كركے طیبہ كا سفر آیا ہوں
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر : اسلم فیضی
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
كركے طیبہ كا سفر آیا ہوں
دل میں لے كر میں سحر آیا ہوں
ہَے مِرے سامنے روضہ اُن کا
میں اجالوں میں اُتر آیا ہوں
ان كی دہلیز پہ آنكھیں ركھ دیں
اب مَیں خود كو بھی نظر آیا ہوں
ہر بلندی پہ ہے پرواز مِری
لے كے وہ طاقتِ پَر لایا ہوں
بار عصیاں نے ڈبویا تھا مجھے
ہَے كرم ان كا اُبھر آیا ہوں
بے ثمر شاخِ عمل تھی فیضؔی
لے كے جھولی میں ثمر آیا ہوں
مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
