لا ریب و لا مثیل ہے ایسی؟ کہاں کی بات
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر : مرزا حفیظ اوج
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
لا ریب و لا مثیل ہے ایسی؟ کہاں کی بات؟
جیسے مرے نبی کے منّور دہاں کی بات
ساری ہی مشکلات کا اک حل یہی تو ہے
”پڑھیے درود چھوڑیے سود و زیاں کی بات“
سیراب ہم تو رہتے ہیں، کرتے ہیں ہر گھڑی
جود و عطا و مہر کے بحرِ رواں کی بات
مژگاں پہ اشک کھِلتے ہیں مثلِ گلاب یاں
ہوتی ہے جب بھی سیّدِ کون و مکاں کی بات
حقِ شعور و خامہ تو بے شک یہی ہے اوجؔ
جب تک ہیں زندہ کیجئے بس جانِ جاں کی بات
مزید دیکھیے
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||