لا ریب و لا مثیل ہے ایسی؟ کہاں کی بات

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


"Hafeez Oaj

شاعر : مرزا حفیظ اوج

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

لا ریب و لا مثیل ہے ایسی؟ کہاں کی بات؟

جیسے مرے نبی کے منّور دہاں کی بات


ساری ہی مشکلات کا اک حل یہی تو ہے

”پڑھیے درود چھوڑیے سود و زیاں کی بات“


سیراب ہم تو رہتے ہیں، کرتے ہیں ہر گھڑی

جود و عطا و مہر کے بحرِ رواں کی بات


مژگاں پہ اشک کھِلتے ہیں مثلِ گلاب یاں

ہوتی ہے جب بھی سیّدِ کون و مکاں کی بات


حقِ شعور و خامہ تو بے شک یہی ہے اوجؔ

جب تک ہیں زندہ کیجئے بس جانِ جاں کی بات


مزید دیکھیے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات