معائب سخن
معائبِ سخن سے مراد وہ لسانی، فنی، عروضی اور معنوی نقائص ہیں جو کلام کے حسن، تاثیر اور فصاحت کو متاثر کرتے ہیں۔ علمِ نقدِ شعر میں ان عیوب کی شناخت اس لیے ضروری سمجھی جاتی ہے کہ شاعر اپنے کلام کو خامیوں سے پاک کر کے زیادہ مؤثر اور بلیغ بنا سکے۔ معائبِ سخن میں تعقید، تکرار، تطویل، حشو، تنافر حروف، ضعفِ تالیف، سست بندش، عیوبِ قوافی، عیوبِ ردیف، سرقہ، ابتذال اور مبالغہ وغیرہ شامل ہیں۔ بعض عیوب الفاظ اور زبان سے متعلق ہوتے ہیں، بعض معنی و مفہوم سے، جبکہ بعض کا تعلق وزن، قافیہ اور شعری ساخت سے ہوتا ہے۔ شعر کی فنی جانچ اور تنقیدی مطالعے میں معائبِ سخن کی پہچان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان کے ذریعے کلام کے محاسن اور نقائص دونوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
معائبِ سخن
ابتذال | اتصال | اثقال | اخلال | املاکی اغلاط | بدفضائی | بے معنی | تثلیم | تذکرو تانیث کی اغلاط | ترکیب کے ساتھ اعلان نون | تعقیب | تعقید | تقدیم و تاخیر | تکرار | تطویل | تکلف | تلفظ کی اغلاط | تنافر حروف | تنافر کلمات | توارد | توالی اضافت | حشو ملیح | حشو متوسط | حشو قبیح | دولخت | ذم کا پہلو | سرقہ | سست بندش | سوءادب | شتر گربہ | ضعف تالیف | ضعف خاتمہ | ضعف نظم | ضلع جگت کی بے لطفی | نا موزونیت | شکست ناروا | عیوب ردیف | عیوب قوافی | غرابت لفظی | غلط العام | غلط العوام | غیر شاعرانہ الفاظ کا استعمال | فارسی الفاظ کے آخر کی ہ | فارسیت | کراہیت سمع | کہ اور نہ کا صیحح تلفظ | حصر | تو سے پہلے 'جو کا استعمال | الفاظ کے استعمال میں عدم احتیاط | مبالغہ | متروکات | محاورہ روز مرہ کی اغلاط | مخالفت لغت | مقدرات | منع صرف | منع نحو | واحد جمع کی اغلاط وغیرہ |