مندرجات کا رخ کریں

تثلیم

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.


تثلیم عربی لفظ ثَلَمَ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کے کنارے میں رخنہ، شگاف یا نقص پیدا ہو جانا۔ علمِ عروض اور فنِ شاعری میں تثلیم اس عیب کو کہتے ہیں کہ کسی لفظ کے اجزائے ترکیبی یا حروف کو اس طرح جدا کر دیا جائے کہ لفظ کی اصل ہیئت اور فصاحت متاثر ہو۔ بالفاظِ دیگر جب شاعر وزن، قافیہ یا کسی اور شعری ضرورت کے تحت ایک لفظ کا کچھ حصہ ایک مقام پر اور باقی حصہ دوسرے مقام پر لے جائے تو اسے تثلیم کہا جاتا ہے۔ اہلِ فن کے نزدیک چونکہ لفظ اپنی مکمل صورت میں معنی اور حسنِ ادا کا حامل ہوتا ہے، اس لیے اس میں غیر فطری شکست پیدا کرنا معائبِ سخن میں شمار کیا جاتا ہے۔[1][2]


تثلیم کا عیب عام طور پر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شاعر مصرع کے آخر اور دوسرے مصرع کے آغاز میں ایک ہی لفظ کو تقسیم کر دیتا ہے یا کلام میں کسی لفظ کو اس انداز سے توڑتا ہے کہ اس کی قرأت ناگوار محسوس ہونے لگتی ہے۔ اگرچہ بعض قدیم شعرا کے ہاں اس کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن جمہور ناقدین نے اسے عیب قرار دیا ہے کیونکہ اس سے کلام کی روانی اور فصاحت متاثر ہوتی ہے۔ فصیح کلام میں الفاظ کو ان کی طبعی اور معروف صورت میں برقرار رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ قاری یا سامع کو معنی سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے۔[3]

مثالیں

مثال ۲

؎ یہ کیفِ عشق ہے کہ نظر آ رہا ہے من

؎ ظر ہر اک طرف اسی پر جمال کا

اس مثال میں منظر کے لفظ کو دو مصرعوں میں توڑ دینے سے لفظ کی طبعی ساخت مجروح ہو رہی ہے۔

اساتذۂ فن کی رائے

اردو کے ناقدین اور ماہرینِ عروض کا اتفاق ہے کہ حتی الامکان تثلیم سے گریز کیا جانا چاہیے۔ مولانا الطاف حسین حالی نے شعر میں سادگی، روانی اور فطری اظہار پر زور دیتے ہوئے ایسے تصرفات کو ناپسند کیا ہے جو الفاظ کی فصاحت پر اثر انداز ہوں۔[4]

مزید دیکھیے

ابتذال | اتصال | اثقال | اخلال | املاکی اغلاط | بدفضائی | بے معنی | تذکرو تانیث کی اغلاط | ترکیب کے ساتھ اعلان نون | تعقیب | تعقید | تقدیم و تاخیر | تکرار | تطویل | تکلف | تلفظ کی اغلاط | تنافر | تنافر حروف | تنافر کلمات | توارد | توالی اضافت | حشو | دولخت | ذم کا پہلو | سرقہ | سست بندش | سوءادب | شتر گربہ | ضعف تالیف | ضعف خاتمہ | ضعف نظم | ضلع جگت کی بے لطفی | نا موزونیت | شکست ناروا | عیوب ردیف | عیوب قوافی | غرابت لفظی | غلط العام | غلط العوام | غیر شاعرانہ الفاظ کا استعمال | فارسی الفاظ کے آخر کی ہ | فارسیت | کراہیت سمع | کہ اور نہ کا صحیح تلفظ | حصر | تو سے پہلے 'جو' کا استعمال | الفاظ کے استعمال میں عدم احتیاط | مبالغہ | متروکات | محاورہ روز مرہ کی اغلاط | مخالفت لغت | مقدرات | منع صرف | منع نحو | واحد جمع کی اغلاط وغیرہ

حواشی و حوالہ جات

  1. ↑ مولانا الطاف حسین حالی، مقدمۂ شعر و شاعری، مجلس ترقی ادب، لاہور، ص 188۔
  2. ↑ سید سلیمان ندوی، عروض و قافیہ، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، ص 97۔
  3. ↑ عبدالرشید حسرت، اردو میں فنِ عروض، مکتبہ دانیال، لاہور، ص 143۔
  4. ↑ مولانا الطاف حسین حالی، مقدمۂ شعر و شاعری، مجلس ترقی ادب، لاہور، ص 188۔