ہم اب بھی مدینے کی قربت کو ترستے ہیں

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


"Hafeez Oaj

شاعر : مرزا حفیظ اوج

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ہم اب بھی مدینے کی قربت کو ترستے ہیں

سرکار کے جلوؤں کی، صورت کو ترستے ہیں


خاموش نگاہوں میں، رکھے ہیں سوال آقا

اے شاہ گدا پرور، نصرت کو ترستے ہیں


مجھ سے ہو نکمّے پر، بارانِ کرم آقا

عاصی و خطا گر بھی، رحمت کو ترستے ہیں


آقا ہی کے قدموں میں، فردوس و ارم سب ہیں

کب ہم نے کہا ہم بھی، جنت کو ترستے ہیں


آنکھوں کے دریچوں کی، ویرانی نہیں جاتی

اے جلوۂ جاناناں، شفقت کو ترستے ہیں


بس اپنے غلاموں میں، کر لیجے شمار آقا

ہم جیسے خطا گر اس، عظمت کو ترستے ہیں


یہ اوجِؔ ثنا گوئی، بخشا ہے، کریمی نے

ورنہ تو کئی ساحر، مدحت کو ترستے ہیں


مزید دیکھیے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات