موسمِ گل ہو کوہِ صحرا ہو

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

شاعر: مشاہد رضوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

موسمِ گل ہو کوہِ صحرا ہو

ہر نَفَس مصطفیٰ کا چرچا ہو

دور دنیا کے غم سے ہوجاؤں

ان کی الفت کا دل پہ پہرا ہو

رب نے اپنا کیا جنھیں نائب

کیوں نہ ہر شَے پہ ان کا قبضہ ہو

جگمگا اٹّھوں میں دُرودوں سے

راستہ زندگی کا نکھرا ہو

گر چلیں سنتِ پیمبر پر

سارا عالم ہمارا شیدا ہو

میری قسمت کو یوں ملے معراج

وقتِ آخر ہو ان کا روضہ ہو

ہے تیقن سے منسلک آمد

کیوں نہ پھر قبر میں اجالا ہو

خاورِ حشر سے ملے راحت

زلفِ والا کا سر پہ سایہ ہو

وقتِ آخر ہو جب مشاہدؔ کا

لب پہ نعتِ نبی کا نغمہ ہو

۲۲؍ رمضان المبارک 1443ھ /24 ؍اپریل 2022ء بروز اتوار

٭٭٭


پچھلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

دل سے جو محوِ نعتِ سرور تھا


اگلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جدھر بھی دیکھیے خیرالوریٰ کا چرچا ہے