دل سے جو محوِ نعتِ سرور تھا
نعت کائنات سے
شاعر: مشاہد رضوی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
دل سے جو محوِ نعتِ سرور تھا
وا اسی پر فلاح کا در تھا
مصطفیٰ کا پسینۂ اطہر
خوشبوے مشک سے فزوں تر تھا
یوں مساوات کا چلن بخشا
کوئی ادنیٰ نہ کوئی برتر تھا
ان کی آمد سے مٹ گیا یکسر
دہر میں جو بھی فتنہ و شر تھا
بن کے ابھرے وہ قدردانِ وفا
شعلہ نفرت کا جن کے اندر تھا
موم کر ڈالا ان کو آقا نے
جن کا دل سخت مثلِ پتھر تھا
کامرانی طواف کرتی تھی
جب نصاب ان کا ہم کو ازبر تھا
جب تھی پابندِ سنتِ نبوی
اوج پر قوم کا مقدر تھا
کیسے بھولیں وہ دن مشاہدؔ جب
ان کا روضہ نظر کا محور تھا
۲۱؍رمضان المبارک 1443ھ /23؍ اپریل 2022ء بروز سنیچر
٭٭٭
پچھلا کلام
وُفورِ شوق میں نعتِ نبی جب گنگنائی ہے