یہ کہتی تھی گھر گھر۔ نور الحسن

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


شاعر : نور الحسن

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ " مرِ ے گھر میں خیر الوراے آ گئے ہیں

بڑے اوج پر ہے مرا اب مقدر ٗمرے گھر حبیبِؐ خدا آگئے ہیں


اٹھتی چا ر سو رحمتوں کی گھٹا ئیں معطرّ معطرّہیں ساری فغا ئیں

خوشی میں یہ جبریلؑ نغمے سنا ئیں وہ شا فعِ روز جزا آگئے ہیں


یہ ظلمت سے کہہ دو کہ ڈیرے اٹھا لے کہ ہیں ہر طرف اب اجا لے اجالے

کہا جن کو حق نے سرِاج مُنِیرامِرے گھر وہ نورِ خد ا آگئے ہیں


مقرب ہیں بے شک خلیل و نجی بھی ، بڑی شان والے کلیم و مسیحؔ بھی

لیے عرش نے جن کے قدموں کے بوسے وہ اُمی لقب مصطفیٰ آگئے ہیں


یہ سن کر سخی آپکا آستا نہ ہے دامن پسا رے ہوئے سب زما نہ

نوا سوں کا صدقہ نگا ہِ کرم ہو ترِے در پہ تیرے گدا آگئے ہیں


نکیر ین جب میری تربت میں آکر کہیں کے زیا رت کا مشردہ سُنا کر

اٹھو بہر تعظیم نور الحسنؔ اب لحد میں رسول ِ خدا آگئے ہیں



اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات