سخن میں موسم گل ان کے نام سے آئے ۔ عرفان صدیقی
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر: عرفان صدیقی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سخن میں موسم گل ان کے نام سے آئے
پڑھوں سلام تو خوشبو کلام سے آئے
شگفت اسم محمد کا وقت ہے دل میں
یہاں نسیم سحر احترام سے آئے
وہی سراج منیر آخری ستارہ ء غیب
اجالے سب اسی ماہ تمام سے آئے
وہ جس کو نان جویں بخش دیں اسی کے لیے
خراج، مملکت روم و شام سے آئے
انہیں سے ہو دل و جاں پر سکینتوں کا نزول
قرار ان کے ہی فیضان عام سے آئے
انہیں کے نام سے قائم رہے وجود مرا
نمو کی تاب انہیں کے پیام سے آئے
میں ان کا حرف ثنا اپنی دھڑکنوں میں سنوں
وہی صدا مرے دیوار و بام سے آئے
یہ کسان و گرفتار سب انہیں کے طفیل
نکل کے حلقہ ء زینجیر و دام سے آئے.
پیشکش
نور الحسن نور | رمز جلال آبادی
مزید دیکھیے
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
