کیسا اُمّت کا تھا یہ غم آقاؐ
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر : اسلم فیضی
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کیسا اُمّت کا تھا یہ غم آقاؐ
تیری آنکھیں رہی ہیں نم آقاؐ
بابِ رحمت کھُلاہے سب کے لئے
تیرا سب پر ہُوا کرم آقاؐ
جب سے چھوڑا ہے تیری سُنت کو
کتنے رُسوا ہوئے ہیں ہم آقاؐ
دل کا آنگن مہک مہک اُٹھا
نعت ہونے لگی رقم آقاؐ
جب بھی لکھّا ہے اسمِ پاک تِرا
سَر بہ سجدہ ہُوا قلم آقاؐ
دشمنوں کو اماں ملی تجھ سے
تُونے اُن کا رکھّا بھرم آقاؐ
اِس زمیں سے مقام سِدرہ تک
تیرا رستہ تھا اِک قدم آقاؐ
مزید دیکھیے
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
