دل سے جو محوِ نعتِ سرور تھا

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 10:37، 14 جولائی 2024ء از 106.216.252.45 (تبادلۂ خیال) («شاعر: مشاہد رضوی ==={{نعت }}=== دل سے جو محوِ نعتِ سرور تھا وا اسی پر فلاح کا در تھا مصطفیٰ کا پسینۂ اطہر خوشبوے مشک سے فزوں تر تھا یوں مساوات کا چلن بخشا کوئی ادنیٰ نہ کوئی برتر تھا ان کی آمد سے مٹ گیا یکسر دہر میں جو بھی فتنہ و شر تھا بن کے اب...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search

شاعر: مشاہد رضوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

دل سے جو محوِ نعتِ سرور تھا

وا اسی پر فلاح کا در تھا

مصطفیٰ کا پسینۂ اطہر

خوشبوے مشک سے فزوں تر تھا

یوں مساوات کا چلن بخشا

کوئی ادنیٰ نہ کوئی برتر تھا

ان کی آمد سے مٹ گیا یکسر

دہر میں جو بھی فتنہ و شر تھا

بن کے ابھرے وہ قدردانِ وفا

شعلہ نفرت کا جن کے اندر تھا

موم کر ڈالا ان کو آقا نے

جن کا دل سخت مثلِ پتھر تھا

کامرانی طواف کرتی تھی

جب نصاب ان کا ہم کو ازبر تھا

جب تھی پابندِ سنتِ نبوی

اوج پر قوم کا مقدر تھا

کیسے بھولیں وہ دن مشاہدؔ جب

ان کا روضہ نظر کا محور تھا

۲۱؍رمضان المبارک 1443ھ /23؍ اپریل 2022ء بروز سنیچر

٭٭٭


پچھلا کلام

وُفورِ شوق میں نعتِ نبی جب گنگنائی ہے


اگلا کلام

موسمِ گل ہو کوہِ صحرا ہو