جہا ں روضہ پا ک خیر الوریٰ ہے۔ اقبال عظیم

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


شاعر : اقبال عظیم

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جہا ں روضہ پا ک خیر الورٰی ہے وہ جنّت نہیں ہے توپھر اور کیا ہے

کہا ں مَیں کہا ں وہ مدینے کی گلیا ں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے


محمد کی عظمت کا کیا پو چھتے ہو کہ وہ صَا حبِ قا بَ قو سین ٹھرے

بشر کی سرِ عرش مہماں نوا زی یہ عظمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے


جو عا صی کو کملی میں اپنی چُھپا لے جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دُ عا دے

اسے اور کیا نا م دے گا زما نہ وہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے


قیا مت کا اِک دن معیّن ہے لیکن ہما رے لیے ہر نَفسَ ہے قیا مت

مدینے سے ہم جانشا روں کی دُ وری قیا مت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے


تم اقبؔا ل یہ نعت کہہ تو ررہے ہو مگر یہ بھی سو چا کہ کیا کر رہے ہو

کہا ں تم ، کہاں مد حِ ممدوحِ یز داں یہ جُرا ت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے



اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات