روح کے لئے دیوانِ نعت ہے


میرے نصیب میں کہاں جنت کی دید تھی

جنت اگر ملی ہے تو احسانِ نعت ہے

احسان علی حیدر، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

دشت_سخن کو تحفہ_ باران _نعت ہے

فکر_بشر کی لوح پہ امکان_نعت ہے


ہم نے تو آج نعت کی عظمت پہ بات کی

پروردگار پہلا ثنا خوان _نعت ہے


تنزیل کب رکی ہے خدا کے کلام کی

جاری ہے جس کا فیض وہ قرآن_نعت ہے


شبیر پڑھنے آئے ہیں رن میں نماز_حمد

اکبر کی یہ ازاں نہیں اعلان_نعت ہے


حسن و حسین نعت کی تصویر_اصل ہیں

صحن_ابوتراب ہی جزدان_نعت ہے


شان _حضور عیب_تناہی سے دور ہے

عجز_بیان وصف_سخندان_نعت ہے


دو ہی تو آسرے ہیں بشر کے زمین پر

اک کربلا ہے دوسرا دالان_نعت ہے

احمد اشرفی، اترپردیش، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیشکش : غلام جیلانی سحر

عشقِ نبی میں دیکھیے قرآنِ نعت ہے

آیت ہو چاہے حرف ہو قربانِ نعت ہے


کیا کیا لکھوں میں شانِ رسالت مآب میں

سرکار کا سراپا ہی عنوانِ نعت ہے


مہکا رہا ہے کِھلتے ہی سب کے وجود کو

کتنا حسین وخوش نما گلدانِ نعت ہے


تصویرِ کائنات کی جو رخ چمک رہی

,,ہرشعبہِ حیات میں امکان نعت ہے,,


جس میں نبی کے خلق کے اوصاف ہوں بیاں

سچ ہے وہی تو اصل میں شایانِ نعت ہے


دل میں ہے چاہ نعتیہ دیوان لکھ کے میں

دنیا سے کہہ سکوں کہ یہ دیوانِ نعت ہے


نادر جو ذکر کرتے ہو خیر الانام کا

رب کی عطا سے تم پہ یہ فیضانِ نعت ہے

مکمل نام : محمد احمد اشرفی,نادر بستوی

احمد جہانگیر، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

حمدِ الہ کی گونج ہے، اعلانِ نعت ہے

دنیا، خدا کے فضل سے ایوانِ نعت ہے


مولا، عجم کے گُنگ بیاباں میں جا بہ جا

مدحت کے اِصفہان ہیں، ملتانِ نعت ہے


روشن ہے بابِ شہرِ تمدّن پہ اب چراغ

حدِّ ادب کہ گوشہِ بُستانِ نعت ہے


زنجیر پڑھ رہی ہے، قصیدے کے بیت و بند

بیمار، نینوا میں نگہ بانِ نعت ہے


رسوائی کا سبب ہے مگر آپؐ کا غلام

اقبال کے دیار میں امکانِ نعت ہے


مردود ہو جنابؐ کی رحمت سے چشمِ بد

تعریف خواں غلامِ غلامانِ نعت ہے


دنیا کی واہ واہ سے، بزمِ سخن سے دور

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


آئے ہر اک گروہ و جماعت کا با شعور

حلقہ تمام حلقہِ مستانِ نعت ہے

احمد رضا، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

حیطہ ء دل میں میرے بھی ارمان نعت ہے

ڈر تو مگر بجا کہ یہ میدان نعت ہے


سمجھا نہیں رفعنا کا مطلب یہاں کوئی

مصحف خدا کا سمجھو تو قرآن نعت ہے


جب عشق کا چراغ جلا ، بھید تب کھلا

”ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے“


عرشِ بریں پہ باغ سخن کا ہے اب دماغ

بٹتا ہوا یہ صدقہ ء بستان نعت ہے


نافے لٹا رہا ہے جو قریہ ء جان پر

باغِ جناں ہے یا چمنستان نعت ہے


شیشہ ء دل پہ چھائی ہے اک تازگی سی

شاید اترنے کو وہاں عرفان نعت ہے


  • حیطہ ءِ دل کو "حیطائے دل" اور "شیشہ ءِ دل" کو "شیشائے دل " اور "قریہ ءِ دل" کو "قریائے دل' باندھا ہے جو غلط ہے ۔
احمد رضا سعدی,نندور بار,بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیش کش: غلام جیلانی سحر

پروردگار ! سینے میں ارمانِ نعت ہے

میری متاعِ زیست ہی عنوانِ نعت ہے


کر وقف ان کی ذات پہ ہر لمحہِ حیات

ناکام ہے حیات جو ویرانِ نعت ہے


تاریک قبر ہو یا ہو میدان حشر کا

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


کیسا کرم ہے دیکھیے ان کا غلام پر

نغمہ درودِ پاک کا دورانِ نعت ہے


الفاظ ختم ہوگئے شانِ رسول میں

کچھ اس قدر وسیع یہ دامانِ نعت ہے


احمد رضا کے نام کا چرچا ہے چار سو

دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ فیضانِ نعت ہے


سعدی کو کیا غرض ہے جہاں کے متاع کی

سرمایہِ حیات جب ایمانِ نعت ہے


احمد زاہد، سانگلہ ہل، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمد احمد زاہد

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے

مجھ پر کرم ہے جو بھی وہ احسانِ نعت ہے


توصیف جتنی بھی کروں اور جتنی بھی سنوں

مدحت کا لفظ لفظ ہی شایانِ نعت ہے


سب لوگ مجھ کو کہتے ہیں جو ان کا نعت گو

اس کو بھی میں کہوں گا کہ فیضانِ نعت ہے


کچھ بھی زباں کہے نہ تری مدح کے سوا

ہر پل ہر اک گھڑی مجھے ارمانِ نعت ہے


ہر دَور کی زباں پہ محمدﷺ کی ہے ثنا

واضح یہ ہو رہا ہے کہ کیا شانِ نعت ہے


قابل کہاں تھا، آپﷺ نے احسان کر دیا

محشر میں منھ دکھانے کو دیوانِ نعت ہے


میں خود کو کس طرح سے تہی دست مان لوں

دیکھو یہ میرے پاس بھی دامانِ نعت ہے


ہر ایک نے کہی ہے یوں تو نعتِ مصطفیٰؐ

زاہد نے جو کہی ہے وہ اک شانِ نعت ہے

احمد عقیل، اٹک، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بیٹھا ہوں با ادب کہ اب امکانِ نعت ہے

آنسو نہیں عقیل! یہ بارانِ نعت ہے


اول سے لے کے ناس تلک سوچتا ہوں میں

قرآن سامنے ہے یا دیوانِ نعت ہے


قلب و نظر کی پاکی ضروری ہے نعت میں

ورنہ تُو کس طرح کا سخن دانِ نعت ہے


ان کے بغیر عالمِ اسباب تھا عبث

اِس دہر کا وجود بھی عنوانِ نعت ہے


جب "راعِنا" پکارنا جائز نہیں ہے پھر

ہر لفظ دیکھ بھال، یہ میدانِ نعت ہے


پھیلی ہوئی چہار سو خوشبو ہے نعت کی

خوش بخت ہوں کہ مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے


جب جب پڑھوں درود، نئے شعر ہوں عطا

صَلُّوا عَلَی الرسول " بھی اعلانِ نعت ہے

احمد محمود الزمان، اسلام آباد[ماخذ میں ترمیم کریں]

اللہ کا کرم میرا سامانِ نعت ہے

محبوبِ حق کی یاد سے میلانِ نعت ہے


ذکرِ حضور سے ہوا عنبر فشاں قلم

قرطاس خوشبو گل و ریحانِ نعت ہے


کرتی ہے ورد صلِ علٰی کا میری زبان

حاصل میرے شعور کو عرفانِ نعت ہے


رحمت خدا کی میری محافظ اک ایک پل

کس درجہ میرے حال پہ احسانِ نعت ہے


ہوگا نہ ختم تزکرہِ شانِ مصطفٰی

اتنی ذیادہ وسعتِ دامانِ نعت ہے


قراں کرے حضور کے اوصاف کو عیاں

محدود آدمی کا تو وجدانِ نعت ہے


بخشے گا اس کے فیض سے مجھ کو مِرا خدا

پختہ کچھ اس قدر میرا ایمانِ نعت ہے


جچتے نہیں ہیں اس کی نگاہوں میں سیم و زر

جو کوئی اس جہان میں قربانِ نعت ہے


خوشنودیِ خدا کا وسیلہ بنے یہی

میرے دل و نظر کو یہ فرمانِ نعت ہے


ان کے حضور پیش کروں ارمغانِ نعت

پنہاں جو میرے قلب میں ارمان۔ نعت ہے


احمد ہے عمر خضر بھی کم نعت کے لیے

دنیا میں کب کہیں کوئی پایانِ نعت ہے

احمد مسعود قریشی، ملتان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

شعروں کا میرے دوستو عنوان نعت ہے

مشکل بڑا اگرچہ یہ میدان نعت ہے


مدحت نبی کی کرتا ہوں صورت میں شعر کی

دنیا میں ان سے پیار ہی سامان نعت ہے


رحمت وہ بن کے آئے ہیں سارے جہان میں

لکھتا ہوں لفظ جو بھی وہ فیضان نعت ہے


کرتے رہو بیان محمد کی شان کو

ملتا سکون -دل ہے یہ ایقان نعت ہے


بڑھتی ہے آرزو یہ کہ جائیں انھی کے در

ہوتا ہے پیدا دل میں جو عرفان نعت ہے


دیکھا جو کائنات کو محسوس یہ ہوا

ہر شعبہ ء حیات میں امکان ِ نعت ہے


دنیا میں خوش نصیب ہے جس کو ملا ہنر

کہتا ہے دل سے نعت جو سلطان نعت ہے

احمد ندیم، سرگودھا، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : حافظ محبوب احمد


قوسین کا مقام بھی میدانِ نعت ہے

کتنا وسیع گوشہء دامانِ نعت ہے


جس پر کھلا ہے عقدہ ء تخلیق کائنات

حاصل اسے ہی اصل میں عرفانِ نعت ہے


یہ ہست و بود اصل میں ہے ان کا فیض نور

سو جملہ کائنات میں میلانِ نعت ہے


امکان اور وجوب میں برزخ ہے ان کی ذات

یہ حسن کائنات بھی سیلانِ نعت ہے


وہ رحمت تمام ہیں، وہ اصل جود ہیں

امکان کے وجود میں دورانِ نعت ہے


حرف و بیاں شعور و تخیل قیاس و وہم

ادراک اور شعور بھی سامانِ نعت ہے


جس پر کھلے ہیں فہم و فراست کے جتنے در

ہے بھیک اس جناب کی، فیضانِ نعت ہے


وحئ خدا ہی ان کی ثنائے کمال ہے

قرآن کا بیان ہی میزانِ نعت ہے


ہے غار میں تلاوتِ آیاتِ حسنِ یار

عارض کریم ذات کا قرآنِ نعت ہے


ان کے لئے ہی خلق ہوئی ساری کائنات

یوں ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے


لفظوں کے تار و پود سے بنتی نہیں ہے یہ

عشق رسول پاک ہی فرقانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات کا مصدر ہے ان کا نور

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ان کے نثار جان ملاحت ہے ان کا حسن

توصیف حسن گویا نمک دانِ نعت ہے


یہ جتنی کاوشیں ہیں سبھی ناتمام ہیں

خالق کے پاس اصل قلم دانِ نعت ہے


طرفہ ہیں فکر و فہم کے سب سلسلے یہاں

آباد کس قدر یہ خیابانِ نعت ہے


مدحت کے آسمان پر بکھرے مہ و نجوم

پرکیف کس قدر یہ شبستانِ نعت ہے


میں بھی کسی قطار میں ہوتا ہوں اب شمار

یہ فضل کردگار ہے احسانِ نعت ہے


دل کی زمین سبز ہے مہکی ہوئی ہے جان

آنکھوں میں سیل اشک ہے بارانِ نعت ہے


ان کے جمال پاک کی کچھ جھلکیاں ندیم

یہ کائنات چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے

احمد وصال، پشاور، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


طَیبہ ہو چَشمِ قَلب میں، لب پہ درود ہو

ہر لفظ با وضو ہو کہ میدانِ نعت ہے


اللہ کا کلام ہے توصیفِ مُصطفیٰ

کتنا فَراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے


رب نے پڑھی، فرشتے بھی پڑھتے ہیں دم بہ دم

صلّ علیٰ کا ورد بھی فرمانِ نعت ہے


یا رب ! کرم ہو نعت کے شایاں عطا ہوں لفظ

مُجھ ناتواں کے سامنے میدانِ نعت ہے


الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں جو روبرو

میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے


دولت نہ جاہِ دنیا نہ شہرت کی ہے طلب

مجھ کو مدینہ شہر میں ارمانِ نعت ہے


رمضاں، عبادتیں ہیں ، محافل ہیں ذکر کی

صلّ عَلا لبوں پہ ہے ، بارانِ نعت ہے


سمجھوں گا میں وسیلہ شفاعت کا مل گیا

ایک شعر بھی جو نعت میں شایانِ نعت ہے


احمد وصال پر بھی ہو چشمِ کرم حضور

در پر کھڑا ہے آپ کے ، دربانِ نعت ہے

اختر حمید گل ، اسلام آباد ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : حافظ محبوب احمد ، سرگودھا

تخلیقِ کائنات بھی عُنوانِ نعت ہے

جاری کیا خدا نے ہی فرمانِ نعت ہے


کردارِ مُصطفٰیؐ کی ہے ہر جان میں نمُود

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


ساگر ہو روشنائی جو سب پیڑ ہوں قلم

ممکن نہیں تمام ہو ، یہ شانِ نعت ہے


جتنے حروف اِس میں پروئے گئے ہیں وہ

سارے ہی ضوفشاں ہیں، یہی شانِ نعت ہے


اتنی مجال کس میں کرے مدحِ مصطفیٰ

اللہ کاکلام ہی شایانِ نعت ہے


حسّانؓ ہو رضا ہو کہ جامی ہو یا فرید

رفعت ملی اِنہیں جو یہ، احسانِ نعت ہے


پیداہوئےحضورتو روشن ہوا جہان

ہونے لگا جہان میں اعلانِ ِ نعت ہے


سجدوں کی ساتھ لائے ہیں سوغات سب مگر

میرا تو آ سرا یہی سامانِ نعت ہے


بخشش کی روزِ حشر جو پوچھیں گے گل سبیل

کہہ دوں گامیرےپاس توبرہانِ نعت ہے

ارتضی حیدر، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد ارتضی حیدر

مصرع اگر مرا کوئی شایانِ نعت ہے

یہ اصل میں حقیر پہ فیضانِ نعت ہے


قرآں کی آیتوں کے معانی پہ غور کر

تو بھی کہے گا یہ تو ثناء خوانِ نعت ہے


محشر کی بھیڑ بھاڑ سے کیونکر ڈروں گا میں

سر پر مرے جو سایہِ دامانِ نعت ہے


محمود ہے خدا تو ہیں احمد مرے نبی

عنوانِ حمد اصل میں عنوانِ نعت ہے


الفت نبی و آل کی دل میں بسی ہوئی

یعنی کہ پورا سارا ہی سامانِ نعت ہے


ہر شعر پر رسولؐ کے گھر سے دعا ملی

دیکھو تو مجھ پہ کیسا یہ احسانِ نعت ہے


گر اسوہِ رسولؐ کی ہو پیروی تو پھر

  • ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


کچھ بھی کہا ہو اس نے سخنور نہ بن سکا

وہ جس کی شاعری میں بھی فقدانِ نعت ہے


حیدرؔ کی کیا مجال کہ دعویٰ ہو نعت کا

سلمان ہیں کہیں کہیں عمرانِ نعت ہے

ارسلان احمد ارسل، لاہور، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

لو دیکھو کیسا مطلعء دربانِ نعت ہے

فضلِ خدا سے شانِ دبستانِ نعت ہے


کیف و سُرور بھی ہے یہاں واہ واہ بھی

یہ چشتیوں کی بزمِ شبِستانِ نعت ہے


جزبہ سے بچہ کہتا ہے تو اس کو کہنے دو

یہ آنے والے دور میں مرجانِ نعت ہے


خاور کی رائے ٹھیک ہے میری نگاہ میں

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


سر کو جھکا کے اک نیا مضمون باندھ لوں

دل میں مرے سجا ہُوا جُزدانِ نعت ہے


جیسا نصیب ہو گیا اُن کے بلال کو

اب اِس سے بڑھ کے کیا کوئی عِرفانِ نعت ہے ؟


ارسل کو جذب و کیف کے عالم میں دیکھ کر

مجذوب بھی کہیں کہ یہ مستانِ نعت ہے

ارسلان ارشد، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

شاعر نہیں ہُوں نہ میرا دیوانِ نعت ہے

دل میں نبی کا عشق ہے ارمانِ نعت ہے


آنکھوں میں اشک قلب میں الفت حضور کی

بس مختصر سا یہ میرا سامانِ نعت ہے


خوشبو سے اب مہکتے ہیں دیوار و در میرے

کس درجہ مشک بو یہ گلستانِ نعت ہے


مدحت کریں جو شاہِ عوالم کی ہر گھڑی

اُن پر سدا ہی سایہء دامانِ نعت ہے


میزانِ سخن پر نہ فقط پرکھیئے اِسے

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


ان کا خیال آیا تو سوچیں نکھر گئیں

اے ارسلان کیسا یہ فیضانِ نعت ہے

ارشد محمود ارشد، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : الحاج ارشد محمود ارشد

لولاک زیرِ سایہء فیضانِ نعت ہے

وجہء قرار، نسبتِ دامانِ نعت ہے


نازاں بہارِ خلد ہے اپنے نصیب پر

فرحاں بفیضِ ثروت ِ بارانِ نعت ہے


قرآں کے حرف حرف سے ہر دم عیاں ہے نعت

جملہ کلام ِ حق سر و سامانِ نعت ہے


جو حرفِ کُن ہے باعثِ آغازِ کائنات

مستور اُس میں دعوت و اعلانِ نعت ہے


حُبِ نبی ؐ سے جذبہء طاعت کو ہو فروغ

حُبِ نبیؐ ہی موجبِ میلانِ نعت ہے


موقوف ایک گو شہ ِ ہستی پہ کب ہے نعت

" ہر شعبہ ِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


پکڑو نہ قدسیو! مرے اعمال پر مجھے

دیکھو کہ میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


بہرِ حصولِ ہدیہء تحسیں، رواں دواں

طیبہ کی سمت ناقہِ وجدانِ نعت ہے


وارد نبیؐ کا خُلق ہے قُرآں میں واہ واہ

کیا اہتمامِ غایتِ حفظانِ نعت ہے


پوچھا جو میں نے کیا ہے فلک تو ملا جواب

اے بے خبر یہ گُنبدِ ایوانِ نعت ہے


ارشدؔ! مرے نبیؐ کا یہ اعجاز دیکھنا

شام و سحر نئی سے نئی شانِ نعت ہے

ارشد منیر، لندن، برطانیہ[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمد ارشد منیر نقشبندی

کل اٹھارہ میں سے گیارہ منتخب اشعار ،


بخشش کی اک سبیل یہ سامانِ نعت ہے اور کاسہء امید میں دیوانِ نعت ہے

الفت مرے حضور کی مضمونِ قلب و جاں اُسوہ مرے حضور کا عنوانِ نعت ہے

" اُنظُرنا " پہ نگاہ ہے " لَا تَرفَعُوا " پہ دل ملحوظ اُن کا مرتبہ دورانِ نعت ہے

بزمِ درود برپا ہے قرطاسِ فکر پر خامہ یہ مجھ فقیر کا مہمانِ نعت ہے

دربار مصطفٰے کی حضوری اسے نصیب جس کے شعور کو ملا عرفان نعت ہے

خوان کرم کی بھیک کا منہ بولتا ثبوت دل سے رواں جو چشمہء فیضانِ نعت ہے

کیجئے ضرور کیجئے کثرت درود کی دل میں اگر جناب کے ارمانِ نعت ہے

فیضانِ آل مصطفٰے ہے شکرِ کردگار صحرائے دل پہ ہر گھڑی بارانِ نعت ہے

مَسعود ہے ، جو آشنا مدحِ رسول سے مَردود وہ سخن کہ جو انجانِ نعت ہے

ممکن کہاں منیر ہے مدحت حضور کی بخشا ہوا حضور کا سامانِ نعت ہے

گُھٹی میں پائی نعمتِ نعتِ نبی منیر ماں سے ملا یہ تحفہء میلانِ نعت ہے

"ارشد منیر نقشبندی" لندن

ارشاد نیازی ، چونڈہ ، سیالکوٹ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : غلام جیلانی خان


سرکار جب عطا کیا عرفانِ نعت ہے

آساں ہوا کٹھن مجھے میدانِ نعت ہے


روضے کی جالیوں سے ملے گا اسے قرار

مدت سے میرے دل میں جو ارمانِ نعت ہے


حمد و ثنا کے بعد کیا ذکرِ اہلِ بیت

دراصل ذکرِ آل ہی اعلانِ نعت ہے


آساں کرے گا دیکھنا برزخ کی منزلیں

رختِ سفر میں رکھا جو سامانِ نعت ہے


پڑھتے ہیں جو نماز میں اس آل پر درود

میرے خیال میں تو یہ ایوانِ نعت ہے


صلو علیہ آلہِ وردِ زباں کے بعد

کامل یقین رکھتا ہوں امکانِ نعت ہے


کہتا رہوں گا واعظا میں یاعلی مدد

مابعد یانبی یہی ایمانِ نعت ہے


کہتے ہیں لوگ مجھکو غلامِ رسولِ پاک

کتنا بڑا فقیر پہ احسانِ نعت ہے


زہرا بتول اور حسن حیدر و حسین

حکمِ رسول مان گلستانِ نعت ہے


کرب و بلا کہانی سمجھنے سے پیش تر

ناداں سمجھتا کیوں نہیں کفرانِ نعت ہے


دیکھے سنہری جالیاں اذنِ حضور سے

ارشاد بھی جو شاعرِ دیوانِ نعت ہے

ارشد جمال، اعظم گڑھ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

یوں دوجہان محوِ خیابانِ نعت ہے

جاناں ہے جو خدا کا وہ جانانِ نعت ہے


ہو حرف حرف کیوں نہ بھلا اس کی قرآتیں

ہر صفحہ جس کی ذات کا قرآنِ نعت ہے


اس پر سخن کے سات سمندر نثار ہیں

روشن جو ایک اشک بہ مژگانِ نعت ہے


چن لیجئے کہیں سے بھی مدحت کے رزق کو

یہ کائنات جیسے کوئی خوانِ نعت ہے


سمجھوں گا عمر بھر کی ریاضت کا پھل اسے

اک لفظ بھی اگر مرا شایانِ نعت ہے


لولو عقیدتوں کے ہیں جھلمل بہ چشمِ دہر

جگمگ کہیں بہ لب کوئی مرجانِ نعت ہے


لفظوں میں روشنی کے خزانے انڈیل دے

وہ جادوئی چراغ قلمدانِ نعت ہے


صارم اسے نصیب ہیں آسانیاں تمام

پیہم جو ایک شخص پریشانِ نعت ہے

ارم اقبال نقوی، راولپنڈی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ذوقِ سخن جو لازمِ سامانِ نعت ہے

عشقِ رسولؐ شاملِ ارکانِ نعت ہے


نعتِ نبیؐ سنا گئے دادا رسولؐ کے

گویا جہاں میں ان سے ہی عرفانِ نعت ہے


لب پہ جنابِ آمنہؑ کے نعت ہے رواں

لوری کے حرف حرف میں اک شانِ نعت ہے


تھے حامدِ رسولؐ ابوطالبِؑ عظیم

یہ اسمِ پاک خاصہِ خاصانِ نعت ہے


بی بیؑ خدیجہؑ حرفِ تسلی میں جو کہیں

وہ گفتگو بھی سربسر اعلانِ نعت ہے


نعتِ نبیؐ کا عکس مناجاتِ فاطمہؑ

کاشانہِ رسولؐ شبستانِ نعت ہے


جب بھی کہا علیؑ نے کوئی نعتیہ کلام

سب نے کہا یہ لولو و مرجانِ نعت ہے


ایوبؓ اورحسّانؓ کی پہچان بزمِ نعت

ہر عہد میں رواں یہ قلمدانِ نعت ہے


صدیوں سے نعت لکھی، مگر تشنگی ہنوز

نے انتہائے عشق نہ پایانِ نعت ہے


چادر عطا ہوئی ہے جو بردہ شریف پر

یہ معجزہ گواھیئ وجدانِ نعت ہے

سیرت کی روشنی میں ہو تہذیب کی نمو

ہاں یہ چلن ہی حاصلِ عنوانِ نعت ہے


واجب ہے احتسابِ عمل، روحِ انقلاب

”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے“


اقلیمِ شعر دائمی رفعت جو پا گئی

شاعر ہر اک زباں میں سخن دانِ نعت ہے


ہم نے توخود غزل میں بھی نعتِ نبیؐ سنی

کتنا وسیع ترین یہ دامانِ نعت ہے


آلِ نبیؑ کا ذکر بھی ذکرِ رسولؐ ہے

سوچو تو مرثیہ بھی توایوانِ نعت ہے


مجھ بے نوا کو کچھ جو سخن کا شعور ہے

یہ بھی تو میرے واسطے احسانِ نعت ہے


پایا ارم خدائے سخن سے یہ مرتبہ

میری بھی نعت شاملِ دیوانِ نعت ہے

ارم بسرا، لاہور، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

لوح و قلم کی شرح قلمدانِ نعت ہے

أرض و سماوا صفحہ دیوانِ نعت ہے


مسلم ہوں میرے گھر میں حیا کے اصول ہیں

پردے میں رہتے ہیں سبھی احسانِ نعت ہے


بچے جوان بوڑھے سبھی نعت خوان ہیں

کنبے پہ میرے بارش بارانِ نعت ہے


والشمس والقمر ہو کہ والیل والضحی

اللہ کی طرف سے یہ سامانِ نعت ہے


صلو و سلمو پہ عمل کیجیے جناب

اس حکم کا اداریہ عرفانِ نعت ہے

اسحاق اکبری، اودیپور، راجستھان، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد اسحاق اکبری نقشبندی

انسان کیسے لکھے جو شایانِ نعت ہے

نازل کیا خدا نے وہ قرآن نعت ہے


اس زندگی میں کیا میں پڑھوں گا لحد میں بھی

""ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے""


میں کیا ہوں کیا نہیں ہوں یہ ہرگز نہ پوچھیۓ

جیسا بھی ہوں جو بھی ہوں یہ فیضان نعت ہے


حاجت ہی کیا دوا کی میں بیمار عشق ہوں

میرے لئے تو درد کا درمان نعت ہے


ہم کو کسی بھی تیرگی کا خوف کیوں ہو جب

عشق حضور شمع شبستان نعت ہے


کچھ ایسی نعت سرور دیں میں ہے چاشنی

صد بار گنگنا کے بھی ارمان نعت ہے


اسحاق اس سرور کو کیسے کروں بیاں

حاصل جو میرے قلب کو دوران نعت ہے

اسد علی اسد، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

احمد ؑ میں یہ جو حمد ہے جزدانِ نعت ہے

مدحت نبی ؑ کی اصل میں قرآنِ نعت ہے


عشقِ نبی ؑ میں دل تو سُلیمانِ نعت ہے

لیکن میرا دماغ بھی سَلمانِ نعت ہے


جو احترامِ حضرتِ عمرانِ ؑ نعت ہے

مجھ کلمہ گو کے واسطے ایمانِ نعت ہے


محشر کی دھوپ اُن کو جلائے گی کیا بھلا

جن عاشقوں پہ سایہ ءِ دامانِ نعت ہے


ممکن ہے راز ہو یہ الف لام میم کا

ہر ایک حرف حاملِ دیوانِ نعت ہے


کر کے عمل رسول ؑ کی سیرت پہ دیکھ لیں

ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے


گھر سے چلوں مدینے کو پڑھتے ہوئے درود

کافی مجھے سفر میں یہ سامانِ نعت ہے


عشقِ نبی ؑ میں وہ بھی بلالِ نبی ؑ ہوا

جس شخص کی زبان کو عرفانِ نعت ہے


کرنا یقیں رسول ؑ کی ہر ایک بات پر

دیں کی نظر سے دیکھیں تو عنوانِ نعت ہے


رگ رگ میں جو اسدؔ ہے رواں عشقِ مصطفیٰ ؑ

میرا لہو نہیں ہے یہ دورانِ نعت ہے

اسلم رضا خواجہ، لاہور، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

رب نے کشاد کر دیا دامان نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ہم ایسے لوگ لائے ہیں ایمان غیب پر

یعنی ہمارے واسطے ایمان نعت ہے


تیرہ شبی میں نور کا مینار انکا نام

مردہ دلوں کے درد کا درمان نعت ہے


نوع بشر کے واسطے دستور آخری

پڑھ لو خدا کا سارا ہی قرآن نعت ہے


ان کے خدا کے وعدہ لاریب کی قسم

ہر سمت کائینات میں اعلان نعت ہے


اسلم فیضی ۔ کیا مرتبہ ہے نعت کا‘ کیا شان نعت ہے[ماخذ میں ترمیم کریں]

شاعر : اسلم فیضی ، کوہاٹ


کیا مرتبہ ہے نعت کا‘ کیا شان نعت ہے

ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان نعت ہے


یہ جو اذاں میں سوز بلالیؓ ہے جلوہ ریز

توحید کا سرُور ہے وجدان نعت ہے


محشر میں کام آئے گا بخشش کے واسطے

لفظوں کی جھولیوں میں جو سامان نعت ہے


اوصافِ مصطفےٰ سے خدا کا‘ پتہ ملا

میرا تو دل بھی‘ جان بھی‘ قربان نعت ہے


میرے نبیؐ کی مثل ہُوا ہے نہ ہو سکے

وہ جانِ نعت ہیں‘ یہی اعلان نعت ہے


میری صدا کبھی بھی پہنچتی نہ‘ عرش تک

مجھ بے نوا پہ سارا یہ احسانِ نعت ہے


ذکر نبیؐ سے معرفتِ دیں کے گل کھلے

شاداب کس قدر یہ گلستانِ نعت ہے


دنیا کو ہم نے عدل کی پہچان بخش دی

کیونکہ ہمارے ہاتھ میں میزان نعت ہے


ہر دور کو شعور ملا آگہی ملی

فیضی یہ فیض اصل میں فیضانِ نعت ہے


اسلم قمر، گوجرہ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

لا ریب عشق ِ شاہ ِ امم جان ِ نعت ہے

میں کہہ رہا ہوں نعت یہ فیضان ِ نعت ہے


مدحت سرائی ان کی کروں، کس طرح کروں؟

مشکل سخنوری میں یہ میدان ِ نعت ہے


کرنے کو پیش کچھ نہیں مجھ بے عمل کے پاس

بس خرقہ ءِ عمل میں یہ سامان ِ نعت ہے


باد ِ صبا بوقت ِ سحر کہہ گئی مجھے

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


کہہ کر پکارا جائے ثنا خوان ِ مصطفی

اسلم قمر کو اس لیے ارمان ِ نعت ہے

اسلم ویشالوی، کولکتہ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

کیا کیا بتاؤں آپ کو احسان نعت ہے

ہم شاعروں پہ ہر گھڑی فیضان نعت ہے


دل میں اگر ہو عشقِ رسالت مآب تو

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


کیوں کر نہ فکر بحر سخن میں ہو غوطہ زن

احمد رضا کا، ہاتھ میں دیوان نعت ہے


مدحت رسول پاک کی آساں نہیں جناب

چلیے ذرا سنبھل کے یہ میدان نعت ہے


مجھ سے رکھوگے ربط تو پاؤگے خلد پاک

ہر مدح خواں کے واسطے اعلان نعت ہے


منکر نکیر دیکھ کے اسلم کو کہہ اٹھے

رہنے دو، اس کے ہاتھ میں گلدان نعت ہے

اشرف نقوی ، شیخوپورہ ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مجھ پر مرے حضور کا احسانِ نعت ہے

میرے لیے کھلا ہوا میدانِ نعت ہے


اُن کا کرم جو ہو تو ہر اِک لفظ محترم

گر چاہیں وہ، غزل میں بھی اِمکانِ نعت ہے


گھر میں جو میرے رحمت و برکت ہے ہر گھڑی

قرآن کا وسیلہ ہے، فیضانِ نعت ہے


شانِ رسولِ پاک میں نازل کیا گیا

یعنی قرآنِ پاک ہی قرآنِ نعت ہے


آقا! مجھے بھی شہرِ مدینہ بلایئے

مجھ کو بھی در پہ پڑھنے کا ارمانِ نعت ہے


گر میرے ٹوٹے پھوٹے یہ الفاظ ہوں قبول

بخشش کو میری کافی یہ دیوانِ نعت ہے


رب سے اگر ہے پیار، اطاعت نبی کی کر

سب مومنوں سے رب کا یہ فرمانِ نعت ہے


ماں باپ میرے اور میں خود آپ پر فدا

بس اِک یہی عقیدہ ہی ایمانِ نعت ہے


سیرت پہ اُن کی چلنا ہو جب مقصدِ حیات

"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


اشرف میں ہر گھڑی تھا گماں میں گھرا ہوا

گر پُر یقیں ہوں آج تو ایقانِ نعت ہے


اشرف یوسفی، فیصل آباد، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

لطف و سرور و کیف جو دورانِ نعت ہے

نخل ِ دل و نظر پہ یہ بارانِ نعت ہے


ہر اک ظہور پر تو ِاعیانِ نعت ہے

ہر گوشہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


اس عالم ِخراب میں صحرائے خواب میں

صد شکرہم پہ سایہ ء مژگانِ نعت ہے


گلہائے رنگا رنگ ہیں اسمائے شاہ ِدیں

دامان نو بہار یہ دامانِ نعت ہے


میثاقِ مصطفےٰ تھا جو یوم ِالست تھا

قالو بلا تو اصل میں پیمانِ نعت ہے


ان کی قبولیت سے سخن کو ہے استجاب

اک لفظ بھی کہاں مرا شایانِ نعت ہے


روشن دل و دماغ ہیں حب ِرسول سے

طیبہ کی خاک سرمہ ء چشمانِ نعت ہے


اشرف در ِحضور تلک لے کے جائے گا

اس دستِ نارسا میں جو دامانِ نعت ہے

اشفاق احمد غوری، ملتان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

رفعت خیال و فکر کی عرفانِ نعت ہے

معراج میرے حرف کی دامانِ نعت ہے


ہم تو فقط رعایا ہیں ملکِ نعوت کی

واللہ رب کی ذات ہی سلطانِ نعت ہے


حرفِ نیاز ،اشکِ رواں، عشقِ محترم

فہم و شعور میں یہی سامانِ نعت ہے


فکر و خیال مائلِ نعتِ نبی ہوں گر

"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


مٹنے لگی ہے حرف و معانی کی تشنگی

لفظوں کے ریگ زار پہ بارانِ نعت ہے


سجدے میں ہے برائے تشکر مرا قلم

میرے قلم کی نوک پہ احسانِ نعت ہے


کہتے ہیں میرے جاننے والے یقین سے

اشفاق صدقِ قلب سے قربانِ نعت ہے

اشفاق حسین ہمذالی ۔ ہر سو بہارِ نکہتِ بُستانِ نعت ہے[ماخذ میں ترمیم کریں]

شاعر : انجنیئر اشفا ق حسین ہمذا لیؔ ، فیصل آباد

ہر سو بہارِ نکہتِ بُستانِ نعت ہے

صد شکر ، ہم پہ سا یہءدامانِ نعت ہے


ہیں مِدحتِ رسولؐ کے ہر جا کھِلے گلاب

بزمِ خیا ل ہے کہ گلستان ِ نعت ہے


ہیں اُن کے ذکر و فکر میں مصروف دھڑکنیں

یہ شو ق میرا مظہرِ ایما نِ نعت ہے


رہبر جو ہر قدم پہ ہے اُسو ہ حضور ؐ کا

"ہر شعبہء حیا ت میں اِمکا نِ نعت ہے"


یُو ں زندگی ہو وقفِ ثنا اے مرے کریم

ہر شخص بو ل اٹّھے یہ قربانِ نعت ہے


محشر میں ہو گا سا تھ وہ حسّانؓ و کعبؓ کے

ہر لمحہ جس کا مصرف ِمیلا نِ نعت ہے


خو ش ہو کے میں بھی سب کو کہو ں گا یہ حشر میں

وجہِ نجا ت میرا یہ سا مانِ نعت ہے


جو کر رہا ہے ذا تِ نبیؐ کے قریں مجھے

اُن کے کرم سے میر ا قلمدا ن نعت ہے


اہلِ سُخن میں جس سے مرا بھی ہوا شمار

میرا یہ ذوقِ شعر بھی احسا نِ نعت ہے


نا عِت تما م ان کے ہیں آپس میں خیر خوا ہ

برکت ہے یہ ثنا کی یہ فیضا نِ نعت ہے


کس کا م کے یہ لفظ ومُعا نی کے سلسلے

تیری بیا ضِ فن میں جو فُقدا نِ نعت ہے


مِدحت نبیؐ کی مرجع اہلِ سخن ہو ئی

اس دو ر کے ادب پہ یہ فیضا نِ نعت ہے


ہمذا لی ؔکی دعا ہے اِلٰہی ترے حضو ر !

و ہ لہجہ بخش مجھ کو جو شا یا نِ نعت ہے

اصغر شمیم، کولکتہ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

قرآن نعت ہے مرا ایمانِ نعت ہے

"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"


جو بھی ملا ہے ان کے وسیلے سے ہی ملا

میرے لئے تو ان کا یہ فیضانِ نعت ہے


جو ہیں حبیب رب کے وہ میرے رسول ہیں

سرکار دو جہاں کا یہ احسانِ نعت ہے


مدحت سرائی ان کا میں کرتا رہوں مدام

میری بھی زندگی کا یہ ارمانِ نعت ہے

تحریر جب بھی کرتا ہو نعتِ نبی شمیم

ہر رہ گزر میں جیت کی پہچانِ نعت ہے

اعجاز حسین عاجز ، گوجرانوالہ ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

ہم ہیں، قلم دوات ہے، میدانِ نعت ہے

کیونکہ ہمیں ازل سے ہی فرمانِ نعت ہے


عالم فدائے وسعتِ دامانِ نعت ہے

جس جس کو دیکھیے وہی قربانِ نعت ہے


نعتیں ہیں اس میں جیسے ہوں قرآں کی آیتیں

سینے میں دل نہیں مرے، جزدانِ نعت ہے


ہر دور کے شعور کی تشکیل کے لیے

درکار ہر زمانے کو فیضانِ نعت ہے


نورِ تجلیاتِ رسالت کے فیض سے

’’ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


کلیاں چٹک چٹک کے یہی کہہ رہی تھیں سب

ہم کو بھی شوق دید ہے، ارمانِ نعت ہے


حسان ایک فرد نہیں ایک سوچ ہے

مدحت سرا ہے جو بھی وہ حسانِ نعت ہے


توصیف مصطفےٰ کی ہے توصیفِ کردگار

بین السطورِ حمد بھی عنوانِ نعت ہے


اس پر فدا، ہے جس کو ودیعت شعورِ نعت

اس پر نثار جو بھی سخندانِ نعت ہے


تلقین خود حضور نے سعدی کو جو کیا

وہ مصرعِ درود ہی سلطانِ نعت ہے


اے وجہِ کُن فکاں! شہِ ما کان ما یکون

بس تیری ذات کے لیے امکانِ نعت ہے


"لَا یُمْکِنُ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ"

ذکرِ علوّ و مرتبت و شانِ نعت ہے


"غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم"

عجزِ بیانِ عبدِ قدردانِ نعت ہے


سیّاحِ لامکاں تری اک سیر کے طفیل

اب لامکاں بھی شاملِ امکانِ نعت ہے


شاید مجھے عطا ہو کوئی حرفِ جاوداں

میری قضا ٹھہر ابھی دورانِ نعت ہے


عاجز وفورِ شوق میں حدِّ ادب رہے

لَا تَرْفَعُوا اسی لیے دربانِ نعت ہے


سید اعجاز حسین عاجز، گوجرانوالہ، پاکستان

اعجاز احمد، میلسی ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

دیکھو یہ کیسا مطلع ِ عنوانِ نعت ہے

نورِ خدا کے سامنے دیوانِ نعت ہے


اس دورِ ابتلاء میں بھی حسانِ نعت ہے

وہ شخص جس کے پاس قلمدانِ نعت ہے


کلیاں گلاب چاند ستارے یہ روشنی

اس کائنات ِ ارض پہ احسانِ نعت ہے


اپنے کرم سے مجھ کو عطا کیجئے حضور

اک حرف ایسا حرف جو شایانِ نعت ہے


حرف و قلم کی آبرو ہے آپ کے طفیل

شعر و ادب کا نور تو دیوانِ نعت ہے


صلِ علیٰ کی گونج مہکتی ہے ہر طرف

سارا جہان جیسے گلستان ِ نعت ہے

اعظم سہیل ہارون، حاصل پور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

دھڑکن پکارتی ہے کہ سامانِ نعت ہے

مہکا ہوا جو دل کا گلستانِ نعت ہے


دل کو قرار آیا درود و سلام سے

کیسا سرور و کیف یہ دورانِ نعت ہے


دنیا میں پُل صراط سے ہر گز یہ کم نہیں

چلنا ذرا سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


مجھ کو یقین ہونے لگا ہے نجات کا

اعمال میں مرے جو یہ دیوانِ نعت ہے


دیکھا ہے چار سمت عقیدت کی آنکھ سے

”ہر شعبہ ِٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


جتنا بھی خود پہ ناز کروں ، کم ہے دوستو

ہر سانس میری زیست کی مہمانِ نعت ہے


محفل درودِ پاک مرے گھر میں سج گٸی

رحمت کا بھی نزول ہے ، بارانِ نعت ہے


صد شکر ہے خدا کا ہُوا ہوں غزل سے دُور

اب زندگی تمام ہی قربانِ نعت ہے


بخشش ضرور ہو گی تری حشر میں سہیل

ہاتھوں میں تیرے جب سے ہی دامانِ نعت ہے


ہر وقت میرے لب پہ رہے وِرد آپ ﷺکا

اعظم کرم خدا کا ہے ، فیضانِ نعت ہے

افتخار حسین کریمی، واہ کینٹ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

لُطفِ دوام مُجھ پہ بفیضانِ نعت ہے

اُن کے کرم سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے


مجھ سا حقیر مدحتِ سرکار کیا کہے

جاری اُنہی کے فیض سے فیضانِ نعت ہے


سرکار کا ادب رہے ملحوظ ہر گھڑی

نادان! دھیان کر کہ یہ میدانِ نعت ہے


پڑھتا ہوں عترتِ شہِ کونین پر درود

ہر ہر نَفَس فداٸی و قُربانِ نعت ہے


پہلے الف سے آخری پارے کی سین تک

قُرآنِ پاک دیکھ لو قُرآنِ نعت ہے


گر ہو نظر میں رحمتِ عالم کی ذاتِ پاک

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


سرکار! مجھ کو اذنِ ِثناء بخش دیجیے

سرکار! میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے


بچپن سے لوریوں میں سُنی نعت آپ کی

یوں ہی نہیں مزاج میں میلانِ نعت ہے


اِس کے سبب ہی حشر میں ہو گی مِری نجات

کافی ہے میرے پاس جو سامانِ نعت ہے


لکھے بشر تو کیسے لکھے مدح آپ کی

وہ لفظ ہی نہیں کہ جو شایانِ نعت ہے


اظفر کو کاش حشر میں سرکار یوں کہیں

کتنا حسیں تُو لایا یہ دیوانِ نعت ہے

اقبال خان، باغ، کشمیر، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمد اقبال خان


آقا کی بارگاہ میں اعلانِ نعت ہے

قرآں جو کہہ رہا ہے وہی شانِ نعت ہے


انگلی کا پور پور ثناء خوان ہے مرا

یوں نعت لکهتے رہنا بهی عرفانِ نعت ہے


ہر حرف بولتا ہے محبت نبی سے یے

ایسا لطیف میرا یہ دیوانِ نعت ہے


دو چار شعر میرے اگر ہوں قبول بس

رب کے حضور اتنا سا پیمانِ نعت ہے


بطحا کو جانے والی ہواؤں سے کہہ دیا

میری عقیدتوں کا یہ سامانِ نعت ہے

الیاس بابر اعوان، راولپنڈی، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

اس بحرِ بے کنار میں ایقانِ نعت ہے

یہ اشک ہی نہیں میاں، سامانِ نعت ہے


جو کچھ بھی ہے خیالِ صد افکار کا محیط

ہستی کے تار و پود کا دیوانِ نعت ہے


کیا پوچھتے ہو مجھ سے مقامِ غنا کا راز

ایمان کی کہوں مرا ایمانِ نعت ہے


جز رب کے کون مدح کا حق کرسکا ادا

قرآن عین آپ کے شایانِ نعت ہے


اے کاش مجھ پہ آپ کا انعام ایسے ہو

دیکھیں مجھیں تو بولیں کہ حسانِ نعت ہے


ہر لحظہ انہماک ہے آقا کی ذات پر

ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


میں نعت لکھ رہا ہوں کہ باغِ ارم میں ہوں

ہر حرف جیسے سنبل و ریحانِ نعت ہے

امان زرگر، قائد آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

خالق کی ہم نوائی ہے عرفانِ نعت ہے

عرشِ بریں پہ ہر گھڑی اعلانِ نعت ہے


اسپِ تخیل آج تلک حد نہ پا سکا

فکر و نظر سے ماورا میدانِ نعت ہے


ہر سمت محوِ سوز ہیں مرغانِ خوش نوا

پرکیف و وجد خیز یہ بستانِ نعت ہے


مرقوم آیتوں میں ہے مدحت رسول کی

قرآں کے حرف حرف میں دیوانِ نعت ہے


شیوہ ہے رب کا اور فرشتوں کا بھی، درود

ایماں کے حاملیں کو بھی فرمانِ نعت ہے


نظرِ کرم حضور کی، یزداں کا فضل بھی

صد شکر میرے دل میں جو میلانِ نعت ہے


کُن سے بروزِ حشر تلک اور بَعد بھی

ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے


صف بستہ حرف، خامہ و قرطاس مشکبو

نالِ قلم کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


حسنِ خیال، اوجِ ہنر اور علم و فضل

لیکن نگاہِ فیض ہی سامانِ نعت ہے


رب نے بہ نطقِ شوق تلاوت جسے کیا

یٰسین کا خطاب ہی شایانِ نعت ہے


فکر و خیال کا نگر، الفاظ کی نشست

اور جنبشِ قلم سبھی فیضانِ نعت ہے


زرگر! ترا یہ نعرۂِ سرمست خوب تر

لیکن ذرا سنبھل کہ یہ ایوانِ نعت ہے

امجد ربانی مصباحی، آستانۂ ربانیہ، شرف آباد، جبل پور شریف، بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : غلام فرید واصل

  • دل اشتیاق مند گلستانِ نعت ہے*
  • سنتے ہیں نرم خوٗ بڑا، رضوانِ نعت ہے*


  • حسنِ نبی کی تابِ حکایت کہاں سے لاے*
  • کیا سرخروے فکر پشیمانِ نعت ہے*


  • کیسی کشش ہے، ذکرِ رسالت مآب کی*
  • جو تاجدارِ فکر ہے، دربانِ نعت ہے*


  • ہر سانس عطرِ ذکرِ نبی میں بسائیے*
  • ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*


  • زخم جگر میں عشقِ نبی کی ہیں لذتیں*
  • صد شکر پاس نشترِ ذیشانِ نعت ہے*


  • پھر آج ہیں حکایتیں، حسنِ حضور کی*
  • پھر آج گرم محفلِ یارانِ نعت ہے*


  • ہوکر نثار گیسو و رخ پر حضور کے*
  • میری عروس فکر، غزل خوان نعت،ہے*


  • ہر آن یاد شاہ میں اشکوں کی ہے لڑی*
  • شامِ فراق، دعوتِ مژگانِ نعت ہے*


  • "امجد" کی نعت گوئی بھی فیضاں ہے نعت کا*
  • کب اِس کی دسترس سرِ عرفانِ نعت ہے*
امجد نذیر ، میلسی [ماخذ میں ترمیم کریں]

کاغذ قلم دوات مہکتے ہیں رات کو

مہکیں نہ کس طرح یہ قلمدانِ نعت ہے


ہر چیز کائنات کی ان کےلیے بنی

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


پڑھ کر درود گھر سے روانہ ہوا ہوں میں

اب کوئی ڈر نہیں ،کہ نگہبان نعت ہے


امجدؔ نجات کےلیے کافی ہے حشر میں

گر میرا ایک شعر بھی شایانِ نعت ہے

انعام الحق معصوم، ملتان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : انعام الحق معصوم صابری


قرآنِ نعت ہے یہی ایقانِ نعت ہے

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


میری نجات ان کی شفاعت سے بالیقیں

زاد سفر مرا تو یہ سامان نعت ہے


میلاد محفلیں ہیں سجی گھر میں عاشقو

خوشبو مہک رہی ہے گلستان نعت ہے


صد شکر رب کا میرے خیالات پاک ہیں

اور عشق میں حضور کے دیوان نعت ہے


معصوم خوش نصیب رقم نعت ہم نے کی

پائی ہے راہ جس سے وہ حسان نعت ہے

اویس ازہر مدنی، فیصل آباد، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد اویس ازہر مدنی

کہئے کسے کسے کہ وہ حسانِ نعت ہے

پہچان جس کی نعت ہے۔ سلطانِ نعت ہے


کھلتے ہیں یاں گُلابِ ثنائے محمدی

لپٹا طہارتوں میں یوں بُستانِ نعت ہے


احکام اس میں اور بھی موجود ہیں مگر

قرآنِ پاک اصل میں دیوانِ نعت ہے


سرکار! بے ہنر پہ بھی اک چشمِ التفات

سرکار! میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


قائم سخن وری میں ہے یوں انفرادیت

صد شکر اپنے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات ہے سیرت سے فیضیاب

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہم سے تونگروں کو ہو کس چیز کی کمی

جب توشۂ حیات میں سامانِ نعت ہے


حد سے وفورِ شوق میں بڑھنے سے احتیاط

چلئے سنبھل سنبھل کے کہ میدانِ نعت ہے


شہرت وقار عزت و تکریم آبرو

ازہر کرم یہ ہم پہ بفیضانِ نعت ہے

اویس راجہ، نیویارک، امریکا[ماخذ میں ترمیم کریں]

فی الوقت جیسا اب ہمیں عرفانِ نعت ہے

بس طرزِ استغاثہ ہی شایانِ نعت ہے


اس کے خمیر میں ہے گندھا عشق مصطفےٰ

اردو ، ہر ایک صنف میں قربان نعت ہے


یہ کس کا شعر ہو گیا مقبولِ بارگاہ

دنیا میں ایک طرز کا میلانِ نعت ہے


دنیا تو دے رہی ہے صدا پر صدا مجھے

میں اٹھ کے جاؤں کیسے یہ دورانِ نعت ہے


بےفیض ایسے اہل سخن کا ہے ہر سخن

جس کا کلام بے سر و سامانِ نعت ہے


اتنی کہاں بساط کہ اک حرف لکھ سکوں

جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے


زہرا ، حسن ، حسین ہوں یا بوتراب ہوں

سارا گھرانہ شاہ کا ایوانِ نعت ہے


ملتی ہیں یوں تو پہلی کتابوں میں بھی نعوت

پر آخری کتاب تو دیوانِ نعت ہے


ہوتی نہ گر حضور سے نسبت انہیں اویس

دشت و جبل میں کون سا امکانِ نعت ہے

اویس رضوی، ممبئی، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : اویس رضوی قادری صدیقی

کیا پر بہار ذوقِ گلستانِ نعت ہے

دل میں بسا ہے کب سے، جو ارمانِ نعت ہے


نسبت ملی ہے مجھکوجو، پہچانِ نعت ہے

یہ اصل زندگی ہے یہ، سامانِ نعت ہے


مہکا خیال و فکر بھی میرا انہی سے ہے

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


افکار کی صدا ہے تخیل کا حسن بھی

عشقِ نبی، حضور کا عرفان نعت ہے


حسان کہ رہے ہیں نبی سن کے شاد ہیں

عشق رسول ہی تو مری، جانِ نعت ہے


احمد رضا کے عشق کا صدقہ ملے مجھے

ارماں ہے جس کا دل میں وہ، دیوانِ نعت ہے


بھیجو درود ان پہ جنہیں رب ہے بھیجتا

ہر دم سلام اس پہ جو جانانِ نعت ہے


خدمت یہ نعت کی ہی بنے مصرف حیات

روشن ہوئی حیات بہ فیضان نعت ہے


عشقِ نبی میں ڈوب کے لکھّی اویس نے

ہاتھوں میں آج اس کے بھی دامانِ نعت ہے

اویس قادری کوکب، جام نگر گجرات، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید اویس قادری کوکب جیلانی

کہتا ہے نعت وہ جسے عرفان نعت ہے

جانانِ جاں ہی شمع شبستان نعت ہے


جامی کا سوز دے مجھے سعدی کا رنگ دے

فکر رضا دے یا خدا ارمان نعت ہے


الفاظ تول تول کے میزانِ شرع میں

رکھنا قدم سنبھال کے میدان نعت ہے


جس کو طلب ھوں مدحِ پیمبر کے زاویے

قرآن اس کے واسطے سامان نعت ہے


غزلوں نے اس لیے مجھے مائل نہیں کیا

پیدائشی خمیر میں رجحان نعت ہے


بعد از اذان ہر گھڑی؛ ہر آن؛ ہر طرف

آواز گونجتی ہے وہ ایوان نعت ہے


بعد از زہیر کعب اسی کا ہے غلغلہ

مداح مصطفیٰ ہے جو حسان نعت ہے


بخشش کے کام آے گا تھامے رہو اسے

پروانۂ نجات یہ دامان نعت ہے


نعتِ نبی ہے اصل میں تحمید کبریا

عنوان حمد ہی مرا عنوان نعت ہے


مازاغ ہے کہیں کہیں واللیل و والضحیٰ

قرآں میں جا بجا یہ گلستان نعت ہے


وہ روحِ کائنات ہے اس کی ثنا کرو

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


اِس کو ردا عطا ھو شہنشاہ دو جہاں

کوکب کو بھی زہیر سا میلان نعت ہے

اورینا ادا، بھوپال، ایم پی، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیشکش : عرفان نعمانی

جب خود خدائے پاک نگہبانِ نعت ہے

محفوظ ہر خزاں سے گلستان نعت ہے


ہشیار اے قلم کہ ہے یہ نعت کی زمیں

آہستہ چلنا اس میں یہ میدانِ نعت ہے


مولیٰ ترے حبیب کی توصیف کے لیے

وہ فکر کر عطا جو کہ شایانِ نعت ہے


مفلوج لفظ فکر شکستہ کے باوجود

مجھ پر کرم نبی کا ہے احسان نعت ہے


محسوس کرتی ہوں میں معطر مشام جاں

یہ عطر عشقِ شاہ ہے لوبان نعت ہے


سدرہ پہ فکر روح امیں دے گئی جواب

رب جانے کس بلندی پہ ایوان نعت ہے


آداب حمد و نعت کے قرآں سے پوچھ ادا

معیار کیا ہے حمد کا کیا شان نعت ہے

مکمل نام : ڈاکٹر اورینا ادا

بابر علی اسد ، فیصل آباد ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

صحرا نصیب لوگ ہیں, بارانِ نعت ہے

ہم سوکھتے نہیں ہیں تو, احسانِ نعت ہے


پھیلی ہوئ ہے رحمت ِ عالم ,کچھ اسطرح!

سینہ بہ سینہ سایہِ شاخانِ نعت ہے


یہ سبز دل کے مہرباں یہ اشک چشم لوگ

یہ درد خوۓ ِءحلقہ ِ یارانِ نعت ہے


ہر زاویہ کے مطمع ِء معیار , آپ ہیں

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


وہ قلب ِ کائنات پہ احسان ِ زندگی!

جاں بھی وہی ہے, اور وہی جانانِ نعت ہے


ہم نے خدا کو پایا تو, پایا ترے طفیل

سو حمد ہے, تو حمد بھی دورانِ نعت ہے


تھامے ہوۓ ہیں,اور یہ ڈر بھی تو ہے اسد

ہم خاک زاد لوگ ہیں دامانِ نعت ہے

بسمل شہزاد، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

دل کے صدف میں قطرہء نیسانِ نعت ہے

آسودہ حالِ شہر ہوں ، احسانِ نعت ہے


اقلیمِ ہفت میری قلمرو شمار کر

وہ یوں کہ میرے ہاتھ ، قلمدانِ نعت ہے


یہ بھید مجھ پہ کلمہء لَولَاک سے کُھلا

”ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے“


رنج و الم کی نذر ہوۓ جا رہے ہیں لوگ

مُنعَم ہے وہ جو سربگریبانِ نعت ہے


اے تختِ مصر ! یوسفِ دیگر تلاش کر

میری تڑپ تو جادہء کنعانِ نعت ہے


پی پی کے زندگی کی طرف لوٹتے چلو

اے مُردگاں! یہ چشمہء حیوانِ نعت ہے


کاغذ، قلم، دوات، شکستہ سا اک چراغ

زادِ سفر مرا ، یہی سامانِ نعت ہے


کچھ اور جذب و فکر کی لَو کو اُبھار دے

بسملؔ ابھی تُو دُودِ چراغانِ نعت ہے

بشرٰی فرخ، پشاور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کیا وسعتِ خیال بہ دامانِ نعت ہے

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


کھلتے ہیں روز ہی تو نئی مدحتوں کے گُل

مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے


دل اور زبان مدح سرائی میں ہیں مگن

سر چشمہِ حیات یی میلانِ نعت ہے


اعزاز مل رہا ہے ثنائے رسولؐ کا

یہ مجھ گنہگار پہ احسانِ نعت ہے


تکتا ہے صرف سوز و گدازِ جنونِ عشق

معیار میں جدا ہے جو میزانِ نعت ہے


ہر لفظ با ادب رہے ہر حرف باوضو

یہ عام سی زمیں نہیں میدانِ نعت ہے


ملحوظ ہر خیال میں تقدیس و احترام

ہر سوچ با وقار ہویہ شانِ نعت ہے


گر ہو قبولیت کا شرف بھی عطا اسے

ہدیہ بنامِ سید سلطانِ نعت ہے


بشری سفر ہے طیبہ کا اور زاد ِ راہ صرف

گنجینہِ درود ہے سامانِ نعت ہے

بلال حیدر گیلانی ، مظفرآباد، کشمیر، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

ٹوٹا جمودِ خامہ یہ فیضانِ نعت ہے

مدحِ نبی عطا ہوئی، احسانِ نعت ہے


خاطر میں سنتِ نبوی ہو اگر، تو پھر

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


مدحت سرا ہے عرش پہ خود ذاتِ لم یزل

اس زاویے سے عرش بھی ایوانِ نعت ہے


سجتی ہے روز بزم درود و سلام کی

گھر میرا، گھر نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے


دنیا کی رونقوں سے اسے کیا غرض بھلا

حیدرؔ کہ سب کہیں جسے مستانِ نعت ہے

پرویز ساحر، ایبٹ آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یُـوں ہی تو میرا دِل نہیـں قُربانِ نعت ہے

حـاصِـل مجھے سکُــون بَہ فیضـان ِ نعت ہے


جب پیش ہو گا نامہ ِ اَعمـــــــال حَشــــر میں

کہہ دُوں گا میرے پاس یہ دیـــوان ِ نعت ہے

حســان ہوں ' وہ کعب ہوں ' اِبن ِ زُہَیـر ہوں

ہر ایکــــــــ اپنی ذات میں سُلطــان ِ نعت ہے


بار ِ الٰہ نے کِیــــــــــــا ذکــــــــــــر ِ نبی بَلند

وا اِس لئـے دریـــــــچــــہ ِ اِمـکان ِ نعت ہے


قُـــرآن اور حدیث میں مذکُــــور جــــو نہیں

ایســــی غُــلُوئیت کہــاں شـــایــان ِ نعت ہے


کچھ کم نہیں ہے یہ بھی کسی پُل صراط سے

یــہ جــو ہمــارے ســـامنے میـــدان ِ نعت ہے


یوں ہی برہنہ پا نہیـں چــــــلتا مَیـں رَیگ پر

گُل زار سے بھی بڑھ کے بِیابان ِ نعت ہے


رکھتا ہُوں پُھونکـــ پُھونکـــ کے مَیں اپنا ہر قدم

مجھ دست رَس میں جب سے قلم دان ِ نعت ہے


ہم سیرت ِ نبی کو جو لائیں بہ روئے کار

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


سـاحِـرؔ ! مَیں اپنی ذات کا پھر ذِکر کیوں کرُوں

جب اُن کی ذات ِ پاکـــ ہی خـود جــان ِ نعت ہے

ثروت رضوی، کیلی فورنیا، امریکہ [ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : سمعیہ ناز

یارب یہ میرا دل ہے کہ دیوانِ نعت ہے

تطہیر ہوگئی ہے یہ فیضانِ نعت ہے


پہنچوں سرِ مدینۂ عشاق ِ آرزو

پکڑا ہوا جو خیر سے دامانِ نعت ہے


دھڑکن میں گونج صلِ علیٰ کی بصد خلوص

میری ہر ایک سانس میں امکان نعت ہے


دل میں رواں رکھے ہے روانی درود کی

دل کے بہت قریب جو شریانِ نعت ہے


خود کو حرم میں دیکھ رہی ہوں بچشمِ تر

یہ معجزہ ہے یا مرا وجدانِ نعت ہے


لگتا ہے جیسے رات بسر کی مدینے میں

یہ خواب تو نہیں مرا عرفان نعت ہے


گریہ فراق عشق و جنوں ہجر اور خلش

کچھ بھی نہیں یہی میرا سامانِ نعت ہے


کیا نام ہے یہ نامِ محمد ص خدا قسم

یہ نام ہی تو شمع شبستانِ نعت ہے


آقا قبول کیجئے ثروت کا یہ کلام

گر میرا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے

تاثیر جعفری، کبیر والا، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

میرا کلام کب بھلا شایانِ نعت ہے

مجھ کو ابھی کہاں بھلا عرفانِ نعت ہے


ہر ایک آیہ، آپ کی مدحت سے سرفراز

قرآن اُس کریم کا، دیوانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات پر رحمت ترا وجود

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


آنسو بھی ہیں، جبین بھی، اور سجدہ گاہ بھی

جاری دل و دماغ پہ بارانِ نعت ہے


مجھ سے لحد میں پوچھا گیا، صرف اک سوال

کیا نامہِ اعمال میں، دیوان نعت ہے؟


پڑھتی ہے ذاتِ کبریا، تجھ پہ درودِ پاک

ثابت ہوا، درود ہی بس جانِ نعت ہے


لب پر درود، پلکوں پہ اشکوں کی ہے جھڑی

خامہ سنبھال اپنا کہ امکانِ نعت ہے


میرے لہو میں دوڑتا ہے، عشقِ مصطفےٰ

تاثیر جسم و جان میں، ایمانِ نعت ہے

تبسم پرویز، سنبھل، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : ڈاکٹر تبسم پرویز

ہاتھوں میں اس غریب کے دیوانِ نعت ہے

لطف و کرم حضورﷺکا ، فیضانِ نعت ہے


رب کی عطا سے ہر گھڑی بارانِ نعت ہے

مجھ سے سخنوروں پہ یہ احسانِ نعت ہے


کیوں کر نہ ہوتی مدحت خیر الانام جب

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


یا رب اسے نصیب ہو قربت رسول کی

فرد عمل میں جس کے بھی سامان نعت ہے


کیوں کر نہ ہم کریں گے ثنائے حبیب رب

اللہ جبکہ خود ہی ثناء خوان نعت ہے


شاعر کا یہ ہنر نہ کبھی ہوگا پائمال

جب رب ذوالجلال نگہبان نعت ہے


خورشید روز حشر نہ جھلسا سکا ہمیں

سر پر جو اپنے سایہ ء دامان نعت ہے


ہجررسول پاک میں آنکھیں ہیں اشکبار

کیفیت ایسی قلب کی دوران نعت ہے


لاکھوں سخنوروں کی زمانے میں بھیڑ ہے

حاصل کسی کسی کو قلمدان نعت ہے


عرفان نعت جس کو تبسؔم ہوا نصیب

سلطان نعت ہے وہی سلطان نعت ہے

تحسین یزدانی، ملتان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مجھ سا بشر جو صاحبِ دیوانِ نعت ہے

اللہ کا کرم ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


تفہیمِ نعت ہے جسےعرفانِ نعت ہے

حسانِ نعت ہے وہی سلمانِ نعت ہے


ممنونِ نعت ہیں میری سوچیں،مرے خیال

نطق و زبان و حرف پہ احسانِ نعت ہے


جاری رہے گا تا بہ ابد نعت کا سفر

روشن ازل سے دیدہءِ امکانِ نعت ہے


معلوم اب ہوئی ہے مجھے دل کی کیفیت

کعبہ نہیں ہے دل میرا جز دانِ نعت ہے


دائم یہاں پہ رہتا ہے موسم بہار کا

یہ گلستانِ حمد و خیابانِ نعت ہے


احرامِ عشق باندھ کے نکلا ہے ہر خیال

فکر و نظر کےسامنے میدانِ نعت ہے


ملتان کا سکونتی ہوں، خوش نصیب ہوں

یہ سر زمین شعر نگارانِ نعت ہے


تحسین ہے فقیر، فقیرانِ نعت کا

یعنی کہ اک غلامِ غلامانِ نعت ہے

تسنیم عباس قریشی، سرگودھا، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

معراجِ مصطفٰی ص مرا عنوانِ نعت ہے

قوسین کا مقام ہی شایانِ نعت ہے


خوش آمدید کہتے ہیں ہر موڑ پر نبی

منجانبِ خدا ہوا سامانِ نعت ہے


سدرہ پہ رک گئے ہیں قدم جبرائیل کے

پاپوشِ مصطفٰی ص ہمہ شاہانِ نعت ہے


ہٹتے گئے حجاب سبھی آپ کے لیے

ہر چیز کائنات کی قربانِ نعت ہے


کامل ترین اسوہ ہے خیر الانام ص کا

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت یے


تسنیم خوش نصیب ہے دونوں جہان میں

سلطانِ نعت سے ملا عرفانِ نعت ہے

تنظیم الفردوس، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : ڈاکٹر تنظیم الفردوس

مدوجذر حیات کا سامانِ نعت ہے

یہ ساری کائنات ہی امکانِ نعت ہے


قرآن ہے گواہ بلندی کے ذکر میں

کیا اس سے بھی زیادہ کوئی شانِ نعت ہے


سیرت رسولِ پاک کی پیشِ نظر رہے

یہ جانِ نعت ہے یہی ایمانِ نعت ہے


بس اک نگاہِ شوق ہے اور میری چشمِ نم

میرے لیے تو ہاں یہی سامانِ نعت ہے


میں اور لب کشا کروں ایوانِ نعت میں

حسّان شاہزداۂ ایوانِ نعت ہے


محسن، امیر اور رضا عندلیب ہیں

یہ ہند کی زمین بھی بستانِ نعت ہے


تکمیلِ دیں کا حکم ہے اس امر کی دلیل

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے

تنویر احمد تنویر، جدہ، سعودی عرب[ماخذ میں ترمیم کریں]

آںکھوں میں میری آج جو بارانِ نعت ہے

خوش ہو، سخنورا کہ یہ امکانِ نعت ہے


کس کی مجال کر سکے توصیف آپ کی

قران وہ سخن ہے جو شایانِ نعت ہے


اک اک ادا حضور کی بے مثل و لاجواب

„ ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے،،


ہر حرف عطر بیز ہے ہر لفظ مثلِ گُل

میرا ہر ایک شعر گلیستانِ نعت ہے


طیبہ کی حاضری کا ہمیں پھر ملا جو اذن

تنویر یہ تو صدقہءِ فیضانِ نعت ہے

تنویر پھول، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

حق کی عطا سے بارش فیضان نعت ہے

فکر و شعور و قلب میں ارمان نعت ہے


وہ جان کائنات ہیں , وہ شان کائنات

' ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے '


لازم ہے نعت کہنے میں حساں کی پیروی

حسان باغبان گلستان نعت ہے


قرآں کی روشنی میں کہو نعت شاہ دیں

رب کی نگہ میں بس یہی فرقان نعت ہے


ذیشان ان کی مدح سے ہر صنف شاعری

کاشانہ ء سخن میں دبستان نعت ہے


احمد بھی ان کا اسم ہے , اک نام ہے یتیم

یعنی 'الف' سے 'ی' سبھی دیوان نعت ہے


بعد از خدا بزرگ ہیں وہ , اس میں شک نہیں

حمد خدا کے بعد قلم دان نعت ہے


ممدوح وہ خدا کے ہیں, کج مج زبان ہم

لائیں کہاں سے لفظ جو شایان نعت ہے


رطب اللساں ہیں بلبلیں گلزار نعت میں

صدہا برس سے مہکا یہ بستان نعت ہے


سرور کی شاں میں اس نے 'رفعنا' ہے کہہ دیا

خود رب کائنات نگہبان نعت ہے


اس کے کرم سے پھول کھلیں نعت کے سدا

تنویر پھول ! خوب یہ گلدان نعت ہے

تنویر جمال عثمانی، مراد آباد، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

میری نظر میں صرف یہی جانِ نعت ہے

سرکار ﷺ عشق آپ کا' ایمانِ نعت ہے


نفرت' حسد' نفاق نے پائ نہیں جگہ

فکر و نظر پہ میرے یہ احسانِ نعت ہے


سچ بولنے کا وصف عطا ہو گیا جسے

اس کو ہی بس جہان میں عرفانِ نعت ہے


نسلیں مہک رہی ہیں مرے گھر کی دوستو

حاصل جو تین پشتوں سے لوبانِ نعت ہے


حسّان کعب جامی رضا سعدی اور ہم

پرنور سب کے عشق سے ایوانِ نعت ہے


ادراکِ عظمتِ شہِ لولاکﷺ ہو تو آ

سبکے لئے کہاں بھلا میدانِ نعت ہے


سیرت کا آئنہ ہو اگر سامنے تو پھر

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


حسنِ عمل بھی رکھ دے عقیدت کے ساتھ ساتھ

اے رہ روانِ نعت یہ میزانِ نعت ہے


آئے جو حرف نامِ نبیﷺ پر تو دیجے سر

یہ انکے اہلِ بیعت کا عنوانِ نعت ہے


تنویر میں بھی ہو گیا دنیا میں با وقار

فیضانِ نعت ہے یہی فیضانِ نعت ہے

جاوید صدیقی، لکھنوو، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

نسبت مرے حضور کی سامان نعت ہے

ان کا حسیں خیال ہی عنوان نعت ہے


مجھسے گناہگار کو بخشش کی دی نوید

مجھسے گناہگار پہ احسان نعت ہے


آتا ہے قبل نعت جس اک ذات کا خیال

اللّه کا حبیب ہے وہ ، جان نعت ہے


روز ازل رکھی گئی بنیاد نعت کی

کتنا بلند سوچئے ایوان نعت ہے


آیات ِ بینات بتاتی ہے یہ ہمیں

اللّه کا کلام دبستان نعت ہے


کیا لطف ہو فرشتے بھی میزان پر کہیں

تیرا نجات نامہ یہ ، دیوان نعت ہے


ہے شاعران نعت پہ انعام کبریاء

" ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے "


یاد شہ انام کی خوشبو میں ہے بسا

" جاوید" تیرا دل ہے کہ بستان نعت ہے

جاوید عادل سوہاوی، جرمنی[ماخذ میں ترمیم کریں]

عشق۔ حضور، زینت۔ سامان۔ نعت ہے

روشن چراغ ۔ بخت بفیضان۔ نعت ہے


ہر عالم۔ نمو میں ہے خوشبو حضور کی

"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔ نعت ہے"


سب عاشقان۔ صورت ۔ محمود کے لئے

سیرت شہ۔ عرب کی دبستان نعت ہے


گلہائے باغ۔ مدح و ثنا ہوں جو رو برو

تو مثل۔۔ عندلیب سخن دان۔ نعت ہے


طیبہ سے لامکان تلک جو ہے فاصلہ

ہر گام مصطفےٰ کا گلستان۔ نعت ہے


سر پر ہے لخت۔ ابر۔عنایات۔ وحدہ

اپنےمزاج۔ دل کو جو میلان۔ نعت ہے


سجدہ ہے کربلا کا بھی حسن۔ ثنا گری

اقصیٰ میں وہ نماز بھی جانان۔ نعت ہے


باغ۔ ۔ شب۔ فلک ہے ضیا بار اس لئے

تاروں کا ہر ہجوم خیابان ۔ نعت ہے


والشمس کا ہو نور کہ واللیل کی ادا

صلِ علیٰ کا حسن ہی شایان۔ نعت ہے


ہر سورت ایک پھول ہے ہراک حدیث شاخ

یہ کنز۔ رنگ وبو ہے جو عرفان۔ نعت ہے


آواز۔کن فکاں ہے خصائص کا زمزمہ

گویا ظہور۔ہست بھی اعلان۔ نعت ہے


وہ سلسبیل و کوثر و تسنیم۔ خلد سب

مل جائیں تو سمجھنا کہ احسان۔ نعت ہے

جمشید ساحل، بریلی شریف ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

جانِ بہار اور گلستانِ نعت ہے

بخشش کے واسطے مرے وجدانِ نعت ہے


شاہِ عرب کی مجھ کو گدائی جو مل گئی

اللہ کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک خدا گواہ

ہـر شعبئہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


یوں تو بہت ہیں نعت کے دیوان دہر میں

یکتا مگر رضا کا ہی دیوانِ نعت ہے


دنیا کے گوشہ گوشہ میں جس سمت دیکھئے

چھایا ہوا ہر ایک سو بارانِ نعت ہے


ایماں سے ہاتھ دھونا نہ پڑ جاے اس لئے

رکھیے قدم کو پھونک کے میدانِ نعت ہے


دیوانگانِ شاہِ دو عالم کی ہے صدا

دل چیز کیا ہے جان بھی قربانِ نعت ہے


ساحل گناہ گار سیہ کار ہے مگر

مداحِ مصطفٰے ہے یہ احسانِ نعت ہے

جمیل حیدر عقیل، نیویارک، امریکا[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : عباس عدیم قریشی

موسم ہے دل کا جاں فزا امکان نعت ہے

میری سخنوری پہ بھی فیضان نعت ہے


لفظوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں رہی

ان کی ولائے پاک ہی سامان نعت ہے


ایسے ہی تو کھلی نہیں رہ پلِ صراط کی

ہاتھوں میں اس فقیر کے دامان نعت ہے


کیسے نہ نعت پاک ہو دل سے مرے کشید

رگ رگ میں جب رچا بسا ایمان نعت ہے


قندیل جب سے ہو گئی روشن درود کی

سب حسرتیں ہی مٹ گئیں، ارمان نعت ہے


ایسا چلا ہے دور درود و سلام کا

ہونٹوں پہ قدسیوں کے بھی گردان نعت ہے


اے دل اسی میں ڈوبنا تم احترام سے

جس ساگرِ خلوص میں ہیجان نعت ہے

جنید نسیم، راولپنڈی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : جنید نسیم سیٹھی

جب سے خیال و فکر کو میلانِ نعت ہے

ہر سانس ایک شعر بہ عنوانِ نعت ہے


مولود ہو بیانِ سراپا ہو، خُلق ہو

قائم انھی سے رونقِ بُستانِ نعت ہے


ہر رُخ حیاتِ پاک کا پیشِ نظر رہے

سیرت میں گام گام پہ سامانِ نعت ہے


نے قدرتِ کلام نہ فہمِ سخن وری

سلطانِ انبیا کا ادب ، جانِ نعت ہے


صحنِ بیان و ذکر سے باہر تو دیکھیے

"ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر سمت کھلتے رہتے ہیں گُل ھائے رنگ رنگ

میرا وطن بھی گویا گُلستانِ نعت ہے


معبود! مجھکو نعت کا عرفان کر عطا

وہ لفظ ہو عطا کہ جو شایانِ نعت ہے


مجھ ایسا بے ہُنر بھی ہوا معتبر جنید

میرا کمال کیا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے

جہانداد منظر القادری، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

دعویٰ ذرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے

حاضر جہاں پہ ہوں مَیں وہ ایوانِ نعت ہے


ممدوحِ ذات حق کی ہے مدحت کا مرحلہ

بے قیل و قال محض یہ احسانِ نعت ہے


رب کا کلامِ نُور ہے تعبیرِ حُسنِ کُل

نعتوں کی سلطنت کا وہ سُلطانِ نعت ہے


عشقِ نبی میں ڈوب کے دیکھو تو تب لگے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


لے کر چلا ہُوں نعت کی فردِ عمل کو ساتھ

میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے


آقا کے نقشِ نعلِ عطا زیبِ حرف ہیں

منظَر بھی آج صاحبِ دیوانِ نعت ہے

جوہر قدوسی، کشمیر، بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : غلام فرید واصل

ارض وسماء میں چار سو فیضانِ نعت ہے

فرقان لا یزال ہی شایانِ نعت ہے


مدح و ثنائے خواجہ ہو دوران نیم شب

اشک سحر گہی سے ہی عرفان نعت ہے


شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


عشق نبی فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں

یہ میرا جذب و کیف بھی احسان نعت ہے


میں بے ہنر ہوں تاب سخن کی طلب مجھے

ارمان کوئی ہے تو بس ارمان نعت ہے

حاتم رضا علیمی، سیتا مڑھی,بہار، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

سینے میں میرے حسرت و ارمانِ نعت ہے

باغِ جناں سے اعلی خیابانِ نعت ہے


لکھنے کی نعت مجھ کو سعادت نصیب ہو

سرکار ! عشق آپ کا ایمانِ نعت ہے


جا ہ وحشم کی مجھ کو ضرورت نہیں حضور

چشمِ زدن میں بارشِ فیضانِ نعت ہے


خیر البشر کی مدح کروں میری کیا مجال

فضلِ خدا سے مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


خلدِ بریں میں جانے کی خواہش نہیں مجھے

جب خود ہی میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


دنیا کے خطے خطے سے آتی ہے یہ صدا

,,ہر شعبہِ حیا ت میں امکا نِ نعت ہے,,


نعت رسول لکھنے میں حاتم کی موت ہو

تا زیست کے لیے یہی فرحانِ نعت ہے

حسان المصطفٰی ، سیالکوٹ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یونہی نہیں یہ رفعتِ عنوانِ نعت ہے

سب حمد جس کی ہے وہی نگرانِ نعت ہے


سب امتیں پڑھیں گی وہاں نعتِ مصطفیٰ

میدانِ حشر اصل میں میدانِ نعت ہے


کچھ اشکِ بے مراد ہیں آنکھوں میں موجزن

میں ہوں، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے


سائے میں جس کے میرے سبھی عیب چھپ گئے

خوش بخت ہوں، ملا مجھے دامانِ نعت ہے


اُسکی ثنا ہی اول و آخر ہے دوستو

اِسکے سوا ہے جو بھی، وہ دورانِ نعت ہے


غزلوں میں جو بھی آیا گماں میں وہ کہہ چُکا

ہٗشیار باش! رُو بقلمدانِ نعت ہے


ہر شعر پُل صراط ہے، محتاط ہو کے چل

ہر نعت خود کہےتٗجھے عرفانِ نعت ہے


ہر دور کی رگوں میں رواں اُنکا ذکر ہے

گویا زماں زماں نہیں، دیوانِ نعت ہے


اُمیدِ وصل، اشک، غمِ ہجر، اور اشک

یہ زادِ راہِ عشق ہے، سامانِ نعت ہے


یہ نام تھا، دعا تھی کہ والد کا خواب تھا

جِسکے سبب ہی آج یہ حسانِؔ نعت ہے

حسن رضا حسانی ، کلاسوالہ سیالکوٹ ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

حبِّ رسول سے سجا دامانِ نعت ہے

توصیفِ مصطفیٰ ہی فقط شانِ نعت ہے


لفظوں کے موتی اور نکھرتے ہیں نعت سے

جو کچھ ہے عشق میں لکھا وہ جانِ نعت ہے


ہے تیز دھار سیف پہ چلنے کی مثل نعت

اپنا عقیدہ اصل میں پہچانِ نعت ہے


اب ذہن کا جہان معطر ہوا مرا

وہ اس لیے کہ دوستو فیضانِ نعت ہے


رب نے بھی مصطفیٰ کا ذکر خوب ہے کیا

ہر معجزہ حضور کا شایانِ نعت ہے


مجھ کو سلیقہ آ گیا مدحت سرائی کا

اچھا سخن طراز ہوں احسانِ نعت ہے


محشر کے دن ذرا بھی نہ گھبرائے گا حسن

دیکھو تو اس کے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


محمد حسن رضا حسانی، کلاس والہ سیالکوٹ، پاکستان

حسن علی خاتم، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کچھ پاسِ آرزو ہے، نہ عرفانِ نعت ہے

اک شوق ہے سو وہ بھی نہ شایانِ نعت ہے


اتنا سا دل ہے اور سرِ میدانِ نعت ہے

حاشا یہ حوصلہ نہیں، فیضانِ نعت ہے


کیا کیا نہ زیرِ سایہِ دامانِ نعت ہے؟

ہر شے پہ کائنات میں احسانِ نعت ہے


جب لفظِ کن ہی مطلعِ دیوانِ نعت ہے

پھر کیا ہے جو نہ داخلِ دامانِ نعت ہے؟


مخصوص شاعری سے نہیں نعت کا عمل

سنت کو جو بھی تھام لے، حسانِ نعت ہے


جو اشک ان کی یاد میں نکلے، سو شعر ہے

جس دل میں بھی وہ ہیں، سو دبستانِ نعت ہے


شعر و سخن میں اس کو مقید نہ جانیے

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


تعریف ہے خدا کی، نبی کی ہی کیوں نہ ہو

یہ حمد ہے اگرچہ بہ عنوانِ نعت ہے


محشر کے واسطے یہ حوالہ بہت ہے دوست

خاتم فقیرِ راہِ فقیرانِ نعت ہے

حسنین الثقلین، مدینہ منورہ، سعودی عرب[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید محمّد حسنین الثقلین

پَل پَل جو پَل رہا ہے، وہ ارمانِ نعت ہے

دل میں جو جاوداں ہے، وہ فیضانِ نعت ہے


کہتے ہوۓ غزل بھی، مجھے دھیانِ نعت ہے

سچ پوچھیے تو یہ مِرا پیمانِ نعت ہے


وَالَّیل، وَالضُّحی، کہیں وَالفَجر کا بیاں

کیسا حسیں سجا ہُوا قرآنِ نعت ہے


سمجھا ہے کون رُتبۂ مرسل بجز خُدا

حاصل کسے بھلا ہُوا عرفانِ نعت ہے


لازم ہے ہم نماز میں اُن پر پڑھیں درود

ثابت ہوا نماز بھی سامانِ نعت ہے


میرے خمیر میں ہے وِلاۓ نبی گُندھی

اِس واسطے سرشت میں میلانِ نعت ہے


ہوش و خرد کو دل کے مَیں رکھتا ہوں آس پاس

اِس واسطے کہ سامنے ایوانِ نعت ہے


"صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے"

”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“


حسنی کو مرحبا کہا رضوانِ خُلد نے

دیکھا کہ ہاتھ میں مِرے دیوانِ نعت ہے

حسنین اکبر، دوبئی[ماخذ میں ترمیم کریں]

اُمی لـقب سے عَلَّمَ بُرہانِ نعت ہے

اقرأ باســم ربـك اعلانِ نعت ہے

وہ پہلا نعت گو وہی سلطانِ نعت ہے

ہر نعت گو رعیّتِ عمرانِ ع نعت ہے

بنیادِ مدحِ سید الابرار ص ہے درود

فرمانِ کردگار میں فرمانِ نعت ہے

شق القمر دو باٹ کی صورت بٹے ہوئے

دستِ الہُٰ العدل میں میزانِ نعت ہے

پیغمبرِ ص حیات ہیں سرکارِ ص دوجہاں

"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"

جس نعت میں علی ع و محمد ص کی بات ہو

وہ کائناتِ نعت میں سلمانِ ع نعت ہے

اظہارِ کُل صفاتِ الہٰی انہی ص سے ہے

اب اس کے بعد جو بھی ہے میدانِ نعت ہے

حرفِ دعا ہے آیہءِخیرالجزا کے بعد

مجھ کو جزا کی مد میں بھی ارمانِ نعت ہے

دنیا ادب سے لیتی ہے جو نعت گو کا نام

 کوئی ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے

پہلی اذانِ اسمِ محمد ص تھی عرش پر

دراصل کعبہ دوسرا ایوانِ نعت ہے

قرآں کہو صحیفہ کہو کوئی نام دو

دیوانا جانتا ہے یہ دیوانِ نعت ہے

دل سے دعائیں دیجیے مدحِ رسول ص پر

خاموشی اس مقام پہ کفرانِ نعت ہے

یہ داستان عشق ہے کارِ جہاں نہ جان

لکھنے سے پہلے یہ بتا،ایمانِ نعت ہے؟

طیبہ سے ہوکے جاتے ہیں ہم سوئے کربلا

ہر شاہراہِ عشق خیابانِ نعت ہے

اکبر میں اسـکے ہاتھ پہ بیعت ابھی کروں

جس کو بھی اس زمانے میں عرفانِ نعت ہے

حسنین شہزاد، کوٹ عبد الحکیم ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

سُلگا ہؤا خیال میں لوبانِ نعت ہے

خوش ہیں قلم دوات کہ امکانِ نعت ہے


باب السّلام ، بابِ امان و سکون ہے

بابِ بقیع ، باب ِ خیابانِ نعت ہے


عُشّاق جانتے ہیں مقام ِ مواجہہ

عُشّاق یعنی وہ جنہیں عرفانِ نعت ہے


چشمِ خیال ، بَن کے دِوانی کبوتری

محوِ طواف ِ روضہ ءِ سلطانِ نعت ہے


تعلیم ہو، سفر ہو، تجارت ہو ، عدل ہو

" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


حسنین عاقب، مہاراشٹر ، بھارت [ماخذ میں ترمیم کریں]

سیرت نبی کی، ذکرِ نبی جانِ نعت ہے

میں نعت گو ہوں، مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


آدابِ نعت گوئی قلم کو سکھائیے

اور یہ خیال رکھیے، یہ میدانِ نعت ہے


اذہان جن کے مہکے عقیدت کے نور سے

حاصل انہی کو ہوسکا وجدانِ نعت ہے


اصنافِ شعر جتنی ہیں، اپنی جگہ مگر

ہر ایک صنفِ شعر تو قربانِ نعت ہے


لفظوں کے جوڑ توڑ سے نسبت نہیں اسے

عشقِ رسول ہی سے تو پہچانِ نعت ہے


اے کاش! میری نعت سے خوش ہوکے ایک دن

کہہ دیں یہ خود نبی کہ تو خاقانِ نعت ہے


عاقب نے جس کا نام رکھا خامہ سجدہ ریز

باعث نجات کا مرا دیوانِ نعت ہے

حسیب آرزو، بکسر،بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ دہر کیا ہے“ واللہ گلستان نعت ہے

ہر شے پہ کاٸنات کی، فیضان نعت ہے


ظلم و ستم کی دھوپ بگاڑے گی کچھ نہیں

جب تک ہمارے سر پہ خیابان نعت ہے


محفوظ تو خزاٶں سے ہر وقت ہے وہی

سایہ فگن یہ جس پہ بھی باران نعت ہے


کیسے مٹے گا تذکرہ خیرالانام کا

پروردگار جب کہ نگہبان نعت ہے


حج کی سعادتیں ہوں یا صوم و صلوة ہوں

“ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے“


شاعر کا ہونا عشق میں کچھ شرط تو نہیں

یہ عاشقِ رسول بھی مردان نعت ہے


جاکر پڑھوں میں شہر مدینہ میں با ادب

اک،،آرزو کے دل میں بھی ارمان نعت ہے

حسیب جمال ۔ یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے[ماخذ میں ترمیم کریں]

شاعر : حسیب جمال ، راولپنڈی


یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے

لیکن کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے ۔

لغزش سے ہو نہ جائے سبھی کچھ ہی رائگاں

احباب! احتیاط، یہ میدانِ نعت ہے


اشکوں کے ساتھ جانبِ طیبہ میں چل دیا

زنبیلِ چشم میں یہی سامانِ نعت ہے


پہلے نبی کے عشق سے دل کو سجاو تم

میں نے سنا ہے دوستو یہ کانِ نعت ہے


لکھنے لگا جو نعت تو محسوس یہ ہوا

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


قرآن کا محافظِ مطلق ہے خود خدا

یعنی کہ خود خدا بھی نگہبانِ نعت ہے


مل کر درود بھیجیے خیر الانام پر

لائق یہی ہے اور یہی شایانِ نعت ہے


کھل کر جمال کیجیے توصیفِ مصطفیٰ

توصیفِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے

حسین امجد، اٹک، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کب میر ے پاس آپ کے شایانِ نعت ہے

میر ے حضور دل میں یہ ارمانِ نعت ہے


قرآں بیاں کرتا ہے ، توصیف آپ کی

یعنی قرآن ِ پاک ہی شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


میر ے حضور آپ کا مدحت نگار ہوں

میر ے حضور مجھ پہ یہ ' احسان ِنعت ہے


میں تٙو حضور سایہء رحمت میں آگیا

صد شکر میر ے پاس بھی دیوان ِنعت ہے


میر ے حضور ایسا کوئی شعر ہو عطا

محفل میِں ، میٙں پڑھوں تو کہیں جانِ نعت ہے


ایسی فضا حضور مری مستقل رہے

جیسی مر ے جضور یہ دورانِ نعت ہے


میر ے حضور حشر میں رسوا نہیں ہوا

میر ے حضور محض یہ فیضانِِ نعت ہے


امجد عروجِ نعت سے قائم ہے کائنات

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "

حسین شاہ زاد، دوبئی[ماخذ میں ترمیم کریں]

چھائی ہوئی کچھ ایسے بہارانِ نعت ہے

لب پر درود دل میں گلستانِ نعت ہے


قرآن جس کی شان میں دیوانِ نعت ہے

اس دلربا کی دُھن مرا سامانِ نعت ہے


ساون کچھ ایسے حُسن سے آیا ہے اب کی بار

اشکوں کے جلترنگ میں بارانِ نعت ہے


فصلِ ربیع واہ تری دل ربائیاں

گھر گھر میں ذکرِ الفتِ جانانِ نعت ہے


کون و مکان ان کی تمنّا میں ہیں مگن

اور ان کے دھیان میں، جو ثنا خوانِ نعت ہے


اعزاز میں جو ان کے سجی ہے یہ کائنات

پیرایۂِ لطیف میں اعلانِ نعت ہے


صد مرحبا جو اشک بہے ان کے عشق میں

گریہ اس عقل پر جو گریزانِ نعت ہے


فیضِ نگاہِ شوق سے منطق پکار اٹھی

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


وجدان و قول و فعل پہ ہی منطبق نہیں

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ذوقِ سخن عطائے خداوند ہے مگر

کیا بات اس عطا کی جو وجدانِ نعت ہے


ہو آیا دل مدینہ سے جب رہ گئے قدم

کیا کم یہ کم نصیبوں پہ احسانِ نعت ہے؟


آفاق دیکھ، نفس کو دیکھ، ارتقاء کو دیکھ

ہر متنِ کائنات پہ عنوانِ نعت ہے


دنیا کے بادشاہوں کا ہو کیوں نیاز مند

شہ زادٓ خاکِ پائے ثنا خوانِ نعت ہے


پروانہ وار جلنے کو آیا ہے شاہ زادٓ

وہ بو الحسن کی شمعِ شبستانِ نعت ہے

حنیف نازش، گوجرانوالہ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

سر پر ہمارے سایہ ٕ ذی شانِ نعت ہے

حاصل خُدا کے فضل سے ایقانِ نعت ہے

رکھتی ہے مُجھ کو نعت رہِ مُستقیم پر

مُجھ پر، مِری حیات پر احسانِ نعت ہے

جب لب سے اُن کا نام لیا، نعت ہو گٸی

نادان ہے وہ شخص جو انجانِ نعت ہے

صَلُّوا وَسَلِمُوا کی حلاوت کو پا کے دیکھ

غافل! درودِ مُصطفوی جانِ نعت ہے

بتلا رہی ہے آیتِ میثاق صاف صاف

مہکا ہُوا ازل سے گُلستانِ نعت ہے

ہر داٸرے کا مرکزی نُکتہ نبی کی ذات

”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“

نازش لواۓ حمد ہو، محمود کا مقام

میدانِ حشر گویا کہ میدانِ نعت ہے

خالد خان، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد خالد خان

طاری کچھ ایسا موسمِ وجدانِ نعت ہے

ہر دل مثیلِ طائرِ عرفانِ نعت ہے


جلوے ہیں کن فکاں کے فقط آپﷺ کے طفیل

سارے جہاں پہ رحمتِ بارانِ نعت ہے


توبہ ابوالبشر کی میں نسبت تھی آپﷺ کی

جاری ازل سے ہست میں فیضانِ نعت ہے


معراج سے ملا تھا جو اک تحفۂِ نماز

دراصل وہ نماز بھی پیمانِ نعت ہے


تاثیر وردِ صلِّ علیٰ کی تو دیکھیے

درماں دلِ فگار کا دامانِ نعت ہے


ذکرِ درودِ پاک ہے مقبول ہر گھڑی

کیسا ہم عاصیوں پہ یہ احسانِ نعت ہے


مدحت تریﷺ بیاں کرے خالدؔ تمام عمر

خلقِ خدا کہے کہ سخندانِ نعت ہے

خالد رومی، راولپنڈی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ھر ایک شعر آیت قرآن نعت ہے

جو حصر سے ورا ہے , وہ احسان نعت ہے


انسان خوش نصیب بفیضان نعت ہے

کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوان نعت ہے


مخصوص شاعروں سے, کہاں خوان نعت ہے

سارے جہاں پہ سایہء دامان نعت ہے


 کوئی نبی نہ سرور جیش رسل ہوا

ہاں ! مصطفی' کی ذات, جو شایان نعت ہے


نکتہ کھلا یہ آیہء صلوا علیہ سے

یعنی اس امر میں چھپا فرمان نعت ہے


کس کا گزر ہے ناحیہء حق میں اسطرح

شایاں مرے حضور کو عنوان نعت ہے


شاہ جہاں, امام صور, خواجہء ازل

ختم رسل ہی زینت ایوان نعت ہے


کیسی غرض مطاعم فردوس آز سے

درویش کو عزیز نمکدان نعت ہے


تیرہ بساط زیست تھی, پر نور ہو گئی

عشق رسول شمع شبستان نعت ہے


یہ تذکرہ نہیں ہے زلیخاۓ مصر کا

ھشیار ! کوۓ یوسف کنعان نعت ہے  !!


داراۓ شعر بھی ہو یہاں یہاں ہوش باختہ

اللہ رے کیا ہی شوکت ایوان نعت ہے


ھم کشتگان چشم ولا کو خوشا نصیب

اسباب حمد ہیں, کہیں سامان نعت ہے


توفیق دے خدا تو ملے گنج آگہی

عالم سے بڑھ کے دولت عرفان نعت ہے


اس دور افتراق و تعصب گزیدہ میں

درکار ھر بشر کو ہی درمان نعت ہے


اخلاص جاں, نہ فہم و تدبر, نہ سوز دل

لائق رفو کے چاک گریبان نعت ہے


خیرات فکر و فہم اسے بخشئیے حضور !

رومی عجم میں آپ کا حسان نعت ہے

خالد عبداللہ اشرفی، مہاراشٹرا، بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیشکش : غلام ربانی فارح مظفرپوری


یہ زندگانی اصل میں عنوان نعت ہے

ہرلمحہ اس کا صفحۂ دیوان نعت ہے


دامن میں اپنے صدقۂ حسان نعت ہے

عزت سے جی رہے ہیں یہ احسان نعت ہے


لب وقف ہیں درود پیمبر کے واسطے

صدشکر رب کہ دل ہوا قربانِ نعت ہے


ہراک زبان ولہجہ میں موجود صنف نعت

کتنا وسیع دوستو دامانِ نعت ہے


گل ، گُلسِتاں چَرِند وپَرِند، انس و جن ،ملک

جسکو بھی دیکھیے ، لیے ارمان نعت ہے


خون جگر سیاہی ، دل مضطرب ورق

لکھنے کے واسطے یہی سامان نعت ہے


حاضر. جو قلب رہتا ہے ان کے حضورمیں

سب یہ کرم ہے فیض ہے وجدان نعت ہے


یہ جو لحد میں پھیلا اجالا ہے دوستو

فضل خدا ۓ پاک ہے ، برھان نعت ہے


جی بھر کے باغ خلد میں خالد پڑھیں گے نعت

کہتے ہیں خلد جس کو وہ ایوانِ نعت ہے

سید خالد عبداللہ اشرفی اورنگ آبادی، بھارت

خالد عرفان، نیو یارک، امریکہ[ماخذ میں ترمیم کریں]

مت بے وضو اٹھا نا ، قلم دانِ نعت ہے

دیوانو ! ہوشیار ! یہ دیوانِ نعت ہے


میں فرض پڑھ کے لکھتا ہوں اپنے نبی کی نعت

جائے نماز ہی ، مرا جزدان ِ نعت ہے


خوں کا بہاؤ، دل کی دھڑک ، آنکھ کی جھپک

میرا توانگ انگ ثناخوانِ نعت ہے


مدحت کے پھول پھیلے ہوئے ہیں زمین پر

اب آسماں بھی دیدہ ء حیرانِ نعت ہے


کاغذ ، قلم ، دوات ہیں میرے شریک عشق

دنیا سمجھ رہی ہے یہ سامان ِ نعت ہے


ممکن ہے نعت گو کو ملے نعت کا صلہ

میدانِ حشر اصل میں میدان نعت ہے


دو چار لفظ لکھ کے ثنائے رسول میں

ہم نے سمجھ لیا ہمیں عرفان ِ نعت ہے


اکثر یہ سوچتا ہوں گناہوں کے بعد میں

کیا میرا عشق لائق ِ شایان ِ نعت ہے ؟


اس راہ میں کروڑ پتی بن گئے ہیں لوگ

ہر نعت خواں پہ رحمت ِ باران ِ نعت ہے

خادم رسول عینی، اڈیسہ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید خادم رسول عینی

لیل و نہار پر مرے احسان نعت ہے

میری حیات نور پہ جزدان نعت ہے


بچے ہوں یا ضعیف سبھی نعت پڑھتے ہیں

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


اک کنکری نے کلمہ پڑھا اور یہ کہا

ہر شئ کے دل میں دیکھئے ارمان نعت ہے


توریت میں زبور میں بھی ان کی ہے ثنا

قرآں مگر سدا کے لیے جان نعت ہے


وہ نظم ہو غزل ہو کہ دوہا کہ ہائیکو

بس ان کا ذکر ہو یہی پہچان نعت ہے


سیرت نبی کی لکھ تو سراپا بھی ان کا لکھ

ان دونوں کو ملا دے یہ ریان نعت ہے


سرکار کے وسیلے سے مقبول ہوگئ

آدم کی" عینی" توبہ بھی برہان نعت ہے

خاور اسد، رحیم یار خان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے

یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے


وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے

میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے


جز مدحِ شاہ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے

خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے


اس کے ہر ایک لفظ پہ افسوس کیجئے

جس کی بیاض بے سرو سامانِ نعت ہے


تشنہ لبی کو بوسہِ نعلین چاہئے

دل کی تپش کا توڑ یہ بارانِ نعت ہے


احساں ہے عالمین پہ میلادِ مصطفی

یہ کائنات اصل میں ایوانِ نعت ہے


رحمت ہیں وہ تمام جہانوں کے واسطے

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


مجھ ایسے بے ہنر کو پنہ مل گئی اسد

کتنی کشادگی سرِ دامانِ نعت ہے

خرم جمیل، میلسی[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر اشک میری آنکھ کا سامان ِ نعت یے

یہ حال میرا دیکھیئے دورانِ نعت ہے


پڑھتے. رہو درود یہی راستہ تو یے

ذکر ِ رسول پاک ہی امکانِ نعت یے


کرتے ہو ہر نماز میں تعریف مصطفیٰ

تم خوش نصیب ہو تمھیں عرفانِ نعت ہے


ہر لفظ میرے سامنے رکھا ہوا تو ہے

بس آیہِ قرآن ہی. شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


تعریف ہر غلام کرے اس غلام کی

عشقِ بلال اصل میں میزان نعت ہے


اس کا یقین رشک کے قابل ہے اے جمیل

جو کہہ رہا ہے شعر کو دیوان نعت ہے


ہم میلسی کے لوگ عقیدت مزاج ہیں

خرم ! یہ شہر شہرِ غلامانِ نعت ہے

خلیل الرحمان، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد خلیل الرحمان

کس کا کلام ہو سکا شایان ِ نعت ہے

قرآن کا نزول ہی سامان ِ نعت ہے


تخلیق ِ کائنات کا سرکارؐ ہیں سبب

“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”


ذکر ِ نبیؐ کے واسطے رزق ِ سُخن کھُلا

ہر دل بنا جبھی تو قلمدان ِ نعت ہے


صلّ ِ عَلٰی کے ورد سے دل کو ملے قرار

شاید اسی لیے ہی یہ سُلطان ِ نعت ہے


کرتا ہے روز و شب وُہی توصیف ِ مُصطفٰےؐ

جس شخص کو عطا ہوا عِرفان ِ نعت ہے


ملتے ہیں لوگ پیار سے مُجھ سے غریب کو

عزت کا آسرا مِرا فیضان ِ نعت ہے


تُو روضۂ ِ رسولؐ کے قابل نہ تھا خلیلؔ

تُجھ پر ہُوا ضرور وُہ احسان ِ نعت ہے

خورشید رضوی ، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ گلستانِ نغمہِ سرایانِ نعت ہے

سرگرم ہر روش پہ دبستانِ نعت ہے


ہے طبع سب کی ایک ہی آہنگ میں رواں

یکساں تمام بزم میں فیضانِ نعت ہے


غںچے چٹک رہے ہیں نکاتِ سخن کے آج

سمجھے گا کچھ وہی جسے عرفانِ نعت ہے


مضموں نکالنا ہیں ستاروں کو جوڑ کر

پھیلا ہوا فلک پہ یہ سامانِ نعت ہے


جو رنگ سوچئے سو ہے اس نقش سے فرو

جو حرف دیکھیےسو پشیمانِ نعت ہے


وہ فکر لائیے کہ ہو ہم دوشِ بامِ عرش

وہ لفظ ڈھونڈیے کہ جو شایانِ نعت ہے


ہر بات میں ہے اُسوہِء کامل نبیؐ کی ذات

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر موجہِء ہوا میں ہے خوشبو درود کی

ہر ذرّہ رُو بہ راہِ درخشانِ نعت ہے


ہے ہر شجر اُٹھائے ہوئے مدح کا عٙلٙم

ہر برگ پہ لکھا ہوا عُنوانِ نعت ہے


ہے یاد آسماں کو وہ شقُ القمر کی رات

باندھے ہوئے حضورؐ سے پیمانِ نعت ہے


خورشید ! آفتابِ قیامت کے رُو برو

کافی مجھے یہ سایہِ دامانِ نعت ہے۔

خورشید بیک میلسوی، میلسی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ: یاسر عباس فراز

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے

وسعت پذیر, وسعتِ دامانِ نعت ہے


عرفانِ نعت گوئی بھی فیضانِ نعت ہے

سچ پوچھیے تو مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


بے مایہِ سخن ہوں مجھے اس کا غم نہیں

اخلاصِ بے ریا , سرو سامانِ نعت ہے


ہر لمحہ دھڑکنوں میں ہے صلِ علیٰ کی گونج

یہ میرا دل نہیں , کوئی ایوانِ نعت ہے


ہر سُو سجی ہوئی ہیں درودوں کی محفلیں

یہ ساری کائنات گلستانِ نعت ہے


دیتا نہیں ہے مجھ کو بھٹکنے ترا خیال

آداب آشنا مرا وجدانِ نعت ہے


رکھا ہے طاقِ صدر میں اس نے سنبھال کر

وہ جانتا ہے دل مرا دیوانِ نعت ہے


رکھتا ہے بے نیاز مجھے مدحِ غیر سے

گویا مرا قلم ہی نگہبانِ نعت ہے


ہو کیوں نہ بے مثال مرا حسنِ انتخاب

خورشید حرف حرف ہی مرجانِ نعت ہے

دانش حسین دانش، کولکتہ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

شہرِ تخیلات میں عرفانِ نعت ہے

دل میں مرے مکین جو سلطانِؐ نعت ہے


خیراتِ فکر اس سے ہی لیتا ہوں بار بار

عمرانؑ کا جو گھر مرے دیوانِ نعت ہے


ہر رجس سے ہو پاک ہر اک لفظ میں ہو عشق

اجزائے نعت ہے یہی ارکانِ نعت ہے


چکھ رکھا ہے لعابِ محمدؐ اسی لئے

مولا علیؑ بتائیں گے کیا شانِ نعت ہے


نوکِ سناں پہ ہوں کہ ہوں شبیرؑ زیرِ تیغ

حمدِ خدا کہیں کہیں عنوانِ نعت ہے


ذکرِ رسولِؐ پاک ہے سانسوں سے متصل

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


تو بابِ شہرِ علمؑ سے دانشؔ ہے منسلک

جب تک کہ تیرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے

دلاور علی آزر، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

پھیلا ہوا بہت سر و سامانِ نعت ہے

وسعت پزیر عالمِ امکانِ نعت ہے

مجھ میں بسی ہوئی ہے مہک مدحِ شاہ کی

مجھ میں کِھلا ہوا گُلِ ریحانِ نعت ہے

اِس لوح پر حضور کی مدحت لکھوں گا میں

یہ میرا دل نہیں ہے یہ جزدانِ نعت ہے

باندھا گیا ہے عشق کی ڈوری سے لفظ کو

مشکل ہے توڑنا اِسے پیمانِ نعت ہے

ہر کارِ خیر اُن سے عبارت ہے دہر میں

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے

پہچانتے ہیں مجھ کو جو دنیا میں چند لوگ

یہ اور کچھ نہیں ہے یہ فیضانِ نعت ہے

ورنہ کہاں یہ ہیچ ہنر اور کہاں یہ ظرف

میں نعت لکھ رہا ہوں تو احسانِ نعت ہے

لفظوں سے نورِ عشق جھلکتا ہے سر بہ سر

میری غزل کے رنگ میں اعلانِ نعت ہے

اُس کو بیان شعر میں کیسے کرے کوئی

وہ کیفیت جو لفظ کی دورانِ نعت ہے

حکمت کی سب حدیں ہیں اِسی آئنے میں ضم

رحمت سمیٹتا ہوا دامانِ نعت ہے

آزر میں پوچھتا ہوں سبھی ناعتین سے

میرا لکھا ہوا بھی کیا شایانِ نعت ہے

ذوالفقار علی دانش ، حسن ابدال، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

آثار ہیں کہ آمدِ بارانِ نعت ہے

دامن پسارییے شبِ فیضانِ نعت ہے


جس کو شعورِ خواہش و ارمانِ نعت ہے

وہ جان لے کہ اُس پہ یہ احسانِ نعت ہے


ہر سمت آج کل یہ جو رجحانِ نعت ہے

سرکار کا کرم ہے یہ فیضانِ نعت ہے


جس شہر میں بھی نعتِ محمد کہی گئی

وہ شہر از قبیلِ خیابانِ نعت ہے

حسۤان کے قدوم کی جو خاک بھی نہیں

کیسے یہ مان لیں کہ وہ حسّانِ نعت ہے ؟


انسان ہوں ، مَلَک ہوں ، کہ کنکر ، شجر ، حجر

دیکھو جسے ، شریکِ دبستانِ نعت ہے


مدحت میں صرف میرا قلم ہی نہیں رواں

میرا رُواں رُواں بھی گُل افشانِ نعت ہے


زیبا ہے بس یہ حضرتِ حسّان کے لیے

ہر گز نہ کہیے کوئی بھی سلطانِ نعت ہے


گر نعت کہنے کا ہے ارادہ تو جانیے

" ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


جو سیکھنا ہو سیکھیے قرآں سے طرزِ نعت

ہر لفظ اس صحیفے کا شایانِ نعت ہے


صد فخر ہوں میں ناعتِ سرکارِ نامدار

صد شکر میری طبع میں میلانِ نعت ہے


قربانِ مدحِ سرورِ عالم ہے جاں مری

سب کچھ مرا فدائے فدایانِ نعت ہے


رکھ پھونک پھونک کر رہِ مدحت میں ہر قدم

حدِّ ادب رہے کہ یہ میزانِ نعت ہے


اے ساکنانِ کُوچہِ امکان دیکھنا

اِمشب بھی کیا کہیں کوئی امکانِ نعت ہے ؟؟؟


شانِ رسول فہمِ بشر سے ہے ماورا

مت سوچیے کہ آپ کو عرفانِ نعت ہے


پہلی صدی ہو یا کہ ہو وہ آخری صدی

حسّان ہی امیرِ جوانانِ نعت ہے


حمدِ خدا کے دائرے کی حد سے اِس طرف

جتنا بھی جس قدر بھی ہے ، میدانِ نعت ہے


کتنا کرم کیا ہے رسالت مآب نے

دانش بھی ریزہ چینِ گدایانِ نعت ہے


دانش ! رموزِ شاعری ہیں قلب و جسم و روح

آقائے دو جہاں کا ادب جانِ نعت ہے


اُڑتا پھرے ہے باغ میں آئی ہے بُوئے نعت

دانش کہ بلبلِ چَمَنِستانِ نعت ہے

ذوالفقار نقوی، جموں کشیمر، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

صَلُّوا کی صاد میں نہاں فرمانِ نعت ہے

صلِ علی کے ورد میں اعلانِ نعت ہے


اس کِشتِ لالہ زار میں مصروف ہیں مَلک

ہر ذی شعور دیکھئے دہقانِ نعت ہے


مہکے ہوئے ہیں ذرّے رَفَعنا کے ذکر سے

از ارض تا ثریا خیابانِ نعت ہے


ہے نورِ مصطفیٰ سے زمانے میں روشنی

سب کائنات شمعِ شبستانِ نعت ہے


عشقِ رسولؐ پاک ہو گر دل میں موجزن

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر آن محوِ ذکرِ رسالت مآبؐ ہوں

اللہ کی عطا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


کر کے وضو درود سے، فکریں سنوار کر

لفظیں سجا رہا ہوں کہ میدانِ نعت ہے


اہلِ سخن میں ہوتا ہے میرا شمار بھی

مدحِ نبیؐ کا ہے ثمر، احسانِ نعت ہے


والنجم و ھل اَتی سے مودّت کے باب تک

قرآن حرف حرف دبستان نعت ہے


صبح و مسا نہ کیوں رہوں سجدے میں ذوالفقار

ہر آن میری فکر پہ بارانِ نعت ہے

ذیشان متھراوی، کولکتہ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : محمد صبیح رضا

جو منبرِ رسول پہ حسانِ نعت ہے

تاجِ سخن ہے،بس وہی سلطانِ نعت ہے


ہر حرف نور نور ، تو ہر لفظ پھول پھول

خوشبو بتارہی ہے گلستانِ نعت ہے


سر کاٹ دے غلو کا ، تو قرآنی تیغ سے

سچ کی لگام تھام ، کہ میدانِ نعت ہے


قرآں کی روشنی سے، ضیائے حدیث سے

جو شعر غسل کرلے ، وہی جانِ نعت ہے


الفاظ ناپ تول کے پلّے میں ڈالئے

دستِ رسولِ پاک میں میزانِ نعت ہے


دیوانگی نے کھینچی تھی کاغذ پہ بس لکیر

دنیا پکارنے لگی گلدانِ نعت ہے


حسان ، کعب اور بریلی کے شاہ تک

کتنا وسیع حلقہء میرانِ نعت ہے


سوئے غزل کبھی نہ گئی ، نعت ہی کہی

ذیشان میری فکر پہ احسانِ نعت ہے

راحت انجم، ممبئی، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیشکش : حافظ عبدالحلیم

امّت پہ ان کی سایۂ دامان نعت ہے

کیسا عظیم خلق پہ احسان نعت ہے


ضو بار ہر زماں رخ تابان نعت ہے

کیا ہی سدا بہار گلستان نعت ہے


توفیق دے خدا کہ کروں ان کی میں ثنا

مجھ سے گناہگار کو ارمان نعت ہے


معلوم اس کی منزلت ادراک کو کہاں

بس اہل معرفت کو ہی عرفان نعت ہے


جس کی تلاوتوں سے ہوں عشاق سیر چشم

صورت ہے مصطفیٰ کی کہ قرآن نعت ہے؟


مرغان جذب و شوق ہیں محو ثنا یہاں

یہ دل ہے میرا یا چمنستان نعت ہے؟


تاریکیِ حیات کا کردے جو خاتمہ

ضو بار اتنی شمع شبستان نعت ہے


فضل و کمال مجھ میں اے راحتؔ نہیں مگر

تشہیر جو ہے میری بفیضان نعت ہے

راحل بخاری، لکی مروت، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

سرمایۂ حیات اک ارمانِ نعت ہے

وہ کیا کرے جو بے سر و سامانِ نعت ہے


یارا نہیں کہ نعت کہیں ہم سے بے زباں

لہجہ تو بس قرآن کا شایانِ نعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن


دروازۂ بتول ع پہ آیات روشنی

دروازۂ بتول ع ہی ایوانِ نعت ہے


مسجد، کجھور، راستہ، دیوار، در، دیا

اک شہر حسن زار میں سامانِ نعت ہے


اک نون عین تے کا ہے صدقہ بیانِ عصر

ایما و رمز و چاشنی فیضانِ نعت ہے


خوشبو کے پیش و پس کا علاقہ ہے نور کا

روشن سماعتوں پہ ہی بارانِ نعت ہے

رائے توکل اللہ[ماخذ میں ترمیم کریں]

عرفان حمد صدقہء وجدان _نعت ہے

افکارمنتشر پہ یوں احسان _نعت ہے


سیم و زر_جہان کی ہرگز نہیں طلب

جب جمع پونجی گوہرو مرجان _ نعت ہے


ہر دم خیال میں ادب_مصطفی (ص) رہے

آوازخامہ میں یہی اذعان نعت ہے


راقم کو اپنے نار سے کروانا رستگار

لحظہ بہ لحظہ وعدہ و پیمان_نعت ہے


کب صنف نعت اہل ادب ہی کا خاصہ ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکان_نعت ہے"


ملک_عدم روانگی کو دل ہے مطمئن

ہمراہ حشر کے لیے سامان_نعت ہے


کیوں کر نہ میرا علمی تبحر ہو در فشاں

بخشا مجھے رسول (ص) نے امعان_نعت ہے


حسن_خیال بخشے ہے ہر زید بکرکو

نشوونما گمان کی ایقان_نعت ہے


ڈنکا جو بج رہا ہے توکل کا چار دانگ

فیض محمدی (ص) ہے , یہ فیضان نعت ہے

رئیس جامی، اٹک، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

میں بے ہنر ہوں کب مجھے عرفانِ نعت ہے

مولا! مگـر کـرم ہو کہ ارمـانِ نعت ہے


ان کا کرم کہ کاوشیں کرتے ہیں وہ قبول

ورنہ کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے


میرے تخیـلات پہ چھائی ہے روشنی

کہتا ہوں میں یقیں سے یہ فیضانِ نعت ہے


مطلع ہوا تو آنکھ سے آنسو نکل گئے

قسمت کہاں مری کہاں جانانِ نعت ہے


دنیا مجھے حقیر نہ جانے میں ہوں غنی

دیکھو یہ میـرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


میرے خیـال میں اسے پتھر ہی جانیے

وہ دل کہاں جو بے سـر و سامانِ نعت ہے


اس نے رخِ حبیب کو تک کر کہی تھی نعت

حسان اس لئے ہی تو سلطانِ نعت ہے


میرے تمام عیب چھپائے گا روز ِ حشر

اتنـا طــویل وسعتِ دامــانِ نعـت ہے


بیٹھے بٹھائے ہوگئی اس در پہ حاضری

کیسا رئیس دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے


رحمان حفیظ ، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

سیرت نظر میں ہو تو یہ میدانِ نعت ہے

ہر فن میں، ہر ہنر میں ہی سامانِ نعت ہے

اظہارِ عشق ہے جو بے عنوانِ نعت ہے

قرآن شاعری نہ سہی، جانِ نعت ہے

دنیا میں لیتا رہتا ہوں فردوس کے مزے

جب سے مِری رسائی میں دالانِ نعت ہے

اعجاز دیکھ رحمتُ الِّلعالمین کا !

مجھ بے ہنر کا ہاتھ بھی مہمانِ نعت ہے

مدح و ثنا کا سلسلہ افلاک سے چلا

" صلّو علیہ" خاصہ ء خاصانِ نعت ہے

الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں قطار میں

جس سے بھی پوچھ لیجئے، قربانِ نعت ہے

ان ؐ کو لُٹے پٹے تو زیادہ عزیز ہیں

اسبا ب کا نہ ہونا بھی سامانِ نعت ہے

حدِّ ادب سے ہو گئی عنقا صریرِ کلک

اتنا مِرے قلم کو بھی عرفانِ نعت ہے

واللہ ! صرف زائرِ طیبہ کا ہو تو ہو

احساس جو مجھے ابھی دورانِ نعت ہے

تخلیقِ کائنات کا باعث حضُور ؐہیں

اس ڈھب سےکائنات بھی دیوانِ نعت ہے !

خود لا جواب ہو گئے منکر نکیر ، جب

دیکھا کہ میرے پاس قلمدان نعت ہے

پہنچے گا اُس تلک بھی شفاعت کا سلسلہ

وہ خوش خصال جس میں بھی میلانِ نعت ہے

اے کوچہء سخن کے پریشان ! اتنا جان

تسکین دل جو ہے تو بفیضانِ نعت ہے

طیبہ سے ہو کے جائے گا باغِ بہشت تک

دشتِ ہنر میں یہ جو خیابانِ نعت ہے

مملو ئے ادّعا ،نہ تعلّی سے بہرہ ور

رحمان شاعری میں عجب شانِ نعت ہے

رحمان شاہ ، مانسہرہ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر موڑ پر یہ پانیوں کا چشمئہ خنک

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


چھو لوں میں رفعتوں کو مری شان بھی بڑھے

آقا کی داد جو ہو یہ ارمانِ نعت ہے


سنت کو ماننے میں جہانوں کی ہے فلاح

سنت کا ہو بیان تو پہچانِ نعت ہے


آقا کی جو نگاہ یہ رحمانِ اب پڑی

میرا نہیں کمال میاں شانِ نعت ہے

رحمان فارس، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

وہ جانتا ہے جس کو بھی عرفانِ نعت ہے

عشقِ مُحمَّدِ عَرَبی جانِ نعت ہے


بے شک ہے حجرِ اسود اِسی بات کا ثبوت

بے جان پتھّروں میں بھی امکانِ نعت ہے


اُس کی ھر ایک سانس ہے نعتِ نبی کا شعر

جو عاشقِ رسُول ہے دیوانِ نعت ہے


ھم بندگانِ خاک بھلا کیا کہیں گے نعت

نُطقِ خُدائے پاک ھی شایانِ نعت ہے


کرتے ھیں یہ تو آخری ھچکی میں بھی ثنا

عُشّاق کو تو موت بھی سامانِ نعت ہے


دُنیاوی نعمتیں بھی مُجھے دِین سے ملِیں

میری غزل میں کیف بَفیضانِ نعت ہے


ذکرِ نبی کو کتنی بلندی پہ لے گیا

قُرآن اپنی رُوح میں قُرآنِ نعت ہے


لاھور سے عجب ھیں مدینے کی نسبتیں

فارس ! یہ شہر شہرِ غُلامانِ نعت ہے

رخشندہ بتول، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : علی وارث

کہہ دیں حسین مجھ سے یہ ایوانِ نعت ہے

اور میں حسین سے ہوں یہ دیوانِ نعت ہے


ارض و سما میں جو ہے تصرف انہیں کا ہے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


تخلیق ان کے صدقے میں تخلیق ہو گئی

کچھ لفظ شعر ہو گئے ، فیضانِ نعت ہے


جبریل در پہ اذن کی خاطر رکے رہے

رکنا دلیل ہے انہیں عرفان ِ نعت ہے


خالق بھی ان پہ بھیجتا ہے ہر گھڑی درود

قرآن پڑھ کے دیکھیے اعلانِ نعت ہے


رخشندہ کہہ رہے ہیں سبھی نعتِ مصطفٰی

لحنِ علی ملے تو یہ شایانِ نعت ہے

رضا المصطفی، سیالکوٹ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

تخلیق کائنات کا عنوان نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


اس طرح سوئے حشر میں ہونے لگا رواں

دامن میں اور کچھ نہیں دیوان نعت ہے


تعریف مصطفی ہی تو منشا خدا کی ہے

ہر اک نبی کو مولا کا فرمان نعت ہے


سب انبیاء کے سامنے رب کریم نے

بعثت سے پہلے کر دیا اعلان نعت ہے


لفظوں کے موتی چن لئے تو نے بھی کچھ رضا

جب آیا تیرے سامنے یہ خواں نعت ہے

رِضا شیرازی، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

چھلکا جو دل کے جام سے میزانِ نعت ہے

پیدا ہوا جہان میں سامانِ نعت ہے


اٹھتی ہوئی غدیر کے منبر پہ منقبت

آزانِ حمد ہے, یہی پالانِ نعت ہے


سیرت, طریق, زلف, تکلم, سفر, مزاج

آوازِ کبریا میں یہ قرآنِ نعت ہے


گھر میں, سفر میں, جنگ میں, غربت میں, امن میں

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


قائم ہوئی جہاں میں سبھی عاشقوں کی صف

ہونے لگی درون میں آزانِ نعت ہے


یوں متصل ہے آل ع سے احمد ص کا تذکرہ

کفرانِ منقبت میں ہی کفرانِ نعت ہے


مانگی ہے نعت حضرتِ عمران ع سے, سنو!

ہاتھوں میں جن کے اب بھی قلمدانِ نعت ہے

رضا عباس رضا ، لاہور[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : صادق جمیل، لاہور

یہ کائنات نکتہِ ایوان ِ نعت ہے

قرآن پاک اصل میں اعلانِ نعت ہے


اب ذہن اپنا رنگ بدل، دل ذرا سنبھل

یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے


محشر میں سر اُٹھا کے چلوں گا کہ میرے پاس

سرمایہ منقبت کا ہے سامانِ نعت ہے


میراثِ مصطفٰیؐ کا نہ دعویٰ کرے کوئی

جو وارثِ نبیؐ ہے نگہبانِ نعت ہے


ہر شئے خدا کے ذکر میں مصروف ہے تو مان

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہے خاکسار عرش نشینوں کا ہم خیال

یہ فضل ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے


مت روکنا فرشتوں ذرا غور تو کرو

خاکِ شفا ہے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


میں کیا تھا مجھ کو جانتا کوئی نہ تھا رضا

عزت مجھے ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے

رضوان انجم، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ حُسنِ کائنات تو فیضانِ نعت ہے

ہر ذرّہِ جہان ہی دیوانِ نعت ہے


قدسی بھی بھیجتے ہیں درود ان کی ذات پر

یہ دو جہان محفلِ بستانِ نعت ہے


کرتا ہوں گر میں حمد تو لگتی ہے نعت سی

وجدانِ حمد اصل میں عرفانِ نعت ہے


قاری ہو ، کوزہ گر ہو، معلم ہو یا ادیب

ہر گوشہ ء حیات میں امکان نعت ہے


رضوان بخش دے مجھے جنّت میں داخلہ

سن میرے پاس کنجئ ایوانِ نعت ہے


ادنیٰ تھا ان کی نعت نے اعلی بنا دیا

مجھ خاکسار پر بڑا احسانِ نعت ہے


گر ذوقِ نعت ہے تو چلو ان سے فیض لیں

احمد رضآ کا در، درِ فیضانِ نعت ہے


عجزِ بیانِ نعت ہے حسنِ بیانِ عشق

انجم بھی نعت کہہ گیا، احسانِ نعت ہے

رضوان عدم، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد رضوان عدم

یہ ساری کائنات ہی عنوانِ نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


کیا اوج پر حضور کا فیضانِ نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


چھایا یوں فکر پر چمنستانِ نعت ہے

جو لفظ ہے سو وہ گلِ ریحان_ نعت ہے


کتنا یقین دل کو بہ فیضانِ نعت ہے

مجھ ایسے بے ہنر کو بھی ارمانِ نعت ہے


فیضانِ نعت ہے کہ یہ وجدانِ نعت ہے

ہر ایک سانس اب میری عنوانِ نعت ہے


عرفانِ مصطفیٰ میں ہے عرفانِ ایزدی

توحید کے بیان میں اعلانِ نعت ہے


بے شک نزولِ وحی مکمل ہوا مگر

جاری ہماری روح پر احسانِ نعت ہے


استاد بھی کھڑے ہیں یہاں ہاتھ باندھ کر

دل احتیاط کر، یہ دبستانِ نعت ہے


ممکن نہیں ثنا ئے محمد بجز کرم

فیضانِ نعت اصل میں سامانِ نعت ہے


انکا کرم ہے ورنہ مجھے اعتراف ہے

 کوئی بھی شعر کب مرا شایانِ نعت ہے


باغِ بہشت کو بھی میسر یہ بُو کہاں

جو نکہت و مہک بہ گلستانِ نعت ہے


سجدے میں محوِ شکر چلا جا رہا ہے آج

حاصل مرے قلم کو بھی وجدانِ نعت ہے


آتا ہے چاند بھی اسی جلوے کی چاہ میں

رونق فزا جو نورِ شبستان_ نعت ہے


عاجز، گناہگار، سیہ كار ہوں مگر

آقا کا مجھ حقیر پہ احسانِ نعت ہے


یہ بھی مقام آتا ہے اظہارِ نعت میں

عرفانِ عجز ہی جہاں عرفانِ نعت ہے


اشکوں سے قلب و روح مطہر ہوئے"عدم"

کتنا کرم نواز یہ بارانِ نعت ہے۔

رفیع الدین راز، امریکہ[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : اویس راجا


جن و بشر کو کیا پتا ، کیا شانِ نعت ہے

اللہ کے سوا کسے عرفانِ نعت ہے


آدابِ نعت گوئی کا پیہم رہے خیال

شوکت میں حمد ہی کی طرح شانِ نعت ہے


نغمہ سرا ہے خون کی ہر بوند میں حیات

دل پر عجیب طور سے فیضانِ نعت ہے


کیفیتِ دیارِ دل و جاں نہ پوچھئے

ہر خطۂ وجود دبستانِ نعت ہے


نوکِ قلم کو اور کیا اعزاز چاہئیے

آقا کا ذکرِ خیر ہے ، رجحانِ نعت ہے


بھیجا درود اس نے نبی پر تو یہ کھلا

وہ بھی اسیرِ حلقۂ جزدانِ نعت ہے


لب پر درود ، دھیان میں ہے ذاتِ مصطفٰے

زادِ سفر میں بس یہی سامانِ نعت ہے


خوشبو ہے، روشنی ہے، یا پھر پرتوِ خدا

 کوئی تو ہے جو اس گھڑی مہمانِ نعت ہے


ہر موڑ ہر قدم پہ نوازا گیا ہوں میں

دن رات میری ذات پہ احسانِ نعت ہے


نعتِ نبی کے فیض سے میری نگاہ میں

اس وقت دل کا آئنہ ایوانِ نعت ہے


کھلتے رہیں گے نوکِ قلم پر ثنا کے پھول

جب تک نبی سے عشق ہے امکانِ نعت ہے


قلب و نظر پہ کیوں نہ ہو برسات نُور کی

دستِ خیال میں ابھی دامانِ نعت ہے


یوں ہی نہیں ہے دل کی زمیں عطر بیز آج

جزدانِ قلبِ راز میں دیوانِ نعت ہے

رفیق راز، سری نگر، کشمیر، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

ام الکتاب دیکھ یہی کان نعت ہے

آیت ہے کوئی دُر، کوئی مرجان نعت ہے


ہے داغ سجدہ صرف یہ ماتھا لیے ہوئے

بآقی تمام جسم ہی. جزدان نعت ہے


آنسو ہے روشنایی مژہ ہے مرا قلم

طاری بدن پہ کپکپی دوران نعت ہے


اعمال نامہ میں مرے کچھ بھی نہیں مگر

میں مطمئن ہوں ساتھ یہ سامان نعت ہے


آب و ہواے اسم محمد ہے دایمی

پت جھڑ میں بھی بہار پہ بستان نعت ہے


دل پر لبوں پہ صل علیٰ ثبت ہے مرے

اللہ کا کرم ہے یہ فیضان نعت ہے


رکھ تو قدم اے اسپ قلم پھونک پھونک کر

دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے


باکار ہاتھ ہیں ترے با یار دل کو رکھ

ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے


پروانوں سے تو روشنی ہوتی نہیں کوئی

روشن اسی چراغ سے ایوان نعت ہے

ریاض احمد قادری، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

تھاماجومیں نے ہاتھ میں دامان نعت ہے

بخشش کو میری کافی یہ سامان نعت ہے


خالق نے خود رقم کی ثناءے حضور ہے

قرآن پاک سارا ہی دیوان نعت ہے


خلق عظیم اسوہ حسنہ حضور کا

سیر ت رسول پاک کی عنوان نعت ہے


یہ صنف نعت وقف ثناءے حضور ہے

ذات رسول پاک ہی شایان نعت ہے


ان کی ثنا میں لاکھوں ہی دیواں رقم ہوءے

تازہ جہاں میں آج بھی امکان نعت ہے


حسان کو جو رتبہ ملا بے مثال ہے

حسان ہر زمانے کا سلطان نعت ہے


رنگ رضا میں لکھو ثناءیں حضور کی

احمد رضا تو آپ دبستان نعت ہے


گھر گھر میں سج رہی ہیں ثناءوں کی محفلیں

ہر ایک گھر بنا ہوا بستان نعت ہے


ارض و سما و ظاہروباطن میں ہر طرف

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


طیبہ،ریاض،بطحا حدیقےہیں خلد کے

ہر جا نظر میں اپنی گلستان نعت ہے


جن و بشر فرشتوں کو حکم درود ہے

انسان کے لئے یہی فرمان نعت ہے


ان پر درود ہوگیا شامل نماز میں

صل علی درود ہی اعلان نعت ہے


عشق رسول روح ثنائے حضور ہے

عشق رسول کون و مکاں جان نعت ہے


عزت بنی ہوئی ہے زمانے میں جو ریاض

میرے لئے یہ سارا ہی فیضان نعت ہے

ریاض مجید، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

جس سے درود رُو مرا وجدانِ نعت ہے

لفظِ مدینہ ایسا گلستانِ نعت ہے


تکتے ہیں ہم کو حیرت و حسرت سے کس طرح

برگ و شجر کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


ہیں سلسلے زبان و بیاں کے جہاں جہاں

پھیلا ہُوا وہاں وہاں امکانِ نعت ہے


قراں ہر امتی سے ہے پیہم درود خواہ

اک طرح سے یہ دعوت و اعلان نعت ہے


قراں کی آیتوں میں ہے شان اُن کی عطربیز

بین السطّور دیکھ یہ بستانِ نعت ہے


اہلِ ولا و اہل صفا کی نگاہ میں

’احزاب‘ استعارہ پیمانِ نعت ہے


صلّوا علیہ کی اسے توسیع جانئیے

حُبّ کا تلازمہ جو بعنوانِ نعت ہے


قران کا خلاصہ اگر اک ورق میں ہو

تو زیب اُس نوشتے کو عنوانِ نعت ہے


سعی ہنر قبول ہو‘ جو ہو خلوص سے

ہر نعت گو کو اتنا تو عرفانِ نعت ہے


اس عہدِ نعت پہ کرم خاص آپ کا

گھر گھر کھلا ہُوا جو دبستانِ نعت ہے


کیا کیا ثنا سرشت ہیں مائل بہ نعت آج

فی الواقعی یہ عہدِ درخشانِ نعت ہے


مصرعے اتر رہے ہیں ستاروں کی شکل میں

کاغذ سے روح تک میں چراغانِ نعت ہے


فردائے نعت کی ہے ہر اک سمت سے نوید

ہر دل میں جو نمایاں یہ رجحانِ نعت ہے


جنت میں ہو گا نعت کا دورانِ جاوداں

اب تک ہوئی جو مشق وہ اک انِ نعت ہے


باعث ظہور ہست کا ہے ذات آپؐ کی

دھڑکن دلِ وجود کی گردانِ نعت ہے


مصروفیت ملی ہے بہشت آفریں ہمیں

ہم اہلِ حُب یہ کیسا یہ احسان نعت ہے


بخشش کی التجا کے سوا کچھ نہیں ریاض

فردِ عمل میں جو سروسامانِ نعت ہے


ہے محوِ فکر رفعت و شانِ رسول میں

چپ ہے ریاض جس کو بھی عرفانِ نعت ہے

زوہیب عباسی، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر جا رہِ حیات میں سامانِ نعت ہے

اللٰہ اللٰہ وسعتِ دامانِ نعت ہے


سب برکتیں حضور کی فیضانِ نعت ہے

کیا اور چاہیے ہمیں امکانِ نعت ہے


ہیں نعت کی کرامتیں یہ شانِ نعت ہے

"ہر شعبہ۶ حیات میں امکانِ نعت ہے"


روشن ہوٸی نِگاہ کرشمہ سا ہو گیا

فیضانِ نعت ہے یہ تو فیضانِ نعت ہے


ہیں رحمتیں حبیب پر خود آپ نے کہا

کر لیجیے قبول کہ فیضانِ نعت ہے


جلوہ نُما ہو ساقی تو پوری مُراد ہو

عالم میں آج محفلِ رِندانِ نعت ہے

زید معاویہ، گوجرانوالہ[ماخذ میں ترمیم کریں]

یونہی نہ اس زمین پہ باران نعت ہے

قلب غریق عشق ہی شایان نعت ہے


ثابت کیا نبی نے تریسٹھ برس میں یہ

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


حکم ِ خدا ہے مدحت ِ سرکار ِ دو جہاں

"صلو علیہ_" اصل میں فرمان نعت ے


تشنہ لبی کے مارے سخنور سنیں ذرا

سیراب کر لیں روح , لگا خوان نعت ہے


اخلاق مصطفی پہ ہے فرمان عائشہ

قرآن پڑھ ذرا کہ جو عنوان نعت ہے


قرآں کی رفعتوں کے دلائل سبھی بجا

خوش بو ہے اس لیۓ بھی کہ گلدان نعت ہے


رائج برے معانی ہیں جس لفظ کے بھی زید

روتا ہے بخت پر وہ کہ انجان نعت ہے

زینب سروری، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سیدہ زینب سروری قادری

لاریب عشقِ شاہِ امم، جانِ نعت ہے

پہچانِ نعت بھی یہی، سامانِ نعت ہے


ہر لفظ مدحِ سرورِ کونین کا ہمیں

تسکینِ روح و جان بہ سلطانِ نعت ہے


بزمِ ثنائے سرورِ دیں ہے سجی ہوئی

اونچی رہی سدا جو یہاں، شانِ نعت ہے


اس کے بغیر بات بنے گی کہاں حضور

قلبِ سلیم ہو تو یہ شایانِ نعت ہے


لکھنے کا شوق دل سے نہ جائے گاعمر بھر

گرچہ ضخیم تر مرا، دیوانِ نعت ہے


نعتِ نبی ہے سنتِ حسّانِ ذی وقار

اس وقت سے ہی رحمت و بارانِ نعت ہے


سیراب مدحَ حُبِ نبی ﷺ سے کرے سدا

خوش بخت وہ نبی ﷺ کا سخندانِ نعت ہے


اصنافِ شاعری میں ہے مرغوب صرف نعت

سب سے جدا الگ مرا، میلانِ نعت ہے


مجھکو تو نعتِ سرورِ عالمﷺ سے کام ہے

خوشبو کا سلسلہ مرا ایوانِ نعت ہے


توصیفِ مصطفٰےﷺ سے ملی راہِ مستقیم

دے معرفت کا نور، یہ احسانِ نعت ہے


حق مدحتِ رسول ﷺ کا وہ ہی ادا کرے

سونپا جسے خدا نے، قلمدانِ نعت ہے


پھر سے ردیف و قافیہ الہام ہو گئے

پھر سے افق پہ قلب کے، امکانِ نعت ہے


اس کے بغیر نعت لکھے کوئی کس طرح

عشق رسول ﷺ ہی مرا ایمانِ نعت ہے


اس سے بڑا شرف نہیں زینب یہاں کوئی

کاسے میں ہم گداؤں کے، فیضانِ نعت ہے

بشکریہ : فراز عرفان

زین زیدی، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

پھر سے دلِ فقیر کو ارمانِ نعت ہے

امداد وہ کرے گا جو سلطانِ نعت ہے


دھڑکن نہیں چٹکتی ہیں کلیاں درود کی

دل دل نہیں رہا ہے گلستانِ نعت ہے


حیدر کی زندگی نے بتایا جہان کو

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


جب تک کسی کو منصب عصمت نہیں ملے

وہ لفظ کون لکھے جو شایانِ نعت ہے


خامے کو سلسبیل سے دھولیں تو پھر لکھیں


وہ اسمِ چارہ ساز جو عنوانِ نعت ہے


جس نے بچا رکھا ہے خجالت کی دھوپ سے

زینِ رضا وہ سایہءِ دامانِ نعت ہے

ساجد حیات، راولپنڈی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

وابستگی رسول سے دیوانِ نعت ہے

مضمونِ عشق باعثِ عنوانِ نعت ہے


میں خاک اوڑھ لوں گا فقط اس یقیں کے ساتھ

بخشش کو میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے


احساس کے یہ اشک جو گرتے ہیں روح پر

دُھلتے ہیں پھر گناہ یہ فیضانِ نعت ہے


میرے نبیؐ کی شان ہے اور شان دیکھیئے

ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے


بنجر زمینِ فکر کو سر سبز کر کے دیکھ

سیرت مرے رسول کی فیضانِ نعت ہے


میں لفظ لفظ ٹانک رہا ہوں جو نعت میں

تو حرف حرف لُو لُو و مرجانِ نعت ہے

ساجد ندیم ، سیالکوٹ ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

جب مطمعِ نظر ترے دامانِ نعت ہے

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


کر دے جو بے نیاز ہر اک احتیاج سے

کل کائنات اپنی یہ ایقانِ نعت ہے


دونوں جہاں کی اس میں میسر ہیں رفعتیں

کتنی بڑی عطا ہے جو عرفانِ نعت ہے


دل مطمعن ابھی سے ہے کوثر پہ جام کا

مجھ رو سیاہ پہ دیکھ یہ فیضانِ نعت ہے


آداب و شان و حب و مودت سے آگہی

میراثِ کل ندیم یہ سامانِ نعت ہے

ساغر مشہدی، کبیر والا، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : فیصل ہاشمی

عرفانِ ذات اصل میں عرفانِ نعت ہے

یہ نورِ آ گہی مری پہچانِ نعت ہے


محشر میں جب شناخت ہو میری تو سب کہیں

حمادِ اہلیبت ہے ، حسانِ نعت ہے


پُرسش ہوئی جو حشر میں کیا کچھ ہے تیرے پاس

حالی کی طرح کہہ دوں گا دیوانِ نعت ہے


جنت میں بھی سجائیں گے نعتوں کی محفلیں

محبوبِ ذوالکرم جو نگہبانِ نعت ہے


عرشِ عُلٰی کہ فرشِ زمیں کی ہوں رونقیں

" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


دل کا قرار روح کی بے تابیوں کا حل

ہر اضطرابِ وقت کو سلمانِ نعت ہے


جس کے طفیل خلق کیا ہے جہان کو

خالق بھی نعت خوان ہے، کیا شانِ نعت ہے


ساغر میں مدح خوانِ رسالت مآ ب ہوں

میرا کمالِ فن نہیں احسانِ نعت ہے

مکمل نام : سید ساغر مشہدی

سائرہ خان سائرہ، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

لاریب فضل رب ہی ، یہ فیضانِ نعت ہے

بالواسطہ ہے حمد ہی جو جانِ نعت ہے


ہرلمحئہ حیات میں رہبر ہے انکی ذات

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


مسحور ہیں فضائیں تو دل بھی ہیں مشکبار

ہر سو کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے


ہو میرے حرف حرف کو پاکیزگی عطا

سوچیں بھی ہوں لطیف یہ ایوانِ نعت ہے


اے خلقِ اولیں ، تری مدحت پہ میں نثار

ہر لمحہ تیرا ذکر اے سلطانِ نعت ہے


بزم فروغ نعت سے دولت ملی مجھے

الحمد فکرِ نعت ہے، احسانِ نعت ہے


جاں سے مجھے عزیز وراثت ہے نعت کی

میرا تو سب گھرانہ ہی قربان ِ نعت ہے

سجاد بخاری، مکہ مکرمہ سعودی عرب[ماخذ میں ترمیم کریں]

آیات کیا ہیں اصل میں سامانِ نعت ہے

اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے


لَا تَجْهَرُوا کا ضابطہ برہانِ نعت ہے

اور سلمو کے حکم میں اعلانِ نعت ہے


عرفانِ حمد ہے جسے عرفانِ نعت ہے

دیوانہء سجود ہے مستانِ نعت ہے


تحریر ہو رہی ہے ازل سے کتابِ نعت

دنیا تو ایک صفحہ ء دیوانِ نعت ہے


باغِ بہشت پرتوِ حسنِ رسول ہے

گلزارِ ہست و بود میں ریحانِ نعت ہے


لوح و قلم نے کاڑھا ہے توصیف کا لباس

یہ کائنات وسعتِ دامانِ نعت ہے


آپ اسوہء رسول سے جڑ کر تو دیکھیے

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


میلاد کی گھڑی ہے غلاموں کی عید ہے

یعنی کہ ہر سو موسمِ بارانِ نعت ہے


اُن پر اور اُن کی آل پہ پڑھتے رہو درود

ایماں سے کہہ رہا ہوں یہی جانِ نعت ہے


ہریالیاں ہیں گنبدِ خضرا سے چار سو

یہ رونقیں یہ تازگی فیضانِ نعت ہے


اللہ بھیجتا ہے حضور آپ پر درود

کیا مرتبہ ہے آپ کا کیا شانِ نعت ہے


چنتی ہیں شہرِ طیبہ سے منسوب بلبلیں

أرض و سما پہ پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے


سانسوں میں نغمگی ہے نگاہوں میں تازگی

گویا دلوں میں بارشِ بارانِ نعت ہے


نام و نسب کا زعم نہ مشقِ سجود ہے

امیدیء نجات میں احسانِ نعت ہے


جھکنا نہیں پڑا مجھے رب کے سوا کہیں

سجاد اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے

سرور حسین نقشبندی، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کیا کیا گدائے نعت پہ احسان نعت ہے

اک ایک سانس حجرہء ایوان نعت ہے


کیسی ہری بھری ہے تخیل کی سرزمیں

صد شکر کشت فکر پر باران نعت ہے


اصناف شعر ساری اسی کی ہیں خوشہ چیں

جو بھی سخن کی صنف ہے دربان نعت ہے


تفہیم اس کو اسوہء کامل کی جانئے

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


خوشبو بنائے کیوں نہ مرے گرد دائرہ

موج صباء کی ہمدمی دوران نعت ہے


اس کو ملے گا اجر بھلے شعر ہوں نہ ہوں

وہ خوش نصیب ہے جسے ارمان نعت ہے


قرآن سے حدیث سے تم کو ہے مس اگر

کافی برائے نعت یہ سامان نعت ہے


یاں پر اک ایک لفظ رکھو ناپ تول کر

اے شوق! احتیاط یہ میزان نعت ہے


سرور یقیں نہ کیسے ہو اپنی نجات کا

فرد عمل میں جب مرے دیوان نعت ہے

سکندر عزیز خان، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے

بخشش کے واسطے یہی سامان نعت ہے


اللہ مرا بھی آپ کی مدحت میں محو ہے

قرآن بھی تو اصل میں دیوان نعت ہے


اللہ کرے ھو اس کو عطا رفعت خیال

جس شخص کے بھی دل میں ارمان نعت ہے


یوں لگ رہا ہے دل میں ثنا کا ورود ہے

میلاد کے سرور میں میلان نعت ہے


لکھے خلق کے ساتھ خالق بھی انکی نعت

حق بھی یہی ہے اور یہی شان نعت ہے


آقا کے سامنے یہ کہوں گا میں قبر میں

مقبول کیجئے مرا دامان نعت ہے


ہر روز بیٹھ کے میں لکھوں اسمیں ایک نعت

میرا بھی گھر عزیز یوں ایوان نعت ہے

سلمان راٹھور مانی، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

محوِ جمالِ خاص سخندانِ نعت ہے

لب رحمتوں سے تر ہیں یہ فیضانِ نعت ہے


زلف و رخِ حسین بھی ہے خال و خد بھی ہیں

ان کی ہر اک ادا میں ہی امکانِ نعت ہے


دشمن بھی دیکھتا تو یہ کہتا تھا برملا

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہاتھوں میں کنکری کی گواہی بتا رہی

سارا جہاں مجسمِ عرفانِ نعت ہے


آقا کی بزمِ خاص کا ہے رنگِ مشترک

آنکھوں میں چار یار کے میلانِ نعت ہے ۔ مانی ہوئی ہے رومی و جامی کی نعتِ پاک

جیسے کسی زبان پہ قرآنِ نعت ہے سلمان مانی اسلام آباد

سلمان رسول، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہاتھوں میں جس کسی کے قلمدان نعت ہے

عالم اسی کے واسطے میدان نعت ہے


محدود اس کو شعروسخن تک نہ کیجیے

ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے


جو شخص آشنائے تقاضائے عشق ہو

اس کا فقط وجود ہی برھان نعت ہے


ان کے لیے بنائی گئی ہے یہ کائنات

سمجھو تو گام گام پہ سامان نعت ہے


سیرت سے کیوں حضور کی ہم ہو رہے ہیں دور

جبکہ بہت عروج پہ رجحان نعت ہے

سلمان گیلانی، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید سلمان گیلانی

حاصل مجھے بھی تھوڑا سا عرفانِ نعت ہے

میرا بھی ایک چھوٹا سا دیوانِ نعت ہے


مدحت لبوں پہ سب کے, بہ عُنوانِ نَعت ہے

فیضانِ نعت حلقہءِ یارانِ نعت ہے


دُوراَز قیاس وُسعتِ مَیدانِ نعت ہے

یہ مُلکِ نعت, مُلک سلیمانِ نعت ہے


حَسّان ہے صحابئ سُلطان بَحر و بَر

ہر نعت اُس کی اِس لیئے سلطانِ نعت ہے


عشق رسول دل میں ہے آنکھوں میں اشک غم

کافی مِرے لیئے یہی سامانِ نعت ہے


ہر شعبہِ حیات پہ میں نے کِیا ہے غَور

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


بس میں نہیں کسی کے اسے کر سکے عبور

اتنا وسیع دوستو میدانِ نعت ہے


مائل بہ نعت رہتی ہے طبعِ رواں مری

ہر فرد میرے گھر کا حُدی خوانِ نعت ہے


ہر نعت گو ہے طائر سدرہ کا ہم سفر

ہر نعت خوان بلبل بستانِ نعت ہے


روزِاَلست باندھا تھاجو اپنے رب سےعہد

اُس عہد سے بندھا مِرا پیمانِ نعت ہے


اللہ کرے کہ طاری رہے یونہی عمر بھر

یہ وَجد و کَیف مُجھ پہ جو دَورانِ نعت ہے


سلمان, شعر نعت کے, ہیں مِثلِ گُل تمام

دِیوانِ نعت اصل میں گُلدانِ نعت ہے

سلیم شہزاد، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : اویس مدنی

صلِ علیٰ سے لہکا گلستانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اللہ کی پیروی تو ہے لازم ہر ایک پر

جاری خدا نے خود کیا فرمانِ نعت ہے


تکریم جو نصیب ہے مجھ کو جہان میں

توقیر سب یہ میری تو احسانِ نعت ہے


نعتِ نبی کو رکھتا ہوں میں جاں سے بھی عزیز

یہ زندگی تو اب مری پہچانِ نعت ہے


فرمایا حق نے آپ کے صدقے اتار کر

تو مقصدِ حیات ہے تو شانِ نعت ہے


شاہد میں ان کی نعت سے مسرور ہو گیا

صد شکر میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے

سعید زبیر، ڈیرہ غازی خان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیشِ نظر حقیر کے عنوانِ نعت ہے

تھرا رہے ہیں لفظ کہ میدانِ نعت ہے


دل ہو وفورِ عشقِ شہِ دین سے غنی

پھر کہئے نعتِ پاک جو ارمانِ نعت ہے


دیکھو جہان والو میں کس درجہ ہوں غنی

میرے لبوں پہ نغمۂ سلطانِ نعت ہے


پہنچیں گے قبر میں انہی جذبات سے کہ ہاں

پیشِ نکیر ہم کو تو ایقانِ نعت ہے


آتی ہے چار دانگ یہی بانگِ لم یزل

ہر سُو جہانِ دہر میں اعلانِ نعت ہے


گر ہو عبور سیرتِ سرکار پر سعید

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"

سعید شارق، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یاقوتِ نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے

آنکھوں کے پانیوں میں نہاں کانِ نعت ہے


مکّہ و طیبہ مصرعِہ اولیٰ و ثانی ہیں

یہ کائنات اصل میں دیوانِ نعت ہے


ڈھونڈا لغاتِ چشم سے اک تین حرفی لفظ

اور خیر سے یہ اشک ہی عنوانِ نعت ہے


رکھتا ہوں اس لیے بھی قدم پُھونک پُھونک کر

اب میرے دوش پر سرو سامانِ نعت ہے


آتا نہیں سمجھ کہ چکھوں کون کون سا

صد رنگ ذائقوں سے بھرا خوانِ نعت ہے


سینے میں چھا رہے ہیں کئی سبز سبز ابر

مطلع سے لگ رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے


مضموں کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہ ہو

اے لفظ! احتیاط! یہ مہمانِ نعت ہے


دو رویہ کیاریاں ہیں مرے دل کے ساتھ ساتھ

یہ باغِ حمد ہے ، یہ گلستانِ نعت ہے

سعود عثمانی، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

گر ایک شعر بھی مرا شایانِ نعت ہے

پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے


سچ یہ ہےساری زیست ہی دیوان نعت ہے

ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے


تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے

جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے


رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر

ثابت تو کر کہ ہاں مجھے عرفانِ نعت ہے


قصے کہانیوں کو کہیں دور جا کے پھینک

سیرت کو نظم کر کہ یہی جانِ نعت ہے


آداب ہیں سکوت کے بھی' گفتگو کے بھی

دونوں طرح بتا کہ سخن دان نعت ہے


گنتی کے چند لوگ ہیں' گنتی کے خوش نصیب

حاصل جنہیں طلائی قلم دانِ نعت ہے


مدح نبی تو خود بھی بڑا فخر ہے مگر

مصرعہ قبول ہو تو یہ احسانِ نعت ہے


سب جانثاروں مدح گزاروں کے درمیاں

جگمگ ہے ایک شخص جو حسّانِ نعت ہے


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود

اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے


توفیق نعت دی ہے جو تو نے سعود کو

یارب وہ اجر بھی کہ جو شایان ِ نعت ہے


جیسے میں بارگاہ پیمبر میں ہوں سعود

اور میرے ہاتھ میں مرا دیوان ِ نعت ہے

سمعیہ ناز، لیڈز، برطانیہ[ماخذ میں ترمیم کریں]

مخصوص یہ عنایت و احسانِ نعت ہے

حاصل ہوا جو قلب کو وجدانِ نعت ہے


عشقِ نبی کے نور سے روشن ہے جس کا دل

پھر اس پہ صبح و شام ہی فیضانِ نعت ہے


رنج و الم قریب بھی آتے نہیں مرے

صد شکر جب سے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


سیرت سے آپ کی ہو درخشاں حیات گر

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


چنتی رہی میں گل تری مدحت کے باغ سے

خوشبو سے بھر گیا مرا دیوانِ نعت ہے


وردِ زباں درود ہو آنکھیں ہوں نم تری

پھر ہو رقم قلم سے جو شایانِ نعت ہے


جب سے جمالِ گنبدِ خضریٰ ہے سامنے

ہر لمحہ میرے قلب پہ باران نعت ہے


مدحت کا اذن یوں ہی سمیعہ نہیں ملا

عشقِ رسول ہے تو یہ عرفانِ نعت ہے

سید حسن، ملتان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کب یہ کہا زباں مری شایانِ نعت ہے

مجھ پرکرم ہے آپ کا احسانِ نعت ہے


دادا کے بعد حضرتِ عمران ہیں وجہ

باقی ابھی تلک جو دبستانِ نعت ہے


روشن فلک پہ چاند ستارے نہیں کوئی

دراصل پھیلا یہ تو چراغانِ نعت ہے


دامن میں میرے کچھ نہیں بخشش کے واسطے

اک ہے دُرودِ پاک یا فیضانِ نعت ہے


ظاہر ہے یہ قرآن کے ہر ایک حرف سے

ہر ایک حرف اِسکا گُلستانِ نعت ہے


جی کر دکھایا آلِ محمد نے با خُدا

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


بُوذر اویس قرنی و سلمانِ فارسی

ہر ایک اپنے آپ میں دیوانِ نعت ہے


جنت سے بھی پرے کوئی جنت ہے، ہوں وہاں

محسوس مجھکو ہوتا یوں دورانِ نعت ہے


اشکوں سے حسن جب کریں الفاظ سب وضو

پھر بن سکیں وہ نعت یہی شانِ نعت ہے

سیف اللہ خالد، ملتان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

قلب و دماغ پر مری بارانِ نعت ہے

صد شکر آج مجھ پہ بھی فیضانِ نعت ہے


یہ میری بے بساطی کہ اب تک نہ لکھ سکا

دل میں تو مدتوں سے یہ ارمانِ نعت ہے


قول و عمل میں جس کے ہوسنت کی پیروی

وہ شخص ہی حقیقی سخندانِ نعت ہے


پڑھ لے درود خامہ کو چھونے سے پیشتر

طاری اگر جمود ہے بحرانِ نعت ہے


سچا ہے تیرے دل میں اگر عشقِ مصطفیٰ

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


دل ذکر سے اجال تو اشکوں سے کر وضو

لکھنی ہے نعت گر تو یہ شایانِ نعت ہے


خالد زبان وقف ہے توصیف کیلئے

میرا یہ فن یہ شاعری قربانِ نعت ہے

شاد مردانوی، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

تخلیقِ آب و خاک ہی اعلانِ نعت ہے

” ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے “


اشکوں سے پہلے کیجیے تطہیرِ نطق و حرف

آدابِ نعت ہیں یہی عرفانِ نعت ہے


پھر سے ہمیں زیارتِ طیبہ ہوئی نصیب

ہم پر عطا ہے نعت کی ، فیضانِ نعت ہے


پروانہء بہشت کا مجھ سے نہ کر سوال

رضوان ! میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


یادِ مدینہ ،اشک، شفاعت کی آرزو

ہم بے کسوں کا بس یہی سامانِ نعت ہے


لگتا ہے سب گناہ مرے دھلنے والے ہیں

شعر و سخن پہ حاوی جو رجحانِ نعت ہے


یاسین و طاہا کی ہمیں لولاک کی قسم

عالم کا ذرہ ذرہ ہی حیرانِ نعت ہے


قدموں میں شہ کے بیٹھ کے جنت دکھائی دے

آ پاس آکے بیٹھ ، خیابانِ نعت ہے


شاد اس ورق کو چومیے ، دل سے لگائیے

جو جلوہ گاہِ مطلعِ جانانِ نعت ہے

شارق رضا خالدی، سید، شاہجہاں پور، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید شارق رضا خالدی شاہجہاں پوری

کس طرح ہم بیاں کریں کیا شان نعت ہے

جب خود کلامِ پاک ہی برہان نعت ہے


ملنے لگی ہے عزت و توقیر بے حساب

فضل خدا سے ہم پہ یہ احسان نعت ہے


دیکھے تو کوئی عشق شہ دیں میں ڈوب کر

"ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے"


جو پانچ وقت ہوتی ہے مسجد میں وہ اذان

حمد خدائے پاک ہے اعلان نعت ہے


تنگی نہیں ہے اس میں ذرا اےسخن ورو!

کُٹیا نہیں غزل کی، یہ میدان نعت ہے


زاہد! وہی جو ذات ہے مقصود کائنات

توصیف کر اسی کی وہی جان نعت ہے


یاد مدینہ! شکریہ! تیرے طفیل اب

لمحہ بہ لمحہ فکر میں عنوان نعت ہے


آجائے جس کے پڑھنے سے ایمان میں نکھار

ایسا بریلی والے کا دیوان نعت ہے


ممکن نہیں کہ کوئی اسے زیر کر سکے

شارق رضا پہ ہر گھڑی فیضان نعت ہے

شاہد اشرف، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

رونق لگی ہوئی ہے ، یہ احسانِ نعت ہے

ہر شخص اِس نشست میں مہمانِ نعت ہے


لکھتے ہوئے سکون کی حالت نہ پوچھیے

اِک خاص کیفیت مری دورانِ نعت ہے


کہیے ہر ایک صنفِ سخن دھیان یہ رہے

روزِ جزا نجات کو دیوان نعت ہے ؟


اک خاص ضابطے کا تقاضا ہے دوستو!

ہر درجہ احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


دنیا مجھے نہ مانگ میں تیرا نہیں رہا

اب مقصدِ حیات ، مری جانِ نعت ہے


اُن کی عطا سے کھلتے ہیں شاہد ثنا کے پھول

ہر روز رو بہ حُسن گلستانِ نعت ہے

شاہد الرحمن، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد شاہد الرحمن

بخشا مجھے خدا نے قلمدانِ نعت ہے

میرا بھی نام شاملِ ایوانِ نعت ہے


سرپٹ نہ دوڑ ، دیکھ ، خبردار ہو کے چل

اے اشہبِ خیال ! یہ میدانِ نعت ہے


ہرگز نہیں تھا شعر کے ابجد سے باخبر

میرا سخن تمام ہی فیضانِ نعت ہے


چمکا تصورات میں شہرِ رسولِ پاک

تحت الشعور میں مرے امکانِ نعت ہے


فریاد رس ہے فکر ، خرد التجا کناں

لاؤں کہاں سے لفظ جو شایانِ نعت ہے


حسنِ و جمالِ شاہ بھی ہے جزوِ لازمی

پر اسوۂ رسولِ اُمم جانِ نعت ہے


تقویٰ ، خلوص ، عجز ، تواضع و راستی

ہر اک ادائے شاہ بنی شانِ نعت ہے


مجھ پر عطائے حضرتِ حسانؓ ہے جبھی

حاصل مجھے بھی نسبتِ خاصانِ نعت ہے


اس کی صدا ورا ہے حدود و قیود سے

شاہدؔ جو ہم صفیرِ اسیرانِ نعت ہے

شائستہ کنول عالی، وزیر آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کیا عشقِ صادقین پہ فیضان نعت ہے

لولو ہیں اشک ہونٹوں پہ مرجان نعت ہے


عشّاقِ حق کے دل پہ ہے اشعار کا نزول

باران نعت ہے کہ یہ رمضان نعت ہے


و اللّه ! یہ درود ہی کاشان نعت ہے

خاصائے عاشقان ہی ایقان نعت ہے


ہے نعت پاک نغمہ توحید کی اساس

بد بخت و بد نما ہے جو انجان نعت ہے


زیبا ہے کس کو منصب محبوب کبریا

سلطان دو جہان ہی سلطان نعت ہے


خنجر ہے نعت مشرک بے دین کے لئے

حلقومِ کفر کیلئے پیکان نعت ہے


حمد خدا کے بعد کرو ذکر مصطفیٰ

ذکر علی تو شمع شبستان نعت ہے


مجنون ہوں محبت خیر الوری میں یوں

وجدان روح و قلب کو عرفان نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں حمد خدا ملے

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے "


عالی سلام پیش کرو اہل بیت کو

میرے خیال میں یہی شایان نعت ہے

شاہین فصیح ربانی، دینا، گجرات، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بزمِ تصورات ہے، وجدانِ نعت ہے

رقص تجلیات ز فیضانِ نعت ہے


فکر و خیال عشق ہی شایانِ نعت ہے

الفاظ میں، حروف میں امکانِ نعت ہے


کیا گرمیء حیات ہے کیا سختیء ممات

حاصل ہمیں جہان میں بردانِ نعت ہے


ماہ و نجوم رشک سے تکتے ہیں اس طرف

روشن کچھ ایسے شمعِ شبستانِ نعت ہے


 کوئی غزل، قصیدہ، رباعی کہ ماہیا

جو میری شاعری ہے وہ قربانِ نعت ہے


شاعر نہیں غلام رسول کریم ہوں

یہ شاعری نہیں ہے، گلستانِ نعت ہے


کیا ہو فصیح دعویء مدحت سرائی جب

محبوبِ رب جو ذات ہے، عنوانِ نعت ہے

شریف ساجد، پاکپتن، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

سرکار خوش ہوئے یہی احسانِ نعت ہے

ملحوظ ہو ادب کہ یہ میزانِ نعت ہے


جب ہر عمل میں اسوہ ء کامل حضور ہیں

” ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے “


حبّ نبی ، جدائی کا غم ، دید کی تڑپ

امید و استغاثہ ہی سامانِ نعت ہے


اس کام سے معیت ذات خدا ملے

وہ گر کریں قبول یہی جانِ نعت ہے


ایسا کرم ہو بردے کی صورت دکهائی دے

ہر اک یہی کہے کہ یہ فیضانِ نعت ہے


ساجد مقامِ حضرتِ حسان دیکھ کر

اب قدسیوں کے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے

شکیل کالا باغوی، کالا باغ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ ابتدائے سانس ہی پیمانِ نعت ہے

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ذکرِ نبیۖ ہے قبر کی تنہائی کا رفیق

خاکی تری نجات ہی وجدانِ نعت ہے


اوجِ فلک پہ میرا ستارہ رواں دواں

جادو گری نہیں ہے یہ میلانِ نعت ہے


حیراں ہیں مشک و عنبر و عود و گلِ بہار

کس شان سے مہکتا گلستانِ نعت ہے


کامل دل ونگاہ کی تطہیر شرط ہے

حدِ ادب کا پاس قلمدانِ نعت ہے


والشّمس، والضحیٰ ہے، سراجِ منیر ہے

یزداں کی ہمکلامی ہی دیوانِ نعت ہے


الفاظ کیوں شکیل تیرے عطر بِیز ہیں

بادِ صبا پکارے ۔۔یہ فیضانِ نعت ہے

شعیب اختر قادری، سنت کبیر نگر، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مجھ پہ کرم حضور کا فیضانِ نعت ہے

کیا خوب آج دیکھیے عنوانِ نعت ہے


ان کے طفیل ہی ہیں بہاریں حیات کی

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


آؤ بتاؤں کون ہے بے تاج بادشاہ

وہ جس کے پاس ان کا قلمدانِ نعت ہے


والليل والضحیٰ کہیں ، ماذاغ ہے کہیں

رب کا کلام پورا ہی دیوانِ نعت ہے


مداحِ مصطفیٰ مجھے کہتے ہیں لوگ جو

کیونکر کہوں نہ یہ بھی تو فیضانِ نعت ہے


نعت رسول لکھنا تو آساں نہیں مگر

لکھتا وہی ہے جس پہ بھی احسانِ نعت ہے


قلب و نظر کو اپنی تو عشقِ نبی میں ڈھال

عالم کو دیکھ پورا ہی وجدانِ نعت ہے


احمد رضا کے نعتیہ اشعار کو پڑھو

کہنا پڑے گا نائبِ حسانِ نعت ہے


بندہ گنہگار ہے اعمال کچھ نہیں

بخشش کا اپنی بس یہی سامانِ نعت ہے


گمراہ کتنے ہو گئے کتنے سنبھل گئے

اختر ادب سے لکھ یہ دبستانِ نعت ہے

مکمل نام : محمد شعیب اختر قادری، سنت کبیر نگر، انڈیا

شوزیب کاشر، راولہ کوٹ، کشمیر، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

وسعت پذیر حلقۂ دامانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر شاخ رونقِ چمنستانِ نعت ہے

دو جگ میں خوشبوئے گلِ ریحانِ نعت ہے


قرآن سے کشید مضامین نعت کے

روحِ ثنا یہی ہے یہی جانِ نعت ہے


سیرت سے مشکبار ہو سنت سے مستنیر

یعنی ہو مستند یہی شایانِ نعت ہے


اللہ کی یہ پیاری ، فرشتوں کی لاڈلی

سبحانهٗ تعالی عجب شانِ نعت ہے


والشمس ہے کہیں ، کہیں واللیل سے خطاب

یہ لؤلؤِ صلوۃ ، وہ مرجانِ نعت ہے


مازاغ کا سلام ہے قوسین کا درود

معراج ان کی شان میں اعلانِ نعت ہے


مُدَّثِّرُ و مُبَشِّرُ و مُزَّمِّلُٗ ہیں آپ

ہر نامِ نامی آپ کا ، عنوانِ نعت ہے


ہر عہد کو محیط وہی عہد خوشگوار

خیرُ القرون نیرِ تابانِ نعت ہے


حکمِ تُعَزِّرُوہٗ ادب گاہ مصطفی

لاتَرْفَعُوا عقیدہ و ایمانِ نعت ہے


لولاک کیا ہے مدحتِ سرور کے باب میں؟

اللہ کی محبت و برہانِ نعت ہے


عقدہ کشا ہے آیتِ صَلُّوا وَسَلِّمُوا

بے شک درودِ پاک بھی فرمانِ نعت ہے


یُعْطِیْکَ رَبّّکَ سے تونگر بشر بشر

الفقر فَخْرِی رزقِ گدایانِ نعت ہے


پیماں شبِ الست کا لا شک ذالک

قربان جائیے کہ وہ پیمانِ نعت ہے


تحتِ سری سے عرش بریں تک کے سلسلے

جس سے مہک رہے ہیں وہ لوبانِ نعت ہے


اے شہسوارِ دشتِ غزل ہوش میں تو ہے؟

نادان! احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


حقِ ثنا ہو کس سے ادا اور کس طرح

سب خاک اس سفر میں وہ کیوانِ نعت ہے


مجھ سا حقیر آپ کو نذرانہ دے تو کیا

کر لیجیے قبول یہ دیوانِ نعت ہے


یہ شہرت و مقام یہ سطوت یہ ننگ و نام

میری بساط کیا ہے یہ فیضانِ نعت ہے


محشر میں اطمنان سے ہوں گے ہم امتی

حاصل ہمیں شفاعتِ جانانِ نعت ہے


جذب و شعور و فکر و فن و خامہ و ہنر

کاشر ہر ایک شے مری قربانِ نعت ہے

شوکت شفا ۔ نامِ نبی ؐ کی پنکھڑی سامانِ نعت ہے[ماخذ میں ترمیم کریں]

ڈاکٹر شوکت شفا، کشمیر


نامِ نبی ؐ کی پنکھڑی سامانِ نعت ہے

تعظیمِ مصطفے کی لڑی جانِ نعت ہے


شبنم نہیں یہ اشک اسی گل بدن کے ہیں

پتی ہر ایک پھول کی مژگان نعت ہے


بادِ نسیم اصل میں ہے کیا ، ہے نعت ِ پاک

بلبل کی چہچہٹ بھی دبستانِ نعت ہے


اے باغ بوٹا بوٹا ترا دینِ نعتِ پاک

تیری چمن کلی کلی احسانِ نعت ہے


میری ہرایک بات سے آتی ہے بوئے نعت

گویا مری زبان گلستانِ نعت ہے


کہتی ہے ہر اک آنکھ سے تیری شفا یہ نعت

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


شفیق رائے پوری، جگدل پور چھتیس گڑھ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : غلام فرید واصل

جب سے ہمارے ہاتھوں میں دامانِ نعت ہے

ہم پر سدا عنایتِ جانانِ نعت ہے


گلہائے عشقِ سرورِ عالم سے ہے سجا

بے مثل و بے نظیر گلستانِ نعت ہے


حمدِ خدا کی راہ تو آسان ہے بہت

چلیے سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


شہرت کی شکل میں کبھی عزت کی شکل میں

ہم پر برس رہا ہے جو بارانِ نعت ہے


ہر شعبۂِ حیات ہے ممنونِ مصطفے

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


عشقِ رسول اور شب و روزِ مصطفے

ان سے بھرا ہوا ہی تو ہر خوانِ نعت ہے


"اُن کی مہک نے" کہئے کہ "پر کو خبر نہ ہو"

لا ریب ہر کلامِ رضا جانِ نعت ہے


قرآن اور حدائقِ بخشش ہے سامنے

اپنے لئے تو بس یہی سامانِ نعت ہے


اللہ کا دیا ہوا سب ہے ، بجا مگر

جو کچھ ہمارے پاس ہے فیضانِ نعت ہے


رہ رہ کے پھر خیال میں آنے لگے حضور

چلیے شفیق آج پھر امکانِ نعت ہے

شہر یار خرم ، اٹک [ماخذ میں ترمیم کریں]

کیسے کسی کو دل میں بسائیں گے ہم بھلا

سینے میں دل جہاں وہیں کاشانِ نعت ہے


جاہ و جلال و عزت و رتبہ ملا مجھے

یہ مجھ گناہگار پہ فیضانِ نعت ہے


تم کو پناہ دے گا زمانے کے رنج سے

آجاؤ عاشقو کہ یہ دامانِ نعت ہے


تدریس و تربیت ہو یا انصاف و عدل ہو

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


سالک نے ڈرتے ڈرتے جسارت تو کی مگر

اک شعر پر محیط یہ دیوانِ نعت ہے


شاعر: شہر یار خرم بٹ ، اٹک

شہریار زیدی، لاہور[ماخذ میں ترمیم کریں]

مجھ بے ہنر پہ یہ بھی تو احسانِ نعت ہے

ہر شعر میرا شمع شبستانِ نعت ہے


تجھ کو درِ حبیبؐ تلک لے کے جاونگی

مداح مصطفٰیؐ سے یہ پیمانِ نعت ہے


اہلِ زمین نے بھیجا ہے پھر ہدیہِ درود

یہ مصطفٰیؐ کی بزم میں اعلانِ نعت ہے


کیا خوف رہزنوں کا انھیں راہِ شوق میں

محفوظ جن کے سینوں میں سامانِ نعت ہے


وہ سوزِ دل ہو یا ہوں تفکر کی وسعتیں

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اللہ اور ملائکہ سب پڑھتے ہیں درود

یہ عرش ہے یا گوشہِ ایوانِ نعت ہے


ٹھکراتا ہے وہ دونوں جہاں کی مسرتیں

خوش بخت کتنا صاحبِ عرفانِ نعت ہے


ہر فرد شہریار نبیؐ کے گھرانے کا

لاریب! رشک لُو لُو و مرجانِ نعت ہے


شہزاد بیگ، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

جیسے جہان سارا یہ ایوان ۔ نعت ہے

ہاتھوں میں اس طرح مرے دیوان۔نعت ہے


لکھ لکھ کے کررہا ہوں روانہ جو رات دن

یہ جذبہ ہے مرا کہ قربان۔نعت ہے


صل علی کا ذکر ہے دنیا میں ہر جگہ

تسلیم۔دوجہان بھی ایقان ۔ نعت ہے


خوشبو دیار۔دل میں جو پھیلی ہے چارسو

خوشبو نہیں ہے یہ مرا ایمان ۔ نعت ہے


دیوار ۔ خستگی میں بنا ہے نیا جو در

"ہر شعبہ ۔ حیات میں امکان۔نعت ہے"


رمضان میں لکھی ہے عقیدت میں ڈوب کر

یہ زیست بھی تو صورت ۔ عنوان۔نعت ہے


ہم لازمی منائیں گے میلاد۔ مصطفی

یہ رونق ۔ جہاں بھی فیضان ۔ نعت ہے


جاری ہے ایک عرصہ سے جو شہر۔نعت میں

یہ شاعری نہیں ہے یہ فیضان۔نعت ہے


جو دل میں بس گئی ہے عقیدت حضور کی

ہر شخص اپنی ذات میں سلطان ۔ نعت ہے


کرتا ہوں جان و دل سے میں تحریر نعت جو

وجہ ۔ تجلیات ہے ایمان ۔ نعت ہے


سیرت کے واقعات کے قربان جاوں میں

جو مصطفے کی شان کے شایان ۔ نعت ہے


بڑھیا سے لے کے حضرت حساں کی نعت تک

ہر ایک ایک واقعہ امکان ۔ نعت ہے


صل علی کا ورد زباں پر ہے صبح و شام

شہزاد بیگ آپ کا دربان ۔ نعت ہے

شہزاد مجددی، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : علامہ شہزاد مجددی

اک نامِ مصطفیٰ ہی فقط جانِ نعت ہے

جواس کےذیل میں ہےوہ شایانِ نعت ہے


 کوئی کلام ہو کہاں شایان ِ نعت ہے

قرآنِ پاک ہی ہے جو قرآنِ نعت ہے


الحمد کےالف سےحدِحرفِ سین تک

کتنا وسیع دیکھیے میدانِ نعت ہے


پیشِ نظرحضور کا اسوہ رہے تو پھر

ہرشعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


ختم الرسل کے ہاتھ کی انگشتری تو دیکھ

اس میں جڑا نگینہ ٔ مرجانِ نعت ہے


مقدورہوتو پوچھ لو روح الامین سے

اس دور میں بھی کیا کوئی حسان نعت ہے


فردِعمل کا کوئی بھروسہ نہیں حضور!

کرنے کوپیش بس یہی دیوانِ نعت ہے


اےمدح خوانِ شان رسالت بتا مجھے

پیش نظرترے کوئی میزانِ نعت ہے


کچھ آگہی تھی مجھ کوبھی حامیم دال سے

سو میں نے کہہ دیا مجھے عرفانِ نعت ہے


دفتر کئی لکھے ہیں مدیحِ رسول میں

شہزاد آج تک مجھے ارمانِ نعت ہے

شیر افضل شیر، جینیوا، سوٹزرلینڈ[ماخذ میں ترمیم کریں]

موسم بہار عجز ہے میلان نعت ہے

ان کا خیال آیا ہے امکان نعت ہے


ہر ہر ادا حضور کی عنوان نعت ہے

جس کی پسند آ گئی حسان نعت ہے


ان پر مرا تھا عالم ارواح میں کبھی

مجھ پر بھی ان کی رحمت و باران نعت ہے


پہنا گئے ہیں وہ جسے اسوائ کا پیرہن

وجدان نعت ہے اسے عرفان نعت ہے


ہر شے بنی ہے جب میرے آقا کے نور سے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


یذدان و ملک جسکے قصیدہ سرا ہوں شیر

لاریب وہ کتاب خود قرآن نعت ہے

شیر محمد، جھارکھنڈ، بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : نواز اعظمی

روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے

توصیف شاہ دہر کی عنوانِ نعت ہے


تعمیر ذات میں بڑا احسان نعت ہے

مجموعۂ کلام بھی دیوان نعت ہے


ہر شعبۂ حیات کے سرکار رہنما

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


  • لا‌ یمکن الثناءُ کما کان حقہ*

یہ عجز و اعترافِ ادیبان نعت ہے


تعریف واہ واہ نہ تحسین و آفریں

چشمِ کرم، دوائے مریضانِ نعت ہے


پروانۂ نجات بھی ہوگا بروز حشر

مجھ پر خطا کے ہاتھ میں دامان نعت ہے


باشندہ جو بھی عالمِ شعر و ادب کا ہے

کاسہ بدست بر درِ ایوان نعت ہے


الفاظ لاؤں کوثر و تسنیم سے دھلے

ذوق سخن وری مرا مہمان نعت ہے


پاکیزگئ حرف کو حاصل اسی سے بھیک

صوت و صدا کا حسن بھی فیضانِ نعت ہے


آداب و احترام ثنا اس سے سیکھیے

قرآنِ رب ذریعۂ عرفان نعت ہے


سیراب ہو رہا ہوں میں ذکر رسول سے

کشتِ سخن پہ چشمۂ باران نعت ہے


حورو ملک کہ جن وبشر آنکھوں میں رکھیں

ہر دلعزیز بلبل بستانِ نعت ہے


شعری وجود و چشم ہے محفوظ ضعف سے

اشہر کے بخت میں نمک و نانِ نعت ہے

شیر محمداشہر شمسی منانی، جھارکھنڈ (ہندوستان)

صادق جمیل، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

اللہ کیا ہے خالق ِ سامان ِ نعت ہے

لوح و قلم ہی اصل میں شایان ِ نعت ہے


شامل یہ نشریات میں اعلان ِ نعت ہے

صادق جمیل ملحق دامان ِ نعت ہے


اس سے سوا بھی کیا کوئی احسان ِ نعت ہے

مجھ کو خدا نے بخشا قلم دان ِ نعت ہے


حد ِ نظر سے آگے بھی ایوان ِ نعت ہے

جبریل جانیے کہ نگہبان ِ نعت ہے


سیرت اگر ہے آپ کی پیش نظر مدام

"ہر شعبہ ءِ حیات میں میں امکان ِ نعت ہے "


صحرا صفت وجود بھی شاداب ہوگیا

برسا کچھ اس طریق سے باران ِ نعت ہے


حمد ِ خدا سے نعت ِ رسالت مآب تک

حسن ِ سخن کی جان بھِی فیضان ِ نعت ہے


اسری کی رات دیکھی کسی اور نے نہیں

جبریل کو ہی اصل میں عرفان ِ نعت ہے


سینے میں اور کوئی بھی خواہش نہیں جمیل

ارمان ہے تو ایک ہی ارمانِ نعت ہے

صائمہ آفتاب، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مجھ بے نوا کے پاس کیا وجدانِ نعت ہے

نادم سا ایک اشک ہی سامانِ نعت ہے


اچھا عمل بھی مدحتِ خیر الانام ہے

“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


آدم نے سیکھا اسمِ محمد ، نبی ہوئے

یعنی یہ کائنات دبستانِ نعت ہے


جتنا یہاں سکوت ہے یکسر درود ہے

جتنا یہاں کلام ہے فیضانِ نعت ہے


جو عرش پر امامِ صف انبیاء بنا

محبوب کبریا وہی سلطانِ نعت ہے

صائمہ اسحاق، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے

صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے


پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے

جب خود درودِپاک ہی دربانِ نعت ہے


ہرسانس مستفیض ہے ان کے وجود سے

'؛ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے؛


اے کاش کم سخن کو بھی آئے ثنا گری

قرطاس کو قلم کو بھی ارمانِ نعت ہے


جیسے ہر ایک شے میں ہے عشقِ محمدی

ویسے ہر ایک شے میں ہی میلانِ نعت ہے


کوثر سے جام اس کو عطا ہو مرے حضور

شامل قطار میں جو ثنا خوانِ نعت ہے


کیا کیاسخن طرازہیں اس کارزار میں

ناچیز کو سہاریے میدانِ نعت ہے


قوسین ہے خدا سے محبت کا سلسلہ

معراج کا سفر بھی تو اعلان ِ نعت ہے


کچھ اور تو نہیں مرے توشے میں صائمہ

حبِ رسول ِ پاک ہی سامانِ نعت ہے

صفیہ ناز، مڈلزبرو، یوکے[ماخذ میں ترمیم کریں]

چشم کرم حضور کی فیضان نعت ہے

رزق_سخن ملا جو یہ احسان _ نعت ہے


لکھی ثنا تو ہو گئے الفاظ نوُر نوُر

اور جگمگا اُٹھا میرا دیوان_ نعت ہے


مدحت کے پھول بے بہا دامن میں آ گئے

کتنا وسیع ان کا گلستان_ نعت ہے


کچھ سسکیاں ہیں اشک ہیں کچھ درد اور دروُد

اتنا سا پاس میرے بھی سامان_ نعت ہے


عشق_ نبی میں ڈوب کے جو بھی کرے ثنا

وہ ہی عظیم ہے وہی سلطان_ نعت ہے


غار_حرا کا نوُ ر ہی آنکھوں میں ہو بسا

پھر خامہ بھی لکھے گا جو شایان_ نعت ہے


دل میں سجی ہو یاد جو آقا کریم کی

"ہر شعبہ ء حیات میں امکان_ نعت ہے"


آئی بہار نعتوں کی کلیاں چٹک گئیں

اے ناز تیرے قلب پہ باران_نعت ہے

صغیر انور وٹو ، اسلام آباد[ماخذ میں ترمیم کریں]

کس کو، شعور_وسعت_ دامان _نعت ہے

وہ خوش نصیب ہے، جسے عرفان_ نعت ہے


در کھل گیا ہے خیر کا، رحمت کا، نور کا

لے آئے ،جس کے پاس ،جو، سامان_ نعت ہے


لکھی نہیں ہے، مجھ کو عطا کی گئی ہے نعت

آنکھوں میں نم نہیں ہے یہ باران_ نعت ہے


اس ذات کو ہی زیبا ہے مدحت حضور کی

اس کا کہا ہی اصل میں شایان_ نعت ہے


مجھ بے ہنر پہ ان کا کرم ہو گیا تو پھر

میں بھی کہوں گا یہ مرا دیوان_ نعت ہے


قرآں بتا رہا ہے سراپا حضور کا

کس درجہ واشگاف یہ اعلان نعت ہے


روشن ہے کائنات اسی ایک نور سے

انور، وہ آپ شمع ٕ شبستانٕ نعت ہے

صہیب ثاقب[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد صہیب ثاقب

کیوں کر کہوں کہ ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے

کیجے قبول! اک تہی دامانِ نعت ہے


میں حرفِ احتیاج سے نکلوں تو کچھ کہوں

اس کے سوا بھی کیا کوئی سامانِ نعت ہے؟


آنکھوں میں اشک، دل میں تڑپ، لب پہ ان کا نام

ہوں مُستعد کہ لمحۂِ امکانِ نعت ہے


اِس کے ہر ایک گوشے میں، مدحت کے پھول ہیں

یہ دل مرا ہے یا چمنستانِ نعت ہے


میرا نہیں کلام، یہ اُمّ الکلام ہے؛

فرمانِ عائشہ ہے کہ "قرآن، نعت ہے"


ہر ہر ورَق ہے ان کی ستائش کا ایک باب

ہر لفظ پیشِ خیمۂِ عنوان نعت ہے


دم توڑتی ہیں یاں سبھی مُعجز بیانیاں

اس بارگہ میں خامشی، شایانِ نعت ہے


ثاقب کو پچھلی صف کے غلاموں میں دیکھیے

کچھ ادّعا نہیں کہ یہ حسّانِ نعت ہے

ضمیر درویش، مراد آباد، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر چند بے نوا ہوں پہ عرفانِ نعت ہے

فیضانِ نعت ہے ارے فیضانِ نعت ہے


قرآں میں رب بھی کرتا ہے توصیفِ مصطفٰی

سلطانِ ہست و بود بھی سلطانِ نعت ہے


دراصل ہو رہا ہے یہ دل پر نزولِ نعت

عالم عجیب دل کا جو دورانِ نعت ہے


کس منھ سے کہتے ہو مجھے کم مایہ وغریب

مَیں وہ ہوں جس کے ہاتھوں میں دیوانِ نعت ہے


کیجے جونظم سیرتِ اقدس بھی نعت میں

'ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


'درویش' حرف حرف سے آئیں گی خوشبوئیں

عشقِ حبیبِ پاک اگر جانِ نعت ہے

ضیا بلوچ، کوئیٹہ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

حال آں کہ زرّے زرّے میں اعلانِ نعت ہے

اس سے کہیں کُشادہ یہ دامانِ نعت ہے


یوں ہی نہیں عروج پہ آھنگِ کائنات

سب کی زباں پہ سورۂ رحمانِ نعت ہے


ذکرِ خدا کو ذکرِ نبی سے بڑھائیے

یہ ذکر اپنی اصل میں قرآنِ نعت ہے


دنیا کی مشکلات کو خاطر میں لائے کون

دنیا تو گردِ خاک نشینانِ نعت ہے


مدحِ رسولِ پاک کا ارماں بہت، مگر

آسانیوں میں مشکلِ آسانِ نعت ہے


لازم نہیں کہ عشقِ نبی شعر تک رہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


میں وہ بلوچ ہوں کہ دلِ عشق زار کو

جس زاویے سے دیکھیے بولانِ نعت ہے


میں جو ہرا بھرا ہوں تو اسمیں عجیب کیا

رگ رگ میں بوند بوند میں بارانِ نعت ہے


فردوسِ حرف و صوت مبارک ہو اے غلام!

تم پر ضیا بلوچ یہ احسانِ نعت ہے

طارق چغتائی، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

سیرت سے جو کشید ہے سامانِ نعت ہے

مصرعے رواں دواں ہیں یہ فیضانِ نعت ہے


دلوائے گا نجات وہ محشر کی دھوپ میں

سامانِ آخرت میں جو دیوانِ نعت ہے


لغزش ذرا بھی کفر کے زمرے میں آئے گی

لکھنا سنبھل سنبھل کے یہ دامانِ نعت ہے


آنکھوں میں ہے خیالِ محمدؐ سے روشنی

رچ بس گیا ہے دل میں جو ارمانِ نعت ہے


لکھی ہوئی ہے بات زمانے کی لوح پر

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


نعتِ رسولؐ سن کے دلوں کو سکوں ملے

ذکرِ رسولؐ اصل میں بارانِ نعت ہے


نعتیں سنی تو پھر مجھے احساس یہ ہوا

سیرت کرو بیان یہی جانِ نعت ہے


کھلتے ہیں اس پہ آیہء قرآن کے رموز

جس شخص کو ذرا سا بھی عرفانِ نعت ہے


بنتِ رسول شیرِخدا اور حسن حسین

مہکا ہوا انہی سے گلستانِ نعت ہے


طارقؔ اگر میں شہرِ ادب میں ہوں معتبر

یہ فیض ہے حضورؐ کا احسانِ نعت ہے

طارق شہزاد، جدہ ، سعودی عرب[ماخذ میں ترمیم کریں]

گلزار۔حسن_ فکر پہ احسان_ نعت ہے

سب تتلیوں کے ہاتھ میں گلدان_نعت ہے


جو کنز _ کن ہے سارا ہی سامان_نعت ہے

ہر شعبہء حیات میں امکان_ نعت ہے


درباں کو کاش داور _ محشر یہ حکم دیں

روکیں نہ اس کو صاحب_ دیوان_ نعت ہے


فصلیں خیال_سبز کی اگتی ہیں جا بجا

کشت_ سخن بھی تحفہء دہقان_ نعت ہے


اک دن چھپے گا میرا بھی دیوان ! دیکھنا

حاصل مجھے بھی صحبت_ یاران_ نعت ہے


پھوٹے ہیں پور پور سے چشمے درود کے

ٹھہرا سراے روح میں مہمان_ نعت ہے


کچھ اہتمام_ روز_ جزا کیجیے میاں

سودا خرید لیجیے دکان _ نعت ہے


پت جھڑ کی کیا مجال کہ چھینے طراوتیں

ان پتیوں پہ رنگ_ بہاران_ نعت ہے


مشک_ درود_ پاک سے مس کر لباس_ زیست

کھولی کسی نے کاکل_ دیوان _ نعت ہے


طاہر جان، گوجرہ[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیہم قلم رواں ہے بفیضان نعت ہے

ہر لفظ کیمیا ہے بعنوان نعت ہے


لفظوں کے ساتھ چاہیئے معانی کی احتیاط

لغزش کی جاء نہیں کہ یہ عنوان نعت ہے


اشکوں سے آنکھ ہی نہیں دل بھی ہوں دھو رہا

پاکی نگاہ و فکر کی جزدان نعت ہے


اس کی بہارِ تام خزاں سے ہے نا شناس

ہر دور میں فروزاں گلستان نعت ہے


ہر ذکر سے بلند کیا مصطفی کا ذکر

رب جہان آپ قدر دان نعت ہے


گرچہ ہے جاؔں بھی خوگرِمدحِ رسولِ پاک

حق ہے کہ صرف حق ہی کو عرفان نعت ہے


طاہر صدیقی، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ ماہ اپنے واسطے رمضانِ نعت ہے

ہر نعت اپنی حاصلِ قرآنِ نعت ہے


قرآن ہو حدیث کہ تفسیر و اجتہاد

جس کو بھی دیکھیں مصدرِ عرفانِ نعت ہے


مدحت سے ہوگئی مِری مقبول حاضری

مدحت کو جانیے مِرا ایمانِ نعت ہے


جو کچھ بھی میرے پاس ہے اُنؐ پر فِدا کروں

وہ جانِ نعت ہی مِرا جانانِ نعت ہے


ہر ایک ایک لفظ میں تقدیس آگئی

ہر رُکنِ نعت حاصلِ ارکانِ نعت ہے


آو کہیں حضورؐ کا ذکرِ جلی کریں

چلیے وہاں جو حلقہِ یارانِ نعت ہے


طائر مِرے لیے ہوئے مفتوح دو جہاں

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"

مکمل نام : پروفیسر طاہر صدیقی، فیصل آباد

ظفر اقبال نوری، امریکا[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر اسم میں شعور ہے عرفانِ نعت ہے

یعنی ہر ایک ذات میں وجدانِ نعت ہے


حامد کی حمد حمد میں ہیں نعت ہی کے راز

ذاکر کے ذکر ذکر میں اعلان ِ نعت ہے


ہر ممکن الوجود پہ واجب ہے ان کی نعت

“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


سمٹی ہے نعت ہی میں سبھی کائناتِ اسم

یعنی الف ہی میم کا عنوانِ نعت ہے


معبود دے رہا ہے تو حکمِ درود ہی

محبوبِ حق کا اذن بھی فرمانِ نعت ہے


ہےحرف حرف نعت کی اک کہکشاں سجی

اور لفظ لفظ نعت کا بستانِ نعت ہے


لہجوں میں اک مٹھاس تو روحوں میں اک نمی

ہر لحن سے جمیل یوں الحانِ نعت ہے


صورت کا حسن اس میں ہے سیرت کا بھی جمال

خالق نے خُوب لکھ دیا قرآنِ نعت ہے


قرآں کو چشمِ دل سے ذرا پڑھ کے دیکھئے

ہر ایک لفظ لؤلؤ و مرجانِ نعت ہے


سُن کر یقولُ ناعتُ آئے ہیں صف بہ صف

ہم کو علی کی بات ہی پیمانِ نعت ہے


رومی کہیں پہ سعدی و جامی بھی دل بکف

یہ کارواں مقلّدِ حسّانِ نعت ہے


ہم جی رہے ہیں نعت کے عہدِ نصیر میں

چاروں طرف حضور کا فیضانِ نعت ہے


نوری ہے تیرے لفظوں کی مبلغ بساط کیا

تیرے دل و دماغ پہ احسانِ نعت ہے

ظہیر قندیل، حسن ابدال، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد ظہیر قندیل

اجمال یہ کہ حسن ہی عنوانِ نعت ہے

تفصیل یہ کہ دہر ، دبستانِ نعت ہے


’’ہر شعبۂ حیات میں امکان ِ نعت ہے‘‘

کافی ہے یہ ثبوت کہ فیضانِ نعت ہے


بخشش کوروزِ حشر میں، سامانِ نعت ہے

کیا فکر ہوکہ ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


تشبیہ، استعارہ، کنایہ ، مجاز، رمز

ملتا نہیں بیان، جو شایانِ نعت ہے


چوموں اسے کہ دل میں بٹھاؤں میں لفظ کو

خاطر کروں نہ کیوں کہ یہ مہمانِ نعت ہے


مانو ! یہاں پہ جیت سبھی کو ہوئی نصیب

جیتو، مرے حریف یہ میدانِ نعت ہے


میں نے گزاری عمر کسی اور کے لیے

میراوہی ہے وقت جو قربانِ نعت ہے


بے حس کا دل گداز نہ ہو، کیا مجال ہے

پتھر پگھل گئے ہیں یہ ایقانِ نعت ہے


ہے سلسلہ ازل سے ابدتک جڑا ہوا

موتی نکل رہے ہیں ، یہی کانِ نعت ہے


سجدے میں سر جھکاتے ہیں مومن نماز میں

جس میں جھکی ہے روح وہ ایوانِ نعت ہے


قندیلؔ تم کو داد ملے گی ، یقین ہے

لیکن ہنر نہیں ہے یہ احسانِ نعت ہے

عادل یزدانی، چنیوٹ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

دل میں سبھی کے جاگا جو ارمانِ نعت ہے

سارے کا سارا اصل میں فیضانِ نعت ہے


قرآنِ پاک سمجھوں نہ مَیں اُس کو کس لیے

درکار جس کلام کو جُزدانِ نعت ہے


سُوئے مدینہ دھیان رہے بزمِ نعت میں

یہ احترامِ نعت ہے یہ شانِ نعت ہے


اُس ہاتھ کی رسائی کا عالم نہ پوچھیئے

جس ہاتھ کے نصیب میں دامانِ نعت ہے


لاریب ہے وہ قُربِ الٰہی کا مستحق

حاصل جسے ذرا سا بھی عرفانِ نعت ہے


کام آ گئی ریاضتِ شعر و سخن مرے

ضامن مری نجات کا دیوانِ نعت


وابستگی کا جس کی تمنّائی ہر کلیم

گلزارِ نعت ہے ، وہ دبستانِ نعت ہے


آئینِ عشقِ احمدِ مُرسل کی پیروی

اظہارِ حُبِ دین ہے اعلانِ نعت ہے


عادِل وہ دل ہی پائے گا رُتبہ شہید کا

ہر پل بہ صد نیاز جو قربانِ نعت ہے

عارف امام، امریکہ[ماخذ میں ترمیم کریں]

عالم تمام حلقۂ دورانِ نعت ہے

اعلانِ کُن کے “ن” میں اعلانِ نعت ہے


ملتی ہے عاجزی سے یہاں شعر کو اُٹھان

گردن جُھکا کے چل کہ یہ میدانِ نعت ہے


پُر پیچ تو نہیں ہے مگر سہل بھی نہیں

اے راہ رو سنبھل! یہ خیابانِ نعت ہے


سرنامۂ کلام ہیں اوصافِ مصطفیٰ ص

گویا کتابِ حق ہی دبستانِ نعت ہے


مدحِ نبی ص ہے نغمۂ تارِ نفس مدام

میں سانس لے رہا ہوں یہ احسانِ نعت ہے


سایہ ہے اِس سخن کا مِرے سر پہ تو مجھے

میدانِ حشر وادئ فارانِ نعت ہے


اس دائرے سے دور نکل اے خیالِ دہر

حّدِ ادب! یہ بزمِ سخن دانِ نعت ہے


خطبے میں جس نے دفترِ الحمد وا کِیا

تاریخ نے کہا وہ حدی خوانِ نعت ہے


کوثر سے منسلک ہے یہاں کی ہر اک رَوِش

یہ باغِ منقبت یہ گلستانِ نعت ہے

عارف قادری، واہ کینٹ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

پھیلا ہُوا جہان میں فیضانِ نعت ہے

جو جو کرم ہے جس پہ، وہ احسانِ نعت ہے


جاں ہے فداۓ مدحِ پیمبر، زہے نصیب

خُوش بخت ہوں، کہ دِل مِرا قُربانِ نعت ہے


یُوں ہی نہیں ہے وقت کی گردش تھمی ہُوٸی

جاری مِری زبان پہ گَردانِ نعت ہے


مانا اَدَب میں صِنفِ غزل بھی ہے صِنفِ خاص

دیکھیں دِلِ سخن میں، تو ارمانِ نعت ہے


آنا ذرا سنبھل کے مِرے شاعرِ عزیز

حسّاس ہے بہت، کہ یہ میدانِ نعت ہے


دِل کا گُداز، اشکِ تپیدہ، جگر کا سوز

بہرِ قبول بس یہی سامانِ نعت ہے


سب داٸرے مُحیطِ عطاۓ حضور ہیں

”ہر شعبہ ٕ حیات میں امکانِ نعت ہے“


خُلدِ بریں کی مُجھ پہ حقیقت بھی کُھل گٸی

پُر کیف و پُر بہار گُلستانِ نعت ہے


مِلتی نہیں ہر ایک کو عارف یہ روشنی

قسمت کا ہے دھنی جسے عرفانِ نعت ہے

عاصم زیدی، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے

لیکن زہے نصیب کو عرفانِ نعت ہے


"کُن" کی صدا کا اُٹھنا تو عنوانِ نعت تھا

ظاہر ہوا جو "کُن" سے وہ دیوانِ نعت ہے


قرآن پڑھ رہا ہے قصیدے رسول ؐ کے

یعنی کہ "بے نیاز" کو ارمانِ نعت ہے


شاعر تو کر رہا ہے اٙدا سُنّتِ خدا

ورنہ "احد" کی ذات ہی شایانِ نعت ہے


شانوں پہ کاتبین نے آرام کرلیا

بس لکھ دیا کہ یہ ابھی دورانِ نعت ہے


منکر نکیر اُس سے ملیں گے بصد ادب

تقدیر میں عطا جسے فیضانِ نعت ہے


کیونکر بھٹک سکے گا رٙہِ مستقیم سے

عاصم ترے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے

عاکف غنی، پیرس[ماخذ میں ترمیم کریں]

وردِ درود لب پہ ہے ،وجدانِ نعت ہے

عشقِ نبی ہے دل میں تو امکانِ نعت ہے


لاؤں اثر کہاں سے میں اپنے کلام میں

اسلوبِ فن کہاں مرا شایانِ نعت ہے


اس کے قلم سے نعت کی پھوٹے گی روشنی

جس کے دل و نگاہ میں عرفانِ نعت ہے


مدحت کروڑ ہا ہیں جو کرتے ہیں آپ کی

ان میں سے میں بھی ہوں جسے ارمانِ نعت ہے


لفظوں کا انتخاب کریں دیکھ بھال کر

محتاط اہلِ فن کہ یہ میدانِ نعت ہے


حسنِ سلوک آپ کا ہر اک سے ایک سا

ہر قول و فعل آپ کا عنوانِ نعت ہے


کہنے لگا جو نعت میں آتا گیا نکھار

لفظوں پہ میرے دیکھیے بارانِ نعت ہے

عائشہ ناز، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

موضوعِ گفتگو مرا اب شانِ نعت ہے

کتنا مرے سخن پہ یہ احسانِ نعت ہے


سب کے نصیب میں کہاں عرفانِ نعت ہے

صد شکر دل محبِّ محبانِ نعت ہے


بتلا رہا ہے اسم ِمحمّد ﷺ کہ حشر تک

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


ان کی صفات کیسے بیاں کر سکے کوئی

کہہ کر بھی نعت قلب کو ارمانِ نعت ہے


رکھی ہوئی ہیں اس میں ادب سے سنبھال کر

دل جس کو آپ سمجھے وہ جزدانِ نعت ہے


اس کی گلی گلی میں ہے مہکار نعت کی

یہ ارضِ پاک میری گلستانِ نعت ہے

عباس رضا نیر، لکھنو، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : کاشف حیدر

دنیا کی ہر زبان پہ احسانِ نعت ہے

جو شان حمد کی ہے وہی شانِ نعت ہے


یس دل ہے عشقِ رسالت ماب کا

الحمد جس کو کہتے ہیں وہ جانِ نعت ہے


حق کی نظر میں اشرفِ مخلوق ہے وہی

تھوڑا بہت سہی جسے عرفانِ نعت ہے


یوں سینچ کر گیا ہے اسے اسکا باغباں

بے خار و بے خزاں چمنستانِ نعت ہے


اے موجدِ ثنائے پیمبر تری ثنا

ہم قاریوں کے واسطے قرآنِ نعت ہے


آپس میں بات کرتے ہیں میرے دل و دماغ

میں بوذرِ ثنا ہوں تو سلمانِ نعت ہے


پروردگارِ انفس و آفاق کی قسم

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


یا صاحب الجمال و یا سید البشر

تیرے حوالے میرا دبستانِ نعت ہے


ہم کیا کریں گے لے کے جہاں کی وزارتیں

نیئر ہمارے پاس قلمدانِ نعت ہے

عباس عدیم قریشی، خانیوال، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

انکی عطا ہے اور مرا دامانِ نعت ہے

یعنی زمینِ خشک پہ بارانِ نعت ہے


فکرِ سخن ، رضا کے تکلّم کی بھیک بس

طرزِ سخن فقیر کا فیضانِ نعت ہے


ملحوظ حدّ ِ شرع و سیرت رکھی فقط

دعویٰ نہیں ہے حاشا ، کہ عرفانِ نعت ہے


مجھ پر جو حرف و معنی کے دفتر ہوئے ہیں وا

یہ اہلیت نہیں مری ، احسانِ نعت ہے


کچھ ان بہے سے اشک ہیں ، کچھ بےصدا سے لفظ

کاسے میں مجھ گدا کے یہ سامانِ نعت ہے


تغسیلِ نور کر کے اترتے ہیں یاں خیال

یہ مہبطِ جمال ہے ، میدانِ نعت ہے


یاں قدرتِ سخن نہیں ، توفیقِ نعت مانگ

غالب ہیں ہاتھ باندھے ، یہ ایوانِ نعت ہے


ہر لمحہ ہوں درود سپاس انکی چاہ میں

ہر لمحہ ان کے لطف سے قربانِ نعت ہے


کہنے کی بات ہے نہ بتانے کا حوصلہ

جتنا کرم فقیر پہ دورانِ نعت ہے


ماخوذ ہو حیات جو سیرت سے شاہ کی

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


حسّان و رومی ، جامی کا صدقہ ہے یہ عدیم

توفیقِ نعت جس کو ہے حسّانِ نعت ہے

عبدالامین برکاتی، ویراول,گجرات، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیشکش: غلام جیلانی سحر

جاری جہاں میں آج بھی فیضانِ نعت ہے

ہر شخص کی حیات ہی عنوانِ نعت ہے


یہ شان مصطفی کی ہے حمدِ خدا کے بعد

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


حسنِ عمل تو پاس مرے کچھ نہیں مگر

بخشش کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے


دیکھو پلٹ کے تم بھی تو قرآں کے پاروں کو

کرتا ہے مدح رب بھی جو سلطانِ نعت ہے


آئے نظر جو لفظوں میں عشقِ رسولِ پاک

لکھوں میں ایسی نعت جو شایانِ نعت ہے


نغمے غزل کے چھوڑ کے ایوانِ نعت میں

ہر سمت آج دیکھیے طوفانِ نعت ہے


جو کچھ لکھا امین نے وہ تو ہے مختصر

جامع ہے سب میں جو وہ تو قرآنِ نعت ہے


رکھنا قدم سنبھل کے امینِ حزیں ذرا

میدانِ نعت ہے ! ہاں یہ میدانِ نعت ہے !

عبد الباسط، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ کائنات سر بسر سامانِ نعت ہے

وہ خوش نصیب ہےجسے عرفانِ نعت ہے


اللہ کا ہے فرمان کانَ خلقہ القرآن

یعنی قرآنِ پاک بھی اعلانِ نعت ہے


میرے لبوں پہ رہتا ہے ذکرِ حضورِ پاک

مجھ پر یہ احسان بہ فیضانِ نعت ہے


آقا ہیں میرے باعثِ تخلیقِ کائنات

یہ کائنات سمجھیے دیوانِ نعت ہے


ہراک نفس پہ قرض ہے مدح حضور کی

ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے

عبدالجلیل، كوہاٹ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : حافظ محمّد عبدالجلیل

انوار سے سَجا ُہوا ایوانِ نعت ہے

مِدحت مِرےحضورؐ كی عرفانِ نعت ہے


طیبہ كی ہر گلی میں ہے مہكار اس لیۓ

ہر گام پر كِھلا ہُوا بُستانِ نعت ہے


قرآنِ پاك ذكر ہے خُلق عظیم كا

اس كا ہر ایك لفظ ہی عُنوانِ نعت ہے


ہر شعبہ حیات نے پائی ہے روشنی

”ہر شعبہ حیات میں امكانِ نعت ہے "


ذكرِ حبیبِ كبیریا ہے جلوہ گر یہاں

صد شكر ہےكہ دل مِرا جزدانِ نعت ہے


میں كیوں كہوں كہ مُفلس و نادار ہوں جلیل

زادِ سفر میں جب مِرے سامانِ نعت ہے

عبد الحلیم، گونڈہ، بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

فکر و نظر شعور میں فیضانِ نعت ہے

جو کچھ ہے میرے پاس وہ احسانِ نعت ہے


اللٰہ کے رسول کا احسان دیکھئے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


تسکین قلب کے لئے نعت رسول بس

میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے


ابر کرم حضور کا برسا ہے ہر جگہ

اس واسطے جہاں یہ گلستانِ نعت ہے


آنکھوں میں اشک دل میں وِلا لب پہ ان کا نام

ہمراہ میرے بس یہی سامانِ نعت ہے


جنبش قلم کو خوب ادب سے دیا کرو

لازم ہے احتیاط یہ میدانِ نعت ہے


عبدالحلیم جیسے بھی لکھتے ہیں ان کی نعت

کتنا وسیع دیکھئے دامانِ نعت ہے

عبد الرحمان ناصر، خانیوال، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ وحی کا نزول تو باران نعت ہے

قرآں کاحرف حرف ہی دیوان نعت ہے


احجار نے بھی نطق کیا مدحِ آقا میں

سو طاری بے زباں پہ بھی وجدانِ نعت ہے


بن کے کھڑے ہیں مقتدی جو پہلے آے تھے

ہاں معشرِ رُسُل میں یہ اعلانِ نعت ہے


ہر ذرۂ حیات ہے "لولاک" سے رواں

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


الفاظ چن تو لوح سے سدرہ سے لے خیال

پر جلتے ہیں جہاں وہاں سامانِ نعت ہے


ناصر تو نعت لکھ, ندا آے گی حشر میں

جانے دو بے حساب یہ حسانِ نعت ہے.

عبدالرحیم ارحم، حیدر آباد، سندھ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ظاہر کلام رب سے جو فرمانِ نعت ہے

تاحشروا یونہی در امکانِ نعت ہے


شان رسول پاکﷺ میں قرآں کاحرف حرف

لولوٸے نعت ہے کوٸی مر جانِ نعت ہے


ہرآن ہو جوپیش نظراسوہٕ رسول

ہرشعبہٕ حیات میں امکانِ نعت ہے


مرقد میں میرے آکے فرشتے خموش تھے

دیکھا جو میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


عشق نبیﷺ ہی پیش خدا سرخ رو کرے

عشق نبی ﷺ ہی تاررگ جان نعت ہے


دل میں مرے جو روشنی یاد نبیﷺ کی ہے

اللہ کا کرم ہے یہ احسان نعت ہے


عزم سفر ہے جانب طیبہ مرا ، کہ واں

موجود گام گام پہ سامان نعت ہے

عبد الغفار، حافظ[ماخذ میں ترمیم کریں]

رب کی عطائے خاص ہے احسانِ نعت ہے سو بار شکر مجھکو بھی عرفانِ نعت ہے

اقا عطا ھوں لفظ جو سب سے ھوں منفرد اک عرصہِ دراز سے ارمان ِ نعت ہے

عشق و شعور و فہم و خرد ہو تو باالیقیں " ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "

نظم و غزل کا شوق نہ شہرت کی آرزو مقصد میری حیات کا دیوانِ نعت ہے

یہ نام یہ مقام یہ عزت یہ آبرو جو کچھ بھی میرے پاس ہے فیضانِ نعت ہے

واجد نے عہد جب سے کیا ان کی نعت کا دل کی زمیں پہ تب سے ہی بارانِ نعت ہے

حافظ عبدالغفار واجد

عبد الغنی تائب، حافظ آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

علم و ادب میں منفرد یہ شان نعت ہے

مدح و ثنائے مصطفی' ایوان نعت ہے


پھیلی ہوئی ہے چار سو خوشبوئے جاں فزا

ارض ہنر پہ کھل پڑا بستان نعت ہے


وارفتگیء شوق ہے ، بیدار بخت ہے

یہ جان لو کہ صدقہ و فیضان نعت ہے


ہے میرے پاس جو زر عشق رسول پاک

اک فیض بار قطرہء باران نعت ہے


تسکین قلب و جان ہے یاد شہ رسل

ذکر حبیب آن سخن، جان نعت ہے


تائید جبرائیل بھی مل جائے گی اسے

کب سے دیار قلب میں ارمان نعت ہے


مقصود ہے جو چار سو ہو امن و آشتی

" ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


فتح و ظفر کا رستہ ، ہے امید کی کرن

بخشش کا آسرا یہی سامان نعت ہے


اخلاص کی مہک ہو ، موءدت کی چاندنی

لائو وہ حرف و صوت جو شایان نعت ہے


رزق سخن ہے نکہت طیبہ سے مشکبو

توفیق شعر گوئی بھی احسان نعت ہے


تائب یہ فخر اوج سعادت سے کم نہیں

دست سخن شناس میں دامان نعت ہے

عبدالقادر ہمدم قادری، گونڈہ، بھارت [ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : انصاری عبدالقادر ہمدم قادری

رحمت ہے اُس پہ جو بھی قلمدانِ نعت ہے

صد شُکر ہے خدا کا یہ احسانِ نعت ہے


سرکار ﷺ کا کرم ہے فقط اور کچھ نہیں

قلب و جگر میں آج جو میلانِ نعت ہے


سرکار ! یہ یقین ہے صدقے میں آپ کے

محفوظ میرے قلب میں ارمانِ نعت ہے


دل میں بسی ہے الفتِ سرکارِ ہر جہاں

قلب و جگر پہ دیکھئے بارانِ نعت ہے


مجھ کو شعور کب ہے کہ نعتِ نبی لکھوں

شکرِ خدا کہ آج یہ وجدانِ نعت ہے


جرم و خطا کا‌ بوجھ مرے سر پہ ہے مگر

راہِ نجات کے لئے سامانِ نعت ہے


اعلیٰ ہے کتنی دیکھئے شانِ رسولِ پاک

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


ہمدمؔ درودِ پاک پڑھو جھوم جھوم کر

شایانِ نعت ہے یہی شایانِ نعت ہے

عبد اللہ خان آبرو علیمی، بلرام پور، بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیش کش: غلام جیلانی سحر


شکرِ خدا کہ روح پریشانِ نعت ہے

سرکار ! لطفِ خاص کہ عنوانِ نعت ہے


سرکار ! مجھ گنوار کی لاج آپ کے سپرد

کچھ زادِ آخرت ہے نہ سامانِ نعت ہے


سرکار ! آپ ہی کی عطا نعت اگائے گی

کشتِ سخن میں آپ سے امکانِ نعت ہے


سرکار ! لطف آپ کا شامل رہے تو پھر

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


ہر ایک پھول رنگت و نکہت کا شاہ کار

قرآن کا, جو ایک گلستانِ نعت ہے


امداد ان کی شانِ کریمی کی واہ واہ

لب ہائے خوش نصیب پہ گردانِ نعت ہے


ہمراہ ان کا عشق اگر ہے تو ٹھیک ہے

خطرے ہیں بے شمار,کہ میدانِ نعت ہے !!


مجھ میں کوئی کمال نہیں ہے اے آبروؔ!

اک بے ہنر پہ بارشِ فیضانِ نعت ہے

عبید بخاری، لودھراں، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

خوش قسمتی سے مل گیا وجدانِ نعت ہے

اب میں ہوں اور سَیرِ خیابانِ نعت ہے


دل میں وفورِ عشقِ رسولِ کریم ہو

دشتِ سخن میں بس یہی سامانِ نعت ہے


اسمِ گرامی آپ کا مشتق ہےحمد سے

یعنی کہ نامِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


ہےنعت اپنی ذات میں یہ مصرعِ کمال

”ہرشعبہ۶حیات میں امکانِ نعت ہے“

خوش دست وخوش قلم ہےوہ خوش فکروخوش کلام

جوبھی جہاں پہ صاحبِ دیوانِ نعت ہے


ہو جاؤں وقفِ مدح تشکّر میں اے عبید

قدرت نے مجھ کو بخشا قلم دانِ نعت ہے

عتیق الرحمان صفی، گجرات، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر فکر ہر خیال میں امکانِ نعت ہے

مدحِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے


مجھ کو سخن عطا ہوا ہے برکتوں کے ساتھ

یعنی کرم ہے رب کا جو فیضانِ نعت ہے


میں نعت اُن کے عشق میں لکھتا ہوں اور بس

دعویٰ مرا نہیں ہے کہ عرفانِ نعت ہے


مجھ ایسے کم سخن کو بھی عزت ملی ہے جو

رب کی عطا کے بعد یہ احسانِ نعت ہے


اک ایک حرف چومئے لکھنے سے پیشتر

صد احترام کیجیے میدانِ نعت ہے


سیرت کے پھول نعت میں چن چن کے ڈالیے

کتنا حسین دیکھئے سامانِ نعت ہے


تعریف رب خود آپ کی کرتا ہے اس لیے

ہستی مرے حضور کی شایانِ نعت ہے


انسان و جن، ملائکہ مدحت سرا ہیں سب

اس کائناتِ نعت میں بارانِ نعت ہے


اردو کے بھاگ جاگ گئے آپ کے طفیل

ہر لفظ خوش ہے یوں کہ وہ مہمانِ نعت ہے


جب تک ہے سانس آپ کی کرتا رہوں گا مدح

میرا یہ اپنے آپ سے پیمانِ نعت ہے


اشعار اُن کی شان میں کہتے ہوئے صفیؔ

لب پر درودِ پاک ہی دورانِ نعت ہے

عثمان محمود، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

عثمان زیر-سا یۂ دامان- نعت ہے

یعنی دل-سیاہ میں امکان -نعت ہے


ایسا سکون نظم و غزل میں کہیں نہیں

جیسا سکون اب مجھے دوران -نعت ہے


بعد از خدا عظیم محمد کی ذات ہے

حمد -خدا کے بعد ہی فرمان -نعت ہے


قرآن میرے رب نے اتارا ہے آپ پر

قرآن ہی تو اصل میں دیوان -نعت ہے


محدود کب ہے مد ح -نبی شاعری تلک

ہر شعبۂ حیات میں امکان -نعت ہے


ہم سےزمانے بھر کی خزائیں ہیں دور دور

ہم پر سدا سے رحمت -باران -نعت ہے


تب سے ہوئی ہے ختم ہماری فسر دگی

آباد جب سے محفل -یاران -نعت ہے


امشب دھلیں گے داغ دل- بے قرار کے

امشب ہمارے دل میں جوارمان -نعت ہے


آبا ترے بھی مد ح سرا عمر بھر رہے

عثمان تو بھی ابن- غلامان -نعت ہے

عدنان حسن زار، گوجرنوالہ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مدحِ نبی جو کرتا ہوں، فیضانِ نعت ہے

مجھ بے ہنر پہ کیسا یہ احسانِ نعت ہے


کہتے ہیں لوگ مجھ کو ثناخوانِ مصطفی

ہاتھوں میں میرے خیر سے دامانِ نعت ہے


اس میں سمائی رہتی ہیں نعتیں حضور کی

دل میرا صرف دل نہیں، جُزدانِ نعت ہے


رفعت ہے ان کے ذکر کی عالم میں چار سو

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


میں بھی کھڑا ہوں روضۂ اقدس کے سامنے

وردِ زباں درود ہے، بارانِ نعت ہے


میرے سخن نواز کی ذرٌہ نوازیاں

مرقوم ذہن و دل میں بھی برہانِ نعت ہے


الحمد ابتداء ہے تو والناس انتہا

قرآن سارا دیکھیے سامانِ نعت ہے


شکرِ خدا کہ زارؔ کو نعمت ہے یہ ملی

حاصل مرے قلم کو بھی عنوانِ نعت ہے

عدنان محسن، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

آنکھوں میں اشک، سینے میں ارمانِ نعت ہے

مجھ بے نوا کے پاس یہ سامانِ نعت ہے


ہر راہ ہے مدینے کی جانب رواں دواں

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


عمران نے لکھی تھی جو خیرالوریٰ کی نعت

وہ مرتبے میں سورۂ رحمٰنِ نعت ہے


نوحہ ہو مرثیہ ہو مناقب ہوں یا سلام

حمدِ خدا کا فیض ہے،فیضانِ نعت ہے


اس دل پہ جاری رہتا ہے الہام کا ورود

یہ عام دل نہیں کہ یہ جز دانِ نعت ہے


اعمال کی ترازو ہے لوگوں کے واسطے

اور شاعروں کے باب میں میزانِ نعت ہے


اس وقت ہے جدا مری سانسوں کا مرتبہ

تسبیح یہ وجود کی دورانِ نعت ہے


بادل برس رہے ہیں محمد کے شہر پر

بارش نہیں جناب یہ بارانِ نعت ہے


عاصی ہوں نعت گوئی کا یارا نہیں مجھے

میرا سخن تمام ثنا خوانِ نعت ہے


یثرب میں نینوا کا مسافر ہے خیمہ زن

اک شعر جو سلام کا مہمانِ نعت ہے


اس وقت میری صدق بیانی پہ شک نہ کر

اس وقت میرے ہاتھ میں قرآنِ نعت ہے

عرش ہاشمی، راولپنڈی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

لب پرسخن ہےاور بعنوان نعت ہے

ماءل کرم پہ سرور و سلطان نعت ہے


اک نعت کہہ کے اور بھی میلان نعت ہے

کیسا کرم ہے خاص، یہ فیضان نعت ہے


جز مدحت نبی، نه لکھے گا کوئی سخن

میرے قلم کا مجھ سے یہ پیمان نعت ہے


قرطاس اور قلم کا شرف مدحت رسول

فکر سخن کو، نطق کو ارمان نعت ہے


کامل ہدایت ا'پ کا اسوہ ہے اسقدر

ہر گوشہ حیات میں امکان نعت ہے


ان کی عطا، سلام و مناقب کے سلسلے

خالق کی حمد بھی ہے یہ، کیا شان نعت ہے


ایماں کی جان ہے جو محبت حضور کی

ہاں اس کے جانچنے کو یہ میزان نعت ہے


ماہ صیام کا ذرا فیضان دیکھیے

خود 'گوشہ ادب' ہے کہ ایوان نعت ہے


ہان عرش کو ہے اپنی خطاؤں کا اعتراف

لیکن یه ہے کہ پیرو حسان نعت ہے

عرفان صادق، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ان کا کرم ہے مجھ کو جو عرفان نعت ہے

میرا تو لفظ لفظ غلامان نعت ہے


صد شکر میرے دل میں ہے اسم نبی کھلا

صد شکر میرے ہاتھ میں دیوان نعت ہے


بس شرط یہ کہ حب نبی دل کے پاس ہو

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


بتلا دیا ہےحضرت حسان نے ہمیں

جنت کا راستہ تو خیابان نعت ہے


آنکھیں ہیں یا کہ گنبد خضرا کا عکس ہیں

دل ہے کہ میرے سینے میں گلدان نعت ہے


کرب و بلا سے آتی ہے صلی علی کی گونج

صحرا میں جو کٹا تھا گلستان نعت ہے


سوچیں تو اپ کے لیے کن کی صدا لگی

دیکھیں تو ساری دنیا ہی ایوان نعت ہے


کتنے ہی شاعروں نے کہا اس زمین میں

اتنی کشادگی ہے یہ دامان نعت ہے


ان کے طفیل سے کٹا پہچان کا سفر

عرفان ذات اصل میں عرفان نعت ہے

عرفان نعمانی، راجھستان، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

اے دل تجھے نصیب جو باران نعت ہے

مخصوص تجھ پہ یہ بھی تو فیضان نعت ہے


رضواں کرے طواف ملک جس کی آرزو

صد رشک خلد تو وہ بیابان نعت ہے


تجھ کو خدا رکھے ہمیں رکھے ترا اسیر

ہم رندوں کی دعا یہ خمستان نعت ہے


گلہائے وصف شہ سے مزین ہے میرا دل

میں سوچتا ہوں دل ہے کہ گلدان نعت ہے


صبر و قرار پنہاں ہے وصفِ حضور میں

تسکینِ روح و دل تہہ دامانِ نعت ہے


لفظوں کی کائنات بھی تنگ جس جگہ وہ نعت کی زمیں ہے وہ میدان نعت ہے


مدح نبی کے فیض سے صد شکر دل مرا

فارس ہے روم شام ہے ایران نعت ہے


دل جس پہ وحی نعت اترتی ہے اس کے تو

ہر شعبہ ء حیات میں امکان نعت ہے


ہر لمحہ یہ خیال رہے تجھ کو اے قلم

عشق و ادب خلوص وفا جان نعت ہے


حسنین فاطمہ علی عثماں عمر عتیق

ہر ایک شاخ نخل گلستان نعت ہے


اشعار نعت ہوتے ہیں افطار و سحری میں

ہم روزہ داروں کے لئے رمضان نعت ہے


مولیٰ شعور نعت دے مجھ کو کہہ سکوں

عرفان تو بھی صاحب ِ عرفان نعت ہے

عرفی ہاشمی، آسٹریلیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید عرفی ہاشمی

بتلاؤں تجھ کو کیا حد عرفان نعت ہے

میرا خدا بھی قارئ قرآن نعت ہے


دین سخن میں ایک ہی مسلک رہا مرا

جو شعر بھی کہا ہے مسلمان نعت ہے


عشق نبی سے لکھی گئیں ہیں نبوتیں

پیغمبری دراصل قلمدان نعت ہے


موزوں وہ کررہے ہیں مرا مصرعہ نجات

اب تو مرا نصیب بھی دیوان نعت ہے


سین بلال اس لئے افضل ہے شین سے

لکنت زبان عشق کی جزدان نعت ہے


موقوف جسم و جاں ہے کہاں مدح مصطفے

نیزے پہ جو بلند ہے قرآن نعت ہے


کچھ اسلیے بھی تجھ سے تعلق نہیں رہا

اے جہل نفس جاں مجھے عرفان نعت ہے


میرے گنہ اِدھر،اُدھر اللہ کا کرم

اور درمیاں میں عرصہء امکان نعت ہے


آوارگی نہیں یہاں ہجرت کا ظرف لا

دشت غزل نہیں ہے یہ میدان نعت ہے


کاغذ پہ جو لکھا ہے اسے نعت مت سمجھ

پلکوں پہ جو نمی ہے وہی جان نعت ہے


جسمیں خدا نے رکھے ہیں خود آیتوں کے پھول

ایسا بھی ایک دہر میں گلدان نعت ہے

عروس فاروقی، گجرات، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : ابو الکمال عروس فاروقی

عشقِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے

ایمان ہے یہی، یہی وجدانِ نعت ہے


آقا! مجھے بھی حرفِ عقیدت عطا کریں

آقا! مجھے بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے


’’لایمکن الثناء کما کان حقہ‘‘

کہہ سکتا ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے


محبوبِ کائنات کی نعتوں کی گونج ہے

میدانِ حشر ہے کہ یہ ایوانِ نعت ہے


لے آئے تم ورق بھی، قلم بھی، دوات بھی

لیکن بتاؤ کیا یہی سامانِ نعت ہے


اپنا ہر اک مہینہ ہے اُن کی ثنا کے نام

شعبانِ نعت ہے کوئی رمضانِ نعت ہے


محدود کیجیے نہ زبان و بیان تک

’’ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘


نور و سرور پھوٹتا ہے لفظ لفظ سے

مصرع ہے یا قطارِ چراغانِ نعت ہے


تھا آشنائے طرزِ تکلُّم عروسؔ کب

حاصل ہے جو کمال بفیضانِ نعت ہے

عطاء المصطفٰی، سانگھڑ، سندھ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید عطاء المصطفٰی

مصرع سنا ہے جب سے، تو ارمانِ نعت ہے

ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے


نم آنکھ ، ہاتھ کانپتے ، تو سر، نِگوں مِرا

اور قلبِ بے قرار ، یہ سامانِ نعت ہے


ہیں چند لفظ مدحتِ سرکار میں گُندھے

عاصی کے پاس کب کوئی دیوانِ نعت ہے


اس زندگی میں جو بھی میسر ہوا مجھے

سرکار کا کرم ہے سبھی دانِ نعت ہے


مجھ سے اگر سنو تو سنو بس درودِ پاک

ہمراہ قبر میں مرے سامانِ نعت ہے

عظیم راہی، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

جب مقصدِ حیات ہی پیمانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


جاری ازل سے چشمۂ فیضانِ نعت ہے

فردوس ایک کنجِ گلستانِ نعت ہے


وہ گام زن رہے گا رہِ مستقیم پر

ہاتھوں میں جس کے گوشۂ دامانِ نعت ہے


صورت ہے ان کی آئنۂ حسنِ کردگار

اور سیرتِ مطہرہ قرآنِ نعت ہے


ذکرِ حبیب ذکرِ محب سے الگ نہیں

اللہ کی طرف سے ہی فرمانِ نعت ہے


جو شان بھی میں لکھّوں وہ اس بے مثال کے

شایانِ شاں نہیں ہے،یہی شانِ نعت ہے


گھبراتے کیوں ہو؟ دیکھو تو میزان کی طرف

راہی تمہارے پلڑے میں دیوانِ نعت ہے

علی احمد نظامی,سدھارتھ نگر,بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیش کش: غلام جیلانی سحر


صدقہ نبی کا مل گیا,فیضانِ نعت ہے

مشکل تو ہے بہت مگر ارمانِ نعت ہے


فضلِ خدائے پاک سے یہ دیکھ لیجیے

میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے


میری کہاں مجال کہ نعتِ نبی لکھوں

یہ صدقہِ رسول ہے احسانِ نعت ہے


ہوں حضرتِ بلال یا سلمان فارسی

سب کی زباں پہ نغمہِ ذیشانِ نعت ہے


اہلِ غزل سے کہہ دو کہ خاموش ہی رہیں

سب سے بلند شانِ غلامان نعت ہے


کیا لطف ہو کہیں جو نکیرین قبر میں

تیرا نجات نامہ یہ دیوان نعت ہے


شامل نظامی نصرتِ سرکار ہو اگر

,,ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے,,

علی ایاز، کبیر والہ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد علی ایاز

مجھ پر ایاز اس طرح احسانِ نعت ہے

میری تو ساری زندگی عنوانِ نعت ہے


ہر سمت سے ہے آ رہی خوشبو کمال کی

میرا خیال ہے کہ اب امکانِ نعت ہے


عشقِ رسول کے سوا ممکن نہیں کبھی

آنا سنبھل سنبھل کے یہ میدانِ نعت ہے


اللہ کا کرم ہے, نگاہِ کرم میں ہوں

ترتیب دے رہا جو میں دیوانِ نعت ہے


الفاظ ہیں اتر رہے تسنیم سے دھلے

آمد کا سلسلہ تو یہ شایانِ نعت ہے


جب آپ کائنات کے رحمت نبی ہیں, سو

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


نورو تجلیات کی بارش سی ہو رہی

مجھ پر کرم خدا کا یہ دورانِ نعت ہے


کہہ دیجیے حضور کہ تجھ کو امان ہے

سمجھوں گا میں ایاز یہ فیضانِ نعت ہے

عقیل عباس جعفری ، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

روشن ازل سے شمع شبستانِ نعت ہے

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


میری رگوں میں بھی ابوطالب کا ہے لہو

میری ہر ایک سانس پہ فیضانِ نعت ہے


جبریل ہوں کہ ہم سے فقیرانِ بے نوا

سایہ فگن ہر ایک پہ دامانِ نعت ہے


اے کاش اس فقیر کو بھی ہو کبھی عطا

اک حرف جس کو سب کہیں "شایانِ نعت ہے"


جو کربلا میں خون سے لکھا حسین نے

ہر دل میں جاگزیں وہی دیوانِ نعت ہے


منکر نکیر لوٹ گئے، کتبہ دیکھ کر

لکھا تھا " یہ گدائے خیابانِ نعت ہے"


عرفانِ نعت جس کو بھی حاصل ہوا عقیل

عمرانِ نعت ہے وہی حسانِ نعت ہے

عقیل ملک، پنڈی گھیب، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

میلانِ حمد اصل میں میلانِ نعت ہے

باطل کی جانچ کے لیے میزانِ نعت ہے


آقا نے کہہ دیا کہ ستارے ہیں پنجتن

یعنی کہ ان کا نام ہی عُنوانِ نعت ہے


اشعار بن رہے ہیں طلسمِ مہ و نجوم

کیسا سجا سجایا شبستانِ نعت ہے


لفظوں سے آشنا ہو پہ مدحت سرا نہ ہو!

یہ بھی مری نگاہ میں کفرانِ نعت ہے


محنت کشِ خیال کا رتبہ ہے بالا تر

میرا قلم اسی لیے دہقانِ نعت ہے


تزئینِ دشتِ لفظ کو پاکیزگی ہے شرط

عالِم اسے کہیں جسے عرفانِ نعت ہے


دھڑکن کے داؤ پیچ میں پنہاں ہے رمزِ عشق

دل کا توازن اب سرِ اوزانِ نعت ہے


ایسی نوازشات میسر کسے عقیل

دشتِ عرب کی گرد بھی لوبانِ نعت ہے

عقیل ہاشمی، حیدرآباد، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : ڈاکٹر عقیل ہاشمی

ایماں کی ہے نوید کہ احسان نعت ہے

ہرشعبہ حیات میں امکان نعت ہے


توقیر بندگی ہے کہ تسبیح قرب حق

یانعمت الہی بعنوان نعت ہے


شرح صدر کی بات ہے نسبت کہوں جسے

حب رسول ہاشمی فیضان نعت ہے


لاریب ہےدرود و سلاموں کا سلسلہ

مدح و ثنا کے واسطے سامان نعت ہے


توصیف شاہ کیسی بھلا کس کی ہے مجال

حق کا کلام دیکھے شایان نعت ہے


نورانی ساعتوں کا اسے اعزاز مل گیا

روح القدس کی پشتی کہ عرفان نعت ہے


وجہ نجات ہے بخدا اسوہء رسول

وہ پیروی کرے جسے ارمان نعت ہے


آیات نعت کا وہ کرے ورد صبح و شام

خوش قسمتی سے جسکو بھی ارمان نعت ہے


فرد عمل نہ دیکھ خدایا بروز حشر

میرا وسیلہ بس میرا دیوان نعت ہے

اتناہی جانتاہےتراہاشمی عقیل

لکھاقلم نےلوح پہ اعلانِ نعت ہے

علی شاہد ، کبیر والا، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

میرا نہ کوٸی لفظ بھی شایان نعت ہے

قرآن جس کی شان میں دیوان نعت ہے


مل کر درود بھیجو محمد ﷺ کی شان پر

ربِ کریم کا بڑا احسان نعت ہے


صبحِ طلوع نے مجھے آکر یہی کہا

ہر شعبہ ٕ حیات میں امکان نعت ہے


اب ڈر نہیں ہے کوٸی بھی محشر کےروز کا

محشر کو بھی شفاعتِ سامان نعت ہے


کر دو منادی میرے محمدﷺ کے نام کی

بخشش کا ہے وسیلہ یہ اعلان نعت ہے


ہر لفظ کی زباں پہ ہے سرکار التجا

ہر لفظ کو فقط یہی ارمان نعت ہے


پڑھتا ہوں ہر گھڑی میں درود و سلام ہی

شاہد مرے اثاثے میں اب دان نعت ہے

علی شیدا، کشمیر، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

قُرآن پڑھ کے دیکھ ' دبستانِ نعت ہے

خوشبوئے حرف و لفظ میں اعلانِ نعت ہے


مضمونِ ہست و بود ہے کُن کی گرفت میں

مضمونِ کُن فکان ' وہ عنوانِ نعت ہے


دھڑکن' نفس' نگاہ ' سماعت کہ صوتیات

"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


تمہیدِ حرف و لوح و قلم صنفِ لامکان

تجسیمِ کائنات بھی جزدانِ نعت ہے


امید ' روزِ حشر ہو بخشش کی اور کیا

زنبیل خاکسار میں سامانِ نعت ہے


ادراک میں سمائے کہاں حسنِ لا مثال

حیرت جو منکشف ہے یہ وجدانِ نعت ہے


شیدا جو مدح خوانِ محمد لقب ملا

انعامِ لا یزال ہے ' احسانِ نعت ہے

علی قائم نقوی، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مجھ بےنوا پہ نعت بھی احسانِ نعت ہے

ورنہ خدا کی ذات ہی شایانِ نعت ہے


گر عشقِ بُوتراب ہی سامانِ نعت ہے

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


کعبے کی سمت بھی میں مدینے سے آیا ہوں

لکھتا ہوں میں جو حمد یہ فیضانِ نعت ہے


مکہ سے کربلا اسے عمران لائے تھے

کربل سے پھر حُسین۴ نگہبانِ نعت ہے


اک اہلیبیت۴ چھوڑے ہدایت کے واسطے

دوجا یہ تیس پاروں کا دیوانِ نعت ہے

علیم اطہر، لاہور، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

مجھ پہ کرم ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے

میرے جنون کو بھی تو عرفانِ نعت ہے


الفاظ باوضو ہیں، تخیّل مدینے میں

میرے قلم کی نوک میں وجدانِ نعت ہے


ہونٹوں پہ وردِ صلّی علٰی، دل سکون میں

اور چشمِ تر میں تیرتا سامانِ نعت ہے


کافر جو نعت کہتا ہے اس کو مرا سلام

دراصل دل بھی اس کا مسلمانِ نعت ہے


رک جائے ساری گردِشِ دوراں سنے وہ نعت

وہ لمحہ جاوداں ہے جو دورانِ نعت ہے


ہر کہکشاں میں نورِ رسولِ خدا ﷺ ملا

"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


تخلیقِ کائنات بوجہِ رسولِ پاک ﷺ

اور حُکمِ کُن فکاں ہی تو اعلانِ نعت ہے


صلّو علی الحبیب ﷺ فرشتوں کی لوریاں

سدرة کی انتہاء پہ بھی وجدانِ نعت ہے


عمران تنہا ، کامونکی ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

اک عرصۂ دراز سے ارمانِ نعت ہے

لیکن کہاں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے


لکھنے لگوں تو دل پہ اترتے ہیں خود خیال

اللہ نوازتا مجھے دورانِ نعت ہے


انسان کی بساط ہے جتنا وہ کھوج لے

"ہر شعبہءحیات میں امکانِ نعت ہے "


ہم کو ملے گی نسبتِ حسان حشر میں

صد شکر اپنا پیشوا سلطانِ نعت ہے


تم کو امر کروں گا مضامینِ نعت سے

میرا یہی حروف سے پیمانِ نعت ہے


تنہا کبھی حضور نے چھوڑا نہ رنج میں

میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے

محمد عمران تنہا

عمران شریف، مدینہ منورہ، سعودی عرب[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : محمد علی حارث

دنیا اگرچہ ساری ہی سامانِ نعت ہے

تشنہ حضور پھر بھی دبستانِ نعت ہے


ہیں ساتھ اس کے روشنی عنبر گلاب و نور

دورِ قلم کے پاس نہ فقدانِ نعت ہے


ہوگا مگر کشید عطا سے نبی کی،جو

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


میرے قلم کی باندی بنی ہے سخنوری

صد شکر یہ فقیر پہ احسانِ نعت ہے


ہر امرِ ربیِ میں ہے بلندی حضور کی

لولاک کی صدا نہیں اعلانِ نعت ہے


قرآن الف سے سین تلک نور ہے مگر

رشد و ہدا کے ساتھ یہ دیوانِ نعت ہے


کاندھوں سے میرے کاندھے ملائے فرشتوں نے

دیکھا جو میرے ہاتھوں میں دامانِ نعت ہے


تصویر جس سے لطف و کرم کی میں بن گیا

عمران اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے

مکمل نام : محمّد عمران شریف

عمر فاروق ناعم، چکوال، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد عمر فاروق ناعم

جب سے خیال و فکر پہ باران نعت ہے

کھلنے لگا سخن سے گلستان نعت ہے


کعبہ ثناء و حمد کا مرکز ہے اولین

اور مدح میں مدینہ خیابان نعت ہے


کون و مکاں سجائے گئے جن کے واسطے

وہ ذات مصطفیٰ ﷺ ہی تو عنوان نعت ہے


ڈھل کر نبی ﷺ کے اسوۂ کامل میں دیکھیے

"ہر گوشۂ حیات میں امکان نعت ہے"


شہرت نہیں کبھی بھی مرا مطمحِ نظر

مقصود نعت گوئی سے عرفان نعت ہے


رحمت کا سائبان مرے سر پہ تن گیا

کیسا یہ مجھ اثیم پہ احسان نعت ہے


رنج و محن بھی حزن بھی کافور ہوگیا

درمان میرے درد کا دامان نعت ہے


اے کاش جالیوں کے مقابل سناؤں نعت

حسرت ہے دل کی میرا یہ ارمان نعت ہے


الفاظ آبِ گِل سے کریں بارہا وضو

پھر بھی کہاں وہ لفظ جو شایان نعت ہے


عسرت بھی مفلسی بھی جو مجھ سے ہے دور آج

کچھ اور تو نہیں ہے یہ فیضان نعت ہے


خواہش کروں کسی بھی قلم رو کی کیوں عمر

ہاتھوں میں جب کہ میرے قلمدان نعت ہے

عمر فاروق وڑائچ، پاکپتن، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : محبوب احمد، سرگودھا

والنجم کے طفیل یہ سامان نعت ہے

ورنہ کلام کب مرا شایان نعت ہے


واللیل کہ کے زلف کی تعریف کی گئی

والفجر میں بھی مطلع ذیشان نعت ہے


کوثر سے ہے مراد کثیر ان کے پاس ہے

قد جاءکم سے مقصد اعلان نعت ہے


جاؤک سے دلیل ملی نعت کے لیے

یہ بھی تو ایک صورت اعلان نعت ہے


سارا کلام حق ہی تو ہے نعت مصطفی

لیکن سمجھ سکے، جسے عرفان نعت ہے


عاصی نہائیں اس میں تو بخشش ملے ضرور

ہر دم برس رہا ہے جو باران نعت ہے


تسکین دل درود کی برکت ہی سے ملے

اور اضطراب دل ہو تو سامان نعت ہے


کھوٹے کھرے قبول ہوں، اک بول کے عوض

بخشش ملے جہاں وہی دکان نعت ہے


دامن میں اور کوئی نیکی نہ تھی مگر

جنت میں جا رہا ہوں، یہ فیضان نعت ہے


ان کی مہک سے دل نہ معطر ہوں کیوں بھلا

عنبر فشاں ہر اک گل ریحان نعت ہے


دوزخ کی آگ چھو نہ سکے گی انھیں، جہاں

عاصی چھپے ہوئے ہیں، وہ دامان نعت ہے

عمر نقشبندی، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد عمر نقشبندی

آنکھوں سے جو برستا ہے بارانِ نعت ہے

سرمایۂ حیات ہے یہ جانِ نعت ہے


پڑھنے کے باوجود اِسےہر نِماز میں

اک طبقہ ایسا ہے کہ جو انجانِ نعت ہے


محدود کب ہے دائرہ توصیف کا میاں

"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


اک ایک حرف تول پھر اُسکو رقم تو کر

یہ پُل صراط ہی ہے جو میدانِ نعت ہے


تجھ سابھی بے ہُنر لکھے اشعار جو عمر

یہ خوب جان لے کہ یہ احسانِ نعت ہے

عمیر لبریز، فیصل آباد[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : ریاض قادری، فیصل آباد


ہر وقت پلتا قلب میں ارمانِ نعت ہے

صد شکر مجھ پہ یہ بڑا احسانِ نعت ہے


پنج تن کا ذکر نعت کو دلکش بناتا ہے

یہ اصل شانِ نعت ہے اور جانِ نعت ہے


پڑھتا درود ان پہ فرشتوں سمیت رب

سارے جہان میں وہی سلطانِ نعت ہے


پرکھے ہیں میں نے زندگی کے پہلو سارے ہی

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر روز ایک رنگ نیانعت کا بنے

ملتا مدینے سے مجھے سامانِ نعت ہے


میرے لبوں سے نکلی جو بھی نعت آپ کی

ہر ایک کو میں سمجھا یہ حسانِ نعت ہے


لبریز شہر ِ نعت کا میں ایک باسی ہوں

یاں اک سے بڑھ کے ایک ثنا خوانِ نعت ہے

محمد عمیر لبریز ؔ فیصل آباد

عمیر نجمی ، رحیم یار خان، لاہور[ماخذ میں ترمیم کریں]

بیٹھا، کہا حضور(ص) سے: "ارمانِ نعت ہے"

پھر جو کہا ہے، دیکھ لیں، شایانِ نعت ہے


نعمت بھی کیا ہے "نعت" میں ضم ہو گئی ہے "میم"

شکران نعمت اصل میں شکرانِ نعت ہے


لفظوں کے لعل حرفوں کے ہیرے لگیں گے ہاتھ

جو کچھ ملے اٹھائیے، یہ کانِ نعت ہے


ایسی کوئی زبان نہیں جو کرے بیان

حالت جو میرے قلب کی دورانِ نعت ہے


اُن سے حیات، اُن سے ہر اک شعبہِ حیات

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


حجرے کی چھت پہ اتنے کبوتر یونہی نہیں

اس میں مکیں گروہِ محبانِ نعت ہے

غضنفر علی، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر شعبۂ حیات میں اعلان نعت ہے

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


صحن نبی میں حرف قطاروں میں لگ گے

دالان مصطفیٰ ہی تو دالان نعت ہے


وللیل و والضحیٰ پہ ہی موقوف تو نہیں

مصحف خدا کا سارا ہی دیوان نعت ہے


آنسو ہیں سسکیاں ہیں ندامت ہے عشق ہے

یہ ہی صریر خامہ ہےسامان نعت ہے


حالی نہیں ہوں حافظ و سعدی نہیں ہوں میں

پھر بھی میں لکھ ریا ہوں یہ احسان نعت ہے


اک حرف لکھ کے پہروں یہ ہی سوچتا رہا

کیا حرف جو لکھا ہے وہ شایان نعت ہے


ہر حرف کو برتنے لگا احترام سے

ہر حرف پر گماں ہے کہ مہمان نعت ہے


رطب اللساں ہے آج غضنفر حضور کا

احسان نعت ہے یہ ہی احسان نعت ہے

غلام جیلانی سحر، بلرام پور، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

محفوظ حرف حرف جو قرآنِ نعت ہے

خود ربِّ کائنات نگہبانِ نعت ہے


حاصل اگر اجازتِ سلطانِ نعت ہے

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


سرکار ! لطفِ خاص کا امید وار ہوں

بے چین روح کو فقط ارمانِ نعت ہے


کچھ تو شعورِ مدح عطا ہو گنوار کو

اہلِ زباں کو دعویِ عرفانِ نعت ہے


سرکار ! کچھ حروف سلامی کو پیش ہیں

مقبول ہو وہ حرف جو شایانِ نعت ہے


پروردگار ! ڈال دے سینے میں بے حساب

عشقِ رسولِ پاک, جو ایمانِ نعت ہے


کھلتے ہیں رنگ رنگ کے گل ہائے عشقِ شاہ

سینہ ہے میرا یا کوئی گل دانِ نعت ہے


گل ہائے رنگا رنگ کھلے ہیں چہار سمت

کتنا ہرا بھرا یہ گلستانِ نعت ہے


نظم و غزل کے مارے ہوئے لوگ دنگ ہیں

اس درجہ اونچی شانِ غلامانِ نعت ہے


مدح و ثنا حضور کی یوں ہی نہیں ہوئی

موجود سر پہ سایہِ دامانِ نعت ہے


پیہم نوازشاتِ رسولِ کریم واہ

محسوس ہو رہا ہے کہ بارانِ نعت ہے


اس خاص کیفیت کا بیاں کس طرح کروں

طاری جو میری روح پہ دورانِ نعت ہے


مستی میں بھی نہ ہاتھ سے چھوٹے ادب کی ڈور

مد ہوشی میں بھی ہوش اے مستانے ! نعت ہے


حد درجہ احترام و لحاظ و ادب سحر!

ہلکی سی چوک موت ہے دیوانے ! نعت ہے

غلام ربانی فارح، ، مظفر پور،> بہار < انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

محبوب رب جو مرکزِ فیضان نعت ہے

ایمان کی بھی جان وہی جانِ نعت ہے


اللہ کا کرم ہے یہ فیض رسول ہے

بخشش کو میرے پاس بھی سامان نعت ہے


سینے میں دفن میرے خزانہ ہے عشق کا

الفت نبی کی بالیقیں جزدان نعت ہے


نعت رسول پاؤ گے قرآں میں ہر جگہ

سچ ہے کلام پاک میں عرفان نعت ہے


تھوڑی توجہ کی تو معمہ یہ حل ہوا

  • ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*


مقبول بس وہ فکر ہے اس بارگاہ میں

ہے جو سخن کی شان وہ شایان نعت ہے


بیشک ادب سے چومیں گے اس کو ملائکہ

قرطاس دل کہ جس کو بہم خوانِ نعت ہے


فارح ادب سے کہہ اسے سرمایۂ حیات

عزت سے جی رہا ہے یہ فیضان نعت ہے

غلام رسول احمد ضیا ، سیتا مڑھی، بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

کہتا ہے وہ یہی جسے پہچانِ نعت ہے

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


منکر نکیر دیکھ کے مجھ کو کہیں گے یہ

اس شخص کے بھی ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


عزّت سے کھا رہا ہوں نوالہ جو صبح و شام

سچ کہہ رہا ہوں ہم پہ یہ احسانِ نعت ہے


میرا یقین کہتا ہے ہر آن ہر گھڑی

سرمایۂ نجات یہ گلدانِ نعت ہے


وہ جس کے دم قدم سے ہے قائم یہ کائنات

سرکار کا کرم ہے وہ فیضانِ نعت ہے


عشقِ رسول پاک کی لذت جو دے گیا

احمد ضیا! وہ ہند کا حسّانِ نعت ہے

غلام فرید واصل، شیخوپورہ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے

دل میں مرے بھی یا نبی ارمانِ نعت ہے


خالق نے بھر دیا میرے سینے کو نعت سے

موتی نکل رہے ہیں، دہن کانِ نعت ہے


سارے فصیح رکھتے ہیں اس بات پر یقین

نطق و سخن کا سِلسلہ قُربانِ نعت ہے


زہرا،حَسَن،حُسین بھی اس میں سمائے ہیں

کتنا ہرا، بھرا یہ گلستان نعت ہے


رَگ رَگ میں عشقِ شاہ مدینہ بسے اگر

"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


محشر کی دھوپ میں بھی مجھے سائباں ملا

شکرِ خدا کہ مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے


واصلٓ نہیں خبر کہ وزارت مِلے کسے

جُز جُز ہی آیتوں کا تَو سلطانِ نعت ہے

غلام مرتضیٰ طرب، کٹیہار,بہار، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیشکش: غلام جیلانی سحر

احسان میرے رب کا ہے,فیضان نعت ہے

میری زباں پہ ہر گھڑی گردانِ نعت ہے


نازل رسولِ پاک پہ قرآں کیا گیا

جس کے ہر ایک پارے میں عنوانِ نعت ہے


سرکار ! مجھ غریب کا بیڑا لگا دو پار

بخشش کو کچھ نہیں ہے, نہ سامانِ نعت ہے


عشقِ نبی میں دل جو تڑپتا ہے دم بدم

یعنی کہ دل مرا کوئی گل دانِ نعت ہے


آقا مِرے خیال میں کچھ بھی نہیں ہے اب

سینے میں موجزن ہے جو ایمانِ نعت ہے


اپنوں کو جو عطا ہوا کیا دیکھنا اسے

غیروں پہ بھی تو دیکھیے بارانِ نعت ہے


جاری زباں پہ نعت نبی کی ہے ہر گھڑی

کیا دل بھی اے طرب ! ترا قربانِ نعت ہے

مکمل نام : غلام مرتضیٰ طرب علیمی

غلام مصطفی دائم اعوان، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

طاری عروسِ قلب پہ وجدانِ نعت ہے

خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے


لفظوں کی عکس بندیاں ملحوظ ہوں، مگر

لازم پسِ خیال بھی عرفانِ نعت ہے


نقش جمالِ شوخیءِ آیات کیا کہوں

ہر نوکِ حرف لشکرِ مژگانِ نعت ہے


تکوینِ کائنات کا ہر لحظۂ وجود

عنبر سرشت لؤلؤِ بارانِ نعت ہے


اقلیمِ نُہ سپہر کے آشفتہ خاطرو

فرحت نواز غنچۂ بستانِ نعت ہے


نکہت فشانیءِ گلِ رَیحان و نسترن

خوشبوئے حرفِ راز بہ عُنوانِ نعت ہے


مخدومِ طائرانِ اولی الاَجنحہ، حضور

عرشِ فراخ صفحۂ دیوانِ نعت ہے


دائم فروغِ نعت کی نیرنگیاں نہ پوچھ

”ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے“

فاتح چشتی، مظفر پور، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : حافظ محبوب احمد

آغاز تا اخیر یہ ایوان نعت ہے

قرآن پاک اصل میں بنیان نعت ہے


شاید کھلے ہیں گیسوۓ مشکیں حضورکے

مہکی ہوئی جو یہ شب شعبان نعت ہے


بزم سخن میں نغمہ سراؤں کی بھیڑ ہے

اوج فلک پہ جذبۂ مردان نعت ہے


بادل برس رہے ہیں نشاط و سرور کے

ہر سمت ازدحام گدایان نعت ہے


چھلکی ہے چشم ناز کرم سےشراب عشق

مخمور آج حلقۂ رندان نعت ہے


ہوں خوشہ چین سعدی و جامی زہے نصیب

حاصل مجھے بھی صدقۂ حسان نعت ہے


ماہ و نجوم ، سدرہ و عرش و فلک ، ملک

چن لیجیے کسی کو بھی ، عنوان نعت ہے


باغ بہشت دیکھتے ہی دل پکار اٹھا

یہ گلستان و گلبن و گلدان نعت ہے


سینہ ہر ایک حرف کا ساغر بدوش ہے

برپا شعور لفظ میں ہیجان نعت ہے


اللہ رے وہ رونق شہر رسول پاک

گو آبجوۓ ہست میں مرجان نعت ہے


تنہائی کی خموشی ہو یا محفلوں کے شور

  • ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے*


  • فاتح* یونہی نہیں ہے چمن میں بہار نو

طاری گلوں پہ نشۂ الحان نعت ہے

مکمل نام : فاتح چشتی مظفر پوری

فریاب عظمی، راولپنڈی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

جو روحِ کائنات ہے سلطانِ نعت ہے

دونوں جہاں کی جان ہے وہ جان ِ نعت ہے


یارا کسے لکھے جو کہ شایانِ نعت ہے

بس رب ہی جانتا ہے جو پیمانِ نعت ہے


نم آنکھیں اور لب پہ درودوں کی ڈالیاں

مجھ ناتواں کا بس یہی سامان ِ نعت ہے


اوقات کیا بھلا یہاں مجھ سے حقیر کی

بو صیری رومی جامی یاں حسانِ نعت ہے


فطرت میں جھانک دیکھ ثناء رب ہے کر رہا

ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


سانسیں مہک رہی ہیں جو ذکرِ رسول سے

خوشبو ہے چار سو یہ گلستانِ نعت ہے


کچھ اور تو نہیں مرے اعمال میں حضور

سامان ِ آخرت یہی دیوانِ نعت ہے

فاضل میاں، میسور، کرناٹکا، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید فاضل میاں

یہ اعترافِ حسنِ قلمدانِ نعت ہے

فنِ تمام حاضرِ ایوانِ نعت ہے


مت زعم کر کہ تو کوئی حسانِ نعت ہے

چل احتیاط سے کہ یہ میدانِ نعت ہے


تیرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے

حاصل اگر ذرا سا بھی وجدانِ نعت ہے


عمرِ تمام نذر ہے اس کی تلاش میں

وہ حرفِ معتبر کہ جو شایانِ نعت ہے


صد شکر میرے بحرِ تخیل میں جابجا

لولوئے نعت ہے کہیں مرجانِ نعت ہے


کس جا نہیں ہیں لعل و گہر مدحِ شاہ کے

یہ ساری کائنات ہی اک کانِ نعت ہے


کشتِ سخن پہ فصلِ عقیدت کی ہے نمود

کیونکر نہ ہو تسلسلِ بارانِ نعت ہے


قرآں بہ نطق سوز بہ دل عجز بر جبیں

ہر اک نشانِ باج گزارانِ نعت ہے


یارب ہر ایک حمد کی مالک ہے تیری ذات

تیرا حبیب سید و سلطانِ نعت ہے


ہر رنگ ہر مہک کی ہیں کلیاں کھلی ہوئیں

روح و نظر نواز گلستانِ نعت ہے


بے روح پیکرِ سخن و حرف ہے تو کیا

تیرا خیال اے شہِ دیں جانِ نعت ہے


امشب وفورِ گریہ و زاری ہے مہرباں

آثار کہہ رہے ہیں کہ امکانِ نعت ہے


مضموں میں احتیاط خط و حرف میں ادب

لہجہ بتا رہا ہے کہ عرفانِ نعت ہے


یہ منصبِ شہیر یہ مسند کمال کی

مجھ کو اگر ملی ہے تو فیضانِ نعت ہے


کیا جانے اختتام ہو کس کیفیت کے ساتھ

انوار کا نزول ہے دورانِ نعت ہے


باہر نکل حروف و معانی کی قید سے

" ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "


درپیش اک طویل سفر ہے حیات کو

رختِ سفر میں جو ہے وہ سامانِ نعت ہے


ہوں جبرئیل پشت پہ تائید کے لیے

اک شاعرِ غریب کو ارمانِ نعت ہے


اس کی کشش الگ ہے جمال اس کا ہے جدا

کتنا بہار زا رخِ تابانِ نعت ہے


جنت کی نعمتوں کا مزہ لے رہا ہوں میں

پیشِ نگاہ جب سے مرے خوانِ نعت ہے


اس میں بیانِ حلّت و حرمت نہیں فقط

قرآن ایک جہت سے قرآنِ نعت ہے


طیبہ ہے خواب گاہ ہے خیر الانام کی

ہر گوشہ اس زمیں کا خیابانِ نعت ہے


محشر کے روز پیشِ خدا باریاب ہوں

صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


زیر و زبر میں کوئی کمی بیشی ہو نہ پائے

اے صاحبِ حروف یہ میزانِ نعت ہے


لائے کوئی کتابِ الہیٰ کے سامنے

کیسا ہی پُر اثر کوئی دیوانِ نعت ہے


رکھا ہے اک حصارِ بقا و دوام میں

کتنا فنا صفت پہ یہ احسانِ نعت ہے


منسوب ان سے ہے جو رسولوں کا ہے رسول

کیا کم یہ عظمت و شرف و شانِ نعت ہے


والشمس والضحیٰ کی تجلی ہے چارسو

فاضل اسی کا نام شبستانِ نعت ہے

فائق تُرابی، اٹک، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یُوں بھی زبانِ حال سے فرمانِ نعت ہے

ذیشانِ دو جہاں ہے جو ذیشانِ نعت ہے


ارضِ حجاز ، ارضِ درود و سلام بھی

عَرفات ِ١ نعت ہے، کہیں فارانِ نعت ہے


حیراں ہُوں بُو تُراب کے بابا کو پڑھ کے مَیں

دیوانِ شــاعــری ہــے یا قُــرآنِ نعت ہــے


پیشِ نَظَـر ہو سُنّتِ سـرکار ہر جگـہ

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


 کوئی سکھا رہا ہے ہمیں نعت کے ادب

یہ غـَـارِ ثَور ہے کہ دبســتانِ نعت ہے


اصحاب کی ثنا سے بڑھے نعت کا وقار

آلِ نبی کی مدح و صِفَت جانِ نعت ہے


رشکِ بُخـَـارا ، رشکِ سمــرقند ســر زمین

یہ سر زمینِ چھچھ ٢ بھی گلستانِ نعت ہے


 کوئی نفیسِ نعت٣ ہے،   کوئی امینِ نعت٤

منظورِ نعت ٥ ہے ، کوئی سلمانِ نعت٦ ہے


جب جب نسیمِ نعت چلے، دل مچل اُٹھے

جیسے یہ دل نہیں گُلِ ریحانِ نعت ہے


مجھ پر تری حدیث کے جوہر نہیں کُھلے

کس منہ سے میں کہوں مجھے عرفانِ نعت ہے

فراز حیدر کاظمی، مسقط، عمان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : حسنین اکبر

سر سبز کس قدر یہ دبستانِ نعت ہے

قاری جہانِ کن پئے قرآنِ نعت ہے


حمدِ خدا ہے جنبشِ اعضائے خاکسار

سانسوں کی سلسبیل میں گردانِ نعت ہے


اک سمت حمد دوسری جانب علی کی مدح

کتنا عدیل پہلوئے میزانِ نعت ہے


مجھ پر عطائے بابِ مدینہء علم ہے

حاصل مجھے جبھی تو یہ عرفانِ نعت ہے


مفہوم مِنِیت کے ذرا دیکھئے حضور

نوحے کے ساتھ دائمی پیمانِ نعت ہے


چھ سات شعر نعتِ محمد میں کہہ دیئے

حیدر پہ کیا عظیم یہ احسانِ نعت ہے

فراز عرفان، دوبئی[ماخذ میں ترمیم کریں]

قائم جو لامکان پہ ایوانِ نعت ہے

بیشک یہ شاہِ والا کے شایانِ نعت ہے


چرچا ہے شش جہت میں جو گویانِ نعت کا

لاریب یہ بوجہِ گلستانِ نعت ہے


باقی مکانِ دنیا میں گھومو پھرو مگر

طیبہ ادب سے جاؤ ، وہ کاشانِ نعت ہے


کہئے ثناء نبی کی ذرا احتیاط سے

کیونکہ خدا کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے


مداحِ مصطفیٰ کی ہے فہرست گو طویل

لیکن جو شانِ نعت ہے حسانِ نعت ہے


نسبت ہے تیری ذات سے لکھیں تری ثنا

ورنہ قلم کوئی ترا شایانِ نعت ہے ؟


جس کے سبب ہو فردِ عمل دائیں ہاتھ میں

بس ایک ایسا ہی مجھے ارمانِ نعت ہے


سامانِ آخرت ہے یہی میرا اصل میں

تھاما ہوا اسی لئے دامانِ نعت ہے


روحِ رواں ہیں آپ ہی اس کائنات کے

“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


خاکی سبھی پہ چشمِ کرم ہے حضور کی

لیکن فقط خواص پہ بارانِ نعت ہے

فرخ رضا ترمذی، کبیر والا، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

سرکار کا کرم ہے جو بارانِ نعت ہے

مولا تری عطا سے ہی فیضانِ نعت ہے


ہر سمت تیرے نور کے جلوے نگاہ میں

"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


تیرا وجود مرکز و محور ہے خیر کا

تیرا کلامِ نور ہی سامانِ نعت ہے


ذکرِ حبیب کرتے ہیں عشاق ہر گھڑی

ان کی زباں پہ ذکر بھی شایانِ نعت ہے


پتھر بدست لوگوں کے حق میں تری دعا

طائف کا سارا واقعہ خاصانِ نعت ہے


سجدہ طویل کرکے نواسے کے واسطے

سب کو دکھادیا کہ یہ ریحانِ نعت ہے


یادِ رسولِ پاک سے دل میں گداز ہے

آنکھوں سے اشک برسے ہیں، امکانِ نعت ہے


انعامِ خاص ہے مری "انعام فاطمہ*"

مالک کا یہ کرم بھی تو احسانِ نعت ہے


اپنا تو ہر سخن ہے ثنائےِ رسولِ پاک

ہر جا پہ اپنے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


تجھ پہ کرم حبیب کا " اے جانِ مرتضی"

گھر میں تمہارے مہکا گلستانِ نعت ہے


مشکل گھڑی سے مجھ کو بچاتا ہے تیرا ذکر

فرخ رضا کے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


  • بیٹی کا نام
فرقان بزمی، پیلی بھیت، یوپی، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : غلام فرید واصل

میرا خیال طالبِ عرفانِ نعت ہے

لگتا ہے طبعِ ناز کو میلانِ نعت ہے


ہر لفظ اِس کا دل میں اُترتا چلا گیا

ایسا کمالِ حسن میں دیوانِ نعت ہے


قائم بہارِ عشق و محبت ہے خوب خوب

آراستہ جہاں میں گلستانِ نعت ہے


ہر مکتبِ سخن میں اِسی کے ہیں تذکرے

معروف کس قدر یہ دبستانِ نعت ہے


ٹھہری ہوئی ہے اپنی جگہ رفعتِ فلک

صبح و مسا عروج پہ ایوانِ نعت ہے


اپنے تو اپنے غیر بھی کرتے ہیں احترام

مقبولِ خاص و عام ہے ، کیا شانِ نعت ہے


ہے کون ؟ جو نہ نعت کی کھاتا ہو نعمتیں

دونوں جہاں میں پھیلا ہوا خوانِ نعت ہے


ملتی رہی بلال کو لذّت وصال کی

شوقِ لقائے یار بہ عنوانِ نعت ہے


محبوب کے فراق کا ہے درد اس قدر

ہر آہ میں اویس کی فیضانِ نعت ہے


اُس کے لیے ہے رحمتِ سرکار میزباں

فضلِ خدا سے جو کوئی مہمانِ نعت ہے


تسلیم ہے اُنہیں کو یہ ، زندہ ہے جن کا دل

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


بزمی کی کشت شعر و سخن لہلہا اٹھی

برسا کچھ ایسے ابرِ بہارانِ نعت ہے

مکمل نام : محمّد فرقان بزمی پورن پور پیلی بھیت یوپی

فضل اللہ فانی، صوابی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

آمد کا زور شور ہے، بارانِ نعت ہے

خامہ تو آج وقفِ قلمدانِ نعت ہے


ہر عندلیبِ باغِ سخن نغمہ سنج ہے

ہر سمت جشنِ فصلِ بہارانِ نعت ہے


مشکل ہے حملِ وحْی کے مانند حملِ نعت

یعنی یہ کارِ حوصلہ مندانِ نعت ہے


صاحب نظر ہو کوئی تو ہو اس پہ منکشف

"ہر گوشہِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اصنافِ شعر میں ہے جدا رتبہ نعت کا

شاہِ غزل، گدائے گدایانِ نعت ہے


دنداں کا سِین ہے تو کہیں مِیمِ زلف ہے

قرآں نگاہِ شوق میں دیوانِ نعت ہے


حسّاں کو اور ہی قدِ شعری عطا ہوا

سلطانِ نعت، سروِ گلستانِ نعت ہے


"لولاک" کا ظہور ہے ہر شے میں جلوہ گر

ہرچیز چشمِ شوق کو سامانِ نعت ہے


ہجراں کا زخمِ کاری ہے دل میں تو کیا ہوا

فانی ہمارے پاس تو درمانِ نعت ہے

فہیم رحمان آزر، سمندری، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہم شاعروں پہ کس قدر احسانِ نعت ہے

طبع آزما جو آج پھر ایوانِ نعت ہے


ارفع سخن طراز بھی پہنچے نہ میم تک

اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے


پائے گا اِس سے دل مرا دوہری حلاوتیں

اک سلسلہ درود کا دورانِ نعت ہے


حدِ نگہ ہیں گلستاں اور گلستاں میں پھول

کتنا وسیع خیر سے میدانِ نعت ہے


مظہر ہیں تیرے نور کا عالم کی رونقیں

شمس و قمر کی روشنی عرفانِ نعت ہے


اُن کے کرم کا دائرہ محدود تو نہیں

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


محشر میں جب سوال ہو، کچھ ہے تمہارے پاس؟

تب میں کہوں کہ ہاں مرا دیوانِ نعت ہے


لمحہ بہ لمحہ ہوتی ہے مدحت حضور کی

آذرؔ ہمارا حلقہ دبستانِ نعت ہے

فیصل حسن نقشبندی، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

آنسو دلِ گداز یہ سامانِ نعت ہے

نظروں میں اُنؐ کا حسن ہی دورانِ نعت ہے


اللہ جانتا ہے حقیقت حضورؐ کی

کس کو نصیب دہر میں عرفانِ نعت ہے


صدقے میں پنجتن کے کرم تجھ پہ خاص ہے

اولاد میں مری جو یہ میلانِ نعت ہے


حُبِّ رسولؐ لے کے پڑھے کوئی دوستو !

سارا کلامِ پاک ہی دیوانِ نعت ہے


بےشک یہ اپنی عزت و شہرت وقار سب

اپنا کمال کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے


سرمایہِ حیات ہے نعتِ رسولِ پاک

صد شکر شوق ِ حلقہِ یارانِ نعت ہے


اک کیف اک سُرور ہے اک بے خودی سی ہے

حالت بتارہی ہے کہ امکانِ نعت ہے


اس کے لیے ہیں دونوں جہاں کی بھلائیاں

واللہ جان و دل سے جو قربانِ نعت ہے


دنیا میں ہر گھڑی رہی مدحت کی آرزو

زیر لوائے حمد بھی ارمانِ نعت ہے


فیصل حسنِ کرم ہے کرم ہے حضورؐ کا

تُو بھی جو ایک بُلبلِ بُستانِ نعت ہے

فیصل قادری گنوری، گنور، بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

طرزِ بیان آ گیا احسانِ نعت ہے

مجھ میں شعورِ مدح بہ فیضانِ نعت ہے


میرے شعور و فکر میں گردانِ نعت ہے

در اصل عشقِ شاہِ ہدی جانِ نعت ہے


جب سے خیال ان کا تصور میں بس گیا

افکار کا نزول ہے ! بارانِ نعت ہے


عشاقِ مصطفی کی تڑپ کی ہیں جھلکیاں

افضل مری نگاہ میں دیوانِ نعت ہے


انساں کی کیا مجال لکھے شانِ مصطفی

خود ربِّ کائنات ثنا خوانِ نعت ہے


ہم عاشقوں کو خوف نہیں روزِ حشر کا

بخشش کے واسطے یہی سامانِ نعت ہے


مداح اس کے جیسا نہیں دوسرا کوئی

حسّان جس کو کہتے ہیں سلطانِ نعت ہے


یہ ساری کائنات سما جائے گی میاں

اتنا وسیع حلقہِ دالانِ نعت ہے


خطرہ کوئی نہیں ہمیں خورشیدِ حشر کا

سر پر ہمارے سایہِ دامانِ نعت ہے


طرزِ سخن سے جس کو ذرا بھی ہے آگہی

پھر اس کے دل میں حسرت و ارمانِ نعت ہے


مدحت میں ان کی رب نے اتارا کلامِ پاک

فیصؔل بیان کیسے ہو کیا شانِ نعت ہے


فیصؔل قادری گنوری

فیضان قادری، ٹانڈا، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد فیضان قادری

سب سے بلند کہ وسیع میدانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


مچھ کو بھی نعت کہنے کا دے دیجئےشرف

مدت سے میرے دل میں بھی ارمانِ نعت ہے


میرا بھرم جو ٹوٹنے دیتا نہیں خدا

کچھ بھی نہیں یہ واللہ فیضانِ نعت ہے


اس کے عوض تو ملتی ہے قربت حضور کی

کتنوں کو دید ہو گئی یہ شانِ نعت ہے


سب بڑا سخنور میری نظر میں وہ

جس کو بھی فضلِ حق سے عرفانِ نعت ہے

قمر آسی، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

عرفانِ نعت ہے نہ ہی وجدانِ نعت ہے

لیکن ازل سے حسرت و ارمانِ نعت ہے


حکمِ خدائے پاک ہے مدحت رسول کی

صلُّو علیہِ اصل میں اعلانِ نعت ہے


طاعت نبی کی طاعتِ ربِ عظیم ہے

الفت مرے کریم کی عنوانِ نعت ہے


ہر ذی قدر خیال کو پایا ہے نعت میں

کتنا وسیع دیکھیے دامانِ نعت ہے


سب پھول محوِ رقص ہیں، غنچے ہیں مشکبار

کیسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے


ہر انتخابِ لفظ میں لازم ہے احتیاط

حد ادب جناب یہ میدانِ نعت ہے


حسان کے ہنر سے عطا ہو طریقِ نعت

درکار مجھ کو ویسا ہی سامانِ نعت ہے


تھوڑے سے غور و فکر سے یہ منکشف ہوا

" ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے "


خود خالقِ جہان ہے مداحِ اولیں

کتنی بلند و بانگ قمر شانِ نعت ہے

قمر خورشید خان، باغ، کشمیر، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

میرے نبی کی ذات ہی عنوان_نعت ہے

ذکر_رسول_ پاک تو دیوان _ نعت ہے


ملتی سخنوری کی اگر داد ہے مجھے

میں مانتا ہوں مجھ پہ یہ احسان_ نعت ہے


تعمیر_ قصر_ نعت میں لازم ہے فن مگر

عشق ونیازوشوق بھی سامان_ نعت ہے


مجھ کو جزاء_نعت_نبی ہے یہی بہت

میرے بھی ہاتھ میں تو قلمدان_ نعت ہے


حسن_نبی ثنا کے احاطہ سے ہے وراء

ہر اک ادا ہی آپ کی میدان_ نعت ہے


اتنے حسیں ہیں آپ کے لمحات_ زندگی

"ہرشعبہء_ حیات میں امکان_ نعت ہے"


قرآن تو قمر ہے قصیدہ حضور کا

اللہ کی یہ کتاب ہی شایان_ نعت ہے

قمر صدیقی , گوجرانوالہ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مجھ کمتریں کے ہاتھ قلم دانِ نعت ہے

احسانِ نعت سر بسر احسانِ نعت ہے


میں حجرهٔ درود میں رہتا ہوں ہر گھڑی

میرا خیال آج کل ، ایوانِ نعت ہے


جب آل ہے درود میں شامل، کہا گیا

پھر کربلا کا ذکر بھی عرفانِ نعت ہے


بیٹھو تو "نعت ورثہ" کے سائے میں دو گھڑی

تم بھی پکار اٹھو گے بارانِ نعت ہے


انؐ کےحضور اشکِ ندامت لئے ہوئے

فریاد و استغاثہ بھی امکانِ نعت ہے


ہیں کاف پیش نون کے آثار جس قدر

صاحب ! بقدرِ ظرف یہ سامانِ نعت ہے


ہر نعت مجھ کو نافهِٔ مشکِ خُتن لگے

حد درجہ عنبریں جبھی دالانِ نعت ہے


یادِ رسولِ پاکؐ کو لوبان داں سمجھ

اس میں سلگتا نعت گو ، لوبانِ نعت ہے


یہ بات مجھ سے رومیِ کشمیر نے کہی

قرآنِ پاک اوّلیں دیوانِ نعت ہے


ہے کنتُ کنزِ مخفی کی تفسیر یہ قمر !

"ہر شعبهِٔ حیات میں امکانِ نعت ہے"

قمر وارثی، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ہر زاویے سے ایک دبستانِ نعت ہے

وہ جس کی دسترس میں قلمدانِ نعت ہے


اُسّوہ شہِؐ انام کا ، سیرت حضورؐ کی

دنیائے نعت میں یہی دیوانِ نعت ہے


روزِ ازل سے ذکرِ نبیؐ ہے زباں زباں

یعنی ہر ایک عہد بہارانِ نعت ہے


ہم ہی نہیں، صحابہ رطب اللساں رہے

کیا پوچھئے خدائی میں کیا شانِ نعت ہے


مقبول ہو جو بارگاہِ ذیؐ وقار میں!!

سچ پوچھئے تو نعت وہی جانِ نعت ہے


رحمت کا نُور جلوہ فگن ہے وہاں وہاں

روشن جہاں جہاں بھی شبستانِ نعت ہے


منصب جدا جو حضرتِ حسانؓ کو ملا!

بے شک بہ فکرِ نعت یہ فیضانِ نعت ہے


کم کم ہے فکر اُن کی ، کسی اور صنف میں

وہ لوگ جن کے سامنے میدانِ نعت ہے


کچھ اور بات ان سے کے تقدس کی ہے قمر

منسوب جو کتاب بہ عنوانِ نعت ہے


قیوم طایر، راولپنڈی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : علیم اطہر

کتنا وسیع تر ہے جو دامانِ نعت ہے

"ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


بس شرط ہے ادا ہو مکمل خلوص سے

اک مصرع ، ایک شعر بھی دیوانِ نعت ہے


صد احترام گلشنِ جنت میں جو پڑھی

میرے حضور ﷺ ! مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے


جیسے کوئی پرندہ چہکتا اڑا پھرے

اک دل نواز تجربہ دورانِ نعت ہے


اس تن بدن پہ گنبدِ اخضر کی چھاؤں سے

مدحت رواں جو لب پہ ہے فیضانِ نعت ہے


لب پر درود آنکھ میں آنسو سجے ہوئے

اے میرے آقا ﷺ ، پاس یہ سامانِ نعت ہے


میں خار خار ، جانے کو بیتاب کس قدر

یہ جانتے ہوئے وہ خیابانِ نعت ہے

کاشف حیدر، بارٹلیٹ[ماخذ میں ترمیم کریں]

دل میں اسی لئے مرے ارمانِ نعت ہے

میں نے سنا ہے حشر میں میزانِ نعت ہے


عنوان ہی لکھا کہ قلم تھک گیا مرا

کتنا طویل جانے یہ میدانِ نعت ہے


اب خوف کچھ نہیں مجھے منکر نکیر کا

مری لحد میں ساتھ جو دیوانِ نعت ہے


لگتا ہے سجدہ ریز درِ مصطفیٰ پہ ہوں

احساس کیا حسین یہ دورانِ نعت ہے


اک منفرد سی نعت لکھوں گا میں ابکے بار

قرآں سے لفظ لوں گا جو شایانِ نعت ہے


کاشف مری نظر میں سخنور نہیں ہے وہ

جس کا قلم ابھی تلک انجانِ نعت ہے

کاشف عرفان، راولپنڈی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

ذوقِ درود ہے کہیں رُجحان نعت ہے

صد شکر میری نسل میں میلانِ نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں درکار ہیں نبی

"ہر گوشہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


روشن کیا ہے جس نے مرا گھر مرا قلم

نور محمدی ہے یہ تابانِ نعت ہے


آنکھوں میں تیرتے ہیں مدینے کے صبح و شام

محسوس ہو رہا ہے کہ امکانِ نعت ہے


تہذیبِ بے مہار کا سیرت کو شکریہ

بدلے ہوئے ہیں ہم تو یہ احسانِ نعت ہے


حسنِ عمل ہی لفظ کو دیتا ہے زندگی

معیار ہے یہی ، یہی پہچانِ نعت ہے


سیرت کا حُسن سنتِ آقا کی روشنی

کتنا سجا ہوا مرا ایوانِ نعت ہے


اشکِ فراق ، خوابِ تیقن، سلامِ شوق

کاشف ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے

کامران ارشد، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

چونکہ جہاں کی جان ہی جانان نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ہر لحظہ ہو رہے ہیں دواوینِ نعت جمع

ہر ذرہ کائنات کا دیوان نعت ہے


مد و جزر سے ذکر کے دل زندہ ہو گیا

اعجاز ماہتاب غلامان نعت ہے


معراج مصطفی نے سکھائی ہمیں یہ بات

عرش خدا بھی آپ کا ایوان نعت ہے


خوش ہوں کہ گل نعوت کے کھلتے ہیں اس پہ آج

میرا سخن بھی آج کہ بستان نعت ہے


کردیجیے نہ شاہ امم مجھ پہ اک نظر

بے تاب ہو چلا ہوں کہ ارمان نعت ہے

کوثر سعیدی , ملتان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

شاعر : راجا کوثر علی

بشکریہ : مرزا حفیظ اوج

غارِ حرا تو مرکزِ دیوانِ نعت ہے

ہر حرف جو عطا ہے وہ شایانِ نعت ہے


ممکن نہیں کہ اس کا احاطہ کرے کوئی

عشق رسول پاک جو دوران نعت ہے۔


اے وجہ ممکنات فقط آپکے طفیل

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے"


اصناف اور بھی ہیں ادب میں تو معتبر

صد شکر ہے شعور پہ باران نعت ہے


اے کاش مدح حضرت ِ جامی سی ہو عطا

کوثر کے دل میں ایک ہی ارمان نعت ہے

کوثر علی, فیصل آباد ][ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : ریاض قادری، فیصل آباد

یہ آپ کا کرم ہے جومیلان نعت ہے

لیتے ہیں جس سے آپ کا وہ خوان نعت ہے


طیبہ میں کیا حکومت شاہان نعت ہے

ہر سمت اک ہجوم گدایان نعت ہے


حسان و کعب و ابن رواحہ یہاں پہ ہیں

منبر کے پاس جوش کریمان نعت ہے


جنت کی اتنی بار بشارت اسے ملی

اپنا امام نعت تو حسان نعت ہے


رکتی نہیں ہے مدح کبھی آنحضور کی

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ان کی ہر ایک ایک دعا میں شریک ہے

دل شامل گروہ شریفان نعت ہے


یا رب نبی کی نعت اک ایسی نصیب ہو

میں جس کو کہ سکوں کہ یہ شایان نعت ہے


کچھ حسرتیں ہیں آنسو ہیں دوری کے رنج و غم

اک عمرہوگئ یہی سامان نعت ہے


بارش اتر رہی ہیں ثنائے حبیب کی

اوج خیال کوہ سلیمان نعت ہے


دامن بھرا ہو اہے عطاءے رسول سے

کافی ہمیں تو بس یہی دامان نعت ہے


پڑتی نہیں کبھی بھی کسی چیزکی کمی

فیضان نعت سا کوئی فیضان نعت ہے


ہر رنگ کے ہیں پھول کھلے میرے شہر میں

یہ شہر نعت ہے کہ گلستان نعت ہے


اللہ کرے یہ نامہ اعمال ہو مرا

میرے جو ہاتھ میں مراد یوان نعت ہے


ہوتا ہے سینہ چاک ثناءے حبیب سے

کوثر ہمارا چاک گریبان نعت ہے ۔

گل رابیل، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

تسکینِ روح کے لئے سامانِ نعت ہے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


میرے نبی کا پہلا ثنا خواں ہے میرا رب

قرآن سب سے پہلا تُو دیوانِ نعت ہے


ذکرِ رسولِ پاک ہی ہوتا ہے جا بجا

ہر آئینے کے رخ پہ ضیا بانِ نعت ہے


خوشبو ہے ذہن میں مری سانسیں ہیں عطر بیز

گردِ مشام بوئے گلستانِ نعت ہے


زیور ٹٹولتی ہوں نہ زر ڈھونڈھتی ہوں میں

دل کو تو میرے ہر گھڑی ارمانِ نعت ہے


پڑھ کر تو دیکھئے ذرا نعتیں رسول کی

کس طرح جاری آج بھی فیضانِ نعت ہے


سجتی ہیں میرے قلب میں نعتوں کی محفلیں

رابیل دل یہ دل نہیں ایوانِ نعت ہے

لیاقت علی عاصم، کراچی [ماخذ میں ترمیم کریں]

اسمِ رسولِ پاک ہی عنوانِ نعت ہے

عنوانِ نعت ہی نہیں دیوانِ نعت ہے


اے اسپِ تیز شان رقم دیکھ ہوشیار

یہ عرصہِ غزل نہیں میدانِ نعت ہے


جائز نہیں ہے اعلٰی و ادنٰی کی اصطلاح

ہم لکھنے والوں پر یہی فیضانِ نعت ہے


دنیا کی دھوپ دل کو مرے چُھو نہ پائے گی

قالب پہ میرے سایہِ دامانِ نعت ہے


عصرِ رواں ہو یا کہ وہ عہدِ گزشتہ ہو

اس کا غلام ہوں کہ جو سلطانِ نعت ہے


نقاد تھام لے کہ کوئی نکتہ دانِ شعر

ہموار سب کے ہاتھ میں میزانِ نعت ہے


دراصل نعت خواں ہے موذٌِن کہیں جسے

یعنی اذان بھی کوئی اعلان ِ نعت ہے

مبشر صائم علوی، حاصل پور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : ملک مبشر صائم علوی

اپنا تو فخر زیست میں دیوانِ نعت ہے

اپنی تو آن بان فقط شانِ نعت ہے


اہلِ سخن سنبھل کے، یہ عنوانِ نعت ہے

چلیے ٹھہر ٹھہر کے، یہ میدانِ نعت ہے


اس دن سے ہوگیا ہوں مقدر کا میں دھنی

جس دن سے میری فکر پہ بارانِ نعت ہے


منزل بھی ایسے شخص کی رہتی ہے منتظر

جس کو تلاشِ گوشہءبستانِ نعت ہے


صلِّ علٰی کی لوریاں ماوں سےہیں ملی

ہر بچہ بچہ اس لئے قربانِ نعت ہے


عزت، وقار ، و منزلت اس کا ہے پیرہن

جو شخص بھی یہاں پہ نگہبانِ نعت ہے


ایسے لگا میں اور ہی دنیا میں ہوں مکیں

یہ کیفیت بنی مری دورانِ نعت ہے


وقتِ نشور حکم ہو اے کاش اس طرح

اُس دل کو لاو جس میں کہ ارمانِ نعت ہے


عیبوں کو میرے ڈھانپ کے رکھتی ہے ہر گھڑی

صائم کے سر پہ چادرِ احسانِ نعت ہے

محبوب احمد، سرگودھا، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : حافظ محبوب احمد

پھرعالمِ حضوری ہے،امکانِ نعت ہے

تیارپھرنزول کوقرآنِ نعت ہے


دھرتی ہوآسماں ہوکہ لاہوت ولامکاں

میری نگاہ میں سبھی سامانِ نعت ہے


ہر پھول کی مہک سےمعنبر ہے کائنات

کیا پر بہار صحنِ گلستانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات میں سیرت ہے جلوہ گر

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


ہر حرفِ نعت صورتِ خاور ہے ضوفشاں

ایوانِ نور ہے کہ یہ دیوانِ نعت ہے


لوح وقلم بدست ہے ہر ایک نغزگو

جوبن پہ آج اپنے دبستانِ نعت ہے


آئےہےحرف حرف سے صلِّ علیٰ کی گونج

پایا درِ حضور سے فیضانِ نعت ہے


نعلینِ شاہ سے ہیں ہوئی تاج پوشیاں

گفتہ مرابھی صاحبو!سلطانِ نعت ہے


ہر حرف ضوفشاں ہے شبِ ماہ کی طرح

اے لذّتِ فنا! یہ شبستانِ نعت ہے


فکرونظرکےیہ بڑےمشکل ہیں مرحلے

یہ ہے حرائے نعت، یہ فارانِ نعت ہے

محبوب علی جوہر[ماخذ میں ترمیم کریں]

ان کے تو پاس سایہء دامانِ نعت ہے

رحم و کرم بھی ورثہ خاصانِ نعت ہے


پیران عشق احمد و حامد کہیں جسے

اس مصطفی کا نام ہی وجدان نعت ہے


احسن ہر اک لحاظ سے حضرتؐ کی ذات ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


روح القدس ،ہوں خلد کی خوشبوئیں ،رونقیں

کتنا عظیم تر ترا سامانِ نعت ہے


مجھ سے کہا گیا کہ ہوں صدقہ حضور ؐ کا

بابا سے مجھکو اس لیے پیمانِ نعت ہے


ہم پستیوں کے باسی ،کہاں تک رسائی ہو

بس ایک عرش ہی ترے شایانِ نعت ہے


ہر ایک کھا رہا ہے جو صدقہ رسول ؐ کا

ہر ایک اس لحاظ سے مہمانِ نعت ہے


ہیں نعمتیں کروڑوں پر ان میں عظیم تر

خالق کا ایک مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے

مجاہد علی، لاہور [ماخذ میں ترمیم کریں]

میں اور مرے حروف کی قیمت نہیں حضور

ربِّ جہاں ہی ربِّ دبستانِ نعت ہے


اِس راستے پہ عقل نہیں عشق چاہئیے

اے دل ذرا سنبھل کہ یہ میدان ِ نعت ہے

مجید اختر رومانی، راولپنڈی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مدت سے دل کو یانبی ارمانِ نعت ہے

کیجے عطا وہ حرف جو شایانِ نعت ہے



فرمانِ ربِ مصطفی فرمانِ نعت ہے

ہر بات ہی رسول کی ایمانِ نعت ہے


ہر ایک ذرہ گویا ثناءخوانِ نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


تعریف ہر زبان پہ میرے نبی کی ہے

کیا خوب ہی یہ وسعتِ فیضانِ نعت ہے


اخترکہ کیا سجائیں گے ہم ان کی محفلیں

یہ ساری کائنات ہی ایوانِ نعت ہے


محسن رضا شافی، خانیوال، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : عباس عدیم قریشی

سینے میں میرے دل نہیں گُلـدانِ نعت ہے

یا پھر جوارِ قلب ، گلستانِ نعت ہے


امکان کا وجوب ہے ممکن جہاں جہاں

" ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے "


پوچھا کسی نے نامۂ اعمال میں ہے کیا؟

عاجز نے بس کہا میاں ، ارمانِ نعت ہے


نطق و بیان و صوت و صدا تک نہیں ہے نعت

یہ بزمِ کائنات بہ فیضانِ نعت ہے


یادِ نبی میں آج ہے دل مضطرب بہت

حالت بتا رہی ہے کہ امکانِ نعت ہے


صلّ ِ علیٰ کا ورد ہے جائے نماز پر

اور کشتِ ذہن و فکر پہ بارانِ نعت ہے


نیزے پہ سر بلند ہے لب پر کلام حق

ایسا بھی کوئی اور سخندانِ نعت ہے؟


شافی خدا نے نعت میں کیا کیا سمودیا

تکوینی ارتقاء سبھی ، دیوان نعت ہے

محمد باقر ، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید محمّد باقر زیدی

کتنا وسیع حلقہء دامان ِ نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکان ِ نعت ہے"


اگتے ہیں اِس میں پھول ثناۓ رسول کے

دل کی زمین ہے کہ خیابان ِ نعت ہے


تابش سے جس کی خیمہء عالم ہے ضوفشاں

سورج نہیں یہ گوہر ِ تابان ِ نعت ہے


اُن ص کے کرم سے دفتر ِ مدحت پہ آگیا

وہ حرف ِ بے نظیر جو شایان ِ نعت ہے


پاس ِ ادب ، سلیقہء الفاظ ، عاجزی

وارفتگیء شوق میں سامان ِ نعت ہے


صَد شُکر میں سخن میں مُقلّد اُسی کا ہوں

وہ رشک ِ بوتراب ع جو سُلطان ِ نعت ہے


باقر ہمیں ملے گا ریاض ِ جناں میں گھر

گُلزار ِ ہست و بُود میں اعلان ِ نعت ہے

علی حارث، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

میرے خیال میں یہی فیضان نعت ہے

عشاق کو ملا جو یہ دیوان نعت ہے


کیوں آج تک احاطہ نہیں ان سے ہو سکا

حیراں ہیں عقل والے بھی کیا شان نعت ہے


اس پر نزول ہوتا ہے رحمت کا عمر بھر

جس شخص کے بھی ہاتھ میں دامان نعت ہے


یعنی درود اور سلام ان کی ذات پر

بخشش کے واسطے ملا سامان ِ نعت ہے


وہ ذات کارساز ہے کوشش تو کیجیے

“ہر شعبۂ ِ حیات میں امکان ِ نعت ہے”


حارث گنہگار خطاکار ہے مگر

صد شکر اس خدا کا غلامان نعت ہے

محمد شاہ ہمدانی، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید محمد شاہ ہمدانی

اب روح اور سانس بھی گردانِ نعت ہے

سو زندگی وہی ہے جو قربانِ نعت ہے


عشق ِ رسول ہی مِرا سامانِ نعت ہے

اس کے طفیل مل گیا فیضانِ نعت ہے


کرتا رہا وظیفہ درودو سلام کا

اس وقت کی وہ خامشی گردانِ نعت ہے


اللہ کے ولی نے بتائی مجھے یہ بات

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


مجھ کو ذرا بھی خوف نہیں پل صراط کا

امداد میں رسول کی فیضانِ نعت ہے


دن رات بھیجتا ہوں شہِ طیبہ پر سلام

بس آخرت کو پاس یہ سامانِ نعت ہے


ہر اشک کے سبب مرے اشعار ہوگئے

اتنا حسیں تبھی مرا دیوانِ نعت ہے


اظہارِ عشق کرتا ہوں سرکار سے میں خوب

ہوتی ہے دلبری سبھی، دورانِ نعت ہے


تم چشمِ دل سے گنبد ِخضری کو دیکھتے

خلدِ بریں کا ٹکڑا یہ، ایوانِ نعت ہے


دن رات بھیجتے رہو ان پر سلام تم

میرا عقیدہ ہے ؛یہی رحمانِ نعت ہے


جلوے رسول کے ہیں میسر مجھے مدام

لوگو میں جانتا ہوں ؛کہ امکانِ نعت ہے


اشکوں سے نعت کہتا رہا ہوں رسول کی

کتنا سکون مل گیا ؛ دورانِ نعت ہے


خلدِ بریں اسی کی ہے آمد کی منتظر

جس شخص کا عقیدہ ہے؛ ایمانِ نعت ہے


دن رات سوچتا ہوں پیمبر کی شان میں

ہر ایک شعر میرا یوں؛ مہمانِ نعت ہے


اللہ سے یہی ہے دعا، نعت کہہ سکوں

اک زیست بھر رہا مجھے ارمانِ نعت ہے


چرچا انہی کے صدقے محمد شہا ہے سب

میری حیات بن گئی عنوان ِ نعت ہے

محمد صدیق، جلال پور جٹاں، گجرات، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مدحت رسول پاک کی پہچانِ نعت ہے

الفت نبی کی آل سے پیمانِ نعت ہے


قدسی بلائیں لیتے ہیں اس خوش خیال کی

جس آدمی کے پاس بھی سامانِ نعت ہے


مال و متاع دولتِ دنیا و آخرت

جو کچھ بھی میرے پاس ہے فیضانِ نعت ہے


منظر درِ حبیب کا کیسے بیاں کروں

تنکا در رسول کا مژگانِ نعت ہے


لو لاک کا ہے معنی و مفہوم یہ کھلا

جو کچھ ہے کائنات میں سامانِ نعت ہے


ناصح نظر اٹھا کے زرا کائنات دیکھ

" ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"

مرزا حفیظ اوج، خانیوال، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

اصل الاصول بندگی عرفانِ نعت ہے

یارب وہ فکر دے کہ جوٰ شایانِ نعت ہے


یہ رفعتِ خیال ، یہ پاکیزگئ فکر

مدحت سپاس ذوق یہ، فیضانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات ترے لطف کا رہین

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


سرسبز و شاد رکھے خدا اہلِ عشق کو

عشاق کی زبان گلستانِ نعت ہے


اپنی تو جستجو کا خلاصہ یہی ہے اوج

جو کچھ ہے کائنات میں امکانِ نعت ہے

مرغوب بانہالی، کشمیر،[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیشکش : جوہر قدوسی

ہر سورئہ فُرقان اِک دیوانِ نعت ہے

ہر سُنّتِ رسولؐ اِک عُنوانِ نعت ہے


اُن کے وقار و صبر کے ذکرِ جمیل سے

ملکوت کے جہاں میں خیابانِ نعت ہے


شجر و حجر بھی آپؐ کے مِدحت گذار ہیں

عالم نواز گویا کہ فیضانِ نعت ہے


ایثار ہے سراپا ہی اسوہ رسول کا

ہر اِک حوالہ جِس کا چراغان نعت ہے


مرغوبؔ اُن کے اُسوہ میں ڈھلنے کی دیر ہے

ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے


مکمل نام : پروفیسر مرغوب بانہالی، صدر نعت اکادمی کشمیر

مرید عباس خاور، میلسی[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : یاسر عباس فراز، میلسی

اس مضطرب وجود میں بس جانِ نعت ہے

یہ فکر سانس دل سبھی سامانِ نعت ہے


آنکھوں میں خاکِ راہِ مدینہ کا نور ہے

پلکیں فلک کو چھوتی ھیں احسانِ نعت ہے


یوں مل گیا مدینے کی ٹھنڈی ھوا میں سانس

سینے کی سبز روشنی فیضانِ نعت ہے


خوابوں میں زائرینِ مدینہ ملے مجھے

تعبیر ھو گیا ھوں یہ ایمانِ نعت ہے


جبریل ساتھ لے کے پیامِ خدا چلے

گذرا جہاں جہاں سے بھی قرآنِ نعت ہے


میرا و ضو ,نماز, تلاوت, قبول ھو

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے "


نعلینِ مصطفٰی ص کا ہے نقشِ حسیں ملا

خاور مجھے عطا ھوا وجدانِ نعت ہے

مزمل رضا جاذب، امراوتی مہاراشٹر، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : محبوب احمد، سرگودھا

کونین میں بلند قلمدانِ نعت ہے

ہر مدح و وصف زینت ایوانِ نعت ہے


کوثر دوات ہو پَرِ جبریل ہو قلم

پھر بھی نہ ہو تمام عجب شانِ نعت ہے


ہر ایک حرف، مدح، ہر اک لفظ ہے ثنا

قرآن کی زبان ہی شایانِ نعت ہے


سامانِ حشر مل گیا مجھ کو بہ فیض عشق

صد شکر! میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


عشق رسول سے ہیں رضا کی بلندیاں

نعمان ِ وقت پیروِ حسانِ نعت ہے


دنیا کے راستے ہوں کہ محشر کی منزلیں

"ہر شعبہ حیات میں اِمکان نعت ہے"


جاذب خزاں کی زد میں وہ گلشن نہ آئے گا

دن رات جس پہ سایہ ء بارانِ نعت ہے

مزمل شاہ، بری امام، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کِتنا بسیط دوستو عنوانِ نعت ہے

" ہر شعبہ ءِ حیات میں امکانِ نعت ہے "


محشر میں اپنے نعت نگاروں میں گنئے گا

آقا مرے بھی ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


سرسبز کشتِ شعر ہے لطفِ کریم سے

میری بھی شعر گوئی پہ بارانِ نعت ہے


اپنے حضور کی سدا مدحت لکھا کروں

دل میں مرے تو بس یہی ، ارمانِ نعت ہے


یہ وہ چمن ہے جو کہ خزاں آشنا نہیں

مہکا ہوا ازل سے گلستانِ نعت ہے


دیکھو تو پڑھ کے غور سے قرآں کا حرف حرف

ہر ایک حرف مایۂ دیوانِ نعت ہے


واصف جو مصطفےٰ کا مزمل ہوا ہوں میں

میرا نہیں کمال یہ احسانِ نعت ہے

مسعود ساموں، بانڈی پورہ، کشمیر ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

حسن خیال سلسلہ جنبان نعت ہے

اک سلسلۂ نور بدامانِ نعت ہے


اسوہ جنابؐ کا جو حسن ہے تو لازماً

’’ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے‘‘


ہاں اے سمند شوق سنبھل کر قدم بڑھا

آساں نہیں یہ جادۂ پیچان نعت ہے


ہشیار خامہ! سجدے میں لغزش کوئی نہ ہو

ہاں چل کشاں کشاں یہ خیابان نعت ہے


ملحوظ انتہاے ادب رکھ جنابؐ میں

شان نبیؐ کا ذکر ہے ایوان نعت ہے


نیچی نگہ خمیدہ بدن چشم باوضو

لرزیدہ جاں ہو ہاں یہی شایان نعت ہے


ساموںؔ ثنا کے پھول عقیدت کی پتّیاں

پاے نبیؐ میں رکھ یہی سامان نعت ہے

بشکریہ : غلام فرید واصل

مشاہد رضا عبید، گوندا، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد مشاہد رضا عبید القادری

درمانِ درد نغمۂ ذی شانِ نعت ہے

قلبِ حزیں فدائے اسیرانِ نعت ہے


يارب! کبھی یہ دور و تسلسل نہ ختم ہو

بے پایاں دل میں جذبہ وارمانِ نعت ہے


عشقِ رسول خود ہی بناتا ہے راستے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے


پیارے رضا نےکرکے یہ سب کو دکھادیا

ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے


جس کو نہ چھوسکےکبھی بادِ خزاں کاہاتھ

ایسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے


یونہی نہیں امڈ پڑی یہ کائنات عشق

کوثر بداماں چشمۂ حیوانِ نعت ہے


ہر درد بھول کر جو مچلنا ہوا نصیب

محبوبِ رب کا صدقہ ہے، فیضانِ نعت ہے


دل جگمگارہے ہیں ، چمکتے ہیں حوصلے

روشن یہاں پہ شمعِ شبستانِ نعت ہے


راحت رساں ، قرار نشاں ، مرحمت فشاں

کیا دل نواز نغمۂ مرغانِ نعت ہے


رزقِ ثنا میں حصہ ہمارا بھی ہے عبید

از فرش تا بعرش سجا خوانِ نعت ہے

مشاہد رضوی، میلگاؤں، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

میرے لبوں پہ نغمۂ ذیشانِ نعت ہے

"ہر گوشۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


میرے شعور و فکر کو بالیدگی ملی

لاریب مجھ پہ دوستو فیضانِ نعت ہے


اس کی نجات کے لیے ساماں بنے گی نعت

جس کو ہوا نصیب سے عرفانِ نعت ہے


ظاہر کے ساتھ ہوگیا باطن بھی مستنیر

جس کا خیال و فکر ہی عنوانِ نعت ہے


روزِ ازل سے بالیقیں ایقان ہے مرا

پھولا پھلا ہمیشہ خیابانِ نعت ہے


ہر ہر ورق پہ نقش ہے سیرت حضور کی

قرآنِ پاک سارا دبستانِ نعت ہے


مجھ پر ہوئی حضور کی لاکھوں عنایتیں

ہاتھوں میں میرے خیر سے دیوانِ نعت ہے


دیدارِ مصطفیٰ ہو میسر خدا کرے

اس خواب کے لیے مجھے ارمانِ نعت ہے


مضمونِ نعت میں نہ ہو کچھ بھی مبالغہ

باہوش رہ کے چلیے یہ میدانِ نعت ہے


مجھ پہ رضا کے حُسنِ تخیل کی ہے عطا

حاصل جو مجھ کو ہوگیا وجدانِ نعت ہے


اہلِ وِلا کا پیار مُشاہد کو جو ملا

سچ پوچھیے تو اس پہ یہ احسانِ نعت ہے

مصعب شاہین، میانوالی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

یزداں کا خاص فضل ہے, میلانِ نعت ہے

'ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے'


احساس, لفظ, لہجہ و گفتار عنبریں

کیونکر نہ ہونگے؟دل جو گلستانِ نعت ہے


انؐ کی ثنا کے نور سے روشن مرا سخن

الحمد, بزمِ فکر, قلمدانِ نعت ہے


عشقِ نبیِ پاکؐ رگ و پے میں ہے مرے

جاں میں بصورتِ لہو اک کانِ نعت ہے


کلیاں چٹک رہی ہیں بہ الفاظِ خوشنما

صبحِ گمان سیرِ خیابانِ نعت ہے


پاکیزہ قلب, پاک تخیل, طہور لفظ

اسلوبِ خوش بیان ہی شایانِ نعت ہے


اوجِ ادب ہے, وجد ہے, سرمستِ عجز ہوں

سرشارِ اطمینان ہوں, فیضانِ نعت ہے


کرتا ہے آبیاریِ گلزارِ مصطفیٰ ؐ

مصعب, تو خوش نصیب ہے, دہقانِ نعت ہے

  • اطمینان کی "ی" گرائی گئ ہے ۔
مطلوب الرسول، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

حاصل جو کائنات کو میلان نعت ہے

ہرشعبہء حیات میں امکان نعت ہے


لازم نہیں زبانِ قلم سے کریں بیاں

ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے


محتاط اہل فن کہ ہے دربار نعت یہ

ان کا ادب ہی اصل میں دربان نعت ہے


وہ دل بھی اک طرح سے مدینہ ہے دوستو

جس دل میں صبح وشام ہی ارمان نعت ہے


حسان ہوں یا عرفی وجامی ہوں یا رضا

جذب و وفورو شوق ہی میزان نعت ہے


رحم وکرم، مروت و جود وسخا و صدق

سیرت پہ گفتگو ہی توجزدان نعت ہے


محبوب کوخبرہے کہ عاشق ہے کون کون

ان کی نظر میں ہوں کہ یہ احسان نعت ہے


ہرلفظ میری سوچ کا خوشبو میں ڈھل گیا

میں کیوں نہ مان لوں کہ یہ فیضان نعت ہے


شق قمر ہو اسری ومعراج ہویا حسن

ان کا ہرایک معجزہ ہی جان نعت ہے


حب نبی سے خالی ہو دل جس کا اے قمر

اس کو کہاں خبر ہو وہ کیا جانے نعت ہے

مظہر فرید بابا وٹو، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

میں کیا بتاؤں دوستو کیا شان نعت ہے

قرآنِ پاک سارا ہی سامانِ نعت ہے


مجھ پر کرم ہوا ہے جو لکھی ہے میں نے نعت

ورنہ کہاں یہ عاصی، کہاں تانِ نعت ہے


آقا کی ہر ادا میں ہے معراجِ بندگی

"ہر شعبۂِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


عشقِ نبی ضروری ہے ہر نعت کے لئے

مضمر نبی کے عشق میں عرفان نعت ہے


دل سے پڑھو درود محمد کی ذات پر

مظہر درود پاک ہی تو جانِ نعت ہے

مفتاح الحسن چشتی، فافوند، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

سرکار کا کرم ہے یہ احسانِ نعت ہے

ہمراہ میرے ہر گھڑی فیضانِ نعت ہے


کردار کہہ رہا ہے یہ اصحابِ شاہ کا

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


کھلنے لگے ہیں روز ہی چمپا سمن گلاب

جب سے زمین قلب پہ بارانِ نعت ہے


ہر واصفِ حضور نے آخر میں یہ کہا

قرآں میں ان کا ذکر ہی شایانِ نعت ہے


خورشیدِحشرسُن،ہمیں آنکھیں نہ تودکھا

سر پر ہمارے سایہء دامانِ نعت ہے


میں ہند میں ہوں ذہن ہے دربارِ شاہ میں

مجھ پر خدا کا فضل یہ دورانِ نعت ہے


محوِ ثنائے سیدِ عالم ہے روز و شب

رب کی عطاسےجسکوبھی عرفانِ نعت ہے


لغزش ہوئی ذرا سی تو ہو جاؤ گے ہلاک

مفتاح ہوش باش یہ میدانِ نعت ہے

مقصود احمد، کراچی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

نطق و قلم کو میرے بھی ارمانِ نعت ہے

لیکن نصیب کب مجھے عرفانِ نعت ہے


توصیف کے کھلے ہوئے ہیں گل سطر سطر

قرآن رب کا سارا گلستان ِ نعت ہے


بھرتے رہیں گے تا با ابد عاشقِ رسول

پھیلا ہوا ازل سے جو دامانِ نعت ہے


ارض و سما بھی کرتے ہیں ان کی ثنا بیاں

ساری یہ کائنات بھی عنوان ِ نعت ہے


ہر ذرہء زمیں پہ عنایت ہے آپ کی

"ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے"


خالق بھی ہمنوا ہے ہمارا اسی طفیل

ہم عاشقوں پہ خاص یہ احسانِ نعت ہے


کیسا ہی کوئی کیوں نہ ہو ماہر سخن طراز

مت جانو معتبر اگر انجان ِ نعت ہے


پا جاتے ہیں نمو مرے فکر و خیال بھی

ہر دم برستا مجھ پہ جو بارانِ نعت ہے


نوک ِ قلم پہ آتے ہیں الفاظ غیب سے

مقصود اور کیا ہے ، یہ فیضان ِ نعت ہے

مقصود احمد تبسم، دوبئی[ماخذ میں ترمیم کریں]

زُلفِ رُسول ﷺ مشک بہ دامانِ نعت ہے

سر پر سجی شفاعتِ سلطانِ نعت ہے


ماتھے پہ نورِ شمعِ فروزانِ نعت ہے

رگ کا جلال ہاشمِ اعلانِ نعت ہے


مِحراب ابروؤں میں نِہاں جُنبشِ نِجات

اَلطاف ہم پہ صدقۂ چشمانِ نعت ہے


پلکوں کا حُسن ، زینتِ ابصارِ مصطفےٰ ﷺ

کتنا حسین سایۂ مژگانِ نعت ہے


انفِ مبارک آپ ﷺ کی رخشِندہ و جمیل

عارِض کی سُرخیوں میں گلستانِ نعت ہے


گل اس لئے بھی شرم سے گُلنار ہو گئے

ہونٹوں پہ رشکِ لعلِ بدخشانِ نعت ہے


ریخوں سے پھُوٹتے ہوئے انوار دیکھ کر

موتی عدن کا عاشقِ اسنانِ نعت ہے


آیاتِ بیّنات کو ہے ناز اِس لئے

سرکار ﷺ کی زبان پہ قرآنِ نعت ہے


دندان ، لب ، زبان ، کلام اور لعابِ پاک

میرے نبی ﷺکا کنزِ دہن ، کانِ نعت ہے


ریشِ مبارک آپﷺ کی ہے رِحلِ مصحفی

رُخ پر تجلیات کا جُزدانِ نعت ہے


حُسنِ ملیحِ مصطفویﷺ کا نہیں جواب

مانا صبیح یوسفِ کنعانِ نعت ہے


اصحاب حِفظ کرتے رہے مُصحفِ رُسولﷺ

چہرہ مرے حُضور ﷺ کا قرآنِ نعت ہے


اُن ﷺ کی سماعتوں سے تو کچھ بھی نہیں بعید

کانوں میں صوتیات کا اَلحانِ نعت ہے


گردن کا وصف لکھتے ہوئے سوچتا رہا

اعضائے پاک وِرد ہیں گردانِ نعت ہے


مُہرِ نبوّت آپ ﷺ کی ، ہے زیبِ منکبین

سلمان فارسی ، یہیں ایمانِ نعت ہے


شانوں پہ جس گھڑی ہوں نواسے براجمان

طولانئ سجود ہی عرفانِ نعت ہے


سینے کو اِنشراح کا رتبہ دیا گیا

قلبِ رُسول ﷺ مہبطِ قرآنِ نعت ہے


جسمِ نبی ﷺ کے پاک پسینے کا سلسلہ

مُشک و گُلاب و سُنبل و ریحانِ نعت ہے


دل کش کلائیاں ہیں تو بازو طویل ہیں

قامت بھی رشکِ سروِ گلستانِ نعت ہے


آقا ﷺ کے ناخنوں کو سنبھالا تبرُّکاً

اصحاب کا یہ ذوق ہی وجدانِ نعت ہے


چشمے اُبلتی انگلیاں ، نازُک ہتھیلیاں

دستِ کرم پہ بیعتِ رضوانِ نعت ہے


اِمکان کی حُدود سے باہَر نکل کے دیکھ

اُن ﷺکے نُقوشِ پا میں بھی سامانِ نعت ہے


زانو ، قدوم ، پنڈلیاں ، تلوے اور ایڑیاں

مقصودؔ اِن کا ذکر خِرامانِ نعت ہے

مقصود علی شاہ، برمنگھم، برطانیہ[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید مقصود علی شاہ

ویسے تو ساری عمر ہی قُربانِ نعت ہے

واللہ پھر بھی حسرت و ارمانِ نعت ہے


سانسیں بدن میں سطریں ہیں مدحِ رسول کی

سامانِ زیست ہی مرا سامانِ نعت ہے


ہم سارے اُس کے در کی سلامی کو آئے ہیں

حسّان ایک ہے، جو کہ دربانِ نعت ہے


بس ایک حاضری کا سبب ہے، جو خُوب ہے

ورنہ تو کون ہے جسے عرفانِ نعت ہے


سو سو طرح سے اُن کے کرم کے ہیں سلسلے

مجھ پر مرے کریم کا فیضانِ نعت ہے


سب اہلِ دل ہی جیسے اُسی کی پنہ میں ہیں

کتنا سُخن نواز یہ دامانِ نعت ہے


مہکے ہیں چار سُو نئے رنگوں کے زمزمے

برسا زمینِ شوق پہ بارانِ نعت ہے


ہر صبحِ نو کی پہلی کرن سے یہی کھُلا

"ہر شُعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


پھر سے جو حاضری کا بُلاوا ہُوا مجھے

ممنونِ نعت پر بڑا احسانِ نعت ہے


تھامے ہیں اپنی اپنی کتابِ عمل تمام

مقصود میرے ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے

منظر پھلوری، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کس درجہ لاجواب یہ عنوانِ نعت ہے

جو سچ کہوں تو مجھ کو یہ تابانِ نعت ہے


محوِ ثنا میں رہتا ہوں ہر گام ہر گھڑی

دل سے مرا یوں ہو گیا پیمانِ نعت ہے


ڈرتا ہوں بیش و کم سے محبت کے باب میں

خامہ ہے اور سامنے میزانِ نعت ہے


بستی ہے روح و جان میں قلب و جگر میں بھی

یہ جسم کی جاگیر میں سامانِ نعت ہے


یہ فکر و آگہی یہ تصور خیال سب

ان سب میں جاوداں فقط ارمانِ نعت ہے


جھک جھک کے مجھ کو ملتا ہے ہر شخص جو یہاں

منظؔر یہ مجھکو لگتا ہے فیضانِ نعت ہے

منظر چشتی، دار الخیر پھپھوند شریف، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید محمّد منظر چشتی

  • کاغذ، قلم ہے اور شبستانِ نعت ہے*
  • فیضان نعت ہے یہی فیضانِ نعت ہے*


  • الفاظ، فکر اور تخیل تو ہے بدن*
  • میری نظر میں عشق نبی جانِ نعت ہے*


  • جس جا تمام "صنف سخن" لیتی ہیں پناہ*
  • وہ کیا ہے؟ میں بتاؤں؟ وہ دامانِ نعت ہے*


  • سب نعت گو وزیر ہیں سلطانِ نعت کے*
  • "حسان" تاجدار ہے سلطانِ نعت ہے*


  • جس میں چہک رہی ہوں دو عالم کی بلبلیں*
  • ایسا تو صرف ایک گلستانِ نعت ہے*


  • لکھیں گے اب سے نعت ہمارے قلم، دوات*
  • ہم سے ہماری فکر کا پیمانِ نعت ہے*


  • عشق ان سے پہلے کیجیے پھر غور کیجیے*
  • "ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"*


  • میرا وجود اس لیے مہکا ہوا رہا*
  • میرے بھی دل کے حجرے میں گلدان نعت ہے*


  • اٹھ کر لحد سے ہم بھی پڑھیں گے مشاعرہ*
  • منؔظر! ہمارے پاس بھی سامانِ نعت ہے*
منصور فریدی، گایا، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : ڈاکٹر منصور فریدی

ہر لفظ تازہ پھول بہ عنوانِ نعت ہے

قرآن اک شگفتہ گُلِسْتانِ نعت ہے


مرغِ خیال آج بھی ، پہنچا نہیں وہاں

تعمیر جس بلندی پہ ایوانِ نعت ہے


جس کی چمک پہ دن کے اجالے نثار ہیں

کیا خوب تاب ناک شبستانِ نعت ہے


ہر گوشہ کائنات کا مہکے گا تا ابد

ہر وقت عطر بیز یوں گل دانِ نعت ہے


کیا ہے مری بساط کہ میں نعت لکھ سکوں

جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں یہ فیضانِ نعت ہے


فرصت ملے تو جاگتی آنکھوں سے دیکھیے

  • ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے*


نذرِ خزاں نہ ہوگا مری فکر کا چمن

شاداب اِس میں فصلِ بہارانِ نعت ہے


بکھری ہوئی حیات کی زلفیں سنوار دیں

صد شکر مجھ پہ کتنا یہ احسانِ نعت ہے


فکر و قلم دوات پہ مجھ کو نہیں یقین

لطف و کرم حضور کا سامانِ نعت ہے


ہرگز نہ کرسکے گا *فریدی* کوئی عبور

وسعت بہت لیے ہوئے میدانِ نعت ہے


منیب خان نیازی، پنڈی بھٹیاں، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

جب سے وفورِ شوق پہ بارانِ نعت ہے

دل دل نہیں ہے تب سے گلستانِ ِ نعت ہے


اہلِ نظر پہ بات ہوئی ہے یہ منکشف

ہر شعبہء ِِ حیات میں امکانِ نعت ہے


پھولوں کی مثل خوشبو ہے ہر ایک نعت کی

دیوانِ نعت ہے کہ یہ گلدانِ نعت ہے


حد سے بڑھے تو شرک گھٹایا تو بے ادب

چلنا ذرا سنبھل کہ یہ میدانِ نعت ہے


آگاہ فن سے ہونا اہم ہے بہت مگر

در اصل عشقِ مصطفیٰ ہی جانِ نعت ہے


صدقے میں نعت ہی کے ملیں ہم کو عزتیں

بے پایاں ہم پہ شفقت و احسانِ نعت ہے


ہو صبح یا کہ رات مگن ہوں میں نعت میں

اب تو ہر ایک لحظہ ہی ارمانِ نعت ہے


وہ آلِ مصطفیٰ ہوں کہ اصحابِ مصطفیٰ

ہر دو کا ذکر شَامِلِ عنوانِ نعت ہے


"سایہ ہے نعت پر ورفعنا کا دوستو"

خود ربِ کائنات نگہبانِ نعت ہے


ہر زاویے میں فکر کے مضمونِ نعت ہے

گویا تمام عمر ہی دورانِ نعت ہے


سب نعت لکھنے والے ستاروں کی مثل ہیں

جگ مگ انہی سے چرخِ خیابان ِ نعت ہے


جِس جِس جگہ بھی گونجتی ہے بانگِ حمدِ رب

اُس اُس جگہ پہ گونجتی آذانِ نعت ہے


اعمال پر تو کوئی بھروسہ نہیں مجھے

صد شکر میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


رب کا نیازی تجھ پہ ہے کتنا بڑا کرم

حاصل تجھے بھی حصہ ءِ فیضانِ نعت ہے


منیر احمد خاور، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

دل میں کُھلا ہوا جو دبستان نعت ہے

اللہ کا کرم ہے،یہ فیضان نعت ہے


یٰسین وطہٰ،والضحیٰ،والیل سے سجا

رب عُلی نے بھی لکھا دیوان نعت ہے


نورانی فکر،قافیے،قرطاس اور قلَم

میرا اثاثہ بس یہی سامان نعت ہے


خالق کا لے کے ساتھ فرشتوں کو دم بدم

پڑھنا درود پاک ہی اعلان نعت ہے


جاں میں مری درود کے، مدحت کے گُل کّھلے

دل ہو گیا مٹالِ گلستان نعت ہے


صوفی،ولی ہو یا کہ ہو کوئی امام وقت

"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


چڑھ کر جو پڑھتا نعت ہے ممبر پہ آپ کے

حساّنِ خوش نصیب وہ سلطان نعت ہے


حکمِ خدا کی پیروی خاور کا ہے شِعار

یہ بھی نبھاتا ہر گھڑی پیمان نعت ہے

مونا نقوی ، سرگودھا ، پاکستان [ماخذ میں ترمیم کریں]

وردِ زباں درود بھی دورانِ نعت ہے شاہِ اُمم کا ذکر ہی پہچانِ نعت ہے

جھک کر فرشتے بھی ہیں مرا ہاتھ چومتے جس ہاتھ سے رقم ہوا دیوانِ نعت ہے


بخشا ہے پھر دوام یوں نانا کے دین کو زینب س کے دم سے عام یہ فیضانِ نعت ہے


پڑھتا ہے خود قصیدے خدا جن کے نام کے

آلِ عبا کا گھر ہی وہ وجدانِ نعت ہے


اسلام کو حیات نئی دے گیا ہے جو 

مضطر سا وہ اسیر ہی سلطانِ نعت ہے


مجھ پر یہ منکشف ہوا الہامِ نعت سے ہر شعبہِ حیات میں امکان نعت ہے


میرزا امجد رازی، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بندہ کہ فردِ نسلِ گدایانِ نعت ہے

پہچاں مری قبیلۂ حسّانِ نعت ہے


ہر اِک جہاں کی غایتِ اولیٰ حضور ہیں

ہر اِک ظہور حجّت و برہانِ نعت ہے


ہے شاخ شاخ بلبلِ سدرہ طواف میں

مصحف خدا کا گلشنِ الوانِ نعت ہے


اِک رمزِ" قُلْ"نےکھولاہےمجھ پریہ بابِ کشف

توحید عیشِ جلوۂ سامانِ نعت ہے


ہر "خطِّ سرنَوِشت " کا عنوان ہے یہی

ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے


جس کو لہو لہو کرے سجدے میں تیغِ ہجر

وہ دل شہیدِ مصحفِ عثمانِ نعت ہے


اِک " وصفِ لاتناہی " کہ جملہ صفات میں

سُن لو سخنورو کہ یہی جانِ نعت ہے


یعقوبِ فکر کو مری آنکھیں نہ کیوں ملیں

لفظوں میں بوۓ یوسفِ کنعانِ نعت ہے


کس نے کہا کہ چاہیے آزادئ سخن

دل تو ہمارا قیدئ زندانِ نعت ہے


رازی وزیر ملکِ سخن میں ہوں اُس کا میں

احمد رضا وہی کہ جو سلطانِ نعت ہے

نادر صدیقی، بوریوالا، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

قرآن پاک مطلع ِ دیوانِ نعت ہے

اللہ کا کلام ہی شایانِ نعت ہے


یہ خوش نصیب حافظ ِ قرآن ِ نعت ہے

کیسا فقیر ِ نعت پہ احسانِ نعت ہے


صدشکر امتی ہے مسلمانِ نعت ہے

مجھ سا گدا غلامِ غلامانِ نعت ہے


کیسا حسین خانہءِ عرفانِ نعت ہے

حسان ہے کہ بوذر و سلمانِ نعت ہے


جس کو رسولِ پاک نے منبر عطا کیا

حسانِ نعت ہے وہی سلطانِ نعت ہے

ناصر حسین راضی , فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : ریاض قادری

عرش علی پہ جب ہوا پیماں نعت ہے

لاگو ہوانمود پہ فرمان نعت ہے


خود خالق حیات توسلطان نعت ہے

ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے


ہونٹوں پہ ہیں سکوت کے پہرے لگے مگر

دھڑکن یہ کہہ رہی ہے کہ میلان نعت ہے


ہم کشتگاں کی جملہ تشفی کے واسطے

صلی علی نے کردیا درمان نعت ہے


مہکی حضوریاد کی خوشبو شعور میں

میلادجاں سے بن گیا گلدان نعت ہے


محشر میں اپنی تنگی داماں کے خوف سے

پکڑابڑے وثوق سے دامان نعت ہے


اس کردگار شوق نے قرآں میں جو کیا

وہ اعتراف شوق ہی شایان نعت ہے


تلخابہ حیات کی مستی کے واسطے

نازل ہوا حضور پہ دیوان نعت ہے


بدرالدجی کا نور ہے ہر سمت جلوہ گر

پھیلاہوادیارمیں فیضان نعت ہے


نیرنگئ خیال کو عرفان ہوا نصیب

قرطاس جاں پہ جب ہوا احسان نعت ہے


اکرام لطف کیجئے راضی کو بھی عطا

اک روسیاہ کے دل میں بھی ارمان نعت ہے


صاحبزادہ ناصر حسین راضی فیصل آباد

ناظر کاظمی ، لاہور [ماخذ میں ترمیم کریں]

اہل ِیقین کے بخت میں عرفان ِنعت ہے

ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے


قرآن میں ہے رفعت ِذکرِنبی کی بات

وہ بات خوش نصیب جو شایانِ نعت ہے


کیسے کوئی کرے گا مدیح نبی بیان

جب نعت خود ہی آیہِ قرآن ِ نعت ہے


فائزجو مدح گوئی کے منصب پہ ہوگیا

ناظر تجھے عطاءہوا فرقانِ نعت ہے

سید ناظر کاظمی، لاہور

ناہید اختر بلوچ، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

دل میں کھلا ہوا جو گلستانِ نعت ہے

لفظوں پہ دم بہ دم مرے بارانِ نعت ہے


لب پہ درود ،عشقِ نبی دل میں موجزن

آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے


ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ

جا کے خدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے


قسمت مری سنور گئی ان ﷺ کا کرم ہوا

ان کا کرم ہوا تو یہ فیضانِ نعت ہے


تُو عشقِ مصطفیٰ کو سخن کا امام کر

یہ عشقِ مصطفیٰ ہی تو پہچانِ نعت ہے


مجھ کو عطا ہو صدقہ ءِ حسان یا رسول

سرکار میرے دل کو بھی ارمانِ نعت ہے


ناہید شعر گوئی پہ موقوف تو نہیں

”ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے

ناہید ورک، مشی گن، امریکہ [ماخذ میں ترمیم کریں]

سردارِ کائنات ہی سلطانِ نعت ہے

پڑھ لو درودِ عشق یہی جانِ نعت ہے


کیا حقِ بندگی ہو ادا ان حروف سے

محبوب کی ثنا میں تو قرآنِ نعت ہے


تلقین گونجتی ہے سماعت میں روز و شب

تخلیقِ کائنات ہی شایانِ نعت ہے


ہر اک نبی ہے لائقِ تحسین، ہاں مگر

بِن آپ ﷺ کے ہے کون جو پہچانِ نعت ہے


بادل کا ٹکڑا سایہ کرے مجھ پہ بھی حضور ﷺ

پھر میں بھی کہہ سکوں گی یہ فیضانِ نعت ہے


ہے پاس لا الٰہ بھی ، صل علٰی بھی پاس

یعنی کہ میرے پاس تو سامانِ نعت ہے


پیشِ نگاہ آپ ﷺ کی توصیف ہے مگر

ناہیدؔ کیا تجھے ذرا عرفانِ نعت ہے؟

مظہر حسین مظہر، میلسی[ماخذ میں ترمیم کریں]

تازہ ہر ایک دور میں عنوان نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


الفاظ کی گرفت میں آتا نہیں کبھی

شاعر پہ وجدو کیف جو دوران نعت ہے


گم کردہ حواس ہیں رومی و بایزید

اے عشق احتیاط یہ میزان نعت ہے


امروز بھی "حدائق بخشش" کے روپ میں

روشن جہاں میں شمع شبستان نعت ہے


'نہج البلاغہ' شرح فرامین مصطفے

قرآن بھی حضور کا دیوان نعت ہے


اقبال ہو حفيظ ہو محسن ہو یا حسن

ہر ایک اپنے دور کا حسان نعت ہے


کیوں کر نہ مشکبار ہو گلدستہ حروف

مہکا خیال و فکر میں بستان نعت ہے


ہر خوشہ خیال بھرا ہے درود سے

جب سے قلم کو ہوگیا عرفان نعت ہے


اے فکر پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدم

ایوان نعت ہے یہ دبستان نعت ہے


اے کاش ان کی شان کے شایان لکھ سکے

مظہر وجود عشق میں ارمان نعت ہے

ندیم سلطان پوری، سلطان پور، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

سیرت شہ مدینہ کی عنوان نعت ہے

اس سے ہی کائنات میں فیضان نعت ہے


عاشق رسول پاک کا حسان نعت ہے

دشمن رسول پاک کا نادان نعت ہے


جن و بشر ، ملائکہ،غلمان و حور کے

"ہر شعبۂ حیات میں امکان نعت ہے"


شمس وقمر ستارے ہوں یا ہو وہ کہکشاں

ہر ایک کی جبین پہ لمعان نعت ہے


اس کے لبوں کو چومتے ہوں گے ملائکہ

لب پر سجاے جو کوئی گلدان نعت ہے


حسان سا ہمیں بھی ہنر کردے تو عطا

یارب ہمارے قلب میں ارمان نعت ہے


مختارکائنات کا جلوہ ہے ہرطرف

دنیا کو مشک بو کیے ریحان نعت ہے


اس کو ملے گا خلد میں ایواں سجا ہوا

دنیا میں جو سنوارتا ایوان نعت ہے


ان کی وِلا میں ڈوب کے نعتیں لکھا کرو

اے مومنو! وِلاے نبی ﷺ جان نعت ہے


مقبول بارگاہ نبی جو بھی ہو گیا

اللہ کی قسم وہی سلطان نعت ہے


پورا کلام پاک ہے توصیف مصطفے

تو کوئی کیا سمجھ سکے کیا شان نعت ہے


لکھتا ہوں نعت شاہ مدینہ، بروز حشر

کافی مری نجات کو سامان نعت ہے


اے کاش کہہ دیں شاہ مدینہ کبھی ندیم

مجھ کو پسند تیرا یہ دیوان نعت ہے

ندیم ملک، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

دیوانِ نعت اصل میں عرفانِ نعت ہے

ہر اک سُخن طراز بہ ایمانِ نعت ہے


میں شاعرِ حقیر ہوں اور اک فقیر ہوں

اور مجھ فقیر کو مِلا دیوانِ نعت ہے


میں نے بھی سر کو آپ کی چوکھٹ پہ ڈال کر

ہر آن لے لیا یہاں وجدانِ نعت ہے


مجھ کو ندیم شوخئی یزداں سے کیا غرض

مجھ کو تو مل گیا یہاں رحمانِ نعت ہے

  • مقطع فکری طور پر قابل غور ہے
ندیم نوری برکاتی، ممبئی، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

اک بے ہنر ہے اور قلمدانِ نعت ہے

سرکار وہ لکھائیں جو شایانِ نعت ہے


انکی تو ذاتِ پاک ہے سر چشمۂ کمال

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


آداب عشق عاجزی سیرت و معجزات

ملحوظ رکھئے اس کو یہی جانِ نعت ہے


شکرِ خدا کہ زیست رہی ہے غزل سے دور

میری متاعِ زندگی قربانِ نعت ہے


احسان آپ کا ہے کرم آپ کا حضور

ورنہ کہاں گنوار کو عرفانِ نعت ہے


دل بے قرار, دیدۂ تر , وردِ لب درود

کیا کیف کیا سرور سا دورانِ نعت ہے


عزت بھری نگاہ سے تکتے ہیں مجھ کو لوگ

نوری یہ اور کچھ نہیں فیضانِ نعت ہے

نذیر اے قمر، فیصل آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : محمّد احمد زاہد

رب کی عطائے خاص ہے وجدانِ نعت ہے

ایقانِ نعت ، مرکزِ ایمانِ نعت ہے


محشر میں سراٹھا کے یوں اپنا چلوں گا میں

ہاتھوں میں میرے ہر گھڑی دیوانِ نعت ہے


یہ لمحہ لمحہ گنبدِ خضرا کو سوچنا

آقا کا ہے کرم ، یہی فیضانِ نعت ہے


مدح رسولؐ سے مری قسمت سنور گئی

کس درجہ میری ذات پہ احسانِ نعت ہے


یا رب نہ چھوٹے تادمِ آخر یہ ہاتھ سے

حاصل جو اب نصیب سے دامانِ نعت ہے


ہر اک زمانہ نعت کےصدقے میں ہے قمر

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "

نسرین سید، اونٹاریو، کینیڈا[ماخذ میں ترمیم کریں]

تخلیقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے

گردوں ہے وجد میں، تو یہ وجدانِ نعت ہے


الحمد سے ثنا کروں ، یٰسین سے دُرود

یہ جانِ حمدِ پاک ہے، وہ جانِ نعت ہے


اُنﷺ کی ثنا میں حرفِ گُماں کا گزر کہاں؟

قرآنِ بالیقین جب اعلانِ نعت ہے


آنکھوں میں اشک، سینے میں رقت ہو موجزن

پھر دل میں اُنﷺ کا عشق، ہی سامانِ نعت ہے


رکھو جو انﷺ کی سیرتِ کامل کو سامنے

" ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے "


یہ عجزِ بے پناہ ، میسر جو دل کو ہے

یہ کیف ، یہ سکون ، یہی جانِ نعت ہے


تکریمِ خاص ، حسنِ ادب ، حدِ اعتدال

رکھے جو یہ خیال، نگہبانِ نعت ہے


ہے دین ساری ، مدحتِ آلِ رسولﷺ کی

سرکارﷺ کی عطا ہے، یہ فیضانِ نعت ہے


کھلتے ہیں پھول صلِ علیٰ کے جہاں مدام

نسرینؔ ، یہ جہان خیابانِ نعت ہے

نسیم سحر، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

کیسا بھرا ہوا مرا دامان_نعت ہے

عشق ِ نبی مرا سر و سامان ِنعت ہے


سردارنعت گویاں ہے، سلطان نعت ہے

تاریخ میں بس ایک ہی حسانِ نعت یے


موضوع بھی وہی ہے، وہی جان_نعت ہے

وہ حاصلکلام ہی عنوان ِنعت ہے


رکھا ہوا جہاں مرا دیوان_نعت ہے

میرا قلم بھی زینت ِجزدان ِ نعت ہے


اس کے سوا نہ ذکر کسی کا ہو نعت میں

وہ جان ِکائنات ہی جانان ِنعت ہے


ہر شعر میں بیان ہوئی مدحت_رسول

ہر شعر گویا حاصل دیوان ِنعت ہے


ہوتے ہیں قدسیاں بھی یقینا وہاں شریک

برپا جہاں بھی محفل ِیاران ِ نعت ہے


خوشبو کے جھونکے آتے ہی رہتے ہیں میرے گھر

کھولا ہوا جو میں نے ہوادان_نعت ہے


کانوں میں گونجتی ہیں صدائیں درود کی

یعنی کہ آج پھر کوئی امکان_نعت ہے؟


صل_علی کے ورد سے کرتا ہوں ابتدا

ص ِلعلی کا ورد ہی اعلان ِنعت ہے


حاصل یہ مرتبہ ہے اسے نعت کے طفیل

جو نعت گو ہے، جان ِ دبستان ِنعت ہے


مدحت کی برکتوں سے منور ہے رات دن

گھر نعت کہنے والے کا ایوان_نعت ہے


ہر لحطہ نعت گوئی کے آداب کا خیال

لازم ہے احتیاط، یہ میزان_بعت ہے


جاری رہے گا سلسلہء نعت_مصطفی

اللہ پاک خود ہی نگہبان_نعت ہے


تفہیم. کس کو ہو سکی ان کے مقام کی

انسان کو کہاں ابھی عرفان_نعت ہے


آقائے نامدار کا جب سے ہوا کرم

طبع رواں میں اور بھی مہلان ِنعت ہے


ہونے لگی جو نعتیہ اشعار کی عطا

کیفیت ِجمال سی دوران ِ نعت ہے


آمد کا ایک لامتناہی ہے سلسلہ

اب میں ہوں اور عطایے فراوان_نعت ہے

نسیمی تاجی، ناگپور، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : ارشد رضا قادری

ارضِ غزل نہیں ہے یہ میدانِ نعت ہے

ہوش و خرد سے کام لے دیوانے ،نعت ہے


ہر سانس پر درود کا ہدیہ گزاریے

"ہر شعبہءِ حیات میں امکانِ نعت ہے"


یہ سر اٹھا ہوا ہے تو سرکار کے سبب

یہ دل کھلا ہوا ہے تو فیضانِ نعت ہے


کچھ بھی نہیں حضور کی الفت اگر نہیں

انجانِ زندگی ہے جو انجانِ نعت ہے


نسلیں مہک نہ جائیں تمہاری تو بولنا

لے جاؤ ساتھ میں کہ یہ گل دانِ نعت ہے


احمد کا پہلا حرف محمد کا پہلا حرف

قرآنِ حمد کے لیے جزدانِ نعت ہے


کچھ خاص مٹیوں کو نمی کی گئی عطا

ویسے تو سب پہ مہرباں بارانِ نعت ہے


سو فیصدی درست ہے یہ بات دوستو

ہر صفحہءِ دو کون بہ عنوانِ نعت ہے


ہر لفظ پھول ہے تو کلی سب حروف ہیں

کس طور شان دار گلستانِ نعت ہے


حد درجہ احتیاط ، مقام ادب ہے یہ

دورانِ خوں ٹہر کہ یہ دورانِ نعت ہے


اسمِ مبارکہ پہ درودوں کی ڈالیاں

اب تک مجھے تو اتنا ہی عرفانِ نعت ہے


معلوم میرے قول و عمل سے چلے گا یہ

مضبوط کس قدر مرا ایمانِ نعت ہے


صدیوں سے ہو رہا ہے یہاں ذکرِ مصطفی

یہ شہرِ ناگ پور دبستانِ نعت ہے


سمجھوں گا میری نعتیں ، نسیمی قبول ہیں

مجھ کو جو کوئی کہ دے یہ مستانِ نعت ہے

نصرت حنفی، اورنگ آباد، مہاراشٹر، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : ڈاکٹر نصرت حنفی

کچھ اور ہو نہ ہو مجھے عرفان نعت ہے

اب میرے ذمے دیکھ قلمدان نعت ہے


یہ ذکر ہے خدا کا. یہی شان نعت ہے

ذکرِ نبی ہی اصل میں. قرآن نعت ہے


جب سے سجائی محفلِ نعت و درود

میرا ہر ایک لمحہ گلستان نعت ہے


سر پر اٹھا کے لاے ہیں محشر میں کاتبین

اعمال نامہ ہے میرا دیوان نعت ہے


جوں اس کے سامنے ہو رکھا ایک آئینہ

قرآن بھی رسول کی ہی شان نعت ہے


روشن ہے ان کے نور سے اس دل کی کائنات

نصرت یہی تو اصل میں فیضان نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے

یہ ہے کرم خدا کا یہ باران نعت ہے

نعیم عباس ساجد، ملتان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

میرے کہاں نصیب میں بارانِ نعت ہے

گر ہو گئی عطا تو یہ احسانِ نعت ہے


جس کو سمجھ رہے ہیں سبھی لوگ کائنات

وہ اہلِ ذوق کے لیے سامانِ نعت ہے


ہر لفظ کاٹ چھانٹ کے کرنا ہے منتخب

کرکے یقیں کہ واقعی شایانِ نعت ہے


پاکیزگیِ قلب و نظر لازمی ہے یاں

میدانِ منقبت ہے کہ میدانِ نعت ہے


اک سبز روشنی ہے تخیل کے ارد گرد

یعنی کہ اب قریب ہی امکان نعت ہے

نفیس اکرم محب، بنارس، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

کیا کوئی جان پائے گا کیا شانِ نعت ہے

قرآں کا لفظ لفظ ہی عنوانِ نعت ہے


مٹ جائیں گے وہ خود ہی مٹانے جو آئیں گے

خلاق کائنات نگہبان نعت ہے


سب انبیاء نے ہے پڑھی نعت شہ امم

کس درجہ پر بہار گلستان نعت ہے


ممکن نہیں احاطہ کوئی اس کا کر سکے

باہر ہر ایک فہم سے عنوان نعت ہے


تنہائی ہو سفر ہو تجارت ہو بزم ہو

"ہر شعبئہ حیات میں امکانٍ نعت ہے"


مجھ کو زمانہ کہتا ہے مداح مصطفیٰ

کتنا عظیم مجھ پہ یہ احسان نعت ہے


قسمت پہ اپنی ناز کروں کیوں نہ میں محب

ہاتھوں میں میرے دیکھئے دامان نعت ہے


مکمل نام : نفیس اکرم محب رضوی اویسی ، بنارس ، انڈیا

نواز اعظمی، گھوسی، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

وہ شخص ہی لکھے جسے عرفانِ نعت ہے

ورنہ بہت ہی دھیان سے میدانِ نعت ہے


پیہم زمینِ فکر پہ بارانِ نعت ہے

دل اس کے باوجود بھی عطشانِ نعت ہے


غم ،ہجر، درد، گریہ، قلق، اشک، سوز، عشق

ہر ایک میرے واسطے سامانِ نعت ہے


اٹھتی ہے ہر ورق سے ہی بوئے ثنائے شاہ

قرآں مری نگاہ میں بستانِ نعت ہے


آ بیٹھ اور یہاں سے تُو رزقِ ثنا اٹھا

روئے زمینِ شہرِ نبی خوانِ نعت ہے


بہتا ہے جو بھی ہجرِ رسالت مآب میں

آنسو نہیں وہ اصل میں بارانِ نعت ہے


رنج و الم میں سرورِ کون و مکاں کی یاد

واللہ وجہِ حرکتِ شریانِ نعت ہے


حاصل ہے اس پہ اوروں کو بھی دسترس مگر

حسّان شاہِ ملکِ سلیمانِ نعت ہے


ہر شعبہ وصفِ شاہِ امم سے ہے تابناک

"ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے"


اب تک نواز میں نے جو مدحِ رسول کی

کیا اس کا ایک حرف بھی شایانِ نعت ہے؟

نگار سلطانہ، کولکتہ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : ڈاکٹر نگار سلطانہ

لکھنے کو میرے دل میں تو ارمان نعت ہے

اک پھول کیا چنوں کہ گلستان نعت ہے


ہر لمحہء حیات کی بس جان نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکان نعت ہے "


جب تک نہ دل میں چاہت سرکار دین ہو

کیسے لکھے کوئی کہ یہ شایان نعت ہے


جب سے خیال ڈھل گئے اشعار میں مرے

ہر سانس میں بسا ھوا عنوان نعت ہے


میرے خیال و فکر میں پیوست ہوگئ

ہر ایک لمحہ اور ہر اک آن نعت ہے


قرآن میں بھی ذکر کا مرکز نبی ہی ہیں

گویا ظہور ہستی میں اعلان نعت ہے


مدحت کی روشنی سے جو لفظوں کو بھر دیا

جو کچھ ملا نگار یہ فیضان نعت ہے

نور آسی، اسلام آباد، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد نور آسی

نہ حرف و لفظ نہ کوئی سامان نعت ہے

خاموش اس لئے ہوں کہ عرفانِ نعت ہے


گو بائیں ہاتھ میں ہے میرے نامہء سیاہ

صد شکر، دائیں ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے


ہر شعبہ حیات میں ہو اسوہِ رسول ﷺ

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"


بقرہ سے لے کے سورہ والناس دیکھ لو

ہرایک حرف اک نیا عنوانِ نعت ہے


جنت میں مجھ کو جانے دیا کہہ کے اتنی بات

اب اس کو کیسے روکیے؟ مہمانِ نعت ہے


پتوں کو ، ٹہنیوں کو ، گلوں کو پرند کو

گلشن میں ایک ایک کو عرفانِ نعت ہے


آسی کی کیا مجال کہ نعت نبی کہے

یہ جو عطا ہوئی ہے وہ احسانِ نعت ہے

نور الحسن نور نوابی، قاضی پور، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

اعلان کائنات غلامانِ نعت ہے

حسان جس کا نام ہے سلطانِ نعت ہے


سوچے بغیر ہوتی ہے مدحت رسول کی

ارزاں ہمارے واسطے فیضانِ نعت ہے


عشق رسول پاک کی صورت میں دوستو!

بیٹھا درِ خیال پہ دربانِ نعت ہے


عشق رسول شہر نبی کی جمالیات

حاصل خدا کے فضل سے سامانِ نعت ہے


اس کی حدوں میں گرم ہوا کا گزر کہاں

دشت غزل نہیں یہ گلستانِ نعت ہے


سنتی ہیں ذکر سرور دیں جو سماعتیں

ان کی ضیافتوں کے لیے خوانِ نعت ہے


کہنے کو لوگ کہتے ہیں نعتیں بہت مگر

حاصل کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے


قسمت کا اس کی لا نہ سکے گا کوئی جواب

جس کے لیے کھلا در ایوانِ نعت ہے


حسان آگے سعدی و جامی ہیں ان کے بعد

اے آنکھ دیکھ وہ صف شاہانِ نعت ہے


ڈرتا نہیں ہوں دھوپ کے تیروں سے اس لیے

حاصل مجھے بھی سایہ دامانِ نعت ہے


ہوجائے یوں تو کام کی ہو میری زندگی

سرکار کہہ دیں یہ مرا دربانِ نعت ہے


ہر شعبۂ حیات ہے آقا سے منسلک

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


غنچے کھلے ہیں مدحت آقا کے ہر طرف

شادابیوں کا آئنہ میدانِ نعت ہے


ہر اک ورق پہ مدحت سرکار ہے رقم

دل عاشق رسول کا دیوانِ نعت ہے


دل کر رہا ہے ضد مرا مضمون کر رقم

در پیش میری فکر کو عنوانِ نعت ہے


خوشبو بسی ہوئی ہے محلے میں دور تک

گھر کے ہر ایک طاق پہ گلدانِ نعت ہے


ابر کرم کے پھول برستے ہیں پے بہ پے

جب سے زباں پہ ذکرِ محبانِ نعت ہے


ہر صنف کی امام ہے نعت شہ امم

یہ افتخار نعت ہے یہ شانِ نعت ہے


کچھ لوگ شب چراغ سمجھتے ہیں کچھ گلاب

رکھا ہماری میز پہ دیوانِ نعت ہے


دیکھا عقیدتوں کی نظر سے تو یہ کھلا

جو شعر بھی ہے نعت کا وہ جانِ نعت ہے


دو چار ساعتوں پہ نہیں منحصر فقط

ایک ایک سانس نور کی قربانِ نعت ہے

نور محمد اشرفی, پورنیہ ,بہار,بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

پیش کش: غلام جیلانی سحر


محوِ ثنائے آقا ہوں, عنوانِ نعت ہے

یا رب ! کرم ہو خاص کہ ارمانِ نعت ہے


بے عشقِ مصطفے ہے سبھی بندگی فضول

عشقِ رسولِ پاک ہی ایمانِ نعت ہے


فضلِ خدا سے اور مدد سے حضور کی

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


تاریخ تم پڑھو گے تو ہوگا تمہیں پتا

حسان ہی سے مہکا گلستانِ نعت ہے


خلدِ بریں میں جائیں گے حسان کے وہ ساتھ

جن خوش نصیب لوگوں کو عرفانِ نعت ہے


چشمِ کرم حضور کی مجھ پر ہوئی ہے خاص

جاری مری زباں پہ جو گردانِ نعت ہے


شہرت جو نورٓ تم کو ملی ہے جہان میں

فضلِ خدائے پاک ہے,فیضانِ نعت ہے

نور محمد جرال، نیویارک، امریکا[ماخذ میں ترمیم کریں]

شکرِ خُدا کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے

سرپر میرے بھی سایۂ دامانِ نعت ہے


حرف و سخن پہ دسترس اپنی جگہ مگر

دراصل وصفِ حبِ نبی جانِ نعت ہے


فکرو شعور و حرف و ہُنر باوضو رہیں

تخلیق کے لیے یہی سامانِ نعت ہے


اشعار میں ہے سورۂِ یٖس کا جمال

حرفِ درود شمعِ شبستانِ نعت ہے


صدیوں سےلکھی جاتی ہےقرطاسِ وقت پر

لیکن ابھی شعور کو ارمانِ نعت ہے


ہے آپ کی حیات ہمہ گیر اس قدر

“ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”


ہر اک اداۓ نور پہ ہیں آیتیں گواہ

سیرت میرےحضور کی قرآنِ نعت ہے


حسنِ عمل ہے مدحتِ مولا کا اک چمن

حسنِ کلام زیبِ سخندانِ نعت ہے


آنکھیں کہ ان کے ذکرمیں نمناک ہیں سدا

اور دل ہزار جان سے قربانِ نعت ہے


ہر عندلیبِ قدس کے لب مشکبوۓ نعت

باغِ اِرم ہے یا کوئی دالانِ نعت ہے


آنکھوں کے طاقچوں میں رکھے آرزوۓ دید

بے چین کب سے حلقۂ مستانِ نعت ہے


جل تھل ہوئی ہے دل کی زمیں یادِ شاہ میں

اشکوں کی یہ گھٹا ہے یا بارانِ نعت ہے


الفاتحہ سے سُورۂِ والناس تک گواہ

قرآن حرف حرف ہی بُرھانِ نعت ہے


سرکار کوئی اچھا نہیں نامۂ عمل

محشر میں دستِ نور میں دیوانِ نعت ہے

نورین طلعت عُروبہ، امریکا[ماخذ میں ترمیم کریں]

جب دل سے مُنسلک ہے جو پیمانِ نعت ہے

"ہر شعبہِ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"


سُنت کے راستے پہ ہوں اوڑھے ہوئے درود

سب کچھ تو ہے نصیب جو سامانِ نعت ہے


ہر سانس میں ہے عشقِ نبیؐ بولتا ہوا

طیبہ کی سرزمین یہ فیضانِ نعت ہے


ٹُکڑا جو ایک خلد کا شہر ِ نبیؐ میں ہے

تکمیل اس کی ہو وہیں ارمانِ نعت ہے


کیا وصف ہے کہ جس کو عبادت بھی کہہ سکیں

قربان ہے یہ دل مِرا قربانِ نعت ہے


سیرتؐ کی خوشبوئیں یا مہکتا درودِ پاک

چھوٹا سا میرا گھر بھی گلستانِ نعت ہے


ایمان کو کیا ہے مُکمل اسی کے ساتھ

عشقِ نبیؐ کریم ہی تو جانِ نعت ہے


ہے وہ امیر ، وارثِ حُبِ نبیؐ ہے جو

خوش بخت ہے وہی جسے عرفانِ نعت ہے


لفظوں کا انتخاب عقیدت کا عکس ہو

مضمون وہ چُنوں کہ جو شایانِ نعت ہے


نورین طلعت عُروبہ، امریکہ

نیر جونپوری، سرت، گجرات، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

لکھوں نبی کی نعت جو سلطان نعت ہے

آیاتِ بَیِّنات میں عنوانِ نعت ہے


شہر نبی کے کوچہ و بازار کی صدا

ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے


کرتا ہوں مصطفٰی کی ثناء خوانی اس لئے

بخشش کے واسطے مِرے دامانِ نعت ہے


مولا نے ہر طرح سے نوازا ہے خوب تر

ہم جیسے خادموں پہ تو فیضانِ نعت ہے


رزقِ سخن ملے ہمیں سرکار آپ سے

قلب حزیں میں میرے بھی ارمانِ نعت ہے


بوصیری کوئی، جامی کوئی سعدی ہو گیا

احمد رضا تو ہند کا حسانِ نعت ہے


نَؔیَّر یہ کہہ اٹھا مِرے سرکار کا غلام

پڑھئے درود محفل بارانِ نعت ہے

واجد امیر، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

دربان ِ شاہ دین ہی دربان ِ نعت ہے

روح الامین یعنی نگہبان ِ نعت ہے


صد لاکھ احتیاط کہ عنوان ِ نعت ہے

وہ آئے اس طرف جسے ایقان ِ نعت ہے


مدحت نگار کے لیے دونوں ہی ایک ہیں

باغ ِ عدن کے پاس خیابان ِ نعت ہے


مصرعے سجے ہوئے ہیں کہ رنگوں کی لہر ہے

قوس ِ قزح ہے یا کوئی گل دان ِ نعت ہے


ہر شعبہ ءِ حیات ہے سیرت سے متصل

"ہر شعبہ ءِ حیات میں امکان ِ نعت ہے "


جس پر نگاہ کی وہی مقبول بارگاہ

جس پر کرم ہوا وہی سلطان ِ نعت ہے


ہوگی منادی حشر میں آئے وہ اس طرف

جس پاس اک بھی مصرعِ امکان ِ نعت ہے


دشت ِ غزل میں گھوم لیے ہو تو پھر سنو

اب اس سے آگے سارا گلستان ِ نعت ہے


مدحت نگاری میں ہمیں اس پر بھِی فخر ہے

اردو زباں کا اپنا دبستان ِ نعت ہے


واجد ڈھکا چھپا نہیں چشم ِ خدائی سے

تیری سخن وری پہ جو احسان ِ نعت ہے

واحد نظیر، دہلی[ماخذ میں ترمیم کریں]

معیار ہے اصول ہے میزانِ نعت ہے

قرآن خضرِ راہ اے یارانِ نعت ہے


لوح و قلم کے خالق و مالک ہے یہ دعا

لہجہ ہو وہ نصیب جو شایانِ نعت ہے


اپنی زبان جلتی ہے غیروں کی مدح سے

پونجی مرے خمیر کی میلانِ نعت ہے


مرکز میں غور و فکر کے دائم ہو وجہِ کن

یہ محورِ عناصر و ارکانِ نعت ہے


سب ہے نبی کے صدقے میں، کہنے کی بات کیا

ہر شعبئہ حیات میں امکانِ نعت ہے


لائق تھی سرزنش کے یہ انعام پا گئی

صنفِ سخن پہ دائمی احسانِ نعت ہے


علم و ہنر سے شعر تو ہو جاتے ہیں مگر

واحد نظیر عشقِ نبی جانِ نعت ہے


وحید القادری عارف ، حیدر آباد ، بھارت [ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : سید وحید القادری، حیدر آباد، بھارت


جاری کچھ ایسی شان سے فیضانِ نعت ہے

دل جگمگا رہے ہیں کہ بارانِ نعت ہے


صلّوا علیہِ اصل میں فرمانِ نعت ہے

حکمِ خدا ہی شمعِ فروزانِ نعت ہے


تا حشر اس کے سایہء رحمت میں ہے سکوں

تا حشر یہ بہارِ گلستانِ نعت ہے


ہوں طرزِ فکر پر جو کرم کی تجلیاں

ہر گوشہء حیات میں امکانِ نعت ہے


جتنا بھی عرض کیجئے کم ہی لگے ہمیں

کیا خوب، کتنی وسعتِ دامانِ نعت ہے


اک حرف لکھ نہ پاؤں جو اُن کا کرم نہ ہو

نسبت مری حضور سے عنوانِ نعت ہے


مدحِ نبی بہ لب تو خیالِ نبی بہ دل

ہر آن میری زیست پہ احسانِ نعت ہے


مقبولِ بارگاہِ رسالت مآب ہو

پورا خدا کرے جو یہ ارمانِ نعت ہے


سرمایہ اور کچھ نہیں بخشش کے واسطے

جھولی میں میری بس یہی سامانِ نعت ہے


عارف کوئی نہیں جو ادا اِس کا حق کرے

ہے کون جس کو دعویء عرفانِ نعت ہے

وسیم عباس، لاہور، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

صحنِ بتول بُوئے گلستانِ نعت ہے

چودہ کا نور زینتِ گلدانِ نعت ہے


ٹھوکر نہیں لگی کبھی بھٹکا نہیں ہوں میں

جس دن سے میرے ہاتھ میں دامانِ نعت ہے


ملتا نہ کیسےدہر میں اس صنف کو فروغ

صاحب! پدر علیؑ کا نگہبانِ نعت ہے


"آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں "

شہرِ سخن میں مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے


دیکھیں جو دل سے بغض کی مٹی کو جھاڑ کر

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"


بھولے نہ آدمی کبھی من کنت کا پیام

یہ آگہی ہے نعت کی عرفانِ نعت ہے


مجھ پر بھی اتنا لطف و کرم کیجئے حضورﷺ

میں کہہ سکوں کہ میرا بھی دیوانِ نعت ہے


اسرارِ کائنات ہیں مجھ پر کھُلے ہوئے

وہ اس لئے کہ دل مرا شعیانِ نعت ہے

وقار احمد وقار ، لاہور [ماخذ میں ترمیم کریں]

لگتا کلام رَب کا یہ عنوانِ نعت ہے

قرآن رَب کا رَب کی قسم شانِ نعت ہے


نعتوں کا سلسلہ نہیں رُکنے ہے والا یہ

اعلان اُس جہاں کا بھی اعلانِ نعت ہے


محوِ درود رَب ہے فرشتے بھی ساتھ ہیں

گویا کہ ہر گھڑی یہاں فیضانِ نعت ہے


گوشہ درود اِک میں نے لاہور دیکھا ہے

ہر بیٹھا جس میں شخص ہی قربانِ نعت ہے


خاور ؔ نے سچ کہا مجھے ہے نعت کی قسم

ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے


منزل تلک سفر میں کفایت کرے گا یہ

جو توشہ ء وقار میں سامانِ نعت ہے

وقار احمد نوری ، کرناٹک، بھارت[ماخذ میں ترمیم کریں]

بشکریہ : غلام جیلانی سحر


بخشش کا میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے

جنت سے بڑھ کے مجھ کو شبستانِ نعت ہے


بو بکر ہوں عمر ہوں غنی ہوں کہ ہوں علی

اِن میں ہر ایک صاحبِ عرفانِ نعت ہے


عشقِ رسولِ پاک کا فیضان ہی تو ہے

سینے میں جلوہ بار جو ایمانِ نعت ہے


اپنی جبینِ ناز کو ان کے حضور رکھ

تسکینِ روح و قلب ہے ذیشانِ نعت ہے


کُل کائنات چھان کے جبریل نے کہا

,,ہر شعبہِ حیات میں امکانِ نعت ہے,,


عشقِ نبی کی آنکھ سے قرآن پڑھ کے دیکھ

مدحِ رسولِ پاک ہی وجدانِ نعت ہے


شعر و سخن کے باب میں جو کچھ بھی ہے وقار

سب ہے عطا رسول کی, فیضانِ نعت ہے


وقار احمد نوری, کرناٹک, بھارت

ولی صادق، کوہستان، پاکستان[ماخذ میں ترمیم کریں]

مکمل نام : محمّد ولی صادق

ہر ناطقہ کے لب پہ ہی عنوانِ نعت ہے

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


مدت سے ہوں سکون کی دولت سے فیض یاب

یہ بھی میں جانتا ہوں کہ احسانِ نعت ہے


جب خود ہی کہہ رہا ہے خدا نعتِ مصطفیٰ

میں کیا بتاؤں دوستو! کیا شانِ نعت ہے


اُس خوش نصیب شخص کی منزل ہے باغِ خلد

تھامے ہوے جو شخص بھی دامانِ نعت ہے


اُس عاشقِ رسول کی عظمت کو ہے سلام

جس عاشقِ رسول کو عرفانِ نعت ہے


ہاں وہ سخن شناس ہے دراصل خوش نصیب

جو بھی رقم طراز بہ عنوانِ نعت ہے


ہر شعر جیسے ایک عقیدت کا پھول ہو

صادق! تِرا کلام گلستانِ نعت ہے۔

یاسر عباس فراز، میلسی[ماخذ میں ترمیم کریں]

قائم جو آج بھی ترا ص ایوانِ نعت ہے

پردے میں کوئی ہے جو نگہبانِ نعت ہے


در سے دکھائی دیتا ہے شہرِ ادب کا حسن

ایمانِ منقبت میں ہی ایمانِ نعت ہے


یہ میں جو آپ لوگوں کو لگتا ہوں معتبر

میرا نہیں کمال یہ فیضانِ نعت ہے


اے دوست مجھ فقیر کو تو نعت گو نہ لکھ

مجھ میں نہیں وہ لفظ جو شایانِ نعت ہے


میلاد مصطفی ص سے بنی مجلسِ حسین ع

ذکرِ حسین ع اصل میں عرفانِ نعت ہے


ان کے قدم کی دھول ہے یا ان کا نقشِ پا

مجھ خاک کی رسائی یہ سامانِ نعت ہے


بابائے مرتضی ع سے سخن گوئی سیکھ لیں

عجز و ادب کے بعد ہی امکانِ نعت ہے


مخفی رکھا ہے میں نے جو اک نام نعت میں

وہ گوشہِ رسول ص ہے اور جانِ نعت ہے

یاور حسین، پٹنہ، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

پہلا قدم بہ فرشِ دبستانِ نعت ہے

میں نے یہ کب کہا مجھے عرفانِ نعت ہے


الفاظ دست بستہ کھڑے ہیں جھکائے سر

اظہارِ عشق آج بہ عنوانِ نعت ہے


تعریف کر رہا ہے خدائے قدیم خود

اللہ کا کلام گلستانِ نعت ہے


ہر شے سے آشکار ہے وصفِ شہہِ امم

"ہر شعبہء حیات میں امکانِ نعت ہے"


تخلیقِ کائنات کا واحد سبب ہیں یہ

جو کچھ ہے اس جہاں میں وہ سامانِ نعت ہے


اتنی کشادگی ہے کہاں عرش و فرش میں

جتنا کشادہ حلقہء دامانِ نعت ہے


حد سے فزوں نہ حرف کوئی ہے نہ حد سے کم

دستِ خدائے پاک میں میزانِ نعت ہے


ہجرت کی شب علی ع کے سوا اور بھی کوئی

جلوہ فگن بہ تختِ سلیمانِ نعت ہے


پروانہء بہشت ہے مدحت رسول کی

یاور خوشا کہ تم پہ بھی فیضانِ نعت ہے

یاور وارثی، کانپور، انڈیا[ماخذ میں ترمیم کریں]

جو پھول جو کلی ہے وہ عنوان نعت ہے

پھرتا ہوں میں جہاں چمنستان نعت ہے


حاصل جسے سرور ہو عشق رسول کا

ارزاں اسی کے واسطے عرفان نعت ہے


کرتے ہیں آتے جاتے ہوئے پل مجھے سلام

صد شکر میرے ہاتھ میں دامان نعت ہے


اب اور کسی شرف کی نہیں مجھ کو آرزو

در کھولے میرے واسطے دربان نعت ہے


سب مانتے ہیں نعت نگاران مصطفے

حسان کو نصیب قلم دان نعت ہے


ہر لمحہ ہر صدی ہے ثناخوان مصطفے

کیا عظمتیں ہیں نعت کی کیا شان نعت ہے


آنکھیں جو ہوں تو کھول کے دیکھو ورق ورق

ہر ذرہ کائنات کا دیوان نعت ہے


اے کاش دن وہ آئے کہ سب کا ہو فیصلہ

اب شہر کانپور دبستان نعت ہے


پڑھتی ہے نعت آنکھ سے بہتی ہوئی ندی

ان کا خیال شمع شبستان نعت ہے


تا عمر چلتے رہئے سرا مل نہ پائے گا

اتنا طویل کوچہ امکان نعت ہے


یاور جہاں خیال پہونچتا نہیں کوئی

جاری وہاں بھی چشمہ فیضان نعت ہے