کیاتذکرہ کروں مَیں ، آقا ؐ ترے نگر کا

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search

شاعر : اسلم فیضی

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کیاتذکرہ کروں مَیں ، آقا ؐ ترے نگر کا

جنت سے بھی ہے پیارا رستا ترے نگر کا


اِس کا تو ذرّہ ذرّہ آبِ کرم سے پُر ہے

دریا کو بھیک بخشے صحرا ترے نگر کا


آیا نظر مجھے بھی آقا ؐ ترا مدینہ

میرے بھی دل میں چمکا تارا ترے نگر کا


محسوس ہو رہا ہے جنت میں پھر رہا ہوں

پلکوں سے چومتا ہوں رستا ترے نگر کا


دنیا مجھے سناتی کیوں دوسروں کے قصّے

آتا نظر جو اس کو نقشہ تِرے نگر کا


کسیے نظر اُٹھائوں فردوس کی طرف میں

آنکھوں میں آ بسا ہے جلوہ ترے نگر کا


فیضیؔ کی خشک دنیا سیراب ہوگئی تھی

ابرِ کرم جو آکر برسا ترے نگر کا

مزید دیکھیے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات