نور نہایا رستہ پر ایک تاثر ۔ خاور اعجاز

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

کتاب : نور نہایا رستہ

تبصرہ : خاور اعجاز

نور نہایا رستہ پر تا اثر[ترمیم]

عقائد کی پختگی اورذاتِ باری تعالیٰ سے تعلق کو فروغ دیتی ہُوئی عالیؔ ؔ کی حمد کسی انمول خزینے سے کم نہیں جو دل پر رقت طاری کرتی اور شرمساری کے احساسات کو اُبھارتی ہے۔ وہ اِن جذبوں کی بیداری سے ربِ عظیم کے دَر سے کچھ لے کر لوٹنے کے متمنی نظر آتے ہیں۔اُ ن کی حمد جہاں اُن کے الفاظ کا رشتہ براہِ راست خالقِ کائنات سے جوڑتی اور فکر کے آفاق کو وسیع کرتی وہاں پڑھنے والوں کو بھی روحانی لطافتیں بخشتی ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین و اعتقاد کو مستحکم کرتی، خدا شناسی کے مرحلوں سے آشنائی بہم پہنچاتی، خالقِ کائنات کی عظمت و جلالت بیان کرتی ، انسان سے اُس کی بے پایاں محبت کی ترجمانی کرتی اور کائنات کی تغیر پذیری کے ساتھ اُس کے خالق کی ہر آن نئی شان کے ساتھ جلوہ گری اور نت نئی صورت گری کا احاطہ کرتی ہے۔

حمد کی طرح نعت گوئی بھی عالیؔ کے سوزِ دروں کا کیف آور اظہار ہے تاہم متعدد شعرا کی طرح اُن کاجذب و شوق حدِ ادب سے باہر نہیں نکلتا اور عجز و انکسار اور طاعتِ رسولؐ کے دائرے میں رہتا ہے۔وہ سیرت اور اخلاقِ حسنہ کے مضامین کو اعتدال کے ساتھ برتتے ہیں جن سے اخلاص و محبت کی مہک آتی ہے اور الفاظ شمعوں کی طرح روشن نظر آتے ہیں۔اُنھوں نے نعت گوئی میں حدودِ شرعیہ کا خیال رکھا، تغزل کے مضامین سے شعر کو محفوظ رکھا ہے اور غلو سے کام نہیں لیا بل کہ اِس کی جگہ سیرت اور محاسن کو سامنے رکھا ہے۔اُنھوں نے آنحضرتؐ کے انسانی ہمدردی، مساوات اور حسنِ عمل کے پہلوؤں کو بطورِ خاص موضوع بنایا ہے۔


مرثیہ اور سلام کی ابتدا تو غالباً دکن سے ہُوئی لیکن پھر اہلِ دہلی اور بعد ازاں اہلِ لکھنو نے اِن اصناف کو فنی اور موضوعاتی وسعت عطا کی۔ جلیل عالیؔ نے سولھویں صدی عیسوی میں قائم ہونے والی اِس ادبی روایت کو اکیسویں صدی کے فکری چراغوں سے روشن تر بنایا ہے۔ اُن کے ہاں یہ روایت محض معرکۂ حق و باطل نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی معیارات کی ترجمان بھی ہے۔واقعۂ کربلا حق پرستی کی تحریک ہے جس پر خون کی گواہی ثبت ہے، اُس خون کی گواہی جس کی تابندگی وقت کے ساتھ مزید بڑھتی اور ہر عہد میں ایک نئی چمک کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔عالیؔ نے کربلا کے واقعات، متعلقات اور جزئیات کو عہدِ نو کے استعاراتی نظام کے ساتھ مربوط کر کے پیش کیا ہے جس سے یہ خوبی پیدا ہو گئی ہے کہ صدیوں پیشتر رونما ہونے والے ظلم و جبر کے اِس واقعہ کی عکاسی عہدِ حاضر میں حق و صداقت کے لیے نبرد آزما طبقوں کی بھی ترجمان ہو گئی ہے۔ یوں کربلا کی تحریک عالیؔ کے تفکر سے فیض یاب ہو کر نہ صرف ملتِ اسلامیہ کی حریت پسندی کی علامت بنی بلکہ ’’ تا قیامت قطعِ استبداد کرد۔موجِ خونِ اُو چمن ایجاد کرد‘‘ کے مصداق پوری نسلِ انسانی کے واسطے بنائے لا الہ اور سامراجی قوتوں سے ٹکرا جانے کا حوصلہ اور عزم فراہم کرتی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

کتابوں پر تبصرے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

نئے صفحات
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659