غلام مصطفی تبسم

"نعت کائنات" سے
(صوفی غلام مصطفی تبسم سے پلٹایا گیا)

This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Ghulam Mustafa Tabbasum.jpeg

معلم، شاعر، ادیب اور نقاد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم 4 اگست 1899 کو امرتسر میں پیدا ہوئے جہاں ان کے بزرگ کشمیر سے آکر آباد ہوئے تھے، صوفی تبسم کے والد کا نام صوفی غلام رسول اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ صوفی غلام مصطفی ان کا نام تھا اور تبسم تخلص۔ وہ چار بہن بھائی تھے جن میں صوفی تبسم سب سے بڑے تھے، ابھی صوفی تبسم معصوم بچے تھے کہ ان کی والدہ انھیں دیوان خانے سے باہر صحن میں لیے بیٹھی تھیں تو ایک جوگی جو اللہ سے لو لگائے ہوئے تھا وہاں سے گزرا،اس نے معصوم صوفی تبسم کو دیکھتے ہی شفقت کا ہاتھ ان کے سر پر رکھا اور ان کی والدہ سے کہا ’’اے بی بی! یہ بچہ بڑی قسمت لے کر پیدا ہوا ہے، یہ بڑا ہوکر بڑی شہرت اور ناموری حاصل کرے گا۔‘‘ پھر دنیا نے دیکھا یہ معصوم بچہ کل کا صوفی غلام مصطفی تبسم انیسویں صدی کا مشہور ومعروف معلم، شاعر، ادیب اور نقاد بنا۔ قادرالکلام صوفی تبسم ہر میدان کے شہسوار، نظم ہو یا نثر، غزل ہو یا گیت، ملی نغمے ہوں یا بچوں کی نظمیں۔ ہر صنف میں ان کے نقوش باقی ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک خاص چاشنی ہے، غزلیات میں ترنم، تغزل، روانی، کیف اور مستی سبھی کچھ ملتا ہے۔

تعلیمی اور عملی زندگی[ترمیم]

صوفی غلام مصطفی تبسم نے ایف سی کالج لاہور سے بی اے جب کہ اسلامیہ کالج لاہور سے ایم اے فارسی کیا، بی ٹی سینٹرل ٹریننگ کالج لاہور،گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو اور فارسی کے شعبے کے صدر رہے، صوفی تبسم کے کئی روپ تھے اور ہر روپ میں پسند کیے گئے، بحیثیت معلم شاگردوں کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ رہا، پرانے زمانے کے استادوں کی طرح وہ صرف استاد ہی نہیں تھے، مرشدوں والی صلاحیت بھی رکھتے تھے،

صوفی تبسم کی ادبی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا، انھوں نے تین زبانوں میں لکھا اور بہترین لکھا، اردو، پنجابی اور فارسی پر انھیں عبور حاصل تھا۔ صوفی غلام مصطفی تبسم نے غالب کے فارسی کلام کا منظوم ترجمہ بھی کیا جوکہ ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ فارسی کلام غالب کی شرح تحریر کی جو دو جلدوں میں چھپ چکی ہے۔ اس کے علاوہ صوفی تبسم نے امیر خسرو کے فارسی کلام کا بھی منظوم ترجمہ کیا۔ یہ امیر خسرو کی 100 غزلوں کا ترجمہ تھا جو ’’دو گونہ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کی ایک غزل ’’یہ رنگینی نوبہار اللہ اللہ‘‘ گلوکارہ ناہید اختر کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کردیے۔ اس کلام کی تاثیر ہمسایہ ملک تک بھی پہنچی اور بھارتی موسیقاروں نے فلم ’’جینا صرف میرے لیے‘‘ میں اسی کلام کو ’’مجھے مل گیا میرا پیار اللہ اللہ اللہ‘‘ کے الفاظ میں ریکارڈ کرلیا۔ صوفی تبسم کی لکھی ہوئی 31 کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں۔ صوفی تبسم نے غالب کی اردو غزلوں کا پنجابی میں ترجمہ کیا جن میں سے ایک غزل گائیک غلام علی نے ’’میرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں‘‘ گاکر خوب شہرت حاصل کی۔

بچوں کا ادب[ترمیم]

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے بچوں کے لیے بھی بہت لکھا، بچوں سے بے حد محبت کرتے تھے، انھوں نے ایک بار یہ واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ’’میرے بچے اپنی ماں اور دادی جان سے کہانیاں سنتے، مگر آخر ایک دن ان کی والدہ نے انھیں میری طرف بھیجا کہ جاؤ آج والد سے کہانی سنو۔ میں نے دو چار دن تو کہانی سنائی مگر پھر میں نے بچوں سے کہا کہ میں آپ کو نظم سناسکتا ہوں اور یوں انھوں نے اپنی بیٹی ثریا کے لیے ایک نظم کہی ’’

ثریا کی گڑیا نہانے لگی،

نہانے لگی ڈوب جانے لگی،

بڑی مشکلوں سے بچایا اسے،

کنارے پہ میں کھینچ لایا اسے‘‘

پھر ایک بچہ جو صوفی تبسم کے دوست عبدالخالق کا بیٹا تھا اور جو عموماً عجیب و غریب حرکتیں کرتا، اس بچے سے ایک کردار نے جنم لیا اور وہ مشہور و معروف کردار ’’ٹوٹ بٹوٹ‘‘ ہے جو آج بھی بچوں کے پسندیدہ کردار ہے اور گنگنایا جاتا ہے:

ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ

باپ تھا اس کا میر سلوٹ

پیتا تھا وہ سوڈا واٹر

کھاتا تھا بادام اخروٹ

شاعری[ترمیم]

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم قادر الکلام شاعر تھے، ان کی شاعری نصف صدی پر محیط ہے آپ محض اردو کے شاعر ہی نہیں بلکہ پنجابی اور فارسی کے بھی بلند پایہ شاعر تھے۔ آپ کے شعری ذوق کو فارسی سے خاص مناسبت تھی۔ صوفی تبسم کی شاعری میں محبت کے جذبات کی سچی اور صحیح ترجمانی ملتی ہے۔


ادبی خدمات[ترمیم]

صوفی تبسم کی بہت سی ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی حب الوطنی کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور اس کا اظہار انھوں نے 1965 کی جنگ میں متعدد جوشیلے اور پراثر جنگی ترانے لکھ کر کیا۔ ان کے لکھے جنگی ترانے آج بھی 1965 والا جذبہ سموئے ہوئے ہیں، خصوصاً ملکہ ترنم نور جہاں نے ان کے جنگی ترانے گاکر انھیں امر کردیا اور جو آج بھی زبان زدعام ہیں

’’اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے،

میریا ڈھول سپاہیا تینوں ربّ دیا رکھاں،

کرنیل نی جرنیل نی،

’میرا سوہنا شہر قصور نی،

یہ ہواؤں کے مسافر، یہ سمندروں کے راہی‘‘

ان جنگی ترانوں کو نور جہاں نے اپنی جادو بھری آواز میں کچھ اس انداز میں گایا کہ آج بھی ان نغمات کی گونج سے اٹھتے قدم ٹھہر جاتے ہیں۔

صوفی تبسم اور اقبال[ترمیم]

نسرین اختر نے لکھا ہے" صوفی غلام مصطفی تبسم کا علامہ اقبال کے ساتھ محبت اور عقیدت کا سلسلہ جو زمانہ طالب علم سے قائم ہوا، زندگی بھر رہا۔ 1932 میں صوفی تبسم نے علامہ اقبال کی زندگی میں ان کی شاعری کے لیے بہت کام کیا۔ انھوں نے علامہ اقبال کی شاعری کے عنوان سے ایک طویل مقالہ تحریر کیا، جسے علامہ اقبال نے بہت سراہا۔ اسی سال اورینٹل کالج لاہور میگزین میں صوفی تبسم نے علامہ اقبال کے حکم کی تعمیل میں نصیرالدین ہاشمی کی کتاب ’’یورپ میں دکنی مخطوطات‘‘ پر تبصرہ تحریر کیا۔ علامہ اقبال کی وفات کے بعد تو صوفی تبسم نے علامہ اقبال کی شاعری اور فکروفن کی تشریح وضاحت کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردیا۔ انھوں نے فارسی، اردو، پنجابی میں جتنا کچھ لکھا اس کا ایک تہائی اقبالیات پر مشتمل ہے۔ اپنی عمر کے آخری سال تو صوفی تبسم نے صرف اقبالیات کے فروغ کے لیے وقف کردیے تھے۔ فروری 1976 میں صوفی تبسم کی ان ہی خدمات کے پیش نظر انھیں اقبال اکادمی کا وائس پریذیڈنٹ مقرر کردیا گیا اور پھر آخری وقت تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔"



صوفی تبسم جب آرٹس کونسل لاہور کے چیئرمین بنائے گئے تو یہاں بھی انھوں نے اقبالیات پر بہت کام کیا۔ ہفتہ وار اقبال لیکچر اور تنقیدی مجالس کا اہتمام کیا، بلامبالغہ انھوں نے اقبالیات کی تشریح و ترقی کے سلسلے میں انتھک کام کیا۔ اپنی زندگی کے سفر کے اختتام پر بھی صوفی تبسم اقبال میموریل فنڈ کے سلسلے میں ٹی وی پر قوم سے اپیل کرنے اسلام آباد گئے ہوئے تھے کہ واپسی پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر اپنے شاگرد کے ہاتھوں میں وفات پائی۔


تصانیف و تراجم[ترمیم]

  • شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ’’مڈسمر نائٹ ڈریم‘‘ کا ’’ساون رین کا سپنا‘‘ کے نام سے ترجمہ
  • غالب کے فارسی کلام کا منظوم ترجمہ
  • فارسی کلام غالب کی شرح
  • امیر خسرو کے فارسی کلام کا بھی منظوم ترجمہ ۔ یہ امیر خسرو کی 100 غزلوں کا ترجمہ تھا جو ’’دو گونہ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کی ایک غزل ’’یہ رنگینی نوبہار اللہ اللہ‘‘ گلوکارہ ناہید اختر کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کردیے۔
  • صوفی تبسم کی لکھی ہوئی 31 کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں۔ صوفی غلام مصطفی تبسم کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ آپ خوش مزاج تھے۔ آپ کو چھوٹے بچوں سے لگاؤ تھا اور یہی وجہ تھی کہ آپ نے بچوں کے لیے پیاری پیاری نظمیں تخلیق کیں۔ آپ نے بچوں کی نظموں کے لیے ٹوٹ بٹوٹ کے نام سے ایک لڑکے کا کردار تخلیق کیا اور یہ نظم آج بھی پرائمری لیول کی کتابوں میں کورس کا حصہ ہے اور جسے بچے پڑھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔
  • صوفی تبسم نے دو فلموں میں گانے بھی لکھے، جن میں ’’شام ڈھلے‘‘ فلم مشہور ہے۔ ان کے فلمی گیتوں میں بھی ادبی رنگ نمایاں رہا:

سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی

دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی

خدمات و اعزازات[ترمیم]

  • صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی
  • ٹوٹ بٹوٹ جیسے کردار کی تخلیق
  • پنجاب یونیورسٹی نے انھیں تمغہ پیش کیا،
  • علامہ اقبال میڈل
  • اقبال میوزیم لاہور نے مجسمہ اقبال دیا۔
  • دفاتر میں اردو کا فروغ
  • پاکستان کرکٹ بورڈ کے پہلے چیئرمین


وفات[ترمیم]

وہ شاعری کے صنف سخن کے آفتاب عالمتاب اردو غزل گوئی کے شاہسواران کا نام ان کی آن ان کی شان ان کی پہچان۔ تبسم ان کا شاعرانہ تخلص صوفی ان کا لقب لیکن تصوف ان کا مسلک نہیں تھا۔ وہ نہ کبھی کسی درویشوں کی محفل میں گئے نہ کبھی صوفیاکے آستانوں مزاروں یا درگاہوں میں سجدہ ریز ہوئے وہ محض صوفی تھے۔ ان کے مزاج میں درویشی تھی۔

صوفی غلام مصطفی تبسم 7 فروری 1978ءکولاہور میں وفات پاگئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ لیکن وہ اپنی شاعری، تنقید، تراجم اور تحقیق میں آج بھی زندہ ہیں

بس آہ کشیدم و بیاری نرسید

بس نالہ زدم بہ غمگساری نرسید

صد اشک فروچکید از دو چشمم

یک قطرہ بدامن نگاری نرسید {صوفی تبسم}

حمدیہ و نعتیہ شاعری[ترمیم]

شراکتیں[ترمیم]

تیمور صدیقی  : انہوں نے نعتیں پیش کی

احمد سہیل  : احمد سہیل اردو ادب کے نامور محقق اور تنقید نگار ہیں ۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے بارے میں بیشتر معلومات ان کی فیس بک وال سے حاصل کی گئیں ہیں ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

اقبال عظیم | بیدم شاہ وارثی | حفیظ جالندھری | خالد محمود خالد | ریاض سہروردی | عبدالستار نیازی | کوثر بریلوی | نصیر الدین نصیر | منور بدایونی | مصطفیٰ رضا نوری | محمد علی ظہوری | محمد بخش مسلم | محمد الیاس قادری | صبیح رحمانی | قاسم جہانگیری | یوسف قدیری | قمر انجم | سید ناصر چشتی | صائم چشتی | وقار احمد صدیقی | شکیل بدایونی | ساغر صدیقی | حامد لکھنوی | حبیب پینٹر | غلام مصطفی تبسم