مرے خدا مجھے وہ تابِ نے نوائی دے ۔ عبیداللہ علیم
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
حمدِ باری تعالی جل جلالہ
شاعر : عبید اللہ علیم
مرے خدا مجھے وہ تابِ نے نوائی دے
میں چُپ رہوں بھی تو نغمہ مرا سُنائی دے
گدائے کوئے سخن اور تجھ سے کیا مانگے
یہی کہ مملکتِ شعر کی خُدائی دے
چھلک نہ جاؤں کہیں میںوجود سے اپنے
ہنر دیا ہے تو پھر ظرفِ کبریائی دے
میں ایک سے کسی موسم میں رہ نہیں سکتا
کبھی وصال کبھی ہجر سے رہائی دے
جو ایک خواب کا نشہ کم ہو تو آنکھوں کو
ہزار خواب دے اور جراتِ رسائی دے
مزید دیکھیے
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
