اطہر عبداللہ سوداگر

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

اطہرعبداللہ سوداگر


اطہرعبدللہ سوداگر شہرِ ٹانڈہ امبیدکرنگر(ہند) میں 5 مئی 1940ء میں پیدا ہوئے. آپ کے والدِ گرامی کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے. آپ کو طالب علمی کے زمانے سے ہی شعرو سخن سے بہت دلچسبی تھی اور اسی طالب علمی کے دور میں ہی آپ نےاپنی شاعری کا آغاز کر دیا.آپ شاعری کے ابتدائی دور میں شہرِ ٹانڈہ کے استاذ الشعرا جڈاکٹر ذوقی سے اصلاح لیا کرتے تھے .

آپ کو نعتِ پاک کے ساتھ ساتھ غزل،نظم،گیت،سہرا،رخصتی،حمد،مناجات،قصیدہ، دیگر اصناف پر مہارت حاصل ہے۔

آپ کی شاعری سے متاثر ہوکر شہر کے شعرا حضرات نے آپ کو سن 2012میں فخرِ ٹانڈہ کے لقب سے نوازا.

آپ کے نعتیہ مجموعے کا نام "عرفانیات ہے جو2012 میں شائع ہوا جس کی بہت شہرت ہوئی.


حمدیہ و نعتیہ شاعری

حمدیہ و نعتیہ کلام

جو ماہِ انور پہ حکم اپنا چلا رہا ہے وہی خدا ہے۔اطہرعبداللہ سوداگر

مزید حمدیہ و نعتیہ شاعری

اَللہ ہُو اَللہ ہُو اَللہ ہُو اَللہ ہُو اَللہ ہُو اَللہ ہُو اَللہ ہُو اَللہ ہُو ہر منظر میں تو ہی تو اَللہ ہُو اَللہ ہُو بلبل کے نغموں میں تو تجھ سے کوئل کی کو کو تیری حمد و ثنا ہر سو اَللہ ہُو اَللہ ہُو سُوسَن میں گُلنار میں تو مُشکی ہار سنگار میں تو سب پھولوں میں تیری بوٗ اَللہ ہُو اَللہ ہُو دریا میں اشجار میں تو ریگستان کہسار میں تو تجھ سے صحرا میں آہو اَللہ ہُو اَللہ ہُو ارض و سما کا خالق تو کُل خِلقت کا مالک تو ہے تعریف تری ہر سو اَللہ ہُو اَللہ ہُو چاند میں ہے رخشندہ تو تاروں میں تابندہ تو تجھ سے روشن ہے جگنو اَللہ ہُو اَللہ ہُو ہیرا پنّا زر میں تو سِیم و لعل و گہر میں تو تجھ سے مرجان و لُولو اَللہ ہُو اَللہ ہُو تسنیم و کوثر میں تو عِرفاں کے ساغر میں تو تجھ سے مینا جام و سبو اَللہ ہُو اَاللہ ہُو اطہرؔ کے احساس میں تو بھوک میں تو اور پیاس میں تو ہے موجِ انفاس میں تو اَللہ ہُو اَللہ ہُو

نعت ان آنکھوں کو پہلے ہم نمناک بناتے ہیں ان آنکھوں کو پہلے ہم نمناک بناتے ہیں سرکار کو پھر غم کی روداد سناتے ہیں

دل کانپ ہی جاتا ہے کفار کے لشکر کا جب فخرِ جہاں نعرہ میداں میں لگاتے ہیں

آقا کے غلاموں پر اللہ کی رحمت ہے بہتے ہوئے دریا میں جو راہ بناتے ہیں

سلطانِ مدینہ کی ہے چشمِ کرم ان پر سمجھا کے جو بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں

اس میں نہ دھواں کوئ، بھپکی نہ تمازت ہے قندیلِ ہدایت جو سرکار جلاتے ہیں

دو لخت قمر کر کے پھر جوڑ بھی دیتے ہیں یہ رشکِ مہ و اختر اعجاز دکھاتے ہیں

سلطانِ مدینہ کی ہر شئے پہ حکومت ہے ڈوبے ہوئے سورج کو واپس جو بلاتے ہیں

تمثیلِ نبی اطہر پائیں گے بھلا کیسے جب نورِ مجسم کا سایہ نہیں پاتے ہیں

وہ دل ہے دل کہ جس میں خیالِ حضور ہے

وہ دل ہے دل کہ جس میں خیالِ حضور ہے آنکھیں ہیں وہ کہ جن میں جمالِ حضور ہے

ہوتا ہے جس سے لطف و عنایت کا حق ادا ایسا لطیف صرف جمالِ حضور ہے

کہنا پڑیگا تجھ کو بھی بے مثل ہیں حضور تاریخ لا کہیں جو مثالِ حضور ہے

امیّ لقب کے سامنے سب بے زبان ہیں ہر دل عزیز صرف مقالِ حضور ہے

میں دیکھتا ہوں چاند ستاروں کو اس لئے ان کی چمک میں عکسِ جمالِ حضور ہے

ہندالولی کوئی ، شہِ بغداد ہے کوئ عالی مقام ہر جگہ آلِ حضور ہے

بوبکر اور عمر کے سوا کون ہے یہاں حاصل جنہیں لحد میں وصالِ حضور ہے

بحرِ کرم نبی ہیں تو جوئے سخا ہیں یہ عثماں کی ذات جود و نوالِ حضور ہے

ہجرت کی رات بسترِ آقا پہ ہیں علی خود اپنی جاں سے بڑھ کے خیالِ حضور ہے

اطہر ہے محو نعت رسالت مآب میں حاصل اسے بھی عشقِ بلالِ حضور ہے

ہمسر نہیں ہے کوئ نبی کا صفات میں

ہمسر نہیں ہے کوئ نبی کا صفات میں ان کی کہاں مثال کوئ کائنات میں

ہجرت کیا جب ارضِ مدینہ حضور نے صدیق خوش نصیب تھے آقا کے ساتھ میں

دو ٹکڑے چاند کر دیا اپنا اٹھا کے ہاتھ کیا زور کیا جلال ہے آقا کے ہاتھ میں

مصروف دینِ حق میں ہمہ وقت آپ تھے تبلیغِ دین دن میں عبادت تھی رات میں

یا ربِ ھبلی امتی کہتے تھے مصطفیٰ اکثر نمازِ فجر میں یا نصف رات میں

بجھ جائے نہ چراغِ تمنا کہیں مرا یا رب دکھا دے مجھکو مدینہ حیات میں

اطہر بہشتِ زار کی ہے آرزو اگر ذکرِ رسول کرتے رہو کائنات میں

نور برسائے نہ کیوں گنبد خضریٰ تیرا نور برسائے نہ کیوں گنبد خضریٰ تیرا رشک فردوس ہے واللہ مدینہ تیرا

میں کہاں اور کہاں رتبۂ اعلیٰ تیرا کر نہیں سکتا بیاں کوئی سراپا تیرا

سنگ اسود تری قسمت کا ستارہ چمکا لے لیا سرور عالم نے جو بوسہ تیرا

تیرے ہی نور سے پُر نور ہے سارا عالم زلف واللیل تو والشمس ہے چہرہ تیرا

کتنا تڑپاتا ہے محرومی کا احساس مجھے آئے قسمت سے وہ دن ، دیکھوں میں روضہ تیرا

راحتیں کیوں نہ میسر ہوں دلِ مضطر کو روکش خلد ہے سرکار جو کوچہ تیرا

تابعِ حکم ترے شمس و قمر اور شجر بے زباں سنگ بھی پڑھنے لگا کلمہ تیرا

میں بھی اک خواب کبھی دیکھتا آقا ایسا رو برو ہوتا مری آنکھ کے ، جلوہ تیرا

جو ترے در پہ گیا ہوکے تونگر لوٹا! دیکھ کر دنگ ہیں سب اسوۂ حسنہ تیرا

فضل اللہ کا ہے رحمت عالم تجھ پر ’’بول بالا ہے ترا ذکر ہے اونچا تیرا‘‘ منبعِ جود و سخا یہ ہے قناعت تیری ہے کھجوروں کی چٹائی کا بچھونا تیرا

کیوں کرے گا کبھی فردوس بریں کی خواہش جس کو مل جائے مقدر سے مدینہ تیرا

تیری توصیف بیاں کیسے کرے گا کوئی مدح خواں خالق کونین ہے آقا تیرا

تو ہے محبوب خدا ، سارا جہاں ہے تجھ سے فرش تا عرش ہے کونین میں چرچہ تیرا

قمریاں کرتی ہیں جب نغمہ سرائی تیری سب شجر جھومتے ہیں سن کے ترانہ تیرا

ہوں ابوبکر و عمر یا کہ غنی و حیدر سب کے کردار میں ہے اسوۂ حسنہ تیرا

تو ہے ممدوحِ خدا ، باعثِ تخلیق جہاں کیا لکھے اطہرؔ ناچیز قصیدہ تیرا


شاہِ پیغمراں خاتم المرُسَلاں سَرورِ سَرورَاں،رہبرِ رَہبراں، شاہِ پیغمراں خاتم المرُسَلاں مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا رحمتِ دو جہاں خاتم المرُسَلاں

آپ شمس الضحیٰ آپ بدرالدجیٰ آپ نورِ خدا آپ ماہِ حرا آپ کا مرتبہ سب نبی سے جدا افتخار جہاں خاتم المرُسَلاں

بے کس و ناتواں مُفلس و بے اماں کے مددگار ہیں آپ شاہِ زماں حامیئ بے نوا مُو نسِ غمزدہ شافعِ عاصیاں خاتم المرُسَلاں

آپ ہی سے منوّ رہیں شمس و قمر ہیں کواکب درخشاں سبھی عرش پر آپ ہی سے تو ضوریزہے کہکشاں زینتِ لامکاں خاتم المرُسَلاں

لالہ و گل گلاب و سمن مو نگرا جوہی سُنبل کھلے گلستاں گلستاں آپ ہی کی بدولت ہے ہر اک طرف فصلِ گل کا سماں خاتم المرُسَلاں

دین کے رہنما شاہِ ارض و سما آپ ممدُوحِ رب آپ مُعجز نُما حُکم نا فظ ہوا کلمہ پڑھنے لگے آپ کا بے زباں خاتم المرُسَلاں

جو تھا ظلمت کدہ بد عت و کفر کاآپ ہی نے اُسے آکے روشن کیا آپ ہی کی شانِ رحمت اے شاہِ ہدیٰ بے حد و بیکراں خاتم المرُسَلاں

آپ ہی وجہ تخلیقِ عالم بھی ہیں آپ ہی آقا نور مجسّم بھی ہیں آپ ہی مصطفےٰ دافعِ غم بھی ہیں آپ ہی حِرذِ جاں خاتم المرُسَلاں

آپ مَسند نشیں عرش پر مصطفےٰ آپ جلوہ نما فرش پر مصطفےٰ مصطفےٰ مصطفےٰ مصطفےٰ مصطفےٰ فخر کون و مکاں خاتم المرسلاں

مصطفےٰ آپ نورِ خدا وند ہیں آپ ہی آمنہ بی کے فرزند ہیں سب یتیم و ضیعفوں کے درد مند ہیں مونسِ بیکساں خاتم المرسلاں

ناقص العلمِ فن یہ ہے شاہِ امم اطہرِؔ کم سخن پر ہو چشمِ کرم نعت لکھنے کے قابل ہو اس کا قللم ہے یہ وردِ زباں خاتم المرسلاں

مصطفےٰ ہی کی رسائ ہے خدا کے سامنے

تھے شبِ معراج وہ رب العلا کے سامنے عین ذاتِ حق تھی چشمِ مصطفےٰ کے سامنے

عین جلوت گاہ تک کوئی پہنچ سکتا نہیں مصطفےٰ ہی کی رسائ ہے خدا کے سامنے

آپ کی شانِ رسائ دیکھتے ہی رہ گئے چشمِ جبریلِ امیں بھی منتہا کے سامنے

یہ بھی ہے اعجاز امیّ کا کہ فصحائے عرب دم بخود ہیں تاجدارِ انبیاء کے سامنے

دودھ بچوں کو پلا کر جب ہرن واپس ہوئ رہ گیا ششدر شکاری مصطفےٰ کے سامنے

تین سو تیرہ کے دشمن تھے ہزاروں بدر میں پھر بھی دل باطل کے دھڑکے مصطفےٰ کے سامنے

اے شفیعِ عاصیاں عاصی کا رکھ لینا بھرم ورنہ کیا منہ دکھاؤں گا خدا کے سامنے

کاش دکھلاتا مقدر وہ بھی دن اطہر مجھے نعت پڑھتا میں درِ خیرالوریٰ کے سامنے

.لبیّکاللھّم لبیّک مبارک ہو مبارک ہو مدینے کا سفر حاجی دیارِنورِ یزداں روصہء خیرالبشر حاجی

نزولِِ رحمتِ باری جہاں ہے سر بسر حاجی مبارک ہو تجھے وہ رات دن شام و سحر حاجی

جہازِ آرزو جب مائلِ پروازِ طیبہ ہو صدائے مرحبا دے پھر خلا کی رہگزر حاجی

رسائی جب بھی ہو گلزارِوحدت کی فضاؤ میں چلے لبیک کی یادِ بہاری جھوم کر حاجی

حریمِ قدس کے روشن منارے جب نظر آئیں نظر ملتے ہی روشن ہوں تیرے قلب و جگر حاجی

مطافِ قُدس میں اِحرام سے ملبوس داخل ہوں طوافِ کعبہ کرنا سنگ اسود چوم کر حاجی

کیئے جا نا درودِپاک کی گلریزیاں پیہم درِمحبوبِ داورکو لبوں سے چوم کر حاجی درِاقدس پہ رونا گڑگڑانا ہاتھ پھیلا کر دُعا کرنا وہا قفلِ دہن کو کھول کر حاجی

تہجّد اور تسبیحیں تلاوت اور تفسیریں مدینے میں رہے یہ مشغلہ آٹھوں پہر حاجی

وظائف میں درودوں میں نوافل میں دُعاوں میں عبا دت ہی میں گزرے رات دن شام و سحر حاجی

جہاں پہ ذبح کرنے جا رہے تھے با پ بیٹے کو منیٰ میں چو م لینا تم وہ ارضِ معتبرحاجی

نبی کے آستاں پر جب دُعا میں اشک باری ہو سمونا دامنِ دل میں وہ اشکوں کا گہر حاجی

وہاں حسنِ مقدر سے رسائی آج ہے تیری جہاں ہے نقشِ پائے مصطفےٰ کی رہگزر حاجی

کیا ہو گا سفر لاکھوں اے حاجی زندگانی میں مگر سب میں مقدّس ہے مدینے کا سفر حاجی

یہاں ناری نئے ظلم وستم ایجاد کرتے ہیں بیاں کر دینا آقا سے تشّدد ظلم و شر حاجی

بہت ہی خوش و خرم ہیں یہ رفعت دیکھ کر تیری عزیز واقربا بھائی بہن مادر پدر حاجی

تصوّر میں رہیں اہلِ قرابت اور اطہرؔ بھی یہی ہے وقتِ رخصت التجا با چشمِ تر حاجی

رحمۃ للعالمیں رونقِ کون و مکاں ہیں رحمۃ للعالمیں افضلِ پیغمبراں ہیں رحمۃ للعالمیں

خوش مقال و خوش بیاں ہیں رحمۃ للعالمیں ایسے ناطق گلفشاں ہیں رحمۃ للعالمیں

ہیں غلامِ مصطفےٰ تو فکرِ محشر کیوں کریں جب شفیع عاصیاں ہیں رحمۃ للعالمیں

بے سہاروں کے سہارا ، گمرہوں کے رہنما ہادیِ دورِ زماں ہیں رحمۃ للعالمیں

بن کے آئے رحمت عالم محمّد مصطفےٰ دستگیرِ ناتواں ہیں رحمۃ للعالمیں


میہمانی کا شرف بخشا خدائے پاک نے آپ رب کے رازداں ہیں رحمۃ للعالمیں

آپ کے ارشاد پر ہرنی رہائی پاگئی مظہِرِ امن و اماں ہیں رحمۃ للعالمیں

وہ سفینہ غرقِ طوفاں ہو یہ ممکن ہی نہیں آپ جس کے بادباں ہیں رحمۃ للعالمیں

آپ کیا ہیں؟ یہ خدا جانے ، مجھے یہ ہے پتہ زینتِ باغِ جناں ہیں رحمۃ للعالمیں

جانب منزل رواں ہے کاروانِ اہلِ حق اور میرِ کارواں ہیں رحمۃ للعالمیں

قلبِ اطہرؔ کو بھلا خوفِ غمِ دنیا ہو کیوں غمگسارِ بے کساں ہیں رحمۃ للعالمیں

حاجیو جب خانہ کعبہ کا منظر دیکھنا حاجیو جب خانہ کعبہ کا منظر دیکھنا جلوۂ شانِ خدا دل میں بسا کر دیکھنا

پھر گلِ حمد و ثنا کی کرنا گل افشانیاں پھر حرم کی وہ فضائے روح پرور دیکھنا

پھول ہونٹوں پر کھلا لینا دوردِ پاک کے اس طرح تم روضۂ محبوب داور دیکھنا

غنچہ و گل ہی نہیں ، ہیں خار و خس بھی محترم ہے ادب یہ ان کو آنکھوں سے لگا کر دیکھنا

حاجیو خوش قسمتی سے جا رہے ہو تم وہاں! ہے جہاں کا خار بھی پھولوں سے بڑھ کر دیکھنا

گلستاں شاہِ زماں کا ہے بہارِ بے خزاں عود و عنبر سے زیادہ ہے معطر دیکھنا

سارے عالم سے منور ہے حرم کی سر زمیں ہے وہاں کا ذرہ ذرہ رشکِ گوہر دیکھنا

خطبہ فرماتے رہے سرکار دو عالم جہاں مسجد نبوی میں وہ محراب و منبر دیکھنا

ہیں شہنشاہِ زمانہ جن کے آگے سر نِگوں! تھی فقط ٹوٹی چٹائی ان کا بستر دیکھنا

ہے یہی شہر نبی ان چار یاروں کا وطن اس دیارِ پاک میں ہیں ان کے بھی گھر دیکھنا

جب حریم قدس کا پیش نظر ہو آئینہ ہے درخشاں کس قدر اپنا مقدر دیکھنا

تم درِ اقدس پہ پڑھنا جب کلامِ الوداع مہبطِ انوار و رحمت آنکھ بھر کر دیکھنا

جبلِ رحمت ، کوہِ غارِ ثور و عرفات و منیٰ جا بہ جا گوشہ بگوشہ ہے منور دیکھنا

اطہرؔ ناچیز کا بھی عرض کر دینا سلام واپسی میں جب مچل کر بابِ انور دیکھنا جلوہ گاہِ مصطفےٰ کا گوشہ گوشہ نور ہے مظہرِ نورِ خدا ہیں وہ ، سراپا نور ہے شکلِ انساں میں ہوا ظاہر خدا کا نور ہے

سرفرازِ نور ہوجاتے ہیں سب آکر یہاں جلوہ گاہِ مصطفےٰ کا گوشہ گوشہ نور ہے

جبلِؔ رحمت ہو ، حراؔ ہو ، ثورؔ ہو ، یا ہو منیٰ نور افشاں ہر جگہ بدر الدجےٰ کا نور ہے

ہر طرف ہے دیکھئے ان کی تجلّی کا ظہور جلوہ فرما ہر جگہ نورِ خدا کا نور ہے

آرزو ہے موت سے پہلے مری یا مصطفےٰ دیکھ لوں دربارِ نورِ حق میں کیسانور ہے

شہر طیبہ کا تو دن بھی ہے سُہانا رات بھی روز و شب یکساں ہیں ، یہ کیسا سہانا نور ہے

کہکشاں روشن ہوئی ، شمس و قمر روشن ہوئے ہے منور جس سے ہر عالم یہ ایسا نور ہے

بھیک اطہرؔ کو نہ حاصل ہو یہ ممکن ہی نہیں مانگتا ہے اس کے در سے جو سراپا نور ہے

پیکرِ نور خُدا ہیں آمنہ کی گود میں قلزم جو و سخا ہیں آمنہ کی گود میں مخزنِ لطف وعطا ہیں آمنہ کی گود میں

جلوۂ شمعِ وفا ہیں آمنہ کی گود میں مظہرِ شانِ خدا ہیں آمنہ کی گود میں

دو جہاں کے رہنما ہیں آمنہ کی گود میں زینتِ ارض و سما ہیں آمنہ کی گود میں

گرمیِ محشر میں سب ان سے ہی مانگیں گے پناہ وہ محمد مصطفےٰ ہیں آمنہ کی گود میں

اب زمانے کی سبھی تاریکیاں مٹ جائیں گی پیکرِ نور خُدا ہیں آمنہ کی گود میں

راحتِ قلب و جگر ہیں ، مونسِ فکر و الم دافعِ رنج و بلا ہیں آمنہ کی گود میں

دستگیرِ ناتواں و غمگسارِ بے کساں شافعِ روزِ جزا ہیں آمنہ کی گود میں

جن کے پرتو سے منور ہے یہ ساری کائنات مرحبا جلوہ نما ہیں آمنہ کی گودمیں

عظمتِ سرکار کا منکر تو آجا ہوش میں دیکھ ممدوحِ خدا ہیں آمنہ کی گود میں

بن کے آئے رحمۃ للعالمیں ، ختم الرسل ہر کسی کے مدعا ہیں آمنہ کی گود میں

صبح کی پہلی کرن پیغام اطہرؔ دے گئی دونوں عالم کی ضیا ہیں آمنہ کی گود میں


مزید دیکھئے

نئے اضافہ شدہ کلام

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات