یہ جو ذرّے نے چمک آپ سے لے رکھی ہے ۔ اختر شمار

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search

شاعر : اختر شمار

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ جو ذرّے نے چمک آپ سے لے رکھی ہے

پھُول نے اپنی مہک آپ سے لے رکھی ہے


اِس کی آواز فلک تا بہ فلک سنتا ہُوں

یہ جو مٹّی نے کھنک آپ سے لے رکھی ہے


آپ کے دم سے ہی قائم ہیں سبھی رنگِ زمیں

آسماں نے بھی دھنک آپ سے لے رکھی ہے


ورنہ ہو جاتے یہ برباد، اُجڑ جانے تھے

سب جہانوں نے کمک آپ سے لے رکھی ہے


مَیں کہ مخلوق پہ حیراں ہُوں یہاں کِس کِس نے

روزی نان و نمک آپ سے لے رکھی ہے

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات