غلاموں کو عذابِ نار سے آقا بچاتے ہیں
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر : مرزا حفیظ اوج
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
غلاموں کو عذابِ نار سے آقا بچاتے ہیں
خطاکاروں کو الفت سے وہ دامن میں چھپاتے ہیں
کرم کے سائے میں رہتا ہوں جب میں نعت کہتا ہوں
وہ اپنے ظلِّ رحمت میں مجھے بھی لا بٹھاتے ہیں
مری افسردگی پر آج رحمت آپ مائل ہے
سنا ہے خود مسیحا جانبِ بیمار آتے ہیں
کلامِ پاک کے ہر حرف میں مدحت انہی کی ہے
کلام اللہ کے اوراق سب نعتیں سناتے ہیں
نہیں ایسا نہیں کوئی سخی اس بزمِ عالم میں
وہ دستر خوان سے اپنے جہاں بھر کو کھلاتے ہیں
جوازِ زندگی مل جاتا ہے ہم بے نواؤں کو
سرِ اوجِؔ تخیل مدح خوانی پر جو آتے ہیں
مزید دیکھیے
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||